Ayahs 37:102–113102 ۔ 113:۔ اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 ہم نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بچہ عطا فرمایا جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ وہ مددگار کے طور پر اپنے باپ کے ساتھ معاملات میں دوڑ دھوپ کرے تو حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ مجاہد نے کہا : جب وہ جوان ہوگیا اور اس کی قدو کاوش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدو کاوش تک جا پہنچی۔ فراء نے کہا : وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ قتادہ نے کہا : جب وہ اپنے بات کے ساتھ چلے (1) ۔ حضرت حسن بصری اور مقابل نے کہا : اس سے مراد دانش اور سمجھ بوجھ ہے جس کے ساتھ حجت قائم ہو۔ ابن زید نے کہا ; جب وہ عبادت کرنے لگے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب انہوں نے نماز و روزہ رکھنا شروع کردیا (2) کیا تم اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنت : و سعی لھا سعیھا) بنی اسرائیل (19:
علمائے نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ کس کے ذبح کا حکم دیا گیا تھا ؟ اکثر کی رائے یہ ہے اس سے مراد اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ یہ قول جنہوں نے کیا ان میں حضرت عباس بن المطلب ‘ ان کے بیٹے حضرت عبداللہ ہیں۔ حضرت عبداللہ سے صحیح یہی ہے۔ ثوری اور ابن جریج حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کرتے ہیں کہا : ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی یہی منقول ہے ایک آدمی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے سنا : یا بن الاشیاخ الکرام تو حضرت عبداللہ نے جواب میں کہا : وہ حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم الصلوۃ والسلام ہیں۔ حماد بن زید نبی کریم ﷺ سے مرفوع روایت نقل کرتے ہیں فرمایا : ان الکریم بن الکریم بن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں “ (3) ۔ یعنی کریم بن کریم بن کریم بن کریم حضرت یوسف ‘ حضرت یعقوب ‘ حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔
ابو زبیرنے حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں ‘ یہی قول حضرت علی شیر خدا ؓ سے بھی مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی یہ مروی ہے کہ ذبیح حضراسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا قول بھی یہی ہے۔ یہ سات صحابہ ہیں۔ تابعین اور دوسرے علماء نے بھی یہ قول کیا ہے جن میں علقمہ ‘ شعبی ‘ مجاہد ‘ سعید بن جبیر ‘ کعب الاحبار ‘ قتادہ مسروق ‘ عکرمہ ‘ قاسم بن ابی بزہ ‘ عطا ‘ مقاتل ‘ عبدالرحمن بن سابط ‘ زہری ‘ سدی ‘ عبداللہ بن ہزیل اور امام مالک بن انس ہیں سب نے کہا : ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں ‘ یہی نقطہ نظر اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کا ہے۔ کئی علماء نے اسی کو اختیار کیا ان میں حضرت نحاس ‘ طبری اور دوسرے علماء ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا : مجھے خواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دکھائے گئے آپ قربان گاہ میں آئے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرائی یہاں تک کہ منی میں مینڈھے کو ذبح کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مینڈھے کو ذبح کیا آپ نے ایک ماہ کی مسافت ایک رات میں ممل کی آپ کے لئے وادیاں اور پہاڑ لپیٹ دیئے گئے تھے ‘ یہ قول نبی م کریم ﷺ ‘ صحابہ اور تابعین سے نقل کرنے میں بہت قوی ہے۔
دوسرے علماء نے کہا : ذبیح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جن علماء نے یہ بات کہی ان میں حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ ہیں یہی قول حضرت عمر اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے تابعین میں سے سعید بن مسیب ‘ شعبی یوسف بن مہران ‘ مجاہد ‘ ربیع بن انس ‘ محمد بن کعب قرظی ‘ کلبی اور علقمہ سے مروی ہے۔ ابو سعید ضریر سے ذبیح کے بارے میں پوچھا گیا : تو انہوں نے یہ اشعار کہے :
ان الذبیح ھدیت اسمعیل نطق الکتاب بذالک والتنزیل
شرف بہ خص الالہ نبینا و اتی بہ التفسیر والتاویل
ان کنتب امتہ فلا تنکرلہ شرفا بہ قد خصہ التفصل
تجھے ہدایت نصیب ہو بیشک ذبیح حضرت اسماعیل ہیں کتاب و سنت اس کے بارے میں ناطق ہیں یہ ایسا شرف ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کو خاص کیا تفسیر و تاویل اسی بارے میں آئی ہے اگر تو رسول اللہ ﷺ کی امت ہے تو تو ان کے لئے ایسے شرف کا انکار نہ کر جسے فضیلت نے خاص کیا ہے۔
اصمعی نے کہا : میں ابو عمرو بن علاء سے ذبیح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اے اصمعی ! تیری عقل تجھ سے کہاں چلی گئی ؟ حضرت اسحاق (علیہ السلام) مکہ مکرمہ میں کہاں چلی گئی ؟ حضرت اسحاق (علیہ السلام) مکہ مکرمہ میں کہاں تھے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مکہ مکرمہ تھے انہوں نے ہی اپنے والد کے ساتھ بیت اللہ کی تعمیر کی اور قربان گاہ مکہ مکرمہ میں ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ ” ذبیح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں “۔
پہلی تعبیر نبی کریم ﷺ ‘ صحابہ کرام اور تابعین سے بہت زیادہ سندوں کے ساتھ منقول ہے۔
ان علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بارے میں یہ خبر دے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنی قوم کے ہاں ہجرت کی تو آپ نے شام کی جانب اپنی بیوی حضرت سارہ اور اپنے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کی فرمایا : میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ‘ مجھے ضرور ہدایت عطا فرمائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی : رب ھب لی من الصلحین۔ اے اللہ ! مجھے ایک صالح بچہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا : فلما اعتزلھم وما یعبدون من دون اللہ و ھبنا لہ اسحاق و یعقوب) مریم (49: اور کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : و قدینہ بذبح عظیم۔ اس میں یہ ذکر کیا ہے کہ فدیہ حلیم بچہ میں ہوا جس حلیم بچے کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دی گئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت تو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی دی گئی تھی کیونکہ ارشاد فرمایا : و بشرنہ باسحق اور یہاں فرمایا : بغلم حلیم۔ یہ واقعہ اس سے قبیل کا ہے جب آپ نے حضرت ہاجرہ سے نکاح کیا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ قرآن میں صرف یہ ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی بشارت دی گئی۔
جس نے کہا : اس سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں ‘ وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت صبر سے بیان کی حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی صفت بیان نہیں کی ارشاد فرمایا : و اسمعیل و ادریس و ذالکفل کل من الصبرین۔ ) الانبیائ ( وہ ان کا ذبح پر کرنا تھا اس کی صفت صدق وعد سے بیان کی فرمایا : انہ کان صادق الوعد) مریم (54: اس نے اپنے باپ سے صبر پر وعدہ کیا اور اسے پورا کردیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و بشرنہ باسحق نبیا تو اسے ذبح کرنے کا کیسے حکم دے سکتے تھے جب کہ ان کے بارے میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ نبی ہونگے نیز یہ ارشاد فرمایا : فبشرنھا باسحق و من وراء اسحاق یعقوب۔ ) ہود (71: تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں وعدہ پورا ہونے سے قبل کیسے انہین ذبح کا حکم ہو سکتا تھا۔
نیز یہ بھی وارد ہے کہ مینڈھے کے سینگوں کو بیت اللہ شریف میں لٹکا دیا گیا۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اگر ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہوتے تو ذبح کا عمل بیت المقدس میں ہوتا۔ پس یہ استدلال نزاع کو ختم نہیں کرتا۔
جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا کیسے حکم دیا جاسکتا ہے جب کہ ان کے بارے میں وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ نبی ہوں گے ؟ کیونکہ اس کے بارے میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ذبح کے حکم کے بعد ان کے لئے نبوت کی بشارت دی گئی ہو ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اس کی وضاحت بعد میں آئے ممکن ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ذبح کا حکم حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد ہو تو یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن حکیم میں یہ تو مذکر نہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ولادت حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے ہوگی۔
جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ اگر ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہوتے تو ذبح کا عمل بیت المقدس میں ہوتا ؟ اس کا جواب وہ ہے جو سعید بن جبیر نے دیا ہے جس کا زکر پہلے ہوچکا ہے۔ زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ذبیح دونوں میں سے کون ہے ؟ یہ تسرلا مذہب ہے۔
مسئلہ نمبر -2 مقاتل نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تین راتیں پے در پے خواب دیکھا۔ محم دبن کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسولوں کے پاس وحی بیداری اور نیند کی حالت میں آتی ہے کیونکہ انبیاء کے دل نہیں سوتے یہ حدیث میں ثابت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ہم جو انبیاء کی جماعت ہیں ہماری آنکھیں سو جاتی ہیں ہمارے دل نہیں سوتے “۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور اسی آیت سے استدلال کیا۔ سدی نے کہا : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق کو ولادت سے قبل ہی ان کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا۔ پھر وہ اللہ کے لئے ذبیح ہے انہیں خواب میں کہا گیا : تو نے ایک نذر مانی تھی تو اپنی نذر پوری کرو (1) ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آٹھویں ذی الحجہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے : اللہ تعالیٰ تجھے اپنا بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جب آپ نے صبح کی تو آپ نے اپنے دل میں سوچا کیا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا شطاتن کی جانب سے ہے ؟ تو اس کو یوم ترویہ کا نام دیا گیا جب اگلی رات ہوئی تو آپ نے وہی خواب دیکھا تو آپ کو وعدہ یاد دلایا گیا جب صبح کی تو پہچان گئے کہ یہ خواب اللہ کی جانب سے ہے تو اسے یوم عرفہ کا نام دیا گیا پھر تیسری رات بھی یہی خواب دیکھا تو آپ نے ذبح کا ارادہ کیا تو اسے یوم نحر کا نام دیا گیا۔
یہ روایت کی جاتی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذبح کیا تو حضرت جبریل امین نے کہا : اللہ اکبر اللہ اکبر تو حضرت ذبیح (علیہ السلام) نے کہا : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اللہ اکبر و للہ الحمد۔ توبہ تکبیر سنت بن گئی۔ اس امر کے وقوقع میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
مسئلہ نمبر -3 اہل سنت نے کہا : نفس ذبح واقع نہیں ہوا ذبح کا امر ذبح کے وقوع سے پہلے واقع ہوگیا اگر یہ ذبح کا عمل ہوجاتا تو اس کے اٹھانے کا تصور نہ ہوتا یہ چیز فعل کے وقوع سے پہلے نسخ کے بات سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ اگر ذبح کے امر کی اطاعت سے فراغت حاصل ہوجاتی تو فدیہ کا ثبوت نہ ہوتا اللہ تعالیٰ کا فرمان : قد صدقت الریا سے مراد یہ ہے کہ ہم نے آپ کو جس سے آگاہ کیا اس کو آپ نے ثابت کردیا جو آپ کے لئے ممکن تھا وہ آپ کے کر گزرے پھر جب ہم نے تجھے روک دیا تو تم رک گئے۔ اسے بارے میں جو کچھ کہا گیا یہ اس میں صححپ ترین ہے۔
ایک طائفہ نے کہا : یہ ان چیزوں میں سے نہیں جو کسی وجہ سے منسوخ ہو کیونکہ ذبحت الشی کا معنی ہے میں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا ‘ مجاہد کے قول سے اس پر استدلال کیا جاتا ہے۔ حضرت اسحاق نے حضرت ابراہیم سے عرض کی : لا تنظر الی فتحر حمنی ولکن اجعل وجھی الی الارض میری طرف مت دیکھنا کہ کہیں تمہیں مجھ پر رحم آجائے بلکہ میرا چہرہ زمین کی طرف کردینا ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چھری لی اسے حضرت اسحاق کے حلق پر پھیرا تو وہ الٹی ہوگئی تو حضرت اسحاق نے پوچھا : تجھے کیا ہوا ہے ؟ فرمایا : چھری الٹ گئی ہے۔ حضرت اسحاق نے کہا : اسے نیزے کی طرح مجھ میں چبھو دیں۔ بعض نے کہا : جب بھی آپ کوئی حصہ کاٹتے تو وہ جڑ جاتا۔ ایک طائفہ نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا حلق تانبے سے ڈھکا ہوا پایا جب آپ اسے کاٹنے کا ارادہ کرتے تو اسے محفوظ پاتے۔ یہ سب قدرت الہیہ میں جائز ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ سند صحیح ہو کیونکہ یہ ایک ایسا امر ہے جس کو نظر و فکر سے نہیں جانا جاسکتا اس کے جاننے کا طریقہ خبر ہی ہے اگر یہ ایسا ہوا ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعظیم کے لئے ضرور بیان کرتا اور فیہ کو بیان کرنے سے اس کی وضاحت کرنا زیادہ مناسب ہوتی۔
بعض علماء نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ذبح حقیقی کا حکم نہیں دیا گیا تھا جس سے مراد رگوں کو کاٹنا اور خون بہانا تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا تھا کہ انہوں نے بیٹے کو ذبح کے لئے لٹایا ہے تو انہیں وہم ہوا کہ اسے ذبح حقیقی کا حکم دیا گیا ہے جب آپ نے وہ کام کردیا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا یعنی پہلو کے بل لٹانے کا تو آپ کو کہہ دیا گیا : قد صدقت الرء یا تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ تعبیر مفہوم سے خارج ہے ‘ خلیل اور ذبیح کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں اس امر سے وہ سمجھیں جو اس کا حقیقی معنی و مفہوم نہ ہو یہاں تک کہ دونوں کو وہم ہوا ہو۔ اگر یہ چیزیں صحیح ہوں تو فدیہ کی کوئی ـضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر -4 عاصم کے علاوہ دوسرے کوفہ کے علماء نے اسے ماذتری پڑھا ہے یعنی تاء مضموم ہے اور راء مکسور ہے۔ فراء نے کہا : معنی ہے دیکھ تو سہی تو اپنے صبر اور جزع میں سے کیا دیکھتا ہے (1) ۔ زجاج نے کہا : یہ قول اس کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا۔ علماء نے کہا : تو کیا رائے رکھتا ہے۔ ابو عبیدہ نے تری کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ آنکھ کے ساتھ دیکھنے کو خاص ہے۔ ابر حاتم نے بھی اس طرح کہا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ غلط ہے یہ آنکھ سے اور دوسری یز سے دیکھنا ہے ‘ یہی مشہور ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : اریت فلانا الصواب اریتہ رشدہ تو فلاں کو صحیح خیال کیا ہے ‘ تو نے اسے ہدایت یافتہ خیال کیا ہے ‘ یہ آنکھ سے دیکھنا تو نہیں۔ باقی قراء نے تری پڑھا ہے جو رایت کا مضارع ہے۔ ضحاک اور اعمش سے تری مجہول کا صیغہ مروی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں یہ بات اس لئے نہیں کہی کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں مشورہ کریں آپ نے ان سے اس لئے مشورہ کیا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کے امر کے بارے میں اس کے صبر کو جان لیں یا تاکہ آپ کی آنکھ ٹھنڈی ہو جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں اپنے بیٹے کی فرمانبرداری کو دیکھیں۔
قال یا بت افعلما تو مرا اصل میں ما تومریہ ہے یہاں سے حرف جار کو حذف کردیا گیا ہے جس طرح اس قول سے حرف جار کو حذف کردیا گیا ہے
امرتک الخیر فافعل ما امرت بہ (1)
اصل میں بالخیر تھا فعل کو ضمیر کے ساتھ ملا دیا گیا ہے تو یہ تومرہ ہوگیا پھر ضمیر کو حذف کردیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وسلم علی عبادہ الذین اصطفی) النمل (59: اصل میں اصطفاھم تھا جس طرح پہلے بحث گذر چکی ہے ما ‘ الذی کے معنی میں ہے یعنی اہل اشارہ نے کہا : جب انشاء اللہ کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے صبر کی توفیق دی۔ یا ابت اور یا بنی کے بارے میں گفتگو پہلے سورة یس وغیرہ میں گذر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر -5 جب دونوں نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت علی شیر خدا ؓ نے فلما سلما قراءت کی انہوں نے پانے معمالہ کو اللہ کے سپرد کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے جب دونوں نے تابعداری کی۔ قتادہ نے کہا : جب ان دونوں میں سے ایک نے اپنا آپ اللہ کے سپرد کیا اور دوسرے نے اپنا بیٹا سپرد کردیا۔ و تلہ للجبین۔ قتادہ نے کہا : اسے منہ کے بل گرایا اس کے چہرہ کو قبلہ کی طرف کیا۔ بصریوں کے نزدیک لما کا جواب مخدوف ہے تقدیر کلام یوں ہوگی فلما اسلما و تلہ للجبین فدیناہ بکش کو فیوں نے کہا جواب : نادینہ ہے وائو زئادہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فلما ذھبوا بہ و اجمعوا ان یجعلوہ فی غیبت الجب واو حینا) یوسف (15: یہ اوحیناہ ہے وائو زائدہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و ھم من کل حدب ینسلون۔ واقترب) الابنبیاء ( یہ بھی اقترب تھا وائو زئاہد ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی اذا جاء و ھا و فتحت ابوا بھا و قال) المر (73: اصل میںء قال تھا وئود زائدہ ہے یعنی قالم لھم۔ امرء القیس نے کہا :
فلما اجزنا ساحتہ و انتحی
اصل میں انتحی تھا وائوز زائد ہے یہ بھی کہا :
حتی اذا حملت بطونکم ورایتم ایناکم شبوا
و قلبتم ظھر المجن لنا ان اللیم الفجر الحب
یہاں تک کہ تمہارے پٹیوں نے اٹھایا اور تم نے اپنے بیٹوں کو دیکھا کہ وہ جوان ہوگئے۔ اور تم نے ہمارے لئے اپنی دشمنی کو ظاہر کردیا بیشک کمینہ فاجر نقصان اٹھانے والا ہوتا ہے۔
یہ بھی اصل میں قلبتم تھا وائو زائدہ ہے۔
نحاس نے کہا : وائو حروف معانی میں سے ہے اسے زائد کرنا جائز نہیں ‘ حدیث میں ہے کہ ذبیح نے حضرت ابراہیم السلام سے کہا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذبح کرنے کا ارادہ کیا۔ اے میرے والد ! میرے اعضاء کو باندھ دو تاکہ میں نہ پھڑکوں ‘ اپنے کپڑوں کو سمیت لو تاکہ میرے خون کا کوئی چھینٹا اس پر نہ پڑے کہ میری مان دیکھے اور وہ غمگین ہوجائے ‘ چھری کو میرے حلق پر جلدی چلنا تاکہ مجھ پر موت آسان ہوجائے ‘ مجھے منہ کے بل لٹانا تاکہ تو میرے چہرے کو نہ دیکھے کہ تجھے مجھ پر رحم آجائے اور میں چھری کو نہ دیکھوں کہ میں گھبرا جائوں ‘ جب تو میری ماں کے پاس جائے اسے میرا سلام کہنا۔
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چھری چلائی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی گردن پر تانبا چڑھا دیاچھری نے کچھ عمل نہ کیا پھر اس کی پیشانی پر مارا اور پھر اس کی گدی میں اسے چلایا تو چھری نے کچھ عمل نہ کیا اللہ تعالیٰ کے فرمان : و تلہ للجبین کا یہی معنی ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اسی طرح کہا ہے : اس کا معنی ہے اسے اس کے منہ بل گرا دیا تو ندا دی گئی : یا برھیم۔ قد صداقت الریا آپ متوجہ ہوئے تو وہاں ایک مینڈھا کھڑا تھا ‘ یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اس کی عدم صحت کے بارے میں اشارہ پہلے گذر چکا ہے ‘ معنی یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب کا اعتقاد کرلیا اور عمل کے لئے تیار ہوگئے۔ یہ ذبح کی حالت ہے اور یہ مذبوح کی صورت ہے دونوں نے ذبح کی وجہ فدیہ دے دیا وہاں چھری کا چلنا نہیں۔ اس تاویل کی بنا پر فعل کے بجا لانے سے قبل نسخ کا ثبوت متحقق ہوتا ہے جس طرح پہلے گذر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
جوہر نے کہا : و تلہ للجبین یعنی اسے نیچے لٹایا جس طرح تو کہتا ہے : کبہ لو جھہ اسے منہ کے بل گرا دیا۔ مہدوی نے کہا : تل کا معنی دھکا دینا اور گرانا ہے اسی معنی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے : و ترکوک لمتلک یہ لمصرعک کے معنی میں ہے ایک اور حدیث میں ہے : فجاء بنا قۃ کو ماء فتلھا وہ اونچی کہ ان والی اونٹی لایا تو اسے بٹھایا۔ حدیث طیبہ خزانوں کی چابیاں دی گئیں تو وہ میرے ہاتھ میں دے دی گئیں۔ ابن انباری نے کہا : میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں یہ جملہ کہا جاتا ہے : تللت الرجل جب تو اسے گرائے۔ ابن اعرابی نے کہا : تو تیرے ہاتھ میں ڈال دی گئیں۔ تل کا معنی ڈالنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : تل یتل جب اسے انڈیلا جائے تل یتل جب وہ گر جائے۔
بعض اہل اشارہ نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوی کیا پھر اپنے بچے کو محبت کی نظر سے دیکھا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا محبوب مشترک محبت پر راضی نہ ہوا ‘ اسے حکم دیا گیا : اے ابراہیم ! میری رضا کی خاطر اپنے بچے کو ذبح کرو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آستین چڑھا لیں ‘ چھری پکڑلی ‘ اپنے بچے کو پہلو کے بل لٹا دیا پھر یوں دعا کی : اے اللہ ! اپنی رضا کی خاطر مجھ سے یہ قبول کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : اے ابراہیم ! مقصود بچے کو ذبح کرنا نہیں تھا ‘ مقصود یہ تھا کہ تو اپنے دل کو میری طرف پھیر دے جب تو نے اپنے دل کو کلیۃ میری طرف پھیر دیا تو ہم نے تیرا بچہ تیری طرف لوٹا دیا ہے۔
کعب اور دوسرے علماء نے کہا : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں ان کے بچے کو ذبح کو دیکھا گیا تو شیطان نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے اس مرحلہ میں آل ابراہیم کو آزمائش میں نہ ڈالا تو میں ان میں سے کسی کو بھی آزمائش میں نہ ڈال سکوں گا ‘ شیاطن نے ان کے سامنے ایک انسان کی شکل اختیار کی پھر اس بچے کی ماں کے پاس آیا پوچھا : کیا تو جانتی ہے ابراہیم تیرے بیٹے کو کہاں لے جا رہا ہے ؟ کہا : نہیں۔ اس نے کہا : وہ اس کو ذبح کرنے کے لئے لے جا رہا ہے۔ بچے کی ماں نے کہا : ہر گز نہیں وہ اس کے بارے میں اس سے زیادہ شفیق ہے۔ شیطان نے کہا : ابراہیم کا خیال ہے اس کے رب نے اسے اس کا حکم دیا ہے۔ بچے کی ماں نے کہا : اگر اس کے رب نے اسے اس کا حکم دیا ہے تو اس کا اپنے رب کی اطاعت کرنا بہت اچھا ہے۔ پھر شیطان بچے کے پاس آیا کہا : کیا تو جانتا ہے تیرا باپ تجھے کہاں لے جا رہا ہے ؟ نہیں۔ کہا : وہ تجھے ذبح کرنے کے لئے لے جا رہا ہے۔ پوچھا : کیوں ؟ اس کا گمان ہے کہ اس کے رب نے اسے یہ حکم دیا ہے۔ بچے نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا ہے وہ اسے ضرور کرنا چاہیے ‘ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علہہ السلام نے تجھے تیرا بیٹا ذبح کرنے کے حکم دیا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شیطان کو پہچان گئے فرمایا : اے اللہ کے دشمن ! مجھ سے دور ہوجا ‘ اللہ کی قسم ! میں اپنے رب کے حکم پر ضرور عمل کروں گا۔ ملعون نے ان سے کچھ حصہ نہ پایا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ٭ پھر درمیان جمرہ کے پاس شطان آیا اپ نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک وہ چلا گیا پھر آخری جمرہ کے پاس شیطان ان کے سامنے آیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے ساتھ کنکریاں مارکیں یہاں تک وہ چلا گیا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لائے (1) ۔
اس جگہ کے بارے میں اختلاف ہے جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذبح کا ارادہ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مکہ مکرمہ میں مقام ابراہیم پر ایک قول یہ کیا گیا : منی میں قربان گاہ میں جروں کے پاس جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابلیس کو کنکریاں ماری تھیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن عمر ‘ محمد بن کعب اور سعید بن مسیب کا قول ہے۔
سعید بن جبیر سے یہ مروی ہے کہ آپ نے منی کے ثبیر پہاڑ کے نیچے چٹان پر ذبح کیا تھا۔ ابن جریج نے کہا : آپ نے شام میں ذبح کیا تھا جو بیت المقدس سے میل کے فاصلہ پر تھا۔
پہلا قول اکثر بیان کیا گیا ہے کیونکہ احادیث میں یہ وارد ہے کہ مینڈھے کے سینگوں کے کعبہ کے ساتھ لٹکایا گیا تھا یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ میں ذبح کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اسلام کا ابتدائی دور تھا اس مینڈھے کا سر اپنے دونوں سینگوں کے ساتھ میزاب کعبہ کے ساتھ لٹکا ہوا تھا وہ خشک تھا۔
جس نے یہ کہا کہ ذبح کا عمل شام میں ہوا تھا اس نے سر کے لٹکانے کا یہ جواب دیا : ممکن ہے یہ سر ‘ شام سے مکہ مکرمہ کی طرف لایا گیا ہو ‘ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر -6 دنیا و آخرت میں شدائد سے چھٹکارے کے ساتھ انہیں جزا دیں گے یہ ظاہر و باہر نعمت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ابلاہ اللہ ابلاء و بلاء جب وہ اس پر احسان کرے۔ بعض اوقات بلاہ بھی کہا جاتا ہے ‘ زبیر نے کہا :
فا بلا ھما خیرا لبلاء الذی یبلو اس نے ان دونوں پر بہترین احسان و انعام کیا۔
ایک قوم کا گمان ہے یہ دونوں لغتوں کے ساتھ آیا ہے ‘ دوسرے علماء نے کہا : بلاہ یبلوہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اس کا امتحان لے ‘ اختبار کے لئے بلاہ یبلوہ استعمال کرتے ہیں ابتلاء کے لئے یبلوہ کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اختیار کی اصل یہ ہے کہ وہ بھلائی کی صورت میں ہو یا شر کی صورت میں ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و نبلوکم بالشر والخیر فتنۃ) الانبیاء (35: ابو زید نے کہا : یہ بھی اس آزمائش میں سے تھا کہ ان پر یہ حکم نازل ہوا کہ وہ اپنے کو ذبح کریں۔ کہا : یہ ایسی آزمائش تھی جو پسندیدہ نہ تھی۔
مسئلہ نمبر -7 ذبح مذبوح کا اسم ہے اس کی جمع ذبوح آتی ہے جس طرح طعن مطحون کا اسم ہے۔ ذبح فتح کے ساتھ ہو تو مصدر ہوت ا ہے ‘ عظیم سے مراد قدر و منزلت کی عظمت ہے اس سے عظیم الجثہ مراد نہیں اس کی قدر کو عظیم قرار دیا کیونکہ اس کے ساتھ ذبیح کا فدیہ دیا اس وجہ سے اس کی عظیم صفت ذکر کی کیونکہ وہ عمل قبول ہوا۔ نحاس نے کہا : لغت میں عظیم کا لفظ کبیر اور شریف کے لئے بولا جاتا ہے۔ اہل تفسیر نے کہا : یہاں یہ شریف کے معنی میں استعمال ہوا ہے یا جو قبول ہوا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ مینڈھا ہے جو حضرت ہابیل نے قربانی کے طور پر دیا تھا ‘ یہ جنت میں چرتا پھرتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ حضرت اسماعیل کا فدیہ دیا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس سے مراد وہ مینڈھا ہے جو اللہ نے جنت سے بھیجا ‘ یہ چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا تھا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا فدیہ پہآری بکروں میں سے نر کو دیا گیا جو ثبیر پہاڑ سے نیچے اترا تھا ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے اپنے بیٹے کے فدیہ کے طور پر زبح کیا تھا ‘ یہ حضرت علی شیر خدا ؓ کا قول ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے دیکھا اسے پکڑا اسے ذبح کیا اور اپنے بیٹے کو آزاد کردیا اے بیٹے ! آج تو مجھے ہبہ کیا گیا ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : یہ قول کیا گیا ہے آپ نے وعل فدیہ دیا ‘ وعل سے مراد پہاڑی نر ہے۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ مینڈھے کو دیہ کے طور پر دیا گیا۔
مسئلہ نمبر -8 اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ غنم) بھیڑ بکری ( کی قربانی اونٹ اور گائے سے افضل ہے ‘ یہ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے ‘ انہوں نے کہا : قربانیوں میں سے بہترین بھیڑوں میں سے نر ہے بھیڑوں میں سے مادہ ‘ بکری کے نر سے بہتر ہے اور بکریوں میں سے نر ‘ اونٹ اور گائے سے بہترین ہے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و فدیینہ بذیح عظیم۔ یعنی جس کا جسم بھاری اور موٹا تھا یہ مینڈھا تو ہو سکتا ہے اونٹ اور گائے نہیں ہو سکتی۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ان سے ایک آدمی نے پوچھا : میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنے بیٹے کو قربان کروں ؟ فرمایا : تیرے لئے موٹا مینڈھا کافی ہے پھر یہ آیت پڑھی : و فدینہ بذبح عظیم۔۔
بعض علماء نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں مینڈھے اسے افضل حیوان ہوتا تو اس کے ساتھ حضرت اسحاق کا فدیہ دیتا۔
رسول اللہ ﷺ نے دوسرمگیں مینڈھوں کی قربانی دی جس کی اکثر قربانی دی جاتی ہے وہ مینڈھا ہی ہوتا ہے۔
ابن ابی شیبہ ‘ ابن علیہ سے وہ لیث سے وہ مجاہد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ذبح سے مراد بڑی بکری ہے۔
مسئلہ نمبر -9 اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ کونسی چیز افضل ہے قربانی یا اس کی قیمت کا صدقہ ؟ امام مالک اور آپ کے شاگردوں کا نقطہ نظر ہے : قربانی افضل ہے مگر منی میں کیونکہ وہ قربانی کی جگہ نہیں ‘ یہ ابو عمر نے حکایت بیان کی ہے۔ ابن منذر نے کہا : اسے ہم نے بلال سے روایت کیا ہے کہ کہا : مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں ایک مرغے کی قربانی کروں ایک یتیم کے ہاتھ میں دے دینا جو خاک نشین ہے ‘ محدث نے اس طرح کہا ہے ‘ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس کی قربانی دوں ‘ یہ امام شافعی کا قول ہے کہ صدقہ افضل ہے یہی امام مالک اور ابو ثور کا قول ہے۔ اس میں دوسرا قول بھی ہے ابو عمر اور امام احمد بن حنبل نے کچھ اضافہ کیا ہے انہوں نے کہا : قربانی صدقہ سے افضل ہے کیونکہ قربانی نماز عید کی طرح سنت مئوکدہ ہے اور یہ بات معلوم و مشہور ہے کہ نماز عید تمام نوافل سے افضل ہے اس طرح سنن تمام نوافل سے افضل ہے۔ ابو عمر نے کہا : قربانی کی فضیلت میں آثار حسن مروی ہیں ان میں سے ایک سعید بن دائود سے مروی ہے وہ ابو زنبر سے وہ مالک سے وہ ثور بن زید سے وہ عکرمی سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : صلہ رحمی کے بعد کوئی نقطہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خون بہانے) قربانی کرنے سے افضل نہیں “ (1) ۔ ابو عمر نے کہا : قربانی کی فضیلت میں آثار حسن مروی ہیں ان میں سے ایک سعید بن دائودہ سے مروی ہے وہ ابو زنبر سے وہ مالک سے وہ ثور بن زید سے وہ عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” صلہ رحمی کے بعد کوئی نفقہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خون بہانے) قربانی کرنے ( سے افضل نہیں “۔ (1) ۔ ابو عمر نے کہا : یہ حدیث غریب ہے جو مالک سے مروی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے : اے لوگو ! قربانی اور خوش دلی سے دو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے بھی اپنی قربانیکو قبلہ رولٹا یا اس کا خون ‘ اس کے سینگ اور اس کی اون قیامت کے روز اس کے میزان میں حاضر کیے جائیں گے کیونکہ خون اگر مٹی میں واقع ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں چلا جاتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے روز قربانی کرنے والے کو اس کا پورا پورا حساب دیا جاتا ہے “ ابو عمر نے یہ روایت کتاب ” التمہید “ میں ذکر کی ہے۔
امام ترمذی نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوم نحر کے اعمال میں کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں خون بہانے ‘ قربانی دینے سے بہتر نہیں قیامت کے روز وہ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں ذیشان مقام تک جا پہنچتا ہے ‘ خوش دلی سے قربانی دیا کرو (1) “ کہا اس بات میں عمران بن حسین زید بن ارقم سے بھی یہ روایت مروی ہے ‘ یہ حدیث حسن ہے (2) ۔
مسئلہ نمبر 10 ۔ قربانی واجب نہیں بلکہ سنت اور معروف ہے۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ قربانی والے دن دو درہم دے کر مجھے بھیجتے میں ان کے لئے گوشت خرید کر لاتا اور کہتے : جس سے تو ملے تو اسے کہنا : یہ حضرت ابن عباس ؓ کی قربانی ہے۔
ابو عمر نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ سے جو مروی ہے اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں جو مروی ہے کہ وہ قربانی نہیں دیا کرتے تھے اہل علم کے نزدیک اس کا مصداق یہ ہے کہ اس عمل پر دوام سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ عمل واجب و فرض ہے ‘ وہ ائمہ تھے ‘ ما بعد لوگ ان کی اقتدا کیا کرتے تھے دینی معاملے میں ان کی طرف دیکھا جاتا تھا کیونکہ یہ ہستیاں نبی کریم ﷺ اور ان کی امت کے درمیان واسطہ تھیں ان کے لئے اس بارے میں ایسا اجتہاد جائز تھا جو کسی اور کے لئے جائز نہیں :
امام طحاوی نے اپنی مختصر میں یہ روایت نقل کی ہے کہ امام ابوحنیفہ نے کہا : قربانی مقیم لوگوں پر واجب ہے جب کہ وہ قربانی پاتے ہوں اور شہروں میں مقیم ہوں مسافر پر واجب نہیں کہا : آدمی پر اپنے چھوٹے بچے کی جانب سے قربانی اسی طرح واجب ہے جس طرح اس پر اپنی ذات کی جانب سے واجب ہوتی ہے۔
ابو عمر نے کہا : یہ امام مالک کا قول ہے۔ کہا : کسی کے لئے اسے ترک کرنا مناسب نہیں وہ مسافر یا مقیم ہو اگر اسے ترک کیا تو اس نے کتنا ہی برا عمل کیا ہاں جب اس کے لئے عذر ہو منی میں حاجی کے لئے ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
امام شافعی نے کہا : تمام لوگوں پر سنت ہے منی میں حاجیوں پر قربانی کرنا سنت ہے یہ واجب نہیں جو علماء اسے واجب قرار دیتے ہیں وہ اس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بردہ بن نیار کو حکم دیا کہ دوبارہ قربانی دے کیونکہ جو واجب نہ ہو اس کے دوبارہ بجا لانے کا حکم نہیں دیا جاتا۔
دوسرے علماء نے حضرت ام سلمہ ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کہا : ” جب ذی الحجہ کا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی قربانی دینے کا دینے کا ارادہ کرے (3) ۔ “ انہوں نے استدلال کیا : اگر قربانی واجب ہوتی تو اس امر کو قربانی کرنے کے ارادہ کی طرف منسوب نہ کیا جاتا یہ حضرت ابوبکر صدیق ‘ حضرت عمر ‘ حضرت ابو مسعود بدری اور حضرت بلال کا نقطہ نظر ہے۔
مسئلہ نمبر -11 مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ جن جانوروں کی قربانی دی جاسکتی ہے ان کی آٹھ قسمیں ہیں : بھیڑ ‘ بکری ‘ اونٹ اور گائے) یعنی اس میں سے مذکر اور مونث ( ابن منذر نے کہا : حسن بن صالح سے مروی ہے کہا : امام شافعی نے کہا : اگر جنگلی بیل ‘ پالتو گائے پر واقع ہوتا ہے یا پالتو بیل جنگلی گائے پر واقع ہوتا ہے تو ان سے جنم لینے والا جانور قربانی نہیں دیا جاسکتا۔ اصحاب رائے نے کہا : یہ جائز ہے کیونکہ اس کا بچہ ماں کے قائم مقام ہوتا ہے۔ ابو ثور نے کہا : اس کی قربانی جائز ہے جب وہ انعام کی طرف منسوب ہے) یعنی جب وہ انعام میں داخل ہے (۔
مسئلہ نمبر 12 ۔ ذبح کے وقت اور قرانی کا گوشت کھانے کے بارے میں مفصل گفتگو سورة الحج میں گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ” نبی کریم ﷺ نے دوسرمگیں سنگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح کیے بسم اللہ شریف پڑھی اور تکبیر کہی اور اپنے پائوں کو اس کی پسلیوں پر رکھا (1) “ ایک روایت میں ہے کہ آپ کہہ رہے تھے : بسم اللہ واللہ اکبر۔ سورة انعام میں حضرت عمران بن حصین کی حدیث گذر چکی ہے اور سورة ٗ مائدہ میں ذبح کرنے کا طریقہ اس کی وضاحت ‘ جس کے ساتھ ذبح کیا جانا ہے اور جنین کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے مفصل گذرچکا ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ والے مینڈھے کا حکم دیا۔ فرمایا ” اے عائشہ ! چھری لائو “ پھر فرمایا :” اے پتھر پر تیز کرو “ تو میں نے ایسا ہی کیا پھر حضور ﷺ نے چھری پکڑی اور اس مینڈھے کو پکڑا اسے پہلو کے بل لٹایا اور ذبح کیا پھر کہا : بسم اللہ اللھم تقبل من محمد و آل محمد و من امۃ محمد (2) بسم اللہ ‘ اے اللہ ! محمد ‘ آل محمد اور امت محمد) ﷺ ً ( کی جانب سے قبول فرما پھر اسے چاشت کے وقت کھایا۔
علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے حضرت حسن بصری قربانی کے بارے میں کہا کرتے تھے بسم اللہ واللہ اکبر ھذا منک و لک تقبل من فلان ‘ بسم اللہ ‘ اللہ اکبر ‘ یہ تیری جانب سے ہے ‘ تیرے لئے ہے اسے فلاں سے قبول فرما۔ امام مالک نے کہا : اگر اس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کا ہ اگر اس نے اس طرح نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا تو یہ اسے کافی ہوجائے گا۔
امام شافعی نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی اور کا نام لینا میرے نزدیک مکردہ ہے میرے نزدیک یہ کہنا بھی مکروہ ہے کہ وہ ذبح کرتے وقت کہے۔ : اے اللہ ! فلاں کی جانب سے اسے قبول فرما اور اس نے بسم اللہ کہنے سے قتل یا ذبح کے لئے لٹانے سے قتل ایسا کہا تو پھر کوئی حرج نہیں۔ حضرت عائشہ کی حدیث اس قول کا رد کرتی ہے یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے بیٹے کو ذبح کرے کا ارادہ کیا تھا تو کہا تھا : اللہ اکبر والحمد للہ تو یہ سنت کے طور پر باقی رہا۔
مسئلہ نمبر -13 حضرت براء بن عازب ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : کن کن جانوروں کی قربانی سے بچنا چاہیے ؟ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہا ” چار “ حضرت براء اپنے سے اشارہ کرتے اور کہتے میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے لنگڑی : ” جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ‘ کانی جس کا کانا پن ظاہر ہو ‘ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو ‘ کمزور جس کی ہڈیو میں گودا نہ ہو “ (1) ۔ امام مالک کے الفاظ ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں تھوڑے سے عیب میں اختلاف ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں اور ہم مقابلہ ‘ مدابرہ اور خرقاء کی قربانی نہ دیں کہا : مقابلہ سے مراد ہے جس کے کان کی ایک طرف کٹی ہو ‘ مدابرہ جس کے کان کی جانب کٹی ہوئی ہو ‘ شرقاء جس میں شق ہے ‘ خرقاء جس میں سوراخ ہو (2) “ کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
مئوطا شریف میں حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ایسی صحایا اور بدن سے بچتے جو مبسنہ نہ ہوں اور جن میں کوئی عیب ہو۔ امام مالک نے کہا : میں نے اسے بارے میں جو کچھ سنا اس میں سے یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔
قتبی نے کہا : لم تسنن کا معنی ہے جس کے دانت نہ اگے ہو گویا اسے دانت دیئے ہی نہیں گئے یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے : فلان لم یلبن یعنی اسے دودھ نہیں دیا گیا ‘ لم یسمن سے گھی نہیں دیا گیا ‘ لم یعسل اسے شہید نہیں دیا گیا یہ ایسے ہی ہے جیسے قربانیوں میں ہتماء) جس کے اگلے دانت جڑ سے ٹوٹے ہوئے ہوں ( سے منع کیا گیا ہے۔ ابو عمر نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایسی بکری کو قربانی دینا جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں اس کا عیب خفیف نہیں نقصان سب کا سب مکروہ ہے اس کی وضاحت اور تفصیل کتب فقہ میں ہے۔
نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث مروی ہے “ اپنی سواریوں کو موٹا کرو کیونکہ یہی پل صراط پر تمہاری سواریاں ہیں “ (3) ۔
مسئلہ نمبر -14 یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جس آدمی نے نذر مانی کہ وہ اپنے بیٹے کو نحر کرے گایا اسے ذبح کرے گا تو وہ ایک مینڈھا اس کا فدیہ دے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کا فدیہ دیا تھا۔ امام شافعی نے یہ دونوں روایتیں ان سے نقل کی ہیں۔ قاسم بن محمد نے ان سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ کفارہ یمین کافی ہوجائے گا۔ مسروق نے کہا : اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ امام شافعی نے کہا : یہ معصیت ہے وہ ایسی نذر ماننے پر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے۔
امام ابوحنیفہ نے کہا : یہ ایسا کلمہ ہے جس کی وجہ سے اولاد کے حق میں تو اس پر بکری ذبح کرنا لازم ہوگی اولاد کے علاوہ میں کوئی چیز لازم نہ ہوگی۔ امام محمد نے کہا : جس نے اپنے غلام کو نحر کرنے کی قسم اٹھائی تو اس پر اسی قسم کی چیز لازم ہوگی جیسی چیز اپنے بیٹے کو نحر کرنے کی وجہ سے لازم ہوتی تھی جب وہ اس قسم کو تورے۔
ابن عبدالحکم امام مالک سے اس آدمی کے بارے میں روایت نقل کی ہے جو یہ کہتا ہے : میں اپنا بچہ مقام ابراہیم پر ذبح کرونگا ‘ وہ یہ قسم اٹھاتا ہے پھر وہ اس قسم کو تور دیتا ہے تو اس پر ہدی لازم ہوگی۔ کہا : جس نے یہ نذر مانی کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کرے گا اور مقام ابراہیم کا ذکر نہ کیا اور نہ ہی اس کا ارادہ کیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ کہا : جس نے اپنے بیٹے کو ہدی بنایا تو اس کی جانب سے ہدی دے۔ قاضی ابن عربی نے کہا : اس پر بکری لازم ہوگی جس طرح امام ابوحنیفہ نے کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرعی طور پر بچے کے ذبح کرنے کا بکری کا ذبح کرنا بنا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر بچے کو ذبح کرنا لازم کیا تھا اور مینڈھے کے ذبح کرنے کے ساتھ اسے اس حکم سے فارغ کردیا اسی طرح اگر کوئی غلام اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانے تو اس پر بھی لازم ہے کہ وہ بکری بھیڑ وغیرہ ذبح کر دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
ملۃ ابیکم ابرہیم) الحج (78: ایمان ایسی چیز ہے جو اصلا لازم ہے اور نذر ایسی چیز ہے جو فرعی طور پر لازم ہے تو ضروری ہے کہ اسے اس پر محمول کیا جائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کیسے ذبح کا حکم دیا جاسکتا ہے جب کہ یہ معصیت ہے اور معصیت کا حکم جائز نہیں ہوتا ؟
ہم کہتے ہیں : یہ کتاب اللہ پر اعتراض ہے جو آدمی اسلام پر اعتقاد رکھتا ہے وہ ایسا نہیں کرسکتا تو وہ حلال و حرام کے بارے میں کیسے فتوی دے گا جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے افعل ما تومر اس بارے میں جو چیز لوگوں کے دلوں سے اس التباس کو دور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ معاصی اور طاعات اعیان کے ذاتی اوصاف نہیں۔ بیشک طاعات وہ چیزیں ہیں کہ جس فعل کے ساتھ امر متعلق ہو اور معصیت سے مراد وہ چیز ہے کہ جس فعل کے ساتھ نہی متعلق ہو جب امر اس چیز سے متعلق تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کردیں تو یہی طاعت اور آزمائش ہوگئی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ان ھذا لھو البلوا المبین۔ کیونکہ بچے اور نفس کو ذبح کرنے پر صبر کرنا تھا جب ہمارے بارے نہی اس چیز سے متعلق ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کو ذبح کریں تو یہی معصیت ہوگئی۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ وہ نذر کیسے ہو سکتی ہے جب کہ وہ معصیت ہے ؟ ہم اس کا جواب یہ دیں گے : یہ معصیت ہوگئی اگر وہ نذر کی وجہ سے بچے کا قصد کرتے اور اور فدیہ کی نیت نہ کرتے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : اگر ایسا واقع ہوجائے اس نے معصیت کا قصد کیا ہو اور دیہ کی نیت نہ کی ہو ؟ ہم کہیں گے : اگر اس نے اس کا قصد کیا ہو تو یہ چیز اس کے قصد میں اسے کوئی نقصان نہ دے گی اور اس کی نذر میں اس کا کوئی اثر نہ ہوگا کیونکہ بچے کی نذر شرعی طور پر بھیڑ ‘ بکری کے ذبح کی صورت بن گئی ہے۔
مسئلہ نمبر -15 و ترکنا علیہ فی الاخرین۔ علیہ میں ضمیر سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں یعنی ہم نے ان کے بعد امتوں میں اچھی تعریف چھوڑی ہے کوئی بھی امت نہیں مگر وہ آپ طر درود پڑھتی ہے اور ان سے محبت کرتی ہے۔ ایک قول یہ کیا : یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا نتیجہ و اجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ ) الشعرائ ( عکرمہ نے کہا : اس سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہے یعنی ہماری طرف سے سلام ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے لئے آفات سے سلامتی ہے جس طرح ارشاد فرمایا : سلم علی نوح فی العلمین۔ جس طرح پہلے گذر چکا ہے۔
انہ من عباد نا المومنین۔ یعنی ان مومن لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے عبودیت کا حق ادا کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے کے مستحق بن گئے۔
مسئلہ نمبر -16 و بشرنہ باسحق نبیا من الصلحین۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی نبوت کی بشارت دی اور حضرت ابن عباس ؓ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بشارت دو دفعہ دی گئی اسی وجہ سے کہا گیا کہ ذبیح حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں کہ انہیں بشارت اس بنا پر دی گئی کہ انہوں نے صبر کیا ‘ اپنے رب کے حکم پر راضی ہوئے اور سر اطاعت خم کردیا تو جزاء کے طور پر یہ انعام ہوا۔
و برکنا علیہ و علی اسحاق یعنی ہم نے ان دونوں پر نعمت کو دگنا کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہم نے ان کی اولاد کو زیادہ کردیا یعنی ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر برکتیں نازل کیں اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل کیں کہ بنی اسرائیل کے انبیاء کو ان کی پشت سے نکالا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : علیہ میں ضمیر حضرت اسماعیل السلام کی طرف لوٹ رہی ہے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہی ذبیح ہیں۔ مفصل نے کہا : صحیح جس پر قرآن پاک دلالت کرتا ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ذبیح کے اقصہ کو بیان کیا جب قصہ کے آخرر میں کہا : و فدینہ بذبح عظیم۔ پھر فرمایا : سلم علی ابرھیم۔ گذلک تجزی المحسنین۔ فرمایا و بشرنہ باسحق نبیا من الصلحین۔ و برکنا علیہ و علی اسحق۔ علیہ میں ضمیر سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ ان کا ذکر پہلے ہوچکا تھا پھر کہا : و من ذریتھما یہ اس امر پر دال ہے کہ اس سے مراد حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہ اسلام کی اولاد ہے۔ راوی اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کرتے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے تیرہ سال بڑے تھے۔
میں کہتا ہوں : ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ‘ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے بڑے تھے۔ قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی دی گئی تھی جب نص سے ثابت ہے کہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی تھی تو بیشک ذبیح بھی حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہونگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دی گی : (1) بچے کی ولادت کی (2) اس کی نبوت کی جس طرح حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اور نبوت بڑھاپے میں ہوگی۔
نبینا حال کی حیثیت سے منصوب ہے اور علیہ میں ضمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے آیت میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر نہیں یہاں تک کہ ضمیر ان کی طرف لوٹے۔
جہاں تک اس رویت کا تعلق ہے کہ حضرت معاویہ کی سند سے یہ مروی ہے کہا میں نے ایک آدمی کو نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں یوں خطاب کعرتے ہوئے سنا : یا ابن الذبیحین نبی کریم ﷺ ہسن پڑے پھر حضرت معاویہ نے کہا : حضرت عبدالمطلب نے جب بئرز مزم کو کھودا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نذر مانی اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس معاملہ کو آسان کردیا تو ضرور اپنے بیٹوں میں سے ایک بیٹے کو ذبح کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کنویں کے معاملہ کو ان کے لئے آسانن کردیا تو قرعہ حضرت عبداللہ کے نام نکالا ان کے ماموئوں نے حضرت عبدالمطلب کو اس امر سے روکا انہوں نے کہا : اپنے بیٹے کا فدیہ دو ۔ حضرت عبدالمطلب نے سو اونٹوں کا فدیہ دیا پھر حضرت عبداللہ ذبیح ہوئے حضرت اسماعیل دوسرے ذبیح ہیں۔ اس بارے میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ اس کی سند ثابت نہیں جس طرح ہم نے کتاب الاعلام فی معرفۃ مولد المصطفی علہ الصلوۃ والسلام میں ذکر کیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عرب چچا کو بھی اب کہہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قالو انعبد الھک و الہ ابائک ابرھم و اسمعیل و اسحق) البقرہ (133: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و رفع ابویہ علی العرش) یوسف (100: وہ دونوں اس کے والد اور اس کی خالہ تھی اسی طرح فرزدق شاعر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اگر اس کی سند صحیح ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ فرزدق کی ذات میں ہی اعتراض کی گنجائش موجود ہے ؟
مسئلہ نمبر -17 و من ذریتھما محسن و ظالم جب اولاد میں کثرت اور برکت کا ذکر کیا تو فرمایا : ان میں سے کچھ سیاہ کار ہونگے ‘ سیاہ کار کو نبی کا بیٹھا ہونا کوئی نفع نہ دے گا (1) یہود و نصاری اگرچہ حضرت اسحاق کی اولاد ہیں اور عرب اگرچہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں تب بھی محسن اور مسئی ‘ مومن اور کافر میں فرق ضروری ہے قرآن حکیم میں ہے : و قالت الیھود و النصری نحن ابنوا اللہ و احبائوہ) مائدہ (18:
Ayahs 37:114–122114 ۔ 122:۔ جب اس امر کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح ہونے سے نجات دی اور نبوت کے بعد جوان پر احسان کیا ساتھ یہ بھی زکر کیا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ (علیہما السلام) پر جو احسان کیا۔ الکرب العظیم۔ سے مراد وہ غلامی ہے جو بنی اسرائیل کو لاحق ہوئی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے بچ گئے تھے۔
و نصرنھم فراء نے کہا : ضمیر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے لئے ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دو بھی جمع ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و اتینھما اور و ھدینھما ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ھم ضمیر حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کے لئے ہے یہی درست ہے کیونکہ اس سے قبل و نجینھما و قومھما ہے۔
الکتب المستمین۔ سے مراد تو رات ہے یوں کہا جاتا ہے ‘ و استبان کذا یعنی وہ داضح ہوگیا استبانہ فلانن فلان نے اسے واضح کردیا۔ یہ اس کی مثل ہے تبین الشئی بنفسہ اور تبینہ فلاں۔
الصراط المیمقر۔ سے مراد دین قویم ہے جس میں کوئی کجی نہیں وہ دین اسلام ہے و ترکنا علیھما فی الاخرین۔ سے مراد اچھی تعریف ہے۔
سلم علی موسیٰ و ھرون۔ انا کذلک تجزی المحسنین۔ انھما من عبادنا المومنین۔ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گذر چکی ہے۔