19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور ہم نہیں اترتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے جو کچھ ہمارے سامنے ہے جو کچھ ہمارے پیچھے گزر چکا ہے اور جو کچھ ان دونوں وقتوں کے درمیان ہوا سب اسی کے حکم سے ہے اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بھول جانے والا ہو

فرشتوں کی معذرت کہ ہم اپنی مرضی سے نہیں اترتے بلکہ حکم الہی کے تحت اترتے ہیں : 64۔ فرشتہ کیا ہے ؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ فرشتہ سے مراد اور قوت ہے ، جس طرح سارے قوی مخلوق ہیں اسی طرح یہ بھی مخلوق ہیں ‘ جس طرح کسی بھی طاقت وقوت کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا بالکل اسی طرح ان کا بھی اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا ‘ جس طرح ہر طاقت وقوت کسی دوسرے وجود کی مرہون منت ہے فرشتہ بھی ہے ‘ جس طرح ہر طاقت وقوت کسی دوسری طاقت کو جنم نہیں دے سکتی فرشتہ بھی نہیں دے سکتا ، جس طرح ہر طاقت وقوت فی نفسہ مادی چیز نہیں فرشتہ بھی نہیں لیکن جب تک اس کو مثال سے نہ سمجھا جائے شاید تفہیم ممکن نہیں ہے ، اس کی مثال خود انسان بلکہ ہر جاندار ہستی ہے ، غور کیجئے کہ مخلوقات کی دو قسمیں ہیں ‘ ذی روح اور غیر ذی روح ، ذی روح مخلوقات کے اکثر افعال وحرکات اس کی روح کی ارادی قوت کی وساطت سے انجام پاتے ہیں وہی روح اس کے ہاتھ پاؤں اور تمام اعضاء بلکہ ہر عضو کے ایک ایک رگ وریشہ پر حکمران اور مسلط ہے ، بایں ہمہ وہ روح اصول مقررہ کے تحت ہی اعضاء سے کام لیتی ہے اور ان اصولوں سے باہر نہیں جاتی اسی طرح غیر ذی روح اشیاء میں ابروباد سے لے کر دریا ‘ پہاڑ ‘ چاند اور سورج تک پر ارواح مقرر ہیں جو ان اشیاء سے رب کریم کے اصول مقررہ کے مطابق یکساں افعال وحرکات کا صدور کراتی ہیں جس طرح ہماری روح اپنے اعضا اور اعضا کے ذریعہ سے مادہ میں جو تغیر پیدا کرتی ہے وہ اشیاء کے مقررہ خواص و طبائع کے سہارے پر کرتی ہے اسی طرح ملائکہ بھی انہی مقررہ خواص و طبائع کے ذریعہ اپنے مفروضہ فرائض انجام دیتے ہیں۔ زیر نظر آیت میں جبریل (علیہ السلام) نے اپنی اور اپنے ساتھی فرشتوں کی حیثیت واضح فرمائی ہے کہ ہم اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرتے اور نہ ہی کچھ کرنے کے مجاز ہیں ہمارا کام صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ہے اس کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ ضروری یہ پیش آئی کہ حق و باطل کی کشمکش کے اس مرحلہ میں مخالفین کے بالمقابل نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے واحد سہارا وحی الہی کا سہارا تھا ‘ اسی آسمانی کمک سے مشکلات میں آپ ﷺ کو تقویت و راہنمائی بھی حاصل ہوتی تھی اور اسی کے ذریعہ سے مخالفین کے نت نئے اعتراضات کا جواب اور ان کے اٹھائے ہوئے فتنوں کا توڑ بھی ہوتا تھا اس وجہ سے قدرتی طور نبی کریم ﷺ کو نہایت بےچینی کے ساتھ جبرئیل (علیہ السلام) کا جو وحی لانے کا ذریعہ تھے انتظار رہتا ۔ آپ ﷺ کی یہ بےچینی کے ساتھ جبریل (علیہ السلام) کا جو وحی لانے کا ذریعہ تھے انتظار رہتا ۔ آپ ﷺ کی یہ بےچینی حالات کا لازمی تقاضا تھی ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جگہ جگہ آپ ﷺ کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ اپنے موقف پر ڈٹے رہو ، جلدی نہ کرو ‘ جس راہنمائی اور مدد کی ضرورت ہوگی وہ اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ نازل فرمائے گا اس جگہ بھی جبرئیل (علیہ السلام) کی زبان سے یہی مضمون ادا ہوا ہے گویا جبریل (علیہ السلام) کی طرف سے نبی اعظم وآخر ﷺ کی خدمت میں ایک نوع کی معذرت ہے کہ اگر ہم جلدی جلدی آپ کے شوق وانتظار کی تسکین کے لئے وحی لے کر نہیں اترتے تو اس میں ہماری کسی کوتاہی کو دخل نہیں ہے بلکہ ہمارا اترنا تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہے جب تک اس کا حکم نہ ہو نہ ہم اترسکتے ہیں اور نہ ہی ہم آپ کے پاس کوئی وحی لاسکتے ہیں اس معاملہ میں ہمیں کوئی دخل نہیں ہے ہم صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری پر مامور ہیں۔ اس سے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور دوسرے تمام زمرہ ملائکہ کی حیثیت واضح ہوگئی کہ ان کے تمام پیش وعقب اور جو کچھ ان کے مابین ہے سب پر اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور اس کا مکمل کنٹرول ہے ، مجال نہیں کہ کوئی سرمو اپنے دائرہ سے تجاوز کرسکے یا کوئی اقدام اپنے ارادے سے کرسکے کیونکہ ارادہ ان کے ہاں سے ہی نہیں ایک طرف نبی اعظم وآخر ﷺ کو تسلی دی گئی اور دوسرے طرف مشرکین عرب کی حماقت پر کاری ضرب لگا دی گئی جو فرشتوں کی پوجا کرتے تھے اور انکو حاجت روا اور مشکل کشا جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے کہ روز اللہ کی ان بیٹیون سے سفارش کا کام لے کر اپنی کوتاہیاں معاف کرا لیں گے ، ان بیوقوقوں کو جبرئیل کا یہ بیان سنا کر آگاہ کردیا گیا کہ جب رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں جبرئیل امین (علیہ السلام) کی بےبسی کا یہ عالم ہے تو دوسرے وہاں کیا کرلیں گے ، فرمایا گیا کہ ” ہم نہیں اترتے مگر تمہارے پروردگار کے حکم سے جو کچھ ہمارے سامنے جو کچھ ہمارے پیچھے گزر چکا ہے اور جو کچھ ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے ہے اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بھول جانے والا ہو ۔ “ دیر ہوتی ہے تو اس کے حکم کے تحت ‘ آتے ہیں تو اس کے حکم کے تحت اور نہیں اور نہیں تو اس کے حکم کے تحت کیونکہ ہم یعنی فرشتے صاحب ارادہ نہیں ہیں ۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

آسمان و زمین کا پروردگار اور ان سب کا پروردگار جو آسمان و زمین میں ہیں سو اس کی بندگی کر اور اس کی بندگی کی راہ میں جو کچھ پیش آئے جھیلتا رہ کیا تیرے علم میں کوئی دوسرا بھی اس کا ہم نام ہے ؟

آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا پروردگار وہی اللہ ہے : 65۔ زہر نظر آیت کا بیان جبریل (علیہ السلام) کے بیان کا جزو بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مستقل بیان بھی اس کو کہا جاسکتا ہے اور دونوں صورتوں میں مدعا میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے متکلم میں فرق تسلیم کیا جائے اور یہ فرق بھی ظاہری ہوگا حقیقت میں تو کلام اللہ تعالیٰ ہی کا ہے کیونکہ جبریل اپنے ارادہ سے تو کوئی بات کر ہی نہیں سکتے ، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا فرمایا ” آسمان و زمین کا پروردگار اور ان سب کا پروردگار جو آسمان و زمین میں ہیں اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی بندگی و عبادت کے لائق ہے اس کی بندگی و عبادت میں لگے رہو یہی راہ مستقیم ہے پھر اس راستہ میں جو کچھ آپ کو پیش آئے اسے بھی اس کی رضا کے لئے جھیلتے رہو تمہارا موقف بالکل صحیح ہے کہ عبادت ہے تو اس کی اور اطاعت ہے تو اس کی پھر اس کی راہ چلنے میں جو کچھ بھی حائل ہو اس کو خوشی سے برداشت کرو۔ “ گویا یہ بات پیغمبر اسلام اور آپ ﷺ کے ساتھیوں سے کہی جا رہی ہے کہ دو باتوں میں لگے رہو ساری کامیابیاں انہیں دو باتوں سے ملیں گی وہ کیا ؟ یہ کہ اس کی عبادت کرو اور یہ کہ اس کی عبادت کی راہ میں جتنی مشکلات پیش آئیں جیلتے رہو یہی بات آپ پر لازم کی گئی ہے اور پھر استفسارا پوچھا جا رہا ہے کہ کیا آپ اس کا کوئی ہم نام اور بھی جانتے ہیں ؟ اور ہم نام کے معنی نظیر ومثیل اور ثانی کے ہیں ظاہر ہے کہ اس کا جواب ایک ہی ہے کہ اس کا کوئی ہم نام نہیں اور نہ ہی ہو سکتا ہے ۔
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور (عقل و فکر سے عاری) انسان کہتا ہے جب میں مر گیا تو پھر کیا ایسا ہونے والا ہے کہ زندہ اٹھایا جاؤں ؟

منکرین قیامت کے متناقض خیالات اور ان کی تردید : 66۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین صبر و استقامت کے بعد اب مخالفین کی تکذیب کا باعث بیان کیا جا رہا ہے ۔ (الانسان) سے مراد وہ خاص انسان ہیں جو ایسی ایسی باتیں کہنے والے ہیں اور اس وقت کے لحاظ سے وہ مشرکین عرب ہی تھے جو قیامت کا نام سنتے ہی تعجب کا اظہار کرنے لگتے تھے کہ یہ کیسا آدمی ہے اور کس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ۔ مشرکین عرب ہوں یا دوسری اقوام وہ زبانی طور پر مانتے اور تسلیم کرتے تھے لیکن اس بات پر ان کے دلوں کو اطمینان نہیں تھا کہ مرکھپ جانے کے بعد حساب کتاب کے لئے دوبارہ پیدا بھی کئے جائیں گے ، آج کل کی طرح ان کے امراء اور اغنیاء اس غلط فہمی میں تھے کہ بالفرض اگر قیامت ہوئی بھی تو وہ وہاں بھی وہی کچھ پائیں گے جو ان کو یہاں دیا گیا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر ان کو اعتماد ان لوگوں پر تھا جن کے بت بنا کر انہوں نے رکھے تھے کہ یہ ہماری سفارش کرکے چھڑا لیں گے اگر کوئی ایسی حالت پیدا ہوئی اور ان کا سارا اعتماد دیویوں اور دیوتاؤں اور داتوں پر تھا یا ان فرشتوں پر جن کو وہ اپنے عقیدے کے مطابق اللہ کی بیٹیاں تصور کرتے تھے کہ یہ سب آخر کیوں ہیں ؟ اسی لئے تو ہیں کہ اگر کوئی ایسی مشکل پیش آ ہی گئی تو یہ لوگ ہماری سفارش کرکے ہمیں چھڑا لیں گے گویا اس طرح ان کے خیالات بالکل ایک دوسرے کے متناقض تھے اور وہ سب کے سب اگر مگر میں پھنسے ہوئے تھے اور بدقسمتی سے آج یہی حال ہم مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور جو کچھ اس وقت ان کا سواد اعظم تھا وہی آج ہم مسلمانوں کا ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی ان کے اسی وہم کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ جب مر گئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ گویا اظہار تعجب بھی ہے اور اس کا انداز بھی ایسا ہے کہ اس سے انکار خود بخود ٹپک رہا ہے ۔
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان کو یہ بات یاد نہ رہی کہ ہم اسے پہلے پیدا کرچکے ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟

مشرکین کے اظہار تعجب کا واضح اور بدیہی جواب : 67۔ مشرکین کے تعجب کا ان کو جواب دیا رہا ہے کیونکہ تعجب اپنے اندر ایک سوال کی حیثیت رکھتا ہے ، فرمایا اچھا یہ سوال کرنے والے ذرا اتنی بات تو بتائیں کہ وہ خود بھی پیدا ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ پیدا ہوئے تو آخر انکو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ کیا وہ خود بخود ہی پیدا ہوگئے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو وہ ایک بار خود ہی مرجائیں اور دوبارہ پیدا ہو کر اس کا ثبوت پیش کردیں کہ واقعی وہ خود بخود پیدا ہوئے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا یا وہ ایسا نہیں کرسکتے تو ان کو مان لینا چاہئے کہ ان کا پیدا کرنے والا کوئی ہے لیکن جب وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کون ہے تو ہم ان کو بتائے دیتے ہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور پھر جس طرح اس نے ان کو اس وقت اپنے قانون کے مطابق پیداکر دیا جب ان کا نام ونشان تک موجود نہیں تھا تو اب وہ ماشاء اللہ موجود ہیں اور یہ مانتے بھی ہیں کہ ان کو اللہ مارے گا تو جس طرح ان کو پیدا کرنے والے نے پہلی بار پیدا کردیا بالکل وہی ان کو دوسری بار بھی پیدا کردے گا ، جب وہ ” کچھ نہیں “ سے پیدا کرسکتا ہے تو یقینا وہ ” کچھ سے “ بھی پیدا کرلے گا اس میں ان کو اتنا تعجب نہیں ہونا چاہئے جتنا کہ ان کو ہو رہا ہے ۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

سو تیرا پروردگار شاہد ہے کہ ہم ان سب کو اور ان کے ساتھ سارے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے پھر ان سب کو دوزخ کے گرد حاضر ہونے کا حکم دیں گے زانوؤں پر گرے ہوئے

تیرے رب کی قسم ! ان کو اکٹھا کرلیا جائے گا اور ان کے سرغنوں کو بھی : 68۔ پس تیرے رب کی قسم ہم ضرور بہ ضرور ان کو بھی اور ان کے شیاطین کو بھی اکٹھا کریں گے ، ” شیاطین “ کون ہیں ؟ وہی جو دنیا میں ان کے سرغنے تھے اور جن کے بل بوتے پر وہ باتیں بناتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنانے والوں کو خواہ نبی ورسول ہوں یا اللہ کے نیک بندے اپنے مذاق کا نشانہ بناتے تھے اور ان کے قوم کے لیڈروں اور وڈیروں کو قرآن کریم کی زبان میں ” شیاطین “ کے نام سے اکثر یاد کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا کام ہی انگشت زنی ہوتا ہے اور اس سے وہ باز نہیں آسکتے اس لئے کہ یہ چیز ان کو گویا گھٹی میں پلا دی جاتی ہے ‘ فارغ البال ہوتے ہیں اور ان کا کام ” شیطنت “ کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، فرمایا ان کو اور ان کے سرداروں کو ہم دوزخ کے اردگرد اکٹھا کریں گے اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ گویا وہ گھٹنوں کے بل چلتے آرہے ہیں ‘ گھٹنوں کے بل کون چلتے ہیں ؟ وہی جن کو مجبور کرکے اٹھایا جائے یا وہ جو اٹھنے سے مجبور ہوں اور مشکل سے اٹھ سکیں ۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیں گے جو خدائے رحمن سے بہت ہی سرکش تھے

دنیا میں گمراہی کے قائد ہی آخرت میں جہنم کے قائد ہوں گے گویا ان کی قیادت بحال رہے گی : 69۔ اس سے پہلی آیت میں شیاطین من الانس کا ذکر تھا اور وہ وہی تھے جو عوام کے سردار و راہنما کہلاتے تھے ۔ زیر نظر آیت میں ان سرداروں کے سرداروں یا ان شیطانوں کے شیطانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جس طرح آج کل کی زبان میں بی ڈی پر ایم پی اے پر ایم این اے کا مقام ہے پھر ان کے بعد وفاقی وزراء کا فرمایا پھر وہ وقت کہ جب ہم ہر پارٹی کے ان لیڈروں کو ان کے اندر سے چھانٹ لیں گے اور ان سب کو ایک الگ الگ مقام پر جو راولپنڈی کا ہوٹل یقینا نہیں ہوگا ایک جگہ اکٹھا کرلیں گے ‘ یہ کون ہیں ؟ وہی جو اللہ اور اس کے رسول کے قانون کے خلاف چلنے میں نہایت بیباک تھے اور اللہ والوں کے خلاف تحریکیں چلانے والے تھے ، ان کو چھانٹ کر اس لئے الگ کردیا جائے گا کہ وہ دنیا میں گمراہی اور ضلالت کے قائد و راہنما تھے اور وہاں بھی ان کا یہ امیتاز قائم رکھا جائے گا اور وہاں جا کر بھی وہ اپنے پیروؤں اور ووٹروں کو جہنم میں لے جانے کے لئے ان کی پیشوائی کریں اور اس طرح ان کی لیڈر شب قائم رہے گی اور ان کے ساتھ پورا پورا انصاف ہوگا اور اس طرح وہ خدائے رحمن سے سرکشی کا مزہ چکھ لیں گے لیکن اس وقت ان کو بھوک ہڑتال اور دھرنا مارنے کی ہوش یقینا نہیں ہوگی اور نہ ہی اس وقت کوئی ایسی اسکیم سوچ سکیں گے ۔
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

اور یہ بات بھی ہم ہی جانتے ہیں کہ کون دوزخ میں جانے کا زیادہ سزاوار ہے ؟

ہمارے علم میں ہے کہ دوزخ میں جانے کا زیادہ سزاوار کون ہے ؟ 70۔ بلاشبہ دوزخیوں کے بھی درجات ہوں گے ، جہاں کچھ لوگوں کو عذاب دینے کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا وہاں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو بطور ایندھن کام دیں گے اور آگ کے شعلے بھڑکانے کے لئے ان کو استعمال کیا جائے گا ، فرمایا ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کون جہنم میں پہلے جھونکے جانے کا مستحق ہے اور یقینا وہی پہلے گرایا جائے گا خواہ وہ دنیا کی کتنی ہی معتبر ہستی کیوں نہ ہوگا گویا جو شرارتوں میں پیش پیش تھے وہ ان شرارتوں میں انعام حاصل کرنے کے لئے بھی پہلے نمبر پر ہی رکھے جائیں گے اور وہ انعام وہی ہے جس کو اسلام کی زبان میں جہنم اور دنیوی زبان میں شفاخانہ کے نام سے ہم موسوم کرتے ہیں اور وہاں ان کے کھولتا ہوا پانی اور تھوہر کا درخت بطور مہمانی پیش کیا جائے گا اور ان کی حالت ایسی ہوگی کہ (آیت) ” لایموت فیھا ولا یحییٰ “۔ اس میں نہ مرتے ہوں گے نہ جیتے ۔
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں کوئی نہیں جو اس منزل سے گزرنے والا نہ ہو ، ایسا کرنا تمہارے پروردگار نے ضروری ٹھہرا لیا ہے ، یہ ایک طے شدہ بات ہے

تیرے رب کے حتمی فیصلہ سے کون ہے جو روگردانی کرے ؟ 71۔ (حتمامقضیا) فیصلہ شدہ بات کو کہا جاتا ہے جس میں ترمیم وتنسیخ کا امکان باقی نہ رہے ۔ (حتم) ایک بات کا لازم کرنا اور ضروری قرار دینا ۔ یہ فیصلہ شدہ بات کیا ہے ؟ یہی کہ تم میں سے شیاطین تھے جن کا ذکر اوپر گزر چکا ان کے متعلق جو کچھ بیان گیا وہ یقینا ہو کر رہے گا اور کوئی نہیں جو اس سے روک سکے گویا کوئی بھی ان کے لیکھ میں میخ نہیں مار سکے گا اور سارے بگڑی بنانے والے اپنے اپنے حال میں مصروف ہوں گے اور اس وقت کسی کی طرف وہ آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکیں گے اور اسی طرح تمام کے تمام تعلقات منقطع ہو کر رہ جائیں گے ۔ زیر نظر آیت میں لفظ (منکم) اور (واردھا) پر بہت بحث کی گئی ہے کہ (منکم) سے مراد کون لوگ ہیں اور یہ کہ اس وارد ہونے سے مراد کیا ہے ؟ روایات پر انحصار کرتے ہوئے کچھ مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ (منکم) سے مراد سارے انسان ہیں خواہ وہ مومن ہوں یا کافر نیکو کار ہو یا بدکار اور (واردھا) سے مراد یہ ہے کہ وہ سب دوزخ پر سے گزرنے والے ہی یعنی وہ ” پل صراط “ والی بات جس کے متعلق ملائیت میں معروف ہے کہ وہ تلوار سے تیز اور بال سے باریک ایک کبری یعنی پل ہے جس پر سے تمام لوگوں کو گزرنا ہے اور یہ گزرنا اس لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اس پر سے گزرتے وقت جہنم کے مستحق لوگ اس میں گر جائیں گے اور جو جہنم کے مستحق نہیں ہوں گے وہ اس سے صحیح سلامت گزر کر جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ اس سلسلہ میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں سب کی سب ضعیف وکمزور ہیں اس لئے بعض نے اس تعبیر کو بیان نہیں کیا اور ہی اس کو صحیح خیال کیا ہے اس لئے انہوں نے (منکم) سے تمام انسان مراد نہیں لئے بلکہ وہی لوگ مراد لئے ہیں جو جہنم کے مستحق قرار پائے ہیں اور ان کا ورود دوزخ لازم وضروری قرار پایا ہے اور انہی کے متعلق گزشتہ آیت میں (ھم اولی بھا صلیا) کے الفاظ استعمال کئے گئے اور جگہ مزید زور دے کر فرمایا (کان علی ربک حتما مقضیا) جزائے عمل کا قانون ایک طے شدہ قانون ہے جو کبھی ٹلنے والا نہیں ۔ مختصر یہ کہ روایات اگرچہ ضعیف ہیں تاہم نفس مضمون پر کوئی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اگر سارے انسانوں کا ورود تسلیم کرلیا جائے تو بھی ان کا دوزخ میں گرنا تو کسی نے مراد نہیں لیا اور دوزخ پر سے گزر جانے سے کچھ نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ ایک طرح کا نظارہ ہوجاتا ہے کہ کون کون مذہبی اور سیاہی لیڈر ہیں جو یہاں گزر بسر کر رہے ہیں اور کون ہیں جن کو اس سے امن و خوبی کے ساتھ گزار دیا گیا اور بلاشبہ خوش نصیب ہیں جو اس امتحان سے کامیاب ہو کر نکل گئے اور کون مکمل طور پر فیل ہوئے ہیں ۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم ایسا کریں گے کہ جو متقی ہیں انہیں نجات دے دیں گے جو ظالم ہیں انہیں دوزخ میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے

متقی کامیاب ہوں گے اور مشرکین کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا : 72۔ کامیابی کن لوگوں کے قدم چومے گی ؟ فرمایا متقین کے گویا تقوی سارے اسلامی احکام کی غایت ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی تمام تعلیمات کا خلاصہ ہم صرف ایک لفظ میں ادا کرنا چاہیں تو بلاشبہ ہم اس کو ” تقوی “ سے ادا کرسکتے ہیں ۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصد اپنے ہر عمل کے قالب میں اس تقوی کی روح کو پیدا کرنا ہے ۔ قرآن کریم نے اپنی دوسری ہی سورت میں یہ اعلان کیا ہے کہ اس کی تعلیم سے وہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو تقوی والے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم سے مستفید وہی ہوتے ہیں جو متقی ہیں ۔ قرآن کریم متقین کے لئے ہے یا قرآن کریم متقی بناتا ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لئے سورة البقرہ کی آیت کی تفسیر دیکھیں جہاں یہ الفاظ آئے ہیں کہ (ھدی اللمتقین) کہ یہ کتاب تقوی والوں کو ہدایت دیتی ہے قرآن کریم کی بتائی ہوئی ساری عبادتوں کا منشا اسی تقوی کا حصول ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” یایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذین میں قبلکم لعلکم تتقون “ (البقرہ : 2 : 21) ” اے لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تمہارے پہلوں کو پیدا کیا تاکہ تم تقوی حاصل کرسکو “۔ روزہ سے مقصود بھی یہی تقوی ہے چناچہ ارشاد فرمایا کہ : (آیت) ” کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین میں قبلکم لعلکم تتقون “۔ (البقرہ 2 : 183) ” تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تقوی حاصل کرو۔ “ اور حج کا منشا بھی یہی بتایا گیا چناچہ ارشاد ہوا : (آیت) ” ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب “۔ (حج 22 : 32) ” اور جو شخص شعائر اللہ کی عزت کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقوی سے ہے ۔ “ اسی طرح قربانی کی غرض وغایت بھی یہی ہے جیسا کہ فرمایا گیا : (آیت) ” لن ینال اللہ لحومھا ولا دمآء ھا ولکن ینالہ التقوی منکم “۔ (الج 22 : 37) ” اللہ تعالیٰ کے پاس قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن تمہارا تقوی اس کو پہنچتا ہے ۔ “ ایک مسلمان کی پیشانی جس جگہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں جھکتی ہے اس کی بنیا بھی تقوی پر ہونا ضروری ہے ۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ “۔ (التوبہ 9 : 109) ” جس نے اس کی عمارت اللہ تعالیٰ کی تقوی پر کھڑی کی ۔ “ اور مزید فرمایا کہ : (آیت) ” لمسجد اسس علی التقوی “۔ (التوبہ 9 : 108) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر قائم کی گئی ۔ “ اس طرح حج کے سفر اور زندگی کے مرحلہ میں راستہ کو توشہ مال و دولت اور سازوسامان سے زیادہ تقوی ہی ہو سکتا ہے جیسا ارشاد خداوندی ہے : (آیت) ” وتزودوا فان خیرالزاد التقوی “۔ (البقرہ 2 : 197) ” اور سفر میں زاد راہ لے کر چلو اور سب سے اچھا زاد راہ تقوی ہے ۔ “ اسی طرح مسلمانوں کی زیب وزینت کا سامان ظاہری لباس سے بڑھ کر تقوی کا لباس ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” و لباس التقوی ذلک خیر “۔ (الاعراف 7 : 26) ” اور تقوی کالباس ہی سب سے اچھا لباس ہے ۔ “ پھر صرف لباس ہی کیا بلکہ اسلام کا تمام اخلاقی نظام بھی اسی تقوی کی بنیاد پر قائم ہے ۔ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” وان تعفوا اقرب للتقوی “۔ (البقرہ 2 : 137) ” اور معاف کردینا تقوی سے قریب تر ہے ۔ “ (آیت) ” اعدلوا ھو اقرب للتقوی “۔ (مائدہ 5 : 8) ” انصاف کرنا بھی تقوی سے قریب تر ہے ۔ “ اور مزید فرمایا : (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا فان ذلک من عزم الامور “۔ (آل عمران 3 : 186) ” اور اگر صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو یہ بہت بڑی ہمت کی بات ہے ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وتتقوا وتصلحوا بین الناس “۔ (البقرہ : 2 : 224) ” اور تقوی اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ “۔ اور ایک جگہ ارشاد الہی اس طرح ہوا کہ : (آیت) ” وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (النساء 4 : 128) ” اور اگر اچھے کام کرو اور تقوی اختیار کرو بلاشبہ اللہ تمہارے کاموں باخبر ہے ۔ “ قرآن کریم نے بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ آخرت کی ساری نعمتیں ‘ اہل تقوی ہی کے حصہ میں آئیں گی فرمایا : 1۔ (آیت) ” ان المتقین فی مقام امنین “۔ (الدخان 44 : 51) 2۔ (آیت) ” ان المتقین فی جنت ونعیم “۔ (الطور 52 : 17) 3۔ (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون “۔ (الذاریات 51 : 15) 4۔ (آیت) ” ان المتقین فی جنت ونھر “۔ (القمر 54 : 54) ۔ 5۔ (آیت) ” ان المتقین فی ضلل وعیون “۔ (المرسلات 77 : 41) 6۔ (آیت) ” ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم “۔ (ن 68 : 34) 7۔ (آیت) ” ان للمتقین مفازا “۔ (النباء 78 : 31) 8۔ (آیت) ” ان للمتقین لحسن ماب “۔ (ص ٓ 38 : 49) ۔ 1۔ ” بلاشبہ تقوی والے امن وامان کی جگہ میں ہوں گے ۔ “ 2۔ ” بلاشبہ تقوی والے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ۔ “ 3۔ ” بلاشبہ تقوی والے باغوں میں اور چشموں میں ہوں گے ۔ “ 4۔ ” بلاشبہ تقوی والے باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے ۔ “ 5۔ ” بلاشبہ تقوی والے سایوں میں اور چشموں میں ہوں گے ۔ “ 6۔ ” بلاشبہ تقوی والے کے لئے انکے پروردگار کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں ۔ ‘ ؓ 7۔ ” بلاشبہ تقوی والوں کے لئے کامیابی ہے ۔ “ 8۔ ” بلاشبہ تقوی والوں کے لئے باز گشت کی اچھائی ہے ۔ “ بظاہر ابتداء میں اہل تقوی کو کس قدر مصیبتیں اور بلائیں پیش آتی ہیں اور بہت سی حرام اور مشتبہ جو بظاہر عمدہ چیزیں معلوم ہوتی ہیں ان سے محروم ہونا پڑتا ہے ، ظاہری کامیابی کی بہت سی ناجائز کوششوں اور ناروا راستوں سے پرہیز کرنا بھی پڑتی ہے اور اس سے بظاہر ان کو مال و دولت اور عزت وشرف جاہ و جلال ‘ شہرت ‘ مشہوری اور جاہ ومنصب سے محروم ہونا پڑتا ہے لیکن دنیا کی تنگ نظر لوگ صرف فوری اور جلدی کامیابی کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس دنیا کے ظاہری ثمروں پر کام کے اچھے اور برے نتیجوں کا فیصلہ کرنا لینا چاہئے حالانکہ جو شخص جتنا دور بین ہے اسی قدر وہ اپنے کام کے فوری نہیں بلکہ آخری نتیجہ پر نگاہ رکھتا ہے ۔ حقیقی دوربیں اور عاقبت اندیش وہ ہیں جو کام کی اچھائی ، برائی کا فیصلہ دنیا کے ظاہری چند روزہ اور فوری فائدہ کے لحاظ سے نہیں بلکہ آخر کے دائمی اور دیرپا فائدہ کی بنا پر کرتے ہیں اور جب ان کی نظر آخرت کے ثمروں پر رہتی ہے تو دنیا بھی یقینا ان کی بن جاتی ہے اگرچہ دیر سے بنے اور یہاں اور وہاں دونوں جگہ کامیابی اور فوز و فلاح انہیں کی قسمت میں آتی ہے جیسا کہ فرمان الہی ہے کہ : (آیت) ” والعاقبۃ للمتقین “۔ (الاعراف 7 : 128) (آیت) ” ان العاقبۃ للمتقین “۔ (ھود 11 : 49) (آیت) ” والاخرۃ عند ربک للمتقین “۔ (الزخرف 43 : 35) ” اور آخری انجام تقوی والوں کے لئے ۔ “ ” بلاشبہ انجام کار تقوی والوں کے لئے ہے ۔ “ ” اور آخرت تیرے پروردگار کے نزدیک تقوی والوں کے لئے ہے ۔ “ اور یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے جس کی یہاں تفسیر کی جارہی ہے ۔ تقوی کا بیان بہت وسیع ہے اور اس کے مشتقات قرآن کریم میں بار بار بیان کئے گئے ہیں ۔ تقوی اصل میں ” وقوی “ تھا جو قاعدہ کے مطابق تقوی ہوگیا عربی میں اس کے معنی بچنے ‘ پرہیز کرنے اور لحاظ کرنے کے ہیں لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ حاضر وناظر ہونے کا یقین پیدا کرکے دل میں خیروشر کی تمیز کی خلش اور خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کردیتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ ضمیر کے اس احساس کا نام ہے جس کی بنا پر ہر کام میں خدا کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی شدید رغبت اور اس کی مخالفت سے شدید نفرت پیدا ہوتی ہے ، یہ بات کہ تقوی اصل میں دل کی اس کیفیت کا نام ہے قرآن کریم کی اس آیت سے ظاہر ہے جو ارکان حج کے بیان کے موقع پر ہے کہ ” اور جو شائر الہی کی تعظیم کرتا ہے تو وہ دلوں کے تقوی سے ہے ۔ “ (حج 22 : 32) اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تقوی کا اصلی تعلق دل سے ہے اور وہ سلبی کیفیت کی بجائے ایجابی اور ثبوتی کیفیت اپنے اندر رکھتا ہے وہ امور خیر کی طرف دلوں میں تحریک پیدا کرتا اور شعائر الہی کی تعظیم سے انکو معمور کرتا ہے اور یہ بات نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمائی کہ ” التقوی ھھنا “ (مسلم) تقوی یہاں سے اور یہ کہہ کر دل کی طرف اشارہ فرمایا جس سے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ تقوی دل کی پاکیزہ ترین اور اعلی ترین کیفیت کا نام ہے جو تمام نیکیوں کی محرک ہے اور وہی مذہب کی جان ہے اور دینداری کی اصل روح ہے ۔ زیر نظر آیت میں تقوی کے مقابلہ میں مشرکین کو رکھا گیا ہے کہ متقین جب کامیاب وکامران ہو کر جنت میں داخل ہوجائیں گے تو مشرکین کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا ۔ (آیت) ” ونذرالظلمین فیھا جثیا “۔ اور وہ گھٹنوں کے بل گریں گے گویا ان کو دھکے دے کر گرایا جائے گا ۔ ” استغفر اللہ ۔ استغفر اللہ اللھم لا تجعلنامنھم “۔
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ہماری روشن آیتیں لوگوں کو سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ کفر میں پڑے ہوئے ہیں وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ یہ تو بتاؤ کہ ہم دونوں فریقوں میں کون ہے جو بہتر جگہ رکھتا ہے اور بہتر جمگھٹا ؟

دوزخ میں گرائے جانے کی وجہ بتائی جارہی ہے کہ ان کو کیوں گرایا جائے گا : 73۔ فرمایا ان کو دھکے دے کر اس لئے گرایا جائے گا کہ یہ بہت مغرور تھے کہ جب انکو جزاوسزا اور عذاب آخرت کی اطلاع دی جاتی تھی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں اور آفاق کی آیات کی طرف انکی توجہ مبذول کرائی جاتی تھی تو وہ بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ ایمان سے معارضہ کرتے تھے اور ان پر پھبتیاں کسے ہوئے کہتے تھے کہ وہ وقت کب آئے گا جس کی نشاندہی تم کر رہے ہو اور انکا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے پوچھتے تھے کہ بتاؤ یہ مرتبہ ومقام جاہ منصب ‘ اعوان وانصار اور یہ مجلس وسوسائٹی ہم کو میسر ہے یا تم کو ؟ پھر جب یہ سب کچھ ہمارے پاس ہے اور تم دریوزہ گری کرتے پھرتے ہو تو ایسے حالات میں جو بھی دیکھے گا وہ کیا کہے گا کہ غضب الہی کے تم مستحق ہو یا ہم ؟ اگر ہم پر غضب الہی ہوتاتو ہم اس طرح موجیں کیوں مارتے اور تم اس طرح ذلیل و خوار کیوں ہوتے ؟ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اللہ ہمارے اعمال سے خوش ہے اور اس کی ساری ناراضگی تو تمہارے ساتھ ہے اور تم الٹا ہم کو ڈراتے اور دھمکاتے ہو عجیب ہو تم کہ ” الٹا چور کو توال کو ڈانٹے “ ہمارے حال پر بھی غور کرو اور اپنا حال بھی دیکھو کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون ہے جو بہتر جگہ رکھتا ہے اور بہتر جگہ رکھتا ہے اور بہتر قسم کے یار دوست اور ہم نشین کس کو میسر ہیں ؟ تو اس طرح یہی سے دیکھ کر فیصلہ کیا جاسکتا ہے آگے جائیں گے تو دیکھیں گے جو گت تمہاری آج ہے وہی کل بھی ہوگی ۔
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے جو ان سے کہیں بہتر ساز و سامان رکھتی تھیں اور ان سے کہیں بہتر ان کی نمود تھی

ان مغرور لوگوں کے غرور کا جواب بھی ان کو سنایا جائے گا : 74۔ فرمایا وہ سلوک جو اوپر ذکر کیا گیا وہ تو عملی ہوگا لیکن ان کے اس غرور کا ان جواب یقینا سنایا جائے گا کہ اب دیکھ لیا تم نے دنیا کی شان و شوکت اور مال واسباب کی زیادتی کس کام آئی ‘ اس نے تم کو خدا کا چہیتا بنا دیا ؟ یا ان ساری چیزوں نے جن پر تم کو بہت نازل تھا انہوں نے تم کو عذاب الہی سے نجات دے دی اور جو تمہارا خیال تھا وہ بالکل صحیح نکلا ؟ دنیاوی زندگی کی جو چمک تم نے دیکھی تھی اور جس مال و دولت پر تم ناز کرتے تھے آج وہ سب کچھ تمہارے کام آیا ؟ دنیا میں تو تم مربعوں کے مالک تھے اور مزید خریدنے کی تم کو ایسی دھن لگی تھی کہ دن رات تم اسی چکر میں رہتے تھے جتنی زمین خرید لیں گے اتنی ہی کم ہے کیا تم نے کبھی یہ بھی خیال کیا تھا کہ تم سے پہلے بھی کتنے لوگ آئے جو ایس دھن ‘ اسی لگن میں لگے رہے اور جو کچھ تم اکٹھا کر رہے ہو اس سے کئی گنا انہوں نے زیادہ اکٹھا کیا تھا کیا وہ کوئی چیز ساتھ بھی لے کر گئے ؟ اگر وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ نکلے تھے تو یقینا تم بھی خالی ہاتھ ہی نکلو گے پہلوں نے جو اثاثہ اور جو مال و دولت جمع کیا تھا وہ ان کے کام نہ آیا اور اسی طرح یہ پکھنڈ بازی تمہارے کام بھی یقینا نہیں آئے گی (قرن) کے معنی ایک دور یا ایک صدی کے لوگ مراد لئے گئے ہیں اور ایک امت اور ایک قوم بھی کہی گئی ہے (رئیا) کے معنی نمود ونمائش اور شان و شوکت کے ہیں ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت جو ترقیاں آپ دیکھ رہے ہیں اس سے پہلے کتنی بار یہ ترقیوں کے دور گزر چکے ہیں اگرچہ ان کی نوعیت اس سے مختلف تھی ۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

تو کہہ دے جو کوئی گمراہی میں پڑا تو خدائے رحمن کا قانون یہی ہے کہ اسے برابر ڈھیل دیتا جاتا ہے وہ اس حال میں رہے گا ، یہاں تک کہ اپنی آنکھوں سے وہ بات دیکھ لے جس کا اس سے وعدہ کیا گیا تھا یعنی عذاب یا قیامت کی گھڑی تو اس وقت اس کو پتہ چلے گا کہ کون تھا جس کی جگہ سب سے زیادہ بدتر ہوئی اور جس کا جتھا سب سے زیادہ بودا نکلا

فرمایا سنت اللہ یہی ہے کہ جو لوگ گمراہی کی طرف بڑھتے ہیں ان کو ڈھیل دی جاتی ہے ۔ 75۔ فرمایا ان گمراہوں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ نافرمانوں اور سرکشوں کے معاملہ میں سنت اللہ ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ان کو عیش و آرام اور آسائش وفراوانی بہم پہنچائی جاتی ہے اور ان کو ڈھیل پر ڈھیل دی جاتی رہی ہے اور کبھی بھی ان کو فورا نہیں پکڑا گیا یہاں تک کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر نہ لیں اور خدائے رحمن کی حجت ان پر تمام ہوجائے ۔ رب ذوالجلال والاکرام کوئی کمزور ہستی نہیں ہے کہ اس کو کبھی اندیشہ لاحق ہو کہ اس کو فورا پکڑ لو تاکہ یہ شکار کہیں نکل نہ جائے نہیں نہیں ، اس اس کی تدبیر نہایت محکم اور پختہ ہوتی ہے ، اس لئے وہ برابر رسی ڈھیلی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ یہ تو وہ عذاب ہی ان پر آدھمکے گا جو رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کا لازمی ولابدی نتیجہ ہے یا وہ وقت ہی نمودار ہوجائے گا جس کو قیامت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس وقت ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ کون اپنے موقف ومقام کے لحاظ سے بدتر اور اپنے لشکر کے اعتبار سے ضعیف تر ہے ، اس میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں ایک یہ کہ اللہ رب العزت کے شایان شان یہ بات ہے کہ وہ ان کی رسی دراز کرے گویا ظالموں کو ڈھیل رب کریم کی قدرت ‘ حکمت اور اس کی تدبیر کا مقتضی ہے اور بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس ڈھیل کی اپنی کامیابی سمجھ کر سرکشی میں اور زیادہ دلیر ہوجائیں اور دوسری چیز یہ نگاہ میں رکھنی چاہئے کہ اس جگہ ” عذاب “ اور ” ساعت “ دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اور دونوں چیزیں جب اکٹھی بیان کی جائیں تو ایک عذاب دنیا مراد ہوتا ہے اور دوسرے سے عذاب قیامت اور اللہ کے رسولوں نے ان دونوں عذابوں سے اپنی اپنی قوموں کو ڈرایا ہے اور سنت اللہ یہی رہی ہے کہ جو قوم اپنے رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اتمام حجت کے بعد وہ لازما تباہ کردی جاتی ہے اور یہی کچھ ان مکہ والوں کے ساتھ بھی ہوگا اور اب چونکہ کوئی نیا رسول نہیں آئے گا اس لئے آج بھی جو لوگ اس طرح حرکتیں کر رہے ہیں ان کا انجام بھی اسی سنت اللہ کے مطابق ہونا لازم وضروی ہے یہی وجہ ہے کہ مذہبی اور سیاسی راہنما وج بداعتدالیاں کر رہے ہیں اور کرتے ہی جا رہے ہیں اور جوں جوں وہ بداعتدالیوں میں بڑھتے جا رہے ہیں ان کی باگیں ڈھیلی کی جا رہی ہیں تو گویا سنت اللہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ وقت یقینا آئے گا کہ ان سب کو اس طرح پکڑ لیا جائے گا کہ اس طرح پکڑے جانے کا ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوگا اس ملک کو تقسیم ہوئے کتنی دیر ہوچکی اور کتنی بار اس قوم کو جھنجھوڑا جا چکا کہ اس وقت 1947 ء سے 1997 ء آنے والا ہے اور ان پچاس سالوں میں کتنی بار ان کو چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کیا جاچکا لیکن ہر بار حالت پہلے سے بد اور بدتر اور بدترین ہوئی پھر بھی دونوں گروہوں میں سے ایک بھی نہ سنبھل سکا وہ وقت کب آئے گا کہ نہ بانس رہے گا اور نہ بانسری بجے گی ۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے راہ پا لی تو وہ ان پر اور زیادہ راہ کھول دیتا ہے اور تمہارے پروردگار کے حضور تو باقی رہنے والی نیکیاں بہت ہیں ثواب کے اعتبار سے بھی اور نتیجہ کے اعتبار سے بھی

ہاں ! جو لوگ سیدھی راہ اختیار کرلیتے ہیں اللہ ان کی مدد کرتا ہے : 76۔ یہ آیت گذشتہ آیت کے مقابلہ میں نازل ہوئی جس نے قومی ترقی کے دونوں باوؤں کی وضاحت فرما دی اور تاریک پہلو کے ساتھ اس کا روشن پہلو بھی دکھا دیا ، فرمایا جہاں اللہ تعالیٰ ضلالت اختیار کرنے والوں کی رسی دراز کرتا ہے وہاں ہدایت اختیار کرنے والوں کی ہدایت میں بھی برابر اضافہ فرماتا ہے اور عقل وفکر رکھنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ کام کا فوی نفع کتنا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مآل و انجام کے لحاظ سے فائدہ کس میں ہے ، دنیا کے بچاری وقتی فوائد کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ ان کو ایک بات اچھی طرح ازبر ہے کہ ” نو نقد چنگے تیرا ادھار مندے “ اور اسی اصول کے مطابق وہ اپنا نفع ونقصان نظر میں رکھتے ہیں اور مومن کی نگاہ فقط آخرت پر ہوتی ہے اگرچہ وہ سب کی سب ادھار ہے فرمایا ” تمہارے پروردگار کے حضور تو نیکیاں ہی بہتر ہیں ثواب کے اعتبار سے بھی اور نتیجہ ومال کے اعتبار سے بھی اور یہ ادھار ایسی جگہ نہیں دیا گیا جہاں سے واپس آنے کی کوئی امید نہیں کہ اضافہ تو اضافہ رہا اصل زر بھی ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہوجائے ۔ نہیں نہیں اس ادھار کی وصولی اس وقت ہوگی جب پائی پیسے کا کوئی تصور بھی باقی نہ رہے گا اور بڑے بڑے خزانوں والے ایک ایک پائی کو ترستے ہوں گے اور ان کے سارے بینک بیلنس نل ہوچکے ہوں گے یا ڈیڈ اور کہیں سے بھی کوئی امید ان کو باقی نہ رہی ہوگی ۔ غور کرو کہ اس جگہ اعمال صالحہ کو (باقیات الصالحات) سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس بات کا اشارہ نکلتا ہے کہ درحقیقت وہی اعمال صالحہ ہیں جو پائیدار اور غیر فانی ہیں جو اعمال چند روزہ ہیں اور ازیں بعد فانی ہیں وہ صالح اعمال نہیں ہوسکتے ۔ رہی یہ بات کہ باقی اعمال کون سے ہیں اور فانی اعمال کون سے تو اس کا جواب اس طرح دیا جاسکتا ہے کہ جو اعمال فقط دنیا کو مطلوب ومقصود بنا کر کئے جائیں وہ فانی ہیں اس لئے دنیا خود فانی ہے وہ آج نہیں تو کل فنا ہوجائیں گے اور باقی رہنے والے اعمال صرف وہ ہیں جو اللہ رب العزت کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور آخرت کو مقصود بنا کر کئے جائیں اس لئے کہ اللہ رب العزت کی ذات بھی غیر فانی ہے اور آخرت بھی غیر فانی ہے اب اپنے اعمال اس کسوٹی پر رکھ کر پرکھتے جاؤ انشاء اللہ العریز یہ کسوٹی کھرا اور کھوٹا یعنی دنیوی اور اخروی الگ الگ کرتی جائے گی تم پر انشاء اللہ سب کچھ واضح ہوجائے گا اور مفتیوں کو رشوت بھی نہیں دینا پڑے گی اور آج کل مفت فتوی سوائے کفر کے فتوی کے کہیں سے بھی نہیں مل سکتا ۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

تو نے دیکھا اس آدمی کا کیا حال ہے جس نے ہماری آیتوں سے انکار کیا اور کہا خدا کی قسم ! میں ضرور مال و دولت پاؤں گا ، میں ضرور صاحب اولاد ہوں گا ؟

وہ جو مال و دولت اور نفرواولاد کے نشہ میں مبتلا ہے اور آیات الہی کو جھٹلاتا ہے : 77۔ مضمون ایک بار پیچھے کی طرف چلایا جا رہا ہے اور گزشتہ مغروروں کی بات دو بار کی جا رہی مثل ہے کہ شرم آنکھوں میں ہے آنکھیں بند کرکے جو چاہئے کہے جاؤ ، جب تم نہیں دیکھ رہے تو تمہاری بلا سے کہ تم کو کون کون دیکھ رہا ہے ؟ فرمایا مغرور ہے جو ہے لیکن ڈھیٹ کتنا ہے کہتا ہے کہ تم مجھے خواہ کتنا ہی گمراہ و بدکار کہتے رہو اور عذاب الہی کے ڈراوے دیا کرو میں تو آج بھی تم سے زیادہ خوشحال ہوں اور آئندہ بھی مجھ پر نعمتوں کی بارش ہوتی رہے گی میری دولت دیکھو ‘ میری وجاہت اور ریاست دیکھو ‘ میرے نامور بیٹوں کو دیکھو ‘ میری زندگی میں آخر کہاں تمہیں یہ آثار نظر آتے ہیں کہ میں خدائے رحمن کا مغضوب ہوں ؟ یہ مکہ کے مغروروں کے خیالات بھی تھے اور آج پاکستان کے مغروروں کی بھی بالکل یہی حالت ہے کہتے ہیں کہ ” خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے ۔ “ جب مال و دولت اور اقتدار آیا ہے تو آخر اس کا نشہ کیوں نہیں آئے گا ؟ ۔
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

وہ جو ایسا کہتا ہے ، تو کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے ؟ یا اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے کہ اسے ایسا ہی کرنا پڑے گا

کیا اس نے کوئی غیب سے اطلاع پائی ہے یا رحمن سے عہد لیا ہے ؟ : 78۔ یہ ان مغروروں اور جھٹلانے والوں کی تردید میں بات کہی جا رہی ہے اور (افرء یت) سے خطاب کیا جا رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس خطاب کے بعد نہایت ہی کوئی بےعقلی یا بیوقوفی کی بات کا ذکر آنے والا ہے اور یہی بات یہاں بھی مذکور ہوئی فرمایا وہ جو کہتا ہے مجھے یہاں مال و دولت اور خدام واولاد ملی ہے تو وہاں بھی مجھے یہ سب کچھ اسی طرح ملے گا گویا کہ یہ کسی تبادلہ میں وہاں جارہا ہے ‘ اگر ایسا نہیں تو کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے ؟ کہ اس کے نام کا انتقال وہاں موجود ہے ‘ اگر یہ بھی نہیں تو کیا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لیا ہے کہ اس عہد کے پاس میں اس کو ایسا کرنا ہی پڑے گا ؟ آخر ان باتوں میں سے کون سی بات ہے جس کی وجہ سے اس نے اتنے وثوق سے یہ بات کہی ہے ہاں ! یہ ایسا چھوٹ ہے کہ جو منہ در آیا کہہ دیا ، جھوٹ اور سچ میں اس کو کوئی امتیاز ہی نہیں ہے ۔
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، اچھا وہ جو کچھ کہتا ہے ہم اسے لکھ لیں گے اور اس کے عذاب کی رسی لمبی کرتے جائیں گے

ہم نے اس کی باتوں کو لکھ لیا ہے اور اس کو ایک وقت تک ڈھیل دے دی ہے : 79۔ فرمایا ہم نے اس کی بکواسات کو لکھ ہے اور ان بکواسات کے نتیجہ سے بھی اس کو دو چار کریں گے ، گویا کفر وتکذیب کی جو سزا اس کو ملنا ہے وہ تو ملے گی ہی لیکن اس میں مزید اضافہ اس کے غرور کا بھی ہوجائے گا اور اس طرح جب اس کو دوگنی تگنی ہو کر سزا ملی اس کو سمجھ آئے گی کہ میرے غرور کا نتیجہ کیا رہا ۔ پنجابی کی مثل ہے کہ ” اج ہسنی ایں کل رو ویں گی گھر جا کے جھاٹا کھو ویں گی ۔ “
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

یہ جس مال و اولاد کا دعویٰ کرتا ہے وہ ہمارے ہی قبضہ میں آئے گا اور اسے تو ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہونا ہے

جن چیزوں پر وہ نازاں ہے ان سب کے وارث تو ہم ہیں ، کل بات کھل جائے گی : 80۔ جن چیزوں کے بل بوتے یہ ڈینگیں مار رہا ہے اس کو معلوم نہیں ‘ یہ اس کی ملکیت کب ہیں ؟ ان سب چیزوں کے وارث حقیقی تو ہم ہیں اور یہ عاریتا دی گئی چیزوں پر اس حد تک مفتون بیٹھا ہے ۔ آج جن چیزوں پر اس کو ناز ہے آنے والے کل ان میں سے ایک بھی اس کو نظر نہیں آئے گی اس لئے کہ یہ سب تو عاریتا اس کے پاس تھیں اور مانگے کی چیز پر فخر کرنا کسی عقل مند کا کام نہیں ہوسکتا ، یہ دنیا فانی ہے اور یہاں اسے آخرت کو بنانے کے لئے لایا گیا تھا اور اس کو اس نے بھلا دیا اور جب یہ آخرت سے دوچار ہوگا تو نہ اس کے ساتھ اس کا سروسامان ہوگا اور نہ ہی اس کے اعوان وانصار ہوں گے اور نہ ہی اس کے مزعومہ شفعاء وشرکاء ہی اس کو نظر آئیں گے ۔ اس کو جو چیزیں ملی تھیں وہ سب ہماری عطا تھی جو دنیوی زندگی کے لئے کی گئی تھی اور یقینا وہ سب ہم واپس لے لیں گے اور جس طرح دنیا میں خالی ہاتھ گیا تھا بالکل اسی طرح خالی ہاتھ ہمارے پاس واپس آئے گا اس کو پنجابی میں کہتے ہیں کہ ” ہتھ پرانے کھوسڑے بسنتے ہوری آئے ۔ “
Ayah 19:81

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیا ہے (اور ان کو پکارنے لگے ہیں) کہ ان کے مددگار ہوں

اللہ کے سوا انہوں نے مددگار بنارکھے ہیں تاکہ ان کی مدد کریں : 81۔ آج سے نہیں بلکہ شروع سے جب سے انسانیت نے اس دنیا میں قدم رکھا اور راہ راست سے بھٹکی تو اس نے ہمیشہ مالک حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کا سہارا تلاش کیا ‘ آخر ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اصل مالک اس کو نظر نہ آیا اور بغیر دیکھے ماننے کے لئے وہ تیار نہ ہوئی ۔ اسلام کی زبان میں ایسے لوگوں کو مشرک کہا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے ، ایک ذات سے جب ان کا اعتماد ٹوٹا تو یہی تعلق انہوں نے مختلف جگہوں پر جوڑنے کی کوشش کی ، کہیں انہوں نے بت تراشے تو کہیں قبریں بنائیں پھر چل سو چل کا معاملہ ہوا کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہ رہی جس کی انسان نے پرستش نہ کی ‘ انسان تو انسان ، انسان کے آلہ تناسل بنا کر ان کی پرستش کی گئی اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا گیا جس کی زندہ مثال ” باوے داکیر “ آج بھی ہمارے علاقے میں موجود ہے اور علاوہ ازیں فرشتوں اور جنوں کو حاجت روا اور بگڑی بنانے والے تسلیم کیا گیا ۔ وہ تو عرب تھے آج مسلمان کہلانے والے مسلمان کہلانے کے باوجود شرک کی لعنت میں پھنسے ہوئے ہیں ہر خاندان اور ہر گھر کا اپنا اپنا مشکل کشا اور حاجت روا ہے ، الا ماشاء اللہ کہ کوئی گھر یا کوئی خاندان اس کی زد سے باہر ہو۔ فرمایا ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اگر اس دنیا سے جائیں تو آنے والی دنیا میں بھی وہ ان کا سہارا ہوں (عزا) کے اصل معنی قوت کے ہیں ۔
Ayah 19:82

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

لیکن ہرگز ایسا ہونے والا نہیں ، وہ ان کی بندگی سے صاف انکار کر جائیں گے ، وہ الٹے ان کے مخالف ہوں گے !

ہرگز نہیں ‘ وہ ان کی عبادت سے کھلا انکار کردیں گے ‘ وقت آنے دو : 82۔ فرمایا یہ خیالی پلاؤ پکانے والی شیخ چلی ہیں اور ان کا یہ زعم بالکل باطل ہے اور ان احمقوں کی یہ آرزو قطعا پوری نہیں ہوگی اور ان کے یہ معبود جن کو انہوں نے بزعم خویش تصور کیا تھا قیامت کے روز کھلے میدان میں ان کے سامنے ان کی اس عبادت کرنے کا انکار کریں گے اور صاف صاف ان کو کہیں گے تم بالکل جھوٹے ہو ہماری عبادت تم نے کب کی اور ہم نے تم کو اپنی عبادت کا کب کہا ؟ یہ بات عیسائیوں سے بھی پوچھی جائے گی جس کا ذکر پیچھے سورة مائدہ کی آیت 116 ، 117 میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ملاحظہ ہو۔ تفسیر عروۃ الوثقی جلد سوم ، دوسرے مشرکین سے بھی کہا جائے گا کہ بلاؤ ان کو جن کو تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے : ” اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ پکار دیکھو اپنے ان معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں اور وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے ۔ “ (سباء 34 : 22) پھر فرمایا : ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک ٹھہرا رکھا ہے ‘ ہرگز نہیں زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ “ (سباء 34 : 27) پھر مزید ارشاد فرمایا : ” کاش تم دیکھو ان کا حال جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑا بننے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے ۔ وہ بڑا بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے کا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے ۔ وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑا بننے والوں سے کہیں گے ‘ نہیں بلکہ تمہاری شب وروز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں ، آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے ۔ “ (سباء 34 : 33 ، 35) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور بھول نہ جائیں یہ لوگ اس دن کو جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میری وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟ یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! بیشک یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا انہیں ہم نے اس طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ‘ یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے ‘ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے ۔ “ (القصص 28 : 61 تا 64) زیر نظر آیت جس کی یہاں تفسیر ہو رہی ہے میں فرمایا گیا ” وہ ان کی بندگی سے صاف صاف انکار کردیں گے بلکہ وہ الٹے ان کے مخالف ہوں گے ۔ “
Ayah 19:83

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے وہ انہیں برابر اکساتے رہتے ہیں ؟

شیطان ہیں کہ ان کو ہر وقت اکساتے رہتے ہیں : 83۔ اس جگہ پھر سنت الہی کا سبق یاد دلایا گیا ہے اور سنت الہی یہ ہے کہ جو لوگ اللہ رب العزت کی یاد دہانی سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں ہم ان پر کوئی شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ ان کا ساتھی بن جاتا ہے اور پھر جس کا ساتھی شیطان ہوگیا ظاہر ہے کہ وہ تیرتا ہوا ہی ڈوب گیا کیونکہ انسان کو ڈبونے کے لئے تو وہ ہر وقت اور ہر آن تیار ہے ۔ یہی بات یہاں ذکر کی گئی فرمایا ان کافروں پر ہم نے شیطان کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو دعوت حق کے خلاف جتنا اکسا سکتا ہے اکسالے اور کوئی کسر باقی نہ چھوڑے گویا یہ وہی بات ہوئی کہ ” مرے کو مارے شاہ مدار “ جو پہلے ہی برانگیختہ ہونے کو تیار بیٹھے ہیں ان کو تو صرف اشارہ کی ضرورت ہے اور اشارہ کرنے میں شیطان بھی شیر ہے (ازز) کے معنی اکسانے کے ہیں ۔
Ayah 19:84

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

پس تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر ، یہ اس لیے ہے کہ ہم ان کے دن گن رہے ہیں

پیغمبر اسلام ﷺ کے لئے رب کریم کی تسلی وتسکین : 84۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان مخالفین کی مخالفت سے ہراساں اور پریشان نہ ہوں اور انہ ہی ان کے متعلق کوئی جلدی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ مخالفت کرکے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو کچھ بگڑے گا ان ہی کا بگڑے گا ان کی مخالفت جتنی شدت اختیار کرتی جائے گی یہ اتنے ہی اپنی تباہی کے قریب ہوتے جائیں گے ، ان کا علاج ان کے دوست شیاطین ہی کردیں گے کیونکہ وہ جو ٹیکہ بھی ان کو لگائیں گے یہ بڑے شوق سے لگوالیں گے اور یہ ظاہر ہی ہے کہ شیطان کا ٹیکہ کبھی صحت یاب کرنے کے لئے نہیں ہوتا بیماری کو مزید بڑھانے ہی کے لئے ہوتا ہے گویا وہ علاج بالمثل کرتا ہے اور یہ لوگ بھی اسی قاعدہ کو پسند کرتے ہیں اس لئے اب زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ گھڑی کی سوئی اپنے آخری نقطہ پر پہنچنے ہی والی ہے اور ہم بھی ہر ایک منت کو بڑے دھیان سے گن رہے ہیں جبھی ان کا وقت پورا ہوگا تو ہم ان کو ایک منٹ کی بھی ڈھیل نہیں دیں گے ۔ (آیت) ” فلا تعجل علیھم “ آپ ان کے بارے میں جلدی نہ کریں (آیت) ” انما نعدلھم عدا “۔ ہم انکے دن گن رہے ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ آیات مکی زندگی کے اختتام کی خبر بھی مسلط ہونے کی رکاوٹ تو آپ ﷺ ہیں اور جب وہ خود اس رکاوٹ کو دونوں ہاتھوں سے ہٹانے کی کوشش میں دن رات مصروف ہیں تو وہ ان پر آنے میں کتنی دیر کرے گا ۔ ابھی ہمارا اشارہ ہوا اور ابھی عذاب ان پر آدھمکا۔
Ayah 19:85

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

وہ دن کہ ہم متقی انسانوں کو اپنے حضور مہمانوں کی طرح جمع کریں گے

ہم متقی انسانوں کو بھی اپنے ہاں جمع کریں گے اور ان کی ضیافت ہوگی : 85۔ وفد کی صورت میں جانے سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ ان کو عزت واحترام کے ساتھ لے جایا جائے گا فرمایا وہ لوگ جنہوں نے ہمارے رسول ﷺ کی آواز پر لبیک کہا اور ہر وہ کام اور ہر وہ بات ترک کردی جس کے ترک کرنے کا ان کو حکم ملا اور ہر کام کے لئے وہ ہر حال میں تیار رہے جس کے کرنے کے ہم نے ان کو حکم دیا تو اب وہ وقت قریب آگیا ہے کہ ہم ان کی بھی ضیافت کریں اور ان کو شاباش دیں اور ان سب کو معزز طریقہ سے اپنے ہاں جمع کرنے کی دعوت دیں اور ان کی پذیرائی کریں کیونکہ انہوں نے جو کیا ہماری رضا حاصل کرنے کے لئے کیا :
Ayah 19:86

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسے جانوروں کی طرح ہنکائیں گے

ہم مجرموں کو دوزخ کی طرف ہانک کرلے جائیں گے : 86۔ اس وقت سے پہلے پہلے تو انکو اپنے جرم کا نہ احساس تھا اور نہ ہی وہ جرم کو تسلیم کرتے تھے لیکن جب ان کو اس جگہ لا کھڑا کیا جائے گا جہاں مجرم کھڑے کئے جاتے ہیں اور وہ اپنی آنکھوں سے جیل خانہ کو دیکھ لیں گے تو پھر آخر وہ انکار کیونکر کریں گے اور یہاں سے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت کیسے ممکن ہوگی اور رشوت یہاں وصول نہیں کی جاتی سفارش یہاں پر قبول کر پائے گا ، اچھا غور کرو پھر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ یہی کہ ان کو جانوروں کی طرح ہانک کر دوزخ میں گرا دیا جائے گا اور وہ گویا چوہوں کا پنجرا ہے کہ داخل ہونے والے وہاں داخل تو ہوجائیں گے لیکن وہاں سے نکلنا ان کے اختیار کی بات نہیں ہوگی ، پھر ان کے ہانکے جانے کی صورت کو بھی واضح کردیا ۔ فرمایا اسی طرح ان کو ہانکیں گے جیسے پیاسے اونٹوں کو پانی کی طرف ہانکا جائے اور وہ پوری خواہش کے ساتھ بھاگتے ہوئے وہاں جا پہنچیں اس لئے ہم نے اس کو چوہوں کا پنجرا قرار دیا ہے جو چوہوں کے لئے مخصوص ہے اور وہ دوزخ ہے جو دوزخیوں ہی کے لئے مخصوص ہے ۔
Ayah 19:87

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

اس دن شفاعت کرنا کرانا کسی کے اختیار میں نہ ہوگا ہاں ! جس کسی نے اللہ کے ہاں سے وعدہ پا لیا

کوئی شخص بغیر اجازت کے سفارش بھی نہیں کرسکے گا : 87۔ یہ گویا اس سفارش کی نفی کی جارہی ہے جس سفارش کو مجرم استعمال کرنا چاہتے تھے اور جب ان کو بھی یقین ہوجائے گا کہ ہم ان کی سفارش کر ہی نہیں سکتے گویا ان کیسفارش کے ہم اہل نہیں کیونکہ ان کی سفارش کرنے کا پروانہ موجود نہیں اور بغیر اذن یعنی پروانہ اجازت کے کوئی سفارش کا مجاز نہیں ان کی سفارش کا مجاز وہی ہے جس نے خدا رحمن سے اجازت نامہ حاصل کیا ہو رہی یہ بات کہ یہ پروانہ کن لوگوں کو حاصل ہوگا ؟ سفارش کا مقام انبیائے کرام (علیہم السلام) اور شہدائے امت کو حاصل ہے اور یہ ایک منصب تکریم وتشریف ہے جن پر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرمائے گا جو اس اکرام و اعزاز کے سزاوار ہوں گے اور یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفاعت کریں گے اور صرف ان لوگوں کے لئے کریں گے جن کے لئے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائے گا یہ ممکن نہیں کہ جس کے لئے جی چاہے سفارش کرنے لگیں یا ان لوگوں کے لئے سفارش میں وہی بات کہیں گے جو بالکل حق ہوگی باطل کو حق یا بدی کو نیکی بنانا نہ ان کے شایان شان ہے نہ رب ذوالجلال والاکرام اور علام الغیوب کے سامنے کوئی اس کی جسارت کرسکتا ہے ، اور یہ بات بھی پہلے طے ہے کہ جن لوگوں نے شرک والحاد کی زندگی گزاری یا ایمان کے تو مدعی رہے لیکن ساری زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں گزاری ان کے لئے وہاں کوئی سفارش نہیں اور ان ساری باتوں کی وضاحت قرآن کریم میں موجود ہے ۔ لیکن ہمارے ادہام پرست طبقہ نے اپنے وہم و گمان میں کتنے ہی لوگ ہیں جن کو شفاعت کے لئے چن رکھا ہے گویا یہ حکومت پاکستان کا قرض ہے جس کو معافی کے لئے ایم ان اے نے درخواست دائر کردی ہے اور اب کون ہے جو اس کی درخواست کو رد کرے ان لوگوں کا تصور بھی بڑا عجیب ہے کہ جس طرح وہ دنیا میں دھونس ودھاندلی سے کام نکالنے کے عادی ہیں ان کے خیال میں وہاں بھی اسی طرح دھونس ودھاندلی سے ان کا کام بن جائے گا کیونکہ انکے زعم کے مطابق دھونس دکھانے والے ان کے ساتھ ہیں پھر اللہ میاں کی کیا مجال کہ وہ جس طرح چاہیں وہ نہ کر پائے ، فرمایا یہ ان کی خوش فہمی ہے اور وہاں ایسی خوش فہمیوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔
Ayah 19:88

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کہا کہ خدائے رحمن نے اپنا ایک بیٹا بنا رکھا ہے

انکی کیا ہی بات ہے کہ انہوں نے تو خدائے رحمن کے لئے ایک بیٹا بھی بنا رکھا ہے : 88۔ زیر نظر آیت سے مضمون کا رخ صاف اسی طرف پھر چکا ہے جس طرح سورة کے شروع میں بات چلی تھی اور وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی بات تھی اس موضوع کو دوبارہ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ماننے کے معاملہ میں مشرکین عرب اور یہود ونصاری سب یکساں ہیں ۔ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ‘ یہود عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاری عیسیٰ (علیہ السلام) کو ‘ جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے ” ولد “ کے معنی اولاد کے ہیں وہ لڑکی ہو ایا لڑکا اور یہ لفظ واحد جمع مذکر اور مونث سب کے لئے آتا ہے ۔ اوپر کی آیات سے شفاعت باطل کی تردید ہوتی چلی آرہی ہے اور ان آیات میں شرک کی اس قسم کی تردید مقصود ہے ، ان سب لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کیوں قرار دی ان سب کے ہاں قدر مشترک یہی ہے کہ یہ لوگ ہماری سفارش کریں گے عربوں کے ہاں ساری جاہلی قوموں کی طرح یہ تصور پایا جاتا تھا کہ سب سے بڑی سفارش بیٹی کی ہوتی ہے لہذا انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تسلیم کیا اور یہود ونصاری عربوں کے مقابلہ میں پڑھے لکھے متصور ہوتے تھے اس لئے انہوں نے بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دی کہ بیٹے ہی باپ کے قائم مقام اور باپ کے کاموں کے مختار تصور کئے جاتے ہیں اور آج ہم مسلمانوں میں اللہ کے بیٹے اور بیٹیوں کا تصور تو نہیں پایا جاتا کیونکہ قرآن کریم نے اس کی واضح الفاظ میں تردید کی ہے اس لئے ہم نے اللہ کے دوست اور پیارے تصور کرکے ان کو حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھا ہے جو یہاں بھی ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری بگڑی بناتے ہیں اور آخرت میں بھی وہ ہمارے سفارشی ہوں گے اور انہی کے ذریعہ ہم نجات حاصل کرسکیں گے گویا شکلیں سب کے ہاں اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن نظریہ سب کے ہاں ایک ہی جیسا ہے ۔