2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayahs 2:235–238

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ کنایۃ (اشارہ سے) عورتوں کو نکاح کا پیغام دو یا اپنے دل میں چھپا رکھو ، خدا جانتا ہے کہ البتہ تم ان کا ذکر کرو گے ، مگر تم ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو ، ہاں حسب دستور کوئی بات کہہ دو (کوئی حرج نہیں) اور نکاح کا ارادہ نہ کرو جب تک خدا کا حکم اپنی مدت کو نہ پہنچے اور جان لو کہ جو تمہارے دل میں ہے ‘ اللہ کو معلوم ہے ، سو اس سے ڈرو اور جانو کہ اللہ بخشنے والا بردبار ہے ۔

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اگر تم نے عورتوں کو ان کے ساتھ ہم بستر ہونے سے پہلے طلاق دے دی یا ان کا مہر مقرر نہیں کیا اور طلاق دے دی تو تم پر کچھ گناہ نہیں (مہر لازم نہیں) اور چاہئے کہ غنی اور تنگدست آدمی اپنی اپنی حیثیت کے موافق ان کو خرچ دیں جیسے خرچ کا دستور ہو ، یہ نیکوں کاروں پر حق ہے ۔

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر ہم بستر ہونے سے پہلے ان کو طلاق دو اور ان کا مہر تم مقرر کرچکے ہو تو جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف دینا چاہئے مگر جبکہ وہ عورتیں یا وہ شخص جس کے ہاتھ نکاح کی گرہ تھی معاف کر دے ۔ اور تم مرد اگر معاف کرو تو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھلا دو ، بیشک جو تم کرتے ہو خدا دیکھتا ہے ۔

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

نمازوں (ف 1) سے اور بیچ والی نماز سے خبردار رہو اور اللہ کے آگے ادب سے کھڑے ہوا کرو ۔

نماز اور معاملات خانگی : (ف 1) ان آیات میں جو بات قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے عین درمیان نماز کا ذکر ہے ، اس سیاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ نکاح و طلاق کے مسائل جو یکسر خانگی معاملات ہیں ‘ نماز سے کیا تعلق وربط رکھتے ہیں جو خالص روحانی عبادت ہے اور کیوں نماز کو عین ان مسائل کے درمیان بیان کیا ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن حکیم مضامین کے بیان کرنے میں کسی اکتسابی اسلوب بیان کا محتاج نہیں ، اس کا انداز بیان اپنا ہے اور فطری ہے ، جس طرح انسان سوچتے وقت کسی خاص منطقی طریق کا پابند نہیں ہوتا اور خیالات تنوع کے ساتھ دماغ میں آتے ہیں ، اسی طرح قرآن حکیم کے مضامین اپنے اندر ایک عجیب تنوع لئے ہوئے ہیں جن میں گو مصنوعی ترتیب نہیں ہوتی ، مگر قدرتی ربط اس نوع کا ہوتا ہے کہ پڑھنے میں دلچسپی قائم رہتی ہے ۔ دوسری خاص وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بتانا یہ مقصود ہے کہ نماز ومعاملات میں ایک گہرا ربط ہے ، وہ لوگ جو نماز تو پڑھتے ہیں ، مگر معاملات خانگی ہیں اچھے ثابت نہیں ہوتے ، وہ نماز کا مفہوم نہیں سمجھتے ، نماز ایک خاص نوع کی روحانی ریاضت ہی کا نام نہیں ، بلکہ اس کا تعلق اعمال کے ساتھ ہے اور اس حد تک ہے کہ وہ لوگ جو حقوق الناس کا خیال نہیں رکھتے صحیح معنوں میں عبادالرحمن نہیں ، نماز کے معنی ایک ذہنی عملی انفرادی اور اجتماعی انقلاب کے ہیں جو نماز میں پیدا ہوجاتا ہے یعنی نماز پڑھنے سے نماز کا ہر حصہ زندگی متاثر ہوتا ہے ، بلکہ بدلتا ہے ۔ (آیت) ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر “۔ کا یہی مفہوم ہے ۔ صلوۃ وسطی سے مراد بہتر ، زیادہ مراتب ودرجات کی حامل نماز کے ہیں ، اس لئے لفظ وسط جس کے معنی درمیان کے ہوتے ہیں ، اس سے تفصیل کا صیغہ مشتق نہیں ہوتا ، پھر اس کے مصدوق میں اختلاف ہے ۔ زیادہ قرین صحت یہ ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے ۔ نماز کی تاکید اس قدر زیادہ ہے کہ حالت جنگ میں بھی اسے ترک نہیں کیا جاسکتا ، اگر سواری کی صورت میں ممکن ہو تو سواری پر پڑھ لے ، ورنہ کھڑے کھڑے ادا کرلے ، بہرحال معاف نہیں ہو سکتی ، اس لئے کہ یہی تو وہ چیز ہے جس سے فرائض کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جس سے مسلمانوں کی فلاح و بہبود وابستہ ہے ۔
Ayahs 2:239–240

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو خوف ہو تو پیادہ یا سوار ہی نماز پڑھ لو ۔ پھر جب امن میں آجاؤ تو خدا کو یاد کرو ‘ جیسا کہ اس نے تم کو وہ باتیں سکھلائیں جو تم نہ جانتے تھے ۔

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں مرجاویں اور عورتیں چھوڑ جاویں ، وہ ایک سال تک ان کے خرچ دینے کی (ف 2) وصیت کر جائیں نہ یہ کہ نکال دی جائیں ، پھر اگر وہ آپ نکل جائیں تو تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو وہ اپنے حق میں دستور کے مطابق (تجویز) کریں ، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں یہ بتایاس ہے کہ اگر بیوہ عورتوں کے متعلق ان کے خاوند وصیت کرجائیں کہ انہیں ایک سال تک مکان سے نہ نکالا جائے تو اس پر عمل کیا جائے ، اگر وہ خود اس عرصہ میں نکلنا چاہیں تو مضائقہ نہیں ۔ سلف میں اس آیت کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ منسوخ ہے یا محکم ، اکثریت کی رائے ہے کہ منسوخ ہے ، آیت وصیت کی وجہ سے اور آیت عدت کی وجہ سے ۔ مگر ان آیات میں تطبیق بھی ممکن ہے آیت وصیت وعدت میں احکام ہیں اور اس آیت میں فوق الاحکام ، حسن سلوک یعنی اگر کوئی شخص حقوق سے زیادہ کچھ دینا چاہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ حل لغات : قنتین : خشوع و خضوع ، مادہ قنوت :
Ayah 2:241

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق یافتہ عورتوں کو حسب دستور خرچ دینا چاہئے یہ پرہیزگاروں پر لازم ہے ۔ (ف 1)

(ف 1) (آیت) ” وللمطلقت متاع “۔ کے معنی ہیں کہ طلاق محض اختلاف رائے کا نتیجہ ہے ، کسی بغض وعناد کا نتیجہ نہیں ، یعنی اگر طلاق دو تو اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ تم بعض وجوہ کی بنا پر اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ نہ یہ کہ مطلقہ حسن سلوک کی مستحق نہیں رہی ، قرآن حکیم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان بہرحال اخلاق عالیہ کا مظاہرہ کرے اور کسی حالت میں بھی حسن سلوک کی فضیلت کو فراموش نہ کرے ۔ حل لغات : الوف : ہزاروں ، جمع الف ۔ حذر : خوف ، ڈر ۔
Ayahs 2:242–243

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

خدا یوں اپنی آیتیں تمہارے لئے بیان کرتا ہے شاید تم سمجھو ۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا تونے (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ لوگ نہیں دیکھے جو ہزاروں تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے تھے ، سو خدا نے ان سے کہا کہ مر جاؤ پھر ان کو جلا دیا ، بے خدا آدمیوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے ۔ (ف 1)

(ف 1) اس سے پیشتر کی آیات میں قوم بنی اسرائیل کا واقعہ ذکر فرمایا ہے کہ کس طرح وہ جہاد سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور کس طرح موت کے چنگل میں گرفتار ہوگئے اور پھر کیونکر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی بخشی مقصد یہ ہے کہ جہاد کی اہمیت بتلائی جاوے اور یہ بتلایا جاوے کہ موت بہرحال آنے والی چیز ہے ، اس سے مفر نہیں ، اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ موت خدا کی راہ میں آئے ۔ اس کے بعد دعوت جہاد ہے اور اس کا ذکر ہے ، کہ خدا کو قرض دو ، تاکہ قیامت کے دن اسے کئی گنا زیادہ کرکے تمہیں اجر کی صورت میں بدل دے ۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ۔ اسے ہمارے مال و دولت کی ضرورت نہیں ، اس کے خزانے بھرے پڑے ہیں ، البتہ ہمیں توشہ آخرت کی سخت حاجت ہے ، اس لئے فرمایا کہ تم اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں اعمال کی دولت کو جمع کراؤ وہ اسے بڑھاتا رہے گا اور تمہیں کئی گنا نفع کے ساتھ واپس کرے گا ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالاجداح انصاری ؓ نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “ تو کہا ہاتھ بڑھائیے ، اس کے بعد باغ کو اللہ کی راہ میں دینے کا اعلان فرما دیا جس میں تقریبا چھ سو درخت کھجور کے تھے ۔ آیت کو ان الفاظ پر ختم فرمایا کہ (آیت) ” واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون “۔ مقصد یہ ہے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے آدمی مفلس وقلاش نہیں ہوجاتا ، یہ تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور یہ جان لو کہ تمہیں اس کے حضور میں پیش ہونا ہے ، تم چاہتے ہو کہ تم احکم الحاکمین کی جناب میں خالی ہاتھ جاؤ ۔ حل لغات : الملا : شرفاء کی جماعت ۔
Ayahs 2:244–246

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور تم خدا کی راہ میں لڑائی کرو اور جانو کہ اللہ سنتا اور جانتا ہے ۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

ایسا کون شخص ہے جو خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کو کئی گنا دگنا کر دے اور خدا ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف جاؤ گے ۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا تونے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا ، جنہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ قائم کر کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں ، نبی (علیہ السلام) نے کہا کہ تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم پر جنگ فرض ہوجائے تو تم جنگ نہ کرو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی راہ میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم اپنے گھروں اور بیٹوں سے جدا کئے گئے ہیں ، پھر جب ان پر قتال فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے آدمیوں کے وہ سب پھرگئے اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے ۔ (ف 1)

بنی اسرائیل کی بزدلی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عنان نبوت حضرت شموئیل (علیہ السلام) کے ہاتھ میں آئی تو بنی اسرائیل نے کہا ، ہمیں جہاد کرنے میں کوئی تامل نہیں ، آپ ایک امیر مقرر فرما دیجئے ، اس پر کہا گیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم بالضرور جہاد پر آمادہ ہوجاؤ گے ، تو ایسا تو نہیں کہ فرضیت جہاد کے بعد تمہاری ہمتیں جواب دے جائیں ، انہوں نے کہا ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ جبکہ ہم مظلوم ہیں اور مہاجر ہیں ، مگر جب جہاد فرض کردیا گیا اور حکم آگیا کہ اب لڑو تو بجز چند بہادروں کے سب پھرگئے ، اس سارے قصہ سے جو بہت طوالت کے ساتھ دہرایا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرح جہاد کے لئے آمادہ و تیار کردیا جائے اور پہلے راہ کی مشکلات بتا دی جائیں ، تاکہ بعد میں وہ بھی بنی اسرائیل کی طرح عذرومعذرت نہ کریں اس سے مراد امیر جماعت ہے جو نبی کی غیر حاضری میں سالار عسکر ہو ، یہ غلط ہے کہ اس وقت چونکہ حضرت شموئیل بوڑھے تھے ، اس لئے ایک امیر کی ضرورت پڑی کیونکہ نبی جب تک دنیا میں رہتا ہے اس کی قوتیں جوان رہتی ہیں اور وہ ایک لمحہ کے لئے بےکار نہیں ہوتا ، یہ بھی غلط ہے کہ بنی اسرائیل میں نبوت وامارت دو الگ الگ شعبے تھے ، اس لئے نبی وہ جامع کمال شخصیت ہوتی ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے مستقل وجود کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ حل لغات : بعث : بھیجا ، مقرر کیا ۔ انی : کیونکر ، کیسے سعۃ : فراوانی ، کشائش ۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے ، وہ بولے کیونکر اس کو ہم پر حکومت ہو سکتی ہے ، حالانکہ بادشاہت کے ہم اس سے زیادہ حق دار ہیں اور وہ مال میں بھی بڑا مقدور والا نہیں ہے کہا کہ خدا نے اس کو تم سے چن لیا اور اس کو علم اور جسم میں زیادہ وسعت دی ہے اور خدا اپنا ملک جس کو چاہے دے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے ۔ (ف 1)

معیار امارت : (ف 1) جناب طالوت (علیہ السلام) کو حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے امیر مقرر کردیا اور بنی اسرائیل سے کہا ، تمہارا مطالبہ پورا ہوا ۔ اب جہاد کے لئے تیار ہوجاؤ تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ طالوت کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ، اعتراض یہ تھا کہ طالوت (علیہ السلام) کے پاس مال و دولت کے ڈھیر نہیں اور وہ سرمایہ دار نہیں آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اللہ کی اجازت سے کیا ہے اور وہ قوت وعلم میں تم سب پر فائق ہے ، جس کے معنی یہ ہیں کہ معیار امارت نسل ونسب کا امتیاز نہیں اور نہ دولت وسرمایہ کی فراوانی بلکہ علم وقوت ہے ، جو زیادہ عالم ، زیادہ بہادر اور جسور ہے ، وہی امارت کا اہل ہے ۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی بادشاہت کا نشان یہ ہے کہ تمہارے پاس صندوق آجائے گا ، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی اولاد کے ترکہ سے کچھ بقیہ ہے ، فرشتے اس صندوق کو اٹھالائیں گے ، اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان دار ہو ۔ (ف 2)

تابوت بنی اسرائیل : (ف 2) اس کے حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا طالوت (علیہ السلام) کی اہلیت امارت کو ثابت کرنے کے لئے کیا یہ کافی نہیں کہ وہ تابوت جو تم سے عمالقہ بزور چھین کرلے گئے ہیں وہ واپس لے آئے ۔ اس تابوت میں انبیاء سابقہ کے وصایا وہدایات تھیں اور وہ بنی اسرائیل کے لئے طمانیت و سکون کا روحانی سامان تھا ، حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا ، یہ تابوت واپس آجائے گا ، اگر تم نے جناب طالوت (علیہ السلام) کا ساتھ دیا تو (آیت) ” تحملہ الملئکۃ “ کے معنی یا تو یہ ہیں کہ فرشتے اس تابوت کو بطور اعجاز وتائید کھینچ کرلے آئیں گے اور یا جیسا کہ بائیبل میں لکھا ہے ، اس تابوت پر فرشتوں کی تصویریں کندہ تھیں اور یہ دکھایا گیا تھا کہ فرشتے اس صندوق کو اٹھائے ہوئے ہیں ، یعنی صندوق جس کی یہ علامتیں ہیں واپس آجائے گا ۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب فوج لے کر طالوت الگ ہوا تو بولا ، خدا تمہیں ایک نہر سے آزمائے گا ، سو جو اس سے پئے گا ‘ وہ میرا نہیں ہے اور جو اس کو چکھے گا ‘ وہ بیشک میرا ہے مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے تو اتنے میں مضائقہ نہیں سو تھوڑوں کے سوا سب نے اس کا پانی پیا ، پھر جب طالوت نے اور اس کے ایماندار ساتھی اس نہر سے پار اترے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کی فوج سے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے جنہیں خدا کی ملاقات کا خیال تھا یوں بولے ، ایسا بہت ہوا ہے کہ چھوٹی جماعت خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب آئی ہے اور خدا صابروں کے ساتھ ہے ۔ (ف 1)

قلت کی فتح کثرت پر : (ف 1) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل بالآخر قائل ہوگئے اور بجبر واکراہ طالوت کی امارت قبول کرلی ، وہ ان کو لے کر نکلا ، راستے میں اردن وفسطین کے درمیان ایک دریا پڑتا تھا ، آپ نے فرمایا دیکھو دریا سے سیر کر پانی پینا تمہارے لئے ممنوع ہے ۔ البتہ اگر چلو سے منہ تر کرلو تو مضائقہ نہیں مقصد ان کا امتحان لینا تھا کہ ان میں مجاہدانہ جفاکشی کی عادت بھی ہے یا نہیں اس امتحان میں چند آدمیوں کے سوا سب ناکام رہے ، آگے بڑھ کر جالوت کا لشکر جرار تھا ، یہ دیکھ کر گھبراگئے اور کہہ اٹھے کہ ہم میں تو جنگ کی ہمت نہیں سوا ان قلیل نفوس کے جن کے دلوں میں صحیح ایمان جاگزین تھا اور وہ سوا اللہ کے اور کسی سے نہیں ڈرتے تھے ، وہ ثابت قدم ہے ، اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے فتح کثرت تعداد یا سازوسامان کی چمک دمک سے نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے ہے بہت سی قلیل التعداد جماعتیں اپنے ایمان و استقلال کی وجہ سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کی فوج کے مقابلہ میں آئے تو بولے کہ اے ہمارے رب ہمیں پورا صبر دے اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کی قوم پر ہمیں مدد دے ۔ (ف 2)

اللہ سے طلب اعانت : (ف 2) اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ صرف مادی سازوسامان پر بھروسہ درست نہیں ، اللہ تعالیٰ کی اعانت خاص کا بھی متوقع رہنا چاہئے ، اس لئے کہ حالات کی تبدیلی اسی کے اختیار میں ہے ، وہ چاہئے تو ابرہہ کے لشکر جرار کو چھوٹی چھوٹی چڑیوں سے غارت کر دے اور غیب سے کچھ سامان پیدا کر دے جس کا کوئی مداوا نہ ہو سکے ۔ مومن و کافر کی ذہنیت میں یہی عظیم فرق ہے کافر ظاہری آلات حیات کو دیکھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور کسی دوسری چیز کی خواہش نہیں رکھتا ، مگر تمام ممکن تیاریوں کے بعد طالب نصرت رہتا ہے ۔ وہ ہر دم افراغ صبر اور ثابت قدمی کی دعائیں کرتا رہتا ہے اور جب ان مختلف ذہنیت رکھنے والوں میں تصادم ہوگا ، فتح انہیں لوگوں کی ہوگی جن کا نصب العین بلند ہے اور جن کی ہمتوں کے ساتھ تائید ایزدی بھی کار فرما ہے ، اس لئے جب بھی طالوت کے لشکر کی جالوت کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوئی تو فتح ونصرت انہیں کے حصہ میں آئی جو خدا کے فرمانبردار تھے اور اس طرح لشکر طالوت کے سامنے جالوت مقتول ہوا جو بہت شان و شوکت کا سالار عسکر تھا ۔ اس قصے میں جتنے نام آتے ہیں ، کوئی ضروری نہیں کہ بائیبل ان سے متفق ہو ، اس لئے کہ قرآن حکیم بجائے خود اقوام سابقہ کی تاریخ ہے جس پر اس زمانے کے اہل کتاب نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ حل لغات : غرفۃ : چلو بھرنا ۔ جنود : لشکر جمع جند ۔ فئۃ : گروہ ۔
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر انہوں نے کفار کو خدا کے حکم سے شکست دی اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور خدا نے داؤد کو سلطنت اور حکمت بخشی اور جو چاہا اس کو سکھایا اور اگر اللہ لوگوں کو ایک کو ایک دفع نہ کرائے تو دنیا تباہ ہوجائے ، لیکن اللہ جہان والوں پر فضل کرنے والا ہے ۔ (ف 1)

جہاد کیوں ضروری ہے ؟ (ف 1) قرآن حکیم نے جہاد پر بڑا زور دیا ہے اور یہ اس لئے کہ اگر ظالم کے خلاف جنگ نہ کی جائے ، سرکش کی زیادیتوں کو نہ روکا جائے مظلوم کی حمایت نہ کی جائے اور ہر متمرد وفرعون کو موقع دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہے ، اپنے ملوکیت پر ستانہ اغراض پورے کرلے تو پھر عدل و انصاف کا قیام ناممکن ہوجائے گا دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، اور اللہ کی وسیع و عریض زمین پر کوئی عافیت کی جگہ نہیں رہے گی ۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم سچائی سے پڑھ کر تجھے سناتے ہیں اور بیشک تو رسولوں میں سے ہے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں بتایا کہ حضور ﷺ جو خود امی ہیں اور امی ماحول میں پلے ہیں ، جب ایسے ایسے معرکۃ الآرا مسائل حل فرما دیتے ہیں اور اخلاق ، سیاست ، مذہب کے باریک نکات سلجھاتے ہیں تو لامحالہ یہ غیب خداوندی پر اطلاع ہے اللہ تعالیٰ براہ راست حضور ﷺ کو آیات وبراہین تلقین فرماتے ہیں ، اور آپ ﷺ کا علم قطعی کسی انسانی استفادہ کا نتیجہ نہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے ، کوئی انسان صحرائے عرب کے قلب میں بیٹھا ہوا معرفت و حکمت کے چشمے بہائے کیا ہو سکتا ہے کہ بجز اللہ کی تائید کے کوئی شخص اس ترتیب ، اس نظم کے ساتھ تعلیمات کو پیش کرے ؟ کیا بجز رسول ﷺ اور خدا کے فرستادہ کے ممکن ہے کہ وہ اقوام گزشتہ کے حالات بہ تفصیل بیان کرے اور ان کے اغلاط پر انہیں برملا متنبہ کرے ۔ حل لغات : ھزموا : شکست دی ۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

ان رسولوں میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت (ف 1) دی ہے ، کوئی ان میں سے ہے جس سے خدا نے کلام کیا اور کسی کے ان میں درجے بلند کئے اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو ہم نے کھلے نشانی دئے اور روح القدس سے ان کی مدد کی اور اگر خدا چاہتا تو ان کے بعد کے لوگ صاف حکم پانے کے بعد ہرگز نہ آپس میں لڑتے لیکن انہوں باہم اختلاف ڈالا ، سو کوئی ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کافر ہوا اور خدا چاہتا تو وہ نہ لڑتے لیکن اللہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے ۔ (ف 2)

انبیاء کے درجے : (ف 1) نفس نبوت میں تو اللہ تعالیٰ کے تمام رسول (علیہ السلام) برابر کے شریک وسہیم ہیں ، مگر حالات و استعداد کے ماتحت سب ایک دوسرے سے مختلف اور الگ الگ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وصف خلت میں ممتاز ہیں ، (آیت) ” اتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف مکاملہ سے سرفراز کیا گیا ، (آیت) ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو روح القدس کی تخصیص سے نوازا گیا اور بعض ایسے بھی ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا ، مگر ان کے مراتب بھی اعلی بلند ہیں (آیت) ” ورفع بعضھم درجت “۔ مقصد یہ ہے کہ سب خدا ے فرستادہ ہیں ، سب اس کے پیارے ہیں سب کو درجہ محبوبیت پر فائز کیا گیا ہے ، اس لئے ان کے نام نزاع اور جنگ جائز نہیں یہی مقصد ہے اس حدیث کا جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ” لا تفصلوا بین الانبیآئ “ یعنی انبیاء کے درمیان مفاصلہ پیدا نہ کرو ، روح القدس سے یا تو جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں ، حضرت حسان ؓ کا شعر ہے ۔ وجبریل رسول اللہ فینا ورح القدس لیس لہ کفاء : جبریل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول اور روح القدس ہماری تائید کے لئے میں موجود ہیں ، ان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے ، اور یا روح سے مراد انجیل ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر روحانی اصلاح سے تعرض کیا گیا ہے ۔ چناچہ قرآن حکیم کو بھی روح اللہ کا خطاب دیا گیا ہے ارشاد ہے (آیت) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “۔ اقدس کے معنی مقدس کے ہوں گے ، یعنی ایسی کتاب جو تزکیہ و تقدیس کے لئے نازل کی گئی ہو ، مطلب بہرحال یہ ہے کہ تمام انبیاء احترام کرو ، سب میں فضائل ومزا یا کا معتد بہ حصہ ہے ۔ تمام انبیاء میں رسول اللہ ﷺ کا درجہ کیا ہے ؟ بس یہ سمجھ لو ، ان تمام خوبیوں کا جو فردا فردا تمام رسل میں پائی جاتی ہیں ، اگر کسی ایک انسان میں جمع کردی جائیں تو وہ حضور ﷺ ہیں ع آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری : اس لئے کہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے پیغمبر آئے وہ محدود وقت اور متعین گروہوں کے لئے مبعوث ہو کر آئے تھے ، مگر آپ کی نبوت زمان وقوم کی حدود سے باہر ہے آپ ﷺ ہر قوم اور ہر زمانے کے لئے پیغمبر ﷺ ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے فضائل غیر محدود اور لاتحصی ہیں ۔ (ف 2) ان آیات میں بتایا کہ باوجود حضور ﷺ کی فضیلت ودرجات کے بعد لوگ منکر رہے ۔ یہ اس لئے کلیۃ کفر کا اٹھ جانا اللہ کی مرضی پر موقوف ہے ۔ وہ چاہے تو دنیا میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے ، مگر وہ کسی شخص کو ایمان پر مجبور نہیں کرتا ، ہر شخص اپنے عقیدہ میں آزاد ہے ، اس لئے کفر ومخالفت کا ہونا بھی ناگزیر ہے ۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

مومنو ! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس میں بیع اور دوستی اور شفاعت نہیں ہے اور وہ جو منکر ہیں وہی ظالم ہیں (ف 1)

(ف 1) انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب قرآن حکیم کی متعدد آیات میں مزکور ہے جس کے دو معنی ہیں ، ایک تو یہ کہ مسلمان دنیا میں دولت وسرمایہ کے لحاظ سے مستعفی ہو ، اس کی حیثیت دینے والے کی نہ ہو ۔ العید العلیا خیر من ید التغلی ۔ دوسرے یہ کہ جو کچھ بھی اس کے پاس ہو وہ اللہ کی راہ میں خرچ ہو سکے ۔ وہ لوگ جو قومی طور پر فیاض نہیں ہوتے اور قومی ضروریات کو محسوس نہیں کرتے قطعی طور پر زندہ رہنے کی اہلیت اور استعداد نہیں رکھتے ، قیامت کے دن پورا پورا محاسبہ ہوگا نہ تو سرمایہ کام آسکے گا اور نہ کوئی دوستی ہی ، اور وہ لوگ جنہوں نے یہاں بخل وکفر سے کام لیا ہے ‘ وہاں بھی کسی بخشش اور رحمت کے متوقع نہ رہیں ، اس لئے کہ انہوں نے شرک و انکار کی وجہ سے اپنے آپ کو بالکل محروم کر رکھا ہے ۔ ” شفاعت “ کی قرآن حکیم نے عام طور پر نفی کی ہے اور مستقلا سارے قرآن مجید میں ایک جگہ بھی ” شفاعت “ کے مسئلہ کی تائید نہیں ملتی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی جس سفارش اور شفاعت کے قائل تھے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہودیت اور عیسائیت کے اقرار کرلینے کے بعد ہر معصیت اور ہر گناہ جائز ہے ، قرآن مجید اس نوع کی شفاعت کی کلیۃ نفی کرتا ہے ، البتہ اللہ کے نیک بندوں کو اذان دیا جاسکتا ہے اور وہ ایک دوسرے کی سفارش کرسکیں گے ۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی پابند صوم وصلوۃ مسلمانوں کی سفارش کریں گے جن سے بتقاضائے بشریت گناہ سرزد ہوگئے ہوں ۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ ہی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ زندہ ہے اور سب کا قائم رکھنے والا ہے نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ نیند (ف 2) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ‘ سب اس کا ہے ، ایسا کون ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے اس کے پاس شفاعت کرے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے اور جانتا ہے اور یہ لوگ اس کے علم میں سے کچھ نہیں گھیر سکتے مگر جتنا کہ وہ چاہے اس کی کرسی میں زمین و آسمان کی سمائی ہے اور ان دونوں کی نگہبانی اس کو تھکاتی نہیں اور وہ بلند مرتبہ اور سب سے بڑا ہے ۔

بیدار خدا : (ف 2) ان آیات میں اللہ کی توحید وصفات کو نہایت خوبصورتی اور نزاکت سے بیان فرمایا ہے جس سے ایک طرف تو رب ذوالجلال کی عظمت وعزت دلوں میں پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف تمام شبہات جو اس کے متعلق یہودیوں اور عیسائیوں کے دلوں میں تھے ‘ دور ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو “۔ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے اللہ اپنی وحدت وقدرت میں بےنظیر ہے ۔ ایک ہے ، اس کا کوئی اقنوم نہیں ‘ جسے اس کا حصہ وعنصر ٹھہرایا جائے ۔ الحی کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور کائنات میں جو زندگی نظر آرہی ہے ‘ وہ اس کا عطیہ وفیضان ہے ، اسی کیوجہ سے وہ قائم ہے ۔ ” القیوم “ کا مقصد یہ ہے کہ وہ صرف خالق ہی نہیں اور صرف زندگی عطا کرنے والا ہی نہیں ، بلکہ تربیت وتقویم بھی اسی کا حصہ ہے ، وہ پیدا کرتا ہے ۔ زندگی بخشتا ہے اور اس کے بعد اس کی تربیت اور اصلاح کا بھی خیال رکھتا ہے ۔ (آیت) ” لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “۔ ایک شبہ کا ازالہ ہے ۔ جاہلوں کی طرف سے سوال پیدا ہوتا تھا کہ وہ خدا جس کی سلطنت اتنی وسیع ہے ، اور کیا سوتا بھی ہے ؟ فرمایا کہ وہ تو جھپکی بھی نہیں لیتا یعنی وہ ہمہ آن بیدار رہتا ہے ، اس کا علم ہر وقت اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ (آیت) ” لہ ما فی السموت “۔ اس کے وسیع اختیارات پر دال ہے ، آسمان کی بلندیاں اور زمین کی پستیاں سب اس کے احاطہ ، اختیار وملک میں ہیں ۔ اس لئے ایسے خدا کے سامنے جھوٹی سفارش کی کسے جرات ہو سکتی ہے جو آگے پیچھے کی ہر چیز کو جانتا ہو ۔ (آیت) ” وسع کرسیہ السموت “۔ کے معنی علامہ ابن جریر الطبری نے علم کی وسعت کے لئے ہیں ، یعنی اللہ کا علم ہمہ گیر ہے ، اس سے کوئی چیز خارج نہیں ، چناچہ کر اسی علماء کی جماعت کو کہتے ہیں اور کر اسیۃ اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں علم کی باتیں لکھی جائیں ۔ (آیت) ” ولا یؤدہ حفظھما “ میں یہودیوں اور عیسائیوں کی تردید ہے ، توراۃ میں لکھا ہے کہ خدا نے سبت کے دن آرام کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا بھی انسانوں کی طرح کثرت کام سے تھک جاتا ہے ، قرآن حکیم فرماتا ہے ، یہ مادی صفات خدا کے وقار کے لئے باعث توہین ہیں ، وہ بلند وبالا ہے ، اس نوع کی صفات کا انتساب اس کی جانب گناہ ہے ۔ حل لغات : کرسی : اصل معنی تکرس کے جمع ہونے کے ہیں کتاب کو چونکہ ورق ورق جمع کر کے بنایا جاتا ہے ، اس لئے کہتے ہیں ۔ ثانوی معنی اس کے علم کے ہیں ۔
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین مین زبردستی نہیں ہے ، ہدایت اور گمراہی ظاہر ہوچکی ہیں ، سو جس نے طاغوت (عینی بتوں یا شاطین) کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا ، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ سنتا جانتا ہے (ف 1)

اسلام میں جبر نہیں : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اسلام حقائق وبراہین کی حیثیت سے اس درجہ واضح وبین ہے کہ ہر سلیم الفطرت انسان اسے قبول کرے گا اور اس کی صداقت پر ایمان لائے گا ، اس لئے جبرواکراہ کی قطعا کوئی حاجت نہٰں ، وہ لوگ جو اسلام پر تلوار کے زور سے پھیلنے کا الزام لگاتے ہیں ، اس آیت پر غور کریں کہ قرآن حکیم کس فصاحت سے اعلان کرتا ہے کہ دین و مذہب کے بارے میں کسی جبر کی احتیاج نہیں ۔ اسلام بجائے خود اتنا روشن ‘ اتنا سچا اور اتنا مدلل مذہب ہے کہ بجز طاغوت پرست لوگوں کے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا ، اسلام اللہ تک پہنچانے کا وہ مضبوط وسیلہ ہے جو تشکیک وارتباب کے حملوں سے ٹوٹتا نہیں ، مگر اسے قبول وہی کرتا ہے جو اللہ پر ایمان رکھے اور طاغوت سے انکار کرے ۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

خدا ایمان داروں کا دوست ہے ‘ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں لاتا ہے (ف 2) اور جو کافر ہیں ‘ ان کے دوست شیاطین ہیں ‘ وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں میں لے جاتے ہیں ، وہی دوزخی ہیں وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے ۔

مسلمان روشنی میں کافر تاریکی میں : (ف 2) اللہ تعالیٰ کی نصرتیں ، اعانتیں اور تائیدیں صرف مسلمانوں کے شامل حال رہتی ہیں ، کفر اس سے محروم ہے ، لہذا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کفر وشرک کی تاریکی سے نکالتا ہے اور ایمان وبصیرت کی روشنی میں داخل کرتا ہے ، مگر وہ لوگ جو خدا کے دوست نہیں ہیں ، جنہیں طاغوت سے محبت ہے وہ ہر وقت تاریکی اور ظلمت میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں ۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا تونے اس کی طرف نہیں دیکھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارہ میں جھگڑا کیا (یعنی نمرود کی طرف) اس لئے کہ خدا نے اسے سلطنت دی تھی جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے تو اس نے کہا میں جلاتا ہوں اور مارتا ہوں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ خدا تو مشرق سے سورج لاتا ہے تو اسے مغرب سے لے آ ۔ اس پر وہ کافر حیران رہ گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا ۔ (ف 1)

حجت ابراہیمی امام (علیہ السلام) : (ف 1) قاعدہ ہے کہ چھوٹے دل کے لوگ بڑی عزت کو برداشت نہی کرسکتے ، نمرود کو بابل ونینوا کی حکومت جب دی گئی تو آپے سے باہر ہوگیا اور لگا خدائی کا دعوی کرنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو خدا کی طرف سے اس تمردو غرور کے لئے تازیانہ عبرت ہو کر آئے تھے توحید کا وعظ کہا اور لوگوں کو اس خدا کی چوکھٹ پر جھکنے کی دعوت دی جس نے نمردوں اور فرعونوں کو پیدا کیا ہے اور چشم زون میں ان کو کس طرح مار کر آپ قلزم میں غرق کرسکتا ہے ۔ اس وقت کے نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا اور پوچھا میرے سوا اور کس کی بادشاہت کا تم اعلان کرتے ہو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ، موت وزندگی کے مختار کی بادہشاہت کا اعلان مقصد یہ تھا کہ اگر تو مجھے سزائے موت دے تو میں ڈرنے والا نہیں میں تو اپنی زندگی کو اپنے رب کے ہاتھ میں سمجھتا ہوں ۔ اس پر اس نے چمک کر کہا میں بھی تو احیاء واماتت کا اختیار رکھتا ہوں جس کو چاہوں صلیب پر کھینچ دوں اور جس کی چاہوں جان بخشی کر دوں ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تاڑ گئے کہ موت کی دھمکی دی جارہی ہے پہلو بدل کر فرمایا کہ میرا رب تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، تو بھی اگر خدا ہے تو اس نظام کو تبدیل کر کے دکھا اس عقل وفرزانگی اور اس اخلاق پر نمرود بھونچکا سا رہ گیا اور ایمان کی بصیرت کفر کی چالاکیوں پر غالب آگئی ۔ بات یہ ہے کہ نمرود کو ہرگز توقع نہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح میری کج حجتیوں کا جواب کامیابی سے دیں گے ، وہ انہیں اتنا دانا اور زیرک نہ سمجھتا تھا ۔ غور کرو ، ایک باجبروت بادشاہ کی عدالت میں توحید کا اعلان اس خوبصورتی سے کیا بجز انبیاء کے کسی دوسرے شخص نے ممکن ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریق بحث یہ نہیں کہ وہ پیش کردہ دلیل پر معارضہ کریں اور اس سے کہیں دیکھئے صاحب آپ موضوع بحث کے خلاف جارہے ہیں ، بلکہ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک دلیل اس کے لئے فہم کا موجب نہیں ہوئی تو فورا دوسری دلیل پیش کردی ، یہ طریق بحث خالصا پیغمبرانہ ہے یعنی مقصد مخالف کی تسلی کرنا ہے ‘ نہ کہ چپ کرانا ۔ حل لغات : بھت : متحیر ہوا ، خلاف توقع نادم ہوا ؟ مر : گزرا مصدر مرور ۔ خاویۃ : گرا ہوا ۔ عروش : جمع عرش بمعنی چھت ۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا مانند اس شخص کی جو گزرا ایک گاؤں پر اور وہ گاؤں اپنی چھتوں پر گرا ہوا تھا تو اس نے کہا کہ اس شہر کو اس کے مرے پیچھے اللہ کیونکر جلائے گا ، سو خدا نے اس کو سو برس تک مار رکھا ، پھر اسے اٹھایا اور پوچھا کہ تو کتنی دیر تک رہا ، اس نے کہا ، ایک دن یا دن سے بھی کچھ کم ، فرمایا نہیں بلکہ تو تو سو (100) برس تک مردہ رہا ، اب تو اپنا کھانا پینا دیکھ کہ وہ بالکل نہیں سڑا اور تو اپنے گدھے کو بھی دیکھ اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے آدمیوں کے لئے ایک نشان بنانا چاہتے ہیں اور تو ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتے ہیں ، پھر ان پر گوشت پہناتے ہیں ، پھر جب اس پر یہ بھید ظاہر ہوگیا تو اس نے کہا میں جانتا ہوں کہ خدا ہر شے پر قادر ہے (ف 1) ۔

(ف 1) (آیت) ” اوکالذی کا مطلب یہ ہے کہ ہدایت خدا کی دین ہے ‘ جسے چاہے دے اور جس طریق سے چاہے دے ، نمرود کو تم نے دیکھا کیونکر دلائل ہی سے گھبرا گیا ، اب اس شخص کا قصہ سنو جس نے جب تک موت وزندگی کو تجربۃ نہ دیکھ لیا ، یقین نہیں کیا ۔ یہ کون شخص ہے جس پر موت وزندگی وارد ہوئی ؟ اس میں اختلاف ہے ، کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ملی جو تعین کرسکے ۔ بعض کا خیال ہے ، حضرت عزیر (علیہ السلام) مراد ہیں ، بعض کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) کا قصہ ہے ، بائیبل میں لکھا ہے ، حضرت خزقیل (علیہ السلام) نے بحالت کشف ہڈیوں کو زندہ ہوتے دیکھا ، قرآن حکیم کا انداز بیان بتا رہا ہے کہ یہ واقعہ ہے کشف نہیں ، زیادہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس جب بخت نصر میں ظالمانہ تاخت کے بعد تباہ وبرباد ہوگیا تو یہودی بہت مایوس ہوگئے اور انہیں خدا کی نصرت وتائید کی کوئی توقع نہ رہی ، حضرت خزقیل (علیہ السلام) کو بھیجا گیا ، تاکہ وہ یہود کو بتائیں یہ تمہاری نافرمانی کی سزا تھی ، ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اب بھی تمہارے شامل حال ہوسکتی ہیں ، بشرطے کہ تم دین دار بن جاؤ ، حضرت خزقیل (علیہ السلام) نے فرمایا ، ایسی مردہ قوم کی رگوں میں ہدایت وتقوی کی روح کس طرح دوڑائی جاسکے گی ، البتہ اللہ تعالیٰ نے خود حضرت خزقیل (علیہ السلام) کو (100) سو سال کی موت سے دوچار کیا اور پھر زندگی بخشی ، مقصد یہ تھا کہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ جب حقیقی طور پر موت کو زندگی میں تبدیل کرسکتے ہیں تو یہ بھی ان کے امکان میں ہے کہ اجڑے ہوئے بیت المقدس کو دوبارہ عزت و حشمت بخش دیں ، اور ان کے دیکھتے دیکھتے گدھے کی ھڈیاں گوشت پوست میں تبدیل ہونا شروع ہوگئیں اور مرا ہوا گدھا اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص سے زندہ ہوگیا ، حضرت خزقیل (علیہ السلام) یہ دیکھ کر پکار اٹھے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس سارے قصہ میں پر لطف بات یہ ہے کہ لیل ونہار کے تاثرات نے کھانے پر کوئی اثر نہیں کیا اور وہ بدستور (100) سو سال تک تازہ ہی رہا ۔ خدائے ذوالجلال کے لئے کوئی بات بھی ناممکن نہیں جس نے زمانہ کو پیدا کیا ہے ‘ وہ اس کے اثرات کو بھی روک سکتا ہے ، البتہ اس کے ذکر کرنے سے ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ باوجود بنی اسرائیل کی اخلاقی موت کے اب تک ان کی خوراک یا تعلیمات میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوا اور کوئی قوم حقیقی موت اس وقت اختیار کرتی ہے جب وہ روحانی غذا سے محروم ہوجائے ، اس کے بعد پھر واقعی نپپنے کی کوئی امید نہیں رہتی ۔ حل لغات : لبثت : مصدر لبت ۔ رہنا ۔ لم یتسنہ : نہیں گلا سڑا ۔ تسمنہ کے معنی کھانے کے بگڑ جانے کے ہوتے ہیں ، ننشوز : مصدر انشاز بمعنی ترکیب واصلاح ۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ اے میرے رب تو کیونکر مردے کو جلاتا ہے ، فرمایا ، کیا تو ایمان نہیں لایا ؟ اس نے کہا ایمان تو لایا ہوں لیکن اپنے دل کا اطمینان چاہتا ہوں ، فرمایا چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ ہلا لے پھر ہر پہاڑ پر ان کے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا ڈال دے ، پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑتے آئیں گے اور جان لے کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔ (ف 1)

ولکن لیطمئن قلبی : (ف 1) انبیاء (علیہم السلام) ایک مضبوط ومحکم عقیدہ لے کر مبعوث ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں قوت تاثیر نسبتا دوسرے لوگوں کے بہت زیادہ ہوتی ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اسے یقین واثق کی توثیق چاہی جو مشاہدات پر مبنی ہو اور جو قطعی محسوس اور غیر مشکوک ہو ، تاکہ جب وہ نظام آخرت کی طرف لوگوں کو دعوت دیں تو دل کی گہرائیوں کے ساتھ خود بھی اس پر ایمان رکھتے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا اس حقیقت پر ایمان نہیں رکھتے کہ مزید مشاہدہ کی ضرورت پڑے ؟ آپ (علیہ السلام) نے جوابا عرض کیا ، ایمان تو موجود ہے ، اطمینان خاطر مطلوب ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ایمان مشہود کی ایک صورت پیدا کردی ، فرمایا ، چار پرندے لو انہیں ہلا لو اور ان کے ٹکڑے ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر بلاؤ ، دیکھو قدرت ایزدی سے دوڑے ہوئے آئے گے ، اس کے بعد کا واقعہ محذوف ہے ، اور قرآن حکیم کا عام انداز بیان ہے کہ وہ غیرضروری واقعات کو حذف کردیتا ہے ، اس لئے انہیں خود سیاق کلام سے سمجھا جاسکتا ہے ، بعض مفسرین کا خیال ہے کہ پرندوں کو ذبح نہیں کیا گیا ، یونہی مانوس کرکے بلایا گیا اور وہ آگئے جس سے مقصد یہ تھا کہ جس طرح وہ تھوڑے تعلق کی وجہ سے تمہارے پاس آگئے ہیں ‘ اس طرح ہم چونکہ ساری کائنات کے رب ہیں جب بلائیں گے تو انہیں زندہ ہونا پڑے گا اور ہماری طرف آنا پڑے گا ۔ مگر یہ تاویل دو وجہ سے زیادہ قرین یقین نہیں ، ایک اس لئے کہ (آیت) ” کیف تحی الموتی “۔ کا سوال زندگی اور مشاہدہ طلب ہے ، اور ” اطمینان خاطر “ کی غرض کا تقاضا یہ ہے کہ جواب سرسری نہ ہو ۔ دوسرے اس لئے کہ اجعل کا لفظ زندہ پرندوں کے لئے نہیں بولا جاتا ، جزءا کے لفظ میں تو گنجائش ہے ، لیکن اجعل کا لفظ قطعا ناقابل تاویل ہے ، اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے بلند مرتبہ نبی طمانیت قلب کی نعمت سے کیوں محروم تھے اس کا جواب اس اصول کے سمجھنے پر موقوف ہے کہ نبی باوجود جلالت قدر کے انسان ہوتا ہے اور اس میں دو طرح کی نفسیات ہوتی ہیں ، انسانی وبشری اور نبوی و پیغمبرانہ ، اور دونوں تقاضوں کا باہمی اختلاف بالکل ظاہر ہے ، اس لئے گو بحیثیت نبی و پیغمبر ہونے کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حشر ونشر کے کوائف پر پورا پورا ایمان تھا مگر بحیثیت بشروانسان کے وہ چاہتے تھے کہ اس کو دیکھ بھی لیا جائے ۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

ان کی مثال جو راہ خدا میں اپنے مال خرچ خرچ کرتے ہیں ، اس دانہ کی مثال ہے جس سے سات بالیں اگیں ۔ اور ہر بال میں (100) سودانے ہوں ، (ف 2) اور خدا جس کے لئے چاہے بڑھاتا ہے ، اور خدا کشائش والا ہے سب جانتا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ جس طرح فطرت کا قانون ہر دانے کو جو بویا جانے ، کمیت وکیفیت میں بڑھاتا رہتا ہے ، اسی طرح ہمارے اعمال میں بھی ثمر جاری رہتا ہے اور یہ نمود واضافہ اللہ کی رحمت بےپایاں پر موقوف ہے ، ورنہ ہمارے اعمال ہرگز اس درجہ کے نہیں ہوتے کہ انہیں قبول بھی کیا جائے ۔ حل لغات : صر : اصل صیر بمعنی قطع کرنا ، مگر جب اس کا صلہ نفی ہو تو اس کے معنی ہلانے اور مانوس کرنے کے ہوتے ہیں ۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

وہ جو خدا کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔ پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذا دیتے ہیں انہیں کیلئے ان کے رب کے پاس بدلہ ہے ، نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (ف 1) ۔

(ف 1) اچھے سے اچھا عمل اگر اگر سوء نیت کا نتیجہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں رکھتا ، مال و دولت کے ڈھیر بھی خدا کی راہ میں خرچ کردیئے جائیں اور دل میں خلوص نہ ہو تو اجر نہیں ملے گا ، (آیت) ” لکل امرء ما نوی “۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

بھلی بات کہنی اور درگزر کرنا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا ہو اور اللہ بےپرواہ بردبار ہے (ف 2)

(ف 2) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اگر دل میں وسعت نہ ہو اور فراخ دلی سے خدا کی راہ میں خرچ نہ کرسکو تو یہی بہتر ہے کہ نرمی سے سائل کو مطمئن کردو ۔ اسے جھڑکنا اور گالیاں دینا اور دل آزار کلمات سے مخاطب کرنا درست نہیں (آیت) ” واللہ غنی حلیم “۔ کہہ کے یہ بتایا ہے کہ خدا کے راہ میں دینا اپنے نفس کی پاکیزگی کے لئے ہے ، خدا کو تمہارے صدقات کی ضرورت نہیں ‘ اس لئے جب کبھی بھی دو تو یہ دیکھ لو کہ تمہارے دل کی اصلاح کس حد تک اس سے وابستہ ہے ۔
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

مومنو ! احسان جتا کر اور ایذا (ف 3) کر اپنی خیرات کو ضائع نہ کرو ، جیسے وہ جو اپنا مال لوگوں کے دکھلانے کو خرچ کرتا ہے اور خدا پر ایمان نہیں رکھتا ، سو اس کی مثال اس صاف پتھر کی مانند ہے جس پر کچھ مٹی پڑی ہو پھر اس پر موسلادھار پانی برسے اور وہ اس کو صاف کر چھوڑے (ریاکار) اپنی کمائی پر کچھ اختیار نہیں رکھتے ، اور خدا منکروں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

(ف 3) پیشتر کی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ ساتھ خلوص وحسن نیت کی بزور تاکید کی ہے اور فرمایا ہے کہ احسان جتلا کر اپنے اعمال کو ضائع نہ کروان آیات میں معیار اعمال کی نہایت بلیغ مثال سے تشریح کی ہے ۔ فرمایا ہے کہ وہ شخص جو خدا پر ایمان نہیں رکھتا جس کا آخرت پر عقیدہ نہیں ، اس کے اعمال ہرگز درخور اعتنا نہیں ، اس کے اعمال کی مثال پتھر کی ایک چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور مینہ کا ایک پرزور چھینٹا اسے بہا کرلے جائے ، اور وہ لوگ جو خدا کی رضا جوئی کے لئے اور دل کی پاکیزگی و طہارت کے لئے روپیہ صرف کرتے ہیں ان کا فعل ثمر آوری میں اس سرسبز و شاداب باغ کی طرح ہے جو عام زمین سے ذرا بلندی پر واقع ہو ، تاکہ کھلی ہو اور تازہ روشنی ہر وقت وہاں پہنچ سکے ، وہاں پانی برسے اور باغ میں شان دار تازگی پیدا کر دے ، پیداوار کے اعتبار سے وہ دوگنا چوگنا ہوجائے یعنی اعمال کا معیار حسن نیت و ارادہ ہے ، نہ حسن عمل ریا کاری کی چٹان پر حسن اعمال کے بیج نہیں بوئے جاسکتے ، البتہ خلوص وللہیت کے جذبات اعمال کی خوبصورتی میں اضافہ کردیتے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے ہاں مشقت وکوفت کی کوئی قدر نہیں ، وہاں تو دلی کوائف کی عزت ہے ، وہ جو دل کا پاک اور سخی ہے ، اس کا تھوڑا بھی بہت ہے اور وہ جو خلوص وحسن نیت کی نعمت سے محروم ہے ، وہ اگر سیم وزر کے انبار بھی تقسیم کرے تو لائق اجر نہیں ، کیونکر اس طرح کے ریا کارانہ صدقات سے اسکی طبیعت میں کوئی اصلاح نہیں ہوتی ۔ اعمال حسنہ کے لئے قرآن حکیم نے ایمان باللہ کو ضروری قرار دیا ہے ، اس لئے کہ جب تک ایمان صحیح موجود نہ ہو ‘ دنیا میں اخلاق کا کوئی معیار ہی نہیں رہتا ۔ اور ہر شخص حالات وظروف کے ماتحت اپنے اعمال کی کوئی نہ کوئی تاویل کرلے گا غور کرو ، اگر نظام آخرت پر اعتقاد نہ ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اعمال صالحہ کا ارتکاب ہی کیوں کیا جائے ؟ صرف اس لئے کہ لوگ اچھا کہیں ؟ اور وہ سوسائٹی جس میں ہم رہتے ہیں ‘ خوش رہے ، یا یہ کہ دنیا کا نظام برقرار رہے اور اس میں کوئی برہمی پیدا نہ ہو ، مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنی مسرتوں کو دوسروں کی اغراض کے لئے کیوں قربان کریں ، سوسائٹی کی ناخوشی سے ہم ذاتی لذائذ وحظوظ کی شاد کامی سے کیوں محروم رہیں ، کیا یہ سراسر بےوقوفی نہیں ؟ اور اس کا کیوں فکر کریں کہ دنیا کا نظام برقرار رہے ، کیا ہم کائنات کے اجارہ دار ہیں ؟ جس نے دنیا کو بنایا ہے وہ اس کی خود حفاظت کرے گا ، ہم تو وہی کریں گے جس سے ہم کو فائدہ ہو ، تو گویا اللہ تعالیٰ کے انکار کے بعد ” انفرادیت “ اور ” ذاتیت “ کا دور دورہ شروع ہوجاتا ہے ، اور نیک اعمال کا کوئی معیار ہی قائم نہیں رہتا ، اس لئے ضروری ہے کہ ایمان باللہ کی قید کو بڑھایا جائے ، جس سے اعمال کی قیمت مقرر ہو اور دلوں میں نیکی کے لئے ترغیب پیدا ہو اور نصب العین بلند ہوجائے ، شہرت دریا کاری نہایت پست قسم کے جذبات ہیں ، (آیت) ” وتثبیتا من انفسھم “۔ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ صدقات اس طرح کے ہونے چاہئیں کہ ان سے واقعی نفس سے ایک جنگ کرنا پڑے اور بالآخر ضمیر مطمئنہ نفس خادمہ پر غالب آجائے نہ یہ کہ کم قیمت اور غیر ضروری چیزیں اللہ کی راہ میں دے دی جائیں ۔ حل لغات : صفوان : چٹان بعض کے نزدیک جمع ہے اور بعض کے نزدیک مفرد ۔ وابل : موسلادھار بارش ۔ صلدا : صاف پتھر : حل لغات : طل : پھوار شبنم ۔ نخیل : کھجور ۔ اعناب : انگور ۔
Ayahs 2:265–267

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

ان کی مثال جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے دلوں کو ثابت کرنے کو اپنے مال خرچ کرتے ہیں ، ایسی ہے جیسے کسی بلندی پر ایک باغ ہو اور اس پر موسلادھار مینہ برسے ، پھر وہ اپنے پھل دو چند لائے اور اگر موسلادھار مینہ اس پر نہ برسے تو اوس ہی کافی ہے اور خدا تمہارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے ۔

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی نہیں چاہتا کہ اس کے پاس کھجور اور انگور کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں ، اور وہاں اس کے لئے ہر طرح کا میوہ ہو اور اس پر بڑھاپا آجائے اور اس کی اولاد ناتوان ہو ، پھر اس باغ پر بگولا آپڑے جس میں آگ ہو اور وہ اس باغ کو جلا دے ، یوں اللہ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے ، تاکہ تم فکر کرو ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! اپنی کمائی کی اچھی چیزوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے خرچ کرو اور گندی شے پر نیت نہ رکھو کہ اس میں سے خرچ کرنے لگو ، حالانکہ تم خود اسے کبھی نہ لوگے ۔ مگر یہ کہ اس میں چشم پوشی کر جاؤ اور جان کو کہ اللہ بےپرواہ خوبیوں والا ہے (ف 1)

(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں پاکیزہ چیزیں دو گری پڑی اشیاء کا تصدق کسی طرح موزوں نہیں ۔ اس لئے کہ جب تک اللہ کی راہ میں دینے سے دل تکلیف محسوس نہ کرے نفس اور ضمیر میں ایک جنگ بپانہ ہو ، نفس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ بخل دور ہو سکتا ہے ، یہ ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ رب السموت والارض ہے جس کے خزانے معمور ہیں ، ہمارے صدقات کا قطعا محتاج نہیں ، وہ تو غنی ہے ، بےنیاز ہے ، اس لئے تقاضا یہ ہے کہ خدا کی راہ میں دے کر ہمیں کیا ملتا ہے ؟ کیا طبعیت کا بخل دور ہوگیا ہے ؟ کیا دل میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے آمادگی کا احساس بڑھ گیا ہے یا کیا ؟ پھر فرمایا کہ تم دنیا میں تحائف وصول کرتے ہو تمہیں بھی چیزیں دی جاتی ہیں تمہاری خواہش یہ نہیں ہوتی کہ بہترین چیزیں تمہیں دی جائیں نقص اور نکمی چیز کو تم اپنے لئے ہرگز پسند نہیں کرتے پھر اللہ تعالیٰ کے لئے تم معمولی اور غیر ضروری اشیاء کیوں پسند کرتے ہو ؟ جس چیز کی تمہیں ضرورت نہیں ، اس کی اللہ تعالیٰ کو کیا حاجت ہے ؟
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تم سے تنگ دستی کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے ، (ف 2) اور خدا تمہیں اپنی طرف سے بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے اور خدا بہت کشائش والا اور جب کچھ جاننے والا ہے ۔

افلاس کا ڈر : (ف 2) جب خدا کی راہ میں خرچ کیجئے شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے اور کہتا ہے کیوں مال ضائع کرتے ہو ، اس طرح تو تم غریب ہوجاؤ گے ، البتہ اگر فضول خرچی اور اسراف کا سوال ہو یا برائی کی اعانت کا موقع ہو تو اس وقت شیطان کہتا ہے کہ دل کھول کر کیوں خرچ نہیں کرتے کیا چند روپے عزت وناموس کے لئے خرچ کردینے سے تم مفلس وقلاش ہوجاؤ گے ، مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے مغفرت وفضل کا وعدہ ہے ، وہ کہتا ہے کہ تم میری راہ میں خرچ کرو ، میں تمہارے مال و دولت میں برکت دوں گا ۔ میں تمہارے لئے رزق کے مواقع پیدا کروں گا جس قدر تم مجھے دو کے میں اس سے کہیں زیادہ دوں گا غرضیکہ شیطان افلاس پر آمادہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ فضل و دولت پر ، دیکھ لو وہ لوگ جو خدا کی سیدھی سادی شریعت پر چلتے ہیں عیش و کامرانی کے لطف اٹھاتے ہیں اور جو رسوم و رواج کے پیچھے دوڑتے ہیں تباہ و برباد ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

جسے چاہے سمجھ دیتا ہے اور جسے سمجھ دی گئی اسے بڑی کو بی ملی اور نصیحت صرف وہی قبول کرتے ہیں جو عقل مند ہیں ۔ (ف 1)

حکمت اللہ کی نعمت ہے : (ف 1) اسراف وامساک میں فرق محسوس کرنا ، بخل وسخاوت میں تفاوت جاننا اور ہر برائی کے نقصانات اور نیکی کے فوائد کا علم رکھنا حکمت ہے پس وہ لوگ جو دنیا کی بےثباتی و بےوقعتی اور آخرت کی اہمیت و حرمت کو جانتے ہیں حکیم ہیں اور سمجھ دار ہیں اور وہ جو اپنی تگ ودو صرف دنیا تک محدود رکھتے ہیں بیوقوف ہیں ، کیونکہ عاجل کو صرف اس لئے ترجیح دیتا ہے کہ وہ نقد ہے اور آجل کو ترک کردینا کہ وہ نسیہ ہے بغیر یہ جاننے کے کہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں ‘ حماقت ہے ، قرآن حکیم حکمت کو پسند کرتا ہے ، اس کے مخاطب بھی سمجھ دار لوگ ہیں ، جو نفع ونقصان پر گہری نظر رکھتے ہیں ، بےپرواہ اور بےخوف انسان اپنے متعلق کچھ نہیں سوچ سکتا ، اس لئے اس سے کوئی توقع ہی نہیں رکھنی چاہئے ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ جسے یہ دانش عطا ہو ‘ وہ گویا دنیا کا بہترین نعمتوں سے بہرہ وار ہے اور وہ جو حکیمانہ مزاج نہیں رکھتا ، وہ اگر دنیا جہان کی چیزیں بھی رکھتا ہو تو حقیقی مسرت سے محروم ہے ،
Ayahs 2:270–271

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم جو خیرات دیتے ہو یا نذر مانتے ہو ، اللہ اسے جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے ۔

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات کو ظاہر کرکے دو تو کیا اچھی بات ہے اور اگر اسے چھپاؤ اور فقیروں (ف 2) کو دو تو وہ تمہارے لئے اور بھی بہتر ہے اور اس سے تمہارے بعضے گناہ دور کر دے گا اور خدا تمہارے کاموں سے واقف ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ صدقات کا اظہار واعلان اگر نیک نیتی کے ساتھ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ، اسی طرح اگر اخفاء ریا کے ڈر سے ہو تو بہتر ہے اور یہ کہ اس سے تکفیریات ہوتی رہتی ہے یعنی جب ہم دوسروں کی ضروریات کو پورا کردیتا ہے اور ہمارے گناہوں پر خط عفو کھینچ دیتا ہے ، کتنی بڑی حوصلہ افزائی ہے ۔ حل لغات : الباب : جمع لب بمعنی عقل ۔ نذر : منت ماننا ۔ تبدوا مصدر ابدآء بمعنی اظہار ۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

ان کی ہدایت (ف 1) تیرا ذمہ نہیں لیکن جس کو اللہ چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی لئے ہے اور تم تو فقط اللہ ہی کی خوشی کی طلب میں خرچ کرو گے تم کو وہ پورا ملے گا اور تمہارا بالکل نہ رہے گا (ف 2) ۔

ہدایت خدا کے ہاتھ میں ہے : (ف 1) پیغمبر یا رسول کا کام صرف اعلان حق ہے ، ماننا نہ ماننا لوگوں کا اختیار ہے اس آیت میں اس حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب یہ توفیق صحیح سے محروم ہیں تو تیرے احاطہ اختیار سے باہر ہے کہ تو انہیں ہدایت دے دے ، راہنمائی وراسموئی تو فرائض نبوت میں ہے ، مگر شرح صدر اور توفیق یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ اس کو عطا ہوتی ہے جو اس کے حصول کی کوشش کرے ۔ (ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ تمہارا ہر صدقہ قبول ہے اور تمہیں پورا پورا اجر دے گا ، چاہے وہ فعل موزوں پر خرچ ہوا ہے اور چاہے موزوں پر ، اس لئے کہ تمہارا مقصد بہرحال اصلاح ہے ، ممکن ہے تمہاری نیک نیتی کا اثر اس کے اعمال پر بھی پڑے اور وہ ان کاموں کو چھوڑ دے البتہ زکوۃ صرف مسلمانوں کا حصہ ہے ۔ اپنی طرف سے کوشش کرنی چاہئے کہ لفظ جو آئے ” لا یا کل طعامک وتقی “ عام صدقات سے مسلمانوں کی امانت ہے ۔
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

خیرات ان محتاجوں کے لئے ہے جو خدا کی راہ میں رکے پڑے ہیں ، ملک میں چل پھر نہیں سکتے ، بیخبر آدمی ان کی بےسوالی کے سبب ان کو غنی گمان کرتا ہے تو ان کو ان کے چہروں سے پہچانے گا وہ آدمیوں سے (ف 3) لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور جو کچھ تم خرچ کرو گے خدا کو وہ خوب معلوم ہے ۔

(ف 3) مستحق کون ہے ؟: ان آیات میں فقراء ومجاہدین کا ذکر ہے جو مجاہدانہ مشاغل کی وجہ سے کسب معاش سے محروم ہیں ، ان میں عفت اور پاس عزت اس قدر ہے کہ بظاہر غنی معلوم ہوتے ہیں ، مگر وہ ہیں اعانت کے مستحق ، فرمایا ان لوگوں کی بالخصوص اعانت کرو ، رسالتمآب ﷺ کے زمانہ میں ایک گروہ اصحاب صفہ کا تھا جس کا کام صحبت نبوی ﷺ سے شرف استفادہ کرنا تھا وہ دن رات ارشاد نبوی ﷺ سے اکتساب ضوء میں مصروف رہتے اور ایک لمحہ غفلت ان کے نزدیک ناقابل تلافی محرومی کے حصول کا مترادف تھا وہ مسجد نبوی ﷺ میں رہتے ۔ ذرائع معاش کو برروئے کار لانے کے لئے ان کے پاس وقت ہی نہیں تھا ، ان لوگوں کے لئے عام مسلمانوں میں اعلان کیا کہ وہ انہیں اپنی امانتوں کا سب سے زیادہ مستحق سمجھیں ، مگر آیت کا عموم باوجود خصوص محل کے باقی ہے ، اس میں بتایا ہے کہ پیشہ ور گداگر جنہوں نے بھیک مانگنے کو ایک فن بنا لیا ہے اور وہ ہر طرح سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ وہ ہرگز اعانت کے مستحق نہیں ، اعانت کے مستحق وہ باوضع مجاہدین اور خدام دین ہیں جن کا کوئی ذریعہ معاش نہیں اور وہ رات دن خدمت دین میں مصروف ہیں ، قوم کو چاہئے کہ ان کی مدد کریں اور انہیں بےنیاز بنا دیں ، تاکہ وہ اپنا پورا وقت خدا کی راہ میں صرف کرسکیں ، اور پورے طریق پر دین کی خدمت بجا لاسکیں ، اسلام بھیک مانگنے کے حق میں نہیں ہے ، وہ کہتا ہے جو بھیک مانگتا ہے قیامت کے دن اس کا چہرہ بےرونق ہوگا اور محروم ہوگا ، اس لئے دنیا میں اس نے اپنی عزت کی پرواہ نہیں کی اور شرف انسانیت کی توہین کی ، اس لئے قیامت کے دن بالکل اس کے مساوی اور متبادل سزا دی جائے گی ، اس کا چہرہ بےآب اور زخم خوردہ ہوگا ۔
Ayah 2:274

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ رات کو اور دن کو اپنے مال چھپے اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ان کو ان کے رب کے پاس بدلہ ملے گا اور نہ انہیں کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ (ف 1)

(ف 1) امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس سے مقصود ارباب خیل ہیں یعنی وہ لوگ جو جہاد کے لئے گھوڑے رکھتے ہیں اور دن رات ان کی خدمت کرتے ہیں ، تاکہ جہاد کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ، حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جناب عثمان ؓ اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کے حق میں نازل ہوئی ، اس لئے کہ انہوں نے جیش عسرت کی تیاری میں مدد دی ، مگر آیت کا مفہوم عام ہے ، اس میں ایک تو یہ بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ انفاق فی سبیل اللہ جن کی عادت ثانیہ ہوگیا ہے اور وہ مسلسل دن رات جب ضرورت محسوس ہو خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتے ، اللہ کی حقیقی نعمتوں کے سزاوار ہیں اور یہ کہ اعلان واخفاء دونوں حالتوں میں ان کے دل میں ریا ، و شہرت کے جذبات نہیں ہوتے ، بلکہ دو طریق ہیں ادا کے ‘ جسے حالات کے موافق تصور کرنے میں اختیار کرتے ہیں ، اس لئے یہ بحث کہ دونوں طریقوں میں سے افضل کونسا طریق ہے غیر ضروری ہے بعض لوگ اخفاء کی صورت میں بھی ریاکاری کا شکار ہوجاتے ہیں اور بعض اتنے مخلص ہوتے ہیں کہ اعلان میں بھی ان کا دل ملوث نہیں ہوتا ۔ اس لئے اپنی اپنی طبیعت اور موقع ومحل پر موقوف ہے کبھی اخفاء افضل ہے اور کبھی اعلان ۔