Ayahs 20:36–40(تفسیر 36-42) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے شرح صدر اور معاملہ کی تیسیر کا سوال کیا تو جواباً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اور انہیں ان کی طلب اور مرغوب چیز عطا فرما دی۔ مسول سے مراد طلب ہے یہ فعل بمعنی مفعول ہے، خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ یعنی اس سے پہلے بھی تم پر ہم نے احسان فرمایا۔ اور وہ احسان دشمنوں کے شر سے آپ کی حفاظت ہے اور یہ ذبح کے وقت تھا ؛ واللہ اعلم۔ المن کا مطلب احسان کرنا اور مہربانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا وحینا الی امک ما یوحی۔ بعض علماء نے فرمایا : اوحینا کا معنی ہے ہم نے الہام کیا ہے۔ بھض نے فرمایا : حضرت موسیٰ کی والدہ کو خواب میں وحی کی گئی۔ حضرت ابن عبب اس ؓ عنہمما نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کو اسی طرح کی گئی جس طرح انبیاء کو وحی کی گئی تھی۔ ان اقد فیہ فی التابوت، مقاتل نے کہا : مومن آل فرعون سے تھا جس نے تاببوت بنایا تھا اور اسے تیار کیا تھا اس کا نام حز قیل تھا۔ اور تابوت جمیز کی لکڑی کا تھا۔ فاقدفیہ فی الیم یعنی اسے دریا میں پھینک دے یعنی دریائے نیل میں ڈال طرح یہ ارشاد ہے : اتبعوا سبیلنا ولنحمل خطیکم (العنکبوت :12)
یاخذہ عدولی وعدولہ یعنی فرعون۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے تابوت بنایا اور اس میں چمڑے کے ٹکڑے لگا دیے اور اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رکھ دیا۔ اس تابوت کو تارکولل لگا دی اور اس کی دراڑیں بند کردیں پھر اسے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ دریائے نیل سے ایک نہر فرعون کے گھر میں جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے اس تابوت کو فرعون کے گھر کی طرف اس نہر میں چلایا۔ یہ بھی روایت ہے کہ اس تابوت میں دھنی ہوئی روئی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس میں رکھا اور اس کو تارکول لگا دی اور سیسہ پھیر دیا پھر اسے دریا میں ڈال دیا۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر فرعون کے باغ کو جاتی تھی۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ تالاب کے اوپر بیٹھا تھا کہ اچانک تابوت نظر آیا اس نے تابوت نکالنے کا حکم دیا تو تابوت نکال دیا گیا جب اسے کھولا گیا تو اس میں بچہ تھا جو انتہائی خوبصورت تھا، دشمن خدا اس بچے سے شدید محببت کرنے لگا اور وہ اس کے بغیر صبر نہیں کرسکتا تھا۔ قرآن کا ظاہر یہ ہے کہ دریا نے اسے ساحل پر ڈال دیا تھا۔ فرعون نے وہ تابوت ساحل پر دیکھا تھا اور اس نے اسے اٹھانے کا حکم دیا تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ دریا نے ساحل کی اس جگہ پر ڈالا ہو جہاں فرعون کی نہر کا منہ پھر اس نہر کے ذریعے تالاب میں پہنچا ہو۔ بعض علماء نے فرمایا : فرعون کی بیٹی نے اس بچے کو پایا اس بچی کو برص کا مرض تھا جبب اس نے تابوت کھولا تو اسے شفا مل گئی۔ روایت ہے کہ جب انہوں نے وہ تابوت اٹھایا اور اس کو کھولنے کی کوشش کی تو وہ اس پر قادر نہ ہوئے انہوں نے اسے توڑنے کی کوشش کی تو وہ بھی عاجز آگئئے۔ آسیہ قریب ہوئی اور اس نے تابوت میں نور دیکھا اس نے کوشش کی تو اس نے کھول لیا اس میں ایک ببچہ تھا جس کی آنکھوں کے درمیان کی جگہ روشن تھی اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے انگوٹھے سے دودھ چوس رہے تھے وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے محبت کرنے لگے۔ فرعون کی بیٹی کو برص کا مرض تھا۔ اطباء نے اسے کہا تھا کہ یہ ٹھیک نہ ہوگی مگر دریا کی طرف سے۔ دریا میں ایک انسان کے مشابہ ایک چیز پائی جاتی ہے۔ اس کا علاج اس کا لعابب ہے اس لڑکی نے اپنی برص پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا لعاب ملا تو وہ ٹھیک ہوگئی۔ بعض علماء نے فرمایا : جب اس لڑکی نے موسیٰ علیہ اللسلام کے چہرہ کو دیکھا تو صحت یاب ہوگئی۔ واللہ اعلم۔
بعض علماء نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تابوت کو فرعون کی بیوی کی پڑوسن نے پایا تھا جب فرعون نے اس کو دیکھا تو اس نے تمام لوگوں سے اسے خوبصورت پایا۔ فرعون اس سے محبت کرنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : والقیت علیک محبۃ منی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے محبت فرمائی اور ساری مخلوق کا محبوب بنا دیا۔ ابن عطیہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے پر تو حسن ان پر ڈال دیا تھا جو دیکھ لیتا صبر نہیں کرسکتا تھا۔ قتادہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آنکھوں میں ملاحت تھی جو دیکھتا محبت و عشق کرنے لگتا تھا۔ عکرمہ نے کہا : اس کا معنی ہے تجھ میں میں نے ملاحت و حسن رکھ دیا جو تجھے دیکھے گا تجھ سے محبت کرے گا۔ طبری نے کہا : اس کا مطلب ہے کہ یہ میرے سامنے ہوا اس طرح کہ تجھے تابوت میں رکھا گیا اور پھر تابوت کو دریا میں ڈالا گیا اور پھر فرعون کی بیوی کی لونڈی نے تجھے اٹھایا اور انہوں نے تاببوت کو کھولنے کا ارادہ کیا تاکہ جو کچھ اس میں ہے اسے دیکھیں، ان میں سے ایک نے کہا : تم اسے مت کھولو حتیٰ کہ تمہاری سردار آجائے وہ اس کے زیادہ لائق ہے تاکہ وہ تم پر تہمت نہ لگائے کہ تم نے اس میں جو کچھ پایا وہ تم نے اپنے لیے اٹھا لیا ہے۔ فرعون کی بیوی پانی نہیں پیتی تھی حتیٰ کہ وہ لونڈیاں اسے پلاتی تھیں وہ تابوت کو بند کر کے اپنی مالکن آسیہ کے پاس لے گئیں جب اس نے اس تابوت کو کھولا تو اس میں ایک ایسا بچہ دیکھا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اس پر محبت ڈال دی گئی اس نے وہ بچہ اٹھا لیا اور اسے فرعون کے پاس لے گئی اور اسے کہا : یہ میرے لیے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے اسے کہا : ہاں۔ تیری تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لیے نہیں۔ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اگر فرعون کہتا کہ ہاں وہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو وہ ایمان لے آتا اور تصدیق کرتا۔ “ آسیہ نے کہا : یہ مجھے ہببہ کر دے اور اسے قتل نہ کرو۔ فرعون نے وہ اسے ہبہ کردیا (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : ولتصنع علی عینی کا مطلب ہے تو میرے سامنے پروان چڑھے اور غذا دیا جائے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ لغت میں معروف ہے، کہا جاتا ہے : صنعت الفرس والمنعتہ جب تو گھوڑے کی اچھی دیکھ بھال کرے۔ اس کا معنی ہے ولتصنع علی عینی میں نے یہ کیا۔ بعض نے فرمایا : اللام مابعد کلام اذ تمشی اختک کے متعلق ہے اور تقدیم و تاخیر کی بنا پر ہے۔ اذ، لتصنع کی ظرف ہے۔ بعض نے فرمایا : ولتصنع میں وائو زائدہ ہے۔ ابن القعقاع نے کہا : ولتصنع امر کی بنا پر لام کے سکون کے ساتھ ہے۔ اس کا ظاہر مخاطب ہے اور مامور غائب ہے۔ ابو نہیک نے ولتصنع، تا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی یہ ہے کہ آپ کا حرکت کرنا اور تصرف کرنا میری مشیت سے ہو اور میرے سامنے ہو ؛ یہ مہدوی نے قول کا ذکر کیا ہے۔ اذ تمشی اختک، اذ تمشی میں عامل القیت یا تصنع ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اذا وحینا سے بدلل ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا نام مریم تھا۔ فتقول ھلل ادلکم علی من یکلفہ یہ اس طرح ہوا کہ وہ اس کی خبر کی تلاش میں نکلی فرعون نے اپنی بیوی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہبہ کردیا تو اس کی بیوی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے دودھ پلانے والیاں طلب کیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے حتیٰ کہ ان کی بہن آگئی اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھایا اور اپنی گود میں لیا اورپ ستان منہ میں دیا تو دودھ پینے لگ گئے اور وہ خوش ہوگئے۔ فرعون کے گھر والوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا : تو ہمارے پاس ٹھہرے گی ؟ اس نے کہا : میرا دودھ نہیں ہے لیکن میں تمہیں اسے گھر کے متعلق آگاہ کرتی ہوں جو اس کی کفالت کرے گا اور وہ لوگ اس کے لیے نہایت مخلص ہوں گے۔ انہوں نے پوچھا : وہ کون ہیں ؟ اس نے کہا : میری والدہ۔ انہوں نے پوچھا : کیا اس کا دودھ ہے ؟ اس نے کہا میرے بھائی ہارون کا دودھ۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک سال بڑے تھے۔ بعض نے کہا : تین سال۔ بعض نے کہا : چار سال ان کے بچوں کو قتل کرنا چھوڑ دیا تھا اسی دوران حضرت ہارون پیدا ہوئے تھے ؛ یہ حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ کی والدہ آئی تو انہوں نے ان کا دودھ قبول کرلیا۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اشارہ کرتا ہے : فرجعنک الی امک، حضرت ابی کے مصحف میں فرددناک ہے۔ عبدالمجید نے ابن عامر سے روایت کیا ہے کی تقرعینھا قاف کے کسرہ کے ساتھ۔ جوہری نے کہا : وقررت بہ عینا وقررت بہ قرۃ وقروراً فیھا، رجل قریر العین، وقد قرت عینہ، تقریو تقر یہ گرم ہونے کی نقیض ہے۔ اقر اللہ عینہ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا حتیٰ کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوئی۔ پس اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھو۔ کہا جاتا ہے : حتیٰ تبرد ولا تسخن حتیٰ کہ ٹھنڈا ہوگیا اور گرم نہ رہا۔ خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور پریشانی کے آنسو گرم ہوتے ہیں۔ یہ مفہوم سورة مریم میں گزر چکا ہے۔ وللا تحزن یعنی اپنے مفقود ہونے پر پریشان نہ ہو۔ وقتلت نفسا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس کو آپ نے قتل کیا وہ قبطی کافر تھا۔ کعب نے کہا : وہ اس وقت بارہ سال کا تھا۔ صحیح مسلم میں ہے : ” اس کا قتل کرنا خطا تھا “ جیسا کہ آگے آئے گا۔ فنجینک من الغم یعنی ہم نے مجھے خوف، قتل اور حبس سے امن دیا۔ وفتنک فتوناً یعنی ہم نے تجھے آزمایا حتیٰ کہ آپ رسالت کے لیے تیار ہوگئے۔ قتادہ نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم نے تمہیں آزمائش میں ڈالا۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے ہم نے تجھے خالص کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ہم نے رسالت سے پہللے کئی چیزوں کے ساتھ آزمایا۔ اس سالل والدہ نے انہیں بطن میں اٹھایا جس سال میں فرعون بچوں کو قتل کرتا تھا۔ پھر انہیں دریا میں ڈالنا، پھر اپنی والدہ کے علاوہ کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دینا پھر فرعون کی داڑھی پکڑ کر کھینچنا، پھر موتی کے بدلے انگارے کو پکڑنا، پھر فرعون کے قتل سے نجات دین، پھر قطبی کو قتل کرنا، پھر خائف ہو کر نکل جاناپ ھر ببکریاں چرانا تاکہ مخلوق کی رعایت کرنے کی مشق کرلیں۔ کہا جاتا ہے : بکری کا ایک بچہ بھاگ گیا تو آپ دن کا اکثر حصہ اس کے پیچھے لگے رہے اس نے آپ کو تھکا دیا پھر اسے پکڑا تو اسے بوسہ دیا اور اپنے سینے سے لگایا اور کہا : تو نے مجھے بھی تھکا دیا اور خود ھی تھک گیا اور آپ اس پر ناراض نہ ہوئئے۔ وہب بن منبہ نے کہا : اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کلیم ببنایا۔ سورة نساء میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلبثت سنین فی اھل مدین آپ نے لمبی مدت دس سال پوری کی۔ وہبب نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت شعیب کے پاس اٹھائیس سال رہے ان میں سے دس سال ان کی بیوی صفورا بنت شعیب کا مہر تھا۔ اور اٹھارہ سال آپ ویسے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس ٹھہرے یہاں کہ ان کے ہاں ان کی اولاد ہوگئی۔ ثم جئت علی قدر یموسیٰ ۔ حضرت ابن عباس ؓ، قتادہ اور عببداللرحمن نے کہا : اس کا مطلب ہے نبوت و رسالت کے لیے موافق ہوگئے، کیونکہ انبیاء کرام چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیے جاتے ہیں۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : علی قدر کا معنی ہے وعدہ پر۔ محمد بن کعب نے کہا : پھر تو اس مقدار پر ہوگیا جو تیرے لیے مقدر کی گئی تھی کہ تو اس میں آئے۔ مفہوم دونوں اقوال کا ایک ہی ہے، یعنی آپ اس وقت آئے جس میں ہم نے تجھے بھیجنے کا ارادہ کیا تھا۔ شاعر نے کہا تھا :
نال الخلافۃ أو کا نت لہ قدراً کما انی ربہ موسیٰ علی قدر
Ayahs 20:41–42اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واصطنعتک لنفسی۔ حضرت ابن عبن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اپنی وحی اور رسالت کے لیے تمہیں چن لیا ہے۔ بعض نے فرمایا : اصطنعتک کا معنی ہے میں نے تجھے پیدا کیا۔ یہ الصنعۃ سے ماخوذ ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے میں نے تجھے قوت دی اور علم سکھایا تاکہ آپ میرا حکم اور میری نہی میرے بندوں تک پہنچائیں۔
اذھب انت واخوک بایتی حضرت ابن عبب اس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد نو آیات ہیں جو آپ پر نازل کی گئیں۔ و لا تینا فی ذکری۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : امر رسالت میں کمزور نہ ہونا ؛ اور یہ قتادہ کا بھی قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے سست نہ ہونا۔ شاعر نے کہا :۔
فما ونی محمد مذان غفر لہ الالہ مامضی وما غبر
الوفی کا مطلب کمزوری اور سستی ہے اور تھک جانا اور یاجز آجانا۔ اس آیت میں یہ سب معانی مراد ہو سکتے ہیں۔ امراء القیس نے کہا :
مسح اذا ما السابحات علی الونی اثرن غباراً بالکدید المرکل
کہا جاتا ہے : ونیت فی الأمروتی وونیا جس کا معنی ہے کمزور ہونا، فانا وان وناقۃ وانیۃ (کمزور اونٹنی) اونی تھا انام میں نے اونٹنی کو تھکا دیا اور کمزور کردیا۔ فلان لاینی کذا یعنی فلاں ہمیشہ رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ابان نے آیت کے معنی کی تفسیر بیان کی ہے اور طرفہ کے قول سے استشہاد کیا ہے۔
کان القدور الراسیات امامھم قباب بنوھا لاتنی ابداً تغلی
حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے : لا تبطئا (سست نہ ہونا) حضرت ابن مسعود کی قرأت میں ہے : ولا تھنا فی ذکری یعنی میری حمد بیان کرنے، میری بزرگی بیان کرنے اور میرے پیغام کو پہنچانے میں کوتاہی و سستی نہ کرنا۔
Ayahs 20:43–44(تفسیر 43-44) اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھبا، آیت کے آغاز میں فرمایا : اذھب انت واخوک بایتنی اور یہاں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کو دعوت پہنچانے کا حکم دیا پہلے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علیحدہ خطاب فرمایا ان کو شرف بخشنے کے لیے پھر تاکید کے لیے مکرر فرمایا۔ بعض نے فرمایا : اس سے واضح کیا کہ ایک کا جانا کافی نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا : پہلا تمام لوگوں کی طرف جانے کا حکم تھا اور دوسرا حکم فرعون کی طرف جانے کا تھا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقولا لہ قولا لینا یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جواز کی دلیل ہے اور اس شخص سے نرمی سے بات ہونی چاہیے جو قوت و مرتبہ والا ہو اور اس کے یے عصمت ہو۔ آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فقولا لہ قولاً لینا اور فرمایا : لا تخافا اننی معکما امع واری۔ جب حضرت موسیٰ کلیم اور حصرت ہارون (علیہما السلام) کی یہ حالت ہے تو ہماری کیا کیفیت ہوگی، ہم اس کیفیت سے تبلیغ کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔ اس وقت امرونہی کا فریضہ مرغوب انداز میں ہوگا اور مطلوبب حاصل ہوگا۔ یہ واضح ہے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ لینا کے قول میں علما کا اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے کہا جس میں کلبی اور عکرمہ بھی ہیں کہ اس کا معنی ہے اس کو کنیت سے بلائو ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد اور سدی کا قول ہے۔ پھر بعض علماء نے فرمایا : فرعون کی کنیت ابوالعباس تھی۔ بعض نے فرمایا : ابو الولید تھی۔ بعض نے فرمایا : ابومرۃ تھی، اس قول کی بنا پر کافر سے کنایۃً بات کرنا جائز ہے جب کہ وہ وجیہ اور شرف والاہو اس کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو۔ اور یہ جائز ہے جبکہ اس کے اسلام قبول کرنے کی امید نہ ببھی ہو کیونکہ طمع اور امید اس عمل کو ثابت نہیں کرتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس کسی قوم کا کریم (معزز) شخص آئے تو اس کا احترام کرو “ (1) یہ نہیں فرمایا کہ اس کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو۔ اور اس کے اکرام میں سے یہ ببھی ہے کہ اس کی کنیت ذکر کی جائے۔ نبی کریم ﷺ نے صفوان بن امیہ سے کہا : انزل ابا وھب، اے ابو وہب ! نیچے اترو۔
حضرت سعد کو عبداللہ بن ابی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : الم تسمع ما یقولہ ابوحباب، ابو حباب، عبداللہ بن ابی کی کنیت ہے۔ اسرائیلیات میں مروی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک سال فرعون کے دروازے پر کھڑے رہے انہوں نے کوئی پیغام رساں نہ پایا جو ان کی کلام فرعون تک پہنچاتا حتیٰ کہ خود فرعون باہر نکلا تو پھر یہ سارا واقعہ پیش آیا۔ یہ بعد میں آنے والے کے لیے تسلی ہے جن کا معاملہ ظالموں کے ساتھ ہو تمہارا رب ہدایت یافتہ لوگوں کو زیادہ جانتا ہے۔ بعض نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا : تو ایمان لے آ اس پر جو میں لے کر آیا ہوں اور تو رب العالمین کی عبادت کر، اس پر کہ تیرے لیے ایسی جوانی ہوگی جو موت تک بوڑھا نہیں کرے گی اور ایسی ملکیت پر جو تجھ سے موت تک چھینی نہیں جائے گی، اور تیرے عمر میں چار سو سال اضافہ ہوجائے گا اور جب تو مرے گا تو جنت میں داخل ہوگا۔ یہ قول لین ہے، حضرت اببن مسعود نے فرمایا : القول اللین سے مراد یہ ارشاد ہے : فقل ھل لک الی ان تزکی۔ واھدیک الی ربک فتخشی۔ (النازعات) بعض نے فرمایا : قول لین سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ہے : اے فرعون ! ہم تیرے پروردگار، تمام جہانوں کے پروردگار کے پیغام رساں ہیں۔ آپ نے اس کا یہ نام لیا کیونکہ باقی اسماء میں سے یہ نام اسے زیادہ پسند تھا جس طرح ہمارے ہاں الملک (بادشاہ) کو نام دیا جاتا ہے۔
میں کہتا ہوں : القول اللین سے مراد وہ قول ہے جس میں خشونت نہ ہو۔ کہا جاتا ہے : یلین لینا، شی لی ولین مخفف ہے اور اس کی جمع الیناء ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون سے نرم لہجہ میں بات کرنے کا حکم دیا گیا تو جوان سے کم مرتبہ ہیں ان کے لیے بدرجہ اولیٰ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے خطاب میں اس معاملہ کی اقتدا کرے اور کلام میں نرمی کا مظاہرہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وقولوا للناس حسنا (البقرہ :83) اس کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ الحمد للہ۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لعلہ یتذکر او یخشی۔ اس کا معنی ہے تمہاری امید اور تمہاری رجا پر۔ اس میں توقع جہت بشر کی طرف راجع ہے ؛ بڑے بڑے نحوی علماء اور سبیویہ وغیرہ نے یہ کہا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ مفہوم گزر چکا ہے۔ زجاج نے کہا : لعل لفظ طمع اور ترجی ہے، پس اس کے ساتھ عقلمندوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : لعل یہاں اسفہام کے معنی میں ہے۔ اس کا معنی ہے : فانظر ھل یتذکر، یعنی دیکھ کیا وہ نصیحت حاصل کرتا ہے۔ بعض نے کہا : یہ کئی کے معنی میں ہے۔ بعض نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا تھا شاید وہ نصیحت حاصل کرے اور ڈرنے لگے ؛ یہ حسن کا قول ہے۔ بعض نے کہا : لعل اور عسیٰ تمام قرآن میں اس معنی کے لیے آئے ہیں جو واقع ہوچکا ہو۔ فرعون نے اس وقت نصیحت حاصل کی جب وہ غرق ہونے لگا اور اس وقت ڈرا اور کہا : امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنو اسرآء یل وانا من المسلمین۔ (یونس) لیکن اس وقت کے ایمان نے اسے نفع نہیں دیا ؛ یہ ابوبکر وراق وغیرہ کا قول ہے۔ یحییٰ بن معاذ نے اس آیت میں فرمایا : یہ تیری اس پر مہربانی ہے جو کہتا ہے : میں الہ ہوں، پھر اس پر تیری کتنی بندہ نوازی ہوگی جو کہتا ہے : تو الہ ہے بعض نے فرمایا : فرعون، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول کی طرف مائل ہوا جب آپ نے اسے دعوت دی اور اپنی بیوی سے مشورہ کیا وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی اور ایمان لانے کا مشورہ دیا پھر اس نے ھامان سے مشورہ کیا تو اس نے کہا : تو ایسا نہ کر تو بادشاہ ہونے کے بعد غلام بن جائے گا، تو رب ہونے کے بعد مربوب ہوجائے گا اور اسے کہا : میں تجھے جوانی کی طرف لوٹائوں گا۔ اس نے اس کی داڑھی میں سیہ خضاب لگایا اور پہلا شخص تھا جس نے سیاہ خضاب لگایا تھا۔
Ayah 20:45(تفسیر 45) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ضحاک نے کہا : یفرط کا معنی تجاوز کرنا ہے۔ نحاس نے کہا : یفرط علینا منہ امر ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی طرف سے ہم پر تجاوز ہوگا۔ فراء نے کہا : اس کی طرف سے امر جلدی ہوگا۔ فراء نے کہا : افراط کا معنی اسرع (جلدی کرنا) ہے اور فرمایا : فرط کا معنی چھوڑ دینا ہے اور جمہور کی قرأت یفرط یاء کے فتحہ اور راء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اس کا معنی ہے ہمیں سزا دینے میں وہ جلدی کرے گا۔ کہا جاتا ہے : فرط منی امر جلدی ہوا۔ اسی سے الفارط فی الماء ہے وہ شخص جو پانی تک لوگوں سے پہلے پہنچ جاتا ہے یعنی وہ ہمیں گناہ میں سبقت لے جانے والے کے عذاب کی طرح عذاب دے گا ؛ یہ مبرد کا قول ہے۔ اور ایک گروہ نے یفطر یاء اور راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان میں ابن محیصن بھی ہے۔ مہدوی نے کہا : شاید یہ بھی ایک لغت ہو ان سے یاء کے ضمہ اور رراء کے فتحہ کے ساتھ بھی مروی ہے۔ اس کا معنی ہے اسے ہم پر جلدی کرنے پر ابھارنے والا ابھارے گا۔ ایک گروہ نے یفرط یاء کے ضمہ اور راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد، عکرمہ اور ابن محیصن نے بھی اسی طرح پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے وہ ہمیں اذیت دینے میں زیادتی کرے گا۔ راجز نے کہا :
قد افرط العلج علینا وعجل۔
Ayah 20:46(تفسیر 46) اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بتقاضائے بشریت اپنے نفسوں پر خوف لاحق ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرمایا کہ فرعون ان تک اور ان کی قوم تک پہنچے گا۔ یہ آیت اس کے قول کا رد کرتی ہے جو کہتا ہے : وہ نہیں ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی انبیاء و اولیاء میں سنت ہے کہ انہیں دشمنوں کا خوف ہوتا ہے حالانکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر وثوق اور یقین ہوتا ہے۔ بصری (رح) نے کیا خوب کہا جب عامر بن عبداللہ کے متعلق خبر دینے والے کو کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کے راستے پر پانی پر اترا ہے اور ان کے درمیان اور پانی کے درمیان ایک شیر حائل ہوگیا ہے۔ عامر پانی کی طرف آیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی۔ عامر کو کہا گیا : کیا تو نے اپنے اندر خطرہ محسوس کیا ؟ تو عامر نے کہا : میرے پیٹ میں نیزے لگیں تو میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ میں اس کے سوا کسی چیز سے ڈرتا ہوں، جبکہ وہ بھی بتقاضائے بشیرت ڈرے تھے جو عامر سے بہتر تھے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب ان سے ایک شخص نے کہا تھا :
میں کہتا ہوں : اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ کے اردگرد خندق کھودی تاکہ مسلمان اور ان کے اموال محفوظ ہوجائیں جبکہ آپ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور وثوق میں ایسے مقام پر فائز تھے جس پر کبھی کوئی پہنچا ہی نہیں پھر آپ کے صحابہ کرام جن سے کوئی ناواقف نہیں کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ایک مرتبہ حبشہ کی طرف گئے اور پھر مدینہ طیبہ کی طرف گئے کیونکہ انہیں مشرکین مکہ سے اپنی جانوں کا خطرہ تھا اور اس لیے چلے گئے تھے کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ انہیں عذاب دے کر انہیں دین کے سلسلہ میں فتنہ میں مبتلا کردیں گے۔ اسماء بنت عمیس نے حضرت عمر ؓ سے کہا تھا جب انہوں نے اسے کہا تھا : ہم تم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں اس لیے ہم رسول اللہ ﷺ کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۔ اسماء نے کہا : اے عمر ! تو نے غلط کہا ہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! تم نبی پاک ﷺ کے ساتھ تھے وہ تمہارے بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے، تمہارے جاہلوں کو وعظ کرتے تھے اور ہم دور والی زمین میں تھے جس میں دین اسلام سے نفرت کی جاتی تھی یعنی ہم حبشہ میں تھے اور یہ سب کچھ ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے برداشت کیا۔ اللہ کی قسم ! میں نہ کھانا کھائوں گی اور نہ پانی پیوئوں گی حتیٰ کہ میں رسول اللہ ﷺ سے وہ عرض کرلوں جو تو نے کہا ہے، ہم اذیت دئیے جاتے تھے اور ہم ڈرتے تھے۔ یہ طویل حدیث ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ علماء نے فرمایا : اپنی ذات کے متعلق خبر دینے والا جھوٹا ہے سوائے ان باتوں کے جو اللہ تعالیٰ نے نفوس کے اندر پیدا کردی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے کہ وہ تکلیف دینے والی، اذیت دینے والی اور تلف کرنے والی چیزوں سے ڈرتا ہے۔ علماء نے فرمایا درندے سے بڑا ضرر نہیں ہے جو انسان پر جنگل میں حملہ کرنے والا ہے اور اس کے پاس اپنی جان کی حفاظت کے لیے تلوار، نیزہ، تیر وغیرہ بھی نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اننی معکما یعنی فرعون کے خلاف میں تمہاری مدد اور نصرت کروں گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں : الامیر مع فلاں جب امیر اس کی حفاظت کرنے والا ہو۔ اسمع واری۔ یہ اس ادراک سے عبارت ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی۔ اللہ رب العالمین کی ذات بڑی بابرکت ہے۔
Ayahs 20:47–50(تفسیر 47-50) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتیہ فقولا انا رسولا ربک اس کلام میں حذف ہے یعنی یہ ہے کہ وہ فرعون کے پاس آئے اور اسے یہ کہا : فارسل معنا بنی اسرآء یل یعنی ان کو چھوڑ دے۔ ولا تعذبھم محنت و مشقت اور کام میں تھکانے کے ساتھ۔ بنو اسرائیل فرعون کے پاس سخت عذاب میں تھے وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا اور مٹی اور اینٹیں بنانے اور شہر تعمیر کرنے کی تکلیف مالا یطاف دیتا تھا۔ قد جئنک بایتہ من ربک حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس آیت سے مراد عصا اور ہاتھ میں ہے۔ بعض نے فرمایا : فرعون نے پوچھا وہ نشانی کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی قمیض کے گریبان میں داخل کیا پھر اسے سفید نکالا اس کی سورج کی شعاع کی طرح شعاع تھی اس ہاتھ کا نور سورج کے نور پر غالب آگیا۔ اور اس سے اس نے تعجب کیا اور عصا کا معجزہ نہیں دکھایا مگر میلہ کے دن۔ والسلم علی من اتبع الھدی۔ زجاج نے کہا : جس نے ہدایت کی اتباع وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب سے بچ گیا اور فرمایا : یہ سلام نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ ملاقات کی ابتدا نہیں ہے اور خطاب نہیں ہے۔ فراء نے کہا : والسلم علی من اتبع الھدی۔ اور لمن اتبع الھدی برابر نہیں۔ انا قد اوحی الینا ان العذاب یعنی دنیا میں ہلاکت و بربادی اور آخرت میں جہنم میں ہمیشہ رہنا۔ علی من کذب اس پر ہے جس نے انبیاء کرام کو جھٹلایا۔ تولیٰ اور ایمان سے اعراض کیا۔ حضرت اببن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت موحدین کے لیے امید افزا ہے کیونکہ انہوں نے یہ جھٹلایا اور نہ اعراض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قال فمن ربکما یموسیٰ ۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا حضرت ہارون (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا تاکہ آیات کے سرے مل جائیں۔ بعض نے فرمایا : ذکر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خاص فرمایا کیونکہ وہ رسالت اور کلام اور معجزہ والے تھے۔ بعض نے فرمایا : دونوں نے پیغام پہنچایا اگرچہ حضرت ہارون (علیہ السلام) خاموش تھے، کیونکہ کلام کے وقت ایک شخص بات کرتا ہے۔ جب ایک کلام ختم کرتا ہے تو دوسرا اس کی تائید کرتا ہے اور اسے تقویت دیتا ہے۔ پس اس بنا میں ہمارے لیے ایک علمی فائدہ ہے کہ دو شخصوں کو کوئی کام سپرد کیا جائے اور پھر ایک ادا کردے جبکہ دوسرا وہاں موجود ہو اس وقت وہ اس سے مستغنی ہو تو وہ کام دونوں کا ادا کرنا شمار ہوگا اور دونوں عوض اور بدل کے مستحق ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اذھبا الی فرعون اور پھر فرمایا : اذھب انت واخوک اور فرمایا : فقو لا لہ دونوں کو جانے اور بات کرنے کا حکم دیا۔ پھر فمن ربکما کے قول سے خطاب نے ہمیں بتایا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ موجود تھے۔ قال، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ یعنی وہ اپنی صفات کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اس کا کوئی اسم، علم نہیں حتیٰ کہ کہا جائے کہ وہ فلاں ہے بلکہ وہ عالم کا خالق ہے اس نے ہر مخلوق کو اپنی ہئیت اور صورت کے ساتھ خاص کیا ہے۔ آخر خطاب دونوں کے ساتھ ہوتا تو تو کلام یوں ہوتی : قالا ربنا اور خلقہ، اعطی کا مفعول اول ہے یعنی اس نے ہر مخلوق کو ہر وہ چیز دی جس کے وہ محتاج تھے اور جس کی انہیں ضرورت تھی یا یہ مفعول ثانی ہے یعنی اس نے ہر چیز کو اس کی وہ صورت اور شکل دی جو اس منفعت کے مطابق تھی جو اس کے متعلق تھی جیسا کہ ضحاک کا قول ہے جو آگے آرہا ہے۔ ثم ھدی، حضرت ابن عباس ؓ، سعید بن جبیر اور سدی نے کہا : اس کا مطلب ہے اس نے ہر چیز کو اس کی جنس سے اس کا جوڑا دیا پھر اس کی نکاح کرنے، کھانے پینے اور رہنے کی طرف راہنمائی کی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : پھر اس کی الفت، اجتماع اور مناکحت کی طرف راہنمائی کی۔ حسن اور قتادہ نے کہا : ہر چیز کو اس کی اصلاح دی اور جو اس کے لیے مناسب تھا اس کی طرف راہنمائی کی۔ مجاہد نے کہا : اس نے ہر چیز کو صورت دی اور انسان کی صورت، حیوانوں کی تخلیق پر نہیں بنائی اور نہ حیوانوں کی تخلیق انسانوں کی تخلیق پر بنائی لیکن اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ایک مخصوص اندازے سے بنایا۔ شاعر نے کہا :
ولہ فی کل شی خلقہ وکذاک اللہ ماشاء فعل
یعنی جس صورت پر تخلیق کرنا چاہا کردیا ؛ یہ عطیہ اور مقاتل کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : اس نے ہر چیز کو اس منفعت کے ساتھ پیدا کیا جو اس کے متعلق تھی اور اس کے مطابق تھی یعنی ہاتھ کو پکڑنے کے لیے، پائوں کو چلنے کے لیے، زبان کو بولنے کے لیے، آنکھ کو دیکھنے کے لیے، کان کو سننے کے لیے پیدا کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ہر چیز کو علم یا صنعت الہام کی۔ فراء نے کہا : مرد کو عورت کے لیے تخلیق کیا اور ہر مذکر کے لیے اس کے موافق مونث پیدا کی۔ ہر مذکور کو عورت کے لیے راہنمائی کی اس تقدیر پر مطلب ہوگا : اعطی کل شیء مثل خلقہ ہر چیز کو اس کی تخلیق کی مثل عطا کی۔
میں کہتا ہوں : یہی حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے۔ آیت کریمہ عام ہے۔ زائدہ نے اعمش سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے الذی اعطی کل شیء خلقہ یعنی لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے : یہ ابن ابی اسحاق کی قرأت ہے۔ اور نصیر نے کسائی وغیرہ سے یہ روایت کیا ہے یعنی بنی آدم کو ہر چیز عطا کی وہ اس نے پیدا کی جس کے وہ محتاج تھے۔ دونوں قرأتیں معنی میں متفق ہیں۔
Ayahs 20:51–55(تفسیر 51-52) اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فما بال، البال سے مراد حالت ہے یعنی کیا حال ہوا اور کیا شان ہوئی، تو تایا کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، یعنی یہ علم غیب سے ہے جس کے متعلق تو نے سوال کیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کیا ہے اس کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں نہیں ہوں مگر تیری مثل بندہ، میں نہیں جانتا مگر جس کے متعلق مجھے وہ عللام الغیوب خبر دے، گزشتہ قوموں کے احوال کا علم اللہ کی بارگاہ میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے پہلی قوموں کا کیا حال ہوا جنہوں نے توحید و رسالت کا اقرار نہیں کیا یعنی ان کا کیا حال ہوا جو گزر گئے اور انہوں نے تیرے رب کے علاوہ معبودوں کی عبادت کی۔ بعض نے فرمایا : اس نے پہلی قوموں کے اعمال کے متعلق پوچھا تو بتایا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں شمار کیے گئے ہیں اور اس کے پاس کتاب میں محفوظ ہیں، یعنی وہ اعمال لکھے ہوئے ہیں وہ انہیں عذاب اور جزا دے گا۔ یہاں الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ بعض نے فرمایا وہ کتاب ہے جو ملائکہ کے پاس ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت اور اس کی مثل دوسری آیات جو گزر چکی ہیں اور جو آگے آئیں گی علوم کو مدون کرنے اور ان کو لکھنے پر دلالت کرتی ہیں تاکہ علوم ببھول نہ جائیں کیونکہ کبھی حفظ کو غلطی اور نسیان جیسی آفات لاحق ہوجاتی ہیں اور کبھی انسان اسے یاد نہیں رکھتا جو وہ سنتا ہے تاکہ وہ اسے مقید کرے تاکہ ضائع نہ ہوجائے۔ ہم نے قتادہ سے متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ان سے پوچھا گیا : کیا ہم تیرے جیسے لوگوں سے جو سنیں اسے لکھ لیں ؟ اس نے کہا : تمہیں لکھنے سے کیا مانع ہے جبکہ اللہ تعالیٰ جو لطیف وخبیر ہے اس نے خود خبر دی ہے کہ وہ لکھا ہے فرمایا : قال علمھا عند ربی فی کتب لا یضل ربی ولا ینسی اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کا فیصلہ فرمایا تو کتاب میں اپنے اوپر لکھا اور وہ اس کے پاس رکھا ہوا ہے کہ میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہے۔ “ خطیب ابوببکر نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : ایک انصاری شخص نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھتا تھا وہ حدیث غور سے سنتا تھا اور وہ اسے پسند کرتا تھا اور اسے یاد نہیں کرسکتا تھا اس نے نبی پاک ﷺ کی بارگاہ میں شکایت کی عرض کی : یارسول اللہ میں آپ سے حدیث سنتا ہوں اور وہ مجھے اچھی لگتی ہے لیکن میں یاد نہیں کرسکتا۔ اسے نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اپنے دائیں ہاتھ سے مدد طلب کرو “ (1) اور آپ نے لکھنے کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ نص ہے اور علم کے لکھنے اور اس کی تدوین کے جواز پر جمہور صحابہ اور تابعین کا جواز بنے۔ نبی کریم ﷺ نے ابو شاہ کے لیے وہ خطبہ لکھنے کا حکم دیا جو آپ ﷺ نے حج کے موقعہ پر دیا تھا۔ ابو شاہ یمن کا ایک شخص تھا اس نے وہ خطبہ لکھ کردینے کا سوال کیا تھا۔ اس حدیث کو مسلم نے تخریج کیا ہے۔ عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے انہوں نے ان کے دادا سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” علم کو لکھنے کے ساتھ قید کرو “ (2) ۔ معاویہ بن قرہ نے کہا : جو علم لکھتا نہیں اس کا علم، علم شمار نہیں ہوتا۔
بعض علماء علم کو لکھنے سے منع کرتے ہیں۔ ابو نضرہ نے روایت کیا ہے فرمایا : ابو سعید سے پوچھا گیا : کیا ہم تمہاری یہ حدیث لکھیں۔ اس نے کہا : اس کو قرآن نہ بنائو لیکن یاد کرو جس طرح ہم نے یاد کیا ہے۔ اور جو نہیں لکھتے تھے ان میں شعبی، یونس ببن عبید اور خالد حذاء ہیں۔ خالد نے کہا : میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی سوائے ایک حدیث کے جب وہ میں نے یاد کرلی تو وہ میں نے مٹا دی۔ ان علماء میں ابن عون اور زہری بھی ہیں۔ بعض لکھتے تھے جب یاد کرلیتے تھے تو اسے مٹا دیتے تھے ان میں سے محمد بن سیرین اور عاصم بن ضمرہ ہیں۔ ہشام بن حسان نے کہا : میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی سوائے حدیث الاعماق کے جب میں نے وہ یاد کرلی تو میں نے اسے مٹا دیا۔
میں کہتا ہوں : ہم نے خالد حذاء سے اس کی مثل ذکر کیا ہے۔ حدیثِ اعماق کو مسلم نے کتاب کے آخر میں ذکر کیا ہے۔ ” قیامت قائم نہ ہوگی حتٰ کہ رومی اعماق یا وابق میں اتریں گے۔ “ اس کو کتاب الفتن میں ذکر کیا ہے۔ بعض علماء پہلے حدیث یاد کرتے تھے پھر اسے لکھتے تھے ان میں اعمش، عببداللہ بن ادریس اور ہشیم وغیرہم ہیں۔ یہ حفظ پر احتیاط ہے۔ بہرحال لکھنا بہتر ہے۔ اس کے متعلق آیات اور احادیث وارد ہیں اور یہ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت جابر اور حضرت انس ؓ سے مروی ہے اور بڑے بڑے تابعین سے مروی ہے جیسے حسن، عطا، ظائوس، عروہ بن زبیر اور ان کے بعد والے اہل علم سے بھی یہ مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وکتبنا لہ فی الالواح من کلی شیء (الاعراف :145) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون۔ (الانبیائ) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (الاعراف : 156) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکل شیء فعلوہ فی الزبر۔ وکل صغیر و کبیر مستطر۔ (القمر) اور فرمایا : علمھا عند ربی فی کتب ان کے علاوہ بھی آیات اس پر دلالت کرتی ہیں۔ نیز علم کتابت کے ذریعے محفوظ ہوتا ہے، پھر مقابلہ، تکرار، تحفظ، تعہد، مذاکرہ، سوال، ناقلین سے جستجو کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ جن علماء نے ابتدائی دور میں لکھنے کو ناپسند کیا تھا وہ عہد کے قرب کی وجہ سے تھا اور اسناد کے قریب کی وجہ سے تھا تاکہ کاتب لکھنے پر اعتماد نہ کرے اور سلسلہ سند اور حفظ اور عمل کو چھوڑ دے اب جبکہ زمانہ بہت دور ہوگیا ہے اسناد غیر متقارب ہیں، طرق مختلف ہوگئے ہیں۔ نقل کرنے والے متشابہ ہوگئے ہیں، نسیان کی آفت لاحق ہوچکی ہے، وہم سے بھی امن نہیں ہے پس لکھنے کے ساتھ علم کو مقید کرنا اولیٰ اور بہتر ہے اور اس کے وجوب پر دلیل زیادہ قوی ہے۔ اگر کوئی حضرت ابو سعید کی حدیث سے حجت پکڑے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” مجھ سے نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے وہ اسے مٹا دے “ (1) ۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث متقدم ہے اور کتابت کے امر کے ساتھ منسوخ ہے۔ ابو شاہ کے لیے لکھنے کی اباحت کے ساتھ منسوخ ہے نیز یہ اس لیے فرمایا تھا تاکہ قرآن کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہ مل جائے جو قرآن سے نہ ہو۔ اسی طرح حضرت ابو سعید سے بھی مروی ہے : ہم نے خواہش کی کہ نبی کریم ﷺ ہمیں لکھنے کی اجازت دیں تو آپ نے ان کا رد کیا، اگر یہ محفوظ ہے تو یہ ہجرت سے پہلے کی ہے جب کہ قرآن کو چھوڑ کر حدیث سے مشغول ہونے کا اندیشہ تھا۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ ابوبکر خطیب نے کہا : مناسب ہے کہ حدیث کالی سیاہی سے لکھی جائے پھر جر (روشنائی) خاص ہے مداد (سیاہی) نہیں کیونکہ سوسد شوخ رنگ ہے اور جببر اسے کافی زمانہ باقی رکھتی ہے۔ سیاہی صاحب علم لوگوں کا آلہ ہے اور اہل معرفت کا ہتھیار ہے۔ عبداللہ احمد بن حنبل نے ذکر کیا ہے کہ مجھے میرے باپ نے بتایا کہ مجھے امام شافعی نے دیکھا کہ میں ان کی مجلس میں تھا اور میری قمیض پر سیاہی لگی ہوئی تھی اور میں اسے چھپا رہا تھا۔ امام شافعی نے فرمایا : تو اسے کیوں چھپا رہا ہے ؟ کپڑے پر سیاہی مروءت سے ہے کیونکہ اس کی صورت آنکھوں میں سیاہی ہے اور بصائر میں سفیدی ہے۔ حضرت خالد بن ولید نے کہا : صاحب حدیث کے کپڑے میں سیاہی اس طرح ہے جیسے دلہن کے لباس پر خوشبو ہوتی ہے۔ ابو عداللہ بلوی نے یہی مفہوم اس طرح بیان کیا ہے۔
مداد المحابر طیب الرجال وطیب النساء من الزعفران
فھذا یلیق باثواب ذا وھذا یلیق بثوب الحصان (1)
ماوردی نے ذکر کیا ہے کہ عببداللہ بن سلیمان جیسا کہ حکایت کیا گیا ہے نے اپنے کپڑوں پر زردی کا اثر دیکھا اس نے دوات سے کچھ سیاہی لی اور اس پر اسے مل دیا پھر فرمایا : ہمارے لیے سیاہ زعفران سے زیادہ خوبصورت ہے ؛ اور شعر کہا :
انما الزعفران عطر العذاری ومداد الدوی عطر الرجال
مسئلہ نمبر 4 ۔ لا یضل ربی ولا بنسی۔ اس کے مفہوم میں علماء کے پانچ اقوال ہیں : (1) یہ نئی کلام ہے اور ان دونوں صفتوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی گئی ہے اور کلام فی کتب میں مکمل ہوچکی ہے ؛ اسی طرح زجاج نے کہا ہے : اور لا یضل کا معنی ہے وہ ہلاک نہیں ہوتا یہ اس قول سے ہے، ء اذا ضللنا فی الارض (السجدۃ :10) کیا جب ہم زمین میں ہلاک ہوجائیں گے۔ ولا ینسی۔ وہ کوئی چیز بھولنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہلاکت اور نسیان سے تنزیہہ بیان کی گئی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ لا یضل کا معنی ہے وہ خطا نہیں کرتا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یعنی وہ تدبیر میں خطا نہیں کرتا جس کو اس نے مہلت دی وہ بھی اس نے کسی حکمت کے تحت مہلت دی اور جس کو جلدی پکڑ لیا تو یہ بھی اس کی حکمت کا تقاضا تھا۔ تیسرا قول یہ ہے لا یضل وہ غائب نہیں ہوتا ؛ ابن الاعربی نے کہا : الضلال کی اصل الغیبوبۃ ہے۔ کہا جاتا ہے : ضل الناسی جب کسی سے کسی چیز کا یاد کرنا غائب ہوجائے۔ فرمایا : اس جملہ کا معنی ہے میرے رب سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی چیز سے غائب ہوتا ہے۔ چوتھا قول یہ ہے یہ بھی زجاج نے کہا اور نچاس نے کہا : یہ معنی میں اس کے مشابہ ہے، اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ کتاب کا محتاج نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کا علم اور معرفت اس سے غائب نہیں ہوتی اور جو وہ علم رکھتا ہے اسے بھولتا نہیں۔
میں کہتا ہوں : یہ قول ابن الاعرابی کے قول کے مفہوم کی طرف راجع ہے۔ پانچواں قول یہ ہے کہ لا یضل ربی ولا ینسی۔ کتاب کی صفت ہے یعنی وہ کتاب اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہونے والی۔ ولا ینسی یعنی وہ بھولنے والا نہیں۔ یہ دونوں کتاب کی صفت ہیں۔ اس بنا پر کلام متصل ہوگی اور کتاب پر وقف نہ ہوگا۔ عرب کہتے ہیں : ضلنی الشی جب کوئی چیز نہ پائے۔ اضللتہ انا جب میں ایسی جگہ کسی چیز کو چھوڑ دوں کہ پھر میں اسے نہ پائوں۔ حسن، قتادہ، عیسیٰ بن عمر، ابن محیصن، عاصم جحدری اور ابن کثیر نے جو شبل نے اس سے روایت کیا ہے۔ لا یضل، یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرا رب نہ اسے ضائع کرے گا اور نہ اسے ببھولے گا۔ ابن عرفہ نے کہا : عربوں کے نزدیک الضلالہ کا معنی یڑھے راستہ پر چلنا ہے۔ کہا جاتا ہے : ضل عن الطریق وائل الشی جب کسی چیز کو ضائع کر دے اسی سے ہے جنہوں نے لا یضل ربی پڑھا ہے جس کا معنی ہے۔ وہ ضائع نہیں کرے گا ؛ یہ عربوں کا مذہب ہے۔
Ayah 20:56(تفسیر 56-61) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد ارینہ ایتنا کلھا، یعنی وہ معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر دلالت کرتے تھے۔ بعض نے فرمایا : وہ آیات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتی تھیں۔ فکذب وابی۔ یعنی ایمان نہ لایا۔ یہ دلیل ہے کہ اس نے عناد اور ہٹ دھرمی کی ببنا پر کفر کیا کیونکہ اس نے آیات (معجزات) اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے تھے سنے سنائے نہ تھے۔ اس کی مثال یہ آیت ہے، وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا (النمل :14)
Ayahs 20:57–59اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ ۔ وہ آیات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے اور اس نے انہیں دیکھا تو کہنے لگا : یہ جادو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو اس لیے آیا ہے تاکہ لوگوں کو وہم میں ڈالے تو ایسی نشانی لے آیا جو تیری اتبباع اور تجھ پر ایمان لانے کا موجب ہے تاکہ تو ہماری زمین پر اور ہم پر غالب آجائے۔ فلنا تینک بسحر مثلہ ہم اس کی مثل کے ساتھ تیرا مقابلہ کریں گے جو تو لے کر آیا تاکہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ جو تو لے کر آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے۔ فاجعل بیننا وبینک موعداا، موعدا مصدر ہے یعنی وعداً ۔ بعض نے فرمایا : الموعد وعدہ کی جگہ کا اسم ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وان جہنم لموعدھم اجمعین۔ (الحجر) پس الموعد سے یہاں مکان مراد ہے۔ بعض نے فرمایا : وعدہ کے زمانہ کا اسم ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان موعدھم الصبح (ہود :81) مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے ایک دن متعین کردیا مخصوص جگہ کا تعین کرو۔ قشیری نے کہا : اظہر یہ ہے کہ یہ مصدر ہے اسی وجہ سے فرمایا : وان جہنم لمعوعدھم اجمعین۔ (ہود :81) مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے ایک دن متعین کردیا مخصوص جگہ کا تعین کرو۔ قشیری نے کہا : اظہر یہ ہے کہ یہ مصدر ہے اسی وجہ سے فرمایا : لا نخلفہ یعنی ہم اس وعدہ سے نہیں پھریں گے۔ الاخلاف کا مطلب ہے کسی سے کام کا وعدہ کرنا اور پھر اسے پورا نہ کرنا۔ جوہری نے کہا : المیعاد کا مطلب الموعدت، الوقت اور الموضع ہے، اسی طرح الموعد ہے۔ ابوجعفر ابن قعقاع، شیبہ اور اعرج نے لا نخلفہ، اجعل جواب کی وجہ سے جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور جنہوں نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے تو انہوں نے موعد کی صفت بنایا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : موعوداً غیر مخلف۔
مکانا سوی۔ ابن عامر، عالم اور حمزہ نے سوی سین کے ضمہ کے ساتھ اور باقی قراء نے سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں 0 ہیں جیسے عداً وعداً طوی وطوی۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے سین کے کسرہ کے ساتھ اختیار کیا ہے کیونکہ یہ لغت عا سے لیہ فصیحہ ہے۔ نحاس نے کہا : کسرہ زیادہ معروف و مشہور ہے۔ تمام نے وائو کو تنوین دی ہے۔ حسن سے مروی ہے اور ان سے سین کے ضمہ اور بغیر تنوین کے پڑھنے میں اختلاف مروی ہے۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ مکان برابر ہو ؛ یہ کلبی کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : ایسا ہموار مکان جس میں وہ سب کچھ واضح نظر آئے جو ہم بیان کریں، یہ ابن زید کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا معنی عدلا بیننا وبینک بھی مروی ہے۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر نے سویٰ کا معنی نصف اور عدل بیان کیا ہے ﷺ ؛ یہ حسن قول ہے۔ سیبویہ نے کہا : کہا جاتا ہے : سوی وسوی۔ یعنی عدل (مساوی) یعنی اسی جگہ جو دونوں اطراف کا نصف بنتی ہو۔ اس کی اصل تیرے اس قول سے ہے : جلس فی سواء الدار، وہ گھر کے وسط میں بیٹھا اور ہر چیز کا وسط اس کا نصف ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے وکذلک جعلنکم امۃ وسطاً (البقرہ :143) کی تفسیر میں عدلا مروی ہے (1) ۔ زبیر نے کہا :
أرونا خطۃ لاضیم فیھا یسوی بیننا فیھا السواء
ابوعبیدہ اور قتبی نے کہا : دونوں فریقوں کے درمیان کی جگہ۔ ابو عبیدہ نے موسیٰ بن جابر نخعی کے لیے یہ شعر کہا :
وان ابانا کان حل ببلدۃ سوی بین قیس قیس عیلان والفزر
الفزر سے مراد سعد بن زید مناۃ بن تمیم ہے۔ اخفش نے کہا : سوی جب بمعنی غیر یا بمعنی عدل ہو تو اس میں تین لغات ہوتی ہیں۔ اگر سین کو ضمہ دیا جائے یا کسرہ دیا جائے تو دونوں صورتوں میں قصر کے ساتھ ہوگا اگر سین کو فتحہ دیا جائے تو مد کے ساتھ پڑھا جائے گا تو کہتا ہے : مکان سوی وسوی وسواء یعنی دونوں فریقوں کی درمیانی جگہ۔ موسیٰ بن جابر نے کہا :
وجدنا أبانا کان حل ببلدۃ
بعض نے فرمایا : مکانا سوی سے مراد ہموار جگہ ہے۔ اس قول والے نے یہ شعر پڑھا ہے :
لو تمنت حبیبی ما عدتنی وتمتنیت ما عدوت سواھا
اور تو کہتا ہے : مررت برجل سواک وسواک وسائک یعنی غیرک (تیرے سوا) دونوں اس امر میں براببر ہیں۔ اگر تو چاہے تو سواء ان کہے اور جمع کے لیے سواء اور ھم اسواء ھم سواسۃ جیسے ثمانیۃ بغیر قیاس کے آتا ہے۔ مکانا پر نصب جعل کے مفعول ثانی کی وجہ سے ہے۔ موعد کی وجہ سے اس کو نصب دینا درست نہیں کیونکہ وہ مفعول ہے یا ظرف ہے کیونکہ الموعد سے وصف بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ اسماء جو افعال کے عمل کی طرح عمل کرتے ہیں جب ان کا وصف ذکر کیا جائے یا تصغیر بنائی جائے تو ان کا عمل کرنا مناسب نہیں کیونکہ وہ شبہ فعل سے نکل گئے ہیں اور اس کو اس پر محمول کرنا بہتر نہیں کہ ظرف مفعول ثانی کی جگہ واقع ہوئی ہے، کیونکہ موعد کے بعد جبب ظرف واقع ہو تو عرب ظروف کے ساتھ مصادر کے قائم مقام نہیں کرتے بلکہ وہ اس میں وسعت کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان موعدھم الصبح (ہود : 81) موعدکم یوم الزینۃ۔ یوم الزینۃ۔ یوم الزینۃ کے متعلق علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ عید کا دن تھا اس میں وہ زینت اختیار کرتے تھے اور جمع ہوتے تھے ؛ یہ قتاد اور سدی وغیرہ ہما کا قول ہے۔ حضرت نے فرمایا : وہ عید کا دن تھا اس میں وہ زینت اختیار کرتے تھے اور جمع ہوتے تھے، یہ قتادہ اور سدی وغیرہ ہما کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعد بن جبیر نے فرمایا : یہ عاشوراء کا دن تھا۔ سعید بن مسیب نے کہا : بازار کا دن مراد ہے جس میں وہ زیب وزینت کرتے تھ ؛ یہ بھی قتادہ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : یہ ہفتہ کا دن ہے۔ بعض نے کہا : نیروز کا دن ہے ؛ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا : یہ وہ دن ہے جس میں خلیج ٹوٹتی تھی یہ اس لیے کہ اس میں وہ باہر نکلتے تھے اور سیرو سیاحت کرتے تھے۔ اس وقت نیل کی طرف سے مصر کے شہر امن میں ہوتے تھے۔ حسن، اعمش، عیسیٰ ، ثقفی، سلمی اور ہبیرہ نے حفض سے یوم الزینۃ پڑھنا روایت کیا ہے۔ یوم الزینۃ نصب کے ساتھ ہے۔ ابو عمرو سے روایت کیا گیا ہے کہ زینت کے دن میں ہمارے وعدہ کو پورا ہونا ہے۔ باقی قراء نے مبتداء کی خبر کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے۔ ان یحشر اللناس ضحی یعنی لوگوں کا جمع ہونا چاشت کے وقت ہوگا۔ ان، ان لوگوں کی قرات پر محل رفع ہوگا جنہوں نے یوم کو رقع کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان یحشر کا عطف رفع کی قرأت کو تقویت دیتا ہے، کیونکہ اَن ظرف نہیں ہوتا اگرچہ مصدر صریح ظرف ہوتا ہے، جیسے مقدم الحاج کیونکہ جنہوں نے کہا : آتیک مقدم الحاج اس نے آتیک ان یقدم الحاج نہیں کہا۔ نحاس نے کہا : اس سے بہتر یہ ہے کہ الزینۃ پر عطف کی بناء پر محل جر میں ہو۔ الضحامونث ہے عرب بغیر ھا کے اس کی تصغیر کرتے ہیں تاکہ اس کی تصغیر ضحوۃ کی تصغیر کے مشابہ نہ ہوجائے، یہ نحاس کا قول ہے۔ جوہری نے کہا : ضحوۃ النھار، سورج کے طلوع ہونے کے بعد کا وقت ہے پھر اس کے بعد الضحا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جبب سورج چمکتا ہے۔ مقصود ہے مونث اور مذکر استعمال ہوتا ہے اور جنہوں نے اس کو مؤنث بنایا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ ضحوۃ کی جمع ہے اور جنہوں نے اسے مذکر بنایا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ فعل کے وزن پر اسم ہے جیسے صرد اور نخریہ سحر کی طرح ظرف غیر متمکن اسم ہے۔ تو کہتا ہے : لقیتہ ضحاً وضحاً ۔ تو، ضحا سے مراد پورا دن لے گا تو اس کو مؤنث نہیں بنائے گا۔ پھر اس کے ببعد الضحاء کو ممدو مذکر ذکر کیا ہے اور یہ سورج کا اچھی طرح بلند ہونے کا وقت ہے۔ الضحاء کو خاص کیا ہے کیونکہ یہ دن کا آغاز ہوگا۔ اگر معاملہ ان کے درمیان ہو تو دن میں وسعت ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور جحدری وغیر ہما سے مروی ہے : وان یحشر الناس ضحی اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جمع کرے گا۔ بعض قراء سے مروی ہے : وان تحشر الناس، اس کا معنی ہوگا اے فرعون ! تو لوگوں کو جمع کرے گا۔ جحدری سے مروی ہے : وان نحشر نون کے ساتھ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے اس دن کا وعدہ کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور اس کے دین کا ظہور ہو اور اور کافر نامراد ہو اور اس پر عام باطل بھاگ جائے۔ اور پھر مجمع میں باطل کی رسوائی ہوتا کہ حق میں رغبت کرنے والے کی رغبت میں تقویت ہو اور باطل گروہ عاجز آجائے اور اس امر کو ہر دیہات اور شہروں میں بیان کرنے والے زیادہ ہوں اور تمام لوگوں میں حق پھیل جائے۔
Ayahs 20:60–61اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتولی فرعون فجمع کیدہ، کید سے مراد حیلہ اور جادو ہے مراد جادوگروں کو جمع کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بہتر جادوگر تھے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ رسیاں اور لاٹھیاں تھیں۔ بعض نے کہا : وہ چار سو تھے۔ بعض نے کہا : وہ بار ہزار تھے۔ بعض نے کہا : وہ چودہ ہزار تھے۔ ابن المنکدر نے کہا : وہ اسی ہزار تھے۔ بعض نے کہا : وہ ایک رئیس کے ماتحت تھے جس کو شمعون کہا جاتا تھا۔ بعض نے کہا : اس کا نام یوحنا تھا اس کے ساتھ بارہ نقیب تھے ہر نقیب کے ساتھ بیس عریف (رہبر) تھے اور ہر عریف کے ساتھ ہزار جادوگر تھے۔ بعض نے کہا : وہ تین لاکھ جادو گر فیوم تھے تین لاکھ صعید سے تھے اور تین لاکھ ریف سے تھے وہ کل نو لاکھ تھے اور ان کا رئیس اندھا تھا۔ ثم اتی۔ یعنی وقت مقررہ پر آیا۔ قال لھم موسیٰ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور جادوگروں سے کہا : ویلکم یہ ان پر ہلاکت کی بددعا ہے۔ یہ بمعنی مصدر ہے ابو اسحاق زجاج نے کہا : یہ منصوب ہے بمعنی الزمھم اللہ ویلا اللہ ان پر ہلاکت کو لازم کرے۔ فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ ندا ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یولینا من بعثنا (یٰسین :52)
لا تفتروا علی اللہ کذباً یعنی تم اس پر جھوٹ مٹ گھڑو اور اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائو اور معجزات کو جادو نہ کہو۔ فیسحتکم بعذاب ورنہ وہ تمہیں ہلاک کر کے نیست وناببود کر دے گا۔ کہا جاتا ہے : سحت، ائسحت دونوں کا معنی ایک ہے اس کی اصل باوں کو مونڈ دینا ہے۔ کو فیوں نے فیسحتکم، أسحت سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔ باقی قراء نے سحت سے مشتق کر کے فیستحکم پڑھا ہے۔ یہ اہل حجاز کی لغت ہے اور پہلی بنی تمیم کی لغت ہے۔ اور نصب نہی کے جواب کی ببنا پر ہے۔ فرزوق نے کہا :
عض زمان بیابن مروان لم یدع من المال الا مسحتا او مجلف
زمحشری نے کہا : یہ وہ بیت ہے ہمیشہ قافلہ علماء اس کے اعراب کے درست کرنے میں گھٹنے رگڑتا رہا۔
وقدخاب من افتری۔ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایسا دعویٰ کیا ہے جس کی اس نے اجازت نہیں دی وہ رحمت اور ثواب سے خسارے میں ہے۔
Ayah 20:62(تفسیر 62-64) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتنازعوا امرھم بینہم یعنی جادوگروں نے آپس میں مشورہ کیا۔ واسروالنجوی۔ چھپ چھپ کر مشورہ کرنے لگے۔ قالوا انہوں نے کہا : اگر وہ جو لے کر آئے ہیں جادو ہوگا تو ہم غالب آجائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام ہوگا تو اس کا امر غالب آجائے گا یہ انہوں نے سرگوشی کی تھی۔ بعض نے کہا : انہوں نے یہ سرگوشی کی تھی اگر وہ ہم پر غالب آگیا تو ہم اس کی اتباع کریں گے، یہ کلبی کا قول ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نیکوکاروں کا معاملہ ہی بالاخر غالب آتا ہے۔ بعض نے کہا : ان کا سرگوشی کرنا یہ تھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذباً تو انہوں نے کہا : یہ جادوگر کا قول نہیں ہے۔ النجویٰ سرگوشی کرنا یہ اسم اور مصدر ہوتا ہے۔ سورة النساء میں اس کا بیان آچکا ہے۔