2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayahs 2:161–162

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مر گئے ، ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی لعنت ہے ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ لعنت ہی میں رہیں گے ، نہ ان کا عذاب ہلکا ہوگا اور نہ انہیں مہلت ملے گی (ف 2)

(ف 2) وہ لوگ جو کفر وعصیان کی حالت میں مرتے ہیں اور حقائق و دلائل کے باوجود انکار پر مصر رہتے ہیں ‘ ان کے لئے نجات کی کوئی گنجائش نہیں ۔ وہ ہمیشہ اللہ کے غضب اور پاک سرشت فرشتوں کی ناراضگی میں اور تمام لوگوں کی نگاہ نفرت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں سے دور ‘ ملائکہ کی توجہات روحانی سے محروم اور پاکباز گروہ کی عنایات سے الگ ذلت ولعنت کے عمیق گڑھوں میں رہیں گے ، نہ تو ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ ان کے فرد و اعمال پر نظر ثانی کی جائے گی ، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں حق کی طرف کبھی نہیں جھکے اور اسلام کی عالمگیر صداقتوں پر انہیں نے اپنے اوقات کا ایک لمحہ صرف نہیں کیا ، لہذا انہیں سزا بھگتنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے گا ۔ (آیت) ” ولا ھم ینظرون “ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ کی نظریں ان پر نہیں پڑیں گی ، یا وہ اللہ کے احاطہ علم ونظر سے دور ہوجائیں گے ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ شفقت ورحمت کی نظروں سے محروم رہیں گے ، یعنی خدا تعالیٰ کا جذبہ رحم ان کے لئے موجزن نہ ہوگا اور جس طرح دنیا میں وہ اللہ سے کھچے کھچے رہے ہیں ، اللہ بھی آخرت میں ان سے بےنیازی سے رہے گا ۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا خدا ایک خدا ہے کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف 3) ۔

(ف 3) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ جس طرح اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں اسی طرح اس کا رحم وکرم بےپایاں ہے ۔ وہ رحمن ہے وہ رحیم ہے ، اس لئے وہ نہیں چاہتا کہ ایک نفس منصوص بھی جہنم میں جائے یا اس کے غضب و جلال کا مستحق ہو ، کیونکہ یہ اس کی ذات کرم آیات کے خلاف ہے ، اس لئے اگر کوئی خواہ مخواہ اس کی مخالفت کرے ، یا اس کی آغوش رحمت سے نکلنا چاہے تو وہ مجبور نہیں کرتا ۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کی تبدیلی میں اور کشتی میں جو دریا میں لوگوں کو نفع پہنچانے کے لئے چلتی ہے اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس نے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کیا اور اس میں ہر قسم کے حیوان بکھیرے اور ہواؤں کے پھیرنے میں اور بادل جو آسمان و زمین کے درمیان قابو کیا ہوا ہے عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں (ف 1) ۔

قرآن کا اسلوب تفہیم : (ف 1) قرآن کا طرز استدلال اس قدر جاذب ، فطری اور سادہ ہے کہ منطق ہزار جان سے بلائیں لیتی ہے ۔ وہ مصنوعی اصطلاحات کے گورکھ دھندوں میں ہمیں نہیں پھنساتا ، بلکہ روز مرہ کے اصولیی مشاہدات اس طور پر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے کہ غور وفکر کی تمام قوتیں بیدار ہوجائیں اور معارف وحکم کے دریا بہنے لگیں ، اس طرز استدلال کی مثال یہ ہے کہ وہ سمندر کی تعریف نہیں کرتا اس شخص کے سامنے جس نے سمندر نہیں دیکھا یعنی وہ یہ نہیں کہتا کہ سمندر ایک بہت بڑا ذخیرہ جس نے سمندر نہیں دیکھا یعنی وہ یہ نہیں کہتا کہ سمندر ایک بہت بڑا ذخیرہ آب ہے بلکہ براہ راست طالب کو ساحل سمندر پر لا کھڑا کرتا ہے ، تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے سمندر کے تلاطم و تموج کو دیکھے ، طریق تفہیم اس درجہ کامیاب و صحیح ہے کہ کوئی شخص وشبہ نہیں رہتا ، مثلا ان آیات میں خدا تعالیٰ کو اپنی ذات کا اظہار اور ثبوت بتانا ہے ، یہ بتانا ہے کہ وہ صرف ایک ہے ۔ یہ بتانا ہے کہ کائنات کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور نظام حشر و قیامت ایک حقیقت ثابتہ ہے تو وہ الگ موضوع قائم نہیں کرتا ۔ دلائل کی مصنوعی تحلیل وتقریب میں نہیں الجھتا ، بلکہ مشاہدات کو اس طرح نظروں کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ مضرات عقل میں خود بخود تحریک پیدا ہوجاتی ہے اور ذہن انسانی ان تمام باتوں کو خود بخود جان جاتا ہے اور اس کے بعد بھی غور وفکر کی وسعتیں ختم نہیں ہوتیں ، یعنی وہ کہتا ہے کہ رات ودن کے اختلاف میں ‘ جہاز وکشتی کے چلنے میں ‘ ابروباراں کے حیات بخش ماثرات میں ‘ زمین پر مختلف النوع حیوانات کے رہنے میں ‘ ہواؤں کے ادھر سے ادھر جانے میں اور ابر کی تسخیر میں عقل مندوں کے لئے دلائل ہیں ، دیکھئے کس سادگی سے قرآن حکیم نے کلام وفلسفہ کے تمام مدارج طے کردیئے ہیں ۔ اس حیثیت سے کہ یہ ساری چیزیں ایک افادہ ونظام کے ماتحت ہیں ایک باشعور وباارادہ ذات کو چاہتی ہیں ، یہ اثبات باری ہے اس حیثیت سے کہ ان میں ایک وحدت پر پردہ کار فرما ہے ، توحید کی متقاضی ہیں اور پھر اس لئے کہ ان سب میں ایک نفع ہے مقصد ومنتہا کر چاہتی ہیں ۔ اثبات حشرونشر ہے ۔ کیا کوئی کتاب اتنا بلیغ ، واقعی اور جاذب غور وفکر ، نہج استدلال اپنے طرز تفہیم وتبیین میں رکھتی ہے ۔ ؟ حل لغات : الفلک : کشتی ۔ بث : پھیلایا ، آباد کیا ۔ دآبۃ : ہر جان دار ۔ انداد : شرکاء ، ساجھی ، جمع ند ۔
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے بعضے وہ ہیں جو خدا کے سوا شریک پکڑتے ہیں ، وہ ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت خدا سے چاہئے اور وہ جو ایمان دار ہیں ‘ وہ خدا کی محبت میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں اور کاش یہ ظالم وہ گھڑی دیکھ لیں جس گھڑی عذاب دیکھیں گے (اور جو اس قت جائیں گے اب جان لیں) کہ سب قوت خدا کو ہی ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (ف 1)

مشرک کی بیچارگی : (ف 1) یہ محبوب ومہربان خدا جو اپنی طرف سے کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا ۔ ہر گناہ کو بخش سکتا ہے ، مگر شرک کو نہیں ، اس میں اس کی عظمت وکبریائی کی توہین ہے ، اس کا غضب جوش میں آجاتا ہے وہ کہتا ہے کہ یہ ظالم قیامت کے دن سخت ترین عذاب کے مستحق ہوں گے اور اس وقت یہ محسوس کریں گے کہ آج قوت واختیار کے تمام خزانے صرف خدا کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہ جنہیں دنیا میں اپنی قسمتوں کا مالک ومختار سمجھتے تھے ، آج انتہائی بےچارگی میں پائیں گے ، تمام رشتے اور تمام تعلقات ٹوٹ جائیں گے ، مشیخت وارادت کے علائق منقطع ہوجائیں گے ، وہ جنہیں دنیا میں رہبر ورہنما سمجھتے تھے ، ہٹ مار اور مجرم ثابت ہوں گے ، وہ جن کی پرستش کرتے تھے آج ان سے ابتری اور بےزاری کا اظہار کریں گے ، کوئی باپ بیٹے کی سفارش نہ کرسکے گا ، کوئی شیخ اپنے مرید کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے گا ، ہر شخص اپنے اعمال کا آپ ذمہ دار ہوگا ، مشرکین کی حالت اس وقت عجیب بےچارگی کی ہوگی ، اس کی تمام توقعات باطلہ خاک میں مل جائیں گی ، وہ چاہے گا کہ اسے دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع ملے تاکہ وہ اعمال کی اصلاح کرسکے ، لیکن یہ خدا کے مقرر کردہ قانون کی توہین ہے ، وہ کسی کو دوبارہ موقع نہیں دیتا ، وقت کے جو لمحات گزر جاتے ہیں ‘ وہ پھر واپس نہیں آتے ، شاخ گل مرجھا جانے کے بعد کاٹ لی جاتی ہے ، دوبارہ ہری نہیں ہوتی ، بچہ مرنے کے بعد دوبارہ بطن مادر میں نہیں بھیجا جاتا ، زندگی کا تیز قدم آگے ہے ۔ پیچھے ہٹنا قدرت کی تیز روی کے متناقض ہے ، اس لئے ان کا یہ مطالبہ مسترد کردیا جائے گا اور ان کے یہ اعمال بد ان کے لئے ہمہ حسرت بن جائیں گے ۔ حل لغات : الاسباب : رشتے ، جمع سبب ۔ کرۃ : دوبارہ ، دوسری دفعہ ۔ نتبرا : اصل مادہ تبراء یعنی اظہار ۔ جرات :
Ayahs 2:166–168

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جب وہ بیزار ہوں گے جن کی اطاعت کی گئی تھی ، ان سے جو تابع ہوئے تھے اور وہ عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے سب طرح کے تعلقات کٹ جائیں گے ۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور یہ تابعین (پیرو) کہیں گے ، اگر ہم دوبارہ دنیا میں جائیں تو ان سے بیزار ہوں گے جیسے یہ یہاں ہم سے بیزار ہوگئے ہیں ، اسی طرح اللہ ان کے اعمال افسوس دلانے کو ان پر ظاہر کرے گا اور وہ آگ سے نکلنے نہ پائیں گے ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو ! جو کچھ زمین میں حلال اور ستھرا ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ (ف 1)

اکل حلال : (ف 1) عرب میں ایسے قبائل بھی تھے ثقیف وخزاعہ کی طرح جو حلال چیزوں کو حرام قرار دے لیتے تھے اور ایسے بھی تھے جو حرام اور مکروہ چیزیں استعمال میں لاتے تھے ، قرآن حکیم نے ان آیات میں اکل حلال کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ حلت و حرمت کا مسئلہ اس نے قابل لحاظ ہے کہ خوراک کا مسئلہ براہ راست ہمارے اخلاق سے تعلق رکھتا ہے ، اباحت مطلقہ جہاں صحت کے لئے مضر ہے ‘ وہاں اخلاق کے بھی مفید نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خاص خاص قسم کی غذائیں خاص خاص نوع کے اخلاق و عادات پیدا کرنے میں ممدومعاون ہوتی ہیں اس لئے وہ مذہب جو اصلاح اخلاق کا مدعی ہے ، ضرور ہے کہ خوراک کے مسئلے سے شدید تعرض کرے ، ماکولات ومشروبات استعمال نہیں کرتی اور ذوق سلیم گوارا نہیں کرتا (ب) وہ چیزیں جو سخت مضر ہیں وہ بھی حرام ہیں (ج) وہ اشیاء جو مضر اخلاق و عادات پیدا کریں ، ان کا استعمال سے شرک پھیلنے کا اندیشہ ہو ۔ ان کے علاوہ ہر چیز جو پاکیزہ ہو ، ذوق سلیم پر اس کا کھانا گراں نہ ہو ، حلال ہے طیب کے معنی یہ ہیں کہ اسے جائز وسائل سے حاصل کیا گیا ہو ، یعنی ایک چیز اگر حلال ہے لیکن اسے چوری سے حاصل کیا گیا ہو تو اس کا کھانا درست نہیں ۔ اسلام چونکہ دنیا کا پاکیزہ ترین مذہب ہے ، اس لئے وہ زندگی ہر شعبے میں پاکیزگی چاہتا ہے ، نیز ان آیات میں بتایا ہے کہ خواہ مخواہ لذائذ کو اپنے نفس پر حرام قرار دے لینا درست نہیں ہر چیز جو اللہ نے پیدا کی ہے ، اگر وہ حلال وطیب ہے تو اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ، پرہیزگاری یا تورع اس پر موقوف نہیں کہ خدا کی نعمتوں کو نہ استعمال کیا جائے بلکہ اس میں ہے کہ باندازہ نعمت اللہ کا شکریہ ادا کیا جائے اور شیطان کی اطاعت سے گریز کیا جائے اس کی تمام راہوں سے احتراز کیا جائے ، وہ جو لذائذ سے محروم ہے ‘ وہ بھی گناہ گار ہو سکتا ہے اور وہ جس کو سب نعمتیں حاصل ہیں وہ بھی اللہ کی نافرمانی کرسکتا ہے اس لئے اصل چیز ترک لذت نہیں بلکہ اللہ کا ڈر ہے ۔
Ayahs 2:169–170

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تمہیں صرف بدی کرنے کا اور فحش کاموں کا اور خدا کی نسبت وہ باتیں جو تمہیں معلوم نہیں بولنے کا حکم دیتا ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو خدا نے نازل کیا ہے اس کے تابع ہوجاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ جن باتوں پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے انہیں پر چلیں گے بھلا کیا اس حالت میں بھی کہ ان کے باپ دادے نہ کچھ عقل رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں مشرکین مکہ کے ہر دو تقلد کو واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح وہ وضوح حق کے باطل پر اڑے رہتے ہیں اور کسی طرح بھی آباد وعلماء کے غلط مذہب سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، خواہ ان کے مقتدا کتنے ہی بےسمجھ و گمراہ ہوں حالانکہ معیار قبول وہدایت ہے ‘ نہ کورا نہ اطاعت ۔ حل لغات : خطوت : جمع خطوۃ ، دو قدموں کے درمیان ، فاصلہ نقش پا ، قدم بہ قدم ۔ السوٓء : برائی ۔ الفحشآء : بہت بری بات ۔ ینعق : مادہ فعوق ، مال ڈھور کے پیچھے چلانا ۔
Ayahs 2:171–172

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

کافروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک چیز ناسمجھ (مثلا جانوروں) کا پکارتا ہے جو صرف چلانا اور پکارنا ہی سنتے ہیں بہرے ہیں ، گونگے ہیں اندھے ہیں ، وہ نہ سمجھیں گے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

مومنو ! پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دی ہیں ‘ کھاؤ اور اللہ کا شکر کرو ، اگر تم اسی کے بندے ہو (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ محرمات منصوصہ کے سوا اللہ کی تمام نعمتیں قابل استعمال ہیں ، تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں ، اللہ کی عبادت کا مفہوم بجزا ادائے شکر کے اور کچھ نہیں ، ترک لذات غیر اسلامی اصول ہے ، قرآن حکیم نے کھانے پینے کی چیزوں میں کوئی مضائقہ نہیں رکھا ، البتہ حرام اور ناجائز اشیاء سے پرہیز ضروری ہے ، شریعت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان تمام قوموں سے زیادہ خدا کا شکر گذار ہو زیادہ خدا کا شکر گذار ہو زیادہ مطیع وفرماں بردار ہو ، نہ یہ کہ خدا کی نعمتوں کا استعمال نہ کرے رسول اللہ ﷺ نے جو زہد وتقوی کا آخری نمونہ ہیں ، کبھی اس قسم کا پرہیز نہیں کیا ، بہتر سے بہتر چیز میسر آگئی تو وہ کھالی اور جب کچھ نہیں ملا ، کئی کئی دن کے فاقے ہیں اور پرواہ نہیں ۔
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

سوائے اس کے نہیں کہ مردہ اور لہو اور سور کا گوشت اور جو غیر اللہ کے نام سے ذبح ہوا ، تم پر حرام ہے لیکن جو شخص ایسی حالت میں کہ باغی اور نافرمان نہ ہو ‘ ناچار ہوجائے ، اس پر ان کا کھانا کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ، (ف 2)

زندہ رہنے کی کوشش کرو : (ف 2) محرمات کے سلسلے میں مفصل بتایا جا چکا ہے کہ اس میں ذوق سلیم صحت انسانی اور اخلاق کا خیال رکھا گیا ہے ، اس لئے محرمات کی جو فہرست بتائی ہے ‘ اس کے لئے دلائل کا ذکر غیر ضروری سمجھا ہے ، کیونکہ ہر شخص جسے ذوق صحیح سے بہرہ وافر ملا ہو ‘ وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کی حرمت بین وظاہر ہے ، سب سے پہلے مردار کی حرمت کو لیجئے کیا کوئی مہذب اور شائستہ قوم مردار کھالے کے لئے آمادہ ہو سکتی ہے ، یہ ازمنہ وحشیہ کی یادگار ہے ، چناچہ اب بھی وہ قومیں جو تہذیب و تمدن کی برکات سے محروم ہیں ، مردار کھاتی ہیں اور شرفاء اسی وجہ سے ان سے نفرت کرتے ہیں نیز مردار خوری سے پست و ذلیل قسم کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں جن میں کوئی زندگی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ مردار خوار قومیں ادنی درجہ کی عادات میں مبتلا رہتی ہیں ، خون کھانا بھی اسی قبیل سے ہے ، اس میں بھی وحشت وبربریت مترشح ہے اور اس سے خوانخواری کے جذبات بڑھتے ہیں ۔ نیز خون صحت انسانی کے لئے سخت مضر ہے ، بالخصوص معدے اور دانتوں کے لئے ، عرب خون کو باقاعدہ منجمد کرکے کھاتے تھے اس لئے اس کا ذکر فرمایا سور کے کھانے میں کئی خرابیاں ہیں ، ایک تو یہ کہ اس کے گوشت میں جراثیم کثرت سے ہوتے ہیں جنہیں رودۃ الخنزیر کہتے ہیں اور وہ مضر ہوتے ہیں ، دوسرے اس سے قلب کے گردا گرد ایک خاص قسم کی چربی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے قلب کی حرکت میں خلل آجاتا ہے ، اسے ” تشحم “ کہتے ہیں ، اطبائے امریکہ کا خیال ہے کہ فوری موت جو حرکت قلب بندہ ہونے سے واقع ہوتی ہے اکثر وبیشتر نتیجہ ہوتی ہے سور کھانے کا یہی وجہ ہے کہ وہاں کی ایک سوسائٹی نے اس کے خلاف علم جہاد بلند کردیا ہے اور وہ اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں ۔ اور ایک وجہ یہ ہے کہ خنزیر کھانے سے بےغیرتی پیدا ہوتی ہے دیکھ لو خنزیر کھانے والی قومیں غیرت وحمیت کے تمام جذبات سے محروم ہیں اور فواحش ان میں حد اعتدال سے بڑھ رہا ہے ، (آیت) ” وما اھل “ میں وہ سب چیزیں داخل ہیں جنہیں غیر اللہ کے ناموں پر تبرکا مشہور کیا جائے ، یہ اس لئے کہ ایسی چیزیں گو فی نفسہ حلال ہوں ، لیکن شرک پھیلانے کا موجب بنتی ہیں ۔ اس کے بعد مخصوص حالات میں جب کہ ہم مجبور ہوجائیں اور ہمارے سامنے موت وحیات کا سوال در پیش ہو ‘ بقدر ضرورت ان کے استعمال کی اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ مسلمان کی جان بہرحال عزت واحترام کے قابل ہے لیکن یہ وہ وقت ہوگا جبکہ ایک طرف کامل اضطرار ہو مثلا سخت بھوک ہو اور سوائے ان محرمات کے کوئی چیز میسر نہ ہو اور موت کا خدشہ بلکہ یقینی ہو ، دوسروی طرف اس کا یقین ہو کہ ان کے استعمال سے میں بچ سکتا ہوں ، اس کے علاوہ معمولی حالات میں جب کہ ان کا بدل مل سکے اور شفاء قطعی نہ ہو ، استعمال ممنوع ہے ۔
Ayahs 2:174–176

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

وہ جو کتاب میں سے خدا کا نازل کیا ہوا حکم چھپاتے اور اس پر حقیر قیمت لیتے ہیں ، وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں ، خدا ان سے قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دیکھ کا عذاب ہے ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب خریدا ہے سو کس چیز نے ان کو آگ پر صابر کیا ؟ ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ خدا نے سچی کتاب نازل کی اور جنہوں نے اس کتاب میں اختلاف ڈالا وہ حد درجہ کے ضدی ہیں ۔ (ف 1)

(ف 1) قوم کے لئے جب کتاب اللہ سے تمسک قائم رہے ، فرق وجماعات الگ اگل نہیں بنتیں اور جب کتاب اللہ میں تحریف وتاویل کے ذریعہ مختلف قسم کے فرقے بناتے جائیں تو پھر وحدت دینی اور اخوت مذہبی مفقود ہوجاتی ہے ، یہودیوں نے جب تک توراۃ کو اللہ کی کتاب سمجھا ، غالب رہے اور تعصب نے انہیں مختلف قوموں میں بانٹ دیا ، قومی حیثیت سے مٹ گئے ، اس لئے اصل شے جو مدار قومیت ہے ، جب وہی نہیں تو پھر قومیت کہاں ؟ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے تورایت کی جو کتاب حق ہے ، مخالفت کی ، اس لئے اب ان میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مٹائے نہیں جاسکتے ۔ حل لغات : بطون : جمع بطن ۔ پیٹ ۔ شقاق : پھوٹ ۔ بر : نیکی ۔ وجھہ : منہ جمع وجوہ ۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیرو لیکن نیکی ان کی ہے جو خدا پر اور آخری دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال باوجود محبوب ہونے کے قرابتوں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور منگتوں کو دے اور گردنیں چھڑانے میں خرچ کرے اور نماز پڑھے اور زکوۃ دے اور قول واقرار کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے اور جو سختیوں اور تکلیفوں اور لڑائی کے وقت صابر ہیں ۔ (ف 1) وہی لوگ سچے اور پرہیز گار ہیں ۔

نیکی کا مفہوم : (ف 1) عام لوگ رسوم ظاہری تک ہی تقوی کا مفہوم محدود رکھتے ہیں اور دیگر حالات پر غور نہیں کرتے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب دین کی روح باقی نہ رہے اور قشہ وظاہر پر سختی سے عمل ہو ، جب کسی قوم کی یہ حالت ہو تو سمجھ لیجئے وہ حقائق دین سے قطعا محروم اور برائے نام مسائل پر محض رکھ رکھاؤ کے لئے عامل ہے ، نزول قرآن مجید کے وقت یہودیوں اور عیسائیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی فسق وفجور میں ہر وقت سرشاری کے باوجود ایک دوسرے کو کافر کہتے ، چھوٹے چھوٹے مسائل پر جھگڑتے ، معمولی اختلافات ڈالتے یا اختلاف عمل ان کے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا لیکن عملی زندگی میں بڑی سے بڑی بدمعاشی ان کے لئے نہ صرف گوارا ہوتی بلکہ راحت جان ، تحویل قبلہ کے موقع پر ان لوگوں نے شور مچا دیا کہ دیکھئے مسلمان بدل گئے ، انبیاء کے مسلمہ قبلہ سے روگردان ہوگئے اور الحاد وزندقہ میں مبتلا ہوگئے ، قرآن حکیم نے اس اعتراض کے متعدد جواب دیئے اور آخر جواب وہ دیا جو ان آیات میں مذکور ہے کہ مدار مذاہب ظاہر شعائرہ رسوم نہیں ، ان کس مغز اصل ہے ، بیت المقدس یا کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لینا ہی کافی نہیں ‘ بلکہ ان کے لئے ضروری ہے لوازم کا بھی خیال رہے کیا تم سمجھتے ہو کہ بیت المقدس کو قبلہ مان کر تم شریعت کی ہر ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتے ہو ؟ کیا اس کے بعد تمہارے لئے ہر برائی جائز و درست ہوجاتی ہے ؟ کیا تمہارا خیال ہے کہ جب تک مشرق ومغرب کی تعیین نہ ہو ، نیکی کا مفہوم ہی غلط رہتا ہے ؟ نہیں ، کعبہ ہو یا بیت المقدس ، ان کو قبلہ بنانے کا مقصد یہ نہیں جو تم سمجھتے ہو کہ ظواہر پر اکتفا کردیا جائے ، اور بس بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہارے دل میں شریعت کا پورا پورا احترام ہو ، ظاہر کے ساتھ باطن کی باریکیوں پر بھی تمہاری نظر ہو ، جذبہ عمل پورے جوش کے ساتھ کار فرما ہو ، جہاں دل کی گہرائیاں ایمان باللہ کی روشنی سے روشن ہوں ‘ وہاں اس کے نتائج بھی عیاں ہونے چاہئیں ، تم ادعائے پاک باطنی کے ساتھ بظاہر بھی پاک بننے کی کوشش کرو ۔ دس احکام : اس توضیح کے بعد وہ دس چیزیں بتائیں جو اساس الدین ہیں اور جو حقیقی معنوں میں صلاح وتقوی کا معیار ہیں اور جن سے صدق وصفا کو واقعی طور پر پرکھا جاسکتا ہے ۔ (1) ایمان باللہ ، یعنی اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ، اس سے پوری پوری محبت ۔ یہ احساس اخلاق ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے بےنیازی قطعا صحیح اخلاق پیدا کرنے میں ممدو معاون نہیں ہو سکتی ۔ (2) ایمان بالاخرۃ : یعنی مکافات عمل کے نظام پر محکم ایمان ۔ ظاہر ہے جب تک اعمال کے اثمار ونتائج کو قطعی نہ مانا جائے ، نیکی کے لئے دل میں کوئی تحریک پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ برائی سے کوئی خوف پیدا ہو سکتا ہے ۔ (3) ایمان بالملئکۃ : یعنی فرشتوں کے وجود وظائف پر ایمان ہو ، یہ ایمان بالکتب کی تمہید ہے ۔ (4) ایمان بالکتب : یعنی خدا کے نوشتوں پر ایمان کہیں ہوں ، کسی زبان میں ہوں ، اللہ کا کوئی رسول لے کر آیا ہو ۔ (5) ایمان بالنبین : یعنی سلسلہ انبیاء کی تمام کڑیوں کو ماننا ، تمام فرستادوں کا بلاتخصیص احدے احترام کرنا کہ تعصب پیدا نہ ہو اور سارے انسان متحد ومتفق ہو کر رہ سکیں ۔ (6) خدا کی راہ میں دینا یعنی بخل وامساک کی عادت نہ ہو ، فیاضی وسیر چشمی پیدا کرے ، اپنے اقربا کی حتی الوسع مدد کرے ، مسکینوں اور یتیموں کی ضروریات کو پورا کرے ، مسافر اور دیگر سائلین کی حاجات کا مداوا بننے اور غلاموں کی آزادی میں ساعی ہو ۔ (7) اقامت الصلوۃ : یعنی پابندی اور شرائط ولوازم کے ساتھ نماز پڑھے ، تاکہ اس میں سچے معنوں میں روحانیت پیدا ہو ۔ (8) اداء زکوۃ ۔ (9) ایفائے عہد ۔ (10) صبر و استقامت : ظاہر ہے کہ جس میں یہ دس صفات ہوں گی وہ خدا کا محبوب ہوگا نہ وہ جو صرف ظواہر ورسوم پر مغرور ہو ، خطاب یہود سے ہے کہ دیکھو یہ چیزیں مسلمانوں میں موجود ہیں یا نہیں ، اگر موجود ہیں تو معلوم ہوا تحویل قبلہ نے ان کے اعمال اور ان کی خدا پرستی میں کوئی مضرت پیدا نہیں کی ۔ حل لغات : الرقاب : جمع رقبۃ ، گردن یعنی وہ جس کی گردن میں غلامی کا جوا ہو ۔
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

مومنو ! مقتولوں کا قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے ۔ آزاد (ف 1) کے بدلے آزاد ، غلام کے بدلے غلام ، عورت کے بدلے عورت ، پھر جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف ہوجائے تو چاہئے کہ دستور کے پیچھے لگے اور اس کی طرف نیکی سے ادا کیا جائے ، یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے ، اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کو دیکھ کا عذاب ہوگا ۔

آزاد کے بدلے آزاد : (ف 1) اسلام سے پہلے قصاص وانتقام کا مفہوم بھی صاف نہیں تھا یہودی اگر قاتل امیر ہوتا تو چھوڑ دیتے اور اگر غریب ہوتا تو کچھ روپیہ لے کر معاف کردیتے اور اگر غلام ہوتا تو پھر ان کی شریعت نوازی جوش میں آجاتی جس کے معنی یہ ہیں کہ تعزیرات کا باب صرف غربا کے لئے ہے اور روپیہ خدا کے قانون میں نرمی پیدا کرسکتا ہے ، قریش مکہ بھی اس مذموم ذہنیت سے آلودہ تھے ، ان کے سردار وصنادید بھی محض سرمایہ داری کے بل پر ہر تعزیر سے بچ جاتے ، قرآن حکیم جو عدل و انصاف کا اعلان ہے ، بھلا کب اس ظلم اور جنبہ داری کو برداشت کرسکتا تھا ۔ چناچہ اس نے فرمایا کہ قصاص کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں آزاد کے بدلے آزاد مارا جائے اور عزت وسرمایہ کو کوئی درجہ نہ دیا جائے ، اس لئے کہ خدا کے ہاں سب کا درجہ یکساں ہے اس کے کسی ایک بندے کو حقوق زندگی سے محروم کردینا بہرحال سزاوار تعزیر ہے ۔ عفو بہتر ہے : قاتل کے ورثاء اگر مقتول کو کچھ دے دلا کر راضی کرلیں یا مقتول کے ورثاء انتقام نہ لینا چاہیں اور معاف کردیں تو فرمایا یہ بہتر ہے ۔ (آیت) ” من اخیہ “ کہہ کر گویا ترغیب دی ہے کہ عام حالات میں معاف کردیا کرو ، اخوت وہمدردی کا یہی تقاضا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اسلام عفو کو بہرحال مقدم سمجھتا ہے ، بات بھی یہی درست ہے کہ تاحد مقدور حسن سلوک بجائے خدا ایک کڑی سزا ہے جس اثر نہایت گہرا ہوتا ہے مگر ہر حالت میں نہیں بعض حالات میں ۔ قصاص ہی میں عافیت ہے : وہ طبیعتیں جو شریر اور فتنہ پرداز ہیں وہ کسی طرح معافی سے متاثر نہیں ہوتیں ‘ بلکہ بعض دفعہ اس قسم کی نرمی کا اثر ان کے طبائع پر الٹا پڑتا ہے وہ اس حسن سلوک کو جبن وبزدلی سے تعبیر کرتی ہیں ، ان کا علاج بجز انتقام وقصاص کے کوئی نہیں ، تعزیرات کے باب میں اسلام کی خصوصیت دیگر مذاہب سے یہ ہے کہ اس میں عام نفسیات کا پوری طرح خیال رکھا جاتا ہے جن مذاہب میں ” دانت کے بدلے دانت “ کی کی سزا مقرر ہے اور معافی کے لئے کوئی گنجائش نہیں وہ بھی فطرت انسانی سے دور ہیں اور وہ جو ہمیشہ ہمہ عفو ہے ‘ اسے بھی صحیح نہیں کہا جاسکتا ، اسلام میں یہ جامعیت ہے کہ وہ ہر شے کا لحاظ رکھتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ بعض دفعہ معاف کردینا نتائج کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہوتا ہے اور بعض دفعہ سزا دینا جب فطرت انسانی قبول وتاثر کے لحاظ سے مختلف ہے تو پھر ایک سچے فطری مذہب کے لئے اس کی رعایت رکھنا نہایت ضروری ہے ” دشمن سے بھی پیار کرو “۔ نہایت اچھے لفظ ہیں ، یقینا ان سے بلند اخلاق کا اظہار ہوتا ہے لیکن عملی دنیا میں اس پر کہاں تک عمل ہو سکتا ہے ، اس کا پتہ لگانا ہو تو یورپ کا موجودہ طرز سیاست دیکھو اس میں جس اصول پر عمل کیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ ” دوستوں کو بھی دشمن سمجھو “۔ کیا اس حقیقت کے بعد بھی مسحی مبلغین اس تعلیم پر نازل کریں گے جس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا ، عیسائیت اور اسلام میں بڑا امتیاز یہ ہے کہ اخلاق وتعزیرات کے بارے میں عیسائیت نے صرف فرد کو ملحوظ رکھا ہے جماعتی مصالح اس کے پیش نظر نہیں ، مگر اسلام نے فرد وجماعت ہر دو کی تکمیل کو مد نظر رکھا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات بہرحال قابل عمل ہیں ، مثلا یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک کامل اور بردبار انسان شریر کا مقابلہ نہ کرے اور مار کھاتا رہے ، لیکن شریر سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ بھی شرافت سے متاثر ہوگا ، کیا یہ نری سادگی نہیں ؟ اور پھر یہ اصول قوموں میں رائج کیسے ہو سکتا ہے ؟ یورپ کے مستعمرانہ اعتراض ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ نہی پر عمل کرے ، یہ عجیب بات ہے کہ دولوگ جنہیں عفو وصلح کی تعلیم دی گئی تھی وہی سب سے بڑھ کر ظالم وسفاک ثابت ہوئے ، ان کی تاریخ کا ہر ورق بربریت ووحشت کا بدترین نمونہ ہے ، اور وہ جنہیں بقول عیسائیوں کے سوا جہاد اور قصاص کے کچھ سکھایا نہیں گیا اور دنیا میں سب سے زیادہ شائستہ ‘ غیر متعصب اور صلح جو رہے ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ؟ حل لغات : القصاص : بدلہ ، مجازات ، انتقام ۔ الحر : آزاد ۔ العبد غلام ۔
Ayahs 2:179–180

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے عقلمندو ! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے ، شاید تم پرہیزگار ہوجاؤ ۔

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپکڑے اور وہ کچھ مال چھوڑے تو وہ اپنے والدین اور ناطے داروں کے لئے حسب دستور وصیت کرکے مرے (یہ) حق ہے متقیوں پر (ف 1)

وصیت : (ف 1) ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی شخص مال کثیر رکھتا ہو (خیرا سے مراد مال کثیر ہے) تو وہ والدین اور اقرباء کے لئے علاوہ مقرر حصوں کے کچھ اور بھی بطور احسان ومونت کے وصیت کرے بعض لوگوں نے اس حکم کو آیہ وارثت کی وجہ سے منسوخ سمجھا ہے لیکن یہ صحیح نہیں اس لئے کہ آیت کا انداز بیان اس کی مخالفت کرتا ہے ، (آیت) ” حقا علی المتقین “ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ غیر منسوخ آیت ہے اور یہ مال کی بہتات کی صورت میں کوئی حرج نہیں کہ وصی والدین کے لئے کچھ زائد وصیت کر جائے ، کیونکہ اس صورت میں دوسرے ورثا گھاٹے میں نہیں رہتے ، بعض کے خیال میں یہاں والدین واقربا سے وہ مراد ہیں جو بسبب غیر مسلم ہونے کے وارث نہ ہو سکیں ، مگر آیت میں اس قسم کا کوئی قرینہ موجود نہیں ۔
Ayahs 2:181–183

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو کوئی سننے کے بعد اس وصیت کو بدلے گا اس کا گناہ بدلنے والے پر ہوگا اور خدا جانتا سنتا ہے ۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر جو کوئی وصیت کرنے والے کی طرفداری یا گناہ سے ڈرا اور اس نے ان کے درمیان صلح کرا دی ‘ اس پر کچھ گناہ نہیں ، بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مومنو ! تم پر روزہ فرض ہوا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوا تھا ۔ شاید تم پرہیزگار ہوجاؤ (ف 1)

فرضیت صیام : (ف 1) صیام کے لفظی معنے رکنے اور باز رہنے کے ہیں ، اصطلاح قرآن میں مراد ہے روزہ رکھنا یعنی ضبط نفس کی بہترین شکل اسلام سے پہلے روزہ رکھنے کا رواج کم وبیش تمام قوموں میں موجود تھا اور سب اس کی تقدیس کے قائل تھے ، روما والے بھی روزہ رکھتے تھے اور اہل کتاب بھی ، ہنود کی کتابوں میں بھی برت کا ثبوت ملتا ہے لیکن جس تکمیل کے ساتھ اسلام نے روزہ کا مفہوم پیش کیا ہے وہ پہلی قوموں میں نہیں ملتا پہلے روزہ اور فاقہ میں کوئی فارق شے نہ تھی ، اسلام نے بتایا کہ روزہ سے مقصود فاقہ نہیں تزکیہ نفس ہے ۔ فرضیت صیام کا واقعہ ہجرت سے تقریبا دو سال بعد کا ہے اس لئے کہ اس میں ایک طرح کی روحانی ریاضت ہے اور جب تک نفوس میں اس اہم قربانی کے لئے ایک استعداد پیدا نہ ہوجاتی ، اس کی تلقین بےموقع تھی ، ان آیات میں اعلان فرضیت ہے اور یہ بتایا ہے کہ روزہ قدیم روایات ودستور کی ایک مکمل صورت ہے کوئی بالکل نئی چیز نہیں ، تاکہ مسلمانوں کے دل میں اس کی اہمیت پیدا ہوجائے ۔ روزہ کا فلسفہ : یہ بتایا ہے کہ (آیت) ” لعلکم تتقون “۔ یعنی روزہ تم میں تقوی واصلاح کی محض قوتوں کو پیدا کرنے کے لئے فرض کیا گیا ہے ، اسلامی علم الاخلاق میں تقوی اور روزہ کی حیثیت ایک ہے ، تقوی کے معنی تمام ممکن محاسن کا حصول اور تمام برائیوں سے احتراز جس کے معنی یہ ہیں کہ روزہ اخلاق وروح کی آخری معراج ہے ، دیکھئے تو کامل ایک ماہ تک ضبط خواہش کتنا مشکل کام ہے لیکن مسلمان صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے تیار ہوجاتا ہے ۔ خالص روحانی واصلاحی تدبیر سے کھانے پینے کی بےاعتدالیوں اور بےضابطگیوں پر ایک ناقدانہ نظر اور ان کا مکمل مداوا ، روزہ دار اور غیر روزہ دار میں ایک محسوس اور بین فرق ہوتا ہے ، حدیث میں آیا ہے ” روزہ دار وہ ہے جو گالی گلوچ سے پرہیز کرے اور اگر اسے کوئی مجبور کرے تو کہہ دے کہ میں صائم ہوں “ روزخالص اللہ کے لئے ہے ، اس لئے اللہ فرماتا ہے ۔ ” الصوم لی وانا اجزی بہ “ یعنی روزہ دار بھوک پیاس کی تلخیوں کو صرف میرے لئے برداشت کرتا ہے اس لئے اسے مخصوص اجر سے نوازوں گا یعنی مسلمان گرمیوں کے موسم میں جن کے ہونٹ سوکھ رہے ہوں ‘ پیاس کی شدت بےچین کر رہی ہو اور اس طاقت ووسعت میں ہو کہ برفاب کے کو زے منہ سے لگا لے ، مگر خدا سے ڈرتا ہے اور پیاس ہی کو آب سرد سمجھ کر پی جاتا ہے اور کامل ایک ماہ تک اس ریاضت کو جاری رکھتا ہے ، تاکہ خدا کے لئے بھوک اور پیاس کی سختیوں کو برداشت کیا جاسکے ، روزہ امیر اور غریب کو ایک ماہ کے لئے ایک سطح پر لے آتا ہے ، سب خدا کی راہ میں بھوک اور پیاسے رہتے ہیں ۔ گویا روزہ مساوات انسانی کا ایک عظیم مظاہرہ ہے اور خالص تربیت ہے جس سے مقصود سال بھر کی تیاری ہے کہ روزہ دار غریبوں کی بھوک اور پیاس کا خیال رکھے ۔
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

کئی روز ہیں شمار کئے ہوئے ، پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو یا مسافر (ف 2) وہ دوسرے دنوں میں شمار کرے ، اور جنہیں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ‘ وہ فدیہ دیں ایک فقیر کی خوارک اور جو کوئی شوق سے نیکی کرتا ہے اس کے لئے بہتر ہے اور جو تم روزہ رکھو تو تمہارے لئے اچھا ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو (ف 2)

بیمار کے لئے رخصت : (ف 2) جو شخص بیمار ہو اور روزہ رکھنا اس کے لئے مضر ہو یا وہ مسافر ہو ، اس کے لئے یہ رعایت رکھی ہے کہ وہ صحت وحضر کے دنوں میں روزہ رکھ لے اور وہ لوگ جو قطعا روزے نہیں رکھ سکتے وہ ایک آدمی کو کھانا کھلا دیں ، تاکہ فرض کا احساس باقی رہے اور وہ بہرحال اس نظام صوم میں منسلک رہیں ، اس رعایت میں حاملہ ومرضعہ عورت بھی داخل ہے ۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا کہ وہ لوگوں کے لئے ہدایت اور راہ ہدایت کی کھلی دلیلیں اور فرقان (یعنی فرق کرنے کی چیز فیصلہ) ہے ۔ پھر جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پائے ، چاہئے کہ اس میں روزے رکھے اور جو مریض یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں شمار چاہئے ، خدا تم پر آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں ڈالنا چاہتا اور تاکہ تم شمار پوری کرو ، اور اس لئے کہ اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ، خدا کی بڑائی کرو ، تاکہ تم شکر گزار بنو (ف 1)

رمضان کے فضائل : (ف 1) قرآن حکیم جو ساری دنیا کے لئے رحمت وہدایت ہے جس کے تمام مضامین دلائل وبراہین پر مبنی ہیں ‘ وہ ایام رمضان ہی میں نازل ہونا شروع ہوا ، اس لئے روزوں کی فضیلت اور بڑھ جاتی ہے اور اس میں باریک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ روزہ رکھنے سے قرآن حکیم کے حقائق ومعارف قلب پر زیادہ روشن ہوتے ہیں اور دل کلام الہٰی کے ذوق وشوق سے معمور ہوجاتا ہے اس لئے حضور ﷺ قرآن حکیم کی تلاوت ان دنوں میں کثرت سے فرماتے اور اس لئے تراویح میں قرآن شریف پڑھا جاتا ہے تاکہ لوگ سال میں ایک ماہ بالالتزام قرآن پاک سنیں اور اپنی زندگی کو قرآن حکیم کے موافق بنائیں ۔
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

جب میرے بندے میری بابت تجھ سے سوال کریں تو کہہ کر میں نزدیک ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں ، چاہئے کہ وہ مجھے مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید وہ نیک راہ پر آجائیں (ف 2) ۔

(ف 2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دعا کے لئے یقین دلایا ہے کہ وہ سنی جاتی ہے ، سابق رمضان میں اس کو اس لئے ذکر فرمایا ، تاکہ معلوم ہو کہ روزہ میں کثرت سے ذکر ودعا کا سلیلہ جاری رہے ، فرمایا کہ میں قریب ہوں اجابت وقبولیت کے لحاظ سے تم مجھ پر ایمان واعتماد رکھو پھر دیکھو میں کسی طور تمہاری التجاؤں کو شرف قبول بخشتا ہوں ۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

(ف 3) روزہ کی رات میں اپنی عورتوں سے ہم بستر ہونا تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے عورتیں تمہاری پوشاک ہیں (ف 1) اور تم ان کی پوشاک ہو اللہ کو تمہاری چوری معلوم ہوگئی ہے ، سو اس نے تم کو معاف کیا اور تم سے درگزر کی ، سو اب عورتوں سے مباشرت کرو اور جو کچھ خدا نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اس کو ڈھونڈو اور جب تک فجر کا سفید دھاگا کالے دھاگے سے صاف جدا نظر نہ آوے کھاؤ پیؤ پھر رات تک روزہ تمام کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف کے لئے بیٹھے ہو ، اس وقت عورتوں سے مباشرت نہ کرو ، یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں سو ان کے نزدیک نہ جاؤ اللہ آدمیوں کے لئے اپنی آیتیں یوں بیان کرتا ہے شاید وہ پرہیز گار ہوجائیں ۔

روزہ کا مقصد : (ف 3) ازدواجی تعلقات کو رات کے وقت برقرار رکھتا قرآن حکیم نے جائز ومباح قرار دیا ، اس لئے کہ روزہ کا مقصد رہبانیت یا فاقہ نہیں ، بلکہ تحسین اخلاق ہے اور کیا بیوی سے پیار بہترین اور پاکیزہ تر حسن اخلاق نہیں ؟ حدیث میں جو آتا ہے کہ دن کے وقت بھی حضور ﷺ ازواج مطہرات سے محبانہ پیش آتے اور بوس وکنار میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے تھے تو اس کے یہ ہیں کہ روزہ زاہدانہ یبوست نہیں ، خشک ریاضت نہیں بلکہ ہر خواہش میں اور ہر جذبہ میں تابحد لطافت اعتدال پیدا کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ کھانا پینا ممنوع ہے لیکن نہانا دھونا اور دیگر پاک تفریح کی چیزوں کی اجازت دیتا ہے اسی طرح صنفی جذبات کی تکمیل تو ممنوع ہے دن کو البتہ لطافت کے ساتھ ان کے اظہار میں کوئی حرج نہیں ، رات کو بھی تکمیل میں کوئی مضائقہ نہیں ، مطلب بہرحال یہ ہے کہ روزہ ایک قسم کی شگفتہ ریاضت ہے اسلام فطرت انسانی کا بہترین نمونہ اور نباض ہے اس میں اس کی تمام کمزوریاں ملحوظ رکھی گئی ہیں اور کہیں بھی ناقابل برداشت تکلیف نہیں دی گئی ، وظائف زوجیت بھی ایک خلقی و فطری ضرورت ہے ، جس سے بےنیازی ناممکن ہے اور یا مضر ہے اس لئے اس ناگریز حقیقت کو ان الفاظ میں ظاہر کیا کہ تم میں اور عورتوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے کس طرح تم ایک دوسرے سے الگ رہ سکتے ہو ؟ عورت کا درجہ : (ف 1) (آیت) ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “۔ کہہ کر فلسفہ تدبیر منزل کے بہترین نکات بتائے ہیں ، قرآن حکیم کا یہ مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ باتوں ہی باتوں میں معاشرت واخلاق کی مشکل ترین گتھیاں سلجھا دیتا ہے ، لبات کی تین اغراض ہوتی ہیں ۔ : (1) بچاؤ ۔ (2) اخفائے ستر ۔ (3) تزئین و آرائش ۔ اس لئے گویا مرد و عورت کی حیثیت صحیح معنوں میں شریک حیات کی ہے ، دونوں ایک دوسرے کے لئے لباس کی مانند زمانہ کے سرد وگرم کا مقابلہ کرنے والے ہیں ، دونوں ایک دوسرے کے عیب پوش باعث عزت وآبرو ہیں اور دونوں کے وجود سے سوسائٹی کی عزت وآبرو ہے ، کس خوبصورتی سے قرآن حکیم نے دونوں کے منصب وفرائض کی تشریح فرمائی ہے ، تاکہ ان میں کوئی ایک دوسرے سے بےنیاز نہ رہ سکے ۔ عام مسائل : روزہ میں سحری دیر سے کھانا اور افطار میں جلدی کرنا مسنون ہے کیونکہ مقصد اطاعت ہے مشقت نہیں ، کھانے پینے کی چیزیں استعمال کرنا ممنوع ہے ، مسواک کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ رات کو تراویح پڑھنا بہت اجر کا باعث ہے ، حدیث میں آتا ہے ، آپ نے فرمایا کہ من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذبنہ “۔ یعنی جو شخص رمضان میں قیام لیل کو اختیار کرے گا اور شرائط عبادت کو ملحوظ رکھے گا ۔ حل لغات : تختانون : مادہ خیانت بمعنے نقصان یعنی تم اپنے جائز فطری حق سے محروم تھے ۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اس کو حکام تک پہنچاؤ کہ گناہ کے ساتھ آدمیوں کے مال میں کچھ کاٹ کوٹ کے کھا جاؤ اور تم کو معلوم ہے (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں نیک چلن رہنے کی تلقین فرمائی ہے اس لئے کہ روزہ مقصد ہی کردار واخلاق میں پاکیزگی پیدا کرنا ہے ، فرمایا کہ باطل اور مضر اخلاق وسائل سے روپیہ حاصل نہ کرو یعنی خواہ مخواہ کی مقدمہ بازی اور دلالی جس سے مقصود روپیہ کا حصول ہو ، ناجائز ہے ۔ وکالت کی موجودہ صورت جس میں صرف قانون کی نزاکت اور لچک کا خیال رکھا جاتا ہے ، اس ضمن آجاتی ہے موجودہ تہذیب کی متعدد لعنتوں میں سے ایک لعنت وکالت بھی ہے جو قوم کے اخلاق کو بدرجہ غائت تباہ کرنے والی ہے ، اس کا مقصد اکثر جلب زر ہوتا ہے ، چاہے اسکی سچے انسان کا خون ہوجائے ، ان آیات میں تصریح موجود ہے کہ کسی جرم کے علم ہوجانے کے بعد اس کی حمایت ناجائز ہے ، صرف یہ عذر کہ قانون میں گنجائش ہے ، کافی نہیں ، اس لئے وکلاء یقینا جانتے ہیں کہ بعض اوقات قانون کے الفاظ ہمارا ساتھ نہیں دیتے یا کم از کم ان کا منشا یہ نہیں ۔ اس لئے اسلام کے نظام عدالت میں پیشہ ور وکیلوں کا کہیں ذکر نہیں ۔ کیونکہ اس سے براہ راست جرائم پھیلتے ہیں ۔ جب مجرم کو یہ معلوم ہو کہ ہر جرم کے لئے چاہے وہ کتنا ہی سنگین ہو ‘ ایک قابل وکیل مل سکتا ہے جو اس کا جرم ثابت نہ ہونے دے گا تو اس کے شوق جرم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس طرح دنیا میں جرائم کی افزائش ہوتی ہے جو عدل و انصاف کے خلاف ہے ۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

تجھ سے نئے چاند (ف 2) کی بابت سوال کرتے ہیں ، تو کہہ کہ یہ لوگوں کے اور حج کے لئے ٹھیرے ہوئے وقت ہیں اور یہ نیکی نہیں کہ تم اپنے گھروں میں ان کی چھت پر سے آؤ ، نیکی یہ ہے کہ آدمی ڈرے اور گھروں میں دروازوں سے آؤ اور خدا سے ڈرو کہ تم مراد کر پہنچو (ف 3)

قمری مہینوں کا فلسفہ : (ف 2) معاذ بن جبل ؓ اور ثعلبہ بن عتبہ ؓ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ چاند کیوں بڑھتا اور گھٹتا ہے ، اس پر یہ جواب دیا گیا کہ (آیت) ” قلھی مواقیت للناس والحج “۔ یعنی بجائے اس کے کہ لم بیان کی جائے ، حکمت و فلسفہ بیان کردیا اور اس طریق سے یہ بتایا کہ سوال غلط ہے ، یہ مذہب کے موضوع سے متعلق نہیں ، البتہ یہ پوچھ سکتے ہو کہ چاند کے بڑھنے اور گھٹنے سے شرعی طور پر کیا فوائد مرتب ہوتے ہیں ؟ اسلام نے حج ، صوم اور دیگر ضروریات دین کے لئے قمری مہینوں کو پسند فرمایا ہے ، حالانکہ شمسی مہینے مہینے زیادہ واضح اور متعین ہوتے ہیں ، اس کی متعدد وجوہ ہیں : (1) اس لئے کہ اسلام دین فطرت ہے جس میں اہل حضر سے لے کر اہل بادیہ تک سب لوگوں کی رعایت رکھی گئی ہے شمسی مہینے شہر کے متمدن لوگوں کو تو معلوم ہو سکتے ہیں لیکن خانہ بدوش اور غیر شہری نہیں جان سکتے ۔ (2) اس لئے بھی کہ اسلام کا مقصد صرف تعین وتقرر ہی نہیں ، جبکہ تشویق وترغیب بھی ہے ، مثلا رمضان اگر شمسی تاریخوں میں ہوتا تو بلا کسی انتظار کے کھٹ سے آموجود ہوتا اور اس وجہ سے دلوں میں پہلے سے کوئی شوق و اضطراب نہ ہوتا لیکن اب لوگ ماہ صیام کا چاند دیکھنے کے لئے بےتاب ہوجاتے ہیں اور اس طرح طبیعتوں میں ماہ صیام کے لئے زبردست شوق پیدا ہوجاتا ہے یعنی مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے اور خود بخود تحریک بھی پیدا ہوجاتی ہے ۔ (3) پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے موسم بدلتے رہتے ہیں ، شمسی مہینوں میں رمضان ہمیشہ ایک ہی موسم میں ہوا کرتا ، یا گرما میں یا سرما میں ، اس طریق سے موقع ملتا ہے اور تنوع قائم رہتا ہے ، ان اسباب وجوہ کی بنا پر ضروری تھا کہ مہینوں کا حساب چاند سے متعلق ہو ۔ (ف 3) انصار جب اثنائے حج میں گھروں کو لوٹتے تو دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے ، بلکہ پچھواڑے سے دیواریں پھاند کر آتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ محرم کے سر پر سوا آسمان کے اور کسی چیز کا سایہ نہ ہونا چاہئے قرآن حکیم نے بتایا کہ یہ محض وہم ہے ، دروازوں سے داخل ہونا بہت ہے ۔ حج کا مقصد تو تقوی واصلاح کے جذبات کو پیدا کرنا ہے ، وہ ان ادہام وظنون سے پیدا نہیں ہوتے ، ہوسکتا ہے یہ ایک ضرب المثل ہو ، مطلب یہ ہے کہ ہر کام اس طریق سے کرنا چاہئے جو درست و صحیح ہو اور جس کام سے کوئی فائدہ ہوتا ہو ، بیکار کاوش سے حاصل ؟ پہلی آیت سے اس کا تعلق یہ ہوگا کہ چاند کے متعلق ایسے سوال کرنا جو شرعی لحاظ سے غیر صحیح اور غیر مفید ہیں ، محض بےسود ہے تم یہ پوچھو کہ قمری مہینوں میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور خد کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو ، خدا زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا ۔ (ف 4)

جنگ کن سے ہے ؟ (ف 4) ہجرت سے پہلے مسلمان کفر کی طرف سے ہر زیادتی کو برداشت کرتے رہے اور ان کا عمل (آیت) ” فاعف عنھم واصفح “ کی تصویر رہا ، مگر جب ان کی زیادیتاں حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان لوگوں سے مصروف جہاد ہوجاؤ جو تمہیں دق کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جو مسلمانوں سے تعرض نہیں کرتے اور ان سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں ان سے جنگ درست نہیں ، وہ لوگ جو اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتے ، وہ ان آیات کو غور سے پڑھیں اور یہ دیکھیں کہ اسلام نے جہاد میں بھی آداب واخلاق کی پابندی کو ضروری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دیکھنا دشمن پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے پائے کیا آج مہذب سے مہذب قوم بھی جنگ میں ” اخلاق “ کو ملحوظ رکھتی ہے ؟ جنگ عظیم کی روئیداد تمہارے سامنے ہے ، دیکھوکس طرح تہذیب واخلاق کا گلا گھونٹا گیا ہے ۔
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

جہاں کہیں پاؤ ان کو قتل کرو اور وہاں سے ان کو نکالو ‘ جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکہ سے) اور دین سے بچلانا (یعنی پھرنا یا پھرانا) قتل سے (ف 1) بھی زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو ‘ جب تک کہ اس میں وہ تم سے نہ لڑیں ، پھر اگر وہ تم کو ماریں تو تم ان کو مارو یہی کافروں کا بدلہ ہے ۔

شرارگ جنگ سے زیادہ خطرناک ہے : (ف 1) فتنہ کے معنی ابتلا وآزمائش کے ہیں ، کفار مکہ نے مسلمانوں پر اتنی سختیاں روا رکھیں کہ وہ سخت امتحان میں پڑگئے وہ سوچنے لگے کہ کیا کریں کیا وہ ان ادہام وظنون کو قبول کر کے راحت کی زندگی بسر کریں یا خدا کی راہ میں جان دے دیں اور شہادت کے درجہ عظمی کو حاصل کریں ۔ قرآن حکیم نے کفار مکہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ پوزیشن ناقابل برداشت ہے ، شرارت جب اس حد سے بڑھ جائے تو پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے اور جنگ اس صورت میں یقینا اس مسلسل وپہیم شرارت وفتنہ انگیزی سے کہیں کم اہمیت رکھتی ہے ، اس لئے جب انہوں نے تمہیں گھروں سے نکال دیا اور تکلیف پر تکلیف پہنچا رہے ہیں تو تم بھی مردانہ وار میدان میں نکل آؤ اور انہیں کچل دو ، جہاں پاؤ قتل کرو ۔ ان نااہلوں کی یہی سزا ہے البتہ حرم کے قرب ونواح میں جنگ نہ ہو ، اور اگر وہ مجبور کریں تو پھر وہاں بھی کوئی مضائقہ نہیں جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ اس شرارت کا کلی استیصال نہ ہوجائے اور پرامن فضا نہ پیدا نہ ہوجائے ، جس میں ایک خدا کی کھلے بندوں پرستش کی جائے اور اگر وہ باز آجائیں تو پھر تم بھی رک جاؤ
Ayahs 2:192–194

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

ان سے یہاں تک لڑو کہ فسادباقی نہ رہے اور دین خدا کا ہوجائے ، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بجز ظالموں کے کسی پر زیادتی نہیں چاہئے ۔

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت کا مہینہ حرمت کے مہینے کے مقابلے میں ہے اور ادب رکھنے میں قصاص (برابری) ہے ، سو جو تم پر زیادتی کرے تم اس پر زیادتی کرو ، جیسے اس نے تم پر زیادتی کی اور خدا سے ڈرو اور جانو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔ (ف 1)

جنگ اور رعایت اخلاق : (ف 1) اسلام نے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں اصلاح کی ہے ، وہاں شعبہ حرب کو بھی فراموش نہیں کیا ، اسلام سے پہلے لوگ جن میں کسی قسم کی رعایت کو ملحوظ رکھنا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، اسلام نے بتایا کہ جنگ میں بھی اخلاق وتدین کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے ، اس لئے کہ جنگ اخلاق مندوں سے نہیں ‘ بلکہ ایک اخلاق باختہ قوم سے ہے ، مقصد یہ ہے کہ اخلاق دین کے تحفظ کے لئے آخری قطرہ خون بھی بہا دیا جائے ، مکہ والے ذی قعد ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب میں جنگ کو روک دیتے تھے اور ان چار مہینوں کو احترام کے قابل سمجھتے تھے ، قرآن حکیم نے بھی ان کی اس حرمت کو برقرار رکھا اور فرمایا کہ اگر وہ زیادتی کریں اور ان مہینوں کی حرمت کا خیال نہ رکھیں تو پھر تم بھی مجبور نہیں ہو ، بہرحال اتقاء و خشیت الہی کو ہر آن مد نظر رکھو اور جان رکھو کہ فتح ونصرت ہمیشہ اخلاق ودین داری کے ساتھ ہے وہ لوگ جو اخلاق کو کھو کر غلبہ حاصل کرتے ہیں درحقیقت ان کی شکست ہے اور وہ بظاہر مغلوب رہتے ہیں اور کسی مرحلے پر بھی تہذیب ومتانت کو ہاتھ سے نہیں دیتے وہ غالب ہیں ، ان کی فتح ہے ، اس لئے کہ اصل فتح روح کی فتح ہے نہ کہ مادہ کی ۔
Ayah 2:195

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور خدا کی راہ میں خرچ کرو ، اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو ، بیشک اللہ نیکوں سے محبت کرتا ہے ۔ (ف 2)

بزدلی ہلاکت ہے : (ف 2) جہاد کے لئے جس طرح سرفرشی ضروری ہے ، اسی طرح مالی اعانت بھی لابدی ہے ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قومیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ کرتی ہیں ان کی ہلاکت قطعی ہے ان کا پنپنا اور دنیا میں رہنا محال ہے قوموں کی زندگی ان کے جذبہ ایثار وقربانی سے وابستہ ہے ، اس لئے وہ لوگ جو قومی احساس نہیں رکھتے جن کے دل تو قوم کے مصائب پر نہیں پسیجتے وہ غورکریں کہ ان کے زندہ رہنے کی کیا صورت ہے ۔ بعض فریب خوردہ لوگ (آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ جہاد میں شرک نہ کی جائے اور جن بچائی جائے اس لئے کہ ہلاکت میں پڑنے سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے ، حالانکہ یہ غلط ہے وہ نہیں سوچتے کہ سیاق جہاد میں اس کا ذکر کرنا اس پر دال ہے کہ جہاد میں شرکت نہ کرنا اور مال و دولت سے حد سے زیادہ پیار کرنا ہلاکت ہے ، چناچہ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ جو اسلام کے ایک باہمت مجاہد ہیں فرماتے ہیں کہ ہم (یعنی صحابہ ؓ اجمعین) ہمیشہ بزدلی اور تکلف عن الجہاد کو ہی ہلاکت سمجھتے رہے ، وہ موت وہلاکت جو خدا کی راہ میں آئے جس سے اسلام اور مسلم کی عزت میں اضافہ ہوتا ہو ‘ ہزار زندگی سے بہتر ہے اور وہ زندگی جو بزدلی اور آسائش میں گزرے موت سے بھی بدتر ہے ۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو ، پھر اگر تم روکے جاؤ تو جو کچھ میسر ہو ، قربانی بھیج دو اور اپنے سر نہ منڈاؤ ، جب تک قربانی اپنی جگہ میں نہ پہنچے (ف 1) پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو اس کے سر میں کوئی دکھ ہو تو چاہئے کہ وہ فدیہ دے ، روزہ یا صدقہ یا ذبیحہ ، پھر جب تم امن پاؤ تو جس نے حج کے ساتھ عمرہ ملا کر فائدہ اٹھایا ہے (ف 2) اس کو چاہئے کہ جو کچھ میسر ہو ‘ قربانی دے پھر جس کو قربانی میسر نہ ہو وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور ساتھ روزے اس وقت رکھے جب تم اپنے گھروں کو لوٹو یہ پورے دس دن ہوگئے یہ حکم اس کیلئے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جانو کہ خدا عذاب دینے والا ہے ۔

آداب حج : (ف 1) حج فرض ہے اور عمرہ محض تطوع ، عمرہ دراصل آداب زیارت کا نام ہے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ حج وعمرہ جب شروع کیا جائے تو پھر اس میں شروط ولوازم کا خیال رکھا جائے اور کوئی بات ایسی نہ اختیار کی جائے جس سے نقص لازم آئے اور اجر وثواب میں کمی ہو ۔ اگر راستے میں کسی سبب سے زائر یا حاجی رک جائے اور آگے نہ جاسکے تو وہیں احرام کھول دے اور میسر قربانی کر دے ۔ احصار میں چونکہ لغۃ اختلاف ہے ، اس لئے قضا میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک احصار عام ہے ، مرض اور دشمن دونوں اس میں داخل ہیں اور بعض کے نزدیک صرف دشمن ، بہرحال جب لغوی معنوں میں وسعت موجود ہے تو پھر اس کو قائم رکھنا چاہئے اس کے بعد ایک عام حکم ہے کہ جب تک قربانی کا جانور حرم میں نہ پہنچ جائے تم احرام باندھے رہو ، البتہ اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈانا چاہے تو پھر وہ بطور فدیہ کہ تین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور یا ایک بکری ذبح کرے جیسا کہ کعب بن عمرہ ؓ کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ جب اس کے سر میں جوئیں پڑگئیں تو حضور ﷺ نے سرمنڈانے کی ان شرائط کے ماتحت اجازت دیدی جو اوپر مزکور ہیں ۔ حج کی تین قسمیں : (ف 2) حج کی تین قسمیں ہیں ۔ افراد ، تمتع اور قران ۔ افراد وہ حج ہے جس میں قران وتمتع نہ ہو ۔ تمتع کی صورت یہ ہے کہ شہر حج میں کوئی عمرہ کے آداب سے ظاہر ہوجائے پھر انہیں مہینوں میں حج کا احرام باندھے ۔ قران یہ ہے کہ نسکین کو اکٹھا ادا کرے ۔ فقہاء کا اختلاف ہے اس امر میں کہ تینوں صورتوں میں افضل کون ہے ، بعض کے نزدیک افراد افضل ہے ، بعض کے نزدیک تمتع اور بعض کے نزدیک قران ، ان آیات میں تمتع کا ذکر ہے اور یہ اس لئے کہ قریش تمتع کو درست نہیں جانتے تھے ، تمتع میں چونکہ ترتیب حج پر اثر پڑتا ہے اس لئے ہدی ضروری قرار دی ہے جو شخص معذور ہو یعنی وہ ہدی نہ لاسکے وہ دس روزے رکھے ، تین ایمان حج میں اور ساتھ لوٹ کر یا لوٹتے ہوئے اس میں اختلاف ہے ۔ تلک عشرۃ کاملۃ : سوال پیدا ہوتا ہے کہ عشرہ کہہ دینے کے بعد کاملہ کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ؟ کیا کوئی عشرہ ناقصہ بھی ہوتا ہے ؟ جب اعداد میں تعیین یقینی و قطعی ہے تو پھر اس زیارت کا فائدہ :؟ جواب یہ ہے کہ عشرہ کی صورت میں ہوسکتا تھا کہ کوئی تغیر کا مفہوم لے لے یعنی یہ سمجھ لے کہ تین یا سات میں جس صورت کو چاہے ، اختیار کرلے ، حالانکہ مطلب یہ نہیں ۔ مبرد کا خیال ہے ، یہ تاکید ہے جو عربی اصول کے بالکل مطابق ہے ، عرب کہتے ہیں ۔ کتبت بیدی حالانکہ ہمیشہ ہاتھ سے ہی لکھا جاتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ مقصد یہ ہو کہ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی ، یہ روزے قربانی کی پوری نیابت کریں گے ، ذلک کا مشارالیہ یا تو نفس تمتع ہے اور یا حکم ، پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ مقامی لوگوں کو تمتع کی اجازت نہیں ، امام ابو حنفیہ (رح) کا یہی مذہب ہے ، دوسری صورت میں مقصد یہ ہوگا کہ مقامی آدمی کے لئے تمتع کی صورت میں قربانی ضروری نہیں ، امام شافعی (رح) اور ان کے تلامذہ اسی طرف گئے ہیں اس کے بعد تقوی کی طرف سب کو دعوت دی ہے اور فرمایا ہے کہ عدم تقوی شعائر اللہ کی توہین ناقابل برداشت ہے اور موجب غضب الہی ہے ۔
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے چند مہینے ہیں معلوم ، سو جس نے ان میں اپنے اوپر حج فرض کرلیا تو حج میں جماع اور گناہ اور جھگڑا نہیں چاہئے اور جو نیکی تم کرو گے ، اللہ کو معلوم ہوگی اور راہ کا خرچ لے کر آیا کرو اچھا راہ کا خرچ گناہ سے بچنا ہے اور اے عقل مندو ! مجھ سے ڈرتے رہو (ف 1)

ملحوضات حج : (ف 1) ان آیات میں بتایا کہ حج تطہیر روحانیات کا بہترین ذریعہ ہے ، اس لئے اس میں لغویات وممنوعات سے بکلی احتراز لازم ہے اس لئے اس میں نہ تو رفث درست ہے یعنی مقاربت وتعلقات جنسی نہ فسوق درست ہے یعنی حدود شرعی سے تجاوز ، نہ جدل وبغض ، بلکہ کوشش کرنا چاہئے کہ روحانی حالت نہایت بہتر رہے ، زیادہ سے زیادہ رضائے الہی کو تلاش کیا جائے اور حاصل کیا جائے ۔ بہترین زاد راہ : بعض لوگ بلا زاد راہ کے حج کے لئے روانہ ہوجاتے ہیں ، وہ کہتے ہیں ہم متوکل ہیں اور اس کے بعد دوسرے حجاج کے لئے تکلیف کا موجب ثابت ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ حرکت خلاف تقوی ہے ، جب تک زاد راہ میسر نہ ہو حج فرض نہیں ، نہ توکل اس طرح کا جو تعطل کے مترادف ہے باعث فضیلت نہیں ہے بلکہ تقوی باعث اجر ہے اور یہی بہترین زاد راہ ہے ۔
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم (حج میں) خدا کا فضل (ف 2) (روزی) تلاش کرو ، پھر جب تم میدان عرفات سے واپس ہو تو مشعرالحرام کے پاس خدا کو یاد کرو اور اس کا ذکر کرو ، جیسے اس نے تم کو ہدایت کی ہے ، اور بیشک اس سے پہلے تم گمراہ تھے (ف 3)

ایام حج میں تجارت : (ف 2) اسلامی عبادات میں اور دیگر مذاہب کے نظام عبادت میں ایک بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ اسلامی عبادات صرف ذکر خدا تک محدود نہیں ، بلکہ وہ وسیع تر مفہوم اپنے اندر پنہاں رکھتی ہے ، اسلامی عبادت ذکر الہی کے علاوہ ضروریات تمدن پر حاوی ہے ، اس لئے حج میں جو خالصہ ذکر و ریاضت کی ایک اعلی صورت ہے ، تجارت کی اجازت دی اور فرمایا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، بلکہ اپنے فضل کے لفظ سے تعبیر کرکے ترغیب دی کہ مسلمان اس عظیم الشان اجتماع سے مادی فائدہ بھی اٹھائیں اور یہ اجتماع ہر محافظ سے مسلمانوں کے لئے باعث برکت وسعادت ہو ۔ (ف 3) عربوں کا قاعدہ تھا کہ جب مناسک حج سے فارغ ہوتے تو ایک مجلس مفاخرہ قائم کرتے جس میں اشعار پڑھتے اور اپنے اپنے آباؤ و اجداد کے مناقب و فضائل بیان کرتے جس سے حج کا مقصد بالکل فوت ہوجاتا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فخر و غرور کے یہ نعرے جائز نہیں ، حج کا مقصد تو اعلائے کلمۃ اللہ ہے ، اس لئے اسی کا ذکر اور اسی کی تمحید و تقدیس میں تمہاری زبانیں مصروف رہنی چاہئیں اور خدا نے بزرگ و برتر یقینا تمہارے آباؤ اجداد سے زیادہ حمد وثنا کا استحقاق رکھتے ہیں ، اس لئے تم کیوں غیر اللہ کی مدح و ستائش میں اپنی زبانوں کو آلودہ کرتے ہو ، کیونکہ تمہارے دلوں میں خدا کی محبت نہیں ۔ حل لغات : اشھر : جمع شھر ، مہینہ ، رفث : ہر وہ حرکت جو عورتوں سے متعلق ہو ، فسوق : حدود اصلیہ سے تجاوز ۔ جدال ، بےسود جھگڑا ، لڑائی جنگ ۔ زاد : راستے کا خرچ ، افضتم : مصدر افاضۃ ۔ لوٹنا ، پھرنا ۔