Ayah 24:33وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوْنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغْنِیَھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوْھُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًا صلے ق وَّاٰ تُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰ تٰـکُمْ ط وَلاَ تُکْرِھُوْا فـَتَیٰـتِکُمْ عَلَی الْبِغَـآئِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّـتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط وَمَنْ یُّکْرِھْھُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ م بَعْدِ اِکْرَاھِھِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (النور : 33)
(اور جو لوگ نکاح کی مقدرت نہ پائیں انھیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے، اور جو تمہارے مملوکوں میں سے مکاتب ہونے کے طالب ہوں ان کو مکاتب بنادو، اگر تم ان میں صلاحیت پائو اور ان کے اس مال میں سے دو جو خدا نے تم کو دیا ہے اور اپنی لونڈیوں کو پیشہ پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ عفت کی زندگی کی خواہاں ہیں محض اس لیے کہ کچھ متاع دنیا تمہیں حاصل ہوجائے اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفورورحیم ہے۔ )
نکاح کی عدم مقدرت میں ہدایت
معاشرے کی بہرحال یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شادی بیاہ کے معاملے کو نہایت سادہ اور سستا بنانے کی کوشش کرے تاکہ کوئی شخص مالی دشواریوں کے باعث اس سے محروم نہ رہے اور کسی بچی کے ہاتھ اس لیے پیلے ہونے سے نہ رہ جائیں کہ اس کے ماں باپ اس کو جہیز دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔ لیکن جہاں تک افرادِ معاشرہ کا تعلق ہے ان میں ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے کہ اگر معاشرہ اپنا فرض انجام نہیں دیتا یا کسی اور وجہ سے کوئی شخص عقد نکاح سے محروم رہ جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسے بدکاری کے لیے عذر بنا لے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ انھیں بہرصورت پاکدامنی کی زندگی گزارنی چاہیے۔ جب تک اللہ تعالیٰ انھیں نکاح کے مصارف اور ازدواجی زندگی کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں دیتا وہ نہایت صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس طرح پاکدامنی کی زندگی گزاریں جیسے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یامعشرالشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء ” نوجوانوں تم میں سے جو شخص شادی کرسکتا ہو اسے کر لینی چاہیے کیونکہ یہ نگاہ کو بدنظری سے بچانے اور آدمی کی عفت قائم رکھنے کا بڑا ذریعہ ہے، اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے آدمی کی طبیعت کا جوش ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ “
(بخاری و مسلم)
مکاتبت کا مفہوم اور اس کا حکم
وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ” اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں۔ “ مکاتبت کا لفظی معنی تو لکھا پڑھی ہے لیکن اصطلاح میں اس لفظ کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا سے درخواست کرے کہ میں اتنا معاوضہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، آپ معاوضے کی ادائیگی کے بعد مجھے غلامی سے آزاد کردیں، اور آقا اسے قبول کرلے اور مدت کا تعین ہوجائے اور اگر کچھ اور شرائط ضروری ہوں تو وہ بھی طے ہوجائیں اور اس معاہدے کو لکھ لیا جائے تو اسے معاہدہ مکاتبت کہتے ہیں۔ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے جو آسانیاں پیدا کی ہیں ان ہی میں سے مکاتبت بھی ہے، جس غلام کو یہ حق دیا جاتا ہے اسے مکاتب کہتے ہیں۔ اور جو وہ معاوضہ ادا کرتا ہے اسے زرمکاتبت کہتے ہیں۔ اس معاہدہ کے طے ہوجانے کے بعد اگر مدت مقررہ کے اندر غلام زرِ مکاتبت ادا کر دے تو اس کے آقا کو اس کی آزادی کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے کا حق نہیں ہے۔ وہ نہ اسے کام سے روک سکتا ہے اور نہ معاوضہ کی پیشکش کے وقت معاوضہ قبول کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔ اور اگر وہ ایسا کرے تو مکاتب کو عدالت میں جانے کا حق حاصل ہے۔ حضرت عمرفاروق ( رض) کے دورخلافت کا واقعہ ہے کہ ایک غلام نے اپنی مالکہ سے مکاتبت کی اور مدت مقررہ سے پہلے ہی مال کتابت فراہم کرکے اس کے پاس لے گیا۔ مالکہ نے کہا میں تو یکمشت نہ لوں گی بلکہ سال بسال اور ماہ بماہ قسطوں کی صورت میں لوں گی۔ غلام نے حضرت عمر ( رض) سے شکایت کی۔ انھوں نے فرمایا، رقم بیت المال میں داخل کردو اور جاؤ تم آزاد ہو۔ پھر مالکہ کو پیغام بھیجا کہ تمہاری رقم یہاں جمع ہوچکی ہے چاہو تو یکمشت لے لو ورنہ ہم تمہیں سال بسال اور ماہ بماہ دیتے رہیں گے۔
(دار قطنی بروایت ابوسعید مقبری)
فَکَاتِبُوْھُمْ کا مفہوم اور اختلاف کا حل
فَکَاتِبُوْھُمْ … کہ جب کوئی لونڈی یا غلام تم سے مکاتبت کی درخواست کرے تو اسے مکاتب بنادو۔ یہ چونکہ امر کا صیغہ ہے اس لیے بعض اہل علم نے اسے وجوب کے معنی میں لیا ہے، یعنی کسی غلام کی درخواست پر آقا کے لیے اسے مکاتب بنانا واجب ہوجاتا ہے۔ اس کی دلیل میں حضرت عمرفاروق ( رض) کے ایک فیصلے سے استدلال کیا جاتا ہے۔ مشہور فقیہ و محدث حضرت محمد بن سیرین کے والد سیرین نے اپنے آقا حضرت انس ( رض) سے جب مکاتبت کی درخواست کی اور انھوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا تو سیرین حضرت عمر فاروق ( رض) کے پاس شکایت لے گئے۔ انھوں نے واقعہ سنا تو حضرت انس ( رض) کو ڈانٹتے ہوئے حکم دیا کہ انھیں مکاتب بنائو۔ اور محولہ بالا آیت کے اس لفظ سے استشہاد کیا۔
دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ آیت کریمہ میں صرف فَکَاتِبُوْھُمْ نہیں فرمایا گیا بلکہ اس کے ساتھ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْرًابھی فرمایا گیا ہے۔ ” یعنی ان سے مکاتبت کرلو، اگر ان کے اندر بھلائی پائو۔ “ بھلائی کی شرط ایسی ہے جس کا انحصار مالک کی رائے پر ہے اور کوئی متعین معیار اس کا نہیں ہے جسے کوئی عدالت جان سکے۔ ویسے بھی قانونی احکام کی شان یہ نہیں ہوا کرتی، اس لیے اس حکم کو تلقین اور ہدایت ہی کے معنی میں لیا جائے گا نہ کہ قانونی حکم کے معنی میں۔ رہی یہ بات کہ حضرت عمرفاروق ( رض) نے حضرت انس ( رض) کو اس حکم کے ماننے پر مجبور کیا تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ ( رض) نے اسے قانون کے طور پر نافذ کیا کیونکہ آپ ( رض) کی حیثیت صرف حاکم عدالت کی نہیں تھی بلکہ آپ ( رض) افرادِ ملت کے لیے ایک باپ کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ بسا اوقات ایسے معاملات میں بھی دخل دیتے تھے جن میں صرف باپ ہی دخل دے سکتا ہے۔
میرا ناقص گمان یہ ہے کہ اگر خیر اور بھلائی کا مفہوم سمجھ لیا جائے تو متذکرہ بالا دونوں گروہوں کے اختلاف میں تطبیق ہوسکتی ہے۔ خیر اور بھلائی سے یہاں تین چیزیں مراد ہوسکتی ہیں۔
1 غلام میں مال کتابت ادا کرنے کی صلاحیت ہو، یعنی وہ اس قابل ہو کہ جس معاوضے کی بنیاد پر وہ مکاتبت کرنا چاہتا ہے وہ معاوضہ کما کر مہیا کرسکتا ہو۔ ہنر مند آدمی ہو، صحت مند ہو، محنتی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ محض اس خیال سے کہ اسلام نے چونکہ ہمیں مکاتبت کا حق دیا ہے تو اس سے فائدہ اٹھائو۔ چند سال زرِ مکاتبت ادا کرنے کی مدت مقرر کرلو۔ اس دوران خوب گھومو پھرو عیش کرو اور تھوڑا بہت جو کمائو اسے کھا کر برابر کردو، اور پھر مدت کے اختتام پر حاضر ہو کر کہہ دو کہ میں زرمکاتبت ادا نہیں کرسکتا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بدنیت شخص معاہدہ مکاتبت کے بعد اسے بہانہ بنا کر لوگوں سے مانگنا شروع کردے اور چونکہ اسلام نے ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے مسلمان خواہی نخواہی اس کی کچھ نہ کچھ مدد کریں اور یہ اس سے فائدہ اٹھاتا رہے اور آخر عجز کا اظہار کردے۔ اس لیے یہ بات دیکھنا ازبس ضروری ہے کہ یہ شخص زرمکاتبت ادا بھی کرسکتا ہے یا نہیں۔
2 جو مکاتبت کا مطالبہ کررہا ہے اس میں یہ بات بھی دیکھی جائے کہ وہ کہاں تک دیانتدار اور راست باز آدمی ہے۔ کیا اس کے قول پر اعتبار کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
3 مکاتبت کے خواہاں آدمی میں اخلاقی رجحانات اور مسلمانوں کے ساتھ معاملات کا اندازہ کرنا بھی ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اس کے مالک سے مخفی نہیں رہ سکتی کہ اس کا غلام اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کہاں تک خیرخواہ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر اسے مکاتبت کے ذریعے آزادی مل جائے تو وہ آستین کا سانپ ثابت ہو۔ کیونکہ غلاموں میں ایسے لوگ بھی تھے جو جنگ میں گرفتار ہو کر آئے۔ ضروری نہیں کہ گرفتاری کے بعد وہ مسلمانوں سے اپنی دشمنی کو بھول چکے ہوں۔
خیر کے مندرجہ بالا مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات بڑی آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ جو غلام ذی صلاحیت، دیانتدار، قابل اعتماد اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مخلص ہے تو ایسے شخص کو حق مکاتبت نہ دینا یقینا زیادتی ہے۔ ایسے شخص کے لیے حضرت عمرفاروق ( رض) کا اسوہ ہمارے لیے حجت ہے۔ لیکن وہ شخص جو راست باز نہ ہو، مکاتبت کو محض مالک سے چھٹی پانے کا ذریعہ سمجھتا ہو یا وہ مسلمانوں کا بہی خواہ نہ ہو تو اس کے بارے میں مالک کو بجاطور پر حق پہنچتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔
وَاٰ تُوْھُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰ تٰـکُمْ ” اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ “
مکاتبت میں تعاون کا حکم
اللہ تعالیٰ نے غلاموں کے لیے آزادی کے حصول میں جو آسانیاں مہیا فرمائی ہیں تاکہ انسانوں کو آزادی کی نعمت سے بہرہ ور ہونے کا موقع دیا جائے اور غلامی کی لعنت ختم کی جائے۔ ان میں دوسرے امکانات کے ساتھ ساتھ ایک حق مکاتبت بھی ہے، جس سے ایک باہمت آدمی اگر چاہے تو غلامی سے نجات حاصل کرسکتا ہے، لیکن اسے مزید آسان بنانے کے لیے پیش نظر آیت کے مذکورہ الفاظ میں تمام مسلمانوں کو ایسے شخص کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم کے مخاطب مکاتبت کا حق مانگنے والوں کے آقا بھی ہیں اور عام مسلمان بھی اور اسلامی حکومت بھی۔ تینوں کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی ہے کہ جب یہ لوگ معاونت کے خواستگار ہوں تو انھیں مایوس نہ کیا جائے۔
آقائوں کو ہدایت کی گئی کہ جو تم سے حق مکاتبت مانگیں اور ان سے مکاتبت کا ایک معاوضہ طے ہوجائے تو مال کتابت کا کچھ نہ کچھ حصہ انھیں معاف کردو۔ چناچہ متعدد روایات سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام ( رض) اپنے مکاتبوں کو مال کتابت کا ایک معتد بہ حصہ معاف کردیا کرتے تھے۔ حضرت علی ( رض) کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا تو ہمیشہ یہ معمول رہا کہ وہ ہمیشہ اپنے مکاتبوں کو مال کتابت کا چوتھائی حصہ معاف کردیتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔
عام مسلمانوں کو بھی چونکہ اس کی ہدایت کی گئی تھی اس لیے جو شخص بھی مال کتابت ادا کرنے کے لیے ان سے مدد کی درخواست کرتا تھا وہ دل کھول کر مدد کرتے تھے۔ حتیٰ کہ قرآن کریم نے غلاموں کو غلامی کی قید سے آزاد کرانے کے لیے مدد کرنے کو مصارفِ زکوٰۃ میں شمار کیا ہے۔ اور فَکُ رَقَـبَۃٍ ” گردن کا بند کھولنا “ کو ایک بڑی نیکی کا کام قرار دیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا، مجھے وہ عمل بتایئے جو مجھ کو جنت میں پہنچا دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تو نے بڑے مختصر الفاظ میں بہت بڑی بات پوچھ ڈالی۔ غلام آزاد کر، غلاموں کو آزادی حاصل کرنے میں مدد دے، کسی کو جانور دے تو خوب دودھ دینے والا دے، اور تیرا جو رشتہ دار تیرے ساتھ ظلم سے پیش آئے اس کے ساتھ نیکی کر، اور اگر یہ نہیں کرسکتا تو بھوکے کو کھانا کھلا، پیاسے کو پانی پلا، بھلائی کی تلقین کر، برائی سے منع کر، اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو اپنی زبان کو روک کر رکھ، کھلے تو بھلائی کے لیے کھلے ورنہ بند رہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان، عن البراء بن عاذب)
اسلامی حکومت کو بھی ہدایت کی کہ اگر کچھ لوگ مجبور ہو کر حکومت سے رجوع کریں تو بیت المال میں جو زکٰوۃ جمع ہو اس میں سے مکاتب کی رہائی کے لیے ایک حصہ خرچ کرے۔
مکاتبت کا حق لونڈیوں کو بھی ہے
مکاتبت کا یہ حق اسلام نے جس طرح غلاموں کو دیا اسی طرح لونڈیوں کو بھی دیا۔
مِمَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ کے الفاظ کی عمومیت بھی اس پر دلیل ہے اور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ( رض) کا عمل بھی۔ روایات میں حضرت بریرہ ( رض) اور حضرت جویریہ ( رض) کے واقعات موجود ہیں جو اس کی عملی شہادت ہیں۔
اس قانون کے نازل ہوجانے کے بعد تمام ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی نہایت وسیع راہ کھل گئی۔ اس کے بعد صرف وہی غلام باقی رہے جو یا تو اپنی حالت پر قانع اور مطمئن تھے یا ان کے اندر ہاتھ پائوں مارنے اور معاشرے کے اندر خود اپنی جگہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسے غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کا اعلانِ عام کردیا جاتا تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ وہ اپنے مالکوں کی سرپرستی سے بھی محروم ہوجاتے اور خود بھی اپنی کفالت کا انتظام نہ کر پاتے، جس کے سبب سے وہ معاشرے پر ایک بار بن کے رہ جاتے۔ ان کے عزت نفس اور عام ضروریات کی انجام دہی کے لیے ان کے آقائوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور حکم دیا کہ جو خود کھائو انھیں کھلائو، جو خود پہنو، انھیں پہنائو، انھیں اپنا بھائی سمجھو اور کبھی انھیں غلام کہہ کے مت پکارو۔
غلاموں کو مکاتبت کی سہولت اور اس سلسلے میں مسلمانوں کو جس تعاون اور حُسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے وہ ہم نے پیش نظر آیت کی توضیح میں پڑھا ہے جس سے فی الجملہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اسلام نے غلاموں کو کس قدر حقوق دیئے ہیں لیکن جب تک یکجا طور پر ان اسلامی احکام کو ذکر نہ کیا جائے جو غلامی ختم کرنے کے سلسلے میں اسلام نے دیئے ہیں اس وقت تک اسلام کا انسانیت پر احسان اور دیگر نظام ہائے عالم میں اس کا امتیاز پوری طرح سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اس لیے ہم بڑے اختصار سے اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش کرتے ہیں۔
1 غلامی اسلام کے نظام کا کوئی جز نہیں، بلکہ اسلام سے پہلے تمام ممالک اور تمام اقوام میں ایک مروج طریقہ تھا جو مختلف حوالوں سے وجود میں آیا تھا۔ اسلام نے صرف وقتی طور پر اسے گوارا کیا تھا۔ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ جس طرح اسلام نے صدیوں سے جمی ہوئی بعض خرافات کو بیک قلم ختم کر ڈالا، اسی طرح اس غلامی کی لعنت کو بھی ختم کیا جاسکتا تھا، تو آخر اسلام نے ایسا کیوں نہ کیا ؟ یہ بات بظاہر دل کو اپیل کرتی ہے لیکن جس شخص کی نگاہ اس وقت کے تمدنی اور بین الاقوامی حالات پر ہے وہ یہ کہنے کی جرأت کبھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ اسلام کے نزول کے وقت تمام دنیا بالخصوص عرب میں تین طرح کے غلام موجود تھے۔ 1 وہ غلام جو بعض ظالم اور جابر قسم کے لوگ زبردستی کسی کو پکڑ کر غلام بنا لیتے تھے اور پھر بیچ ڈالتے تھے۔ اب یہ بکنے والا شخص ہمیشہ کے لیے غلام بن کر رہ جاتا۔ 2 وہ لوگ جو نسلوں سے غلام چلے آرہے تھے اور کچھ پتہ نہ تھا کہ ان کے ابائواجداد کب غلام بنائے گئے تھے اور نہ یہ معلوم تھا کہ یہ کسی جنگ میں پکڑے گئے یا ظلماً ان کو غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔ 3 وہ لوگ جو جنگ میں پکڑے جاتے اور اگر فریقِ مخالف ان کے چھڑانے کی کوئی تدبیر نہ کرتا تو وہ غلام بنا لیے جاتے۔ ان میں سے پہلی دونوں قسم کے غلام عرصہ ٔ دراز سے چلے آرہے تھے اور جو کسی نہ کسی حد تک آبادی کا حصہ بن چکے تھے۔ نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ان میں وہ غلام جو کسی حد تک سمجھدار اور کاروبار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے وہ اپنے مالک کی طرف سے یا اس کی معیت میں کاروباری زندگی میں شریک ہوتے تھے۔ بہت حد تک گھروں کی ذمہ داریاں ان لوگوں کے سپرد کردی جاتی تھیں۔ معاشی نظام کا بیشتر حصہ ان کے دم قدم سے چل رہا تھا۔ اب اگر اسلام انھیں آزاد کرنے کا حکم دے دیتا تو ملک کا معاشرتی اور معاشی نظام تلپٹ ہو کے رہ جاتا اور بہت ممکن تھا کہ امریکہ کی طرح خانہ جنگی پھوٹ پڑتی جس کی آگ میں سارا عرب جل اٹھتا۔
2 غلاموں میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو معاشرے میں اپنا مقام بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو اپنے پیٹ کا دھندا چلانے پر بھی قادر نہ تھے۔ غلامی کی صورت میں تو ان کی کفالت کی ذمہ داری ان کے مالکوں کے اوپر تھی، لیکن آزاد ہوجانے کے بعد ان کے لیے اور کوئی راستہ نہ تھا کہ بھیک مانگیں اور معاشرے پر ایک بوجھ بن جائیں۔ ظاہر ہے کہ اسلام بھیک منگوں کا ایک طبقہ پیدا نہیں کرسکتا تھا۔
3 غلاموں میں صرف مرد ہی نہیں تھے، عورتیں بھی تھیں جنھیں لونڈیاں کہا جاتا تھا۔ ان کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ تھا۔ ان کے بےسہارا ہونے میں بہت سے اخلاقی مفاسد کے پیدا ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ اسلام اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ اٹلی اور جرمن کی طرح قیدیوں کے باڑے بنا دے اور پھر وہاں سے زنا کاری کے نتیجے میں ایک ایسی نسل وجود میں آئے جن کے باپوں کا کچھ علم نہ ہو۔ شرم و حیاء اور غیرت و حمیت اسلام کے امتیازی اوصاف ہیں۔ اسلام انھیں جوہرِ انسانیت قرار دیتا ہے۔ اس لیے وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ انسانیت کو اس سے کہیں ٹھیس تو نہیں لگے گی۔
4 اسلام نے اگرچہ غلامی کو ایک ناگزیر ضرورت کے تحت قبول کیا تھا لیکن تبلیغ و دعوت اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے آستانے پر جھکانا چونکہ اس کا بنیادی مقصد ہے اس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ دوسری دنیا کی طرح وہ غلاموں کو صرف خدمت کا ایک ذریعہ سمجھتا۔ اس لیے اس نے قیدیوں اور صدیوں کے غلاموں کو گھروں میں اس طرح جگہ دی اور اس طرح انھیں گھر کے افراد بنا کے رکھا کہ گھر میں رہنے والے مسلمانوں کا ایک ایک عمل ان کی نگاہوں کے سامنے رہے اور وہ بھی مسلمانوں کی نگاہ میں رہیں تاکہ وہ مسلمانوں کو دیکھ کر اچھے انسان کا تصور قائم کرسکیں اور وہ مسلمانوں کی نگرانی میں رہ کر تربیت کے عمل سے گزر سکیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ شاید ہی کوئی ایسا غلام باقی رہ گیا ہو جس نے اسلامی معاشرے میں اسلام قبول نہ کیا ہو اور پھر انھیں میں معتدبہ لوگوں کی ایک کھیپ تیار ہوئی جنھوں نے اسلامی علوم میں اپنا نام پیدا کیا بلکہ مسلمانوں کی امامت و قیادت کی، اور خاندانِ غلاماں کے نام سے ایک خاندان وجود میں آیا جس نے ملکوں پر حکومت کی اور تاریخ میں درخشاں کارنامے چھوڑے۔ رہی غلاموں کی پہلی قسم یعنی جنگی قیدی، یہ جنگوں میں گرفتار ہونے والے اس لیے غلام بنا لیے جاتے تھے کہ اس دور کا یہی وطیرہ تھا کہ جو لوگ بھی جنگ میں گرفتار ہوتے، فاتحین ان کو غلام بنا لیتے۔ اسلام نے ایسا کرنے کی اجازت ضرور دی لیکن حکم نہیں دیا، بلکہ اس بات کو ترجیح دی کہ اگر تم ملکی مفادات او ملی مصالح کے پیش نظر ازراہِ احسان جنگی قیدیوں کو چھوڑ دو تو تمہیں اس کی اجازت ہے اور اگر فدیہ لے کر چھوڑنا چاہو تو اس کی بھی اجازت ہے، لیکن اگر دشمن اپنے قیدیوں کو نہ فدیہ دے کر چھڑانا چاہے اور نہ قیدیوں کا تبادلہ کرے اور پکڑے جانے والوں کے بارے میں یہ اطمینان بھی مشکل ہو کہ یہ واپس جا کر دشمنی نہیں کریں گے تو پھر مسلمانوں کے پاس اس کے سوا اور کیا چارہ کار تھا کہ وہ زمانے کی روش کے مطابق انھیں غلام بنالیں۔ البتہ ان کی بتدریج آزادی کے لیے قانونی طریقے کی بجائے اخلاقی طریقہ اختیار کیا اور اسے ایک ایسی معاشرتی نیکی بنادیا جس کے نتیجے میں غلاموں کی آزادی کا ایک راستہ کھل گیا۔ اسلام نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے، میں ایک ترتیب سے صرف ان کا ذکر کرنے پر اکتفا کروں گا۔
1 اسلام نے جبراً اور ظلماً کسی کو غلام بنانے پر قطعاً پابندی لگا دی اور قانوناً اسے حرام ٹھہرایا۔
2 مکی زندگی کے بالکل ابتدائی دور ہی سے فَکُّ رَقَبَۃٍ یعنی غلام آزاد کرنے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا اور اس کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل دے ڈالی۔ جیسے جیسے مسلمانوں کے حالات بہتر ہوتے گئے اس تحریک میں توانائی آتی گئی۔ تنگدستی کے باوجود بھی مسلمانوں نے ہمیشہ اس پر عمل کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے 63 غلام آزاد کیے۔ آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے صرف حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے۔ آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس ( رض) نے اپنی زندگی میں 70 غلاموں کو آزاد کیا۔ حضرت حکیم بن حزام ( رض) نے 100 غلام آزاد کیے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) نے ایک ہزار غلام آزاد کیے۔ ذوالکلاع حمیری ( رض) نے آٹھ ہزار، حضرت عبدالرحمن بن عوف ( رض) نے تیس ہزار کو رہائی بخشی۔ خلفائے راشدین میں حضرت ابوبکر صدیق ( رض) اور حضرت عثمان ( رض) کا نام تو اس حوالے سے بہت معروف ہے۔
3 بعض گناہوں اور کوتاہیوں کی صورت میں غلام آزاد کرنے کو کفارہ اور صدقہ ٹھہرایا گیا۔ مثلاً قتل خطا میں، روزہ توڑنے میں، قسم توڑنے میں اور ظہار وغیرہ میں۔ آنحضرت ﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ نہ صرف حُسنِ سلوک کی ہدایت فرمائی بلکہ مالکوں پر ان کے انسانی حقوق کو شرعی درجہ دے دیا جس سے ان کے معاملہ میں مالکوں کی وہ خودمختاری اور مطلق العنانی ختم ہوگئی جو زمانہ جاہلیت میں ان کو حاصل تھی۔
4 لونڈی کے ام ولدہ بن جانے پر اس کے بیچنے پر پابندی لگا دی اور آقا کے مرجانے پر اس کے آزاد ہوجانے کی ضمانت دی۔
5 کوئی شخص اپنی زندگی تک اپنے غلام کو غلام رکھے اور بعد کے لیے وصیت کردے کہ اس کے مرتے ہی وہ آزاد ہوجائے گا، اسے اسلامی فقہ کی اصطلاح میں تدبیر کہتے ہیں۔ تو یہ شخص آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوجائے گا۔
6 تمام ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کردینے کی ہدایت فرمائی تاکہ معاشرے کے اندر ان کا اخلاقی و معاشرتی معیار اونچا ہو اور ان کو غلام یا لونڈی کہہ کر بلانے پر پابندی لگا دی، بلکہ حکم دیا کہ انھیں فتیٰ اور فتات کہہ کر پکارو۔
7 زمانہ جاہلیت میں جن مالکوں نے لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے لیے چکلے قائم کر رکھے تھے ان کے چکلے زنا کے جرم قرار پا جانے کے بعد ختم ہوگئے اور قانوناً ان پر پابندی لگا دی گئی۔
8 آخر میں مکاتبت کو ایک قانونی حیثیت دے دی گئی اور ان کی امداد اور حوصلہ افزائی کے لیے عام لوگوں کو بھی ابھارا گیا اور ان کی مدد کے لیے بیت المال میں بھی ایک خاص مد رکھی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خلافتِ راشدہ میں ہی قانونی طور پر غلامی کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد صرف وہ غلام بچ رہے جو ہاتھ پائوں مارنے کی صلاحیت سے عاری تھے اور وہ خود بھی آزادی کے خواہاں نہ تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم آزاد ہو کر اپنی ضروریاتِ زندگی کے لیے گدا گری کرنے پر مجبور ہوجائیں گے جبکہ مسلمانوں کے گھروں میں انھیں وہ تمام سہولتیں حاصل تھیں جو گھر کے دیگر افراد کو میسر تھیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کی انتہائی ترغیب دی تھی اور بدسلوکی کی صورت میں قیامت کے دن خود استغاثہ کی تنبیہ فرمائی تھی۔
یہ وہ مختصر اقدامات ہیں جو اسلام نے بتدریج غلامی کو ختم کرنے کے لیے کیے اور اسے خدمت کا ذریعہ اور ذلت کی علامت بنانے کی بجائے تربیت کا ذریعہ بنایا جس کے نتائج قرنِ اول کی تاریخ سے نمایاں ہیں۔ کوئی شخص ان کو سامنے رکھ کردیا نتداری سے بتائے کہ کیا اس سے بہتر غلامی ختم کرنے کا کوئی اور حل بھی ممکن تھا۔ اور یہ بھی تقابل کرکے دیکھے کہ اعتراض کرنے والی دنیا نے خود اس معاملے میں کیا اور کیسی اندوہناک مثالیں چھوڑی ہیں۔
معاشرتی مقام کی بلندی اصلاح کا ذریعہ
وَلاَ تُکْرِھُوْا فـَتَیٰـتِکُمْ عَلَی الْبِغَـآئِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا ” اور اپنی لونڈیوں کو پیشہ پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ عفت کی زندگی کی خواہاں ہیں۔ “ اسلام نے ہر طرح کی بےحیائی کو روکنے اور اس کے محرکات کو ختم کرنے کے لیے جو قانونی اور اصلاحی تدابیر کی ہیں وہ گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ انہی اصلاحی تدابیر میں ہم نے دیکھا ہے کہ نفسیاتی عوامل کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا، بلکہ طریقے طریقے سے باہر کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اندر بھی ایک ایسی قوت مدافعت اور ایک ایسا احساسِ تشخص پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ہر شخص کو برائی پر غالب آنے کے لیے اکساتا ہے۔ مثلاً مخلص مسلمانوں کو بار بار اس بات کا احساس دلایا ہے کہ تم اگر صاحب ایمان ہو تو ایمان اور بےحیائی تو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح کوئی بھی صاحب ایمان اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے علم کا استحضار رکھنے والا نہ تو خود گناہ کے قریب جاتا ہے اور نہ کسی دوسرے پر تہمت باندھتا ہے کیونکہ ایمان ایک ایسا نور ہے جس کے سامنے ہر طرح کی برائی کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں میں اخلاقی اصلاح کے لیے ایمان کی قوت کے ساتھ ساتھ احساسِ ذات بھی پیدا کیا گیا۔ غلام جو ہر لحاظ سے اپنے آپ کو دوسروں سے فروتر سمجھتے تھے، ان کے لیے آزادی کے راستے کھولے گئے اور انھیں اس طرح کی مراعات دی گئیں جس نے معاشرتی طور پر ان کے مقام و مرتبہ کو بلند کیا۔ اسی طرح لونڈیوں میں بھی عفت مآبی اور پاکدامنی کا احساس پیدا کیا گیا جبکہ انھیں اسلام سے پہلے جنسی کھلونوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اِمَائٌ (لونڈیاں) کہنے کی بجائے فتیات کہا گیا ہے جو فتاۃ کی جمع ہے۔ اس کا معنی لڑکی اور چھوکری کے ہیں اور یہ عام طور سے نوخیز بچیوں کو پیار سے کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا استعمال ہی بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اب وہ معاشرتی طور پر بلند مقام کی حامل ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ نے اسی احساس کی تائید میں یہ حکم دیا کہ کسی غلام کو عبد اور کسی لونڈی کو امۃ کہہ کر نہ پکارا جائے۔ الفاظ کی یہ تبدیلی انھیں اصلاحات کا جز ہے جو ان کے معاشی مقام کو بلند کرنے کے لیے اسلام نے رائج کیں۔ چناچہ ایک طرف ایمان نے عفت مآبی پیدا کی اور دوسری طرف برتری کے احساس نے قدیم تصورات کو بدلنے پر مجبور کیا اور ان کے اندر شدت سے یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ ہم اگرچہ آزاد عورتیں نہیں ہیں لیکن جہاں تک عفت و عصمت کا تعلق ہے اس میں ہم آزاد عورتوں سے کسی طرح کم نہیں۔ اس لیے اب اس بات کو قبول نہیں کیا جاسکتا کہ ہمیں جنسی آسودگی کے لیے استعمال کیا جائے۔ چناچہ یہی وہ لونڈیاں ہیں جن کے لیے اس آیت کریمہ میں یہ حکم جاری فرمایا گیا، لیکن اسے سمجھنے کے لیے چند باتوں کا جاننا ضروری ہے۔
اہلِ عرب میں قحبہ گری
اس حکم کے نزول کے وقت اور اس سے پہلے عرب میں قحبہ گری کی دو صورتیں تھیں۔ ایک کو خانگی کا پیشہ کہا جاتا تھا اور دوسرے کو باقاعدہ چکلے کا نام دیا جاتا تھا۔ خانگی کا پیشہ کرنے والی زیادہ تر آزاد شدہ لونڈیاں ہوتی تھیں جن کا کوئی سرپرست نہ ہوتا یا ایسی آزاد عورتیں ہوتی تھیں جن کی پشت پناہی کرنے والا کوئی خاندان یا قبیلہ نہ ہوتا۔ یہ کسی کے گھر میں بیٹھ جاتیں اور کئی کئی مردوں سے بیک وقت معاہدہ کرلیتیں کہ وہ اگر اس کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھائیں گے تو وہ اس سے اپنی جنسی حاجت پوری کرسکیں گے۔ بچہ پیدا ہونے کی صورت میں باپ کے حوالے سے اس عورت کا فیصلہ قبول کیا جاتا اور بچہ اس باپ کی طرف منسوب ہوتا۔ یہ اس وقت کے معاشرے کا مُسّلم ادارہ تھا جسے اہل جاہلیت ایک قسم کا نکاح سمجھتے تھے، اسلام نے اسے یکسر ختم کردیا۔
قحبہ گری کی دوسری صورت تمام تر لونڈیوں کے ذریعے سے ہوتی تھی۔ اس کے دو طریقے تھے۔ ایک یہ کہ لوگ اپنی جوان لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ تم ہر مہینے اتنا کما کر لائو۔ اور ان کے پاس کمانے کا ذریعہ بدکاری کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ مالک جانتے تھے کہ وہ اسی ذریعہ سے کما کے لاتی ہیں اور وہ شوق سے کسب حرام کی کمائی کھاتے تھے۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی جوان جوان اور خوبصورت لونڈیوں کو کوٹھوں پر بٹھا دیتے تھے اور ان کے دروازوں پر جھنڈے لگا دیتے تھے جنھیں دیکھ کر دور ہی سے معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ بدکاری کے اڈے ہیں اور اس قماش کے لوگ اپنی حاجت براری کے لیے ادھر کا رخ کرتے تھے۔ ایسے گھروں کو ” مواخیر “ کہا جاتا تھا۔ عرب کے بڑے بڑے رئیسوں نے اس طرح کے چکلے کھول رکھے تھے۔ مدینہ منورہ میں عبداللہ بن ابی جو اوس و خزرج کا بڑا آدمی سمجھا جاتا تھا اور آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اہل مدینہ اسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ اس کا مدینے میں باقاعدہ ایک چکلہ تھا جس میں چھ خوبصورت لونڈیاں رکھی گئی تھیں۔ ان ہی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی جس کا نام ” معاذہ “ تھا مسلمان ہوگئی اور اس نے توبہ کرنی چاہی۔ ابن ابی نے اس پر تشدد کیا۔ حضرت ابوبکر ( رض) کے واسطے سے اس نے اپنی شکایت آنحضرت ﷺ تک پہنچائی۔ سرکارِدوعالم ﷺ نے حکم دے دیا کہ لونڈی اس ظالم کے قبضے سے نکال لی جائے۔ یہ وہ پس منظر ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ انہی حالات میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے۔
حرف ان کا مفہوم
اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس میں ” حرف اِن “ استعمال ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم اس بات سے مشروط ہے کہ اگر کوئی لونڈی پاکدامنی کا ارادہ کرے تو تب تو اسے اس کا مالک مجبور نہیں کرسکتا، لیکن اگر وہ اس کا ارادہ نہ رکھتی ہو تو پھر مالک کے لیے اس سے قحبہ گری کرانا اور اس کی کمائی کھانا ناجائز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا کی قید یہاں بطور شرط کے نہیں بلکہ صورت واقعہ کی تعبیر کے لیے ہے۔ یعنی جبکہ غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کی ہدایت فرمائی گئی ہے اور زنا پر حد جاری کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور مختلف احکام سے غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کا ایک کشادہ راستہ کھول دیا گیا ہے تو اب بجاطور پر لونڈیاں یہ چاہتی ہیں اور ان کے دل کی یہ آواز ہے کہ ان کے مالکوں کا دبائو ان کی عفت و حرمت پر ختم ہونا چاہیے۔ وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہیں تو آقا کو اس بات کا حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ انھیں زنا کاری پر مجبور کرے۔ چناچہ ان کی اس آرزو کی تکمیل کے لیے اور ان کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم جاری فرمایا۔ اور آنحضرت ﷺ نے اس حکم کی وضاحت اور اس کے نفاذ کے لیے اعلان فرمایا کہ لامساعاۃ فی الاسلام ” اسلام میں قحبہ گری کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ “
زنا کی کمائی کی حرمت
لِـتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ” تاکہ تم حیات دنیا کا سامان حاصل کرو۔ “ اس میں خطاب لونڈیوں کے مالکوں سے ہے جو ان کی عزتوں کی کمائی کھاتے تھے۔ انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ اسلام نے زنا کو حرام قرار دے دیا ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے سزائوں پر مشتمل قانون بھی نازل کردیا گیا ہے۔ مسلمان لونڈیاں اسلامی ہدایت کے مطابق پاکدامن رہنا چاہتی ہیں اور تم محض چند ٹکوں کی خاطر ان کی عزتوں کا سودا کرتے ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ زنا کی کمائی نہایت خبیث اور حرام ہے۔ تم اس سے اپنی دنیا بنانے کی فکر میں ہو، لیکن تمہیں معلوم نہیں کہ آخرت میں تمہیں اس کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے حکم جاری فرمایا کہ زنا کے ذریعہ سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام، ناپاک اور قطعی ممنوع ہے۔ رافع بن خدیج ( رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لونڈی سے آمدنی وصول کرنا ممنوع قرار دیا ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ آمدنی اسے کہاں سے حاصل ہوتی ہے۔ رافع بن رفاعہ انصاری ( رض) کی راویت میں اس سے زیادہ واضح حکم ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے ہم کو لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا، بجز اس کے کہ جو وہ ہاتھ کی محنت سے حاصل کرے اور آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے اس کی وضاحت فرمائی۔ یعنی روٹی پکانا، سوت کاتنا یا اون یا روئی دھکنا وغیرہ۔ (مسند احمد، ابودائود کتاب الاجارہ)
اس طرح نبی کریم ﷺ نے قرآن کی اس آیت کے منشا کے مطابق قحبہ گری کی ان تمام صورتوں کو مذہباً ناجائز اور قانوناً ممنوع قرار دے دیا جو اس وقت عرب میں رائج تھیں۔
وَمَنْ یُّکْرِھْھُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ م بَعْدِ اِکْرَاھِھِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ” اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفورورحیم ہے۔ “ عبداللہ بن ابی اور اس قماش کے لوگوں نے جگہ جگہ چکلے قائم کر رکھے تھے اور اسی پر ان کی چودھراہٹوں کا دارومدار تھا۔ اس لیے ان کے لیے اس سے بڑی تکلیف دہ بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ ان چکلوں کو بند کرنے کا حکم دے دیا جائے اور انھیں پابند کردیا جائے کہ وہ اپنی لونڈیوں سے ہاتھوں کی کمائی کے سوا کوئی اور کام نہیں لے سکتے۔ بنابریں اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ آسانی سے اس حکم کی تعمیل کریں گے اور یا اپنی لونڈیوں کو پاکدامنی کی زندگی اختیار کرنے کی اجازت دیں گے۔ چناچہ انھیں وارننگ دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اب ان لڑکیوں کو جبکہ وہ پاکدامنی کی زندگی اختیار کرنا چاہتی ہیں بدکاری پر مجبور نہ کرو ورنہ یاد رکھو کہ اکراہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ ان کو تو معاف کردے گا البتہ وہ لوگ اپنا انجام سوچ لیں جو ان کی عفت کے ساتھ یہ گھنونا کھیل، کھیل رہے ہیں۔
Ayah 24:34وَلَقَدْ اَنْزَلْنَـآ اِلَیْکُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلاً مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّـقِیْنَ ۔ (النور : 34)
(اور بیشک ہم نے تمہاری طرف صاف صاف ہدایت دینے والی آیات بھیج دی ہیں اور ان لوگوں کی عبرتناک مثالیں بھی نازل کردی ہیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بھی (ہم نے اتار دی ہے)
ایک تنبیہ
اس آیت کا تعلق اس پورے سلسلہ بیان سے ہے جو آغاز سورة سے لے کر یہاں تک چلا آرہا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انسانی اخلاق کی اصلاح کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر ہدایات جاری فرمائی ہیں اور پھر بدقماش لوگوں کے لیے زنا اور قذف اور لعان کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ معاشرے کو فواحش اور بےحیائی سے پاک کرنے کے لیے ان تمام محرکات پر پہرہ بٹھا دیا گیا ہے جو مسلمان معاشرے میں فواحش کو فروغ دیتے ہیں۔ گھروں کے ماحول کو پاکیزہ رکھنے کے لیے غض بصر اور حفظ فروج کی تاکید کی گئی ہے اور عورتوں کے لیے پردے کی حدود قائم کردی گئی ہیں۔ تجرد کی زندگی چونکہ ذہنی آوارگی کا باعث بنتی ہے اس لیے معاشرے کے آزاد لوگوں اور غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرنے کا حکم دیا ہے اور معاشرے کو مکمل طور پر قحبہ گری سے پاک کرنے کے احکام جاری فرمائے ہیں۔ ان تمام ہدایات اور احکام کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہاری اصلاح کے لیے اور اخلاقی بگاڑ سے بچانے کے لیے جو ہدایات اور احکام تمہاری ضرورت تھے وہ ہم نے تم پر نازل کردیئے اور جن لوگوں نے ان ہدایات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو بگاڑا ان کے انجام کی طرف بھی اشارے کردیئے ہیں۔ اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اس تعلیم کو قبول کرتے ہو یا نہیں۔ لیکن اس کے بین السطور میں یہ بات جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ اگر تم نے ان ہدایات کو قبول نہ کیا تو پھر غضب الٰہی تم سے دور نہیں۔ ویسے بھی یہ ہدایات اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہیں لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے نہیں وہ ان ہدایات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
جس طرح اس آیت میں روئے سخن اس وقت کے لوگوں کی طرف تھا، آج کے مسلمانوں کی طرف بھی ہے۔ ان سے بھی یہ آیت پکار پکار کے کہہ رہی ہے کہ اگر تم نے ان ہدایات کی روشنی میں اصلاحِ احوال کی کوشش نہ کی اور قدیم و جدید جاہلیتوں کے سحر میں اپنے آپ کو مبتلا کرلیا اور دوسری بےحیاء قوموں کی تقلید میں اپنی شرم و حیاء کی چادر کو اتار پھینکا تو سوچ لو، تمہارا انجام کیا ہوگا۔ پھر مکافاتِ عمل کے قانون کے مطابق اگر تم پر غضب الٰہی کی بجلیاں گریں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے یکساں ہے۔
Ayah 24:35اَللّٰہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوِۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ ط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُمِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لاَّشَرْقِیـَّۃٍ وَّلاَ غَرْبِیَّۃٍ لا یَّکَادُزَیْتُـھَا یُضِیْٓ ئُ وَلَوْلَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ ط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ط یَھْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (النور : 35)
(اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے، اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو، اس میں ایک چراغ ہو، وہ چراغ ایک شیشہ میں ہو، وہ شیشہ ایک چمکتے تارے کی مانند ہو جو روشن کیا جاتا ہے ایک برکت والے زیتون کے درخت سے، جو نہ شرقی ہو نہ غربی، اس کا تیل بھڑک اٹھتا ہے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے، روشنی کے اوپر روشنی، اللہ اپنے نور کی ہدایت جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ مثالیں لوگوں کی رہنمائی کے لیے بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ )
پیشِ نظر آیت کریمہ کو اہل علم آیت نور لکھتے ہیں کیونکہ اس میں نورایمان اور ظلمت کفر کو بڑی تفصیلی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ یہ آیت اور اس سے پیوستہ چند آیات کی حیثیت سورة کے اندر ایک درخشندہ آفتاب کی سی ہے جس کا پرتو سورة کے تمام اجزاء پر پڑ رہا ہے۔ ہم اس کی وضاحت میں چند گزارشات پیش کرتے ہیں :۔
گزشتہ آیات سے ربط اور منافقین کو تنبیہ
گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے قرآن کریم کے مخاطبوں کو وارننگ دی ہے کہ ہم نے تمہاری طرف تفصیل سے احکام نازل کردیئے ہیں جو انسانی اصلاح کی ضمانت دے سکتے ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں بھی ذکر کردی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام سے سرتابی کی، تو تاریخ میں سامانِ عبرت بن گئے۔ اب تم پر اس بات کا دارومدار ہے کہ تم ان احکام سے فائدہ اٹھاتے ہو یا نہیں۔ اس کے بعد اچانک یہ آیت نور ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ اس سے بظاہر یہ تأثر ملتا ہے کہ شاید اس آیت اور بعد کی آیات کا سابقہ آیات سے کوئی ربط نہیں جبکہ قرآن کریم ایک مربوط کتاب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تأثر قلت فکر کا نتیجہ ہے۔ اگر ان آیات کو گہری نظر سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن منافقین کی طرف ہے۔ جو اوس و خزرج سے تعلق رکھتے تھے، ایمان اور اسلام کے مدعی تھے، مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے تھے، لیکن بجائے اسلام سے فائدہ اٹھانے کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آئے دن فتنے اٹھانے میں لگے رہتے تھے۔ ان کی بدنصیبی پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ ” نادانو ! تمہارے سامنے قرآن کریم نازل ہورہا ہے، اللہ تعالیٰ کے رسول پوری شان کے ساتھ تمہارے سامنے جلوہ گر ہیں، اسلام قدم قدم آگے بڑھ رہا ہے، وہ دن دور نہیں جب اس دھرتی کی قسمت اسلام سے وابستہ ہوگی، یہ ایک روشنی ہے جو چارسو پھیل رہی ہے، لیکن تم تاحال اندھیری راتوں کے مسافر ہو اور تم ان تاریکیوں سے نہ جانے کیوں نکلنا نہیں چاہتے۔ “
امرِواقعہ یہ ہے کہ یہ آسمان و زمین بلکہ پوری کائنات اس شخص کے لیے عالم ظلمات اور اندھیر نگری کے سوا کچھ نہیں۔ جو خدا کو نہیں مانتا یا مانتا تو ہے لیکن اس کی صفات اور ان کے مقتضیات کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ بظاہر سورج کی روشنی میں اور چاند کی چاندنی میں رہتا ہے۔ اس کے سامنے مسکراتی ہوئی بہار اپنے گیسو بکھیرتی ہے اور زمین پر پھیلا ہوا حسن اور فضاء میں بکھری ہوئی رعنائیاں اس کے دل و دماغ کو روشن کرتی ہیں لیکن ان سب کے باوجود وہ یہ نہیں جان پاتا کہ یہ دنیا کہاں سے آئی ہے اور نہ یہ جان سکتا ہے کہ اس کے وجود میں آنے کی غایت اور مقصد کیا ہے۔ وہ خود اپنے متعلق بھی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے۔ زندگی کیا ہے اور زندگی کی حقیقت کیا ہے۔ اسے مسئول پیدا کیا گیا ہے یا غیرمسئول۔ اسے شتر بےمہار بنایا گیا ہے یا محکوم و مجبور۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ اسے ظلم کی روش اختیار کرنی چاہیے یا عدل کی۔ موت کی حقیقت کیا ہے۔ آخرت کیا ہے۔ کیا اسے کبھی اپنے خالق ومالک کے سامنے پیش ہو کر جوابدہی بھی کرنی ہے یا نہیں۔ یہی وہ سوالات ہیں جن پر انسان کی زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کو اور اس کی صحیح صفات کو نہیں مانتا وہ ان سوالوں کا جواب کبھی نہیں پاسکتا۔ اس کے لیے یہ دنیا ہمیشہ اندھیرنگری بنی رہے گی۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑے سے بڑا مقام حاصل کرسکتا ہے۔ وہ عالم ایجاد میں حیرت انگیز اضافے کرسکتا ہے۔ وہ انسانی ضروریات میں غیرمعمولی تنوع پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن حقیقتِ نفس الامری تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن وہ جیسے ہی اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی صفات اور ان کے مقتضیات پر ایمان لاتا ہے تو یہ نور کا ایسا رشتہ ہے جس سے اس کی زندگی کا ہر پہلو روشن ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی کائنات کی روشنی ہے، اس کے بغیر ہر چیز تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے اور جسے یہ روشنی نصیب نہیں ہوتی اس کے لیے کہیں اور سے روشنی کا حصول ناممکن ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے لیے ان آیات کو یہاں لایا گیا۔
اَللّٰہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ” اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ “ قرآن کریم میں بالعموم آسمان اور زمین کو کائنات کے مفہوم میں لیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا نور ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نور سے مراد کیا ہے ؟
نور کا مفہوم
آج جبکہ ہم اپنے وضعی علوم کا ایک قالب بنا چکے ہیں تو اس کی حدود میں رہنے کی وجہ سے ہم نے اپنے آپ کو بعض اصطلاحات کا پابند بنا لیا ہے۔ اس لیے جب بھی ہم کوئی لفظ بولتے ہیں تو کبھی اہل لغت سے پوچھتے ہیں اور کبھی مختلف علوم و فنون کے ماہرین سے۔ حالانکہ قرآن کریم ہماری وضعی قیود کا پابند نہیں۔ وہ ہماری اصطلاحات سے بےنیاز ہے اور جب کوئی بات اللہ تعالیٰ کی ذات جل وعلا کے بارے میں کہی جاتی ہے تو وہ ایسے تمام پیمانوں سے بلند ہوتی ہے۔ جب ہم عام معنوں میں نور کا لفظ بولتے ہیں تو ہم اسے اس معنی میں لیتے ہیں کہ وہ سورج کی شعاع ہے جو ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اور ہماری آنکھ کے پردے پر پڑ کر دماغ کی مرکزی بینائی کو متأثر کرتی ہے۔ لیکن جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کے تعارف یا اس کی صفت کے طور پر بولا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مطلب وہ ہے جو علامہ ابوالفضل جمال الدین ابن منظور اپنی شہرہ آفاق کتاب لسان العرب میں النور کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو خود ظاہر ہو اور اپنی روشنی سے دوسروں کو آشکارا کردے، اسے نور کہا جاتا ہے۔ امام غزالی ( رح) فرماتے ہیں کہ نور اس کو کہتے ہیں جو خود ظاہر ہو اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔ کسی چیز کے ظاہر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجود ہو۔ جو چیز موجود نہیں ہوگی اس کا ظاہر ہونا ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے اس لیے وہ ازل سے موجود ہے اور ابد تک موجود رہے گی۔ نیز وہ اپنے موجود ہونے میں کسی سبب، کسی علت اور کسی فاعل کی محتاج بھی نہیں۔ اس لیے وہی ہے جو صفت نور و ظہور سے متصف ہونے کی مستحق ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ انسان نے فطری طور پر کچھ نہ سوجھنے کی کیفیت کا نام اندھیرا، تاریکی اور ظلمت رکھا ہے۔ اور اس کے برعکس جب سب کچھ سوجھائی دینے لگے اور ہر چیز ظاہر ہوجائے تو آدمی کہتا ہے کہ روشنی ہوگئی۔ ہم ایک عام آدمی کو بھی دیکھتے ہیں کہ جب اس کے دل میں کوئی بات اتر جاتی ہے اور اس کا ہر شک اور تردد ختم ہوجاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرا دل روشن ہوگیا یا مجھے روشنی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ نور کا استعمال اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے کیا گیا ہے۔ اور جب بھی ہم اس طرح کے الفاظ جو انسانوں کے لیے صفت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے بولتے ہیں، تو ان کے اندر ایک اطلاقی شان پائی جاتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے یا بولتا ہے یا سنتا ہے یا پکڑتا ہے تو اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ آنکھ جیسا ایک عضو رکھتا ہے، وہ ہماری طرح کانوں کے ذریعے سنتا ہے اور ہمارے جیسے اس کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتا ہے۔ بلکہ یہ ساری صفات اس کے لیے اطلاقی شان کے ساتھ ثابت ہیں جو ہر طرح کے آلات کی احتیاج سے پاک ہیں۔ ہم نے جو لغوی اور عرفی معنی نور کے بنا رکھے ہیں ان کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جسم اور جسمانیات سب سے بری اور وراء الوریٰ ہے۔ اسی لیے اکثر علمائے تفسیر نے نور کو منور کے معنی میں لیا ہے یا پھر صیغہ مبالغہ کی طرح صاحب نور کو نور سے تعبیر کردیا گیا ہے، جیسے صاحب کرم کو کرم اور صاحب عدل کو عدل کہہ دیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پیش نظر آیت کے اس جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کو نور اور روشنی بخشنے والا ہے۔ اور ابن کثیر کے نزدیک اس نور سے مراد نورہدایت ہے، یعنی وہ سب کو ہدایت عطا کرنے والا ہے۔
تمثیل کی وضاحت
مَثَلُ نُوْرِہٖ …علامہ ابن کثیر نے حضرت ابی ابن کعب ( رض) اور حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کے اقوال کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مَثَلُ نُوْرِہٖکی ضمیر کے متعلق آئمہ تفسیر کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نورہدایت جو مومن کے قلب میں فطرۃً رکھا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے۔ کَمِشْکٰوۃٍ ، الخ یہ قول حضرت ابن عباس ( رض) کا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ضمیر ہی مومن کی طرف راجع ہو جس پر سیاق کلام دلالت کررہا ہے، اور آگے اسی کی تمثیل بیان کی گئی ہے۔
اس تمثیل میں جو مشکل الفاظ آئے ہیں، بہتر ہے کہ ان کی تشریح کردی جائے۔
مِشْکٰوۃٍ…اس مخصوص جگہ کو کہتے ہیں جو دیوار میں چراغ رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہے جو صرف ایک طرف سے کھلی اور باقی اطراف سے بند ہوتی ہے، اسے چراغ دان بھی کہتے ہیں۔
مِصْبَاحْ … بڑے چراغ کو کہتے ہیں، جو خوب روشنی دے۔
زُجَاجْ … شیشے سے بنا ہوا فانوس یا گلوب جس میں چراغ رکھا جاتا ہے۔
کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ … وہ شیشہ جس میں چراغ رکھا گیا ہے وہ تارے کی مانند چمکدار ہے کیونکہ اگر وہ میلا ہوگا تو روشنی میں اضافے کی بجائے اس کے لیے حجاب بن جائے گا۔
مُبَارَکَۃٍ … یعنی کثیرالمنافع، بہت سے فائدوں کا حامل۔ یعنی ثمرآور درخت۔
لاَ شَرْقِیـَّـۃٍ وَلاَ غَرْبِـیَّـۃٍ … یہ شجرہ مبارکہ کی صفت ہے، یعنی یہ درخت کھلے میدان میں اونچی جگہ واقع ہے جہاں صبح سے شام تک اس پر دھوپ پڑتی ہے۔ کوئی اس کے سامنے رکاوٹ نہیں جو دھوپ کو روکنے والی ہو۔ زیتون کے ایسے درخت کا تیل زیادہ لطیف ہوتا ہے اور زیادہ تیز روشنی دیتا ہے۔
جس مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت داخل ہوجاتا ہے اور مومن اس کو ایمان کی قوت سے اپنے دل کی زینت بنا دیتا ہے تو اس سے اس کے دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جیسے ایک طاق ہو۔ اس سے مراد مومن کا دل ہے۔ یہ دل چراغ رکھنے کے لیے ایک طاق یا چراغ دان کی مانند ہے۔ چراغ سے اگر زیادہ سے زیادہ روشنی لینا مقصود ہو تو اسے بلند جگہ پر رکھا جاتا ہے تاکہ روشنی پورے گھر میں پھیلے۔ انسان کے اندر دل ہی وہ جگہ ہے جہاں روشنی ہو تو وہ اس کے سارے ظاہر و باطن میں پھیلتی ہے۔ وہ چراغ ایک شیشہ کے اندر بند ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ چراغ کی لَو ہوا کے جھونکوں سے منتشر نہیں ہونے پاتی بلکہ ایک مرکز پر مرتکز رہتی ہے جس سے اس کی تابانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ انسان کا دل بھی جب تک ایمان کے فیض سے محروم رہتا ہے اور نور ہدایت ان کے اندر داخل نہیں ہوتا تو وہ ڈانواں ڈول رہتا ہے۔ شیطانی وسوسے اور خواہشات کا دبائو اسے مسلسل اضطراب میں رکھتے ہیں، لیکن ایمان سے وابستگی کے بعد وہ ہرحال میں راضی اور مطمئن رہتا ہے۔ ایسے ہی دل کو قرآن کریم میں نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
اس شیشہ کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ وہ ایک چمکتے ستارے کی مانند ہے۔ یعنی اس کی چمک دمک اور اس کا شفاف ہونا اس کی روشنی میں اور اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ شیشہ اگر میلا ہو تو وہ بجائے اضافے کا باعث بننے کے حجاب بن جاتا ہے۔
روغنِ زیتون سے مراد
چراغ چونکہ تیل سے جلتا ہے تو اس لیے فرمایا کہ اس چراغ میں جو تیل ڈالا گیا ہے وہ نہایت شفاف روغن زیتون ہے۔ یہ دراصل فطری نورہدایت کی مثال ہے جو مومن کی فطرت میں ودیعت رکھا گیا ہے جس کا خاصہ خودبخود بھی قبول حق کا ہے پھر جس طرح روغن زیتون آگ کے شعلہ سے روشن ہو کر دوسروں کو روشن کرنے لگتا ہے، اسی طرح نور فطرت جو قلب مومن میں رکھا گیا ہے جب وحی الٰہی اور علم الٰہی کے ساتھ اس کا اتصال ہوجاتا ہے تو روشن ہو کر عالم کو روشن کرنے لگتا ہے۔ یوں تو فطری نورہدایت جو ابتدائے تخلیق کے ساتھ انسان کے قلب میں رکھا جاتا ہے وہ مومن کے ساتھ مخصوص نہیں، لیکن اس سے فائدہ چونکہ مومن ہی اٹھاتا ہے اس لیے اسے قلب مومن کے ساتھ مخصوص فرمایا ہے۔ مومن کو جب نور ہدایت نصیب ہوجاتا ہے جو وحی الٰہی اور پیغمبر کی تبلیغ و دعوت کا نتیجہ ہے۔ تو اس کا فطری نورہدایت اس طرح اپنا کام دکھاتا ہے جیسے چراغ کی روشنی میں اس زیتون کا تیل جسے سورج کی تیز روشنی نے پالا ہو جو نہ دھواں دیتا ہے اور نہ اس کی روشنی مدھم پڑتی ہے۔ چناچہ فطری نور کے سلامت رہنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی اللہ تعالیٰ کے نبی کی صحبت اور قرآن کریم کی رفاقت میسر آتی ہے تو وہ اس طرح اس کی طرف لپکتا ہے جیسے خالص زیتون بغیر آگ کے مس کیے بھی بھڑکنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اس میں شاید اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ ایمان ان لوگوں کے سینوں کو اپنا نشیمن بناتا ہے جن کی فطرت ہر قسم کے بگاڑ اور فساد سے محفوظ ہو اور جن کی فطرت کا روغن غیرفطری ملاوٹوں سے پاک ہوتا ہے۔ اس طرح فطرت کے نور کے اوپر ایمان کے نور سے سینہ نورعلیٰ نور ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت معمولی متاع نہیں جو خودبخود ہاتھ آجائے۔ یہ ایسی جنسِ گراں مایہ ہے جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اپنی فطرت کے روغن کو محفوظ رکھتے ہیں اور اسے زیغ و انحراف سے بگاڑ کا شکار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو اپنی نظر کرم کا مورد بناتا ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے تمثیلیں بیان فرماتا ہے۔ یہاں لِلنَّاسْ میں مضاف محذوف ہے یعنی لوگوں کی تعلیم و تذکیر کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کیونکہ حقائق کا ادراک تمثیلات کے ذریعے نہایت احسن طریقے سے ہوتا ہے۔ سپاٹ لب و لہجہ یا مدلل گفتگو یقینا اپنا ایک اثر رکھتی ہے۔ لیکن تمثیل کے ذریعے وہ حقائق جو عقل سے ماورا ہوں جس طرح دل و دماغ میں پیوست ہوجاتے ہیں اور کسی طریقے سے نہیں ہوتے۔ یہ توضیحِ حقائق کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہدایت کے لیے کون سے حقائق اس کے دل و دماغ میں اترنے چاہئیں اور اس کے اعمال کی درستی کے لیے کس طرح کے احکام کی ضرورت ہے۔ زندگی اور کائنات کے حقائق اور اسرارورموز کو جاننے کے لیے جس علم اور روشنی کی ضرورت ہے اس کا منبع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وحی سے وہ روشنی پھوٹتی ہے تو زندگی کا ہر گوشہ روشن ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے علیم ہونے کا حوالہ ہماری فکر و نظر کی درستی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔