20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 20:90–93

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو ! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو تم میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئیں ہم اس (کی پوجا) پر قائم رہیں گے

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(پھر موسیٰ نے ہارون سے کہا) کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا ؟

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

(یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں کیا ؟ )

(تفسیر 90-92) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد قال لھم ھرون من قبل یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی سے پہلے حضرت ہارون نے انہیں کہا : یقوم انما فتنتم بہ اس کے ذریعے تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور تم اسی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہو۔ بہٖ کی ضمیر کا مرجع بچڑھا ہے۔ وان ربکم الرحمن بیشک تمہارا ربب رحمن ہے، بچھڑا نہیں۔ فاتبعونی اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو۔ واطیعوا امری۔ اور میرے حکم کی اطاعت کرو نہ کہ سامری کے حکم کی۔ کیا یہ مطلب ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف چلنے میں میری اتباع کرو اور بچھڑے کو چھوڑو، لیکن انہوں نے نافرمانی کی۔ قالوا لن تبرح علیہ عکفین یعنی ہم بچھڑے کی عبادت پر جمے رہیں گے۔ حتیٰ یرجع الینا موسیٰ ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ اس کی عببادت کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں ؟ ان کا خیال تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچھڑے کی عبادت پر جمے رہیں گے۔ حتیٰ یرجع الینا ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ اس کی عبادت کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں ؟ ان کا خیال تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچھڑے کی عبادت کریں گے۔ حضرت ہارون نے ان بارہ ہزار کو علیحدہ کرلیا جنہوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے اور شورو غل سنا وہ لوگ اس بچھڑے کے اردگرد ناچتے تھے۔ آپ نے اپنے ستر ساتھیوں سے کہا : یہ فتنہ کی آراز ہے جب حضرت ہارون کو دیکھا جو دائیں ہاتھ سے غصہ کی حالت میں ان کے سر کے بال پکڑ لیے اور بائیں ہاتھ سے داڑھی کے بال پکڑ لیے (1) اور کہا : قال یھرون ما منعک اذرایتھم ضلوا کہا اے ہارون ! تجھے کس چیز نے روکا جب تو نے انہیں دیکھا کہ گمراہ ہوگئے حق کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور کفر کیا ہے۔ الا تتبعن کہ تم میرے پیچھے آجاتے۔ لازائدہ ہے یعنی تم میرے امر اور میری وصیت کی پیروی کرتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ان پر انکار کرنے سے اور میری اتباع سے تجھے کونسی بات مانع تھی۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے تم نے ان سے جنگ کیوں نہیں کی جبکہ تجھے معلوم تھا کہ اگر میں ان کے درمیان ہوتا تو میں ان کے کفر پر ان سے جنگ کرتا۔ بعض علماء نے کہا : جب یہ فتنہ میں مببتلا ہوگئے تو تجھے مجھ سے ملنے سے کیا چیز مانع تھی۔ افعصیت امری اس سے مراد یہ ہے کہ تیرے کے درمیان ٹھہرنا جبکہ یہ غیر اللہ کی عببادت کر رہے تھے تیری طرف سے میری نافرمانی ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے تو ان سے جدا کیوں نہیں ہوا تاکہ تیرا ان سے جدا ہونا ان کو زجرو تو بیخ کے لیے ہوتا اور افعصیت امری کا معنی بعض علماء نے فرمایا : امری سے مراد جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سے حکایت تھا۔ وقال موسیٰ لیہ ھرون اخلفنی فی قومی واصلح ولا تتبع سبیل المفسدین۔ (الاعراف) جب حضرت ہارون (علیہ السلام) ان کے ساتھ ٹھہرے رہے اور انہیں روکنے میں مبالغہ نہ کیا اور ان پر انکار نہ کیا تو عصیان اور مخالفت امر کی نسبت ان کی طرف کردی۔ سورة حج آیت 78 تا سورة النور آیت 30 فرمایا : اس سے تمام اوامر کی اطاعت کرنے اور تمام نواہی سے بازر ہنے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اللہ کی اطاعت میں خواہش نفس کو رد کرنے میں اپنے نفسوں سے جہاد کرو اور شیطان کے وسوسوں کو دور کرنے میں شیطان سے جہاد کرو اور ظالموں کے ظلم کو رد کرنے کے لئے ظالموں سے جہاد کرو اور کافروں کے کفر کو روکنے کے لئے کافروں سے جہاد کرو۔ ابن عطیہ نے کہا : مقاتل نے کہا یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ فاتقو اللہ ماستطعتم (التغابن :16) ہے اسی طرح ھبۃ اللہ نے کہا : حق جھادہ اور دوسری آیت میں حق تقتہ (آ ل عمران :102) ان اوامر میں استطاعت کی طرف تخفیف کے ساتھ منسوخ ہیں اور نسخ کی تقدیر کی ضرورت نہیں کیوں کہ حکم کی ابتدا میں بھی یہی مراد ہے کیوں کہ حق جھادہ سے حرج اٹھائی گئی ہو۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ نے فرمایا :” تمہارا بہتر دین آسان دین ہے “ (1) ۔ اب جعفر نحاس نے کہا : یہ وہ چیز ہے جس میں نسخ کا واقع ہونا جائز نہیں کیوں کہ یہ انسان پر واجب ہے جیسا کہ حضرت حیوہ بن شریح نے مرفوعا روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے۔ (2) ۔ ا سی طرح ابو غالب نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا : کونسا جہاد افضل ہے ؟ یہ سوال اس نے جمرہ اولیٰ کے پاس کیا آپ ﷺ نے اس کا جواب نہ دیا پھر دوسرے جمرہ کے پاس یہی سوال کیا تو آپ نے جواب نہ دیا پھر جمرہ عقبہ پر یہی سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا : میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ظالم حکمران کے سامنے کلمہ عدل کہنا (3) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ھو اجتبکم یعنی اپنے دین کے دفاع اور اپنے امر کے التزام کے لئے اس نے تمہیں چن لیا ہے یہ مجاہد کے امر کی تاکید ہے یعنی تم پر جہاد کرنا واجب ہے کیوں کہ اس نے تمہیں چن لیا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے : وما جعل علیکم فی الدین من حرج اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من حرج یعنی کوئی تنگی نہیں۔ سورة انعام میں یہ گزر چکا ہے۔ اس آیت میں بہت سے احکام داخل ہیں یہ وہ ہے جس کے ساتھ اللہ نے اس امت کو خاص فرمایا : معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس امت کو ایسی تین چیزیں عطا کی گئی ہیں جو سوائے نبی کے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ نبی کریم ﷺ کو کہا جاتا ہے : اذھب فلا حرج علیک تم جائو تم پر کوئی تنگی نہیں اور اس امت کو کہا گیا ہے ؛ وما جعل علیکم فی الدین من حرج نبی اپنی امت پر گواہ ہوتا ہے اور اس امت کو کہا گیا ہے : وتکونو شھداء علی الناس نبی کو کہا جائے گا : سل تعطہ تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ اس امت کو کہا گیا ہے۔ ادعونی استجب لکم (المومن :60) مسئلہ نمبر 2 ۔ وہ حرج جو اللہ نے اٹھائی ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ عکرمہ نے کہا : وہ دو دو، تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کا حلال ہونا اور لونڈیوں کا حلال ہونا ہے۔ بعض نے کہا : نماز قصر اور مسافر کے لئے روزہ افطار کرنا ہے اور اشارہ سے نماز پڑھنا جو رکوع و سجود پر قادر نہ ہو، اندھے، لنگڑے، مریض اور نادار شخص سے جہاد کا ساقط کرنا ہے اور ان سختیوں کو ختم کرنا ہے جو بنی اسرائیل پر تھیں ان اشیاء میں سے اکثر کی تفصیل گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن بصری سے مروی ہے کہ فطر، اضحی اور روزے میں چاندوں کی تاخیر و تقدیم ہے۔ جب کوئی جماعت ذی الحجہ کے چاند میں غلطی کرجائے پھر ایک دن عرفہ سے پہلے انہیں آگاہی ہوجائے یا وہ دسویں کے دن پر آگاہ ہوجائیں تو ان کے لئے جائز ہے۔ اس میں اختلاف ہے جو ہم نے موطا کی شرح المقتبس میں بیان کیا ہے اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ صحیح ہے۔ اسی طرح فطر، اضحی کا مسئلہ ہے جیسا کہ حماد بن زید نے ایوب سے انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی پاک ﷺ نے فرمایا : تمہاری عید اسی دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو اور تمہاری قربانی کا دن وہ ہے جس میں تم قربانیاں کرتے ہو (1) اس حدیث کو ابو دائود اور دار قطنی نے روایت کیا ہے اس کے الفاظ وہ ہیں جو ہم نے ذکر کیے ہیں۔ یعنی جہاد کرو جس میں تمہیں کوئی حرج لاحق نہ ہو۔ ائمہ نے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ سے دسویں کے دن کے چیزوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ پر تقدیم وتاخیر کے جواب میں فرمایا : ا فعل ولا حرج تم کرو کوئی حرج نہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ علماء نے فرمایا : حرج اس سے اٹھائی گئی ہے جو منہاج شریعت پر قائم رہا ہے۔ رہے مال سلب کرنے والے، چور، اصحاب حدودتو ان پر حرج ہے۔ یہ وہ ہے جنہوں نے دین سے مفارقت کرکے حرج کو اپنے اوپر لاگو کیا اور شریعت میں اس سے بڑی حرج نہیں کہ اللہ کے راستہ میں دو شخصوں کے لئے ایک شخص کے ثبوت کا الزام ہے، نیز یقین کی صحت کے ساتھ اور عزم کی عمدگی کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے۔ ملۃ ابیکم زجاج نے کہا : اپنے باپ حضرت ابراہیم کے دین کی اتباع کرو۔ فراء نے کہا : کاف کے حذف کی تقدیر پر منصوب ہے گویا فرمایا : کملۃ ابیکم۔ بعض علماء نے کہا : اپنے باپ حضرت ابراہیم کے فعل کی طرح خیر کے اعمال کرو فعل کو ملت کے قائم مقام رکھا۔ حضرت ابراہیم تمام عربوں کے باپ ہیں۔ بعض نے کہا : یہ خطاب تمام مسلمانوں کو ہے اگرچہ تمام آپ کی اولاد سے نہیں ہیں کیوں کہ حضرت ابراہیم کی حرمت مسلمانوں پر اس طرح ہے جس طرح باپ کی حرمت بیٹے پر ہوتی ہے۔ ھو سمکم المسلمین من قبل، ابن زید اور حسن نے کہا : ھو ضمیر کا مرجع حضرت ابراہیم ہے۔ معنی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے حضرت ابراہیم نے یہ تمہارا نام لیا ہے۔ وفی ھذا اس کے حکم میں کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کی اتباع کی وہ مسلم ہے۔ ابن زید نے کہا : ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک (البقرہ 128) نحاس نے یہ قول عظماء امت کے قول کے مخالف ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس سے پہلی یعنی پہلی کتب میں اور قرآن میں اللہ نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے، یہ مجاہد وغیرہ کا قول ہے۔ لیکون الرسول شھیدا علیکم تمہارے تبلیغ کرنے پر رسول گواہ ہو اور وتکونو شھداء علی الناس تم لوگوں کے خلاف گواہی دو کہ ان کے رسولوں نے انہیں تبلیغ کی تھی جیسا کہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فاقیمو الصلوۃ و اتو الزکوۃ واعتصموا باللہ ھو مولکم فنعم المولیٰ ونعم النصیر اس پر تفصیلا گفتگو گزر چکی ہے۔ مسئلہ : یہ امر بالمعروف اور نہی المنکر میں اصل ہے، اس کو تبدیل کرنا اور ببرائی کرنے والوں سے جدا ہوجانا ان کے درمیان ٹھہرنے والا خصوصاً جبکہ وہ راضی ہو تو اس کا حکم ان کے حکم کی طرح ہوگا۔ یہ مفہوم سورة آل عمران، النسائ، مائدہ الانعام، الاعراف اور الانفال میں گزر چکا ہے۔ امام ابوبکر طرطوشی رحمۃ اللہ سے پوچھا گیا : ہمارے سردار فقیہ مذہب صوفیاء میں کیا کہتے ہیں ؟ ایک جماعت جمع ہوتی ہے وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کا ذکر کرتے ہیں پھر وہ ڈھول بجاتے ہیں، بعض رقص کرنے لگے ہیں اور وجد میں آجاتے ہیں حتیٰ کہ بےہوش ہوجاتے ہیں پھر مل کر کھانا کھاتے ہیں کیا ان کے ساتھ حاضر ہونا جائز ہے یا نہیں ؟ فتویٰ عنایت فرما کر اجر حاصل کریں۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔ یہ اشعار ہیں جو صوفیاء پڑھتے ہیں۔ لیا شیخ کفت عن الذنوب قبل التفرق والزلل واعمل لنفسک صالحا مادام ینفعک الحملل اما الشباب فقد مضی ومشیب وراسک قد نزل جواب یہ ہے کہ صوفیاء کا مذہب باطل، جہالت اور گمراہی ہے۔ اسلام تو صرف کتاب اللہ اور رسول اللہ کی سنت کا نام ہے۔ رہا رقص اور وجد تو یہ سبب سے پہلے سامری کے ساتھیوں نے کیا تھا جب اس نے ان کے لیے بچھڑے کا ڈھانہ بنایا تھا اور اس میں سے آواز نکلتی تھی وہ اس کے اردگرد رقص کرتے تھے اور وجد کرتے تھے۔ یہ کفار کا دین ہے اور بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا دین ہے اور رہا ڈھول بجانا تو یہ زنادقہ نے سب سے پہلے ایجاد کیا تھا تاکہ اس کے ذریعے مسلمانوں کو کتاب اللہ سے دور کریں۔ نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھتے تھے تو وقار و تعظیم کی یہ کیفیت ہوتی تھی گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں (1) پس سلطان اور اس کے قائم مقام لوگوں کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو مساجد میں حاضر ہونے سے روکیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے ان کے ساتھ حاضر ہونا جائز نہیں اور وہ باطل پر ان کی معاونت نہ کرے ؛ یہ امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل وغیرہم ائمۃ المسلمین کا مذہب ہے۔
Ayahs 20:94–96

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

کہنے لگے بھائی میری داڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(پھر سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے ؟

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی پھر اس کو (بچھڑے کے قلب میں ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا

(تفسیر 94-97) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنوم لا تاخذ ببلحیتی ولا ببراسی، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : دائیں ہاتھ سے سر کے بال پکڑے اور بائیں ہاتھ سے داڑھی کو پکڑا۔ کیونکہ اللہ کی رضا کے لیے غیرت ان پر غالب آچکی تھی یعنی ایسا نہ کرو کہ لوگ خیال کریں گے کہ یہ آپ کی طرف سے استخفاف اور سزا ہے۔ بعض علماء نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بغیر استخفاف اور عقوبت کے کیا تھا جیسا کہ انسان اپنی داڑھی کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ واقعہ سورة اعراف میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مراد کو بہتر جانتا ہے۔ انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرآء یل یعنی مجھے اندیش ہے کہ میں نکلوں گا اور انہیں چھوڑ جائوں گا حالانکہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا میں ان کے ساتھ نکلوں اگر میں خود نکلتا تو قوم میری اتباع نہ کرتی اور قوم بچھڑے کے ساتھ پیچھے رہتی۔ بعض اوقات معاملہ خونریزی تک جا پہنچتا اور مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں انہیں جھڑکوں گا تو جنگ واقع ہوگی اور پھر آپ مجھے ملامت کریں گے۔ یہ حضرت ہارون کا جواب ہے حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کو جب انہوں نے کہا تھا : افعصیت امری سورة الاعراف میں ہے : ان القوم استضعفونی وکادو یقتلوننی فلا تشمت بی الاعدآء (الاعراف :150) کیونکہ آپ نے حکم دیا تھا کہ میں ان کے ساتھ رہوں۔ اس مفہوم پر پہلے گفتگو ہوچکی ہے۔ ولم ترقب قولی اس کا معنی ہے تو نے ان کی حفاظت کے بارے میں میری وصیت پر عمل نہیں کیا کیونکہ آپ نے مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا تھا یہ مقاتل کا قولل ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : میرے عہد اور میرے آنے کا انتظار نہیں کیا پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون علیہ اللسللام کو چھوڑ دیا پھر سامری کی طرف متوجہ فرمایا : فما خطبک یسامری اے سامری ! تیری غرض کیا تھی کس چیز نے تجھے اس پر ابھارا ہے ؟ قتادہ نے کہا : سامری ! تیری غرض کیا تھی کس چیز نے مجھے اس پر ابھارا ہے ؟ قتادہ نے کہا : سامری بنی اسرائیل میں ایک عظیم شخص تھا اس کا تعلق اس قبیلہ سے تھا جسے سامرہ کہا جاتا ہے، لیکن اس اللہ کے دشمن نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سمندر پار کرنے کے بعد منافقت کی۔ جب بنی اسرائیل عمالقہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنے ببتوں پر بیٹھے تھے تو بنی اسرائیل نے کہا : اے حضرت موسیٰ ! ہمارے لیے ایک خدا ببنا دو جیسا کہ ان کے خدا ہیں پس سامری نے موقع کو غنیمت جانا اور اس نے جان لیا کہ وہ بچھڑے کی عبادت کی طرف مائل ہیں تو اس نے بچھڑا بنا دیا۔ پس سامری نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیتے ہوئے کہا : بصرت ببمالم یبصروابہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تھی یعنی میں نے وہ چیز دیکھی جو انہوں نے نہیں دیکھی میں نے جبریل کو حیاۃ کے گھوڑے پر دیکھا پس میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس کے نشان قدم سے ایک مٹھی بھر لوں پس میں نے اس کو کسی چیز پر نہیں ڈالا مگر اس کے لیے روح، گوشت اور خون بن گیا جب انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ آپ ان کے لیے خدا بنا دیں تو میرے نفس نے میرے لیے یہ آراستہ کردیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : جب جبریل اترے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف لے جائیں تو سامری نے لوگوں کے درمیان سے اسے دیکھا اور گھوڑے کے پائوں کے نیچے سے مٹھی بھر لی۔ بعض نے کہا : سامری نے کہا : میں نے جبریل کو گھوڑے پر دیکھا وہ حد نظر پر قدم رکھتا تھا پس میرے دل میں خیال آیا کہ میں اس کے نشان سے مٹھی بھر لوں۔ پس میں نے کسی چیز پر اسے نہیں ڈالا مگر اس کے لیے روح اور خون بن گیا۔ بعض نے کہا : اس نے جبریل کو نر گھوڑے پر نزول کے دن دیکھا۔ فرعوں کا گھوڑا دریا میں داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا۔ کہا جاتا ہے : سامری کی ماں نے سامری کی پیدائش کے دن اسے ایک غار میں رکھا اس خوف سے کہ کہیں فرعون اسے قتل نہ کر دے۔ پس حضرت جبریل امین اس کے پاس آئے اور سامری کی ہتھیلی کو سامری کے منہ میں رکھ دیا پس وہ شہدا اور دوھ اس سے پیتا رہا۔ حضرت جبریل اس کے پاس آتے جاتے تھے تو سامری نے اسے اس وقت سے پہچان لیا تھا۔ یہ معنی سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سامری نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلام سناجہاں انہوں نے موم سیم ڈھانچے بنائے تھے ایک ڈھانچہ بیل کا تھا اور دوسرا گھوڑے کا تھا۔ پھر دونوں کو دریائئے نیل میں ڈال دیا تھا۔ حضرت یوسف عیہ السلام کی قبر کو تلاش کرنے کے لیے ایسا کیا تھا وہ پتھر کے تابوت میں دریائے نیل میں تھے تو بیل اس تابوت کو اپنے سینگ پر اٹھا لایا۔ پس سامری نے وہ کلام پڑھی جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سنی تھی پس سامری نے وہ مٹھی بھر مٹی بچھڑے کے پیٹ میں ڈالی تو وہ ڈکار نے لگا۔ حمزہ، کسائی، اعمش اور خلف نے بمالم تبصروا پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے ساتھ خبر کی بنا پر پڑھا ہے۔ حضرت ابی بن کعب، حضرت اببن مسعود، الحسن اور قتادہ نے فقبصت قبضۃ صاد کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن سے قاف کے ضمہ کے ساتھ قبصۃ سے پڑھا ہے، یعنی صاد بغیر نقطہ کے۔ باقی قراء نے قبضت قبضۃ ضاد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ کہ القبض پوری ہتھیلی کو رہتے ہیں اور القبض انگلیوں کے اطراف کو کہتے ہیں ان کی طرح الخضم والقضم ہے القبضۃ قاف کے ضمہ کے ساتھ مقبوض مقدار کو کہتے ہیں ؛ مہدوی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ جوہری نے قبصۃ فا کے ضمہ اور صاد کے ساتھ ذکر نہیں۔ انہوں نے القبضۃ قاف کے ضمہ اور ضاد کے ساتھ کیا ہے جو تو مٹھی میں پکڑتا ہے۔ کہا جاتا ہے : اعطاہ قبضۃ قاف کے کسرہ اور صاد کے ساتھ اس کا معنی ہے لوگوں کی کثیر تعدا۔ کمیت نے کہا : لکم مسجدا اللہ المزوران والحصی لکم قبصہ من بین اثری واقتری فنبذتھا یعنی میں نے اسے بچھڑے میں ڈالا۔ و کذلک سولت لی نفسی میرے لیے میرے نفس نے اسی طرح آراستہ کردیا ؛ یہ اخفش کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : حدثنی نفسی میرے نفس نے بیان کیا۔ دونوں قریب المعنی ہیں۔
Ayahs 20:97–104

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہ جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی (پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ ہم اسے جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گزر چکے ہیں اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

(تو وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوش مند (کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا : تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس پر محنت سخت کردی کہ اسے ایسا بنا دیا کہ وہ کسی کو نہ چھوئے اور کسی کے لیے اس کو چھوٹا ممکن نہ تھا۔ یہ اس کے لیے دنیا میں سزا تھی۔ کہا جاتا ہے : وہ سو اس میں مبتلا کیا گیا۔ وسواس کی اصل اس وقت سے ہے۔ قتادہ نے کہا : ان کے بقیہ لوگ آج بھی ہیں جو کہتے ہیں : لا مساس اگر کوئی دوسرا ان میں سے کسی کو چھولے تو دونوں اسی وقت بخار میں مببتلا ہوجاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نھے سامری کا قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسے قتل نہ کرو یہ سخی ہے۔ کہا جاتا ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے کہا : فاذھب فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس تو وہ بھاگ گیا پس وہ جنگلوں میں درندوں کے ساتھ گھومتا رہتا تھا وہ لوگوں میں سے کوئی ایسا نہیں پاتا تھا جو اسے چھوتا حتیٰ کہ وہ اس کہنے والے کی طرح ہوگیا جو ہر وقت کہتا : لا مساس کیونکہ وہ لوگوں سے دور تھا اور لوگ اس سے دور تھے، جیسا کہ شاعر نے کہا : حمال رایات بھا قنعاسا حتی تقول الا زد لامسابسا یہ اہل بدعت، نافرمانوں کو نکالنے اور دور کرنے کی اصل ہے اور ان سے اختلاط نہ کرنے کی اصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت کعب بن مالک اور پیچھے رہ جانے والے صحابہ کے متعلق ایسا کیا تھا۔ جو شخص حرم میں پناہ لے اور اس یر ضتل ہو تو بعض فقہاء کے نزدیک اسے قتل نہیں کیا جائے لیکن اس کے ساتھ معاملہ نہیں کیا جائے نہ بیع کی جائے گی۔ یہ اس کو حرم سے نکللنے پر مجبور کرنا ہے۔ اس قبیل سے زنا کی حد میں جلا وطن کرنا ہے۔ یہ تمام مسائل اپنے اپنے مقام پر گزر چکے ہیں، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ الحمد للہ وحدہ۔ ہارون القاری نے کہا : عرب کی لغت میں لا مساس سین کے کسرہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ نحویوں نے اس میں کلام کی ہے۔ سیبویہ نے کہا : یہ مبنی ببرکسرہ ہے جیسے کہا جاتا ہے : اضرب الرجل۔ ابو اسحاق نے کہا : لا مساس نفی ہے سین کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ کسرہ تانیث کی علامت ہے تو کہتا ہے : فعلت یا امراۃ۔ نحاس نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں نے محمد یزید کو یہ کہتے ہوئے سنا : جب کسی اسم میں تین علتیں 0 ہوں تو اس کا مبنی واجب ہے جس میں دو علتیں ہو تو اس کا غیر منصرف ہونا واجب ہے کیونکہ حرف کے ترک کے بعد مبنی ہونا ہی باقی رہتا ہے۔ پس مساس اور دراک میں تین جہات سے علت ہے۔ ایک یہ کہ یہ معدول ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ مونث ہے۔ تیسرا یہ کہ معرفہ ہے۔ جب اس میں بنا واجب ہے اور سین سے پہلے الف ساکن ہے تو التفاء ساکنین کی وجہ سے سین کو کسرہ دیا گیا جیسے تو کہتا ہے : اضرب الرجل۔ میں نے ابو اسحاق کو دیکھا کہ وہ اس قول کی طرف جانا خطا ہے۔ اور ابو اسحاق نے ابو عباس کو الزام دیا ہے کہ جب کسی عورت کا نام فرعون رکھا جائے اسے بھی مبنی ہونا چاہیے جبب کہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ جوہری نے الصحاح میں کہا : رہا عربوں کا قول : لامساس یہ فطام کی مثل ہے یہ مبنی برکسرہ ہے کیونکہ یہ مصدر سے معدول ہے اور وہ المس ہے۔ ابو حیوہ نے لامساس پڑھا ہے۔ وان لک موعد لن تخلفہ یعنی قیامت کے دن۔ الموعد مصدر ہے یعنی تیرے لیے عذاب کا وعدہ ہے۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے تخلفہ لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے دو معانی ہیں (1) تو اس کے پاس آئے گا اور تو اسے وعدہ خلافی کرنے والا نہ پائے گا، جیسے تو کہتا ہے : احمدتہ میں نے اسے محمود پایا۔ (2) دوسرا معنی تہدید کی بنا پر ہے۔ یعنی تیرے لیے ضروری ہے کہ تو اس کی طرف جائے۔ باقی قراء نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے کیے ہوئے وعدہ میں وعدہ خلافی نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانظر الی الھک الذی ظلمت علیہ یعنی تو اس پر قائم ہے۔ عاکفا، ملازماً ۔ اس کی اصل ظللت ہے۔ شاعر نے کہا : خلا ان العتاق من المطایا احسن بہ فھن الیہ شوس یعنی احسن اسی طرح اعمش نے اصل پر دو لاموں کے ساتھ پڑھا ہے اور حضرت ابن مسعود کی قرأت میں ظلمت ظاء کے کسرہ کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ ضللت افعل کذا إذا فعلتہ نھارا وظلت وظلت جب کوئی دن کے وقت کام کرے اور جنہوں نے ظلت کہا پہلا لام تخفیفاً حذف کردیا ہے اور جنہوں نے ظلت کہا اس نے لام کی حرکت ظاہر کو دے دی۔ لنحرقنہ نون کے فتحہ اور راء کے ضمہ اور تخفیف کے ساتھ۔ یہ حرقت الشی احرقہ حرقاً کسی چیز کو ایک دوسرے سے بالکل مل دینا، پیش دینا ؛ اسی سے عربوں کا قول ہے : حرق نابہ بحرقہ یعنی اس نے اسے پیس ڈالا حتیٰ کہ اس کی آواز سنی گئئی۔ اس قرأت کا معنی ہے ہم انہیں آئرن کیا اور کوٹ دیا۔ المبردد کو ٹنے کا آلہ۔ اور پہلی دو قرأتوں 0 کا معنی ہے آگ کے ساتھ اس طرح خون بہا جس طرح عام بچھڑے کو ذبح کرنے سے خون بہتا ہے۔ پھر ہتھوڑے کے ساتھ اس کی ہڈیوں 0 کو توڑا اور پھر جلا دیا۔ حضرت اببن مسعود کی قرأت میں لنذبحنہ ثم لنحرقنہ ہے گوشت اور خون جب جل جاتے ہیں تو راکھ بن جاتے ہیں پھر اسے دریا میں بکھیرنا ممکن ہوتا ہے۔ رہا سونا تو وہ راکھ نہیں بنتا۔ بعض علماء نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے جس کے ساتھ سونا راکھ بن جاتا ہے۔ یہ ان کی آیات میں سے تھا۔ لننسفنہ کا معنی ہے ہم اسے اڑا دیں گے۔ ابو رجاء نے لننسفہ سین ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں 0۔ النسف کا معنی ہے کسی چیز کو جھاڑنا تاکہ ہوا اس کو اڑا لے جائے۔ اس کو التذریۃ کہتے ہیں۔ المنسف جس کے ساتھ دانے صاف کیے جاتے ہیں، وہ چیز جس کا آگے والا حصہ اٹھا ہوا ہو۔ النسافۃ جو اس سے نیچے گرے کہا جاتا ہے : اعزل النسافۃ وکل من الخالص چھان کو دور کر اور خالص کو کہا۔ کہا جاتا ہے : اتان فلان کان لحیتہ منسف ہمارے پاس فلاں آیا گویا اس کی داڑھی چھاننی ہے۔ ابو نصر نے یہ حکایت کیا ہے : المنسفۃ اس آلہ کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کوئی عمارت اکھیڑی جاتی ہے۔ نسفت البناء نسفاً میں نے عمارت کو اکھیڑ دیا، نسف البعیر الکاء ینسفہ سین کے کسرہ کے ساتھ۔ جب اونٹ گھاس کو جڑ سے اکھیڑ دے۔ انتسفت الشی کا معنی ہے میں نے چیز کو اکھیڑ دیا ہے یہ ابوزید سے مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما الھکم اللہ الذی لا الہ الا ھو، وسع کل شی علماً یعنی بچھڑا معبود نہیں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو وسیع ہے وہ ہر فعل اپنے علم سے کرتا ہے۔ علماً پر نصب تفسیر کی بنا پر ہے۔ مجاہد اور قتادہ نے وسع کل شی علماء پڑھا ہے۔
Ayahs 20:105–108

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا ان کو اڑا کر بکھیر دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھو نہ ٹیلا (اور نہ بلندی)

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پس ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویسئلونک عن الجبال یعنی لوگ قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت کے متعلق پوچھتے ہیں فقل یہاں فا کے ساتھ آیا ہے ہر سوال جو قرآن میں آیا ہے اس کے جواب میں قل بغیر فاء کے آیا ہوا ہے سوائے ایک مقام کے، کیونکہ اس کا معنی ہے اگر وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کریں تو آپ کہیں۔ تو کلام کے ضمن میں شرط کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ لوگ پہاڑوں کے متعلق سوال کریں گے پس سوال سے پہلے انہیں جواب دیا۔ یہ سوالات جو پہلے گزر چکے ہیں لوگوں نے ان کے متعلق نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو سوال کے بعد جواب دیا اسی وجہ سے جواب بغیر فاء کے آیا اور یہ سوال ابھی تک انہوں نے پوچھا نہیں تھا۔ ینسفھا وہ اسے اڑاتا ہے۔ نسفاً ابن اعرابی وغیرہ نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ اسے جڑ سے اکھیڑے گا پھر اسے ریت کی طرح پیس ڈالے گا۔ اور پھر اسے دھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح کر دے گا جنہیں ہوائیں ادھر ادھڑ اڑائیں گی۔ اور فرمایا : العھن رنگی ہوئی اون کو کہتے ہیں۔ پھر بکھرے ہوئے ذرات کی طرح ہوجائیں گے۔ فیذرھا یعنی انہیں چٹیل میدان بنا دے گا۔ قاعاً صفصفاً ، القاع اس زمین کو کہتے ہیں جو چٹیل ہو پس کوئی چیز نہ اگتی ہو ؛ یہ ابن اعربی کا قول ہے۔ جوہری نے کہا : ہموار زمین کو القاع کہتے ہیں اس کی جمع اقوع واقواع وقیعان آتی ہے واو بعد کسرہ کے یاء ہوگی۔ فراء نے کہا : القاع سے مراد وہ زمین ہے جس میں پانی جمع ہوتا ہو اور الصفصف سے مراد وہ زمین ہے جس پر کوئی گھاس وغیرہ نہ ہو۔ کلبی نے کہا : وہ زمین جس پر کوئی گھاس نہ ہو۔ بعض نے کہا : ہموار زمین گویا برابری میں ایک صف کی طرح ہیں ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ القاع اور الصفصف کا ایک معنی ہے۔ القاع کھلی زمین الصفصف ہموار چٹیل زمین۔ سیبویہ نے یہ شعر بطور استشہاد پڑھا ہے۔ وکم دون بینک من صفصف ودکداک رمل واعقادھا قاعاً کو نصب حال کی بنا پر ہے۔ لا تری محل نعت میں ہے۔ فیھا عوجاً ابن الاعرابی نے کہا : العوج راستے میں ٹیڑھا پن ہونا۔ الامت سے مراد ٹیلا ہے۔ ابو عمرو نے کہا : الامت سے مراد چھوٹے چھوٹے ٹیلے ہیں۔ ہموار زمین جس میں نشیب و فراز نہ ہو۔ تو کہتا ہے : امتلاء فما بہ امت وملات القربۃ ملئا ا لا امت فیہ یعنی اس میں ڈھیلا پن نہیں۔ لغت میں الامت سے مراد بلند جگہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ العوج سے مراد پستی ہے اور الامت سے مراد بلند جگہ ہے۔ قتادہ نے کہا : عوجاً سے مراد پھٹن ہے اور امتا سے مراد ٹیلا ہے۔ یمان نے کہا : الامت سے مراد زمین میں دراڑیں ہیں۔ بعض نے کہا : الامت ہموار زمین میں سے یا پہاڑ میں سے نئی جگہ کا سخت ہونا اور کسی جگہ کا نرم ہونا ؛ یہ صولی نے حکایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس آیت کے ساتھ مکوڑویوں کا دم کیا جاتا ہے جس کو ہمارے ہاں البراریق کہتے ہیں۔ اس کا واحد بروقۃ ہے یہ جسم پر ظاہر ہوتی ہیں خصوصاً ہاتھ پر ظاہر ہوتی ہیں جو کی تین لکڑیاں لے لو ہر لکڑی کی طرف میں گرہ کہ ہر گرہ کو ان مکوڑیوں کے اوپر سے گزارو اور ایک مرتبہ یہ آیت پڑھو پھر ان لکڑیوں کو کسی تر جگہ میں دفن کر دو وہ لکڑیاں جیسے ختم ہوں گی وہ مکوڑیاں بھی ختم ہوتی جائیں گی اور کوئی اثر بھی باقی نہ رہے گا۔ میں نے یہ اپنے اوپر بھی تجربہ کیا ہے اور دوسروں پر بھی میں نے اس کو نفع مند پایا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ یومئذ یتبعون الداعی، داعی سے مراد اسرافیل (علیہ السلام) ہیں جب وہ صور میں پھونکیں گے۔ لاعوج لہ وہ ان کے پکارنے انحراف و اعراض نہیں کریں گے بلکہ اس کی طرف جلدی کریں گے اور اس سے ادھر ادھر نہ ہوں گے ؛ یہ اکثر علمائء کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : لا عوج لہ یعنی اس کی پکار میں کوئی کجی نہ ہوگی۔ بعض علماء نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ پکارنے والے کی پوری اتباع کریں گے اس میں کجی نہ ہوگی۔ مصدر مضمر ہے معنی یہ ہے کہ وہ محشر کے لیے پکارنے والے والے کی آواز کی اتباع کریں گے۔ اس کی مثل یہ آیت ہے : واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب۔ (ق) آگے آئے گا وخشعت الاصوات آواز پست اور خاموش ہوجائیں گی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا : جب حضرت زبیر کی خبر آئی تو مدینہ طیبہ کی دیواریں اور پہاڑ پست ہو گئئے۔ اور ہیبت کی وجہ سے ہر زبان ساکت ہوگی۔ للرحمن رحمن کی وجہ سے فلا تسمع الاھمسا۔ الھمس پست آواز کو کہتے ہیں ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے الحس الخفی پست آواز، حسن اور ابن جریج نے کہا : قدموں کی آہٹ کو الھمس کہتے ہیں۔ وہ آواز جو محشر کی طرف جاتے وقت قدموں کے ایک دوسرے پر لگنے کی وجہ سے پیدا ہوگی۔ زجاج کا قول ہے وھن یمشین بنا ھمیسا۔ اونٹوں کے چللنے کی آواز۔ شیر کو الھموس کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ تاریکی میں آہستہ آہستہ چلتا ہے۔ روبۃ کا شعر ہے : لیث یدق الاسد الھموسا والاقھبین الفیل والجاموس ھمس الطعام کو چبانا۔ فوہ منضم ملا ہوا منہ۔ راجز نے کہا : لقد رأیت عجباً مذ امسا عاجائزاً مثل السعالی خمسا یاکلن ما اصنع ھمساً ھمساً بعض علماء نے فرمایا : الھمس کا معنی ہونٹوں اور زبان کو حرکت دینا ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے فلا ینطقون الاھمسا پڑھا ہے۔ دونوں کا معنی قریب قریب ہے یعنی ان کی آواز، کلام اور قدموں کی آواز نہیں سنی جائے گی۔ (ھ، م، س) کی بناء کا اصل معنی خفاء ہے جیسا بھی اس میں تصرف ہو اسی سے حروف مہموسہ ہیں۔ یہ دس حروف ہیں جن کا مجموعہ یہ ہے (حثہ شخص فسکت) ان کو حروف مہموسہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ مخرج میں اعتماد کمزور ہوتا ہے حتیٰ کہ اس کے ساتھ سانس جاری ہوتی ہے۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اسی کی بات کو پسند فرمائے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یومئذ لا تنفع الشفاعۃ الا من اذن لہ الرحمن، من محل نصب میں ہے پہلے سے استثناء خارج کی ببنا پر یعنی لا تنفع الشفاعۃ احداً الا شفاعۃ من اذن لہ الرحمن یعنی کسی کو شفاعت نفع نہ دے گی مگر اس کی کی شفاعت جس کو رحمن اذن شفاعت فرمائے گا۔ ورضی لہ قولاً یعنی اللہ تعالیٰ جس کی شفاعت پر راضی ہوگا۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے شفاعت اسے نفع دے گی جسے رحمن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا اور اس کے لیے ایسا قول ہوگا جو پسندیدہ ہوگا۔ حضرت اببن عباس ؓ نے فرمایا : قول سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہے جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اسکو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یعلم ما بین ایدیھم یعنی قیامت کے امر سے وما خلفہم امر دینا ہے ؛ یہ قتادہ کا قولل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جانتا ہے جس ثواب اور عقاب کی طرف لوٹیں گے۔ وما خلفہم جو انہوں نے دنیا میں پیچھے چھوڑا پھر بعض نے فرمایا : یہ آیت تمام لوگوں کو شامل ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے داعی کی اتبباع کی۔ والحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یحیطون بہ علماً بہ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، یعنی کوئی اس کے علم کا احاطہ نہیں کرتا جس کو اللہ جانتا ہے۔ طبری نے کہا : ایدیھم اور خلفہم اور یحیطون میں ضمائر کا مرجع ملائکہ ہیں۔ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ جو فرشتوں کی عبادت کرتا ہے وہ نہیں جانتے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔
Ayahs 20:111–112

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وعنت الوجوہ۔ یعنی چہرے جھک جائیں گے۔ یہ ابن الاعرابی وغیرہ کا قول ہے۔ اسی سے قیدی کو عان کہا جاتا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت نے کہا : ملیک علی عرش السماء مھیمن لعزتہ تعنوا الوجوہ وتسجد اور شاعر نے کہا : و عنا لہ وجھی و خلقی کلہ فی الساجدین لوجہہ مشکورا جوہری نے کہا : عنا یعنو جھک گیا اور مطیع ہوا اور دوسرے نے اسے جھکا دیا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعنت الوجوہ للحی القیوم کہا جاتا ہے : عنا فیہم فلان اسیرا یعنی فلاں ان میں قیدی ہو کر رہا۔ غناہ غیرہ تعنیۃ کا معنی ہے اس نے اس کو روک لیا۔ العان قیدی کو کہتے ہیں۔ وقوم عناۃ و نسوۃ عوان وعنت بہ امور نزلت قیدی قوم، قیدی عورتیں اس کے ذریعے امور آسان ہوگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عنت کا معنی ہے جھک گئے۔ مجاہد نے کہا : عنت کا معنی خشعت۔ ذل اور خشوع میں فرق ہے اگرچہ قریب المعنی ہیں۔ ذل کا مطلب ہے ذلیل النفس ہونا۔ الخشوع کا مطلب صاحب طاعت کے لیے مطیع ہونا۔ کلبی نے کہا : عنت کا معنی ہے عملت کام کیا۔ عطیہ عوفی نے کہا : اس کا معنی ہے تسلیم کرنا۔ طلق بن حبیب نے کہا : اس کا مطلب ہے زمین پر سجدہ میں پیشانی اور ناک کو رکھنا۔ نحاس نے کہا : عنت الوجوہ کے دو معانی ہیں ایک یہ کہ آخرت میں چہرے جھکے ہوں گے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : وعنت الوجوہ للحی القیوم فرمایا اسے مراد رکوع و سجود کرنا اور عنت کا معنی لغت میں قہر اور غلبہ ہے۔ اسی سے ہے : فتحت البلاد عنوۃ۔ شاعر نے کہا : فما اعذوھا عنوۃ عن مودۃ ولکن بضرب المشرقی استقالہا بعض علماء نے فرمایا : یہ العناء سے مشتق ہے جس کا معنی تھکنا ہے لوگوں کی جگہ چہروں کا ذکر فرمایا۔ للحی القیوم۔ القیوم میں تین تاویلات ہیں۔ وہ مخلوق کی تدبیر کو قائم کرتا ہے۔ ہر نفس نے جو کچھ کیا اس پر وہ قائم ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے نہ وہ زائل ہوگا نہ ہلاک ہوگا۔ یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ وقد خاب من حمل ظلما۔ یعنی جس نے شرک کو اٹھایا وہ خسارے میں گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یعمل من الصالحات وھو مومن ایمان کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا من الصالحات میں من تبعیض کے لیے ہے یعنی شیئا من الصالحات۔ بعض نے کہا : جنس کے لیے ہے۔ فلا یخاف ابن کثیر، مجاہد، ابن محیصن نے یخفف، من یعمل کے جواب کی حیثیت سے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قراء نے یخاف پڑھا ہے۔ خبر کی بنا پر مرفوع پڑھا ہے، یعنی فھو لا یخاف یافانہ لایخاف، ظلما اس کی طاعت کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور اس کی سیئات میں اس پر اضافہ کیا جائے گا۔ ولا ھضما اس کے حق میں کمی کرکے حق تلفی نہیں کی جائے، یعنی میں نے اس کے حق کو گرا دیا اور اسے چھوڑ دیا۔ ھذا یہضم الطعام یعنی وہ کھانے کے بوجھ کو کم کرتا ہے۔ امراۃ ضیع الکثح ایسی عورت جس کا پیٹ پتلا ہو۔ ماوردی نے کہا : ظلم اور ہضم کے درمیان فرق یہ ہے کہ ظلم کا معنی تمام حق سے روکنا ہے اور الہضم بعض حق سے محروم کرنا ہے۔ الہضم بھی ظلم ہے۔ ایک اعتبار سے فرق ہے۔ متوکل لیثی نے کہا ان الادلۃ واللثام لمعشر مولاھم المستھضم والمظلوم جوہری نے کہا : رجل ھضیم و مھتضم یعنی مظلوم آدمی، تھضمہ یعنی اس نے اس پر ظلم کیا۔ اھتضمتہ جب کوئی کسی پر ظلم کرے اور اس کے حق کو توڑ دے۔
Ayahs 20:113–115

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرا پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکذلک یعنی جس طرح ہم نے آپ کے لیے اس سورت میں بیان کیا فکذالک جعلنا قرأنا عربیا یعنی لغت عرب میں ببنایا۔ وصرفنا فیہ من الوعید ہم نے تخویف، تہدید، ثواب اور عقاب بیان کیا۔ لعلھم یتقون یعنی وہ اللہ سے ڈریں اور گناہوں سے اجتناب کریں اور اس کے عذاب سے بچنے والے ہوجائیں۔ او یحدث لھم ذکراً ، ذکر سے مراد نصیحت ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد احتیاط اور تقویٰ ہے۔ بعض نے فرمایا : ذکراً سے مراد شرف ہے۔ یہاں ذکر بمعنی شرف ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانہ لذکرلک ولقومک (الزخرف :44) بعض نے فرمایا : تاکہ وہ اس عذاب سے نصیحت حال کر کریں جس کی انہیں وعید سنائی گئی ہے۔ حسن نے او نحدث نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان سے ثاء کے رفع اور جزم کے ساتھ مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتعلی اللہ الملک الحق جب بندوں کو اپنی عظیم نعمت کا تعارف کرانا اور قرآن کے نازل کرنے کے متعلق بتایا تو اولاد اور ند (مدمقابل) سے اپنی ذات کو پاک فرمایا :۔ فتعلیٰ اللہ یعنی اللہ بلند وبالا ہے۔ الملک الحق حق والا ہے۔ ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضیٰ الیک وحیہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بتایا کہ کیسے قرآن کو حاصل کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : نبی کریم ﷺ جبریل کے ساتھ جلدی کرتے تھے اور جبریل کے وحی سے فارغ ہونے سے پہلے اسے پڑھتے تھے یہ آپ کا وحی کی حفاظت پر شوق تھا اور قرآن کے بھولنے کے خوف کی وجہ سے تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع فرمایا اور ولا تعجل بالقران نازل فرمایا۔ یہ اس قول کی طرح ہے : لا تحرک بہ لسائک لتعجل بہ۔ (القیامۃ) جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کیا ہے فرمایا : اس کا ملبل ہے آپ اس کو پوری طرح ہمارے واضح کرنے سے پہلے تلاوت نہ کریں۔ بعض نے فرمایا : ولا تعجل کا معنی ہے اس کے انزال سوال نہ کر اس سے پہلے کہ آپ کے پاس وحی آجائے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ان کی تاویل کے بیان سے پہلے لوگوں پر نہ پڑھیں۔ حسن نے کہا : یہ ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اپنی بیوی کو طمانچہ مارا اور وہ عورت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں قصاص کا مطالبہ لے کر آئی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے قصاص کا فیصلہ کردیا تو الللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : الرجال قومون (النسائ : 34) اسی وجہ سے حضور پاک ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رب زدنی علما کہو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے قصاص کا حکم فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا انکار کیا (1) حضرت ابن مسعود وغیرہ نے من قبل ان نقضی نون کے ساتھ اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور وحیہ کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسنگ 236 سے 238 تک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد عہدنا الی آدم من قبل فنسی اعمش نے اس سے مختلف پڑھا ہے۔ فنسی یا کے اسکان کے ساتھ۔ اس کے دو معانی ہیں۔ چھوڑ دینا یعنی امر اور عہد کو ترک کردیا ! یہ مجاہد کا قول ہے، اکثر مفسرین کا قول ہے اسی سے یہ قول ہے : نسو اللہ فنسیہم (التوبہ :67) دوسرا معنی حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہاں سہو اور نسیان سے ہے۔ انسان سے اس نے عہد لیا اور وہ بھول گیا۔ ابن زید نے کہا : جو اس سے عہد لیا تھا وہ بھول گیا اگر اس کے لیے عزم ہوتا تو اپنے دشمن ابلیس کی اطاعت نہ کرتا اس قول کی بنا پر یہ احتمال ہے کہ اس وقت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا بھول پر مواخذہ کیا گیا تھا۔ مراد نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا ہے یعنی بنی آدم کا شیطان کی اطاعت کرنا امر قدیم ہے، یعنی اگر انہوں نے عہد کو توڑا ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہم سے عہد لیا تو وہ بھول گئے ! یہ قشیری نے حکایت کیا ہے۔ اسی طرح طبری نے بیان کیا ہے : اے محمد ! ﷺ یہ کفار میری آیات سے اعراض کرتے ہیں اور میرے رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں اور ابلیس کی اطاعت کرتے ہیں پہلے ان کے باپ حضرت آدم نے بھی ایسا کیا تھا۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ تاویل ضعیف ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا منکرین کفار کی مثل ہونا درست نہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے تاویل کی وجہ سے معصیت ہوئی تھی۔ اس قول میں نبی کی گستاخی اور نقص ہے آیت میں ظاہر یا تو یہ ہے کہ ایک واقعہ کی ابتدا ہے اس کا ماقبل سے کوئی تعلق نہیں ہے یا اس کا مقابل سے تعلق ہے کہ حضرت محمد ﷺ سے عہد لیا تھا کہ وہ قرآن کو پڑھنے میں جلدی نہ کریں تو آپ کے لیے آپ سے پہلے ایک نبی کی مثال بیان کی گئی جس کے ساتھ عہد کیا گیا تھا پس وہ بھول گیا تو انہیں عتاب کیا گیا تاکہ تحذیر سخت ہوجائے اور حضرت محمد ﷺ عہد میں مبالغہ ہوجائے۔ یہاں عہد بمعنی وصیت ہے اور نسی بمعنی ترک (چھوڑ دینا) ہے یہاں نسیان کا معنی ممکن نہیں کیونکہ بھولنے والے کو سزا نہیں دی جاتی۔ العزم کا معنی ہے کسی بھی چیز میں اپنے اعتقاد پر قائم رہنا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ درخت ممنوعہ سے نہیں کھائیں گے لیکن جب ابلیس نے آپ کو وسوسہ ڈالا تو آپ کا قصد و ارادہ موجود نہ تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے جو عہد لیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اس درخت سے نہیں کھائیں اور اس کے ساتھ انہیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ابلیس آپ کا دشمن ہے۔ ولم نجد لہ عزما کے معنی میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے فرمایا : ہم نے اسے درخت کے کھانے سے صبر کرنے والا نہ پایا اور حکم کے التزام پر مواضبت کرنے والا نہ پایا۔ نحاس نے کہا : اسی طرح لغت میں ہے کہا جاتا ہے : لفلان عزم یعنی گناہوں سے محفوظ ہونے پر صبر اور ثبات ہے حتی کہ وہ ان سے محفوظ ہے اسی سے یہ ارشاد ہے : فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل (الاحقاف :35) حضرت ابن عباس رضٰ اللہ عنہما اور عطیہ عوفی سے مروی ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا تھا اس کی حفاظت کرنے والا نہ پایا یعنی جس چیز سے اسے منع کیا گیا تھا اس کی حفاظت نہ کی حتی کہ بھول گئے۔ استدلال کے ترک کی وجہ سے اس کا علم نہ رہا۔ یہ اس طرح ہوا کہ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا : اگر آپ یہ درخت کھائیں گے تو ہمیشہ جنت میں رہیں گے یعنی اس نے اس درخت کو متعین کیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس کی بات نہ مانی پھر اس نے اس درخت کی مثل کی طرف بلایا جو نہی کے عموم میں داخل تھا، حضرت آدم (علیہ السلام) پر واجب تھا کہ وہ اس پر استدلال کرتے اور ایسا نہ کرتے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ یہ نہی میں داخل نہیں ہے پس آپ نے تاویل کی بنا پر کھالیا۔ وہ بھول والا شمار نہیں ہوتا جو جانتا ہو کہ یہ معصیت ہے۔ ابن زید نے کہا : عزما کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے امر کی محافظت کرنا۔ ضحاک نے کہا : امر کی عزیمت۔ ابن کیسان نے کہا : اصرار کرنا، گناہ کی طرف لوٹنے کو پوشیدہ نہ رکھنا۔ قشیری نے کہا : پہلا قول کلام کی تاویل کے زیادہ قریب ہے۔ اسی وجہ سے ایک قوم نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) اولوالعزم رسولوں میں سے نہ تھے اور کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولم نجد لہ عزما۔ معظم نے کہا : تمام رسل اولو العزم تھے۔ حدیث میں ہے : کوئی نبی نہیں تھا مگر اس نے خطا کی، خطا کا خیال گزرا سوائے یحییٰ بن زکریا کے۔ اگر حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی خطا کے سبب اولی العزم سے نکل جاتے تو حضرت یحییٰ کے سوا تمام انبیاء نکل جاتے۔ ابو امامہ نے کہا : اگر بنی آدم کے حلم کو جمع کیا جائے جب سے اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور قیامت تک (جتنی پیدا ہوگی) سب کے حلم کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں حضرت آدم کے حلم کو رکھا جائے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کا حلم بھاری ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولم نجد لہ عزما۔
Ayahs 20:116–117

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدے میں گرپڑے مگر ابلیس نے انکار کیا

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی۔ سورة بقرہ میں اس پر تفصیلاً گفتگو گزر چکی ہے۔ فقلنا یادم ان ھذا عدولک ولزوجل فلا فخرجنکما یہ نہی ہے مطلب یہ اس کی بات نہ ماننا ورنہ تمہارے جنت سے خروج کا سببب بن جائے گا۔ فتشقیٰ یعنی آپ اور آپ کی بیوی دونوں علت کے برابر ہونے ک میں ایک ہیں 0۔ فتشقیا نہیں فرمایا کیونکہ معنی معروف ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) مخالف ہیں اور وہی مقصود ہیں نیز حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت حواء کے لیے محنت کرنے والے تھے اور اس کے لیے کمانے والے تھے تو شقا میں وہ خاص کیے گئے۔ بعض نے فرمایا : اخراج دونوں پر واقع ہوگا اور شقا صرف حضرت آدم پر ہوگا۔ اس سے مراد شقاوۃ البدن ہے۔ بدن کا تھکنا۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ بعد میں فرمایا : ان لک الا تجوع فیھا ولا تعریٰ یعنی جنت میں نہ تجھے بھوک لگے گی نہ تم ننگے ہو گے۔ وانک لا تظموا فیھا ولا تضحیٰ آپ اس میں نہ پیاسے ہوں گے نہ دھوپ لگے گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو آگاہ کیا کہ یہ سبب کچھ ان کے لیے جنت میں ہوگا لباس، طعام، شراب، مسکن اور اگر آپ نے وصیت ضائع کردی اور دشمن کی اطاعت کی تو وہ تمہیں جنت سے نکال دے گا اور آپ تھکاوٹ اور اذیت برداشت کریں گے یعنی آپ بھوکے ننگے ہوں گے۔ اور پیاسے ہوں گے اور تجھے دھوپ بھی لگے گی تم زمین کی طرف لوٹائے جائو گے جب جنت سے نکالے جائو گے۔ شقاء کے ذکر میں حضرت آدم کو خاص فرمایا : فتشقیان نہیں فرمایا، اس میں تعلیم دی کہ بیوی کا نفقہ خاوند پر ہے پس اس دن سے عورتوں کا نفقہ مردوں پر ہے۔ جب حضرت حواء کا نفقہ حضرت آدم (علیہ السلام) پر تھا تو اسی طرح زوجیت کے حق کی وجہ سے حوائء کی بیٹیوں کا نفقہ حضرت آدم کے بیٹوں پر ہوگا۔ اس آیت میں ہمیں بتایا کہ وہ نفقہ جو عورت کے لیے خاوند پر واجب ہوتا ہے وہ چار چیزیں ہیں۔ طعام، مشروب، لباس اور مسکن۔ جب مرد عورت کو یہ چار چیزیں تو عورت کے لیے ضروری ہیں کیونکہ اس کے ساتھ زندگی کا قیام یے۔ حسن نے فتشقیٰ سے مراد دنیا کی تکلیف ہے۔ اببن آدم نہیں دیکھا جاتا مگر تھکا ہوا۔ فراء نے کہا : وہ اپنے ہاتھ کی محنت سے کھانا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف سرخ اونٹ اتارا گیا وہ اس پر کھیتی باڑی کرتے تھے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے۔ یہ وہ شقا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے اتارا گیا تو یہ پہلی شقا تھی۔ حضرت جبریل نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر جنت سے دانے اتارے تھے اور کہا تھا : اے آدم ! اس کو کاشت کرو اور زراعت کر پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کھیتی باڑی کی، فصل کو پھر کاٹا، پھر اسے گا ھا پھر صاف کیا پھر اسے پیسا پھر گوندھا پھر روٹیک پکائی، پھر تھکن کے بعد کھایا پھر ان کے ہاتھ سے روٹی گر گئی حتیٰ کہ وہ پہاڑ کے نیچے چلتے گئے حتیٰ کہ تھک گئے اور پیشانی پر پسینہ آگیا اور کہا : اے آدم ! تیرا رزق تھکاوٹ اور مشقت کے ساتھ ہوگا اور تیری اولاد کا رزق بھی دینا میں تیرے بعد اسی طرح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری۔ وانک لا تظموا فیھا ولا تضحیٰ ۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لک الا تجوع فیھا ھا ضمیر سے مراد جنت ہے۔ لا تظلماً کا معنی ہے۔ پیاسا نہ ہوگا۔ الظماً سے مراد پیاس ہے۔ ولا تضحیٰ ، تم سورج کے سامنے نہ آئو گے کہ تمہیں اس کی گرمی لگے کیونکہ جنت میں سورج نہیں ہے۔ وہاں لمبے لمبے سائے ہیں جس طرح فجر کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جنت کا دن اسی طرح ہے اور نماز فجر پڑھنے والوں کے لیے وقت کی طرف اشارہ کیا۔ ابو زید نے کہا : ضحا الطریق یصحو ضحوا اس کا مطلب ہے راستہ ظاہر ہوگیا۔ وضحیت وضحیت ضحاً (پسینہ آیا) ضحیت للشمس ضحاء (ممدود) کا مطلب ہے ظاہر ہوا۔ ضحیت حاء کے فتحہ کے ساتھ۔ دونوں لغتوں میں اضحیٰ مضارع کا صیغہ آتا ہے۔ عمر بن ابی ربیعہ نے کہا : رات رجلا ایما اذا الشمس عارضت فیضحی واما بالعشی فیخضر حدیث میں ہے حضرت ابن عمر ؓ نے سائے میں ایک شخص کو دیکھا تو آپ نے اسے فرمایا : جس کے لیے احرام باندھا ہے اس کی خاطر دھوپ میں آ۔ اسی طرح محدثین نے اضح ہمزہ کے فتحہ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ اضحیت سے مشتق ذکر کیا ہے، کیونکہ آپ نے اسے دھوپ میں آنے کا حکم دیا ہے اسی سے یہ ارشاد ہے : وانک لا تظموا فیھا ولا تضحیٰ اور بطور استشہاد یہ شعر پڑھا ہے : ضحیت لہ کئی استظل بظلۃ اذا الظل اضحی فی القیامۃ قالصا ابو عمرو اور کو فیوں نے سوائے عاصم کے ابوبکر کی روایت میں وانک ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ الاتجوع پر عطف کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ اور مرفوع ہونا بھی جائز ہے اس وقت موضع پر عطف ہوگا معنی یہ ہے کہ لک انک لا تظما فیھا۔ باقی علماء نے استثناء کی بنا پر کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یا ان لک پر عطف کی بنا پر کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری۔ وانک لا تظموا فیھا ولا تضحیٰ ۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان لک الا تجوع فیھا ھا ضمیر سے مراد جنت ہے۔ لا تظلماً کا معنی ہے۔ پیاسا نہ ہوگا۔ الظماً سے مراد پیاس ہے۔ ولا تضحیٰ ، تم سورج کے سامنے نہ آئو گے کہ تمہیں اس کی گرمی لگے کیونکہ جنت میں سورج نہیں ہے۔ وہ لمبے لمبے سائے ہیں جس طرح فجر کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جنت کا دن اسی طرح ہے اور نماز فجر پڑھنے والوں کے لیے وقت کی طرف اشارہ کیا۔ ابو زید نے کہا : ضحا الطریق یصحو ضحوا اس کا مطلب ہے راستہ ظاہر ہوگیا۔ وضحیت وضحیت ضحاً (پسینہ آیا) ضحیت للشمس ضحاء (ممدود) کا مطلب ہے ظاہر ہوا۔ ضحیت حاء کے فتحہ کے ساتھ۔ دونوں لغتوں میں اضحیٰ مضارع کا صیغہ آتا ہے۔ عمر بن ابی ربیعہ نے کہا : رات رجلا ایما اذا الشمس عارضت فیضحی واما بالعشی فیخضر حدیث میں ہے حضرت ابن عمر ؓ نے سائے میں ایک شخص کو دیکھا تو آپ نے اسے فرمایا : جس کے لیے احرام باندھا ہے اس کی خاطر دھوپ میں آ۔ اسی طرح محدثین نے اضح ہمزہ کے فتحہ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ اضحیت سے مشتق ذکر کیا ہے، کیونکہ آپ نے اسے دھوپ میں آنے کا حکم دیا ہے اسی سے یہ ارشاد ہے : وانک لا تظموا فیھا ولا تضحیٰ اور بطور استشہاد یہ شعر پڑھا ہے : ضحیت لہ کئی استظل بظلۃ اذا الظل اضحی فی القیامۃ قالصا ابو عمرو اور کو فیوں نے سوائے عاصم کے ابوبکر کی روایت میں وانک ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ الاتجوع پر عطف کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ اور مرفوع ہونا بھی جائز ہے اس وقت موضع پر عطف ہوگا معنی یہ ہے کہ لک انک لا تظما فیھا۔ باقی علماء نے استثناء کی بنا پر کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یا ان لک پر عطف کی بنا پر کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔