24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsروح القرآن

Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

اے پیغمبر ! مومنوں کو ہدایت کیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے، بیشک اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ ۔ (النور : 30) (اے پیغمبر ! مومنوں کو ہدایت کیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے، بیشک اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں۔ ) اسلام اور دیگر نظام ہائے زندگی میں فرق ہم پہلے بھی یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ اسلام اور دیگر نظام ہائے زندگی کا بنیادی فرق یہ ہے کہ اولاً تو ان کے نزدیک گناہ کا تصور ہی غلط یا مبہم ہے۔ اور اگر وہ کسی چیز کو گناہ یا جرم قرار دیتے بھی ہیں تو ان کے نزدیک اس جرم کے ارتکاب کی سزا ہی اصلاح کے لیے کافی ہے۔ وہ نہ جانے اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ جس طرح انسانی جسم اس وقت کسی عارضے کا شکار ہوتا ہے جب اس جسم کے اندر اس عارضے کو پیدا کرنے اور پھر اسے قبول کرنے والے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں۔ جسم میں پھوڑے کبھی نہیں نکلتے جب تک خون گندہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی جرم اور گناہ بھی اس وقت تک ارتکاب کی منزل تک نہیں پہنچتا جب تک اس کے محرکات کو کام کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ معاشرے کی قوت مدافعت کمزور نہیں ہوتی اور فضا اس کے حسب حال نہیں ہوجاتی۔ اسلام کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ جس طرح کسی جرم کے خاتمے کے لیے سخت قانون دیتا ہے، اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر اس کے محرکات کو ختم کرنے کے احکام جاری کرتا ہے اور وہ ان سوتوں کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جہاں سے برائی پھوٹتی ہے۔ چناچہ حدزنا کا قانون دینے سے پہلے اس نے ایک طرف تو افرادِ معاشرہ کو تعلیم اور تزکیہ کے اس پر اسس سے گزارا جس سے دل میں برائی کے پیدا ہونے کے اسباب کم سے کم ہوجاتے ہیں اور نیکی کے پیدا ہونے کے اسباب افزوں تر ہوجاتے ہیں۔ پھر اس نے ایسے محرکات پر پابندیاں لگائیں جو انسان کو گناہ اور جرم پر اکساتے ہیں اور ان تمام عوامل کو روکنے کی کوشش کی جن سے گناہ کے ارتکاب میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پردے کے احکام میں ترتیب چناچہ اس سلسلہ میں اس نے کچھ احکام سورة الاحزاب میں دیئے اور اب ان کی تکمیل سورة النور میں کی جارہی ہے۔ چناچہ سب سے پہلے پردے کا حکم جاری فرمایا، ایک آزاد منش اور ایک بےقید معاشرے میں چونکہ پردے کا چلن عام کرنا آسان نہیں تھا، اگرچہ صحابہ کرام ( رض) کا ایمان اللہ تعالیٰ کے کسی حکم سے کبھی اباء نہیں کرتا تھا لیکن اسلامی معاشرہ چونکہ تیزی سے دعوت کے مراحل طے کررہا تھا اور جہاد کی قوت سے راستے کی رکاوٹیں اٹھتی جارہی تھیں اور تیزی سے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہورہے تھے، اس لیے سب کے لیے ایک عام حکم نازل کردینا اور اس کی پابندی کرانا آسان نہ تھا۔ چناچہ اس کے لیے نمونے کے طور پر آنحضرت ﷺ کے اہل خانہ کو سب سے پہلے اس کا پابند ٹھہرایا اور مسلمان عورتوں کو ان کی پیروی کرنے کا حکم دیا۔ سب سے پہلا حکم انھیں کو خطاب کرکے دیا گیا، لیکن اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ یہ حکم ان کے لیے خاص نہیں بلکہ اس میں تمام مسلمان عورتیں شامل ہیں۔ وہ احکام جو اہل بیت یعنی آنحضرت ﷺ کے اہل خانہ کے لیے دیئے گئے وہ سورة الاحزاب کی آیات 32، 33، 53 اور 55 میں بیان ہوئے ہیں۔ 2 دوسرے وہ احکام ہیں جو آنحضرت ﷺ کے اہل بیت کے ساتھ دوسری عام خواتین کو بھی دیئے گئے اور ان میں یہ بتایا گیا کہ کسی مسلمان عورت کو جب گھر سے باہر قدم نکالنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس حالت میں اس کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، یہ احکام سورة الاحزاب کی آیت 59 میں بیان ہوئے ہیں۔ 3 تیسرے وہ احکام ہیں جو عام مردوں اور عورتوں کو مخاطب کرکے گھروں کے اندر آنے جانے سے متعلق دیئے گئے اور جن میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ ایک مسلمان جب اپنے کسی بھائی کے گھر میں داخل ہو تو اس کو کن آداب و قواعد کی پابندی کرنی چاہیے اور گھر کی عورتوں پر ایسی حالت میں کیا پابندیاں عائد ہوتی ہیں، یہ احکام سورة النور کی پیش نظر آیات میں دیئے گئے ہیں۔ سابقہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدکاری کے محرکات میں سب سے خطرناک محرک نظربازی اور بدنگاہی ہے۔ کسی بھی مسلمان عورت کے باہر نکلنے پر حجاب اور نقاب کا حکم دے کر اس جرم پر پہرا بٹھا دیا گیا، لیکن ابھی تک ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا معاشرتی ضرورت کے تحت چونکہ باقی تھا اور جسے ختم بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن کچھ لوگ اس سے فائدہ اٹھا کر اسلامی معاشرے کی پاکیزگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے تھے اور خود اپنے آپ کو بھی تباہ کرتے تھے۔ چناچہ اس محرک کو ختم کرنے کے لیے پہلے تو گھروں میں داخلے کے لیے استیناس اور استیذان کا حکم دیا اور مزید پابندیاں گھروں میں داخل ہونے کے بعد حسب ضرورت لگائی گئیں جن میں مردوں کے لیے غض بصر اور حفظ فروج کی پابندیاں عائد کی گئی کیونکہ گھر میں داخل ہونے کے بعد اگر ان دو باتوں میں بھی بےاحتیاطی کی جائے تو گناہ کے پیدا ہوجانے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ نزولِ قرآن کے وقت معاشرے کی جو کیفیت تھی اس میں مردانہ نشست گاہیں گھروں میں الگ نہیں ہوتی تھیں اور دیہات میں تو آج تک ہمارے یہاں بھی ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ کوئی معاشرہ بھی اس حال کو صدیوں میں نہیں پہنچتا کہ اس کے مالی حالات اس کے ایک ایک فرد کو پر تکلف اور حسب ضرورت رہائش گاہ بنانے کی اجازت دے سکیں، تو ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ جب دور پار کے قرابتدار گھروں میں آئیں تو آنے والوں کو بعض آداب کی پابندی کرنی چاہیے۔ جن میں پہلا ادب غض بصر ہے۔ یعنی وہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے ادھر ادھر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نہ دیکھیں تاکہ کسی نامحرم پر ان کی نگاہ نہ پڑے اور نہ وہ اس طرح آنکھیں بند کرکے اندر داخل ہوں کہ ٹھوکر کھا کے یا الجھ کر گرجائیں۔ اس لیے مِنْ اَبْصَارِہِمْکا لفط استعمال کیا گیا۔ اس میں مِنْ تبعیض کے لیے ہے۔ یعنی راستہ دیکھنے کے لیے آنکھ کھلی رہے، لیکن ادھر ادھر دیکھنے سے آنکھ بند رہے۔ گھروں میں داخل ہونے کے بعد کی احتیاطیں پیشِ نظر آیت کریمہ کو سابقہ تین آیات کے ساتھ جب ہم ملا کر پڑھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ اور بعد کی آنے والی آیت کریمہ میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ اس صورت میں ہیں جبکہ دور پار کے عزیزوں میں سے کوئی مہمان تشریف لائیں۔ ظاہر ہے کہ وہ محرم تو نہیں ہوں گے تو ان کے لیے گھر میں داخل ہونے کے بعد متذکرہ بالا ہدایات کی پابندی ضروری ہے۔ لیکن اس صورت میں بھی صاحب خانہ کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ رشتے داروں میں بھی ہر شخص اخلاق کے اعتبار سے بھروسے کا آدمی نہیں ہوتا۔ اس لیے پہلے انھیں اطمینان کرلینا چاہیے کہ ہم جس مہمان کو اندر لا رہے ہیں اس کے سیرت و کردار پر کہاں تک بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ احکام اس صورت میں ہیں جب مردوں اور عورتوں کی نشست گاہیں الگ الگ نہ ہوں۔ لیکن اگر دورپار کے عزیزوں اور یا اجنبیوں کے لیے الگ نشست گاہوں کا انتظام ہے تو پھر اسلام میں مطلوب یہ ہے کہ مردوں کو گھر کی عورتوں سے الگ بٹھایا جائے۔ اس آیت میں چونکہ سب سے پہلے غض بصر کا حکم دیا گیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں جس طرح نگاہ ایک بہت بڑی نعمت ہے، اسی طرح ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ مرد و عورت کے درمیان برائی پیدا کرنے کے لیے یہ اولین قاصد کا کام دیتی ہے۔ اسی کے بہک جانے اور بےباک ہوجانے سے فواحش کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر اس پر اللہ تعالیٰ کے خوف کا پہرہ بٹھا دیا جائے تو انسان شیطان کے بہت سے فتنوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ جنسی بگاڑ میں اس کی تاثیر کو دیکھتے ہوئے قرآن و سنت میں اس کے بارے میں ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔ اگرچہ موقعہ کلام کے تقاضے کے تحت بہت زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں لیکن اس کے اثرات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ چند ضروری ہدایات کو ذکر کردیا جائے۔ 1 کسی بھی مومن کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنی بیوی یا اپنی محرم خواتین کے سوا کسی دوسری عورت کو نگاہ بھر کر دیکھے۔ ایک دفعہ اچانک نظر پڑجائے تو وہ معاف ہے۔ لیکن یہ معاف نہیں کہ آدمی نے پہلی نظر میں جہاں کوئی کشش محسوس کی ہو، وہاں پھر نظر دوڑائے۔ نبی کریم ﷺ نے اس طرح کی دیدہ بازی کو آنکھ کی بدکاری سے تعبیر فرمایا۔ ایک موقع پر حضرت بریدہ کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ( رض) سے فرمایا یاعلی لاتتبع النظرۃ النظر ۃ فان لک الاولی ولیست لک الاخرۃ ” اے علی ! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا۔ پہلی نظر تو معاف ہے، مگر دوسری معاف نہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے، جو شخص مجھ سے ڈر کر اس کو چھوڑ دے گا، میں اس کے بدلے اسے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔ (طبرانی) کسی کو اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں مسلمان عورتیں چہرے پر نقاب ڈالتی ہوتیں تو غض بصر کا حکم دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس بات کو کج فہمی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ امت کا تعامل اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ عہدنبوی سے لے کر آج تک شریعت کی پابندی کرنے والی خواتینِ اسلام نے ہمیشہ چہرے پر نقاب ڈالا ہے۔ غضِ بصر کا حکم دینے کی وجہ تو یہ ہے کہ چہرے کا پردہ عام طور پر رائج ہونے کے باوجود ایسے مواقع پیش آسکتے ہیں جبکہ اچانک کسی عورت اور مرد کا آمنا سامنا ہوجائے اور ایک پردہ دار عورت کو بھی بسا اوقات ایسی ضرورت لاحق ہوسکتی ہے کہ وہ منہ سے نقاب ہٹا لے۔ اور پھر یہ بھی امرواقعہ ہے کہ مسلمان ملکوں اور معاشروں میں ہمیشہ غیرمسلم عورتیں بھی رہی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔ ظاہر ہے کہ وہ تو بےپردہ ہی رہتی ہیں، حجاب یا نقاب استعمال نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ اور بھی مصلحتیں ہیں جن کی وجہ سے غض بصر کا حکم دیا گیا ہے۔ غضِ بصر میں استثناء 2 غضِ بصر کا حکم تو واضح ہے لیکن اس سے وہ صورتیں مستثنیٰ ہیں جن میں کسی عورت کو دیکھنے کی کوئی حقیقی ضرورت پیش آجائے۔ مثلاً کوئی کسی عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہو، اس غرض کے لیے عورت کے علم میں لائے بغیر اسے دیکھ لینے کی اجازت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بعض صحابہ کرام ( رض) کو نکاح سے پہلے اس کی ہدایت فرمائی۔ اسی طرح تفتیشِ جرائم کے سلسلے میں اگر کسی مشتبہ عورت کو دیکھنے کی ضرورت لاحق ہو تو اس کی بھی اجازت ہے۔ عدالت میں گواہی کے موقع پر قاضی کسی گواہ عورت کو دیکھنا چاہے یا علاج کے لیے طبیب مریضہ کو دیکھنا ضروری سمجھے تو شریعت نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ حفظِ فروج کا مفہوم اس آیت کریمہ میں دوسرا حکم جو دیا گیا ہے وہ حفظ فروج کا ہے جس کا لفظی معنی شرمگاہوں کی حفاظت ہے، لیکن مراد اس سے شرم کی جگہوں کی پردہ پوشی ہے۔ بظاہر تو اس لفظ سے یہ تأثر ملتا ہے کہ شاید ناجائز شہوت رانی سے روکا گیا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی مراد میں وسعت پائی جاتی ہے۔ ناجائز شہوت رانی تو آخری بات ہے، لیکن جو چیزیں اس کے مقدمات کا درجہ رکھتی ہیں، ان سے روکنا بھی ان میں شامل ہے۔ مثلاً کسی مرد کے لیے اپنے ستر کو دوسروں کے سامنے کھولنے کی اجازت نہیں۔ اور مرد کے لیے ستر کی حدودآنحضرت ﷺ نے ناف سے گھٹنے تک مقرر فرمائی ہیں۔ دارقطنی کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا، عورۃ الرجل مابین سرتہ الی رکبتہ ” مرد کا ستر اس کی ناف سے گھنٹے تک ہے۔ “ حضرت جرھد اسلمی ( رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں ایک دفعہ میری ران کھلی ہوئی تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا امأَعلمت ان الفخذعورۃ ” کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ران چھپانے کی چیز ہے۔ “ آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا احفظ عورتک الامن زوجتک اوماملکت یمینک ” اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اپنی بیوی یا لونڈی کے سوا۔ “ اس صحابی نے عرض کی، یارسول اللہ ﷺ ! اگر انسان تنہا ہو تو پھر اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔ (ابودائود، ترمذی، ابن ماجہ) حفظِ فروج میں صرف یہی احتیاط کافی نہیں کہ آدمی اپنا ستر کھلنے نہ دے اور دوسرے کے ستر کو نہ دیکھے، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا لباس نہ پہنے جس سے اعضائے مخصوصہ نمایاں ہوں۔ اور وہ لباس شرم و حیاء پیدا کرنے کی بجائے جنسی جذبات کو انگیخت کرنے والا ہو۔ آج کل جس طرح کا لباس عام طور پر نوجوانوں نے پہننا شروع کردیا ہے جس میں ستر پوشی کا جذبہ تو دور دور تک محسوس نہیں ہوتا، صرف زینت اور اظہارِزینت کو مقصد بنا لیا گیا ہے اور زینت بھی ایسی کہ جسے کوئی شرم و حیاء والی نگاہ دیکھنا پسند نہ کرے، لیکن مسلسل استعمال سے اب نگاہیں اس طرح عادی ہوگئی ہیں کہ وہ گھرانے جو شرم و حیاء کے پیکر سمجھے جاتے تھے اب ان گھروں میں بھی نوجوان بےہودہ سے بےہودہ لباس پہنتے ہیں اور کوئی برا محسوس نہیں کرتا۔ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا یَصْنَعُوْنَ ” یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے، بیشک اللہ باخبر ہے ان چیزوں سے جو وہ کرتے ہیں۔ “ گھروں کے اندر جن احتیاطوں کا حکم دیا گیا ہے اگر ان کی پابندی کی جائے تو گھروں کے ماحول کو پاکیزہ رکھنے اور ہر طرح کے اخلاقی فساد سے محفوظ رکھنے کا سب سے اہم ذریعہ ہیں۔ البتہ اس میں یہ لازمی شرط ہے کہ میزبان اور مہمان ان احتیاطوں کی پابندی کرتے ہوئے ہمیشہ اس بات کو مستحضر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے اور ہماری نیتوں تک سے آگاہ ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کے اعمال کی درستی کی ضمانت بن سکتا ہے اور اگر یہ تصور دل کا عقیدہ نہ بنے تو پھر نگاہ کی پاکیزگی اور دلوں کی طہارت کی کوئی چیز ضمانت نہیں بن سکتی۔
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

آپ ایماندار عورتوں کو حکم دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمتوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزوں کا اظہار نہ کریں، مگر ان میں سے جو خودبخود ظاہر ہوجائیں اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کی بُکّل مار لیا کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں کے لیے یا اپنے باپوں کے لیے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے لیے یا اپنے بیٹوں کے لیے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لیے یا اپنے بھائیوں کے لیے یا اپنے بھتیجوں کے لیے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے لیے یا اپنے تعلق کی عورتوں کے لیے یا اپنے مملوکوں کے سامنے یا ایسے زیرکفالت مردوں کے سامنے جو عورت کے خواہشمند نہ ہوں یا ایسے بچوں کے سامنے جو عورتوں کی شرم والی چیزوں سے آگاہ نہیں، اور عورتیں اپنے پائوں زمین پر مار کر نہ چلیں کہ معلوم ہوجائے وہ بنائو سنگھار جو وہ چھپائے ہوئے ہیں اور اے ایمان والو ! سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پا جائو

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلاَّ مَاظَھَرَمِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ ص وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلاَّ لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآئِھِنَّ اَوْاٰبَـآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاَبْنَـآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَـآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیْٓ اَخَوٰ تِھِنَّ اَوْنِسَآئِھِنَّ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِاُوْلِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ ص وَلاَ یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَایُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ط وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّـہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (النور : 31) (آپ ایماندار عورتوں کو حکم دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمتوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزوں کا اظہار نہ کریں، مگر ان میں سے جو خودبخود ظاہر ہوجائیں اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کی بُکّل مار لیا کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں کے لیے یا اپنے باپوں کے لیے یا اپنے شوہروں کے باپوں کے لیے یا اپنے بیٹوں کے لیے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لیے یا اپنے بھائیوں کے لیے یا اپنے بھتیجوں کے لیے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے لیے یا اپنے تعلق کی عورتوں کے لیے یا اپنے مملوکوں کے سامنے یا ایسے زیرکفالت مردوں کے سامنے جو عورت کے خواہشمند نہ ہوں یا ایسے بچوں کے سامنے جو عورتوں کی شرم والی چیزوں سے آگاہ نہیں، اور عورتیں اپنے پائوں زمین پر مار کر نہ چلیں تاکہ معلوم ہوجائے وہ بنائو سنگھار جو وہ چھپائے ہوئے ہیں اور اے ایمان والو ! سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔ـ) گھر کے اندر عورتوں کو ہدایات اب اس آیت کریمہ میں گھروں میں نامحرموں کے آنے کی صورت میں ہدایات دی جارہی ہیں۔ دو ہدایات تو وہی ہیں جو سابقہ آیت کریمہ میں مردوں کود ی گئی ہیں، یعنی غض بصر اور حفظ فروج۔ البتہ حفظ فروج کے حوالے سے کچھ مزید ہدایات دی گئی ہیں جو عورتوں کے لیے مخصوص ہیں اور جس سے یہ اندازہ کرنا کسی بھی صاحب علم اور صاحب ایمان کے لیے مشکل نہیں رہتا کہ اپنی شخصیت کی تعمیر اور حفاظت کے حوالے سے عورت اور مرد کے لیے احکام یکساں نہیں۔ مردوں کے لیے نگاہوں اور ستر کی جگہوں کی حفاظت کافی ہے۔ لیکن عورتوں کے لیے ان دونوں ہدایات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ : 1 اپنی زینت کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں، بجز اس کے جس کے ظاہر کیے بغیر چارہ نہیں۔ 2 اپنی اوڑھنیوں سے اپنے سینوں کو ڈھانپ لیا کریں۔ 3 زمین پر پائوں اس طرح نہ ماریں کہ مخفی زینت ظاہر ہوجائے۔ 4 درمیان میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے سامنے زینت کا اظہار ممنوع نہیں۔ اس طرح سے وہ قواعد و ضوابط بیان کردیئے گئے ہیں جن سے گھروں کے ماحول میں پاکیزگی کی امید کی جاسکتی ہے اور اسلامی معاشرے کو ایسے گھر میسر آسکتے ہیں جو ایک طرف ان کے لیے ہر طرح کی بداخلاقی اور لادینیت کی یورش سے پناہ گاہ کا کام دیں گے اور دوسری طرف وہیں سے وہ نسلیں نکلیں گی جو اسلامی اخلاق کی پیکر اور اسلامی قوت کا ہر اول دستہ ہوں گی۔ اب ہم آیت کریمہ میں ارشاد فرمودہ ہدایات میں سے ایک ایک کی وضاحت کرتے ہیں۔ 1 سب سے پہلی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ گھر کے اندر جب کوئی غیرمحرم داخل ہو تو گھر میں موجود خواتین اپنی نگاہیں جھکا لیں تاکہ گزرنے والے مہمان پر ضرورت سے زیادہ نگاہ نہ پڑے۔ 2 اپنی شرم کی جگہوں کی پردہ پوشی کریں یعنی جب انھیں معلوم ہو کہ باہر سے کوئی مہمان آرہا ہے اور وہ نامحرم ہے تو اگر مکان میں عورتوں کے الگ بیٹھنے کی گنجائش ہو تو پھر اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ عورتیں الگ بیٹھیں اور مہمانوں کو الگ بٹھایا جائے۔ لیکن اگر مکان تنگ ہے اور مہمانوں نے وہیں سے گزر کے جانا ہے تو پھر وہ اپنی شرم کی جگہوں کی پردہ پوشی کریں، یعنی اپنے لباس کو درست کریں، اپنی بُکّل کو ٹھیک کرلیں۔ لباس اس طرح کا نہ ہو جو بجائے پردہ پوشی کے جذبات میں تحریک پیدا کرے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو باریک لباس پہننے سے روکا۔ حضرت اسماء ( رض) جو حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی بہن ہیں جب انھیں باریک لباس میں دیکھا تو آپ ﷺ نے منہ پھیرلیا اور ارشاد فرمایا کہ جب لڑکی بالغ ہوجائے تو پھر اسے ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے جس سے جسم جھلکتا ہو اور اس کے ہاتھ، پائوں اور چہرے کے سوا سارا جسم محجوب ہونا چاہیے اور پھر آپ ﷺ نے کلائی اور ہاتھ کے جوڑ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اس سے زیادہ کلائی کھلی نہیں ہونی چاہیے۔ 3 تیسرا حکم یہ دیا کہ اپنی زینت کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ بجز اس کے کہ جو خودبخود ظاہر ہوجائے۔ بعض لوگوں نے زینت سے مراد چہرہ لیا ہے حالانکہ میں پہلے یہ بات عرض کرچکا ہوں کہ سیاق کلام سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ یہاں حجاب اور نقاب کی بحث نہیں ہورہی، اس کا حکم سورة الاحزاب میں ہے۔ یہاں بحث گھر کے پردے کی ہے۔ اس لیے جب ایک مومنہ گھر سے باہر قدم رکھتی ہے تو اسے بڑی چادر سے چہرے پر گھونگٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے جسے ادنائے جلباب کہتے ہیں۔ لیکن گھر میں پردے کے لیے ادنائے جلباب نہیں ضرب خمار کا حکم دیا گیا ہے یعنی اوڑھنیوں سے بُکّل مارنے کا۔ اور ہر صاحب علم و عقل اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ خمار سے بُکّل مارنے میں چہرہ شامل نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے چہرے کو اس میں شامل کرنا تکلف کے سوا اور کچھ نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ یہاں زینت سے مراد بنائو سنگھار کا سامان یعنی زیور لیا جائے۔ اور آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ عورتوں کو چاہیے کہ گھر میں چلتے ہوئے زمین پر پائوں زور سے نہ ماریں تاکہ ان کی مخفی زینت ظاہر نہ ہو۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخفی زینت سے مراد وہ زیور ہے جو عورتیں پائوں میں پہنتی ہیں جسے عام طور پر پازیب کہا جاتا ہے۔ 4 چوتھا حکم یہ دیا گیا ہے کہ گھروں میں عورتیں اپنے دوپٹوں اور اوڑھنیوں سے بُکّل مار لیا کریں یعنی اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں۔ صاحب کشاف اور بعض دوسرے ائمہ تفسیر نے یہ وضاحت کی ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں عورتیں اپنے سروں پر دوپٹہ لینے کا تکلف کرتی تھیں لیکن ایک دھجی اور چیتھڑے کی طرح دوپٹہ ان کے سر سے کمر پر لٹکتا رہتا اور سینے پر قمیض کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے قرآن کریم میں واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ اس طرح اپنے سروں پر دوپٹے لیں جس سے سر بھی ڈھکا رہے، کمر بھی اور سینہ بھی چھپا رہے اور سینے کا ابھار چونکہ شرم کی جگہ ہے اس لیے بطور خاص اس پر دوپٹہ ڈالنے کا حکم دیا۔ انسانی سیرت و کردار میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اس کا رجوع اسی جاہلیت کی طرف ہوتا ہے جس سے اسلام نے انسانوں کو نکالا ہے۔ آج بھی جو لوگ تہذیبِ مغرب کے زیراثر اسلامی تہذیب سے برگشتہ ہیں ان کے گھروں کی خواتین اپنے طوراطوار میں اسی جاہلیت کی نمائندگی کررہی ہیں۔ ان کے دوپٹے ان کے کندھوں پر جھولتے رہتے ہیں۔ وہ چاک گریباں اور سینے کے ابھار کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کو لازمہ تہذیب سمجھتی ہیں۔ وہ لوگ جن کے سامنے اظہارِزینت ممنوع نہیں متذکرہ بالا ہدایات کے بعد پروردگار نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے سامنے زینت کا اظہار ممنوع نہیں۔ جب ہم اس فہرست پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں جو قدر مشترک ہے وہ ان کا محرم ہونا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان رشتوں کی خصوصیت نہیں بلکہ ان کے سامنے اظہارِ زینت کی اجازت کی علت ان کا محرم ہونا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اس فہرست میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں جبکہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ان کے سامنے اظہارِ زینت ممنوع نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی محرم رشتہ داروں میں شامل ہیں۔ اس فہرست میں جن لوگوں کو ذکر کیا گیا ہے یوں تو ان میں کوئی معنوی الجھن نہیں البتہ بعض الفاظ مصداق کے حوالے سے وضاحت طلب ضرور ہیں مثلاً اٰبَآئِھِنَّ ، اٰبَـآ، اَبْکی جمع ہے، اس کا معنی ہے باپ۔ لیکن یہاں یہ اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد تمام اجداد و اعمام ہیں۔ ان میں دادا، پردادا اور نانا، پرنانا بھی شامل ہیں، لہٰذا ایک عورت اپنی ددھیال اور ننھیال اور اپنے شوہر کی ددھیال اور ننھیال کے ان سب بزرگوں کے سامنے اسی طرح آسکتی ہے جس طرح اپنے والد اور اپنے خسر کے سامنے آسکتی ہے۔ بھائیوں میں سگے اور سوتیلے اور ماں جائے بھائی سب شامل ہیں۔ بھائی بہنوں کے بیٹوں سے مراد تینوں قسم کے بھائی بہنوں کی اولاد ہیں۔ یعنی ان کے پوتے، پر پوتے اور نواسے، پرنواسے سب اس میں شامل ہیں۔ اَوْنِسَائِھِنَّ : اس کا لفظی ترجمہ ہے، ان کی عورتیں۔ اس میں مطلق عورتوں کا ذکر کرنے کی بجائے ان کی عورتیں فرمایا گیا ہے، جس کا معنی اپنی عورتیں بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس سے ہر طرح کی عورتیں مراد نہیں لی جاسکتیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر صرف نساء کا لفظ استعمال کیا جاتا۔ اس لیے بعض اہل علم نے یہ ارشاد فرمایا کہ اس سے مراد صرف مسلمان عورتیں ہیں۔ غیرمسلم عورتیں خواہ وہ ذمی ہوں یا کسی اور قسم کی، ان سے مسلمان عورتوں کو اسی طرح پردہ کرنا چاہیے، جس طرح مردوں سے کیا جاتا ہے۔ انھوں نے حضرت عمر ( رض) کے ایک مکتوب سے بھی استدلال کیا ہے جو انھوں نے حضرت ابوعبیدہ ( رض) کو لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کی بعض عورتیں غیرمسلم عورتوں کے ساتھ حماموں میں جانے لگی ہیں حالانکہ جو عورت اللہ تعالیٰ اور یوم آخر پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ اس کے جسم پر اس کے اہل ملت کے سوا کسی اور کی نظر پڑے۔ یہ خط جب حضرب ابوعبیدہ ( رض) کو ملا تو وہ ایک دم گھبرا کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے، خدایا جو مسلمان عورت محض گوری ہونے کے لیے ان حماموں میں جائے، اس کا منہ آخرت میں کالا ہوجائے۔ (ابن جریر، بیہقی، ابن کثیر) بعض دیگر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اور یہی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد اپنے میل جول اور تعلق اور خدمت کی عورتیں ہیں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔ کیونکہ وہ جانی پہچانی اور بھروسے کی خواتین ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہر قسم کی اجنبی عورتوں کے سامنے خواہ وہ مسلمان ہی ہوں اپنی زینت کا ظاہر کرنا فتنہ اور خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے پاس ذمی عورتوں کی حاضری کا ذکر آتا ہے۔ اس معاملے میں اصل چیز جس کا لحاظ کیا جانا چاہیے وہ مذہبی اختلاف نہیں بلکہ اخلاقی حالت ہے۔ شریف، باحیاء اور نیک اطوار عورتیں جو معروف اور قابل اعتماد خاندانوں سے تعلق رکھنے والی ہوں ان سے مسلمان عورتیں پوری طرح بےتکلف ہوسکتی ہیں، خواہ وہ غیرمسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن بےحیاء، آبروباختہ اور بداطوار عورتیں خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں، ہر شریف عورت کو ان سے پردہ کرنا چاہیے، کیونکہ اخلاق کے لیے ان کی صحبت غیرمردوں کی صحبت سے کچھ کم تباہ کن نہیں۔ اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّاس سے بعض لوگوں نے لونڈیاں مراد لی ہیں اور بعض لوگوں نے لونڈیاں اور غلام دونوں مراد لیے ہیں، لیکن آج چونکہ غلاموں اور لونڈیوں کا وجود ختم ہوگیا اس لیے یہ بحث آج کی ضرورت نہیں رہی۔ علمی دلچسپی کے لیے دیگر تفاسیر دیکھی جاسکتی ہیں، لیکن عملی رہنمائی کے لیے چونکہ اس کی ضرورت باقی نہیں رہی اس لیے ہم اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِاُوْلِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ ” یعنی مردوں میں سے وہ مرد جو زیر کفالت ہوں اور جو عورت کی ضرورت کی عمر سے نکل چکے ہوں۔ یعنی ایک مسلمان عورت ان مردوں کے سامنے اظہارِ زینت کرسکتی ہے جو اس کے زیر کفالت ہوں یا اس کے بزرگوں کے زیرکفالت ہوں اور اپنی اس حیثیت کی وجہ سے وہ حدود سے تجاوز کا تصور بھی نہ کرسکتے ہوں اور دوسری یہ بات کہ وہ اپنی عمر یا جسمانی عدم اہلیت یا اپنی کمزوری یا فقر ومسکنت کے باعث یہ طاقت اور جرأ ت نہ رکھتے ہوں کہ وہ صاحب خانہ کی بیوی، بیٹی، بہن یا ماں کے متعلق کوئی بری نیت دل میں لاسکیں۔ لیکن گھر کے وہ ملازم جنھیں ان کی تنخواہ ایک طرح کی جرأت دلاتی ہے پھر ان کی مناسب عمر اور صحت جنسی جذبات پر آمادہ کرسکتی ہے ان کے سامنے عورتوں کا بےپردہ آنا اور اظہارِ زینت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ نئی کریم ﷺ نے ان مخنثین سے بھی پردہ کرنے کا حکم دیا ہے جو اگرچہ گناہ پر قادر نہیں، لیکن کسی حد تک جنسی خواہشات کے باعث عورتوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ بخاری اور مسلم اور بعض دیگر کتب میں بھی حضرت عا ئشہ ( رض) اور حضرت ام سلمہ ( رض) سے روایت کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک مخنث تھا جسے ازواجِ مطہرات اور دوسری خواتین غَیْرِاُوْلِی الْاِرْبَۃِمیں شمار کرکے اپنی ہاں آنے کی اجازت دے دیتی تھیں۔ ایک روز جب نبی کریم ﷺ ام المومنین حضرت ام سلمہ ( رض) کے ہاں تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے اس کو حضرت ام سلمہ ( رض) کے بھائی عبداللہ بن امیہ سے باتیں کرتے سن لیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کل اگر طائف فتح ہوجائے تو غیلان ثقفی کی بیٹی بادیہ کو حاصل کیے بغیر نہ رہنا، پھر اس نے بادیہ کے حسن اور اس کے جسم کی تعریف کرنی شروع کی۔ اور اس کے ایک ایک عضو کی صفت بیان کر ڈالی نبی کریم ﷺ نے یہ باتیں سنیں تو فرمایا ” خدا کے دشمن تو نے تو اس میں نظریں گاڑ دیں۔ “ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے پردہ کرو، آئندہ یہ گھروں میں نہ آنے پائے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اسے مدینے سے باہر نکال دیا اور دوسرے مخنثوں کو بھی گھروں میں آنے سے منع فرما دیا کیونکہ ان کو مخنث سمجھ کر عورتیں ان سے احتیاط نہ کرتی تھیں اور وہ ایک گھر کی عورتوں کا حال دوسرے مردوں سے بیان کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غَیْرِاُوْلِی الْاِرْبَۃ ہونے کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں کہ ایک شخص جسمانی طور پر بدکاری کے قابل نہیں ہے۔ اگر اس میں دبی ہوئی صنفی خواہشات موجود ہیں اور وہ عورتوں سے دلچسپی رکھتا ہے تو بہرحال وہ بہت سے فتنوں کا موجب بن سکتا ہے۔ بوڑھے ملازمین کے بارے میں بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے بڑھاپے اور کمزوری کے باعث اس قابل ہیں کہ انھیں غَیْرِاُوْلِی الْاِرْبَۃ کا مصداق سمجھا جائے، لیکن یہ بات دیکھنا بہت ضروری ہے کہ صنف نازک کے بارے میں ان کے احساسات کا حال کیا ہے اور کیا وہ اپنی نجی مجلسوں میں صنف نازک کے اوصاف کو گفتگو کا موضوع بناتے ہیں یا نہیں۔ جب تک اس حوالے سے اطمینان نہ ہوجائے اس وقت تک انھیں گھروں کے اندر آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ ” یا وہ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوں۔ “ یعنی ان بچوں کے سامنے عورتیں اظہارِ زینت کرسکتی ہیں جن میں ابھی صنفی احساسات بیدار نہ ہوئے ہوں۔ رہی یہ بات کہ صنفی احساسات بچوں میں کس عمر میں بیدار ہوتے ہیں۔ اصولی طور پر تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب تک بچہ نابالغ ہے وہ بہت حد تک صنفی ضروریات سمجھنے سے قاصر رہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوغ سے پہلے بھی بچوں میں صنفی احساسات پیدا ہوجاتے ہیں اور اس کے لیے کسی عمر کا تعین کرنا بہت مشکل ہے۔ جن بچوں کا ماحول نہایت پاکیزہ ہو اور ان کی تعلیم تزکیہ نفس کے لیے معاون ہو اور ان کے گھروں میں ٹیوی اور اس طرح کی دوسری سہولتیں میسر نہ ہوں اور ان کے دوستوں اور ہمجولیوں میں بگڑے ہوئے بچے موجود نہ ہوں تو ایسے بچے تو یقینا بلوغ کے قریب پہنچ کر ان احساسات سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن جن تعلیمی اداروں میں جنس کو سبجیکٹ کے طور پر پڑھایا جاتا ہو اور جن کے گردوپیش میں صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہوں اور جن کا ماحول اور جن کے بڑے اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہوں وہ تو دس گیارہ سال کی عمر میں بھی ان باتوں سے آشنا ہوجاتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں شروع میں تو بچوں کو ہر وقت عورتوں کے یہاں آنے جانے کی اجازت تھی لیکن بعد میں تین اوقات میں ان کے اوپر بھی پابندی لگا دی گئی۔ بلاشبہ عرب کا معاشرہ ایک بگڑا ہوا معاشرہ تھا۔ لیکن ان میں بھی غیرت کا کسی حد تک تصور پایا جاتا تھا۔ اس لیے وہ اپنے بچوں میں ہر طرح کی انارکی کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن آج کا مغرب اور ان کے زیراثر مشرق میں رہنے والے متغربین ہر طرح کی اخلاقی حدود سے آزاد ہوچکے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو اگر اپنے بچوں کی صالح تربیت منظور ہے تو انھیں صرف ان کے ظاہری اعمال نہیں بلکہ ان کے احساسات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ مخفی زینت کے اظہار کی ممانعت وَلاَ یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَایُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ” وہ اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں تاکہ ان کی مخفی زینت ظاہر ہوجائے۔ “ جو ذوق زینت کو پسند کرتا ہے اس کے اندر زینت کا اظہار ایک فطری بات ہے۔ ایسا ذوق مردوں میں بھی رکھا گیا ہے اور عورتوں میں بھی، لیکن عورتوں میں یہ جذبہ مرد کی نسبت زیادہ ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عورت سرتاپا حسن ہے اور اسی نے اس کے اندر ایک کشش پیدا کی ہے جس کے جواب میں مرد اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس کے اندر یہ فطری جذبہ نہ ہوتا تو مرد جس طرح اس کے لیے بیتاب ہوتا ہے یہ بیتابی کبھی پیدا نہ ہوتی۔ اسلام نے اس جذبے کی تحسین فرمائی ہے۔ البتہ اس کے لیے ایک مخصوص دائرہ اور ایک مخصوص محل متعین کردیا ہے۔ جب یہ جذبہ اس دائرے سے باہر نکلتا ہے تو یہیں سے اخلاقی مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں ان رشتوں کی ایک فہرست دی گئی ہے جن کے سامنے اس جذبے کا اظہار ہوسکتا ہے، لیکن جب گھر میں نامحرم موجود ہوں اور خاتونِ خانہ کو ان کے پاس سے گزرنا پڑے تو اسی جذبے کو حدود میں رکھنے کے لیے حکم دیا کہ پائوں کو زمین پر زور سے مار کر نہ چلو تاکہ تم نے اگر اپنے پائوں میں کوئی زیور پہن رکھا ہے تو اس کی کھنک نامحرموں کے کانوں تک نہ پہنچے۔ زیور پہننے پر اعتراض نہیں لیکن نامحرموں تک اس کے اظہار پر اعتراض ہے۔ یہی اسلام کا وہ اعتدال ہے جس سے اخلاقِ صالحہ وجود میں آتے ہیں۔ زینت کے مفہوم میں وسعت نبی کریم ﷺ نے اس حکم کی حقیقت کو کھولتے ہوئے اسے زیوروں کی جھنکار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے یہ اصول اخذ فرمایا کہ نگاہ کے سوا دوسرے حواس کو مشتعل کرنے والی چیزیں بھی اس مقصد کے خلاف ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اظہارِ زینت سے منع فرمایا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے عورتوں کو حکم دیا کہ ایسی خوشبو لگا کر باہر نہ نکلیں جس کی مہک دوسروں تک بھی پہنچتی ہو۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اذا استعطرت المرأۃ فمرت علی القوم لیجدوا ریحھا فھی کذا وکذا قال قولا شدیدا ” جو عورت عطر لگا کر راستے سے گزرے تاکہ لوگ اس کی خوشبو سے لطف اندوز ہوں تو وہ ایسی اور ایسی ہے اور آپ ﷺ نے اس کے لیے بڑے سخت الفاظ استعمال فرمائے۔ “ (ترمذی، ابودائود، نسائی) اسی طرح آپ ﷺ نے اس بات کو بھی پسند نہیں فرمایا کہ عورتیں بلاضرورت اپنی آواز مردوں کو سنائیں۔ کوئی ضرورت پیش آجائے تو پروردگار نے بات کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن جہاں کوئی دینی یا اخلاقی ضرورت درپیش نہ ہو وہاں اس کو پسند نہیں کیا گیا۔ نماز میں اگر امام بھول جائے تو مردوں کو حکم ہے کہ سبحان اللہ کہیں، لیکن اگر عورتیں امام کے پیچھے ہوں اور انھیں امام کی غلطی پر تنبیہ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو انھیں بولنے کی بجائے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی کو تصفیق کہا گیا ہے۔ آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ یہ ہدایات چونکہ پورے مسلم معاشرے کی اصلاح و تطہیر کے لیے دی گئی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے کا ایک ایک فرد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔ سب مل کر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں اور اس سلسلے میں جو احکام دیئے گئے ہیں انھیں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم پر یقین رکھتے ہوئے زندگی کا رہنما بنائیں۔ اس صورت میں امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فوزوفلاح سے نوازے۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور نکاح کردو اپنے میں سے مجرد لوگوں کا، اور اپنے ان غلاموں اور لونڈیوں کا جو ذی صلاحیت ہوں، اگر وہ تنگدست ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے

وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآئِکُمْ ط اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآئَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (النور : 32) (اور نکاح کردو اپنے میں سے مجرد لوگوں کا، اور اپنے ان غلاموں اور لونڈیوں کا جو ذی صلاحیت ہوں، اگر وہ تنگدست ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے۔ ) اَیَامٰی سے مراد الْاَیَامٰی … اَیّم کی جمع ہے۔ اہل لغت کا اس پر اتفاق ہے کہ اصل میں اس کا اطلاق اس عورت پر ہوتا ہے جس کا خاوند نہ ہو، خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ۔ اب اس کا اطلاق ایسے مرد پر بھی ہونے لگا ہے جس کی بیوی نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد تمام وہ مرد و عورت ہیں جو مجرد ہوں، چاہے ان کا نکاح نہ ہوا ہو، یا نکاح کے بعد اپنے ساتھی سے محروم ہوگئے ہوں۔ تجرد کی حوصلہ شکنی کیونکہ یہ بھی گناہ کے عوامل میں سے ہے ان آیات میں چونکہ اسلامی معاشرے کو ان عوامل سے پاک کرنا ہے جو اخلاقی مفاسد کا باعث بنتے اور شیطان کی دراندازیوں کے لیے دروازہ کھولتے ہیں۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں ایسے ہی ایک عامل کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی طرف سے غفلت اور لاپرواہی بہت سے اخلاقی مفاسد کا موجب بن سکتی ہے۔ اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ معاشرے میں وہ مردو عورت جو نکاح کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور یا وہ کسی وجہ سے اپنے رفیقِ حیات سے محروم ہوگئے ہیں تو انھیں مجرد رہنے کے لیے نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو رشتہ نکاح میں پرونے کی کوشش کرے کیونکہ ان کا مجرد رہنا معاشرے میں اخلاقی مفاسد کا سبب بن سکتا ہے۔ تجرد جہاں ناجائز تعلقات کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے وہیں تہمتوں اور الزامات کا باعث بھی بنتا ہے اور اسی سے معاشرے میں بےحیائی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمان معاشرے کو اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ ایسے حالات پیدا کرے جس سے شادی بیاہ آسان ہوجائے اور لوگوں میں اس طرح کے احساسات پیدا کرے جس سے تجرد کی حوصلہ شکنی ہو، اور لوگ اسے صرف اس مرد یا عورت کی ضرورت نہ سمجھیں جو تجرد کی زندگی گزار رہا ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی استواری کے لیے اس راستے کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ نکاح کے قابل ہیں ان کے نکاح نہ ہونے کے دو سبب ہوسکتے ہیں 1 غربت، 2 برادریوں اور قبیلوں کے رسم و رواج۔ لڑکا یا لڑکی جب بالغ ہوجاتے ہیں تو نکاح کے تصور کے ساتھ ہی نکاح کے مصارف اور اخراجات کا سوال گھروں میں پیدا ہوتا ہے کہ لڑکا جب تک اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوجائے یعنی وہ اس قابل نہ ہوجائے کہ اپنی بیوی اور آئندہ چل کر بچوں کا کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوگا اس وقت تک اس کا نکاح کیسے کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں یا تو آنے والی لڑکی مصائب کا شکار ہوجائے گی اور یا اگر مشترکہ خاندان ہے تو دوسروں پر اس کا بوجھ پڑے گا۔ دونوں صورتوں میں ان کی ازدواجی زندگی ناکام ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب لڑکی کے سرپرست لڑکے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ابھی تک کمانے کے قابل نہیں ہوا تو وہ کبھی بھی رشتہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ کیونکہ وہ اندیشہ ہائے دوردراز کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح بعض خاندان اور قبائل ایسے ہیں جو عقدبیوگان کو معیوب سمجھتے ہیں اور ہندو معاشرے کے زیراثر بعض مسلمان خاندان ایسے بھی ہیں جو صرف معیوب ہی نہیں سمجھتے بلکہ اسے اخلاقی سطح سے ایک گری ہوئی بات سمجھتے ہیں۔ ایسے تمام مفاسد کا علاج صرف یہ ہے کہ مسلمان معاشرے میں تجرد کی زندگی کو معاشرے کے لیے خطرناک تصور کیا جائے اور لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ جن عوامل کے باعث عقد نکاح مشکل ہورہا ہے اور ان کی کوئی مذہبی اور اخلاقی حیثیت نہیں انھیں اپنی زندگیوں سے خارج کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ذی صلاحیت غلاموں کے نکاح کی ہدایت جس طرح آزاد لوگوں میں تجرد اخلاقی ناہمواری کا سبب بن سکتا ہے اس طرح غلاموں اور لونڈیوں میں بھی برائی کا موجب ہوسکتا ہے۔ اس لیے اسلام نے ان کے بارے میں ایک ہی سلسلہ بیان میں برابر کی سطح پر رکھ کر حکم دیا کہ تمہارے وہ غلام اور لونڈیاں جن میں تم اخلاقی اور جسمانی اعتبار سے اس بات کی صلاحیت دیکھتے ہو کہ وہ نکاح کے بعد اپنی ازدواجی زندگی کو بحسن و خوبی نبھا سکتے ہیں انھیں بھی قیدنکاح میں لانے کی کوشش کرو۔ لیکن اگر تم یہ محسوس کرو کہ جس غلام یا لونڈی کارویہ تمہارے ساتھ ٹھیک نہیں اور جس کے مزاج میں ایسی خرابی موجود ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کرسکتا تو پھر اس کے نکاح کی ذمہ داری اس کے آقا پر نہیں۔ نکاح رزق میں اضافے کا سبب غربت کا معاملہ زندگی کے مسائل میں سب سے مشکل مسئلہ ہے۔ اگرچہ اس میں شدت لوگوں میں غلط رسم و رواج کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے لیکن اگر ان میں صحیح احساس پیدا ہوجائے اور وہ رسم نکاح کو سادگی سے انجام دینے کو ہلکا پن سمجھنے کی بجائے صحیح طریقہ سمجھیں تو اس میں بہت حد تک کمی آسکتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تنگدستی کا اندیشہ بہرحال اپنی ایک حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے پروردگار نے اسی آیت کریمہ میں فرمایا کہ جو لوگ غربت کے باعث ازدواجی زندگی اختیار کرنے سے ڈرتے ہیں ان کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ اگر انھوں نے محض پاکدامن رہنے کے لیے نکاح کی ذمہ داری قبول کی تو اللہ تعالیٰ انھیں غنی کردے گا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی مدد اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ 1 وہ نکاح کرنے والا جس کی غرض پاکدامن رہنا ہو، 2 وہ مکاتب جو زرمکاتبت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، 3 اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کے کرم پر اعتماد ایک مومن کی سب سے بڑی دولت ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عقدنکاح کے بعد میاں بیوی اس انتظار میں بیٹھ جائیں کہ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہُن برسنا شروع ہوجائے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب لوگ اس بات پر اطمینان رکھیں کہ نکاح فقر میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ خدا کے رزق و فضل میں اضافہ کرتا ہے۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر ازدواجی زندگی کا بوجھ اٹھا لیتا ہے تو پھر وہ گھر کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے جو بھی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت دیتا ہے۔ اور اگر میاں بیوی دونوں مل کر اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو اب تک ان کی سوچ کا محور صرف اپنی ذات تھی۔ اب ان کے محور میں وسعت آجانے کے بعد ان کے عزائم اور کوششوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کی وہ صلاحیتیں جو سکڑی اور دبی ہوئی تھیں انھیں کھلنے کا موقع ملے گا۔ دونوں کی رفاقت ایک دوسرے کی معاون بنے گی۔ دونوں ایک دوسرے کے سہارے کے ساتھ جدوجہد کا سفر کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ بیشمار لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ شادی سے پہلے جن لوگوں کے گھروں میں افلاس کی حکومت تھی لیکن وہ افلاس کو بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے تھے۔ شادی کے بعد بہت جلدی ان کے گھروں میں تبدیلی آنے لگی۔ رزق کے دروازے کھلنے لگے، اللہ تعالیٰ نے صالح اولاد عطا فرمائی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایک بالکل نئی دنیا وجود میں آگئی۔ تب اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی حقانیت کھلی کہ وہ کس طرح اپنے اوپر اعتماد کرنے والوں کو غنی کردیتا ہے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس بشارت کو مؤکد کرنے کے لیے اپنی صفات کا حوالہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دامن کرم میں بڑی گنجائش ہے اور کسی کے حالات اور ضروریات بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے نہ اسے عطا کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور نہ یہ جاننے میں کہ کون اس کا اہل ہے۔