37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 37:123–132

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

(یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب) نہیں ہوں گے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ الیاسین پر سلام ہے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

123 ۔ 132:۔ مفسرین نے کہا : حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ایک نبی تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں اور الیاس سے مراد حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں اور یوں قراءت کی و ان ادریس یہ عکرمہ کا قول ہے۔ کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں و ان ادریس لمن المرسلین تھا حضرت عبداللہ بن مسعود یہ قول کرنے میں منفرد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : اس کا سے مراد حضرت یسع کے چچا ہیں (1) ۔ ابن اسحاق اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت یوشع کے بعد بنی اسرائیل کے معاملات کے نگران حضرت کا لب بن یوفنا تھے پھر حضرت حز قیل تھے پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت حز قیل نبی کو موت عطا کردی تو بنی اسرائیل میں بڑے بڑے حادثات رونما ہوئے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے عہد کو بھول گئے ‘ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس کو نبی بنا کر معبوث کیا اور ہضرت یسع ان کے پیچھے آئے وہ حضرت الیاس پر ایمان لائے جب بنو اسرائیل نے ان پر سرکشی کی تو انہوں نے اپنے رب کے حضور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے ان سے نجات عطا کریں تو انہیں کہا گیا : فلاں دن فلاں جگہ کی طرف نکلو جو چیز بھی تیرے سامنے آئے اس پر سوار ہو جائو اور اس سے خوفزدہ نہ ہونا۔ آپ نکلے اور ان کے ساتھ حضرت یسع بھی تھے عرض کی : اے الیاس ! آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ حضرت الیاس نے اوپر کی جانب سے ان کے اوپر اپنی چادر پھینک دی۔ یہ بنی اسرائیل پر انہیں نائب بنانے کی علامت تھی۔ یہ حضرت الیاس کا حضرت یسع کے ساتھ آخری وقت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس (علیہ السلام) سے کھانے اور پینے کی لذت کو ختم کردیا اسے پر عطا کئے اور نور کا لباس پہنایا اور وہ فرشتوں کے ساتھ اڑ گئے وہ انسان ‘ فرشتہ آسمانی اور زمینیی ہو و گئے (2) ۔ ابن قتیبہ نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس سے فرمایا : مجھ سے سوال کر میں تجھ عطا کروں گا۔ حضرت الیاس نے عرض کی : تو مجھے اپنی طرف اٹھالے اور مجھ سے موت کے ذائقے کو مٔوخر کر دے تو وہ فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے۔ بعض نے کہا : آپ مریض ہوئے اور موت کی آہٹ کو محسوس کیا اور روئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : تو کیوں ہے ؟ دنیا کی حرص میں یا موت کی گھبراہٹ سے یا آگ کے ڈر سے ؟ عرض کی : نہیں تیری عظمت و جلال کی قسم ! ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ‘ میری گھبراہٹ یہ ہے میرے بعد حمد کرنے والے کیسے حمد کریں گے جب کہ میں تیری حمد نہیں کروں گا ؟ میرے بعد ذکر کرنے والے کیسے تیرا ذکر کریں گے جب کہ میں تیرا ذکر نہیں کروں گا ؟ میرے بعد روزے دار کیسے روزے رکھیں گے جب کہ میں روزہ نہ رکھوں گا ؟ وہ کیسے تیری نماز پر ھیں گے جب کہ میں نماز نہیں پڑھوں گا ؟ اسے کہا گیا : اے الیاس ! میری عزت کی قسم میں تجھے اس وقت تک مہلت دونگا جس میں کوئی ذاکر میرا ذکر نہیں کرے گا یعنی قیامت کے دن تک تجھے مہلت دونگا۔ عبدالعزیز بن رائود نے کہا : حضرت الیاس اور حضرت خضر (علیہما السلام) ہر سال بیت المقدس میں رمضان شریف کے مہینہ میں روزے رکھتے ہیں وہ ہر سال حج کرتے ہیں۔ ابن ابی دینا نے زکر کیا ہے کہ جب حج کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں : ما شاء اللہ ماشاء اللہ جو نعمت بھی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے ماشاء اللہ ماشاء اللہ توکلت علی اللہ حسبنا اللہ و نعم الوکیل سورة کہف میں گذر چکا ہے۔ مکحول کے سند سے حضرت انس ؓ روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا یہاں تک کہ ہم نے ایک پتھر کے پاس اونٹنی کی گزرگاہ میں تھے اچانک ہم آواز سن رہے تھے جو آدمی کہہ رہا تھا : اللھم اجعلنی من امۃ محمد المرحومۃ المغفورۃ لھا المتوب علیھا المستجاب لھا۔ اے اللہ مجھے حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے بنا دے جو مرحومہ ‘ مغفورہ ہے جس کی توبہ قبول کی جاتی ہے اور جس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے انس ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے ؟ “ تو میں پہاڑ کے اندر چلا گیا تو اچانک میں ایک آدمی کے پاس تھا جس کی داڑھی اور سر کے بال سفید تھے جس کے جسم پر سفید کپڑے تھے اس کی لمبائی تین سو ہاتھ تھی جب اس نے مجھے دیکھا تو کہا : تو نبی کا بھیجا ہوا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : اس کی طرف واپس جائی سے اسے میرا سلام کہنا اور اس سے کہنا : یہ تیرا بھائی الیاس ہے جو تیری ملاقات چاہتا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے جب کہ میں ان کے ساتھ تھا یہاں تک کہ جب ہم ان کے قریب ہوئے تو وہ نبی کریم ﷺ کی طرف آگے بڑھے اور میں پیچھے ہٹ گیا ‘ دونوں نے طویل گفتگو کی ‘ دونوں پر آسمان سے کوئی چیز نازل ہوئی جو دسترخوان کے مشابہ تھی ‘ دونوں نے مجھے بلایا تو میں نے ان دونوں کے ساتھ کھایا اس میں کھمبی ‘ انار اور اجوائن تھی۔ جب میں نے کھانا کھالیا تو میں اٹھ گیا اور ایک طرف ہوگیا۔ ایک بادل آیا جس نے اسے اٹھا لیا جب کہ میں ان کے کپڑوں کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی : میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں یہ کھانا جو ہم نے کھایا ہے کیا یہ آسمان سے نازل ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے کہا : حضرت جبریل امین ہر چالیس دنوں میں ایک دفعہ کھانا لاتے ہیں اور ہر سال میں ایک دفعہ زمزم کا پانی لاتے ہیں بعض اوقات میں نے انہیں گہرے کنویں پر دیکھا وہ ڈول بھرتے اور خود پیتے اور بعض اوقات مجھے بھی پلایا “ (1) ۔ ثعلب نے کہا : علماء نے اللہ تعالیٰ کے فرمان بعلا میں اختلاف کیا ہے۔ ایک طائفہ نے کہا : یہاں بعل سے مراد بت ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہاں بعل سے مراد فرشتہ ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : اس سے مراد عورت ہے جس کی وہ عبادت کرتے تھے ‘ پہلا قول اکثر علماء کا ہے۔ حکم بن ابان ‘ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ یہاں بعل سے مراد بت ہے۔ عطا بن سائب ‘ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بعلا کا معنی رب ہے۔ نحاس نے کہا : دونوں قول صحیح ہیں کہا : تم بت کی عبادت کرتے ہو جسے تم نے رب بنایا ہوا ہے یہ جملہ بھی کہا جاتا ہے : ھذا بعل الدار یہ گھر کا مالک ہے معنی ہوگا : کیا تم اسے رب کہتے ہو جسے تم نے خود گھر ہے ؟ اتدعون یہ اتسمونن کے معنی میں ہے کیا تم اسے یہ نام دیتے ہو ‘ یہ سیبویہ نے بیان کیا ہے۔ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ قتادہ اور سدی نے کہا : یمن کی لغت میں بعل کا معیب رب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک یمنی آدمی کو کہتے ہوئے سنا جو منی میں اونٹی چرا رہا تھا من عل ھذہ یعنی اس کا مالک کون ہے ؟ اسی وجہ سے خاوند کی بعل کہتے ہیں۔ ابو دائود نے کہا : ورایت بعلک فی الوغی متقلدا سیفا و رمحا میں نے تیرے خاوند کو جنگ میں دیکھا جو تلوار اور نیزہ سنبھالے ہوئے تھا۔ مقاتل نے کہا : بعل سے مراد وہ بت ہے جسے حضرت الیاس نے توڑ اور ان لوگوں کے پاس سے بھاگ گئے۔ ایک قول کیا گیا ہے : وہ بت سونے کا تھا ‘ اس کی لمبائی بیس ہاتھی اس کے چار منہ تھے اس کی وجہ سے لوگ آزمائش میں مبتلا ہوئے ‘ لوگوں نے اس بت کی تعظیم کی یہاں تک کہ اس کی کدمت پر سو آدمی لگائے اور ان افراد کو اس کے انبیاء بنایا شیطان بعل کے پیٹ میں داخل ہوتا اور گمراہی کی باتیں کرتا خدام انہیں یاد کرتے اور لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دیتے یہی لوگ شام کے علاقہ میں اہل بعلبک کہلاتے اسی وجہ سے ان کے شہر کا نام بعلبک پڑگیا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ و تذرون احسن الخالقین۔ اس کے لئے جو نام ذکر کئے جاتے ہیں ان میں بہترین خالق ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ معنی ہے وہ بہترین صانع ہے کیونکہ لوگ بناتے ہیں تخلیق نہیں کرتے۔ للہ ربکم و رب ابابکم الاولین۔ تینوں اسماء منصوب ہیں۔ ربیع بن خثیم ‘ حسن بصرمی ‘ ابن ابی اسحاق ‘ ابن وثاب ‘ اعمش ‘ حمزہ اور نسائی نے اسی طرح پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابو عبید نے کہا : یہ صفت ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ علط ہے یہ بدل کی حدیثیت سے منصوب ہیں یہاں صفت بنانا جائز نہیں کیونکہ یہاں تخلیہ نہیں۔ ابن کثیر ‘ ابو عمرد ‘ عاصم ‘ ابو جعفر ‘ شیبہ اور نافع نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے ھو اللہ ربکم نحاس نے کہا ’ جو کہا اس میں سے بہترین یہ ہے یہ کلام مبتدا خبر ہے نہ اضمار ہے اور نہ ہی حذف ہے۔ میں نے علی بن سلیمان کو دیکھا کہ وہ اس طرف گئے ہیں رفع دینا زیادہ بہتر اور اچھا ہے کیونکہ اس سے قبل آیت کا سرا ہے پس نئے سرے سے کلام شروع کرنا اولی ہے۔ ابن انباری نے کہا : جس نے نصب دی یا رفع دیا اس احسن الخالقین پر مکمل وقف نہیں کیونکہ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ ذات ہی اس سے مراد ہے۔ حضرت الیاس کی قوم کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے حضرت الیاس کو جھٹلایا پس وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے مگر ان کی قوم کے مخلص لوگ عذاب سے نجات پائیں گے اسے المخلصین پڑھا ہے۔ یہ گفتگو پہلے گذر چکی ہے۔ اعرج ‘ شیبہ اور نافع کی قراءت آل یاسین۔ عکرمہ ‘ ابو عمرو ‘ ابن کثیر ‘ حمزہ اور کسائی نے الیاسین قراءت کی ہے حضرت حسن بصری نے سلام علی الیاسین الف کو وصیلہ کرتے ہوئے پڑھا ہے گویا اصل میں یاسین تھا اس پر الف ‘ لام تعریف کا داخل ہوا ہے اس سے مراد حضرت الاسس (علیہ السلام) ہیں اسی پر سلام واقع ہوا ہے لیکن یہ عجمی اسماء میں منصوب ہوجاتے ہیں وہ اکثر اس میں تبدیلی کردیتے ہیں۔ ابن جنی نے کہا : عرب عجمی اسماء میں کھیلتے رہتے ہیں یاسین ‘ الیاس اور الیاسین ایک ہی چیز ہے۔ زمحشری نے کہا : جب وصل کرتے تو نصب دیتے اور جب وقف کرتے تو رفع دیتے اسے علی الیاسین ادریسین ‘ ادرسین اور ادراسین پڑھتے یہ الیاس اور ادریس کی لغتیں ہیں شاید سر یانی زبان میں یاء اور نون کی زیادتی کی کوئی حکمت ہو۔ نحاس نے کہا : جس نے سلام علی آل یاسین پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اس نے اس کا اسم الیاس اور یاسین بنایا ہے پھر اس کے آل یعنی اس کے شہر والوں اور جو اس کے مذہب والے تھے ان پر سلام بھیجا اس سے یہ بات معلوم ہوگئی ہے جب اس کی وجہ سے سے آل پر سلام بھیجا گیا تو وہ اس سلامتی میں بدرجہ اولی داخل ہوگا جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللھم صلی علی آل ابی ادنی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ ) غافر ( جس نے الیاسین پڑھا ہے علماء کے اس میں کئی اقوال ہیں۔ ہارون نے ابن ابی اسحاق سے روایت نقل کی ہے کہ الیاس سین ‘ ابراہیم کی مثل ہے وہ اس طرف گیا ہے کہ یہ نام ہے۔ ابو عبیدہ اس طرف گیا ہے کہ یہ نام ہے۔ ابو عبیدہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ جمع سالم ہے کیونکہ ان پر اور ان کے اہل بیت پر سلام بھیجا گیا ہے اس نے یہ شعر پڑھا ہے : قدنی من نصر الخبیبین قدی یہ کہا جاتا ہے قدنی اور قدی دو لغتیں ہیں ان کا معنی حسب یعنی کافی ہے وہ ابو حبیب عبداللہ بن زبیر کا ارادہ کرتا ہے اس کو جمع بنانا کہ جو بھی اس کے طریقہ پر تھا وہ اس کے ساتھ ہے۔ ابو عبیدہ کے علاوہ علماء نے اسے الخبیبین تثنیہ نقل کیا ہے اس سے مراد عبداللہ اور صعب ہیں علی بن سلمان اس سے زیادہ وضاہت کرتا ہے۔ کہا : عرب کسی قوم کا نام اپنے میں سے جلیل القدر آدمی کے نام پر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں : مہالبہ انہوں نے اپنے اپنے میں سے ہر آدمی کا نام مہلب کے نام دیا گیا۔ سیبویہ نے اپنی کتاب میں اس میں سے کچھ زکر کیا ہے مگر اس نے یہ ذکر کیا عرب اس نسبت کے طریقہ پر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : اشعرون اس سے وہ نسبت کا اردہ کرتے ہیں۔ مہدوی نے کہا : جس نے الیاسین پڑھا تو یہ جمع کا صیغہ ہے جس طرح جمع مکسر میں سے یاء نسبت حذف ہوجاتی ہے جس طرح مھالبہ ‘ مھلبی کی جمع ہے اسی طرح جمع سالم میں بی اسی طرح ہذف ہے پس مھلبون کہا گیا سیبویہ نے حکایت کی ہے۔ اشعرون ‘ نمیرون اس سے وہ اشعریین اور نمیریین مراد لیتے ہیں۔ سہیلی نے کہا : یہ صحیح نہیں بلکہ یہ الیاس میں لغت ہے جو کچھ انہوں نے کہا اگر اس کا ارادہ ہوتا تو الف ‘ لام داخل کیا جاتا ہے جس طرح المھالبہ اور الاشعریین میں داخل کیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ یوں ارشاد فرماتا ہے : سلم علی آل یاسین۔ کیونکہ علم کی جب جمع بنادی جاتی ہے تو وہ نکرہ کے حکم میں ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس پر الف ‘ لام داخل کیا جاتا ہے تو یہ نہیں کہتا : سلام علی الذیدین۔ الیاس کے لفظ میں تین لغتیں ہیں۔ نحاس نے کہا : ابو عبیدہ نے اپنی قراءت میں سلام علی الیاسین سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ بھی آپ کا نام ہے جس طرح الیاس ان کا نام ہے کیونکہ سورت میں ان کے علاوہ کسی آل پر سلام نہیں جس طرح دوسرے انبیاء کا نام ذکر کیا گیا ہے اسی طرح ان کا نام بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ استدلال اصل میں ابو عمرو کا ہے جو غیر لازم ہے۔ کیونکہ اہل لغت کے قول کو ہم بیان کرچکے ہیں کہ جب کسی کی وجہ سے اس کی آل پر سلام بھیجاجائے تو اس کی ذات پر بھی سلام ہوتا ہے۔ یہ قول کی اس کا نام الیاسین تھا وہ دلیل اور روایت کا محتاج ہے اس معاملہ میں اشکال واقع ہوگیا ہے۔ ماوردی نے کہا : حضرت حسن بصری نے کہا : حضرت حسن بصری نے پڑھا ہے سلام علی یا سین اس میں الف اور لام کو ساقط کردیا ہے اس کی دو صورتیں ہیں : (1) ان سے مراد حضرت محمد ﷺ کی آل ہے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (2) ان سے مراد حضرت یاسین کی آل ہے اس تعبیر کی بنا پر یاسین میں زیادتی میں دو وجہیں ہیں (1) اس لئے زیادتی کی گئی تاکہ آیات برابر ہوجائیں جس طرح ایک موقع پر طور سیناء اور دوسرے موقع پر طور سینین فرمایا ‘ اس صورت میں سلام ان کے اہل پر ہوگا اور ان کی ذات پر نہیں ہوگا ‘ اس صورت میں اضافت شرافت کو ظاہر کرنے کے لئے ہوگی۔ (2) جمع کرنے کے لئے داخل ہوا ہے پس حضرت یاسین بھی ان میں داخل ہیں پس سلام ان پر اور ان کی آل پر ہوگا سہیلی نے کہا : متکلمین نے معانی القرآن میں کہا : ال یاسین سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ال ہے۔ اس قول کی طرف وہ گئے ہیں جنہوں نے یس کی تفسیر میں کہا : یا محمد ! یہ قول بہت سی وجوہ سے باطل ہے۔ (1) سیاق کلام الیاسین کے قصہ میں ہے تو لازم ہے کہ یہ اس طرح ہو جس طرح حضرت ابراہیم ‘ حضرت نوح ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہم السلام) کے قصہ میں ہے اور سلام پر لوٹ رہا ہے یہاں بھی سلام الیاس کی طرف لوٹے گا کلام کو مقصود سے نکالنے کا کوئی معنی نہیں ‘ اگر یہ قول کیا بھی جائے تو یہ کسی اور آیت میں بھی کہا جاسکتا ہے جب کہ اس قول میں ضعف موجود ہے کیونکہ یس ‘ حم ‘ اور الم وغیرہ ان سب میں ایک قول ہے وہ یہ کہ یہ حروف مقطعات ہیں یا تو یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء سے ماخوذ ہیں جس طرح حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے یا قرآن کی صفات سے ماخوذ ہیں یا اس طرح جس طرح امام شبعی نے کہا ہے : اللہ کی ہر کتاب میں راز ہیں قرآن میں اس کا راز سورتوں کے آغا ز ہیں نیز نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لی خمسۃ سماء (1) میرے پانچ نام ہیں ان میں یس کا ذکر نہیں نیز یس میں تلاوت سکون اور وقف کی صورت میں آتی ہے اگر یہ نبی کریم ﷺ کا نام ہوتا تو یہ مضموم ہوتا یسین جس طرح فرمایا : یوسف ایھا الصدیق) یوسف (46: پس جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس کی وجہ سے یہ قول باطل ہوگیا تو الیاسین وہ مذکورہ الیاس ہے اس کی وجہ سے یہ قول باطل ہوگیا تو الیاسین وہ مذکورہ الیاس ہے اور اسی پر سلام ہے۔ ابو عمر و بن العلاء نے کہا : یہ ادریس اور ادراسین کی طرح ہے۔ حضرت ابن مسعود کے مضحف میں یہ اس طرح ہے وان ادریس لمن المرسلین پھر فرمایا : سلام علی ادراسین۔
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں (کو سب کو) عذاب سے نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم دن کو بھی (ان کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

133 ۔ 138:۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ پہلے گزر چکا ہے یعنی بعد والوں کو عذاب کے ساتھ ہلاک کردیا و انکم میں عربوں کو خطا ہے یعنی تم صبح کے وقت ان کے مکانات اور آثار کے پاس سے گزرتے رہتے ہو اور رات کے وقت بھی تم گزرتے رہتے ہو کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے اور تدبر نہیں کرتے۔
Ayahs 37:139–144

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

اس وقت قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اٹھائی

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے

139 ۔ 144:۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 حضرت یونس ہی ذوالنون ہیں جو متی کے بیٹے ہیں یہ اسی بوڑھی کی بیٹے ہیں جس کے پاس حضرت الیاس (علیہ السلام) ٹھہرے تھے چھ ماہ تک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی والدہ خود ہی ان کی خدمت کرتی اور موانست کیا کرتی تھی اور جس پر بھی قادر ہوتی حضرت الیاس کی تکریم کی خاطر ذخیرہ نہ کرتی۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) گھر والوں کی تنگی سے اکتا گئے اور پہاروں کی طرف چل دیئے ‘ اس عورت کا بیٹا حضرت یونس فوت گیا وہ عورت حضرت الیاس کے پیچھے نکل کھڑی ہوئی وہ ان کے پیچھے پہاڑوں میں سرگرداں رہی یہاں تک کہ انہیں تلاش کرلیا اس عورت نے سوال کیا کہ وہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس کے بیٹے کو زندہ کر دے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) بچے کی وفات کے چودہ ماہ بعد آئے وضو کیا ‘ نماز پڑھی اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے یونس بن متی کو حضرت الاتس (علیہ السلام) کی دعا سے زندہ کردیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو اہل نینوی کی جانب بھیجا جو موصل کی علاقہ میں بستی تھی وہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے پھر وہ توبہ تائب ہوئے جیسا کہ اس کی وضاحت سورة یونس میں اور سورة انبیاء میں حضرت یونس (علیہ السلام) کے غصہ کی حالت میں وہاں سے نکل جانے کے بارے میں گزر چکی ہے۔ اس مسئلہ میں اخلاف ہے کہ حضرت علیہ السما کی رسالت اس سے قبل تھیجب مچھلی نے انہیں نگلا تھا یا اس کے بعد ہوئی تھی۔ طبری نے شہر بن حوشب سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) حضرت یونس (علیہ السلام) کے پاس آئے فرمایا : نینوی کے پاس جائو انہیں خبردار کرو کہ عذاب ان کے پاس آنا چاہتا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے کہا : میں سواری تلاش کرلوں حضرت جبریل امین نے کہا : معاملہ اس سے بھی زیادہ جلدی والا ہے۔ کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) غصہ میں آگئے کشتی کی طرف چلے اور اس میں سوار ہوگئے جب کشتی پر سوار ہوئے تو کشتی نہ آگئے جاتی تھی اور نہ پیچھے ہوتی تھی کہا : انہوں نے قرعہ اندازی کی تو قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا مچھلی زنب ہلاتی ہوئی آئی تو مچھلی کو ندا کی گئی : اے مچھلی ! ہم نے یونس کو تیرا رزق نہیں بنایا ہم نے تجھے اس کے لئے پناہ گاہ اور مسجد بنایا ہے مچھلی نے انہیں وہاں سے لقمہ بنایا یہاں تک کہ وہ ابلہ سے گزری پھر وہ انہیں لے کر چلی یہاں تک کہ دجلہ کے پاس سے گزری پھر وہ چلی یہاں تک کہ انہیں نینوی میں جا پھینکا۔ حرث ‘ حسن سے وہ ابو ہلال سے وہ شہر بن حوشب سے وہ حضرت اب عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی رسالت اس وقت شروع ہوگئی تھی جب مچھلی نے انہیں باہر پھینکا تھا۔ ان لوگوں نے یہ استدلال کیا کہ رسول ‘ اللہ تعالیٰ سے ناراض ہو کر نہیں نکلتا جو کچھ ہوا وہ نبوت سے پہلے تھا۔ دوسرے علماء نے یہ کہا ہے : یہ واقعہ اس کے بعد ہوا کہ آپ نے لوگوں کو دعوت دی جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تھا آپ نے لوگوں کو ان کی طرف دعوت دی تھی جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا انہیں رسالت کی تبلیغ کی تھی لیکن ان سے وعدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کا وہ عذاب جس سے انہیں وہ ڈرا رہے ہیں ایک مخصوص وقت میں ان پر نازل ہوگا۔ جب لوگ توبہ تائب نہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف نہ لوٹے تو حضرت یونس (علیہ السلام) ان سے علیحدہ ہوگئے جب قوم پر عذاب سایہ فگن ہوگیا اور ان پر چھا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ تائب ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سے عذاب کو اٹھا لیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا تھا اس عذاب کے اٹھ جانے اور ان کی سلامتی کی خبر پہنچی تو اس وجہ سے وہ خضبناک ہوگئے کہا : میں نے ان سے وعدہ کیا تھا تو اس نے مجھے جھٹلا دیا اور زیادتی کی ‘ وہ اپنے رب سے سخت ناراض ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور ان کی طرف لو۔ ٹنے کو ناپسند کیا جب کہ لوگوں نے ان کے جھوٹے ہونے کا تجربہ کرلیا تھا۔ سعید بن جبیر نے حضرت اب عباس ؓ سے روایت کی ہے یہ بحث سورة الانبیاء میں گزر چکی ہے اور وہی صحیح ہے جس طرح اس کا ذکر : و ارسلنہ الی مائۃ الف اویزدون۔ میں آئے گا لفظ یونس منصرف نہیں کیونکہ یہ عجمی نام ہے اگر یہ عربی ہوتا تو منصرف ہوتا اگرچہ اس کے آغاز میں یاء ہے کیونکہ افعال میں یفعل کا وزن نہیں جس طرح تو کسی کا نام یعفر رکھے تو تو اسے منصرف پڑھے گا۔ مسئلہ نمبر -2 مبرد نے کہا : ابق کا اصل معنی دور ہونا ہے اسی سے غلام آبق ہے دوسرے علماء نے یہ کہا ہے : حضرت یونس (علیہ السلام) بھاگ کھڑے ہوئے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر لوگوں سے چھپتے ہوئے نکل گئے تھے۔ مشعون کا معنی ہے بھری ہوئی فلک مذکر و مونث دونوں طرح استعامال ہو سکتا ہے یہ واحد جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 37:145–148

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو جبکہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ان پر کدو کا درخت اگایا

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے

145 ۔ 148:۔ ترمذی حکیم نے کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام آبق رکھا کیونکہ وہ عبودیت سے بھاگ تھے کیونکہ عبودیت کا مفہوم ہے خواہش نفس کو چھوڑنا اور اللہ تعالیٰ کے امور کے موقع پر اپنی جان قربان کردینا۔ جب فرشتے کی جانب سے سختی ہوئی تو انہوں نے اپنے نفس کی قربانی نہ دی جس کی وضاحت سورة الانبیاء میں پہلے گزر چکی ہے اور اپنی خواہش نفس کو ترجیح دی تو ان پر آبق کا نام لازم آگیا۔ فرشتہ کی جانب سے سختی اللہ تعالیٰ کے امر میں تھی اپنے ذاتی امر میں نہ تھی اللہ تعالیٰ کے حق کے متعلق تھی اپنے حق کے متعلق نہ تھی حضرت یونس (علیہ السلام) نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو درست بات تھی اس کو نہ پایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے آبق اور ملیم کا نام دیا۔ مسئلہ نمبر -3 مبرد نے فساھم کا معنی کیا ہے اس نے قرعہ اندازی کی اس کی اصل وہ تیر ہیں جو گھمائے جاتے ہیں تو وہ مغلوبین میں سے ہوگیا (1) فراء نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے ردحضت حجتہ وا دحفھا اللہ۔ اس کا اصل معنی پھسلنا ہے ‘ شاعر نے کہا : قتلنا المدحصنین بکل فج فقد فرت بقتلھم العیون (2) ہم نے ہر ایک راستہ پر مغلوبین کو قتل کیا ان کے قتل سے آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ مسئلہ نمبر -4 مچھلی نے اسے نگل لیا جب کہ اس نے ایسا کام کیا جس پر ملامت کی جاتی ہے : ملوم اسے کہتے ہیں جس کی ملامت کی جائے وہ اس کا مستحق ہو یا نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ملیم کا معنی جس میں عیب ہو جب کوئی آدمی عمل کرے اور اس عمل کی وجہ سے عیب دار ہوجائے تو اس وقت یہ کہا جاتا ہے : لام الرجل۔ فلولا انہ کسائی نے کہا : یہاں ان کے ہمزہ کو لام کے داخل ہونے کی وجہ سے کسرہ نہیں دیا کیونکہ یہ اس کے لئے نہیں۔ نحاس نے کہا : بات اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہی لام یہ تو لولا کے جواب میں ہے مسبحین کا معنی ہے نماز پڑھنے والے۔ اگر وہ نماز پڑھنے والوں میں سے نہ ہوتا تو بطور سزا قیامت تک اس کے پیٹ میں رہتا یعنی مچھلی کا پیٹ قیامت تک اس کی قبر ہوتا۔ اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ وہ کتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے ؟ سدی ‘ قلبی اور مقاتل بن سلیمان نے کہا : چالیس دن۔ صحاک نے کہا : بیس دن۔ عطاء نے کہا : سات دن (3) مقاتل بن حبان نے کہا : تین دن (4) ایک قول کیا گیا : ایک ساعت۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر -5 طبری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” جب اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس کو محبوس کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو وحی کی کہ اسے پکڑ لے اس کے گوشت کو خراش نہ لگانا اور اس کی ہڈی کی نہ توڑنا۔ مچھلی نے اسے پکڑ لیا پھر سمندر میں اپنے مسکن میں جا بیٹھی جب وہ سمندر کے اندر گہرے حصہ میں پہنچی تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے کچھ آواز محسوس کی تو اپنے دل میں خیال کیا یہ کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی جب کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ یہ سمندر کے جانوروں کی تسبیح ہے۔ تو حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی فرشتوں نے اس کی تسبیح سنی انہوں نے عرض کی : اے ہمارے رب ! ہم اجنبیعلاقہ سے ایک کمزور سے تسبیح سن رہے ہیں فرمایا : وہ میرا بندہ یونس ہے ‘ اس نے میری نافرمانی کی تو میں نے اسے سمندر میں مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا ہے۔ انہوں نے عرض کی : تیرا وہ نیک بندہ جس کے ہر روز تیری بارگاہ میں نیک اعمال بلند ہوتے تھے ؟ فرمایا : ہاں ‘ فرشتوں نے اس کے حق میں سفارش کی ‘ مچھلی کو حکم دے دیا گیا کہ اسے ساحل پر اس بچے کی طرح پھینک دے جس کا نفس ہو جس کا گوشت اور ہڈیاں ایک ہوچکی ہوں۔ ایک روایت یہ بیان کی گئی ہے کہ مچھلی کشتی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی اس نے اپنا سر اوپر کو اٹھایا ہوا تھا جس نے حضرت یونس (علیہ السلام) سانس لے رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بھی کر رہے تھے وہ مچھلی ان سے جدا نہ ہوئی یہاں تک کہ وہ خشک تک جا پہنچے مچھلی نے آپ کو صحیح و سال باہر پھینک دیا ان کی کسی چیز میں کوئی تبدیل واقع نہ ہوئی تھی تو سب لوگ مسلمان ہوگئے ‘ زمحشری نے اسے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : مجھے کئی ساتھیوں نے امام الحر میں ابو المعالی عبدالملک بن عبداللہ بن یوسف جو ینی سے یہ واقعہ سنایا کہ ان سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کس سمت میں ہے ؟ فرمایا : نہیں وہ اس سے بالا ہے۔ پوچھا گیا : اس پر دلیل کیا ہے ؟ فرمایا : اس پر دلیل نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : لا تفضلونی علی یونس بن متی تم مجھے حضرت یونس متی پر فضیلت نہ دو ۔ ان سے پوچھا گیا : اس حدیث میں دلیل کی کیا صورت ہے ؟ فرمایا : میں وہ نہیں بتائوں گا یہاں تک کہ میرا یہ مہمان ہزار دینار لے لے جس کے ساتھ اپنا قرضہ ادا کرلے۔ وہ آدمی اٹھے انہوں نے کہا : یہ ہم پر لازم ہے ‘ آپ نے فرمایا : وہ دو کا پیچھا نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اس پر شاق گزرے گا ان میں سے ایک نے کہا : یہ میرے ذمہ ہے۔ آپ نے فرمایا : حضرت یونس بن متی نے اپنے آپ کو سمندر میں پھنکا مچھلی نے انہیں لقمہ بنا لیا وہ سمندر کی گہرائی میں تین تاریکیوں میں جا پہنچے اور یوں ندا کی : لا الہ الا انت سبہنک انی کنت من الظلمین۔ ) الانبیائ ( جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبری دی۔ حضرت محمد ﷺ جب سبز رفرف پر بیٹھے اور اس کیذریعے بلندیوں پر چرھے یہاں تک کہ ایسی جگہ پہنچے جہاں سے کلموں کے چلنے کی آواز سن رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سے مناجات کی جو مناجات کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی جو وحی کی اس وقت سرور دو عالم ﷺ اللہ تعالیٰ سے حضرت یونس (علیہ السلام) سے زیادہ قریب نہ تھے جب کہ وہ سمندر کی تاریکی میں مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ مسئلہ نمبر -6 طبری نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) جب کشتی میں سوار ہوئے تو اس کے سواروں کو سخت ہوا نے آ لیا انہوں نے کہا : یہ تم میں سے کسی کے گناہوں کی وجہ سے ہے حضرت یونس (علیہ السلام) نے کہا جب کہ وہ جان چکے تھے کہ غلطی انہی کی ہے : یہ میری غلطی ہے مجھے سمندر میں پھینک دو ‘ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ وہ قرعہ اندازی کرلیں انہوں نے نے قرعی اندازی کی تو قرعہ ان کے نام نکلا۔ حضرت یونس نے کہا : میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ مصیبت میرے گناہ کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ وہ دوبارہ قرعہ ڈالیں تو قرعہ انہیں کے نام نکلا انہوں نے پھر بھی انہیں سمندر میں پھیکنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ وہ تیسری بار قرعہ ڈالیں تو پھر بھی قرعہ انہیں کے نام نکلا جب حضرت یونس (علیہ السلام) نے دیکھا تو اپنے آپ کو سمندر میں پھینک دیا۔ یہ رات کا وقت تھا تو ایک مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو نقاب اوڑھ لیا اور سو گئے کشتی والے چلے ابھی تھوڑ دور بھی نہ گئے کہ ہوا نے انہیں آ لیا قریب تھا کہ کشتی غرق ہوجاتی کشتی والے اکٹھے ہوگئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی انہوں نے کہا : اے سوئے آدمی کو جکائیے وہ بھی ہمارے ساتھ دعا مانگے حضرت یونس نے ان کے ساتھ دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ہوا کو دور کردیا حضرت یونس (علیہ السلام) پھر اپنی جگہ کی طرف چلے گئے اور سو گئے پھر ہوا آگئی قریب تھا کہ کشتی غرق ہوجاتی انہوں نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو بیدار کیا اور سب نے دعا کی تو ہوا ختم ہوگئی کہا : وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ ایک مچھلی جس کا سر بہت بڑا تھا بلند ہوئی اس نے ارادہ کیا کہ کشتی کو ہی نگل جائے تو حضرت یونس (علیہ السلام) نے لوگوں کو کہا : اے میری قوم ! یہ مری وجہ سے ہے اگر تم مجھے سمندر میں پھینک دو تو تم چلتے رہو گے اور تم سے ہوا اور خوف دور ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا : ہم تمہیں سمندر میں نہیں پھینکیں گے یہاں تک کہ ہم قرعہ اندازی کرلیں۔ جس کے نام قرعہ نکلے گا ہم اسے سمندر میں پھینک دیں گے لوگوں نے قرعہ اندازی کی تو قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم ! مجھے سمندر میں پھینک دو میری وجہ سے ہی تمہیں یہ مصیبت آئی ہے۔ انہوں نے کہا : ہم ایسا نہیں کریں گے یہاں تک کہ ہم ایک فعہ پھر قرعہ ڈال لیں انہوں نے ایسا ہی کیا تو قرغہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام ہی نکلا حضرت یونس (علیہ السلام) نے کہا : اے میری قوم ! مجھے سمندر میں پھینک دو میری وجہ سے ہی تمہیں مصیبت پہنچی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : فسا ھم فکان من الدحضین۔ کا یہی معنی ہے یعنی قرعہ ان کے نام پڑا وہ اسے لے کر کشتی کے سامنے والے حصہ کی طرف گئے تاکہ اسے پھینک دیں کہ اچانک ایک مچھلی اپنا منہ کھولے ہوئے تھی پھر وہ اسے کشتی کی ایک طرف لے گئے تو وہاں ایک مچھلی تھی پھر اسے لر کر دوسری جانب گئے تو وہاں بھی ایک مچھلی اپنا منہ کھولے ہوئے تھی جب یہ دیکھا تو اپنے آپ کو سمندر میں پھینک دیا تو مچھلی نے انہیں نگل لیا تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی کی : میں نے اسے تیرا رزق نہیں بنایا بلکہ میں نے تیرے پیٹ کو اس اس کے برتن بنا دیا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن تک رہے تو انہوں نے تاریکیوں میں یہ دعا کی : لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظمین۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے (1) پھر بھی آئے گی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہم سے قبل کی شریعتوں میں قرعہ کا عام معمول تھا ہماری شریعت میں بھی یہ معمول ہے جس طرح سورة آل عمران میں آیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : شرع میں تین مقامات پر قرعہ کا ذکر آیا ہے (1) : (1) نبی کریم ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازوج مطہرات میں قرعہ اندازی کرتے جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ (2) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ ایک آدمی نے چھ غلام آزاد کردیئے ان کے علاوہ اس کا کوئی مال نہ تھا نبی کریم ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی تو دو کو آزاد کردیا اور چار کو باقی ر ہنے دیا۔ (3) دو آدمیوں نے آپ کی بارگاہ میں میراث کا جھگڑا کیا جس کے آثار مٹ چکے تھے فرمایا : ” دونوں جائو حق کو تلاش کرو قرعہ ڈالو اور تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کے لئے اس کو حلال کر دے “۔ یہ تین مواقع ہیں وہ نکاح میں باری ‘ آزادی اور تقسیم ان میں قرعہ کا اجراء ‘ اشکال کو دور کرنے اور خواہش کی مرض کو ختم کرنے کے لئے ہے۔ جنگ کے موقع پر بیویوں میں قرعہ اندازی نکالنے کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے (2) اس بارے میں دو قول ہیں (1) صحیح یہ ہے کہ قرعہ اندازی کی جائے ‘ فقہاء نے بھی یہی کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام سفر پر لے جانا ممکن نہیں ان میں سے ایک اکا انتخاب ترجیح بنتی ہے اس لئے قرعہ اندازی کی صورت ہی رہ جاتی ہے ‘ چھ غلاموں میں بھی یہی صورتحال تھی کیونکہ ان میں سے دو ‘ ایک تہائی بنتا ہے یہ وہ مقدار ہے جس کی مرض موت میں آزادی جائز ہے محض خواہش نفس اور من پسند شرعا جائز نہیں تو قرعہ کے بغیر کوئی صورت باقی نہ رہی اسی طرح وہ جھگڑا جو وراثت کے مال کی ذاتوں میں ہوا تھا تو قرعہ کے بغیر حق کو کوئی امتیاز عطا نہیں کرتا تھا پس جب مشکل پڑجائے تو قرعہ ہی مستحق کی تعین میں اصل بن گیا۔ کہا : میرے نزدیک حق یہ ہے کہ ہر مشکل میں یہ جاری ہوگا پس یہی اس کو زیادہ واضح کرنے والا ‘ حکم میں قوی ‘ اشکال کی صورت کو دور کرنے میں نمایاں ہوگا اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں : بیویوں میں طلاق میں قرعہ ‘ لونڈی میں آزادی میں قرعہ کی طرح ہے۔ مسئلہ نمبر -7 سمندر میں کسی آدمی کو پھینکنے کے لئے قرعہ اندازی کرنا جائز نہیں یہ حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کے زمانہ میں دلیل کے ثبوت اور ایمان کی زیادتی کی وجہ سے تھا جو آدمی گناہگار ہوا سے قتل کرنا اور اسے آگ یا سمندر میں پھینک دینا جائز نہیں بلکہ اس کے جرم کے مطابق حد یا تعزیز جاری ہوگی۔ بعض لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ سمندر جب قوم کو خوفزدہ کر دے وہ کشتی کو ہلکا کرنے پر مجبور ہوجائیں تو قرعہ ڈالا جائے گا اور کچھ کو سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ قول فاسد ہے کیونکہ بعض افراد کو سمندر میں پھینک دینے سے بوجھ ہلکا نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ طریقہ اموال کو پھینکنے میں اپنایا جائے گا۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ اللہ تعالیٰ یہ خبر دی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) تسبیح کرنے والوں میں سے تھے اور ان کی تسبیح ہی ان کے نجات کا باعث بنی تھی اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عمل صالح عمل کرنے والے کو اوپر اٹھاتا ہے جب جو لڑکھڑا کر گر پڑے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا من المسبحین کا معنی ہے نمازیوں میں سے قتادہ نے کہا : وہ اللہ تعالیٰ کی نماز اس لئے پڑھا کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے محفوظ رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے نجات عطا فرمائی۔ ربیع بن انس نے کہا : اگر انہوں نے اس سے قبل عمل صالح نہ کیا ہوتا تو وہ مچھلی کے پیٹ کے قیامت تک رہتے کہا : حکمت میں لکھا ہوا ہے جب کوئی بندہ پھسلتا ہے تو عمل صالح اسے اٹھا دیتا ہے۔ مقاتل نے کہا : من المسبحین سے مراد ہے وہ معصیت سے پہلے نمازیوں اور اطاعت شعاروں میں سے تھے۔ وہب نے کہا : معنی ہے وہ عبادت گذاروں میں سے تھے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : مچھلی کے پیٹ میں ان کی کوئی نماز نہ تھی بلکہ انہوں نے آسودگی کے دور میں اچھا عمل کیا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے حالت آزمائش میں اس کا ذکر کیا ‘ بیشک عمل صالح عامل کو اٹھاتا ہے جب وہ لغزش کھاتا ہے تو یہ عمل اس کا سہارا بن جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : من استطاع منکم ان تکون لہ خبیۃ من عمل صالح فلفعل (1) جو آدمی یہ طاقت رکھتا ہو کہ اس کے عمل کے لئے عمل صالح میں سے کوئی پوشید عمل ہو تو وہ ایسا کرے یعنی بندے کو یہ کوشش کرنی چاہیے اور عمل صالح میں سے کسی عمل پر حریص ہونا چاہیے جس میں وہ اپنے رب کے درمیان خالص ہو اپنی ضرورت کے دن کے لئے وہ اسے ذخیرہ کرے اپنی کدوکاوش کے ساتھ اسے چھپائے مخلوق سے اسے چھپائے اس کا نفع اسے پہنچے گا جب کہ وہ اس کا زیادہ ضرورت مند ہوگا۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عمر ﷺ سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی اثنا میں کہ تین آدمی چل رہے تھے ایک روایت میں ہے کہ تم سے قبل کے زمانہ میں انہیں بارش نے آ لیا انہوں نے ایک پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لینی چاہی غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان گر پڑی جس نے ان پر غار کا منہ بند کردیا ان میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا : ان اعمال پر غور و فکر کرو جو تم نے اچھے اعمال کئے ہیں ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ممکن ہے اللہ تعالیٰ تم سے اس معصیت کو دور کر دے “ (2) یہ حدیث مشہور ہے کہ اس کی شہرت نے تمام حدیث کو بیان کرنے سے ہمیں غنی کردیا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہے : حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں کہا : لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ ) الانبیائ ( مچھلی نے انہیں پھینک دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من المبحین سے مراد مچھلی کے پیٹ میں سے نماز پڑھنے والے تھے۔ میں کہتا ہوں : زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ یہ زبان سے تسبیح تھی جو دل کے موافق تھی اسی پر حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کا زکر طبی نے کیا۔ کہا : حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی تو فرشتوں نے اس کی تسبیح کو سنا فرشتوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم اجنبی علاقہ سے ایک کمزور سی تسبیح کی اواز سنتے ہیں۔ اس قول کی بناء پر کان زائدہ ہے کلام اس طرح ہوگی فلو لا انہ من المسبحین۔ ابو دائود کی کتاب میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دعاء ذی النون فی بطن الحوت لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ جب مسلمان نے کسی بھی مصیبت پر یہ دعا کی اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ یہ بحث سورة انبیاء میں گذر چکی ہے حضرت یونس (علیہ السلام) اس سے پہلے بھی نمازی اور تسبیح کرنے والے تھے مچھلی کے پیٹ میں بھی معاملہ اسی طرح ہے حدیث میں ہے :” مچھلی کو ندا کی گئی : ہم نے یونس کو تیرے لئے رزق نہیں بنایا ہم نے تجھے اس کی جائے پناہ اور مسجد بنائی ہے “۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ مچھلی نے انہیں موصل کی ایک دیہات کے ایک ساحل پر پھینک دیا۔ ابن قسیط نے حضرت ابوہیرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے ” حضرت یونس (علیہ السلام) کو خالی جگہ پھینک دیا اللہ تعالیٰ نے ان پر کدو کی بیل اگا دی ہم نے پوچھا : اے ابوہریرہ یقطینہ کیا ہے ؟ کدو کا درخت ‘ اللہ تعالیٰ نے ایک جنگلی بکری ان کے لئے تیار کردی جو زمین کا گھاس پھوس کھاتی وہ ان پر اپنی ٹانگیں پھیلا دیتی اور ہر صبح اور شام انہیں دودھ پلایا کرتی یہاں تک وہ پروان چڑھے۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : مچھلی انہیں لے کر نکلی یہاں تک کہ انہیں سمندر کے ساحل پر پھینکا اللہ تعالیٰ نے اس پر کدو کی بیل اگا دی۔ اس کے بارے میں روایت نقل کی گئی ہے شجرۃ القرع کے الفاظ ہیں جو اس پر دودھ ٹپکاتا یہاں تک کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوت لوٹ آئی پھر ایک روز وہ بیل کی طرف لوٹے تو اسے خشک پایا وہ غمگین ہوگئے اور اس پر روئے تو حضرت یونس (علیہ السلام) کو عتاب کیا گیا ان سے کہا گیا : تم ایک بیل پر غمگین ہوئے اور اس پر روئے اور نبی اسرائیل کے لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت پر غمگین نہ ہوئے جو میرے خلیل حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے جو دشموں کے ہاتھوں قید ہوئے اور تو نے سب کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ انجیر کا درخت تھا۔ ایک قول کیا گیا ہے کہ وہ کیلے کا درخت تھا جو اپنے پتوں سے اسے ڈھانپتا آپ اس کی شاغوں سے سایہ حاصل کرتے اور اس کے پھل سے افطار کرتے ‘ اکثر علماء کی رائے ہے وہ کدو کی بیل تھی جس طرح اس کا ذکر آئے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے چن لیا اور صالحین میں سے بنا دیا پھر اسے حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی کا قصد کیا یہاں تک کہ ایک چروا ہے سے ملے حضرت یونس (علیہ السلام) نے اس سے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے حال کے بارے میں پوچھا ‘ اس چرواہے نے انہیں بتایا کہ وہ بہت بہتر حالت میں ہیں اور وہ اس امید میں ہیں کہ ان کا رسول ان کی طرف لوٹ آئیگا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اس چروا ہے سے فرمایا انہیں بتا کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملا تھا اس چرواہے نے کہا : میں گواہی کے بغیر اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے اس کے ریوڑ میں سے ایک بکری کو منتخب کیا فرمایا : یہ تیرے حق میں گواہی دے گی تو واقعی حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملا تھا اس چرواہے نا کہا اور کیا ؟ کہا : زمین کا قطعہ تمہارے حق میں گواہی دے گا کہ تو نے حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملاقات کی اس نے کہا اور کیا ؟ فرمایا : یہ درخت تیرے حق میں گواہی دے گا کہ تو حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملا تھا۔ وہ چرواہا اپنی قوم کی طرف آیا اور انہیں بتایا کہ وہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملا ہے تو قوم کے افراد نے اسے جھٹلایا اور اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا اس نے کہا : مجھ پر جلدی نہ کرو یہاں تک کہ میں صبح کروں جب اس نے صبح کی تو وہ انہیں اس قطعہ زمین پر لے آیا جہاں اسے حضرت یونس (علیہ السلام) ملے تھے اس نے قطعہ زمین سے بولنے کا مطالبہ کیا تو اس قطعہ زمین نے خبر دی کہ وہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملا ہے اس نے بکری اور درخت سے بولنے کا مطالبہ کیا تو دونوں نے اسے بتایا کہ وہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے ملا ہے پھر اس کے بعد حرت یونس (علیہ السلام) ان کے پاس آگئے یہ اور اس سے ماقبل خبر طبری نے بیان کی ہے فنبذنہ ہم نے اسے پھینک دیا۔ اور ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے اسے صحراء میں چھوڑ دیا ‘ یہ ابن اعرابی کا قول ہے۔ اخفش نے کہا : کھلی جگہ۔ ابو عبیدہ نے کھلی زمین۔ فراء نے کہا : خالی جگہ۔ ابوعبیدہ نے کہا : عراء سے مراد روئے زمین ہے۔ خزاعہ کے ایک آدمی نے یہ شعر پڑھا : و رفعت رجلا لا اخاف عثارھا و نبذت بالبلد العراء ثیابی (1) میں نے قدم اٹھا جس کے لغزش کا مجھے خوف نہیں اور میں نے سطح زمین پر اپنے کپڑے پھینک دیئے۔ اخفش نے و ہو سقیم کے بارے میں حکایت بیان کی ہے سقیم کی جمع سقی ‘ سقامی اور سقام ہے اس سورت میں فنبذنہ بالعراء کہا اور سورة القلم میں لولا ان تدرکہ نعمۃ من ربہ لنبذ بالعراء و ھو مذموم۔ آیت فرمایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں خبردی کہ انہیں کھلی جگہ پھینکا گیا جب کہ وہ مذموم نہ تھے اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت نہ ہوتی تو وہ مذم ہوتے ‘ یہ نحاس کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : و اثبتنا علیہ شجرۃ من یقطین۔ اس میں علیہ ‘ عندہ کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم علی ذنب) الشعراء (14: اس میں بھی علی عندی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : علیہ ‘ لہ کے معنی میں یقطین سے مراد کدو کے بیل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس کے علاوہ ہے ابن اعرابی نے اس کا ذکر کیا ہے حدیث میں یہ بھی ہے ” کدو اور تربوز جنت کے پھل ہیں “ ہم نے اس کا ذکر کتاب التذکرہ میں کیا ہے۔ مبرد نے کہا : ہر وہ پودا جس کا تنانہ ہو جن کیپتے زمین پر بچھ جائیں اسے یقطینہ کہتے ہیں جسطرح کرو ‘ تربوز ‘ خربوزہ اور تنبہ اگر اس کا تنا ہو جو اسے اٹھائے ہوئے ہو تو اسے شجرہ کہتے ہیں ‘ اگر بچی ہوئی جڑوں پر کھڑا ہو تو اسے نجمہ کہتے ہیں جس کی جمع نجم آتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : والنجموالشجر یسجدن۔ اس کی مثل حضرت ابن عباس ‘ حضرت حسن اور مقاتل سے مروی ہے انہوں نے کہا : ہر جڑی بوٹی جو لمبی ہوجائے اور زمین پر بچھ جائے صحیح وسالم باقی نہ رہے اور اس کا تنانہ ہو جس طرح ککڑی ‘ خربوزہ ‘ تربوزہ ‘ کدو ‘ اور تنبہ تو وہ یقطین ہوگی۔ سعید بن جبیر نے کہا : ہر وہ شے جو اگے پھر اسی سال مر جائے اس تعریف کی بنا پر کیلا بھی اس میں داخل ہے۔ میں کہتا ہوں : یقطین اسے کہتے ہیں جس کا تنا ہو۔ جوہری نے کہا : یقطین اسے کہتے ہیں جس کا تنا نہ ہو جس طرح کدو کی بیل۔ زجاج نے کہا : یقطین ‘ قطن سے مشتق ہے یہ قطن بالمکان سے مشتق ہے جب وہ اسی جگہ مقیم ہو یہ یفعیل کا وزن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عجمی نام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عجمی نام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یقطین کا خصوصا ذکر ہوا ہے کیونکہ اس پر مکھی نہیں بیٹھتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہاں کوئی یقطین نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اسے اگا دیا آیت میں ایسی چیز کا ذکر ہے جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ چیز بچی ہوتی تھی تاکہ اس کا سایہ ہو۔ ثعلبی نے کہا : وہ اسے سایہ عطا کرتی تھی حضرت یونس (علیہ السلام) نے اس کی سرسبزی کو دیکھا تو اس کی سرسبزی نے اسے خوش کردیا تو وہ خشک ہوگئی تو آپ اس پر غمگین ہونے لگے اسے کہا گیا : اے یونس ! نہ تو تو نے اسے پیدا کیا ‘ نہ تو نے اسے پانی دیا اور نہ ہی تو نے اسے اگایا تو ایک چھوٹے سے درخت پر غمگین ہوتا ہے جب کہ میں نے ایک لاکھ سے زائد افراد پیدا کئے تو مجھ سے یہ ارادہ کرتا تھا کہ میں انہیں لمحہ بھر میں جڑ سے اکھڑر دوں انہوں نے توبہ کی اور میں نے ان کی توبہ قبول کرلی تو میری رحمت کہاں گئی اے یونس ! جبکہ میں تو ارحم الرحمین ہوں۔٭ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ گوشت اور کدوں کے ساتھ بنایا گیا ثرید کھاتے تھے آپ کدو کو پسند پیش کیا گیا جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑ تھے آپ پیالے کے اطراف میں کدو کو تلاش کرتے تھے (1) ۔ حضرت انس ؓ ‘ نے کہا : میں اس دن سے کدو کو پسند کرتا ہوں۔ اس روایت کو ائمہ نے روایت کیا ہے۔ یہ بات پہلے گذر چکی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی رسالت اس کے بعد شروع ہوئی جب مچھلی نے انہیں پھینک دیا تھا اس کی سند حضرت شہر بن حوشب سے مروی ہے۔ نحاس نے کہا : اسناد کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور سب سے صحیح وہ روایت ہے جو علی بن حسین سے مروی ہے کہ حسن بن محمد ‘ عمر و بن عنقزی سے وہ اسرائیل سے وہ اسحاق سے وہ عمرو بن میمون سے وہ عبداللہ بن مسعود سے نبی کریم ﷺ سے وہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے انی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا اور انہیں بتایا کہ عذاب تین دن میں آجائے گا لوگوں نے ہر والدہ اور اس کے بچے کو الگ کردیا وہ بستی سے باہر نکلے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور اس سے مغفرت کے طالب ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو روک دیا حضرت یونس (علیہ السلام) کا انتظار کرتے رہے مگر کوئی چیز نہ دیکھی۔ وہاں کا قانون تھا جو آدمی جھوٹ بولے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو اس قتل کردیا جاتا ہے ٭ تو میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ آپ نے فرمایا : یہ درخت اور یہ قطعہ زمین۔ اس نے عرض کی : ان دونوں کو حکم دیں۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے دونوں سے کہا : جب تم دونوں کے پاس یہ لڑکا آئے تو اس کے حق میں گواہی دینا۔ دونوں نے کہا : ٹھیک ہے۔ وہ لڑکا آپ کی قوم کے پاس آیا اس کے پاس قوت تھی اور اس کے بھائی تھے وہ بادشاہ کے پاس آیا اس نے کہا : میں نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو ملا ہوں وہ تجھے سلام کہتے تھے ‘ بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا لوگوں نے کہا : اس کے پاس گواہ ہیں لوگوں نے اس کے ساتھ بھیج دو وہ درخت اور اس قطعہ زمین کے پاس آیا اور دونوں نے کہا : میں تم دنوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم میرے حق میں گواہی دو کہ واقعی میں حضرت یونس (علیہ السلام) کو ملا ہوں ؟ دنوں نے کہا : ہاں لوگ گھبرائے ہوئے واپس آئے کہہ رہے تھے : درخت اور زمین نے اس کے حق میں گواہی دی ہے۔ لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور جو کچھ دیکھا تھا اس کے بارے میں خبردی۔ حضرت عبداللہ نے کہا : بادشاہ نے لڑکے کا ہاتھ پکرا اور اپنی جگہ بٹھایا اور کہا : تو میری بنسبت اس جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے۔ حضرت عبداللہ نے کہا : اس لڑکے نے چالیس سال تک ان کے امور مملکت چلائے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت یونس علیہالسلام کو مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے مبعوث کیا گیا تھا یہ امر قیاس سے نہیں لیا جاسکتا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم عذاب دیکھنے سے پہلے ایمان لے آئی تھی اور شرمندگی کی اظہار کیا تھا کیونکہ اس میں یہ تذکرہ موجود ہے کہ عذاب تین دن تک ان پر آجائے گا تو انہوں نے ہر والدہ اور بچے کو الگ الگ کردیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کی۔ اس باب میں یہ صحیح ہے ان کے بارے میں حق دوسروں کے حکم جیسا نہیں تھا ارشاد باری۔ ٭ حضرت یونس (علیہ السلام) ناراض ہو کر نکل پڑے آپ ایک کشتی میں لوگوں کے پاس آئے لوگوں نے آپ کو کشتی پر سوار کرلیا اور آپ کو پہچان لیا جب کشتی میں داخل ہوئے تو کشتی رک گئی کشتی دائیں بائیں ڈولتی۔ لوگوں نے کہا : تمہاری کشتی کو کیا ہوگیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہم تو کچھ نہیں جانتے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے کہا : اس میں ایک غلام اپنے رب سے بھاگا ہوا ہے یہ کشتی نہیں چلے گی یہاں تک کہ تم اس کو پھینک دو ۔ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ہم آپ کو نہیں پھینکے گے آپنے فرمایا : تم قرعہ ڈالو جس کے نام قرعہ نکلے تو اس کو چانگ لگا دے لوگوں نے قرعہ ڈالا۔ قرعہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا۔ لوگوں نے آپ کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔ آپ نے فرمایا : تین دفعہ قرعہ ڈالا۔ قرعہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا۔ لوگوں نے آپ کو چھوڑنے سے انکار کردیا۔ آپ نے تین دفعہ قرعہ ڈال لو جس کے نام قرعہ نکلے وہ اس میں چھلانگ لگا دے۔ لوگوں نے قرعہ ڈالا تو تینوں دفعہ قرعہ آپ کے نام نکلا۔ آپ نے چھلانگ لگا دی۔ اللہ تعالیٰ نے اپ کو ایک مچھلی کے سپر کردیا اور مچھلی آپ کو نگل گئی اور زمین کی تہہ تک آپ کو لے گئی حضرت یونس (علیہ السلام) نے سنگر یزوں کی تسبیح سنا ‘ فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ ) الانبیائ (87: کہا 9 رات کی تاریکی ‘ سمندر کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ فرمایا 9 فنبذنہ بالعراء و ھو سقیم۔ کہا آپ اس پرندے کے بچے کی طرح تھے جس کے پر نوچ لئے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے کدو کی ایک بیل کو اگایا تو وہ اگ آئی۔ حضرت یونس اس پر سایہ حاصل کرتے ‘ وہ بیل خشک ہوگئی تو آپ اس پر روئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی کیا تو ایک درخت کے خشک ہونے پر روتا ہے اور ایک لائھ سے زائد فراد پر نہیں روتا جن کو تو نے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نکلے تو وہ ایک چرواہے بچے کے پاس پہنچے۔ پوچھا : اے بچے تو کون ہے ؟ اس نے عرض کی یونس (علیہ السلام) کی قوم سے۔ فرمایا جب تو قوم کے پاس جائے تو انہیں بتانا کہ تو یونس (علیہ السلام) سے ملا ہے۔ بچے نے کہا : اگر آپ یونس ہیں تو آپ کو علم ہے کہ جو آدمی جھوٹ بولتا ہے اسے قتل کردیا جاتا ہے۔ تعالی ہے : فلم یک ینفعھم ایمانھم لما رائو باسمنا) الغافر ( و لیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدھم الموت) النساء (18: بعض علماء نے کہا : انہوں نے عذاب کے آثار دیکھے تو توبہ کرلی یہ کوئی ممنوع نہیں اس بارے میں علماء کی آراء سورة یونس میں گزر چکی ہیں وہاں دیکھ لو۔ اویزیدون سورة بقرہ میں او اشد قسوۃ میں او کے بارے میں مفصل گفتگو ہوچکی ہے۔ فراء نے کہا او ‘ بل کے معنی میں ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ او وائو کے معنی میں ہے ‘ اس معنی میں شاعر کا قول ہے : فلما اشتد امر الحرب فینا تاملنا ریاحا اور زاما (1) اس شعر میں او وائو کے معنی میں ہے ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی اس زبان کی طرح ہے : وما امر الساعۃ الا کلمح البصر او ھوا اقرب) النحل (77: جعفر بن محمد نے الی مائۃ الف او یزیدون۔ ہمزہ کے بغیر صرف وائو پڑھی ہے یزیدون محل رفع میں ہے کیونکہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اصل میں کلام یوں تھی ہم یزیدون۔ نحاس نے کہا : بصریوں کے نزدیک یہ دونوں قول صحیح نہیں انہوں نے او کو بل اور وائو کے معنی میں لینے سے انکار کیا ہے بلکہ بل پہلے کلام سے اضراب اور مابعد کو ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بالا ہے یا ایک چیز سے دوسری چیز کو طرف نکلنے کے لئے ہوتا ہے یہ بھی اس کا موقع محل نہیں وائو کا معنی او کے خلاف ہے اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے معنی میں ہو تو معانی باطل ہوجائیں گے اگر ایسا جائز ہوتا تو و ارسلناہ الی اکثر مائتی الف زیادہ مختصر ہوتا ہے۔ مبرد نے کہا : معنی ہے ہم نے اسے ایسی جماعت کی طرف بھیجا اگر تم انہیں دیکھتے تو تم کہتے یہ ایک لاکھ یا اس سے زائد ہیں کیونکہ لوگوں کو خطاب اس انداز سے کیا جاتا ہے جس سے وہ وقف ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : جاءنی زیدا او عمرو جب کہ تو جانتا ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے کون تیرے پاس آیا ہے مگر تو نے مخاطب پر اس معاملہ کو مبہم کردیا ہے۔ اخفش اور زجاج نے کہا : معنی ہے یا تمہارے اندازے کے مطابق اس سے زائد ہونگے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ تھے۔ حضرت ابی بن کعب نے اسے مرفع نقل کیا ہے (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے وہ تیس ہزار تھے۔ حضرت حسن بصری اور ربیع نے کہا : وہ تیس ہزار سے کچھ زائد تھے۔ مقاتل بن حیان نے کہا : وہ ستر ہزار تھے۔ الی حین سے مراد ان کی عمروں کی انتہاء ہے۔