37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 37:75–82

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

(یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

نیکو کاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا

75 ۔ 82:۔ یہاں ندا سے مراد استغاثہ ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے دعا کی اور یوں عرض کی : رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ ) نوح ( ہم کتنے ہی اچھے دعا قبول کرنے والے تھے۔ کسائی نے کہا : تقدیر کلام یوں ہے فلنعم المجیبون لہ کنا ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کی نجات دی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لا چکے تھے جس طرح پہلے گذر چکا ہے ان کی تعداد اسی تھی۔ الکرب العظیم۔ سے مراد غرق ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی سے باہر نکلے تو جو مرد اور عورتیں آپ کے ساتھ تھے سب فوت ہوگئے صرف آپ کا بیٹا اور اس کی بیویاں تھیں ‘ اللہ تعالیٰ کے فرمان : و جعلنا ذریۃ ھم البقین۔ سے یہی مراد ہے۔ حضرت سعید بن مسیب نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹھے تھے (1) لوگ سب کے سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں سام عربوں ‘ ایرانیوں ‘ رومیوں ‘ اور یہود و نصاری کے جد اعلی ہیں حام کالون کے جلد اعلی ہیں یہ مشرق میں ہیں یا مغرب میں جیسے سندھی ‘ ہندی ‘ نوبی ‘ زنجی ‘ حبشی ‘ قطبی اور بربری وغیرہ۔ یافت صقالبہ ‘ ترکوں ‘ ابر ‘ خرز ‘ یاجوج اور ماجوج کے جد اعلی ہیں۔ ایک قوم نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کے علاوہ بھی نسل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ذریۃ من حملنا مع نوح) بنی اسرائیل (3: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قیل ینوح اھبط بسلم منا و برکت علیک و علی امم ممن معک و امم سنمتعھم ثم یمسھم منا عذاب الیم۔ ) ہود ( اس معنی پر یہ آیت ہے و جعلنا ذریتہ ھم المقین۔ یہ کافروں کی اولاد سے الگ ہیں کیونکہ ان سب کو ہم نے ہلاک کردیا۔ و ترکنا علیہ فی الاخرین۔ یعنی ہر قسم کو اس کے لئے ہم نے اچھی تعریف چھوٹی ہے کیونکہ وہ سب کا محبوب ہے یہاں تک کہ مجوسی بھی انہیں کہتے ہیں وہ افریدون ہے ‘ یہی معنی مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ کسائی نے گمان کیا ہے اس میں دو تقدیریں ہیں : (1) و ترکنا علیہ فی الاخرین۔ یقال سلم علی نوح یعنی ہم نے اس کے لئے اچھی تعریف چھوڑی ہے ‘ یہ ابو العباس مبرد کا قول ہے یعنی ہم نے اس پر یہ کلمہ باقی چھوڑا ہے یعنی لوگ اس پر سلامتی بھیجتے ہیں اور اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔ یہ اس کلام میں سے ہے جس کی حکایت بیان کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ سورة انزلنھا) نور (1: دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہو ہم نے اس پر باقی رکھا اور گفتگو مکمل ہوگئی پھر کلام نئے انداز میں شروع کی اور ہا سلم علی نوح یعنی اس کے لئے سلامتی ہے اس چیز سے کہ اس کے بارے میں بعد کے لوگوں میں براذ کر ہو۔ کسائی نے کہا : حضرت ابن مسعود ؓ ‘ کی قراءت میں سلاما منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہے ترکنا علیہ ثناء حسنا سلاما۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی الاخرین سے مراد حضرت محمد ﷺ کی امت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : انبیاء میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا گیا کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی مبعوث نہیں کیا گیا مگر اسے حضرت نوح علیہ اسلام کی اقتدار کا حکم دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا) شوری (13: ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی الاخرین سے مراد حضرت محمد ﷺ کی امت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : انبیاء میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا گیا کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی مبعوث نہیں کیا گیا مگر اسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اقتدار کا حکم دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا) شوری (13: سعید بن مسیب نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے جو سامل کے وقت یہ کہے : سلم علی نوح فی العلمین۔ اسے بچھو نہیں کاٹے گا۔ ابو عمر نے اسے التمہید میں ذکر کیا ہے۔ موطا میں حضرت خولہ بینت حکیم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو آدمی کسی جگہ پڑائو ڈالے تو وہ یہ پڑھے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق تو اسے کوئی چیز نقصان نہ دے گی یہاں تک کہ وہ وہاں سے کوچ کرے گا “ اس میں یہ یہ روایت بھی ہے کہ بنو اسلم کے ایک آدمی نے کہا : میں رات سو نہ سکا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کس وجہ سے “ عرض کی : مجھے ایک بچھو نے ڈس لیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار ! اگر تو شام کے وقت یہ پڑھ لے تو تجھے کوئی چیز تکلیف نہ دے گی اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق “ (1) ۔ انا کذلک تجری المحسنین۔ یعنی ہم ان پر اچھی جزا باقی رکھیں گے۔ کاف محل نصب میں ہے یعنی جزاء کذلک انہ من عبادنا المٔومنین۔ یہ اس کے احسان کا بیان ہے۔ جنہوں نے کفر کال ان کو ہم نے غرق کردیا۔ الاخرین کی جمع اخر ہے ٭ اس میں اصل تو یہ ہے من الاخرین مگر من کو حذف کردیا کیونکہ معنی معروف ہے۔ آخر کوئی نہیں ہو سکتا مگر اس سے پہلے اس کی جنس میں سے کسی چیز کا ہونا ضروری ہے۔ یہاں تراخی کیلئے نہیں بلکہ یہ نعمتوں کا شمار کرنے کے لئے ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اومسکینا ذامترابۃ۔ ثم کان من الذین امنو) البلد ( پھر میں تمہیں خبر دیتا ہوں گے کہ میں نے دوسروں کو غرق کردیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان قبول نہیں کیا۔
Ayahs 37:83–90

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور ان ہی کے پیرؤں میں ابراہیم تھے

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

بھلا پروردگار عالم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا میں تو بیمار ہوں

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

تب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر دوڑ گئے

83 ۔ 90:۔ حضرت ابن عباس رضی للہ عنہما نے کہا : من شیعتہ سے مراد ہے ان کے دین والے (1) مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے اس کے طریقہ اور سنت پر ہیں (2) ۔ اصمعی نے کہا : شیعہ سے مراد حمایتی و مددگار ہیں (3) ۔ یہ شیاع سے ماخوذ ہے اس سے مراد وہ چھوٹی لکڑیاں ہیں جو بڑی کے ساتھ جلائی جاتی ہیں تاکہ آگ روشن ہو۔ کلبی اور فراء نے کہا : معنی ہے حضرت محمد ﷺ کے اعوان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (4) ۔ شیعتہ میں ضمیر سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ پہلی تعبیر کی صورت میں ضمیر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں یہ تعبیر زیادہ نمایاں ہے کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہی پہلے ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان دو نبی تھے حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابرہیم علیہ اسلام کے درمیان دو ہزار ‘ چھ سو چالیس سال کا عرصہ ہے ‘ یہ زمحشری نے بیان کار ہے۔ قلب سلیم سے مراد شرک اور شک سے پاک دل ہے۔ عوف اعرابی نے کہا میں نے محمد بن سیرین سے پوچھا قلب سلیم کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص ہونا۔ طبری نے غالب قطان سے ‘ عوف اور دوسرے علماء نے محمد بن سیرین سے یہ روایت نقل کی ہے وہ حجاج کو کہتے ہیں ابو محمد مسکین ہیں اگر اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا تو اس کے گناہ کے باعث دے گا اور اگر اسے بخش دے تو اس کے لئے مبارک ہے اگر اس کا دل سلیم ہے تو گناہ تو اسے بھی پہنچے ہیں جو اس سے بہتر تھے۔ عوف نے کہا : میں نے محمد سے پوچھا قلب سلیم کیا ہے ؟ فرمایا : وہ یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے ‘ قیامت قائم ہونے والی ہے قبروں میں جو ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ اٹھانے والا ہے۔ ہشام بن عروہ نے کہا : ہمارے والد ہمیں کہا کرتے تھے اے بیٹو ! تم لعن طعن کرنے والے نہ ہوجانا ‘ کیا تم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہیں دیکھا کہ آپ (علیہ السلام) نے کبھی بھی کسی چیز پر لعن طعن نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذ جاء ربہ ‘ بقلب سلیم۔ ان کا اپنے رب کی طرف انا (1) اس کی دو صورتیں ہیں (1) وہ اللہ تعالیٰ کی توحید ور اس کی دعوت دیتے تھے (2) جب آپ (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا گیا۔ اذ قال لا بیہ میں اب سر مراد آز رہے۔ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گذر چکی ہے ماذا تعبدون۔ میں ما مبتداء ہونے کی حدیثیت سے محل رفع میں ہے اور ذا اس کی خبر ہے یہ بھی جائز ہے کہ ماذا ‘ تعبدون کی وجہ سے منسوب ہو۔ ائفکا یہ مفعل بہ کی حیثیت سے منصوب ہے یہ کلام اس معنی میں ہے اتریدون افکا کیا تم بہتان کا ارادہ کرتے ہو۔ مبرد نے کہا افک یہ بہت برا جھوٹ ہوتا ہے۔ یہ وہ جھوٹ ہوتا ہے جو ثابت نہیں ہوتا اور مضطرب رہتا ہے اس سے ائتفکت بھم الارض ہے الھۃ یہ افک سے بدل ہے۔ تریدون کا معنی ہے تم عبادت کرتے ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال ہو معنی ہو کیا تم بہتان لگاتے ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر معبود ان باطلہ کی عبادت کرتے ہو جب تم اپنے رب سے ملاقات کرو گے تو اس بارے میں کیا گمان ہوگا جب کہ تم نے دوسرے معبودوں کی عبادت کی ہوگی ؟ یہ خبردار کرنا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : ماغرک بربک الکریم۔ ) انفطار ( ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے : کس وجہ سے تم وہم کا شکار ہوئے یہاں تک کہ تم نے دوسروں کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرا دیا ؟ ابن زید نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ان کے بادشاہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف پیغام بھیجا کہ کل ہماری عید ہے ہمارے ساتھ چلیے تو آپ (علیہ السلام) نے ایک طلوع ہونے والے ستارے کی طرف دیکھا فرمایا : یہ ستارہ میری بیماری کے ساتھ طلوع ہوتا ہے (2) علم نجوم ان لوگوں میں استعمال ہوتا تھا اس میں نظر و فکر کی جاتی تھی تو آپ نے انہیں اس طریقہ سے وہم میں مبتلا کردیا اور ان کی اعتقادت کے باعث اپنے لئے عزر پیش کردیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مویشی پالتے اور زراعت کیا کرتے تھے یہ دونوں ذریعہ معاش ایسے تھے جن میں ستاروں کی چال میں نظر و فکر کی ضرورت ہوا کرتی اس علم کو باطل کردیا (3) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس میں علم نبوی کی حیثیت سے غور کیا تھا۔ جویبر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے : علم نجوم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک باقی تھا یہاں تک کہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایسی جگہ داخل ہوتے جس کے بارے میں کسی کو اطلاع نہ تھی (4) ۔ حضرت مریم نے لوگوں سے پوچھا : تم نے اس کی جگہ کا علم کیسے حاصل کیا ؟ تو لوگوں نے بتایا : ستاروں کے ذریعے ‘ اس موقع پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی : اے اللہ ! انہیں علم نجوم کا فہم نصیب نہ کرنا تو کوئی بھی علم نجوم کو نہیں جانتا۔ شرع میں اس کا حکم ممنوع ہوگیا اور لوگوں میں اس کا علم مجہول ہوگیا۔ کلبہ نے کہا : وہ لوگ بصرہ اور کوفہ کے درمیان ایک دیہات میں رہتے جسے ہر مزجرد کہا جاتا وہ ستاروں کی نظر و فکر کیا کرتے تھے ‘ یہ ایک قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے جب لوگوں نے آپکو مجبور کیا کہ آپ ان کے ساتھ چلیں تو آپ نے اپنے معمولات میں غور و فکر کیا اس تعبیر کی بناء پر معنی یہ ہوگا کہ ان کے لئے جو رائے ظاہر ہوئی اس میں غور و فکر کیا تو آپ کو علم ہوا کہ ہر زندہ آدمی بیمار ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا انی سقیم میں بیمار ہوں۔ خلیل اور مبرد نے کہا : جب کہ کوئی آدمی کسی چیز میں غور کرتا ہے تو اس آدمی کے لئے کہا جاتا ہے : نظرفی النجوم ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ گھڑی جس میں انہوں نے آپ کے ساتھ جانے کو کہا تھا یہ وہ گھڑی تھی جس میں آپ کو بخار آنے آ لیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اشیاء میں سے جو چیزیں ظاہر ہوئیں تو ان میں آپ نے غور و فکر کیا تو آپ کو علم ہوگیا کہ ان کا ایک خالق اور مدبر ہے اور ان میں اسی طرح تبدیلی واقع ہوگی جس طرح ان اشیاء میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو کہا انی سقیم۔ ضحاک نے کہا سقیم کا معنی ہے مجھے عنقریب موت کی بیماری لگے گی کیونکہ جس پر موت لکھ دی گئی ہو عموما وہ بیمار ہوتا ہے پھر وہ مر جاتا ہے۔ یہاں تو ریہ اور تعریض کا قائدہ جاری ہو رہا ہے جس طرح آپ نے بادشاہ سے اس وقت کہا تھا : میری بہن ہے جب اس نے سارہ کے بارے میں پوچھا تھا یعنی دینی اخوت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ضحاک نے یہ بھی کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے ایسی مرض اور سقیم کا اشارہ کیا جو متعدی ہوتا ہے جس طرح طاعون۔ وہ لوگ طاعون سے بھاگتے تھے وہ اس عدوی کے خوف سے آپ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ترمذی حکم نے یہ روایت کی ہے کہ مجھے میرے باپ نے روایت کی انہیں عمرو بن حماد نے انہیں اسباط نے انہیں ابو مالک اور ابو صالح نے انہیں حضرت ابن عباس ؓ نے روایت بیان کی ہے۔ سمرہ نے ہمدانی سے وہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابو ابراہیم نے کہا : ہماری ایک عید ہوتی ہے کاش ! تم ہمارے ساتھ نکلتے تو ہمارا طریقہ تمہیں خوش کرتا ‘ جب عید کا دن ہوا تو وہ لوگ عید کے لئے نکلے اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام بھی ان کے ساتھ نکلے ابھی آپ راستہ میں ہی تھے کہ آپ گر گئے اور فرمایا : میں تو بیمار ہوں ‘ میری ٹانک میں تکلیف ہے۔ انہوں نے آپ کی ٹانگ پر قدم رکھے جب کہ آپ نیچے گرے پڑے تھے جب وہ آگے چلے گئے تو پیچھے آپ نے آواز دی : تاللہ لا کی دن اصنامکم) انبیاء (57: ابو عبداللہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ اور ابن جبیر نے جو کچھ کہا تھا یہ اس کے معارض نہیں کیونکہ یہ احتمال موجود ہے کہ ان کے لئے دو امر جمع ہوگئے ہوں۔ میں کہتا ہوں : صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف تین خلاف واقع باتیں ہیں (1) “ سورة الانبیاء میں یہ بحث پہلے گذر چکی ہے جو اس بات پر دال ہے کہ آپ مریض تو نہ تھے آپ نے تعریض سے کام لیا تھا جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انک میت وانھم میتون۔ ) زمر ( اس کا معنی ہے زمانہ آئندہ میں میں مریض ہوں انہوں نے یہ گمان کیا آپ اس وقت بیمار ہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے یہ کلام میں تعریض کی صورت ہے اس معنی میں مشہور مثل ہے کفی بالسلامۃ داء سلامتی بیماری کے طور پر کافی ہے لبید کا بھی ایک شعر ہے : فدعوت ربی بالسلامۃ جاھدا لیصیحنی فاذا السلام ۃ داء (1) میں نے کوشش کرتے ہوئے اپنے رب سے سلامتی کی دعا کی تاکہ وہ مجھے صحت عطا فرمائے کیونکہ سلامتی بھی بیماری ہے۔ ایک آدمی اچانک مرگیا تو لوگوں نے اس پر بھیڑ کرلی لوگوں نے کہا : وہ مرگیا ہے جب کہ وہ صحت مند تھا تو ایک بندہ نے کہا : اصحیع من الموت فی عنقہ۔ کیا وہ آدمی جس کی گردن میں موت ہے وہ صحیح ہوتا ہے۔ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) سچے تھے مگر انبیاء کو اللہ تعالیٰ کا قرب ہوتا ہے اور وہ چنے ہوئے تھے تو اسے بھی گناہ شمار کیا جاتا ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارساد فرمایا : والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین۔ ) شعراء ( اس کی مفصل بحث گذر چکی ہے الحمد اللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی کفر کی وجہ سے آپ کی طبیعت میں اضطراب تھا۔ نجوم یہ نجم کی جمع ہے واحد ہو تو اصل میں یہ مصدر ہے۔
Ayahs 37:91–96

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پھر ابراہیم ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم کھاتے کیوں نہیں ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے نہیں

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا (اور توڑنا) شروع کیا

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیز کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو ؟

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے

91 ۔ 96:۔ سدی نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے بتوں کی طرف گئے (2) ۔ ابو مالک نے کہا : حـضرت ابراہیم علیہ اسلام متوجہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا : وہ ان کی طرف مائل ہوئے۔ کلبی نے کہا : ان کی طرف آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : راغ کا معی ہے پھرے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے راغ یروغ روغا و روغانا جب وہ جھکا۔ طریق رائغ یعنی ایسا راستہ جو ایک طرف جھکا ہوا ہو۔ شاعر نے کہا : و یریک من طرف اللسان حلاوۃ و یروغ عنک کما یروع الثعلب وہ زبان کی ایک جانب سے تیرے لئے مٹھاس دکھاتا ہے اور تم سے یوں مکر کرتا ہے جس طرح لومڑی کرتی ہے۔ الاتاکلون۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں سے یوں خطاب کیا جس طرح عقلاء کو خطاب کیا جاتا ہے کیونکہ بت پرست بتوں کو عقلاء کا درجہ دیا کرتے تھے اسی طرح : مالکم لا تنطقون۔ من عقلاء جیسا خطا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بتوں کے سامنے کھانا پڑا ہوا تھا لوگوں نے وہ کھانا اس کے لئے رکھ چھوڑا تھا تاکہ جب وہ عید سے واپس لوٹیں گے تو وہ اس کھانے کو کھلائیں گے انہوں نے یہ کھانا اس لئے رکھا تاکہ ان کے اعتقاد کے مطابق کھانے میں بتوں کی برکت حاصل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے کھانا بتوں کے خدام کے لئے چھوڑا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استہزاء کے طور پر وہ کھانا بتوں کے قریب کیا اور کہا : الا تاکلون۔ مالکم لا تنطقون۔ ) صافات ( فراغ علیھم ضربا بالیمین۔ دائیں ہاتھ سے ضرب کو خاص کیا کیونکہ اس کی ضرب قوی اور سخت ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں یمین بمعنی عدل ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لو تقول علینا بعض الاقاویل۔ لا خذنا منہ بالیمین۔ ) الحاقہ ( عدل ‘ یمین کے لئے اور جور شمال کے لئے استعمال ہوتا ہے کیا تم دیکھنے نہیں کہ دشمنی اور معاصی کا ذکر کرنا ہو تو شمال کا ذکر کرتے ہیں اور طاعت کا ذکر کرنا ہو تو یمین کا ذکر کرتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا : انکم کنتم تو توننا عن ایمین۔ ) صافات ( یعنی طاعت کے طریقہ پر ‘ یمین عدل کی جگہ ہے اور شمال ‘ ظلم کی جگہ ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے یوم میثاق کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی بیعت کی تھی پس بیعت دائیں ہاتھ سے ہوئیں اسی وجہ سے قیامت کے روز کتاب دائیں ہاتھ میں دی جائے گی کیونکہ اس نے بیعت کا حق ادا کیا بیعت کو توڑنے والے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی جان بچا کر بھاگنے والے کو بائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی کیونکہ وہاں ظلم کا تصور موجود ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : فراغ علیھم ضربا لیمین۔ یعنی اس عد لے کیساتھ جس پر یوم میثاق اللہ تعالیٰ کی بعیت کی تھی پھر اسے یہاں پورا کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کو ریزہ ریزہ کردیا جس طرح جذیدہ ہے اس سے مراد ستو ہے۔ یہاں یمین قوت کے معنی میں نہیں۔ قاقبلوا الیہ یزقون۔ حمزہ نے پڑھا یزفون باقی قراء نے یزفون پڑھا ہے وہ تیزی سے اس کی طرف متوجہ ہے ‘ یہ ابن زین نے کہا۔ قتادہ اور سدی نے کہا : معنی ہے وہ چلتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ; وہ سب ارام سے چل رہے تھے ‘ وہ اس سے بےخوف تھے کہ کسی نے ان کے معبودوں کو کوئی نقصان پہنچایا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ چلنے اور دوڑنے کی درمیانی چال میں چلتے ہیں اسی سے زفیف النعامہ ہے۔ ضحاک نے کہا : معنی ہے وہ دوڑتے ہیں (1) ۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ غصہ سے کا نپ رہے ہوتے ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تکبر کے انداز میں چلتے ہیں (3) یہ مجاہد کا قول ہے ‘ اس معنی میں یہ قول ہے : زفاف العروس الی زوجھا دلہن کے اپنے خاوند کی طرف ناز وادا سے چلنا۔ فرزوق نے کہا : و جاء قریع الشمول قبل افالھا یزف و جاءت خلقہ و ھیی زفف جس نے اسے یزفون پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا وہ دوسرے لوگوں کو تزخیف پر ابھاتے ہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر مفعول مخدوف ہے۔ اصمعی نے کہا : ازففت الابل میں نے اونٹ کو تیز چلنے پر برا نگینحتہ کیا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں یوں کہا جاتا ہے : زف القوم و ازفوا ‘ زففت العروس از فف تھا و ازدف تھا۔ سب کا ایک ہی معنی ہے ‘ مذفۃ سے مراد وہ پالکی ہے جس میں دلہن کو لایا جاتا ہے ‘ یہ خلیل سے مروی ہے۔ نحاس نے کہا : یزفون یا کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ابو حاتم نے گمان کیا ہے : یہ لغت معروف نہیں جب کہ عماء کی ایک جماعت اس معنی سے آگاہ ہے ان میں فراء بھی ہے اس نے اسے ان کے اس قول کے ساتھ تشبیہ دی ہے : اطردت الرجیل میں نے اسے دھتکارا گیا بنایا دیا۔ طردتہ میں نے اسے ایک طرف کردیا اس نے اور دوسرے علماء نے یہ شعر ذکر کیا : تمنی حصین ان یسود جذاعۃ فامسی حصین قد اذل و اقھرا حصین نے آرزو کی کہ وہ بنی جزاعہ کا سردار بنے حصین ذلیل کیا گیا اور مجبور کیا گیا ہوگیا یعنی اسے یوں بنا دیا گیا اسی طرح یزفون ہے انہیں جلدی چلنے والا بنا دیا گیا) یعنی باب افعال میں صیروت کا خاصہ پایا جا رہا ہے ( محمد بن زید نے کہا : زفیف کا معنی تیز چلنا ہے۔ ابو اسحاق نے کہا : زفیف سے مراد چوپائے کے دوڑنے کے آغاز کو کہتے ہیں۔ ابو حاتم نے کہا : کسائی نے یہ گمان کیا ہے کہ ایک قوم نے پڑھا فاقبلوا الیہ یزفون اس وقت یہ وزن یزف سے مشتق ہوگا جس طرح وزن یزن ہے نحاس نے کہا : یہ ابو حاتم کی حکایت ہے اور ابو حاتم نے کسائی سے کوئی چیز نہیں سنی ہے۔ فراء نے کسائی سے سنا کہ وہ یزفون کو مخفف نہیں پہچانتے۔ فراء نے کہا : میں اسے نہیں پہچانتا۔ ابو اسحاق نے کہا : ان دونوں کے علاوہ علماء جو اسے پہچانتے ہیں یہ جملہ کیا جاتا ہے : وزف یزف جب وہ تیزی کرے۔ نحاس نے کہا : ہم کسی کو نہیں جانتے کہ اس نے یزفون پڑھا ہو۔ میں کہتا ہوں : یہ عبداللہ بن زید کی قراءت ہے جو مہدوی نے ذکر کی ہ۔ زمحشری نے کہا ویزفون مجہول کا صیغہ ہے اور یزفون یہ زفاہ سے مشتق ہے جب وہ اس کے لئے حدی خوانیکرے گویا ان میں سے بعض بعض کے لئے حدی خوانی کرتے ہیں تاکہ وہ سب اس کی طرف جلدی چلیں۔ ثعلبی نے حضرت حسن بصری ‘ مجاہد اور ابن سمیع سے یزفون ذکر کیا ہے یعنی یہ راء کے ساتھ ہے یہ رفیف النعام سے مشتق ہے اس سے مراد چلنے اور اڑنے کے درمیان دوڑنے کا عمل ہے۔ قال اتعبدون ما تنحتون۔ اس کلام میں حذف ہے قالوا من فعل ھذا بالھتنا انہوں نے کہا : ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ؟ اتعبدون ما تنحتون تم اپنے ہاتھوں سے تراشے ہو۔ نحت کا معنی چھیلنا ہے نحتہ ینحتہ نحتا۔ اسے چھیلا نحاتہ : البرایۃ والمنحت۔ جس کے ساتھ چھلاے جائے۔ واللہ خلقکم وما تعملون۔ ما محل نصب میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ہی ان چیزوں کو پیدا کیا جن سے تم بناتے ہو مراد لکڑی ‘ پتھر وغیرہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بل ربکم رب السموت والارض الذی فطر ھن) انبیاء (56: ایک قول یہ کیا گیا ہے : استفہامیہ ہے اس سے مقصود ان کے عمل کی حقات بیان کرنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما نافیہ ہے معنی ہے کہ تم تو انہیں نہیں بناتے بلکہ ان سب چیزوں کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہے زیادہ بہتر ہے کہ مافعل کے ساتھ مصدر کے حکم میں ہو تقدیر کلام یہ ہو واللہ خلقکم و علمکم یہ اہل سنت کا مذہب ہے کہ افعال اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور بندے کا کسب ہے اس میں قدر یہ اور جبریہ کا ابطال ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے ان اللہ خالق کل صانع و صنعۃ (1) اللہ تعالیٰ ہر عامل اور اس کے عمل کو پیدا کرنے والا ہے ‘ یہ ثلبی نے ذکر کیا ہے۔ بیہقی نے حذیفہ کی حدیث سے اسے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان اللہ عزو جل صنع کل صانع و صنعۃ فھو الخالق و ھو الصانع سبحانہ اللہ تعالیٰ ہر عامل اور اس کے عمل کو پیدا کرنے والا ہے پس اللہ تعالیٰ ہی خالق و صانع ہے وہ ہر عیب سے پاک ہے۔ ہم نے یہ تمام چیزیں الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں بیان کردی ہیں۔
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

غرض انہوں نے ان کے ساتھ چال چلنی چاہی اور ہم نے ان کو زیر کردیا

97 ۔ 98:۔ جس طرح یہ بحث سورة الانبیاء میں گذر چکی ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان پر دلیل کے ساتھ غالب آگئے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا انہوں نے کہا : اس کے لئے ایک عمارت بنائو جس کو لکڑیوں سے بھر دو پھر اسے دہکائو پھر اسے اس آگ میں پھینک دو یہی حجیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انہوں نے پتھر کی ایک دیوار بنائی اس کی اونچائی تیس ہاتھ تھی انہوں نے اسے آگ سے بھر دیا اور اس آگ میں پھینک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا : جب آپ نے آگے میں پہنچے تو کہا : حسبی اللہ و نعم الوکیل۔ الحجیم میں الف لام ضمیر پر دلالت کرتا ہے تقدیر کام یوں ہوگی فی جحیمہ یعنی اس مکان کی آگ میں طبری نے یہ ذکر کیا ہے۔ طبری نے یہ ذکر کیا ہے : اس کہنے والے کا نام ہیزن تھا جو فارس کے دیہاتی علاقوں کا تھا جو ترک ہیں وہ وہی آدی ہے جس کے بارے میں حدیث وارد ہے ’‘ اسی اثنا میں ایک آدی اپنے حلہ میں چل رہا ہوگا وہ اس حلہ میں تکبر کر رہا ہوگا اس زمین میں دھنسادیا جائے گا تو روز قیامت تک وہ زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا ” (1) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق مکر کیا۔ کید سے مراد مر ہے یعنی انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہلاک کرنے کے قصد کیا تو ہم نے ان لوگوں کو مقہورو مغلوب بنا دیا کیونکہ ان پر ایسی جگہ سے اس کی محبت نافذ ہوگئی جہاں سے اسے دور کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اس کا مکر اور خفیہ تدبیر نافذ نہ ہوئی۔
Ayahs 37:99–101

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور (ابراہیم) بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے راستہ دکھائے گا

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے پروردگار ! مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی

99 ۔ 101:۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر -1 یہ آیت ہجرت میں اصل ہے۔ سب سے پہلے جس نے یہ عمل کیا وہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں یہ اس وقت ہوا جب حضرت ابرایم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے چھٹکارا دیا تو آپ نے کہا : میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں یعنی میں اپنی قوم کے شہر اور جائے پیدائش سے ہجرت کرنے والا ہوں جہاں میرے لئے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن ہوگا میں نے جب صحیح عمل کی نیت کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ مجھے اس کی ہدایت دینے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مخلوقات میں سے حضرت طوط اور حضرت سارہ کے ساتھ ارض مقدس یعنی شام کے علاقہ کی طرف ہجرت کی (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے میں اپنے عمل ‘ اپنی عبادت ‘ اپنے دل اور نیت کو اپنے رب کی طرف لے جانے والا ہوں۔ اس تعبیر کی بنا پر وہ عمل کو لے جانے والے تھے ‘ بدن کو لے جانے والے نہیں تھے۔ سورت کہف میں اس کی وضاحت مکمل گذر چکی ہے۔ پہلی ہجرت شام اور بیت المقدس کی طرف تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ حران کی طرف نکلے وہاں ایک عرصہ تک رہے اسے پھر یہ کہا گیا : یہ بات آپ نے اس شخص سے کی تھی جو آپ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور اسی نے آپ سے علیحدگی اختیار کی تھی ‘ یہ قول اس کے لئے توبیخ کے طور پر تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ نے یہ بات اس شخص سے کی تھی جس نے آپ کی معیت میں ہجرت کی تھی مقصودا سے رغبت دلانا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بات آپ نے آگ میں پھینکے جانے سے قبل کی تھی اس قول کی بنا پر اس میں دو تا دیلیں ہیں : (1) میرے رب نے میرے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے میں اس کی طرف جانے والا ہوں (2) میں مرنے والا ہوں جس طرح آدمی ہو فوت ہوتا ہے اسے کہا جاتا ہے : د ذھب الی اللہ۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خیال کیا تھا کہ آگ میں پھینکے جانے سے ہی وہ مر جائیں گے کیونکہ آگ کے بارے میں معمول یہی ہے کہ جس آدمی کو آگ میں پھینکا جاتا ہے وہ مر جاتا ہے یہاں تک کہ آگ کو فرمایا گیا : کونی برد او سلما) الانبیا (69: اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) محفوظ ہوگئے۔ اس تاویل کی بناء پر سیھدین میں دو تاویلیں ہو سکتی ہیں : اس آگ سے چھٹکارا پانے کے لئے کوئی صورت پیدا فرمائے گا (2) جنت کی طرف جانے کی صورت پیدا فرمائے گا۔ سلیمان بن صرو نے کہا : یہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے نبی کریم ﷺ کا زمایہ پایا جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آگ میں پھینکنے کا ارادہ کیا تو وہ آپ کے لئے لکڑیاں اکٹھی کرنے لگے ‘ ایک بوڑھی عورت اپنی پشت پر لکڑیاں اٹھائے ہوئی تھی اور کہہ رہی تھی : اذھب بہ الی ھذا الذی یذکر الھتنا میں یہ اس کی طرف لے جا رہی ہوں جو ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا تھا۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لے جایا گیا تاکہ آگ میں پھینکا جائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا انی اذھب الی ربی جب آگ میں پھینکا گیا تو کہا حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ ) آل عمران ( تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ینارکونی برداو سلما تو حضرت لوط علیہ اسلام کے باپ نے کہا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچازاد تھا۔ اسے آگ نے اس لئے نہیں جلایا کیونکہ اسے مجھ سے قرابت حاصل تھی تو اللہ تعالیٰ نے آگ سے ایک تنا نما انگارہ بھیجا جس نے اسے جلا دیا۔ مسئلہ نمبر -2 جب اللہ تعالیٰ نے اسے پہچان کرا دی کہ وہ حضرت ابراہیم کو چھٹکارا دلانے والا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ایک بچے سے اس کی مدد فرمائے جو اس کی تنہائی نے انس کا باعث ہو۔ اس بارے میں گفتگو سورة ٗ آل عمران میں پہلے گذر چکی ہے۔ اس کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے ہب لی ولدا صالحا من الصالحین۔ اس قسم کا حذف بہت زیادہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فبشرنہ بغلم حلیم یعنی وہ بڑا ہو کر حلیم ہوگا گویا اس بچے کی بقا کی خوشخبری دی کیونکہ چھوٹے بچے کی اس صفت کے ساتھ صفت نہیں لگائی جاتی۔ سورة ہود جس میں طرح گذر چکا ہے یہ بشارت فرشتوں کی زبانی ہوئی تھی ‘ سورة الذاریات میں بھی اس کا ذکر ہوگا۔