2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayahs 2:199–200

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر تم طواف کو چلو جہاں سے سب لوگ چلتے ہیں اور خدا سے گناہ بخشواؤ ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب اپنے حج کے احکام پورے کر چکو تو اللہ کو یاد کرو ، جیسے اپنے باپ دادوں کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ پھر لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں حصہ دے اور اس کیلئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے (ف 1) ۔

دو گروہ : (ف 1) اس کے بعد دو جاعتوں کا ذکر فرمایا ، ایک تو وہی ہیں جن کی دعائیں اور مطالبے صرف دنیا طلبی تک محدود رہتے ہیں ، جو سوا دنیا کی آسائش و کشائش کے اور کچھ نہیں چاہتے ، جو حرص وآز کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے طائر خواہشات کی پرواز بالکل سطح ارض تک ہے جو مادہ پرست ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے فرمایا ہو سکتا ہے ، ان کی دنیا میں سن لی جائے اور یہاں سیم وزر کے انبار کے انبار ان کے سپرد کردیئے جائیں لیکن یہ جان لیں کے آخرت یعنی دوسری زندگی میں ان کے لئے حصہ نہیں ، چونکہ اس دنیا میں ان کی خواہشیں بلند نہیں ہوتیں اور آخرت کے لئے عملا انہوں نے کچھ نہیں کیا ، اس لئے وہ اس سے زیادہ کے مستحق نہیں ، دوسرے وہیں جو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کا بھی خیال رکھتے ہیں ، جو روح و مادہ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہیں جن کی خواہشیں دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ آخری زندگی بھی ان کے مد نظر رہتی ہے ، وہ جہاں دولت وسرمایہ کے ڈھیر جمع کرتے ہیں ، وہاں زاد آخرت کا بھی حصہ وافر حاصل کرلیتے ہیں ، یہ لوگ زیادہ کامیاب ہیں ، ان کے ایک ہاتھ میں دنیا کی نعمتیں ہوتی ہیں اور دوسرے ہاتھ میں دین کی سعادتیں ، ان آیات میں بتلایا کہ مسلمان اور غیر مسلم میں فرق کیا ہے ، غیر مسلم کا نصب العین پست اور ذلیل ہوتا ہے اور مسلمان کی نظریں بلند ہوتی ہیں غیر مسلم کی ساری کاوشیں اور کوششیں مادی خواہشات کے لئے ہوتی ہیں ، اور مسلم دنیا کے لئے بھی کوشاں ہوتا ہے اور آخرت کے لئے بھی گویا ‘ نصب العین اور نتائج کے لحاظ سے مسلمان کافر سے اچھا رہتا ہے مسلم کے معروف معنی غلط ہیں ، وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے معنی دنیا کی نعمتوں سے محرومی ہے ‘ وہ اپنے خیال کی تصحیح کرلیں ، اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی افلاس کو پسند نہیں فرمایا ۔ حل لغات : مناسک : جمع منسک ۔ احکام حج ۔ خلاف : حصہ ۔ نصیب : بہرہ بخرہ ۔
Ayahs 2:201–203

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور کوئی ان میں ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی خوبی دے اور آخرت میں بھی خوبی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

ایسوں ہی کے لئے ان کی کمائی کا حصہ ہے ، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے ۔

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور چند گنتی کے دنوں میں اللہ کو یاد کرو ، پھر جو کوئی (ف 1) جلدی کرکے دو دن میں چلا گیا ، اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو کوئی پیچھے رہ گیا ، اس پر بھی کچھ گناہ نہیں ، اس کے لئے تو ڈرتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جانو کہ تم اسی کے پاس جمع کئے جاؤ گے ۔

(ف 1) مکہ والے تعجیل کی صورت کو برا جانتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو رعایت بخشی کہ اگر وہ جلد فارغ ہو سکے ، اس سے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اس طرح اگر تیسرے دن پر اٹھا رکھے تو بھی حرج نہیں دونوں صورتوں میں جائز ومباح ہیں ۔ مکہ والے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اصرار کرتے تھے اور بڑی بڑی چیزوں کو فراموش کردیتے تھے ، وہ تاجیل وتعجیل کو تو بڑی اہمیت دیتے تھے ، لیکن توحید ان کے نزدیک بےوقعت چیز تھی ، اہتمام بالصغائر اور تساہل عن الکبائر ، یہ وہ مرض ہے جو مردہ اور بےحس قوموں میں پیدا ہوجاتا ہے ، وہ مقاصد و اصول کو پس پشت ڈال دینے میں کوئی باک نہیں سمجھتے اور غیر اہم جزئیات کو اہمیت دیتے ہیں اور اسی کو دین و مذہب کا نام دینے لگتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان جزئیات کو بالخصوص بیان فرمایا اور بتایا کہ ان کا درجہ بہرحال جزئیات سے زیادہ نہیں ۔ اصل شے تقوی وصلاح ہے ، جو تم میں نہیں اور جس کے حصول کے لئے تمہیں کوشاں رہنا چاہئے ،
Ayah 2:204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور بعض آدمی ایسا ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے اچھی لگتی ہے اور وہ اللہ کو اپنے دل کی بات پر گواہ ٹھیراتا ہے ، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے ۔ (ف 2)

خوش گفتار منافق : (ف 2) بعض لوگ زبان کے اتنے میٹھے اور رسیلے ہوتے ہیں کہ ان کے خبث باطن کا کسی طرح علم نہیں ہو سکتا ، یہ بہت خطرناک ثابت ہوتے ہیں ، ان کا ظاہر بڑا فریب وہ ہوتا ہے ، مگر دل میں دنیا جہان کی خرابیاں پنہاں ہوتی ہیں ، قرآن حکیم جو علیم بذات اللہ اور خدا کی کتاب ہے ، وہ تمام برائیاں واشگاف کرکے رکھ دیتا ہے ، جو دل کی پنہائیوں میں پوشیدہ ہے وہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دنیا داری کے لحاظ سے نہایت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن حق کے قبول کرنے کے لئے ان میں ذرہ بھر بھی استعداد نہیں ، ان کی قلبی خباثتوں پر گواہ ہے ، ان کا وطیرہ خدا کی پرامن زمین میں فساد پھیلانے ہے اور جب انہیں اللہ سے ڈرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو اسی وقت دنیوی عزت وجاہ ان کو قبول حق میں آڑے آتی ہے ۔ یعنی اس لئے کہ انہیں سچائی کے لئے کچھ ایثار کرنا پڑے گا اس سے محروم رہتے ہیں ۔ فرمایا کہ یہ لوگ یاد رکھیں ، قیامت کے دن یہ جھوٹی عزتیں اور مصنوعی وقار کام نہ آسکیں گے اور یہ مع اپنی تمام عزتوں کے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔ حل لغات : الدالخصام : سخت جھگڑالو ۔ حرث : کھیتی :
Ayahs 2:205–207

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب پیٹھ پھیرتا ہے زمین پر دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فساد کرے اور کھیتوں اور نسلوں کو ہلاک کرے اور خدا فساد نہیں چاہتا ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو تو تکبر اس کو گناہ کی طرف کھینچتا ہے سو اسے جہنم کافی ہے اور بےشبہ وہ برا ٹھکانا ہے ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور کوئی شخص ہے کہ اپنی جان بیچ کر خدا کی خوشی تلاش کرتا ہے اور خدا بندوں پر شفیق ہے (ف 1)

جاں فروش مومن : (ف 1) ان آیات میں بتایا کہ کچھ لوگ مخلص بھی ہیں اور اس درجہ مخلص ہیں کہ وہ اپنی جانیں خدا کی راہ میں دینے سے بھی دریغ نہیں ۔ جہاں منافقین عزت نفس کے لئے ایمان کی گرانمایہ پونجی کو ضائع کردیتے ہیں ۔ وہاں یہ لوگ جان تک خدا کی مرضی کے بھینٹ چڑھا دینے میں تامل نہیں کرتے ، اس لئے یہ خدا کی آغوش رحمت میں رہیں گے انہیں عبودیت کے مرتبہ سے نوازا جائے گا اور خدائے رؤف کی تمام رحمتیں ان کے شامل حال رہیں گی ۔
Ayah 2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

مومنو ! دین اسلام میں پورے طور پر داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (ف 2)

پورا پورا اسلام : (ف 2) اسلام ایک نظام عمل عقائد ہے ، جب تک کسی نظام کو پوری طرح نہ مانا جائے متوقع فوائد کا مرتب ہونا ناممکن ہے ، اسی طرح وہ لوگ جو چند باتوں کو تو مان لیتے ہیں لیکن اکثر کا عملا انکار کردیتے ہیں ، وہ اسلام کو بحیثیت ایک نظام کے نہیں مانتے ، یہودیوں اور عیسائیوں میں آخر کار یہی مرض پیدا ہوگیا تھا ، جس پر قرآن حکیم نے ڈانٹا (آیت) ” افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض “۔ (کہ تم کتاب کے بعض مفید مطلب حصوں پر تو عمل پیرا ہو ، مگر اہم اور ایثار طلب حصے تمہارے دائرہ عمل سے خارج ہیں ، یہ کیا تماشہ ہے ؟ مسلمانوں سے بھی قرآن حکیم کا مطالبہ یہی ہے کہ اگر اسلام ہمہ صداقت ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ تمہارے لئے مشعل راہ نہ ہو ، مانو تو پورا پورا مانو ۔ ورنہ شیطان کی راہیں کشادہ کشادہ ہیں اور جان لو کہ اسلام کو چھوڑ کر مسلمان کے لئے اس آسمان کے نیچے کہیں فلاح و بہبود کی امید نہیں کی جاسکتی ، شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے ۔ اس کی پیروی خدا سے مخالفت کرتا ہے مسلمان کے سامنے صرف دو راہیں ہیں ، یا تو اسلام کی راہ اور یا شیطان کی درمیان میں کوئی تیسری راہ نہیں ۔ وہ شخص جو زندگی کے کسی شعبہ میں مسلمان نہیں ‘ وہ شیطان کی پیروی کر رہا ہے اور خدا کی اطاعت شیطان کی پیروی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی پس ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کاملا اسلام کے گہرے رنگ میں ڈبو دیں اور ہمارے اعمال ہر طرح اسلامی ہوں ۔ حل لغات : بشری : مصدر شرآء بعضے بیچنا ۔ زللتم : مصدر ذلۃ ، پھسلنا ، پاؤں کا رپٹ جانا ۔
Ayahs 2:209–210

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

پھر اگر تم صاف حکم پانے کے بعد بھی ڈگمگا گئے تو جانو اللہ بڑا زبردست ہے حکمت والا ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 2:210 in the Quran reader

کیا لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آئے اور فرشتے بھی اور بات کا فیصلہ ہوجائے ، حالانکہ اللہ کی طرف سب کام (ف 1) رجوع کریں گے ۔

خدا کی آمد : (ف 1) وہ لوگ جو منکر ہیں ان کو ہرچند دلائل وبراہین سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن وہ بغض وعناد پر ہی قانع رہے یعنی جب انہیں عاقبت کی سختی سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے ، ہم نہیں ماننے کے ، ہم پر کیوں عذاب نہیں آجاتا ، آخر اس میں تامل کیا ہے ؟ چناچہ قرآن حکیم نے ان کے اس مقولے کو نقل فرمایا کہ (آیت) ” فاسقط علینا کسفا “۔ یعنی ہم پر آسمان ٹوٹے پڑے ، ہم بالکل اس کے لئے آمادہ ہیں ۔ اس آیت میں بھی ان کی اس ذہنیت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کی سرکشیاں حد سے گزر گئی ہیں اور عذاب الہی کے سوا یہ مجاز ہے مقصد عذاب الہی کی آمد ہے ، قرآن حکیم نے اس طرح کے انداز بیان کو دوسری جگہوں میں استعمال کیا ہے ۔ جیسے (آیت) ” فاتی اللہ بنیانھم من القواعد “۔ یا (آیت) ” فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا “۔ ورنہ وہ ہر طرح کی جسمانیت سے پاک اور برتر ہے ۔
Ayahs 2:211–212

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 2:211 in the Quran reader

بنی اسرائیل سے پوچھ کہ کس قدر ہم نے ان کو کھلے نشان دیئے تھے اور جس نے خدا کی نعمت کو پا کے بدل ڈالا تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے ۔

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 2:212 in the Quran reader

دنیا کی زندگی پر کافر فریفتہ کئے گئے ہیں اور ایمان داروں پر ہنستے ہیں ، حالانکہ قیامت کے دن پرہیزگار ان کے اوپر ہوں گے اور خدا جس کو چاہے بےحساب رزق دے ۔ (ف 2)

شاہان فقر : (ف 2) ابتدائے اسلام میں مسلمان بیچارے غریب اور مفلس تھے ، روسائے قریش انہیں دیکھ دیکھ کر ہنستے اور کہتے کیا وہ لوگ ہیں جو دنیا کو بدل دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کے خیال میں غربت و افلاس ایک جرم تھا ناقابل عفو ، قرآن حکیم نے بتایا کہ ان کے پاس گو دولت دنیا کی فراوانی نہیں ، مگر ان کے دل ایمان کی دولت گرانمایہ سے مالا مال ہیں ، گو وہ بیش قیمت ملبوسات سے محروم ہیں ، مگر رضائے الہی کا پر فخر تاج انہیں کے لئے تکلیف دہ ہے مگر جنات ونعیم اور کوثر وتسنیم کی نعمتیں انہیں شاہان فقر کے حصہ میں آئیں گی اور تم جو سرداریوں کے مالک اور خزانوں کے سمیٹنے والے ہو ، خدا کی بادشاہت میں مفلس وقلاش ٹھہرائے جاؤ گے ، تمہارے ہاتھ میں ایک حبہ نہیں ہوگا ۔ تمہارا کبر و غرور تمہیں بیحد ذلیل ورسوا کر دے گا ، تم دیکھو گے کہ وہ جو مطاعن و استہزاء کی آماجگاہ ہیں آج سلام وتحیات کے تحفے وصول کر رہے ہیں اور تم ہر طرف سے لعن وطعن سن رہے ہو ۔ معیار عروج وصدقات : تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ دولت کی کثرت معیار عروج وصداقت ہے ، حالانکہ یہ غلط ہے ، اللہ کی بخششوں کا کوئی خاص معیار نہیں ، وہ جسے چاہے ‘ دولت کے انبار بخش دے اور جس سے چاہے چشم زدن میں چھین لے ، بڑے بڑے قابل وشریف اور معزز بھوکوں مرتے ہیں اور جو کمینے اور ذلیل ہیں ان کی تجوریاں بھری رہتی ہیں ۔ اسی طرح کفار وفساق کے خزانے معمور ہیں اور مومن ومسلم کوڑی کوڑی کا محتاج ہے ، یہ اس کی بےنیازیاں ہیں کہ وہ بلاحساب ومعیار کے دیتا ہے جس کو چاہے دے ، جتنا چاہے دے ، اس کا ہاتھ روکنے والا کون ؟ البتہ اس چیز کو سلبا یا ایجابا معیار حق و باطل نہ سمجھنا چاہئے ، ایک اللہ کا پیارا بندہ سلیمان (علیہ السلام) ایسی حکومت بھی حاصل کرسکتا ہے اور مسیح (علیہ السلام) ایسا فقیر پیٹ پر پتھر بھی باندھ سکتا ہے ، اور کونین کی بادشاہتیں بھی حاصل کرسکتا ہے ، اس لئے وہ جن کے پاس دولت ہے مگر ایمان کی دولت سے محروم ہیں ‘ مغرور نہ ہوں اور وہ مسلمانوں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں ، اور وہ جو ایمان کے گنج گراں مایہ سے بہرہ ور ہیں ‘ وہ قلت وفقر کی شکایت نہ کریں اور کفر کے غنا کو دیکھ کر جلیں نہیں ، اس لئے کہ نہ دینے میں اسے دیر لگتی ہے اور نہ چھیننے میں ۔
Ayah 2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:213 in the Quran reader

(پہلے) آدمیوں کا ایک ہی دین تھا ، (ف 1) پھر خدا نے نبیوں کو خوشی اور ڈر سنانے والا بنا کے بھیجا ، اور سچی کتاب ان کے سات نازل کی ، تاکہ لوگوں کے درمیان ان کی اختلافی باتوں میں فیصلہ کرے کتاب میں صاف احکام پہنچنے کے بعد انہیں لوگوں نے جن کو وہ دی گئی تھی ، جھگڑا ڈالا اور یہ آپس کی ضد سے ہوا ، سو خدا نے ایمانداروں کو اس سچی بات کی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے ہدایت کی ہے اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راہ بتائے ۔

(ف 1) ان آیات میں پہلی بات تو یہ بتلائی کہ ابتداء تمام لوگ ایک ہی خیال وفکر کے تھے ، آہستہ آہستہ ضروریات بڑھیں اور اختلاف ہوتا گیا اور جب اختلاف حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے ، تاکہ وہ اختلافات میں انسانی جماعت کی صحیح رہنمائی فرمائیں ، دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو کتابیں اور صحیفے دیئے گئے ، اس لئے کہ ان کے بغیر اختلاف کا مٹنا ناممکن تھا اور میری بات یہ کہ مومنین کی جماعت میں اختلاف نہیں ہوتا ، وہ مشکوۃ نبوت کی روشنی میں اپنے خیالات و انکار کو پرکھتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ان میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی ، ان آیات سے مندرجہ ذلیل اصول معلوم ہوئے : ۔ (1) انبیاء (علیہم السلام) شدید اختلاف رونما ہونے کے وقت آتے رہے ۔ (2) انہیں فیصلہ کن کتابیں دی جاتی رہیں جس سے اختلافات مٹ جائیں ۔ (3) ان کے آنے کے بعد متحد الخیال والفکر جماعت پیدا ہوجاتی ہے اور یہی صراط مستقیم ہے ۔ یہ خیال رہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو عیسائیوں نے غلو اختیار کیا وہ ان کی غیر حاضری میں پیدا ہوا ، وہ جو کتاب لائے ، اس میں کسی طرح شرک کی تعلیم نہ تھی اور ان کے سچے حواری جن کا قرآن حکیم میں ذکر ہے وہ متحد ومشفق تھے ۔ حل لغات : امۃ : ہر وہ جماعت جو کسی ایک بات میں اشتراک رکھتی ہے ۔ بعث : بھیجا ۔
Ayah 2:214

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ Open ayah 2:214 in the Quran reader

کیا تم (مسلمان) خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے ، حالانکہ ابھی تک تم پر ان کے حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں کہ انہیں سختیوں اور تکلیفوں نے پکڑا تھا اور وہ ہلائے گئے تھے ، یہاں تک کہ ان کا رسول ﷺ اور اس کی ایماندار ساتھی کہتے تھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی ، سنو اللہ کی مدد نزدیک ہے (ف 1) ۔

راہ عشق کی دشواریاں : (ف 1) غزوہ احزاب میں جب مسلمانوں کے خلاف عرب کی تمام قومیں جمع ہو کر چڑھ آئیں اور اسلام کفر کے عین درمیان گھر گیا تو اس وقت بعض کمزور دل مسلمان گھبرا گئے ، منافقین کو موقع ملا اور انھوں نے ان کی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی ٹھانی اور کہا کہ دیکھو اگر محمد ﷺ سچے ہوتے تو آج اس طرح کیونکر کفار کے نرغے میں پھنس جاتے ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، جس سے دل مضبوط ہوگئے اور نور یقین سے جگمگا اٹھے اور منافقین کا پھیلایا ہوا ہم رنگ زمین جال تار تار ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اتنی سی آزمائش میں گھبرا گئے ہو ، ہم تک پہنچنے کے لئے کس قدر مصائب جھیلنا پڑتے ہیں ؟ تم سے پہلی قوموں لے کیا کیا دکھ اٹھا لئے ؟ کیا کیا سختیاں برداشت کیں ؟ جانتے ہو ان پر مصائب و حوادث کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ، انہیں دار پر کھینچا گیا ، انہیں زندہ جلایا گیا ، انہیں تنگدستی و افلاس کے ہولناک دوروں سے گزرنا پڑا ، مگر پھر بھی ایمان کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ، مصیبتیں اس قدر آئیں کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے ابتلا اور آزمائش کی سخت گھڑیوں میں ان کے پاؤں نہیں جمتے تھے ۔ رسول جو پیکر صبر و عزیمت ہوتے ہیں ، چلا اٹھے کہ (آیت) ” متی نصر اللہ “۔ خدایا ! کب مدد پہنچے گی ؟ جب جا کر اللہ نے ان کی سنی اور نصرت واعانت سے انہیں نوازا اور تم ہو کہ یونہی گھبرا گئے ہو ۔ یہ قاعدہ ہے کہ مقصد یا نصب العین جس قدر بلند اور عظیم ہوگا ، اس کا حصول اسی قدر کٹھن ہوگا ۔ اللہ کی رضا ، اس کی خوشی جس پر ہماری تمہاری مسرتیں قربان ہیں ‘ کتنا بلند مقصد ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ اس کا حصول بھی مشکل ہو ، ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ راہ کی دشواریوں سے سالک گھبرا نہ جائے ، راستے میں قدم قدم پر ابتلاء وآزمائش کے کانٹے بچھے ہیں ، سب سے الجھنا ہوگا ، چپہ چپہ اور گوشے گوشے میں حرص وآز کے جال میں بچھے ہیں جن سے ایک دم دامن بچا کے نکل جانا ہوگا اور یہ کہنا ہوگا ۔ ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے :
Ayah 2:215

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 2:215 in the Quran reader

لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا چیز خرچ کریں ۔ (ف 2) ، تو کہہ جو مال خرچ کرو ‘ وہ والدین اور ناتے داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے اور جو نیکی تم کرو گے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ۔

(ف 2) یہ ضروری نہیں کہ (آیت) ” یسئلونک “ سے پہلے کوئی سوال بھی ہو ۔ بات یہ ہے کہ قرآن حکیم ضروریات انسانی کے موافق نازل ہوا ۔ اس لئے وہ چیزیں جن کی ہم کو ضرورت ہوتی ہے ‘ وہ اسے (آیت) ” یسئلونک “ کے رنگ میں ذکر کردیتا ہے ، یہ انداز بیان ہے اس لئے اچھے ہر موقع پر شان نزول کی تلاش چنداں مفید نہیں ۔ یہ بھی قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے کہ وہ سوالات جو پیدا ہوتے ہیں ان کا رخ زیادہ اہم اور زیادہ سائستہ اعتناباتوں کی طرف پھیر دیتا ہے ۔ ان آیات میں سوال بظاہر یہ ہے کہ کیا خرچ کریں ، جواب یہ ہے کہ ان ان مقامات پر خرچ کرو ، مقصد یہ ہے کہ بتایا جائے کہ کچھ بھی خرچ کرو ، بہرحال اس کا مصرف صحیح ہونا چاہئے بعض اوقات گراں قدر صدقات بھی صحیح مصرف نہ ہونے کی وجہ سے بیکار ہوجاتے ہیں ، مصرف یہ ہیں ، سب سے پہلے والدین ‘ اس کے بعد اقربا ‘ اس کے بعد یتمی اور مساکین اور اس کے بعد مسافر ، مگر آج ان آیات پر کن کا عمل ہے ہمارے یتیم خانے کہاں ہیں ، مقروض اور مسکین مسلمانوں کے لئے کہاں ٹھکانا ہے ؟ مسافر خانے کس قوم نے تعمیر کئے ہیں ؟ ان سوالات کے جواب مسلمان قرآن حکیم کی روشنی میں سوچیں ۔ حل لغات : الباساء : تکلیف ۔ الضرآء : نقصان ، خیر : بھلائی ۔ مال ۔ ابن السبیل : مسافر ۔
Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

لڑائی (جہاد) (ف 1) تم پر فرض ہوا ہے اور وہ تمہیں برا معلوم ہوتا ہے اور شاید تم کسی چیز کو برا سمجھو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور شاید تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

فرضیت جہاد : (ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ منجملہ تمام آزمائشوں کے سب سے بڑی آزمائش جہاد ہے ، مال و دولت کی قربانی آسان ہے ، گر سربکف ہو کر میدان جہاد میں نکل آنا مشکل ۔ ہوسکتا ہے کہ بعض طبیعتیں اسے زیادہ کڑی آزمائش تصور کریں ، لیکن اس کے فوائد کے مقابلہ میں یہ کوئی چیز نہیں ، قوموں کی زندگی ان کے جذبہ جہاد سے وابستہ ہے ، وہ جو جنگ سے جی چراتے ہیں ، ان کا قدرت سخت ترین امتحان لیتی ہے ، وہ جن کے ہاتھ اپنی حفاظت میں نہیں رہتے ‘ وہ کچل دیئے جاتے ہیں ، بزدیوں اور کمزوریوں کو جو اپنے سامنے حق کا خون ہوتا دیکھیں اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ تو کہہ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس کی نہ ماننا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے اہل کا وہاں سے نکالنا (ف 1) خدا کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے اور دین سے بچلانا (پھرنا یا پھرانا) قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور وہ تو تم سے لڑنے کو لگے رہتے ہیں ، تاکہ اگر ان سے ہو سکے وہ تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے خود پھر گیا (ف 2) اور کفر ہی میں مر گیا ‘ تو ایسوں ہی کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوجاتے ہیں اور وہی دوزخی ہیں ۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

(ف 1) مکہ والے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال چکے انہیں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچا چکے ، اب الٹے مسلمانوں پر معترض ہیں کہ یہ کیوں شہرحرام میں ہم سے نبرد آزمائیں ۔ اعتراض کا جواب یہ دیا کہ اشہر حرم کی حرمت وعزت مسلم ، و لیکن تمہاری شرارتیں کیا اس جہاد سے زیادہ خطرناک نہیں ؟ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ہر رواداری کے لئے تیار ہے ، مگر حق کی فی بین وہ ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔ حل لغات : صد : روکنا ۔ مرتد کے عمل ضائع جاتے ہیں : (ف 2) کفر کی ہمیشہ یہ کوشش وہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو اپنا ہمنوا بنالے ۔ کفار مکہ اور یہودیوں نے ارتداد کے لئے ذلیل سے ذلیل وسائل اختیار کئے ، مگر ایمان کے پکے اور عقائد کے مضبوط مسلمان ہمیشہ ایمان کو بچائے گئے اور وہ خائب و خاسر رہے جو مسلمانوں کے ارتداد کا خواب دیکھا کرتے تھے ۔ ان آیات میں بتایا کہ مرتد جو دین حنیف کا انکار کر دے صراط مستقیم سے دور ہٹ جائے اور جادہ صدق وصفا کو چھوڑ کر نفاق وکفر کی پگڈنڈیوں پر ہولے ، وہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا ، اس کی کوشش رائیگاں جائے گی اور اس کے اعمال اسے ذرہ برابر فائدہ نہیں پہنچائیں گے ، ارتداد اسلام کا بحیثیت مجموعی انکار کرتا ہے ، اس کی سزا عقبی میں سخت ترین ہوگی ، دنیا میں قتل ہے ، چناچہ بنی اسرائیل جب موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر حاضری میں مرتد ہوگئے اور بچھڑے کو پوجنے لگے تو (آیت) ” فاقتلوا انفسکم “ کی سزا ان کے لئے تجویز کی گئی ، عرنینن جب جب حضور ﷺ کے زمانے میں مرتد ہو کر بھاگ گئے تو حضور ﷺ نے بھی انہیں قتل کی سزا دی ، اور یہ بھی فرمایا کہ (آیت) ” من بدل دینہ فاقتلوہ “ کہ مرتد کی سزا قتل ہے ، اس آیت میں بھی (آیت) ” حبطت اعمالھم فی الدنیا “۔ کا لفظ ان کے قتل کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور یہ اس لئے کہ اسلام عقل و دانش کا دین ہے ، وہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ سوچ سمجھ کر اسلام کو قبول کرو ، اور جب تک سوفی صدی یقین نہ آجائے ، ایمان نہ لاؤ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص اسلام کو ترک کرتا ہے تو وہ توہین مذہب کا مرتکب ہوتا ہے جس کی سزا قطعی قتل ہونا چاہئے ۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا (ف 2) وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 2) مجاہدین ومہاجرین ہی اللہ تعالیٰ کی بیش قیمت نعمتوں کے سزا وار ومستحق ہیں ، اس لئے کہ یہی پاک نفوس وہ ہیں جنہوں نے لذات نفس سے کنارہ کشی کی اور حق کے لئے ہر طرح کی مصیبت کو گوارا کیا ، اسلام مسلمانوں کے لئے دو راہیں تجویز کرتا ہے ، یا تو وہ باطل سے معرکہ آراہوں اور یا اس زمین کو چھوڑ دیں جو ان کے لئے فتنہ کا باعث ہو ، گویا مسلمان ضمیر کا آزاد پیدا کیا گیا ، وہ غلامی اور بزدلی کو قطعا برداشت نہیں کرسکتا ۔ وہ اپنے آرام و آسائش کو ترک کرسکتا ہے ، مگر حق سے کنارہ کشی و علیحدگی اس کے لئے سخت مشکل ہے ، (آیت) ” واللہ غفور رحیم “۔ کے معنی یہ ہیں کہ جہاد سب سے بڑی عبادت ہے اور مجاہد سب سے بڑا مرتاض ، اس لئے خدا کی رحمتیں اس کے لئے نسبتا زیادہ وسیع ہوں گی ، اس لئے چاہئے کہ مسلمان بھی مجاہدین کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے متہم نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی بڑی منزلت ہے ، وہ شخص جو اپنا سر لے کر خدا کے حضور میں پہنچ جائے ، اس سے اور کس چیز کی امید رکھتے ہو ؟ کیا اس سے کوئی اور بڑی قربانی ہو سکتی ہے ؟
Ayah 2:219

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

جوئے (ف 3) اور شراب کی بابت تجھ سے سوال کرتے ہیں ، تو کہہ ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے فائدوں سے زیادہ ہے تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیز خرچ کریں (ف 1) تو کہ جس قدر حاجت سے زیادہ ہو ، یوں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے شائد تم فکر کرو ۔

شراب اور جوا : (ف 3) اسلام سے پہلے جوئے اور شراب کے سختی سے عادی تھے اور وہ شخص جو شراب نہ پئے اور جوا نہ کھیلے اسے کہتے تھے ‘ یہ ” برم “ ہے یعنی کمینہ ہے اور سوسائٹی کے لئے باعث توہین ہے ۔ حضرت عمر ؓ جو انوار نبوت کے اکتساب میں یدطولی رکھتے تھے اس کو بہت برا جانتے تھے ، انہوں نے دعا کی ، اے اللہ ! شراب کے متعلق فیصلہ کن حکم نازل فرما ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شراب اور جوئے میں گو عارضی فائدے بہت ہیں ، لیکن مستقل نقصان کہیں زیادہ ہے ، اس لئے یہ دونوں چیزیں بری ہیں ۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا ، اس سے بھی زیادہ واضح حکم نازل ہو تو سورة نساء کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “۔ مگر اس میں بھی تھوڑی سی رعایت تھی ، اس لئے پھر مطالبہ کیا گیا تو آخری اور فیصلہ کن آیت نازل ہوئی کہ (آیت) ” فھل انتم منتھون “ کہ رکتے بھی ہو یہ نہیں ۔ اس پر انتھینا انتھینا کی صدائیں بلند ہوئیں ، ساغر ومینا کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے اور صدیوں کے رسیا ایک دم پارسا بن گئے یہ اسلام کا اعجاز ہے ۔ حل لغات : یرتدد : ارتداد ، پھرجانا ۔ الخمر : ہر وہ چیز جو دماغ وعقل کو بےقابو کر دے ۔ میسر : جوا ۔ قمار بازی ۔ (ف 1) جوئے اور شراب کی حرمت کے بعد جذبہ سخاوت کو کہاں صرف کیا جائے ، ان آیات میں اس کا جواب دیا ہے کہ جو ضروریات سے زائد ہو ، اسے شراب وقمار کی بجائے نیک کاموں میں صرف کرو ۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یتیموں (ف 2) کی بابت تجھ سے پوچھتے ہیں تو کہہ ان کا سفوارنا بہتر ہے اور اگر تم ان کا خرچ اپنے میں ملا رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خرابی کرنے والے اور سنوارنے والے کو جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تم پر مشکل ڈال دیتا ، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔

(ف 2) یتامی کے متعلق اسلام نے سختی سے ان کے اولیا اور سرپرستوں کو ڈانٹا کہ ان کا مال کھانے سے باز آؤ چناچہ فرمایا (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم “۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو دیانت دار تھے اور یتامی سے سچی ہمدردی رکھتے تھے ، ڈرے اور ان کے لئے یتامی کی تربیت سخت مشکل مسئلہ بن گئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مقصد اصلاح ہو تو پھر مخاطب میں جو ناگزیر حالات تک ہو مضائقہ نہیں اس لئے کہ وہ بھی تو آخر تمہارے بھائی ہیں اور اچھے سلوک کے مستحق ہیں ، البتہ یہ ملحوظ رہے کہ ادنی سی بےانصافی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی نہیں رہ سکتی ، وہ خوب جانتا ہے کون اصلاح کے ارادہ سے یتامی پر داری کر رہا ہے اور کون وہ ہے جس کی نیت ان کو لوٹنے کی ہے ، اسلام نے یتامی کی تربیت پر بہت زور دیا ہے ، اس لئے کہ یہ قوم کے بچے ہوتے ہیں اور کوئی قوم اس وقت تک کود دار قوم نہیں کہلا سکتی جب تک وہ اپنے یتیم بچوں کی پرورش نہ کرے ۔ حل لغات : امۃ : لونڈی ۔ باندی بندی ۔
Ayah 2:221

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور مشرکہ عورتوں کو نکاح میں نہ لاؤ جب تک وہ ایمان نہ لائیں ، اور البتہ مسلمان باندی مشرکہ (بی بی) سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھی معلوم ہو ، اور مشرک (مردوں سے ) نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں (ف 1) اور البتہ مسلمان غلام مشرک سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمہیں اچھا معلوم ہو ، یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تم کو مغفرت اور جنت کی طرف اپنے اذن سے بلاتا ہے اور لوگوں کے لئے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے شاید وہ نصیحت مانیں ۔

مشرکین سے رشتہ ناطہ ممنوع ہے : (ف 1) مشرک اور مشرکہ کی اصطلاح قرآن حکیم میں غیر کتاب یا غیر الہامی قوموں میں ہے ، عیسائی بھی مشرک ہیں اور یہودی بھی لیکن قرآن حکیم نے ان سے رشتہ مناکحت کو جائزتصور فرمایا ہے (اس صورت میں کہ مرد مسلم ہو) اس کی ایک معقول وجہ ہے عام طور پر ازدواجی تعلقات وحدت خیال اور وحدت مذاق کو دوسری تمام ترجیحات سے ضروری قرار دیا جاتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس کے بغیر یہ رشتہ قائم نہیں رہتا ، شادی کا مقصد ہی جب کامل سکون ہے اور بیوی ہوتی ہی یہ ہیں کہ اس کے ساتھ وابستہ ہو کر مرد تمام پریشانیوں کو بھول جائے جیسا کہ قرآن حکیم نے فرمایا (آیت) ” لتسکنوا الیھا “۔ تو ضروری ہے کہ جانبین زیادہ سے زیادہ حدتک خیالات اور رجحانات میں ہم آہنگ ہوں ۔ اہل کتاب اصولا توحید کے قائل ہیں ، کم از کم ان کی کتابوں میں تو ذکر ہے سلسلہ نبوت کو جانتے ہیں ، حشر ونشر پر ان کا اعتقاد ہے تمام انبیاء سے متعارف ہیں ، اس لئے وحدت خیال کے بہت سے موقع موجود ہیں ۔ اس لئے اسلام نے اجازت دے دی کہ ان سے ازدواجیات کے تعلقات ہو سکتے ہیں ۔ مگر مشرک مرد اور مشرک عورت کے طبیعت اور خیالات میں زمین وآسمان کا فرق ہے ، اس لئے ان سے رشتہ ناطہ ممنوع ہے اور اس حد تک ممنوع ہے کہ مال و دولت یا حسن و جمال کی فراوانی بھی وجہ جواز نہیں بن سکتی ۔ قرآن حکیم نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ مشرک عورتیں تمہیں زیادہ جاذب اور خوبصورت معلوم ہوں یہ بھی ممکن ہے کہ مشرک مرد تمہیں زیادہ کامیاب اور فارغ البال نظر آئیں مگر اس لئے کہ روح کی خوبصورتی سے محروم ہیں اور دولت ایمان نہیں رکھتے ، یہ کسی طرح بھی مومن مرد اور مومن عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ اس قسم کے رشتہ جن میں عقائد وخیالات کی چنداں پرواہ نہیں کی جاتی تربیت اولاد کے حق میں سخت مضر ثابت ہوتے ہیں بچے عام طور پر والدہ اور والد کے خیالات کے تابع ہوتے ہیں اور اگر وہ دیکھیں کہ دونوں ماں اور باپ مذہب کے اعتبار سے مختلف ہیں تو وہ کسی خاص خیال کو دل میں جگہ نہیں دیتے اور دہریت والحاد میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” اولئک یدعون الی النار “ ۔ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ رشتہ مناکحت بجائے خود ایک دعوت ہے اس لئے وہ لوگ جو کامل مسلمان نہیں ہیں ‘ عیسائی عورتوں سے حتی الوسع بچیں ، ایسا نہ ہو کہ وہ انہیں بھی عیسائیت کے سیلاب میں بہا کرلے جائیں اعاذنا اللہ ۔
Ayah 2:222

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور تجھ کو حیض کی بابت پوچھتے ہیں تو کہہ وہ گندگی (ف 2) ہے سو حیض کے وقت عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو لیں ‘ ان کے قریب نہ جاؤ پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس ادھر سے جاؤ جدھر سے خدا نے تم کو حکم دیا ہے ، بیشک اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو ۔

(ف 2) قرآن حکیم ایسی کتاب ہے جس میں ہماری تمام ضروریات زندگی کو برملا بیان کردیا گیا ہے اور تمام آداب حیات کو واضح طور پر ظاہر کردیا گیا ہے تاکہ مسلمان کسی بات میں جاہل نہ رہیں ۔ حسن معاشرت اخلاق کا ایک اہم حصہ ہے اور وظائف جنسی کی تشریح و توضیح ان حالات میں اور بھی ضروری ہوجاتی ہے ، جبکہ قوم میں شہوانی جذبات زیادہ ہوں ، قرآن حکیم کے زمانہ میں ایسے لوگ تھے جو اس معاملے میں جائز وناجائز کا خیال نہیں رکھتے تھے ، جیسا کہ ابو الاجداح کے سوال سے مترشح ہوتا ہے ، اس لئے فرمایا کہ حیض کے دنوں میں مباشرت ممنوع ہے ، اخلاقا بھی اور طبعا بھی ” اذی کا لفظ وسیع ہے اور ان دونوں معنوں کو شامل ہے ۔ حل لغات : عبد : غلام خدا کا بندہ ۔ محیض : بمعنی حیض ۔
Ayah 2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:223 in the Quran reader

تمہاری عورتیں تمہارا کھیت ہیں (ف 1) سو تم اپنے کھیت میں جیسے (جب) چاہو ، جاؤ اور اپنی جانوں کے لئے پہلے سے تدبیر کرو اور خدا سے ڈرو اور جان لو کہ تمہیں اس سے ملاقات کرنا ہے اور خوشخبری سنا ایمانداروں کو ۔

تربیت اولاد : (ف 1) اس لئے پیشتر کی آیات میں بتایا گیا تھا کہ عورت کی عزت و حرمت کے یہ منافی ہے کہ تم اس سے ہر حال میں جنسی جذبات کی توقع رکھو ان آیات میں بتایا کہ عورت کی حیثیت ودرجہ کیا ہے ۔ اسلام سے پہلے عورتوں سے نہایت برا سلوک کیا جاتا تھا ، اسلام نے آکر بتایا کہ عورتیں عزت واحترام کی مستحق ہیں اور کھیتی کی مانند ہیں ، جس طرح ایک کسان اور زمیندار اپنی کھیتی کا خیال رکھتا ہے اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے اپنی قیمتی متاع سمجھتا ہے اسی طرح مسلمان کو عورت کی عزت کرنا چاہئے ، جس طرح کھیتی سے ہمارے لئے مختلف النوع چیزیں مہیا ہوتی ہیں ، اسی طرح عورتیں ہمارے لئے ہماری اولاد پیدا کرتی ہیں اور جس طرح ایک کاشت کار کی غرض یہ ہوتی ہے کہ پیداوار قیمتی ہو ، اسی طرح مرد کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ نیک اور تندرست نسل پیدا کرے جو اس کے لئے اور امت مسلمہ کے لئے باعث برکت ثابت ہو ، یعنی ان کی تربیت میں شدید سے شدید محنت برداشت کرے ، بالکل کسان کی طرح کہ وہ سخت جاڑوں میں بھی صبح صبح کھیت میں پہنچ جاتا ہے ، (آیت) ” وقدموا لانفسکم ، وبشرالمؤمنین “ کا مطلب صاف صاف یہ ہے کہ تم اس رشتہ کی اہمیت کو سمجھو ، صرف وضائف جنسی کا کسی نہ کسی طرح ادا کردینا کوئی قابل اجر بات نہیں ، البتہ نیک ومستعد اولاد پیدا کرنا ضرور لائق بشارت وتبریک ہے ۔
Ayah 2:224

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:224 in the Quran reader

اور خدا کو اپنی قسموں کا حیلہ نہ بناؤ (ف 2) کہ نہ سلوک کرو اور نہ اللہ سے ڈرو اور نہ لوگوں میں اصلاح کراؤ اور خدا سنتا اور جانتا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ خدا کی قسم سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ ، یعنی اگر کسی اچھے کام کے نہ کرنے پر قسم کھالو تو اسے توڑ دو میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی بات کے متعلق قسم کھالے اور اس کے بعد اسے محسوس ہو کہ اس نے غلطی کی ہے تو قسم توڑ دے اور کفار دے دے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی حالت میں بھی مسلمان کو نیکی کرنے سے نہیں روکتے ۔
Ayah 2:225

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 2:225 in the Quran reader

تمہاری بیہودہ قسموں (ف 3) پر خدا تمہیں نہیں پکڑے گا لیکن جو کچھ تمہارے دل کماتے ہیں ان پر تمہیں پکڑے گا اور خدا بخشنے والا بردبار ہے ۔

(ف 3) قسم کھانے کی ایک قسم وہ ہے جس کا تعلق قصد و ارادہ سے نہیں ہوتا ، بلکہ عادۃ یونہی اس نوع کے کلمات منہ سے نکل جاتے ہیں قضاءً اور عنداللہ بہ حلف نہیں سمجھا جائے گا ۔
Ayah 2:226

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:226 in the Quran reader

ان لوگوں کو جو اپنی عورتوں (ف 1) سے نہ ہم بستر ہونے پر قسم کھا بیٹھتے ہیں ‘ چار مہینے تک کی مہلت ہے پھر اگر وہ مل گئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔

ایلاء کا حکم : (ف 1) ایلاء کے مفہوم میں اختلاف ہے لغۃ قسم کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، شرعا متفق علیہ مفہوم جس پر جمہور کا اتفاق ہے ، وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی عورت کی مقاربت سے چار مہینے سے زائد مدت کے لئے پرہیز کا عہد کرلے اور ہم کھالے کہ وہ اس عرصے میں عورت کے نزدیک نہیں جائے گا اور چار مہینے یا اس سے کم مدت کے لئے قسم کھائے تو اس کا حکم یمین بعض کا حکم ہوگا ایلاء کا نہیں ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) اور دیگر فقہائے عظام کا یہی مذہب ہے ۔ جب یہ صورت حالات پیدا ہوجائے تو پھر یا تو چار مہینے صبر کرکے رجوع کرلے تو اس صورت میں کوئی کفارہ نہ ہوگا اور یا اگر مدت سے پہلے رجوع کرلے تو کفارہ یمین دے اور اگر کوئی طور پر انقطاع کا قصد ہو تو طلاق دے دے ، رجوع کے متعلق فرمایا (آیت) ” واللہ غفور حلیم “۔ یعنی نباہ کرنا بہرحال بہتر ہے قسم کی پرواہ نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے اور طلاق کے متعلق فرمایا ۔ (آیت) ” فان اللہ سمیع علیم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ مانتے اور سنتے ہیں کہ تم دونوں میں سے کون ظالم اور کون مظلوم ہے لہذا طلاق کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے ، ذرا سی غفلت میں دونوں زندگیاں تباہ ہوجاتی ہیں ۔
Ayahs 2:227–228

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:227 in the Quran reader

اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کرلیا تو اللہ سنتا اور جانتا ہے ۔

وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:228 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتیں (ف 2) اپنے آپ کو تین حیض حیض تک نکاح دیگر سے روکیں اور ان کو اس کا چھپانا جو خدا نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے حلال نہیں ہے اگر وہ اللہ پر اور آخری دن پر ایمان رکھتی ہیں اور اس عرصہ میں اگر وہ صلح کرنا چاہیں تو ان کے خاندوں کا حق ہے کہ انہیں پھیر لیں اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسے مردوں کا ان پر حق ہے دستور کے موافق اور مردوں کا عورتوں کے اوپر (درجہ ہے) اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔

مطلقہ اور اس کی عدت : (ف 2) اسلام نے جہاں عورت کی عزت و حرمت کا جائز اعتراف کیا ہے وہاں اس نے اس کی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہے اور جو بات کہی ہے وہ عین فطرت نسوانی کے لئے مفید ہے ، مثلا طلاق اصولا دونوں دونوں طرف سے ہو سکتا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے اس درجہ شکایت ہو سکتی ہے کہ وہ علیحدہ ہوجانے پر مجبور ہوں ، مگر عورت از خود اس کی مجاز نہیں اور یہ اس لئے کہ عورت فطرتا عقل سے جذبات کی زیادہ تابع ہوتی ہے ، اسے اگر طلاق وتخلی کے اختیارات دے دیئے جائیں تو وہ اپنی زندگی نہایت تکلیف میں بسر کرے اور تلخ کرلے ۔ وہ لوگ جنہوں نے اسلامی نظام طلاق کا مطالعہ نہیں کیا ، معترض ہیں کہ دیکھئے اسلام نے کس طرح عورت کے حق ازواج کو چھین لیا ہے اور ہر وقت اسے طلاق کے ڈر سے سہما رکھا ہے ، حالانکہ طلاق کی حیثیت بغض المباحات کی ہے یعنی ناپسندیدہ مگر ناگزیر علیحدگی کی کیا اس قسم ونوع کے حالات پیدا نہیں ہوتے ، کہ میاں بیوی الگ ہوجائیں ، اس سے دونوں کی عزت محفوظ ہوجاتی ہے ، دونوں ایک دوسرے کی جانب سے عافیت میں ہوجاتے ہیں اور دونوں آزاد ہوجاتے ہیں کیا شادی کرلینے کے بعد مرد بہرحال نباہ کرنے پر مجبور ہے جبکہ اس کا دل نہیں چاہتا ۔ بات یہ ہے کہ ہم معاملات کو واقعات اور انسانی فطرت کی روشنی میں نہیں دیکھتے بلکہ ان کی محض منطق و قیاس کی رو سے دیکھتے ہیں ۔ یعنی ہم صرف معاملہ کے اس پہلو کو بھول جاتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ قرآن حکیم نے مطلقات کو تین قروء کی جو رعایت دی ہے اس لئے ہے کہ شاید دونوں میں صلح ہوجائے اور دونوں پھر بدستور میاں بیوی رہیں ، مطلقات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو مدخولہ ہوں اور حاملہ نہ ہوں ، غیر مدخولہ کا حکم الگ ہے ، اس کے متعلق فرمایا (آیت) ” فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا “۔ حاملہ کے متعلق ارشاد فرمایا : (آیت) ” واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن “۔ قروہ کے متعلق اختلاف ہے ، بعض کے نزدیک اس سے مراد مدت ظہر ہے اور بعض کے نزدیک مدت حیض اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ قروء زوات الاضداد میں سے ہے ، اس کا اطلاق حیض اور ظہر دونوں پر ہوتا ہے ، قروء کے اصل معنی مدت واجل کے ہیں جیسے ھبت الریاح لقرونھا ، چونکہ ظہر وحیض دونوں ایک قسم کی مدت ہیں ‘ اس لئے دونوں پر لغوا اطلاق درست ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں یہ لفظ دونوں معانی میں برابر استعمال ہوا ہے حیض کے لئے جیسے فرمایا ” دعی الصلوۃ ایام اقرائک بالطلاق الامۃ تطلیقتان وعدتھا حیضتان “۔ ظہر کے لئے جیسے قرآن میں فرمایا (آیت) ” فطلقوھن لعدتھن “ اور ظاہر ہے کہ عدت طلاق طہر ہے ، مگر مقصد چونکہ مہلت دینا ہے ‘ اس لئے اوسع اور تین مراد لیا اور یہ منشائے شریعت کے زیادہ مطابق ہوگا ، لہذا حیض زیادہ قرین قیاس ہے اور یوں دونوں معانی کے لئے گنجائش ہے ، عورت کو یہ ہدایت کی کہ ہو جو کچھ اس کے رحم میں ہے چھپائے نہیں ، اس لئے کہ فیصلہ اس صورت میں صرف عورت کی بات پر ہوگا ۔ یہ بھی فرمایا کہ اثنائے عدت میں مردوں کو اختیار رجوع ہے ، اگر وہ اصلاح چاہیں ، اس کے بعد یہ بتایا کہ عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ، بجز اس کے کہ مردوں کے ذمہ نفقہ و قیام کی ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں ، اس لئے معمولی باتیں طلاق وتخلی کا باعث نہ بنیں اور حتی الوسع صلح کرلی جائے ۔
Ayah 2:229

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:229 in the Quran reader

طلاق دو بار ہے پھر خوبی کے ساتھ روک لینا ہے یا نیکی سے رخصت کرنا اور تمہیں حلال نہیں کہ اپنے دیئے ہوئے میں سے کچھ ان سے واپس لو ۔ مگر جب وہ دونوں ڈریں کہ خدا کے قاعدے قائم نہ رکھ سکیں گے پس اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں خدا کے قاعدے قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں کہ عورت بدلہ دے کے چھوٹ جائے ، یہ خدا کے مقرر کئے ہوئے قواعد ہیں سو تم ان سے باہر نہ ہو اور جو کوئی خدا کے مقرر کئے ہوئے قاعدوں (ف 1) سے باہر ہوا ، سو وہی لوگ ظالم ہیں ۔

(ف 1) ان آیات میں طلاق کی تحدید فرما دی ، زمانہ جاہلیت میں لوگ بار بار طلاق دیتے اور رجوع کرلیتے جس کی وجہ سے عورتیں بیچاری مردوں کے مظالم کی تختہ مشق بنی رہتیں ، اسلام نے عورتوں پر یہ احسان کیا کہ طلاق کی تحدید کردی ، (آیت) ” تسریح باحسان “ کے معنی یہ ہیں کہ حسن معاشرت اور اخلاق عالیہ بہرحال قائم رہیں ، عورت کو طلاق دینے کے معنی صرف یہ ہونا چاہئیں کہ وہ باعزت طور پر رشتہ مناکحت کو توڑ دے اور بس عورت کو بدنام کرنا یا اس کی توہین کرنا درست نہیں ، بلکہ اگر ایسے مواقع پر عورت کو کچھ دے دے ، بطور الوداعی تحفے اور یادگار کے طور پر تو یہ زیادہ موزوں ہے ، وہ عورت جو مدتوں تمہاری رفیق حیات رہی ہے ‘ کیا اس وقت تمہارے حسن اخلاق کی مستحق نہیں ۔ احسان کی ایک صورت یہ ہے کہ جو کچھ اسے دیا گیا ہے طلاق کے وقت واپس نہ لیا جائے ، حل لغات : تسریح : چھوڑ دینا ۔ افتدت : فدیہ یا معاوضہ دیا ۔
Ayah 2:230

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 2:230 in the Quran reader

پھر اگر دوسری طلاق کے بعد بھی وہ اس کو طلا دے چکا تو اس کے بعد وہ عورت اس مرد کے لئے حلال نہیں ہے جب تک کہ وہ اس کے سوا کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے پھر اگر وہ (بھی) اس کو طلاق دے ڈالے تو ان دونوں کا پھر مل جانا گناہ نہیں ہے اگر وہ خیال کریں کہ خدا کے قواعد ٹھیک رکھ سکیں گے ، یہ اللہ کے قواعد ہیں جنہیں وہ جاننے والوں کیلئے بیان کرتا ہے ۔ (ف 1)

حق خلع : البتہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر عورت کی طرف سے مطالبہ تخلی ہو تو وہ دے دلا کر مرد کو راضی کرلے اور طلاق حاصل کرلے ، اس کا نام اسلامی اصطلاح میں خلع ہے ، یہ عورت کا حق ہے جو اسلام نے بخشا ہے مگر افسوس کہ آج عورتیں اس حق سے محروم ہیں ۔ (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جب عدت میں رجوع کی گنجائش ہو اور اس وقت دو ہی صورتیں ہیں ، یا تو حقوق زوجیت ادا کیا جائے اور پھر انہیں باقاعدہ شرافت کے ساتھ الگ کردیا جائے ، انہیں محض دیکھ دینے کے لئے بار بار رجوع کرنا ، جیسے جاہلیت کے زمانہ میں کرتے تھے ، ناجائز ہے کیونکہ نکاح ایک مقد عہد ہے جس کی رعایت حتی الوسع ضروری ہے اور جب آدمی مجبور ہی ہوجائے تو پھر الگ ہوجائے ، مگر تکلیف نہ دے ، اس لئے یہ اخلاق وتقوی کے خلاف ہے ۔ (آیت) ” بلغن اجلھن سے مراد اس زمانہ آخری کے قریب قریب پہنچنا ہے کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد تو اسلام نے رجوع کا حق ہی نہیں رکھا ، تاوقتیکہ وہ مطلقہ عورت کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور وہ اپنی مرضی سے اسے دوبارہ طلاق نہ دے دے ، جسے فرمایا (آیت) ” حتی تنکح زوجا غیرہ “۔ اس صورت میں دوبارہ نکاح ہو سکے گا ۔ اسلام نے یہ سختی اس لئے روا رکھی کہ جانبین کو طلاق کی خرابیوں کا پورا پورا احساس ہو اور وہ جان لیں کہ ایک دوسرے سے باقاعدہ الگ ہوجانے کے بعد مل بیٹھنے کا پھر کوئی موقع نہیں ، تاکہ ان کے جذبہ و غیرت وحمیت کو ٹھیس لگے اور وہ اس مشنوم اقدام سے باز آجائیں اور تاکہ دونوں کو معلوم ہوجائے کہ کس طرح ایک دوسرے سے باقاعدہ الگ رہ کر زندگی کے دن پورے لئے جاسکتے ہیں ، یوں جہاں تک نظام طلاق کا تعلق ہے ، اسلام نے اسے نہایت مشکل مسئلہ بنا دیا ہے ، مرد و عورت کو اصلاح حالات کا پورا پورا موقع دیا ہے ، مثلا یہ فرمانا کہ (آیت) ” فطلقوھن لعدتھن “ ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی عارضی نفرت نہ ہو جو مرد کو طلاق پر آمادہ کرے ، (آیت) ” الطلاق مرتن “۔ کہہ کر گویا مہلت دی ہے کہ اس عرصے میں رجوع کرلے ، پھر حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ ” الطلاق ابغض المباحات “۔ کہ طلاق بدترین جواز ہے ، بجائے خود یہ ترغیب مصالحت ہے ، ان حالات کے بعد بھی اگر کوئی مجبور ہوجائے تو پھر ظاہر ہے کہ ان کو ایک مدت تک الگ ہوجانا چاہئے اور انتظار کرنا چاہئے ، اگر عورت بیوہ ہوجائے یا دوسرا خاوند طلاق دیدے اور عورت پر نکاح پر راضی ہو تو پھر رشتہ ازدواجی میں منسلک ہوجائیں ، ورنہ اپنے کئے کی سزا بھگتیں ۔
Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچیں تو انہیں خوبی کے ساتھ روک لو یا خوبی کے ساتھ چھوڑ دو اور ان کو ایذا دینے کے لئے نہ روکو ، کہ ان پر زیادتی کرو اور جس نے یہ کیا اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور خدا کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بناؤ اور خدا کا فضل جو تم پر ہے ‘ یاد کرو اور اس چیز کو (بھی یاد کرو) جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے جس سے وہ تم کو سمجھاتا ہے اور اللہ سے ڈرو اور جانو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (ف 1)

آیات اللہ سے استہزا : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو استخفاف و استہزاء کی صورت میں نہ بدل دینا چاہئے جاہلیت میں عرب طلاق دے دیتے اور بعد میں کہتے کہ میں تو محض مذاق کر رہا تھا ، یہ ممنوع ہے ، آج کل بھی تحلیل کے لئے حیلے تراشے جاتے ہیں ‘ وہ نہایت مضحکہ خیز ہیں اور ان سے شریعت غزا کی توہین ہوتی ہے حضور ﷺ نے حلالہ سے منع کیا ہے اور محلل کو ملعون قرار دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ اللہ کی حدود کی توہین نہیں کی جاسکتی ، بعض لوگ درخت سے مرغے سے اور اس قسم کی دوسری چیزوں سے نکاح کردیتے ہیں ‘ اور بعد میں کہتے ہیں کہ اب تحلیل کا مقصد پورا ہوگیا ہے حالانکہ یہ شریعت اسلامیہ سے محض مذاق ہے ، اسلام جو ہمہ حکمت وموعظت ہے اور جس کی کوئی بات فلسفہ ولم سے خالی نہیں ۔ ہرگز اس نوع کی باتوں کا متحمل نہیں ، یہ بالکل وہی مرض ہے جو یہودیوں میں پایا جاتا تھا ، اس سے نصوص کا احترام اٹھ جاتا ہے اور بدعملی والحاد پھیلتا ہے ۔ اعاذنا اللہ منھا ۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچیں تو ان کو اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے (ف 2) نہ روکو ، جبکہ وہ حسب دستور آپس میں راضی ہوجائیں ، یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو تم میں سے خدا اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے ، اس میں تمہارے لئے پاکیزگی اور ستھرائی زیادہ ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

(ف 2) عضل کے معنی روکنے اور مشکل میں ڈالنے کے ہیں دجاجۃ معضلۃ اس مرغی کو کہتے ہیں بمشکل انڈے دے : مضلت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی کے لئے بچہ جننا مشکل ہوجائے ، داء عضال اس بیماری کا نام ہے جو بمشکل دور ہو ۔ مقصد یہ ہے کہ عدت ختم ہونے کے بعد عورت کو دوسرے نکاح کا حق حاصل ہے اور تمہارے لئے جائز و درست نہیں کہ تم انکے نکاح میں روڑ اٹکاؤ اور ان کی مشکلات میں نہ ڈالو ۔ آیت کا روئے سخن یا تو پہلے خاوندوں سے ہے اور یہ اولیاء سے ، عام طور پر جاہل خاوند طلاق دینے کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ ان کی سابقہ بیوی کسی دوسرے سے نکاح نہ کرسکے اس لئے کہ یہ بظاہر ان کی عزت کے خلاف ہے ، وہ ان کے خلاف لوگوں کو اکساتے ہیں ، یہ ناجائز ہے ، اولیاء اور عورت کے دوسرے بزرگ بھی بعض دفعہ انہیں دوسرے نکاح سے روکتے ہیں یہ بھی مصالح کے خلاف ہے ، اس لئے فرمایا کہ ایسا نہ کرو حالات ومستقبل کا علم تمہیں نہیں ، اللہ کو ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ نتیجہ کیا ہوگا ، اس لئے جو حق اللہ نے انہیں دے رکھا ہے ، تمہیں اس سے محروم رکھنا کسی طرح زیبا و جائز نہیں ۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور بچے والی عورتیں اپنے بچوں کو پورے دو (ف 1) برس دودھ پلائیں ، جو کوئی دودھ کی مدت پوری کرنی چاہے اور بچے کے باپ پر ان عورتوں کا کھانا کپڑا ہوگا دستور کے موافق کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی ، نہ ماں کو اس کے بچے کے سبب سے (ف 2) ضرر پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کے بچے کے سبب سے اور وارث پر بھی یہی ذمہ ہے پھر اگر وہ دونوں آپس کی رضا مندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر اولاد کو دودھ پلاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں جبکہ تم دستور کے مطابق مقررہ اجرت حوالہ کر دو اور خدا سے ڈرو اور جانو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھتا ہے ۔

مدت رضاعت : (ف 1) اسلام ایسا کامل نظام مذہب ہے کہ اس میں جزئیات تک خاموش نہیں کیا گیا ، لیکن اس حد تک کہ شگفتگی باقی رہے ۔ بظاہر رضاعت کا مسئلہ اتنا اہم نہیں کہ قرآن حکیم ایسی اصولی اسلوب اس کی تفاصیل پر روشنی ڈالے ، مگر جب بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یقینا اس کی ضرورت تھی ۔ دودھ انسانی کی پہلی خوراک ہے جس سے بچے کے ہونٹ مضبوط ہوتے ہیں اور یہ پہلا غذا ہے جو تولید لحم ودم میں بیشتر حصہ بنتا ہے ، اگر اسے زیادہ عرصہ تک جاری رکھا جائے تو بعض اعضا رونما سے بالکل رک جائیں گے اور بچہ باوجود بڑھنے کے اور طاقتور ہونے کے کمزور وناتواں رہے گا یہی وجہ ہے کہ حیوانات بھی دو سال سے زیادہ بچوں کو دودھ نہیں پلاتے ، امکان یہ تھی کہ ماں بتقاضائے محبت رضاعت کو زیادہ وسیع نہ کرے ، اس لئے قرآن حکیم نے جو بجائے خوش شفائے کامل ہے دو سال کی تحدید کردی دوددھ کون پلائیں ۔ (آیت) ” والوالدات یرضعن “ کہہ کر قرآن حکیم نے اخلاق کے بہت پیچیدے مسئلے کو حل فرما دیا ہے ، عام طور پر لوگوں کی نگاہیں اخلاق کے اس پہلو تک نہیں پہنچیں حالانکہ تربیت اطفال کے لئے یہ ایک ہم نکتہ ہے ” ماں کی گود بچے کی تعلیم گاہ ہے “ مشہور فقرہ ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے کہ بیشک ماں درسگاہ اطفال میں پہلی معلمہ ہے مگر اس کا طریق تعلیم دودھ ہے ۔ وہ اپنے دودھ کے ذریعے سے بچے کی رگ رگ میں عادات واخلاق غیر محسوس طریق پر داخل کردیتی ہے ، اسلئے ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ مائیں اور نیک عورتیں بچوں کو اپنا دودھ پلائیں اور ادنی درجہ کے اخلاق کی عورتوں کے سپرد نہ کریں ۔ ایک اور فائدہ : اس طرح اگر مائیں اپنے بچوں کو اپنی چھاتی سے دودھ پلائیں تو ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بچوں کے دل میں ابتدا ہی سے محبت و شفقت مادری کے گہرے نقوش کندہ ہوجائیں گے جو آئندہ زندگی میں انہیں سعادت مند اور نیک ” اولاد “ ظاہر کرنے میں زیادہ ممدو معاون ہوں گے بخلاف اس کے وہ بچے جو پیدا ہوتے ہیں نرسوں کے سپرد ہوجائیں ، بڑے ہو کر کسی سکول میں محصور کر دئے جائیں اور جب ہوش آئے تو یورپ کے کالجوں میں پڑھ رہے ہوں ۔ کیا ان سے سعادت مندی اور نیاز مندی کے جذبات کی توقع رکھی جاسکتی ہے ؟ موجودہ تہذیب کے لاتعداد امراض میں سے ایک مرض احساس ” انفرادیت “ بھی ہے جس کے بقا سے مہر و محبت کا قدرتی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ، قرآن حکیم اسی لئے فرماتا ہے کہ مائیں بچوں کو حتی الوسع اپنی آغوش شفقت سے الگ نہ کریں اور ابتداء سے ان کو ” اجتماعیت “ کا عملی درست دیں ، تربیت اور اخلاق کا یہ کتنا اہم نکتہ ہے جو قرآن حکیم نے یونہی بیان فرما دیا ہے ، (ف 2) ان آیات میں مندرجہ ذیل مسائل بتائے ہیں : ۔ (1) باپ بچوں کی ماں کا کفیل ہے ، رزق وکوست اس کے ذمہ ہے ۔ (2) رزق وکسوت عرف عام کے تحت ہونا چاہئے اور اس میں وسعت و طاقت کا پورا پورا خیال رہے ۔ (3) بچہ کی وجہ سے ماں خاوند کو کوئی ناجائز تکلیف نہ دے اور نہ باپ بیوی کو ۔ (4) بچے کے دودھ چھڑانے میں دونوں کی رضا جوئی ضروری ہے ۔ (5) بچے دایہ کے سپرد کئے جاسکتے ہیں ، بشرطیکہ اس کا حق اسے دیدیا جائے ، ۔ (6) ان سب معاملات میں اتقاء ضروری ہے ۔ ان مسائل کو سیاق طلاق میں اس لئے بیان فرمایا کہ درحقیقت طلاق ہی کی صورت میں بچہ کے متعلق مشکلات پیش آتی ہیں ۔ حل لغات : الرضاعۃ : دودھ پلانا ۔ المولودلہ : باپ ، تشاور : باہم مشورہ کرنا ۔ تسترضعوا : مصدر استرضاع ۔ دودھ پلوانا ۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے عورتیں چھوڑ کر مر جاتے ہیں تو وہ عورتیں چار مہینے دس دن تک اپنے آپ کو روکیں (ف 1) پھر جب وہ اپنی عدت کو پہنچیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے جو وہ اپنے حق میں حسب دستور کرتی ہیں ، اور خدا تمہارے کاموں خبردار ہے ۔

بیوہ کی عدت : (ف 1) قرآن حکیم کی اصطلاح میں زوج کا اطلاق بیوی اور خاوند پر یکساں ہوتا ہے ، اس لئے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے سرمایہ راحت و سکون ہیں اور دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لئے ضروری وناگزیر ہے موجودہ تہذیب عورت کو ” نصف بہتر “ سے حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں ۔ مگر قرآن حکیم عورت کو ” کل بہتر “ کہتا ہے اور اس لئے اس کے لئے زوج کے لفظ کو استعمال کرتا ہے ، تاکہ معلوم ہو کہ خاوند بیوی سے الگ ومستقل کوئی وجود ہی نہیں رکھتا کہ اس کا کوئی دوسرا نام ہے ۔ ان آیات میں ازواج کا ذکر ہے ، اس سے مراد بیوہ عورتیں ہیں انکی لذت کا ذکر ہے ، چار مہینے دس دن تک انتظار کریں ، اس کے بعد انہیں اختیار ہے ۔ اس مدت میں جنین کا پتہ چل سکتا ہے تین ماہ کے بعد عام طور پر جنین مذکر میں حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور جنین مؤنث بھی چار ماہ تک متحرک ہوجاتا ہے ، دس دن اس لئے بڑھا دیئے ہیں کہ تاکہ اگر جنین زیادہ کمزور ہو تو بھی ظاہر ہوجائے ۔ جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ حاملہ کی عدت الگ ہے یعنی اگر ایک عورت بیوہ اور حاملہ ہو تو اس کی عدت بیوہ کی مدت نہیں ہوگی ، چار مہینے اور دس دن ، بلکہ وضع حمل کی عدت ہوگی ، چناچہ خود حضور ﷺ نے سبیعہ ، سلمیہ کو وضع حمل کے بعد نکاح کی اجازت دے دی ، بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اسے بعد الوجلین کو عدت ٹھہرانا چاہئے ، تاکہ عموم وخصوص میں جمع ہوجائے ، یعنی اگر وضع حمل کی مدت زیادہ ہے تو وہ عدت ٹھہرے گی اور اگر عدت کی مدت زیادہ ہے تو وہ سلسلہ جنبانی : بیوہ سے نکاح کے لئے یہ ہدایات دیں کہ تعریض یعنی اشاروں کنایوں میں اظہار مطلب کرنا گناہ نہیں ۔ البتہ ان کی رائے پر جبر کرکے الگ ان سے کوئی وعدہ لے لینا مذموم ہے اور یہ کہ اثنائے عدت میں نکاح کے لئے کوئی پختہ عہد کرنا بھی درست نہیں جب عدت گزر جائے تو پھر اختیار ہے ، اس میں حکمت یہ ہے کہ ایسے معاملات میں جلدی اور انجام کار عجلت اچھی نہیں ہوتی ، بیوہ کو موقع دینا چاہئے کہ وہ اچھی طرح سوچ سمجھ لے ، اس کی رائے آزادنہ ہونی چاہئے دباؤ کسی صورت بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن حکیم نے نکاح کے معاملے میں عورت کی آزادی رائے کی کس قدر حفاظت کی ہے اور نسوانی حرمت وعزت کا کس قدر خیال رکھا ہے ، وہ لوگ جو معاملات میں ان باریکیوں کا خیال نہیں رکھتے بالعموم تکلیف اٹھاتے ہیں اور پشیمان ہوتے ہیں ۔ نکاح بیوگان ایک ایسا قانون ہے جس کی صحت اب مخالف حلقوں میں تسلیم کی جارہی ہے ، اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے اس نے آج سے چودہ سو سال پہلے اجازت مرحمت فرما دی اور بات بھی معقول ہے جب نکاح ایک دفعہ درست ہے اور سوسائٹی اسے معیوب قرار نہیں دیتی تو پھر یہ دوسری دفعہ کیوں درست نہیں ؟ نکاح بیوگان کی مخالفت قانون فطرت کے خلاف ہے جس سے بہت سی برائیاں پیدا ہونے کا امکان ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمسایہ قومیں اس کو بشدت محسوس کونے لگی ہیں اور عملا اسلام کی اس سچائی کی معترف ہو رہی ہیں ۔