24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsروح القرآن

Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! لازم ہے کہ تمہارے مملوک (غلام اور لونڈیاں) اور تمہارے اندر کے وہ جو ابھی بلوغ کو نہیں پہنچے تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں۔ ایک، نمازِفجر سے پہلے دوسرا، دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور تیسرا، نماز عشاء کے بعد۔ یہ تین اوقات تمہاری بےپردگی کے ہیں، ان اوقات کے علاوہ وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، تم ایک دوسرے کے پاس بار بار آمدوشد رکھنے والے ہو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاذِنْـکُمُ الَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَانُـکُمْ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوْا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ط مِنْ قَـبْلِ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَحِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَکُمْ مِّنَ الظَّہِیْرَۃِ وَمِنْم بَعْدِصَلٰوۃِ الْعِشَآئِ قف ط ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّـکُمْ ط لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلاَ عَلَیْھِمْ جُنَاحٌ م بَعْدَھُنَّ ط طَوّٰفُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 58) (اے ایمان والو ! لازم ہے کہ تمہارے مملوک (غلام اور لونڈیاں) اور تمہارے اندر کے وہ جو ابھی بلوغ کو نہیں پہنچے تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں۔ ایک، نمازِفجر سے پہلے دوسرا، دوپہر کو جب تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو اور تیسرا، نماز عشاء کے بعد۔ یہ تین اوقات تمہاری بےپردگی کے ہیں، ان اوقات کے علاوہ وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، تم ایک دوسرے کے پاس بار بار آمدوشد رکھنے والے ہو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ ) توضیحی آیات، غلاموں اور بچوں کے لیے تین اوقات میں اجازت لینے کی ہدایت آیت 27 تا 31 میں آداب معاشرت، طریقِ استیذان اور گھروں میں پردے کے بارے میں جو ہدایات دی گئی تھیں ان ہدایات کے سلسلے میں وقت گزرنے کے ساتھ بعض وضاحتوں کی ضرورت محسوس کی گئی اور طبیعتوں میں ان ہدایات کے رچ بس جانے کے بعد کچھ ایسے احکام دیئے گئے جو حکمت تدریج کا نتیجہ تھے۔ ان میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ گھروں میں داخل ہونے کے وقت استیذان کی جو پابندی لگائی گئی تھی اس سے غلاموں اور نابالغ بچوں کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا، لیکن اب اس استثنیٰ پر یہ قید عائد کردی گئی کہ عام اوقات میں تو وہ پہلی ہدایت پر عمل کریں ان کے لیے استیذان کی پابندی نہیں۔ البتہ تین اوقات میں ان کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ جب گھر میں آئیں تو اہل خانہ سے اجازت طلب کریں اور پھر ان تین اوقات کا ذکر فرمایا گیا۔ ایک تو نماز فجر سے پہلے۔ کیونکہ ایک مومن کے لیے رات کی نیند اور آرام کا وقت بغیر کسی مجبوری کے اذان فجر سے ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ اذان فجر ایک مومن کے لیے فجر کی نماز کا بلاوا ہے جس پر لبیک کہنا اور نمازفجر کے لیے اٹھ جانا ایک مومن کے لیے ضروری ہے۔ البتہ کوئی معذور اور بیمار شخص عذر کی حد تک رعایت کا مستحق ہے۔ دوسرا دوپہر کا وقت جب لوگ قیلولہ کے لیے کپڑے اتارتے ہیں۔ عرب گرم ملک ہے، دوپہر سے دن ڈھلنے تک کام کرنے میں شدید دشواری پیش آتی ہے۔ اس لیے عرب اپنے مزاج اور روایت کے مطابق دوپہر کو آرام کرنے کے عادی تھے، اسی کو قیلولہ کہتے ہیں۔ مرد بھی آرام کرتے تھے اور عورتیں بھی آرام کرتی تھیں۔ میاں بیوی جب دونوں آرام کے وقت یکجا ہوں گے تو ایک تو آرام کے لیے تنہائی اور یکسوئی چاہیے اور یہ بات بھی خارج ازامکان نہیں کہ تنہائی میں میاں بیوی بےتکلفی سے ایک دوسرے سے پیش آئیں۔ نیند کے لیے عورتیں عموماً اپنے وہ کپڑے جو گھروں میں پردے کے لیے پہنے یا اوڑھے جاتے ہیں وہ اتار کے رکھ دیتی ہیں اور مرد بھی بعض دفعہ سترپوشی سے غافل ہوجاتا ہے۔ اور میاں بیوی کا بےتکلف اختلاط یقینا ستر کھل جانے کا باعث ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں گھر کے کسی ملازم یا ملازمہ یا کسی بچے کا تنہائی کی جگہ میں آنا یقینا شرم کا باعث اور ایذا کا سبب ہوسکتا ہے۔ تیسرا وقت صلوٰۃ العشاء کے بعد کا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کو شب و روز کے جو آداب سکھائے تھے اس میں یہ ادب شامل تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد ناگزیر امور کے علاوہ کسی کام یا باہمی گفتگو میں وقت صرف نہ کیا جائے اور سونے کی کوشش کی جائے تاکہ صبح جلدی اٹھنا آسان ہو۔ تہجد اور نماز بھی پڑھی جاسکے اور زندگی کے معمولات کا آغاز بھی جلدی ہوسکے۔ ویسے بھی آبادیوں میں بجلی آنے سے پہلے سرشام کاروبار کا بند ہوجانا اور عشاء کی نماز کے بعد خواب گاہوں میں چلے جانے کا معمول ہمیشہ رہا۔ بجز ان لوگوں کے جنھوں نے بیکار تفریحات میں وقت ضائع کرنا معمول بنا لیا ہو۔ چونکہ یہ وقت نیند کا ہے، اس وقت یقینا مردو زن اپنے شب خوابی کے لباس میں ہوں گے۔ اور میاں بیوی باہمی اختلاط کے لیے آزاد ہوں گے۔ ایسے وقت میں کسی کا بلا اجازت چلے آنا یقینا شرم و حیاء کے مسائل پیدا کرنے کا باعث ہوسکتا تھا۔ ان تین اوقات کے علاوہ گھروں میں رہنے والے ایک دوسرے کی خواب گاہوں اور آرام گاہوں میں آنے جانے اور ایک دوسرے کے معمولات میں شریک ہونے میں آزاد ہیں کہ وہ بغیر اذن طلب کیے آتے جاتے رہیں۔ اہلخانہ یہ بات اسلامی تعلیمات کی وجہ سے جان چکے کہ تین اوقات کے علاوہ کوئی وقت تنہائی کا نہیں، بجز اس کے کہ کسی خاص سبب کے باعث اس کی ضرورت پیش آجائے اور آنے جانے والوں کو اس پر تنبہ کردیا جائے۔ اس لیے عام اجازت دے دی گئی کہ گھروں میں رہنے اور آنے جانے والوں کو معمولاتِ زندگی میں شریک ہونے پر کوئی پابندی نہیں۔ ایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد اور عورت بلوغ سے پہلے کسی حکم کے مکلف نہیں، تو یہاں بچوں کو استیذان کا پابند کیوں کیا جارہا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ اس کے مخاطب درحقیقت بچوں کے سرپرست اور ان کے مربی ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں آداب سے آگاہ کریں اور اس کی پابندی کرائیں اور اگر اس میں کوتاہی کریں تو سرزنش کریں۔ جس طرح نماز کا حکم دینا اور اس کی پابندی کرانا والدین کی ذمہ داری ہے اور کوتاہی پر ان کی سرزنش کرنا والدین کو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔ یہاں بھی درحقیقت ان کے والدین اور مربی ہی اس حکم کے مخاطب ہیں۔ مملوکوں سے غلام اور لونڈیاں دونوں مراد ہیں آیتِ کریمہ میں مطلق مملوکوں کا ذکر آیا ہے جس میں غلام اور لونڈیاں دونوں شامل ہیں۔ لونڈی اپنے مالک سے ہر طرح کی بےتکلفی رکھتی ہے۔ تنہائی اور آرام کے وقت میں اس پر استیذان کی پابندی لگانا بظاہر عجیب سی بات ہے۔ اس خیال کے حوالے سے بعض اہل علم کو یہ گمان ہوا کہ یہاں مملوک سے مراد لونڈی نہیں بلکہ صرف غلام ہیں۔ لیکن یہ قلت فکر کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ مرد جب آرام کرنا چاہتا ہے اور بیوی اس کے پاس موجود ہے تو کسی ملازمہ یا لونڈی کو بھی ایسے وقت میں بلا اجازت اندر چلے آنا یقینا شرم و حیاء کے تقاضوں کے خلاف ہے اور کوئی مہذب اور غیرت مند آدمی کبھی اس صورتحال کو قبول نہیں کرسکتا۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد غلام اور لونڈیاں دونوں ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خیال نہ کیا جائے کہ جو استثنائی حکم اب دیا جارہا ہے اس کا علم شاید اللہ تعالیٰ کو پہلے سے نہیں تھا، ورنہ آیت 31 میں اس کا پہلے سے ذکر کردیا جاتا۔ اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی قصور نہیں لیکن اس کی حکمت بعض دفعہ تدریج کا تقاضا کرتی ہے۔ اس میں بندوں کی کمزوریوں کا لحاظ کیا جاتا ہے تاکہ ایک ہی دفعہ کے احکام ان کی طبیعتوں پر شاق نہ گزریں۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

جب تم میں سے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت طلب کریں جس طرح ان کے پہلوں نے اجازت طلب کی، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے

وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْکُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاذِنُوْا کَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِہٖ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 59) (جب تم میں سے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت طلب کریں جس طرح ان کے پہلوں نے اجازت طلب کی، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ ) آیت 31 میں جن لوگوں کو استیذان سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا بلکہ اجازت دی گئی تھی کہ ان کے سامنے اظہارِ زینت بھی ہوسکتا ہے، ان میں وہ بچے شامل تھے جو عورتوں کی خفیہ باتوں سے ابھی آگاہ نہیں ہوئے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں ان نابالغ بچوں یا عورتوں کی پس پردہ چیزوں سے آگاہ ہوجانے والوں پر استیذان کی پابندی لگا دی گئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ان سے پہلے بڑی عمر کے لوگ استیذان کے پابند تھے، اسی طرح اب یہ بھی پابند ہوں گے۔ ان کی اس عمر کے لیے جس میں ان پر یہ پابندی لگائی گئی ہے قرآن کریم نے ” حلم “ کا لفظ استعمال کیا۔ حلم بلوغ پر بھی بولا جاتا ہے اور عقل اور سمجھ پر بھی۔ اس لیے اس ناچیز کا دھیان بار بار اس طرف جاتا ہے کہ جن بچوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا وہ، وہ بچے تھے جو عورتوں کی پس پردہ چیزوں سے واقف نہیں تھے۔ لیکن پھر ایک ایسی عمر آتی ہے جو بلوغ کے قریب کی عمر ہے، لیکن بلوغ کی عمر نہیں۔ اس وقت بچے عام طور پر عورتوں کی پس پردہ باتوں سے دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ اور آج کے عریانی کے دور نے اور شرم و حیاء کے بندھن کمزور ہوجانے کے باعث اور بعض تعلیمی اداروں میں سیکس کو تعلیم کا حصہ بنا دینے نے بلوغ سے پہلے ہی بچوں کو بالغ کردیا ہے۔ یورپ میں عام سکولوں کی رپورٹیں جو بلوغ سے پہلے بچوں اور بچیوں کے بارے میں شائع ہوتی رہتی ہیں کا ذکر کرنا تو شرم کے باعث ممکن نہیں لیکن ان سے یہ بات ضرور واضح ہوجاتی ہے کہ بلوغ سے پہلے ہی باخبری کی عمر شروع ہوجاتی ہے، اس وقت ان پر استیذان کی قید عائد ہوجانی چاہیے۔ اور اس آیت کریمہ میں بلوغ کے لفظ کی بجائے حلم کا لفظ لا کر شاید اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ان دونوں آیتوں کے بعد یہ وضاحت کہ یہ آیتیں احکام کی وضاحت کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ یہ اشارہ کردینے کے لیے کافی ہیں کہ یہ توضیحی آیات ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر مبنی ہونے کی وجہ سے بندوں کی تربیت و اصلاح کے لیے جس حکمت کی ضرورت ہوتی ہے اس کی طرف اشارہ کررہی ہیں جس میں ترتیب اور تدریج تو بالکل سامنے کی باتیں ہیں، اس کے علاوہ کیا حکمتیں مضمر ہیں، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جو اب نکاح کی آرزو نہیں رکھتی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اگر وہ اپنے دوپٹے اتار دیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں، اور ان کا اس سے بھی اجتناب کرنا ان کے لیے بہتر ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآئِ الّٰتِیْ لاَ یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْھِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَھُنَّ غَیْرَمُتَبَرِّجٰتٍ م بِزِیْنَۃٍ ط وَاَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌلَّھُنَّ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں جو اب نکاح کی آرزو نہیں رکھتی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اگر وہ اپنے دوپٹے اتار دیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں، اور ان کا اس سے بھی اجتناب کرنا ان کے لیے بہتر ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ) بوڑھی عورتوں کے لیے ایک رخصت قَوَاعِدُ ، جمع ہے اس کا واحدقاعد ہے، قاعدۃ نہیں ہے۔ تاء تانیث کی اس لیے حذف کی گئی ہے تاکہ پتہ چلے کہ یہ بیٹھنا بڑھاپے کی وجہ سے ہے، شکم میں بچے کے ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اسی لیے ایسی عورت کو امراۃ حامل کہتے ہیں حاملۃ نہیں کہتے۔ قواعد سے مراد وہ عورتیں ہیں جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں اور اس سے مراد وہ عمر ہے جس میں عورت بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ ایسی عورتوں کے لیے اجازت ہے کہ وہ اپنے کپڑے اتار دیں۔ اس سے مراد جسم کے سارے کپڑے نہیں، اس لیے کہ برہنہ ہونے کی اجازت تو عمر کے کسی حصے میں بھی نہیں۔ یہ درحقیقت اسی شرط میں کمی کی جارہی ہے جس کا آیت 31 میں ذکر فرمایا گیا۔ وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ” گھروں کے اندر غیرمحرم کی موجودگی میں عورتوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی اوڑھنیوں کی اپنے سینے پر بکل مارلیا کریں۔ یعنی اپنے گریبان ڈھانک لیا کریں۔ اس حکم میں جس اوڑھنی اور دوپٹے کا ذکر کیا گیا، اسی کو پیش نظر آیت کریمہ میں اتارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کیونکہ بڑھاپے اور بڑی عمر کے باعث بعض دفعہ دوپٹے کا سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اب چونکہ وہ کسی دوسرے کے لیے فتنہ کا باعث نہیں بن سکتیں اور نہ خود کسی فتنہ میں مبتلا ہوسکتی ہیں، اس لیے انھیں مجبوری کے تحت اس کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک شرط بھی لگائی گئی ہے۔ اس کے لیے قرآن کریم کے الفاظ ہیں غَیْرَمُتَبَرِّجٰتٍ م بِزِیْنَۃٍ ” کہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ “ تبرج کے معنی اظہارِ زینت کے ہیں۔ بارج اس کھلی کشتی یا جہاز کو کہتے ہیں، جس پر چھت نہ ہو۔ اس معنی میں عورت کے لیے یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ مردوں کے سامنے اپنے حسن اور اپنی آرائش کا اظہار کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بوڑھی عورت کو چادر اتار دینے کی اجازت اس وقت ہے جب اسے اچھے کپڑے پہننے، بن ٹھن کے رہنے کا شوق ختم ہوگیا ہو، اور اس کے صنفی جذبات سرد پڑچکے ہوں۔ لیکن اگر بڑھاپے کے باوجود اپنے زیورات اور اپنی ثروت کی نمائش کا شوق ابھی تک اندر سے نہیں نکلا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک اس آگ میں چنگاریاں باقی ہیں۔ تو پھر اس کے لیے سر سے کپڑا اتارنے کی اجازت نہیں۔ اتنی احتیاطوں کے بعد بھی فرمایا کہ ایسی عمررسیدہ خواتین کے لیے بھی بہتر یہ ہے کہ استعفاف اختیار کریں، یعنی وہ اپنے دوپٹے یا اپنی چادر کو اتارنا پسند نہ کریں، یہی ان کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل ہی میں سراسر بھلائی ہے۔ ضرورت کے تحت بھی کسی جائز رعایت سے فائدہ اٹھانا اگر فتنہ کا باعث ہوسکتا ہو تو اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ ہماری آج کی خواتین جو ماشاء اللہ اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں وہ جس طرح کندھے پر دوپٹہ لٹکائے مردوں میں اٹھتی بیٹھتی اور گھومتی پھرتی ہیں اور سر پر دوپٹہ یا چادر لینا اور اپنے گریبان کو ڈھانکنا انھیں معیوب معلوم ہوتا ہے۔ کاش وہ، قرآن کریم کی ان آیات پر غور فرمائیں اور یہ کبھی نہ بھولیں کہ اللہ تعالیٰ ہرحال میں سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ نابینا پر کوئی تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی تنگی ہے کہ تم کھائو اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا جس گھر کی چابیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، تم پر کوئی حرج نہیں کہ کھائو اکٹھے ہو کر یا الگ الگ، بس یہ بات ہے کہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو

لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّلاَ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ م بُیُوْتِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اٰبَـآئِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اُمَّھٰـتِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اَخَوٰ تِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْبُیُوْتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْبُیُوْتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْبُیُوْتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْمَا مَلَکْتُمْ مَّفَا تِحَہٗٓ اَوْ صَدِیْقِکُمْ ط لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْکُلُوْا جَمِیْعًا اَوْاَشْتَاتًا ط فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدَاللّٰہِ مُبٰـرَکَۃً طَیِّبَۃً کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (النور : 61) (نہ نابینا پر کوئی تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی تنگی ہے کہ تم کھائو اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا جس گھر کی چابیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے، تم پر کوئی حرج نہیں کہ کھائو اکٹھے ہو کر یا الگ الگ، بس یہ بات ہے کہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ ) گزشتہ احکام سے متعلق بعض توضیحی ہدایات یہ آیت بھی توضیحی آیات میں سے ہے۔ گزشتہ آیات میں گھروں میں داخل ہونے اور گھر کے اندر نامحروموں کے سامنے پردے وغیرہ کے جو احکام دیئے گئے اور بعض پابندیاں عائد کی گئیں اس سے صحابہ کرام ( رض) میں مختلف احساسات نے جنم لیا۔ ایک احساس تو یہ تھا کہ اسلام شاید سوشل آزادیوں کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ اسے یہ بات پسند نہیں کہ اپنے عزیزوں، قریبوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں کوئی شخص آزادی اور بےتکلفی سے آئے جائے۔ چناچہ اس احساس کے تحت لوگوں نے ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا کم کردیا اور بہت سے معذور اور نادار لوگ جو اپنی مجبوری کے باعث اپنے خوشحال عزیزوں کے یہاں پڑے رہتے تھے انھوں نے محسوس کیا کہ اب ہمیں اپنے رویئے میں تبدیلی کرنا ہوگی اور اہل خانہ نے بھی محسوس کیا۔ اہل عرب چونکہ جاہلیت کے زمانے میں غیرمحدود آزادی اور بےقید زندگی کے عادی تھے اس لیے انھیں ان پابندیوں کو قبول کرنا آسان نہ تھا۔ لیکن اسلام سے گہری محبت نے انھیں نہ صرف اس بات پر آمادہ کیا بلکہ بعض احساسات کو بھی پیدا کیا جن میں سے ایک احساس یہ تھا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ چناچہ اس کے ازالے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ نازل ہوئی۔ آیت کی تفسیر میں مختلف آراء اور ان میں تطبیق بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ اسلام نے اپنی تعلیمات میں چونکہ حقوق العباد کی رعایت پر بہت زور دیا ہے اور ساتھ ہی حلال رزق کے حوالے سے بہت تاکید کی ہے اور یہاں تک فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے مت کھائو۔ تو صحابہ کرام ( رض) جو اسلامی تعلیمات سے گہرا اثر قبول کرچکے تھے۔ ایک دوسرے کے مال کھانے کے بارے میں سخت احتیاط برتنے لگے اور حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی تمیز کے معاملے میں ان کی حِس انتہائی نازک ہوگئی۔ چناچہ اس خیال سے انھوں نے اپنے قریبی عزیزوں کے یہاں آنے جانے میں بھی کمی کردی اور اگر کبھی جاتے تو اس وقت تک کسی چیز کے کھانے سے گریز کرتے تھے جب تک نہایت قانونی پابندیوں کے ساتھ انھیں اس کی اجازت کا یقین نہیں ہوجاتا تھا۔ چناچہ اسی حوالے سے امام بغوی نے حضرت سعید بن جبیر اور ضحاک جیسے آئمہ تفسیر سے نقل کیا ہے کہ دنیا کا معمول یہ ہے کہ وہ عام طور پر معذور لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے سے گھن کرتے ہیں۔ چناچہ صحابہ کرام ( رض) میں جو لوگ معذور تھے یعنی کوئی لنگڑا تھا، بیمار تھا یا اندھا تھا اس نے محسوس کیا کہ میں اگر کسی صحت مند آدمی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائوں گا تو معمول کے تنفر کے باعث اسے یقینا مجھ سے تکلیف ہوگی۔ اس لیے مجھے تندرست آدمیوں کے ساتھ کھانا کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور بعض معذور لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ جب چند آدمی آپس میں مل کر کھانا کھاتے ہیں تو عدل و مروت کا تقاضا یہ ہے کہ کھانے میں شریک کوئی فرد دوسرے سے زیادہ نہ کھائے کیونکہ کھانے میں حصہ سب کا برابر ہوتا ہے۔ نابینا آدمی کو اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا کہ میں نے دوسروں سے کم کھایا ہے یا زیادہ۔ ہوسکتا ہے وہ زیادہ کھالے۔ لنگڑے نے محسوس کیا کہ میں عام تندرست لوگوں کی طرح بیٹھ نہیں سکتا، میں بیٹھنے میں دو آدمیوں کی جگہ گھیر لیتا ہوں، کھانے میں دوسروں کے ساتھ بیٹھوں گا تو ممکن ہے انھیں تنگی اور تکلیف پیش آئے۔ اس لیے بہتر ہے کہ دوسروں کے ساتھ کھانے میں شریک ہونے سے احتیاط کی جائے حضرت سعید بن مسیب ( رض) کہتے ہیں کہ مسلمان جب کسی جہاد یا غزوہ کے لیے جاتے تو اپنے گھروں کی کنجیاں ان معذوروں کے سپرد کردیتے تھے اور یہ کہہ دیتے تھے کہ گھر میں جو کچھ ہے وہ تم لوگ کھا پی سکتے ہو۔ مگر یہ لوگ اس احتیاط کی بنا پر ان کے گھروں سے کچھ نہ کھاتے تھے کہ شاید ان کی منشاء کی پابندی نہ ہوسکے۔ دوستوں کے گھروں سے کھانا ہمیشہ لوگوں میں مروج رہا ہے لیکن مسلمان اس گہرے احساس کے باعث اس میں بھی احتیاط برتنے لگے۔ حارث بن عمرو کسی جہاد میں جاتے ہوئے اپنے دوست مالک بن زید کو اپنے گھر اور گھر والوں کی نگرانی سپرد کرگئے۔ جب حارث واپس آئے تو دیکھا کہ مالک بن زید بہت کمزور ہورہے ہیں۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے دوست کی غیرحاضری میں کچھ کھانا مناسب نہیں سمجھا اس لیے مسلسل فاقوں نے ان کو کمزور کردیا۔ چناچہ ان تمام احساسات کی اصلاح کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ علامہ قرطبی کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کا ایک حصہ وَلاَ عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ پر ختم ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص نابینا، لنگڑا اور بیمار ہو تو اس پر ایسے افعال کا ادا کرنا ضروری نہیں جس سے اسے تکلیف ہوتی ہو۔ اس لیے جمعہ جہاد وغیرہ سے یہ لوگ مستثنیٰ قرار دیئے گئے۔ آیت کا دوسرا حصہولاَ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ سے شروع ہوتا ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ وہ رشتہ دار یا احباب جن سے ایسی بےتکلفی ہو کہ اگر ان کے ہاں سے کھایا جائے تو ان کے لیے فرحت اور عزت کا موجب ہو۔ تو ایسے قریبی رشتہ داروں اور بےتکلف دوستوں کے ہاں سے کھا لینا مباح ہے۔ لیکن اگر وہ رشتہ دار یا دوست اس چیز کو ناپسند کریں تو پھر بلا اجازت ان کے ہاں سے کچھ کھانا درست نہیں۔ جیسے متعدد احادیث سے واضح ہے۔ یہ لکھنے کے بعد علامہ قرطبی فرماتے ہیں فھٰذا معنی صحیح وتفسیربین مفیدیعضدہ الشرع والعقل ” یعنی آیت کا یہی معنی صحیح ہے اور آیت کی یہ تفسیر واضح اور مفید ہے، شریعت اور عقل دونوں اس کی تائید کرتے ہیں۔ “ قرابتداروں اور احباب کے گھروں سے کھانے کا ذکر کرنے سے پہلے اپنے گھروں سے کھانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ بات ذہن نشین کرنا ہے کہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے گھر کھانا بھی ایسا ہی ہے جیسے اپنے ہاں کھانا۔ ہم نے آیت کی تفسیر میں جو مختلف آراء ذکر کی ہیں ان میں باہمی کوئی تضاد نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ ( رض) میں ایسے تمام احساسات پیدا ہوئے جو ان کے تقویٰ اور تدین پر دلالت کرتے ہیں اور ان کے اس احساس کی غمازی کرتے ہیں جو قرآنی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کے فیضِ تربیت نے ان کے دلوں میں پیدا کردیا تھا۔ یہ آیت ان احساسات کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی جس کا حاصل صرف یہ ہے کہ بعض احتیاطی پابندیوں کے عائد کرنے سے نہ تو یہ مقصود ہے کہ اندھے لنگڑے اور مریض اپنے تعلق کے لوگوں کے سہارے سے محروم ہوجائیں اور نہ یہ مطلب ہے کہ اعزہ و اقرباء اور دوستوں کے ساتھ معاشرتی روابط منقطع ہوجائیں۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے میل جول رکھنا چاہیے، انفرادی اور اجتماعی تقریبات منعقد ہونی چاہئیں۔ البتہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں داخل ہوں تو سلام کرکے داخل ہوں اور گھروں کے اندر جو لوگ بیٹھے ہوں، انھیں بھی سلام کہیں۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مبارک اور پاکیزہ تحیت اور سلام کا طریقہ بھی ہے اور دعا بھی۔ اس سے باہمی تعلقات کی خوشگواری میں اضافہ ہوتا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ تم اکٹھے بیٹھ کر کھائو یا الگ الگ، کوئی حرج کی بات نہیں۔ معلوم ہوتا ہے اس سے عربوں میں بعض معمولات کی اصلاح مقصود ہے۔ بعض قبیلوں کی تہذیب یہ تھی کہ وہ لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھانا معیوب سمجھتے تھے اور ہندوئوں کی طرح ہر شخص اپنی الگ کٹوری لے کر بیٹھتا اور کھانا کھاتا تھا۔ لیکن بعض قبیلے ایسے تھے جو تنہا کھانے کو خلاف مروت سمجھتے تھے۔ سفر میں بھی ہوتے تو کسی مہمان کو تلاش کرتے تاکہ اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔ قرآن کریم نے ان دونوں میں اعتدال پیدا کرنے کی ترغیب دی کہ نہ تنہا کھانا کوئی فضیلت کی بات ہے اور نہ کسی مہمان کے ساتھ بیٹھنا فرض اور واجب ہے۔ جس طرح کی صورتحال ہو اس کے مطابق طریقہ اختیار کرنا اسلام کا تقاضا ہے۔ مہمانوں کی موجودگی میں الگ بیٹھنا یقینا معیوب ہے۔ اور کوئی مہمان نہ ہو تو کھانا چھوڑ دینا بھی برا ہے۔ اس لیے اصل چیز احساس کی اصلاح ہے جس کی یہاں فکر کی گئی ہے۔ آخری جملے میں ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو چونکہ ان پابندیوں کی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئی ہیں جو یقینا نارسائیِ فکر کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے تمہیں ان پابندیوں پر غور و فکر کرنا چاہیے تم خود محسوس کرو گے کہ معاشرتی ہمواری اور اصلاح کے لیے اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی موقع کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس وقت تک وہاں سے نہیں جاتے جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنی کسی ضرورت سے اجازت مانگیں تو جسے آپ چاہیں اجازت دے دیا کریں، اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کریں، بیشک اللہ غفورورحیم ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍجَامِعٍ لَّمْ یَذْھَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ ج فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمُ اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (النور : 62) (مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی موقع کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس وقت تک وہاں سے نہیں جاتے جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنی کسی ضرورت سے اجازت مانگیں تو جسے آپ چاہیں اجازت دے دیا کریں، اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کریں، بیشک اللہ غفورورحیم ہے۔ ) منافقین کو تنبیہ سورة النور کے نزول کا بظاہر سبب منافقین کا اٹھایا ہوا وہ فتنہ تھا جو واقعہ افک کے نام سے معروف ہے۔ چناچہ اس سورة میں پروردگار نے جس طرح اخلاقی اصلاح کے لیے قانونی احکام دیئے ہیں، اسی طرح ایسے ہدایات بھی جاری فرمائیں جس سے منافقین کی اصلاح بھی پیش نظر رہی اور ایمان کے مقابلے میں نفاق کے نقصانات کا بھی ذکر ہوا اور بعض پہلوئوں سے منافقین کو تنبیہ بھی کی گئی۔ اس تمام تفصیل سے یہ بات اچھی طرح مبرہن ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی نظم چاہے اس کا تعلق نظریئے سے ہو، معاشرت سے ہو یا سیاست و ریاست سے ہو اس وقت تک مستحکم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں نظریاتی منافقین موجود ہوں۔ چناچہ اس حقیقت کے پیش نظر سورة کو ختم کرتے ہوئے پروردگار نے منافقت کی مذمت فرمائی اور حقیقی ایمان اور سچے مومنوں کی حقیقت واشگاف فرمائی۔ ہمارے آئمہ تفسیر کہتے ہیں کہ یہ آیت غزوہ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی جبکہ کافر عرب کی متحدہ طاقت نے مسلمانوں کی نوزائیدہ مملکت اور مرکز اسلام کو ختم کرنے کے ارادے سے مدینہ منورہ پر حملہ کیا۔ مسلمانوں کے پاس افرادی قوت بہت محدود اور حملہ آور بہت بڑی تعداد میں تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس حملے سے بچائو اور مدینے کے دفاع کے لیے خندق کھودنے کا حکم دیا۔ امر جامع سے مراد امرِجامع سے مراد ہر وہ کام ہے جس کے لیے آنحضرت ﷺ مسلمانوں کو جمع ہونے کا حکم ارشاد فرمائیں اور آپ کے بعد ہر اسلامی حکومت کا امیر جس کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا ہونے اور مل کر کام کرنے کا حکم دے۔ لیکن یہاں امرجامع سے مراد غزوہ احزاب میں خندق کھودنے کا کام تھا۔ اس موقع پر منافقین کا طرزعمل یہ تھا کہ وہ مختلف طریقوں اور بہانوں سے آنحضرت ﷺ سے رخصت حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ اور بیہقی اور ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ایسے لوگ بھی تھے جو اولاً تو آنے میں سستی کرتے اور اگر آجاتے تو معمولی سا کام دکھانے کے لیے کرتے اور پھر چپکے سے غائب ہوجاتے تھے جبکہ مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ صبح سے لے کر شام تک اس کام میں مصروف رہتے اور آنحضرت ﷺ بھی بڑھ چڑھ کر اس کام میں ہاتھ بٹاتے۔ مسلمانوں کو کیسی ہی ضرورت پیش آتی، وہ کبھی آنحضرت ﷺ سے جانے کی اجازت طلب نہیں کرتے تھے۔ چناچہ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے آسانی سے اس آیت کریمہ کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقی مومن وہ ہیں جو کسی بھی اجتماعی کام میں اللہ تعالیٰ کے رسول کی اجازت کے بغیر جانے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ اور کبھی شدید ضرورت پیش آجائے آپ ﷺ سے اجازت لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ مزید ارشاد فرمایا کہ جو لوگ جانے کے لیے آپ ﷺ کی اجازت کو لازمی سمجھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہیں۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عام مجلس میں اجازت لے کر جانے کی پابندی نہیں تھی۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بعض صحابہ کرام ( رض) بدوں اجازت مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور آپ ( رض) نے کبھی ناخوشی کا اظہار نہیں فرمایا۔ یہ الگ بات ہے کہ صحابہ حتی الامکان دین سیکھنے کی اہمیت کے پیش نظر آپ ﷺ کے گرد ہجوم کیے رہتے تھے۔ لیکن استیذان کی بہرحال پابندی نہیں تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں عام مجلس کی بات نہیں ہورہی بلکہ اس سے مراد وہ موقع ہے جب کسی امرجامع یعنی اجتماعی کام کے لیے آنحضرت ﷺ حاضری کا حکم دیں تو اس میں اس وقت تک حاضری ضروری تھی جب تک وہ کام ختم نہ ہوجاتا اور آنحضرت ﷺ جانے کی اجازت نہ دے دیتے۔ یہ بات بھی جاننا ضروری ہے اور میں نے پہلے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیات میں سے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہر امام و امیر جس کے قبضے میں زمام حکومت ہو، وہ جب کسی امرجامع کے لیے جمع ہونے کا حکم دے تو اس کی تعمیل واجب اور بغیر اجازت واپس جانا ناجائز ہے۔ (قرطبی، مظہری) البتہ یہ بات واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس کے لیے یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔ اور اس کی مخالفت کفر اور بدبختی ہے۔ آیتِ کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے خطاب کرکے مزید ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص آپ ﷺ سے اپنی کوئی ضرورت بتا کر جانے کی اجازت طلب کرے تو آپ ﷺ کو اختیار ہے کہ اگر آپ ﷺ اس کی ضرورت کی اہمیت کو محسوس کریں تو اسے اجازت دے دیں۔ اور اگر آپ ﷺ نہ چاہیں تو اجازت نہ دیں۔ البتہ جسے آپ ﷺ اجازت دیں اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں۔ کیونکہ ذاتی ضرورت کو اجتماعی کام پر ترجیح دینا بہرحال ایک کمزوری ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ ہوسکتا ہے اجازت لینے والے کے دل میں اس درجے کا اخلاص نہ ہو جو حقیقی ایمان کے لیے ضروری ہے۔ یہ دونوں چیزیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہ ہیں اس لیے آپ ﷺ اس کی مغفرت کی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ غفورور حیم ہے وہ آپ ﷺ کی دعا سے اس کی کمزوریوں کو معاف فرمائے گا اور ہوسکتا ہے کہ اسے ایسی استقامت عطا فرمائے جس کی وجہ سے دوبارہ ایسی کمزوری کا ظہور نہ ہوسکے۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھو، اللہ تم میں سے ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک دردناک عذاب آپکڑے

لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآئَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَـآئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ج فَلْیَحْذَرِالَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِـتْـنَۃٌ اَوْیُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (النور : 63) (اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھو، اللہ تم میں سے ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک دردناک عذاب آپکڑے۔ ) دعاء الرسول سے مراد اور اس کی اہمیت اجتماعی امر میں آنحضرت ﷺ کے حکم کی اہمیت کو بیان کرنے کے بعد اب عام معمول کی زندگی اور آپ ﷺ کی عام مجالس میں آپ ﷺ کے حکم کی اہمیت کو بیان فرمایا جارہا ہے۔ سب سے پہلی بات جو فرمائی گئی ہے اگرچہ اس کے الفاظ عام ہیں لیکن قرینہ دلیل ہے کہ کلام کا رخ منافقین ہی کی طرف ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے بلاوے کو اس طرح نہ سمجھو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ یہاں بلاوے کے لیے دعا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے تین معنی ہوسکتے ہیں اور اس آیت میں تینوں ہی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ 1 دعاء الرسول سے مراد، رسول اللہ ﷺ کا لوگوں کو بلانا ہے۔ اس سورة میں اضافت الی الفاعل ہوگی اور مفہوم یہ ہوگا کہ آنحضرت ﷺ جب تمہیں بلائیں تو اس کو اس طرح نہ سمجھنا جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ کہ جس کو بلایا جاتا ہے اسے اختیار ہوتا ہے چاہے وہ آئے نہ آئے۔ بلانے پر نہ اس کا آنا فرض ہوتا ہے اور نہ جانے کے لیے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کا بلانا اس سے بالکل مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ آپ ﷺ کے بلانے پر لبیک کہنا، اس کی فوری تعمیل کرنا فرض اور واجب ہے اور اس میں تساہل کرنا فسق ہے اور اس کا انکار کرنا کفر ہے۔ حضرت ابی ابن کعب ( رض) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص نماز میں مشغول ہو اور حضور ﷺ اسے بلائیں تو نماز توڑنا ضروری ہوجاتا ہے۔ 2 اور دوسرا اس کا معنی ہے رسول کو پکارنا اور بلانا۔ اس صورت میں اضافت الی المفعول ہوگی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے ابن کثیر اور قرطبی نے یہی نقل کیا ہے۔ اس تفسیر کی بنا پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم جب رسول اللہ ﷺ کو پکارو یا بلائو یا مخاطب کرو تو عام لوگوں کی طرح آپ ﷺ کا نام لے کر یا محمد ﷺ نہ کہو، یہ بےادبی ہے۔ بلکہ تعظیمی القاب کے ساتھ یارسول اللہ، یا نبی اللہ وغیرہ الفاظ سے آپ ﷺ کو پکارا جائے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر مسلمانوں پر واجب ہے۔ اور ایسی ہر چیز جو آپ ﷺ کو تکلیف دیتی اور ادب کے خلاف ہو اس کا ارتکاب حرام ہے۔ سورة الحجرات میں حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے آواز کو پست رکھو۔ جس طرح آپس میں بےتکلفی سے باتیں کرتے ہو، آنحضرت ﷺ سے مت کرو۔ آپ ﷺ اگر گھر میں تشریف رکھتے ہوں تو باہر سے آواز دے کر مت بلائو۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ آج کل بعض شعراء نے اپنے اشعار میں یا محمد ﷺ کا استعمال عام کردیا ہے اور بعض جاہل محبت کے جوش میں آپ ﷺ کو یا محمد ﷺ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اور اسے اظہارِ عشق سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ 3 دعا کو دعاہی کے معنوں میں لیا جائے۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعا کو عام آدمیوں کی سی دعا نہ سمجھو۔ اگر وہ خوش ہو کر کسی کو دعا دیتے ہیں تو اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ اور اگر وہ ناراض ہو کر بددعا دیتے ہیں تو اس سے بڑھ کر بدنصیبی کوئی نہیں۔ یہ تینوں مفہوم اپنے اپنے محل کے لحاظ سے یقینا صحیح ہیں۔ اور بعض حوالوں سے ان میں سے ہر ایک مطلب مراد لیا جاسکتا ہے۔ لیکن سیاق کلام کا جہاں تک تقاضا ہے پہلا مفہوم اس سے زیادہ میل کھاتا ہے۔ اس کے بعد منافقین کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کے بلانے اور آپ ﷺ کے حکم کو اپنے نفاق کے باعث وہ اہمیت نہیں دی جو اس کی شان کا تقاضا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اجتماعی کاموں میں بھی آنحضرت ﷺ کے دکھانے کے لیے وقتی طور پر حاضر ہوجاتے ہو اور پھر ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے وہاں سے کھسک جاتے ہو۔ اور تم یہ سمجھتے ہو کہ آنحضرت ﷺ نے چونکہ دیکھا نہیں، اس لیے تمہاری اس حرکت سے کوئی واقف بھی نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات مخفی نہیں۔ وہ تو تمہاری ہر حرکت سے واقف ہے اور وہ جانتا ہے جس طرح تم وہاں سے کھسکتے ہو۔ تَسَلَّلَ … کے معنی چل دینے اور چپکے سے کھسک جانے کے ہیں۔ لِوَاذًا … کے معنی ایک دوسرے کی آڑ اور پناہ لیتے ہوئے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ یہ حرکتیں کرتے اور اجتماعی مواقع سے کھسک جاتے ہیں یا کسی اور مخفی طریقے سے آنحضرت ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ علانیہ اور کھلم کھلا آنحضرت ﷺ کی مخالفت کرنا منافقین کے لیے ممکن نہ تھا۔ وہ سامنے ہمیشہ امنا و صدقنا کہتے تھے لیکن درپردہ منافق ہونے کی وجہ سے ان کا رویہ مخالفانہ ہوتا تھا۔ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ انھیں کسی فتنے میں مبتلا کردے اور یا دردناک عذاب ان پر بھیج دے۔ حضرت امام جعفر صادق ( رض) نے فتنے کا مطلب ظالموں کا تسلط لیا ہے، یعنی اگر مسلمان آنحضرت ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کریں گے تو اندیشہ ہے کہ ان پر ظالم و جابر حکمران مسلط کردیئے جائیں۔ بعض اہل علم کے نزدیک فتنہ سے مراد بیشمار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ مثلاً آپس کے تفرقے اور خانہ جنگیاں، اخلاقی زوال، نظام جماعت میں پراگندگی، داخلی انتشار، سیاسی اور مادی طاقت کے ٹوٹ جانے کے باعث بےوقار ہوجانا، ریاست کی سالمیت کا خطرے میں پڑجانا وغیرہ۔ اور جہاں تک عذاب کا تعلق ہے، قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے، یا تمہارے پائوں کے نیچے سے، اور یا تمہارے اندر خانہ جنگی برپا کردے۔ آج ہم اپنے انتشار، بدنظمی اور اسلام سے انحراف کے باعث ایسی ہی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

خبردار ! اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، تم جس حال پر ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے اور جس دن یہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انھیں ان کے کرتوتوں سے باخبر کرے گا اور اللہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے

اَ لَآاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قَدْیَعْلَمُ مَـآ اَنْـتُمْ عَلَیْہِ ط وَیَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْہِ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا عَمِلُوْا ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (النور : 64) (خبردار ! اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، تم جس حال پر ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے اور جس دن یہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انھیں ان کے کرتوتوں سے باخبر کرے گا اور اللہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔ ) روئے سخن چونکہ گزشتہ آیات میں بھی منافقین کی طرف رہا ہے اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ یہ منافقین ہی کو اس سورة میں آخری تنبیہ کی جارہی ہے، اور تنبیہ کے تیور بہت تیکھے ہیں۔ انھیں سب سے پہلے خبردار کیا گیا ہے کہ تم نے آج تک جس طرح آنحضرت ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو غیرسنجیدہ انداز میں لیا ہے اس سے تمہیں رک جانا چاہیے۔ اور جن قوتوں کے بھروسے پر تم نے بہت سے فتنے اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ قوتیں فریبِ نظر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ زمین و آسمان میں اصل حکومت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے اور تمہیں یہ بھی غلط فہمی ہے کہ تم درپردہ جو کچھ کرتے ہو اسے کوئی جاننے والا نہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم جس حال میں رہے ہو اور تم نے آج تک جو کچھ کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہر بات اور ہر چیز سے واقف ہے اور وہ تمہارے مخفی ارادوں کو بھی جانتا ہے۔ تنبیہ کی قوت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ان سے منہ پھیرتے ہوئے بےالتفاتی کو بھی اس میں شامل فرما دیا اور یہ تأثر دیا کہ تم سے براہ راست خطاب تمہاری بھلائی کے لیے تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تم اس عزت افزائی کے لائق نہیں ہو۔ اس لیے ان سے منہ پھیر کر فرمایا کہ جس دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے اور اس کے حضور ان کی پیشی ہوگی اس روز انھیں ان کے ایک ایک عمل سے آگاہ کیا جائے گا۔ جس سے انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم جو کاررائیاں ہزار پردوں میں چھپ کر کرتے رہے ہیں آج وہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور اس کا انجام بھی ہمیں نظر آرہا ہے۔ تب تمہیں یقین آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر تھا اور باخبر ہے۔ لیکن اس وقت یہ علم اور یقین تمہارے کام نہیں آئے گا کیونکہ اب چڑیاں کھیت چگ چکی ہوں گی اور تم دارالعمل سے دارالجزاء میں پہنچ کر جزاء کا سامنا کررہے ہو گے۔ شاعر نے شاید اسی تأثر کو نمایاں کرتے ہوئے کہا تھا : قریب ہے یارو روز محشر، چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا