24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsروح القرآن

Ayahs 24:36–38

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ وہ تعمیر (اور بلند) کیے جائیں اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے ان میں تسبیح کرتے ہیں صبح اور شام

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ایسے لوگ جن کو کاروبار اور خریدوفروخت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے بھی (غافل نہیں کرتے) وہ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے اور ان کو اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب عطا فرماتا ہے

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَفِیْھَا اسْمُہٗ لا یُسَبِّحُ لَـہٗ فِیْھَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔ رِجَالٌ لا لاَّ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِیْتَـآئِ الزَّکٰوۃِ ص لا یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ۔ لِیَجْزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا وَیَزِیْدَ ھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَـآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (النور : 63، 37، 38) (اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جن کی نسبت خدا نے حکم دیا ہے کہ وہ تعمیر (اور بلند) کیے جائیں اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے ان میں تسبیح کرتے ہیں صبح اور شام۔ ایسے لوگ جن کو کاروبار اور خریدوفروخت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے بھی (غافل نہیں کرتے) وہ ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں۔ تاکہ اللہ ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے اور ان کو اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب عطا فرماتا ہے۔ ) سابقہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قلب مومن میں اپنا نورہدایت ڈال دینے کی ایک خاص مثال بیان فرمائی ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان مومنین کا محل اور مستقر بیان کیا گیا ہے جہاں وہ اکثر پائے جاتے ہیں۔ فِیْ بُیُوْتٍکا محل اور مفہوم فِیْ بُیُوْتٍکی نحوی ترکیب میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک بُیُوْتٍ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مساجد اور اس کے معابد ہیں۔ ان کے نزدیک تالیفِ کلام یہ ہے کہ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰہُ … الایۃ۔ علامہ زمحشری نے اسی قول کو ترجیح دی۔ وہ اس کا تعلق مشکوٰۃ سے جوڑتے ہیں۔ بعض حضرات نے اس کا تعلق لفظ یُسَبِّحُ محذوف کے ساتھ کیا ہے، جس پر آگے آنے والا لفظ ایُسَبِّحُ دلالت کرتا ہے۔ اکثر آئمہ تفسیر نے جن میں ابن کثیر بھی شامل ہیں آیت کے اس جملے کا تعلق یَھْدِیْ اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ کے ساتھ کیا ہے۔ نسقِ کلام کے اعتبار سے یہی بہتر معلوم ہوتا ہے یعنی سابق آیت میں اللہ تعالیٰ کے جس نور ِہدایت کا ذکر ہوا ہے اس کے ملنے کی جگہ وہ بیوت و مکانات ہیں جہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان بیوت سے مراد کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے مراد اہل ایمان کے گھر لیے ہیں اور انھیں بلند کرنے کا مطلب ان کے نزدیک انھیں اخلاقی حیثیت سے بلند کرنا ہے۔ اگر یہ مراد لیا جائے تو اس میں بھی کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی، لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک ان بیوت سے مراد مساجد ہیں۔ قرطبی نے اسی کو ترجیح دی ہے اور استدلال میں حضرت انس ( رض) کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من احب اللہ عزّوجل فلیحبّنی ومن احبّنی فلیحبّ اصحابی و من احبّ اصحابی فلیحبّ القراٰن ومن احبّ القراٰن فلیحب المساجد فانھا افنیۃ اللہ اذن اللہ فی رفعھا وبارک فیھا میمونۃ میمون اھلھا محفوظۃ محفوظا اھلھا ھم فی صلاتھم واللہ عزّوجلّ فی حوائجھم ھم فی المساجد واللہ من ورائھم (قرطبی) جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ مجھ سے محبت کرے اور جو مجھ سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہیے کہ میرے صحابہ سے محبت کرے۔ اور جو صحابہ سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہیے کہ قرآن سے محبت کرے۔ اور جو قرآن سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہیے کہ مسجدوں سے محبت کرے کیونکہ وہ اللہ کے گھر ہیں، اللہ نے ان کی تعظیم کا حکم دیا ہے اور ان میں برکت رکھی ہے۔ وہ بھی بابرکت ہیں اور ان کے رہنے والے بھی بابرکت ہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے رہنے والے بھی حفاظت میں ہیں۔ وہ لوگ اپنی نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام بناتے اور حاجتیں پوری کرتے ہیں۔ وہ مسجدوں میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پیچھے ان کی چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (قرطبی) اَذِنَ کا مفہوم اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ … اَذِنَ ، اِذْن سے مشتق ہے جس کے معنی اجازت دینے کے ہیں، لیکن علمائِ تفسیر کا اتفاق ہے کہ اس جگہ اذن امر اور حکم کے معنی میں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہاں اذن امر اور حکم کے معنی میں ہے تو امر ہی کا لفظ لایا جاتا، اذن کا لفظ کیوں لایا گیا۔ روح المعانی میں اس کی ایک لطیف مصلحت بیان کی گئی ہے کہ اس میں مومنین صالحین کو اس ادب کی تعلیم و ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی حاصل کرنے کے ہر کام کے لیے ایسے مستعد اور تیار رہیں کہ حکم کی ضرورت نہ پڑے۔ صرف اس بات کے منتظر ہوں کہ کب ہمیں اس کام کی اجازت ملے اور ہم یہ سعادت حاصل کریں۔ رََفَعَ کا مفہوم تُرْفَعَ … رَفَعَ سے مشتق ہے، جس کے معنی بلند کرنے اور تعظیم کرنے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) کے نزدیک بلند کرنے سے مراد ان کی تعظیم کرنا ہے۔ اور انھیں ہر لغو کام اور لغو کلام سے محفوظ رکھنا ہے۔ (ابنِ کثیر) عکرمہ اور مجاہد ارشاد فرماتے ہیں کہ رفع سے مراد مسجد کا بنانا ہے۔ اور قرآن کریم سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ واذیرفع ابراھیم القواعد من البیت ” اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی بنیادیں تعمیر کررہے تھے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ رفع کے مفہوم میں تعمیر اور تعظیم دونوں شامل ہیں۔ کیونکہ اسلام نے مساجد کے بارے میں دونوں باتوں کا حکم دیا ہے کہ مساجد تعمیر بھی کی جائیں اور پھر انھیں پاک و صاف رکھا جائے اور ان کا احترام بجالایا جائے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ مسجد میں جب کوئی نجاست لائی جائے تو مسجد اس سے اس طرح سمٹتی ہے جیسے انسان کی کھال آگ سے سمٹتی ہے۔ تعظیم و تکریم اور پاک صاف رکھنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اسے ہر بدبو سے بچایا جائے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے لہسن یا پیاز کھا کر منہ صاف کیے بغیر مسجد میں آنے سے منع فرمایا۔ سگریٹ، حقہ، پان کا تمباکو کھا کر مسجد میں جانا بھی اسی حکم میں شامل ہے۔ مسجد میں مٹی کا تیل جلانا بدبو کی وجہ سے وہ بھی ناجائز ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت فاروق اعظم ( رض) سے روایت ہے۔ فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس شخص کے منہ سے لہسن یا پیاز کی بدبو محسوس فرماتے تھے اس کو مسجد سے نکال کر بقیع میں بھیج دیتے تھے اور فرماتے تھے جسے لہسن یا پیاز کھانا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے خوب اچھی طرح پکا کر اور اس کی بدبو مار کر کھائے۔ فقہائے کرام کہتے ہیں جس شخص کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ اس کے پاس کھڑے ہونے والوں کو اس سے تکلیف پہنچے اس کو مسجد سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس کو خود چاہیے کہ جب تک ایسی بیماری ہے، نماز گھر میں پڑھے۔ تعمیر مساجد میں اعتدال کا رویہ بعض حضرات نے تعمیر مساجد میں ظاہری شان و شوکت اور تعمیری بلندی کو بھی داخل قرار دیا ہے اور استدلال کیا ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر حضرت عثمان غنی ( رض) نے ساگوان یا سال کی لکڑی سے کرائی تھی اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ( رض) نے مسجد نبوی میں نقش و نگار اور تعمیری خوبصورتی کا اہتمام فرمایا تھا اور یہ زمانہ کبار صحابہ کا تھا۔ کسی نے ان کے اس فعل پر انکار نہیں کیا۔ اور بعد کے بادشاہوں نے تو مسجدوں کی تعمیرات میں تزئین و آرائش کے حوالے سے بہت اموال خرچ کیے۔ ولید بن عبدالملک نے اپنے زمانہ خلافت میں دمشق کی جامع مسجد کی تعمیر و تزئین پر ملک شام کی سالانہ آمدنی سے تین گنا زیادہ مال خرچ کیا تھا۔ ان کی بنائی ہوئی یہ مسجد آج تک قائم ہے۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اگر نام و نمود اور شہرت کے لیے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعظیم کی نیت سے کوئی شخص مسجد کی تعمیر نہایت بلندو مستحکم اور نہایت خوبصورت کرتا ہے تو کوئی ممانعت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں افراط وتفریط ہورہی ہے۔ بعض لوگ اپنے مکانات کی تزئین و آرائش میں نہایت اہتمام کرتے ہیں اور اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے لیکن مسجدوں کو سادہ رکھنے پر زور دیتے ہیں اور بعض لوگ مسجدوں کی تزئین و آرائش پر اس حد تک زور دیتے ہیں کہ مسجد ایک اعجوبہ بن کر رہ جاتی ہے۔ علمائے کرام نے ایسی مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ قرار دیا ہے جس کی تزئین و آرائش نمازی کی توجہ بار بار اپنی طرف کھینچتی ہو کیونکہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر و تسبیح کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اگر کسی وجہ سے اس میں کمی آتی ہو اور یا اس سے ہٹ کر تزئین و آرائش کو مقصود بنا لیا جائے تو یہ بات یقینا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ جس معاشرے میں سربفلک عمارتیں کھڑی ہوں اور ایک سے ایک بہتر مکان موجود ہو، وہاں مساجد کا پرانی سادگی پر رہنا ان کے مقام و مرتبہ کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح ذکر و عبادت کو نظرانداز کرکے ضرورت سے زیادہ مساجد کی تزئین و آرائش پر زور دینا مساجد کے اصل مقصد کو فنا کردیتا ہے۔ ان دونوں باتوں میں توازن ضروری ہے۔ اقبال نے شاید اسی کو محسوس کرتے ہوئے پروردگار کی طرف سے یہ بات کہی : میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو اور شاید اسی کوتاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب تم بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اللہ تعالیٰ کے گھروں کو بہت خوبصورت بنائو گے، لیکن اس میں ذکر و عبادت میں روزبروز کمی ہوتی جائے گی اور آج سارے عالم اسلام میں ہم اسی منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے گھروں کو ہر لحاظ سے عزت و وقار دیں اور ساتھ ہی ساتھ اصل فکر ان کی آبادی کی کریں۔ تفسیر بحرمحیط میں ابوحیان نے فرمایا کہ ” فِیْ بُیُوْتٍ “ کا لفظ قرآن میں عام معنوں میں ہے۔ جس طرح مساجد اس میں داخل ہیں، اسی طرح وہ مکانات جو خاص تعلیم و تعلم، وعظ و نصیحت یا ذکر و شغل کے لیے بنائے گئے ہوں جیسے مدارس اور خانقاہیں، وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔ ان کا بھی ادب و احترام لازم ہے۔ شاعر نے خوب کہا : خوشا منزل و مسجد و درسگا ہے کہ در وے بود قیل و قال محمد رِجَالٌ سے مراد رِجَالٌ لاَّ تُلْھِیْھِمْ … اللہ تعالیٰ نے وہ نور ہدایت جو قلب مومن میں ڈالا جاتا ہے اور جس کی مثال سابقہ آیت میں بیان فرمائی گئی ہے اس سے فائدہ اٹھانے والے جو لوگ ہیں پہلے تو ان کے مستقر اور محل کو بیان فرمایا اور اب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جارہا اور ان کی صفات بیان کی جارہی ہیں کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ زندگی کی سب سے خوبصورت مصروفیت اور انسانی نفس کے لیے سب سے زیادہ دلکش چیز تجارت ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور ہدایت کی وجہ سے ایسی خوبصورت اور دلکش مصروفیت کی خاطر بھی کبھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں ہوتے۔ وہ کاروبارِزندگی میں مصروف ہوتے ہوئے بھی اپنے اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔ زبان پر اس کا نام رہتا ہے، دل اسی کی محبت میں دھڑکتا ہے اور کاروبارِزندگی اسی کی ہدایت اور اسی کی شریعت کے اتباع میں سرانجام پاتا ہے۔ وہ جب تولتے یا ناپتے ہیں تو ان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا علم مستحضر ہوتا ہے۔ جب وہ بھائو تائو کرتے ہیں یا کسی محنت پر اجرت طلب کرتے ہیں تو انھیں یقین ہوتا ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں دیکھ بھی رہا اور سن بھی رہا ہے۔ یہاں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ایک تجارت اور دوسرا بیع، حالانکہ بیع تجارت کا حصہ ہے، لیکن شاید یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ تجارت تو ایک وسیع مفہوم کا حامل لفظ جس کے فوائد و منافع بعض دفعہ مدتوں میں وصول ہوتے ہیں، لیکن کسی چیز کی بیع اور فروخت یہ ایک وقتی اور فوری نفع کی حامل مصروفیت ہے۔ اس لیے ایک تاجر کے نزدیک تجارتی معاملات میں بیع کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے لیکن ان اللہ تعالیٰ کے بندوں کا حال یہ ہے کہ نہ انھیں تجارت کا طویل عمل اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرتا ہے اور نہ فوری نفع کی کوئی مصروفیت اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہٹاتی ہے اور نہ انھیں کوئی سخت سے سخت محنت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مانع ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عہد رسالت میں دو صحابی تھے، ایک تجارت کرتے تھے اور دوسرے لوہار کا کام کرتے اور تلواریں بنا کر بیچتے تھے۔ پہلے صحابی کی تجارت کا حال یہ تھا کہ اگر سودا تولنے کے وقت اذان کی آواز کان میں پڑجاتی تو وہیں ترازو کو پٹک کر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے۔ دوسرے بزرگ کا یہ عالم تھا کہ اگر گرم لوہے پر ہتھوڑے کی ضرب لگا رہے ہیں اور کان میں اذان کی آواز آگئی تو اگر ہتھوڑا کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں تو وہیں کندھے کے پیچھے ہتھوڑا ڈال کر نماز کو چل دیتے تھے۔ اٹھائے ہوئے ہتھوڑے کی ضرب سے کام لینا بھی گوارا نہ تھا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن کی تعریف اس آیت کریمہ میں کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) کے صاحبزادے حضرت سالم ( رض) فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) بازار سے گزرے نماز کا وقت ہوگیا تھا۔ لوگوں کو دیکھا کہ دکانیں بند کرکے مسجد کی طرف جارہے ہیں، تو فرمایا کہ انہی لوگوں کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد نازل ہوا ہے۔ مردانِ خدا کا ایک وصف یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ … اوپر جن مردانِ خدا کا ذکر ہورہا ہے، یہ ان کا آخری وصف ہے۔ باوجود اس کے کہ انھیں زندگی کی کوئی مصروفیت اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں کرتی، یعنی وہ ہر وقت اپنے اللہ کو یاد رکھتے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں، پھر بھی وہ قیامت کے ہولناک دن یا اس روز پیش آنے والی صورتحال سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں جس میں دلوں کا اضطراب اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اور آنکھیں اس منظر کا تاب لانے سے انکار کردیں گی۔ حیرانی کی بات ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی یاد سے کبھی غافل نہ ہوں انھیں تو قیامت کے دن اس اعتماد سے سرشار ہونا چاہیے کہ آج ہمارے اجر وثواب پانے اور انعام حاصل کرنے کا دن ہے۔ چہ جائیکہ اس دن بھی وہ انتہائی اضطراب اور خوف و ہراس کا شکار ہوں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ان کا معاملہ ایک ایسے خداوندِذوالجلال سے ہے کہ بندوں کی کوئی اطاعت اور عبادت بھی اس کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لائق نہیں ہوسکتی۔ اور مزیدبراں یہ کہ اس کی بےنیازیاں ایک ایسی حقیقت ہیں جنھیں ایک بندہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ اس دن ان کے دل اس خوف سے دھڑک رہے ہوں گے کہ آج کہیں ہماری عبادت و اطاعت کو رد نہ کردیا جائے اور پروردگار کے جس التفاتِ خاص کی آج ہمیں ضرورت ہے ہمیں اس سے محروم نہ کردیا جائے۔ اس لیے ان کے پیش نظر صرف یہ بات ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو قبول کرے اور ان کو ان اعمال کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں ان صاحب ایمان بندوں کو جن کے دل نورہدایت سے روشن ہیں ان کے دلوں میں یہ کہہ کر امید کے چراغ روشن کررہا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ اپنے ان مومن بندوں کو نہ صرف اعمال کی بہترین جزاء عطا فرمائے گا بلکہ عطا و بخشش میں جزائے عمل کے متعینہ قوانین سے بڑھ کر انھیں نوازے گا کیونکہ وہ ذات ہی ایسی ہے کہ جب وہ کسی پر مہربان ہوتی ہے تو انسانوں کے اجروثواب کے پیمانے وہاں ناکام ہوجاتے ہیں۔ ہماری ان گزارشات کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو پھر اس بحث کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ” لِیَجْزِیَھُمْ “ کا لام، لامِ علت ہے یا لام عاقبت۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے دشت بےآب میں چمکتی ہوئی ریت، جس کو پیاسا پانی گمان کرتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب آئے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا البتہ اپنے پاس اللہ کو پائے گا، پس وہ اس کا حساب چکا دے گا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ م بِقْیِعَۃٍ بَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَـآئً ط حَتّٰیٓ اِذَا جَـآئَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا وَّوَجَدَاللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰـہُ حِسَابَہٗ ط وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (النور : 39) (اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے دشت بےآب میں چمکتی ہوئی ریت، جس کو پیاسا پانی گمان کرتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب آئے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا البتہ اپنے پاس اللہ کو پائے گا، پس وہ اس کا حساب چکا دے گا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔ ) اہلِ کفر کی تمثیل اب تک ان مومنین صالحین کا ذکر تھا جن کے سینے نورہدایت کے مشکوٰۃ ہوتے ہیں اور جو نور ہدایت کو خاص طور سے قبول کرتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کفار کا ذکر ہے جن کی فطرت میں تو اللہ تعالیٰ نے نورہدایت کا مادہ رکھا تھا لیکن جب اس مادہ کو روشن کرنے والی وحی الٰہی ان تک پہنچی تو اس سے روگردانی اور انکار کرکے نور سے محروم ہوگئے۔ اور ان کی وہ کیفیت ہوگئی جسے اس آیت میں تمثیل کے انداز میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اب ان سے جو اعمال ظہور پذیر ہورہے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی بےآب وگیاہ ریگستان میں کوئی مسافر سفر کررہا ہو کہ اسے شدید پیاس آپکڑے اور اس کے پاس پانی کی ایک بوند تک نہ ہو۔ وہ اس صحرا کی وسعتوں میں دور دور تک نظر ڈالے کہ کہیں اسے کوئی چشمہ ابلتا ہوا دکھائی دے کہ اچانک اس کی نظر چمکتی ہوئی ریت پر پڑے اور دھوپ میں چمکتی ہوئی یہ ریت جسے یہاں سراب کہا گیا ہے اسے ایسے لگے جیسے کوئی پانی کا دریا بہہ رہا ہے تو وہ لپکتا، بھاگتا اور خوشی سے جھومتا ہوا وہاں یہ سمجھ کر پہنچے کہ وہاں مجھے پانی مل جائے گا اور میں اس سے سیرابی حاصل کروں گا۔ لیکن وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہو کہ میں جس چیز کو لہریں لیتا ہوا پانی سمجھ رہا تھا وہ درحقیقت چمکتی ہوئی اور لہریں لیتی ہوئی ریت تھی۔ اس وقت اس کی پریشانی اور مایوسی کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ وہ بالکل عاجز و درماندہ ہو کر اس طرح ریت پر گرے کہ وہیں تڑپ تڑپ کر جان دے دے۔ یہی حال ان کافروں کا بھی ہوگا جو آج اپنے اعمال پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ گمان ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں جن کو شریک کر رکھا ہے وہ یقینا قیامت کے روز ہمارے کام آئیں گے اور ہم جو ان کے لیے چڑھاوے چڑھاتے اور قربانیاں دیتے ہیں یہی ہمارے لیے ذریعہ نجات ثابت ہوں گی۔ اسی طرح ہم قرابتداروں کے حق قرابت کا لحاظ رکھتے ہیں، حجاج کی خدمت انجام دیتے ہیں اور بھی بعض بھلائی کے کام کرتے ہیں۔ ہمارے یہ اعمال یقینا قیامت کے دن ہمارے کام آئیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے یہ اعمال دشت بےآب میں سراب کی مانند ہیں۔ جیسے ایک پیاسا آدمی سراب کو پانی سمجھ کر دوڑ دوڑ کر ہلکان ہوجاتا ہے اور بالآخر موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی قیامت کے دن جب اپنے اعمال کے پاس پہنچیں گے تو ان پر یہ راز کھلے گا کہ ان کے یہ سارے اعمال خاک اور راکھ بن کر پراگندہ ہوچکے ہیں۔ البتہ اس دن یہ اپنے رب کے سامنے جوابدہی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے، انھیں اپنے اعمال کی جگہ اپنے رب کے سامنے جوابدہی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ تو وہ اس وقت ان کی زندگی کا پورا پورا حساب کرے گا اور جس انجام کے یہ مستحق ہوں گے اس سے انھیں دوچار کردیا جائے گا۔ اور آج ان میں سے بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اولاً تو قیامت ہی ایک تصور سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی لیکن اگر واقعی قیامت ایک حقیقت بن کر سامنے آگئی تو تب بھی ایک ایک فرد کا حساب اور اس کے تمام اعمال کی جانچ پرکھ اور پھر ہر ایک کو مناسب جزاء و سزا یہ کیسے ممکن ہے۔ اس لیے فرمایا کہ یہ تمہارے اوہام و خرافات ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے حساب کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی بلکہ پلک جھپکنے میں ہر معاملہ طے ہوجائے گا۔
Ayahs 24:40–42

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک گہرے سمندر کے اندر تاریکیاں، چھا رہی ہو اس پر موج، اس کے اوپر ایک اور موج، اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں، تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر، جب وہ نکالے اپنا ہاتھ تو اس کو بھی دیکھ نہ پائے اور (سچ تو یہ ہے) کہ جس کو اللہ روشنی نہ بخشے تو اس کے لیے کوئی روشنی نہیں

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ باخبر ہے اس چیز سے جو وہ کر رہے ہیں

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کی واپسی

اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِـہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِـہٖ سَحَابٌ ط ظُلُمٰتٌ م بَعْضُھَافَوْقَ بَعْضٍ ط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْیَرٰھَا ط وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَـہٗ نُوْرًا فَمَالَـہٗ مِنْ نُّوْرٍ ۔ (النور : 40) (یا (ان کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک گہرے سمندر کے اندر تاریکیاں، چھا رہی ہو اس پر موج، اس کے اوپر ایک اور موج، اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں، تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر، جب وہ نکالے اپنا ہاتھ تو اس کو بھی دیکھ نہ پائے اور (سچ تو یہ ہے) کہ جس کو اللہ روشنی نہ بخشے تو اس کے لیے کوئی روشنی نہیں۔ ) اہلِ کفر کی ذہنی تاریکی کی مثال اس سے پہلے کافروں کے اعمال کی مثال دی گئی تھی، اب ان کی ذہنی تاریکی کی تمثیل ہے۔ اس رکوع کے آغاز میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ یہ کائنات اس شخص کے لیے ایک عالم ظلمات اور اندھیر نگری ہے جو خدا کو نہیں مانتا کیونکہ اس کائنات کی روشنی اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے مقتضیات پر حقیقی ایمان ہے جس کے بعد دل و دماغ کی تاریکیاں دور ہوجاتی ہیں اور ہر طرف اجالا پھیل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اپنی ذات کی حقیقت کا شعور، اس کائنات کی حقیقت اور انسان کا اس سے تعلق اور پھر انسان کا مسئول ہونا اور آخرت کا یقین اور اس میں جوابدہی کی فکر یہ وہ کلید ہے جس سے انفرادی، اجتماعی اور کائناتی زندگی کے بند قفل کھل جاتے ہیں۔ انسان کو اپنے ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔ اس کے اعمال کو صحیح نہج مل جاتی ہے، اس کی ذات کو صحیح منزل نصیب ہوجاتی ہے، اس کی خواہشات کی حدود کا تعین ہوجاتا ہے اور اس کے عزائم کو اصل ہدف مل جاتا ہے۔ چناچہ اس شمع کے ہاتھ آجانے کے بعد نہ افراد ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں اور نہ قومیں گمراہی کا شکار ہوتی ہیں لیکن جس شخص یا جن لوگوں کو یہ روشنی نصیب نہیں ہوتی ان کی ذہنی کیفیت وہی ہوتی ہے جس کا اس آیت کریمہ میں نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہ اپنے تصورات اور خیالات کی وادیوں میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی خواہشات کی موج حملہ کرتی ہے، کبھی مفادات کا طوفان حملہ آور ہوتا ہے اور کبھی اپنے ہی اوہام و خیالات کے بنے ہوئے اضطرابات بادل کی طرح چھا جاتے ہیں اور یہ تاریکیاں اس قدر گہری ہوجاتی ہیں کہ انسان اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہو کر رہ جاتا ہے، اسے اپنا ہاتھ بھی سوجھائی نہیں دیتا اور یہ حادثہ صرف ایک کلید کھو جانے کا نتیجہ ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان۔ اسی سے ہر بند دروازہ کھلتا ہے اور اسی سے وہ روشنی حاصل ہوتی ہے جس سے اس کی زندگی میں اجالے پھیلتے ہیں اور جس شخص کو یہ دولت نصیب نہیں اور ایمان کی شاہراہ پر آنا اس کے مقدر میں نہیں، وہ ہمیشہ تاریکیوں میں بھٹکتا رہے گا اور کبھی اس پر سحر طلوع نہیں ہوگی۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ ہانک کر لاتا ہے بادلوں کو، پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے بارش نکلتی ہے اور آسمان سے۔ اس کے اندر کے پہاڑوں سے اولے برساتا ہے۔ پس جسے چاہتا ہے نقصان پہنچاتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو اچک لے جائے

اَلَمْ تَرَا اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَـہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ ط کُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاَ تَـہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِمَا یَفْعَلُوْنَ ۔ (النور : 41) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ باخبر ہے اس چیز سے جو وہ کر رہے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کی دعوت اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا نور ہے۔ مگر اس نور کے ادراک کی توفیق صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کا نور فطرت اس نورہدایت سے مستنیر ہوتا ہے۔ بنا بریں ضروری ہے کہ اس نور کا ادراک اور اس سے وابستگی کے لیے ان نشانیوں پر غور کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رہنمائی کرتی ہیں اور کھلی آنکھوں سے ان حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی خبر دیتی ہیں۔ پیش نظر آیات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات اور نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو شہادت دیتی ہیں کہ اس کائنات میں اسی خدائے وحدہ لاشریک لہ کا تصرف ہے۔ اس سے بڑی اور نشانی کیا ہوگی کہ کائنات میں بیشمار مخلوقات ہیں۔ کچھ آسمانوں میں ہیں کچھ زمین میں اور کچھ فضاء میں دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح کرتی نظر آتی ہے۔ آسمانوں میں فرشتے تو خیر پیدا ہی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کے لیے کیے گئے ہیں لیکن دیگر مخلوقات بھی جن میں سورج، چاند، ستارے، سیارے اور ثوابت شامل ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی کی تسبیح میں مصروف ہیں۔ اسی طرح زمین میں جن و انس کے علاوہ جتنی مخلوقات ہیں چاہے ان کا تعلق حشرات الارض سے ہو یا آبی مخلوقات سے یا جنگل کی دنیا سے۔ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مصروف رہتے ہیں حتیٰ کہ جمادات بھی جن کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ وہ بےجان چیزیں ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں۔ پہاڑوں اور پتھروں میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح فضا میں اڑنے والے پرندے کبھی چہچہاتے ہوئے اس کی تسبیح کرتی ہیں اور کبھی پَر پھیلائے ہوئے افتراش کی حالت میں تسبیح کناں نظر آتے ہیں۔ تسبیح سے کیا مراد ہے سوال یہ ہے کہ ان کی تسبیح کیا ہے ؟ اس کا حقیقی جواب تو وہی ہے جو قرآن کریم نے دیا۔ وَ اِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ یُسَبِیْحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰـکِن لاَّ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ” ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد کی تسبیح کرتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر مخلوق کی اپنی خاص زبان ہے جن میں جمادات بھی شامل ہیں۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کی زبان سمجھتے ہیں لیکن ہم نہیں سمجھتے۔ اسی زبان میں وہ تسبیح کرتے ہیں۔ دوسری بات قرآن کریم نے یہ کہی ہے کہ ہر مخلوق اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتی ہے یعنی جس طرح ہم جانتے ہیں کہ نماز کیسے پڑھنی ہے اور تسبیح کیسے کرنی ہے، وہ بھی جانتے ہیں۔ البتہ علماء نے یہ بات واضح کی ہے کہ نماز سے مراد اللہ تعالیٰ کی بندگی ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہوں، مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی بجا لاتے ہیں اور اس کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ چونکہ صلوٰۃ و تسبیح سے مراد بندگی اور اطاعت ہے اس لیے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ تمام مخلوقات کو ان کی جبلت اور فطرت کے تحت زندگی گزارنے کا جو طریقہ سکھایا گیا ہے اس کی پابندی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہے۔ یہ تمام مخلوقات اس سے کبھی انحراف نہیں کرتیں۔ اور بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ان کی تخلیقی ساخت ہمارے بعض ارکانِ عبادت سے مشابہت بھی رکھتی ہے اور یہی ان کی تسبیح ہے۔ مثلاً حشرات الارض زمین پر سجدہ ریز رہتے ہیں، چارپائے رکوع میں ہیں، درخت اور پہاڑ وغیرہ حالت قیام میں ہیں اور بعض جانوروں کی ساخت ہمارے قعود سے مشابہ ہے۔ جب تک یہ مخلوقات اپنی مخصوص زندگی سے بہرہ ور رہتی ہیں تو وہ اپنی عبادت کی حالت پر قائم رہتی ہیں لیکن جب انھیں موت آتی ہے تو ان کی ساخت تبدیل ہوجاتی ہے۔ سانپ الٹ جاتا ہے، یعنی سجدہ ختم کردیتا ہے۔ درخت حالت قیام میں ہیں لیکن جب ان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے تو پھر وہ زمین پر گرپڑتے ہیں۔ یہی حال باقی پودوں کا بھی ہے۔ لیکن حقیقی جواب یہی ہے کہ سب مخلوقات اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مصروف ہیں لیکن ہم ان کی تسبیح کو نہیں جانتے۔ البتہ بعض اہل کشف بعض دفعہ ان کی تسبیحات سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ واللہ اعلم واحکم بالصواب۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ تم تو ان کی تسبیح اور صلوٰۃ سے واقف نہیں ہو کیونکہ تم ان کے افعال و اعمال کو نہیں سمجھتے، لیکن اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے جب وہ تمہیں خبر دے رہا ہے تو اب اس میں شک کی کیا گنجائش ہے۔ دوسری مخلوقات کی تسبیح اور صلوٰۃ کا ذکر ایک تو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے اور دوسرا ممکن ہے اس طرف بھی اشارہ ہو کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتا یا اس کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے وہ دراصل ایک ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جو ساری دنیا سے بالکل جدا راستہ ہے اور وہ ایک ایسی راگنی چھیڑتا ہے جو اس کائنات کے مجموعی نغمہ سے بالکل بےجوڑ ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہا ہے چاہے وہ اپنے ماحول میں بالکل تنہا ہو، اسے حوصلہ رکھنا چاہیے کہ اس راہ کا مسافر کبھی تنہا نہیں ہوتا، اس کے دائیں بائیں اس کے ہمسفر موجود ہیں کیونکہ ساری کائنات اس کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہے۔ وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ۔ (النور : 42) (اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کی واپسی۔ ) عبادت کا حقدار صرف اللہ تعالیٰ ہے گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے یہ اس کی دلیل ہے چونکہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی مملوک اور اس کی محکوم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا حاکم حقیقی اور کارسازِ مطلق ہے اور پھر سب کو اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کائنات کے نظام میں کسی اور کا دخل ہو اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کائنات کی کوئی مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے غافل ہو کر کسی اور کی تسبیح پر آمادہ ہوسکے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب کائنات پر مکمل اختیار و اقتدار اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے تو پھر جو لوگ اس سے بغاوت کا راستہ اختیار کرتے ہیں انھیں سوچ لینا چاہیے کہ وہ کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُـؤَلِّفُ بَیْنَـہٗ ثُمَّ یَجْعَلُـہٗ رُکَامًا فَـتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ج وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ جِبَالٍ فِـیْھَا مِنْ م بَرَدٍ فَـیُصِیْبُ بِـہٖ مَنْ یَّشَآئُ وَیَصْرِفُـہٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآئُ ط یَکَادُ سَنَابَرْقِـہٖ یَذْھَبُ بِالْاَبْصَارِ ۔ (النور : 43) (کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ ہانک کر لاتا ہے بادلوں کو، پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے بارش نکلتی ہے۔ اور آسمان سے اس کے اندر کے پہاڑوں سے اولے برساتا ہے۔ پس جسے چاہتا ہے نقصان پہنچاتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو اچک لے جائے۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح :۔ یُزْجِیْ …دھکیلنا، ہانکنا، رُکَامًا …رکم، کسی چیز کو اکٹھا کرنا، جب کسی چیز کو اکٹھا کیا جائے اور اسے اوپر نیچے رکھ دیا جائے تو عرب کہتے ہیں رکم الشی یرکمہ، کیچڑ کے ڈھیر کو الرکمۃ کہتے ہیں اور ریت کے ڈھیر کو رکام کہتے ہیں۔ اسی طرح بادل جب گھر کر آجائے اور گہرا ہوجائے تو اسے رکام کہا جاتا ہے۔ وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ جِبَالٍ فِـیْھَا مِنْ م بَرَدٍ ” اس جملے کی ترکیب میں اصحابِ تفسیر کے ہاں اختلاف ہوا ہے اور اس کا اثر ترجمے پر بھی پڑتا ہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ مِنْ جِبَالٍ اور مِنْ م بَرَدٍ دونوں جگہ مِنْ زائد ہے۔ تقدیرِ کلام اس طرح ہے یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآئِ بَرْدًا یَکُوْنُ کَالْجِبَالِ ” یعنی آسمان سے برف اتارتا ہے جو پہاڑوں کی طرح ہوتی ہے۔ علامہ پانی پتی اس کی توجیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآء بَعْضَ جِبَالٍ مِنْ بَرَدٍ یعنی آسمان سے جب برف برستی ہے تو اتنی کثرت سے برستی ہے، معلوم ہوتا ہے برف کے پہاڑ ہیں جو آسمان سے اتر رہے ہیں۔ اور ایک توجیہ وہ ہے جو ترجمے سے ظاہر ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مختارِ مطلق ہے اس سے پہلے کی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی اور اس کی بندگی میں مصروف ہے۔ اس کے خالق اور مالک ہونے اور اس کے حاکم مطلق اور کارسازِحقیقی ہونے کا علم ہر ایک کی فطرت میں داخل ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ کائنات میں سارا اختیار و اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ وہ اپنے اختیارِ مطلق سے جو تصرف چاہتا ہے کرتا ہے۔ اہل زمین کو سمجھانے کے لیے یہ مثال دی گئی کہ دیکھو زمین پیاسی ہوتی ہے، پانی کی ایک ایک بوند کو ترستی ہے لیکن جن قوتوں کو لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک کر رکھا ہے کسی کی یہ قدرت نہیں کہ ان پر بارش کی چند بوندیں برسا سکے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آتا ہے تو وہ ہَوائوں کے زور سے بادلوں کو ہانکتا ہوا وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں بارش برسانا مقصود ہوتا ہے۔ اور پھر بادلوں پر اس کے تصرف کا عالم یہ ہے کہ بادل کے چھوٹے چھوٹے آوارہ ٹکڑوں کو وہ ایک جگہ سمیٹتا اور جمع کرتا ہے۔ ان کو ایک دوسرے کے اوپر اس طرح رکھتا ہے کہ ان میں گہری کثافت پیدا ہوجاتی ہے پھر ان بادلوں کو برسنے کا حکم دیتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہوجاتا ہے۔ بارش کا برسنا بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے اور زمین کا اسے قبول کرنا جتنی ضرورت ہو اسے روک لینا اور نگل لینا اور باقی ندی نالوں میں پہنچا دینا یہ بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔ اور پھر اس کے نتیجے میں اس کی رحمت کی مزید نمود اس طرح ہوتی ہے کہ نئی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ فضاء رنگ و نور میں ڈھل جاتی ہے، رگِ سنگ میں بھی لہو کی گردش تیز ہوجاتی ہے، چند ہی دنوں میں زمین مخملی لباس پہن لیتی ہے، انسانوں اور حیوانوں کے لیے نہ صرف پیاس بجھانے کا انتظام ہوتا ہے بلکہ چارے اور خوراک کا بھی انتظام ہوجاتا ہے۔ فصلیں تیزی سے لہلہانے لگتی ہیں، ہر طرف اس کی رحمت برستی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس کے تصرف کی ہمہ گیری کا عالم یہ ہے کہ اسی رحمت کو وہ جب چاہتا ہے نقمت میں تبدیل کردیتا ہے۔ گھٹائیں جس طرح رحمت کا پیغام بن کے آتی ہیں اسی طرح بعض دفعہ عذاب کی صورت اختیار کر جاتی ہیں۔ کتنی معذب قومیں اسی طرح عذاب کی نذر ہوئیں، لیکن عام حالات میں بھی وہ اسی بادل کو جما کر برف کی صورت میں ڈھال دیتا ہے اور پھر جس سرزمین پہ چاہتا ہے ژالہ باری شروع ہوجاتی ہے۔ کہیں تو بادل کی وجہ سے سرسبزی اور ہریالی پیدا ہوتی ہے اور فصلیں لہلہانے لگتی ہیں لیکن کہیں یہی رحمت جب نقمت کی صورت اختیار کرتی ہے تو لہلہاتی فصلیں دیکھتے ہی دیکھتے برباد ہوجاتی ہیں، جانور مرجاتے ہیں، آبادیاں فنا ہوجاتی ہیں۔ اس کے تصرف کی قوت کا عالم یہ ہے کہ ایک ہی آبادی سے بعض دفعہ ہوا اور بادل گزرتے ہیں لیکن ان کے اندر چھپی ہوئی آگ یا برف آبادی کے ایک حصے کو جلا ڈالتی ہے اور دوسرا حصہ محفوظ رہتا ہے۔ آج کی زبان میں اسی کو سائیکلون کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس کا کئی بار تجربہ ہوچکا ہے۔ بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ بگولوں میں چھپ کر جنات آتے ہیں اور وہ تباہی مچا دیتے ہیں، لیکن اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے، وہ کبھی رحمت کی صورت اختیار کرتا ہے اور کبھی نقمت کی صورت اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ دونوں پر قادر ہے۔ جب اس کے بادل اللہ تعالیٰ کے جلال کی صورت اختیار کرتے ہیں اور وہ کسی قوم کے لیے تنبیہ اور عذاب بن کر آتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ وہ اس آفت سے خود کو یا دوسروں کو بچا سکیں۔ ان بادلوں کے اندر جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک کا یہ حال ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آنکھوں کو اچک لے جائے گی۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جو رات اور دن کو گردش دیتا ہے (یا الٹ پھیر کرتا ہے) بیشک ان چیزوں میں اہل نظر کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے

یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّـاُوْلِی الْاَبْصَارِ ۔ (النور : 44) (اللہ ہی ہے جو رات اور دن کو گردش دیتا ہے (یا الٹ پھیر کرتا ہے) بیشک ان چیزوں میں اہل نظر کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کے اختیار کی ہمہ گیری کی ایک مثال اللہ تعالیٰ کے تصرف اور اختیار کی ہمہ گیری کے حوالے سے ایک اور مثال دی جارہی ہے اور یہ مثال ایسی ہے جس سے ہر مخلوق کا براہ راست ہر وقت کا تعلق ہے اور انسان اگر ہدایت حاصل کرنا چاہے تو کم از کم یہ منظر ہر وقت اس کے سامنے ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی جیسے ہی صبح کو آنکھ کھولتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ میں جب سویا تھا تو رات تھی، یہ اب صبح کہاں سے طلوع ہورہی ہے۔ اور ابھی اس کی سوچ مکمل نہیں ہوپاتی تو اس کی نظروں کے سامنے خورشید کا نور ظہور ہونے لگتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری کائنات روشنی میں نہا جاتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص جو دن کی ہمہ ہمی میں ڈوبا رہتا ہے اور دن کی روشنی اسے ہر کام کے انجام دینے اور آمدورفت میں معاون ثابت ہوتی ہے لیکن جیسے ہی شام ہوتی ہے تو ہر چیز پردہ شب میں محجوب ہونے لگتی ہے۔ وہ سورج جو کائنات کا مطلق العنان بادشاہ معلوم ہوتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پردہ عدم کے پیچھے چلا جاتا ہے اور اس کی حکمرانی ختم ہوجاتی ہے۔ اب رات کی تاریکی رفتہ رفتہ گہری ہوجاتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جو ہر شخص دیکھتا ہے اور ہر شخص کو اس سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور کوئی جاہل ہو یا پڑھا لکھا، عام آدمی ہو یا دانشور وہ آج تک اس راز کو نہ پاسکا کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جو دن کو رات میں اور رات کو دن میں تبدیل کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی حکمران یا سائنسدان نہیں جو اتنے بڑے تصرف پر قادر ہو۔ صرف ایک جواب ہے جو ہمیں مطمئن کرتا ہے کہ رات اور دن کی تبدیلی اور ان کے آنے جانے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو دخل نہیں۔ اسی کے حکم سے سورج طلوع ہوتا ہے چاہے اس کا طریقہ کچھ بھی ہو اور اسی کے حکم سے غروب ہوتا ہے۔ اسی طرح زمین جب سے وجود میں آئی ہے وہ مسلسل گردش میں ہے۔ اس کی ایک حرکت سال میں پوری ہوتی ہے اور ایک چوبیس گھنٹوں میں۔ اسی سے موسم وجود میں آتے، اسی سے بہار اور خزاں کا منظر نمایاں ہوتا ہے۔ سردی اسی کے دم سے ہے اور گرمی اسی کے سبب سے۔ زمین اپنے وجود کی پہلی ساعت سے آج تک کبھی اپنی حرکت میں تقدیم و تاخیر پیدا نہیں کرسکی۔ ورنہ ہمارے تمام حساب غلط ہوجاتے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ باقی کُرُّوں کی طرح زمین کے نظام کو اس قدر باندھ کے رکھنا اور اس کی حرکت میں کبھی کمی بیشی نہ ہونے دینا اور اس پر بسنے والی مخلوقات کے لیے کبھی دشواری پیدا نہ ہونے دینا، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار و اقتدار کا نتیجہ ہے اور اس میں اہل نظر کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ عبرت کا مفہوم عبرت ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانے کو کہتے ہیں، یعنی ایک چیز سے دوسری چیز تک اس طرح پہنچ جانا جس سے علم و فراست کے سامنے ایک نئی صبح طلوع ہوجائے، ایک نیا عقدہ کھل جائے اور جانی ہوئی باتوں سے انجانی باتوں کا استحضار ہوجائے اور دوسروں کے مسائل سے سبق حاصل کرنے کی امنگ پیدا ہو، یہی انسانیت کا اصل جوہر ہے۔ اگر کسی شخص کے اندر یہ جوہر نہیں تو وہ انسان نہیں بلکہ وہ حیوان ہے۔ غالب نے اسی کی طرح اشارہ کرتے ہوئے کہا : قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ہر جاندار کو پانی سے، ان میں سے کچھ تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں سے کچھ دو پائوں پر چلتے ہیں اور ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

وَاللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّـۃٍ مِّنْ مَّـآئٍ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی بَطْنِـہٖ ج وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج وَمِنْھُمْ مَّن یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط یَخْلُقُ اللّٰہُ مَا یَشَآئُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (النور : 45) (اور اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ہر جاندار کو پانی سے، ان میں سے کچھ تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں سے کچھ دو پائوں پر چلتے ہیں اور ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک مثال اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ کسی قانون کی پابند نہیں بلکہ اس کا ہر کام اس کی مشیت اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ ایسا نہیں کہ اس نے مخلوقات کا ایک سانچہ بنا لیا ہو یا ایک قانون نافذ کردیا ہو اور مخلوقات اس کے مطابق تخلیق پاتی رہیں بلکہ اس کی تخلیق اس کی حکمت کے مطابق اپنے اندر تنوع رکھتی ہے۔ اس کی بیشمار مخلوقات کو چھوڑ کر وہ چند مخلوقات جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان میں کچھ زمین پر رینگتی اور اپنے پیٹ کے بل چلتی ہیں جنھیں ہم حشرات الارض کہتے ہیں اور ان میں سے کچھ جاندار ایسے ہیں جو دو پائوں یا دو ٹانگوں پر چلتے ہیں ان میں خود حضرت انسان شامل ہے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو چار ٹانگوں پر چلتے ہیں جنھیں ہم چارپائے کہتے ہیں۔ اور جنگل کی بیشتر مخلوق ایسی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بھی واضح ہوتی ہے، اس کے تصرف کی وسعت بھی دکھائی دیتی ہے، اس کے اختیار کی ہمہ گیری بھی ذہن میں آتی ہے اور اس پر مزید حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ ان مخلوقات میں فرق صرف چلنے کا ہی نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا بھی ہے، صلاحیتوں کے اختلاف کا بھی ہے۔ معیشت اور اسباب معیشت کا بھی ہے۔ ان تمام اختلافات کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، جیسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، یہ اس کی قدرت کاملہ پر یقین ایک ایسی کلید ہے جس سے ہر بند دروازہ کھل جاتا ہے۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے اتاری ہیں ایسی آیتیں جو حق کو صاف صاف بیان کرنے والی ہیں، اور اللہ ہی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَـآ اٰیٰتٍ مُّـبَـیِّـنٰتٍ ط وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِیْمٍ ۔ (النور : 46) (ہم نے اتاری ہیں ایسی آیتیں جو حق کو صاف صاف بیان کرنے والی ہیں، اور اللہ ہی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔ ) ہدایت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، الوہیت اور اس کے متصرفِ حقیقی ہونے پر دلائل دینے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان آیات میں ان تمام بنیادی حقائق کو کھول کر بیان کردیا ہے جس سے اسلام کی دعوت کو سمجھنا نہایت آسان ہوگیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص صراط مستقیم پر چلنا چاہے تو ہم نے اس کے لیے صراط مستقیم روشن کردی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق نہیں مانگتا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کا طالب نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اسے کبھی ہدایت عطا نہیں فرماتا۔ اس نے یہ بات تو اپنی ذمہ داری بنا رکھی ہے کہ وہ انسانوں کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کرے، نیکی اور برائی کے فرق کو کھول دے گا۔ ایمان کے فوائد اور کفر کے نقصانات سے باخبر کردے اور مختلف النوع دلائل سے ایمانیات کو سہل بنا دے، لیکن اگر کوئی شخص ان دلائل اور ان آسانیوں سے فائدہ اٹھانے کی بجائے لاپراہی، بےنیازی بلکہ سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات سب سے زیادہ غیور ہے۔ وہ ناقدروں کو کبھی دین جیسی بیش بہا دولت عطا نہیں کرتا۔ جو اس سے مانگتا ہے، اسے محروم نہیں رکھتا۔ اور جو بےنیازی دکھاتا ہے اس کے لیے دنیا آسان کردیتا ہے بلکہ کھول دیتا ہے۔ لیکن دین کا راستہ اس کے لیے مشکل بنا دیتا ہے۔ اس کے چاہنے سے اس کے اسی قانون کی طرف اشارہ ہے۔ چاہنا اس کا علی الاطلاق نہیں بلکہ حکمت کے تابع ہے اور اس کی حکمت انسانی رویوں کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی ہے، پھر ان میں سے ایک گروہ اس دعویٰ کے بعد منہ پھیر لیتا ہے، اور یہ لوگ درحقیقت مومن نہیں ہیں

وَیَقُوْلُوْنَ اَمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مِّنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَـآ اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُوْمِنِیْنَ ۔ (النور : 47) (اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی ہے، پھر ان میں سے ایک گروہ اس دعویٰ کے بعد منہ پھیر لیتا ہے، اور یہ لوگ درحقیقت مومن نہیں ہیں۔ ) منافقین کے رویئے پر تنقید اللہ تعالیٰ کے دین کی عام دعوت اور اس پر دلائل قائم کرنے کے بعد ایک اور حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے، وہ یہ کہ اسلام چونکہ صرف ایک فرد کے عقیدے کا نام نہیں بلکہ ریاست کا آئین اور دستور بھی ہے۔ عام دستوری ریاستوں میں کسی شخص کا ریاست کے دستور کو تسلیم کرلینے کا اقرار اور اس کے جھنڈے کا احترام کافی سمجھا جاتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کے طرز عمل اور اس کے دل و دماغ کی کیفیت پر دستور کی حاکمیت قائم ہوئی ہے یا نہیں، لیکن اسلامی ریاست میں ہر فرد اور پوری امت کو خبردار کیا گیا ہے کہ تمہارے لیے بنیادی ایمانیات کا اقرار اور بنیادی احکام پر عمل کافی نہیں۔ جب تک تم انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اقرار کو یقین، اذعان اور عقیدے کی قوت میں تبدیل نہیں کردیتے اور عمل کے ساتھ ساتھ دل کی تائید اور اخلاص شامل نہیں ہوجاتا اس وقت تک تمہارا دعویٰ ایمان معتبر نہیں۔ چناچہ اس پابندی کے بعد حلقہ اسلام میں آنے والے دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک مومن قانت اور دوسرے منافق۔ جس طرح اسلام کی تاریخ اور اس کی کامیابیوں کی داستان سچے مومنوں اور مسلمانوں کے جذبہ ایمان اور قربانیوں سے روشن ہے۔ اسی طرح کچھ منافق بھی ہیں جو دائرہ اسلام میں داخل ہو کر مسلمانوں کی معاشرت میں شریک رہ کر معاشرتی فوائد حاصل کرنے کی فکر میں تو رہتے تھے لیکن ان کے دل و دماغ میں نہ اخلاص پیدا ہوا تھا اور نہ ایمان ان کی ترجیح بنا تھا۔ چناچہ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ منافق لوگ بڑھ چڑھ کر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور ساتھ اطاعت کا دم بھی بھرتے ہیں، لیکن جب دعویٰ ایمان و اطاعت کے امتحان کا وقت آتا ہے تو پشت دکھا جاتے ہیں۔ سورة النساء اور بعض دیگر سورتوں میں اس مضمون کو زیادہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ ایسے لوگ ہزار ایمان و اطاعت کا دعویٰ کریں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہرگز مومن نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان کا حق صرف کلمہ پڑھ دینے سے پورا نہیں ہوتا اور نہ اطاعت کے خالی دعوے کفایت کرتے ہیں بلکہ اللہ اور رسول کے احکام کی بےچون و چرا اطاعت اس کی اولین شرط ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا اور ایک اور شعر میں اس کو مزید واضح کیا گیا ہے : زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
Ayahs 24:48–49

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہونا ہو تو اس کی طرف نہایت فرمانبردانہ آتے ہیں

وَاِذَا دُعُؤٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْن۔ وَاِنْ یَّـکُنْ لَّـھُمُ الْحَقُّ یَـاْ تُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ۔ (النور : 48، 49) (جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے۔ اور اگر فیصلہ ان کے حق میں ہونا ہو تو اس کی طرف نہایت فرمانبردانہ آتے ہیں۔ ) نفاق کا ایک پہلو منافق کبھی زبان سے اسلام کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار نہیں کرتا اور نہ کبھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کے دعویٰ ایمان میں کمزوری ہے بلکہ منافق لوگ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر مسلمان کہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کے نفاق کی دلیل کے طور پر ان کے رویئے کے ایک پہلو کو ذکر فرمایا ہے کہ جب کبھی ان کے درمیان کوئی قضیہ پیدا ہوتا ہے اور انھیں یہ کہا جاتا ہے کہ اس قصیے کے فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف آئو۔ تو یہ لوگ آپ کی طرف آنے سے اعراض کرتے ہیں۔ اس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف آنا، اللہ کے قانون کی طرف آنا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تشریح، تفصیل اور عملی شکل بیان فرمائی ہے۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول دو مختلف حوالے نہیں بلکہ ایک ہی حوالہ ہے۔ رسول کی طرف آنا، اللہ کی طرف آنا ہے۔ اور اللہ کی طرف آنا، رسول کی طرف آنا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے متعدد جگہ ارشاد فرمایا مَنْ یَّطُعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ” جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ “ گویا دونوں کی اطاعت ایک قانون کی اطاعت ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اسے برپا کرکے دکھایا ہے۔ تو جب اس قانون کی طرف ان منافقین کو بلایا جاتا ہے تاکہ اس قانون کے مطابق ان کے قضایا کا فیصلہ کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے رسول کریں گے۔ لیکن یہ فیصلہ صرف ان کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بھی ہوگا۔ کیونکہ آپ اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ تو ان منافقین کے ہر گروہ کو آپ دیکھیں گے کہ وہ اس فیصلے کی طرف آنے سے پہلوتہی کرے گا یعنی اس کی کوشش یہ ہوگی کہ میں کسی اور عدالت سے اپنے معاملات کا فیصلہ کرائوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے لوگوں نے جن میں یہود پیش پیش تھے اپنی کتابوں کو تحریف اور ترمیم کے ذریعے خواہشات کی تصویر بنا لیا تھا اور مزید یہ بات کہ ان کے فیصلہ کرنے والوں کو رشوت دے کر مفید مطلب فیصلہ کرایا جاسکتا تھا۔ ہمارے آئمہ تفسیر نے ان آیات کا ایک شان نزول بھی بیان کیا ہے، اس کا ذکر کرنے سے پہلے ایک ضروری بات واضح کردینا مفید ہوگا۔ وہ یہ کہ ہمارے یہاں عام طور پر شان نزول کے حوالے سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس واقعہ کی وجہ سے ہوا۔ اور وہ شاید اسی واقعہ کے ساتھ مخصوص بھی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بات صحیح نہیں۔ جب کسی واقعہ کے پیش آنے کے وقت کوئی آیت کریمہ نازل ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں اس واقعہ سے متعلق ہدایت موجود ہے اور اس کے علاوہ اگر اسی طرح کے کچھ اور واقعات پیش آئیں گے یا اس طرح کے حالات پیدا ہوں گے تو اس آیت کریمہ سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ مختلف واقعات کے بارے میں ایک ہی آیت یا ایک ہی سورت کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ یہ اس موقع پر نازل ہوئی تھی۔ تو واقعات کے تعدد کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ شاید اس آیت یا اس سورت کا نزول ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا ہے، حالانکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مختلف واقعات یا مختلف حالات کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کو اس آیت کی طرف متوجہ فرمایا گیا کہ آپ ﷺ اس موقع پر اس سے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں اور اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ کسی آیت یا سورت کا حکم کسی ایک واقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتا۔ اسی کو ہمارے اہل علم اس طرح بیان کرتے ہیں : الاعتبار بعموم اللفظ لابخصوص السبب ” اس وضاحت کی روشنی میں یہ گزارش کی جاسکتی ہے کہ ان آیات میں منافقین کے مجموعی رویہ پر تنقید کی گئی ہے اور یہ تنقید کسی خاص واقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ آیات ایک منافق کے بارے میں نازل ہوئیں، جس کا نام بشر تھا، اس کا ایک یہودی سے تنازعہ ہوگیا۔ اس یہودی نے بشر کو کہا کہ چلو رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلے کے لیے چلتے ہیں۔ بِشر کے دل میں چور تھا وہ یہودی سے ناحق الجھ رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ نبی کریم ﷺ فیصلہ اس کے حق میں دیں گے، کیونکہ وہاں نہ کسی کی رعایت کی جاتی ہے اور نہ سفارش چلتی ہے۔ تو اس نے یہودی سے کہا ان محمدا یحیف علینا ” کہ محمد ﷺ ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ “ چلو کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور اس آیت میں یہ بات واضح کردی گئی کہ جو شخص آنحضرت ﷺ یا اس مسند پر فائز آپ کے کسی جانشین کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دوسری عدالتوں یا دوسرے قانون کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ ہزار ایمان و اسلام کا دعویٰ کرے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ مسلمان نہیں۔ خودغرضی کی اطاعت نفاق ہے وَاِنْ یَّـکُنْ لَّـھُمُ الْحَقُّ یَـاْ تُوْٓا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ” اور اگر انھیں یہ خیال ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا تو وہ اللہ کے رسول کے پاس اطاعت کیش بن کر آتے ہیں۔ “ یعنی جب انھیں تنازعات کے فیصلے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو منافقین کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ بجائے آنحضرت ﷺ کی عدالت میں جانے کے یہودیوں کی کسی عدالت میں جائیں تاکہ وہاں مفید مطلب فیصلہ لے سکیں، لیکن اگر انھیں یہ خیال ہو کہ ہمارے قضیے میں فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا کیونکہ اسلامی شریعت ایسے قضایا میں جو احکام جاری کرتی ہے وہ اس قضیے میں ہمارے حسب حال ہیں تو پھر وہ لپکتے ہوئے فرمانبردارانہ اور اطاعت کیش بن کر آنحضرت ﷺ کی عدالت میں آتے ہیں۔ یہی وہ روش ہے جو ان کے منافق ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں آنحضرت ﷺ کے فیصلے یعنی شریعت کے فیصلے کو قبول کرنا اور جہاں سے وہ فیصلہ مل سکتا ہو اس عدالت میں جانا ایمان کا تقاضا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ فیصلہ صاحب قضیہ کی خواہش اور مصلحت کے مطابق ہو یا اس کے خلاف ہو۔ ایک مومن ہر صورت میں شریعت ہی کو ترجیح دیتا ہے بلکہ اس کے مقابلے میں کسی دوسری عدالت یا کسی دوسرے قانون کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم نے بعض دوسرے مواقع پر اسی کو تحاکم الی الطاغوت سے تعبیر کیا ہے اور اس کو شرک قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شرک ایمان کی ضد ہے۔ ایمان کا راستہ اور ہے اور شرک کا راستہ اور ہے۔ اور دونوں کا انجام بھی غائت درجہ ایک دوسرے سے الگ ہے۔