Ayah 19:45اے ابو جان ! مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ شیطان ہی کے ساتھی نہ ہوجائیں :
45۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا اے ابو جان ! آج تک تو آپ کو یہ عذر ہوگا کہ ہدایت الہی آپ تک نہیں پہنچی اور پچھلی دعوتیں مسخ ہو کر رہ گئی تھیں اور لوگوں نے ان کو مسخ کردیا تھا لیکن اب جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہدایت آپ تک پہنچ چکی اور وہ بھی آپ کے گھر کے ایک فرد اور پھر صرف فرد ہی نہیں بلکہ بیٹے کے ذریعے سے تو آپ کے پاس اب کیا دلیل رہ گئی اس وجہ سے مجھے پختہ اندیشہ بلکہ یقین ہے کہ آپ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اور شیطان کے ساتھی بن کر اس انجام سے دوچار ہوجائیں گے جس اناجم سے دو چار کرنے کے لئے شیطان نے برسرعام چھٹی لے لی تھی لیکن غور کرو کہ اس وقت بھی تو اللہ نے اپنے بندوں کی بریت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں پر تیرا کوئی وار نہیں چلے گا اور تو اپنا سا منہ لے کر رہ جائے گا ۔ شیطان بلاشبہ شیطان ہے لیکن آخر وہ کسی کو مجبور بھی تو نہیں کرسکتا کہ تم ضرور اس کے پیچھے آؤ ورنہ وہ تم کو جان سے مار دے گا نہیں اس کا اختیار اس کو نہیں دیا گیا آپ ہمت کریں اور خاص کر اس نہج پر سوچیں کہ ایک طرف شیطان رجیم ہے اور دوسری طرف آپ کا حقیقی بیٹا اور پھر شیطان آپ کو جہنم کے گڑھے کی طرف کھینچے لئے جا رہا ہے اور میں آپ کو جنت الفردوس کی طرف جانے کی دعوت پیش کر رہا ہوں اگر یہ دعوت دنیا کے کاموں میں سے کسی کام کی ہوتی تو آپ یقینا میرا ساتھ دیتے کیونکہ میں آپ کا بیٹا ہوں لیکن اب میں آپ کو جنت الفردوس کی دعوت دیتا ہوں اور شیطان ہے کہ وہ دوزخ کی طرف لئے جا رہا ہے اور آپ ہیں کہ بیٹے کی دعوت کو چھوڑ کر شیطان کی دعوت کو قبول کئے ہوئے ہیں ، اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہی کہ تم بھی شیطان کے ساتھی بن کر شیطان کے پیچھے چل کر جہنم کا ایندھن بن جاؤ گے اور اس وقت پچھتاؤگے جب بچھتانا کسی کے کام نہیں آئے گا ، باپ نے بھی یہ باتیں اپنے بیٹے کی سنیں اور آخر کار ایک دن بول ہی پڑا۔
Ayah 19:46باپ نے باتیں سنیں اور ابراہیم (علیہ السلام) جیسے بیٹے کو اس طرح جواب دیا :
46۔ اپنے بیٹے ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر ان کے باپ آزر نے سنی تو اس کا غصہ بھڑک گیا اور اس کی جہالت نے اس کو یہی سلجھایا کہ دیکھو بیٹا ہو کر تیرے رو در رو اس نے تیرے ساتھ نہایت زیادتی کی اور کتنی گستاخی کی باتیں کیں گویا عام زمانہ کے لحاظ سے اس نے بیٹے کے اس طرح تخاطب انداز کو برا جانا اور چیخ کر کہا کہ اے ابراہیم ! تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے اگر تو ان باتوں سے باز نہ آیا اور میرے معبودوں کی توہین کی جس طرح تو نے شروع کردی ہے تو یقینا وہ وقت قریب ہے کہ میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں اور بہتر یہ ہے کہ ایسا برا وقت آنے سے پہلے ہی تو میری آنکھوں سے دور ہوجا کیونکہ تیرے جیسے بیٹے کی شکل میں دیکھنے کے لئے تیار نہیں جو اپنی روزی پر بھی لات مارے اور بزرگوں کی بھی گستاخی کرے ، باپ نے نہایت برہم ہو کر بیٹے کو آخری الٹی میٹم دے دیا اور اس لئے دیا کہ اس کی سوسائٹی میں باپ کو یہ حق تھا اور آج بیا ہے کہ اپنے باپ دادا کے دین کے خلاف اگر اولاد کرے تو باپ چاہے جو سزا دے زمانہ میں اس کو داد ملے گی اور کوئی اس کو برا نہیں کہے گا ، کسی بریلوی کا بیٹا اگر وہابی ہوجائے تو باپ چاہے اس کو عاق ہی کر دے اور برادری وخاندان سے بالکل نکال دے نکال سکتا ہے اور کوئی اس کو برا نہیں کہے گا بلکہ وہ اپنی قوم میں شیر اور بہادر کا لقب پائے گا کہ اس نے دین کی خاطر بیٹے کی محبت کو قربان کردیا لیکن اس کی بجائے کسی کا بیٹا کسی کو قتل کر دے کسی عورت کو لے بھاگے ‘ کہیں ڈاکہ زنی کرے ‘ زنا جیسی برائی کا مرتکب ہو غرضیکہ اس نے کچھ بھی کیا ہو نہ باپ اس کو برا کہے گا اور نہ ہی اس کو عاق کرے گا اور نہ ہی اس کے پیچھے چلنا اور اس کی مدد کرنا کبھی چھوڑے گا ہاں ! اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ خاندان میں برا اور ہجڑا قرار دیا جائے گا بلکہ خاندان والے اس کو اپنا بیٹا بنا کر اس کی مدد کے لئے تیار ہوجائیں گے اور یہی کچھ باپ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے کیا۔
Ayah 19:47سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کی باتیں سنیں تو علیحدہ ہونے کا تہیہ کرلیا :
47۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے یہ واقعات ایک دو دن میں نہیں ہوئے اور نہ ہی ایسے واقعات ایک دو دن میں رونما ہوسکتے ہیں ، ان حالات میں برسوں لگے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ابھی نبی مبعوث نہیں ہوئے تھے کہ آپ نے مواعظ کا سلسلہ شروع کیا اور پھر نبوت ملی اور باقاعدہ پیغام الہی پہنچانا شروع کیا پھر اس میں برسوں لگے اور آہستہ آہستہ نوبت اس تک پہنچ گئی کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بحکم الہی اس علاقہ سے ہجرت کرکے کسی دوسرے علاقہ کی طرف نکل جائیں جہاں آپ کی دعوت کو پھیلنے کا موقعہ ملے اور یہ اس لئے ضروری ہوا کہ اب حالات یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ علاقہ چھوڑنا ضروری ہوگیا یقینا اس دوران باپ سے مناظرے ہوے چکے تھے اور قوم کے بت خانہ کو بھی آپ تہس نہس کرچکے تھے ، قوم کے سارے وڈیروں سے بھی آپ کی گفتگو تلخی کی حد تک پہنچ چکی تھی مختصر یہ کہ ہجرت کے لئے خاصے اسباب اکٹھے ہوچکے تھے اور اب حکم الہی پہنچ چکا تھا کہ آپ اس علاقہ کو خیر باد کہہ دیں انجام کار وہ دن آیا تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ سے آخری دفعہ مخاطب ہو کر فرمایا ابو جان ! اب میری طرف سے آپ کو الوداعی سلام عرض ! اب آئندہ شاید آپ کو اپنے گستاخ بیٹے کا چہرہ نظر نہ آئے ‘ نہ آپ کے ہاتھ پتھر اٹھا کر بیٹے پر پھے نکن کے لئے تیار ہوں اور نہ بیٹا اپنے باپ کو شیطان کے نرغے میں دیکھ کر جل بھن جائے ، میں جب تک اللہ نے چاہا آپ کے لئے اللہ سے ہدایت کی دعا جاری رکھوں گا اور آپ کے رودررو آپ کو کچھ نہ کہہ سکوں گا شاید میرا رب اگر چاہے تو میری اس دعا کو قبولیت عطا فرما دے اور آپ کے دل کو اپنی طرف پھیر دے اور ممکن ہے میرے جانے کے بعد ہی آپ کو سمجھ آجائے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے آخری کلام باپ سے کیا اور وہاں سے چل دیئے ۔
Ayah 19:48چلتے چلتے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اتنی بات مزید کہہ ہی دی :
48۔ گزشتہ آیت میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ الوداعی ملاقات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے والد کو دعائے مغفرت مانگتے رہنے کا فرمایا تھا بلاشبہ باپ باپ ہی تھا لیکن کیا بیٹا بیٹا نہیں تھا ؟ جہالت اور علم کس طرح نکھر کر سامنے آگیا کہ جہالت ٹس سے مس نہ ہوئی لنکت علم نے آبدیدہ ہو کر دعائے مغفرت کرنے کا جملہ پھر بھی بول دیا لیکن ہمارے علمائے کرام ‘ اللہ ان پر رحم کرے آج بھی اسی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرک باپ کے لئے دعائے مغفرت کا وعدہ کرکے غلطی کی ، افسوس صد افسوس اس علم پر جس نے ان کو یہ بات کہنے پر آمادہ کردیا اور علم کو جہالت کی طرف واپس آنے کی دعوت دی ، ہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا جاری رکھی تا آنکہ والد کو پیغام اجل آگیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مطلع کردیا کہ جب تک تیرا والد زندہ تھا تجھے دعا کا حق تھا لیکن جب اس کی موت نے اس کی ہدایت کا دروازہ بند کردیا تو اب دعا مانگنا بھی بیکار ٹھہرا ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں دعا کا سلسلہ جاری ہی اس وقت ہوتا ہے جب مرنے والا مر جاتا ہے اور جب تک مر کر قبر میں داخل نہ ہو کوئی دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے کو تیار ہی نہیں ہوتا ۔
اب چلنے لگے تو چلتے چلتے بھی والد کو صاف صاف لفظوں میں سنا دیا کہ ابو جان ! اب آپ سے بھی کنارہ کش ہوتا ہوں اور ان سے بھی جن کی آپ پرستش کرتے ہیں اور اللہ کے درے درے جن کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا تم نے سمجھ رکھا ہے اور یہ بات دوبارہ اس لئے کہی کہ لوگوں کے ہاں اس وقت بھی اور آج بھی معروف ہے کہ ان کی مار لگ جاتی ہے اگر ان کو سجدہ وسلام نہ کیا جائے حالانکہ سجدہ وسلام کا مستحق صرف اور صرف اللہ ہی ہے اس لئے زور دے کر فرمایا کہ میں پہلے بھی اور اب بھی اپنے رب کے سوا نہ کسی اور کو پکارتا ہوں ‘ نہ پکاروں گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اپنے پروردگار کے پکارنے میں کبھی محروم نہیں رہوں گا ، جس سے یہ عزم بھی ثابت ہوگیا کہ اگر میری کوئی دعا قبول نہ ہوئی تو اس کا صاف صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ میرے اللہ کو منظور نہیں اور پھر جو اللہ کو منظور نہیں وہ مجھے بھی منظور نہیں کہ میری چاہت وہ ہے جو اللہ کی ہے اور اللہ میری چاہت کے لئے مجبور نہیں ہے کیونکہ اس کے قانون پختہ ہیں یقینا وہ اپنے قانون کو میرے لئے نہیں توڑے گا اور میں اس طرح بضد بھی نہیں کہ وہ میرے لئے قانون کو توڑ دے ، سارے حال سے وہی واقف ہے بندہ تو اتنا ہی جانتا ہے جتنا اس کو وہ بتا دیتا ہے ۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ چلتے چلتے جو جملے ارشاد فرمائے ان پر مزید غور کرو ‘ مخاطب والد بزرگوار سے ہیں اور زبان سے جو لفظ ارشاف فرماتے ہیں وہ ہیں (اعتزلکم وما تدعون من دون اللہ) فرمایا ابو ! صرف آپ ہی سے بیزاری کا اعلان نہیں کرتا بلکہ آپ کے تمام حواریوں اور ہم نواؤں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں جن جن کو تم اللہ کے سوا حاجت روا سمجھتے ہو اور میں پکارتا ہوں تو صرف اسی کو پکارتا ہوں جو میرا اور آپ سب کا رب ہے اور اس کے سوا نہ کوئی رب ہے اور نہ آپ کا بھی ‘ میں اس کی بندگی کرتا ہوں اور اس کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گا کہ آنے والے کل کو مجھے اس کا صلہ نہ دیاجائے :
Ayah 19:49سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب ہجرت کرکے چلے گئے تو اللہ نے دن دگنی رات چوگنی عنایات کیں :
49۔ جاسر کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ یہ اعلان برات اس وقت کا تھا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم دیا تھا اور اس اعلان کے بعد آپ نے اپنا علاقہ اور خاندان چھوڑ دیا ہاں ! وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے وہ یقینا آپ کے ساتھ تھے تاریخ و تفسیر سے یہ بات معلوم ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لوط آپ کے بھتیجے اور آپ کی بیوی اور چچا زاد سارہ بنت حاران اور ایک ملازم تھے اور لوگ بھی ہوں گے لیکن کہیں ذکر نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا ابراہیم جب باپ ‘ خاندان اور ان سب لوگوں سے جو خاندان اور برادری سے تعلق رکھتے تھے الگ ہوا تو ہم نے اس کی یہ پذیرائی کی اس کو بڑھنے ‘ پھولنے کو اچھی زمین دی اور خاندان کو بڑھانے کے لئے بیٹوں اور پوتوں کا سلسلہ شروع کردیا اور اس کی نسل کو اس قدر بڑھایا کہ علاقوں کے علاقے اس کی نسل سے بھر دیئے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو اپنے اپنے وقت پر نبی ورسول بھی بنایا اور اس کے ساتھ نکلنے والے لوط (علیہ السلام) کو بھی ہم نے بہت برکت دی اور ایسا معجزانہ کلام ارشاد فرمایا کہ جس اولاد کو اس جگہ رکھنا منظور تھا یعنی اسحاق (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یعقوب اور ان کی اولاد کا ذکر فرمایا لیکن جس اولاد کو یہاں سے مزید آگے کسی دوسرے حصہ زمین کے لئے رکھا تھا ان کا ذکر اس جگہ نہیں کیا کیونکہ ان کا اس جگہ رہنا جہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کرکے گئے تھے اللہ تعالیٰ کے علم میں منظور نہ تھا بلکہ ان کو یہاں سے مزید آگے بیت اللہ کے قریب لے جا کر بسانا تھا اس لئے اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر نہیں فرمایا حالانکہ اسماعیل (علیہ السلام) ‘ اسحاق (علیہ السلام) سے عمر میں بڑے تھے اور جن حضرات نے اسحاق (علیہ السلام) کو بڑا قرار دیا ہے ان کی غلطی کا یہی باعث ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کے بعدجس اولاد ابراہیم کا ذکر ہوا وہ اسمعیل (علیہ السلام) نہیں بلکہ یعقوب (علیہ السلام) اور انکی اولاد کا ہے ۔
حالانکہ اس جگہ اسمعیل (علیہ السلام) کا باوجود بڑا ہونے کے ذکر نہ کرنا اس حکمت کے تحت ہوا کہ آپ کو یہاں اس وطن میں جہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت ہجرت کرکے آئے تھے رہنا اللہ کو منظور نہ تھا بلکہ ان کے لئے ایک دوسری سرزمین تیار کی جا چکی تھی پھر جب تک مزید رونق دنیا نہ لگی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کو ساتھ اور جس جب اللہ نے سارہ کے ہاں بھی اولاد پید اکر دی تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اسمعیل (علیہ السلام) کو یہاں سے اٹھا کر بیت اللہ کے قریب لے جابسایا اور اس کے ایک مدت بعد بیت اللہ کی نئی سرے سے تعمیر بھی کی جس میں اسمعیل (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ شریک کار تھے ، ایک لطیفہ اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر کیا تو آپ کی پیدائش سے پہلے زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور وہ بھی ان انبیاء میں سے ایک تھے جن کے ہاں ایک مدت تک کوئی اولاد نہ ہوئی یہاں کہ معاملہ یاس کی حد تک پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ زکریا (علیہ السلام) کو یحییٰ جیسا فرزند عطا کردیا اور اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کا اختتام ہوا تو پھر ایسے نبی ورسول کا ذکر شروع کردیا جس کے ہاں ایک مدت تک اولاد نہ تھی اور عرصہ کے بعد آپ کو بیٹے کی بشارت دی اور پھر مبشر بیٹا عطا کیا ازیں بعد دوسرے بیٹے کی اس کی دوسری بیوی سے بشارت دی اور مبشر بیٹا بھی عطا فرمایا اور جس طرح سے بشارت سنائی تھی بالکل اسی طرح کے بےٹذ ان کو عطا کئے اور اس طرح یہ بات واضح کردی کہ جب اللہ کو کوئی کام کرنا منظور ہوتا ہے تو اس کام کے لئے وہ سبب خود بخود بنانے شروع کردیتا ہے اور چونکہ وہ مسبب الاسباب بھی ہے اس لئے اس کو سبب بناتے کوئی دیر نہیں لگتی پس وہ حکم دیتا ہے کہ ہو تو جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کا منہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔
Ayah 19:50سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سچائی کی خاص صفت میں سے ان کی اولاد کو بھی وافر حصہ ملا :
50۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سچائی سے آپ کا واقعہ شروع ہوتا تھا اور اسی سچائی پر وہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اور سچائی کی جو صفت آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی مولاناؤں کو اگرچہ اس پر اعتراض ہو لیکن عنداللہ وہ درجہ امتیاز کو پہنچی ہوئی تھی اور پھر صرف انہی میں نہیں بلکہ ان کی اولاد کو بھی اس میں سے وافر حصہ ملا تھا ، بلاشبہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر کچھ مخصوص رحمتیں بھی تھیں اور ان میں امتیازی صفات بھی پائی جاتی تھیں شرک کے خلاف سارے انبیائے کرام نے آواز بلند کی لیکن جو واسطہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے والد اور اپنے خاندان کے وڈیروں سے پڑا وہ ایک خاص خصوصیت کا حامل تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑھاپے میں جو اولاد دی اور آپ کی نسل کو جس طرح اور جس تعداد میں بڑھایا یہ بات دوسروں کے بہت کم حصہ میں آئی ۔ آج بھی جو قومیں دنیا میں رہ رہی ہیں ان میں کثیر حصہ آپ ہی کی نسل در نسل لوگوں کا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے جو شہرت آپ کو دی اور آپ کے بعد آپ کی نسل سے نبی اعظم وآخر ﷺ کو دی وہ بھی آپ ہی کی نسل ہیں اور آپ ہی کی ملت پر قائم ہیں ، سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو جد انبیاء کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ” حنیف “ بھی کہلاتے ہیں اور ” مسلم “ بھی ۔ اس جگہ آپ کا یہ مختصر ذکر کیا گیا ہے اور اس سے پہلے بھی سورة البقرہ 2 : 124 تا 160 ‘ سورة آل عمران آیت 32 ‘ 35 ‘ 68 ‘ سورة النساء آیت 54 ‘ 125 ‘ 163 ‘ سورة الانعام آیت نمبر 40 ‘ 75 ‘ 83 ‘ 151 ‘ سورة التوبہ 70 ‘ 114 ‘ سورة ہود 69 تا 75 اور سورة ابراہیم آیت 26 ‘ سورة یوسف آیت 38 ‘ سورة النحل آیت 120 تا 123 ‘ سورة الحجر آیت 51 میں گزر چکا ہے اور سورة مریم میں آپ دیکھ رہے ہیں اور بھی مزید چھ سات سورتوں میں ذکر آئے گا اور انشاء اللہ العزیز سورة الانباء میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا مختصر حال بھی قلم بند کریں گے ، اس جگہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر دس آیتوں میں کیا گیا اور اس کے بعد قرآن کریم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چند واقعات کی جھلکی دینا شروع کی ہے اور اس سورت مریم میں موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ صرف تین آیتوں میں قلمبد کیا گیا ہے ۔
Ayah 19:51سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ال کتاب میں ذکر کرو جو نبی بھی تھے اور رسول بھی :
51۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں ایک نہایت جلیل القدر نبی تھے جو یعقوب (علیہ السلام) کے پڑوتے یا سکڑپوتے ہوئے اور اس جگہ ان کا ذکر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ آپ کا تعلق جیسا کہ اوپر بیان ہوا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی ذریت ہے بلکہ آپ کی ذریت میں سے ایک بلند پایہ رسول تھے قرآن کریم میں کسی نبی کا اس قدر تذکرہ نہیں جتنا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے اور موسیٰ عیہ السلام کا نام بھی قرآن کریم میں 514 بار آیا ہے اور اس قدر بار بار کسی دوسرے نبی کا نام نہیں لیا گیا ، آپ کا زمانہ بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کے قریب ہے اور قرآن کریم میں آپ کو مثیل موسیٰ کا لقب بھی دیا گیا ہے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی امت بھی اس وقت ساری امتوں سے زیادہ تھی اور آپ کے حالات پر تورات کے صفحات بھی شاہد ہے اس لئے بار بار آپ کا ذکر قرآن کریم میں لایا گیا اور آپ کی قوم کی بداعتدالیوں کا ذکر بار بار کیا گیا اور یہ بات قبل ازیں کتنی ہی دفعہ عرض کی جا چکی ہے کہ ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں ۔ زیر نظر آیت میں آپ کو جو (رسولا نبیا) کہا گیا ہے تو یہ (نبیا) کا لفظ صرف آیت کا بحر ملانے کے لئے کہا گیا ہے ورنہ ہر رسول کا نبی ہونا پہلے ہی طے ہے ۔
زیر نظر آیت میں آپ کی صفت ” مخلص “ کو زیادہ اجاگر کرکے بیان کیا گیا ہے جیسا کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی صفت صدق کو اجاگر کرکے بیان کیا گیا تھا جس طرح ہر نبی ورسول کا صادق ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح ہر نبی ورسول کا مخلص ہونا بھی ضروری ہے گویا صادق کا لفظ بھی ہر نبی ورسول کا صادق ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح ہر نبی ورسول کا مخلص ہونا بھی ضروری ہے گویا صادق کا لفظ بھی ہر نبی ورسول کے لئے لازم آتا ہے اور مخلص کا لفظ بھی ‘ تاہم ابراہیم (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ (صادقا) کا لفظ مخصوص طریقہ سے لایا گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ (مخلص) کا لفظ لایا گیا ، پھر جس طرح ابراہیم کے نام کے ساتھ (صادقا) کا لفظ خاص وجہ سے لایا گیا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ آپ کو لوگوں نے صادق بھی کہا اور آپ کے ذمہ تین جھوٹ بھی لگائے گئے چونکہ علم الہی میں یہ بات تھی اس لئے قرآن کریم میں آپ کے نام ساتھ (صادقا) کا اضافہ کردیا گیا بالکل اسی طرح قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (مخلصا) بھی مانا اور آپ کے اخلاص میں شک بھی کیا اس لئے آپ کی صفت میں ” مخلص “ کا اضافہ کیا گیا ۔ قرآن کریم نے ایک سے زیادہ بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے اور قوم کو بتا کر اور کہہ کر گئے لیکن قوم نے آپ پر اعتبار نہ کیا آپ کے بعد شرارتیں بھی کیں اور آپ کی آمد کے بعد تسلیم بھی نہ کیا بلکہ مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے جا کر اپنا رب دکھاؤ اور جب تک ہم دیکھ نہ لیں ہمارے دل اس بات کو تسلیم نہیں کرتے گویا کہ قوم نے آپ کے اخلاص پر شک کیا اور ایسا بھی ہوا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیا تو قوم نے آپ کو مخلص نہ جانا اور صاف صاف سنا دیا کہ آپ جائیں اور آپ کا خدا جا کر لڑو ہم تو اس جگہ بیٹھیں گے ، اسی طرح کے بہت سے واقعات ہوئے لیکن قرآن کریم نے ان سب واقعات کے لئے ایک جامع لفظ بول دیا کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) مخلص تھے وہ کہتے تھے جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا تھا لیکن قوم نے اپنی بدبختی کے باعث آپ کے اخلاص میں ایک بار نہیں بار بار شک کیا لہذا قرآن کریم نے آپ کے نام کے ساتھ مخلص کا اضافہ کر کے قوم بنی اسرائیل کی اس حرکت کی وضاحت کردی اور آپ کو مخلص کے لقب سے مشرف فرما دیا لیکن مفسرین نے اس لقب کی اور بھی توجیہات بیان کی ہیں قرآن کریم کی بلاغت معجزانہ ہے وہ چلتے چلتے ایک ارشارہ ایسا کردیتا ہے کہ اس کے اندر صفحات کے صفحات مضمون پنہاں ہوتا ہے اور پھر جس قدر کوئی اس کھول سکتا ہے کھولتا جاتا ہے اور اس کا مفہوم واضح ہوتا جاتا ہے یہی حال اس طرح کے کلام کا ہے کہ وہ ابراہیم کے ذکر میں صرف ایک لفظ (صادقا) کہہ کر آگے نکل گیا اور اسی طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مختصر ذکر میں صرف (مخلصا) کہہ کر آگے چلتا بنا لیکن ان دونوں نبیوں کی ان صفات میں بہت بڑا مضمون پوشیدہ طور پر رکھ دیا اور اب جتنا کوئی اس کو کھولے گا یہ کھلتا چلا جائے گا ۔
Ayah 19:52اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کی داہنی جانب سے پکارا اور وہ لبیک کہنے لگے :
52۔ یہ اس وقت کا ذکر کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے قبل ایک اتفاقیہ قتل ہوجانے کے بعد نکلے تھے اور راستہ میں خضر سے ملاقات کرتے ہوئے مدین کی طرف بڑھ گئے تھے اور پھر مدین میں آٹھ یا دس برس گزارنے کے بعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کو آرہے تھے کہ راستے میں ایک آگ کا اشارہ دیکھ کر آگ لینے کی غرض سے اپنے اہل و عیال کو ایک جگہ بٹھا کر رات کے اندھیرے میں آگ کی طرف بڑھے تھے کہ اچانک آپ کو آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں اور یہ جو روشنی تجھے نظر آتی ہے یہ آگ نہیں بلکہ تیرے رب ہی کی ایک تجلی ہے جو تجھے متوجہ کرنے کے لئے کی گئی ۔ اس جگہ فرمایا کہ یہ مقام طور کی داہنی جانب تھا اور جب وہ قریب آگیا تو ہم نے اس کو سرگوشی کے لئے مزید اپنے قریب کرلیا یہ قرب آپ کو کس چیز کا حاصل ہوا ؟ اس تجلی کا جو آپ کو آگ کی شکل میں نظر آئی یہ سرگوشی کیا تھی ؟ وہی سرگوشی تھی کہ تم مصر میں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکشی میں بہت بڑھ گیا ہے اور اس طرح کے سوال جواب جو وہاں ہوئے ان کی اصل حقیقت تو صاحب وحی ہی جان جاسکتا ہے ہم تو وہی بات کہہ سکتے ہیں جو قرآن کریم نے ہم کو بتائی (وقربنہ نجیا) اور ہم نے سرگوشیوں کے لئے اپنے قریب کیا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر وقت اور ہر آن ہر انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس میں ذرا بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں لیکن انسان کے ساتھ جب تک اس کی زبان میں بات نہ کی جائے ہر انسان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی اس لئے قرآن کریم نے انداز بیان وہی اختیار کیا ہے جو ایک انسان دوسرے انسان سے بات کرنے کے لئے اپنی فطرت کے مطابق کرتا ہے اور اسی فطری تقاضا کو پورا کرنے کے کے لئے قرآن کریم نے اس جگہ بھی یہ پیرایہ بیان اختیار فرمایا ہے حقیقت میں اس سے مراد فقط قرب الہی ہے جس سے دوسرے انسانوں سے نبی و رسول امتیاز حاصل کرتا ہے جس طرح صدر مملکت (جو اسلام آباد میں ہے) سے بات کرنے کے لئے لاہور کا آدمی کراچی والے کو کہہ سکتا ہے آپ صدر سے بات کرنے کے لئے میرے سے زیادہ قریب ہیں اس لئے آپ بات کریں اور اس کا ایسا کہنا حقیقت پر مبنی ہو سکتا ہے کیونکہ اس قرب سے مراد فاصلہ کا قرب نہیں بلکہ تعلقات اور جان پہچان کا قرب ہے ، اسی طرح جب قرب کی باطنی صورت بھی موجود ہو اور ظاہری بھی اختیار کرلی گئی ہو تو مزید وضاحت ہوجاتی ہے اور یہی کچھ اس جگہ بیان کیا گیا ہے ، اسی حالت کو کسی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ۔
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا :
لیکن اس کے باوجود قریب ہونے کا مقام کچھ اور ہی ہے (نجیا) جس کو اپنے راز سے اطلاع دی جائے یعنی جس کے سامنے اپنا راز کھول دیا جائے ، طور ایک پہاڑ کا نام ہے ۔
Ayah 19:53سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو ہارون (علیہ السلام) عطا فرمانے سے مراد کیا ہے ؟ :
53۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے گئے ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ مصر کے حالات سے پوری طرح باخبر تھے کیونکہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا راز نبوت بتایا اور مصر میں فرعون کے پاس جانے کی ہدایت فرمائی تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت دعا فرمائی کہ اے میرے پروردگار مصر میں میرا ایک بھائی ہارون بھی ہے آپ اس کو بھی میرے ساتھ کام میں شریک کر دیجئے کہ وہ میرے سے زیادہ فصیح اللسان ہے اور میرے سے زیادہ نرم مزاج بھی ۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تجھ کو تیرا سوال ہم نے عطا کردیا یعنی تیرا بھائی تجھے عطا کردیا کہ وہ آپ کا شریک کار ہوگا اور اس کو ہم یہ اطلاع کردیں گے ، یہ وہ احسان تھا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا اور اپنی خاص رحمت سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی کو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا شریک کار بنا دیا اور یہ کوئی ضمنی نبوت یا کوئی ظلی وبروزی نبوت نہیں تھی جیسا کہ بعض نے اس کی توجیہات کی ہیں بلکہ اس طرح کی نبوت تھی جیسی کچھ دوسرے انبیاء کی تھی ہاں ! آپ نے ہارون (علیہ السلام) کے نبی ہونے اور اپنے کام اور رسالت میں شریک کرنے کے لئے التجا کی تھی جو منظور کی گئی اور یہ اسی طرح کی بات ہے جس طرح کی بات زکریا (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی فرق ہے تو صرف یہ کہ انہوں نے اپنے بعد پیغام رسالت پہنچانے کے لئے اولاد طلب کی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے بھائی طلب کیا تھا پہلے نبیوں کی دعائیں قبول ہوئیں تو ان کو ان کی چاہت کے مطابق اولاد مل گئی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اللہ سے طلب کیا تو اللہ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھائی عطا کردیا ہاں ! سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی بلا شبہ منفرد تھی اور اس کا جواب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا وہ بھی یقینا منفرد حیثیت کا تھا شاید اسی وجہ سے آپ کو (مخلص) بھی فرمایا گیا ہے کہ آپ کا یہ اخلاص امتیازی تھا کہ آپ نے اپنے بھائی کو ساتھ ملا دینے کی طلب کی جو کسی دوسری جگہ پہ نہیں ملتی اور یہ چیز سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دوسرے نبیوں سے ممتاز کرتی ہے اور اس دعا میں آپ کو یقینا امیتاز حاصل ہے یہود نے بھی ہارون (علیہ السلام) کو نبی تو ضرور تسلیم کیا لیکن آپ کو بدنام کرنے کے لئے آپ کے ذمہ بڑے بڑے سنگین جرائم کی ذمہ داری ڈالی لیکن قرآن کریم نے ایسی کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی جو ذرا برابر بھی ان کی نبوت و رسالت کی شان کے منافی ہو اور رہے یہود تو وہ ایسے بےلگام تھے کہ جس نبی کو نبی ورسول تسلیم بھی کرتے اس کے معاملہ میں بھی بدزبانیاں کرتے رہتے اور انکی سیرتوں کو داغدار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے اور جس کی چاہتے پکڑی اچھا دیتے ، قرآن کریم نے ان کی ان بےجا حرکتوں کا جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے ۔ اور (یقتلون النبیین) کا جملہ تو عام استعمال کیا ہے اور اسی طرح (اذوا موسی) کے الفاظ استعمال فرما کر ان کی اذیتوں اور تکلیفوں کی نشاندہی بھی فرمائی ہے ۔
سورة مریم میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر جیسا کہ آپ نے دیکھا بہت مختصر انداز میں بیان کیا گیا اور تفصیل کے مقامات پیچھے گزر چکے اور مزید تفصیل انشاء اللہ العزیز سورة طہ اور القصص میں آئے گی نیز سورة طہ میں انشاء اللہ العزیزہم سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذرا تفصیل سے ذکر کریں گے ۔
Ayah 19:54سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے سلسلہ کا بیان اور صادق الوعد ہونے کا ذکر خاص :
54۔ زیر نظر آیت اور اس کے بعد آنے والی آیت میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت کے دوسرے سلسلہ کے سربراہ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا ہے اور قریش کے جدامجد بھی اسمعیل (علیہ السلام) ہی تھے ذریت ابراہیم میں سب سے پہلے نبی ورسول بھی سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ہی ہوئے اور اس جگہ ان کا ذکر بھی اسی نسبت سے کیا گیا کہ اے قریش والو ! تم بنی اسمعیل کہلاتے ہو اور انہی کے پیروکار بھی کہلانا پسند کرتے ہو لیکن تمہارے سارے کام ہی ان کی تعلیم کے خلاف ہیں اس کی آخر وجہ کیا ہے ؟ قرآن کریم ان کو رسول ونبی تسلیم کرتا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ ان کو اپنا جدامجد مانتے ہیں اور اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ میری دعوت وہی دعوت ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی دعوت ہے اگر یہ باتیں صحیح نہیں ہیں تو آپ لوگوں کو ان کی نشاندہی کرنی چاہئے اور اگر آپ لوگ ان باتوں کی نشاندہی بھی نہ کریں اور قرآن کریم کے بیانات سے بھی انحراف کریں تو آخر اس کا علاج ؟ قرآن کریم نے کتنے واضح اور صاف لفظوں میں ان کو رسول ونبی قرار دیا اور ان کے لائے ہوئے پیغامات کی خلاف ورزی پر قریش کو سخت سرزنش کی ۔
زیر نظر آیت میں ان کی مخصوص صفت (صادق الوعد) قرار دی حالانکہ جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ ساری صفات وہی ہیں جن کا ہر ایک نبی ورسول متحمل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی نبی کے لئے کوئی مخصوص لقب اختیار کیا گیا اور کسی کے لئے کوئی اور پھر یہ بھی عرض کیا گیا کہ ہر نبی جس کسی مخصوص صفت سے ملقب کیا گیا اس میں کوئی خاص وجہ اور علت ضرور موجود ہے آپ کے اس (صادق الوعد) ہونے سے کسی خاص وعدہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ کونسا وعدہ ہے ؟ یقینا یہ وہی وعدہ ہے جس کے مطابق انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر غیر دیار میں بسنا پسند کیا اور باپ کی کہی ہوئی بات کو پورا کر دکھایا اور اس معاملہ میں ذرا بھی لیت ولعل نہ کی بلاشبہ باپ نے سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) سے کہا کہ بیٹا ! میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں اور تو بھی غور کر کہ اس معاملہ میں مجھے کیا کرنا چاہئے تو سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) نے فورا جواب دیا کہ اے ابو جان ! جو حکم آپ کو ملا اس کو اللہ کا نام لے کر کیجئے میں اس حکم سے ذرا بھی انحراف نہیں کروں گا اور بخوشی رضائے الہی کو قبول کروں گا لیکن اس خواب کی تعبیر تو آپ ہی جانتے ہیں کہ کیا ہے ؟ میرا کام تو حکم کی پابندی ہے اور وہ میں نے وعدہ کیا ہے کہ جو حکم ملے گا اس کے لئے بسر وچشم تیار رہوں گا اور مجھے آپ ذرا سستی کرتا ہوا نہیں دیکھیں گے اور نہ ہی میں کوئی اس حکم کی تاویل کروں گا پھر جب آپ کو والد نے حکم دیا تو فی الواقعہ اس کو بخوشی قبول کیا اور اس کے نتیجہ میں کنعان سے چل کر مکہ میں رہائش پذیر ہوجانا آنکھیں بند کر کے قبول ومنظور فرما لیا اور باپ کی حکم عدولی ہرگز نہ کی اور نہ ہی کوئی عذر وبہانہ پیش کیا ، پیغام ملا تو سر تسلیم خم کردیا اور بنو جرہم جن سے آپ کا کوئی تعلق نہیں تھا ان میں رہنا بخوشی قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ برکت عطا فرمائی کہ غیروں کو اپنا بنا دیا اور انہی بنی جرہم میں آپ کو شادی ہوئی اور انہی لوگوں کو آپ اللہ کی پیغام پہنچاتے رہے اور آپ کی اولاد در اولاد بھی وعدہ کی سچائی میں ضرب المثل تھی حتی کہ اسلام آیا اور محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی ایفائے عہد میں وہی شہرت حاصل کی جو انکے جد الجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کو حاصل تھی ، افسوس کہ آج امت محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ امتیازی نشان باقی نہ رہا اور خصوصا وقت کے مذہبی اور سیاسی لیڈروں میں وہ عنقاہو گیا اور ایسا اڑا کہ اب تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا اور وہ ہنس کر کہنے لگتے ہیں کہ :
ع وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہوگیا :
Ayah 19:55سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) رضائے الہی کا متلاشہ اور اپنے لوگوں کو صلوۃ وزکوۃ ادا کرنے کی ہدایت کرتا تھا :
55۔ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کا دوسرا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ خود توصلوۃ وزکوۃ کے عادی تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی تلقین کرتے تھے کہ وہ نماز ادا کریں اور زکوۃ ادا کریں ، اس کا طریقہ ونصاب کچھ بھی ہو لیکن ان دونوں چیزوں کا تصور ہر نبی کی قوم میں پایا جاتا ہے کیونکہ ہر نبی ورسول کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیغام میں ان دونوں چیزوں کی سختی سے پابندی کریں اور اللہ کی رضا مجھ پر ایمان لانے والوں کا امتیازی نشان ہونا چاہئے اور صلوۃ وزکوۃ ہی وہ چیز ہے جو تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ایک جامع تعبیر ہے اور انہی دو چیزوں پر پہلے بھی اور آج بھی تمام شرائع کی بنیاد ہے جس نے ان دونوں چیزوں کا اہتمام کرلیا اس نے بحمد للہ دین و شریعت کو قائم کرلیا اور جس نے ان دونوں چیزوں میں کوتاہی کی اس نے دین و شریعت کو برباد کیا یہ تو قرآن کریم کی تعبیر ہے لیکن ہم مسلمانوں کا عملی حال اس وقت کیا ہے ؟ کیا ان دونوں چیزوں پر ہمارا ایمان ہے ؟ اگر ہے تو کس نوعیت کا ؟ اگر کہیں کچھ نظر آتا بھی ہے تو وہ ایک رسم اذاں اور رسم صلوۃ کے سوا بھی کچھ ہے ؟ آج ہم مسلمانوں کو اپنا اور اپنی قوم کا تجزیہ کرکے دیکھنا چاہئے کہ مجموعی طور پر ہمارا حال کیا ہے ؟ کیا ایسی صورت تو نہیں کہ ۔
ع مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے ۔
اور جس چیز کے لئے خلیفہ اول سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے جنگ لڑنے کی دھمکی دی تھی اس کو ہم نے سرے سے ہی بھلا دیا کوئی سختی کے ساتھ ہم سے کچھ چھنی لے جائے وہ دوسری بات ہے لیکن ہم اپنی رضا اور اپنی مرضی سے زکوۃ ادا کرنے والے نہیں ہاں ! ہمارے کروڑ پتیوں کو اگر کسی صورت اور سبب سے زکوۃ مل جائے تو وہ ہڑپ کرنے کے لئے آگے بڑھنے میں ذرا بھی دیر نہ لگائیں ، اگر دل یقین نہ کرے تو زکوۃ کمیٹیوں کا تجزیہ کر کے ذرا دیکھ لیں اور ایک چھوٹے سے یونٹ سے لے کر صوبائی کمیٹیوں تک دیکھتے چلے جائیں کہ ان کے چیئرمین زکوۃ وعشر کے نمائندے کون لوگ ہیں ؟ اور وہ بندر بانٹ کس طرح کرتے ہیں اور زکوۃ کا مال کس کس کی جیب میں جاتا ہے ؟ کس طرح جاتا ہے اور کتنا جاتا ہے ؟ پھر زکوۃ وصول کرنے والوں کو بھی ایک نظر دیکھ لیں تو یقینا آنکھیں کھلی کی کھلی جائیں کہ یا اللہ ! یہ تیرے مومن بندے ہیں ؟ اور اگر یہ عہدے اور چیئرمینیاں تقسیم ہوتے دیکھ لیں تو واللہ اس جینے سے مرنے کو ترجیح دیں اگر ذرا بھر بھی ایمان کی رمق دل میں موجود ہو ۔
سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد خداوندی اس طرح بھی ہے کہ (وکان عند ربہ مرضیا) اور وہ اپنے رب کی نگاہوں میں ایک ایسا ہی بندہ تھا جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ میرا بندہ ایسا ہو۔ بلاشبہ اس نے جو کیا محض رضائے الہی کے لئے کیا ، کیا سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) ذبیح ہوئے ؟ بلاریب ذبیح ہوئے لیکن فرمانبرداری کی چھری سے ، ان کی گردن کٹی لیکن رضائے الہی کی چھری سے لیکن یہود ونصاری نے سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کی زندگی پر اس طرح پردہ ڈال دیا کہ کسی کو ان کا سراغ ہی نہ مل سکے اور جنہوں نے ان کی زندگی کا حال بیان کیا انہوں نے حقیقت کو مسخ کرنے کی بہت کوشش کی ، اپنوں نے ناسمجھی سے اور بیگانوں نے جان بوجھ کر محض مخالف اور ہٹ دھرمی سے ۔
انشاء اللہ العزیز سورة الانبیاء میں مزید بات ہوگی ‘ اگر اللہ چاہے گا ۔ وما فوفیقی الا باللہ ۔
Ayah 19:56اے پیغمبر اسلام ! ال کتاب میں ادریس کا ذکر کیجئے وہ صدیق نبی تھا :
56۔ سیدنا اسمعیل (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کرنے کی ہدایت ہو رہی ہے اور ادریس (علیہ السلام) کی بھی سچائی کی صفت ہی اجاگر کی گئی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے متعلق یقینا قوم میں اس وقت کوئی غلط نظریہ قائم تھا جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق تین جھوٹ کی بات بنائی گئی تھی ، ادریس (علیہ السلام) کے متعلق آج بھی مشہور ہے کہ وہ ایک منجم تھے اور علم تنجیم میں جھوٹ کی آمیزش اس وقت بھی تھی آج بھی ہے اور کسی نبی کا منجم ہونا نہ روایتا صحیح ہے اور نہ ہی درایتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہی جھوٹ آپ کی طرف منسوب ہوگا جس کے باعث قرآن کریم نے آپ کی صفت ” صدیقیت ‘ کو اجاگر کیا ۔ ادریس (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم میں صرف دو جگہ پر آیا ہے ایک زیر نظر آیت میں اور دوسری جگہ سورة الانبیاء میں جہاں ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ ذالکفل کا ذکر بھی کام گیا ہے ۔ ادریس (علیہ السلام) بھی ان انبیاء کرام (علیہم السلام) میں سے ایک ہیں جن کے نام ‘ نسب اور زمانہ کے متعلق مورخین ومفسرین میں بہت اختلاف پایا گیا ہے اور یہ اختلاف بھی ایسا ہے کہ ان ساری باتوں کو سامنے رکھا جائے جو ان کے متعلق بیان ہوئیں تو بھی کوئی فلہت کرنا ممکن نہیں ہے کہ کس کو صحیح کہا جائے اور کس کو غلط ، کیوں ؟ اس لئے کہ سارے بیان ایک نوعیت کے ہیں اور پختہ دلیل کسی کو بھی قرار نہیں دیا جاسکتا ہمارے لئے یہ راہ صحیح ہے کہ ان کے متعلق ساری باتوں سے الگ رہ کر صرف ان کی نبوت اور رفعت مرتبت اور ان کی صفات عالیہ ہی پر اکتفا کریں اور اسرائیلی روایات کے پیچھے نہ جائیں خواہ وہ افواہیں اسلامی لٹریچر کی زینت بھی ہوئی ہوں جیسے آپ کے منجم ہونے روایت ابن حبان میں بھی موجود ہے اگرچہ وہ آپ کے نام سے نہیں لیکن بعد میں آنے والوں نے اس پر آپ ہی کا نام استعمال کیا ہے چناچہ کہا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کسی نے علم رمل کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ علم ایک نبی کو دیا گیا تھا ۔ پس اگر کسی شخص کے نقوش اس کے مطابق آجائیں تو نشانہ صحیح بیٹھ جاتا ہے ‘ ورنہ نہیں ۔ یہ روایت ابن حبان میں ہے اور اس کے پیش نظر ” کسی نبی “ کی جگہ ادریس (علیہ السلام) کا نام دے دیا گیا حالانکہ یہ روایت وہ درجہ نہیں رکھتی کہ اس کی نسبت کسی نبی ورسول کی طرف کی جائے اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ نبی سے مراد شرعی نبی ہی نہ لی گئی بلکہ بعض اوقات دوسرے علوم کے ماہرین کو بھی ان علوم کا نبی کہہ دیا جاتا ہے جیسے یہ کہ ارسطو علم فلسفہ کا نبی تھا یا بوعلی سینا علم طب کا نبی مانا جاتا ہے اور علم ہندسہ میں فیثا غورث کا نام لیا جاتا ہے ، درزی کے کام کی نسبت بھی آپ کی طرف کی جاتی ہے ، حافظ ابن کثیر (رح) نے ایسی تمام روایات بیان کرکے ان لوگوں کے نظریات کی سخت تردید کی ہے جو ان روایات کو ادریس نبی اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اس طرح جن لوگوں آپ کو ” ھر مس الھرامسہ “ کا لقب دیا ہے ان کی بھی خوب خبر لی ہے ۔ حافظ (رح) نے البدایہ والنہایہ ج اول ص 99 پر اس کو خوب بیان فرمایا ہے ۔ اسی طرح بعض روایات میں ادریس (علیہ السلام) کا زندہ آسمان کی طرف چلے جانا بھی بیان ہوا ہے لیکن وہاں زندہ رہنے نہیں دیا گیا بلکہ چوتھے آسمان پر انکی جان قبض کرلینے کی کہانی بیان کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی قبر وہیں چوتھے آسمان پر بنائی گئ یا فرشتہ ان کے نعش مبارک کو واپس چھوڑ گیا بہرحال اس میں شبہ نہیں کہ یہ روایات ہماری تفاسیر میں بھری گئیں اور ایسی تمام روایات کو کعب احبار کی طرف ہی منسوب کیا گیا لیکن ایسی بےسروپا باتوں کا تعلق اسرائیلیات ہی سے ہے ۔ اسلام کا چہرہ بحمدللہ ایسے داغوں سے بالکل پاک وصاف ہے ، ہاں ! بطور کہانی کسی چیز کو بیان کردینا جو حیثیت رکھتا ہے وہ سب پر روشن ہے ۔
Ayah 19:57ادریس (علیہ السلام) کے درجات کو بلند کرنے کا اشارہ قرآن کریم میں :
57۔ فرمایا ” ہم نے اس کو بڑے ہی بلند مقام پر پہنچا دیا تھا “ یہی وہ اشارہ ہے جس سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ ادریس (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا چناچہ نقل ہے کہ ایک بار ادریس (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی کہ ’ اے ادریس ! تمام اہل دنیا جس قدر روزانہ نیک عمل کریں گے ان سب کے برابر میں تجھ کو ہر روز اجر عطا کروں گا ، ادریس (علیہ السلام) نے یہ سنا تو ان کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میرے اعمال میں روز افزوں اضافہ ہو اور اس لئے عمر کا حصہ طویل ہوجائے تو بہت ہی اچھا ہے ۔ انہوں نے وحی الہی اور اپنے خیال کو ایک رفیق فرشتہ پر ظاہر کر کے کہا کہ اس معاملہ میں فرشتہ موت سے گفتگو کرو تاکہ مجھ کو نیک اعمال کے اضافہ کا زیادہ سے زیادہ موقعہ ملے ۔ اس فرشتہ نے جب یہ سنا تو ادریس کو اپنے بازوؤں پر بٹھا کرلے اڑا جب یہ چوتھے آسمان سے گزر رہے تھے تو فرشتہ موت زمین کی طرف اتر رہا تھا ، وہیں دونوں کی ملاقات ہوگئی ، دوست فرشتہ نے فرشہ موت سے ادریس (علیہ السلام) کے معاملہ میں گفتگو کی ، فرشتہ موت نے دریافت کیا کہ ادریس ہیں کہاں ؟ اس نے کہ میری پشت پر سوار ہیں ۔ فرشتہ موت کہنے لگا درگاہ الہی سے یہ حکم ہوا ہے کہ ادریس کی روح چوتھے آسمان پر قبض کروں اس لئے سخت حیرت وتعجب میں تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ ادریس زمین میں ہیں ؟ اس وقت فرشتہ موت نے ادریس (علیہ السلام) کی روح قبض کرلی یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد کعب احبار نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اس ارشاد (ورفعناہ مکانا علیا) کی یہی تفسیر ہے اور آج یہ قصہ آپ کو ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں سند کے ساتھ مل جائے گا ، حالانکہ یہ سب اسرائیلی خرافات ہیں جو ناقابل اعتبار ہیں شاید ہمارے مفسرین نے بھی ان کو حکایتا ہی بیان کیا ہوگا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اس طرح کی باتیں ہیں جو عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل کرتی ہیں اور آج اسی طرح کی بےسروپا روایات فضائل کے تحت تبلیغی جماعت کے لٹریچر میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور فی الواقع عوام کا رجحان انہی کی طرف زیادہ ہے اور ہمارے علمائے کرام نے ترغیب وترھیب کے لئے ایسی باتوں کا بیان کرنا جائز اور درست قرار دیا ہے تاکہ ” ال کو کو لے گئی “ کہہ کر ضرور کا کام پورا کرلیا جائے ۔ لیکن ہم میں کتنے ہیں جو آج بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ادریس (علیہ السلام) کی آمد کے انتظار میں ہیں جبکہ اس آمد نے کئی ” غلام احمد “ پیداکئے اور کتنے ہیں جو پر تولتے ہی رہے لیکن اڑنے میں موت سمجھ کر پھر پروں کو سمیٹ لیتے رہے اور اس گومگو میں وہ چلتے بنے ہیں ۔
Ayah 19:58یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا اور ہدایت کے لئے منتخب کیا :
58۔ یہی مقدس ہستیاں ہیں جن کا ذکر اوپر مذکور ہوا اور ان سب کا تعلق آدم (علیہ السلام) کی ذریت ‘ نوح (علیہ السلام) کی ذریت ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت اور اسرائیل (علیہ السلام) کی ذریت سے تھا اور یہ سب کے سب اولوالعزم انبیائے کرام (علیہم السلام) تھے جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہوا اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی ہدایت بخشی اور ان کا نبوت و رسالت کے لئے انتخاب کیا ۔ یہی وہ لوگ تھے کہ جب ان کے سامنے آیات الہی پڑھی جاتی تھیں تو ان پر رقت طاری ہوجاتی تھی اور وہ اللہ کی یاد میں مصروف رہتے تھے ۔ ان کے دن لوگوں کو راہ راست کی طرف بلانے میں اور راتیں بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریزی کے ساتھ گزرتی تھیں اور رب ذوالجلال والاکرام کے حضور وہ گریہ وزاری کرتے تھے یہی وہ لوگ تھے کہ جن کا مرنا اور جینا رضائے الہی کے لئے تھا اس لئے ان کی زندگیاں ان کی قوموں کے لئے بھی مثال تھیں اور بعد میں آنے والوں کے لئے بھی وہ رہنما اصول مہیا کرتی تھیں لیکن ان کے بعد کیا ہوا ؟
Ayah 19:59جب ایسے لوگ اسلاف ہوگئے تو اخلاف نے کیا کیا کہ وہ ناخلف ہو کر رہ گئے :
59۔ فرمایا ان کے بعد ایسے لوگ آئے جو ان ہی لوگوں کی ذریت تھے لیکن انہوں نے حقیقت ضائع کردی اور اپنی خواہشوں کے پرستار ہوگئے اور اب ان کے نام لیواؤں کے جتنے گروہ ہیں سب کا یہی حال ہے اور سب کو اپنی بدعملیوں کا نتیجہ بھگتنا ہے ہاں ! جو گمراہیوں سے باز آجائیں گے اور دعوت حق پر عمل کریں گے ان پر ہر طرح کی کامرانیوں کی راہ کھل جائے گی اسی طرح جس طرح پہلوں پر کھل چکی ہے ۔
زیر نظر آیت میں گزشتہ گمراہیاں بیان کرتے ہوئے صرف (اضاعوا الصلوۃ واتبعوالشھوات “ فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ نماز یعنی عبادت جوہر ایمان ہے اس کی حقیقت گئی تو سمجھو کہ سب کچھ چلا گیا ، خیال رہے کہ صلوۃ کا ادا ہی نہ کرنا ضائع کرنا نہیں بلکہ صلوۃ کا رسما ادا کرنا اور اس سے جو مقصد حاصل ہوتا ہے اس کو حاصل نہ کرنا اضاعت صلوۃ ہے ۔ رہی یہ بات کہ صلوۃ کا مقصد کیا ہے ؟ تو دوسرے جملہ نے خود اس کی وضاحت کردی ہے کہ صلوۃ کا مقصد خواہشات کی پیروی نہ کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پیروی کرنا ہے یعنی ان احکامات کے مطابق گزارنا مقصد صلوۃ ہے ۔ ایک آدمی صلوۃ ادا کرے لیکن اپنی خواہشات کی پیروی کرتا رہے تو گویا اس نے صلوۃ کو ضائع کردیا ۔ بلاشبہ آج ہمارے معاشرہ میں صلوۃ ادا نہ کرنے کی بیماری بھی عام ہے لیکن صلوۃ کو ضائع کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ، سینکڑوں میں شاید کوئی ایک ہی ایسا ہوگا جو صلوۃ کو ضائع نہ کردیتا ہو۔ وہ لوگ جن کو یہ تلقین کرنا تھا وہ اپنی صلوۃ کی حفاظت نہیں کر پائے ان کو یہ تو معلوم ہے کہ آنکھیں سرین کی لگام ہیں لیکن آنکھوں کے باقی کاموں کو انہیں نے بالکل فراموش کردیا ہے کہ وہ اور کیا کچھ کرتی ہیں اور یہ بھی کہ انہوں نے سرین پر بیٹھ کر سوجانا عادت میں داخل کرلیا ہے ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک خدا پرست اور غیر خدا پرست میں عملی امتیاز اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ پہلا کسی بندگی میں لگا رہتا ہے اور دوسرا اس سے بےپروا رہتا ہے اس لئے دعا اور عبادت ایمان باللہ کی اصل علامت ہوئی اور اسی لئے تمام مذاہب نے اس عمل پر مذہبی زندگی کی ساری عمارتیں اٹھائیں ، جونہی یہ عمل بگڑا مذہبی زندگی کی ساری بنیادیں ہل گئیں ۔
Ayah 19:60صلوۃ کی ادائیگی کے بعد اس کی اضاعت سے جو باز آگیا اس نے مقصد حاصل کرلیا :
60۔ ہاں ! جس شخص نے سچے دل سے توبہ کی اور صلوۃ کی ادائیگی کے اس کی حفاظت کی اور اس کو ضائع ہونے سے بچایا وہ یقینا اس مقصد کو پاگئے اور دنیا کی زندگی کے بعد وہ اخروی زندگی میں بھی کامیاب وکامران ہوئے اور جنت کو انہوں نے حاصل کرلیا ان کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ ان کی ہمارے ہاں بھی حق تلفی نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنی ہر ایک نیکی کا صلہ ضرور پائیں گے اور انکو ان کے اعمال کے صلہ میں ہمیشگی کے باغ ملیں گے ، یہ رب کریم کا ان سے وعدہ ہے اور اس احکم الحاکمین کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ، بلاشبہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور جنت کا استحقاق ان کے لئے لازم ہے ۔
Ayah 19:61اگرچہ یہ وعدہ ایک ان دیکھی چیز کا ہے لیکن اس کا پورا ہونا لازم ہے :
61۔ جنت بلاشبہ ایک ان دیکھی چیز ہے لیکن یہ انعام جن لوگوں نے حاصل کرلیا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جیت گئے اور پھر یہ ایک ایسی جیت ہے جن کے بعد ہار جانے کا خطرہ جاتا رہا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ اس کا وعدہ فرمایا ہے جو صحیح معنوں میں اس کے بندے ہیں اور انہوں نے وہ محنت کی ہے جس کے صلہ میں جنت کے مستحق قرار پائے ہیں اور استحقاق ایک ایسی چیز ہے جس کا دیا جانا لازم اور ضروری ہے کوئی وعدہ فردا سمجھ کر اس معاملہ میں شک نہ کرے بلا شبہ پروردگار عالم کا وعدہ ایسا ہے جیسے گویا ایک بات وقوع میں آگئی ، رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں ہونے اور ہو چکنے میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ اس کے فیصلے میں تبدیلی کا کوئی گزر نہیں کہ جس کو ابھی ہونا ہے نہ معلوم وہ ہوگا یا نہیں ۔ لیکن افسوس کہ آج مسلمان اس حقیقت کو بہت کم سمجھ پایا ہے یہی پایا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ وہم و گمان سے بہت کم نکل سکا ہے اور شاید دنیا میں کوئی دوسری قوم اس قدر وہم پرست ہو اور جس کو عالم یا مذہبی پیشواکہتے ہیں اس کے ساتھ تو اس کا چولی دامن کا ساتھ ہے آپ ایسا بہت کم دیکھیں گے کہ عالم ہو اور وہم و گمان کا شکار نہ ہو گویا کہ ادرک ہے لیکن ہے بادی ، بنفشہ ہے لیکن نزلہ پیدا کرتا ہے اور زہر ہے لیکن زندگی کا ضامن ہے ۔
Ayah 19:62وہ ایسی زندگی ہے کہ ناشائستہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی :
62۔ یہ گویا جنتی زندگی کی حقیقت بتائی جا رہی ہے کہ جس طرح دنیوی زندگی میں آسائش و آرام حاصل ہوتے ہیں ، بہت ہی واہیات چیزیں بھی ساتھ ہی نکل آتی ہیں اور شوروشغب اور شغل ومیلہ سے انسان کو واسطہ پڑنے لگتا ہے وہاں بلاشبہ عیش و آرام ہوگا لیکن لغو وواہیات باتیں نہیں ہوں گی اس لئے کہ انسانوں سے وہ طاقت ہی رخصت ہوچکی ہوگی جس کے تقاضا سے ایسی باتیں جنم لیتی ہیں ، ہاں جو کچھ انسان سنیں گے وہ سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور صبح وشام ان کو برابر پاکیزہ رزق ملے گا اور اس رزق میں ” اج آن کد آن “ نہیں ہوگا اور نہ ہی ” دب کے واہ تے رج کے کھا “ کی مثل اس پر صادق آئے گی ، وہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کے لئے انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوگی اور وہاں اس کی خواہش کیا ہوگی ؟ اس کی نشاندہی ممکن نہیں کہ وہ ایک ان دیکھی اور ان سنی بات ہے نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ وہاں کچھ ملے گا وہ وہی ہوگا کہ ” مالاعین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر “ پھر اس کی تفہیم کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ۔
Ayah 19:63جنت ایسا ٹھکانا ہے کہ ہم متقین کو اس کا وارث قرار دیتے ہیں ۔
63۔ جنت میں سب سے پہلے کس کو رکھا گیا ؟ وہ آدم ہی تو تھے ، آدم اس جنت سے نکلے تو ان کو بھوک بھی لگی ‘ ننگے بھی ہوئے پیاس بھی محسوس کی اور دھوپ کی تپش سے تکلیف بھی پائی کیوں ؟ اس لئے کہ انہی چیزوں سے نجات کے لئے ان کو جنت میں رکھا گیا چناچہ ارشاد ہوا تھا کہ ” جنت میں تجھے یہ ملے گا کہ اس میں نہ تو بھوکا ہوگا اور نہ ننگا ‘ نہ پیاسا ہوگا اور نہ دھوپ کی تپش اٹھائے گا ۔ “ (طہ) جب وہ جنت سے نکلے تو چار چیزون کی مشقت میں وہ گرفتار ہوئے کھانا ‘ پینا ‘ پہننا اور رہنا یہی انسان کی چار مختصر ضروریات ہیں ان ہی کو اس نے اپنی ہوا ہوس سے پھیلا کر ضروریات کا ایک عالم پیدا کرلیا جس کے مہیا کرنے ‘ ضرورت سے زیادہ حاصل کرنے اور عمدہ بنانے میں اپنی موجودہ زندگی کی تمام تر توجہ کو مصروف کر کے اصل جنت کی طلب سے ہاتھ دھو بیٹھا ، یہیں سے شریعت کی تکلیف عائد ہوئی اور جائز اکل ‘ جائز شرب ‘ جائز لباس اور جائز مسکن کے حصول کے طریقوں کی تعلیم اور ناجائز طریقوں سے احتراز کا حکم ہوا۔ اس سے شریعت کے اصول ، معاملات اور اخلاق انسانی کی ذمہ داریاں پید اہوئیں اور پھر اسی لئے تاکہ حیات فانی میں پھنس کر حیات غیر فانی کی طلب کو وہ بھول نہ جائے ، عرفان الہی اور عبادت الہی اور اطاعت الہی کی تلقین ہوئی جو جنت کی اصل غذا اور روزی ہے اور ” یہی وہ میراث لینے والے ہیں جو سایہ دار باغات کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ۔ “ (المومنون 23 : 10 ، 11) لیکن وراثت انسان کو اپنے اعمال خیر ہی کے ذریعہ ملے گی چناچہ اہل جنت کو جنت میں داخلہ کے وقت یہ بشارت ملے گی ” اس جنت میں وہ کچھ ہے جس کو دل چاہے اور آنکھوں کو لطف ملے اور یہ کہ تم کو اس میں ہمیشہ رہنا ہے اور یہی وہ جنت ہے جس کے وارث اپنے کاموں کے بدلہ میں تم بنائے گئے ۔ “ (الزخرف 43 : 71 ، 72)
اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو منادی غیب یہ آواز دے گا ” کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اپنے کاموں کے بدلہ میں بنائے گئے ۔ “ (الاعراف 7 : 43)
ان آیتوں سے اور ان جیسی اور بہت سی آیتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے انسان کا اصل مقام وہی قرار دیا ہے جہاں نہ بھوک ہے ‘ نہ پیاس ‘ نہ برہنگی اور نہ دھوپ کی تکلیف ‘ جہاں کی بادشاہی لازوال اور جہاں کی زندگی غیر فانی ہے لیکن اس کے حصول کا ذریعہ صرف انسان کا نیک عمل اور صحیح عرفان ہے جن کے مجموعہ کا نام ” تقوی “ ہے اور یہی زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ” سودیکھو یہ جنت ہے جس کا ہم اسے وارث کردیتے ہیں جو ہمارے بندوں میں سے متقی ہوتا ہے ۔ “