24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsروح القرآن

Ayahs 24:14–15

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں، تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں ایک بڑا عذاب تمہیں آ پکڑتا

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

ذرا خیال کرو (اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کررہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا اور تم اس کو معمولی بات خیال کررہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی

وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْ مَآ اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اِذْتَلَقَّوْنَہٗ بِاَلْسِنَتِکُمْ وَتَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِکُمْ مَّا لَیْسَ لَـکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَّتَحْسَبُوْنَـہٗ ھَیِّنًا ق صلے وَّھُوَعِنْدَاللّٰہِ عَـظِـیْمٌ۔ (النور : 14، 15) (اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں، تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں ایک بڑا عذاب تمہیں آ پکڑتا۔ ذرا خیال کرو (اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کررہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا اور تم اس کو معمولی بات خیال کررہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی۔ ) اَفَاضَ فِی الْحَدِیْثِکا مفہوم ہے بات میں سے بات نکالتے چلے جانا، اور بات کا بتنگڑ بنادینا۔ ایک تنبیہ واقعہ کی سنگینی کے باعث مزید تنبیہ فرمائی جارہی ہے کہ جس طرح تم میں سے ایک محدود گروہ نے سفر کے اس معمولی واقعہ کو بہت بڑا حادثہ بنادیا اور پھر اپنی شبینہ مجلسوں اور تنہائی کی محفلوں میں گفتگو کا موضوع بنائے رکھا اور بعض مخلص مسلمانوں نے کسی نہ کسی حد تک اس کا اثر قبول کرلیا، یہ ایسا واقعہ نہ تھا جسے آسانی سے برداشت کرلیا جاتا۔ چونکہ یہ امت ابھی زیرتربیت ہے اور آئے دن کے غزوات اور ہنگامی حالات فضاء میں ارتعاش پیدا کیے رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت میں تسلسل اور یکسانی باقی نہیں رہتی اور ان ہی حالات کے باعث منافقین کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ان باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے پروردگار بعض لوگوں پر سخت گرفت کی بجائے اور یہ بھی محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ وہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے، ورنہ جس طرح کی صورتحال پیدا کردی گئی تھی اس میں تو شدید اندیشہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بہت بڑا عذاب نازل ہوجاتا۔ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ تم خود غور کرو کہ جب تم میں سے کچھ لوگوں کی زبانیں اس غمناک واقعہ کو مزے لے لے کر پھیلا رہی تھیں اور تم اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہہ رہے تھے جس کی حقیقت کی تمہیں کوئی خبر نہ تھی۔ اور تم یہ سمجھ رہے تھے کہ کسی مرد و عورت کے بارے میں بدگمانیاں پھیلانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، لوگوں میں ایسے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں، اس لیے اگر اس واقعہ میں دلچسپی لی جائے اور اسے غیرسنجیدہ گفتگو کا موضوع بنا لیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ لیکن تمہیں معلوم نہ تھا کہ یہ واقعہ کسی عام مرد و عورت کا واقعہ نہیں۔ جس عظیم خاتون کے بارے میں یہ الزام لگایا جارہا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی زوجہ محترمہ، آپ ﷺ کی محبوب رفیقہ حیات، مسلمانوں کی ماں اور حقیقی مائوں سے بڑھ کر واجب الاحترام ہیں اور ان کے والدگرامی مسلمانوں کے سب سے بڑے محسن، آنحضرت ﷺ کے محرم اسرار اور آنحضرت ﷺ کے بعد مرجع خلائق ہیں اور خود آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کی قلبی اذیت کا سب سے بڑا سبب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺ کی اس محبوب بیوی پر الزام لگایا گیا جو آپ ﷺ کی سب سے زیادہ توجہات کا مرکز اور آپ ﷺ کی مزاج آشنا تھیں۔ ان پر الزام لگنے سے آپ ﷺ کا عائلی سکون و اطمینان غارت ہو کر رہ گیا، اور جب تک یہ آیات براءت نازل نہیں ہوئیں، کسی نے آپ ﷺ کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی۔ جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا، کاش انھیں معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو اذیت پہنچانا، اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا، اس نے اپنی عاقبت تباہ کرلی۔
Ayah 24:16

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تو تم نے کہہ دیا ہوتا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے

وَلَوْلَآ اِذْسَمِعْتُمُوْہُ قُلْتُمْ مَّایَکُوْنُ لَنَـآ اَنْ نَّـتَـکَلَّمَ بِھٰذَا صلے ق سُبْحٰنَـکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ (النور : 16) (اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تو تم نے کہہ دیا ہوتا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے۔ ) ایک اور پہلو سے تنبیہ پیشتر ازیں آیت 12 کا آغاز بھی ان ہی الفاظ سے ہوا ہے جن الفاظ سے اس آیت کا آغاز ہورہا ہے، لیکن وہاں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب تمہارے اندر اس بہتان کی افواہ پھیلی تو تمہیں فوراً مسلمانوں کے آپس میں حقیقی رشتے کی یاد تازہ ہونی چاہیے تھی۔ اور اگر اس رشتے کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تو اس الزام کو پھیلنے کا موقع نہ ملتا۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں ایک اور حوالے سے بھی اس بہتان کو زبان پر لانے سے اجتناب کرنا چاہیے تھا۔ اور اس حوالے کا ذکر سُبْحٰنَـکَکے لفظ سے کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول کوئی کام اللہ تعالیٰ کے حکم یا اس کی اجازت کے بغیر نہیں کرتا۔ اور مزید یہ کہ اس کے ہر کام کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے، کیونکہ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہے۔ اس اصول کے تحت اللہ تعالیٰ کا رسول جب کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتی ہے اور اسی کے حکم سے یہ نکاح بروئے کار آتا ہے۔ اگر آگے چل کر پیغمبر کی بیوی کسی ایسی کمزوری کا شکار ہوتی ہے جو ذات رسالت مآب کی صحبت کے شایان شان نہ ہو تو اس کا حرف جہاں رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی پر آتا ہے، وہیں اللہ تعالیٰ کی ذات جل جلالہ پر بھی آتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) آنحضرت ﷺ کی سب سے محبوب رفیقہ حیات ہیں اور احادیث کی صراحت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ( رض) کا آنحضرت ﷺ سے نکاح ہوا، اور ہجرت کے بعد رخصتی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام امہات المومنین میں سب سے زیادہ آپ ( رض) کو علم شریعت عطا فرمایا۔ اور آنحضرت ﷺ پر اس وقت وحی نازل ہوتی جب آپ ﷺ حضرت عائشہ ( رض) کے گھر میں ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کے بیشمار فضائل بیان ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اگر حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نَعَوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ کسی کمزوری کا شکار ہوتی ہیں تو اس کی زد براہ راست اللہ تعالیٰ کے انتخاب اور آنحضرت ﷺ کے اعتماد پر پڑتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کی طرف کسی کمزوری کو منسوب کیا جائے یا اس کا کوئی انتخاب غلط ثابت ہو۔ چناچہ جیسے ہی یہ بہتان مسلمانوں کے کانوں تک پہنچا تھا، انھیں یہ سوچ کر کہ یہ بہتان درحقیقت ام المومنین پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عظیم پر ہے۔ فوراً کہہ دینا چاہیے تھا کہ ہم ایسی بےہودہ بات کو کبھی زبان پر لانے کی جسارت نہیں کرسکتے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے جسے دشمنوں نے اختراع کیا ہے۔
Ayahs 24:17–18

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ دوبارہ اس قسم کی بات ہرگز نہ کرنا، اگر تم مومن ہو

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے

یَعِظُـکُمُ اللّٰہُ اَنْ تَعُوْدُوْالِمِثْلِـہٖٓ اَبَدًا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَیُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (النور : 17، 18) (اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ دوبارہ اس قسم کی بات ہرگز نہ کرنا، اگر تم مومن ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا بڑا دانا ہے۔ ) گزشتہ تین آیات کی طرح اس آیت میں بھی تنبیہ فرمائی گئی ہے اور یہ تنبیہات کا بار بار آنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ افک کا جو واقعہ پیش آیا انسانی زندگی کے عام معمولات کے اعتبار سے وہ کوئی حیرت انگیز اور تاریخ کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات پیش آتے ہی رہتے ہیں اور ہر معاشرہ اپنے طریقے کے مطابق ان سے عہدہ برآ ہوتا رہتا ہے، لیکن یہ واقعہ اس لحاظ سے نہایت تکلیف دہ اور حیرت انگیز ہے کہ اس کے پیچھے یہود کی سازش کارفرما ہے اور اس کے لیے منافقین کو آلہ کار بنایا گیا ہے اور یہ جان کر اس کی خطرناکی میں اور اضافہ ہوجاتا ہے کہ اس کا نشانہ کاشانہ نبوی اور اہل بیت رسول اللہ کو بنایا گیا ہے۔ عام لوگ تو اس بات کو نہیں سمجھ سکتے، لیکن صاحب ایمان لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دلآزاری کس قدر خطرناک نتائج کا باعث ہوسکتی ہے۔ تو اس واقعہ نے چونکہ آنحضرت ﷺ کو بےحد پریشان رکھا اس لیے اس بات کا شدید امکان ہوسکتا تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوجاتا۔ لیکن بعض دینی مصالح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اس امت پر فضل فرمایا اور رحمت کا معاملہ کیا، اور بار بار تنبیہات کے ذریعے اچھی طرح اس بات کو واضح کردیا کہ ایسا واقعہ پھر کبھی نہیں ہونا چاہیے ورنہ ممکن ہے دوبارہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچنے کی کوئی سبیل نہ ہوسکے۔ اور آیات کی وضاحت سے شاید اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم نے نہایت تفصیل سے احکام بھی دے دیئے ہیں جس سے اس طرح کی صورتحال کے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ علیم اور حکیم ہے اس لیے اس نے انسانی فطرت کو جانتے ہوئے مناسب احکام بھی دیئے اور بار بار تنبیہات بھی فرمائیں اور چونکہ وہ حکیم ہے اس لیے اس نے اس اٹھتی ہوئی نوزائیدہ امت کو مزید سنبھلنے، منافقین کو پہچاننے اور ان کا استیصال کرنے کا موقع عطا فرمایا۔
Ayah 24:19

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

اِنَ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (النور : 19) (بیشک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں ایک دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ) منافقین کی طرف اشارہ اس آیت کریمہ میں منافقین کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے یہ فتنہ برپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ یہود کے زیراثر تھے اور ان کے آلہ کار کے طور پر کام کررہے تھے۔ یہود نے جب محسوس کیا کہ مسلمانوں کی قوت کا اصل راز ان کا ایمان باللہ اور بلند کردار ہے تو چونکہ وہ پڑھے لکھے لوگ تھے اس لیے انھوں نے یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی کہ مسلمان جس میدان میں دوسرے تمام لوگوں سے غیرمعمولی تفوق رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ ان سے ہمسری تو کیا، برابری کا دعویٰ بھی نہیں کرسکتے، انھیں اسی میدان میں ہدف بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چناچہ انھوں نے افک کی صورت میں ایک ایسا فتنہ اٹھایا جس نے اگر ایک طرف ذات نبوت اور کاشانہ نبوی کو برہم کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو ادھیڑنے کا منصوبہ بنایا تو دوسری طرف انھوں نے سوچا کہ اگر یہ ہمارا منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے مسلمان معاشرے میں بےحیائی کی ایک لہر اٹھے گی۔ زبانیں بےروک ہوں گی، منافقین کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا، کسی گھر کی عزت اور اس کا اعتماد باقی نہیں رہے گا، بےحیائی کی باتیں جب زبانوں تک پہنچیں گی تو دلوں تک اترنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس طرح سے مسلمانوں کا وہ اخلاقی تفوق بہت حد تک کمزور پڑجائے گا، لیکن یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم اور مسلمانوں کا مضبوط کردار تھا جس نے ان کے ارادوں کو ناکام کردیا۔ پروردگار نے ان لوگوں اور ان کے برے ارادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تنبیہ فرمائی کہ اگر یہ لوگ اس سے تائب نہ ہوئے تو ان کے لیے دنیا و آخرت میں عذاب الیم ہے۔ دنیا میں بھی اپنا اصل چہرہ بےنقاب ہوجانے کے بعد یہ لوگ ذلت کی تصویر بن جائیں گے اور آج جو لوگ ان کی باتیں سننا گوارا کرلیتے ہیں، کل کو ان کے منہ پر تھوکیں گے اور نفرت کا اظہار کریں گے۔ لیکن آنے والے دن کو اللہ تعالیٰ اپنے بےپایاں علم کے باعث جانتا ہے، کیونکہ تم نہیں جانتے ابھی تک اس پر حالات کا غبار پڑا ہوا ہے۔ اندازہ کیجیے کہ بےحیائی پھیلانا، نوجوانوں کو بدراہ کرنا، صنفِ نازک کو نسوانیت سے محروم کرنا، مردوزن کے آزادانہ اختلاط اور بےحیائی کے محرکات سے سفلی جذبات کو فطری جذبات کی صورت دے دینا، یہ آج کے دور کی گمراہیوں میں سے ایک اہم گمراہی ہے اور جس کے پھیلانے بلکہ نافذ کرنے میں حکمران اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ جو کام کبھی یہود منافقین سے لیتے تھے، آج وہی کام یہ جدید منافقین سرانجام دے رہے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ ایک تو مسلمان ان منافقین کو پہچاننے سے قاصر ہورہے ہیں اور اگر کہیں انھیں پہچان بھی لیا گیا ہے تو وہ اقتدار کی مسندوں پر فائز ہیں اور اپنے اقتدار کی قوت سے صرف اس لیے بےحیائی کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ ہم مغرب کو یقین دلا سکیں کہ تم ہم پر اعتماد کرسکتے ہو۔ والیٰ اللہ المشتکیٰ
Ayah 24:20

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ رئوف و رحیم نہ ہوتا تو تم بھی نہ بچ سکتے

وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ وَاَنَّ اللّٰہَ رَئُ ْوفٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 20) (اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ رئوف و رحیم نہ ہوتا تو تم بھی نہ بچ سکتے۔ ) اس آیت کا پہلا حصہ آیت 10 میں گزر چکا، البتہ دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ کی دو مختلف صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لَوْکا جواب وہاں بھی نہیں دیا گیا تھا اور یہاں بھی نہیں دیا گیا۔ اس سے تنبیہ کی شدت کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں مسلمانوں کو اپنی غلطیوں سے توبہ کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رأفت و رحمت کا ذکر فرما کر شاید یہ تصور دیا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی امت ہے، سازشیں کرنے والے ہزار کوشش کریں چونکہ اللہ تعالیٰ کی رأفت و رحمت اس امت کو حاصل ہے اس لیے وہ لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ آئندہ مسلمانوں کا ہر قدم انشاء اللہ فلاح و کامرانی کی طرف اٹھے گا۔
Ayah 24:21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقوش قدم کی پیروی نہ کرو، اور جو شخص شیطان کے نقوش قدم کی پیروی کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی راہ دکھاتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا لیکن اللہ ہی ہے وہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط وَمَنْ یَّتَّبِعُ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّـہٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ ط وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُـہٗ مَازَکیٰ مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا لا وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (النور : 21) (اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو شیطان کے نقوش قدم کی پیروی نہ کرو، اور جو شخص شیطان کے نقوش قدم کی پیروی کرتا ہے تو وہ یاد رکھے کہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی راہ دکھاتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوسکتا لیکن اللہ ہی ہے وہ جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ) خُطُوٰتِ ، خُطُوَۃٌ کی جمع ہے۔ دو قدموں کے درمیان کی جگہ کو کہتے ہیں، یہ مصدر نہیں بلکہ اسم ہے۔ برائی کا سرچشمہ کسی پر تہمت لگانا، بہتان باندھنا، بےحیائی کو عام کرنے اور فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔ اسی سے عزتیں پامال ہوتی ہیں، باہمی تعلقات مجروح ہوتے اور ملی شیرازہ منتشر ہوجاتا ہے۔ اس پر مناسب تنبیہات کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی ایسا کام ہوتے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کی کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ وہ مسلمانوں میں ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے مسلمانوں کے اخلاقی تفوق کو نقصان پہنچے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت جو مسلمان کا اصل زیور ہے اس میں کمزوری آئے۔ اس لیے قطع نظر اس سے کہ واقعہ افک منافقین کی سازشوں اور کاوشوں سے پیش آیا۔ اس لیے ان پر گہری نگاہ رکھنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس سے بھی زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنے اندر اور اپنی صفوں میں شیطانی اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ منافقین تو اپنی کوششوں میں پہچانے بھی جاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کی حرکتیں خود اپنا پردہ فاش کردیتی ہیں، لیکن شیطانی وساوس دکھائی نہیں دیتے۔ لوگ اس کے نقوش قدم پر چلتے ہیں لیکن انھیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ شیطان کے نقوش قدم ہیں۔ ایک مومن کی اصل فراست یہ ہے کہ وہ شیطان کی تزویرات کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ ایک لطیف تنبیہ آیت کے دوسرے حصہ میں وہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے جو پہلی بات کا نتیجہ کہی جاسکتی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے منافقین کی اڑائی ہوئی باتوں کو بےاحتیاطی سے قبول کرلیا اور یہ سنی سنائی باتیں اپنی زبانوں سے کہنے لگے، انھوں نے دراصل اس بات کا گمان کرلیا کہ مسلمانوں کا ہر مرد و عورت برائی میں ملوث ہوسکتا ہے لیکن ہم ملوث نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنے بارے میں صرف حُسنِ ظن ہی نہیں بلکہ ایک طرح کا اِدّعا بھی رکھتے ہیں کہ ہم کسی حالت میں برائی کی گرفت میں نہیں آسکتے۔ انھیں یہ کہا جارہا ہے کہ تمہیں اگر اللہ تعالیٰ نے آج تک کسی برائی میں مبتلا ہونے سے بچایا ہے تو یہ سراسر اس کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔ ورنہ شیطانی وساوس اس قدر خطرناک اور اس کی تدبیریں اتنی باریک ہیں کہ آدمی اگر توفیقِ ایزدی سے بہرہ ور نہ ہو تو وہ کبھی بھی پاک رہنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس کے قدم کسی وقت بھی لغزش کا شکار ہوسکتے ہیں، اس کی نیت میں کسی وقت بھی فتور آسکتا ہے۔ شیطان ایسا گرگ باراں دیدہ ہے کہ اس کی فریب کاریوں سے بچنا اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے بغیر ممکن نہیں۔ بڑے سے بڑا زاہد ایک رات میں لٹ سکتا ہے اور بڑے سے بڑا مجرم اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق دستگیری کرے تو نوازا جاسکتا ہے۔ اس لیے کسی شخص کو بھی اپنے تقویٰ اور تزکیہ کا اتنا غرّہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کی باتیں بےتحقیق قبول کرنے لگے۔ کسی شخص کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا اور ہر بات کو جانتا ہے۔ زبانیں جو کچھ اگلتی ہیں وہ انھیں سنتا ہے، دل میں جو چور پلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے۔
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو تم میں سے صاحب فضل اور کشادہ حال ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، انھیں چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے، اور اللہ بحشنے والا، رحم کرنے والا ہے

وَلاَ یَاْ تَلِ اُوْلُوْا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْٓا اُوْلِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُھٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ صلے ص وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا ط اَلاَ تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 22) (اور جو تم میں سے صاحب فضل اور کشادہ حال ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں پر خرچ نہ کریں گے، انھیں چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے، اور اللہ بحشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ ) اسلامی رشتے کی اہمیت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کے اعلانِ براءت کے بعد اس بات کا اندیشہ پیدا ہوسکتا تھا کہ جن لوگوں نے محض اپنی سادگی اور نیک نفسی کے باعث منافقین کی باتوں کا اعتبار کرلیا اور اس الزام کی نقل و روایت میں ملوث ہوگئے اور انھیں اس واقعہ کی سنگینی کا احساس نہ ہوا۔ وہ لوگ ایسے لوگوں کی مالی معاونت بند کردیں اور ان کی امداد و سرپرستی سے دست کش ہوجائیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور خوشحالی عطا کر رکھی ہے۔ انسانی نقطہ نگاہ سے ایسا ہونا نہ صرف ممکن تھا بلکہ انسانی احساسات کے حوالے سے دیکھنے والا ہر شخص ایسے لوگوں کو حق بجانب سمجھتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے صحابہ کو جن مکارمِ اخلاق کی تعلیم دی تھی اور اس امت کا ایک ایک فرد جس طرح اخوت کے رشتے میں منسلک کیا گیا تھا اس رشتے میں یقینا دراڑیں پڑجاتیں، اور دل ایک دوسرے سے دور ہوجاتے۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ ایسے لوگ عفو و درگزر سے کام لیں اور وہ اپنے زخمی احساسات کو بہلانے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کی امید باندھیں۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) کا اعلیٰ کردار یہ صرف ایک اندیشہ ہی نہ تھا بلکہ روایات میں ہے کہ مسطح ( رض) بن اثاثہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے حضرت صدیقہ ( رض) پر بہتان لگانے والوں کی معاونت کی تھی، اور اس فتنہ کو پھیلانے والوں میں شامل رہے تھے جبکہ یہ حضرت ابوبکرصدیق ( رض) کی خالہ زاد بہن کے بیٹے تھے، ان کی مالی حالت بڑی ناگفتہ بہ تھی۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) ہمیشہ ان کی اعانت فرمایا کرتے تھے بلکہ ان کے گھر بھر کی کفالت اپنے ذمہ لے رکھی تھی۔ جب آپ ( رض) کو معلوم ہوا کہ وہ بھی اس فتنہ میں شریک ہیں تو قدرتی طور پر آپ ( رض) کو نہایت صدمہ ہوا۔ آپ ( رض) نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کی اعانت نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق اکبر ( رض) اور ایسے ہی دوسرے لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نوازا اور رزق و مال کی کشادگی عطا فرمائی تھی، ارشاد فرما دیا کہ وہ اپنے مستحق قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو ان کی کسی غلطی کی بنا پر اپنی سرپرستی و امداد سے محروم کردینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں بلکہ عفو و درگزر سے کام لیں، غلطیاں اور کو تاہیاں کس سے نہیں ہوتیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی کا رزق بند نہیں کرتا، تو تم ایسے لوگوں کا رزق کیوں بند کر رہے ہو جو کسی وجہ سے کوئی غلطی کرچکے ہیں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے۔ چناچہ جیسے ہی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرت صدیق اکبر ( رض) باوجود اس کے کہ مسطح کی جانب سے آپ ( رض) کو بہت تکلیف پہنچی تھی، آپ ( رض) کے احسانات کے جواب میں مسطح نے آپ ؓ کی ناموس پر حملہ کیا تھا اور ایسا چرکا لگایا تھا جس کا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا، لیکن حضرت صدیق اکبر ( رض) یہ آیت کریمہ سنتے ہی فوراً پکار اٹھے بَلٰی وَاللّٰہِ یَارَبَّنَا اِنَّا لَنُحِبُّ اَنْ تَغْفِرَلَـنَا (روح المعانی) ” ہاں کیوں نہیں، اے پروردگار ! مجھے تیری قسم، ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں معاف فرما دے۔ “ اور آپ نے پہلے سے بھی زیادہ مسطح کی امداد اور دلداری شروع کردی۔ ایک اہم مسئلہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بات کی قسم کھالے، پھر بعد میں اسے معلوم ہو کہ اس میں بھلائی نہیں ہے اور وہ اس سے رجوع کرکے وہ بات اختیار کرلے جس میں بھلائی ہے تو آیا اسے قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرنا چاہیے یا نہیں۔ فقہاء کا ایک گروہ کہتا ہے کہ بھلائی کو اختیار کرلینا ہی قسم کا کفارہ ہے، اس کے سوا کسی اور کفارے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کو قسم توڑ دینے کا حکم دیا اور کفارہ ادا کرنے کی ہدایت نہیں فرمائی۔ اس کے علاوہ نبی ﷺ کے اس ارشاد کو بھی وہ دلیل میں پیش کرتے ہیں کہ من حلف علیٰ یمین فرأی غیرھا خیرامنھا فیات الذی ھوخیروذٰلک کفارتہٗ (جو شخص کسی بات کی قسم کھالے، پھر اسے معلوم ہو کہ دوسری بات اس سے بہتر ہے تو اسے وہی بات کرنی چاہیے جو بہتر ہے اور یہ بہتر بات کو اختیار کرلینا ہی اس کا کفارہ ہے) ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ قسم توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ایک صاف اور مطلق حکم نازل فرما چکا ہے۔ (البقرۃ، آیت 225۔ المائدہ، آیت 89) جسے اس آیت نے نہ تو منسوخ ہی کیا ہے اور نہ صاف الفاظ میں اس کے اندر کوئی ترمیم ہی کی ہے۔ اس لیے وہ حکم اپنی جگہ باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت ابوبکر ( رض) کو قسم توڑ دینے کے لیے تو ضرور فرمایا ہے مگر یہ نہیں فرمایا کہ تم پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہے۔ رہا نبی کریم ﷺ کا ارشاد تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک غلط یا نامناسب بات کی قسم کھا لینے سے جو گناہ ہوتا ہے وہ مناسب بات اختیار کرلینے سے دھل جاتا ہے۔ اس ارشاد کا مقصد کفارہ قسم کو ساقط کردینا نہیں ہے۔ چناچہ دوسری حدیث اس کی توضیح کردیتی ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے من حلف علٰی یمین فرأی غیرھا خیرا منھا فلیات الذی ھوخیر ولیکفر عن یمینہ (جس نے کسی بات کی قسم کھالی ہو، پھر اسے معلوم ہو کہ دوسری بات اس سے بہتر ہے، اسے چاہیے کہ وہی بات کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قسم توڑنے کا کفارہ اور چیز ہے اور بھلائی نہ کرنے کے گناہ کا کفارہ اور چیز۔ ایک چیز کا کفارہ بھلائی کو اختیار کرلینا ہے اور دوسری چیز کا کفارہ وہ ہے جو قرآن نے خود مقرر کردیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayahs 24:23–24

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پاکدامن، بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

جس دن گواہی دیں گی ان کیخلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان اعمال پر جو وہ کیا کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ص وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ یَّوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَـتُہُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (النور : 23، 24) (بیشک جو لوگ پاکدامن، بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن گواہی دیں گی ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان اعمال پر جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) پاکدامن اور بھولی بھالی مومن عورتوں پر الزام کی سنگینی اس سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی ذات گرامی پر الزام لگانے والوں کی کمینگی اور خست کو بیان فرمایا گیا ہے اور ان کی اس سزا کا ذکر ہوا جس سے انھیں دنیا اور آخرت میں واسطہ پڑنے والا ہے۔ اب ان خواتینِ اسلام کا ذکر کیا جارہا ہے جو اسلام کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں عفت اور پاکدامنی کے ان بلند مدارج تک پہنچی ہیں جن کے لیے دو صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ 1 محصنات : یعنی وہ ایسی پاکدامن اور شریف زادیاں ہیں کہ ان کی عفت و عصمت کے قلعے میں کسی نقب لگائے جانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ 2 غافلات : وہ ایسی سیدھی سادھی اور چھل فریب سے ناآشنا اور بھولی بھالی خواتین ہیں کہ کسی گھٹیا اور فضول حرکت کا ان کے دماغ میں خیال تک نہیں گزرتا۔ وہ اپنی فطری عفت کے باعث زمانے کی ناہمواریوں سے بالکل انجان ہیں۔ بلاشبہ ان دونوں خصلتوں کی اعلیٰ ترین مصداق، آنحضرت ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات بالخصوص حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) ہیں۔ لیکن یہ دونوں صفات ان کی خصوصیت نہیں بلکہ ان کا تقاضا ہر خاتونِ اسلام سے اخلاقی تعلیمات کی فطرت ہے۔ جو شخص ایسی پاکدامن اور بھولی بھالی اور لوگوں کے طوراطوار سے ناواقف عورتوں پر الزام لگاتا ہے وہ یوں سمجھئے ان پاکدامن بیبیوں کو سوتے میں اپنی تیراندازی کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی لعنت ہوگی۔ نہ یہ دنیا میں آبرومند ہوں گے نہ آخرت میں۔ دنیا میں عنقریب ان کی جڑ کٹ کے رہے گی اور آخرت میں تو ان کے لیے بہرحال عذاب عظیم ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو۔ عرض کی گئی وہ کون سی چیزیں ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : 1 اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، 2 جادو کرنا، 3 کسی بےگناہ کو قتل کرنا، 4 سود کھانا، 5 یتیم کا مال کھانا، 6 میدانِ جنگ سے بھاگ آنا اور 7 پاکدامن، انجان، ایماندار خواتین پر جھوٹی تہمت لگانا۔ حضرت حذیفہ ( رض) سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : قَذْفُ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ (طبرانی) ” ایک پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، سو برس کے اعمال کو غارت کردینے کے لیے کافی ہے۔ “ آج تو یہ لوگ اپنی چرب زبانی سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانیوں کا زہر اتار دیتے ہیں اور اپنی طلاقتِ لسانی سے پاکدامن بیبیوں پر تہمت لگاتے ہوئے دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں اور اپنے اثرورسوخ سے غلط سے غلط بات کو پھیلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں خود ان کی بداعمالیوں کیخلاف گواہی دیں گے۔ اس وقت ان کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ باہر کی کسی گواہی پر وہ سو اعتراض کرسکتے ہیں اور ہر بات کے لیے تاویل کا سہارا لے سکتے ہیں، لیکن جب ان کا اپنا جسم اور اپنے اعضاء جن سے وہ الزام تراشی میں مدد لیتے رہے ہیں ان کیخلاف گواہی دیں گے تو ان کی گواہی پر انکار کیسے کرسکیں گے اور سخن سازی سے کیسے کام لے سکیں گے۔
Ayah 24:25

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن اللہ تعالیٰ انھیں ان کا پورا بدلہ دے گا جس کے وہ حقدار ہیں اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق اور واضح کردینے والا ہے

یَوْمَئِذٍ یُّـوَفِّیْہِمُ اللّٰہُ دِیْنَھُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَالْحَقُّ الْمُبِیْنُ ۔ (النور : 25) (اس دن اللہ تعالیٰ انھیں ان کا پورا بدلہ دے گا جس کے وہ حقدار ہیں اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق اور واضح کردینے والا ہے۔ ) دین سے مراد وہ بدلہ اور جزاء ہے جو ان کے کرتوتوں کے باعث ان پر لازم ہوچکی ہے اور جس کے وہ ہر طرح سے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس میں ان کے لیے کوئی کمی بیشی نہیں کرے گا، نہ کوئی رعایت ہوگی اور نہ کوئی زیادتی کی جائے گی۔ آج تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ نہ وہ اس کو سراپا حق و عدل سمجھتے ہیں اور نہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ باطل کو نابود کرکے حق کو غالب کر دے گا۔ لیکن ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جب ان پر اچھی طرح یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ ہی سراپا حق و عدل ہے اور وہی تمام حقائق کو آشکارا کرنے والا ہے۔
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے، یہ مبرا ہیں ان تہمتوں سے جو وہ لگاتے ہیں، ان کے لیے ہی بخشش اور عزت والی روزی ہے

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ ج وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّـبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ ج اُوْلٰٓئِکَ مُبَرَّئُ وْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ ط لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (النور : 26) (خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے، یہ مبرا ہیں ان تہمتوں سے جو وہ لگاتے ہیں، ان کے لیے ہی بخشش اور عزت والی روزی ہے۔ ) ایک فطری اور واقعاتی دلیل اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت اس طرح بنائی ہے کہ انسان اپنی رفاقت اور اپنی معاشرت کے لیے ہمیشہ ایسے ساتھی کو تلاش کرتا ہے جس کے ساتھ فطری ہم آہنگی ہو، عادتوں میں یکسانی ہو، میلانات اور رجحانات ملتے جلتے ہوں، طبعی ذوق میں باہمی مناسبت ہو۔ اور اگر ایک ساتھ رہنے والوں میں ان چیزوں کا فقدان ہو تو کوئی شخص بھی ایسے شخص کو ساتھی بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جبر اور حبس ہو تو ایک مجبوری ہے، ورنہ اختیار اور ارادہ کے ساتھ ہر طرح کا اختلاف ہوتے ہوئے بھی مصاحبت اور معاشرت ایک خواب تو ہوسکتا ہے، حقیقت نہیں۔ وقتی رفاقت بھی کسی قسم کی یکسانی کے بغیر ایک سزا سے کم نہیں، لیکن اگر میاں بیوی کی طرح زندگی بھر کی رفاقت کا تعلق ہو جس میں خلوت و جلوت کا امتیاز بھی ختم ہوجائے تو ایسی صورت میں اگر طبیعتوں میں مناسبت نہ ہو اور دونوں ایک دوسرے سے وفا کے رشتے میں منسلک نہ ہوں، ایک دوسرے کا لباس ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بیگانہ اور بیزار ہوں، ایک شرم و حیاء کا پتلا اور دوسرا شرم و حیاء کو رجعت پسندی، تنگ نظری اور گائودی اخلاق کی علامت سمجھتا ہو تو ایسے زندگی بھر کے ساتھی چند روز کے ساتھی بھی نہیں رہ سکتے اور مزید یہ بات بھی ہے کہ انسان اگرچہ اپنے اندر بڑی گہرائی رکھتا ہے اور اس کی شخصیت کی کئی پرتیں ہیں لیکن چند دنوں کی ہر وقت کی رفاقت بھی ہر گہرائی میں جھانکنے کے قابل بنا دیتی ہے اور شخصیت کی پرتیں کھلنے میں دیر نہیں لگتی۔ تعلق میں خیانت اور وفا میں کمزوری ہزار کوشش سے بھی چھپائے نہیں چھپتی۔ شوہر اگر برا ہے تو برائی صرف ایک برائی تک محدود تو نہیں رہتی، برائی، برائی کو جنم دیتی ہے تو وہ کس کس برائی پر پردہ ڈال سکتا ہے۔ اسی طرح اگر بیوی نام کی حد تک صالحات، قانتات اور حافظات میں شامل ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں، تو جس طرح متعفن کھانا اپنے تعفن کو چھپا نہیں سکتا اسی طرح برائی اور تعلقات میں خیانت اور وفا میں فریب دیر تک چھپا نہیں رہ سکتا۔ اگر یہ اصول صحیح ہے اور کوئی شخص بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا تو سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ طیب ہی نہیں اطیب ہیں۔ جس طرح ان کے اعمال پاکیزہ، ان کا احساس معصوم، ان کے ہر کام پر عصمت الٰہی کا سایہ اور ان کے ہر تعلق میں وفا کی خوشبو رچی بسی ہے اور ان کا پاکیزہ مزاج کسی طرح کی برائی، بےوفائی اور ناگواری کو برداشت نہیں کرسکتا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کی رفیقہ حیات جو تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب ہوں، جنھیں سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ کا اعتماد حاصل ہو، اور وحی لے کر آنے والا وہ فرشتہ جسے اللہ تعالیٰ نے مطاع ملائکہ اور امین بنایا ہے، وہ اس وقت وحی لے کر نازل ہو جب آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کے لحاف میں ہوں، لیکن ان تمام فضائل اور قربتوں کے باوجود آنحضرت ﷺ کو اپنی محبوب رفیقہ حیات کی بےوفائی کی بھنک بھی نہ پڑ سکے۔ ایک معمولی علم و دانش کا آدمی تو شب و روز کی یکجائی میں اس طرح کی غلطی کا ارتکاب نہ کرسکے لیکن جس ذات عظیم پر وحی الٰہی اترتی ہو وہ ایسا بیخبر ثابت ہو تو یہ ایک ایسی بات ہے جسے نہ عقل قبول کرتی ہے، نہ اخلاق قبول کرتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اس لیے اس حقیقت سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ طیب مرد اور طیب عورتیں ہی انسانیت کا وہ اثاثہ ہیں جو باتیں بنانے والوں کی فضول باتوں سے بری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بخشش لکھ دی ہے اور وہ ان تمام نعمتوں کی مستحق ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اہل جنت کو عطا فرمائے گا۔
Ayahs 24:27–28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تعارف نہ پیدا کرلو، اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم اس کی حکمتوں میں غور و فکر کرو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پس اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جائو تو واپس چلے جائو، یہی طریقہ تمہارے لیے پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَبُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسْلِّمُوْا عَلٰٓی اَھْلِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ لَعَلَّـکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْھَآ اَحَدًا فَلاَ تَدْخُلُوْھَا حَتّٰی یُؤْذَنَ لَـکُمْ ج وَاِنْ قِیْلَ لَـکُمُ ارجِعُوْا فَارْجِعُوْا ھُوَاَزْکٰی لَـکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔ (النور : 27، 28) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوا کرو جب تک تعارف نہ پیدا کرلو، اور گھر والوں کو سلام نہ کرلو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم اس کی حکمتوں میں غور و فکر کرو۔ پس اگر تم ان گھروں میں کسی کو نہ پائو تو ان میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تم سے کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو واپس چلے جاؤ، یہی طریقہ تمہارے لیے پاکیزہ ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ) تمہید سابقہ آیات کریمہ میں وہ اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مسلمان معاشرہ میں اخلاقی برائیاں پیدا ہوجائیں تو ان کی سزا کیا ہے اور ان کے روکنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ پیش نظر آیات کریمہ میں یہ بتانا مقصود ہے کہ زنا جیسی انتہائی برائی کا ارتکاب کسی بھی معاشرے میں اچانک نہیں ہوا کرتا جب تک کہ محرکاتِ زناکو کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے اور مقدماتِ زنا معاشرے میں قابل قبول حیثیت اختیار نہ کرجائیں۔ اسلام کے پیش نظر صرف یہ بات نہیں ہے کہ لوگ بداخلاقی کا ارتکاب کرتے رہیں اور اسلامی قانون انھیں سخت سے سخت تر سزائیں دیتا رہے بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں برائی کا تصور قابل نفرت حیثیت اختیار کرجائے، لوگ اس سے اس طرح بچنے لگیں جیسے کوئی شخص آگ میں جلنے سے بچتا ہے۔ اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے اسلام نے کچھ ایسے احکام دیئے ہیں جس سے بداخلاقی کا صدور اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتا ہے اور اگر معاشرے کے افراد اپنے طور پر ان ہدایات پر عمل کرتے رہیں تو پھر وہ محرکات اور اسباب عام طور پر پیدا نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں زنا جیسا بدترین جرم وجود میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں حُسنِ معاشرت چونکہ تمدن کی بنیاد ہے اور اس میں خرابی پیدا ہونے سے باہم اخوت کے رشتے مجروح ہوتے اور شرم و حیاء کے جذبات زوال پذیر ہوتے ہیں۔ چناچہ اس سلسلے میں پروردگار نے قرآن کریم میں جو احکام دیئے ہیں اس میں اگر ایک طرف ان سوتوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں سے مقدماتِ زنا کے وجود میں آنے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایک صالح تمدن کی مضبوط بنیاد کے طور پر گھروں میں آنے جانے کے آداب سکھائے گئے ہیں اور انسان کی پرائیویسی کو نہ صرف محفوظ کیا گیا ہے بلکہ اسے احترام بھی دیا گیا ہے اور یہ تصور دیا گیا ہے کہ انسانوں کے گھر درندوں کے بھٹ نہیں بلکہ انسانوں کے لیے آرام گاہیں اور پناہ گاہیں ہیں اور اس کی پرائیویسی کی حفاظت کا ایسا حصار ہیں جس میں انسان نہ صرف آرام کرتا ہے بلکہ اس کی شخصیت بھی تعمیر ہوتی ہے۔ چناچہ اس سلسلے میں سب سے پہلے گھروں میں داخل ہونے کا طریقہ سکھایا گیا جسے طریق استیذان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ گھروں میں داخل ہونے کے لیے استیذان کی ہدایت وہ گھر جو انسان کے آرام اور عافیت کی جگہ ہے استیذان کے ذریعے اسے دوسروں کی دستبرد اور بےوقت کی دخل اندازی سے محفوظ کردیا گیا۔ اس سے انسان کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ گھر میں پرسکون زندگی گزار سکے اور جو کام بھی کرنا چاہے کوئی اس کی آزادی میں خلل انداز نہ ہو۔ چناچہ اس سلسلہ میں اسلام نے یہ بنیادی حکم دیا کہ کسی شخص کی دیوار کے اوپر سے جھانکنایا اسے کوئی ناحق تکلیف پہنچانا قطعی طور پر حرام ہے۔ اس استیذان کے ذریعے اس شخص کی عزت و احترام میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جو کسی سے ملنے جاتا ہے تو نہایت شائستہ انداز میں اجازت لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے تو اہل خانہ اسے شائستہ اور معزز مہمان سمجھ کر عزت بھی کرتے ہیں اور بجائے بلائے ناگہانی سمجھنے کے اسے نعمت خیال کرتے ہیں۔ اسی استیذان سے فواحش اور بےحیائی کا انسداد بھی کیا گیا۔ جو شخص بلا اجازت کسی کے مکان میں داخل ہوگا یقینا اس کی نظر کسی نہ کسی غیرمحرم پر بھی پڑے گی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ نظر شیطان کے تیروں میں سے کوئی تیر ثابت ہو اور کسی کے ایمان کو غارت کردے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان گھر میں کوئی ایسا کام کررہا ہے جس کے لیے اسے تنہائی کی ضرورت ہے یا وہ یہ نہیں چاہتا کہ میرا یہ کام کسی اور کے علم میں آئے یا وہ بیمار ہے اور آرام کرنا چاہتا ہے۔ بلا اجازت آنے والا اس کی ایسی تمام ضرورتوں کو پامال کرکے اس کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے۔ اور جس بات کو وہ چھپانا چاہتا ہے اس سے مطلع ہو کر ایک مستقل گناہ کو اپنے سر لے لیتا ہے۔ مختصر یہ کہ اب جو احکام شروع کیے جارہے ہیں اس سے جہاں ہر طرح کی اخلاقی برائی کو روکنا مقصود ہے وہیں صالح تمدن کی تعمیر بھی پیش نظر ہے، اور انسانی گھروں کو ان کا حقیقی مقام و مرتبہ دے کر انسان کو راحت و آرام مہیا کرنا بھی مقصود ہے۔ آیت میں عموم کا مفہوم آیتِ کریمہ میں خطاب اگرچہ یٰٓاََیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے کیا گیا ہے جو مردوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن قرآن کریم کے اسلوب کے مطابق یہ مردوں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ عورتیں بھی بالتبع اس میں شامل ہوتی ہیں۔ چناچہ اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ حضرت ام ایاس فرماتی ہیں کہ ہم چار عورتیں اکثر حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کے پاس جایا کرتی تھیں اور گھر میں جانے سے پہلے ان سے اجازت طلب کرتی تھیں۔ اگر وہ اجازت دیتیں تو ہم اندر داخل ہوتی تھیں ورنہ نہیں۔ آیت کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دوسرے شخص کے گھر میں جانے سے پہلے استیذان کا حکم عام ہے۔ مرد، عورت، محرم اور غیرمحرم سب کو شامل ہے۔ عورت کسی عورت کے پاس جائے یا مرد، مرد کے پاس، سب کے لیے اجازت طلب کرنا واجب ہے۔ سب سے زیادہ احترام کا رشتہ ماں کے ساتھ ہے۔ حضور ﷺ نے اس کے لیے بھی استیذان کا حکم دیا۔ امام مالک نے مؤطا میں مرسلاً عطا بن یسار سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا میں اپنی والدہ کے پاس جاتے وقت بھی استیذان کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں تو اپنی والدہ کے ساتھ رہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر بھی اجازت لیے بغیر گھر میں نہ جاؤ۔ انھوں نے مزید سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم اپنی والدہ کو برہنہ حالت میں دیکھو۔ اس نے کہا، نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسی لیے استیذان ضروری ہے۔ ممکن ہے وہ گھر میں کسی ضرورت سے ستر کھول چکی ہوں۔ گھر میں صرف اگر اپنی بیوی ہو تو گھر میں داخل ہوتے وقت اگرچہ اس سے استیذان واجب نہیں مگر سنت یہ ہے کہ گھر میں بھی اچانک بغیر کسی اطلاع کے نہ جائے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی اہلیہ محترمہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ جب کبھی باہر سے گھر میں آتے تھے تو داخل ہونے سے پہلے اپنے پائوں کی آہٹ سے یا کھنکار سے کسی طرح سے پہلے باخبر کردیتے، پھر گھر میں داخل ہوتے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جب تم اپنے کسی مسلمان بھائی کے گھر میں جانا چاہو تو مسلمانوں میں اگرچہ دینی اخوت کا رشتہ ہے، لیکن یہ اخوت وہ نہیں جس سے رشتہ حرمت پیدا ہوتا ہے۔ اس اخوت کا مطلب تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی مفادات ایک ہیں اور ہر مسلمان ان مفادات کا نگہبان ہے، لیکن جہاں تک اخلاقی پابندیوں کا تعلق ہے وہ ان پر اسی طرح عائد ہوں گی جیسے بیگانوں پر ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی مسلمان کا گھر بھی اخلاقی پابندیوں کے حوالے سے اپنے گھر کا غیر ہے، یعنی وہ دوسرا گھر ہے جس میں اگر آپ کو جانے کی ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تَسْتَاْنِسُوْا یہ انس سے ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ تم داخل ہونے سے پہلے ان میں انس معلوم کرو، یا یہ مطلب ہے انھیں مانوس کرو۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انھیں سلام کرو۔ اولاً تو سلام ہی بیگانگی کے بہت سے پردے اٹھا دیتا ہے۔ ثانیاً جس کو سلام کہا جائے گا وہ یقینا یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ جو آدمی مجھے سلام کہہ رہا ہے وہ بھروسے کا آدمی ہے یا نہیں۔ استیذان کا طریقہ جاہلیت میں اہل عرب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ وقت کے مطابق آج کے اہل مغرب کی طرح سلام کہتے تھے اور بےتکلف ایک دوسرے کے گھر میں گھس جاتے تھے۔ صبح کا وقت ہوتا تو صباح الخیر کہتے اور شام کا وقت ہوتا تو مساء الخیر کہتے۔ اور اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے کہ اہل خانہ کس حال میں ہوں گے، ہماری نظر کس پر اور کس حال میں پڑے گی۔ اسلام نے سب سے پہلے اس بات پر پابندی لگائی کہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرو۔ اور اجازت کا طریقہ یہ رکھا کہ دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کر اجازت طلب کی جائے تاکہ اہل خانہ میں سے جب کوئی باہر آئے تو دروازہ کھلتے ہی اندر نظر نہ پڑے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اذا دخل البصر فلا اذن ” جب نگاہ داخل ہوگئی تو پھر خود داخل ہونے کے لیے اجازت مانگنے کا کیا موقع رہا۔ “ اور اجازت کا طریقہ بھی متعین فرما دیا، کہ اجازت طلب کرنے والا السلام علیکم کہے۔ اور ساتھ ہی کہے، أَاَدْخُل ” کیا میں داخل ہوجاؤں ؟ “ اگر جان پہچان ایسی ہو کہ آواز ہی سے اہل خانہ پہچان لیتے ہوں تو پھر تو اجازت لینے کا یہ طریقہ کافی ہے۔ لیکن اگر جان پہچان اس طرح کی نہ ہو تو پھر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو حضرت عمرفاروق ( رض) کا تھا۔ آپ ( رض) جب آنحضرت ﷺ کے درِاقدس پر حاضر ہوتے تو اجازت طلبی کے لیے کہتے، السلام علیک یارسول اللہ أَیَدْخُلُ عُمَرُ ” یارسول اللہ آپ پر سلام ہو، کیا عمر ( رض) حاضر ہوسکتا ہے ؟ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجازت طلب کرنے والے کو اپنا نام بتانا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے دروازے پر آیا اور کہا أَاَدْخُل ” کیا میں داخل ہوجاؤں۔ “ آنحضرت ﷺ نے خادم سے فرمایا، کہ جاؤ اسے اذن مانگنے کا طریقہ سکھائو۔ اسے یوں کہنا چاہیے السلام علیکم أَاَدْخُل۔ اگر صاحب خانہ اذن طلب کرنے والے سے پوچھے کہ تم کون ہو ؟ تو اسے اپنا نام بتانا چاہیے۔ صرف یہ کہنا کہ میں ہوں، درست نہیں، حضور ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ اور اگر صاحب خانہ نام کو تعارف کے لیے کافی نہ سمجھے تو پھر تعارف میں وہ کچھ بتانا ضروری ہے جو صاحب خانہ کے اطمینان کے لیے کافی ہو۔ حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اجازت طلبی کے لیے دروازہ کھٹکھٹانا بھی کافی ہے۔ آج کے دور میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ گھر اگر بڑا ہو اور سلام کی آواز اہل خانہ تک نہ پہنچ سکتی ہو تو بہتر ہے کہ دروازے پر دستک دی جائے اور یا گھنٹی بجا کر اذن طلب کیا جائے۔ لیکن اس اذن کو سلام کے قائم مقام نہ سمجھا جائے، سلام کی اپنی ایک اہمیت اور افادیت ہے، اس لیے ایسی صورت میں اذن ملنے کے بعد جب اندر جانے کا موقع ملے تو وہاں سلام کہا جائے تاکہ نہ جانے والا ثواب سے محروم رہے اور نہ اہل خانہ برکت سے محروم رہیں۔ البتہ دروازے پر دستک دینے کا بھی ایک ادب ہے۔ صحابہ ( رض) آنحضرت ﷺ کے دروازے پر عام طور پر ناخنوں سے دستک دیتے تھے تاکہ آپ ﷺ کے آرام میں خلل نہ پڑے۔ خاص طور پر اس طرح دستک دینا کہ اہل خانہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں، یہ آداب کے خلاف ہے۔ زیادہ سے زیادہ تین بار اذن طلب کرنا چاہیے۔ اگر تیسری بار جواب نہ آئے تو واپس چلا آئے، کیونکہ اس سے زیادہ اذن طلب کرنا صاحب خانہ کو اذیت دینا اور پریشان کرنا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ اس وقت ایسے کام میں مشغول ہو جسے وہ منقطع نہ کرسکتا ہو۔ آنحضرت ﷺ کا بھی یہی طریقہ تھا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ حضرت سعد بن عبادہ ( رض) کے یہاں گئے اور سلام کہہ کردو دفعہ اجازت طلب کی، مگر اندر سے جواب نہ آیا۔ تیسری مرتبہ جواب نہ ملنے پر آپ ﷺ واپس ہوگئے۔ حضرت سعد اندر سے دوڑ کر آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ کی آواز سن رہا تھا، مگر میرا جی چاہتا تھا کہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے میری لیے جتنی بار بھی سلام اور رحمت کی دعا نکل جائے اچھا ہے، اس لیے میں بہت آہستہ آہستہ جواب دیتا رہا۔ یہ تین مرتبہ پکارنا، پے در پے نہ ہونا چاہیے، بلکہ ذرا ٹھہر ٹھہر کر پکارنا چاہیے تاکہ صاحب خانہ کو اپنی مصروفیت سے فراغت کا موقع مل جائے۔ البتہ اگر یہ معلوم ہو کہ صاحب خانہ اس وقت آرام کرتے ہیں اور تھوڑی دیر میں نماز کا وقت ہونے والا ہے، وہ اٹھ کر باہر آئیں گے تو صحابہ کرام ( رض) کا یہ طرز عمل بھی رہا ہے کہ وہ باہر انتظار میں بیٹھ جاتے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) احادیث کی طلب میں انصار صحابہ کے دروازوں پر انتظار میں بیٹھے رہتے۔ جب صاحب خانہ باہر نکلتے تو ان سے اپنی ضرورت کہتے۔ وہ ہرچند تأسف کا اظہار کرتے، آپ نے ہمیں پہلے اطلاع دی ہوتی، لیکن حضرت ابن عباس ( رض) کہتے کہ علم سیکھنے کے لیے ہمیں یہی طریقہ سکھایا گیا ہے۔ اجازت یا تو خود صاحب خانہ کی معتبر ہے یا پھر کسی ایسے شخص کی جس کے متعلق آدمی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو کہ وہ صاحب خانہ کی طرف سے اجازت دے رہا ہے۔ مثلاً گھر کا خادم یا کوئی اور ذمہ دار قسم کا فرد۔ کوئی چھوٹا سا بچہ اگر کہہ دے کہ آجاؤ، تو اس پر اعتماد کرکے داخل نہ ہوجانا چاہیے۔ پرائیویسی کا لحاظ آنحضرت ﷺ نے صاحب خانہ کے تخلیے اور پرائیویسی کا اس قدر لحاظ فرمایا ہے کہ اسے صرف گھروں میں داخل ہونے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک عام حق قرار دے دیا، جس کی رو سے دوسرے کے گھروں میں جھانکنا، باہر سے نگاہ ڈالنا، حتیٰ کے دوسرے کا خط اس کی اجازت کے بغیر پڑھنا بھی ممنوع ٹھہرایا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے من نظر فی کتاب اخیہ بغیراذنہ فانما ینظرفی النار ” جس نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر اس کے خط میں نظر دوڑائی، وہ گویا آگ میں جھانکتا ہے۔ “ صحیحین میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص تیرے گھر میں جھانکے اور تو ایک کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو تجھے کوئی گناہ نہیں۔ اجازت نہ ملنے پر واپسی کی ہدایت دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ اگر اجازت طلبی پر اہل خانہ اجازت نہ دیں یا گھر میں کوئی شخص ایسا موجود نہ ہو جو جواب دے سکے تو اجازت طلب کرنے والے کو یہ حق نہیں کہ وہ بلا اجازت گھر میں گھس جائے اور اگر اندر سے یہ کہا جائے کہ اس وقت میں نہیں مل سکتا، واپس چلے جایئے تو اس پر برا نہ ماننا چاہیے بلکہ کبیدہ خاطر بھی نہیں ہونا چاہیے، ممکن ہے کہ صاحب خانہ اس وقت کسی تحقیقی کام میں مشغول ہوں۔ اس وقت اپنے کام کو چھوڑ دینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ساری دماغی کاوش غارت ہوجائے گی، تو اس پر ناراض ہونے کی بجائے صاحب خانہ کی مجبوری کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بعض دفعہ اس طرح کا جواب آدمی کی طبیعت پر شاق گزرتا ہے، لیکن اخلاقی نقطہ نگاہ سے یہی طریقہ پاکیزہ ہے اور اسی سے ایک مومن کے احساسات کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ ہم لوگ چونکہ ایسی تربیت سے گزارے نہیں گئے، تو عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ اچھے اچھے لوگ ایسے کسی واقعہ کو قطع تعلق کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، اور اگر کوئی طالب علم اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف ہے تو وہ بعض دفعہ ہمارے ردعمل سے ڈر کر اپنا پی پر خراب کرلیتا ہے، لیکن آنے والے سے ملنا اور اس کے پاس بیٹھنا اپنی مجبوری سمجھتا ہے۔ اس طرح بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی وکیل کیس کی تیاری میں مصروف ہے، کوئی عالم دین کسی علمی گتھی کو سلجھانے میں لگا ہوا ہے، کوئی ڈاکٹر کسی پیچیدہ مرض کے حل کے لیے اپنے وسائل فراہم کررہا ہے، کہ ایسے میں کوئی ملنے والا آجاتا ہے، اگر وہ ملنے سے انکار کرتا ہے تو تعلقات بگڑتے ہیں اور اپنی مصروفیات چھوڑتا ہے تو علمی نقصان ہوتا ہے، اگر اسلام کی دی ہوئی اخلاقی تعلیمات پر توجہ دی ہوتی اور ہمارے مزاج اس کے مطابق بن چکے ہوتے تو یہ باتیں ہمارے معمول کا حصہ بن چکی ہوتیں۔ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ تمہیں بیشک یہ باتیں ناگوار گزریں لیکن تمہاری معاشرتی اور سماجی زندگی کے لیے یہی بہتر ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کی بہتری کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے ہر عمل سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علیم وخبیر ہونے کا کس حد تک یقین رکھتے ہیں۔ کیونکہ اگر یہ دولت میسر نہ ہو تو پھر مجرد احکام و ہدایات سے ان رخنوں کا بند کرنا ممکن نہیں ہے جہاں سے شیطانی اثرات داخل ہوسکتے ہوں۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تم پر کوئی حرج نہیں ہے ان غیررہائشی مکانوں میں داخل ہونے میں جن میں تمہارا سامان رکھا ہے (یا کوئی منفعت ہے) اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو

لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَمَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّـکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ۔ (النور : 29) (تم پر کوئی حرج نہیں ہے ان غیررہائشی مکانوں میں داخل ہونے میں جن میں تمہارا سامان رکھا ہے (یا کوئی منفعت ہے) اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ ) غَیْرَمَسْکُوْنَۃٍ کا مفہوم سابقہ آیات میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مکانوں میں داخلے سے پہلے استیذان کی پابندی اس لیے لگائی گئی تھی تاکہ بدنگاہی سے پیدا ہونے والے فتنوں کو روکا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسے فتنوں کا امکان صرف ایسے گھروں میں ہوسکتا ہے جہاں خواتین رہتی ہوں اور وہ رہائشی مکان ہوں۔ لیکن ایسا مکان جس میں کسی کی رہائش نہ ہو یا وہ رہائش کے لیے بنایا ہی نہ گیا ہو بلکہ اس کے مصارف دوسرے ہوں۔ مثلاً دکانیں، سرائے، مہمان خانے اور ہوٹل وغیرہ۔ اسی طرح رفاہِ عام کے عام ادارے۔ ان میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اس قسم کے مکانات بنائے ہی اس لیے جاتے ہیں تاکہ لوگ وہاں آتے جاتے رہیں۔ اور اگر وہاں جانے والا کا سامان رکھا ہوا ہو یعنی کوئی سٹور ہو تو پھر تو اسے بجاطور پر حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جائے اور سامان اٹھا لے اور کبھی متاع کا معنی سامان نہیں بلکہ منفعت ہوتا ہے یعنی وہ ایسی جگہ ہو جس سے جانے والے کی منفعت متعلق ہو، جیسے رفاہی ادارے۔ تو وہاں بھی داخلے کے لیے استیذان ضروری نہیں۔ البتہ وہ ادارے جو عوام کی ضرورت کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن اس کے بعض مکانات بعض کارکنان کی دفتری ضرورت کے لیے ہوتے ہیں یا بعض جگہ ایسی ہوتی ہیں جس کو غیرضروری اجتماع سے بچانے کے لیے کوئی ٹکٹ لگا دیا جاتا ہے، جیسے پلیٹ فارم۔ یا حفاظت کے نقطہ نگاہ سے بعض پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ ایسی پابندیوں کو قبول کرنا شرعاً ضروری ہوتا ہے۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اس میں اپنے علم کا حوالہ دے کر اسے مستحضر رکھنے کا اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر کوئی شخص اس بات کا یقین نہیں رکھتا کہ میری ہر حرکت اور اس کی پس پردہ نیت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے تو وہ ہر طرح کی آزادی سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتا۔ اس سے یہ بات بعید نہیں کہ کسی رہائشی مکان میں جا گھسے اور پھر یہ عذر کرے کہ میں یہ سمجھا تھا کہ غیررہائشی مکان ہے۔ اس لیے ان آیات میں بار بار پروردگار اپنی ذات اور اپنے علم کے استحضار پر زور دیتا ہے۔