2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayahs 2:121–124

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن کو ہم نے کتاب دی وہ اس کو جیسے پڑھنا چاہئیے ، پڑھتے ہیں ، وہی اس پر ایمان لاتے ہیں ، اور جو اس کے منکر ہیں ‘ وہی خسارہ میں ہیں ۔

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل میرے فضل کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیا ہے ، اور میں نے تمہیں سارے جہان پر فضیلت (بڑائی) دی ہے ۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو کہ کوئی (منکر) کسی (منکر) کے کچھ کام نہ آئے گا ، نہ اس کا فدیہ (بدلہ) قبول ہوگا ، نہ کوئی شفاعت کام آئے گی اور نہ ان کو مدد پہنچے گی ۔

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے وہ باتیں پوری کیں ، تب خدا نے کہا کہ بیشک میں تجھے سارے آدمیوں کا امام (ف 1) (پیشوا) بناؤں گا ، اس نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ۔

منصب امام و نبوت : (ف 1) ان آیات میں تین باتیں بتائی ہیں ۔ حضرت ابراہیم کا ابتلا ، امامت کی خوشخبری ، حضرت ابراہیم کا مطالبہ اور اس کا جواب ابتلا کے متعلق حضرت ابن عباس کا خیال ہے کہ وہ دس خصائل ہیں جنہیں فطرت انسانی کی اصلاح سے گہرا تعلق ہے اور حضڑت ابراہیم ان میں کامیاب نکلے ۔ یعنی ان پر پوری طرح عمل کیا ، دس باتیں یہ ہیں ۔ (1) کلی کرنا (2) ناک میں پانی دینا (3) کنگھار کرنا (4) مونچھیں تراشوانا (5) مسواک کا استعمال کرنا (6) ختنہ کرانا (7) بغل کو صاف رکھنا (8) بال زیر ناف صاف کرنا (9) ناخن کٹوانا (10) اور پانی سے طہارت کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ حضرت ابراہیم فطرت کے قوانین کو سمجھتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو امامت کی خوش خبری سنائی ۔ امامت سے مراد وہ امامت ہے جو نبوت کے مترادف ہے اس لیے کہ نبی کہتے ہی ایک کامل اور جامع امام کو ہیں جسے اللہ لوگوں کی اصلاح کے لیے مامور فرمائے ۔ حضرت ابراہیم نے درخواست کی کہ خدایا یہ منصب و نبوت میری اولاد میں رہے یعنی میری اولاد کو بھی توفیق دے کہ وہ تیرے نام کی اشاعت کریں اور تیرے دین کو چار دانگ عالم میں پھیلائیں ۔ اللہ نے جواب دیا ، نبوت و امامت ایسی شیے نہیں جو وراثۃ خاندانوں میں منقتل ہوتی رہے ۔ نبوت کے لیے ایک خاص استعداد ، ایک خاص کردار اور ایک خاص دل و دماغ کی ضرورت ہے ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کا ارادہ بھی ہو ، صرف کمالات نبوت کا جمیع ہوجانا کافی نہیں ۔ اس لیے جو لوگ تیری اولاد میں ہمارے معیار انتخاب میں آئیں گے ، وہ تو لئیے جاسکیں گے لیکن ضڑوری نہیں کہ ہر شخص کو عہد نبوت سے سرفراز کیا جائے ، وہ جو ظالم ہیں قطعا محروم رہیں گے ۔ قرآن حکیم میں انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، وہ یہ ہیں یصطفی ، یجتبی ، ارسل یعنی ایک خاص انتخاب ہے ، اور ایک خاص عنایت ، یعنی نبوت اکتسابی نہیں ، کہ جدو جہد اور حسن عمل سے حاصل ہوسکے ، بلکہ وہی ہے ، یعنی خدا کی بخشش ، گویا درست ہے کہ انبیا کا عمل نبوت سے پہلے حسن و خوبی اور کمال و جامعیت کا بہترین نمونہ ہوتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر نیک اور صالح شخص نبی قرار پائے ۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور جب ہم نے خانہ (کعبہ) کو لوگوں کے لئے جمع ہونے (ثواب) (ف 2) کی جگہ اور پناہ گاہ بنایا اور (کہا کہ) مقام ابراہیم (علیہ السلام) کی نماز کی جگہ بنا ؤ ، اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ دونوں میرے گھر کو طواف والوں اور رکوع اور سجود والوں کے لئے (بتوں سے) پاک کر رکھو ۔

کائنات کا مرکز عبادت : (ف 2) مثابۃ کے معنی مرجع عام اور جاذب مرکز کے ہیں جس طرف لوگ کسی مضبوط تعلق کی وجہ سے کھینچے آئیں ، اسلام کی صداقت کی بہت بڑی دلیل اس کی ہمہ گیری جاذبیت بھی ہے ، اور جذب و کشش کا سب سے بڑا مرکز بیت اللہ ہے ، آج سے کئی ہزار سال پہلے دانیال نبی نے بطور مکاشفہ کہا تھا میں آسمان سے نیا یروشلم اترتا ہوا دیکھتا ہوں ۔ حضرت ابراہیم نے کئی سو سال پہلے وادی غیر ذی زرع میں بےآب وگیاہ زمین میں اللہ کا ایک گھر بنایا اور دعا کی ، فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم کہ ساری کائنات کے دل اللہ کے اس گھر کے ساتھ وابستہ ہو یہ امن وسعادت کا بہت بڑا مقام قرار پائے ۔ یہاں کے لوگ دنیوی لذائذ وثمرات سے ہمیشہ متمع رہیں ، دیکھو یہ دعا کس درجہ قبول ہوئی ، لوگ دور دراز سفر طے کر کے جاتے ہیں کارواں در کارواں روانہ ہوتے ہیں ، مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک کوئی قطعہ ارض ایسا نہیں جہاں دعوت ابراہیمی پر لبیک نہ کہا جاتا ہو ، یہ مرکزیت عالم زائرین کا یہ عظیم و مقدس ہجوم جس کا مقصد طواف و عکوف اور رکوع و سجود کے سوا کچھ نہیں کیا کسی اور جگہ بھی ہے ؟ ان آیات میں یہ دکھانا بھی مقصود ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) جن کی تم سب مشترکہ عزت کرتے ہو ان کے صحیح جانشین ہم ہیں واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی پر ہمارے سوا کون عامل ہے اور یہ کہ خدا کے پرستاروں کی یہ جماعت موحدین کا یہ گروہ یقینا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا نتیجہ ہے اس لیے اسے درخور اعتنا نہ سمجھیں اور باطل جاننا درست نہیں ۔ حل لغات : امام : قائد ، قابل پیروی شخص مثابۃ : مرجع عام ، مرکز ، معبد مصلی : جائے نماز ، عھدنا : مادہ عھد ، معنی حفظ الشیئ و مراعاتہ حالا بعد حال یعنی کسی شے کی مسلسل و پیہم حفاظت کرنا یہاں مراد قابل رعایت و عمل حکم ہے ۔
Ayahs 2:126–127

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ اے رب اس شہر (مکہ) کو امن گاہ بنا اور اس کے باشندوں میں سے ان لوگوں کو جو آخری دن پر ایمان لائے ہیں میوے کھلا ، تب خدا نے فرمایا کہ جو کوئی کفر کرے اس کو بھی میں تھوڑے دنوں تک فائدہ پہنچاؤں گا پھر ساے دوزخ کے عذاب میں بےبس کر کے بلاؤں گا اور وہ برا ٹھکانا ہے ۔

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو کہتے تھے) اے رب ہماری طرف سے قبول کر ، اور تو ہی سنتا اور جانتا ہے ۔ (ف 1)

خلوص کا پھل : (1) ابراہیم (علیہ السلام) جس وقت تعمیر کعبہ میں مصروف تھے ان کے منہ سے جو کلمات نکل رہے تھے وہ یہ تھے کہ ربنا تقبل منا یعنی اے خدا ہمارے خلوص و ایثار کو قبول فرما ، گو وہ نہیں جانتے تھے کہ کعبہ کی تعمیر ایک قوم و ملت کی تعمیر ہے ، انسنایت کے مرکز عظمی کی بنیدیں ہیں جو رکھی جارہی ہیں ، لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ حضرت ابراہیم کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات قبولیت کا خلعت فاخرہ پہنیں ، تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ خلوص کی خدا کے نزدیک کیا قیمت ہے ۔ یہ محض فریب نفس ہے کہ مخلص انسان کی قدر نہیں ہوتی ، یہ خدا کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف ہے ، خدا کے نزدیک خلوص اور صرف خلوص ایسی چیز ہے جو اجر کے قابل ہے ۔ دیکھو حضرت ابراہیم ایسے وقت میں جو بالکل غیر تاریخی زمانہ ہے ایسی جگہ پر جو اپنے اندر کوئی جاذبیت نہیں رکھتی ، ایک اللہ کا گھر بناتے ہیں جو آخر میں مرجع انام بن جاتا ہے ۔ کیا یہ صرف ابراہیم (علیہ السلام) کے خلوص کا نتیجہ نہیں ۔ قبولیت کے لیے ظاہری اذرات اور ذرائع کی قطعا ضرورت نہیں اخبار و رسائل یا محراب و منبر گو اس وقت شہرت کا ایک کامیاب ذریعہ ہیں لیکن اللہ کے نزدیک اس نوع کی شہرت جس میں خلوص و حسن نیت نہ ہو ۔ وبال ایمان ہے ، ایک اللہ کا بندہ شہروں سے دور جنگلوں میں اگر خلوص و حسن نیت کے ساتھ کہیں ڈیرہ ڈال کے بیٹھ جائے تو تم آج بھی دیکھ لو گے کہ شہر اور شہر کے تمام اسباب شہرت اس کے قدم چومیں گے اور جنگل میں منگل کا لطف پیدا ہوجائے گا ۔ بات یہ ہے کہ ہم مخلص نہیں اور پھر یہ گلہ بھی ہے کہ کوششیں رائیگاں جاتی ہیں ربنا تقبل منا کا منظر اگر آج بھی دیکھنا ہو تو ابراہیمی ذوق و شوق پیدا کرو ۔ حل لغات : قواعد : بنیادیں ، اساس مناسک : جمع منسک ، احکام و آداب
Ayahs 2:128–129

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اور اے ہمارے رب تو ہم دونوں کو اپنے لیے (مسلمان) فرمانبردار رہنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت (نکال) اور ہمیں ہماری عبادت کا طریق سکھلا اور ہمیں بخش دے کیونکہ تو ہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور ان کے بیچ انہیں میں سے ایک رسول اٹھا جو تیری آیتیں ان پر پڑھے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں سنوارے ، تو ہی زبردست حکمت والا (پختہ کار) ہے ۔ (ف 1)

دعائے خلیل اور نوید مسیحا : (ف 1) حضرت ابراہیم نے سات دعائیں اللہ سے کیں ۔ (1) رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا (2) وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ (3) رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا (4) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ (5) وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا (6) وَتُبْ عَلَيْنَا (7) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا ۔ پہلی دعا بلد امین کے متعلق ہے ۔ دوسری وہاں کے رہنے والوں کے لیے ، تیسری میں قبولیت کے لیے استدعا ہے ، چوتھی میں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اسلام و اخلاص طلب کیا ۔ پانچویں میں مناسک و احکام کی تشریح چاہی ہے ، چھٹی میں توبہ و رحمت کی درخواست کی ہے اور ساتویں میں فرمایا کہ اللہ ان میں ایک ایسا شان دار رسول بھی جو تیرے احکام انہیں سنائے ۔ جو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور جو ان کے دلوں اور دماغوں کو پاک اور بلند کردے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب چھ کی چھ دعائیں قبول ہوگئیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو ۔ پھر ساتویں کیوں قبول نہیں ہوئی ، قرآن مجید کہتا ہے یہ بھی قبول ہوئی ، بلد حرام کو کس نے حرمت بخشی ، تین سو ساٹھ بتوں کو نکال کر کس نے خدا کے گھر میں عبادت کی اور وہ کون ہے جس نے بیت اللہ کو ، شوکت کا گھر ، بنایا جس نے ساری دنیا کے لیے اسے مفید قرار دیا اور جس نے کائنات کے ہر انسنا کو اس کے آستانہ جلال پر جھکا دیا ، جواب ملے گا کہ محمد ﷺ ، پھر یہ بھی دیکھو کہ اللہ کی آیات کون دکھاتا ہے ، کون خدا کے کلمے پڑھ پڑھ کر سناتا ہے ، کتاب و حکمت کے دریا کون بہاتا ہے اور کون ہے جو دلوں اور دماغوں کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ مذکر و معلم اس کے سوا کون ہے جس نے حضرت ابراہیم کی طرح مکہ جیسی زمین کو دعوت و اشاعت کا مرکز بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کو ماننے لگے ، قبولیت عامہ کا یہ فخر کیا فریب کار اور جھوٹوں کو بھی دیا جاتا ہے جس طرح کعبہ تمام معاہد ارضی کا مرکز ہے اسی طرح محمد ﷺ ساری کائنات کا آخری فقط عقیدت و محبت ہے ۔
Ayah 2:130

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

بیوقوف کے سوا کون ہے جو ابراہیم کے مذہب سے منہ موڑے گا (ف 2) ہم نے اس کو دنیا میں برگزیدہ کیا اور وہ بیشک آخرت میں نیکوں سے ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ دعوت ابراہیم کا انکار نری حماقت ہے اور یہ کہ سلام ہر لحاظ سے دعوت ابراہیمی کا دوسرا نام ہے ۔
Ayah 2:131

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب اس (ابراہیم) کو اس کے رب نے کہا کہ تو مسلمان ہوجا وہ بولا کہ میں رب العالمین کے لیے مسلمان (مطیع) ہو (ف 3)

(ف 3) ان آیات میں یہ بتایا ہے حضرت ابراہیم کس قدر سلیم الفطرت تھے ، صحیح بات مانتے ہیں انہیں کبھی تامل نہیں ہوا ، خدا نے جب انہیں اسلام و توحید کی دعوت دی تو ابراہیم فورا اسلمت پکار اٹھے اور اس کے بعد ساری زندگی تسلیم و رضا کی زندگی ہے ۔ خواب میں بھی دیکھ پایا کہ خدا کی راہ میں بچے کی قربانی ضروری ہے ۔ تو آمادہ ہوگئے اور بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی ، قوم نے جب مخالفت کی اور حرقوہ کی صدائیں چاروں طرف سے آنے لگیں اس وقت آپ ڈرے نہیں تسلیم و رضا کا پیکر بنے ہوئے آگ میں کود پڑے ۔ حل لغات : الحکمۃ : دانائی کی بات ، اسوہ رسول ویزکیھم : مصدر تزکیہ ، پاک کرنا ، دلوں اور دماغوں میں لطافت و نزاکت پیدا کرنا یعنی جذبہ و خیال میں آخری ارتقا کے سامان بہم پہنچانا ۔ یرغب : رغبت کا صلہ ، جب عن ہو تو اس کے معنی نفرت کے ہوجاتے ہیں اصطفینہ : مصدر اصطفاء ، چننا ، انتخاب کرنا
Ayahs 2:132–133

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے ابھی یہی وصیت کی کہ اے میرے بیٹو اللہ نے تمہارے لیے ایک دین چن لیا ہے تم ضرور مسلمانی (فرمانبرداری) میں مریو ۔

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کی موت آتی جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم تیرے اللہ اور تیرے باپ دادے ابراہیم و اسماعیل و اسحاق کے اللہ کی جو ایک ہے ، عبادت کریں گے اور ہم اسی کے حکم پر ہیںَ (ف 1)

(ف 1) پھر اولاد کو بھی یہی بتایا کہ خدا نے تمہارے اسلام کو بہترین دین قرار دیا ہے ، اسے ہاتھ سے نہ دینا ، جو تو اس کے لیے وہ تو اس کو سینے سے لگاتے ہوئے تمہارے آخری لمحات زندگی بھی خڈا کے تشکر و حمد میں بسر ہوں ، مایوسی کی وجہ نہیں آخری سانس تک اللہ کی عنایتوں کے امیدار ہو ، اور مرو تو یہ یقین لے کر مرو کہ مصلحت اسی میں ہے اور اللہ کا دین سچا ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، ان آیات میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان بالطبع راجی پیدا کیا گیا ہے اور موت جیسی مہیب چیز بھی اس کے پائے استقلال میں لغزش نہیں پیدا کرسکتی ۔
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ، ان کا ہوا جو وہ کما گئے اور تمہارا ہے جو تم کماتے ہو ، اور تم سے ان کے کام کی پوچھ نہ ہوگی ۔ (ف 2)

بہترین جائیداد : (ف 2) جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو اسلام پر قائم رہنے کی تلقین کی اسی طرح حضرت یعقوب نے بھی اپنے آخری لمحات زندگی میں اپنے بیٹوں کو بلا کر پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی پرستش کرو گے ؟ وجہ یہ تھی کہ مصر میں جہاں حضرت یعقوب آرہے تھے ، کثرت سے بت پرست رائج تھی ، آپ نے اس لیے کہ ان میں توحید کا احساس باقی رہے ، بلا کر پوچھا اور غرض یہ تھی کہ اولاد کسی حالت میں بھی اعلاء کلمۃ اللہ سے غافل نہ ہو ۔ حضرت ابراہیم و یعقوب (علیہما السلام) کی وصیت اس چیز کا پتہ چلتا ہے کہ ان کی ساری زندگی کس کے حصول میں گزری ، وہ اپنے آخری اوقات میں مال و دولت سپرد نہیں کرتے ، جائیداد کے متعلق ہدایات نہیں دیتے ، کوئی خانگی بات نہیں جو ان کو کھٹک رہی ہو ، دنیا سے قلب مطمئن لے کر جاتے ہیں ۔ البتہ اگر کوئی چیز بےچین کرنے والی ہے تو وہ اولاد کی روحانی تربیت ہے ۔ اس میں یہ جلیل القدر اسوہ ہے کہ شفیق اور بزرگ باپ اولاد کے لیے کیا چھوڑ کر مرے ، دنیوی مال و دولت بھی اچھی چیز ہے ، مگر اصل دولت ایمان تقوی کی دولت ہے جو اولاد کے لیے بہترین سرمایہ حیات ہے اور والدین کے لیے باعث سکون و برکت ، وہ والدین جو مال و دولت کے انبار تو اولاد کے لیے جمع کرجاتے ہیں لیکن ان کی تربیت روحانی کی طرف سے غافل رہ جاتے ہیں ، وہ اولاد پر کوئی احسان نہیں کرتے ، بلکہ یہ ایک قسم کا ظلم ہے کہ ان کی ساری جدوجہد اولاد کی ظاہری آسائش کے لیے ہے اور باطنی اصلاح کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے ۔ سعادت مند اور صالح اولاد بجائے خود ایک جائیداد ہے اور بدکردار کے پاس اگر قارون کے خزانے بھی ہوں تو بھی وہ ان کا جائز وارث ثابت نہیں ہوتا ۔ بہرحال حضرت یعقوب کی اولاد نے انہیں یقین دلایا کہ ہم توحٰد کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹیں گے ، اور اسماعیل و اسحاق کے بتائے ہوئے مسلک توحید پر قائم رہیں گے ۔ وہ باپ کتنا خوش قسمت ہے جو یہ یقین لے کر مرے کہ میرے بعد میری اولاد صالح وسعادت مند رہے گی اور کس درجہ سعادت مند ہے وہ اولاد جنہیں حضرت ابراہیم و یعقوب (علیہما السلام) جیسا بزرگ باپ ملے جو آخری وقت تک ان کی روحانیت کا خیال رکھتا ہے ۔ حل لغات : شھداء : جمع شھید بمعنی حاضر امۃ : گروہ ، جماعت ، کسی ایک بات پر متفق ہونے والے لوگ وصی : مصدر توصیۃ وصیت کرنا ، ضروری بات بتانا
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں یہود یا نصاری بنو ، تب ہدایت پاؤ گے ، تو کہہ نہیں بلکہ ہم نے ابراہیم کی راہ پکڑی ہے جو حنیف (یکطرفہ) تھا اور مشرکوں (ف 1) میں سے نہ تھا ۔

(ف 1) ان آیات میں یہودیوں اور عیسائیوں کے اس زعم باطل کی تردید ہے کہ انبیاء سے انتساب انہیں نجات دلا سکے گا ، فرمایا تم ان لوگوں کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ہو ، تم سے صرف تمہارے اعمال کی بابت پوچھا جائے گا ، پھر یہ بتایا کہ اسلام میں قطعا تخرب وتفریق کی گنجائش نہیں ، نجات یہودیت و عیسائیت کے محدود دائروں مین نہیں بلکہ توحید واسلام کے وسیع حلقہ میں ہے جس میں بت پرستی وشرک کی تنگ دلانہ ذہنیت کی بجائے توحید و تفرید کی آزادی ووسعت قلبی ہے ۔
Ayahs 2:136–137

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

تم بولو کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس (کلام) پر جو ہماری طرف نازل ہوا ہے اور اس پر جو ابراہیم (علیہ السلام) و اسمعیل (علیہ السلام) واسحاق (علیہ السلام) و یعقوب (علیہ السلام) اور اس کی اولاد پر نازل ہوا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو ملا تھا اور جو کچھ تمام نبیوں کو ان کے رب سے دیا گیا ، ہم ان کے درمیان کسی میں فرق نہیں کرتے ، اور ہم اسی کے مطیع (مسلمان) ہیں ۔

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پس اگر وہ بھی ایمان لائیں تو انہوں نے ہدایت پائی اور اگر منہ موڑیں تو وہی ضد پر ہیں اور ان کی طرف سے تجھے اللہ کا فی ہے اور وہ سنتا ہے اور جانتا ہے (ف 2)

حلقہ توحید کی سعتیں : (ف 2) اسلام ہر قسم کی تنگ دلی سے بالا ہے ، وہ کسی خاص تعلیم پر ایمان لانے کی تاکید نہیں کرتا ، بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم ہر صداقت کو مانو ، ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی مانو اور اسمعیل (علیہ السلام) کو بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اور مسیح (علیہ السلام) کو بھی (علیہم السلام) اجمعین ۔ اور ہر اس چیز پر یقین رکھو جو اللہ کے پیغمبروں کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے ، اس لئے کوئی تفصیل نہیں مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر سچائی کا احترام کرے ، اس لئے اسے تو اللہ سے محبت ہے ، اور جب اس کی اطاعت وفرمانبرداری کا جوا جو اپنے کندھوں پر ڈال لیا تو پھر ہر حکم جو اس کی طرف سے وصول ہوا شائستہ اعتناء ہے وہ لوگ جو خدا کی محبت کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو اپنے دعوے میں سچے نہیں ۔ کیونکہ آپ خدا کے سب سے بڑے دوست اور محب ہیں ۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

ہم نے رنگ اللہ کا (لیا) ہے اور کس کا رنگ اللہ سے بہتر ہے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں (ف 3)

انکار کا نتیجہ : (ف 3) ان آیات میں بتایا کہ ایمان وہی ثمر و سود مند ہے جو کامل ہو ، یعنی پورے نظام اسلامی کو مانا جائے ورنہ راہ راست سے بھٹک جانے کا خطرہ ہے اور وہ لوگ جو اسلام کے نظام وحدت پر عمل پیرا نہیں ہیں ، ان کا شقاق واختلاف کے مرض ہیں مبتلا رہنا لازمی وناگزیر ہے ، اس لئے کہ اسلام کے سوا جتنی راہیں ہیں ‘ ان سب میں تعصب وجہالت کے کانٹے بچھے ہیں ، سب غیر مستقیم ہیں ، اسلام اور صرف اسلام ہی رواداری ، مسالمت اور اطاعت حق کا سچا مبلغ ہے ۔ الہی رنگ : حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ صبغ فلان سے مراد کسی خاص عقیدہ کی تلقین کرنا ہے یعنی صبغۃ اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے ، دین کو اللہ کے رنگ سے تشبیہہ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دل بمنزلہ سفید کپڑے کے ہے اسی لئے (آیت) ” وثیابک فطھر “ میں کپڑوں سے مراد دل ہے جس کو مختلف انواع کے رنگوں سے رنگ لیا جاتا ہے کوئی یہودی ہے اور کوئی عیسائی کوئی مجوسی ہے اور کوئی آتش پرست ، قرآن حکیم کہتا ہے ، اللہ کا رنگ ان سب الوان سے جدا ہے اور بہتر ہے اس میں یہودیت بھی ہے اور عیسائیت بھی ، اس میں تعصب وجہالت کا کوئی رنگ نہیں (آیت) ” ونحن لہ عبدون “ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ مسلمان جس رنگ میں ظاہر ہوتا ہے ‘ وہ عبودیت اور خاکساری ہے ، وہ ہر وقت اللہ کی فرمانبرداری و اطاعت میں مصروف نظرآئے گا اس کی زندگی کو کوئی لمحہ ضائع نہیں ہوتا ۔ اس کی پہچان خدا کی عبادت ‘ اس کی محبت اور اپنی عبودیت کا اظہار ہے نیز اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ عیسائی جو اصطباغ کو بہت بڑی دینداری سمجھتے ہیں ‘ وہ جان لیں کہ ظاہر داری کے رنگ چھڑک دینے سے کوئی نجات کا مستحق نہیں بن سکتا ، رسم اصطباغ سے کپڑے تو رنگے جاسکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ دل بھی خدا کے رنگ میں ڈوب جائیں ، اس لئے ان ظاہر پرستیوں کو چھوڑ کر روح و باطن کی طرف عود کرو اور رسوم و رواجات سے پلٹ کر حقائق ومعارف کی جانب بڑھو کہ خدا کو ظاہر داریاں پسند نہین جن میں ذرہ بھر شائبہ خلوص نہ ہو وہ تو دل کی گہرائیوں میں خلوص و محبت کے خزانے دیکھنا چاہتا ہے ۔ حل لغات : اسباط : جمع سبط ، ۔ اولاد ، شقاق ، اختلاف ۔ صبغۃ : رنگ ، احسن ، اچھا مادہ حسن ۔
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

تو کہہ کیا تم ہم لوگوں سے خدا کی بابت جھگڑتے ہو اور وہی ہمارا رب ہے ، ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ، اور ہم اسی کے لئے خالص ہیں ، (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں یہودیوں ‘ عیسائیوں اور مشرکوں سے مشترکہ خطاب ہے کہ تم خدا کے احکام ونواہی کے متعلق ہم سے کیوں بحث ومناظرہ کرتے ہو جبکہ ہم سب کا وہ رب ہے ، جو مناسب سمجھتا ہے وہ فرماتا ہے اور فرماتا ہے اور جس کو مناسب سمجھتا ہے اس منصب کے لئے منتخب فرمالیتا ہے ہم اور تم اعتراض کرنے والے کون ؟ یہ تو خالصتا اس کے اختیار میں ہے پھر اگر بفرض محال عہدہ نبوت کا تعلق اعمال اکتساب سے بھی ہو تو بھی کیا تم سے زیادہ اخلاص و عادات کو سنوارو ، پھر اسلام پر اعتراض کرو ۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور اس کی اولاد یہودی تھے یا نصاری ، تو کہہ کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اس گواہی کو جو خدا کی طرف سے اس کے پاس تھی چھپایا اور خدا تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں پھر اس وہم کی تردید ہے کہ سابقہ ابنیاء یہودی تعصب اور عیسائی جہالت کے متعقد تھے ، فرمایا کہ یہ سب خرافات اور غلط عقائد جو ان میں رائج ہوگئے ہیں اور جن سے یہ آج دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں کتمان شہادت کا نتیجہ ہیں ، اگر یہ خدا کے احکام صحیح صحیح صورت میں رہنے دیتے اور اپنی نفسانی خواہشات کے تابع نہ بناتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ جو کچھ کہا گیا ہے ‘ اس میں کسی طرح شک وشبہ نہیں ، فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر بات کو دیکھ رہے ہیں ، وہ تمہاری بداعمالیوں سے غافل نہیں ، تمہیں غرہ ہے اپنی مال و دولت کا اور تم یہ سمجھتے ہو کہ مال و دولت سے بہرہ وری تمہارے حسن اعمال کا نتیجہ ہے حالانکہ یہ ڈھیل ہے تمہیں دی جا رہی ہے تمہاری ایک ایک حرکت رب ذوانتقام کی نگاہ میں ہے ، اس لئے تم رب الافواج کے قہر سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرلو ۔ حل لغات : عبدون : جمع عابد ، بمعنی پر ستار ، تحاجون تم جھگڑا کرتے ہو مادہ حجۃ ۔ دلیل ۔ مخلصون ، جمع مخلص ، بےریا ، بےغرض ، غافل : بیخبر غیر آگاہ ۔
Ayahs 2:141–142

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کا ہوا جو وہ کما گئے اور تمہارا ہے جو تم کماتے ہو ، تم سے ان کے کام کی پوچھ نہ ہوگی ۔

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

عنقریب بیوقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے پھرایا ، جس پر وہ تھے ، تو کہہ اللہ کی مشرق ومغرب ہے ، وہ جس کو چاہے سیدھی راہ بتاوے (ف 1) ۔

تعیین قبلہ : (ف 1) حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب تک صاف وصریح حکم کسی چیز کے متعلق نازل نہ ہوجاتا ، اہل کتاب کی موافقت فرماتے اس لئے کہ وہ بہرحال مشرکین مکہ سے زیادہ راہ راست پر تھے ، اسی بنا پر جب تک قبلہ کی تعین نہ ہوئی آپ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھتے رہے سترہ اٹھارہ ماہ تک تو بیت المقدس کو قبلہ بنائے رکھا ، اب انکار ہے قرآن حکیم نے ان شبہات کے متعلق فرمایا کہ یہ محض سفاہت وعدم تدبر پر مبنی ہیں ، ورنہ صرف تعیین قبلہ کا مسئلہ اتنا اہم نہ تھا کہ یہ اس پر اس قدر معاندانہ توجہ صرف کرتے ، جب کہ اصول میں اور عقائد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور جب کہ اب بھی مسلمان ویسے نماز اور خدا کے فرمانبردار ہیں جیسے کہ پہلے تھے ، کیا صرف جہت کی تبدیلی سے مسلک تبدیل ہوجاتا ہے ؟ کیا صرف اس لئے کہ مسلمان اب کعبہ کو مرکز سمجھتے ہیں تمام خوبیوں سے معرا ہوگئے ہیں ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم ان اعتراضات کو بیوقوفی سے تعبیر کرتا ہے ، کیونکہ ان میں سے کوئی بات بھی اصول اسلامی پر براہ راست اثرانداز نہیں ہوتی ۔ اصولا جواب یہ دیا کہ خدائے تعالیٰ جہاں تک جہت الکعبہ کا تعلق ہے کسی جہت خاص سے کوئی اختصاص نہیں رکھتا مشرق ومغرب اور شمال وجنوب سب یکساں حیثیت رکھتے ہیں ، البتہ خدا نے کعبہ کو قبلہ عبادت ٹھہرایا تاکہ ہماری نیاز مندیاں ایک نظام میں منسلک ہوجائیں اور مسلمان ہر لحاظ سے وحدت کا جو اس کا فطری خاصہ ہے ، مظہراتم ہو ، نہ اس لئے کہ جہت مغربی مشرق سے زیادہ مقدس ہے ، صراط مستقیم سے مراد یہی ہے کہ وہ چند نفوس ہوتے ہیں جنہیں مسئلہ کی حیثیت پر غور کرنے کی توفیق ارزانی ہوتی ہے ، وہ ہمیشہ مغزوحقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، فروع میں الجھ کر ایمان ضائع نہیں کرتے ۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے تم کو بہتر امت بنایا ہے تاکہ تم سب لوگوں پر اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو (ف 2) ، اور وہ قبلہ جس پر تو پہلے تھا ، ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کون رسول ﷺ کا تابع رہے گا اور کون الٹا پر جائے گا (ف 3) اور یہ بات اگرچہ بھاری ہے لیکن ان پر نہیں جن کو خدا نے ہدایت کی ہے اور خدا ایسا نہیں ہے کہ تمہارا ایمان ضائع کرے ، وہ تو آدمیوں پر شفیق اور مہربان ہے ۔

زمین میں خدا کے مبلغ : (ف 2) اس آیت میں مسلمان کے منصب ودرجہ کی توضیح ہے ۔ ” کذلک “ سے یہ مراد ہے کہ جس طرح کعبہ تمام کائنات کا روحانی مرکز ہے ، اسی طرح مسلمان کو خدا نے تمام انسانوں کا مرکز عمل بنایا ہے ، لوگوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے نقش قدم پر چلیں ، اس لئے کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں جسے عمل وتبلیغ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہوں وہ دنیا کے لئے حیات وعمل کا بہترین نمونہ ہے (آیت) ” شھدآء علی الناس کی تفسیر ہے ، مبلغین وعاملین کی جماعت سے اسی آیت کی تشریح میں حضور ﷺ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ ” انتم شھدآء اللہ فی الارض “ یعنی تم زمین میں خدا کے مبلغ ہو ۔ تحویل قبلہ کا فلسفہ : (ف 3) تبدیلی قبلہ سے غرض یہ بھی تھی کہ اہل ایمان کو امتحان ہوجائے کہ کون رسول ﷺ برحق کا بہرحال ساتھ دیتا ہے اور وہ کون ہے جو شبہات وسواس میں گرفتار ہوجاتا ہے ، قاعدہ ہے کہ سالک مرشد کامل کی ہدایات کو حسن ظن کی نظر سے دیکھے ورنہ اندیشہ محرومی ہے ع بہ مئے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید ۔ چنانچہ اہل ایمان و سلوک کی ایک جماعت نے جب تبدیلی قبلی کی خبر پائی تو نماز ہی میں گھوم گئے ، بتلانا یہ مقصود تھا کہ غیر مسلم دیکھیں کہ خدا کے یہ بندے کس درجہ جذبہ اطاعت سے سرشار ہیں ۔ دوسری آیت میں اس شبہ کا جواب ہے کہ وہ لوگ جو تعیین قبلہ سے پہلے مر گئے ہیں ان کا کیا حشر ہوگا ؟ فرمایا خدا ایمان صحیح کے ساتھ ہر عمل کو قبول کرلیتا ہے ، ان لوگوں تک چونکہ یہ حکم پہنچا ہی نہیں اس لئے معذور ہیں ۔ حل لغات : قبلۃ : اصل معنی جانب وطرف کے ہیں جو جاذب التفات ہو اصطلاھات وہ بیت العبادۃ ہے جس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے ، وسطہ : درمیان ، بہترین ، افراط تفریط سے پاک ، عادل ۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

ہم نے تیرے منہ کا پھر پھرجانا آسمان (ف 1) میں دیکھا سو ہم ضرور تجھے اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جس سے تو راضی ہے پس پھیر لے اپنا منہ مسجد حرام کی طرف اور جہاں تم ہو اپنے منہ پھیرو اور اہل کتاب جانتے ہیں کہ یہ (یعنی کعبہ کی طرف منہ پھیرنا) حق ہے ان کے رب کی طرف سے اور خدا ان کے کاموں سے غافل نہیں (ف 2) ۔

ملکہ نبوت : (ف 1) ان آیات میں بتایا کہ تحویل قبلہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تم (یعنی حضور ﷺ یہی چاہتے تھے ہم نے تمہاری رضا مندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے قبلہ بدل دیا ، بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) میں ایک ملکہ نبوت ہوتا ہے جو پہلے سے موجود رہتا ہے اور جس کی روشنی سے انبیاء (علیہم السلام) استفادہ کرتے ہیں ، یہ سراج نبوت ان کے دماغ میں ہر وقت روشن رہتا ہے ۔ صحف انبیاء اور قبلہ : (ف 2) اس آیت میں ” تحویل قبلہ “ کو حق کہا ہے اور فرمایا ہے اہل کتاب اس کو جانتے ہیں لیکن انہیں یہ منظور نہیں کہ بیت المقدس کی تقدیس چھین کر بیت اللہ کو دے دی جائے بائیبل میں ” شوکت کا گھر “ بیت الحرام کا ٹھیٹھہ ترجمہ ہے ، دانیال (علیہ السلام) کے مکاشفہ میں ہے کہ میں نے آسمان سے نیا یروشلم اترتا ہوا دیکھا ، جس پر خدا کا نیا نام کندہ ہے ، کیا یہ تبدیل قبلہ کی پیش گوئی نہیں ۔ زبور میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اسی گھر کی زیارت کے شوق میں گیت گاتے ہیں ۔ حل لغات : شطر : جانب ، طرف ۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تو اہل کتاب کے پاس ساری نشانیاں بھی لاوے وہ تیرے قبلہ کے تابع نہ ہوں گے اور تو بھی ان کے قبلے کا تابع نہ ہوگا اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے تابع نہیں ہیں اور اگر تو ان کی خواہشوں کے تابع ہوگا بعد اس کے کہ تجھے علم حاصل ہوچکا ہے تو تو ظالموں میں سے ہوجائے گا ۔ (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں فرمایا کہ یہودی باوجود جاننے کے اعتراض ضرور کریں گے وہ کسی بات پر مطمئن نہیں ہوں گے ، ان کی ذہنیت مسخ ہوچکی ہے اس لئے آپ ﷺ کی جماعت بلا کسی خدشہ کے حق کے تابع رہے اور ان کے شبہات اور اعتراضات کی جانب بالکل توجہ نہ کرے ، ورنہ خطرہ ہے کہ خدا کے ہاں ظالم نہ ٹھہرائے جائیں گے ، آیت کا خطاب گو حضور ﷺ سے ہے لیکن مراد عام مسلمان ہیں لیکن ان کا منصب انہیں ہر نافرمانی سے روکتا ہے ، وہ بحیثیت نبی ہونے کے خدا کی منشاء کے خلاف کوئی حرکت کر ہی نہیں سکتے ۔ (آیت) ” بل ھم عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون “۔ یعنی گروہ انبیاء خدا کا وہ نیک گروہ ہے جو اس کی مخالفت نہیں کرتا ، بلکہ اس کے اوامر کا ماننے والا ہے ، اس طرز خطاب سے یہ بتانا مقصود نہیں کہ حضور ﷺ اب بھی یہود کی خواہشات کو مان کر خدا کی نافرمانی کا ارتکاب کرسکتے ہیں بلکہ یہ ان کے جذبات کی پاسداری وضوح حق کے بعد اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر تم بھی اس کا ارتکاب کرو تو بایں جلالت قدر ہرگز معافی کے مستحق نہیں ہو ، یعنی بحث امکان ظلم سے نہیں ‘ بلکہ جرم کی اہمیت سے ہے کہ کس قدر زیادہ ہے ۔
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو (یعنی محمد ﷺ کو) ایسا پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور ان میں سے ایک فرقہ دانستہ حق کو چھپاتا ہے ۔ (ف 2)

(ف 2) (آیت) ” یعرفونہ “ کی ضمیر یا تو تحویل قبلہ کی طرف راجع ہے ، جیسا کہ ظاہر سباق سے واضح ہے اور یا حضور ﷺ کی طرف جو گو مذکور نہیں لیکن سننا سمجھے جاسکتے ہیں یعنی جس طرح یہ اپنے بچوں کو بغیر کسی دلیل منطقی کے پہنچان لیتے ہیں اور کبھی انہیں شبہ نہیں ہوتا اسی طرح یہ خوب جانتے ہیں کہ تحویل قبلہ درست و صحیح ہے یعنی ان کی مذہبی کتابوں میں جب اس کا ذکر ہے تو پھر شک وشبہ کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ۔ اگر ضمیر حضور ﷺ کو طرف راجع ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت اس قدر جلی اور اظہر ہے کہ کم از کم ان لوگوں کے لئے انکار کی کوئی وجہ نہیں ، وہ جو صبح ومساتین سال تک متواتر آپ کے انوار و تجلیات کو برملا دیکھتے ہیں وہ کیسے انکار کرسکتے ہیں جس طرح ایک باپ اپنی اولاد کے متعلق قطعی وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ یہ میری اولاد ہے اور جس طرح اسے نفسیاتی یقین ہوتا ہے ، جسے کوئی منطق اور کوئی فلسفہ شک وشبہ سے نہیں بدل سکتا ، اسی طرح ان میں کے اہل حق وبصیرت حضور ﷺ کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور وہ نفسیاتی طور پر حضور ﷺ کو پہچانتے ہیں ، مگر باطل اور کتمان حق کی مرتکب جماعت جن کا شیوہ حیات ہی لوگوں کو گمراہ کرنا ہے ‘ انہیں روکتی ہے ۔
Ayahs 2:147–148

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق تیرے رب ہی کی طرف سے ہے تو تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو ۔

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

ہر کسی کے لئے ایک جانب ہے جس کی طرف وہ منہ کرتا ہے سو تم نیکیوں کی طرف دوڑو جہاں بھی تم ہو گے اللہ تم سب کو اکٹھا کر لائے گا ، بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔ (ف 3)

(ف 3) ان آیات میں بتایا ہے کہ ہر امت وگروہ کا ایک قبلہ عبادت ہوتا ہے ، اس لئے بحث ومناظرہ کی ضرورت نہیں ، تم جہاں کہیں بھی ہو اور جس قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہو بہرحال اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اس میں اشارہ ہے کہ صرف استقبال سے تم نے کیوں سمجھ لیا کہ مسلمان صحیح راستے پر نہیں رہے تم یہ دیکھو کہ ان میں سبقت الی الخیرات کا جذبہ موجود ہے یا نہیں یعنی نمازوں کا مقصد وفائدہ اکثر قائم ہے اور مسلمان حسب سابق خدا کی اطاعت میں سرگرم ہیں اور حصول تقوی میں وہ پہلے کی طرح پرجوش ہیں تو صرف اس لئے انہوں نے جہت کی تبدیلی کرلی ہے اور وہ بھی خدا کے حکم اور اجازت سے محروم ہوگئے ہیں ، یعنی اصل شے جو صداقت کا معیار ہے نمازوں کی کیفیت وترتیب نہیں ، بلکہ حسن عمل ہے تم دیکھو کہ ان میں جذبہ اطاعت کس درجہ مضبوط ہے کہ سترہ اٹھارہ مہینے کے عمل کو اللہ کے ایک اشارہ سے بدل دیا ہے ۔ حل لغات : اھوآئ : جمع ھوآء یعنی خواہش ۔ یعرفون : مادہ عرفان بمعنی پہچاننا ۔ ممترین ، مصدر امتراء بمعنی شک وشبہ ۔ وجھہ : طرف ۔ جانب ۔ مولی : منہ پھیرے ۔ وجہ : منہ چہرہ ۔
Ayahs 2:149–150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جہاں سے تو نکلے مسجد حرام کی طرف منہ پھیر ، یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور خدا تمہارے کاموں سے غافل نہیں ۔

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

جہاں تو نکلے مسجد حرام کی طرف منہ پھیرا اور جہاں تم ہو ، اپنے منہ اس کی طرف پھیرو ۔ تاکہ لوگوں کو تم پر حجت باقی نہ رہے ، مگر جو لوگ ان میں ظالم ہیں (وہ تم سے ضرور جھگڑیں گے) سو تم ان سے نہ ڈرو ، اور مجھ سے ڈرو اور اس لئے کہ میں اپنا فضل تم پر پورا کروں ، شاید تم ہدایت پاؤ (ف 1)

آیات کے تکرار کا سبب : (ف 1) فول وجہ : کو تین دفعہ ذکر کیا ہے ، اس لئے بھی کہ مقصود تاکید ہے جو ان مواقع میں ضرور ہوجاتی ہے جبکہ کوئی اہم اور موجب شبہات حکم نازل ہو اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ہر وجہ کے بعدمعلول بھی ذکر کیا جائے یا یہ کہ پہلی صورت میں اس حالت کا ذکر ہے جب آپ کعبہ کے سامنے ہوں ، دوسری صورت وہ ہے جس میں آپ شہر کی دیگر مساجد میں نماز پڑھیں اور تیسری صورت میں مراد یہ ہے کہ جب تم مسافر ہو تو بھی تمہارا قبلہ کعبہ ہی رہے یعنی بہرحال مسلمان کا ہر جسدہ اور اس کی ہر عبادت نہایت درجہ منسلک اور ایک نظام کے ماتحت ہونی چاہئے ، ان آیات میں یہ بتایا کہ تحویل قبلہ سے دو فائدے یہ بھی ہیں کہ یہودیوں اور مشرکین مکہ کا اعتراض اٹھ گیا ، یہودی پہلے کہا کرتے تھے کہ مسلمان بھی عجیب ہیں ، نماز تو ہمارے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے ہیں اور ہمارے مذہب کی مخالفت کرتے ہیں ۔ مشرکوں کا اعتراض تھا کہ دیکھئے دعوی تو یہ ہے کہ ہم مذہب ابراہیمی کے پابند ہیں اور مرکز عبادت بیت المقدس ہے ، اب جبکہ بیت المقدس سے منہ موڑ کر کعبہ کو قبلہ مان لیا گیا تو دونوں گروہوں کو تشفی ہوگئی ، پھر اتمام نعمت اور ہدایت ارزانی کا بھی سامان ہوگیا یعنی سارے دنیائے انسانیت کو ایک مرکز پر جمع ہونے کی دعوت دی اور عملا حج میں اس طرح کے وظائف اور ارکان داخل کئے جنہیں دیکھ کر قلب میں رقت طاری ہوجائے اور اسلام کی حقیقی شان وجدت و انکسار آنکھوں میں پھرجائے ، جن لوگوں نے حج کے کوائف پر نفسیانی غور کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس میں کس قدر بصائر ومعارف پنہاں ہیں اور کس طرح ہر نوع کے انسانوں کو چن چن کر اکٹھا کیا ہے اور سب کو ایک خدا کے سامنے جھکا دیا ہے ، لبیک لبیک کی مخلصانہ آوازیں کتنی ایمان پرور اور روح میں نزہت پیدا کرنے والی ہیں ۔ حل لغات : حجۃ : اصل میں معنی دلیل کے ہیں یعنی مراد اعتراض ہے ۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسے کہ ہم نے ایک رسول تمہارے ہی درمیان سے تم میں بھیجا وہ ہماری آیتیں تم پر پڑھتا ہے اور تمہیں سنوارتا ہے اور کتاب و حکمت اور وہ باتیں بتلاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے ، (ف 1)

وظیفہ رسالت : (ف 1) (آیت) ” کما ارسلنا “۔ سے مقصد یہ ہے کہ کعبہ کی ہادیانہ حیثیت اسی طرح ہے کہ جس طرح ایک رسول آیت اللہ کی تلاوت کرے اور تعلیم وتزکیہ کے رموز سمجھائے ، یا یہ بتانا مقصد ہے کہ تعین اس طرح کی ایک نعمت ہے جس طرح کہ بعثت رسول ﷺ ضمنا یہ بتایا ہے کہ وظیفہ رسول ﷺ کیا ہے ، یا انبیاء اور عام مصلحین میں کیا بین امتیاز ہے ؟ وہ یہ کہ عام مصلحین صرف کہتے ہیں ، صرف تعلیم دیتے ہیں ، لیکن انبیاء (علیہم السلام) تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ قلوب کو جلا بھی دیتے ہیں ، جیسے دماغوں کو معارف وحکم سے منور کرتے ہیں ‘ ویسے دلوں کی تاریک دیا کو بھی اجالے بخشتے ہیں ، ان کی نگاہیں علم ومعرفت کی سطح پر ہی مرکوز ہو کر نہیں رہ جاتیں ، بلکہ وجدان و طمانیت کی گرائیوں تک نفوذ کر جاتی ہیں ، وہ دنیا میں قول وعمل کا ایک بہترین امتزاج ہوتے ہیں یعنی جوامع الکلم کے ساتھ مکارم اخلاق کا اجتماع صرف انکے ساتھ ہی مخصوص ہوتا ہے ۔
Ayahs 2:152–153

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میری شکر گزار رہو اور ناشکری نہ کرو ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

مومنو ! صبر اور نماز سے قوت حاصل کرو ، بیشک خدا صابروں کے ساتھ ہے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں دعوت ذکر ہے اور فلسفہ یاد الہی کا یہ بتایا ہے کہ جس طرح کا ایمان کسی شخص کے دل میں ہوگا اسی درجہ اللہ کی عنایات اس پر زیادہ ہوں گی ، حدیث میں آتا ہے ۔ انا عند ظن عبدی بی “ کہ میں بالکل ویسا ہی لوگوں سے سلوک روا رکھتا ہوں ‘ جیسا کہ وہ مجھ سے متوقع ہیں ، اس کے بعد اس کا ذکر ہے کہ جب تم کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ تو صبر سے کام لو ، گھبراؤ نہیں ، یعنی مصیبتیں اس لئے نہیں آتیں کہ مرد و مومن کے مضبوط دل میں رخنہ انداز ہوں اور اسے جادہ عافیت سے دور ہٹا دیں ، بلکہ اس لئے کہ وہ برداشت کرنے کا عادی ہوجائے اور خدا کے آستانہ پر وہ اور عبادت کے لئے جھک جائے ، یعنی کسی حالت میں بھی مسلمان مایوس نہیں ہوتا ، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا امیداوار رہتا ہے ۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ، مگر تم اس سے واقف نہیں (ف 3) ۔

شہید زندہ ہیں : (ف 3) جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں اور خدا کے حضور اپنے خون کا ارمغان ثمین پیش کریں ‘ وہ ہر گو نہیں مرتے ، تاریخ کے صفحات میں ‘ دل کی گہرائیوں میں ‘ بہادروں کے تذکرے ہیں اور اللہ کے ہاں وہ زندہ ہوتے ہیں ، یعنی میدان جنگ میں مرنا موت نہیں ، بستر مرگ پر بزدلانہ جان دینا موت ہے کفار ان لوگوں کو جو جہاد میں شہید ہوجائیں ، کہتے ہیں کہ وہ ناحق مر گئے ، منافقین کا خیال تھا کہ وہ اگر میدان جنگ میں نہ جاتے تو موت کے مضبوط چنگل سے بچ جاتے ، قرآن حکیم کہتا ہے تم جسے موت سمجھتے ہو ‘ اس پر ہزار زندگیاں قربان ، اللہ کے ہاں جو ان کے مرتبے ہیں وہ تمہارے نہیں ، یہ زندگی جو شہدا کے لئے ‘ عام مادی زندگی سے مختلف ہے ، یہ مدارج و مراتب کی زندگی ہے نہ معمولی محسوس زندگی ، اس لئے فرمایا کہ تم اس زندگی کے لطف کو نہیں جان سکتے ۔ حل لغات : اصوات : جمع میت ۔ مردہ مرا ہوا نبلون : مصدر بلآء آزمائیں ۔ خوف : ڈر :
Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور کسی قدر خوف اور بھوک اور جانوں اور مالوں اور میوؤں کے نقصان سے ہم تم کو آزمائیں گے اور بشارت دے ان صابروں کو ۔

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا کا مال ہیں اور اس کی طرف جانے والے ہیں ۔

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے رحمت اور مہربانی ہے اور وہی ہدایت پر ہیں (ف 1)

بلند نصب العین : (ف 1) الہی کتب کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ انسان کو کشاکش ہائے حیات کے لئے پوری طرح تیار کر دے ، یعنی اس کے دل و دماغ کو اتنا بلند اور آمادہ صبر کر دے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی مرکز عقل و دانش سے نہ ہٹیں ، قرآن حکیم نے اس مقصد کو جس خوبی سے پورا کیا ہے ، دنیا کی کوئی کتاب اس کی اس میں شریک وسہیم نہیں ، قرآن حکیم کا نظریہ حیات یہ ہے کہ دنیا میں مصائب و حوادث کا وقوع فطری اور ناگزیر ہے ، کبھی خوف وہراس سے دل دہل جاتے ہیں اور پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عزیز جانوں کا ضیاع ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ غرض کہ جب تک اس دنیا میں ہیں ‘ ان مصائب سے خلاصی نہیں ۔ البتہ وہ جو ” صابر “ ہیں ، انہیں کوئی خطرہ نہیں ۔ ان کے لئے یہ ابتلاء امتحان کا یہ خارمستان بھی گل کدہ عیش ہے ، کیونکہ وہ اپنی زہنی افق کو اس درجہ بلند ابتلا کرلیتے ہیں کہ وہاں مصائب کا کوئی خیال تکدر پیدا نہیں کرسکتا ، اس لئے یقین ہوتا ہے کہ ہماری زندگی اور موت سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اس لئے اگر سکھی ہیں تو بہرحال اس کو اپنے فرائض عبودیت سے غافل نہیں ہونا چاہئے ، اس ایمان کے بعد کوئی بڑے سے بڑا دکھ بھی تکلیف دہ نہیں ہوسکتا ، اس لئے الم کا تعلق ہونے والے واقعات سے نہیں ، بلکہ احساسات سے ہے قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ اس قسم کے لوگ ہی راہ راست پر ہیں اور یہی وہ ہیں جو اللہ کی رحمتوں کے سزاوار اور مستحق ہیں ۔
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ (پہاڑ) خدا کی نشانیوں میں سے ہیں جو کوئی خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے ‘ اس کو ان دونوں کا طواف کرنا گناہ نہیں ، اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو خدا (اس کا) قدر دان اور دانا ہے ۔ (ف 2)

اللہ کے شعائر : (ف 2) صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان دوڑ ہوتی ہے ، یہ ان معنوں میں اللہ کے شعائر ہیں کہ ان سے مناسک کا وہ حصہ وابستہ ہے جس کی ادائیگی سے عجیب طرح کی للہیت پیدا ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ یہ مقام خلوص و ایمان کے بےپناہ جذبات کے پیدا کرنے میں ممدو معاون ہیں ۔ انہیں اللہ کے شعائر اس لئے کہا کہ ہم مناسک کی روحانیت کو فراموش نہ کریں اور صرف ظاہری رسوم کو صحیح نہ سمجھیں ، بلکہ اس کی روحانیت اور اثر کو برقرار رکھیں ، (آیت) ” لا جناح “ اس لئے کہا کہ پہلے ان دو پہاڑیوں پر بت رکھتے تھے ، صحابہ ؓ اجمعین نے اس لئے کہ شائبہ شرک نہ ہو ‘ طواف کرنے سے تامل کیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، کوئی مضائقہ نہیں مسلمان مشرک نہیں ہوسکتا ، اس لئے اس انداز بیان سے مضائقہ نہیں مسلمان مشرک نہیں ہو سکتا ، اس لئے اس انداز بیان سے وجوب سعی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، نفی تخرج کی ہے نہ عدم سعی کی ، اس لئے جمہور وفقہا کا مذہب ہے کہ سعی واجب ہے ، عبداللہ بن عمر ؓ ، حضرت جابر ؓ اور جناب عائشہ صدیقہ ؓ ابھی اس طرح گئی ہیں ، امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا بھی یہی مذہب ہے ۔ اور اس کی تائید صحیحین کی اس حدیث سے ہوئی ، جس میں لا جناح کی تشریح حضرت عائشہ ؓ نے فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ مسلمان انصار اسلام سے پہلے مناۃ کی پوجا اور اعزاز میں سعی کرتے تھے ، جب اسلام لائے تو انہوں نے سعی و طواف میں تامل کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کوئی مضائقہ نہیں تمہاری نیتیں نیک ہیں ۔ حل لغات : صلوات : جمع صلوۃ بمعنی رحمت
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ ہم ان لوگوں کے لئے کتاب میں بیان کرچکے ہیں تو اس پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور سب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں (ف 3)

(ف 3) ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے ” مروہ “ کا ذکر بائیبل میں موجود ہے لیکن یہودی اپنی عادت کتمان کے بموجب اس کو چھپاتے ہیں ، اس لئے ان پر اللہ کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی یعنی کتمان حق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے دور ہیں اور تمام ایماندار اشخاص بھی انہیں قابل رحم نہیں سمجھتے ، یہی وجہ ہے کہ یہودی آج بھی باوجود تمول وتعلیم کی فراوانی کے تمام دنیا کی نظروں میں ذلیل ہیں اور انہیں کوئی اخلاقی وروحانی درجہ نہیں دیا جاتا ، بلکہ مغرب میں ” یہودی “ ایک قسم کی گالی ہے جسے کوئی غیر یہودی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح پر آگئے اور ان باتوں کو کھول دیا تو ایسے ہی لوگوں کو میں معاف کرتا ہوں اور میں معاف کرنے والا مہربان ہوں ۔ (ف 1)

(ف 1) خدا تعالیٰ کی جہاں اور صفات حسنہ ہیں ‘ وہاں اس کا تواب ورحیم ہونا بھی ایک صفت ہے یعنی وہ ہمارے گناہوں کی توبہ ‘ گناہوں سے کامل نفرت کے بعد بخش دیتا ہے ، ان آیات میں یہودیوں کو دعوت استغفار ہے کہ وہ اگر سچے دل سے اپنی بداعمالیوں کا اقرار کرلیں اور آئندہ کے لئے اصلاح کرلیں اور پھر اپنی تمام شرارتیں جو انہوں نے کتاب کی تحریف کے سلسلہ میں کی ہیں ۔ ظاہر بھی کردیں تو اللہ انہیں اپنی آغوش رحمت میں لے لے گا اور ان کے گناہ معاف کر دے گا ۔ اس لئے کہ گناہ کرنے سے خدا کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ سعی کرنے سے اس کی خدائی میں کچھ اضافہ ہوتا ہے ، یہ سب اعمال تو انسان کی اپنی اصلاح کے لئے ہیں ، اس لئے بڑے سے بڑا گناہ کرنے کے بعد بھی اگر ہم اصلاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ معاف فرماتے ہیں ۔