Ayahs 37:149–157149 ۔ 157:۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی تسلی کے لئے سابقہ قوموں کی خبروں کو ذکر کیا تو اب کفار کے قول کے خلاف استدلال کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں فاستفتہم سورت کے آغاز میں جو اس قسم کا کلام ہے اس پر معطوف ہے اگرچہ دونوں میں طویل مساف ہے اے محمد ! ﷺ اہل مکہ سے پوچھو ! کیا تیرے رب کی بیٹیاں ہیں : اس کی وجہ یہ تھی کہ جہینہ ‘ خزاعہ ‘ بنو ملیح ‘ بنو سلمہ اور بنو عبدالدار نے یہ گمان کیا تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بٹیاں ہیں ‘ یہ سوال زجر و توبیخ کے لئے ہے۔
شھدون کا معنی ہے جب ہم نے فرشتوں کو مٔونث بنایا اس وقت وہ حاضر تھے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و جعلوا المللکۃ الذین ھم عبدالرحمن انا ثا اشھدو خلقہم) الزخرف (19:
افکھم کا معنی ہے وہ بڑا برا جھوٹ تھا وہ اس بات میں جھوٹے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ کسی نے اسے جنا ہے الا کے بعد ان کا ہمزہ مکسور ہوتا ہے کیونکہ اس سے کلام آغاز ہوتا ہے جب ہمزہ مفتوح ہو تو ما ‘ حقا کے معنی میں ہوگا جب ہمزہ مکسور ہو تو ما ‘ الا کے معنی میں ہوگا۔
نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے الا کے بعد ان کے ہمزہ کو فتح دینا جائز ہے اس صورت میں الا ‘ اما کے مشابہ ہوگا جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے تو اس میں ہمزہ کے نیچے کسرہ دینا جائز ہے کیونکہ اس کے بعد اہم مرفوع ہے الکاذبون پر کلام مکمل ہوجاتی ہے پھر اصطفی سے نئی کلام شروع ہوجاتی ہے مقصود تقریع و توبیخ ہے) شرمندہ کرنا ہے (
گویا فرمایا : تم پر افسوس اس نے بیٹیاں منتخب کیں اور بیٹوں کو ترک کردیا عام قراء اصطفی ہے یعنی ہمزہ قطع ہے کیونکہ یہ ہمزہ استفہام ہے جو ہمزہ و صلی پر داخل ہے ہمزہ و صلی حذف ہوگیا اور ہمزہ استفہام مفتوح باقی رہا جس طرح اطلع الغیب) مریم (78: ہے جیسے پہلے گذر چکا ہے۔ ابو جعفر ‘ شیبہ ‘ نافع اور حمزہ نے ہمزہ صلی کے ساتھ اسے پڑھا ہے یہ جملہ خبریہ ہے یہاں استفہام نہیں کیونکہ اس کا ما بعد مالکم کیف تحکمون۔ ہے کلام تو بیخ کے طریقہ پر دو جہتوں سے جاری ہے ان دونوں میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے یہ اس کا بیان و تفسیر ہو اور ماکم کیف تحکمون۔
ما قبل سے منقطع ہو دوسری یہ ہے کہ نحویوں نے حکایت بیان کی ہے ان میں فراء بھی ہے کہ توبیخ استفہام اور بغیر استفہام کے ہوا کرتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا) الاحقاف (20: ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام مضمر ہے تقدیر کلام یوں ہے و یقولون اصطفی البنات یا یہ ولد اللہ سے بدل ہے کیونکہ بچیوں کو جننا اور انہیں بیٹیاں بنانا ان کو منتخب کرنا ہی ہے فعل ماضی کو فعل ماضی سے بدل بنایا گیا ہے اس وجہ سے لکاذبون پر وقف نہیں کیا جائے گا کیا تم غورو فکر نہیں کرتے کہ یہ جائز نہیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہو یا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل اور برہان موجود ہے اگر تم سچے ہو تو دلائل لے آئو۔
Ayahs 37:158–160158 ۔ 160:۔ اکثر اہل تفسیر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہاں الجنہ سے مراد فرشتے ہیں۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ قریش کے کفار نے کہا : ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے پوچھا : ان کی مائیں کونسی ہیں ؟ تو قریش نے جواب دیا : ان کی باپردہ۔ اہل اشتقاق نے کہا : انہیں جن اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ دکھائی نہیں دیتے۔ مجاہد نے کہا : فرشتوں کے خاندانوں میں سے ایک خاندان ہے جنہیں الجنہ کہتے ہیں (1) یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
اسرائیل ‘ سدی سے وہ ابو مالک سے روایت نقل کرتے ہیں کہا : انہیں جنہ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ وہ جنتوں کے خازن ہیں تمام فرشتے جنہ ہیں نسبا سے مراد رشتہ مصاہرت ہے۔
قتادہ ‘ کلبہ اور مقاتل نے کہا : یہودیوں نے کہا اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ساتھ مصاہرت کا رشتہ قئام کیا ہے فرستے انہیں میں سے ہیں (2) ‘ مجاہد ‘ سدی اور مقاتل نے بھی یہ کہا ہے یہ بات کرنے والے کنانہ اور خزعہ تھے انہوں کہا : اللہ تعالیٰ نے جنوں کے سردار عورتوں نکاح دی تو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شادی اپنی با مروت بیٹیوں سے کردی فرشتے جنہوں کی بامروت عورتوں سے اللہ تعالیٰ بیٹیاں ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے اللہ تعالیٰ عبادت میں شیطان کو شریک کیا تو وہ نسب ہے جو انہوں نے قائم کیا (3) ۔
میں کہتا ہوں : حضرت حسن بصری کا قول اس بارے میں بہت ہی اچھا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے اذ نسویکم برب العلمین۔ ) الشعراء ( یعنی ہم تمہیں عبادت میں رب العالمین کے ساتھ برابر قرار دیتے ہیں ‘ حضرت عباس ‘ ضحاک اور حضرت حسن نے کہا : اس سے مراد ان کا یہ قول ہے اللہ تعالیٰ اور ابلیس دونوں بھائی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے جھوٹے قول سے بہت ہی بالا ہے۔ (4) ۔
ملائکہ کو علم ہے کہ ایسا قول کرنے والے جہنم میں موجود ہونگے ‘ یہ قتادہ کا قول ہے۔ مجاہدنے کہا : وہ حساب کے لئے حاضر ہوں گے۔ ثعلبی نے کہا : پہلا قول اولی ہے کیونکہ اس آیت میں احضار کا لفظ مکر رہے اور اس سے اللہ تعالیٰ نے عذاب کے علاوہ کی چیز کا ارادہ نہیں کیا۔
جو کچھ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے مگر جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہیں وہ جن ہم سے نجات پائیں گے۔
Ayahs 37:161–163161 ۔ 163:۔ مسئلہ نمبر -1 وما تعبدون میں ما ‘ الذی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدریہ ہے یعنی تم اور تمہاری ان بتوں کی عبادت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم اپنے معبودوں کے ساتھ جن کی تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو یہ کہا جاتا ہے : جاء فلاں و فلان ‘ جاء فلان مع فلان دونوں کا معنی و مفہوم ایک ہی ہے۔
علیہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے بفتنین یعنی گمراہ کرنے والے۔ نحاس نے کہا : جتنا مجھے علم ہے اہل تفسیر کا اس پر اتفاق ہے تم کسی کو گمراہ کرنے والے نہیں مگر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ مقدر کر دے کہ وہ اسے گمراہ کریں۔ شاعر نے کہا۔
فرد بنعتمہ کیدہ علیہ و کان لننا فا تنا (1)
اس نے اپنی نعمت سے اس کا مکر اسی پر لوٹا دیا جب کہ وہ ہمیں گمراہ کرنے والا تھا۔
مسئلہ نمبر -2 اس آیت میں قدریہ کا رد ہے۔ عمرو بن ذر نے کہا ’ ہم حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس حاضر ہوئے ان کے سامنے تقدیر کا ذکر کیا گیا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتا کہ اس کی نافرمانی نہ کی جائے تو وہ ابلیس کو پیدا نہ فرماتا جب کہ وہ گناہ کی جڑ ہے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں علم ہے اسے پہچان لیا جس نے پہچان لیا اور جاہل رہ گیا جو جاہل رہ گیا پھر یہ آیت پڑھی فانکم وما تعبدون۔ ما انتم علیہ بفتنین۔ مگر وہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جہنم میں داخل ہونے کے بارے میں لکھ دیا فرمایا : اس آیت نے لوگوں کے درمیان فرق کردیا ہے اس میں یہ راز ہے شیاطین کسی کو بھی گمراہ نہیں کرسکتے مگر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہو کہ وہ ہدایت نہ پائیں اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا تو وہ ہدایت پائے تو اس بندے اور شیطان کے درمیان حائل ہوجاتا اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و اجلب علیھم بخیلک و رجلک) الاسراء (64: یعنی تو ان تک کوئی چیز نہیں پہنچا سکتا مگر جو میرے علم میں ہے۔
لبید بن ربیعہ نے تقدیر کی حقانیت کے بارے میں کہا اور خوب کہا :
ان تقوی ربنا خیر نفل و باذن اللہ ریثی و عجل
احمد اللہ فلا ند لہ بیدیہ الخیر ما شاء فعل
من ھداہ سبیل الخیر اھتدی ناعم البال و من شاء اضل
بیشک تقوی بہترین احسان ہے اللہ کے اذن سے میری سستی اور تیزی ہے میں اللہ کے حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا کوئی مد مقابل نہیں اس کے قبضہ قدرت میں خیر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جسے وہ بھلائی کے راستہ کے طرف ہدایت دے وہ بڑی مد مقابل نہیں اسی کے قبضہ قدرت میں خیر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے جسے وہ بھلائی کے راستہ کی طرف ہدایت دے وہ بڑی آسانی سے ہدایت پا جاتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے گمراہی مقدر کردیتا ہے۔
فراء نے کہا : اہل حجاز کہتے ہیں فتنت الرجل میں نے انسان کو گمراہ کردیا۔ اہل نجد مزید فیہ کا فعل ذکر کرتے ہیں افتنتہ میں نے اسے گمراہ کردیا۔
مسئلہ نمبر -3 حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ پڑھا : الا من ھو صال جہیم یعنی لام مضموم ہے۔ نحاس نے کہا : مفسرین کی جماعت کا کہنا ہے یہ غلطی ہے کیونکہ یہ کہنا جائز نہیں : ھذا قاض المدینۃ۔ اس بارے میں نے جو علی بن سلیمان سے سنا ہے وہ سب سے بہترین ہے کہا : ھو معنی پر محمول ہے کیونکہ من کا معنی جماعت ہے تقدیر کلام یوں ہوگی صالون اضافت کی وجہ سے نون حذف ہے اور وائو اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصل میں یہ فاعل کے وزن پر تھا مگر اسے صال میں صایل کی طرف قلب کیا گیا یاء کو حذف کردیا گیا اور لام مضموم ہی رہ گیا یہ شفا جرف ھار) التوبہ (109: کی مثل ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ صال کا لام کلمہ تخفیف کے طریقہ پر حذف کردیا گیا اور اعراب اس کے عین کلمہ پر جاری ہوا جس طرح عربوں کے اس قول سے حذف ہے مابالیت بہ بالۃ اصل ہے یہ بالیۃ تھا یہ بالی سے ماخوذ ہے جس طرح عافیۃ ‘ عافی سے ماحوذ ہے اس کی مثل اس کی قراءت ہے و جنا الجنتین دان۔ ) الرحمن ( اور ولہ الجوار المنشئت) الرحمن (24: یہاں بھی عین کلمہ پر اعراب جاری کیا گیا ہے جماعت کی قراءت میں صالی یاء کے ساتھ ہے کاتب نے تحریر میں اسے حذف کردیا کیونکہ تلفظ میں یہ ساقط ہے۔
Ayahs 37:164–166164 ۔ 166:۔ یہ فرشتوں کا قول ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں کہا ہے اور جنہوں نے ان کی عبادت کی تھی ان کے انکار کے لئے ہے۔ مقاتل نے کا ہے : یہ تین آیات اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ سدرۃ المنتھی کے پاس تھے حضرت جبریل امین پیچھے ہٹ گئے تو نبی کریم ﷺ نے کہا : ” یہاں تو مجھے چھوڑ جائے گا “ حضرت جبریل امین نے عرض کی کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کہ میں اپنے مقام سے آگے بڑھوں ٭۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے قول کی حکایت بیان کرتے ہوئے ان آیات کو نازل فرمایا : وما منا الا لہ مقام معلوم۔۔
کو فیوں کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے : وما منا الا من لہ مقام معلوم تو اسم موصول کو حذف کردیا گیا۔
بصریوں کے نزدیک اس کی تقدیر کلام یہ ہے ومام منا ملک الا لہ مقام معلوم یعنی عبادت میں اس کا معین مکان ہے ‘ یہ حضرت ابن مسعود اور ابن جبیر کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آسمانوں میں بالشت بھر ایسی زمین نہیں مگر اس پر ایک فرشتہ نماز پڑھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” آسمان میں کوئی ایسی جگہ نہیں مگر وہاں ایک فرشتہ سجدہ ریز ہے یا کھڑا ہے۔ “ حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ‘ میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے وہ آواز نکال رہا ہے اس کا حق ہے کہ وہ آواز نکالے اس میں چار انگل کے برابر جگہ نہیں مگر ایک فرشتہ اپنی پیشانی رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کر رہا ہے اللہ کی قسم ! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ‘ بستروں پر تم اپنی بیویوں سے لذت حاصل نہ کرتے ‘ تم پہاروں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑاتے میں تو خواہش کرتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا (1) “۔ اے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس بارے میں کہا یہ حدیث حسن غریب ہے ایک دوسری سند سے یوں مروی ہے کہ حضرت ابوذر نے کہا : میں پسند کرتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ‘ حضرت ابوذر سے یہ موقوف مروی ہے۔
قتادہ نے کہا : آپ مردوں اور عورتوں کو اکٹھے نماز پڑھایا کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی وما منا الہ لہ مقام معلوم۔ کہا : تو مرد آ گے ہوگئے اور عورتیں پیچھے ہوگئیں۔
کلبی نے کہا : فرشتوں کی صفیں بھی اسی طرح ہیں جس طرح زمین میں اہل دنیا کی صفیں ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ ہم مسجد میں تھے فرمایا : ” کیا تم اس طرح صفیں نہیں بنائو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے ہاں صفتیں بناتے ہیں (2) “ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ فرشتے اپنے رب کے ہاں کیسے صفیں بناتے ہیں ؟ پہلی صفوں کو مکمل کرتے اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں “ حضرت عمر ؓ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتے تو کہتے : اپنی صفوں کو سیدھا کرو اور سدکھے ہو جائو (3) اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں اس ہدایت کا ارادہ کرتا ہے جو فرشتوں کو ان کے رب کے ہاں حاصل ہے اور یہ ایت تلاوت کیا کرتے تھے و انا لنحن الصافون۔ اے فلاں پیچھے ہٹ ‘ اے فلاں آگے ہو پھر آگے بڑھتے اور تکبر کہتے : سورة حجر میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔
ابو مالک نے کہا : لوگ الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : و انا لنحن الصافون۔ تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو صفیں بنانے کا حکم دیا۔ شعبی نے کہا : جبریل امین یا ایک فرشتہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کی : آپ رات کے دو تہائی اس کا نصف اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے ہیں فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے تسبیح بیان کرتے ہیں آسمان میں کوئی فرشتہ فارغ نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی میں ہم ہوا میں اپنے پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمیں کیا حکم دیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم عرش کے اردگرد صفیں بنائے ہوئے ہوتے ہں۔
و انا لنحن المسبحون اور ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ‘ یہ قتادہ کا قول ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا : مشرک اس کی طرف جو بات منسوب کرتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی اس سے پاکی بیان کرتے ہیں (1) مراد یہ ہے وہ خبر دیتے ہیں کہ وہ تسبیح اور نماز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں نہ فرشتے معبود ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وما منا الا لہ مقام معلوم۔ یہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کا مشرکین کے لئے قول ہے ‘ یعنی ہمارا اور تمہارا آخرت میں معین مقام ہے اور وہ مقام حساب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم مییں سے کچھ وہ ہیں جن کے لئے مقام خوف ہے اور ہم میں سے کچھ وہ ہیں جن کے لئے مقام رجا ہے اور ہم میں سے کچھ وہ ہیں جن کے لئے مقام رجا ہے اور ہم میں سے کچھ وہ ہیں جن کے لئے مقام اخلاص ہے اور ہم میں سے کچھ وہ ہیں جن کے لئے مقام شکر ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں یہ کہتا ہوں یہ ملائکہ کے قول وما منا الا لہ مقام معلوم کی طرف راجع ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 37:167–170167 ۔ 170 مشرکین نے جو باتیں کیں ان کی خبر دینے کی طرف رجوع کیا یعنی جب حضور ﷺ کی بعثت سے قبل انہیں جہالت کے ساتھ عار دلائی جاتی تو مشرکین مکہ کہتے : لو ان عندنا ذکر امن الاولین۔ یعنی وہ کہتے اگر ہماری طرف کوئی نبی مبعوث کیا جاتا جو شرعی احکام کی وضاحت کرتا تو ہم اس کی اتباع کرتے جب ان کو مخفف کیا تو وہ فعل پر داخل ہوا اور اسے لام لازم ہوگیا تاکہ نفی اور ایجاب میں فرق ہو۔ کوفی کہتے ہیں ان ‘ ما کے معنی میں ہے اور لام ‘ الا کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہمارے پاس انبیاء کی کتب میں سے ایک کتاب ہوتی تو ہم اللہ کے مخلص بندے ہوتے یعنی ہمارے پاس ذکر آتا جس طرح پہلے لوگوں کے پاس ذکر آیا ہے تو عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرتے ‘ تو انہوں نے ذکر کا انکار کیا۔ فراء حذف کی صورت میں تقدیر کلام کرتے ہیں یعنی حضرت محمد ﷺ ذکر لائے تو انہوں نے انکار کردیا ان پر تعجب کا اظہار ہے یعنی ان کے پاس نبی آیا اور ان پر کتاب نازل کی گئی۔ اس میں اس چییز کا بیان ہے جس کے وہ محتاج تھے پس انہوں نے کفر کیا اور جو بات کہی تھی اس کو پورا نہ کیا۔
زجاج نے کہا : وہ اپنے کفر کا انجام جان لیں گے۔
Ayahs 37:171–179171 ۔ 179:۔ فراء نے بالسعادۃ کا لفظ مقدر مانا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کتب اللہ لا غلبن انا و رسلی) المجادلۃ (21: حضرت حسن بصری نے کہا : صاحب شریعت کو کبھی بھی قتل نہیں کیا گیا حجت اور غلبہ کے ساتھ ان کی مدد کا وعدہ پہلے ہوچکا ہے آیت میں الغالبون کا لفظ زکر ہوا یہ جند کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے۔ اگر لفظ کا اعتبار ہوتا تو جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے جند ما ھنالک مھزوم میں الاحزاب۔ ) ص ( شیبانی نے کہا : یہاں جمع کا صیغہ آیا ہے کیونب کہ یہ آیت کا سرا ہے۔
آپ ان سے موت کے وقت تک اعراض کریں۔ قتادہ نے حسین کا معنی موت کیا ہے (1) زجاج نے کہا : اس وقت تک ان سے اعراض کریں جتنا عرصہ انہیں مہلت دی گئی ہے۔ ہضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد غزوہ بدر کے موقع پر قتل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد فتح مکہ ہے ایک قول یہ کیا گیا یہ آیت ‘ آیت سیف سے منسوخ ہے۔
قتادہ نے کہا : وہ عنقریب سب کچھ دیکھ لیں گے جب انہیں دیکھنا کچھ نفع نہ دے گا عسی (2) جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو تو یہ وجوب کے لئے آتا ہے۔ ابصار کے ساتھ اسے تعبیر کیا گیا تاکہ امر کی تقریب کا اظہار ہو یعنی وہ قریب ہی دیکھ لیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے قیامت کے روز وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔
وہ جھٹلانے کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے متی ھذا العذاب یہ عذاب کب ہوگا یعنی تم عذاب کے بارے میں جلدی نہ کرو وہ ضرور وقوع پذیر ہوگا۔
جب عذاب ان کے انگن میں اتر گا۔ زجاج نے کہا : ان لوگوں کا عذاب قتل کی صورت میں تھا۔ بساحتھم کا معنی ان کے گھر میں۔ سدی اور دوسرے علماء نے کہا : الساحۃ اور السحسۃ سے مراد گھر کا وسیع آنگن ہے۔ فراء نے کہا : ان پر عذاب برابر پر نازل ہے وا۔
جن لوگوں کو عذاب سے ڈرایا گیا تھا ان کی صبح کتنی بری ہوئی۔ اس میں اضمار ہے یعنی فساء الصباہ صباحھم۔ صباح کا خصوصا ذکر ہوا ہے ان پر عذات اسی وقت آیا تھا اس معنی میں وہ حدیث ہے جسے جضرت انس ؓ نے روایت کیا ہے جب رسول اللہ ﷺ خیبر آئے تو وہ لوگ پانی اپنی کھیتیوں کی جانب جا رہے تھے ان کے ہاتھوں میں کدالیں تھیں انہوں نے کہا : محمد اور بڑا لشکر اور وہ اپنے اپنے قلعوں کی طرف لوٹ گئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر خربت خیبر اذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین (1) اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی صبح کتنی بری ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ساحہ کا معنی وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے اپنے ارشاد میں مرا دلیا ہے۔
و تول عنھم حتی حسین۔ اسے تاکید کے لئے مکرر ذکر کیا اسی طرح و ابصر فسوف یبصرون۔ بھی تاکید کے لئے ہے۔
Ayahs 37:180–182180 ۔ 182:۔ اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر -1 سبحن ربک اللہ تعالیٰ نے اپنی ان چیزوں سے پاکی زیادہ بیان کی ہے جو مشرکوں نے ان کی طرف منسوب کی تھیں رب العزۃ یہ ربک سے بدل ہے مدح کے طور پر اسے نصب دینا بھی جائز ہے اور رفع پڑھنا بھی جائز ہے اس وقت یہ ھو رب العزۃ کے معنی میں ہوگا۔
عما یصفون یعنی بیوی اور بچے سے پاک ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے سبحان اللہ کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا : ” ہر برائی و عیب سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا “ سورة بقرۃ میں بحث گذر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر -2 محمد بن سحنون سے رب العزۃ کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کس طرح جائز ہے جب کہ عزت صفات ذات میں سے ہے یہ کہتا جائز نہیں رب القدرۃ اسی طرح دوسری صفات ذات کی طرف رب کی وضاحت کرنا درست نہیں۔
محمد بن سحنون نے جواب دیا : العزۃ یہ صف بھی ہے اور صفت فعل جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : رب العزۃ معنی ہوگا اس عزت کے رب جس عزت سے مخلوق باہم ایک دوسرے پر غلبہ چاہتی ہے پس یہ اللہ تعالیٰ کے خلق میں سے ہوئی۔
کہا : تفسیر میں آیا ہے یہاں عزت سے مراد فرشتے ہیں۔ کہا ہمارے بعض علماء نے کہا : جس نے بعزۃ اللہ کے الفاظ کے ساتھ قسم اٹھائی اگر اس نے عزت سے مراد وہ عزت لی ہے جو اس کی صفت ہے اس نے قوم کو روڑ تو اس پر کفارہ ہوگا اگر اس نے اس معنی کا ارادہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے درمیان عزت بنا دی ہے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں۔
ماوردی نے کہا : رب العزۃ دود وجوہ کا احتمال رکھتا ہے : (1) مالک العزۃ (2) رب کل شی متعزز۔ ہر عزت والی چیز کا رب خواہ وہ چیز بادشاہ ہو یا جبروت والی ہو۔ میں کہتا ہوں : دونوں صورتوں میں کوئی کفارہ نہیں ہوگا جب کوئی قسم اٹھانے والا قسم اٹھائے۔
مسئلہ نمبر -3 حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سلام کہنے سے قبل یہ پڑھا کرتے تھے : سبحن ربک رب العزۃ الی آکر السورۃ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : میں نے شیخ ‘ امام ‘ محدث ‘ حافظ ابو علی حسن بن محمد بن عمرو بکری پر جزیرہ میں جو منصورہہ کے سامنے تھا جو دیار مصر سے تعلق رکھتا ہے انہوں نے حرہ ام الموید زینت بنت عبدالرحمن بن حسن شعری سے پہلی دفعہ نیشاپور میں سنا انہوں نے کہا ہمیں ابو محمد اسماعیل بن ابی بکر قاری نے بتایا کہا ہمیں ابوالحسن عبدالقادر بن محمد فارسی نے کہا ہمین ابو سہل بشر بن احمد نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابو دائود بن حسین بیہقی نے بیان کیا ہے کہا ہمیں ابوزکریا یحییٰ بن یحییٰ بن عبدالتمیمی نیشاپور نے بیان کیا کہا ہمیں ہشیم نے انہوں نے کہا ابو ہارون عبدی سے انہوں نے کہا حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہا میں رسول اللہ ﷺ کو کئی دفعہ نماز کے آخر میں یا جب آپ پھرتے تو یہ کہتے ہوئے سنا : سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون۔ و سلم علی المرسلین۔ والحمد للہ رب العالمین۔
ماوردی نے کہا : جسے یہ بات خوش کرے کہ اسے قیامت کے دن پورا پورا کیل دیا جائے تو جب وہ مجلس کے اختتام پر مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرے تو کہے (1) سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون۔ و سلم علی المرسلین۔ والحمد للہ رب العلمین۔ ثعلبی نے حضرت علی شیر خدا کے واسطہ سے اسے مرفوع روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ المرسلین سے مراد ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے توحید و رسالت کا پیغام پہنچایا۔ حضرت انس ؓ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب تم مجھ پر سلام کہو تو مرسلین پر بھی سلام کیا کرو بیشک میں رسولوں میں سے ایک رسول ہوں “ (1) ۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : سلم علی المرسلین کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے روز ان کے لئے امن ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بشیر اور نذیر بنا کر جو بھیجا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق پر جو انعامات کیے ہیں اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے حمد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مشرکوں کے ہلاک ہونے پر اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اس کی دلیل فقطع دا برالقوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔ ) الانعام ( ہے۔
میں کہتا ہوں : سب مراد ہے اور حمدعام ہے یصفون کا معنی ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں تقدیر کلام یہ ہوگی عما یصفون من الکذب