2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayah 2:275

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

سود خوار آدمی قیامت کے دن اس طرح اٹھیں گے جس طرح وہ اٹھتا ہے (ف 2) جسے جن نے لپٹ کے خبطی بنا دیا ہو ، یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا کہ سودا کرنا بھی تو سود ہی جیسا ہے حالانکہ خدا نے سودا حلال کیا ہے اور سود حرام کیا ہے پھر جس کے پاس اس کے رب کی نصیحت پہنچ گئی اور وہ (سود کھانے سے) باز آیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے ‘ وہ اس کا ہوا اور حکم اس کا خدا کی طرف ہے اور جو کوئی پھر (سود) لے تو ایسے ہی لوگ دوزخ ہیں وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ (ف 1)

سود خوار کی حالت نفسی : (ف 2) انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے بعد سود کی حرمت کا ذکر کیا ، تاکہ معلوم ہو کہ سود خوری باہمی تعاون کے جذبے کو روک دیتی ہے اور سود خواری کے جواز کے معنی انسانی ہمدردی سے فقدان وضیاع کے ہیں ۔ ان آیات میں نہایت بلیغ انداز سے سود خوار کی حالت نفسی کی تشریح کی ہے کہ وہ اس طرح فنا فی المال رہتے ہیں جس طرح کوئی آسیب کی لپیٹ میں آگیا ہو ، ایک ہی دھن ہے اور ایک ہی خیال یعنی وہ حرص وآز کے اس درجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں دماغی توازن برقرار نہیں رہتا ، گویا ان کا دماغ بجز سرمایہ کے کسی چیز پر غور کرنے کا اہل نہیں ، آپ دیکھیں گے قرآن کریم نے کس درجہ سچی تصویر پیش کی ہے ، سود خوار مہاجن اور یہودی صحیح معنوں میں مسرت وسعادت سے محروم رہتا ہے ، وہ گو دولت کے خزانے جمع کرلیتا ہے ، مگر طمانیت قلب جو صرف قناعت سے حاصل ہوتی ہے کھو بیٹھتا ہے ، وہ ہر وقت ایک سوچ اور فکر میں ڈوبا رہتا ہے ، اس کے لئے ” آسامی “ کا وجود ہی ایک معصیت رہ جاتا ہے ، وہ سوچتا رہتا ہے کہیں اسامی مر نہ جائے ، کہیں دیوالہ نہ نکال دے ، غریبوں کے خون میں ہاتھ رنگنا اس کے لئے بہترین مشغلہ ہے وہ دوسروں کے لئے روپیہ ضرور جمع کرجاتا ہے ، مگر اپنے لئے اس کے پاس سوائے کفاف وخساست اور کچھ نہیں ہوتا ۔ کیا یہ جنون نہیں ؟ سود اور تجارت : (ف 1) اور یہ خرابی اس لئے پیدا ہوئی کہ تجارت وسود میں جو فرق تھا وہ نظر انداز کردیا گیا ، خدا نے تجارت کی تو اجازت دی ہے مگر سود کو حرام قرار دیا ہے ، اس لئے کہ اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور انسان اپنے بہترین جوہر تعاون کو کھو دیتا ہے ۔
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

خدا سود کو گھٹاتا اور خیرات کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکر گنہگار کو پسند نہیں کرتا (ف 2)

یمحق اللہ الربوا : (ف 2) اس آیت اک ایک سیدھا سادا مفہوم تو یہ ہے ربو یا سود میں برکت نہیں ہوتی اور صدقات میں خدا اضافہ ونمود کی استعداد پیدا کردیتا ہے یعنی سود خوار کا مال بالآخر برباد ہوتا ہے ، اس کی نالائق اولاد اہل اور عیاش ہوجاتی ہے ، جس سے مال و دولت جو محنت سے جمع کیا جاتا ہے ، سرعت سے برباد ہوجاتا ہے ، بخلاف مرد مومن کے جو اپنا منتہائے نظر بلند اور وسیع رکھتا ہے ، اس کے مال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اس کی اولاد صالح ہوتی ہے ، وہ دیکھتی ہے ہمارا والد کس درجہ اصالح تھا ، وہ اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہے ، اس لئے کہ ان کا باپ ان کے لئے ایک بہترین اسوہ حیات چھوڑ کر مرتا ہے ، وہ مال و دولت کے ڈھیر گو اولاد کو سونپ کر نہیں جاتا ، مگر اخلاق وسادات کا متاع گرانمایہ وہ ضرور اولاد کے ہاتھوں میں دے جاتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی سنوار لیتے ہیں ، اس سے زیادہ برکت وسعادت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ دوسرا مفہوم ذرا زیادہ دقیق ہے اور وہ یہ ہے کہ سود سے اصل سرمایہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور قوم کے لئے یہ خسران مبین کا باعث ہوتا ہے ، اقتصادیات کا یہ اصول ہے کہ دولت میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے ، جب اسے زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے ، اور سود سے روپیہ بجائے پھیلنے کے چند ہاتھوں میں سمٹ کے رہ جاتا ہے ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کی تمدنی ترقی رک جاتی ہے ، بخلاف اس کے اگر تعاونی جذبات کی ترقی ہو ، روپیہ محدود ہاتھوں میں نہ رہے اور پھیلتا رہے تو قوم کے سرمایہ میں اضافہ ہوگا ۔ دیکھئے قرآن حکیم نے کس خوب صورتی سے سرمایہ کے مسئلہ کو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے حل کردیا ہے ، (آیت) ” فھل من مدکر “۔ حل لغات : سلف : گزر چکا ۔ یمحق : مٹاتا ۔ یربی : بڑھانا ۔
Ayahs 2:277–279

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور نماز قائم رکھی اور زکوۃ دی ، انہیں ان کے رب کے پاس سے بدلہ ملے گا ، اور نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ،

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مومنو ! اللہ سے ڈرو اور جو سود (کسی کے پاس) باقی رہ گیا ہے ، اسے چھوڑ دو ، اگر تم مومن ہو ۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر اگر تم ایسا نہ کر وتو خبردار ہوجاؤ (یعنی تیار ہوجاؤ ) اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑنے (ف 1) کو اور اگر توبہ کرو تو تم کو تمہارے اصل مال ملیں گے نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر ۔

سود خوار سے اعلان جنگ : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ مسلمان تحریم سے پیشتر کے سودی معاہدات توڑ دیں اور اصل مال لے لینے پر اکتفا کریں ، ورنہ خدا سے اعلان جنگ ہے ، سود خوار قومیں صحیح مذہبی روح سے قطعا خالی ہوتی ہیں ، یہودیوں کی ساری تاریخ سامنے ہے کیا کبھی انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا ہے ؟ یہ حقیقت ہے کہ سرمایہ کی محبت اور خدا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی ۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر کوئی شخص تنگی میں سے تو اس کو تونگری تک مہلت دینا چاہئے ، اور اگر تم خیرات کرو تو تمہارا بھلا ہے ، اگر تم سمجھ دار ہو (ف 2)

رحم دل مسلمان : (ف 2) اس سے پہلے کی آیت میں اصل مال لینے کی اجازت دی تھی اور فرمایا تھا کہ (آیت) ” لا تظلمون ولا تظلمون “ یعنی مسلمان نہ تو بحیثیت ظالم کے اللہ کو پسند ہے اور نہ بحیثیت مظلوم کے ، نہ تو وہ اپنا نقصان کرے ‘ نہ دوسرے کا ، یعنی جس طرح ظالم بننا اور سود لینا گناہ ہے ‘ بالکل اس کے متوازی سود دینا گناہ ہے ، کیونکہ مسلمان کو عادل اور ایک بہترین نمونہ بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس کی زندگی کا مقصد دوسروں سے کہیں بلند ہے ، وہ اس لئے دنیا میں آیا ہے کہ خیر محض کا درس دے اور اپنے اعمال سے دوسروں کے لئے ایک ممتاز شاہراہ قائم کرے ، یہی وجہ ہے کہ اسے معاملات میں نہایت صالح رہنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اسے کہا گیا ہے کہ حسن معاملہ بھی نصف دین ہے ، اس آیت میں فرمایا کہ اگر روس اموال واپس میں کرنے میں انہیں دقت ہو تو تم فراغت و کشائش تک انتظار کرو ۔ یعنی اسے موقع دو کہ وہ بآسانی قرض اتار دے ، مقروض کو تنگ کرنا مسلمان کے بلند اخلاق کے منافی ہے اور معاف کردینا تو بہت زیادہ بہتر ہے ، (آیت) ” ان کنتم تعلمون “۔ میں اشارہ ہے اس روحانی لذت کی طرف جو معاف کردینے کے بعد مسلمان کو حاصل ہوتی ہے اور اس اجر عظیم کی طرف جس کا وہ مستحق ہوجاتا ہے ۔ اس آیت میں جس رحم دل مگر سرمایہ دار مسلمان کا تخیل خدا نے پیش کیا ہے وہ دنیا کے لئے درجہ عافیت پسند اور مفید ہو سکتا ہے کیا ان ہدایات کے بعد بھی کسی دوسری تعلیم کی ضرورت باقی رہتی ہے ۔ حل لغات : رء وس اموالکم : اصل مال ۔ ذوعسرۃ : تنگ دست ۔ میسرۃ : فراغت ۔
Ayahs 2:281–282

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تم خدا کی طرف واپس جاؤ گے ، پھر ہر کسی کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مومنو ! جب تم میعاد مقررہ تک آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ دو (ف 1) اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی کاتب انصاف سے لکھے ، اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے ‘ جیسا خدا نے اسے سکھایا ہے ، سو وہی ہی لکھے اور لکھاوے اور جس پر حق ہے اور اللہ سے جو اس کا رب ہے ڈرے اور اس میں سے کچھ نہ گھٹاوے پھر جس پر حق ہے اگر وہ بیوقوف یا ضعیف ہو یا وہ خود لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی انصاف سے املا بتائے (یعنی لکھاتا جائے) اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کرلیا کرو ۔ اور جو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ، جن کو تم گواہوں میں پسند کرو ، اور یہ اس لئے میں پسند کرو ۔ اور یہ اس لئے کہ اگر ایک عورت بھول جائے تو وہ دوسری اسے یاد دلا دے ۔ (ف 2) اور جب گواہ بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور اس کے لکھنے میں سستی نہ کرو ، چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا ، اس کے وعدہ تک ، اس میں خدا کے نزدیک خوب انصاف ہے اور گواہی کے لئے خوب پختگی اور زیادہ قریب ہے ، کہ تم شک میں نہ پڑو ، البتہ اگر روبرو کا سودا ہو کہ لیتے دیتے ہو اس کو آپس میں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اس کو نہ لکھو اور جب لین دین کرو تو گواہ بنا لیا کرو ، اور چاہئے کہ کاتب اور گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے ، اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تم میں گناہ کی بات ہے اور خدا سے ڈرو اور خدا تم کو سکھلاتا ہے اور خدا ہر بات سے واقف (ف 3) ہے ۔

حساب میں باقاعدگی : (ف 1) قرآن حکیم ایک ایسا مکمل دستور العمل ہے کہ اس کی ہدایات ہر طرح ضروریات انسانی کے لئے کفیل ہیں ، اس میں معاملات کی جزئیات تک جو ضروری ہیں ۔ مکمل ومفصل بیان کردی گئی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی عمل کرے ‘ فائدہ اٹھائے ، یہ دودھ ہے خالص ‘ جو پئے گا ، قوت و توانائی کرے گا ۔ عام طور پر مسلمان کے متعلق خیال یہ ہے کہ وہ روزانہ معاملات میں نہایت بےضابطہ ہوتا ہے اور اس بےضابطی کی وجہ سے اکچر نقصان بھی اٹھاتا ہے ، اخیار اس کی سادگی اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں ، مگر یہ ہے کہ کبھی قرآن حکیم اٹھا کر نہیں دیکھتا کہ اس نسخہ کیمیا میں اس کے لئے کیا کیا قیمتی پندونصائح درج ہیں اور یہ کہ قرآن حکیم کے اوراق میں اس کو کس قسم کا مسلمان بننے کی ہدایت کی گئی ہے ، قرآن حکیم جس نوع کا مسلمان پیش کرتا ہے ‘ اور نہایت دانا ‘ یرک اور محتاط ہے ، وہ بذریعہ غایت باضابطہ اور بااصول ہے ، وہ کبھی دوسروں کو دھوکا نہیں دیتا اور نہ خود دھوکا کھاتا ہے اس کا حساب متعین اور صاف ہوتا ہے ، وہ کبھی بےاصولی بات نہیں کہتا چناچہ اسے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے : ۔ 1۔ لین دین کے معاملہ میں باقاعدہ حساب رکھے ۔ 2۔ کاتب یعنی لکھنے والا عدل و انصاف سے کام لے اور فریقین میں سے کسی کو بھی گھاٹے میں رکھنے کی کوشش نہ کرے ۔ 3۔ دستاویز کی عبارت وہ لکھائے جو لے رہا ہے ، کیونکہ جھگڑے کے وقت اسی کی شہادت معتبر ہوگی ۔ 4۔ اگر خود معاملہ فہم نہ ہو تو اس کے ولی لکھائیں ، مگر ایمان اور دیانت کا خیال رہے ۔ 5۔ دو گواہ ہوں مرد ، اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ، تاکہ اگر ایک کو بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے ۔ مرد افضل ہے یا عورت ؟ (ف 2) اسلام نے عورت کے درجہ ومنصب کی تعیین میں کوئی مبالغہ نہیں کیا ، اس کے نزدیک عورت ہر اس اعزاز کی مستحق ہے جو مردوں کا حصہ ہے ، اس کے نزدیک دونوں کے دائرہ حیات الگ الگ ہیں ، دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے رفیق ، وہ نفس وروح کے لحاظ سے دونوں میں سے کسی کو بھی فضیلت نہیں دیتا ۔ البتہ وہ کہتا ہے ، مرد بعض ذمہ داریوں کی وجہ سے قوام ہے اور عورت نہیں ، مرد عقل وفرزانگی میں عورت سے آگے ہے اور عورت جذبات وخواطر میں ۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر جدید علمائے نفسیات وتشریح کا کلی اتفاق ہے ، ایک مرد کا بھیجا ایک عورت کے بھیجے سے زیادہ وزنی ہوتا ہے ۔ ہاں وہ یہ کہتے کہ عورت کو بھی اگر مرد کی طرح آزاد کردیا جائے تو وہ ایک صدی کے بعد مرد کے برابر عقل مند ہوجائے گی اور جذبات اس میں کم ہوتے جائیں گے ، مگر سوال یہ ہے کہ آزادی کے بعد عورت اپنی دوسری نسوانی خصوصیات کھو بیٹھے گی اور جب تک اس کا بھیجا مرد کے برابر ہو ، مجلس کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، اس لئے ضروری ہے کہ اسے فطرت کی حدود کے اندر رکھا جائے ، خدا جانے ان لوگوں کس نے بتا دیا ہے کہ تنہا عقل وفرزانگی معیار فضیلت ہے جس کے لئے تمام دوسری خوبصورتیوں کو قربان کردیا جائے ، کیا پاکیزہ جذبات کی اتنی بھی ضرورت نہیں ، جتنی کہ عقل کی ، کیا خشک پروفیسری اور معلمی کے سلیقے سے بچوں کی تربیت کے جذبات زیادہ قابل قدر نہیں ؟ کیا ماں بننا لائق فخر نہیں ؟ کیا بیوی ہونا سہل ہے ؟ یعنی ان جذبات سے جو فطرت انسان کا لاریب حسن ہیں ، قطع نظر کی جاسکتی ہے ؟ یہ ٹھیک ہے عقل و تجربہ میں مرد بڑھا ہوا ہے ، مگر دنیا کی مسرتوں میں اضافہ کرنے میں عورت برابر کی شریک نہیں ؟ مرد صرف اس لئے اچھا پڑتا ہے کہ وہ عورت سے زیادہ عقل مند ہے اور عورت یہ سن کر ملول ہوجاتی ہے کہ وہ عقلی لحاظ سے مرد سے بالمعموم پیچھے ہے ، حالانکہ اس سے علاوہ بھی وجہ فضیلت تلاش کی جاسکتی ہیں ، اور اس کا فیصلہ کرنا سخت دشوار ہے کہ دنیا کو عقل کی ضرورت زیادہ ہے یا جذبہ کی ، اور جب تک اس کا فیصلہ نہ کرلیا جائے ، مرد کو کفی افضل قرار دینا مشکل ہے ۔ اسلام جو فطرت کا دوسرا نام ہے ‘ وہ کسی طرح بھی دونوں کو دھوکا میں نہیں رکھنا چاہتا ، وہ صاف صاف بتا دیتا ہے کہ مرد اور عورت میں کیا فرق ہے اور معاملات میں ان کو کیا درجہ دیا جائے ؟ اس آیت میں ایک مرد کے مقابلہ میں دو عورتوں کو رکھا ہے ، اس لئے کہ یہاں سوال بالکل برابری کا نہیں ‘ معاملات کا ہے اور عورتیں معاملات میں زیادہ ہشیار نہیں ہوتیں ، ان کے دوسرے مشاغل انہیں ان جھنجٹوں میں پھنسنے کی اجازت نہیں دیتے ، اس لئے شہادت میں بجائے ایک عورت کے دو کو رکھا ، تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے ، کتنا صحیح اور فطری فیصلہ ہے ۔ ان آیات میں بتایا ہے کہ مسلمان نہایت محتاط اور باضابطہ ہے چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بھی تساہل نہ کرے اور لکھ لے ، اس سے آئندہ جھگڑے کا امکان نہیں ہے ، البتہ اگر لین میں قرض وسودا سلف کا ذکر نہیں تو نہ لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ (ف 3) گواہوں کو اور لکھنے والوں کو بےایمانی اور تخریف پر مجبور نہ کیا جائے ، کیونکہ ایسا کرنا خود فسق میں مبتلا ہونا ہے ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ کے معنی یہ ہیں کہ معاملات میں صفائی اور پاکیزگی ہی اتقاء ہے اور وہ لوگ جو دینداری کا مفہوم یہ سمجھتے ہیں کہ ظواہر کو ادا کریں اور معاملات کی پرواہ نہ کریں ‘ وہ غلطی پر ہیں ۔ حل لغات : تداینتم : مصدر تداین ، قرض لینا دینا ۔ اشتقاق دین سے بمعنی قرض ۔ یملل : مصدر اضلال ، لکھانا ۔ قسئموا : مادہ سامۃ اکتا جانا ۔ اقسط : مادہ قسط زیادہ قرین انصاف ۔ اقوم : زیادہ درست ۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن ہاتھ میں رکھ لو (ف 2) ، پھر اگر ایک دوسرے کا اعتبار کرے تو چاہئے کہ وہ شخص جس پر اعتبار کیا گیا ہے اس کی امانت اس کو ادا کرے اور اللہ سے ڈرے ۔ جو اس کا رب ہے ، اور تم گواہی کو نہ چھپاؤ اور جس نے گواہی کو چھپایا ، اس کا دل گنہگار ہے ، اور خدا تمہارے کام خوب جانتا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں رہن کی اجازت دی ہے ، اس لئے ناواقفی کے وقت اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔ البتہ یہ ہدایت کی ہے کہ اگر یونہی اعتبار پر کوئی شخص قرض دے دے تو مدیون کو چاہئے کہ اس کے حسن سلوک کا خیال رکھے اور اس کی پائی پائی چکا دے ۔ اس کے بعد عام ہدایت ہے کہ کتمان شہادت اسلام میں درست و جائز نہیں کیونکہ اس سے باہمی اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ حل لغات : اثم : مصدر اثم ، مجرم ۔ اثم : بمعنی گناہ ۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کا ہے اور اگر تم اپنے دل کی بات کھولو یا چھپاؤ ، اس کا حساب اللہ تم سے لے گا ، پھر جسے چاہے گا ، بخشے گا اور جسے چاہے گا ، عذاب کرے گا اور خدا ہر شے پر قادر ہے (ف 1) ۔

محاسبہ نفس : (ف 1) اس سے پہلے کی آیات میں کتمان شہادت سے منع فرمایا اور بتایا کہ ہر دھوکے اور فریب سے بچو ، اس آیت میں اعلان کیا ہے کہ دوسروں کے متعلق برے خیالات رکھنا بھی موجب گناہ ہے یعنی مسلمان کو اعمال وجوارح سے لے کر قلب و خیال کی گہرائیوں تک پاکیزہ ہونا چاہئے ، مطلب صاف اور واضح ہے مگر چونکہ اس کے بعد ہی (آیت) ” لا یکلف اللہ نفس الا وسعھا “ کی آیت ہے یعنی خدا تکلیف مالایطاق نہیں دیتا ، اور حدیث میں آتا ہے کہ ” ان اللہ غفر لھذہ الامۃ ما حدثت بہ انفسھم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس امت پر فضل کیا ہے کہ وساوس کو قابل عضو ٹھہرایا ہے ، اس لئے شبہ پیدا ہوا کہ پھر نفس کے خیالات و افکار پر محاسبہ کیسا ؟ بعض نے اس کی تاویل یہ فرمائی کہ اس سے مراد کتمان شہادت ہے بعض نے فرمایا ، اس کا مقصد کفر ونفاق کا خیال ہے ، کہا یہ منسوخ ہے آیت ما بعد سے مگر اگر غور کیا جائے اور خیال وفکر کے نتائج پر نظر معان نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک حقیقت نفسی ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور کسی آیت وحدیث سے معنا اس کا تصادم نہیں ہوتا ، اس لئے تخصیص اور تنسیخ کا سوال ہی غلط ہے ، دماغ وقلب میں جتنے خیالات وجذبات پیدا ہوتے ہیں ان کا اثر ہوتا ہے جو بعض دفعہ نہایت لطیف وکمزور ہونے کی وجہ سے جوارح تک منتقل نہیں ہوتا ، اور نفس کی اگر تحلیل کی جائے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خیالات و افکار میں محاسبہ کا عمل کار فرما ہے ، چھوٹے سے چھوٹا خیال جو برا ہو ‘ وہ بلا ذہنی تعزیر کے نہیں رہتا ، اسی طرح اچھا خیال وجذبہ ذہن کے لئے باعث مسرت ہوتا ہے ، کیا یہ حقیقت نہیں کہ تمام برے اعمال برے خیالات کا نتیجہ ہوتے ہیں اور کیا برائی برے خیال کی عملی سزا نہیں ؟ اس آیت میں اسی نفسیاتی اصول محاسبہ کو بیان فرمایا ہے اور مقصد یہ ہے کہ مسلمان جذبہ تاثر کے لحاظ سے بھی بہترین انسان ثابت ہو ۔ حدیث وآیت ما بعد کا تعلق اس نفس محاسبہ سے نہیں ، بلکہ اس محاسبہ سے ہے تو قضا یا خارج سے تعلق رکھتا ہے یعنی کسی چور کو محض اس لئے سزا نہیں دی جائے گی کہ اس کے دل میں چوری کے خیالات ہیں ، بلکہ اس وقت وہ سزا کا مستحق ہوگا ، جب یہ خیالات اسے چوری کے لئے مجبور کردیں ، البتہ خدا کے نزدیک اسے پاکیزہ دماغ اور پاکیزہ نفس انسان نہیں کہا جاسکے گا اور ایسے انسان میں جس کے دل میں چوری کا کوئی خیال نہیں ، یقینا زیادہ فضیلت ہے ۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول ﷺ نے اور مسلمانوں نے اس بات کو مان لیا ، جو کچھ اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوا ہے ، سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں (ان کا اقرار ہے) کہ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور قبول کیا اے رب ہمارے ہم کو تیری بخشش چاہیے اور تیری طرف جانا ہے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ ان حقائق پر جو اس سورة میں بیان کئے گئے ہیں ، سب ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان حق وصداقت کا اس درجہ شیدائی ہے کہ بلاتفریق احد دوسرے ہر پیغمبر کو ماننا ہے ، اس کا شیوہ انکار وتمرد نہیں ، سمع و اطاعت ہے ، وہ ہر وقت خدا کی بخشش ورحمت کا جویاں رہتا ہے اور حق کے قبول کرنے میں کوئی تعصب اس کے حائل نہیں ہوتا ۔ حل لغات : المصیر : انجام ۔
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

خدا کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ، اس کی کمائی کا فائدہ اور نقصان اسی کے لئے ہے ، اے رب ہمارے ۔ اگر ہم بھول گئے یا ہم نے خطا کی تو ہم کو نہ پکڑ اور اے ہمارے رب ! ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ ‘ جیسے اگلوں پرتو نے بوجھ رکھا ، اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا ‘ جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے اور ہم سے درگزر کر ۔ اور ہمیں بخش دے ، اور ہم پر رحم کر ، تو ہمارا آقا ہے ۔ ہمیں کافر قوم پر مدد دے (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں مسلمانوں کو ایک نہایت ہی عجیب دعا سکھائی گئی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان تمام گمراہیوں اور لغزشوں سے بچے جن کی وجہ سے پہلی قومیں ہلاک ہوئیں یعنی وہ خطاء نسیان سے بچے ، خواہ مخواہ تعمق کی وجہ سے مصائب کے بوجھ کر اپنے سر پر نہ لاوے جیسے پہلی قوموں نے کیا اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے نصرت وعفو کا طالب رہے اور کوشش کرے کہ طاقت وقوت میں کفر اس سے بازی نہ لے جائے ۔