37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 37:41–49

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس سے دردسر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

لھم سے مراد مخلصین ہیں یعنی ان کے لئے معلوم عطیہ ہے جو ختم ہوگا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد جنت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس سے مراد جنت کا رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ پھل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ اس کی خواہش کریں گے۔ ابن سائب نے کہا : یہ صبح اور شام کے کھانے کے مقدار کے مطابق ہوں گے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و لھم رزقھم فیھا بکرۃ و عشیا۔ ) مریم ( فواکہ یہ فاکھۃ کی جمع ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و امدادنھم بفاکھۃ) طور (22: ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے درجات کی بلندی ‘ کلام کے سننے اور اس کی ملاقات کے ذریعے اکرام ہے۔ جنات نعیم سے مراد ایسے باغات ہیں جن میں وہ لطف اندوز ہوں گے۔ یہ بات پہلے گذر چکی ہے کہ جنتیں سات ہیں۔ سورة یونس میں ان کا زکر ہوچکا ہے ‘ ان میں سے نعیم بھی ہے۔ عکرمہ اور مجاہد نے کہا : وہ باہمی تعلق اور باہمی محبت کی وجہ سے ایک دوسرے کی گدی نہیں دیکھیں گے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : پلنگ جس طرح وہ چاہیں گے گھومتے پھریں گے ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی گدی نہیں دیکھیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ایسے پلنگوں پر ہوں گے جن پر موتیوں ‘ یاقوت اور زبر جد کے تار ہوں گے چار پائی صنعاء سے جابیہ تک ہوگی اور عدن سے ایلہ تک ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک منزل کے اہل پر وہ گھومتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے کھانوں کا زکر کیا تو ان کے مشروبات کا بھی ذکر کیا۔ اہل لغت کے نزدیک کاس سے مراد وہ برتین ہے جس میں مشروب بھی ہوا گر وہ برتن مشروب سے خالی ہو تو اس کو کاس نہیں کہتے۔ صحاک اور سدی نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی کاس کا ذکر ہے اس سے مراد شراب ہے۔ عرب اس برتن کو کاس کہتے ہیں جس میں شراب ہو جب اس میں مشروب نہ ہو تو اس اناء اور قدح کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : اہل لعت میں سے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اس نے حکایت بیان کی ہے کہ عرب پیالے کو اس وقت کاس کہتے ہیں جب اس میں شراب ہو ‘ جب اس میں شراب نہ ہو تو اسے قدح کہتے ہیں جس طرح دسترخوان پر جب کھانا ہو تو اسے مائدہ کہتے ہیں جب اس پر کھانا نہ ہو تو اسے مائدہ نہیں کہتے۔ ابوالحسن بن کیسان نے کہا : اسی سے ظعینہ کا لفظ ہے جب ہودج میں عورت ہو۔ زجاج نے کہا : بک اس من معین۔ سے مراد ہے کہ شراب یوں جاری ہوگی جس طرح چشمے زمین پر جاری ہوتے ہیں معین سے مراد وہ جاری پانی ہے جو ظاہر ہے بیضاء یہ کاس کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد شراب ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جنت کی شراب دودھ سے زیادہ سفید ہوگی۔ زجاج نے کہا : لذۃ سے مراد ذات لذۃ ہے تو مضاف کو حذف کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اصل میں مصدر ہے جسے اسم بنا دیا گیا ہے یعنی وہ سفید اور لذیذ ہوگی یوں قول کیا جاتا ہے : شراب لذ ‘ شراب لذیز جس طرح یہ کہا جاتا ہے : نبات غض ‘ غضیض جہاں تک شاعر کا شعر ہے : ولذ کطعم الصرخدی ترکتہ بارض العدا من خشیۃ الحدثان (1) کتنی ہی نیندیں ہیں جو صرخدی شراب کی مانند تھیں جن کو میں نے دشمن کے علاقہ میں حادثہ کے ڈر سے ترک کردیا۔ یہاں لذ سے مراد نیند ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگوں نے انہیں اپنے قدموں سے پامال نہیں کیا۔ اس جنت میں ان کی عقلیں خراب نہ ہونگی انہیں کوئی مرض اور سردرد نہیں ہوگا اور اس شراب کو پینے کی وجہ سے ان کی عقلین ضائع نہ ہوں گی ‘ یہ قول کیا جاتا ہے : الغمر غول للحلم والحرب غول للنفوس یعنی شراب حلم کو ختم کردیتی ہے اور جنگ نفوس کو تباہ کردیتی ہے ‘ یہ قول بھی کیا جاتا ہے : نزف الرجل ینزف فھو منزوف و نزیف یہ اس وقت کہتے ہیں جب اسے نشہ ہوجائے۔ امر القیس نے کہا : واذ ھی تمشی کمشی النز یف یصرعہ بالکثیب البھر جب وہ مدہوش کی چال کی طرح چلتی ہے تو چھوٹے ٹیلے پر سانسوں کا انقطاع اسے گراد دیتا ہے۔ بعد والے شعروں میں بیش نزیف اسی معنی میں ہے : نزیف اذا امت لوجہ تمایلت تراشی الفواد الرحض الا تخترا فلثمت فاھا آخذا بقردنھا شرب النزیف ببرد ماء الحشرج (1) حمزہ اور کسائی نے زاء کے کسرہ کے ساتھ قراءت کی ہے یہ انزف القوم سے مشتق ہے جب ان کے نشہ کا وقت ہوگیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : احصد الزرع جب فصل کاٹنے کا وقت ہوگیا۔ اقطف الکرمہ جب انگور کے بیلوں کو کاٹنے کا وقت آگیا ‘ ارکب المھر جب ان پر سوار ہونے کا وقت ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے وہ اپنی شراب کو ختم نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کی عادت ہے یہ جملہ یوں بولا جاتا ہے : انزف الرجل ‘ فھو منزوف یہ اس وقت کہتے ہیں : جب اس کی شراب ختم ہوجائے۔ خطیہ نے کہا : لعری لمن انزفتم اوصحوتم لیئس الندامی کنتم آل ابحرا (2) میری زندگی کی قسم ! اگر شراب کو ختم کر دو یا تم ہوش میں آ جائو تو تم کتنے برے شرابی ہو اے آل ابجر۔ نحاس نے کہا : پہلی قراءت معنی میں زیادہ واضح ہے اور صحیح ہے کیونکہ جلیل القدر مفسرین کے نزدیک ینزفون کا معنی ہے ان کی عقلین ختم نہیں ہوتیں ‘ ان مفسرین میں سے مجاہد بھی ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی شراب سے ان آفات کو ختم کردیا جو دنیا میں شراب کی وجہ سے سر درد اور نشہ وغیرہ کی صورت میں پہنچتی ہیں۔ ینزفون کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ یہ کہا جائے : انزف الرجل جب اس کی شراب ختم ہوجائے ‘ یہ بعید ہے کہ جنت کی شراب کی یہ صف ذکر کی جائے لیکن مجازی معنی اس کا یہ ہے کہ یہ اس معنی میں ہے کہ وہ کبھی بھی ختم نہ ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لا ینزفون کا معنی ہے انہیں نشہ نہیں ہوگا ‘ یہ معنی زجاج اور ابوعلی نے ذکر کیا ہے جسے قشیری نے ذکر کیا ہے۔ مہدوی نے کہا : اس کا معنی نشہ کرنا درست نہیں کیونکہ اس سے قبل لا فیھا عول ہے یعنی ان کی عقلوں میں خلل نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں تکرار آتا ہے ہاں سورة واقعہ میں یہ معنی کرنا درست ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی ہے لا فیھا عول وہ مریض نہ ہوں گے اس میں پیٹ درد نہیں ہوگا (3) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا یہ قول حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا معیہ ہے اس میں کوئی سردرد نہیں ہوگا (1) ۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ معنی نقل کیا ہے کہ شراب میں چار خصلتیں ہیں۔ نشہ ‘ سردرد ‘ قئی اور پیشاب (2) ۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی شراب کا ذکر کیا اور ان خصلتوں سے اسے پاک قرار دیا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد بیماری ہے۔ یہ تمام اقوال قریب قریب ہیں۔ کلبی نے کہا : غول کا معنی گناہ ہے (3) اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما۔ ) واقعہ ( شعبی ‘ سدی اور ابوعبیدہ نے کہا : وہ ان کی عقلوں میں خلل نہیں ڈالے گی کہ انہیں لے ہی جائے (4) اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : وما زالت الک اس تغتالنا و تذھب بالاول الاول لگاتار جام ہماری عقلوں کو مختل ہی کرتا رہا اور ایک ایک کر کے انہیں پچھا ڑتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت سے نشہ کو دور کردیا ہے تاکہ جنت میں ان کے لئے جو نعمتیں ہیں ان سے لذت کا حصول ان سے منقطع نہ ہو۔ علماء معانی نے کہا : غول سے مراد ایسا فساد ہے جو خفیہ طریقہ سے لاحق ہوتا ہے یہ کہا جاتا ہے : اغتالہ اغتیالا جب اس پر معاملہ خفیہ طریقہ سے فاسد ہوجائے ‘ اسی سی عول اور غیلہ ہے جس کا معنی ہے خفیہ طریقہ سے قتل کرنا۔ ان کے پاس ایسی بیویاں ہونگی جو اپنی نظروں کو اپنے خاوند تک محدود رکھیں گی وہ کسی اور کی طرف نہ دیکھیں گی ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ محمد بن کعب اور دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے۔ عکرمہ نے کہا : قصرت الطرف کا معنی ہے وہ اپنے خاوند پر مجبوس ہوں گی۔ پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے کیونکہ ایت میں لفظ مقصورات نہیں لیکن دوسری جگہ مقصورات ہے جس کی وضاحت آئے گی۔ قاصرات یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے ‘ قد اقتصر علی کذا جب وہ اسی پر قناعت کرے اور غیر سے رخ پھیر لے۔ امرء القیس نے کہا : من القاصرات الطرف لودب محول من الذر فوق الاتب منھا لاثرا ایسی عورتوں میں سے ہیں جو اپنی نظروں کو محدود رکھتی ہیں اگر انتہائی باریک چیونٹی بھی ان کی قمیص پر رینگے تو وہ اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ شعر میں فوق الاتب کی جگہ فوق الحذ مروی ہے۔ اتب کا معنی قمیص ہے ‘ محلول کا معنی چھوٹی چیونٹی ہے۔ مجاہد نے بھی کہا : اس کا معنی ہے وہ دوسری بیویوں پر غیرت نہیں کرتیں بلکہ وفادار و تابعدار ہیں۔ عین اس سے مراد بڑی آنکھوں والی ہیں اس کا واحد عیناء ہے ‘ یہ سدی نے کہا : مجاہد نے کہا عین کا معنی ہے وہ خوبصورت آنکھوں والی ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جن کی آنکھوں کی سفیدی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کی سیاہی بھی شدید ہے پہلا معنی لغت میں بہت زیادہ ہے یہ کہا جاتا ہے : رجل اعین جس کی انکھ کھلی ہو آنکھ واضح ہو۔ اس کی جمع عین آتی ہے اس کی اصل فعل ہے تو عین کو کسرہ دیا گیا تاکہ یاء کو وائو سے نہ بدل دیا جائے ‘ اسی سے ایک لفظ عین ہے وحشی گائے کو کہتے ہیں اور اسی طرح کہتے ہیں : الشورا عین والبقرہ عیناہ۔ مکنون کا معنی محفوظ ہے۔ حضرت حسن بصری اور ابن زید نے کہا : ان عورتوں کو شتر مرغ کے انڈوں (5) سے تشبیہ دی گئی ہے شتر مرغ جسے ہوا اور غبار سے پروں میں چھپائے رکھتا ہے اس کا رنگ زردی مائل سفید ہوتا ہے یہ عورت کے رنگوں میں سے سب سے زیادہ حسین ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور سدی نے کہا ‘ ان عورتوں کو انڈے کے بطن سے تشبیہ دی قبل اس کے کہ ان کا چھلکا پھاڑا جائے اور ہاتھ سے مس کریں (1) ۔ عطا نے کہا : ان عورتوں کو اس جھلی سے تشبیہ دی جو اوپر والے پردے اور انڈے کے مغز کے درمیان ہوتا ہے (2) ۔ ہر شے کا سحاہ اس کا چھلکا ہوتا ہے اس کی جمع سحا ہے ‘ یہ جوہر نے کہا ‘ اسی کی مثل طبری کا قول ہے کہا : یہ رقیق پردہ ہے جو انڈے کے اوپر ہوتا ہے اس کی مثل نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔ عرب عورتوں کی صفائی اور سفیدی میں انڈے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ امرء القیس نے کہا : بیضۃ خدر والایرام خبائھا کتنے ہی پدے کے انڈے ہیں) عورتیں ہیں ( جن کے خیمہ کا قصد نہیں کیا جاتا۔ عرب جب کسی چیز کی حسن و نظافت میں صفت بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں ; کا نہ بیض النعام المغطی بالریش ایک قول یہ کیا گیا ہے : مکنون سے مراد ہے جو توڑنے سے محفوظ ہو ‘ یعنی وہ کنواری ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ; بیض سے مرادموتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وحور عین۔ کا مثال اللولؤ المکنون۔ ) واقعہ ( یعنی جو سیپوں میں ہوتے ہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ‘ اسی قول میں شاعر کا قول ہے ; ھی بیضاء مثل لٔو لوۃ الغواص میذت من جوہر مکنون (3) وہ غواص کے موتی کی طرح سفید ہے جسے جوہر مکنون سے الگ کیا گی اہو۔ مکنون کا لفظ زکر کیا ہے جب کہ بیض جمع ہے کیونکہ صف کو لفظ کی طرف پھیرا گیا ہے۔
Ayahs 37:50–61

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

(جو) کہتا تھا کہ بھلا ہم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا ؟

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

(پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا اور اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا کہ خدا کی قسم ! تو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

ہاں ! (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہ بڑی کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں

وہ آپس میں گفتگو شروع کردیں گے جو دنیا میں ہوا کرتی تھی۔ یہ جنت میں ان کی حددرجہ انس کا اظہار ہے اس کا عطف یطاف علیھم کے معنی پر ہے معنی یہ بنے گا وہ پئیں گے اور شراب پر باہم گفتگو کریں گے جس طرح شراب نوشوں کی عادت ہوا کرتی ہے۔ ایک شاعر نے کہا : وما بقیت من اللذات الا احادیث الکرام علی المدام (1) لوگوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ کریم لوگ شراب پر آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ یعنی وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور جو اچھی یا بری صورتحال گذری ہوگی اس کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے مگر اسے ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا خبر دیتے وقت معمول ہے۔ ایک جنتی کہے گا : میرا ایک دوست تھا وہ کہتا تھا تو دوبارہ اٹھائے جانے اور جزاء کی تصدیق کرنے والا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : قرینہ سے مراد اس کا ساتھی ہے۔ سورة کہف میں ان کا ذکر ‘ ان کا قصہ اور ان کے ناموں میں اختلاف اللہ تعالیٰ کے فرمان : اضرب لھم مثلا رجلین) کہف (32: کے تحت گذر چکا ہے ان دو کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ تا لکنت من المحضرین ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں قرین سے مراد اس کا شیطان دوست ہے جو دوبارہ اٹھائے جانے کے انکار کا وسوسہ پیدا کرتا تھا اسے ابنک لمن المصدقین۔ بھی پڑھا گیا ہے ‘ اسے علی بن کیسہ نے سلیم سے وہ حمزہ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہاں اسے المصدقین پڑھنا جائز نہیں کیونکہ یہاں صدقہ کا کوئی معنی نہیں۔ قشیری نے کہا : حمزہ کی قراءت میں ائنک لمن المصدیقین ہے اس پر یہ اعتراض کیا گیا کہ یہ تصدیق سے ہے تصدق سے نہیں جب کہ اعتراض باطل ہے کیونکہ قراءت نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے تو اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے معنی یہ بنے گا تو ثواب کی طلب کے لئے مال کا صدقہ کرنے والا ہے۔ کیا جب ہم مر جائیں گے مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا اس وقت ہمیں بدلہ دیا جائے گا یعنی موت کے بعد ہمیں جزا دی جائے گی اور ہمارا محاسبہ کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے جنتیوں سے فرمایا : کیا تم جہنم کی طرف جھانکنے والے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مومن جنت میں اپنے مومن بھائیوں سے کہے گا : کیا تم جہنم کی طرف جھانکنے والے ہو تاکہ ہم دیکھیں تو سہی اس دوست کا کیا حال ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ فرشتوں کا قول ہے اور ھل انتم مطلعون۔ استفہام نہیں یہ تو امر کے معنی میں ہے یعنی جھانکو ‘ یہ ابن عربی اور دوسرے لوگوں کا نقطہ نظر ہے ‘ اس معنی میں ہے جب شراب کے حکم والی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے پھر آسمان کی طرف سر اٹھایا پھر کہا : اے میرے رب ! شراب کے بارے میں ایسا حکم نازل فرما جو اس سے بھی زیادہ واضح ہو تو فھل انتم منتھون۔ ) مائدہ ( نازل ہوئی حضرت عمر ؓ نے اعلان کیا : اے ہمارے رب ! ہم رک گئے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ; ھل انتم مطلعون۔ مشدد نہیں اور فاطلع پڑھا یعنی ہمزہ قطعی ہے اور طاء مخففہ ہے معنی ہوگا ہل انتم مقبلون فاقبل۔ نحاس نے کہا : فاطلع فراہ میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ فعل مستقل ہے اس کا معنی پس میں جھانکوں گا ‘ تو یہ استفہام کے جواب میں ہونے سے منصوب ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ فعل ماضی ہے تو اطلع اور اطلع ایک ہے۔ زجاج نے کہا : طلع ‘ اطلع اور اطلع سب کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ بھی حایت بیان کی گئی ہے ھل انتم مطلعون۔ یعنی نون مکسور ہے۔ ابو حاتم اور دوسرے علماء نے اس کا انکار کیا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ سراسر غلط ہے یہ جائز نہیں کیونکہ اس میں نون اور اضافت کو جمع کردیا گیا ہے اگر یہ مضاف ہوتا تو یہ ہوتا ھل انتم مطلعی اگرچہ سیبویہ اور فراء نے اس کی مثل حکایت بیان کی ہے دونوں نے یہ شعر پڑھا : ھم القائلون الخیرو الامرونہ ‘ وہ بھلائی کی بات کہنے والے اور اس کا حکم دینے والے ہیں۔ یہ شاذ ہے اور کلام عرب سے خارج ہے۔ جو اس قسم کا کلام ہے اس کے ذریعے کتاب اللہ میں استدلال ک نہیں کیا جاسکتا اور یہ کلام فصیح میں داخل بھی نہیں۔ اس کی توجیہ میں ایک قول یہ کیا جاتا ہے : اسم فاعل کو فعل مضارع کے قائم مقام رکھا گیا ہے کیونکہ وہ اس کے قریب ہے پس مطلعون کو یطلعون کے قائم مقام رکھا ‘ یہ ابوالفتح عثمان بن جنی نے زکر کیا ہے اور یہ کہا : اقائلن احضرو الشھودا کیا تم یہ کہو گے گواہوں کو حاضر کرو۔ محل استدلال اقائلن ہے جو اتقولن کے معنی میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ھل انتہم مطلعون۔ فاطللع فراہ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : جنت میں ایک روشن دان ہے جنتی جس سے جہنم اور جہنمیوں کو دیکھیں گے۔ ابن مبارک نے جو ذکر کیا ہے اس میں کعب نے بھی یہی ذکر کیا ہے کہا : جنت اور دوزخ میں ایک روشن دان ہے جب مومن ارادہ کرتا ہے کہ اس دشمن کو دیکھے جو دنا میں اس کا دشمن تھا تو اس روشن دان سے جھانکے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاطلع فراہ فی سواء الجحیم۔ سواء الجحیم سے مراد جہنم کا وسط ہے جب کہ کانٹے دار پودے اس کے اردگردہوں گے ‘ یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : تعبت حتی انقطع سوائی میں تھا یہاں تک کہ میری کمر ٹوٹ گئی ‘ یہاں بھی سواء سے مراد وسط ہے۔ قتادہ سے مروی ہے کہ بعض علماء نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ اس جہنمی کی اس جنتی کی پہچان نہ کرائے تو وہ اسے نہ پہچان سکے گا اس کا رنگ اور اس کی حالت بدل جائے گی (1) اس موقع پر وہ کہے گا : تا للہ ان کدت لتردین۔ اس میں ان مشقلہ سے مخففہ ہے یہ کا د پر اسی طرح داخل ہے جس طرح کان پر داخل ہے اسی کی مثل ان کا د لیضلنا) الفرقان (42: ہے لام ان مخففہ اور ان نافیہ کے درمیان فرق کرنے والا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی نعمت نہ ہوتی تو میں بھی جہنم میں حاضر ہوتا۔ کسائی نے کہا : لتردین کا معنی ہے تو مجھے ہلاک کردیتا۔ الردی کا معنی ہلاکت ہے مبرد نے کہا : اگر کہا جاتا لتردین یعنی تو ضرور مجھے آگ میں گرا دیتا تو یہ بھی جائز تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے عصمت اور اسلام کا حلقہ مضبوط سے پکڑنے کی اور برے دوست سے براءت کی توفیق مجھے حاصل نہ ہوتی تو میں جہنم میں ہوتا۔ لولا کا مابعد سیبویہ کے نزدیک مبتدا ہونے کی حدیثیت میں مرفوع ہے اس کی خبر مخدوف ہے لکنت منالمحضرین۔ فراء نے کہا : تو میں بھی جہنم میں تمہارے ساتھ حاضر ہوتا۔ احضر کا لفظ صرف شر میں استعمال ہوتا ہے ‘ یہ ماوردی کا قول ہے (2) ۔ بمیتین کو بمائتین بھی پڑھتے ہیں افما ہمزہ استفہام کے لئے ہے جو فاء عاطفہ پر داخل ہے معطوف اس کا محذوف ہے اس کا محذوف ہے اس کا معنی ہوگا : کیا ہم ہمیشہ رہیں گے ‘ نعمتیں دیئے جاتے رہیں گے ‘ ہمیں موت نہ آئے گی اور نہ ہمیں عذات دیا جائے گا الا متتنا اولی یہ استثناء ہے یہ بھی پہلی کلام سے استثناء نہیں۔ موتۃ سے مصدر ہے کیونکہ یہ مصوف ہے یہ جنتیوں کی فرشتیوں کے سامنے گفتگو ہوگی موت کو ذبح کردیا جائے گا۔ اے جنتوہ ! ہمیشہ کی زندگی ہے اب کوئی موت نہیں اور اسے جہنمیو ! ہمیشہ زندگی ہے اب کوئی موت نہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مومنوں کی گفتگو تحدیث نعمت کے طور پر ہوگی کہ وہ نہ مریں گے اور نہ ہی انہیں عذاب دیا جائے گا یعنی یہ ہماری حالت اور ہماری صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مومن کی کافر کے لئے گفتگو ہوگی کیونکہ وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتا تھا اور موت صرف دنیا کی ہی موت ہے جنت میں جو کچھ ہوگا مومن اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے گا : ان ھذا لھو الفور العظیم۔ ھو مبتدا ہے اور ما بعد اس کی خبر ہے اور جملہ ان کی خبر ہے یہ بھی جائز ہے کہ ھو ضمیر فصل ہے۔ لمثل ھذا فلیعل العملون۔ یہ احتمال موجود ہے کہ یہ مومن کا کلام ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنت میں جو کچھ تیار کیا اور جو کچھ اسے عطا کیا جب اسے دیکھا تو یہ کہا کہا : لمثل ھذا سے مراد عطا اور فضل ہے فلیعمل العملون یہ اسی کی مثل ہے جو کافر نے اسے کہا : انا اکثر منک مالا واعزنفرا۔ ) الکہف ( یہ بھی احتمال موجود ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو۔ ایک قول یہ کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اہل دنیا کے لئے قول ہے یعنی جنت میں جو خیرات اور جزا ہے اس کو تم نے سنا تو عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے نحاس نے کہا : تقدیر کلام یوں ہوگی فلیعمل العاملون لمثل ھذا۔ اگر کوئی سوال کرے : عربی زبان میں فاء اس بات پر دلات کرتا ہے کہ اس کے بعد والا اول کے بعد واقع ہوتا ہے تو کی بعد والے کو پہلے کس طرح تصور کیا جاتا سکا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تقدیم تاخیر کی طرح ہے کیونکہ حروف جارہ اور ان کے مابعد کا حق یہ ہوتا ہے کہ وہ متاخر ہوں۔
Ayahs 37:62–68

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت ؟

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اگے گا

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ اسی میں کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کردیا جائے گا

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا

62 ۔ 68:۔ اذلک خیر یہ مبتدا اور خبر ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : نزلا اس کا بیان ہے اس کا معنی ہے کیا جنت کی نعمتیں بہتر ہیں ضیافتیں ہیں یا زقوم کا درخت بہترین ضیافت ہے ؟ نزل لغت میں اس رزق کو کہتے ہیں جس میں وسعت ہو۔ نحاس نے کہا : اسی طرح النزل اور نزل ہے مگر یہ بھی جائز ہے کہ نزل بھی اس کی ایک لغت ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اصل میں یہ نزل ہو اس سے یہ جملہ ہو قیم للقوم نزلھم قوم کے لئے ان کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس کا اشتقاق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ وہ غذا ہے جو اس قابل ہے کہ اس کے ساتھ وہ پڑائو کرتے اور اس ہی میں مقیم رہتے۔ سورة آل عمران کے آخر میں یہ گذر چکا ہے۔ شجرۃ الزقیوم یہ تزقم سے مشتق ہے یہ مشقت کے ساتھ نگلنا ہے کیونکہ وہ ناپسندیدہ اور بدبودار ہوتا ہے۔ مفسرین نے کہا : یہ جہنم کی لپک کے ساتھ اسی طرح زندہ رہتا ہے جس طرح درست پانی کی ٹھنڈک کے ساتھ زندہ رہتا ہے جو اس کے اوپر والے حصے میں رہتے ہیں ان جہنیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی طرف نیچے اتریں اور اس سے کھائیں اسی طرح جو اس سے نیچے والے حصہ میں رہتے ہیں وہ اس کی طرف اوپر چڑھیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ کیا اس سے مراد دنیا کا درخت ہے جس عرب پہچانتے ہیں یا نہیں پہچانتے (1) ؟ اس کے بارے میں دو قول ہیں : (1) یہ وہی درخت ہے جو دنیا میں معروف ہے۔ جنہوں نے نے یہ قول کیا ہے ان میں بھی اختلاف ہے۔ قطرب نے کہا : یہ سخت کڑوا درخت ہے جو تہامہ میں ہوتا ہے اور خبیث ترین درخت ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ قاتل نبات ہے۔ (2) دنیا کے درختوں میں یہ معروف نہیں۔ جب زقوم کے درخت کے بارے میں آیت کریمہ نازل ہوئی تو قریش نے کہا : ہم تو اس درخت کو نہیں پہچانتے تو افریقہ کا ایک آدمی ان کے پاس آیا قریش نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : ہمارے نزدیک تو اس سے مراد مکھن اور کھجور کے مجموعے کو کہتے ہیں تو ابن بعرمی نے کہا : اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں میں زقوم کی کثرت کرے۔ ابو جہل نے اپیک لونڈی سے کہا : ہمیں زقوم کھلائو تو وہ اس کے پاس مکھن اور کھجور لے آئی پھر اس اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا : زقوم سے لطف اندوز ہو یہ وہ چیز ہے جس سے ” محمد “ ہمیں ڈراتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ آگ درخت کو اگاتی ہے جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ فتنۃ للظلمین۔ میں ظالمین سے مراد مشرکین ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا : آگ میں درخت کیسے ہو سکتا ہے جب کہ آگ تو درخت کو جلا دیتی ہے ؟ یہ بحث سبحان کے لفظ کے ضمن میں گذر چکی ہے انہوں نے اس کو خفیف اسی طرح جانا تھا جس طرح انہوں نے علیھا تسعۃ عشر۔ ) المدثر ( کو خفیف جانا تھا وہ کیا معاملہ ہے جس نے اس عدد کو خاص کیا ہے یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں اتنوں کو تو تمہاری طرف سے کافی ہوں باقی کو تم میری طرف سے کافی ہوجانا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وما جعلنا عدتھم الا فتنۃ للذین کفروا) مدثر (31: فتنہ کا معنی آزمائش ہے ان کی طرف سے یہ قول سراسر جہالت تھی کیونکہ عقلا ایسا محال نہیں کہ اللہ تعالیٰ آگ میں اس کی جنس سے ایسا درخت پیدا کرے جسے آگ نہ کھاتی ہو جس طرح جہنم میں اللہ تعالیٰ بیڑیوں ‘ طوق ‘ سانپ ‘ بچھو اور جہنم کے داروغے پیدا فرمایا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تعجب جس طرح کفار کو ہوا تھا اسی طرح اس وقت ملا حدہ کو بھی ہے یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو انہوں نے ایسی نعمت اور عقاب پر محمول کیا ہے جس سے روحیں داخل ہوتی ہیں انہوں نے اعمال کے وزن کرنے ‘ صراط ‘ لوح اور قلم کو ایسے معنی پر محمول کیا ہے جو انہوں نے خود اپنے دلوں میں تصور کیے نہ کہ ان کی وہ تعبیر کرتے ہیں جو مسلمان شرعی دلائل سے سمجھے ہیں۔ جب صادق و امین کی خبر ایسی چیز کے بارے میں وارد ہو جس کا عقل وہم ہی کرسکے تو اس کی تصدیق واجب ہے اگرچہ یہ جائز ہو کہ اس کی کوئی تاویل کی جاسکے پھر ایسی تاویل باطل ہوگی جس کے بارے میں مسلمانوں کا اجماع ہو کہ یہ تاویل باطل ہے مسلمان ان اشیاء کو حاصل ہونے کو جائز سمجھتے ہیں اسے باطن کے علم کی طرف نہیں پھیرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ظالمین کے لئے سزا جس طرح فرمایا : ذوقوا فتنتکم ہذا الذی کنتم بہ تستعجلون۔ ) ذاریات ( اصل الجھیم۔ سے مراد جہنم کی گہرائی ہے یہاں سے ہی یہ جنم لے گا پھر یہ جہنم میں پھیل جائے گا۔ طلعھا سے مراد اسی کا پھل ہے پھل کو طلع کا نام اس لیے دیا کیونکہ یہ طلوع کرے گا۔ رءوس الشطین۔ سے مراد شیاطین کی ذاتیں ہیں ان کی قباحت کی وجہ سے ان پھلوں کو رءوس سے تشبیہ دی گئی شیاطین کے سروں کا تصور نفوس میں ہی ہوگا اگرچہ وہ دکھائی نہ دیں گے اس معنی میں عربوں کا قول یہ ہے کہ ہر قبیح کے لئے وہ یہ کہتے ہیں : ھو کسورۃ الشیطان اور ہر خوبصورت شے کو کہتے ہیں : ھی کصورۃ الملک اسی معیس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جو اس نے ان عورتوں کے قول کی حکایت کے طور پر کہا : ان ھذا الا ملک کریم۔ ) یوسف (31: یہ تشبیہ تخمیلی ہے ‘ یہی معنی حضرت ابن عباس اور قرظی سے منقول ہے اسی معنی میں امراء القین کا قول ہے : مسنون زرق کا نیاب اغوال مسنونۃ زرق سے مراد ایسے تیر ہیں جنہیں تیز کیا گیا ہو البتہ غول) جن بھوت ( معروف نہیں لیکن نفوس میں ان کی قباحت متصور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : شیطن الانس والجن) انعام (112: انسانوں میں سے تو سرکش ایسے شیاطین ہیں جو دکھائی دیتے ہیں حدیث صحیح میں ہے ولکان نخلھارءوس الشیاطین (1) اس کی کھجوریں شیاطین کے سر ہیں۔ بہت سے عربوں نے اس بات کا دعوی کیا ہے کہ انہوں نے شیاطین اور جنوں کو دیکھا ہے۔ زجاج اور فراء نے کہا : شیاطین سے مراد سانپ ہیں جن کے سر اور کلغیاں ہوتی ہیں اور یہ شانپوں میں سے قبیح ترین ‘ خبیث ترین اور جسموں میں سے سب سے ہلکے پھلکے ہوتے ہیں۔ راجز نے کہا : عورت کو ایسے سانپ سے تشبیہ دی جاتی ہے جس کی کلغی ہو۔ عنجرد تحلف حین احلف کمثل شیطان الحماد اعرف کلغی والی عنجر و جو حماط کے شیطان کی مثل ہے وہ اس وقت قسم اٹھاتی ہے جب میں قسم اٹھاتا ہوں۔ شاعر اپنی اونٹنی کی صفت بیان کرتا ہے : تلاعب مثنی حضرمی کا نہ تعمج شیطان بذی خروع قفر تعمج سے مراد چال میں ٹیڑھا پن ہے ‘ سہم عموج اس تیر کو کہتے ہیں جو جاتے وقت مڑ جاتا ہے تعجمت الحیۃ۔ جو چلتے ہوئے مڑ جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے اس قبیح بوٹی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو یمن میں وہتی ہے جسے استن اور شیطان کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : یہ عربوں کے ہاں معروف نہ تھا۔ زمحشری نے کہا : اس سے مراد ایسا درخت ہے جو کھردرا ‘ کروا اور ناپسندیدہ صورت والا ہو۔ اس کے پھل کو رءوس الشاطین کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : شیاطین سے مراد سانپوں کی ایسی قسم ہے جو بہت ہی قبیح ہوتی ہے۔ اہل جنت کے مقابلہ میں ان کا یہ کھانا اور پھل ہوگا ‘ سورة غاشیہ میں آیا ہے لیس لھم لعام الا من ضریع۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا اس درخت کے کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی ملا کردیا جائے گا شوب سے مراد آمیزہ ہے شوب اور شوب سے مراد دونوں لغتیں ہیں جس طرح فقر اور فقر ہے اور فتحہ زیادہ مشہور ہے۔ فراء نے کہا : شاب طعامہ و شرابہ۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب ان دونوں کے ساتھ کوئی چیز ملائی جائے اس کا مصدر شوبا اور شیابۃ آتا ہے یہ خبر دی کہ ان کے لئے کھولتے ہوئے پانی میں ملایا جائے گا حمیم سے مراد گرم پانی ہے تاکہ یہ کھانا ان کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہوجائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و سقواما حمیما فقطع امعاء ھم۔ ) محمد ( سدی نے کہا : ان کے لئے کھولنا ہوا پانی ان کی آنکھوں کے پانی ان کی پیپ اور ان کے خون کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے لئے زقوم کو کھولتے ہوئے پانی میں ملایا جائے گا تاکہ ان کے لئے زقوم کی کڑواہٹ اور کھولتے ہوئے پانی کی گرمی کو جمع کردیا جائے مقصود ان کے عذاب میں سختی اور ان کی آزمائش میں جدت پیدا کرنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ثم ان معرجعھم لا الی الجحیم۔ اس امر پر دلالت کرتا ہے جب وہ جہنم کے عذاب کے علاوہ زقوم کو کھالیں گے پھر انہیں جہنم کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ مقاتل نے کہا : حمیم ‘ جحیم سے باہر ہوگا وہ پانی پینے کے لئے کھولتے ہوئے چشمے پر وارد ہوں گے پھر انہیں جہنم) جحیم ( کی طرف لوٹا دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ھذا جہنم التی یکذب بھا المجرمون۔ یطوفون بینھا و بین حمیم ان۔ ) رحمن ( حضرت ابن مسعود ؓ نے مرجعھم کی بجائے منقبلھم پڑھا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا : یہ بیب جائز ہے کہ یہاں ثم کا لفظ واو کے معنی میں ہو۔ قشیری نے کہا : شائد حمیم جہنم کی ایک طرف میں ہو۔
Ayahs 37:69–74

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان سے پیشتر بہت سے پہلے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)

69 ۔ 74:۔ یعنی انہوں نے آباء کو گمراہ پایا تو ان کی اقتدا کی تو یہ ان کے پیچھے تیزی سے بھاگے جا رہے ہیں ‘ یہ قتادہ سے مروی ہے مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے ہر ولہ) چال کا انداز ( کے انداز میں جا رہے ہیں۔ فراء نے کہا : امراع سے مراد کا نپتے ہوئے تیز چلنا۔ ابو عبیدہ نے کہا : یھرعون کا معنی ہے پیچھے سے ان پر مٹی ڈالی جا رہی ہوگی اسی کی مثل مبرد کا قول ہے۔ المھرع سے مراد ہے جس کو تیزی سے چلایا جا رہا ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے : جاء فلان یھرع الی النار۔ فلاں آیا اسے اگ کی طرف تیزی سے لے جایا جا رہا ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب سردی اسے آگ کی طرف تیزی سے لے جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں تیزی کی سختی کی وجہ سے دھتکارا جا رہا ہے ‘ یہ فضل کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : یہ جملہ کہا جاتا ہے ھرع و اھرع جب اسے پیچھے سے تیز چلایا جائے اور دھتکارا جائے۔ اکثر الاولین۔ سے مراد ہے سابقہ امتیں۔ منذرین۔ سے مراد ہے ایسے رسول جنہوں نے ان لوگوں کو عذاب سے خبردار کیا تھا تو ان لوگوں نے کفر کیا۔ عاقبۃ سے مراد ان کا امر کا انجام ہے۔ عباد اللہ المخلصین۔ مراد ہے اللہ تعالیٰ نے جنہیں کفر سے بچالیا۔ یہ بحث گذر چکی ہے پھر یہ کہا گیا یہ المنذرین سے مستثنی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ و لقد ضل قبلھم اکثر الاولین۔ سے مستثنی ہے۔