Ayah 19:24سیدہ مریم (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی کہ تو ایک بہت بڑی شخصیت کو جنم دے رہی ہے صبر سے کام لے :
24۔ (فنادھا) پس مریم کو کسی نے پکارا (من تحتھا) اس کے نیچے سے ، یہ پکارنے والا کون تھا ؟ مفسرین نے اس کا فاعل تلاش کرنے میں بہت زور لگایا لیکن اتفاق نہ ہوسکا کسی نے اس کو ” صاحب نخلہ “ کہا کسی نے اس سے ” عیسیٰ (علیہ السلام) “ مراد لئے اور کسی نے اس پکارنے والے سے ” فرشتہ “ مراد لیا اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ۔ اس سے پہلی آیت میں سیدہ مریم (علیہ السلام) کی جو حالت بیان کی گئی وہ ایک فطری چیز تھی اور واضع کے وقت اس طرح کی بات منہ سے نکلنا باعث مذمت نہیں ہے بلکہ عین فطرت کے مطابق ہے لیکن مخاض یعنی درد ذہ خواہ کتنا وقت لے جائے جب وضع کا وقت قریب آتا ہے تو زیادہ دیر نہیں لگتی کہ بچہ وضع ہوجاتا ہے سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے یہ پہلا موقع تھا جو اور بھی مشکل ہوتا ہے بہرحال اس سے فارغ ہوئیں تو فرستادہ خداوندی نے آواز دی چونکہ مریم (علیہ السلام) ٹیلے پر تھیں ان کو محسوس ہوا کہ کہیں نیچے سے آواز آئی ‘ وہ آواز کیا تھی ؟ اے مریم ! غم گین مت بحمد للہ تیری یہ تکلیف رفع ہوگئی اور تیرے بطن اطہر سے اللہ نے ایک عظیم شخصیت کو پیدا کردیا ۔ (آیت) جعل ربک تحتک سریا “۔ جیسے فلان سری اسے عظیم اور اس طرح کہا جاتا ہے من قوم سراہ ای عظام لیکن چونکہ (سریا) چھوٹی نہر کو بھی کہا جاتا ہے اس لئے اکثر مفسریں نے اس سے مراد نہر یا چشمہ ہی لی ہے لیکن ہمارے خیال میں پہلا مطلب زیادہ واضح ہے کیونکہ محل بیان اس کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ سیدہ کا غم اور اضطراب پانی نہ ملنے کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وضع حمل کے باعث تھا اور جب اس مرحلہ سے سیدہ بخیر و خوبی گزر گئیں تو تسلی اس معاملہ میں دی جاسکتی تھی کہ صبر کرو جو ہونا تھا وہ ہوچکا اور الحمد للہ ایسا ہی ہوا کہ وہ عظیم شخصیت اللہ نے پیدا فرما دی جس کا تیرے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے نازک موقع پر مریم مریم بالکل اکیلی تھیں اور آپ کے ساتھ کوئی دوسرا فرد نہیں تھا ہرگز نہیں لیکن جس تکلیف میں وہ مبتلا تھیں ظاہر ہے کہ اس میں وہ اکیلی ہی تھیں کوئی دوسرا اس میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی اس میں کسی دوسرے کی شمولیت ممکن تھی اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ ایسی حالت میں جو پاس ہوں وہ اس تکلیف میں کچھ کام آسکتے ہیں قرآن کریم نے اس کو بیان نہیں کیا کیونکہ فرشتہ کی گفتگو سیدہ مریم (علیہ السلام) تک ہی محدود تھی دوسرے اس سے بالکل بیخبر تھے ۔
Ayah 19:25سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے ایک دوسری ہدایت کہ تازہ کھجوریں کھاؤ جو نہایت مفید ہیں :
25۔ صبر کی تلقین اور عظیم بیٹے کی خوشخبری کی بعد سیدہ مریم (علیہ السلام) سے کیا گیا کہ کھجور کی ٹہنی پکڑ کر اپنی طرف ہلایا جھکا اور کھجور کے درخت سے تروتازہ کھجوریں اپنی اس ضرورت کے لئے استعمال کر کیونکہ کھجور اور پھر وہ بھی تازہ وضع حمل کے وقت ساری غذائوں اور دادؤں سے بہتر غذا اور دوا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ کھجور کا درخت اس ٹیلہ کے نشیب سے نکلا تھا جو ٹیلہ کے قریب برابر سطح پر اس کا پھل لٹک رہا تھا جس کو اپنی طرف ہلانا بھی ممکن تھا اور جھکا کر اس کا پھل توڑنا بھی اور یہ بھی کہ یہ کوئی نخلستان نہیں تھا کجہ کھجوروں کے باغ کا کوئی مالک ہو جو اس سے گزر اوقات کرتا ہو بلکہ یہ کوئی عام درخت ہے جو بعض مقامات پر عام چراگاہوں میں ہوجایا کرتے ہیں اور ایک آدھ ہونے کے باعث وہ کسی کی تحویل میں نہیں ہوتے بلکہ ہر ایک ان سے اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے ، فرشتہ نے مخاطب تو سیدہ مریم (علیہ السلام) ہی کو کیا ہے کیونکہ وہی صاحب الہام ہیں اور وہ یہ کام خود کریں یا کسی دوسرے سے کرالیں دونوں صورتوں میں ممکن ہے بلکہ دوسری صورت ہی زیادہ صحیح اور قابل وثوق ہے ، کھجوریں کھانے کا مشورہ دینے سے جو مفسرین نے یہ علت نکالی ہے کہ وہاں اور کوئی چزد کھانے پینے کی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی دوسرا آدمی پاس موجود تھا یہ صحیح نہیں ہے بلکہ اس طرح کے خواہ مخواہ تکلفات پیدا کرلیے گئے ہیں ، بات صرف یہ ہے کہ جن باتوں کو صاحب الہام جان لیتا ہے وہ دوسرے آدمی نہیں جان سکتے اور اس کی مثالیں بیشمار احادیث میں موجود ہیں ، نبی کریم ﷺ اور آپ کی زوجہ محترمہ ایک ہی مقام پر تشریف فرما تھے کہ جبرئیل آئے اور وحی کی جو وہ لے کر آتے تھے لیکن سیدہ عائشہ ؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ یہ جبریل ہیں اور آپ کو سلام پیش کرتے ہیں ، مختصر یہ کہ یہاں بھی کھجور ہی کھانے کا جو مشورہ جبریل نے دیا محض مفید ہونے کی خاطر دیا یہی ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک یہ نسخہ استعمال ہو رہا ہے اور اطباء نے اس کے بہت سے فوائد گنوائے ہیں اور حدیث میں اس کا استعمال درست فرمایا گیا ہے چناچہ درمنثور میں بحوالہ عقیلی ‘ ابو یعلی ‘ ابو نعیم ابن سنی ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن عدی ‘ ابن مردویہ ‘ اور ابن عساکر حضرت علی ؓ سے مرفوعا مروی ہے اور بحوالہ ابن عساکر سلمہ بن قیس ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علہہ والہ وسلم نے فرمایا کہ شوہر اپنی بیویوں کو ولادت کے وقت کھجوریں کھلایا کریں کہ مریم کو بھی ایسے وقت میں کھجوریں کھلائی گئی تھیں ، اس جگہ تازہ کھجوریں کھانے کھلانے میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ اس موسم میں پیش آیا جب کھجوریں پک کر تیار ہوجاتی ہیں اور وہ جولائی اگست کا مہینہ ہو سکتا ہے اور عیسائی جو تہوار سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی نسبت سے ماہ دسمبر میں مناتے ہیں سراسر جھوٹ اور بعد میں ان کی کسی کو نسل کا تشکیل کردہ ہے لیکن افسوس کہ ہماری مفسریں نے اس طرف توجہ نہیں کی ‘ اگر وہ توجہ کرتے تو ان کو قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق کے لئے ایک سے زیادہ دلیلیں خود اناجیل سے بھی مل جاتیں جن سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سخت گرمی کے موسم میں ہوئی ہے ایسے موسم میں جب لوگ اس سرزمین میں بھی جس میں یہ واقعہ پیش آیا کھلے پیدائش سخت گرمی کے موسم میں ہوئی ہے ایسے موسم میں جب لوگ اس سرزمین میں بھی جس میں یہ واقعہ پیش آیا کھلے آسمان کے نیچے رات گزارتے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ موسم گرما ہی ہوسکتا ہے ۔ بلاشبہ معجزات کا ایک اپنا مقام ہے اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کو معجزات عطا ہوئے ہیں لیکن اس کا یہ بھی تو مطلب نہیں کہ جس چیز کو جی چاہا معجزہ بنا لیا اور پھر اس طرح معجزات ہی معجزات بنانے اور بیان کرنے شروع کردیئے جیسا کہ اس موقع پر ہمارے مفسرین نے کیا ، مثلا یہ کہ مریم معجزانہ طور پر پیدا ہوئیں ، وہ ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا کہ عام بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں ، آپ کو حمل ہوا تو بغیر نکاح اور مس بشر کے ادھر حمل ہوا کہ ادھر وضع ہوگیا اور اس میں ایک ساعت بھی نہ لگی عیسیٰ (علیہ السلام) بطن مادر سے وضع ہوتے ہی بولنے لگے ، ابھی ان کو زمین سے اٹھایا بھی نہ گیا تھا کہ انہوں نے اپنی نبوت کا اعلان کردیا ۔ اس طرح معجزات کی ایک لائن لگا دی اور جب کسی نے کوئی بات کرنا چاہی تو اس کی زبان کھولنے سے بھی پہلے اس پر کفر کا فتوی جڑ دیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ لوگ تو معجزات کے منکر ہیں ، اس طرح کتاب وسنت کو بکھیڑا بنانا علم نہیں بلکہ سراسر جہالت ہے لیکن افسوس کہ یہی چیز آج کل ہمارے بڑے بڑے پیشوایان مذہب میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے اور جتنے افتراء کا کوئی زیادہ مظاہر کرتا ہے اتنا ہی وہ بڑا پیشوا اور بڑا مذہبی رہنما ہے ۔
Ayah 19:26سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے تیسری ہدایت کے ایک دن کے لئے گفتگو بند کر دے :
26۔ فرستادہ الہی نے تیسری ہدایت سیدہ مریم (علیہ السلام) کو یہ دی کہ آپ کو سفر ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت عظمی سے نواز دیا ۔ ظاہر ہے کہ یہاں آپ کی اتنی جان پہچان تو ہے نہیں ہر آنے والا خیال کرے گا کہ میں اصل حقیقت معلوم کروں کہ یہ لوگ کون ہیں ‘ کہاں سے آئے ہیں ‘ کیوں آئے ہیں ‘ ایسی کیا مجبوری تھی کہ ایسے نازک وقت میں گھر سے نکلے ؟ اس طرح کے بیسیوں سوالات ہیں اور بیسیوں آنے جانے والے عورتیں اور مرد بھی ہوسکتے ہیں اور وقت بھی نہایت خوشی کا ہے کہ اللہ نے ایسا خوبصورت بچہ عطا فرمایا کہ ہے کہ ہر ایک کا دیکھنے کو جی چاہتا ہے اس آمد ورفت میں بولنا اور ساری کہانی سنانا ایک فطری امر ہے اس لئے آپ ایک ہی بات زبان پر رکھیں کہ آج مجھے بولنے سے پرہیز ہے اور یہ کہ میں آج بات چیت نہیں کرسکتی اور جب ایک آدھ دن کے بعد آپ کی طبیعت اچھی طرح سنبھل گئی تو پھر باتیں ہوتی رہیں گی اور یہ بچہ ماشاء اللہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوگا ۔ اس پرہیز کو اس سے صوم یعنی روزہ سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد سختی کے ساتھ بولنے سے پرہیز ہی لی جاسکتی ہے اور یہ بات آج بھی ازروئے طب کہی جاتی ہے کہ عورت وضع حمل کے بعد کم از کم چوبیس گھنٹے تک زیادہ بات چیت کرنے اور تیز روشنی میں دیکھنے اور پیٹ بھر کر کھانے سے پرہیز کرے تو وہ بہت جلد روبصحت ہوجاتی ہے اور اس وقت سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے جلد روبصحت ہونا بہت ضروری تھا کہ وہ سفر میں تھیں اور جہاں ٹھہری تھیں وہاں اس سرائے میں جگہ کی بھی کافی قلت تھی ، زیر نظر آیت پر بھی مفسرین نے عجیب عجیب طریقہ کے حاشیے چڑھائے ہیں اور ایک عام فہم بات کو کیا سے کیا بنا دیا ہے ، صوم سے مراد خواہ مخواہ شرعی روزہ لے لیا گیا ہے اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو مریم خود ہی ارشاد فرما دیتیں کسی کے کہنے سے تو کوئی روزہ شرعی روزہ نہیں ہو سکتا ، ہم اپنی زبان میں ایسے الفاظ اکثر استعمال کرتے رہتے ہیں اور اس طرح بول چال میں سیدہ مریم (علیہ السلام) سے بھی فرشتہ نے کہا ہے جس سے مراد سختی کے ساتھ نہ بولنے کی تاکید کی گئی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے تو مدت سے روزہ رکھا ہے میرا روزہ تم نہ تڑواؤ ‘ عمر گزر گئی اب میں روزہ توڑ کر کیا کروں گا ‘ وغیرہ وغیرہ لہذا اس (صوم) کے لفظ پر طرح طرح کے فرضی سوال اور پھر ان کے جواب جس طرح دیئے گئے ہیں ان کو پڑھ ‘ سن کر ہنسی آتی ہے کہ علمائے کرام بچوں کی سی باتیں کیوں کرنے لگ جاتے ہیں لیکن بچوں میں رہ رہ کر آخر کریں گے بھی کیا ؟
Ayah 19:27اس وقت کا ذکر جب سیدہ مریم (علیہ السلام) بچے کو ساتھ لے کر قوم کے پاس آئیں :
27۔ جیسا کہ آپ پیچھے چکے ہیں اور مفسریں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جب ناصرہ سے یوسف ‘ مریم اور دوسرے افراد خانہ نکل کر بیت لحم کی طرف آئے اور بیت لحم ہی عیسیٰ (علیہ السلام) تولد ہوئے اور بیت لحم میں تولد ہونے والے ایک ایک بچے کی پیش گوئیاں بنی اسرائیل کے ہاں معروف تھیں اور اس کے ساتھ بقول انجیل یہ اتفاق بھی ہوگیا جیسا کہ تحریر ہے : ” جب یسوع ہیرودیس کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت لحم میں پیدا ہوگیا تو دیکھو کئی مجوسی پورب سے یروشلم میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہوا ہے وہ کہاں ہے ؟ کیونکہ یورب میں اس کا ستارہ دکھ کر ہم اس کو سجدہ کرنے آئے ہیں یہ سن کر ہیرودیس بادشاہ اور اس کے ساتھ یروشلم کے سب لوگ گھبرا گئے اور اس نے قوم کے سب سردار کاہنوں اور فقیہوں کو جمع کر کے ان سے پوچھا کہ مسیح کی پیدائش کہاں ہونی چاہئے ؟ انہوں نے اس سے کہا یہودیہ کے بیت لحم میں کیونکہ نبی کی معرفت یوں لکھا گیا ہے ۔ “ (متی 2 : 1 تا 5)
ہیرودیس بادشاہ کے کہنے پر وہ لوگ یروشلم سے بیت لحم میں آئے اور وہاں انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا اور اپنی عقیدت کا اظہار کیا پھر جب ان کو معلوم ہوگیا کہ ہیرودیس نے ہمیں یہاں دھوکہ اور فریب کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ ہم اس بچے کی خبر اس کو دیں اور حقیقت میں وہ بادشاہ ہیرودیس اس بچے کے قتل کرنے کے درپے ہے تو وہ واپس یروشلم نہ گئے بلکہ اپنے گھروں کو چلے گئے اور اس کے بعد جو ہوا اس کو انجیل نے اس طرح بیان کیا :
” جب وہ روانہ ہوگئے تو دیکھو خداوند کے فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کر کہا کہ اٹھ بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور جب تک کہ میں تجھ سے نہ کہوں وہیں رہنا کیونکہ ہیرودیس اس بچہ کو تلاش کرنے کو ہے تاکہ اسے ہلاک کرے ، پس وہ اٹھا اور رات کے وقت بچے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو روانہ ہوگیا ۔
اور ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا تاکہ جو خداوند نے نبی کو معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ مصر میں سے میں نے اپنے بیٹے کو بلایا ۔ (متی 2 : 14 تا 16) اس طرح یہ بچہ اپنے والدین کے ساتھ 12 برس تک مصر میں رہا تا آنکہ ہیرودیس مر گیا اس کے والدین تو ہر سال یروشلم عید فسح کے لئے آتے رہے لیکن بچے کو وہ کبھی ساتھ نہ لائے ہاں ہیرودیس کے مرنے کے بعد ” جب وہ بارہ برس کا ہوا تو وہ عید کے دستور کے موافق یروشلم گئے تو بچہ ان کے ساتھ تھا جب وہ ان دونوں کو پورا کر کے لوٹے تو ہو لڑکا یسوع یروشلم میں رہ گیا اور اس کے ماں باپ کو خبر نہ ہوئی مگر وہ یہ سمجھ کر کہ وہ قافلہ میں ہے ایک منزل نکل گئے کہ اسے اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان والوں میں ڈھونڈنے لگے جب نہ ملا تو اسے ڈھونڈتے ہوئے یروشلم تک واپس گئے اور تین روز کے بعد ایسا ہوا کہ انہوں نے اسے ہیکل میں استادوں کے پیچ میں بیٹھے ان کی سنتے اور ان سے سوال کرتے ہوئے پایا ۔ “ (لوقا 2 : 41 تا 47)
بات واضح ہوگئی کہ سیدہ مریم (علیہ السلام) جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو یروشلم واپس لائیں تو یہی ان کی پہلی ملاقات تھی جو قوم کے لوگوں کے ساتھ ہوئی ، چونکہ پیدائش عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی قوم کے پاس اٹھا لانے کا ذکر تھا درمیان کے واقعات کو ذکر نہیں کیا گیا مفسرین نے یہ سمجھا کہ اس وقت جب کہ ابھی بچہ پیدا ہی ہوا تھا ، مریم قوم کے پاس اٹھالائی اور انجیل نے ہم کو بتایا کہ ایسا معاملہ نہیں بلکہ انکا آنا بارہ برس کی عمر کے بعد ہوا اور یہی صحیح ہے جس طرح پیچھے آپ یحییٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں پڑھ چکے ہیں کہ ادھر زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی بشارت ملی تھی کہ ساتھ ہی قرآن کریم نے یحییٰ (علیہ السلام) کو کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے اور نماز قائم کرنے کی تلقین کردی لیکن وہاں ہمارے مفسرین نے تسلیم کرلیا کہ قرآن کریم نے ایک بڑے لمبے عرصے کا ذکر چھوڑ کر آپ کی نبوت کے زمانہ سے آپ کا واقعہ بیان کرنا شروع کردیا ۔ چونکہ درمیانی عرصہ کے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی لہذا اس کو چھوڑ دیا گیا اور یہ بات قرآن کریم کے قصص میں عام ملتی ہے اور ویسے بھی انسان اپنے ہاں کسی کی باتیں کرتے ہوئے اس کی ضروری باتوں کا ذکر کرتے وقت درمیانی واقعات کو حذف کرتا رہتا ہے یہی بات یہاں ہوئی لیکن یہاں مفسریں نے واقعات کا حذف ذکر نہ کیا اور قصہ گوؤں نے اپنی طرف سے اس کے ساتھ معجزہ کا لفظ لگا کر حذف شدہ واقعات اور اقامت مصر کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اس پر دلیل یہ قائم کی کہ دیکھو قرآن کریم میں لکھا ہے کہ (فاتت بہ قومھا تحملہ) پھر ایسا ہوا کہ وہ لڑکے کو ساتھ لے کر اپنی قوم کے پاس آئی لڑکا اس کی گود میں تھا ، حالانکہ ” لڑکا اس کی گود میں تھا “ کا بالکل اضافہ ہے جس کا اشارہ تک قرآن کریم یا حدیث صحیح میں نہیں اور (تحملہ) کا لفظ اپنے ساتھ سوا کر کے لانے پر دلالت کرتا ہے لیکن ترجمہ سے ” سوار کرکے لانے “ کو بھی حذف کردیا گیا ہے ۔ (تحملہ) کا لفظ بالکل اسی طرح استعمال ہوا ہے جس طرح (لتحملکم) اور (احملکم) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور یہ دونوں الفاظ سورة التوبہ کی آیت 92 میں ذکر کئے گئے ہیں چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملکھم قلت لا اجد ما احملکم علیہ) (التوبہ 9 : 92) اور نہ ان لوگوں پر کچھ گناہ ہے جن کا حال یہ تھا کہ تیرے پاس آئے کہ ان کے لئے سواری بہم پہنچا دے (لتحملھم) اور جب تو نے کہا میں تمہارے لئے کوئی سواری نہیں پاتا ۔ (لا اجد ما احملکم) (ترجمان القرآن آزاد) ” اور نہ ان لوگوں پر کہ جب تیرے پاس آئے تاکہ تو ان کو سواری دے تو نے کہا میرے پاس کوئی چیز نہٰں کہ تم کو اس پر سوار کر دو ۔ (عثمانی) ” اس طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آکر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے سواریاں بہم پہنچائی جائیں اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لئے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا ۔ “ (تفہیم مودودی) ” اور نہ گناہ ہے ان پر کہ جس وقت آتے ہیں تیرے پاس اے محمد ! تاکہ سواری دے تو ان کو کہتا ہے تو کہ نہیں پاتا ہوں وہ چیز کہ سوار کروں میں تم کو اوپر اس کے “ (حسینی) باقی تمام تراجم میں بھی ” سوار کرنے “ ’ سواری طلب کرنے “ کے ہیں اور اگر ہم نے (تحملہ) کا ترجمہ ” سوار کر کے لانے “ سے کیا ہے تو ہم پر اعتراض کیوں ؟ اس لئے کہ دوسرے حضرات نے اس جگہ ” سوار کرکے لانے “ کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ اس طرح کیا ہے کہ ” لائی اس کو گود میں “ (عثمانی) ” وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے لائی “ (تدبیر) ” وہ لے آئیں بچہ کو اپنی قوم کے پاس گود میں “ (ضیاء) ” لائیں حضرت مریم (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں اٹھا کر “ (حسینی) ہمارے مترجمین ومفسرین نے چونکہ پیدا ہوتے ہی بچہ کو قوم کے پاس لانے کا تصور قائم کیا تھا اس لئے ترجمہ میں سب نے گود میں اٹھا لانے کا ذکر کیا ۔ ہم انجیل کی عبارت پر اعتماد کرتے ہوئے جس کی تصدیق مفسرین نے بھی کی ہے ہم بارہ برس کے بعد لانے کا تصور رکھتے ہیں اس لئے ترجمہ میں ” سوار کرکے لانے “ کا تصور دیا ہے ۔ مفسرین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ بیت لحم سے مصر کی طرف ہجرت کر گئیں ، لیکن جب اس آیت پر پہنچے تو ان کو یاد نہ رہا کہ ہم پہلے کیا لکھ چکے ہیں اس لئے انہوں نے اس جگہ گود میں اٹھا لانے کا ذکر کردیا ۔ عوام بیچاروں کا حافظہ بھی کمزور ‘ مطالعہ بھی علمائے کرام کی اندھی تقلید میں ‘ وہ کچھ کہہ ہی کیا سکتے ہیں اور پھر جنہوں نے کچھ کہا انہوں نے قوم کے علمائے گرامی قدر سے جو انعام پایا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے لہذا اس کی کوئی جرات ہی آخر کیوں کرے گا کہ وہ علماء کے خلاف بات کرے ؟ قرآن کریم ‘ رب ذوالجلال والاکرام اور نبی اعظم وآخر ﷺ کے فرمان کے اگر خلاف ہو تو ہو علمائے کرام کا خلاف کہہ کر کوئی زندہ رہے نہایت مشکل ہے پھر آسان کو چھوڑ کر مشکل کو کون دیکھے گا اور کیوں دیکھے گا ؟
سیدہ مریم (علیہ السلام) کا کم عمر بچہ جب قوم کے بڑے بڑے استادوں اور بزرگوں کے درمیان بیٹھ کر باتیں کرنے لگا اور ان کے سوالوں کے جوابات دینے لگا پھر ان کی قوم کے سرداروں اور بزرگوں سے اس کے سوالوں کا جواب بن نہ آیا تو انہوں نے جونہی مریم کو دیکھا جو اس کو اپنے ساتھ لائی تھیں تو انہوں نے بچہ کو چھوڑ کر مریم کو مخاطب کیا اور اپنی شکست کا سارا غصہ ایک ہی فقرہ میں نکال دیا کہ ” مریم تو نے (اس لڑکے کو جنم دے کر) بڑی ہی عجیب بات کر دکھائی ہے ۔ “ کہ اس نے کسی کی عزت کا خیال نہیں کیا اور اس طرح آنکھیں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کی ہیں کہ گویا قوم کا بڑا آدمی وہی ہے ۔ زیر نظر آیت کے آخر میں لفظ (فریا) استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہم نے ” بڑی ہی عجیب بات کر دکھائی ہے “ کے کئے ہیں اور بعض مترجمین نے اس کے معنی کئے ہیں ” بہت ہی برا کام کیا ہے ۔ “
لفظ (فریا) کی تحقیق کرتے ہوئے صاحب تاج العروس نے لکھا ہے کہ الفری کفنی الامر المختلق المصنوع اوالعظیم نقلھم الجوھری والعجیب نقلہ الراغب یعنی فری جو غنی کا ہم وزن ہے جوہری نے اس کے دو معنی ذکر کئے ہیں گھڑا ہوا ‘ بناوٹی اور بہت بڑا ‘ امام راغب نے اس کے معنی عجیب ‘ حیران کن کئے ہیں اور علامہ آلوسی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے انہ یستعمل فی العظیم من الامر شرا او خیرا قولا اوفعلا (روح المعانی) ہر بڑے کام کے لئے خواہ وہ برا ہو یا اچھا قول ہو یا فعل لفظ فری کا استعمال ہوتا ہے اور یہ وضاحت گزشتہ سارے معنوں پر حاوی ہے اور تعجب انگیز کام بلاشبہ ایک بڑا کام ہی ہو سکتا ہے اور یہی ہم نے اختیار کیا ہے فرق یہ ہے کہ مفسرین نے یہ بتا دیا ہے کہ قوم کے لوگوں نے اس بچے کی پیدائش کو بہت برا فعل یا کام محسوس کیا اور ہمارے خیال میں یہ ہے کہ قوم کے لوگوں نے اس بچہ کو عجیب قسم کا بچہ قرار دیا کیونکہ ہو عمر میں تو چھوٹا تھا لیکن جو اس نے باتیں کیں انہوں نے ان لوگوں کو تعجب میں ڈال دیا کہ جو بچہ ہو کر اس طرح کی باتیں کر رہا ہے وہ بڑا ہو کر کیا کرے گا کہ پوری قوم کے دین و مذہب کو ہلاک کر رکھ دے گا ۔ مریم مندورہ تھی ۔
اگر یہ نکاح نہ کرتی تو ایسا بچہ ہماری قوم میں کیسے داخل ہوجاتا ؟ مریم نے جو منذورہ ہونے کے باوجود شادی کی تو کوئی اچھا فعل نہ کیا اور جو بچہ جنا اس نے اور بھی کمال کردیا کہ بچہ ہو کے قوم کے برسر آوردہ لوگوں کا ذرا بھر لحاظ نہ کیا اور تابڑ توڑ جواب سوال شروع کردیئے یہ تو وہی بات ہوئی کہ ” بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ ! “
Ayah 19:28اے ہارون کی بہن ! تیرے ماں باپ تو بہت اچھے تھے تجھے کیا ہوا ؟ :
28۔ زیر نظر آیت سیدہ مریم کے معاملہ میں ہمارے نظریات اور علمائے کرام کے نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن آیت ہے بشرطیکہ ذرا عقل وفکر سے کام لیا جائے ۔ وہ کیسے ؟ وہ اس طرح کہ علمائے کرام ومفسرین عظام کا خیال ونظریہ ہے کہ کہ مریم کے ہاں بغیر مس بشر کے بچہ پدحا ہوا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا ، ہمارا خیال ونظریہ ہے کہ سیدہ مریم نے منذورہ ہونے باوجود شادی کرلی جو قوم کے رواج کے خلاف ہونے کے باعث قوم کو پسند نہ آئی تو انہوں نے مریم کو شادی کرنے کے باعث برا جانا ، سوء اتفاق یہ کہ مریم نے نکاح تو کیا لیکن سیدہ مریم (علیہ السلام) کا شوہر آپ کی طرف متوجہ نہ ہوا جس کا آپ کو یقینا قلق تھا ۔ قدرت خداوندی کہ اسی اثناء میں فرشتہ نے مریم کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی ‘ مریم نے تعجب کیا کہ میرے بیٹا کیسے ؟ جب کہ خاوند متوجہ نہیں ہوا اور میں بدکار بھی نہیں لیکن فرشتہ نے کہا کہ تیرا رب تیری حالت اچھی طرح سمجھتا ہے اگر اس نے تیرے ہاں بچہ ہونے کا فصلہ کیا ہے تو وہ تیری روک بھی یقینا دور کر دے گا اور یہ بات تیرے رب پر کوئی مشکل نہیں بحمد للہ اللہ فرشتہ کی بشارت کے مطابق وہ وقت آیا کہ سیدہ حاملہ ہوگئی یوسف آپ کی طرف ایسا متوجہ ہوا کہ دو قالب ایک جان ہو کر رہ گیا ۔ سیدہ کے ہاں عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے لیکن علمائے کرام کے نظریہ کے مطابق اگر فی الواقعہ سیدہ مریم (علیہ السلام) نے نکاح نہیں کیا تھا اور وہ حاملہ ہوگئی تھیں تو یہودی شریعت کے مطابق یودیوں کو زنا کی سزا کے لئے مطالبہ کرنا چاہئے تھا کیونکہ زنا کی سزا کا ذکر تورات میں موجود تھا اور موجود ہے لیکن کتاب وسنت کتب تاریخ اور اناجیل آج بھی ہمارے سامنے ہیں لیکن یہود کے کسی گروہ نے بھی اس سزا کا مطالبہ نہیں کیا ۔ ہاں ! اگر کہیں یہود نے اس سزا کا مطالبہ کیا ہے تو وہ نقل سامنے لائی جائے ، ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ علمائے اسلام اور مفسرین کرام اپنے علمی جوہر کو سامنے لائیں اور یہ بات ثابت کریں اور اگر وہ یہ بات ثابت نہ کرسکیں اور یقینا وہ ثابت نہیں کرسکیں گے تو مان لیں کہ یہود کو اعتراض سیدہ مریم (علیہ السلام) کے نکاح پر تھا اور وہ اس نکاح کو جائز نہیں سمجھتے تھے عیسیٰ (علیہ السلام) کی بےپدری پیدائش کا انہیں اعتراض نہ تھا ۔ اگر ان کو ایسا اعتراض ہوتا تو وہ سیدھے طریقہ سے مریم پر زنا کی سزا کا مطالبہ کرتے ‘ رہی یہ بات کہ کیا فی الواقعہ تورات میں کہیں اس سزا کا ذکر موجود ہے تو ہم اس سے پہلے سورة المائدہ میں بھی عرض کر آئے ہیں اور یہاں بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہود کے ہاں زنا کی سزا توراۃ میں موجود ہے چناچہ تحریر ہے کہ :
” اگر کوئی مرد کسی عورت کو بیا ہے اور اس کے پاس جائے ۔۔۔ یہ دعوی کرے کہ میں نے اس میں کنوارے پن کے نشان نہیں پائے ۔۔۔۔۔ اور یہ بات سچ ہے کہ اس میں کنوارے پن کی نشانات نہیں پائے گئے تو وہ اس لڑکی کو اس کے باپ کے گھر کے دروازہ پر نکال لائے اور اس کے شہر کے لوگ اس کو سنگسار کریں کہ وہ مرجائے کیونکہ اس نے اسرائیل کے درمیان شرارت کی کہ اپنے باپ کے گھر فاحشہ پن کیا ۔ “ (استثناء 22 : 13 ، 21)
” وہ شخص جو دوسرے کی جورو کے ساتھ یا اپنے پڑوسی کی جورو کے ساتھ زنا کرے وہ زنا کرنے والا اور زنا کرنے والی دونوں قتل کئے جائیں ۔ “ (احبار 20 : 31)
” اگر کوئی شخص کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو وہ دونوں مار ڈالے جائیں یعنی وہ مرد جس نے اس عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی یوں تو اسرائیل میں ایسی برائی کو دفع کرنا ۔ “ (استثناء : 22 : 23)
جب واضح طور پر ان کو مریم کے حمل کی خبر لگی تو اگر اس کا نکاح نہ ہوتا تو ان کو فورا سزا دینے کی بات کرنا چاہئے تھی اور جب انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی تو یہ کھلی دلیل ہے اس بات کی کہ وہ مریم کے نکاح کو برا خیال کرتے تھے کیونکہ وہ اپنے مذہبی رواج کے خلاف سمجھتے تھے۔ شریعت موسوی میں اس کی کوئی ممانعت نہ تھی اس لئے وہ اپنے رواج کے باعث برا تو جانتے رہے لیکن کسی سزا کا مطالبہ نہ کرسکتے تھے اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا مطالبہ کیا ۔
اس طرح ان کو جو اعتراض تھا وہ صرف قومی اعتقاد و رواج کے خلاف پر تھا سیدہ مریم (علیہ السلام) پر بدچلنی اور بدکاری کا کوئی اعتراض نہ تھا اس لئے زیر نظر آیت میں سیدہ مریم (علیہ السلام) کے والد اور والدہ ماجدہ کے اعتقاد اور قومی رسم و رواج کا ذکر کرتے ہوئے ان کو بری قرار دے رہے ہیں کہ اسے مریم ! نہ تو تیرے والد کا کوئی عقیدہ ونظریہ برا تھا اور نہ ہی تیری والدہ قومی رسم و رواج سے سرکشی اختیار کئے ہوئے تھی یہ تجھے کس کی مار لگ گئی ہے کہ تو نے ماں باپ کے نظریہ کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے نکاح کرلیا اور تیرا بچہ کتنا گستاخ نکلا جس نے قوم کے سرداروں اور بزرگوں کی آج ہی پگڑی اچھالنا شروع کردی اور اس لئے اس کے لچھن بتا رہے ہیں کہ وہ آنے والے کل کو کیا کرے گا ؟
ہماری اپیل ہے کہ اگر علمائے کرام اور مفسرین عظام کے پاس کوئی ایسی دلیل ہے تو وہ چھپا کر نہ رکھیں بلکہ سامنے لائیں اور اس کو عوام کی عدالت میں پیش کریں یا حکومتی عدالت میں ہم دونوں طرح سے تیار ہیں (آیت) ” ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین “۔
ہم اس جگہ کوئی شرط عائد نہیں کر رہے اس لئے کہ شرط جائز نہیں ہاں ! ہم اپنی طرف سے انعام بھی حسب توفیق دیں گے اور اپنے نظریہ سے توبہ بھی اور اس سلسلہ میں ان کے جو اخراجات ہوں گے ہم ان کو بھی ادا کریں گے اور ان کے ممنون بھی ہوں گے ہمارے نزدیک دلیل کتاب وسنت ہے ‘ بس لیکن اس سلسلہ میں تم تورات وانجیل کو بھی ساتھ ملا دیتے ہیں اگرچہ ان میں تحریف ہوچکی ہے بلکہ روز بروز ہو رہی ہے ۔
اگر ہمارے بزرگوں اور کرم فرماؤں کے پاس کوئی دلیل نہ ہو جو یقینا نہیں ہوگی تو آپ کو جو جی چاہے اپنے مریدین اور معتقدمین کے سامنے بیان کریں لیکن دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ زنی چھوڑ دیں اور خدا کے لئے اس قوم پر اپنی اجارہ داری نہ سمجھ لیں کیونکہ لوگ اب ماشاء اللہ بیدار ہوچکے ہیں اور ہو رہے ہیں اور یقینا ہوجائیں گے اور پھر آپ لوگوں کو ان کی ہاں میں ہاں ملانا ہی پڑے گی ۔ آج تم جس کو غلط کہتے ہو کل صحیح کہنا پڑے گا کیونکہ جادو وہی ہے جو سرچڑھ کر بولے ۔
اس آیت کے شروع میں ایک فقرہ ہے (یا اخت ہارون) اس سے کون سے ہارون مراد ہیں ؟ کہا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) مراد ہیں کیونکہ سیدہ مریم (علیہ السلام) انہی ہارون (علیہ السلام) کے خاندان میں سے تھیں اور اس طرح کی نسبت شرعا بھی جائز ہے اور عرفا بھی معروف ہے اس میں کوئی کلام نہیں تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہارون سیدہ مریم (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی کا نام ہے اگر ایسی بات ہے تو یقینا وہ سیدہ مریم (علیہ السلام) سے چھوٹا ہی ہوگا اور اس کے ثبوت میں یہ حدیث بھی پیش کی جاسکتی ہے ، صحیح مسلم میں ہے کہ مغیرہ بن شعبہ جب نجران گئے تو وہاں کے عیسائیوں نے ان سے پوچھا کہ قرآن کریم میں مریم کو (اخت ہارون) ہارون کی بہن کہا گیا حالانکہ ہارون مریم سے صدہا سال پہلے گزرے ہیں وہ کوئی جواب نہ دے سکے جب وہ واپس آئے تو نبی اعظم وآخر ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا انھم کانوا یسمون بانبیائھم والصالحین قبلھم ” کہ بنی اسرائیل کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کے نام انبیاء کرام اور گزشتہ بزرگوں کے ناموں پر رکھا کرتے تھے ۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ مریم (علیہ السلام) کے حققیے بھائی بھی ہارون نام کے تھے لیکن یہ ایک طرح کا اس حدیث سے استدلال ہے ۔
لفظ (سوء) اور (بغی) کا استعمال قرآن کریم میں عام ہے ، پہلا لفظ ہر طرح کی برائی کے لئے استعمال ہوا ہے وہ برائی عقیدہ کی ہو یا اخلاق وکردار کی اور دوسرالفظ جس کا مادہ (بغی) ہے وہ ہر طرح کی زیادتی اور سرکشی کے لئے استعمال ہوا ہے جس سے مراد حد سے تجاوز کرنا ہے خواہ وہ کسی معاملہ میں ہو یعنی عقیدہ میں ہو یا اخلاق وکردار میں ، گویا (سوء) ” حسن “ کا مخالف ہے اور (بغی) کا ، اس لئے زیر نظر آیت کا یہ ترجمہ کرنا کہ ” اے ہارون کی بہن ! نہ تیرا باپ بدکار تھا اور نہ تیری ماں بدکارہ تھی ۔ “ اس کا مفہوم یہ بیان کرنا کہ ” ان الفاظ سے لوگ مریم کو عار دلا رہے ہیں کہ تیرا باپ بدکار نہ تھا اور نہ ہی تیری ماں زانیہ تھی ۔ “ کیا کسی شادی شدہ عورت کو یوں عار دلائی جاتی ہے ؟ یہ سراسر زیادتی اور عصمت انبیاء کے خلاف اور مومنہ قانۃ پر بہتان ہے ، باکل سیدھی تھی کہ اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرے باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں سرکش تھی گویا سیدہ سے قوم کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ مریم ! تیرا باپ بھی ایک صحیح العقیدہ انسان تھا اور تیری ماں بھی اپنے نظریہ کی بڑی پختہ تھی جو حد سے تجاوز کیا جو تیرے ماں باپ نے تیرے لئے مقرر کردی تھی ، اس جگہ مریم کے والد کے متعلق فرمایا کہ تیرا باپ (امراسوء) نہیں تھا اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم (قوم سوء) تھی یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بہت برے تھے وہ برا عقیدہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے نوح (علیہ السلام) کی دعوت قبول نہیں کرتے تھے ۔
بلکہ صاف جھٹلاتے تھے ، اس طرح (بغیا) لفظ ہر طرح کی زیادتی اور سرکشی کے لئے استعمال ہوتا ہے جب کہ لفظ بولنے والا اس کو جس کے متعلق اس نے یہ لفظ استعمال کیا ایس اس مجھے اگرچہ وہ ایسا نہ ہو اور نہ ہی ہو سکتا ہو۔