2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsسراج البیان

Ayahs 2:81–83

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جس نے بدی کمائی اور اس کے گناہوں نے اسے گھیر لیا وہی آگ میں رہنے والے ہیں اور وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ، وہ لوگ بہشتی ہیں اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

جب ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا کہ نہ بندگی کرنا مگر اللہ کی اور والدین اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں سے نیک سلوک رکھنا ، لوگوں سے اچھی بات کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوۃ دیتے رہنا ، پھر تم (اس اقرار سے) پھرگئے لیکن تھوڑے آدمی تم میں سے نہ پھرے تم تو منہ پھیرنے والے ہو ۔ (ف 1)

(ف 1) خدا کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک اور سب اقرباء ومستحقین کے ساتھ مشفقانہ تعلقات کو اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ مذہب کی تکمیل بلا اس طرز کے ناممکن ہے ، وہ انسان جو خدا پرست ہے ، لازمی ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نہایت گہرا اور محبانہ تعلق ہو ۔ بالخصوص والدین اور عزیز جو قریبی رشتہ ، الفت و شفقت رکھتے ہیں ضرور ہماری توجہ کے مستحق ہیں ، اور یاد رکھو جو اپنے عزیزوں اور بزرگوں کے حق میں بھی اچھا انسان نہیں وہ خدا کے حق میں بھی نیک انسان نہیں ہوسکتا ، گویا قرآن تقوی وصلاح کا معیار ظاہری رسوم دین نہیں قرار دیتا ، بلکہ اس کے نزدیک فلاح ونجات موقوف ہے حسن معاملت اور حقوق شناسی پر وہ کہتا ہے تم لوگوں کو محراب ومنبر میں نہ دیکھو کہ بدترین لوگ بھی زہد ورورع کے مقدس مقامات میں زینت افروز ہو سکتے ہیں ، صحیح معیار گھر کی چار دیواری ہے جو اپنے قریب ترین ماحول میں بےحسن ہے ‘ وہ معرفت الہی کی فضاء بعید اور اطراف میں کیونکر سانس لے سکتا ہے ؟ اس طور پر قرآن حکیم نے مسجد اور گھر میں ، دنیا ودین میں ایک مضبوط ربط قائم کردیا ہے اور وہ کسی قابل اخفاء زندگی کا قائل نہیں ،
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے اقرار لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرنا اور اپنے لوگوں کو اپنے وطن (گھروں) سے نہ نکالنا پھر تم نے اقرار کیا اور تم خود گواہ ہو (ف 2)

(ف 2) (آیت) ” دمآء کم اور انفسکم “ کے معنی یہ ہیں کہ سارے بنی اسرائیل ایک قوم اور ایک جسم ہیں ، ان سب میں انبیاء کا خون موجزن ہے ، اس لئے ان کا آپس میں جنگ وجدل میں مصروف رہنا وحدت قومی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے ، نیز اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ کوئی قوم اس وقت تک قوم کہلانے کی مستحق نہیں ہوسکتی جب تک وہ قومی حرمت و اعزاز کو محسوس نہ کرے ، مذہب کا مقصد جہاں نسلی اور قبائلی نقیضات کو ختم کرتا ہے ، وہاں ایک مضبوط اور غیور اور باحمیت قوم کی تخلیق وتعمیر بھی ہے ، تاکہ وہ خدا کے مشن کو دلیرانہ پورا کرسکے ، وہ لوگ جو قوم کے رشتہ قومیت کو توڑتے ہیں ، وہ قوم کے مجرم ہیں اور خدا کے بھی ، اس لئے بنی اسرائیل کو لڑائی جھگڑے سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے کہ اس سے زیادہ قومی وقار کو ختم کردینے والی اور کوئی چیز نہیں ۔ اسلام نے قتل مومن کی سزا نہایت سنگین رکھی ہے ، (آیت) ” ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزآءہ جہنم “۔ کیونکہ قتل مومن کے معنی یہ ہیں کہ اس کے دل میں اسلام کا کوئی وقار نہیں مسلمانوں کی محبت نہیں وہ نفس خدا اور قوم کے سامنے غدار وخائن کی حییثت رکھتا ہے اس کا جرم قطعا ناقابل معافی ہے اور اسی لئے ناقابل عفو بھی ۔ حل لغات : احسانا : حق واجبی سے زائد یعنی والدین کے احکام کی بجا آوری ہی کافی نہیں ، بلکہ حقوق سے بہت کچھ زیادہ ، از راہ احسان و محبت ان سے سلوک کیا جائے جو کسی طرح بھی معمولی نہ ہو ۔ الیتمی : جمع ، یتیم ، وہ بچہ جو شفقت مادری وپدری سے محروم ہوجائے ، وہ عورت جس کا خاوند نہ رہے ، ۔ المسکین : جمع مسکین کی ، سکون سے نکلا ہے ، وہ شخص جو بےبسی کے باعث کوئی حرکت نہ کرسکے یا جسے افلاس وناداری نے ہر طرح کی شوخی سے روک رکھا ہو ۔ تشھدون : شھادۃ ۔ سے نکلا ہے معنی ہیں تم دیکھتے ہو ، گواہ ہو ۔
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم آپس میں ویسی ہی خونریزی کرتے ہو اور پنے سے ایک فرقے کو ان کے وطن سے نکال دیتے ہو ، گناہ اور ظلم سے ان پر چڑھائی کرتے ہو پھر اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کا فدیہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو ، اور ان کا تو نکالنا ہی تم پر حرام تھا ۔ پھر کیا کتاب کی بعض باتیں مانتے اور بعض باتوں کا انکار کرتے ہو ؟ پس جو کوئی تم میں سے ایسا کرتا ہے اس کی سوائے اس کے (اور) کیا سزا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسوا ہوں اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں پہنچائے جائیں اور خدا تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے (ف 1) ۔

ایمان بالبعض وکفر بالبعض : (ف 1) یہودیوں کا یہ وطیرہ مذہب کے باب میں اس مذہبی اہلیت کا پتہ دیتا ہے جو ان کے دلوں میں مستتر تھی ، غالبا وہ برائے نام یہودی تھے اور کسی نہ کسی طرح مذہبی رکھ رکھاؤ کا خیال تھا ، ورنہ مذہب کے صحیح ذوق سے وہ محض کورے تھے ۔ مدینے میں اوس و خزرج نامی دو قومیں آباد تھیں جن میں آئے دن کوئی نہ کوئی جنگ رہتی ، یہودی بحیثیت حلیف ہونے کے ان کا ساتھ دیتے رہے ، کچھ لوگ اوس کی طرف ہوجاتے اور کچھ خزرج کا ساتھ دیتے ۔ اور اس بےدریغی سے لڑتے کہ گویا یہی اصل فریق متخاصم ہیں اور جب ایک دوسرے کے ہاتھ میں بحیثیت قیدی کے پیش ہوتے تو پھر توریت کے اس حکم کا خیال آتا کہ یہودی یہودیوں کے ہاتھوں غلام نہیں رہ سکتا ، لہذا کچھ روپیہ بطور فدیہ کے دے کر قیدی چھڑا لیتے ، قرآن حکیم کہتا ہے کہ یہ کیا مذاق ہے ؟ اور تلعب ہے توراۃ کے احکام کے سا تھے کہ جب آپس میں لڑنا ہی جائز نہیں تو پھر فدیہ کا سوال کیوں پیدا ہوتا ہے ، مگر تمہارے دلوں میں یہودیت کی اتنی عزت ہے کہ تم اس کی ذلت ورسوائی نہیں دیکھ سکتے تو پھر تم لڑتے ہی کیوں ہو ؟ جو اس کا سب سے بڑا باعث ہے ، یہ فعل بالکل اس قسم کا ہے کہ ایک شخص کو بلاوجہ مار ڈالا جائے اور پھر اس کے بچوں کی تربیت کی حمایت کی جائے کہ بےچارے یتیم ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان کے یتیم ہونے کا باعث کون ہے ؟ تم جو قیدیوں سے اتنی ہمدردی رکھتے ہو اور اس کا اظہار فدیہ کی صورت میں کرتے ہو ‘ اس سے کیا فائدہ ؟ جبکہ ایک یہودی کو قتل کردینا عملا تمہارے ہاں درست اور جائز ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ، ایمان کی یہ شکل کہ بعض حصے مان لئے جائیں اور بعض کا انکار کردیا جائے قطعی سود مند نہیں ، ایمان نام ہے ایک کامل نظام عمل کا ، اگر اس میں ایک چیز کو بھی عمدا چھوڑ دیا جاتا ہے تو ایمان نہیں رہے گا ، البتہ اس کو تجارت کہیئے جو چیز پسند آئی ، خرید لی ، جو مرغوب نہ ہوئی ، ترک کردی ، اور مذہب کے بارے میں اس قسم کی تجارت الحاد وزندقہ ہے جو قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا ، یہ نرمی لامذہبی اور کفر ہے ، ایسے لوگ خدا کے ہاں کبھی کامیاب نہیں رہتے جن کے پاس نہ کفر خالص ہے اور نہ ایمان ہی کامل ۔ چناچہ یہودی اس بےاعتقادی کی بنا پر اور اس تشتت وافتراق کی وجہ سے اپنی تمام نو آبادیوں سے محروم ہوگئے ، ان کے نخلستان چھین لئے گئے ، ان کی بستیاں نذر آتش کردی گئیں اور آخرت میں ان کے لئے جو مقدرو متعین ہے وہ اس سے زیادہ سخت اور ہولناک ہے ۔ حل لغات : تضھرون علیھم : تظھر علیہ ، اس کے خلاف دشمن کو مدد دی ، ظھیر : کے معنی ہوتے ہیں مددگار اور ناصر کے ۔ اسری : جمع اسیر بمعنی قیدی ۔ خزی : ذلت ورسوائی ۔
Ayahs 2:86–87

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہی ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی آخرت کے بدلے میں خریدی ہے ، ان کا عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا ، نہ ان کو کچھ مدد پہنچے گی ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی (ف 1) اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ (علیہ السلام) ، مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو کھلے نشان (معجزے) دیئے اور ہم نے اس کو روح القدس (پاک روح) سے مدد دی ، پھر بھلا جب بھی کوئی رسول تمہارے پاس کوئی ایسی چیز لایا ، جسے تمہارے جی نہ چاہتے تھے تو تم گھمنڈ کرنے لگے پس ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو تم قتل کرتے ہو ،

انبیاء (علیہم السلام) عوام کے جذبات کی پرواہ نہیں کرتے : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت نامی کتاب دی گئی جو الواح کی صورت میں تھی خط مسماری کا ان دنوں رواج تھا ، اس لئے کتابیں عموما پتھروں پر کندہ ہوتیں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مسلسل بنی اسرائیل میں انبیاء (علیہم السلام) آئے ، تاکہ اللہ کے پیغام کو پوری وسعت وقوت کے ساتھ بندوں تک پہنچا سکیں ، مگر بنی اسرائیل برابر جہل وجمود کے تاریک گڑھوں میں گرے رہے ، زیادہ سے زیادہ چند ظاہری رسوم ان کا متاع تدین تھا روح اور مفر سے محروم تھے ، اس لئے فسق وفجور کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے مقرب ہی سمجھتے رہے ، بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو بھیجا ایک کتاب مقدس دے کر جو ان کے تاریک دلوں میں اجالا کر دے ، جو ان کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے اور جو ان کے اخلاق پاکیزہ تر بنا دے ، روح کا اطلاق قرآن میں کتاب پر ہوا ہے ، قرآن حکیم کے متعلق ارشاد (آیت) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “۔ یعنی قرآن بھی ایک روح ہے جسے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے ، اس لئے روح القدس سے مؤید ہونے کے معنی صرف یہی ہوں گے کہ انہیں انجیل جیسا پاک صحیفہ دیا گیا جس میں تذکروتزکیہ کی پوری قوت ہے ، مگر بنی اسرائیل نے انجیل کی پاک اور بلند اخلاق تعلیم پر بھی عمل نہ کیا ، اس لئے کہ اس میں انہوں ان کی کاریوں پر صاف صاف ٹوکا گیا تھا ، لیکن اس سے خدا کا قانون اصلاح ورشد نہیں بدل سکتا ، انبیاء کی بعثت کا مقصد عوام کے جذبات کی رعایت نہیں بلکہ اصلاح ہے ،
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہے (نہیں) بلکہ خدا نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب سے ، پس تھوڑے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔ (ف 2)

(ف 2) صاف صاف اعتراف کہ ہماری دلوں میں نور وہدایت کے لئے کوئی جگہ نہیں ‘ انتہائی بدبختی کی دلیل ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ دل کی تمام خوبیاں ان سے چھین لی گئی ہیں ۔ خدا کی لعنت کے معنی گالی دینا نہیں ، بلکہ اپنی آغوش رحمت سے دور رکھنا ہے اور وہ لوگ جو اپنے لئے زحمت وشقاوت پسند کریں رحمت ومؤدت کو ٹھکرا دیں ، ظاہر ہے کہ خود بخود رؤف ورحیم خدا سے دور ہوجاتے ہیں ۔ حل لغات : ۔ یخفف ، مصدر تخفیف ۔ کم کرنا ۔ وقفینا : فعل ماضی معلوم مصدر تقفیۃ مسلسل یکے بعد دیگرے بھیجنا ۔ البینت : جمع بینۃ ، واضح ظاہر و باہر دلائل وہ نشان جو روشن تر ہوں ۔ تھوی : مصدر ھوی ، خواہش نفس ۔ فریقا : ایک گروہ ، جماعت : غلف : جمع اغلف ، غیر مختون ، محجوب ، ڈھکا ہوا ، مستور ۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے کتاب آئی جو اس چیز کو جو ان کے پاس ہے سچا بتاتی ہے اور حالانکہ وہ پہلے سے کافروں پر (اسی کے ذریعہ سے) فتح مانگتے تھے (ف 1) پس جب وہ ان کے پاس آیا جسے پہچان رکھا تھا تو اس سے منکر ہوگئے پس اللہ کی لعنت ہے کافروں پر ۔

(ف 1) نزول قرآن سے پہلے یہودی ایک سرخ وسپید ” نبی کے منتظر تھے ، جس کے ہاتھ میں آتشین شریعت ہو ، بحری ممالک جس کی راہ تکیں ، جو فاران کی چوٹیوں پر سے چمکے ، دس ہزار قدوسی جس کے ساتھ ہوں ، مگر جب وہ گورا چٹا نبی صحرائے عرب کی جھلس دینے والی فضا میں ظہور پذیر ہوا ، جس کے ہاتھ میں آتشین شریعت تھی جس کی فتوحات سمندروں تک پہنچیں تو انہوں نے انکار کردیا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ مخالفین سے ہمیشہ یہ کہتے کہ جب ہمارا موعود نبی آئے گا تو ہم غالب ہوجائیں گے اور ہماری موجودہ پستی بلندی سے بدل جائے گی ، قرآن حکیم پہلی کتابوں کا مصدق ہے ، وہ تمام صداقتوں کی تائید کرتا ہے ، تمام سچائیاں اس کے نزدیک قابل قبول ہیں ، مگر اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ باقبل کو حرف بحرف صحیح سمجھتا ہے ، وہ ان مشترک سچائیوں کی تائید وتصدیق کرتا ہے جو مختلف فیہ نہیں ، ورنہ سینکڑوں ایسی باتیں ہیں کہ یہود نے محض بربنائے تعصب بدل دی ہیں ، تاکہ ان کا کوئی وقار قائم نہ رہے ۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

وہ بری چیز ہے جس کے عوض انہوں نے اپنی جانیں بیچی ہیں (اس لئے) کہ خدا کی نازل کی ہوئی چیز سے منکر ہوئے اس ضد میں (ف 2) کہ خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے فضل سے اتارتا ہے سو غضب پر غضب کما لائے ، اور کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔

معیار نبوت : (ف 2) بفی الجرح محاورہ ہے جس کے معنی ہیں ، زخم بگڑ گیا ، بنی اسرائیل کے مرض انکار کو بھی بگڑے ہونے زخم سے تشبیہہ دی ہے یعنی ان کی ذہنیت ناقابل اصلاح ہے اور اچھے سے اچھا مرہم بھی ان کے ناسور کے لئے مفید نہیں ۔ اعتراض یہ تھا ان کا کہ کیوں نبوت کسی اسرائیل کو نہیں ملی ؟ اور اس کے لئے مکہ کے ایک یتیم ونادار انسان کو کیوں منتخب کیا گیا کیا بنی اسرائیل کے گھرانے سے برکت اٹھ گئی ہے یا پھر کوئی اور سرمایہ دار اس کا مستحق نہ تھا ؟ قرآن حکیم نے ان آیات میں اس کا جواب یہ دیا کہ نبوت اللہ کا ایک فضل ہے ، یہ موہبت کبری ہے جو خاص حالات میں خاص اشخاص کو دی جاتی ہے ، اس میں کسب واکتساب کو اور جدوجہد کو کوئی دخل نہیں ، اسرائیل جب اس بار امانت کے متحمل نہ رہے تو یہ امانت اسمعیل کے گھرانے کے سپرد کردی گئی اس میں تم اعتراض کرنے والے کون ہو ؟ یہ ضروری نہیں کہ انبیاء کا انتخاب سرمایہ داروں میں سے ہو ، تمہارے نزدیک تو دنیوی وجاہت قابل اعتنا ہے لیکن خدا کی نگاہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں ، یہ درست ہے کہ انبیاء قوموں کو دین ودنیا کی نعمتوں سے مالا مال کرنے کے لئے مبعوث ہوتے ہیں لیکن خود دنیا میں ان کا بہت کم حصہ ہوتا ہے گو وہ روپیہ پیسہ نہیں رکھتے لیکن ایمان وتیقن کی گراں قدر پونجی ان کے پاس سب سے زیادہ ہوتی ہے ، وہ حوصلے کے بلند اور دل کے مطمئن ہوتے ہیں سیم وزر ان کے پاؤں چومتا ہے اور وہ کبھی روپے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ، اس لئے تمہارا محض اس بنا پر انکار کہ رسول بنی اسرائیل کے گھرانے میں پیدا نہیں ہوا اور یہ کہ وہ سرمایہ دار نہیں محض غیر معقول ہے ۔ حل لغات : مصدقا : تصدیق کرنے والا ، یستفتحون ، مصدر استفتاح ، فتح طلب کرنا ، بغیا : تمردوسرکشی ، مھین : اھانۃ کے معنی ہوتے ہیں کمزور کردینے کے ۔ ہڈی توڑنے کے ۔ عذاب مھین : سے سخت ضعف وذلت آفرین عذاب مراد ہے ۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب انہیں کہا جائے کہ جو اللہ نے اتارا ہے تم اسے مانو تو کہتے ہیں ہم اسی کو مانتے ہیں جو ہم پر اترا ہے اور جو اس کے سوا ہے ، اسے نہیں مانتے ، حالانکہ وہ اصل تحقیق ہے اور جو ان کے پاس ہے اس کو سچا بتاتا ہے ، تو کہہ اگر تم ایمان دار تھے تو خدا کے پہلے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے ہو ؟ (ف 1) ۔

(ف 1) جب یہودیوں کو قرآن حکیم کی دعوت دی گئی تو انہوں نے توریت کے سوا اور سب چیزوں کے ماننے سے انکار کردیا ، انہوں نے کہا ، ہم تو وہی ماننے کے مکلف ہیں جو ہمارے نبی پر نازل ہوا ہے ، اس پر قرآن حکیم نے دو اعتراض کئے ہیں ایک یہ کہ اگر یہ واقعہ ہے تو تمہاری پہلے انبیاء سے کیوں جنگ رہی ؟ گزشتہ انبیاء کیوں تمہارے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے ؟ وہ تو سب اسرائیلی تھے ، دوسرا یہ کہ توریت وقرآن کے پیغام میں کیا اختلاف ہے قرآن حکیم تو وہی پیغام پیش کرتا ہے جو توراۃ کا موضوع اشاعت تھا پھر انکار کیوں ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ تم نے نہ کبھی توراۃ کو مانا ہے اور نہ اب قرآن کو ماننے کے لئے تیار ہو ، ورنہ ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ، پیغام ایک ہے مقصد ایک ہے تعلیم ایک ہے ، فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے یا نقص و کمال کا قرآن حکیم مصدق ہے مہیمن ہے اور ساری کائنات کے لئے اتحاد عمل ہے ، اس میں کوئی تعصب نہیں کوئی جانب داری نہیں ۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور بیشک موسیٰ تمہارے پاس کھلے نشان لے کر آچکا ، پھر تم نے ان کے پیچھے بچھڑا بنا لیا اور تم ظالم ہو ، (ف 2) ۔

(ف 2) موسیٰ (علیہ السلام) معجزات ونبوت کے تمام آلات سے مسلح ہو کر آئے لیکن تم نے پھر بھی نہ مانا اور گوسالہ پرستی شروع کردی ، معلوم ہوتا ہے ، مصر میں گائے کی پرستش کا عام رواج تھا ، جیسا کہ آج کی اثری تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے مصر کے قدیم معاہد میں سے اس قسم کی کثیر التعداد تصوریں نکلی ہیں جن سے ان کا ذوق بت پرستی ظاہر ہوتا ہے ۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے اقرار لیا اور تمہارے اوپر طور (پہاڑ) اونچا کیا کہ قوت سے پکڑو ، جو ہم نے تم کو دیا ہے اور سنو ، وہ بولے ، ہم نے سنا اور نہ مانا ، (ف 3) اور کفر کے سبب ان کے دلوں میں تو بچھڑا سمایا ہوا تھا ، تو اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بری بات سکھلا رہا ہے ۔

(ف 3) (آیت) ” سمعنا وعصینا “ کے معنی یہ نہیں کہ وہ ایک دم سنتے بھی تھے اور انکار بھی کردیتے تھے ، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان کی ساری مزہبیت سماع تک محدود تھی ، جہاں عمل کا وقت ہوتا ، وہ یکسر عصیاں ہوجاتے ، (آیت) ” سمعنا وعصینا “ ان کی ساری تاریخ مذہبیت کی پوری پوری اور صحیح تفسیر ہے ، ہمیشہ وہ باتوں اور موشگافیوں کے شائق رہے اور عمل سے بیزار ، مختصر سے مختصر لفظوں میں یہودیوں کی ذلت ونفسیات کا جو مرقع قرآن حکیم نے ان دو لفظوں میں کھینچا ہے وہ ناقابل اضافہ ہے ۔ حل لغات : الحق : سچا معقول اور مفید مصلحت ۔
Ayah 2:94

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

تو کہہ اگر وہ لوگوں کے سوا تم کو خالص اللہ کے پاس آخرت کا گھر ملتا ہے تو تم اپنی موت کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو (ف 1) ۔

فیصلہ کا ایک طریق : (ف 1) یہودیوں کا تفاخر دینی مشہور ہے ، وہ کہتے تھے ، آسمان کی بادشاہت میں ہمارے سوا اور کسی کا حصہ نہیں ، بہشت کے دروازے صرف بنی اسرائیل کے لئے کھولے جائیں گے ، قرآن نے اس غور کو بار بار توڑا ہے اور ایک آخری طریق فیصلہ یہ پیش کیا ہے کہ تم موت کی خواہش کرو ، یعنی جھوٹے کے لئے ہلاکت کی دعا کرو ، جیسا کہ امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اس صورت میں معلوم ہوجائے گا کہ تمہیں اپنے سچا اور پاکباز ہونے پر کتنا یقین ہے ، یہ طریقہ فیصلہ ایک شدید تیقن ، محکم اور مضبوط ایمان کی خبر دیتا ہے جو نبی اسلام کے سینہ میں موجود تھا ، دلائل وبراہین سے جب فیصلہ نہ ہو سکے ، افہام و تفہیم کے تمام دروازے جب بند ہوجائیں تو اس وقت بھی یہی ایک صورت فیصلہ باقی رہ جاتی ہے کہ اپنے آپ کو رب عادل کے عتبہ حق و انصاف پر جھکا دیا جائے ، مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا پر ایمان واثق ہو ، اس پر اور اس کی عدالت پر پورا پورا وثوق اور یقین ہو ، ایک کمزور ایمان والا انسان کبھی اس قسم کے فیصلے کے لئے آمادہ نہیں ہو سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے پہلے سے اعلان فرما دیا کہ یہودیوں کو اپنی سیہ کارویوں کے سبب ان سے کبھی اس نوع کے ایمان طلب فیصلے پر لبیک کہنے کی جرات نہ ہوسکی ، تاریخ شاہد ہے ، تیرہ صدیاں گزرنے پر بھی یہ قوم اس کے جواب کے لئے تیار نہیں ہوئی ، یہ چیلنج یہودیوں سے مخصوص نہیں ، جنگ خدا پرست اور باطل پرست گروہ کے درمیان ہے پس ہر وہ شخص جو حق والوں کا مقابلہ کرنا چاہے ، آخری طریق فیصلہ کے لئے آمادہ ہو سکتا ہے ، خدا کا نہ ٹلنے والا وعدہ ہے ، (آیت) ” حقا علینا نصر المؤمنین “۔ حل لغات : بئسما : بہت برا ۔ لن یتمنوا : مصدر تمنی ، خواہش ، آرزو اور چاہت ۔ احرص : حریص ترین ۔ یود : مصدر ود ۔ دوستی ، محبت ۔
Ayahs 2:95–96

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

اور وہ یہ (موت) کی آرزو ہرگز نہیں کریں گے بہ سبب اس کے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں کو جانتا ہے ۔

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور تو انہیں اور سب آدمیوں کی نسبت (دنیوی) زندگی پر زیادہ حریص پائے گا اور مشرکین (عرب) میں سے بھی ایک ایک چاہتا ہے کہ ہزار برس کی عمر پائے اور حالانکہ اتنا جتنا کچھ اسے عذاب سے نہ بچائے گا اور جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اللہ دیکھتا ہے ۔ (ف 1)

حریص ترین قوم : (ف 1) حق و باطل میں ، شرک و توحید میں ایک متمائز فرق ہے ، مشرک و باطل پرست کی خواہشیں بےانتہا ہوتی ہیں اور موحد حق پرست انسان بالطبع قانع ہوتا ہے ، یہودیوں کی دنیا پر ستی قرآن حکیم کے ان الفاظ سے واضح ہوتی ہے کہ (آیت) ” سمعون للکذب اکلون السحت “۔ کہ پرلے درجے کے جھوٹے اور سود خوار ہیں ۔ آج بھی یہودی سود خواری میں اس درجہ مشہور ہے کہ مغربی ممالک میں یہودی اور سود خوار باہم مترادف لفظ ہیں ۔ قرآن حکیم نے یہاں انہیں (آیت) ” احرص الناس “۔ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ہزار سال کی عمر بھی یہ پائیں تو بھی دین کے لئے یہ کچھ کرسکیں گے ۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

تو کہہ جو کوئی جبرائیل (علیہ السلام) کا دشمن ہے سو اس نے اللہ کے حکم سے یہ کلام تیرے دل پر اتارا ہے ہو اس (کلام) کو جو اس کے سامنے ہے سچ بتاتا ہے اور راہ دکھاتا ہے اور ایمان داروں کے لئے خوشخبری ہے ۔

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) کا دشمن ہوگا ، تو خدا ان کافروں کا دشمن ہوگا (ف 2)

(ف 2) جہلا نے یہود جبرائیل (علیہ السلام) کے نام سے بہت پریشان ہوتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ یہ فرشتہ ہماری بربادی اور بدبختی کا باعث ہوا ہے اس لئے اب اس کے لائے ہوئے پیغام کو ہم کبھی نہ مانیں گے ، یہ ایک ضد اور جاہلانہ خیال تھا ، ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا ، وہ جو کچھ لاتا ہے پیغام خدا کے نظام وحی وتنزیل کا انکار ہے ۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

ہم نے تیری طرف واضح آیتیں (نشانیاں) اتاری ہیں فاسقوں (بےحکموں نافرمانوں) کے سوا انکا کوئی منکر نہ ہوگا ۔ (ف 3)

(ف 3) قرآن حکیم کے متعدد نام قرآن میں مذکور ہیں ، ان میں سے آیات بینات بھی ہے یعنی واضح اور روشن آیات جو لوگ اللہ کی اس کتاب کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ اس کے دلائل اس کا طرز بیان ، اس کا پیغام سب واضح ہیں اور روشن ، یہ حقائق ومعارف کا وہ سمندر بےساحل ہے کہ جس کی ہر موج صد ہزار موتی اپنے وامان گہر بار میں لئے ہوئے ہے ، ہمہ آفادہ اور ہمہ خوبی اگر کوئی کتاب ہو سکتی ہے تو وہ یہ قرآن حکیم ہے ، اس کے وضوح پر درخشندہ مثال یہ ہے کہ اس طویل عرصے کے بعد بھی یہ ویسی ہی سمجھی جاسکتی ہے ، جیسے قرون اولی میں نفس تعلیم میں کوئی تحریف نہیں ، حالانکہ انجیل دو سو سال کے بعد بالکل بدل گئی اور وید چند صدیاں بھی حوادث کا مقابلہ نہ کرسکا ۔ حل لغات : الف : ایک ہزار ۔ مزحزح : ہٹانے والا ، دور کرتے والو ۔ بشری : خوش خبری ۔
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

آیا کیا جب بھی وہ خدا سے کوئی عہد باندھیں گے تو ایک فرقہ ان میں سے اس (عہد) کو پھینک دے گا ، (نہیں) بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے (ف 1)

(ف 1) بنی اسرائیل ایک آنے والے نبی کے منتظر تھے اور انہوں نے اس کی اعانت ونصرت کا عہد کر رکھا تھا ، لیکن جب وہ آگیا جس کا انتظار تھا تو منکر ہوگئے ، وجہ یہ تھی کہ ان کے دل دولت ایمان سے محروم تھے ، مال و دولت کے سوا انکی زندگی کا اور کوئی مقصد نہ تھا (آیت) ” اکثرھم “ کہہ کر قرآن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کچھ لوگ یہودیوں میں ایسے بھی تھے جو نیک سرشت تھے ، یہ حالت اکثریت کی نہ تھی ۔
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب خدا کی طرف سے ان کے پاس رسول پہنچا (ف 2) جو اسے جو ان کے پاس ہے سچ بتاتا ہے ، سب اہل کتاب میں سے ایک فریق نے خدا کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ، گویا وہ جانتے ہی نہ تھے ۔

(ف 2) رسول ﷺ کے من عند اللہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کا پیغام براہ راست مستفادہ ہوتا ہے ، جناب قدس سے (آیت) ” وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی “ اس کی ساری زندگی آئینہ ہوتی ہے ، رضائے الہی کا (آیت) ” وھم بامرہ یعملون “ اور وہ تمام پہلی تعلیمات کا مصدق ہوتا ہے لیکن اہل کتاب کی شومی عقل ملاحظہ ہو کہ باوجود ان سب چیزوں کے دیکھنے کے منکر ہی رہے ۔
Ayah 2:102

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور وہ اس علم کے پیچھے لگے ہیں جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کفر نہیں کیا لیکن (ف 3) شیطانوں نے کفر کیا ، لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے اور اس کے پیچھے لگے ہیں جو (شہر) بابل میں ہاروت وماروت (نام) دو فرشتوں پر اترا تھا اور وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے کسی کو جب تک کہ انہیں یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو فتنہ (آزمانے کو) ہیں سو تو مت کافر ہو ۔ پھر لوگ ان سے وہ (عمل) سیکھتے جس سے کسی مرد اور اس کی عورت میں جدائی ڈالیں اور حالانکہ وہ اس (عمل) سے بغیر خدا کے حکم کے کسی کو ضرر پہنچا ہی نہیں سکتے اور وہ ان باتوں کو سیکھتے ہیں جن سے ان کا نقصان ہے نہ نفع ، اور جان چکے ہیں کہ اس (علم) کے خریدار کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں (ف 1) ہے ۔ بہت بری چیز ہے جس کے لئے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا ، اگر ان کو سمجھ ہوتی ۔

سحر کفر ہے : (ف 3) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا عہد حکومت نہایت شاندار عہد حکومت تھا جن وانس کی ایک کثیر التعداد فوج ان کے زیر قیادت تھی ، ان کی دانائی اور حکمت زبان زد عوام و خواص تھی ، اس لئے بعض لوگوں کو یہ خیال کرنے کا موقع ملا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جادو جانتے تھے جس سے ہمزاد ان کے قبضے میں تھے ، قرآن حکیم اس خیال کی تغلیط کرتا ہے ، اس لئے کہ تقدیس انبیاء اس کا فرض ہے وہ کہتا ہے سحر کفر ہے اور سلیمان (علیہ السلام) ہرگز کفر کی تعلیم نہیں دے سکتے ، اس کے کفر ہونے کی دو بڑی وجہ ہیں ، ایک تو یہ کہ ساحر کا ایمان اللہ تعالیٰ پر پختہ اور مضبوط نہیں ہوتا ۔ توکل وصبر کے جذبات نہیں رہتے ، اور دوسرے یہ کہ اس سے فسق وفجور میں بہت مدد ملتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس قماش کے لوگ ہمیشہ آوارہ اور بدکردار ہوئے ہیں ان کا مقصد جلب زر اور لوگوں کے ناموس وعزت کو خطرہ میں ڈالنا ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ عجیب عجیب حیلے تراشتے ہیں ، سحر کے معنی اصل میں باریک اور رقیق الفہم چیز کے ہیں ، ان کے شعبدے عام اذہان کی دسترس سے چونکہ بالا ہوتے ہیں ، اس لئے سحر کے لفظ سے تعبیر کئے جاتے ہیں ۔ جادو سیکھنے کا دوسرا ذریعہ ہاروت ماروت نامی دو فرشتے تھے ، جنہیں بابل میں رکھا گیا تھا اور جن کے متعلق مشہور تھا کہ وہ جادو سکھاتے ہیں ، قرآن حکیم ان کی بھی برات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ پہلے لوگوں کو روک دیتے تھے اور کہہ دیتے تھے کہ یہ کفر کا کام ہے لیکن جب وہ بضد ہوتے تو انہیں سکھا دیا جاتا ، مگر وہ سیکھتے کیا ؟ عورت و مرد میں نفاق ڈالنے کے طریقے ، آج بھی اس قسم کے شعبدہ باز مسلمانوں میں کثرت سے ہیں جو حب کے تعویذ لکھ کردیتے ہیں جن سے ہزاروں گھروں میں نااتفاقی اور ناچاقی بڑھتی ہے ، سینکڑوں گھرانے ان کی بدمعاشیوں کی وجہ سے برباد ہوجاتے ہیں اور یہ ہیں کہ لوگوں کی بیوقوفی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ قرآن حکیم سحر وجادو کی تاثیرات کے متعلق فرماتا ہے (آیت) ” وما ھم بضآرین بہ من احد الا باذن اللہ “ کہ اس سے کچھ نہیں ہوتا ، نہ نقصان اور نہ نفع ، البتہ خدا جب چاہتا ہے تو اپنے کسی بندے کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے آزمائش کے کڑے لمحات سے نکال لے جاتا ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ اگر ساری دنیا مل کر کسی کو نقصان پہنچانا چاہے ، اور اللہ کی مرضی نہ ہو تو وہ اس پر قادر نہیں ہو سکتے ، اسی طرح اگر ساری کائنات جمع ہو کر کسی کو کوئی فائدہ پہنچانا چاہے اور قدرت کا منشا نہ ہو تو وہ ناکام رہیں گے ، اس لئے مسلمانوں کو اسے ہتھکنڈوں سے بچنا چاہئے اور قطعا ان لوگوں سے خائف نہ ہونا چاہئے ، ان لوگوں کے اختیار میں کچھ ہو تو وہ اپنی حالت نہ سنوار لیں ، یوں مارے مارے کیوں پھریں اور کیوں بھیک مانگیں ۔ وہ لوگ جو شعبدہ بازی ان مذموم اغراض کے لئے سیکھتے ہیں وہ آخرت میں خائب و خاسر رہیں گے اور جنت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ، اس لئے کہ دنیا میں انہوں نے اپنا محور ہمیشہ فریب وجہل رکھا ہے اور کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ اس کے نتائج ان کی روحانی زندگی کے لئے کس حد تک خطرناک ہو سکتے ہیں ۔ حل لغات : نبذ ، پھینکا ، نظر انداز کیا ، ماضی مصدر نبذ ۔ ورآء : پیچھے ۔ ظھور ، جمع ظھر پشت ، پیٹھ ، تتلوا : مصدر تلاوۃ : پڑھنا ، اطاعت کرنا ۔ علی ملک سلیمان : سلیمان کے عہد حکومت میں ۔ شیطین : جمع شیطان ، فطرت کی راہ مستقیم سے دور ، برا دوست ۔ یہاں مراد شریر اور مذموم شخص ہے ۔ (ف 1) تھوڑی عقل کے لوگ شعبدے اور کرشمے دیکھ کر جلد متاثر ہوجاتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیزیں صرف سحر وجادو کے ذریعہ ہی سے انجام دی جاسکتی ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ایمان وتقوی اگر دلوں میں موجود ہو تو اس کے نتائم سحر وجادو سے زیادہ محیر اور باثمر ہو سکتے ہیں ، وہ ہر شے جو کاہن اور جادوگر کفر وخیانت کے وسائل سے حاصل کرتے ہیں ‘ وہ مومن اللہ کی رضا جوئی میں حاصل کرلیتا ہے ، اور یہ اس لئے کہ جو رب کائنات کا پیارا ہوجائے ، کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے تابع ہوجاتا ہے ، مگر یہ لوگ اس سراطاعت و ایمان سے غافل ہیں ۔ حل لغات : فتنۃ : آزمائش ۔ اصل میں سونے کو آگ میں ڈال کر دیکھنا ہے ۔ اس لئے سنار کو فتان کہتے ہیں ۔ آزمائش کے معنی میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے جس سے کھرے کھوٹے میں امتیاز ہوجاتا ہے ۔ ضآرین : جمع ضار ، نقصان دہ ۔ خلاق : خصہ ، بہرہ ۔ مثوبۃ : اجر ۔ انجام اور ثمر ۔
Ayahs 2:103–104

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز رکھتے تو اللہ کے پاس بہتر بدلہ تھا ، کاش ان کو سمجھ ہوتی ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

مومنو ! تم (رسول کریم ﷺ کو) راعنا نہ کہا کرو اور انظرنا کہا کرو ، اور سنتے رہو ، اور کافروں کے لئے دکھ کا عذاب ہے (ف 1)

حرمت رسول : (ف 1) مسلمانوں کے نزدیک حب رسول ﷺ وہ گرانمایہ متاع ہے جس سے وہ کسی حالت میں بھی دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ والہانہ شیفتگی اصل ایمان ہے ، صحابہ کرام ؓ اجمعین جب دربار رسالت میں ہوتے اور مختلف مسائل کے سلسلہ میں حضور ﷺ کی توجہ عالی کو اپنی طرف مبذول کرانا ہوتا تو کہتے (آیت) ” راعنا “۔ کہ حضور ﷺ ہمارا بھی خیال رہے لیکن بدباطن اور بدعقیدہ یہودی مسلمانوں کی اس عقیدت کو برداشت نہ کرسکے ، انہوں نے از راہ تمسخر وتحقیر راعنا ، کہنا شروع کردیا ، جس کے معنی ان کے ہاں کم عقل کے ہوتے ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، تم اس موقع پر (آیت) ” انظرنا “ کہا کرو ، یعنی دیکھئے تو ، اس میں انہیں خبث باطن کے اظہار کا کوئی موقع نہیں ملے گا ، اس آیت سے حرمت رسول ﷺ کی حفاظت مقصود ہے اور یہ تلقین ہے کہ کوئی ایسا کلمہ جو توہین کا موہم بھی ہو ‘ حضور ﷺ کے لئے استعمال نہ کرو ، ایسا نہ ہو کہ دلوں سے عقیدت مندی وارادت کے جذبات محو ہوجائیں اور بجائے ایمان کے نرا کفر ہمارے حصہ میں آئے ،
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

اہل کتاب اور مشرکوں میں سے جو کافر ہیں ‘ نہیں چاہتے کہ تم (مسلمانوں) پر تمہارے اللہ سے کوئی بھلی بات (ف 2) نازل ہو ، لیکن اللہ جسے چاہے ، اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے اور خدا بڑے فضل والا ہے ۔

(ف 2) ان آیات میں کفار واہل کتاب کی ذہنیت بتائی ہے کہ وہ کسی طرح بھی مسلمانوں کو اچھی حالت میں نہیں دیکھ سکتے ، کفر و ایمان کی یہ آویزش آج بھی موجود ہے ، مسلمان کی ہر بات کفر کے سینہ تنگ میں کھٹکتی ہے ، غیر مسلم ہرگز برداشت نہیں کرسکتے کہ مسلمانوں پر رحمت باری کا نزول ہو اور برکات الہیہ کا مہبط بن جائیں لیکن خدا صاحب فضل عنایات ہے ، اس کی مہربانیاں احاطہ شمار سے باہر ہیں ۔ وہ جسے چاہے جب چاہے نواز دے ۔ پچھلی کتابوں کا نعم البدل : جیسے عالم انسانیت میں ترقی ہوتی گئی ، صحائف آسمانی بدلتے رہے بلکہ یوں کہئے کہ کتب الہیہ نے آہستہ آہستہ کائنات انسانی میں رفعت وتقدم پیدا کیا اور ہر صحیفہ آسمانی میں حالات وفضا کا خیال رکھا گیا تاکہ کوئی چیز بھی ان لوگوں کے لئے غیر مانوس نہ ہو ۔ جب سلسلہ ارتقاء دین کی آخری کڑی قرآن مجید نازل ہوا تو ضرور تھا کہ پہلی تعلیمات یا تو فراموش ہو چکتیں یا پھر فضا و حالات کے ناموافق ہونے کی وجہ سے منسوخ ، کیونکہ ارتقاء وتقدم کا فطری قانون یہی چاہتا ہے ، مگر اہل کتاب نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ کیا بات ہے ، قرآن حکیم کے نزول کے بعد توراۃ وانجیل منسوخ ہوجائے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ، تم یہ نہ دیکھو کہ توریت کے بعض احکام کو بدل دیا گیا ہے یا انجیل کی بعض تعلیمات میں اصلاح کی گئی ہے ، تم یہ دیکھو کہ جو چیز تمہیں دی گئی ہے ‘ وہ کسی طرح بھی توریت وانجیل سے رتبہ وشرف میں کم ہے ؟ یا پھر یہ بتایا کہ جب مادہ کے ذرہ ذرہ پر خدا کی حکومت ہے اور تم ساری کائنات میں وقت و حالات کے موافق تبدیلی و تغیر روز دیکھتے ہو تو پھر اخلاق و شریعت کے قانون میں کیوں تبدیلی نہیں ہو سکتی ؟ قرآن حکیم ان تمام کتابوں کا جو اس سے پہلے نازل کی گئیں بہترین بدل ہے اور بہترین مجموعہ ، ارتقاء و تدریج کی یہ آخری کڑی ہے جس کے بعد کوئی کتاب نہ اترے گی اور نہ کوئی نبی ہی پیدا ہوگا ۔ حل لغات : ننسخ : مادہ نسخ ۔ بدلنا ، ازالۃ شی بشیء یتلقیہ (مفردات) ننسھا ۔ تاخیر میں ڈالتے ہیں مادہ انساء بمعنی تاخیر وتمہیل :
Ayahs 2:106–108

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

جو کوئی آیت ہم منسوخ (موقوف) کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی کی مانند اور آیت پہنچا دیتے ہیں ، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور مددگار نہیں ہے ۔

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم بھی اپنے رسول ﷺ سے سوال کیا چاہتے ہو ، جیسے پہلے (زمانہ میں) موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال ہوچکے ہیں اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر لے ۔ وہ سیدھی راہ سے گمراہ ہوا ۔ (ف 1)

(ف 1) ابو مسلم کا خیال ہے کہ اس آیت کے مخاطب نئے نئے مسلمان ہیں ، وہ کہتے تھے ، ہمیں بھی عجم کی طرف بت پرستی کی اجازت دی جائے ، امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں ۔ ان میں کا ایک معزز عبداللہ بن امیہ مخرومی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس وقت تک ہم ایمان نہیں لانے کے جب تک کہ آپ ﷺ مکہ میں چشمے نہ بہا دیں ، یا آپ ﷺ کے لئے باغات کی سرسبزی وشادابی ہو ‘ یا آپ ﷺ کا قصر ومحل سونے کا ہو ‘ اور یا پھر آپ آسمان پر چڑھ کر قرآن حکیم نہ اتار لائیں ، سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہودی ہیں ، اس لئے کہ اس کے آگے پیچھے انہیں کا ذکر ہے ، اور اس لئے بھی کہ یہ سورة مدنی ہے ، یوں جواب میں عموم ہے کہ رسول ﷺ سے از خود بلا ضرورت کچھ نہ پوچھو وہ اللہ کی طرف سے مامور ہے ، بجز اس کی اجازت کے اسے بولنے کی اجازت نہیں ۔ یہودیوں میں یہ بری عادت تھی کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کو عموما سوالات کا تختہ مشق بنائے رکھتے اور عمل کم کرتے تھے ، موشگافیاں اور تفاصیل طلبی کا شوق حد سے زیادہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، رشد وہدایت کے آجانے کے بعد یہ کج بحثیاں کیوں اختیار کرتے ہو ؟ یاد رکھو کہ جس قوم میں یہ ذہنیت پیدا ہوجائے اس سے عملی قوت چھین لی جاتی ہے اور وہ راہ راست سے بھٹک جاتی ہے ۔ حل لغات : ملک : بادشاہت ، سلطنت : ولی : دوست ۔ نصیر : مددگار ۔ سوآء السبیل : راہ راست ۔ یردون : مادہ رد لوٹاتا ، کفارا جمع کافر ۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

اہل کتاب میں بہت لوگ ہیں جو بعد اس کے کہ ان پر حق ظاہر ہوچکا ، اپنے دل میں حسد کرکے چاہتے ہیں کہ کسی طرح پھیر کر تم کو مسلمان ہوئے پیچھے کافر کردیں ، سو تم درگذر کرو اور خیال میں نہ لاؤ ، یہاں تک کہ خدا اپنا حکم بھیجے ، بیشک خدا ہر شئے پر قادر ہے (ف 1) ۔

(ف 1) مخاض بن عاذ وراء اور زید بن قیس یہودی نے جب دیکھا کہ غزوہ احد میں عارضی شکست ہوگئی ہے تو انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت عمار ؓ سے کہا ، آؤ پھر سے یہودی ہوجاؤ ، کیوں ہزیمت اٹھاتے ہو مسلمان رہ کر حضرت عمار ؓ نے فرمایا ، تمہارے مذہب میں نقض عہد کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا ۔ بہت بری نظر سے ، فرمایا تو سن رکھو ، میں نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ جیتے جی محمد ﷺ سے بیزار نہیں ہونے کا ، حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا ، میں تو بہرحال اللہ سے خوش ہوں ، اس کے دین سے خوش ہوں ‘ اس کی کتاب سے خوش ہوں ، اس کے بنائے ہوئے قبلہ سے خوش ہوں اور مسلمانوں کی ہمہ گیر اخوت پر خوش ہوں ، یہ سن کر وہ مایوس ہوگئے بہرحال ان کی کوشش یہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں میں اسلام کے متعلق بدظنی پیدا کی جائے ، ان آیات میں فرمایا کوئی مضائقہ نہیں ، تم ان سب سیاہ کاریوں کو برداشت کرو اور معاف کر دو وقت آئے گا کہ حق خود بخود ظاہر ہوجائے گا ، اس لئے کہ اللہ کے لئے حالات کا بدل دینا کوئی مشکل نہیں ۔
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

نماز قائم (کھڑی) رکھو اور زکوۃ دیتے رہو اور جو بھی بھلائی تم اپنی جانوں کیلئے آگے بھیجوگے ، اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے (ف 2) ۔

عفوعمیم کی تعلیم : (ف 2) حسد وجمود بدترین لعنتیں ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے ، ھی الحالقۃ لا اقول حالقۃ ولکن حالقۃ الدین یعنی حسد وبغض دین ودیانت کو بیخ وبن سے اکھاڑ دینے والی چیز ہے ، ایک حدیث میں فرمایا ہے ، یہ واء الامم ہے یعنی تمام قوموں کی مشترکہ بیماری جس سے قومیں ہلاکت کے قریب پہنچ جاتی ہیں ، ضرور تھا کہ اس کی روک تھام کے لئے کوئی عملی قدم اٹھایا جائے اور بالخصوص جب کہ اس سے پہلی آیتوں میں یہودیوں کے راہ راست سے بھٹک جانے کا ذکر ہے اور اس کا سبب بتایا ہے کہ حسد وبغض کی انتہا ۔ ان آیات میں تین چیزوں کی ہدایت کی گئی ہے ، نماز ، زکوۃ اور تقدیم خیر کی ، نماز سے روح کی جلا ہوتی ہے ، قلب سے دوئی کا خیال اٹھ جاتا ہے ، سب خدا کے حضور میں بلا امتیاز جھک جاتے ہیں اس لئے حسد وبغض کی گنجائش نہیں رہتی ، زکوۃ سے محتاج وغنی میں رشتہ مودت واخوت قائم ہوجاتا ہے ، اور تقدیم خیر سے عام تعاون باہمی پر آمادہ کیا گیا ہے ، ظاہر ہے کہ ان تینوں چیزوں کے ہونے کے بعد کسی قوم میں حسد و بغض کی مہلک وبا نہیں رہتی ۔ ان آیات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کوئی نیکی ضائع نہیں جاتی تم جو کچھ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرو گے ‘ اس کا بہترین ثمرہ ضرور ملے گا ، اس لئے کہ خدا ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے ۔
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور کہتے کہ جنت میں ہرگز کوئی نہ جائے گا ، جب تک کہ یہودی یا نصرانی نہ ہوجائے ، یہ ان کی آرزوئیں ہیں ، تو کہہ تم اپنی دلیل (سند) لاؤ اگر سچے ہو (ف 3) ۔

مذہب دلائل پر مبنی ہے : (ف 3) اہل دین کی یہ خطرناک غلطی ہے کہ وہ ظاہری رسوم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں کہ اور اس کی روح سے ناواقف ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان میں اختلا واقع ہوتا ہے ۔ ورنہ روح وروائح کے لحاظ سے تمام آسمانی ادیان ایک ہیں اور اسلام ان سب ادیان کی آخری اور مکمل صورت ہے یہودی نے اسی بنا پر عیسائیت کا انکار کای اور عیسائی نے یہودیت کا ، اور پھر غرور مذہبی کی بھی حد ہوگئی کہ دونوں نے اپنے فرقوں کو نجات کا واحد اجارہ دار سمجھ لیا ، قرآن حکیم کہتا ہے ، تم اپنے تعصب کو عقل وبرہان کی روشنی میں دیکھو ، کیا اس کی کچھ بھی قیمت رہ جاتی ہے ، اگر خدا ایک ہے ، آدم (علیہ السلام) سے لے کر اسرائیل تک تو پھر اس کا دین بھی ایک ہونا چاہئے ۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) نبی ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے برگزیدہ نبی نہ ہوں ۔ دلائل وبراہین کا استعمال کرو ، ان تعصبات کا خاتمہ ہوجائے گا ، اس کے بعد اصل دین ، روح ، مذہب اور خالص روحانی تخیل پیش کیا ، جس کا جاننا مدار نجات ہے اور انکار کفر ، اور وہ ہے ، اسلام “ یعنی کامل نظام کے ساتھ اللہ کے سامنے جھک جانا ۔ اس کے سوا نہ یہودیت کسی کام کی ہے اور نہ عیسائیت ” خلوص واسلام “ ہونا چاہئے ، پھر دنیا وعقبی کی ہر منزل بےخوف وخطر طے ہوجائے گی ۔ حل لغات : تبین : ظاہر ہوا ۔ فاعفوا واصفحوا ، مادہ عفو ، معاف کردینا ، اور صفح ، درگزر کردینا ہے امر : بات حکم ، چیز ۔ بلی : ہاں ضرور ۔
Ayahs 2:112–113

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں ! جس نے اپنا منہ اللہ کو سونپ دیا (جو خالص مسلمان یعنی فرمان خداوندی کا تابعدارہوا) اور وہ نیکی کرتا ہے پس اس کو خدا سے اجر ملے گا ، نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود نے کہا ، نصاری کچھ راہ پر نہیں نصاری نے کہا ، یہود کچھ راہ پر نہیں اور وہ سب کتاب پڑھتے ہیں ۔ (ف 1) اسی طرح بےعلم لوگ بھی انہیں کی سی بات کہتے ہیں پس اللہ قیامت کے دن ان باتوں میں جس میں وہ جھگڑتے ہیں ، حکم (انصاف) کرے گا ۔

تعصب جہالت ہے : (ف 1) اس کشاکش کو جو یہودی اور عیسائی میں مدت سے قائم ہے ، قرآن مجید جہالت سے تعبیر کرتا ہے ، تعجب ہے کہ ایک قوم توریت کو جانتے ہوئے کس طرح اس درجہ گمراہ ہو سکتی ہے کہ ایک دوسرے کو کافر کہے ، بجز اس کے کہ وہ توریت کو پڑھتے تو ہوں مگر اس کی تعلیمات کو حقیقۃ نہ جانیں ۔ بالکل یہی مرض آج مسلمانوں میں ہے ، قرآن مجید پڑھتے ہیں ، لیکن پھر شغل تکفیر سے باز نہیں آتے ، ایک خدا ۔ ایک رسول ﷺ اور ایک کتاب کو مان کر آپس میں کیوں مختلف ہیں ، صرف اس لئے کہ تعصب ہے اور حرص شہرت نے انہیں آپس میں ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے ، یہ سب جہالت کی باتیں ہیں ، دانا اور علم رکھنے والی قومیں تعصب نہیں رکھتیں ، ان میں رواداری اور مساوات کا مادہ ہوتا ہے ، وہ عمل کے بارے میں تو ضرور متعصب ہوتے ہیں مگر زبان کے میٹھے اور بات کے رسیلے ہوتے ہیں ، حل لغات : یحکم : فیصلہ کرے گا ، مادہ حکم ۔ یوم القیمۃ : وقت مکافات ، جب لوگ جی اٹھیں گے ، سعی : کوشش کی ، مادہ سعی :
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے خدا کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کرنے سے منع کیا اور مسجدوں کو اجاڑنے کی کوشش کی ، ایسوں کو لائق نہیں تھا مسجدوں میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے ، (ف 1) ، ان کیلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے ۔

اسلامی مساجد انسانی اتحاد کا مرکز ہیں : (ف 1) مختلف معاہدنے ہمیشہ انسانی جماعتوں کو مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کردیا ہے ، زہرہ کے پجاری مشتری کے ماننے والوں کو اپنے مندروں میں نہیں گھسنے دیتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے نام لیوا عیسائیوں کو نازک سمجھتے ہیں اور اپنے کلیساؤں میں انہیں وہ محل ہونے کی اجازت نہیں دیتے ، غرضیکہ معاہدجن کی غرض انسانیت کا تزکیہ وتطہیر ہوسکتی ہے بجائے خود محاذ جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں ، ہر عبادت گاہ اپنے پس پشت ایک جماعت رکھتی ہے جو اس کے نام پر نسل انسانی میں تفریق پیدا کرے ، پھر معزز اور غیر معزز کا سوال بھی ہزاروں سال سے قائم ہے ہر مندر میں ‘ ہر معبد میں ‘ ہر کلیسا و کنیسا میں ہر حیثیت کا انسان داخل نہیں ہو سکتا ، بلکہ رنگ وبو کے ہزاروں دیوتا ہیں جن کی پرستش کرنا پڑتی ہے اور جو عبد و معبود کے پاک اور براہ راست راستہ میں روک ہیں ، اسلام کہتا ہے ، خدا کے تمام بندے ‘ ہر نوع کے انسان اگر خدا کے نام پر کسی معبد میں جمع ہوتے ہیں تو انہیں قطعا نہ روکو ، اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہوسکتا کہ ایک چاکر اپنے مالک کے پاس آئے اور روکا جائے ، وہ جو اس کے آستانہ رحمت پر سجدہ کرنا چاہتا ہے ‘ اس کی اعانت کرو ، تم کون ہو جو اللہ کے بندوں کو اللہ کے گھر سے نکالتے ہو ، مسجدیں دنیا میں ہمہ گیر پیغام اخوت کے مراکز ہیں ، یہاں رنگ ونسل کے تمام بت توڑوئے جاتے ہیں ہر شخص کو ہر وقت ہر مسجد میں ماللہ کے سامنے رکوع و سجود کا اختیار ہے اور حق ۔
Ayahs 2:115–116

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

مشرق اور مغرب اللہ کی ہے پس جدھر تم منہ کرو ‘ وہاں ہی اللہ متوجہ ہے ، بیشک اللہ سمائی والا ہے ، سب کچھ جاننے والا ہے ۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے ، حالانکہ وہ پاک ذات (سب سے نرالا ہے) بلکہ زمین اور آسمان اسی کا ہے اور سب اس کے آگے ادب سے (فرمانبردار) ہیں (ف 2)

خدا کا کوئی ولد نہیں : (ف 2) اسلام سے پہلے مشرک فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کے اکلوتے اور پہلوٹھے بیٹے ہیں ، قرآن حکیم کہتا ہے سبحانہ یعنی اللہ جل جلالہ اس قسم کے مشرکانہ اوصاف سے پاک ہیں : دلیل یہ ہے کہ ساری کائنات اس کے قبضہ قدرت میں ہے ، ہر چیز اس کی تسبیح وقنوت میں مصروف ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک سب اس کی حمد وثنا کر رہے ہیں ، کیا تمہیں آسمانوں اور زمینوں میں کوئی اور قوت کار فرما نظر آتی ہے ؟ فرشتے بھی اس کے محکوم ہیں ، حضرت عزیز (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی اس نے پیدا کیا ہے اور دوسری مخلوق کو بھی ، کیا ایک قانون بھی قدرت کا ایسا ہے جس سے فرشتے بےنیاز ہوں اور عزیز ومسیح (علیہما السلام) الگ ‘ کیا فرشتے اس کے حکموں کے ماتحت نہیں ؟ اور کیا عزیر (علیہ السلام) ومسیح (علیہ السلام) تمام انسانی عوارض سے مبرا ہیں ؟ پھر (آیت) ” کل لہ قانتون “۔ کی اس صداقت کے بعد شرک کے لئے کیا گنجائش رہ جاتی ہے ، دوسری دلیل اس کی توحید و تفرید پر یہ ہے کہ اسے اقنوم وشریک کی کیا ضرورت ہے ، جبکہ اس کی قدرتیں غیر محدود طور پر وسیع ہیں ، اس نے آسمان و زمین کی تمام کائنات بغیر کسی ساجھی اور دوست کی اعانت کے پیدا کی ہے ، اگر کوئی دوسرا خدا ہوتا تو اس کی ضرورت اس آفرینش کے وقت تھی نہ اس وقت جبکہ وہ سب کچھ پیدا کرچکا اس کی قدرت کا غیر مبہم کمال یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا فیصلہ کرلے ‘ وہ پیدا ہوجاتی ہے ، اسے کسی مادہ یا کسی مستعد تخلیق چیز کی حاجت نہیں ہوتی ، وہ اپنے ارادے سے اپنی قدرت سے اپنے کمال الوہیت سے ساری کائنات کو پیدا کرلیتا ہے پھر ایسے قادر مطلق ، ایسے مرید باجبروت اور ایسے کامل خدا کے لئے اقانیم کی کیا حاجت ہے ؟ کن کہنا اور دنیا کا پیدا ہوجانا یہ ایک انداز بیان ہے ، مقصد یہ ہے کہ کہا اور چیز بن گئی ، وہاں کوئی مختلف یا انتظار نہیں ہوتا ، یہ مراد نہیں کہ واقعی اسے تخلیق کے لئے کن کہنا پڑتا ہے یا کن کوئی طلسم ہے جس کے ورد سے وہ دنیا پیدا کرتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ توریت میں بھی اسی اعلی قسم کے الفاظ آئے ہوں گے جس سے عیسائیوں کو ٹھوکر لگی ، انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ کلام کوئی الگ صفت ہے جس سے دنیا کو پیدا کیا گیا ، چناچہ انجیل میں ہے کہ ابتدا میں کلام تھا اور پھر یہ لکھا ہے کہ کلام کے وسیلے سے ساری چیزیں پیدا ہوئیں ، حالانکہ اس احکم الحاکمین خدا کو بجز ایک ارادے کے اور کسی چیز کی کیا حاجت ہے ؟ یہ درست ہے کلام اس کی صفت ہے ، قدرت بھی اس کی صفت ہے یعنی وہ قادر ہے اور اپنے خاص بندوں پر کلام نازل کرنے والا بھی ، یہ نہیں کہ کلام یا قدرت کوئی الگ چیزیں ہیں اور وہ خدا ہیں ۔ بلکہ خدا نام ہی ہے اس ذات اقدس کا جس میں علم قدرت ارادہ ایسا صفات کمال بدرجہ غایت موجود ہوں ۔ حل لغات : وجہ اللہ : رخ اور منہ ، کنایہ ہے اللہ کے فضل وکرم سے ۔ بدیع : بلا مددواستعانت پیدا کرنے والا ۔
Ayahs 2:117–118

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

وہ زمین اور آسمان کا نیا نکالنے والا (پیدا کرنے والا ہے) جب کسی کام کا حکم دیتا ہے تو صرف کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے ۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو علم نہیں ‘ کہنے لگے ، اللہ ہم سے کیوں نہیں بولتا ۔ (ف 1) یا ہم کو کوئی نشان دیتا ۔ ان کے اگلوں نے بھی انہیں کی سی بات کہی تھی ، ان کے دل یکساں ہیں ، ہم نے اہل یقین کے لئے آیتیں (نشانیاں) بیان کردی ہیں ۔

(ف 1) ان آیات میں بتلایا گیا ہے کہ قریش مکہ کو معجزہ طلبی اور کرشمہ پسندی کا ایک مرض تھا ، یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح وہ یہ کہتے کہ خدا ہم سے براہ راست کیوں گفتگو نہیں کرتا اور وہ کیوں ہمیں نشان نہیں دکھلاتا ، فرمایا : (آیت) ” تشابھت قلوبھم “۔ یعنی ان نسب کی ذہنیت ایک ہی ہے ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن کی ایک ایک آیت معجزہ ہے ، رسول ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ وثانیہ اپنے اندر ایک جہان عقل وبصیرت رکھتا ہے ، بات یہ ہے کہ یقین ایمان کا ” ذوق “ ان میں نہیں رہا ۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

بیشک ہم نے تجھے حق بات دے کے خوشخبری اور ڈر سنانے کو بھیجا ہے اور دوزخیوں کی بابت تجھ سے (ف 2) سوال نہ ہوگا ۔

بشیر ونذیر رسول ﷺ : (ف 2) تمام انبیاء (علیہ السلام) کی طرح آپ ﷺ کا منصب بھی بشارت ونذار ہے ، یعنی وہ جو ان کی اطاعت کریں ، دین واخری کی خوشخبریاں اور مژدے ان کے لئے ہیں اور جو انکار ومخالفت میں پیش پیش ہیں ، دونوں جہان کی رسوائیاں انکے حصہ میں ہیں ۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور یہودی (ف 3) اور نصاری تجھ سے کبھی راضی نہ ہوں گے ، جب تک تو ان کے دین کے تابع نہ ہو ، تو کہہ کہ ہدایت وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے ، اور اگر تو علم پانے کے بعد ان کی خواہشوں کے تابع ہوگا تو اللہ کے ہاتھ سے تیرا کوئی حامی اور مددگار نہ ہوگا ۔ (ف 1) ۔

(ف 3) یعنی یہودی اور عیسائی اپنے غلط عقائد پر قانع ہیں ، چاہتے ہیں کہ آپ انکی گمراہیوں کا ساتھ دیں ، مگر یہ کیسے ممکن ہے ، آپ کا یہ منصب نہیں کہ آپ ان کے خیالات کو کوئی وقعت دیں ۔ حل لغات : جحیم : دوزخ : (ف 1) وہ جن کو کتاب دی گئی اور وہ اسے پڑھتے ہیں ، اس کے مصداق کون لوگ ہیں ؟ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے ، بعض کے خیال میں اس سے مراد مسلمان ہیں ، کیونکہ اس کے بعد فرمایا ہے کہ یہی لوگ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے بعد یہ فرمایا کہ جو شخص انکار کرے گا ‘ وخائب و خاسر رہے گا ، ظاہر ہے کہ قرآن حکیم کے سوا کوئی کتاب اس درجہ شائستہ عمل نہیں کہ اسے چھوڑ کر خسران لازمی طور پر ہو ، بعض کی رائے ہے کہ ” کتاب “ سے مراد توریت وانجیل ہے ، آیات کا سیاق وسباق یہی بتاتا ہے کہ اس صورت میں مرقومہ بالاشبہات کا جواب یہ ہوگا کہ توراۃ وانجیل گو انسانی وبشری ودستبرد سے محفوظ نہیں ، دونوں محرف ومبذل ہیں تاہم ان میں اتنی سچائیاں ضروری ہیں کہ یہودی و عیسائی فراخ دلی اور تعمق سے کام لیں تو پھر ان میں اور مسلمانوں میں زیادہ اختلاف نہ رہے اور وہ اسلام و ایمان کے زیادہ قریب ہوجائیں گے ، وجہ یہ ہے کہ قرآن اس صداقت مثقلہ اور حق مجرد کا نام ہے جس کا انکار ہر اس شخص کے لئے ناممکن ہے جسے ذرا بھی الہامی کتب سے ذوق وعقیدت ہے ، اسی وجہ سے قرآن حکیم کہتا ہے کہ اہل کتاب اگر اپنی ہی کتابوں کو بغور پڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اسلام سے دور رہیں ۔ حل لغات : ولی : دوست کلمت : جمع کلمۃ ، بات ۔