19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت ، سچائی کی بات جس میں لوگ اختلاف کرنے لگے ہیں

عیسیٰ (علیہ السلام) سیدہ مریم (علیہ السلام) کے بیٹے کی یہ حیثیت ہے جس میں تم شک کر رہے ہو : 34۔ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) جو سیدہ مریم کے بطن سے اسی طرح پیدا ہوئے جس طرح سارے بچے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح قرآن کریم نے ان کو ولد قرار دیا جس طرح سارے انسانوں کو جو اپنی اپنی ماؤں کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں مولود کہلاتے ہیں پھر جو انسان ہو اور انسان کا ولد بھی ہو اس کے لئے لازم ہے ہر مولود کی طرح وہ اپنے باپ کے مشابہ ہو پھر تم بھی ذرا دھیان سے دیکھو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کس کے مشابہ ہیں ‘ انسان کے یا اللہ کے یا جبریل (علیہ السلام) کے ؟ اگر انسان کے ہی کے بیٹے ہیں ۔ وہ اسی طرح ماں کے حمل میں آئے جس طرح سارے بچے اپنی اپنی ماؤں کے حمل میں آتے ہیں اسی طرح ضابطہ کے تحت وہ بطن مادر میں رہے جس طرح سارے بچے اپنی اپنی ماؤں کے بطنوں میں رہتے ہیں ‘ انہوں نے اسی طرح غذا حاصل کی جس طرح سارے بچے غذا حاصل کرتے ہیں پھر اسی طرح ساری بشری ضرورتیں رکھتے ہیں ‘ اسی طرح جوان ہوئے جس طرح دوسرے بچے جوان ہوئے ہیں وہ اسی طرح نبی بنائے گئے جس طرح دوسرے انسانوں کو نبی بنایا گیا جن جن کو نبی بنانا اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور انہوں نے اسی طرح وعظ ونصیحت کی زندگی گزاری جس طرح سارے نبی زندگی گزارتے رہے اور اللہ کا پیغام اپنی اپنی امتوں کو سناتے رہے اور پھر اسی طرح انہوں نے وفات پائی جس طرح دوسرے انبیائے کرام (علیہم السلام) نے اپنے اپنے وقت پر وفات پائی نہ ان کو صلیب دی گئی اور نہ ہی وہ قتل کئے گئے جیسا کہ یہود ونصاری کہتے ہیں بلکہ اس پر اسی طرح وفات پائی جس طرح دوسرے انبیاء کرام علمہل السلام نے اپنے اپنے وقت وفات پائی ، بلاشبہ قتل ہونا یا صلیب پانا نبوت کے منافی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہود کا یہ کہنا کہ وہ قتل کردیئے گئے سراسر جھوٹ ہے اور عیسائیوں کے اس کہنے کی بھی کوئی حقیقت نہیں کہ وہ تین دن کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) جن کے متعلق تم طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کئے ہوئے ہو اور اس وضاحت کے بعد بھی اگر تمہارا شک رفع نہ ہو تو ایسے شک کا رفع کرنا محال نہیں تو ناممکن ضرور ہے اور اس میں سارا قصور تمہارا اپنا ہے جس کا علاج ممکن نہیں۔
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ کیلئے کبھی یہ بات نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے اس کے لیے پاکیزگی ہو ، اس کی شان تو یہ ہے کہ جب کوئی کام کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس حکم کرتا ہے کہ ہوجا ! وہ ہوجاتا ہے

اللہ تعالیٰ کی شان ہی کے خلاف ہے کہ وہ کبھی کسی کو اپنی اولاد قرار دے : 35۔ غور وفکر کرنا تمہارا کام ہے ہمارا کام بات پہنچانا ہے کسی انسان کو مجبور محض بنا کر کسی کام پر لگا دینا ہمارے قانون کے خلاف ہے اور قانون کے خلاف ہم نہیں کرتے تم نے اپنی ادہام پرستی کی بنا پر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ ‘ اللہ کا بیٹا یا ثالث ثلثۃ تسلیم کا و ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان الوہیت کے بالکل منافی ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا قرار دے وہ ان عیوب ونقائص سے بالکل پاک ہے جن عیوب ونقائص کی بناء پر کسی کو اولاد جیسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر اس کے اولاد نہ ہو تو وہ کسی دوسرے کی اولاد کو لے کر اپنی اولاد قرار دے لیتا ہے اور اللہ کی ذات ایسے نقائص وعیوب سے بالکل منزہ ہے اس کی اولاد کی ضرورت نہیں اس کی شان کبریائی تو ایسی ہے کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کے لئے اشارہ کی ضرورت ہے کہ ایسا ہو تو ویسا ہی معرض وجود میں آجاتا ہے وہ کسی کا محتاج نہیں اور اس نے جو قوانین بنائے ہیں ان کی خلاف ورزی کا کبھی تم کو خیال بھی نہ پیدا ہو کیونکہ قانون کا خلاف کمزوری ہے اور کمزوری سے وہ پاک ہے تم اس ذات بےمثل وبے مثال کے متعلق کسی طرح کی سوچیں سوچتے رہتے ہو وہ تمہارے ادراک سے باہر ہے اس لئے جب وہ کوئی ارادہ کرتا ہے تو اس کے ارادہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی لہذا وہ ہو کر رہتا ہے اس کی مزید تشریح درکار ہو تو ” عروۃ الوثقی “ جلد 3 میں سورة مائدہ کی آیت 75 تا 77 کا مطالعہ کریں انشاء اللہ بہت وضاحت مل جائے گی ۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بلاشبہ اللہ ہی میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے پس اس کی بندگی کرو یہی سیدھا راستہ ہے

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا اختتام اس آیت پر ہے : 36۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے آپ کی قوم کو آخری پیغام اس طرح سنوایا جارہا ہے کہ قوم کے لوگوں سے وضاحت کر کے کہہ دو کہ بلاشبہ نہ میں اللہ ہوں ‘ نہ اللہ کا بیٹا اور تین میں کا ایک بلکہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی ‘ میں بھی اسی کی عبادت کرتا ہوں اور تم کو بھی اسی کی عبادت کرنے کا حکم دیتا ہوں یہی راہ سیدھی اور صاف راہ ہے لوگ اس پر کتنے ہی حاشیے چڑھائیں کسی کے کہنے سے کبھی حقیقت تو نہیں بدلتی ، یہودیوں نے ولد الحرام کا الزام لگایا اور عیسائیوں نے اس کو اللہ ‘ اللہ کا بیٹا اور تین میں کا ایک قرار دے لیا اور مسلمان آئے تو انہوں نے اس کو بےپدر اور بغیر باپ کے ہونے پر زور دیا لیکن کیا کسی کے کہنے سے کوئی حقیقت پر بھی اثر پڑا ؟ کسی نے افراط سے کام لیا تو کسی نے تفریط سے لیکن افراط افراط ہے اور تفریط تفریط ، حقیقت صرف اتنی ہے کہ وہ اللہ کا بندہ اور اللہ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہے جس طرح کے دوسرے اللہ کے بندے اور رسول تھے ہاں ! وہ اللہ تعالیٰ کے ان رسولوں میں سے ایک رسول ہے جس طرح کے دوسرے اللہ کے بندے اور رسول تھے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ان رسولوں میں سے تھا جن کی پیدائش کی خوشخبری ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی سنا دی گئی تھی اور جو پیش گوئی کے طور پر اس کی پیدائش سے پہلے کہا گیا تھا وہ من وعن پورا ہوا اس لئے کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا کہا ہوا تھا یہی بات سیدھی اور صاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ہاں ! یہ توفیق اسی کو نصبر ہوتی ہے جو اس سے توفیق طلب کرتا ہے آئندہ آنے والی چار آیتوں کا مضمون تو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق نہیں لیکن ذرا گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ایک مخفی اشارہ اس مضمون کی طرف جاتا ہے لہذا ان چاروں آیات کے بعد اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق مختصر مضمون تحریر کیا جائے گا اس کو بھی غور کے ساتھ مطالعہ کرلیں ۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

مگر اس کے بعد مختلف فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے تو جن لوگوں نے حقیقت حال سے انکار کیا ان کی حالت پر افسوس ! اس دن کے منظر پر افسوس جو بڑا ہی سخت دن ہو گا

مختلف جماعتوں نے مختلف نوعیت کے اختلاف ڈال رکھے ہیں : 37۔ زیر نظر آیت ہم کو عیسائیت کے مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم طرح مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہ ہونا بلکہ ایک ملت ہو کر رہنا اور یہ بھی کہ عیسائیت کے بنیادی عقائد ایک ہی طرح کے تھے لیکن بعد میں فروعات میں اختلاف ہوا جو ایک فطری چیز تھی لیکن احبارو رہبان نے فروعی اختلاف کو اتنی ہوا دی کہ ان کو اصل عقائد پر بھی ترجیح دینے لگے اور دین کا سارا دارومدار اپنی فروعات پر رکھ دیا اور یہی بات ان کی گمراہی کا باعث ہوئی اور تم ایسا مت کرنا ورنہ تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے لیکن ہوا وہی جس سے منع کیا گیا تھا ، بدقسمتی سے آج مسلمانوں نے بھی اصل عقائد کو چھوڑ کر فروعات پر سارا انحصار قائم کرلیا اور آج مسلمانوں کی مذہبی حالت وہی ہو کر رہ گئی جو اس وقت نصاری کی تھی ۔ بہرحال کتب تاریخ میں عیسائیت کے فرقوں کا جب ذکر چلتا ہے تو بیسیوں فرقے بیان کئے جاتے ہیں اس جگہ ان میں سے چند ایک کے ناموں کا ہم ذکر کریں گے ، ان کے حالات کو تفصیل سے یہاں نقل نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں لیکن مشہور فرقوں کے اختلاف کا بھی مختصر سے مختصر ذکر کیا جائے گا تاکہ اپنے مذہبی فرقوں سے تقابل کیا جاسکے اور بات واضح ہوجائے کہ فی الواقعہ آج ہم وہی کچھ کر رہے ہیں جو آج سے سینکڑوں عیسائی کیا کرتے اور اسی طرح ہم عیسائیوں سے آج بھی کسی طرح پیچھے نہیں رہے بلکہ ان کی نقالی کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ عیسائیوں میں آغاز ہی میں بنیادی اختلافات پیدا ہوگئے تھے جیسے یعقوب حواری اور پولوی کا اختلاف ۔ یہ اختلاف کیونکر پیدا ہوا ؟ اس طرح کہ یعقوب اور دیگر حواری نجات کے لئے ایمان اور عمل صالحہ کو لازمی قرار دیتے تھے مگر ” پولس عمل اور شریعت کی پابندی کو لعنت قرار دیتا تھا اور آزاد روی کا درس دیتا تھا گویا اس طرح کا اختلاف تھا جو آج مسلمانوں خانقاہی مزاج اور ظاہری شریعت کے علمائے کرام کا اختلاف ہے ، پولوس کا یہ فتوی تھا کہ مسیح پر ایمان لانے کے بعد انسان ہر گناہ سے پاک اور حقیق نجات کا وارث ہوجاتا ہے گویا پولوس کے نزدیک صرف مسیح پر ایمان لانا ہی نجات کے لئے کافی تھا ایمان لانے کے بعد انسان جو چاہے کرے اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ نہیں کرے گا ۔ اور مسیحی فرقوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ : 1۔ ابیونی فرقہ ان کے دو فریق تھے دونوں کا یہ اعتقاد تھا کہ حضرت مسیح بشر تھے اور ان میں اکثر ایسے لوگ تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خود دیکھا اور ان سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا تھا ، یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو مافوق الفطرت مانتے تھے ، ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یوسف نجار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باپ ضرور تھے لیکن سیدہ مریم کا حمل روح القدس کے ذریعہ ہوا اور یہ فرقہ اس بات کا بھی معتقد تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صلیب پر چڑھ جانے کی وجہ سے تمام انسانوں کے گناہ کا کفارہ بنا گئے تھے ، یہ لوگ خود موسوی شریعت کے احکام اور رسموں یہاں تک کہ ختنہ پر بھی مضبوطی سے کاربند تھے ۔ (انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا ص 881 جلد 7) 2۔ مارکونی اور ناستک فرقے ۔ 3۔ مونٹانس کا گروہ ۔ 4۔ مانے کا فرقہ ۔ 5۔ نودیشین کا فرقہ ۔ 6۔ اریوس کا فرقہ ۔ 7۔ اپولی نیریس (Appoli Naris) ۔ 8۔ پولسی فرقہ ۔ یہ فرقہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا نہیں بلکہ فرشتہ مانتا تھا ۔ 9۔ نسطوری فرقہ ۔ اس فرقہ نے بہت ترقی کی اور کتنے ہی نئے عقائد ونظریات بنائے اور دوسرے عیسائی فرقوں سے یہ لوگ بہت الجھتے رہے ۔ 10۔ یعقوبی فرقہ جس کے اثرات اب تک شام و عراق میں پائے جاتے ہیں ۔ 11۔ وحدت الفطری فرقہ ۔ 12 ۔ وحدت الارادی فرقہ ۔ 13۔ آئی کو نو لاسٹک (lcono Lastic) ۔ 14۔ پلیگوی فرقہ ۔ 15۔ یونانی ٹیرن فرقہ ۔ 16۔ کرنتھیوں کا فرقہ ۔ 17۔ سائنس فرقہ ۔ 18۔ کو لنزیدنیس فرقہ ۔ 19۔ باسلیدی فرقہ ۔ 20۔ گناستی فرقہ ۔ 21۔ یونانی فرقہ ۔ 22۔ ارمنی فرقہ ۔ 23۔ سورمن فرقہ ۔ 24۔ پر کشیس کا فرقہ ۔ 25۔ ناصریوں کا فرقہ ‘ ان لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ عیسیٰ علہہ السلام نے گائے کے گوشت سے پرند بنائے اور پھر ان میں پھونک ماری اور وہ اڑ کر چلے گئے ۔ 26 ۔ نجرانی نصاری ۔ اس فرقہ کے لوگ مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور اس فرقہ کے لوگ نبی اعظم وآخر ﷺ سے مناظرہ کے لئے مدینہ آئے تھے ۔ 27۔ ارجن فرقہ ‘ یہی وہ فرقہ ہے جو یہودیوں کی اس رسم کا داعی تھا کہ منذور لوگ شادی نہیں کرسکتے اور چونکہ ارجن نے یہ پرچار کیا تھا اس لئے اس نے شادی نہ کی اور وہ خوجہ بنا گیا ۔ 28۔ افلاطونی فرقہ ۔ 29۔ افکرائلیس کا فرقہ ، اس فرقہ کے لوگ چلہ کشی سے بہت کام لیتے تھے ۔ 30۔ تھیوڈوٹس فرقہ ۔ 31۔ پونی کا فرقہ ‘ یہ وہ فرقہ تھا جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ جانے کے منکر تھے (اردو تاریخ کلیسا ص 202) 32۔ بلیوی کا فرقہ ۔ 33۔ بالدی اور پالی فرقہ ‘ اس فرقہ کے لوگ عیسائیوں کے سخت مخالف تھے اور رومی عیسائی ان کو واجب القتل قرار دیتے تھے ۔ 34۔ ارسیو فرقہ ۔ اس فرقہ کے لوگ سیدہ مریم (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ پچاس برس کی عمر ہو کر غیب سے اس دنیا میں آگئے ۔ 35۔ نزادی فرقہ ‘ یہ فرقہ بھی بہت پرانا چلا آرہا ہے ۔ 36۔ تین کلیسائیں ۔ 1۔ یونانی کلیسا کہلاتی ہے اور اس میں چودہ کلیسا شامل ہیں ۔ 2۔ رومن کیتھولک کلیسا ان میں آسٹریلیا اور فرانس وغیرہ شامل ہیں۔ 3۔ پر وٹٹینٹ ‘ یہ لوگ گویا رومی کلیسا کی منکر جماعت کہی جاتی ہے جو سوئزر لینڈ میں کلوہن اور زونگلی اور سکاٹ لینڈ میں جان ناکستی گزرے ہیں ۔ ان میں کلیسائے انگلستان اور جرمن خاص طور پر معروف ہیں ۔ ان دونوں فرقوں کا آپس میں بہت بڑا اختلاف ہے اور بالکل اسی طرح کا اختلاف ہے جس طرح آج کل دیوبنددی اور بریلوی اختلاف ہے ۔ بریلوی گویا کیتھولک ہیں اور دیوبندی پر وٹٹنٹ کے روپ میں ہیں ۔ دونوں کی فکر ایک ہے اور راستے الگ ہیں ۔ اور ان اختلاف کی فہرست بالکل یہی ہے جو بریلوی اور دیوبندی حضرات کی ہے اور بیان اس کا بہت ہی لمبا ہے ، مسیح (علیہ السلام) کے متعلق ہمارے ہاں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کی تفصیل ہم نے عروۃ الوثقی جلد دوم تفسیر سورة النساء کی آیت 171 تا آخر سورت میں دے دی ہے جو تقریبا تیس ‘ بتیس صفحات پر محیط ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں ۔ صفحات 1000 سے 1032 تک ۔ گویا مسحو (علیہ السلام) کے متعلق جو اختلافات عیسائیوں میں تھے ان کی اتنی کثرت تھی کہ آپس میں انہی اختلافات کی بنا پر لڑتے مرتے رہتے تھے اور رہتی کسر ہم مسلمانوں نے نکال دی ، فرمایا ان فرقوں میں جو لوگ حق پر تھے وہ بہت ہی تھوڑے تھے ، وہی جو شمعون کے پیرو تھے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی آمد کے وقت تقریبا اسلام میں داخل ہوگئے جو کفر پر قائم رہے اور قائم ہیں ظاہر ہے کہ ان کا فیصلہ اب اس وقت ہوگا جس وقت رب ذوالجلال والاکرام کے حضور حاضر ہوں گے ، اگرچہ اس وقت فیصلہ کسی کے حق میں مفید نہیں ہو سکے گا ، اس گواہی کا ذکر جو مسیح (علیہ السلام) ان لوگوں کے متعلق دیں گے جو ان کو عقیدہ کے طور پر مانتے ہیں اور اپنے آپ کو عیسائی کہلواتے ہیں اس کا مفصل ذکر بھی پیچھے عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة المائدہ کی آیت 116 ، 117 میں گزر چکا ہے ۔
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

جس دن یہ ہمارے حضور حاضر ہوں گے اس دن ان کے کان کیسے سننے والے اور ان کی آنکھیں کیسے دیکھنے والی ہوں گی ! لیکن آج کے دن یہ ظالم آشکارا گمراہی میں کھوئے ہوئے ہیں

جب یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں کھلی ہوں گی : 38۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آج تو یہ لوگ سماعت اور بصارت سے کام نہیں لیتے اور اندھے ‘ بہرے ہو کر اپنے آباء و اجداد کی پیروی کئے جا رہے ہیں اور کسی بات کو سننے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں لیکن کل جب ہمارے حضور یہ لوگ پہنچیں گے تو ان کے کام بھی کھلے ہوں گے اور آنکھیں بھی دیکھتی ہوں گی کیوں ؟ اس لئے جن چیزوں نے ان کے کان اور آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں وہ ان کے ساتھ نہیں ہوں گی اس وقت اس کی حالت دیدنی ہوں گی کیونکہ اس وقت یہ لوگ مبہوت ہو کر رہ جائیں گے ۔ (اسمع بھم وابصر) دونوں تعجب کے صیغے ہیں یعنی آج تو ان کو سنانے اور سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ لوگ ہیں کہ سننے اور سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں لیکن کل کیا ہوگا جب ان کے کان بھی کھل جائیں گے اور آنکھیں بھی دیکھنا چاہیں گی لیکن کوئی سنانے والا اور سمجھانے والا نہ ہوگا کیونکہ وہ دارالعمل سے نکل کردالنتیجہ میں کھڑے ہوں گے اور نتیجہ کے وقت فقط نتیجہ ہی سنایا جاتا ہے اور وہ ان کو بھی سنایا جائے گا ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ حال عیسائیوں کا ہوگا نہیں سب لوگ اس میں شامل ہیں اور سارے ظالموں کو اس دن معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے اس ظلم کا نتیجہ کیا رہا ؟
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

انہیں اس دن سے بھی خبردار کر دے جو بڑا ہی پچھتانے کا دن ہوگا اور جب ساری باتوں کا فیصلہ ہوجائے گا یہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں اور یقین لانے والے نہیں

جن کا کام انذار وتبشیر ہے وہ اپنا کام کرتے جائیں کوئی ایمان لائے یا نہ لائے : 39۔ زیرنظر آیت سے رخ کفار مکہ یعنی قریش کی طرف پھرتا نظر آتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو بھی اس بات پر تو بڑا نازل تھا کہ ہم ابراہیمی نسل پر ہیں حالانکہ نسل تو اعمال میں کام نہیں دیتی اور کام وہ بالکل اس کے الٹ کر رہے تھے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے کئے تھے زبانی جمع خرچ سے کیا ہوتا ہے اگر بات ہی حقیقت کے خلاف ہو ۔ وہ تو قریش مکہ تھے آج جو لوگ نبی اعظم وآخر ﷺ کی محبت کے دعویدار ہیں وہ زبانی دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کی ہر حرکت پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کے بالکل خلاف ہے اور ان کی محبت کا اظہار فقط انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگا دینے اور منہ سے صدقے یا رسول اللہ کہہ دینے پر ہے اور باقی معاملہ بالکل گول ہے ۔ کچھ اس سے آگے بڑھتے ہیں تو ان کو یہ نازل ہے کہ ہم اہل بیت کے ماننے والے ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے ہماری رشتہ داری بہت قریب کی ہے یہی حال قریش مکہ کا تھا ، وہ بھی یہی کچھ کہتے تھے جو آج کل یہ لوگ کہتے دکھائی دیتے ہیں ، فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ان کو آگاہ کرتے رہیئے ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے لیکن نہ ماننے والوں کو دیکھ کر تنذیر وتبشیر کا معاملہ ختم نہیں کیا جاسکتا اگر یہ لوگ غفلت کے پرودوں میں چھپے ہوئے ہیں تو ان پر سے یہ پردے خود بخود ہٹ جائیں گے اور اس وقت یہ لوگ سرپیٹ کر رہ جائیں گے لیکن اس میں قصور وار کون ہوگا ؟