20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 20:120–122

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو شیطان نے انکے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا کہ آدم ! بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو ؟

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر انکی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں پر) بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مطلوب سے بےراہ ہوگئے

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فوسوس الیہ الشیطان سورة اعراف میں یہ گزر چکا ہے۔ قال یعنی شیطان نے کہا : یا ادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔ یہ کلام بالمشافہ پر دلیل ہے۔ شیطان جنت میں سانپ کے منہ میں داخل ہوا تھا جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور درخت کے تعیین کی بحث بھی گزر چکی ہے۔ اور علماء کے جو اقوال ہیں وہ بھی گزر چکے ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ فاکلا منہا فبدت لہما سو اتھما وطفقا یخصفان علیہما من ورق الجنہ۔ یہ بھی سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ فراء نے کہا : طفقا کا عربی میں معنی ہے متوجہ ہوئے۔ فرمایا : بعض علماء نے کہا : وہ انجیر کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعصی آدم ربہ فغوی اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ و عصی سورة بقرہ میں انبیاء کے ذنوب کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ ہمارے بعض متاخرین علماء نے فرمایا : یہ کہنا مناسب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض سے ذنب کے وقوع کی خبر دی اور ذنوب کو ان کی منسوب کیا اور انہیں اس پر عتاب بھی کیا اور خود انبیاء کرام نے اپنے بارے میں اس کی خبر بھی دی، وہ اس پر پریشان بھی ہوئے ان سے توبہ و استغفار بھی کیا یہ تمام چیزیں بہت سے مقامات پر موجود ہیں۔ یہ امور جو ان سے واقع ہوئے جہت عذر پر ہیں اور جہت خطا اور نسیان پر ہیں یا کسی تاویل کی بنا پر ہیں جو اس کی داعی تھی یہ کام غیر کی نسبت سے نیکیاں تھے اور ان کے حق میں سیئات تھے کیونکہ ان کے مناصب و مراتب بہت بلند تھے اور ان کی اقدار بہت بلند تھیں ایک کام پر وزیر کا مواخذہ ہوتا ہے اور کو توال کو بدلہ دیا جاتا ہے اسی وجہ سے وہ قیامت کے موقف میں خوف کھائیں گے حالانکہ انہیں امن وامان اور سلامتی کا عمل ہے۔ فرمایا : یہی حق ہے کیا خوب کہا ہے حضرت جنید نے حسنات الابرار سیئات المقربین ابرابر کی نیکیاں مقربین کی سیئات شمار ہوتی ہیں۔ انبیاء کرام سے ذنوب کے وقوع پر اگرچہ نصوص قائم ہیں لیکن ان کے مناصب و مراتب میں اس سے کمی واقع نہیں ہوتی اور نہ ان کے رتبہ میں قدح کا باعث ہیں بلکہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی تلافی فرمائی اور انہیں مقام اجتہاد عطا فرمایا، ہدایت کا راستہ دکھایا، ان کی مدح کی، ان کا تزکیہ کیا، انہیں مقام اصطفاء سے نوازا۔ صلوات اللہ علیہم وسلامہ۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے فرمایا : آج ہم میں سے کسی کے لیے جائز نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے ایسی بات کریں مگر یہ کہ جب ان کا ذکر کریں تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد یا نبی کریم ﷺ کے قول کے تحت کلام کریں۔ اپنی طرف سے ان کی شان میں کچھ کہنا قطعاً جائز نہیں۔ ہمارے جو قریبی آباء گزرے ہیں جو ہماری مثل ہیں ان کے بارے ہتک آمیز یا تنقیص شان والا جملہ کہنا درست نہیں تو اپنے عظیم المرتبہ نبی مکرم و مقدم باپ کے بارے میں ایسا کلام کیسے جائز ہوگا جن کا اللہ تعالیٰ نے خود عذر بیان کیا ہے اور ان کی توبہ قبول فرمائی ہے اور ان کی بخشش فرمائی ہے۔ میں کہتا ہوں : جب یہ مخلوق کے بارے میں جائز نہیں تو اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں خبر دینا، ہاتھ، انگلی، پہلو، نزول وغیرہ کا بھی ذکر بدرجہ اولی منع ہوگا۔ ابتداء اپنی طرف سے کچھ کہنا جائز نہیں مگر کتاب اللہ کی قرابت اور سنت رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ذکر کرنا جائز ہے۔ اسی وجہ سے امام مالک رحۃ اللہ علیہ نے فرمایا : جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کوئی ایسا وصف بیان کیا جیسا کہ اس کا ارشاد ہے : وقالت الیہود ید اللہ مغلولۃ (المائدہ :64) پس اس نے اپنے ہاتھ سے گردن کی طرف اشارہ کیا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اسی طرح سمع و بصر کی طرف اشارہ کیا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ آئمہ نے یہ حدیث روایت کی ہے اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : آدم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کا مناظرہ ہوا، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے آدم ! تو ہمارا باپ ہے تو نے ہمیں نامراد کیا اور تو نے ہمیں جنت سے نکالا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیا اے حضرت موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے کلام سے مشرف کرنے کے لیے چنا اور تیرے لیے اپنے ہاتھ سے خط کھینچا۔ اے موسیٰ ! کیا تو مجھے ایسے امر پر ملامت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے مجھ پر مقدر کردیا تھا۔ پس آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ یہ جملہ حضور ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا۔ مہلب نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے کا مطلب یہ حجت کے ذریعے غالب آگئے۔ لیث بن سعد نے کہا : اس واقعہ میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حجت صحیح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خطا کو معاف کیا اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے زیبا نہیں تھا کہ وہ انہیں اس خطا کی وجہ سے عار دلاتے جس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا تھا۔ اسی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا تو وہ موسیٰ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا کی اور اس میں ہر چیز کا علم ہے اور تو نے اس میں پایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر معصیت کو مقدر کیا ہے اور یہ بھی کہ اس سے توبہ کو مقدر کیا ہے پس اس نے اس وجہ سے مجھ سے ملامت کو ساقط کردیا کیا تو مجھے ملامت کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ مجھے ملامت نہیں کرتا۔ اس کی مثل حضرت ابن عمر ؓ نے اس خص پر حجت قائم کی تھی جس نے کہا تھا : عثمان جنگ احد میں بھاگ گئے تھے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : حضرت عثمان ؓ پر اس کا کوئی گناہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا فرمایا : ولقد عفا اللہ عنہم (آل عمران :155) بعض نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) اب (باپ) تھے۔ ان کو ان کی نیکی کی وجہ سے عار دلانا جائز نہیں۔ اگر کسی دوسرے کو اس کے ساتھ عار دلانا جائز بھی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں فرمایا : وصاحبھما فی الدنیا معروف (لقمان :15) اسی وجہ سے حضرت ابراہیم کو ان کے اب یعنی چچا نے کہا تھا جو کافر تھا : لئن لم تنتہ لارجمنک واھجرنی ملیا۔ قال سلم علیک۔ (مریم) جب ایک کافر کو نازیبا کلمہ کہنا جائز نہیں تو پھر وہ بات جو نبی بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مقام انبیاء پر فائز فرمایا ہے ان کی توبہ قبول کی ہے اور راہ ہدایت دی ہے اس کی شان میں نازیبا کلمہ کہنا کیسے جائز ہوگا۔ ) مسئلہ نمبر 4 ۔ جس نے کوئی خطا کی اور اس کو مغفرت کا مژدہ نہیں ملا تو علماء کا اجماع ہے کہ اسے حضرت آدم (علیہ السلام) کی حجت کی طرح حجت نہیں پکڑنی چاہیے کہ وہ کہے : تو مجھے ملامت کرتا ہے کہ میں نے قتل کیا ہے یا زنا کیا یا چوری کی جبکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ مقدر کیا تھا۔ اور امت کا اجماع ہے کہ نیکی کرنے والے کی نیکی کی تعریف کی جائے اور برائی کرنے والے کو برائی پر ملامت کی جائے اور اس کے گناہوں کو شمار کیا جائے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فغوی اس کا معنی ہے اس نے اپنی زندگی کو خراب کردیا : یہ نقاش نے حکایت کیا ہے اور قشیری نے اس کو پسند کیا ہے۔ میں نے اپنے شیخ استاذ المقری ابوجعفر قرطبی کو یہ کہتے ہوئے سنا : فغوی، دنیا کی طرف اترنے کے ساتھ اپنی زندگی کو خراب کردیا۔ الغی کا معنی فساد ہے۔ یہ اچھی تاویل ہے اور جنہوں نے طوی کا معنی ضل کیا ہے۔ ان کی تاویل سے یہ تاویل اولیٰ ہے۔ ضل معنی کرنے والوں نے اسے الغی سے مشتق کیا ہے جس کا معنی رشد کی ضد ہے بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اپنے رشد کی جگہ سے ناواقف رہا، یعنی آپ کو معلوم نہ ہوا کہ یہ درخت بھی ان درختوں سے ہے جن سے منع کیا گیا ہے۔ الغی کا معنی الجہل ہے۔ بعض سے مروی ہے : فغوی کا معنی ہے کثرت اکل سے بدہضمی ہوئی۔ زمخشری نے کہا : یہ ان کی لغت پر صحیح ہے جو یاء ماقبل مکسور کو الف سے بدل دیتے ہیں۔ فَنَسِی اور بقی میں فنسیٰ اور بقیٰ کہتے ہیں یہ بنو طے کی لغت ہے۔ یہ تفسیر خبیث ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ قشیری ابو نصر نے کہا : ایک قوم نے کہا : کہا جاتا ہے عصی آدم وغوی عاص اور غاو نہیں کہا جاتا جیسا کہ جو ایک مرتبہ کپڑا سیے تو کہا جاتا ہے : خاط (اس نے سیا) اسے خیاط نہیں کہا جاتا جب تک بار خیاطت کا عمل نہ کرے۔ بعض نے کہا : سردار کے لیے اپنے غلام کو معصیت کے وقت کہنا جائز ہوتا ہے غیر کے لیے اسے وہ کہنا جائز نہیں ہوتا۔ یہ تکلف ہے اور جو انبیاء کرام کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ یا تو صغائر ہیں یا ترک اولیٰ ہے یا نبوت سے پہلے کے اعمال ہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ بہتر ہے۔ امام ابوبکر بن فورک (رح) نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) سے یہ کام نبوت سے پہلے ہوا تھا اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : ثم اجتباہ ربہ فتاب علیہ وھدی، اجتباء اور ھدایت، عصیان کے بعد تھے۔ جب یہ نبوت سے پہلے تھا تو ان پر ایک وجہ سے ذنوب بھی جائز ہیں کیونکہ نبوت سے پہلے ہم پر ان کی تصدیق میں کوئی حکم نہیں جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مخلوق کی طرف بھیجا جبکہ وہ پیغام کی ادائیگی میں مامون تھے اور معصوم تھے تو پہلے ذنوب نے انہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ یہ عمدہ بحث ہے۔
Ayahs 20:123–127

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اڑھائیں گے

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا میرے پر ورگار تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ میں تو دیکھتا بھالتا تھا

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہئے تھا) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلادیں گے

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اسکو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال اھبطا منھا جمیعا ا حضرت آدم و ابلیس کو خطاب فرمایا۔ منھا جنت سے ابلیس کو فرمایا : اخرج منھا مذء وما مدحوراً (الاعراف :18) شاید اسے جنت سے آسمان کی کسی جگہ پر نکلنے کا حکم دیا پھر اسے زمین کی طرف اتارا بعضکم لبعض عدویہ سورة بقرہ میں 1 گزر چکا ہے۔ یعنی تو سانپ اور ابلیس کا دشمن ہوگا اور وہ تیرے دشمن ہوں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اھبطا آدم و حواء کو خطاب نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہ تھے۔ حضرت آدم کا اترنا حضرت حواء کے اترنے کے ضمن میں ہے۔ فامایاتینکم منی ھدی رشد اور سچی بات مراد ہے سورة بقرہ میں یہ بھی گزر چکا ہے۔ فمن اتبع ھدای یعنی جس نے رسل اور کتب کی پیروی کی۔ فلا یضل ولا یشقی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ضمانت دی ہے جو قرآن پڑھے گا اور اس کے احکام پر عمل کرے وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا اور آخرت میں بدبخت نہ ہوگا۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور اس میں موجود احکام کی اتباع کی تو اللہ تعالیٰ اسے گمراہی سے ہدایت دے گا اور قیامت کے روز بیرے حساب سے اسے ببچا لے گا پھر یہ آیت پڑھی۔ ومن اعرض عن ذکری یعنی میرے دین سے میری کتاب کی تلاوت سے اور اس کے احکام پر عمل سے اعراض کیا۔ بعض نے فرمایا : ذکری سے مراد وہ دلائل ہیں جو اتارے گئے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ذکر سے مراد رسول اللہ ﷺ ہوں کیونکہ آپ کی طرف سے نصیحت ہے۔ فان لہ معیشۃ ضنکا تنگ زندگی۔ کہا جاتا ہے : منزل ضنک وعیش ضنک اس میں واحد، تثنیہ، مذکر، مونث جمع براببر ہے۔ عشرہ نے کہا : ان یلحقوا اکرر وان یستلحموا اشدد وان یلفوا یضنک انزل شاعر نے کہا : ان المنیۃ لو تمثل مثلث مثلی اذا نزلوا بضنک المنزلل اور ضن کی بھی پڑھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے دین کے ساتھ تسلیم، قناعت، اس پر توکل اور اس کی تقسیم پر راضی ہونا عطا کیا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق سے سخاوت و سہولت کے ساتھ خرچ کرتا ہے وہ بلند زندگی گزارتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ففلنحیینہ حیوۃ طیبۃ (النحل : 97) جو شخص دین سے اعراض کرتا ہے اس پر حرص غالب آجاتی ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ دنیا کی زیادتی کا لالچ کرتا رہتا ہے اس پر بخل کو مسلط کیا جاتا ہے جو اس کو خرچ کرنے سے روکتا ہے پس اس کی زندگی تنگ ہوتی ہے اور اس کا حال تاریک ہوتا ہے، جیسا کہ بعض نے فرمایا : اپنے رب کے ذکر سے اعراض نہیں کرتا مگر جس پر وقت تاریک ہوتا ہے اور رزق کے بارے میں پریشان ہوتا ہے اس کی زندگی تنگ ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا : صنکا سے مراد حرام کمائی ہے۔ حسن نے کہا : اس سے مراد کانٹے اور جھاڑی اور زقوم کا درخت ہے۔ چوتھا قول یہ ہے جو کہ صحیح ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ قول ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے مرفوعاً اس قول کو نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں ذکر کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا : کافر پر اس کی قبر تنگ ہوتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر ہوجاتی ہیں۔ یہ معیشۃ صنکا ہے۔ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی بعض علماء نے فرمایا : ایک حال میں اندھا ہوگا اور ایک حال میں بینا ہوگا۔ سورة سبحان کے آخر میں یہ گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ حجت پیش کرنے سے اندھا ہوگا ؛ یہ مجاہد کا کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ خیر کی جہات سے اندھا ہوگا کسی خیر کی طرف ہدایت نہ پائے گا۔ بعض نے فرمایا : اپنے آپ سے عذاب دور کرنے کے حیلہ سے اندھا ہوگا جیسے وہ اندھا بےبس ہوتا ہے جسے کچھ نظر نہیں آتا۔ قال رب لم حشرتنی اعمیٰ یعنی کس گناہ کی وجہ سے مجھے اندھا ہونے کی سزا دی ؟ و قد کنت بصیرا دنیا میں میں بینا تھا۔ گویا اس کا گمان ہوگا کہ اس کا کوئی گناہ نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے مجھے حجت سے کیوں اندھا کرکے اٹھایا حالانکہ میں دنیا میں حجت کو جاننے والا تھا۔ قشیری نے کہا : یہ بعید ہے کیونکہ کافر کے لیے دنیا میں کوئی حجت نہیں۔ قال کذلک اتتک ایتنا یعنی اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا : ہماری وحدانیت اور قدرت پر ہماری نشانیاں تیرے پاس آئیں فنسیتھا تو نے انہیں چھوڑ دیا اور تو نے ان کی طرف نہیں دیکھا اور تو نے ان سے اعراض کیا۔ وکذلک الیوم تنسی تو عذاب میں آج چھوڑا گیا ہے مراد جہنم ہے۔ وکذلک نجزی من اسرف جس طرح ہم نے قرآن سے اعراض کرنے والے اور مصنوعات میں غور وفکر نہ کرنے والے اور معصیت میں حد سے تجاوز کرنے والے کو جزا دی، ولم یومن بایات ربہ اپنے رب کی آیات کی تصدیق نہیں کی۔ ولعذاب الآخرۃ اشد آخرت کا عذاب معیشت ضنک اور عذاب قبر سے زیادہ خوفناک ہے۔ وابقی دائمی عذاب ہے۔ کیونکہ وہ ختم نہیں ہوگا۔
Ayahs 20:128–132

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت ہی نشانیاں ہیں)

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوچکا ہوتا

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو اور رات کی ساعات (اوّلین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کے اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت اور باقی رہنے والی ہے

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل تقویٰ ) کا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلم یہدلہم اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی کیا ان کے لیے ان کی خبر واضح نہیں ہوئی جن کو ہم نے تباہ کردیا ہے۔ یہ ان کے مکانوں کے درمیان چلتے ہیں جب طلب معاش میں تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور گزشتہ قوموں کے شہروں کو دیکھتے ہیں اور چھتوں کے بل گری پڑی بستیوں کو دیکھتے ہیں یعنی کیا وہ نہیں ڈرتے اس عذاب سے کہ ان پر بھی ویسا ہی عذاب اترے جو ان سے پہلے کفار پر اترا تھا۔ حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور اسلمی وغیرہما نے نھدلہم نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ زیادہ واضح ہے۔ یھد یاء کے ساتھ فاعل کی وجہ سے مشکل ہے۔ کو فیوں نے کہا ؛: کم فاعل ہے۔ نحاس نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ کم استفہامیہ میں اس کا ماقبل اس میں عمل نہیں کرتا۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے جن کو ہم نے ہلاک کیا ان کی ہلاکت کا امر ان کے لیے واضح نہیں ہوا۔ یھد کی حقیقت ہدایت پر دلالت کرتی ہے اور فاعل الہدی ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی : افلم یھد الدھی لہم زجاج نے کہا : کم محل نصب میں ہے اور اس کا ناصب اھلکنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی تیرے رب کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور وقت مقرر تو ان پر عذاب لازم ہوجاتا۔ قتادہ کا قول ہے : اللزام کا مطلب ملازمت ہے یعنی انہیں عذاب لازم ہوتا۔ کان کا اسم مضمر ہے۔ زجاج نے فرمایا : واجل مسمی۔ اس کا عطف کلمہ پر ہے۔ قتادہ نے کہا : مراد قیامت ہے۔ یہ قتبی کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد ان کا بدر کے دن تک موخر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاصبرعلی ما یقولون ان کی باتوں پر صبر کا حکم دیا ہے۔ وہ کبھی کہتے : جادوگر ہے، کبھی کہتے : کاہن ہے، کبھی کہتے : کذاب ہے۔ معنی یہ ہے کہ آپ ان کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ان کے لیے عذاب کا وقت مقرر ہے وہ نہ مقدم ہوگا نہن موخر ہوگا۔ پھر بعض نے فرمایا : یہ آیت، آیت قتال سے منسوخ ہے بعض نے فرمایا : منسوخ نہیں ہے کیونکہ آیت قتال کے بعد کفار کو جڑ سے ختم نہیں کیا گیا بلکہ ان میں بڑے بڑے بچ بھی گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ پانچ نمازوں کی طرف اشارہ ہے۔ قبل طلوع الشمس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ وقبل غروبہا سے مراد عصر کی نماز ہے۔ ومن انای الیل سے مراد عشاء کی نماز ہے۔ و اطراف النہار سے مراد مغرب اور ظہر کی نماز ہے کیونکہ ظہر دن کے پہلے حصہ کے آخر میں، دوسرے حصہ کی ابتدا میں ہوتی ہے یہ دن کی دونوں طرفوں میں ہے۔ تیسری طرف سورج کا غروب ہے اور ہو مغرب کا وقت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : دن دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ زوال ان میں حد فاصل ہے ہر حصہ کی دو طرفیں ہیں زوال کے وقت دو طرفیں ہیں۔ پہلے حصہ سے آخری حصہ اور دوسرے حصے سے پہلا حصہ۔ طرفین کی جگہ اطراف ذکر فرمایا جیسا کہ فرمایا : فقد صغت قلوبکما (التحریم :) اس کی طرف ابن فورک نے المشکل میں اشارہ کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : النہار جنس کے لیے ہے ہر دن کی ایک طرف ہے اور وہ جمع کے معنی میں ہے کیونکہ وہ ہر دن کی طرف راجع ہے۔ انای الیل رات کی گھڑیاں۔ الاناء کا واحد انی وانی واَنی۔ ایک فرقہ نے کہا : اس آیت سے مراد نفلی نماز ہے، یہ حسن کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لعلک ترضی۔ تا کے فتحہ کے ساتھ تاکہ آپ کو ان پسندیدہ اعمال پر ثواب دیا جائے۔ کسائی اور ابوبکر نے عاصم سے روایت کرکے ترضی تا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ تجھے وہ عطا کیا جائے جو تجھے خوش کرے۔
Ayahs 20:133–135

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر ﷺ اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی ؟

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم انکو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال کے) منتظر ہیں سو تم بھی رہو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے راستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا لولا یایتنا بایۃ من ربہ یہ کفار مکہ نے کہا : یعنی ہمارے پاس محمد ﷺ کیوں کوئی ایسی نشانی نہیں لے آیا جو علم ضروری کو ثابت کرتی یا کوئی ایسی آیت جو ظاہر ہوتی جیسے ثمود کی اونٹنی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا یا کیوں نہ ایسی نشانیاں لے آیا جو ہم تجویز کرتے ہیں جس طرح ان سے پہلے انبیاء لے کر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم تاتھم بینۃ مافی الصحف الاولیٰ ۔ صحف اولیٰ سے مراد تورات، انجیل اور پہلی کتب ہیں۔ یہ بہت بڑی دلیل ہے کیونکہ جو کچھ ان میں ہے ان کی آپ نے خبر دی۔ الصحف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا ان کے پاس وہ نشانی نہیں آئی جو آپ کی نببوت پر دلالت کرتی ہے جس کو انہوں نے سابقہ کتب میں بشارت کے طور پر پایا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے کیا ان کے پاس سابقہ امتوں کے کفار کو ہمارا ہلاک کرنا پہنچ نہیں چکا جو آیات تجویز کرتے تھے کونسی چیز انہیں امن دینے کیلئے ہے کہ ان کے پاس اگر آیات آئیں تو ان کا حل ان کفار کی حالت جیسا نہ ہوگا۔ ابو جعفر، شیبہ، نافع، ابو عمرو، یعقوب، ابن اسحاق اور حفص نے اولم تاتھم تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔