24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsروح القرآن

Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

زانی نہ نکاح کرنے پائے مگر زانیہ یا مشرکہ سے، اور کسی زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر کوئی زانی یا مشرک اور حرام کردیا گیا ہے یہ اہل ایمان پر

اَلزَّانِیْ لاَ یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً ز وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُھَـآ اِلاَّ زَانٍ اَوْمُشْرِکٌ ج وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (النور : 3) (زانی نہ نکاح کرنے پائے مگر زانیہ یا مشرکہ سے، اور کسی زانیہ سے نکاح نہ کرے مگر کوئی زانی یا مشرک اور حرام کردیا گیا ہے یہ اہل ایمان پر۔ آیت کے الفاظ میں دو احتمالات اس آیت کریمہ کے الفاظ میں دو احتمالات ممکن ہیں اور ہمارے مفسرین نے دونوں میں سے کسی نہ کسی احتمال کو اختیار کیا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ لاَ یَنْکِحُخبر کے مفہوم میں نہیں بلکہ نہی کے مفہوم میں ہے۔ بظاہر یہ صیغہ نفی کا ہے لیکن معنی نہی کا ہے۔ فَلاَ یَنْکِحُ کا معنی یہ ہوگا لاَیَلِیْقُ بِہٖ اَنْ یَّنْکِحَ یعنی پیشہ ور زانیہ کے ساتھ نکاح کرنا مومن کی شان کے لائق نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زنا کی حرمت اور اس کے ارتکاب پر سزا کے ذکر کرنے کے بعد پروردگار مسلمانوں میں غیرت ایمانی کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ یعنی مسلمانوں میں زنا سے اتنی نفرت اور بیزاری ہونی چاہیے کہ کوئی زانی اگر تمہارے اندر نکاح کرنا چاہے تو کوئی صاحب ایمان اس کو منہ لگانے کے لیے تیار نہ ہو۔ اخلاقی تربیت اور مفسد عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے سخت ترین سزا کا نفاذ یقینا زنا جیسے قبیح فعل کے ارتکاب کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، لیکن جو لوگ اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں ان کی حوصلہ شکنی اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اسلامی معاشرے کی ایمانی حس غیرت ایمانی کی شکل اختیار نہیں کرتی۔ مجرد قانون خواہ وہ کیسا ہی بےلاگ اور حکیمانہ ہو معاشرے کی حفاظت اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک خود معاشرے کے اندر برائی سے نفرت موجود نہ ہو۔ میڈیکل سائنس کی تعلیم، ہسپتالوں کا وجود، میڈیکل سٹورز کی فراوانی اور ماحول کی پاکیزگی صحت کے لیے یقینا بہت ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن وہ چیز جو انسانوں کی صحت کی ضمانت دے سکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ انسانوں میں بیماری کیخلاف ایک ردعمل پیدا ہوجائے۔ اور اگر یہ پیدا نہیں ہوتا تو متذکرہ بالا ساری چیزیں اپنی تمام تر افادیت کے باوجود بیکار ثابت ہوتی ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ایسے ہی ردعمل کو پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس آیت کے شان نزول سے بھی اس بات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت مرثد ( رض) کا یہ دستور تھا کہ مشرکین مکہ کے پاس جو مسلمان قیدی ہوتے یہ رات کی تاریکی میں وہاں جاتے اور کسی نہ کسی طرح سے انھیں کفار کی اسیری سے نکال لاتے۔ اسی سلسلہ میں وہ ایک دفعہ مکہ گئے۔ چاندنی رات تھی، ایک مکان کے سایہ میں سمٹے بیٹھے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے، اتفاقاً عناق نامی ایک عورت جس سے زمانہ جاہلیت میں ان کے برے تعلقات رہ چکے تھے، ادھر آنکلی۔ اسے کچھ شبہ ہوا اور وہ قریب آگئی۔ دیکھتے ہی پہچان لیا۔ خوش آمدید کہتی ہوئی آگے بڑھی اور رات اپنے پاس گزارنے کی دعوت دی۔ حضرت مرثد ( رض) نے کہا کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں، اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام کردیا ہے، میں اب تمہارے پاس شب باشی کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اس نے اس انکار پر مشتعل ہو کر شور مچانا شروع کردیا۔ حضرت مرثد ( رض) کہتے ہیں کہ میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ آٹھ آدمیوں نے میرا تعاقب کیا۔ میں نے ایک غار میں پناہ لی۔ وہ اس غار کے دہانے تک پہنچ گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا اور وہ واپس لوٹ گئے۔ جب وہ چلے گئے تو میں پھر اپنے کام کے لیے مکہ واپس آیا اور جس آدمی کو رہا کرانے کے لیے میں آیا تھا اسے کسی نہ کسی طرح میں نکالنے میں کامیاب ہوگیا اور اسے اپنے ہمراہ لے کر مدینہ طیبہ پہنچ گیا۔ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر میں نے سارا ماجرا بیان کیا اور آنحضرت ﷺ سے عناق سے نکاح کی اجازت مانگی۔ حضور ﷺ خاموش رہے، کچھ دیر بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ مجھے بلایا اور حکم الٰہی پڑھ کر سنایا۔ اس شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ زانیہ سے مراد وہ عورت ہے جو زنا سے تائب نہ ہوئی ہو اور زانی سے مراد وہ مرد ہے جو اس فعل کے ارتکاب میں شہرت رکھتا ہو اور اس نے شرم و حیاء کی چادر اتار پھینکی ہو۔ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ ایسے کسی شخص کو جو بداخلاقی کی شہرت رکھتا ہو اور شرم و حیاء کی ہر قدر کو پامال کرچکا ہو اسے کبھی اپنی بیٹی دینے کی غلطی نہ کرنا کیونکہ ایسے لوگ جس کسی سے بھی نکاح کرتے ہیں وہ نکاح کی حقیقت کو سمجھنے کی بجائے صرف لطف و لذت کے لیے نکاح کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان مردوں سے کہا جارہا ہے کہ کبھی کسی ایسی عورت سے نکاح نہ کرنا جو عفت مآبی کے معاملے میں لاپرواہ واقع ہوئی ہو اور اپنے کندھے سے کسی کا ہاتھ اٹھانا پسند نہ کرتی ہو۔ ایسی عورت نکاح کے بعد بھی ذواقات میں شامل رہے گی۔ نہ اس سے نسب محفوظ رہے گا اور نہ گھر میں شرم و حیاء کی فصل بارآور ہوسکے گی۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ اپنے بیٹوں کا نکاح بھی کبھی ایسے گھر میں نہ کرنا جس میں اخلاقی قدروں کی پاسداری کا چلن باقی نہ ہو۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اسے نفی کے معنی میں ہی لیا جائے اور علامہ پانی پاتی نے اپنی تفسیر مظہری میں اسی معنی میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا معنی یہ ہے کہ زانی اپنے فسق و فجور کے باعث کسی نیک خاتون سے نکاح کرنے کی طرف راغب نہیں ہوتا۔ اسی طرح نیک مرد بھی زانیہ سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتا، کیونکہ طبیعتوں کی مناسبت باہمی الفت و محبت کی علت ہے۔ جہاں طبیعتوں میں تضاد ہوگا وہاں باہمی الفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سورة میں نفی اپنے معنی پر محمول ہوگی۔ آیت میں زانی اور مشرک اور زانیہ اور مشرکہ کا ایک ساتھ ذکر بڑا معنی خیز ہے۔ اس میں شاید اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ زنا اور شرک میں ایک طرح کی مشابہت پائی جاتی ہے قدیم آسمانی صحیفوں میں مشرک کو چھنال عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ایک مشرک اپنے عقیدے کی حرمت میں کسی دوسرے کی شرکت گوارا کرتا ہے۔ اسی طرح ایک زانی اور زانیہ اخلاقی حرمت میں دوسرے کو شریک کرتے ہیں۔ اس وصفی اشتراک کی وجہ سے قرآن کریم نے یہاں زانی کے ساتھ مشرک کا ذکر فرمایا ہے اور اس میں ایک طرح سے اخلاقی حس کو مہمیز بھی کیا گیا ہے کہ جس طرح کوئی مسلمان کسی مشرکہ عورت سے اور کوئی مسلمان عورت کسی مشرک مرد سے نکاح کرنے کا تصور نہیں کرسکتے۔ اسی طرح زانی مرد اور زانی عورت سے نکاح کرنا بھی ایمانی غیرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ ذٰلِکَ کا مرجع اور اس کا مفہوم وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ مفتی محمد شفیع صاحب نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا : اس میں بعض حضرات مفسرین نے تو ذٰلِکَ کا اشارہ زنا کی طرف قرار دیا ہے تو معنی جملے کے یہ ہوگئے کہ جب زنا ایسا خبیث فعل ہے تو زنا مومنین پر حرام کردیا گیا۔ اس تفسیر پر معنی میں تو کوئی اشکال نہیں رہتا لیکن ذٰلِکَ سے زنا مراد لینا سیاق آیت سے کسی قدر بعید ضرور ہے اس لیے دوسرے مفسرین نے ذٰلِکَ کا اشارہ نکاح زانی و زانیہ اور مشرک و مشرکہ کی طرف قرار دیا ہے۔ اس صورت میں مشرکہ سے مسلمان مرد کا نکاح اور مشرک سے مسلمان عورت کا نکاح حرام ہونا تو دوسری نصوص قرآن سے بھی ثابت ہے اور تمام امت کے نزدیک اجماعی مسئلہ ہے اور زانی مرد سے پاکدامن عورت کا نکاح یا زانیہ عورت سے عفیف مرد کا نکاح حرام ہونا جو اس جملے سے مستفاد ہوگا وہ اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ عفیف مرد زانیہ عورت سے نکاح کرکے اس کو زنا سے نہ روکے بلکہ نکاح کے بعد بھی اس کی زناکاری پر راضی رہے کیونکہ اس صورت میں یہ دیوثیت ہوگی جو شرعاً حرام ہے۔ اسی طرح کوئی شریف پاکدامن عورت زنا کے خوگر شخص سے نکاح کرے اور نکاح کے بعد بھی اس کی زنا کاری پر راضی رہے۔ یہ بھی حرام ہے یعنی ان لوگوں کا یہ فعل حرام اور گناہ کبیرہ ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا باہمی نکاح صحیح نہ ہو، باطل ہوجائے۔ لفظ حرام شریعت کی اصطلاح میں دو معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ گناہ ہے اس کا کرنے والا آخرت میں مستحق سزا ہے اور دنیا میں بھی یہ عمل بالکل باطل کالعدم ہے۔ اس پر کوئی شرعی ثمرہ احکام دنیا کا بھی مرتب نہیں ہوگا جیسے کسی مشرک عورت سے یا جو عورتیں ہمیشہ کے لیے حرام ہیں ان میں سے کسی سے نکاح کرلیا تو یہ گناہ عظیم بھی ہے اور ایسا نکاح شرعاً کالعدم ہے۔ زنا میں اور اس میں کوئی فرق نہیں۔ دوسرے یہ کہ فعل حرام ہے یعنی گناہ موجب سزا ہے مگر دنیا میں اس فعل کے کچھ ثمرات رہتے ہیں۔ معاملہ صحیح ہوجاتا ہے جیسے کسی عورت کو دھوکہ دے کر یا اغوا کرکے لے آیا پھر شرعی قاعدے کے مطابق دو گواہوں کے سامنے اس کی مرضی سے نکاح کرلیا تو یہ فعل تو ناجائز و حرام تھا مگر نکاح صحیح ہوگیا۔ اولاد ثابت النسب ہوگی۔ اسی طرح زانیہ اور زانی کا نکاح جبکہ ان کا مقصود اصلی زنا ہی ہو، نکاح محض کسی دنیوی مصلحت سے کرتے ہوں اور زنا سے توبہ نہیں کرتے، ایسا نکاح حرام ہے مگر دنیوی احکام میں باطل کالعدم نہیں۔ نکاح کے ثمرات شرعیہ نفقہ، مہر، ثبوت نسب اور میراث سب جاری ہوں گے۔ اس طرح لفظ حرام اس آیت میں مشرکہ کے حق میں پہلے معنی کے اعتبار سے اور زانیہ اور زانی کے حق میں دوسرے معنی کے اعتبار سے صحیح اور درست ہوگیا۔ اس تفسیر پر آیت کو منسوخ کہنے کی ضرورت نہ رہی جیسا کہ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ان کو 80 کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر ان میں سے وہ لوگ جو توبہ کرلیں اس بہتان لگانے کے بعد اور اپنی اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے

وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْ تُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآئَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلاَ تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ لا اَلاَّالَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا ج فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 4، 5) (اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں ان کو 80 کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔ مگر ان میں سے وہ لوگ جو توبہ کرلیں اس بہتان لگانے کے بعد اور اپنی اصلاح کرلیں تو بیشک اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے) بےحیائی کے فروغ کا ایک ذریعہ قذف بھی ہے، اس کی سزا اسلام کی نظر میں بےحیائی کا ارتکاب بھی ناقابلِ برداشت ہے اور بےحیائی کا فروغ بھی۔ زنا بےحیائی کے ارتکاب کی آخری صورت ہے۔ اسلام اپنی تعلیم و تربیت، ماحول کی پاکیزگی اور قانون کی گرفت سے بےحیائی کی ہر صورت کے ارتکاب پر پہرے بٹھاتا اور ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کا بھی انتظام کرتا ہے کہ بےحیائی کے فروغ اور اس کے چرچے سے چونکہ بےحیائی کے ذوق میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کے احساس میں گندگی اترنے لگتی ہے اس لیے جن باتوں اور جن ذرائع سے بےحیائی کو فروغ ملتا ہو ان میں سے کسی بات کو بھی گوارا نہ کیا جائے۔ اس لیے اس نے مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط اور عورتوں کے بےحجابانہ اور بن سنور کے نکلنے پر پابندی لگائی۔ حتیٰ کہ عورتوں کو گفتگو کے ایسے طریقے سے بھی منع کردیا جس سے بیمار دلوں میں گناہ کی خواہش یا انگیخت پیدا ہوسکتی ہو۔ چناچہ بےحیائی کے فروغ ہی کے سلسلے کی ایک کڑی دوسروں پر تہمتیں لگانا بھی ہے۔ کسی پاکدامن مرد یا کسی پاکدامن عورت پر بدکرداری کا بہتان باندھنا جس طرح ان مرد و عورت کو جن پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے معاشرتی حیثیت اور ذاتی وجاہت سے محروم کردیتا ہے، اسی طرح معاشرے کے دیگر افراد میں بھی بےحیائی کی باتوں کو زبان پر لانے پھر دوسروں میں اسے نمک مرچ لگا کر پھیلانے اور مزے لے لے کر انھیں دہرانے کا موقع پیدا کردیتا ہے۔ اور اسی سے کردار کی معصومیت اور احساس کی پاکیزگی گدلانا شروع کردیتی ہے۔ چناچہ معاشرے کو بداخلاقی کے ایسے جراثیم اور محرکات سے بچانے کے لیے اسلام نے یہ کوشش کی ہے کہ جس طرح زنا کا ارتکاب نہیں ہونا چاہیے اسی طرح دوسروں کے حالات کا تجسس اور محض ظن و گمان پر کسی پر زنا کا الزام بھی نہیں لگنا چاہیے۔ کیونکہ اگر زبانوں کو ایسے معاملات میں کھلنے کی اجازت دی گئی تو نہ صرف اس سے عزتوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ ماحول کی پاکیزگی بھی مکدر ہو کر رہ جائے گی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی سلسلے کا ایک قانونی حکم دیا گیا ہے۔ آیت کے آغاز میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اگرچہ مذکر کے لیے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مرد تو کسی پر تہمت نہیں لگا سکتے لیکن عورتوں کو اس کی آزادی ہے کیونکہ اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ اس معاملے میں مرد اور عورت دونوں یکساں ہیں۔ جس طرح مرد کسی پر تہمت لگانے کے بعد جوابدہی پر مجبور کیا جاتا ہے اسی طرح عورت کو بھی جوابدہی کرنا ہوگی۔ الزام سے مراد زنا کا الزام ہے دوسری یہ بات کہ آیت کے الفاظ سے ہر قسم کا الزام مترشح ہوتا ہے لیکن سیاق وسباق یہ بتاتا ہے کہ یہاں الزام سے مراد ہر قسم کا الزام نہیں بلکہ مخصوص طور پر زنا کا الزام ہے۔ چونکہ پہلے زنا کا حکم بیان ہوا ہے اور آگے لعان کا حکم آرہا ہے۔ ان دونوں کے درمیان اس حکم کا آنا صاف اشارہ کر رہا ہے کہ یہاں الزام سے مراد زنا کا الزام ہے۔ اسی طرح آیت کریمہ میں پاکدامن عورتوں پر الزام لگانے کی بات ہورہی ہے۔ اس سے بھی یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے مراد وہ الزام ہے جو پاکدامنی کے خلاف ہو۔ اس پر مزید یہ کہ الزام لگانے والوں سے اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو پورے قانونِ اسلامی میں صرف زنا کا نصاب شہادت ہے۔ ان تمام قرائن کی بنا پر تمام امت کے علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت میں صرف الزامِ زنا کا حکم بیان ہوا ہے۔ مرد پر الزام بھی عورت پر الزام کی طرح موجبِ سزا ہے اس آیت کریمہ میں اگرچہ پاکدامن عورتوں پر الزام لگانے کی بات کی گئی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی مرد پر یہ بہتان لگایا جائے تو بازپرس نہ ہوگی، ہرگز نہیں بلکہ مرد اور عورت کا حکم یکساں ہے۔ یہاں فقط محصنات کا ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی اس میں الزام ایک پاکدامن عورت پر لگایا گیا تھا۔ پاکدامن مرد پر بہتان لگانے کا حکم اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ الزام لگانے والا جب کسی پر الزام لگاتا ہے تو اگر وہ شخص جس پر الزام لگایا گیا ہے عدالت سے رجوع کرتا ہے تو عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ الزام لگانے والے سے چار گواہ طلب کرے۔ اگر وہ چار گواہ پیش کردے جو گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہوں تو اس پر حد زنا جاری ہوجائے گی اور اگر وہ چار گواہ پیش نہ کرسکے تو پھر الزام لگانے والے پر حدقذف لگائی جائے گی۔ حدِقذف صرف اس شکل میں نافذ ہوگی جب الزام لگانے والے نے کسی محصنہ عورت پر اور یا کسی عورت نے محصن مرد پر الزام لگایا ہو اور پھر وہ اسے چار گواہوں سے ثابت نہ کرسکے اور اگر الزام کسی غیرمحصن یا غیرمحصنہ پر لگایا گیا ہو تو اس صورت میں اس پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگر وہ غیرمحصن شخص بدکاری میں معروف ہو تب تو اس پر الزام لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ ایسا نہ ہو تو اس کے خلاف بلاثبوت الزام لگانے والے کے لیے قاضی خود سزا تجویز کرسکتا ہے یا ایسی صورتوں کے لیے پارلیمنٹ حسب ضرورت قانون بنا سکتی ہے۔ کسی فعلِ قذف کے مستلزمِ سزا ہونے کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ کسی نے کسی پر بدکاری کا بلاثبوت الزام لگایا بلکہ اس کے لیے کچھ شرطیں قاذف (الزام لگانے والے) میں اور کچھ مقذوف (الزام کے ہدف بنائے جانے والے) میں اور کچھ خود فعلِ قذف میں پائی جانی ضروری ہے۔ اس کی تفصیلات کے تو یہ اوراق متحمل نہیں ہوسکتے۔ البتہ اس سلسلے میں کچھ ضروری باتیں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ قاذف، مقذوف اور فعلِ قذف کی شرائط قاذف میں جو شرطیں پائی جانی ضروری ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 1 وہ بالغ ہو۔ بچے پر حد قذف نہیں لگائی جاسکتی، البتہ اسے تعزیر دی جاسکتی ہے۔ 2 وہ عاقل ہو، مجنون پر حد قذف جاری نہیں ہوسکتی۔ 3 اس نے کسی جبر کے بغیر اپنے آزاد ارادے سے قذف کا ارتکاب کیا ہو۔ 4 وہ مقذوف کا باپ یا دادا نہ ہو، کیونکہ ان پر حد قذف جاری نہیں کی جاسکتی۔ مقذوف میں جو شرائط پائی جانی ضروری ہیں، وہ یہ ہیں : 1 وہ عاقل ہو، یعنی اس پر بحالت عقل زنا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ امام مالک اور امام لیث بن سعد کہتے ہیں کہ مجنون کا قاذف حد کا مستحق ہے، کیونکہ بہرحال وہ ایک بےثبوت الزام لگا رہا ہے۔ 2 وہ بالغ ہو، کیونکہ بچے پر الزام لگانا حد قذف کا موجب نہیں ہے۔ امام مالک کہتے ہیں کہ سنِ بلوغ کے قریب عمر کے لڑکے پر اگر زنا کے ارتکاب کا الزام لگایا جائے تو قاذف حد کا مستحق نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسی عمر کسی لڑکی پر زنا کرنے کا الزام لگایا جائے جس کے ساتھ مباشرت ممکن ہو تو اس کا قاذف حد کا مستحق ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف لڑکی بلکہ اس کے خاندان تک کی عزت مجروح ہوجاتی ہے۔ 3 مقذوف مسلمان ہو یعنی اس پر بحالت اسلام زنا کرنے کا الزام لگایا گیا ہو۔ 4 وہ آزاد ہو، لونڈی یا غلام پر الزام موجبِ حد نہیں ہے۔ 5 وہ عفیف اور پاکدامن ہو، یعنی اس کا دامن زنا اور شبہ زنا سے پاک ہو۔ زنا سے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر پہلے کبھی جرمِ زنا ثابت نہ ہوچکا ہو۔ شبہِ زنا سے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نکاح فاسد یا خفیہ نکاح یا مشتبہ ملکیت یا شبہ نکاح میں مباشرت نہ کرچکا ہو۔ نہ اس کے حالاتِ زندگی ایسے ہوں جن میں اس پر بدچلنی اور آبرو باختگی کا الزام چسپاں کیا جاسکتا ہو۔ ان پانچوں صورتوں میں حد نہ ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ مجنون یا بچے یا کافر یا غلام یا غیرعفیف آدمی پر بلاثبوت الزامِ زنا لگا دینے والا مستحقِ تعزیر بھی نہیں ہے۔ اگر عدالت مطمئن ہو تو ان میں سے ہر ایک پر تعزیر جاری کی جاسکتی ہے۔ وہ شرطیں جو خود فعلِ قذف میں ہونی چاہئیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 1 قاذف نے مقذوف پر اگر ایسی بدکاری کا الزام لگایا جو شہادتوں سے ثابت ہونے کے بعد موجبِ حد ہوسکتا ہو یا اس نے مقذوف کو ولدالزنا قرار دیا ہو۔ دونوں صورتوں میں الفاظ صاف اور صریح ہونے چاہئیں، کنایات کا اعتبار نہیں۔ اسی طرح جو الفاظ محض گالی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں انھیں صریح قذف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ تعریض کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ میرا ناچیز گمان یہ ہے کہ اس کا دارومدار ہر زبان کے طریق استعمال اور محل استعمال پر ہے۔ جو الزام لگانے والا ایسی شہادت پیش نہ کرسکے جو اسے جرمِ قذف سے بری کرسکتی ہو، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تین سزائیں رکھی ہیں۔ 1 80 کوڑے لگائے جائیں گے۔ 2 آئندہ مالی حقوق میں ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ 3 اسے فاسق قرار دے دیا جائے گا۔ دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص بہتان لگانے کے بعد توبہ کرلے تو حد قذف تو اس سے ساقط نہیں ہوگی البتہ اس کے فسق سے جو عذاب اسے روز قیامت دیا جانے والا تھا وہ معاف کردیا جائے گا۔ توبہ کے بعد کیا اس کی گواہی منظور ہوگی یا نہیں، اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ احناف کا مسلک یہ ہے کہ توبہ کے بعد بھی وہ مردود الشہادت رہے گا۔ دیگر آئمہ کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ اس کی تفصیل جاننے کے لیے تفسیر اور فقہ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام) میں سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ کذب بیانی کرنے والوں میں سے ہو

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص اپنے الزام میں جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ خدا کا غضب ہو اس پر اگر وہ (خاوند) سچا ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی (تو تم بڑی الجھنوں میں پڑجاتے) اور بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا دانا ہے

وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ شُھَدَآئُ اِلَّآ اَنْفُسُھُمْ فَشَھَادَۃُ اَحَدِھِمْ اَرْبَعُ شَھٰدٰتٍ م بِاللّٰہِ لا اِنَّـہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کَانَ مِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ وَیَدْرَؤُا عَنْھَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْھَدَ اَرْبَعَ شَھٰدٰتٍم بِاللّٰہِ لا اِنَّـہٗ لَمِنَ الْـکٰذِبِیْنَ ۔ لا وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْھَـآ اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 6 تا 10) (اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام) میں سچا ہے۔ اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ کذب بیانی کرنے والوں میں سے ہو۔ اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص اپنے الزام میں جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ خدا کا غضب ہو اس پر اگر وہ (خاوند) سچا ہو۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی (تو تم بڑی الجھنوں میں پڑجاتے) اور بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا دانا ہے۔ ) آیات کا شان نزول جب حدقذف کے بارے میں سابقہ آیت نازل ہوئی تو سعدبن عبادہ ( رض) نے عرض کی، یارسول اللہ ﷺ ! أَھَکَذَا اُنْزِلَتْ ” کیا یہ آیت یونہی نازل ہوئی ہے ؟ “ حضور ﷺ نے فرمایا : اے انصار ! سنتے ہو، تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے۔ سعد بولے، یارسول اللہ ﷺ ! خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے نازل فرمایا ہے، لیکن میں یہ خیال کرکے پریشان ہورہا ہوں کہ اگر میں کسی بدبخت کو اپنی بیوی کے ساتھ ملوث دیکھوں تو جب تک میں چار گواہ تلاش کرکے نہ لائوں، اس کیخلاف زبان نہیں کھول سکتا، اور اگر گواہوں کو بلانے جاؤں گا تو وہ اپنا کام تمام کرکے جا چکا ہوگا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بجائے کسی گواہ کے تلاش کرنے کے میں تو ان دونوں کا سر قلم کردوں گا۔ اس گفتگو کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایک رات حضرت ہلال بن امیہ ( رض) اپنے کھیتوں سے جب گھر آئے تو اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک آدمی کو ملوث پایا۔ انھوں نے سارا معاملہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا۔ صبح بارگاہِ نبوت ﷺ میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضور ﷺ کو یہ سن کر بڑی کوفت ہوئی۔ آپ ﷺ نے حضرت ہلال بن امیہ ( رض) سے کہا کہ تم اس پر گواہ پیش کرو، ورنہ تم پر حدقذف جاری ہوگی۔ لیکن روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہلال ( رض) بالکل مطمئن تھے، انھیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت کو محفوظ فرمائے گا، اور کوئی ایسی آیت نازل فرمائے گا جو اس الجھن کا حل پیش کردے گی۔ اسی اثناء میں آنحضرت ﷺ پر نزول وحی کے آثار نمودار ہوئے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ہلال تمہیں مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے تمہاری مشکل کا حل نازل فرما دیا۔ حضرت ہلال ( رض) نے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اسی کی امید لگائے ہوئے تھا۔ اب رسول اللہ ﷺ نے ہلال بن امیہ ( رض) کی بیوی کو بھی بلوا لیا۔ جب دونوں میاں بیوی جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے انھیں پہلے حکم خداوندی سنایا، پھر فرمایا خوب سمجھ لو کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ حضرت ہلال ( رض) نے عرض کیا، میں نے اس پر بالکل صحیح الزام لگایا ہے۔ عورت نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الزام سے انکار پر دونوں میں ملاعنت حضور ﷺ نے فرمایا، اچھا تو ان دونوں میں ملاعنت کرائی جائے۔ چناچہ پہلے حضرت ہلال ( رض) اٹھے، انھوں نے حکم قرآنی کے مطابق قسمیں کھانی شروع کیں۔ نبی کریم ﷺ اس دوران میں بار بار فرماتے رہے، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے، پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا۔ پانچویں قسم سے پہلے حاضرین نے ہلال ( رض) سے کہا خدا سے ڈرو، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ پانچویں قسم تم پر عذاب واجب کردے گی، مگر انھوں نے پانچویں قسم بھی کھالی۔ پھر عورت اٹھی اور اس نے بھی قسمیں کھانی شروع کیں۔ پانچویں قسم سے پہلے اسے بھی روک کر کہا گیا کہ خدا سے ڈر، آخرت کے عذاب کی بہ نسبت دنیا کا عذاب برداشت کرلینا آسان ہے۔ یہ آخری قسم تجھ پر عذاب الٰہی کو واجب کردے گی۔ یہ سن کر وہ کچھ دیر رکی اور جھجکتی رہی۔ لوگوں نے سمجھا اعتراف کرنا چاہتی ہے، پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کے لیے اپنے قبیلے کو رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں قسم بھی کھا گئی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا، اب جو بچہ پیدا ہو اس کی نسبت اس کی ماں کی طرف کی جائے، اور ساتھ ہی ایک اور حکم بھی دیا کہ اگر اس کے بعد کسی نے اس عورت کو زنا سے متہم کیا یا اس کے بچے کو حرامی کہا تو اس پر حدقذف لگائی جائے گی۔ اس ارشاد سے واضح ہوگیا کہ جس کو شریعت کسی الزام سے بری کردے پھر اس پر کسی کو زبان درازی کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ اس طریقہ کار کو لعان کہتے ہیں۔ لعان کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور پھر وہ عورت زندگی بھر اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ آخری آیت کریمہ کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو ہم نے اوپر کیا ہے، اور دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا اور صاحب حکمت ہے تو تم اس کی پکڑ میں آجاتے۔ یہ آیت دراصل تنبیہ اور تذکیر کی آیت ہے اور اس میں جوابِ شرط نحو کے عام قاعدے کے مطابق محذوف ہے۔ ہم نے ترجمے میں اس کو کھول دیا ہے اور آگے آیت 14 اس کی تائید کررہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی معاشرہ اخلاقی کمزوریوں سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کو مناسب قانون نہ دیا جائے یا اس کی جہت متعین نہ کی جائے یا اس کی تعلیم و تربیت پر پورا دھیان نہ دیا جائے تو وہ معاشرہ کبھی اپنی اخلاقی منزل کو نہیں پاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و کرم ہے کہ منافقین نے تو اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے اور سازشیوں نے اپنے مذموم ارادے پورا کرنے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے برے ارادوں اور مساعی ذمیمہ کا علاج کرتے ہوئے ایسا قانون دیا اور ایسے نصائح سے نوازا جس نے مسلمان معاشرے کی نہ صرف کمزوریوں کو دور کیا بلکہ ان میں بہتر سے بہتر اخلاق کے لیے زمین ہموار کردی۔ اور شاید ایک اور بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح جرمِ زنا کی انتہائی سزا مقرر فرمائی اسی طرح اس کے ثبوت میں نہایت احتیاط سے کام لیا اور ہر طرح کی بےاحتیاطی کرنے والوں کو سخت سزا کی تنبیہ کی، لیکن یہی احتیاط جس میں کوتاہی سے حد قذف تک نوبت پہنچ سکتی تھی، میاں بیوی کے معاملے میں اگر اسے باقی رکھا جاتا تو شوہر اپنی بیوی کی بدچلنی پر کڑھتا اور خون کے آنسو پیتا، لیکن اس کا کوئی علاج نہ کر پاتا۔ اللہ تعالیٰ نے خاص کرم فرمایا کہ اس نے ان پیچیدگیوں سے نجات کا راستہ اس امت کو دیا جس کی وجہ سے بداخلاقی کا انسداد بھی ہوگیا اور دلوں کو اطمینان بھی مل گیا۔
Ayahs 24:11–12

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا خیال نہ کرو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو ایک عذاب عظیم ہے

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے آپ سے نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک صریح بہتان ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآئُ وْ بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِّنْکُمْط لاَ تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّـکُمْ ط بَل ھُوَ خَیْرٌلَّـکُمْ ط لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْھُمْ مَّا اکْـتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِج وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْھُمْ لَـہٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (النور : 11) (بیشک جو لوگ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہے، تم اس واقعہ کو اپنے لیے برا خیال نہ کرو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو ایک عذاب عظیم ہے۔ ) اس آیت کریمہ سے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) پر لگائے جانے والے بہتان سے براءت کا اعلان کیا جارہا ہے اور اس کے ضمن میں اس بہتان کی حقیقت اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات سے متعلق ضروری ہدایات دی جارہی ہیں۔ اِفک کا مفہوم سب سے پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس بہتان کو افک کے نام سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اِفک جھوٹی، من گھڑت، خودتراشیدہ اور خلاف حقیقت بات کو کہتے ہیں۔ اس بہتان کو افک کے نام سے تعبیر فرما کر بہتان کی قلعی کھول دی گئی ہے کہ یہ بہتان جن لوگوں نے لگایا ان کی سیرت و کردار اور اسلام کے بارے میں ان کے ارادے بجائے خود اس بات کی شہادت ہیں کہ اس بہتان کی کوئی حقیقت نہیں اور جس ذات عزیز پر لگایا گیا اس کا مقام و مرتبہ، اس کا سیرت و کردار، اس کی اعلیٰ نسبتیں اور ذات رسالت کے لیے اس کا انتخاب، ان میں سے ایک ایک بات اس بہتان کے افک ہونے کی قطعی شہادت دیتی ہے چونکہ یہ بہتان نہ اپنے اندر کوئی اصل رکھتا تھا اور نہ کوئی وزن۔ اس لیے پروردگار نے اس کی طرف اشارہ ضرور کیا لیکن اس کی تفصیلات کو ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا، اور مزید یہ بات کہ جس طرح باغیرت بیٹے کے سامنے اس کی عفیفہ ماں پر لگائے جانے والے بہتان کا تذکرہ بجائے خود ایک عیب ہوتا ہے اور بیٹا کبھی اسے برداشت نہیں کرتا کہ کوئی شخص اس کی ماں کا تذکرہ اس طرح کے بہتان کے حوالے سے کرے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی حیثیت اس امت کے لیے حقیقی ماں سے بھی بڑھ کر ہے۔ جن لوگوں نے ان کے بارے میں یہ ناپاک جسارت کی ہے یہ جسارت بجائے خود اسلام کے بارے میں ان کے بغض کو ثابت کرنے والی ہے، اور وہ اپنے اسی بغض کے باعث مسلمانوں سے کاٹ دیئے جائیں گے اور قیامت کے دن عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے۔ لیکن امت کے کسی ایک فرد کو بھی یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اس بہتان کو اپنی زبان پر لائے۔ اس لیے پروردگار نے اس کی طرف اشارہ کرنا کافی سمجھا۔ لیکن تفسیر کی ضرورت کے تحت مجبوری ہے کہ تفسیر کے قارئین کو بتایا جائے کہ واقعہ کی اصل حقیقت کیا تھی۔ یوں تو ہم اس کی تفصیل سورة کے تعارف میں ذکر کرچکے ہیں لیکن ہم باردیگر ربط کلام کے لیے نہایت اختصار سے ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ واقعہ افک کا مختصر ذکر 6 ہجری میں غزوہ بنی مصطلق پیش آیا۔ آنحضرت ﷺ اس غزوہ سے فتح مند ہو کر واپس تشریف لا رہے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) ایک الگ اونٹ پر آپ ﷺ کی ہم سفر تھیں۔ راستے میں فوج نے رات کے وقت غالباً مدینہ سے ایک منزل دور پڑائو ڈالا۔ رات کے پچھلے پہر ام المومنین ضرورت سے باہر نکلیں۔ اتنے میں فوج کے کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ ام المومنین رفع حاجت سے فارغ ہو کر واپس آرہی تھیں، معلوم ہوا کہ وہیں آپ ( رض) کا ہار گرگیا ہے۔ آپ ( رض) کو ہار ڈھونڈتے کچھ دیر لگی۔ اسی اثناء میں قافلہ روانہ ہوگیا۔ ام المومنین کے ساربان اور ان کے ساتھی آپ ( رض) کے ہودج کو اٹھاتے ہوئے یہ محسوس نہ کرسکے کہ آپ ( رض) ہودج میں موجود نہیں ہیں۔ ام المومنین جب پڑائو کی جگہ پر واپس آئیں اور دیکھا کہ قافلہ روانہ ہوگیا ہے تو شب میں اس کے سوا انھیں اور کوئی تدبیر نہ سوجھی کہ وہیں ٹھہر جائیں تاآنکہ اللہ تعالیٰ کوئی راہ پیدا کردے۔ حضرت صفوان صحابی اس خدمت پر مامور تھے کہ وہ قافلہ کے پیچھے پیچھے چلیں تاکہ بھولی بسری چیزوں کا جائزہ لے سکیں۔ جب صبح کو پڑائو کی جگہ پر پہنچے اور دیکھا کہ ام المومنین پیچھے رہ گئی ہیں تو انھوں نے اِنَّا لِلّٰہِپڑھا۔ ان کی آواز سے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) اٹھ بیٹھیں۔ انھوں نے اپنا اونٹ پاس لا کر بٹھا دیا۔ ام المومنین اس پر سوار ہوگئیں۔ انہوں نے مہار پکڑکر اونٹ کو قافلے سے جاملایا۔ فوج کے کوچ اور مقام کے دوران میں اس قسم کے واقعہ کا پیش آجانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ لیکن منافقین نے اس ذرا سی بات کو ایک افسانہ بنادیا۔ چونکہ یہ بات سراسر بےاصل تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے افک قرار دیا۔ سفر سے واپسی پر ام المومنین بیمار پڑگئیں۔ کافی دنوں کے بعد اجازت لے کر اپنے والدین کے پاس تشریف لے گئیں، لیکن انھیں کچھ پتہ نہیں کہ باہر ان کے بارے میں کیا غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ اپنے والدین کے گھر جب انھیں علم ہوا تو ان کی دنیا اندھیر ہوگئی۔ نہ دن کو آرام نہ رات کو چین، ہر وقت رونے سے کام۔ آخر ایک روز آنحضرت ﷺ گھر میں تشریف لائے اور وہیں آپ ﷺ پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی۔ جب وہ کیفیت دور ہوئی تو حضور ﷺ بےحد خوش تھے۔ آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے پہلی بات جو فرمائی وہ یہ تھی کہ مبارک ہو عائشہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری براءت نازل فرما دی اور اس کے بعد حضور ﷺ نے دس آیتیں پڑھ کر سنائیں جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ ( رض) کی براءت کرنے سے پہلے پروردگار نے پورا ایک رکوع زنا اور قذف اور لعان کے احکام کے بارے میں وقف کیا ہے۔ توجہ شاید اس طرف دلانی ہے کہ زنا کے الزام کا معاملہ کوئی معمولی بات نہیں، بالخصوص وہ امت جس کا پیغمبر دنیا میں مکارمِ اخلاق کا پیکر بن کر آیا اور جس کا سب سے بڑا ہدف یہ ہے کہ وہ امت کو حُسنِ اخلاق کے زیور سے آراستہ کرے جس کے خیالات، تصورات، افکار، خواہشات، رجحانات اور اعمال اس قدر پاکیزہ ہوں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اندر حیاء کی تلقین رکھتا ہو۔ بےحیائی کی پرچھائیں بھی اس امت کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اس کے نوجوان ایسی پاکیزہ جوانی کے حامل ہوں جو حفظ فروج اور غض بصر کی احتیاطوں سے گراں بار ہوں۔ ایسی امت اور اس کے معاشرے میں زنا کا ذکر ایک زلزلہ برپا ہونے سے کم نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے اپنے معاشرے کو شرم و حیاء کا جوہر دینے کے لیے جس تعلیم سے آراستہ کیا اور ان کے دل و دماغ کو پاکیزہ بنانے کے لیے تزکیہ کی جس تربیت سے گزارا یقینا اس میں کہیں کوئی خامی باقی رہ گئی ہے۔ چناچہ ایسے سوتوں کو بند کرنے کے لیے جہاں سے بےحیائی کے جراثیم داخل ہوسکتے ہوں ضروری ہے کہ ایک سخت قانون نافذ کیا جائے جس سے وہ لوگ جو اصلاحی تدابیر سے متاثر ہونے کی بجائے ابھی تک اپنے اندر برائی کے میلانات رکھتے ہیں ان کا علاج کیا جائے اور معاشرے کو ان کے اثرات سے بچایا جائے اور جو لوگ محض تفریحِ طبع کے طور پر لوگوں کی عزتوں سے کھیلتے اور پاکدامن مرد و عورت پر ایسے گھنائونے الزامات لگا کر بےحیائی کے فروغ کا راستہ کھولتے ہیں انھیں سخت سزا دے کر معاشرے کو ان کے اثراتِ بد سے بچایا بھی جائے اور ان کے اصل چہرے بھی نمایاں کیے جائیں۔ اور اگر خدانخواستہ بےحیائی کے اثرات گھروں میں داخل ہوجائیں تو انھیں بھی ایک سخت قانون کا پابند بنا کر گھروں کو صحیح معنی میں نئی نسل کا وہ حصار بنایا جائے جس میں حتی الامکان کوئی شیطانی اثر اپنا راستہ نہ بنا سکے۔ بہتان لگانے والے کون تھے ؟ آیتِ کریمہ میں بہتان کی حقیقت کھولنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہر ذی فہم اور سنجیدہ شخص واقعہ کے مَالَـہٗ وَمَا عَلَیْہِ کو دیکھ کر اچھی طرح اندازہ کرچکا تھا کہ اس بہتان کی کوئی حقیقت نہیں، لیکن عام سادہ دل مسلمان اس پر اپیگنڈے سے کسی نہ کسی حد تک ضرور متاثر ہورہے تھے جو شب و روز پوری قوت سے جاری تھا۔ اور چند گنتی کے افراد تو باقاعدہ اس بےہودہ بات کو پھیلانے میں شریک ہوچکے تھے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے تمام ذمہ دار لوگ اس انتظار میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی صورتحال میں کوئی واضح احکام اتریں تاکہ اس پریشانی سے نجات ہوسکے۔ لیکن جیسے جیسے وحی الٰہی کے نزول میں تاخیر ہورہی تھی، ویسے ویسے مسلمانوں کی خاموشی گہری ہوتی جارہی تھی اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ قرآن کریم نے اس تمام صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کی پریشانی اپنی جگہ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس لایعنی اور بےہودہ بات کو بتنگڑ بنا کر پھیلا رہے ہیں وہ کون لوگ ہیں، وہ خود تم ہی میں سے ایک گروہ ہے۔ اس میں اشارہ منافقین کی طرف ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ابھی تک مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے ہیں اور سادہ دل مسلمانوں کو یقین دلائے رکھتے ہیں کہ ہم بھی تمہاری طرح مسلمان ہیں اور ہمیں بھی اسلام اسی طرح عزیز ہے جیسے تمھیں۔ اور پھر اسی پردے میں ان کے ذہن میں وہ باتیں اتاری جاتی ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہوتی ہیں۔ یہ بہتان چونکہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے تراشا اور پھیلایا تھا اس لیے مِنْکُمْ سے ان کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ یہ لوگ تمہارے قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور بعض مسلمانوں کی سادگی کا عالم یہ ہے کہ وہ اب بھی ان کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں اور بعض طبیعتوں میں ان کے لیے جو نرم گوشہ پایا جاتا ہے اس کا اظہار تو اسی واقعہ کے ضمن میں اس وقت ہوا جب قبیلہ اوس کے سردار حضرت اسید بن حضیر ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ﷺ یہ شخص اگر خزرج سے تعلق رکھتا ہے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیجیے ہم اس کی تعمیل کریں گے، تو حضرت سعد بن عبادہ ( رض) اپنے تمام تر اخلاص اور دینی خدمات کے باوجود عبداللہ بن ابی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ منافقین کس طرح ابھی تک مسلمانوں کے دلوں میں زندہ تھے۔ شر میں خیر کے پہلو دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تم یہ گمان مت کرو کہ منافقین کی یہ کاوشیں تمہارے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اور ایسا مکروہ بہتان تمہارے لیے شر کا باعث بنے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ اس میں تمہارے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اس حوالے سے جب ہم غور کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خیر کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ مسلمان اپنی سادگی سے جن منافقین کو اپنا سمجھ رہے تھے اس واقعہ نے ان کو یقین دلا دیا کہ یہ تو سانپوں کا وہ گروہ ہے جو ہماری آستینوں میں گھسا ہوا ہے اور جب بھی اس کو موقع ملتا ہے یہ ہمیں ڈسنے کوشش کرتا ہے۔ ان کی اس بہتان طرازی نے پوری طرح ان کا گھونگٹ الٹ ڈالا اور مسلمانوں کو ان کا اصل چہرہ دیکھنے کا موقع مل گیا۔ دوسرا خیر کا پہلو اس میں یہ تھا کہ اس واقعہ کی اشاعت نے سادہ دل مسلمانوں کی اس کمزوری کو نمایاں کردیا کہ اگر کوئی شخص پر اپیگنڈے کے زور سے ان سے کوئی ایسی بات منوانا چاہے یا ان کی زبانوں پر لانا چاہے جو کسی طرح بھی ان کے لیے مناسب نہیں، تو اسے کہیں نہ کہیں اس کے لیے مناسب جگہ مل جاتی ہے۔ چناچہ اس واقعہ کے نتیجہ میں مسلمانوں نے خود اپنی اس کمزوری کو محسوس کیا اور پروردگار نے اس سورة میں ایسے احکام نازل فرمائے جس سے مسلمانوں میں اس طرح کی کمزوریوں کا علاج ہوگیا۔ اور تزکیہ کا وہ پہلو جو نگاہوں سے اوجھل تھا وہ نکھر کر سامنے آگیا۔ اور خیر کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ نے معاشرے کی اصلاح و تنظیم سے متعلق بہت سے احکام و ہدایات کے نزول کے لیے ایک نہایت سازگار فضاء پیدا کردی۔ ان احکام کو تو بہر صورت مسلمانوں پر تو لاگو ہونا ہی تھا لیکن اگر یہ فضاء پیدا نہ ہوتی تو شاید ان احکام کی حقیقی قدر و قیمت بہت سے مسلمانوں پر واضح نہ ہوسکتی۔ اسی بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تمام اسلام دشمن قوتیں میدانِ حرب و ضرب میں شکست کھا جانے کے بعد یہ فیصلہ کرچکی تھیں کہ مسلمان چونکہ اخلاقی میدان میں اتنا واضح تفوق رکھتے ہیں کہ اس کا مقابلہ کرنا تو ممکن نہیں البتہ یہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ ان کے لیے ایسے مسائل پیدا کردیئے جائیں کہ وہ آپس میں الجھ جائیں اور وہ کمزوریاں جو اختلافات اور اتہامات کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتی ہیں اس میں پھنس کر رہ جائیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ اس بہتان نے اگرچہ مسلمانوں کو سخت ابتلاء میں ڈالا لیکن وہ بجائے کسی کمزوری کا شکار ہونے کے اعلیٰ کردار کا نمونہ ثابت ہوئے۔ نبی کریم ﷺ ایک ماہ تک سخت اذیت میں مبتلا رہے لیکن آپ ﷺ کے ضبط و تحمل نے کہیں بھی آپ ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ آپ ﷺ کا ایک اشارہ ان لوگوں کی گردنیں اڑا دینے کے لیے کافی تھا جنھوں نے آپ ﷺ کی عزت پر حملہ کیا تھا، مگر آپ ﷺ نہایت کریم النفسی سے وحی الٰہی کا انتظار کرتے رہے اور کہیں بھی آپ ﷺ نے انتقامی کارروائی کا تأثر نہیں دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کی لخت جگر کو اس الزام کا ہدف بنایا گیا، لیکن آپ ( رض) شدتِ غضب میں بےقابو ہونے کی بجائے نہایت صبر سے معاملہ کو دیکھتے رہے۔ آپ ( رض) کا اپنا بھانجا باوجود اس کے کہ آپ ( رض) اس کی کفالت کرتے تھے اور وہ آپ ( رض) کے احسانات کا مرہون تھا وہ برابر آپ ( رض) کے دل و جگر پر تیر چلاتا رہا۔ لیکن نہ آپ ( رض) نے اس سے قرابت داری کا تعلق توڑا اور نہ اس کے خاندان کی کفالت سے انکار کیا۔ سوکن کا رشتہ ہر معاشرے میں بدنام اور نازک رشتہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس ابتلاء کے موقع پر کسی نے بھی کوئی منفی رویہ اختیار نہ کیا۔ حضرت عائشہ ( رض) خود فرماتی ہیں ازواج رسول اللہ ﷺ میں سب سے زیادہ حضرت زینب ( رض) ہی سے میرا مقابلہ رہتا تھا، مگر جب رسول اللہ ﷺ نے اس واقعہ کے ضمن میں ان سے پوچھا کہ عائشہ کے متعلق تم کیا جانتی ہو ؟ تو انھوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ خدا کی قسم میں اس کے اندر بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتی۔ حضرت عائشہ ( رض) کی اپنی شرافتِ نفس کا حال یہ تھا کہ حضرت حسان ابن ثابت نے انھیں بدنام کرنے میں نمایاں حصہ لیا، مگر وہ ان کے ساتھ ہمیشہ عزت و تواضع سے ہی پیش آتی رہیں۔ یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جن کا اس معاملے سے براہ راست تعلق تھا، جہاں تک عام مسلمانوں کا معاملہ ہے ان کی پاکیزہ نفسی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری ( رض) سے ان کی بیوی نے جب ان افواہوں کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے، ایوب کی ماں ! اگر تم عائشہ کی جگہ اس موقع پر ہوتیں تو کیا ایسا فعل کرتیں ؟ تو وہ بولیں خدا کی قسم میں یہ حرکت ہرگز نہ کرتی۔ حضرت ابوایوب نے کہا عائشہ تم سے بدرجہا بہتر ہیں، اور میں کہتا ہوں اگر صفوان کی جگہ میں ہوتا تو اس طرح کا خیال تک نہ کرسکتا تھا۔ صفوان تو مجھ سے اچھا مسلمان ہے۔ اس طرح منافقین جو کچھ چاہتے تھے نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا اور مسلمانوں کا اخلاقی تفوق پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگیا۔ اس واقعہ میں خیر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قومیں ہمیشہ عقیدت میں غلو کے باعث گمراہ ہوتی رہی ہیں۔ عیسائی آج تک اس غلو سے باہر نہ نکل سکے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم رسول کو خدا کا بیٹا بنا ڈالا لیکن اللہ تعالیٰ کے اس آخری دین کو چونکہ اس طرح کے ہر خطرے سے محفوظ رکھنا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں (حالانکہ آپ ﷺ سیدالاولین والآخرین ہیں) ایسے حالات پیدا فرمائے جس نے مسلمانوں کے عقائد کی صحیح تربیت کی اور ان کے خیالات کو صحیح نہج پر قائم رکھا۔ قوموں نے اپنے نبیوں کے بارے میں جو غلط تصورات باندھے ان میں سے ایک غلط تصور ہمیشہ ان کی غیب دانی کا رہا ہے۔ لیکن قرآن کریم میں جا بجا آنحضرت ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا گیا کہ میں غیب نہیں جانتا، عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، میں وہی جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھ پر وحی کرتا ہے۔ میں دنیا کا سب سے بڑا عالم ہوں، انسانی اصلاح اور ہدایت کے حوالے سے کوئی میرا ہمسر نہیں۔ باایں ہمہ میں وہی کچھ جانتا ہوں جو میرا اللہ مجھے عطا فرماتا ہے۔ اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک مہینے تک سخت پریشان رہے۔ کبھی خادمہ سے پوچھا، کبھی ازواجِ مطہرات سے، کبھی حضرت علی ( رض) سے اور کبھی حضرت اسامہ ( رض) سے۔ بالآخر خود حضرت عائشہ ( رض) سے اس معاملے کے بارے میں استفسار کیا۔ لیکن آپ ﷺ کو حقیقت کا علم اس وقت تک نہ ہوا جب تک آپ ﷺ پر وحی کا نزول نہیں ہوا۔ آپ ﷺ کے چہرے پر اس وقت مسکراہٹ آئی جب اللہ تعالیٰ نے ام المومنین کی براءت کے لیے سورة النور کی دس آیتیں نازل فرمائیں۔ اور ان آیتوں کے ذریعے آپ ﷺ کو وہ علم حاصل ہوگیا جو اس سے پہلے نہ تھا۔ یہ ایک بالکل سادہ سی بات ہے جو اس واقعہ میں معمولی غور و فکر سے بھی سامنے آجاتی ہے، لیکن نہ جانے کچھ لوگوں کو اس بات کا خیال کیوں ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ اس بات کو تسلیم کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو جس بات کا چاہتا ہے علم دیتا ہے۔ وہ اس بات پر زور لگاتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول وحی الٰہی کے نزول سے پہلے ہی سب کچھ جانتے ہیں۔ عام حالات پر تبصرے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے بھی اس بہتان کو پھیلانے میں حصہ لیا ہے وہ اس کے بارگناہ سے بچ نہیں سکتا۔ اور جتنا حصہ لیا ہے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کے یہاں معتوب ہوگا۔ اور جس شخص نے اس معاملے میں سب سے زیادہ حصہ لیا بلکہ اس بہتان کو تراشا وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں عذاب عظیم کا مستحق ہوگا۔ اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف ہے۔ بعض لوگوں نے اس اشارے کا مشارالیہ بعض دوسرے لوگوں کو ٹھہرایا ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ روایات میں صرف چند آدمیوں کے نام ملتے ہیں جنھوں نے اس الزام کی نشرواشاعت میں نمایاں حصہ لیا۔ ان میں دو منافق ہیں عبداللہ بن ابی اور زید بن رفاعہ۔ اور تین مسلمان ہیں مسطح بن اثاثہ، حسان بن ثابت اور حمنہ بنت جحش۔ تین مسلمانوں پر حد قذف جاری کی گئی۔ منافقین کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے کہ ان پر حد جاری کی گئی یا انھیں قیامت کے عذاب کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ لَوْلَآاِذْ سَمِعْـتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًالا وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ۔ (النور : 12) (ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے آپ سے نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک صریح بہتان ہے۔ ) نامناسب بات پر مسلمانوں کا ردعمل کیا ہونا چاہیے واقعہ افک کے بارے میں جس طرح کچھ زبانوں کو کھلنے کا موقع ملا اور کچھ طبیعتیں ان کے پر اپیگنڈے سے متاثر ہوئیں اور بیشتر مسلمان جس طرح زبانیں بند کیے غم میں ڈوبے رہے اور ایک ایسا اجتماعی ردعمل سامنے نہیں آیا جس سے پہلے ہی مرحلے میں زبانیں بند ہو کے رہ جاتیں۔ اس پر توجہ دلاتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہے ہیں کہ مسلمانوں جب تم نے اپنے کانوں سے یہ افواہ سنی تو تم اس بات کا خیال کیوں نہ کرسکے کہ تمام مسلمان جسدِ واحد کی مانند ہیں۔ جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بات کہی جاتی ہے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلمانوں کے جسم کے کسی حصے کو چھیدنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کسی مسلمان بھائی کی عزت پر حملہ درحقیقت ہر مسلمان کی عزت پر حملہ ہے۔ اس امت کو تعلیم و تزکیہ کے جن مراحل سے گزارا گیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جن مکارمِ اخلاق کی ان میں تخم ریزی کی گئی ہے ان کی موجودگی میں اس طرح کی افواہوں کا جنم لینا اور پھر ان کا زبانوں پر چڑھ جانا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کے احساسات میں ابھی تک محبت کا وہ رنگ پیدا نہیں ہوا جس سے اجتماعی یکرنگی وجود میں آتی ہے اور وہ اپنائت پیدا نہیں ہوئی جس سے مختلف قالب یکجان ہوجاتے ہیں اور امت کے تمام افراد جسدِواحد کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ اور وہ جب کسی دوسرے کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس طرح سوچتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہوتی تو فوراً طبیعتوں میں یہ ردعمل پیدا ہونا چاہیے تھا کہ اگر میں سفر میں تنہا کسی عورت کو دیکھتا تو یقینا اسے اپنی بہن سمجھتا اور کبھی کوئی ناشائستہ تصور بھی میرے ذہن میں راہ نہ بنا سکتا۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ صفوان میرے ہی جسم کا ایک حصہ ہیں اور ہم ایک ہی نوبہار کے پروردہ ہیں اور ہمیں ایک ہی فکر اور عقیدے نے وجود بخشا ہے، تو میں ان کے بارے میں یہ کیسے گمان کرسکتا ہوں کہ وہ ام المومنین کو دیکھ کر جبکہ وہ ان کے لیے حقیقی ماں سے بڑھ کر محترم ہیں اپنے دل میں کوئی نامناسب جذبہ محسوس کرتے۔ اگر ایسے ہی تصورات تمام دلوں میں پیدا ہوتے تو منافقین کی زبانیں کبھی کھلنے کا حوصلہ نہ کرسکتیں۔ شاید اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ مومن اپنے ایمان کی سلامتی کے ساتھ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے بارے میں اس وقت تک حُسنِ ظن رکھا جائے جب تک دلیل سے یہ بات ثابت نہ ہوجائے کہ وہ حُسنِ ظن کا مستحق نہیں رہا۔ اسی کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ جب کسی مسلمان کے بارے میں کوئی نازیبا بات کانوں تک پہنچے تو سننے والا مسلمان اسے فوراً جھٹک دے اور دل میں اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں اس وقت تک بدگمانی نہ آنے دے جب تک کہ حالات و شواہد اڑتی ہوئی بات کو سچا ثابت نہ کردیں، بلکہ اسلام نے اس سے بھی بڑھ کر ایک مومن کو یہ حق دیا ہے کہ اگر کسی دوسرے مومن کے سامنے اس کی عزت پر حملہ کیا جارہا ہو تو دوسرے مسلمان بھائی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اگر اس کا ازالہ کرسکتا ہو تو ضرور کرے اور اگر مدافعت کرسکتا ہو تو مدافعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے۔ قرنِ اول میں مسلمانوں کا طرزعمل ہم یہی دیکھتے ہیں۔ وہ کسی مسلمان کے بارے میں بغیر ثبوت کے کوئی ناشائستہ بات سننے کے روادار نہ ہوتے تھے۔ لیکن جب مسلمانوں میں سیرت و کردار کا قحط پیدا ہوا اور رفتہ رفتہ مسلمان ہر سطح سے گرتے چلے گئے تو اب حال یہ ہے کہ کسی کے بارے میں اگر کوئی نامناسب بات کہی جاتی ہے تو دل اسے سوغات سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ اور زبانیں اسے زیب داستاں بنا لیتی ہیں۔ کان انھیں آویزہ گوش تصور کرتے ہیں اور جو اخبار یا مجلہ ایسی بےسروپا افواہیں پھیلانے میں سبقت کرجاتا ہے اس کی اشاعت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ تباہی مسلمان معاشرے میں اسی وجہ سے آئی ہے کہ مسلمانوں میں باہم جسدِواحد کا تصور ختم ہوگیا اور باہمی حُسنِ ظن کی بجائے بدگمانیوں کو وطیرہ بنا لیا ہر شخص اپنی ذات کے گنبد میں مست رہنے لگا، مفادات اور خواہشوں نے عقلوں پر پردے ڈال دیئے۔ چناچہ قرآن کریم اسی بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کررہا ہے کہ تم میں تو کوئی ایسی کمزوری نہیں ہونی چاہیے۔ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ جیسے ہی یہ بات تمہارے کانوں میں پہنچی تم صاف اعلان کردیتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان اور ایک صریح تہمت ہے، ہم کبھی اسے قبول نہیں کرسکتے۔
Ayah 24:13

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

وہ لوگ اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں

لَوْلاَ جَآئُ وْ عَلَیْہِ بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآئَ ج فَاِذْلَمْ یَاْ تُوْا بِالشُّھَدَآئِ فَاُوْلٰٓئِکَ عِنْدَاللّٰہِ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَ ۔ (النور : 13) (وہ لوگ اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ کیوں نہ لائے، تو جب یہ لوگ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ ) شہادت ہی اصل ثبوت ہے ذہن میں اس بات کو تازہ کیجیے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) ایک غلط فہمی کے باعث قافلے سے پیچھے رہ گئیں۔ حضرت صفوان ( رض) اپنے معمول کے مطابق قافلے کے بعد قافلے کے سامان کی دیکھ بھال کرتے ہوئے وہاں پہنچے۔ انھوں نے جیسے ہی آپ کو دیکھا، نہایت تاسف کا اظہار کیا، خاموشی سے قریب لا کر اونٹ بٹھایا، آپ ( رض) اس پر سوار ہوگئیں، وہ مہار پکڑ کر پیدل چلتے ہوئے قافلے تک جا پہنچے اور آپ ( رض) کو آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا دیا۔ جو شخص غیرجانبداری اور خالی الذہن ہو کر اس واقعہ کو دیکھے گا اسے اس میں دور دور تک کوئی ایسی بات دکھائی نہ دے گی جس سے الزام کی بو آتی ہو، اور کوئی شخص یہ سوچنے کی کبھی غلطی نہیں کرسکتا کہ حضرت عائشہ ( رض) قصداً پیچھے رہ گئی ہوں، کیونکہ آپ ( رض) کے نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ حضرت صفوان سے کوئی تعلقات تھے۔ ایسی صورتحال میں اس واقعہ سے الزام کشید کرنا ایک مذموم اور مسموم ذہن کی کاوش تو ہوسکتی ہے اور کسی کی نہیں۔ اور ایسی کاوش کو اسی صورت میں درخوراعتنا سمجھا جاسکتا ہے جب الزام لگانے والا چار گواہوں سے اس الزام کو ثابت کرے۔ کیونکہ گواہوں کے علاوہ اس الزام کا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ سورة النساء میں ایسے الزامات کے ثبوت کے لیے چار گواہوں کی شرط پہلے سے اسلامی قانون کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ الزام لگانے والے گواہ پیش نہیں کرتے تو پھر اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی نگاہ میں یہی لوگ جھوٹے ہیں، اور ان پر حدقذف جاری ہونی چاہیے۔ چہ جائیکہ ان کی باتوں کو سننے کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا جائے۔