24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsروح القرآن

Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں (نفاق کی بیماری ہے یا یہ ابھی شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے، اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں

اَفْیِ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْھُمْ وَرَسُوْلُـہٗ بَلْ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (النور : 50) (کیا ان کے دلوں میں (نفاق کی بیماری ہے یا یہ ابھی شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کریں گے، اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں۔ ) منافقین کے طرزعمل کا تجزیہ منافقین کے رویئے اور طرز عمل کا تجزیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کی تین ہی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ 1 ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے، یعنی وہ حقیقت میں مومن نہیں، محض دھوکہ دینے اور مسلم معاشرے میں شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے ایمان کا دعویٰ کررہے ہیں۔ 2 یا وہ ابھی تک شک میں مبتلا ہیں کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں۔ اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے یا نہیں۔ اور آخرت واقعی آنے والی ہے یا محض افسانہ تراشیدہ ہے۔ جو شخص ایسے شکوک میں مبتلا ہو ظاہر ہے کہ اس کے طرزعمل میں نہ یکسوئی پیدا ہوسکتی ہے اور نہ یک رنگی آسکتی ہے۔ اور نہ وہ اسلام کی خاطر کسی قربانی کی ہمت کرسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس ارتیاب کا مفہوم یہ ہو کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں اور اسلام کے مخالفین میں ایک کشمکش جاری ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تیز ہوتی جارہی ہے، لیکن ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ دونوں گروہوں میں سے کون غالب آسکتا ہے۔ انھیں اسلام اور مسلمانوں کے غلبے کے بارے میں شبہ ہے۔ انھیں خیال ہے کہ شاید دوسرا گروہ غالب آجائے، تو اگر ہم کسی ایک گروہ کے ساتھ بتمام و کمال وابستہ ہوجائیں تو دوسرے گروہ کے غلبے کی صورت میں ہمارے لیے بےحد مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ چناچہ یہ شک انھیں یکسو نہیں ہونے دیتا اور ان کے اندر اخلاص پیدا ہونے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ 3 وہ اللہ اور اللہ کے رسول سے ظلم کا اندیشہ رکھتے ہیں، یعنی ان کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے تمام احکام ہمارے حسب حال نہیں۔ ہم جس طرز زندگی کے عادی ہوچکے ہیں شریعت اس کے بالکل برعکس ہمارے اندر ایک نیا طرز زندگی، نیا اسلوبِ حیات، نئی ثقافت، نئی تہذیب اور نیا تمدن پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان میں سے بہت ساری باتیں ہم صریحاً ظلم سمجھتے ہیں، اس سے تو ہم بالکل اپنے ماضی سے کٹ کر رہ جائیں گے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ جیسے ہمارا آج کا جاگیردار اسلامی وراثت کے احکام کو اپنے لیے ظلم سمجھتا ہے وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اگر ہم اسے اختیار کرلیں تو اس سے ہماری جاگیر بکھر کر رہ جائے گی اور ہم چند پشتوں میں عام آدمی کی سطح پر آجائیں گے۔ ہمارا آج کا تاجر اور اکانومسٹ سود کی حرمت کو اپنی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس کا گمان یہ ہے کہ سود جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کے ختم کردینے سے ہماری معیشت کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ جو لوگ تقریبات میں حدود شرافت سے بڑھ جانے کو خوشی کا اظہار سمجھتے ہیں وہ اسلامی شریعت کے احکام کو خوشیوں کے قاتل اور زندگی کو بےرنگ بنا دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ایسا ہی حال اس دور کے منافقین کا تھا اور وہی سوچ آج کے منافقین کا سرمایہ افتخار بنی ہوئی ہے۔ ان تین وجوہ کا ذکر کرنے کے بعد قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ تینوں اسباب نفاق کی علامتیں ہیں، ان کا ایمان سے کوئی رشتہ نہیں۔ جو لوگ اس طرح کے خیالات کے ساتھ مسلمانوں میں شامل ہوتے ہیں یا شامل رہنا چاہتے ہیں اور اس طرح سے مسلم معاشرے میں مختلف قسم کے ناجائز فائدے حاصل کرنے کی فکر میں ہیں، وہ درحقیقت خائن اور فریبی ہیں۔ وہ اپنے ضمیر کے قاتل ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے ان کے اندر وہ ذلیل ترین خصائص پیدا ہوتے ہیں جو نفاق کو بڑھاتے اور ایمان کے واجبی تعلق کو بھی ختم کردیتے ہیں۔ یہ وہ ظلم ہے جو یہ لوگ اپنے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے ظاہری کلمہ شہادت پر اعتماد کرکے مسلمان ان کے ساتھ جب معاملات کرتے ہیں تو یہ انھیں اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان لانے والوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِـہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّـقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (النور : 51) (ایمان لانے والوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ) سچے مومنوں کی شان منافقین کے طرز فکر اور طرز عمل پر تنقید کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ ایک تو وہ طرز عمل ہے جو منافقین کا آپ نے دیکھا، لیکن اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ جو سچے مومن ہیں ان کی شان کیا ہوتی ہے۔ وہ کس طرح سوچتے، کیا کہتے اور کیسے عمل کرتے ہیں۔ ان صاحب ایمان لوگوں کی پہلی صفت یہ ہے کہ جب بھی کبھی انھیں ان کے باہمی تنازعات یا زندگی کے معاملات میں فیصلے اور رہنمائی کے لیے دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف آئو تاکہ وہ تمہارے تنازعات کا فیصلہ کریں اور تمہاری زندگی کے الجھے ہوئے معاملات میں رہنمائی دیں تو وہ کسی سوچ میں پڑے، کسی تحفظِ ذہنی کا شکار ہوئے اور حالات کی برہمی کی پرواہ کیے بغیر فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ اس میں سب سے پہلی بات جس کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں اور ماحول ہزار مصلحتوں کے پردوں میں لپٹا ہوا ہو اور اسلام سے تعلق کا اظہار کیسے ہی خطرات کا باعث کیوں نہ ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے رسول سے جو سمع و اطاعت کا تعلق رکھتے ہیں اس کے اظہار میں کبھی تأمل نہیں کرتے، کیونکہ ان کی ایمانی فراست ان پر یہ عقدہ کھول دیا گیا ہے کہ نامساعد حالات اور مخالفانہ ماحول میں حق کا اظہار ہی حق کی تقویت کا باعث بنتا ہے لیکن اگر حق کو ماننے والے ہرچند دل میں اعتراف و اقرار کی ہزار گہرائیاں رکھتے ہوں لیکن انھیں زبان پر لانا انھیں گوارا نہ ہو اور وہ اسے مصلحت کے خلاف سمجھتے ہیں اور یا محسوس کرتے ہو کہ اگر ہم نے اس کا اظہار کیا تو ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ ایسے لوگ ایمان کے پہلے زینے پر بھی پائوں رکھنے کے قابل نہیں۔ اقبال نے ٹھیک کہا : ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق اور میں یہ عرض کروں گا کہ مومنوں کا بھی ہمیشہ یہی طریق رہا ہے اور جس میں اس کی بھی جرأت نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان کو جائز تعلق نہیں سمجھتا۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی اعلیٰ اختیاراتی میٹنگ ہورہی ہو جس میں صاحب اقتدار کے ساتھ مختلف مناصب پر فائز لوگ میٹنگ میں شریک ہوں اور باہر سے آذان کی آواز آنے لگے تو کوئی شخص اپنے ساتھیوں یا امیر مجلس سے یہ کہنے کی جرأت کبھی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ جو احکم الحاکمین ہے اس کی طرف بلایا جارہا ہے اور بلانے والا اس کی طرف سے اس کے حکم کا اعلان کررہا ہے۔ اس لیے ہمیں پہلے اس کی تعمیل کرنی چاہیے۔ مسلمان کہلاتے ہوئے بھی ایسی مجالس میں اگر کوئی شخص یہ بات کہنے کی ہمت کردے تو یوں سمجھ لیجیے کہ اس نے قیامت کو آواز دے دی ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص ایسے مواقع پر نماز کی یاد دلانے کو ایک مشکل بات قرار دے لیکن مختلف تقریبات میں جس طرح شرم و حیا کا جنازہ نکلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو سرعام توڑا جاتا ہے وہاں بھی کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرتا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی شریعت اپنی طرف بلا رہی ہے، ہمیں پہلے اس بلاوے پر کان دھرنا چاہیے۔ لیکن اسلام نے اپنے ماننے والوں میں ایسے جرأت اور جسارت پیدا کردی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلے میں کسی دوسری بات کو ترجیح دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ غلامی نے ہمارے اندر جو خرابیاں پیدا کی ہیں اور جس طرح ہمارے ضمیر کے احساسات کو بگاڑا ہے اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم آزاد ہونے کے بعد بھی اس سرمایہ افتخار سے محروم ہیں جو کسی نظریاتی قوم میں جرأت اور اظہارِحق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور رفتہ رفتہ اس خرابی نے ہمارے اندر سے اسلامی عصبیت کے جذبے کو بہت حد تک کمزور کردیا ہے۔ ظفرعلی خان مرحوم نے دورغلامی میں دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جو بات کہی تھی وہ آج بھی صحیح ہے۔ انھوں نے کہا تھا : نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں فقیہِ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا تمسخر کرنے والے دین سے ہی گر مہذب ہیں تو ان تہذیب کے پتلوں سے مجھ جیسا گنوار اچھا جو لوگ دل کی آمادگی، دل و دماغ کی ہمواری اور جذبہ ایمانی کے ساتھ زندگی کے ہر مرحلے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی سمع و اطاعت کا اعلان کرنے کی جرأت پیدا کرلیتے ہیں ان کی زندگی میں یکرنگی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ ہر طرح کے شیطانی اثرات اور طاغوتی بہلاوئوں سے محفوظ ہو کر صراط مستقیم کے مسافر بن جاتے ہیں۔ ان کی منزل ہر لوث اور طمع و خوف سے بالاتر ہو کر صرف آخرت بن جاتی ہے۔ ان کا سفینہ نجات صرف اسلام ہوتا ہے۔ یہ کبھی منافقوں کی طرح دو کشتیوں پر سوار ہونے کی حماقت نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں فلاح کی منزل سے ہمکنار کردیتا ہے۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور جو اس سے ڈریں گے اور اس کی حدود کی پاسداری کریں گے وہی لوگ ہیں جو فائزالمرام ہوں گے۔

وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَخْشَ اللّٰہَ وَیَتَّـقْہِ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفَـآئِزُوْنَ ۔ (النور : 52) (اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور جو اس سے ڈریں گے اور اس کی حدود کی پاسداری کریں گے وہی لوگ ہیں جو فائزالمرام ہوں گے۔ ) مسلمانوں کی کامیابی کی تین شرائط، اطاعت، خشیت، تقویٰ مسلمانوں کی کامیابی کا پہلا زینہ سمع و اطاعت کا بےپناہ جذبہ ہے۔ جس سے اس بات کا فیصلہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی زندگی میں حکمرانی کس نظریئے کی ہے اور وہ کون ذات ہے جسے وہ اپنا حاکم حقیقی اور رہنمائے حق سمجھتے ہیں۔ لیکن فوزوفلاح کے حصول کے لیے یہ جذبہ اور یہ دعویٰ اور یہ اقدام کافی نہیں۔ اس سے راستے اور منزل کا تعین ضرور ہوجاتا ہے لیکن منزل تک پہنچنے کے لیے سفر پر روانگی اور آداب سفر کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ اور رسول کے احکام کی سمع و اطاعت کا عزم بالجزم کرلیتے ہیں اب ان کی کامیابی کے لیے شرط اول یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اطاعت بھی ایسی جس میں نہ توقف ہو نہ تأمل۔ تحفظِ ذہنی کا خلجان ہو اور نہ نفع و ضرر کے پیمانوں کا خیال۔ صحابہ کرام ( رض) نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کی زندگی بھر اسی طرح اطاعت کی کہ آپ ﷺ کے دہن مبارک سے حکم کے الفاظ بعد میں الگ ہوتے تھے، صحابہ کرام ( رض) میں عمل کے لیے پہلے سے حرکت پیدا ہوجاتی تھی۔ اور اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے سورة الانفال میں واضح فرمایا کہ مسلمانو ! اللہ اور اللہ کے رسول تمہیں جس بات کا حکم دیتے ہیں اسی میں تمہاری زندگی کا راز مضمر ہے۔ اس کی تعمیل میں کبھی تساہل سے کام نہ لینا۔ کیونکہ بعض دفعہ اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، ممکن ہے یہ تساہل تمہاری محرومی کا باعث بن جائے۔ حضرت ابی ابن کعب ( رض) کو آنحضرت ﷺ نے آواز دی۔ انھوں نے آمد میں کچھ تاخیر کی۔ آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو عرض کی، کہ میں نماز میں مصروف تھا۔ آپ ﷺ نے متذکرہ بالا حکم کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا : کہ نماز کی حالت میں بھی میرا حکم پہنچے تو نماز توڑ کر عمل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکام اور، ضوابطِ حیات مسلمانوں کے لیے اجتماعی زندگی میں ریاستی قوانین کا درجہ رکھتے ہیں اور ریاست کے قانون پر عملدرآمد کے لیے ہم جانتے ہیں کہ صرف اعضاء وجوارح سے تعمیل ضروری ہوتی ہے۔ نیت اور قلبی احساس کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ کوئی شخص اگر کسی شعبے میں بھی ظاہری طور پر ملکی قوانین کو نہیں توڑتا لیکن دماغی طور پر اسے قبول نہیں کرتا، دل سے تنفر کا اظہار کرتا ہے اور زبان سے ایسے قوانین پر لعنت بھیجتا ہے، لیکن عملدرآمد میں کوئی کمی نہیں ہونے دیتا تو اس پر کبھی قانون شکنی کا الزام نہیں لگتا۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل میں صرف ظاہری اطاعت کافی نہیں بلکہ دل و دماغ کی آمادگی بھی ضروری ہے۔ اور یہ احساس بھی ہر وقت دامن گیر رہنا لازمی ہے کہ میں اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے خوف اور اس کی رضا کی امید سے بیگانہ تو نہیں ہوجاتا۔ ایک مومن حد درجہ احکام کی اطاعت کرتے ہوئے بھی اطاعت پر اعتماد کرکے نہیں بیٹھ جاتا بلکہ وہ برابر اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتا رہتا ہے۔ اور دل میں اس بات سے فکرمند رہتا ہے کہ کہیں میرے قلبی احساسات میں کوئی ایسی ویسی کمزوری نہ آجائے کہ میرے اعمال قبول نہ کیے جائیں۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں دوسری بات یہ فرمائی کہ مومن صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا بھی رہتا ہے۔ اس کے اعضاء وجوارح جس طرح اطاعت میں متحرک رہتے ہیں اسی طرح اس کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزاں اور ترساں بھی رہتا ہے۔ اس طرح سے مومن کا پورا سراپا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خشیت کی گرفت میں رہتا ہے۔ اقبال نے بہت صحیح کہا : تری دنیا جہاں ِ مرغ و ماہی مری دنیا فغانِ صبح گاہی تری دنیا میں، میں محکوم و مجبور مری دنیا میں تیری بادشاہی اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ وہ جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں، اس طرح حدودالٰہی کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ لیا جاسکتا ہے کہ خشیت کا تعلق باطن سے ہے اور تقویٰ کا تعلق ظاہر سے ہے۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ تقویٰ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں ظاہر اور باطن دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ خشیت سے مراد یہ احساس ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کسی ایسی کمزوری کا شکار تو نہیں ہورہا جس سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لازم آتی ہو، یعنی خشوع خضوع میں کمی واقع ہوتی ہو۔ اللہ تعالیٰ سے خوف اور امید کا رشتہ کمزور ہوتا ہو۔ اور تقویٰ سے شاید یہاں یہ مراد ہو کہ میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بجاآوری اور ادائیگی میں کسی کمزوری کا ارتکاب تو نہیں کررہا۔ کیونکہ جس طرح مومن کے لیے اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی واجب ہے۔ جو لوگ ظاہر و باطن میں اپنے آپ کو ان ہدایات کا پابند بنا لیتے ہیں اور ان کی زندگی اس کی تصویر بن جاتی ہے یہی لوگ ہیں جو دنیا اور آخرت میں کامیاب و کامران ہوں گے۔ اس آیت کے فہم و ادراک کے ضمن میں ایک واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اس لیے میں اسے بیان کررہا ہوں۔ ایک روز حضرت فاروق اعظم ( رض) مسجد نبوی میں کھڑے تھے تو روم کے دہقانوں میں سے ایک دہقان حاضر ہوا اور حضرت فاروق اعظم ( رض) کے سامنے کلمہ شہادت پڑھا۔ آپ ( رض) نے پوچھا کیا بات ہے۔ اس نے عرض کی میں مشرف بہ اسلام ہوگیا ہوں۔ آپ ( رض) نے کہا تم نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر دین اسلام کو کیوں قبول کیا۔ اس نے کہا، میں نے تورات، انجیل، زبور اور دیگر کتب انبیاء کا مطالعہ کیا۔ میں نے ایک مسلمان قیدی کو ایک ایسی آیت پڑھتے ہوئے سنا جس میں وہ تمام چیزیں جمع کردی گئی ہیں جو سابقہ آسمانی کتابوں میں موجود ہیں۔ مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کتاب منزّل من اللہ ہے۔ اس لیے میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ آپ ( رض) نے دریافت فرمایا وہ کون سی آیت ہے، اس نے یہی آیت پڑھی۔ اور اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہا۔ ومن یطع اللہ (فی الفرائض) ورسولہ (فی السنن) ویخش اللہ (فیما مضیٰ من عمرہ) ویتقہ (فیما بقی من عمرہ فاولئک ھم الفائزون الفائز من نجا من النار وادخل الجنۃ) ” جو شخص فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور سنتوں میں اس کے رسول کی پیروی کرتا ہے اور گزری ہوئی زندگی میں جو غلطیاں اس سے ہوئیں اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور آنے والی زندگی میں تقویٰ اختیار کرتا ہے، یہی لوگ کامیاب ہیں اور کامیاب وہ شخص ہے جسے آتش جہنم سے نجات مل گئی اور جنت میں داخل کردیا گیا۔ “
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں بڑے زور شور سے کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم دیں گے تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ ان سے کہئے کہ قسمیں نہ کھائو، دستور کے مطابق اطاعت اصل چیز ہے (یا تمہاری فرمانبرداری خوب معلوم ہے، اللہ اس سے خوب واقف ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنْ اَمَرْتَھُمْ لَیَخْرُجُنَّ ط قُلْ لاَّ تُقْسِمُوْا ج طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَـۃٌ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (النور : 53) (اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں بڑے زور شور سے کہ اگر آپ ان کو جہاد کا حکم دیں گے تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ ان سے کہئے کہ قسمیں نہ کھائو، دستور کے مطابق اطاعت اصل چیز ہے (یا تمہاری فرمانبرداری خوب معلوم ہے، اللہ اس سے خوب واقف ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ ) منافقین کی روش جہاد کے معاملے میں منافقین جس طرح سمع و اطاعت کا عہد کرنے کے باوجود اطاعت سے جی چراتے اور آنحضرت ﷺ کی عدالت میں جانے سے کتراتے تھے، اسی طرح وہ جہاد سے بھی گریز کرتے تھے۔ جہاد چونکہ ایمان کی چوٹی اور ایک مومن کے ایمان کی علامت ہے۔ اس لیے مخلص مومن جہاد سے پیچھے رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ جس طرح مال و دولت اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس کا مطالبہ کرے تو اس کے راستے میں دینا ضروری ہوجاتا ہے، اسی طرح جسم و جان بھی اس کی نعمت ہیں۔ اگر اس کے دین کی سربلندی اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے جہاد و قتال کا حکم دیا جائے تو اس کی تعمیل کرنا بھی ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ منافقین چونکہ ان باتوں سے واقف تھے اس لیے جب کبھی جہاد کا ذکر آتا تو وہ لاف زنی کرتے ہوئے دوسروں سے آگے بڑھ کر بڑی زوردار قسمیں کھا کھا کر آنحضرت ﷺ کو یقین دلاتے کہ جب آپ ﷺ ہمیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم میں سے کوئی پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دینے کے لیے حاضر ہیں۔ لیکن جب وقت آتا تو کسی نہ کسی طرح جہاد میں عدم شرکت کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کرلیتے۔ چناچہ ان کی قسمیں کھانے اور لاف زنی کرنے کے جواب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قسمیں کھا کھا کر اپنی اطاعت اور ایثار کا یقین مت دلائو۔ اصول کے مطابق تمہاری اطاعت کافی ہے۔ تمہاری اطاعت پر مبنی رویہ خود یہ بتادے گا کہ تم ایمان کے دعوے میں کہاں تک سچے ہو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری اطاعت کا حال خوب معلوم ہے۔ اس لیے قسمیں کھانے کا کیا فائدہ۔ جس شخص کے پاس عمل کا جوہر نہیں ہوتا، وہ اس کی تلافی سخن سازی اور قسمیں کھا کر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ منافقین کا یہی ہتھیار تھا جس سے وہ اپنے کردار کی کمزوری پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ آخر میں فرمایا کہ قسمیں کھا کر اور جھوٹے دعوے کرکے ممکن ہے تم مسلمانوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجاؤ، لیکن تمہارا معاملہ اس پروردگار سے ہے جو علام الغیوب ہے۔ وہ تمہارے ہر قول و فعل سے واقف ہے۔ اسے تم کس طرح دھوکہ دے سکتے ہو۔ طَاعَۃٌ مَّعْرُوْفَـۃٌ … اسی طرح کا جملہ ہے جس طرح ” فَصَبْرٌجَمِیْلٌ“ ہے۔ یہ خبر محذوف کا مبتداء بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اگر نکرہ موصوف ہو تو اس کے اندر مبتداء ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور متبدائے محذوف کی خبر بھی ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر تم روگردانی کرو گے تو یاد رکھو کہ رسول پر صرف وہ ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی ہے۔ اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جائو گے اور رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَاحُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ط وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا ط وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (النور : 54) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر تم روگردانی کرو گے تو یاد رکھو کہ رسول پر صرف وہ ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی ہے۔ اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ ) منافقین کو تنبیہ یہ منافقین کو تنبیہ ہے کہ تم نے جو رویہ اپنا رکھا ہے کہ نام تم ایمان کا لیتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت سے گریز بھی کرتے ہو۔ یہ دو عملی دنیا میں تمہاری رسوائی کا سبب بنے گی اور آخرت میں خسرانِ مبین کا۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں فوزوفلاح سے نوازا جائے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو۔ محض اللہ تعالیٰ کے رسول کی خدمت میں بیٹھنا اور چرب زبانی سے انھیں اپنی اطاعت کا یقین دلانا تمہارے کام نہیں آئے گا۔ تمہیں اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایمان میں اخلاص اور سچی اطاعت ہی تمہارا اصل سرمایہ ہے۔ اسی کی ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے۔ اگر تم نے اسی سے اعراض برتا تو اس کا سوال اللہ تعالیٰ کے رسول سے نہیں ہوگا بلکہ تم سے ہوگا۔ کیونکہ ہمارے رسول پر ذمہ داری صرف اللہ تعالیٰ کے دین کو پہنچانے کی ہے اور اس نے اپنی یہ ذمہ داری بتمام و کمال انجام دی ہے۔ اور ساتھ ہی تہدید کے انداز میں فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ تمہاری دنیا بھی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دین میں اصل مطالبہ ایمان کے ساتھ اطاعت کا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین کو ماننے کا اقرار کرتا ہے یا اللہ اور اس کے رسول کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اطاعت سے تہی دامن ہے تو صرف ایمان کا دعویٰ کام نہیں آئے گا۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آیت کے آغاز میں اگرچہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا الگ الگ حکم دیا گیا ہے لیکن وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا میں صرف اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کا ذکر فرما کر یہ بات واضح کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت ہے، اور دونوں کی اطاعتوں میں کوئی فرق نہیں۔ اگر کوئی شخص صرف ایمان پر اتفاق کرتا ہے اور اطاعت کا نام نہیں لیتا یا صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اکتفا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کو ضروری نہیں سمجھتا تو اس آیت کے مطابق یہ دونوں باتیں گمراہی کا عنوان ہیں۔ آخرت میں نجات اور دنیا میں صحیح طرز عمل کے لیے ایمان کے ساتھ اطاعت یعنی عمل اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت لازم و ملزوم ہیں۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے کہ ان کو ملک میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ اور ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو درحقیقت وہی لوگ نافرمان ہیں

وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ص وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّ لَنَّھُمْ مِّنْ م بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا ط یَعْبُدُوْنَنِیْ لاَ یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا ط وَمَنْ کَفَرَبَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (النور : 55) (اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے کہ ان کو ملک میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ اور ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو درحقیقت وہی لوگ نافرمان ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کے وعدے چند صفات کے ساتھ مشروط ہیں اس ارشاد سے مقصود منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خلافت عطا فرمانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مخاطب محض مردم شماری کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جو صادق الایمان ہوں، اخلاق اور اعمال کے اعتبار سے صالح ہوں، اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین کا اتباع کرنے والے ہوں، اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو کر خالص اللہ کی بندگی و غلامی کے پابند ہوں۔ ان صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کے مدعی لوگ نہ اس وعدے کے اہل ہیں اور نہ یہ ان سے کیا ہی گیا ہے۔ لہٰذا وہ اس میں حصہ دار ہونے کی توقع نہ رکھیں۔ خلافت کا غلط مفہوم بعض لوگ خلافت کو محض حکومت و فرمانروائی اور غلبہ و تمکن کے معنی میں لے لیتے ہیں، پھر اس آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جس کو بھی دنیا میں یہ چیز حاصل ہے وہ مومن اور صالح اور اللہ کے پسندیدہ دین کا پیرو اور بندگی حق پر عامل اور شرک سے مجتنب ہے اور اس پر مزید ستم یہ ڈھاتے ہیں کہ اپنے اس غلط نتیجے کو ٹھیک بٹھانے کے لیے ایمان، صَلاح، دین حق، عبادتِ الٰہی اور شرک، ہر چیز کا مفہوم بدل کر وہ کچھ بنا ڈالتے ہیں جو ان کے اس نظریئے کے مطابق ہو۔ یہ قرآن کی بدترین معنوی تحریف ہے جو یہود و نصاریٰ کی تحریفات سے بھی بازی لے گئی ہے۔ اس نے قرآن کی ایک آیت کو وہ معنی پہنا دیئے ہیں جو پورے قرآن کی تعلیم کو مسخ کر ڈالتے ہیں اور اسلام کی کسی ایک چیز کو بھی اس کی جگہ پر باقی نہیں رہنے دیتے۔ خلافت کی اس تعریف کے بعد لامحالہ وہ سب لوگ اس آیت کے مصداق بن جاتے ہیں جنھوں نے کبھی دنیا میں غلبہ تمکن پایا ہے یا آج پائے ہوئے ہیں، خواہ وہ خدا، وحی، رسالت، آخرت ہر چیز کے منکر ہوں اور فسق و فجور کی ان تمام آلائشوں میں بری طرح لتھڑے ہوئے ہوں جنھیں قرآن نے کبائر قرار دیا ہے، جیسے سود، زنا، شراب اور جواء۔ اب اگر یہ سب لوگ مومن صالح ہیں اور اسی لیے خلافت کے منصب عالی پر سرفراز کیے گئے ہیں تو پھر ایمان کے معنی قوانینِ طبیعی کو ماننے اور صلاح کے معنی ان قوانین کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرنے کے سوا اور کیا ہوسکتے ہیں ؟ اور اللہ کا پسندیدہ دین اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ علوم طبیعی میں کمال حاصل کرکے صنعت و حرفت اور تجارت و سیاست میں خوب ترقی کی جائے ؟ اور اللہ کی بندگی کا مطلب پھر اس کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے کہ ان قاعدوں اور ضابطوں کی پابندی کی جائے جو انفرادی اور اجتماعی سعی و جہد کی کامیابی کے لیے فطرتاً مفید اور ضروری ہیں ؟ اور شرک پھر اس کے سوا اور کس چیز کا نام رہ جاتا ہے کہ ان مفید قواعد و ضوابط کے ساتھ کوئی شخص یا قوم کچھ نقصان دہ طریقے بھی اختیار کرلے ؟ مگر کیا کوئی شخص جس نے کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہو، یہ مان سکتا ہے کہ قرآن میں واقعی ایمان اور عمل صالح اور دین حق اور عبادتِ الٰہی اور توحید اور شرک کے یہی معنی ہیں ؟ یہ معنی یا تو وہ شخص لے سکتا ہے جس نے کبھی پورا قرآن سمجھ کر نہ پڑھا ہو اور صرف کوئی آیت کہیں سے اور کوئی کہیں سے لے کر اس کو اپنے نظریات و تصورات کے مطابق ڈھال لیا ہو یا پھر وہ شخص یہ حرکت کرسکتا ہے جو قرآن کو پڑھتے ہوئے ان سب آیات کو اپنے زعم میں سراسر لغو اور غلط قرار دیتا چلا گیا ہو جن میں اللہ تعالیٰ کو واحد رب اور اِلٰہ اور اس کی نازل کردہ وحی کو واحد ذریعہ ہدایت اور اس کے مبعوث کردہ ہر پیغمبر کو حتمی طور پر واجب الاطاعت رہنما تسلیم کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور موجودہ دنیوی زندگی کے خاتمے پر ایک دوسری زندگی کے محض مان لینے ہی کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی صاف صاف کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس زندگی میں اپنی جوابدہی کے تخیل سے منکر یا خالی الذہن ہو کر محض اس دنیا کی کامیابیوں کو مقصود سمجھتے ہوئے کام کریں گے وہ فلاح سے محروم رہیں گے۔ قرآن میں ان مضامین کو اس قدر کثرت سے اور ایسے مختلف طریقوں سے اور ایسے صریح و صاف الفاظ میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ ہمارے لیے یہ باور کرنا مشکل ہے کہ اس کتاب کو ایمانداری کے ساتھ پڑھنے والا کوئی شخص کبھی ان غلط فہمیوں میں بھی پڑ سکتا ہے جن میں آیت استخلاف کے یہ نئے مفسرین مبتلا ہوئے ہیں۔ حالانکہ لفظ خلافت و استخلاف کے جس معنی پر انھوں نے یہ ساری عمارت کھڑی کی ہے وہ ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے، قرآن کا جاننے والا کوئی شخص اس آیت میں وہ معنی کبھی نہیں لے سکتا۔ خلافت کا صحیح مفہوم قرآن دراصل خلافت اور استخلاف کو تین مختلف معنوں میں استعمال کرتا ہے اور ہر جگہ سیاق وسباق سے پتہ چل جاتا ہے کہ کہاں کس معنی میں یہ لفظ بولا گیا ہے۔ اس کے ایک معنی ہیں ” خدا کے دیئے ہوئے اختیارات کا حامل ہونا۔ “ اس معنی میں پوری اولادِ آدم زمین میں خلیفہ ہے۔ دوسرے معنی ہیں ” خدا کے اقتدارِاعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے امرشرعی (نہ کہ محض امر تکوینی) کے تحت اختیاراتِ خلافت کو استعمال کرنا۔ “ اس معنی میں صرف مومن صالح ہی خلیفہ قرار پاتا ہے کیونکہ وہ صحیح طور پر خلافت کا حق ادا کرتا ہے اور اس کے برعکس کافر و فاسق خلیفہ نہیں بلکہ باغی ہے کیونکہ وہ مالک کے ملک میں اس کے دیئے ہوئے اختیارات کو نافرمانی کے طریقے پر استعمال کرتا ہے۔ تیسرے معنی ہیں ” ایک دور کی غالب قوم کے بعد دوسری قوم کا اس کی جگہ لینا۔ “ پہلے دونوں معنی خلافت بمعنی ” نیابت “ سے ماخوذ ہیں اور یہ آخری معنی خلافت بمعنی ” جانشینی “ سے ماخوذ، اور اس لفظ کے یہ دونوں معنی لغت عرب میں معلوم و معروف ہیں۔ اب جو شخص بھی یہاں اس سیاق وسباق میں آیت استخلاف کو پڑھے گا وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس امر میں شک نہیں کرسکتا کہ اس جگہ خلافت کا لفظ اس حکومت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اللہ کے امرشرعی کے مطابق (نہ کہ محض قوانینِ فطرت کے مطابق) اس کی نیابت کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرنے والی ہو۔ اسی لیے کفار تو درکنار، اسلام کا دعویٰ کرنے والے منافقوں تک کو اس وعدے میں شریک کرنے سے انکار کیا جارہا ہے۔ اسی لیے فرمایا جارہا ہے کہ اس کے مستحق صرف ایمان اور عمل صالح کی صفات سے متصف لوگ ہیں۔ اسی لیے قیام خلافت کا ثمرہ یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ کا پسند کردہ دین یعنی اسلام، مضبوط بنیادوں پر قائم ہوجائے گا۔ اور اسی لیے اس انعام کو عطا کرنے کی شرط یہ بتائی جارہی ہے کہ خالص اللہ کی بندگی پر قائم رہو جس میں شرک کی ذرہ برابر آمیزش نہ ہونے پائے۔ اس وعدے کو یہاں سے اٹھا کر بین الاقوامی چورا ہے پر لے پہنچنا اور امریکہ سے لے کر روس تک جس کی کبریائی کا ڈنکا بھی دنیا میں بج رہا ہو اس کے حضور اسے نذر کردینا جہالت کی طغیانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ سب طاقتیں بھی اگر خلافت کے منصب عالی پر سرفراز ہیں تو آخر فرعون اور نمرود ہی نے کیا قصور کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں لعنت کا مستحق قرار دیا ؟ ایک ضروری بات اس جگہ ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ یہ وعدہ بعد کے مسلمانوں کو تو بالواسطہ پہنچتا ہے۔ بلاواسطہ اس کے مخاطب وہ لوگ تھے جو نبی ﷺ کے عہد میں موجود تھے۔ وعدہ جب کیا گیا تھا اس وقت واقعی مسلمانوں پر حالت خوف طاری تھی اور دین اسلام نے ابھی حجاز کی زمین میں بھی مضبوط جڑ نہیں پکڑی تھی۔ اس کے چند سال بعد یہ حالت خوف نہ صرف امن سے بدل گئی بلکہ اسلام عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر چھا گیا اور اس کی جڑیں اپنی پیدائش کی زمین ہی میں نہیں کرہ زمین میں جم گئیں۔ یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ حضرت ابوبکر صدیق، عمرفاروق اور عثمان غنی ( رض) کے زمانے میں پورا کردیا۔ اس کے بعد کوئی انصاف پسند آدمی مشکل ہی سے اس امر میں شک کرسکتا ہے کہ ان تینوں حضرات کی خلافت پر خود قرآن کی مہر تصدیق لگی ہوئی ہے اور ان کے مومن صالح ہونے کی شہادت اللہ تعالیٰ خود دے رہا ہے۔ اس میں اگر کسی کو شک ہو تو نہج البلاغہ میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی وہ تقریر پڑھ لے جو انھوں نے حضرت عمرفاروق ( رض) کو ایرانیوں کے مقابلے پر خود جانے کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے کی تھی۔ اس میں وہ فرماتے ہیں : ” اس کام کا فروغ یا ضعف کثرت و قلت پر موقوف نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کا دین ہے جس کو اس نے فروغ دیا اور اللہ کا لشکر ہے جس کی اس نے تائید ونصرت فرمائی، یہاں تک کہ یہ ترقی کرکے اس منزل تک پہنچ گیا۔ ہم سے تو اللہ خود فرما چکا ہے۔ وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ … اللہ اس وعدے کو پورا کرکے رہے گا اور اپنے لشکر کی ضرور مدد کرے گا۔ اسلام میں قیم کا مقام وہی ہے جو موتیوں کے ہار میں رشتے کا مقام ہے۔ رشتہ ٹوٹتے ہی موتی بکھر جاتے ہیں اور نظم درہم برہم ہوجاتا ہے اور پراگندہ ہوجانے کے بعد پھر جمع ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عرب تعداد میں قلیل ہیں مگر اسلام نے ان کو کثیر اور اجتماع نے ان کو قومی بنادیا ہے۔ آپ یہاں قطب بن کر جمے بیٹھے رہیں اور عرب کی چکی کو اپنے گرد گھماتے رہیں اور یہیں سے بیٹھے بیٹھے جنگ کی آگ بھڑکاتے رہیں۔ ورنہ آپ اگر ایک دفعہ یہاں سے ہٹ گئے تو ہر طرف سے عرب کا نظام ٹوٹنا شروع ہوجائے گا اور نوبت یہ آجائے گی کہ آپ کو سامنے کے دشمنوں کی بہ نسبت پیچھے کے خطرات کی زیادہ فکر لاحق ہوگی اور ادھر ایرانی آپ ہی کے اوپر نظریں جما دیں گے کہ یہ عرب کی جڑ ہے، اسے کاٹ دو تو بیڑا پار ہے۔ ، اس لیے وہ سارا زور آپ کو ختم کردینے پر لگا دیں گے۔ رہی وہ بات جو آپ نے فرمائی ہے کہ اس وقت اہل عجم بڑی کثیر تعداد میں امنڈ آئے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم جو ان سے لڑتے رہے ہیں تو کچھ کثرت تعداد کے بل پر نہیں لڑتے رہے ہیں بلکہ اللہ کی تائید و نصرت ہی نے آج تک ہمیں کامیاب کرایا ہے۔ “ دیکھنے والا خود ہی دیکھ سکتا ہے کہ اس تقریر میں جنابِ امیر کس کو آیت استخلاف کا مصداق ٹھہرا رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن) مزید وضاحت کے لیے حضرت عدی کی روایت ملاحظہ فرمایئے :۔ حضرت عدی بن ( رض) حاتم سے مروی ہے کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر تھا کہ ایک صحابی حاضر ہوا اور اس نے فقروفاقہ کی شکایت کی۔ دوسرا آیا اس نے راہزنوں کی دست درازیوں کا شکوہ کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے عدی ! کیا تو نے حیرہ کا شہر دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا مجھے دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں سنا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تیری زندگی دراز ہوئی تو، تو دیکھے گا۔ ایک عورت اونٹنی پر سوار ہو کر حیرہ سے روانہ ہوگی اور آکر کعبہ کا طواف کرے گی اور خدا کے بغیر اسے کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ میں دل میں خیال کرنے لگا کہ بنی طے قبیلہ کے قزاق اور راہزن کہاں چلے جائیں گے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا اے عدی، تم کسریٰ کے خزانوں کو فتح کرو گے۔ میں نے عرض کی کیا کسریٰ بن ہرمز یعنی شہنشہاہِ ایران۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہی کسریٰ بن ہرمز۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا تم دیکھو گے لوگ ہاتھوں میں سونا اور چاندی لیے ہوئے کسی غریب کی تلاش میں پھر رہے ہوں گے لیکن مملکت اسلامی میں انھیں کوئی غریب نہیں ملے گا۔ عدی کہتے ہیں میں نے حیرہ سے اونٹنی پر سوار ہو کر آنے والی عورت کو بھی کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور میں خود ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے کسریٰ کے خزانے فتح کیے تھے۔ بعض لوگ جو صحابہ کرام ( رض) کی عظمت شان کا انکار کرنا ہی اپنے ایمان کا کمال سمجھتے ہیں وہ اگر اپنی کتابوں کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی گوارا کرتے تو اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوتے۔ انھیں یقین ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اور حضور کریم ﷺ نے جو وعدے فرمائے ہیں جن کا ذکر خود ان لوگوں کی کتابوں میں موجود ہے وہ وعدے خلفاء راشدین کے عہد سعادت آثار میں پورے ہوئے ہیں۔ ان کے امام کلینی جن کی کتاب کافی ان کے ہاں حدیث کی معتبر ترین کتاب ہے ان کی روایت ملاحظہ فرمایئے۔ عن ابی عبداللہ (علیہ السلام) قال لما حضر رسول اللہ الخندق مروا بکدیۃ فتناول رسول اللہ المعول من ید امیرالمٔومنین اومن ید سلمان فضرب بھا ضربۃ فتفرقت بثلاث فرق وقال رسول اللہ ﷺ لقد فُـتحت علی فی ضربتی ھذہ کنوز کسریٰ و قیصر (فروغ کافی کتاب الروضہ ص 102) ترجمہ : ” حضرت امام جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب حضور ﷺ نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو راستہ میں ایک چٹان حائل ہوگئی۔ حضور ﷺ نے گینتی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دست مبارک سے یا حضرت سلمانِ فارسی ( رض) لے لی اور اس چٹان پر ایک ضرب لگائی اور اس کے تین ٹکڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا لقد فُـتحت علی فی ضربتی ھذہ کنوز کسریٰ و قیصر۔ میری اس ضرب سے میرے لیے کسریٰ اور قیصر کے خزانے فتح کردیئے گئے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ خزانے حضرت فاروق اعظم ( رض) کے زمانہ میں فتح ہوئے۔ روایت میں فتحت علی کے الفاظ ایک حق بین کے لیے روشنی کا وہ مینار ہیں جس سے شک و شبہ کا ادنیٰ احتمال بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ اسی واقعہ کو صاحب ” حملہ حیدری “ نے ان اشعار میں ذکر کیا ہے، یہ بھی ملاحظہ فرمایئے۔ بپاسخ چنیں گفت خیرالبشر کہ چوں جست برق نخت از حجر نمودند ایوانِ کسریٰ بمن دوم قصر روم، سوم از یمن سبب راچنیں گفت روح الامین کہ بعد از من اعوان و انصارِ دین بریں مملکت ہا مسلط شوند بآئینِ من اہل آں بگرو ند بدیں مژدہ و شکر و لطف خدا بہر بار تکبیر کر دم ادا شنیدند آں مژدہ چوں مومناں کشیدند تکبیر شادی کناں ترجمہ : 1 حضور نبی کریم ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا کہ جب اس چٹان کو ضرب لگانے سے پہلی مرتبہ آگ کا شعلہ نکلا۔ 2 تو مجھے کسریٰ کا محل دکھایا گیا۔ دوسری مرتبہ قیصر روم کا محل اور تیسری مرتبہ یمن۔ 3 اس کی وجہ جبرائیل امین نے یوں بیان کی کہ میرے بعد دین کے مددگار اور انصار۔ 4 ان ملکوں پر قابض ہوں گے اور وہاں کے باشندوں کو میری شریعت کا پابند کریں گے۔ 5 اس خوشخبری کو سن کر اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میں نے تین بار اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ 6 جب اہل ایمان نے حضور ﷺ کی زبان پاک سے یہ خوشخبری سنی تو سب نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ یہ چیز غور طلب ہے کہ حضور ﷺ نے ان ملکوں کی فتوحات کو اپنی فتوحات قرار دیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کا لطف اور احسان فرمایا ہے اور اظہارِ شکر کے لیے حضور ﷺ نے اور حضور ﷺ کے غلاموں نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے۔ اگر خدانخواستہ حضرت صدیق و فاروق خلیفہ برحق نہ ہوتے بلکہ (نعوذباللہ) جابر اور غاصب ہوتے تو کیا ان کے زمانہ خلافت میں جو فتوحات ہوئیں انھیں حضور ﷺ کی فتوحات کہنا درست ہوتا ؟ اور ایسی فتوحات پر حضور ﷺ فرحت و شادمانی کا اظہار فرماتے ؟ کوئی ادنیٰ عقل و فہم رکھنے والا انسان بھی ان واقعات کی روشنی میں شیخین کی خلافت پر اعتراض کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ جب امام مہدی (علیہ السلام) ظاہر ہوں گے تو اس وقت یہ وعدہ پورا ہوگا۔ ضد اور تعصب کا کوئی علاج نہیں لیکن حق کی جستجو کرنے والے کے لیے آیت میں ” منکم “ کا ایک لفظ ہی کافی ہے یعنی صحابہ کرام ( رض) جو اس آیت کے مخاطب تھے وہی ” منکم “ کا مرجع ہیں اور اولین وعدہ ان سے ہے۔ نیز اگر ان کی اس بات کو صحیح مان لیا جائے تو ثابت ہوگا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہد خلافت میں بھی یہ وعدہ ایفا نہ ہوا۔ کم از کم ہم ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ (ضیاء القرآن) کفر کا مفہوم وَمَنْ کَفَرَبَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ” اور جن لوگوں نے اس کے بعد کفر کیا یہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔ کفر کا لغوی معنی ناشکری، یعنی کفرانِ نعمت ہے۔ اور اصطلاحی معنی دین کی بنیادی باتوں، یعنی ایمانیات سے انکار ہے جو ایمان کی ضد ہے۔ یہاں دونوں معنی ہی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اصلاحی معنی کے لحاظ سے منافقین کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کیے گئے وعدوں کو پورا فرماتے ہوئے مسلمانوں کو خلافتِ ارضی سے نوازے اور ان کے دین کو تمکن عطا کردے اور ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے یعنی انھیں زمین پر مستحکم حکومت قائم کرنے اور اس کا وقار قائم کرنے کا موقع عطا فرما دے تو اب اگر منافقین اندیشہ ہائے دوردراز کا شکار ہو کر ایمان میں اخلاص پیدا کرنے سے کوتاہی کریں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ درحقیقت ہر حد سے آگے بڑھ جانے والے لوگ ہیں، اب یہ کسی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ چناچہ جنگ تبوک کے بعد شاید اسی اعلان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو ایسے لوگوں کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا جبکہ اس سے پہلے آپ ﷺ ہمیشہ ان کے ساتھ چشم پوشی کرتے اور درگزر سے کام لیتے تھے۔ اور دوسرا لغوی معنی کے لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہوجانے اور اتنے بڑے انعامات سے سرفراز ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ اس خلافت اور حکومت سے اخلاص کا رشتہ قائم نہ رکھیں بلکہ خلیفہ راشد کیخلاف سازشیں کریں اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جنھیں اللہ تعالیٰ نے حدود کی پاسداری کا علمبردار بنایا تھا، اللہ تعالیٰ کی حدود کو پامال کرکے آگے نکل گئے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے ان سے کیے ہیں ان میں کمی آجائے گی۔ چناچہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے جب تک خلفائے راشدین اور ان کی خلافت علی منھاج النبوۃ کے ساتھ وفاداری اور اطاعت کا ثبوت دیا تو اللہ تعالیٰ نے زمین کی طنابیں ان کے لیے کھینچ دیں اور کافروں کے دلوں میں ان کا رعب ڈال دیا۔ جدھر بھی نکلے، کامیابی کے جھنڈے گاڑتے گئے۔ لیکن جب حضرت عثمان غنی ( رض) کے خلاف ایک سازشی گروہ نے حالات کی خرابی کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ انھیں شہید کر ڈالا تو پھر اس کے بعد مسلمانوں کو ایک کلمے کے تحت جمع ہونے کا کبھی موقع نہ ملا۔ بغوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن سلام کا یہ خطبہ نقل کیا ہے جو انھوں نے حضرت عثمان ( رض) کے خلاف ہنگامہ کے وقت دیا تھا۔ خطبہ کے الفاظ یہ ہیں : ” اللہ کے فرشتے تمہارے شہر کے گرد احاطہ کیے ہوئے حفاظت میں اس وقت سے مشغول تھے جب سے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے اور آج تک یہ سلسلہ جاری تھا۔ خدا کی قسم اگر تم نے عثمان کو قتل کردیا تو یہ فرشتے واپس چلے جاویں گے اور پھر کبھی نہ لوٹیں گے۔ خدا کی قسم تم میں سے جو شخص ان کو قتل کردے گا وہ اللہ کے سامنے دست بریدہ حاضر ہوگا اس کے ہاتھ نہ ہوں گے اور سمجھ لو کہ اللہ کی تلوار اب تک میان میں تھی، خدا کی قسم اگر وہ تلوار میان سے نکل آئی تو پھر کبھی میان میں نہ جاوے گی۔ کیونکہ جب کوئی نبی قتل کیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ستر ہزار آدمی مارے جاتے ہیں اور جب کسی خلیفہ کو قتل کیا جاتا ہے تو 35 ہزار آدمی مارے جاتے ہیں۔ “ (مظہری)
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کو قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (النور : 56) (اور نماز کو قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ) مسلمانوں کو تین ہدایات مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے دل نفاق کی آلودگی سے محفوظ رہیں اور تمہاری اجتماعیت میں دراڑیں نہ پڑیں تو اس کا علاج یہ ہے کہ نماز قائم کرتے رہو۔ نماز ایک ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ سے وفاداری کے رشتے کو مستحکم کرتا اور دل کے اخلاص کو ہر آلودگی سے پاک کردیتا ہے۔ باجماعت نماز مسلمانوں میں شیرازہ بندی کی ضمانت دیتی ہے۔ اگر اسے پورے آداب اور مقاصد کے ساتھ ادا کیا جائے تو مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں جوڑنے اور باہمی حالات سے آگاہ رہنے اور ایک ہی منزل کے مسافر بننے کے لیے سب سے کارگر ذریعہ ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ مال و دولت تمہاری ترجیح نہ بننے پائے اور دولت کا فتنہ جو اس امت کے لیے سب سے بڑی آزمائش بنایا گیا ہے تمہیں اپنی گرفت میں نہ لینے پائے۔ اور تم اسلام کے اجتماعی مصالح کو ہر بات پر ترجیح دیتے رہو تو پھر ضروری ہے کہ پابندی سے زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ اس سے تمہارے اندر طبقات پیدا نہیں ہوں گے، غربت کو پَر پھیلانے کا موقع نہیں ملے گا، مال و دولت کو ذاتی محنت کا نتیجہ اور ذاتی ملکیت سمجھنے کا فتنہ سر نہیں اٹھائے گا بلکہ تم مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ حقوق کو ادا کرنے کی فکر کرتے رہو گے۔ اور تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے اندر نظریاتی انتشار پیدا نہ ہو، طبیعتیں اور عقلیں بےقابو نہ ہوں، اذواق و میلانات پراگندہ نہ ہونے پائیں۔ اور کسی غلط شخص کو شعبدہ بازی کے زور پر اپنی ذات کو بالابلند کرنے کا موقع نہ ملے تو پھر نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ اطاعت کا حکم انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے۔ اس ایک حکم پر عمل کے نتیجہ میں زندگی کا ہر شعبہ فساد سے محروم ہوجاتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر تم ان تینوں ہدایات پر عمل کرنے میں یکسو رہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید کی جانی چاہیے کہ وہ تمہیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لے گا اور اپنی رحمت کی چادر تم پر تان دے گا۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

یہ گمان ہرگز نہ کیجیے کہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے وہ زمین میں ہمیں عاجز کرنے والے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے

لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ج وَمَاْ وٰہُمُ النَّارُ ط وَلَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (النور : 57) (یہ گمان ہرگز نہ کیجیے کہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے وہ زمین میں ہمیں عاجز کرنے والے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ ) کافروں کو تنبیہ آخر میں کافروں کو تنبیہ کی گئی ہے اور بالواسطہ منافقین کو سوچنے کا موقع دیا گیا ہے کہ جو لوگ ” وہ یہود ہوں یا مشرکینِ عرب “ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس سرزمین پر اللہ تعالیٰ کے دین کو آگے بڑھنے سے روک دیں گے اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ جو مسلمانوں کے ساتھ حکومت اور غلبے کا وعدہ کرچکا ہے اس کے ایفا میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کردیں گے اور ان کی نام نہاد کوششیں اور سازشیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دین کی بالادستی کو خواب و خیال بنادیں گے، تو انھیں یہ خیال خام اپنے دماغوں سے نکال دینا چاہیے۔ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو لے کر معبوث ہوئے ہیں، وہ اسی دین کی بالادستی کے لیے شب و روز کوشاں ہیں اور مسلمان اس کوشش میں ان کے دست وبازو ہیں۔ انھوں نے اپنے ایمان و عمل سے اس دین کی تائید کی ہے اور اپنی قربانیوں سے اس قافلے کو آگے بڑھایا ہے اور اس تمام تگ و دو میں انھیں اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انھیں شکست دینا گویا کہ اللہ تعالیٰ کو شکست دینا ہے اور جو قوم بھی اللہ تعالیٰ کی شکست دینے اور عاجز کرنے کا ارادہ لے کر اٹھے گی وہ ہمیشہ خائب و خاسر ہوگی۔ اس لیے مشرکین اور یہود کو بھی اپنے بارے میں اچھی طرح غور و فکر کرلینا چاہیے کیونکہ اب اس سرزمین پر ان کی صف لپیٹی جانے والی ہے۔ اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اگر یہ لوگ اسی حالت میں موت کا شکار ہوتے ہیں تو انھیں بہرصورت لوٹ کر اللہ تعالیٰ ہی د کے پاس جانا ہے اور وہاں ان کا انجام جہنم ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کا ٹھکانہ بننے والا ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔