Ayah 19:89ان نظریات کے حامل سب لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ بہت ہی سخت بات ہے جو تم نے کہی ہے :
89۔ (اد) کی اصل ” ادد “ ہے ۔ ” الاد : الداھیہ والامر الفظیع “ وہ امر جس کی برائی حد سے گزر چکی ہو یعنی بہت ہی بری بات کہ اس سے بری ممکن ہی نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اتنی بری بات ہے کہ اس سے زیادہ کوئی بری بات اور دین اسلام میں نہیں ہو سکتی ۔ (جاء یجئی) کے وہی معنی ہیں جو (اتی) کے ہیں لیکن (جاء) میں قصد پایا جاتا ہے اور اس جگہ (جئتم) بولا گیا ہے یعنی جس بات کا تم نے قصد کیا ہے وہ بہت ہی بری بات اتنی بری کی اس سے زیادہ بری بات اور کوئی نہیں ہو سکتی ، گویا یہ کہا جارہا ہے کہ جس بات کا تم نے قصد کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ عقیدہ ابنیت دنیا میں پھیلا دیا ہے اور ظاہر ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا عقیدہ ابنیت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کا ہے باقی عقائد اس قدر نہیں پھیل سکے نہ یہود کا عقیدہ اور نہ مشرکین کا عقیدہ اس قدر پھیلا ہے ہاں ! اب دوسرے نمبر پر اس طرح کا کوئی عقیدہ ہے تو وہ اولیاء اللہ ہی کا ہوسکتا ہے کہ اللہ کے دوستوں اور ولیوں سے وہ کام نکالا جائے جو عیسائیوں نے مسیح (علیہ السلام) سے نکالا ہے کہ قوم کی بخشش ونجات کے لئے ان کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور اب جو شخص بھی یہ مان لے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب دی گئی اور ہمارے گناہوں کے عوض میں دی گئی اس نے گویا نجات حاصل کرلی ، اور (اد) کا لفظ ایک ہی بار قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ۔
Ayah 19:90اتنی بڑی بات ہے کہ گویا اس سے زمین و آسمان قریب ہے کہ پھٹ جائیں :
90۔ یہ اس عقیدہ کی سختی کا مزید بیان ہے کہ یہ اتنا بڑا سخت اور سنگین نظریہ ہے کہ قریب ہے اس سبب سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ایک دھماکہ کے ساتھ اڑ جائیں ، یہ اس کا گویا ایک فطری بیان ہے کہ جس طرح ایک انسان اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کو اپنا باپ نہیں بنا سکتا اور انہ ہی کوئی اس کو برداشت کرسکتا ہے کہ اس کی نسبت کسی دوسرے باپ کی طرف کی جائے لیکن ہمارے مفسرین کو یہ خیال اس وقت دامن گیر نہ ہوا جب انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ جبریل (علیہ السلام) کو بنا دیا تو سوائے انسان کے دنیا کی کوئی چیز اگر اس کو زبان مل جائے تو کبھی اس کا اقرار نہ کرے کہ میرا خالق اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی اور بھی ہے یا ان کا خالق کوئی ہو سکتا ہے یا کسی دوسرے کی طرف ان کی نسبت کی جاسکتی ہے ، انسان ہے کہ ان سب باتوں سے بےنیاز ہو کر جو چاہتا ہے نظریات گھڑتا رہتا ہے اور پھر جس طرح چاہتا ہے انکو بیان کرتا رہتا ہے ۔
زیر نظر آیت میں لفظ (ھدا) استعمال ہوا ہے جس کے معنی دیوار کے دھماکے کے ساتھ گرنے کے ہیں جو یک دم دھڑام سے گر جائے ، یہ لفظ بھی ایک بار قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے ۔
Ayah 19:91زمین وآسمان کا پھٹنا اس لئے ہے کہ انہوں نے رحمن کے لئے اولاد قرار دے دی :
91۔ آسمان پھٹ پڑنا اور آسمان ٹوٹ پڑنا ‘ آسمان تھرانا اور آسمان ٹل جانا سب محاوارت اردو میں بھی مستعمل ہیں اور ان سے مراد قہر الہی نازل ہونا اور سخت مصیبت پڑنا ‘ واقعہ عظیم ہوجانا اور سخت آفت آنا ہی کے ہیں اسی طرح آسمان و زمین شق کیوں نہیں ہوجائے گا کا مطلب ہے کہ قیامت کیو نہیں آجاتی گیا اتنا برا کام ہوا ہے کہ اس کی برائی کی کوئی حد نہیں رہی ، جب اللہ تعالیٰ کے لئے انہوں نے اولاد قرار دے دی تو باقی کیا رہ گیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اولاد کمزوری کی نشانی ہے اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے سے گویا انہوں نے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ بھی فانی ہے اور کمزور ہے کہ کل جب وہ بوڑھا ہوگا تو اولاد اسے کے سہارے کا کام دے گی اور جب مرے گا تو اس کا نام چلتا رہے گا اور اس کی میراث اس کے بیٹے کو مل جائے گی پھر جب یہ لازم ہے کہ اللہ وہ ہے جس کو فنا نہیں اور اللہ وہ ہے جو کمزور نہیں تو پھر اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے (حی لا یموت) کو فانی قرار دے دیا اور کمزور بھی ثابت کردیا ۔ جب کہ اسلام میں فانی اور کمزورہونا معبود ہونے کے منافی ہے ۔
Ayah 19:92اللہ کے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے کہ اس کی شان کے خلاف ہے :
92۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی ذات کے خلاف ہے کہ وہ کسی کو اولاد بنائے کیونکہ یہ صفت الوہیت کے منافی ہے اور جو صاحب اولاد ہو وہ اللہ نہیں ہو سکتا اور جو اللہ ہے وہ صاحب اولاد نہیں ہو سکتا ۔ اس کو اپنے کاموں میں کسی کو شریک کرنے کی ضرورت نہیں اور اس کو اپنی املاک اور جائیداد کے لئے کسی وارث کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے کسی دوسرے کا محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو بڑھاپے میں کسی سہارے کی ضرورت ہے اور جو بوڑھا ہوجائے اور وہ اللہ ہونے کا مستحق ہی نہیں ۔ جب وہ غنی اور بےنیاز ہے تو آخر وہ اولاد کیوں بنائے گا اور اس کی کوئی اولاد کیوں ہوگی ؟
Ayah 19:93آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کے سامنے سرنیاز جھکائے ہوئے ہے :
93۔ مخلوق اور خالق دونوں کی حیثیت ایک نہیں ہو سکتی اور خالق و مخلوق میں یہی فرق ہے کہ مخلوق میں سے ہر ایک خواہ فرشتے ہوں یا جن ‘ قوی ہوں یا کمزور ‘ درجہ میں چھوٹے ہوں یا بڑے بلا استثناء سب کے سب خداوند قدوس کے بندے ہیں اور بندے ہونے کے ناطے سے وہ سب برابر ہیں اس لئے ان میں سے نہ کوئی اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے اور نہ کوئی بیٹی بلکہ سب کے سب اللہ رب العزت والجبروت کے سامنے کمزور ہیں اور ادنی خادم و غلام کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا چھوٹا بڑا اور طاقتور اور کمزور ہونا ان کے درمیان یا ان کے مقابلہ میں ہے اللہ کے مقابلہ میں نہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں سب کے سب کمزور اور ناتواں ہیں وہ گدا ہوں یا شاہ۔
Ayah 19:94وہ ہی ہے جس نے ان سب کو گھیر رکھا ہے اور اس کی ہستی گن رکھی ہے :
94۔ جب سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے تو مخلوق کا کمال بھی عبد ہی میں ہے ۔ سب سے اعلی پایہ کی مخلوق کونسی مخلوق ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان اور انسانوں میں سب سے انسب واعلی انسان محمد رسول اللہ صیا اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ ﷺ کا بھی کمال اسی میں ہے کہ آپ ﷺ کو (عبدہ ورسولہ) فرمایا گیا گویا رسالت کا درجہ کتنا ہی بلند ہو اس کا کمال رفعت بھی بندہ ہونے ہی میں ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں بندہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے ، اور یہ ارشاد فرما کر کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو شمار کر رکھا ہے اور گن لیا ہے تو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک کی حاضری کی نوعیت اس طرح ہوگی کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہوں گے اور کوئی نہیں جو اس کی گنتی میں نہ آچکا ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ اتنی بڑی بھیڑ میں کوئی سمجھے کہ کون جانتا ہے کہ کون آیا ہے اور کون نہیں ‘ فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک کی گنتی محفوظ کر رکھی ہے اور کوئی اس کے شمار سے باہر نہیں ۔
Ayah 19:95ہر ایک کو اس دن اکیلا اکیلا ہی لایا جائے گا :
95۔ حاضری کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جب ایک ایک کا نام لے کر پکارا جائے اور ایک کی جگہ دوسر لبیک بھی نہ کہہ سکے تو کیسے ممکن ہے کہ غیر حاضر ہونے والے کا معلوم ہی نہ ہو سکے کہ کون کون آیا ہے اور کون نہیں ۔ وہاں نہ تو کوئی قابو سے باہر ہوگا اور نہ گنتی سے رہ جائے گا اور ہر ایک کو بار باری یکہ و تنہا حاضر ہونا ہے نہ اس کے ساتھ اس کی اولاد ہوگی اور نہ کسی کے ساتھ اس کے والدین اور نہ دوست یار ہوں گے نہ اعوان وانصار اور نہ ہی شرکاء وشرفاء بلکہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا اور سب کی حاضری ایک ایک کرکے ہوگی اور ہر ایک اپنے کئے کا جواب دہ ہوگا ، بیٹے کو باپ کے عوض اور باپ کو بیٹے کے عوض ہرگز نہیں پوچھا جائے گا اور نہ ہی کوئی ایک دوسرے کو کفایت کرے گا۔
Ayah 19:96ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے رحمن کی دوستی میں ہوں گے :
96۔ فرمایا بلاشبہ جن لوگوں نے اپنی زندگیاں محفوظ طریقہ سے گزاری ہوں گی ان کے لئے اللہ رب العزت صاحب ذوالجلال والاکرام نے مہر و محبت کی فضا پیدا کردی ہوگی کہ ان کا استقبال اللہ تعالیٰ کی فرشتے بھی کریں گے اور خود رب کریم کی طرف سے بھی سلام وتحیت ان کو پہنچایا جائے گا اور خود اہل ایمان بھی جب آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کو مبارکبادیاں دیتے ہوں گے اور فضا اہلا سہلا مرحبا کے کلمات سے گونج رہی ہوگی گویا یہ وہ لوگ آرہے ہیں جو فتح مند ہو کر آئے ہیں ۔
شاید آپ نے غور کیا ہوگا یا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں سے اسم ” رحمن “ بار بار اس سورة میں آیا ہے جو کہ آیت 18 ‘ 26 ‘ 44 ‘ 45 ‘ 58 ‘ 61 ‘ 69 ‘ 75 ‘ 78 ‘ 88 ‘ 91 ‘ 92 ‘ 93 اور 96 مرتبہ استعمال ہوا ہے سورة ‘ سورة مریم میں دہرایا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ مفسرین نے اس سورة کو سورة رحمانی کہا ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی ضرور حکمت ہوگی ۔ کہا گیا ہے کہ ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے جو صفت رحمن کا سہارا لے کر بداعمالیاں کی گئی ہیں وہ کسی اور صفت پر انحصار کرتے ہوئے نہیں کی گئیں اس لئے اس سورت میں دوسرے مطالب کے ساتھ ساتھ رحمانیت کے غلط تصور کی اصلاح کرکے اس کا صحیح تصور میں دیا گیا ہے اس لئے اسم ” رحمن “ کا حوالہ اس میں بار بار آیا ہے ، مثلا اس سورت میں سب سے پہلے قوم نصاری کا ذکر ہے اس لئے سب سے پہلے انہیں کی گمراہی کو لیجئے ان کے وہم میں انسان چونکہ ازلی وابدی گنہگار ہے اور اس کی نجات کی کوئی شکل ہی نہیں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمان کے باعث اپنے بیٹے کو بھیجا جو صلیب پر چڑھ کر اپنے تمام ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ بن گیا ، یہود کا ذکر بھی آپ پیچھے پڑھتے آ رہے ہیں کہ انہوں نے بھی اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لئے اللہ رب العزت کی صفت رحمانیت ہی کی آڑ لی ہے ان کا تصور یہ ہے کہ ہم نبیوں اور ولیوں کی اولاد ہیں اس لئے ہم اول تو دوزخ میں ڈالے ہی نہیں جاسکتے اور اگر ڈالے بھی گئے تو صرف چند دنوں کے لئے گناہوں کے کفارہ میں ڈالے جائیں گے اور ” رحمن “ ہمیں بخش دے گا اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ پہلے تو حشر ونشر کی بات ہی کوئی پختہ نہیں ہے اگر ہوگی بھی تو خدائے رحمن کی یہ بیٹیاں سفارش کر کے ہمیں بخشوا لیں گی ، یہ اور اسی طرح کے دوسرے تمام گمراہ نظریوں سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحمانیت کا صحیح تصور دنیا والوں کے سامنے پیش کردیا اور قرآن کریم کی ابدی تعلیم میں اس کی پوری پوری وضاحت فرما دی آپ اس سورت کا مطالعہ کرتے وقت اس کی تفسیر دیکھتے وقت یہ بات اپنی ذہن میں رکھ کر مطالعہ کیجئے انشاء اللہ العزیز آپ پر بہت بند دروازے خود بخود کھلتے جائیں گے اور یاد رکھئے کہ قرآن کریم کسی کی میراث نہیں کہ وہ جو چاہیں اس کے متعلق بیان کریں اور ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے ، ہرگز نہیں قرآن کریم پوری نوع انسانیت کے لئے ہے اور سب کو حق ہے کہ اس کی تعلیمات پر براہ راست تصریف آیات اور صحیح احادیث کی روشنی میں غور وفکر کریں اور اپنے رب کریم کے کلام کو خود سمجھیں کیونکہ یہ ہم انسانوں ہی کی زبان میں نازل کیا گیا ہے ۔
Ayah 19:97قرآن کریم کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے تاکہ اکھڑ قوم کو سمجھایا جائے :
97۔ زیر نظر آیت میں قرآن کریم کے نزول کی ضرورت اور اس کی تفہیم کا طریقہ بتا دیا گیا فرمایا ہم نے قرآن کریم کو آپ کی زبان پر اے پیغمبر اسلام ! بالکل آسان کردیا ہے تاکہ آپ ﷺ متقین کو مژدہ جاں افزا سنائیں کہ جنت کو خدائے رحمن نے اپنے بندوں کے لئے وراثت کے طور پر سنبھال رکھا ہے اور ان میں یقینا وہ تقسیم کردیا جائے گا اور یہ میراث میراث پانے والوں ہی کی قرار دی جائے گی اور اس دنیا کی قوموں میں ز سے جو اکھڑ اکھڑ قومیں ہیں ان میں ان کو ڈرایا گیا ہے تاکہ وہ ڈر کر اپنی حالت کو سنوار سکیں اور یہ کہ ان کے کان اچھی طرح کھول دیئے جائیں کہ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیا تو ہٹ دھرمی کرنے والوں کو وہی نتیجہ پیش آنے والا ہے جو گزشتہ تباہ شدہ جماعتوں کو پیش آچکا ہے اور اس کی مزید وضاحت آنے والی آیت نے پیش کردی ہے ۔
Ayah 19:98بڑی بڑی اکھڑ قومیں اس دھرتی پر گزریں کیا کسی کو بھنک بھی آپ ﷺ کے کانوں میں پڑی ؟
98۔ قرآن کریم کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس کو ہم نے ایسا نہیں اتارا کہ کسی کو اس کی سمجھ ہی نہ آسکے لہذا اس کو بہتر سے بہتر غلاف میں بند کرکے طاق پر سجادیا جائے اور زیادہ سے زیادہ اس سے کام لیاجائے تو یہی کہ ایک مسلمان صبح اٹھتے ہی ہاتھ منہ دھو کر اس کو کھولے اور الٹے سیدھے چار لفظ پڑھ کر اور اس کے کاغذوں پر ہاتھ پھیر کر اپنے ہاتھوں اور چہرہ پر مل لیا کرے تاکہ دن میں جو جو اعمال بد اس کو انجام دینا ہیں ان میں اس سے برکت آئے اور پھر اس سے معاملہ آگے بڑھے اور اس کو دینے دلوانے کی ضرورت پڑے ‘ مجلس میں یا عدالت میں اٹھائے لائے اور اس سے اپنا کام نکلوا لے ۔ رہا اس کا مطلب سمجھنا تو اس کی قطعا ضرورت نہیں اور یہ بھی کہ ” جہیڑے ایدے معنی پڑھدے ہوگئے سب وہابی “ کی تلقین کرکے دل خوش کرلیا جائے ، بلاشبہ یہ قرآن کریم آسان ہے یعنی جو اس کو سمجھنا چاہئے ممکن نہیں کہ اس سے وہ محروم رہے اور رہی یہ بات کہ جب تک مروجہ علوم نہ سیکھے جائیں قرآن کریم سمجھ میں نہیں آتا تو یہ بات بھی بالکل غلط ہے قرآن کریم سمجھ میں نہیں آتا تو یہ بات بھی بالکل غلط ہے ۔ قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے عقل وفکر کی ضرورت ہے جو شخص بھی عقل وفکر سے کام لے گا اس کے لئے اس کا سمجھنا چاہے اور سمجھنے کی کوشش کرے پھر سمجھ نہ سکے اور یہ کام کسی خاص طبقہ کے ذمہ لگایا جائے کہ وہی اس کو سمجھیں کہ یہ کیا ہے ؟ اور پھر جو وہ کہیں ہم مانتے جائیں اور ہاں ہاں کرتے رہیں تاکہ ان کی یہ حیثیت قائم رہ سکے ، فرمایا ہرگز نہیں بلکہ ہر مسلمان کا مذہبی فرض ہے کہ وہ اس کی تعلیم حاصل کرے اور براہ راست اس پر غور وفکر کرے اور اس طرح خاص طبقے کی چھاپ سے جہاں تک بچ سکتا ہے وہ بچے اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو جھگڑالو قسم کے لوگوں اور ہٹ دھرمی سے کام لینے والوں کی اصلاح کی کوشش بھی کرتا رہے ، خیال رہے کہ افہام و تفہیم اور بات ہے اور جھگڑا اور ہٹ دھرمی اور بات ہے ، وسعت کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اس سے حقائق کھلتے ہیں اور بات آسان سے آسان تر ہوتی چلی جاتی ہے ۔
ہاں ! اردو خواں طبقہ کے لئے صرف اتنا ضروری ہے کہ کسی ایک ترجمہ پر انحصار کرکے ترجمہ کے الفاظ پر غور کریں اور جہاں کہیں ترجمہ میں الجھن نظر آئے اور دل چاہے کہ اس بات کی مزید وضاحت ہو اس کے لئے مزید کوشش کرکے کہیں سے اپنی تسلی کے لئے ہمت کریں اور اس مقصد کے لئے مروجہ گروہ بندیوں سے آزاد رہ کر اپنی معلومات کو مزید آگئے بڑھائیں انشاء اللہ العزیز کامیابی ہوگی اور بہت کنجلک باتوں سے طبیعت خود بخود ابی کرے گی اور حقیقت اس کے قریب آجائے گی اور جہاں تک ہو سکے اپنی رہنمائی کے لئے قرآن کریم کا مطالعہ کیا جائے جو بات حق ثابت ہو اس کے مطابق عمل نہایت ہے اور اس کے مطابق عمل نہ ہوا تو قرآن کریم کی تفہیم اور قرآن کریم کی تسہیل ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ اگر عمل آباء و اجداد ہی کے رسم و رواج کے مطابق رہے گا تو جیسا ہمارے علمائے کرام کا حال ہے ویسا ہی ان کا رہے گا اور ایک ذہنی عیاشی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ یاد رہے کہ ” قوم لدا “ سے مراد بھی وہی لوگ ہیں جو سمجھی ان سمجھی اور دیکھی ان دیکھی کردیتے ہیں اور اپنی ڈگر بدلنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ” زمین جنبدنہ جنبد گل محمد نہ جنبد “ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی خاص رحمت اور خاص فضل سے قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھل جانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اسی دعا پر سورة مریم کی تفسیر کو ختم کیا جارہا ہے ۔
ٹھٹھہ عالیہ 31۔ اکتوبر 1996 ء۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم :