Ayahs 20:63–64اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذین لسحرن ابو عمرو نے ان ھذین لساحران پڑھا ہے۔ حضرت عثمان، حضرت عائشہ وغیرہما ؓ صحابہ سے یہ مروی ہے۔ اسی طرح حسن، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی وغیرہم نے بھی پڑھا ہے۔ قراء میں سے عیسیٰ بن عمر، عاصم حجدری نے اسی طرح پڑھا ہے جیسا کہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ یہ قرأت اعراب کے موافق ہے اور مصحف کے مخالف ہے۔ زہری، خلیل بن احمد، مفضل، اببان، ابن محیصن، ابن کثیر اور عاصم نے ایک روایت میں پڑھا ہے : حفص نے بھی ان ھذان ان کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر ھذان کی نون کو شد سے پڑھتے تھے۔ یہ قرأت مصحف کی مخالفت سے سلامت ہے اور اعراب کے فساد سے سلامت ہے۔ اس کا معنی ہے ما ھذان الاساحران۔ مدنی اور کو فی قراء نے ان ھذان، ان کو شد کے ساتھ اور لساحران پڑھا ہے۔ انہوں نے مصحف کی موافقت کی اور اعراب کی مخالفت کی۔ نحاس نے کہا : یہ تین قرأتیں ہیں۔ ائمہ کی ایک جماعت نے ان کو روایت کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ انہوں نے ھذان ابا ساحران پڑھا ہے۔ کسائی نے حضرت عبداللہ کی قرائت میں ان ھذان ساحران بغیر لام کے کہا ہے۔ فراء نے حضرت ابی کی قرأت میں ان ذان الا ساحران نے کہا ہے۔ یہ مزید تین قرائتیں ہیں۔ یہ تفسیر پر محمول ہوں گی ان کے ساتھ قرآن کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔
میں کہتا ہوں : اہل مدینہ اور کوفہ کی قرأت میں، مہدوی نے اپنی تفسیر میں اور ان کے علاوہ علماء نے ان کے کلام کے بعض کو بعض میں داخل کردیا اور ایک قوم نے اس میں خطا کی حتیٰ کہ ابو عمر نے کہا : میں اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں ان ھذان پڑھوں، عروہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان سے لکن الرسخون فی العلم (النسائ :162) کے متعلق پوچھا گیا پھر المقیمن اور سورة مائدہ میں ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبون (المائدہ :69) کے متعلق پوچھا اور ان ھذین لسحرن کے متعلق پوچھا گیا تو حضرت عائشہ ؓ نے کہا : اے میرے بھانجے ! یہ کاتب کی خطا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے کہا : مصحف میں غلطی ہے۔ عرب اپنی زبان کے ساتھ اس کو ٹھیک کرلیں گے۔ حضرت ابان ابن عثمان نے کہا : میں نے یہ آپت اپنے باپ حضرت عثمان بن عفان ؓ کے سامنے تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا یہ لحن اور خطا ہے۔ کسی نے ان سے کہا : کیا تم لوگ اسے تبدیل نہیں کرو گے ؟ حضرت عثمان ؓ نے کہا : اس کو چھوڑو کیونکہ یہ نہ حلال کو حرام کرتا ہے اور نہ حرام کو حلال کرتا ہے۔ پہلا قول چھ اقوال میں سے ہے یہ بنی حرب بن کعب، زبیر بن خشعم کی لغت ہے اور کنانہ ببن زید تثنیہ کا رفع، نصب اور حرف الف کے ساتھ پڑھتے ہیں کہتے ہیں۔ جاء الزید ان، رأیت الزیدان، مررت بالزید ان، اسی سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے : ولا ادرکم بہ (یونس :16) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ فراء نے بنی اسد کے ایک شخص کا شعر پڑھا اور کہا : میں نے اس سے افصح نہیں دیکھا۔
فاطرق اطراق الشجاع لو یری مساغا لناباہ الجاع لصما
اور وہ کہتے ہیں : کسرت یداہ ورکبت علاہ بمعنی یدیہ وعلیہ، ان کے شاعر نے کہا :
ترزودمنا بین اذناہ ضربۃ دعتہ الی ھابی التراب عقیم
محل استدلال ” بین اذاتہ “ ہے۔ ایک اور شاعر نے کہاٖ :
ان اباھا وابا اباھا قد بلغا فی المجد غایتا ھا
یعنی ان ابا ابیھا وغایتیھا۔ ابوجعفر نحاس نے کہا : یہ قول ان تمام اقوال سے عمدہ ہے جن پر آیت کو محمول کیا گیا ہے جب کہ یہ لغت معروف ہے اس کو اس نے حکایت کیا ہے جن کے علم اور امانت کو پسند کیا گیا ہے۔ ان میں سے ابو زید انصاری ہے وہ کہتا ہے : جب سیبویہ کہے : حدثنی من اثق بہ تو اس سے مراد میری ذات ہوتی ہے۔ ابوالخطاب اخفش یہ لغت کے ائمہ کا سردار ہے، کسائی اور فراء تمام کہتے ہیں کہ یہ بنی حرث بن کعب کی لغت ہے۔ ابو عبیدہ نے ابوالخطاب سے حکایت کیا ہے کہ یہ بنی کنانہ کی لغت ہے۔ مہدوی نے کہا : ان کے علاوہ نے حکایت کیا ہے کہ یہ خشعم قبیلہ کی لغت ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جو کچھ سیبویہ کے قول میں کہا گیا اس میں سے واضح ہے جان لے کہ جب تو واحد کا تثنیہ بنائے گا تو تو اس پر دو چیزیں زائد کرے گا ایک یہ کہ حرف مد اور لین اور وہ اعراب کا حرف ہے۔ ابو جعفر نے کہا : سیبویہ کا قول کہ وہ اعراب کا حرف ہے یہ ثابت کرتا ہے کہ اصل تبدیل نہیں ہوتی۔ پس ان ھذا ان اپنی اصل پر آیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ اصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : استحوذ علیہم الشیطن (المجادلہ : 19) استحاذ نہیں فرمایا یہ اس طرح اس لیے آیا ہے تاکہ اصل پر دلالت کرے اسی طرح ان ھذا جو اس لغت کا انکار کرے اس کے انکار میں غور نہیں کیا جائے گا کیونکہ آئمہ نحو نے اس کو روایت کیا ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں ان بمعنی نعم (ہاں) جیسا کہ کسائی نے عاصم سے روایت کیا ہے، فرمایا : عرب ان بمعنی نعم ذکر کرتے ہیں۔ سیبویہ نے حکایت کیا ہے کہ ان بمعنی اجل بھی آتا ہے۔ اس قول کا نظریہ محمد بن یزید اور اسماعیل بن اسحاق قاضی کا ہے۔ نحاس نے کہا میں نے ابو اسحاق زجاج اور علی بن سلیمان کا یہ قول کرتے ہوئے سنا۔ ابو اسحاق نحاس نے اس پر تعجبب کیا۔ علی بن سلیمان نے ہمیں بیان کیا اور انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن احمد بن عبدالسلام نیشاپوری نے ہمیں بیان کیا پھر میں عبداللہ بن احمد سے مللا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے عمیر ببن متوکل نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں محمد نے موسیٰ نوفلی نے بتایا جو حرث بن عداللہ کی اولاد سے تھے فرمایا ہمیں عمر بن جمعی کو فی نے جعفر بن محمد سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے علی سے جو حضرت حسین ؓ کے بیٹے ہیں انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے باپ حضرت علی سے روایت کیا ہے فرمایا : میں شمار ہی نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی مرتببہ منبر پر حضرت علی ؓ کہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ پھر فرماتے : میں تمام قریش سے زیادہ فصیح ہوں اور میرے بعد اببان بن سعید ببن عاص افصح ہوگا۔ ابو محمد خفاف نے کہا : عمیر نے کہا اس کا اعراب اہل لغت کے نزدیک ان الحمد للہ نصب کے ساتھ گویا نبی کریم ﷺ نے یہ ارادہ کیا نعم الحمد للہ۔ یہ اس طرح ہے کہ عرب اپنے خطبات نعم کے معنی کے استعمال کر کے آغاز کرتے تھے۔ شاعر نے نعم کے معنی میں اس کو استعمال کیا ہے۔
قالوا غد رت فقلت ان و ربما نال العلا وشفی الغلیل الغادر
محل استدلال ان و ربما ہے۔ عبداللہبن قیس نے کہا :
بکر العواذل فی الصبا یلمنی والومھنہ
ویقلن شیب قد علاک وقد کبرت فقلت انہ
محل استدلال ” انہ “ ہے۔ اس پناء پر ان ھذین لسحرن میں ان بمعنی نعم جائز ہے۔ اور اس پر نصب نہیں دی۔ نحاس نے کہا : دائود بن ہشیم نے شعر پڑھا اور ثعلب نے مجھے یہ شعر سنایا۔
لیت شعری ھل للمحب شفائ من جوی حبھن ان اللقاء
محل استدلال ” ان اللقائ “ ہے۔ نحاس نے کہا : یہ قول عمدہ ہے مگر اس میں کچھ کمزوری ہے کیونکہ کہا جاتا ہے : نعم زید خارج یہاں اللام واقع نہیں ہوتا اگرچہ نحویوں نے اس کے بارے کلام کی ہے اور انہوں نے کہا : اللام سے تقدیم کی نیت کی گئی ہے، جیسے کہا جاتا ہے :
خای لانت ومن جریر خالہ ینل العلاء ویکرم الا خوالا
ایک اور شاعر نے کہا :
ام الحلیس لعجوز شھربہ ترضی من الشاۃ بعظم الرقبۃ
یعنی لخالی ولام الحلیس ؛ زجاج نے کہا : مطلب یہ ہے کہ آیت میں معنی یہ ہے ان ھذان لھما ساحران پھر مبتسا کو حذف کیا گیا۔ مہدوی نے کہا : ابوعلی اور ابوالفتح جنی نے اس کا انکار کیا ہے۔ ابوالفتح نے کہا : ھما حذف نہیں کیا جاتا مگر معروف ہونے کے بعد۔ جب معروف ہو تو اس کی معرفت کی وجہ سے لام کے ساتھ تاکید ذکر نہیں کی جاتی اور یہ قبیح ہے کہ موکد کو حذف کیا جائے اور مؤکد کو باقی رکھا جائے۔
تیسرا قول بھی فراء کا ہے کہتے ہیں : الف ستون ہے فعل کا لام کلمہ نہیں ہے میں نے اس پر نون زیادہ کیا ہے اور میں نے اس پر تبدیلی نہیں کی جیسے تو کہتا ہے : الذی پھر تو اس پر نون زیادہ کرتا ہے اور تو کہتا ہے : جاء تی الذین عندک ورأیت الذین عندک ومررت بالذین عندک۔
چوتھا قول یہ ہے کہ جو بعض کو فیوں نے کہا ہے انہوں نے کہا : ھذان میں الف یفعلان میں الف کے مشابہ ہے پس تبدیل نہیں ہوا۔
پانچواں قول ابو اسحاق کا ہے انہوں نے کہا : قد ماء نحوی کہتے ہیں یہاں ھاء مضمرہ ہے معنی یہ ہے انہ ھذان لساحران۔ ابن انباری نے کہا : ھاء عضمرہ ہے جو منصوب ہے اور ھذان، ان کی خبر ہے اور ساحران کو رفع ھما مضمر کی وجہ سے ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے انہ ھذان لھما ساحران۔ اس جواب والوں کے نزدیک اثبت یہ ہے کہ ھاء ان کا اسم ہو اور ھذان مبتدا ہو اور اس کا مابعد خبر ہو۔
چھٹا قول یہ ہے ابو جعفرنحاس نے کہا : میں نے اببوالحسن بن کیسان سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا اگر تو چاہے تو میں تجھے نحویوں کے جواب کے ساتھ جواب بدوں اگر تو چاہے تو میں تجھے اپنے قول کے ساتھ جواب دوں۔ میں نے کہا : اپنے قول کے ساتھ جواب دو ، انہوں نے کہا : اسماعیل بن اسحاق نے مجھ سے اس کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا : میرے نزدیک قول یہ ہے کہ جب کہا جاتا ہے : ھذا محل رفع، نصب اور جر میں ایک حالت پر ہوتا ہے اور تثنیہ میں واجب ہے کہ اس کا واحد تبدیل نہ ہو تثنیہ واحد کے قائم مقام ہو اور فرمایا : کیا اچھا ہوتا کہ تجھے پہلے کسی نے یہ قول کیا ہوتا تاکہ اس سے مانوس ہوا جاتا۔ ابن کیسان نے کہا : میں نے اسے کہا قاضی نے کہا ہے حتیٰ کہ اس کو پسند کیا گیا ہے تو انہوں نے تبسم فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یریدان ان یخرجکم من ارضکم بسحرھما ویذھبا بطریقتم المثلی۔ یہ فرعون کے جادوگروں کو کہا یعنی ان دونوں حضرات کی غرض تمہارے اس دین کو خراب کرنا ہ ہے جس پر تم ہو جیسا کہ فرعون نے کہا : انی اخاف ان یبدل دینکم او ان یظھر فی الارض الفساد۔ (غافر) کہا جاتا ہے : فلاں حسن الطریقہ یعنی فلاں عمدہ مذہب والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : طریقت القوم سے مراد فضل القول ہے۔ یہ وہ و ہے کہ مناسب ہے کہ وہ اس کے طریقوں پر چلیں اور اس کی اقتدار کریں معنی یہ ہے کہ وہ تمہارے سرداروں اور تمہارے روئو وسائل کو مائل کرتے ہوئے لے جائیں یا معنی ہو کہ وہ بنی اسرائیل کو لے جائیں ان سے مراد اماثل ہیں اگرچہ وہ تمہارے نوکر تھے، کیونکہ ان کا شجرہ نسب انبیاء کی طرف لوٹتا تھا یا یہ معنی کہ وہ یذھبا بھل طریقتکم یعنی اہل مضاف مخدوف ہے۔ المثلی یہ الامثل کی تانیث ہے، جیسے کہا جاتا ہے : الافضل والفضلی، طریقۃ کو لفظ کی بنا پر مونث ذکر کیا گیا ہے اگرچہ اس سے مراد مرد ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ تانیث، جماعت کے معنی کی بنا پر ہو۔ کسائی نے کہا : بطریقتکم سے مراد تمہاری سنت اور تمہارا چال چلن ہے۔ المثلی۔ لغت ہے جیسے تیرا قول ہے : امراۃ کبری، عرب کہتے ہیں۔ فلان علی الطریقۃ المثلی، یعنی وہ ہدایت مستقیم پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاجمعوا کیدکم الاجماع کا معنی کسی چیز کا پختہ عزم کرنا ہے تو کہتا ہے : اجمعت الخروج یعنی تو نے نکل جانے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ تمام علماء کی قرأت فاجمعوا ہے سوائے ابو عمرو کے انہوں نے فاجمعوا ہمزہ وصلی کے ساتھ میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : فجمع کیدہ ثم اتی۔ سے حجت پکڑی ہے۔ نحاس نے کہا : میرے لیے محمد بن یزید سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : ابو عمرو پر واجب ہے کہ وہ اپنی اس قرأت کے خلاف پڑھیں اور وہ وہ قراءت ہے جس پر اکثر لوگوں کا اتفاق ہے۔ فرمایا : انہوں نے فجمع سے حجت پکڑی ہے یہ تو ثابت ہے پس اس کے بعد فاجمعوا ہونا بعید ہے۔ اور اس کے بعد اجمعوا ہونا قریب ہے، یعنی عزم کرو اور سنجیدگی اختیار کرو۔ جو کچھ پہلے گزر چکا ہے واجب ہے کہ یہ اس کے معنی کے خلاف ہو۔ کہا جاتا ہے : امر مجمع علیہ۔ اس پر اجماع کیا گیا ہے۔ نحاس نے کہا : ابو عمرو کی قرات فاجمعوا صحیح ہے، یعنی اجمعوا کل کیدلکم وکل حیلۃ فضموہ مع اخیہ۔ یہ قول ابو اسحاق کا ہے۔ ثعلبی نے کہا : ہمزہ قطعی اور میم کے کسرہ کی قرأت کی دو وجہیں ہیں۔ (1) بمعنی الجمع تو کہتا ہے : اجمعت الشی وجمعتہ دونوں ہم معنی ہیں۔ صحاح میں ہے : اجمعت الشی تو نے کسی چیز کو جمع کردیا۔ ابو ذویب اپنے گدھوں کی تعریف کرتا ہے :۔
فکانھا بالجزع بین نبایع واؤلات ذی العرجاء نھب مجمع
اس شعر میں مجمع بمعنی مجموع ہے اور اس کا دوسرا معنی عزم اور احکام ہے، شاعر نے کہا :
اس شعر میں مجمع بمعنی محکم ہے۔ ثم ائتوا صفاً مقاتل اور کلبی نے صفاً کا معنی جمیعاً کیا ہے۔ بعض نے صفوفا کہا ہے تاکہ تمہاری ہیبت شدید ہو۔ صفاً ابو عبیدہ کے قول پر اس لیے منصوب ہے کہ اس پر فعل واقع ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے : أتیت الصف بمعنی میں مسجد میں آیا۔ ابو عبیدہ کے نزدیک اس کا مطلب ہے تم ایسی جگہ پر آئو جہاں عید کے دن جمع ہوتے ہو۔ بعض فصحاء عرب سے حکایت ہے : ما قدرت أن آتی الصف (مجھے مسجد میں آنے کی قدرت نہ ہوئی) زجاج نے کہا : یہ معنی بھی جائز ہے پھر تم آئو جبکہ لوگ صفوں میں ہوں۔ اس صورت میں صفاً مصدر حال واقع ہو رہا ہوگا اسی وجہ سے اس کی جمع نہیں بنائی گئی۔ ثم ایتوا صفا بھی پڑھا گیا ہے۔ میم کے کسرہ اور یاء کے ساتھ اور جس نے ہمزہ کو ترک کیا تو اس نے ہمزہ سے الف بنا دیا۔
وقد افلح الیوم من استعلیٰ ۔ یعنی غالب آیا۔ یہ تمام گفتگو جادوگروں نے ایک دوسرے کے ساتھ کی۔ بعض نے کہا : یہ فرعون نے جادوگروں سے کہا تھا۔
Ayahs 20:65–66(تفسیر 65-71) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قالوا یموسیٰ اس سے مراد جادوگر ہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی۔ اما ان تلقی یعنی تم اپنا عصا پھینکو گے جو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ واما ان نکون اول من القی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جادوگروں نے ادب کا مظاہرہ کیا یہی ان کا ادب و احترام ان کے ایمان کا سبب بنا۔ قال بل القوا فاذا حبالھم کلام میں حذف ہے یعنی فالقوا (انہوں نے ڈالا) حذف ہے اس پر معنی دلالت کر رہا ہے۔ حسن نے عصیھم کو عین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون قاری نے کہا : بنی تمیم کی لغت عصیھم ہے۔ حسن اس کے مطابق پڑھتے تھے۔ باقی قراء نے صاد کے کسرہ کی اتباع کی وجہ سے عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح دلی و دلی اور قسی وقسی ہے۔
یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی۔ حضرت ابن عباس ؓ، ابوحیوہ، ابن ذکوان اور روح نے یعقوب سے روایت کر کے تخیل تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے ضمیر عصی اور الحبال کی طرف لوٹائی ہے چونکہ وہ مونث ہیں اس لیے مونث کا صیغہ پڑھا ہے، کیونکہ انہوں نے لاٹھیوں کو پارہ کے ساتھ لت پت کیا ہوا تھا۔ جب انہیں سورج کی دھوپ لگی تو وہ حرکت کرنے لگیں۔ کلبی نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خیال کیا کہ زمین سانپوں والی ہے وہ اس کے بطن میں دوڑ رہے ہیں اور تخیل بمعنی تتخیل بھی پڑھا ہے۔ اس کا طریق بھی تخیل والا طریق ہے۔ اور جنہوں نے یخیل یاء کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اس کا مرجع الکید کو بنایا ہے۔ نخیل نون کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ آزمائش اور محنت کے لیے خیال پیدا کرنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا فاعل انھاتسعیٰ ہے اور ان محل رفع میں ہے یعنی یخیل الیہ سمیھا۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ فراء کا خیال ہے کہ ان محل نصب میں ہے یعنی بانھا پھر با کو حذف کیا گیا۔ پہلی صورت میں معنی ہوگا ان کے جادو اور مکر کی وجہ سے انہیں اشتباہ ہوگیا حتیٰ کہ انہوں نے گمان کیا وہ دوڑ رہی ہیں۔ زجاج نے کہا : جس نے تا کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے ان کو محل نصب میں بنایا یعنی تخیل الیہ ذات سعی انہیں دوڑنے والی چیز معلوم ہوئی۔ فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ تخیل میں جو ضمیر ہے کہ تخیل میں جو ضمیر ہے اس پر ان بدل ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہو، جو ضمیر الحبال اور العصی کی طرف لوٹ رہی ہے، اس صورت میں بدل اشتمال ہوگا۔ تسعیٰ بمعنی تمشی ہے۔
Ayahs 20:67–68اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ ۔ اوجس بمعنی اضمر ہے دل میں محسوس کیا۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی پانا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا معنی محسوس کرنا ہے، یعنی سانپوں سے کچھ خوف محسوس کیا یہ وہی ہے جو طبع بشری کو خوف لاحق ہوتا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے بعض نے کہا : آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے عصا پھینکنے سے پہلے جدا ہوجائیں گے اور فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ بعض اہل الحقائق نے کہا : اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جادوگروں سے ملے اور آپ نے انہیں فرمایا : (کمبختو ! نہ بہتان باندھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹے ورنہ وہ تمہارا نام و نشان مٹا دے گا کسی عذاب سے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) متوجہ ہوئے تو جبریل آپ کی دائیں طرف کھڑے تھے تو جبریل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے موسیٰ ! اللہ کے دوستوں کے ساتھ نرمی کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے جبریل ! یہ جادوگر ہیں بڑا جادو لے کر آئے ہیں تاکہ معجزہ کو باطل کریں اور فرعون کے دین کی مدد کریں اور اللہ کے دین کا رد کریں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے نرمی کرو، جبریل نے کہا : یہ اس وقت سے لے کر عصر تک تمہارے پاس ہیں عصر کے بعد یہ جنت میں ہوں گے جب جبریل نے یہ کہا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خوف محسوس ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خطرہ لاحق ہوا کہ میرے بارے میں اللہ کا جو علم ہے اس کا مجھے علم نہیں شاید میں اب ایک حالت میں ہوں اور اللہ تعالیٰ کا علم میرے بارے میں اس حالت کے خلاف ہو جیسا کہ یہ لوگ تھے، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خوف کو جان لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : لا تخف انک انت الاعلیٰ یعنی تم ہی دنیا میں ان پر غالب ہو گے اور جنت میں بلند درجات پر ہو گے۔ اس نبوت واصطفا کے مقام کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا : خیفۃ کی اصل خوفۃ ہے۔ خاکے کسرہ کی وجہ سے وائو یا سے بدل گئی۔
Ayah 20:69اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا یہ نہیں فرمایا کہ اپنا عصا ڈالو، یہ جائز ہے ان کی رسیوں کی حقارت کے لیے ہو یعنی ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کی پروا نہ کرو۔ تم وہ ایک چھوٹی سی لکڑی ڈالو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ ایک ان تمام کو نگل جائے گی، وہ چھوٹی سی لکڑی ان تمام بڑی لکڑیوں کو کھا جائے گی۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ان کی تعظیم کے لیے ہو یعنی ان بڑے بڑے جسموں والی لکڑیوں کی پروانہ کرو کیونکہ جو چیز تمہارے ہاتھ میں ہے وہ ان تمام سے بڑی ہے۔ یہ کثرت کے بباوجود اس کے سامنے کم ہیں۔ پس آپ اسے ڈالیں اللہ کے اذن سے تمام کو نگل جائے گا اور مٹا دے گا۔ تلقف جواب امر کی وجہ سے مجزوم ہے گویا فرمایا : اگر تو اسے پھینکے گا تو وہ انہیں نکل جائے گا۔ سلمی اور حفص نے تلقف لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ لقف یلقف لقفا سے مشتق ہے۔ ابن ذکوان، ابو حیوہ شامی، یحییٰ بن حرث نے تلقف تا کے حذف اور فاء کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ بایں معنی کہ فانھا تتلقف۔ خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے۔ بعض نے کہا : عصا کے لیے ہے۔ اللقف کا معنی تیزی سے پکڑ لینا ہے۔ کہا جاتا ہے : لقفت الشیٔ، قاف کے کسرہ کے ساتھ۔ لقفہ لقفا، تلقفتہ، یعنی جلدی کے ساتھ اس نے اسے پکڑ لیا۔ یعقوب سے مروی ہے کہا جاتا ہے : رجل لقب ثقف، یعنی چالاک اور دانشمند آدمی۔ اللقف حرکت کے ساتھ دیوار کا گرنا۔ لقد لقف الحوض لقفا یعنی نیچے سے کھل گیا۔ تلقف وتلقم وتلھم تمام کا معنی ایک ہی ہے ؛ یہ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ لقمت اللقمۃ لقماً وتلقم تھا اس کا معنی ہے لقمہ کو آسانی سے نگل لیا۔ اسی طرح لھمہ (ھاء کے کسرہ کے ساتھ) اس کا معنی نگل جانا ہے۔ ما صنعوا یعنی جو انہوں نے کیا اسی طرح انما صنعوا یعنی ان الذی صنعوہ، کید رفع کے ساتھ ہے (سحر) سین کے کسرہ اور حاء کے سکون کے ساتھ۔ یہ عصام کے سوا کو فیوں کی قرأت ہے۔ اس میں دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ کید، السحر کی طرف مضاف ہو، اتباع کی بنا پر حذف کی تقدیر کے بغیر۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کلام میں حذف ہو یعنی کید ذی سحر، باقی قراء نے کید، نصب کے ساتھ اس ص پر صنع کے وقوع کے ساتھ۔ ماکافہ ہے۔ ساحر میں اضافت کی وجہ سے ضمیر مضمر نہ ہوگی۔ الکید اس قرأت پر حقیقت میں ساحر کے لیے مضاف ہے سحر کے لیے نہیں۔ ان کا فتحہ جائز ہے اس معنی پر لان ما صنعوا کید ساحر کہ جو انہوں نے کیا وہ جادوگر کا مکرو فریب ہے۔ ولا یفلح الساحر حیث اتی یعنی زمین کی کسی جہت سے آئے جادوگر کامیاب نہیں ہوتا۔ بعض نے کہا : جہاں حیلہ کرتا ہے۔ سورة بقرہ میں ساحر کا حکم اور سحر کا معنی گزر چکا ہے۔
Ayahs 20:70–76اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فالقی السحرۃ سجداا، جب انہوں نے عصا میں عظیم امر اور خارق للعادت امر دیکھا تو وہ سجدہ میں گر گئے اس عصا نے رسیوں اور لاٹھیوں کے ذریعے جو مکرو فریب کیا تھا سب کو نگل لیا۔ وہ بوجھ جو رسیوں اور لاٹھیوں کا تھا تین سو اونٹ کا تھا، پھر ایک عصا رہ گیا۔ کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ رسیاں اور لاٹھیاں کہاں ہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ کہا جاتا ہے آمن لہ وآمن بہ، اسی سے یہ ارشاد ہے : فامن لہ لوط (العنکبوت :26) اور سورة الاعراف آیت 123 میں ہے : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم، فرعون کی طرف سے جادوگروں پر انکار ہے یعنی تم نے تجاوز کیا اور تم نے وہ کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا ہے۔ انہ لکبیر کم الذی علمکم السحر یعنی تعلیم میں جو تمہارا رئیس ہے۔ وہ تم پر غالب آگیا کیونکہ وہ جادوگری میں تم سے زیادہ ماہر تھا۔ فرعون نے اپنے اس قول سے یہ ارادہ کیا کہ لوگوں میں اشتباہ پیدا کر دے تاکہ لوگ ان کی اتباع نہ کریں اور ان کی طرح لوگ بھی ایمان نہ لے آئیں ورنہ فرعون جان چکا تھا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کچھ نہیں سیکھا ہے بلکہ وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے اور ان کی ولادت ہونے سے پہلے جادو جانتے تھے۔ فلا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ولا وصلبنکم فی جدوع النحل یعنی علی جذوع النخل، سوید بن ابی کاہل نے کہا :۔
ھم صلبوا العبدی فی جذع نخلۃ فلا عطست شیبان الا باجدعا
پس ان کے ہاتھ پائوں کاٹے گئے اور سولی پر چڑھائے گئے حتیٰ کہ وہ وصال کر گئے۔ پس اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ ابن محیصن نے یہاں اور سورة الاعراف میں فلا قطعن ولا صلبنکم کو الف کے فتحہ کے ساتھ اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ قطع اور صلب سے مشتق کیا ہے۔ ولتعلمن اینا اشد عذاباً وابقی۔ یعنی میں یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ؟۔
Ayah 20:77(تفسیر 77-79) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی اس پر تفصیلی گفتگو گزر چکی ہے۔ فاضرب لھم طریقا فی البحر یبسا ایسا خشک راستہ جس میں نہ کیچڑ ہو اور نہ پانی ہو۔ سورة بقرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سمندر پر عصا مارنا اور فرعون کا اغراق وغیرہ گزر چکا ہے، پس اعادہ کی ضرورت نہیں۔ لا تخف در کافر عون اور اس کے لشکر کے لاحق ہونے ا خوف مت کیجئے۔ ولا تخشی۔ ، ابن جریج نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : یہ فرعون آگیا ہے اس نے ہمیں ابھی پکڑ لیا اور یہ سمندر ہم پر چھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : لا تخف درکا ولا تخشی یعنی نہ فرعون کے پکڑنے کا خوف اور نہ سمندر میں غرق ہونے کا خوف کیجئے کہ اگر وہ تم پر چھا جائے گا تو تمہیں چھوئے گا۔ حمزہ نے لا تخفف پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ امر کا جواب ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی ان تضرب لھم طریقا فی البحر لا تخفف۔ ولا تخشیٰ یہ علیحدہ کلام ہے تقدیر اس طرح ہے : ولا انت تخشی یا مجزوم ہوگا اور الف فتحہ سے اشباع کے لیے ہے۔ جیسے : فاصلونا السبیلا میں الف اشباع کے لیے ہے یا یہ شاعر کے اس قول کی طرح ہے :
کان لم تری قبلی اسریاً یمانیا
حرکت کو حذف کیا گیا ہے جس طرح صحیح حرف سے حرکت کو حذف کیا جاتا ہے یہ فراء کا مذہب ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا :
ھجوت زبان ثم جئت معتذراً من ھجو زبان لم تھجو ولم تدع
الم یاتیک والانباء تنمی بما لاقت لبون بنی زیاد
ان اشعار میں حالت جزم میں حرف علت نہیں گرا صرف حرکت حذف کی گئی ہے۔ نحاس نے کہا : یہ بہت بڑی فحش غلطی ہے کہ کتاب اللہ کو اشعار میں شذوذ پر محمول کیا جائے، نیز شعروں میں سے جو مثالیں دی گئی ہیں وہ آیت کے مشابہ نہیں ہیں، کیونکہ یا اور وائو دونوں الف کے مخالف ہیں کیونکہ یہ دونوں متحرک ہوتی ہیں جبکہ الف متحرک نہیں ہوتا اور شاعر کے لیے جائز ہوتا ہے کہ جب وہ مجبور ہوجائے کہ وہ دونوں کو متحرک مقدر کرے پھر جزم کے لیے حرکت کو حذف کر دے اور یہ الف میں محال ہے۔ پہلی قرأت زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کے بعد لا تخشی ہے جس کے غیر مجزوم ہونے پر اجماع ہے۔ اس میں تین تقدیرات ہیں۔ (1) لا تخاف مخاطب سے حال ہو، تقدیر عبارت اس طرح ہو، فاضرب لھم طریقاً فی البحر یبساا، غیر خائف ولا خاش دوسری تقدیر یہ ہے کہ یہ طریق کی صفت ہو کیونکہ یہ یبس پر معطوف ہے جو طریق کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہو لا تخاف فیہ صفت سے ضمیر کو حذف کیا گیا ہو، تیسری تقدیر یہ ہے کہ یہ علیحدہ ہو مبتداء مخذوف کی خببر ہو تقدیر اس طرح ہو وأنت لا تخاف۔
Ayahs 20:78–79اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتبعھم فرعون بجنودہ فرعون نے ان کا پیچھا کیا جبکہ اس کا لشکر اس کے ساتھ تھا، فاتبعھم شد کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، پس بجودہٖ میں بافعل کو مفعول ثانی کی طرف متعدی کرنے کے لیے ہوگی ؛ کیونکہ اتبع ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے یعنی تبعھم لیلحقھم بجنودہ ای مع جنودہ یعنی ان کا پیچھا کیا تاکہ اپنے لشکر کے ساتھ انہیں ملے جیسے کہا جاتا ہے : رکب الامیر بسیفہٖ یعنی مع سیفہٖ اور جس نے باب افعل سے اتبع پڑھا ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اس صورت میں باء کا زائدہ ہونا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ مفعول پر اکتفاء کیا گیا ہو۔ کہا جاتا ہے : تبعہ وأتبعہ، لحقہ اور الحقۃ کا ایک معنی ہے ملنا اور بجنودہ حال واقع ہو رہا ہے گویا فرمایا : فاتبعھم سائقا جنودہ یعنی اپنے لشکر کو چلاتے ہوئے ان کا پیچھا کیا۔ فغشیہم من الیم ما غشیہم، یعنی سمندر کی موجیں لاحق ہوئیں جنہوں نے انہیں غرق کردیا۔ تعظیم اور امر کی معرفت کی وجہ سے فعل کو مکرر ذکر کیا۔ اضل فرعون قومہ وما ھدی۔ یعنی رشد سے فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور خیر اور نجات کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کی، کیونکہ اس نے اندازہ لگایا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی اس سے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ ان کے سمندر ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر عصا مارا تو اس میں بارہ راستے بن گئے اور راستوں سے پانی پہاڑوں کی مثل رک گیا اور سورة شعراء میں ہے : فکان کل فرق کالطود العظیم۔ (الشعرائ) یعنی بہت بڑا پہاڑ۔ ہر قیلہ نے راستہ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پانی کے پہاڑوں کو حکم دیا کہ وہ جال کی طرح ہوجائیں تو وہ جالوں کی طرح ہوگئے۔ وہ ایک دوسرے کی کلام سنتے تھے۔ یہ عظیم معجزات میں سے تھا اور بڑی نشانیوں میں سے تھا۔ جب فرعون آیا اور سمندر میں راستے دیکھے اور پانی کو ٹھہرا ہوا دیکھا تو اس نے اپنے ساتھیوں کو کہا : اس کی ہیبت کی وجہ سے سمندر پارہ پارہ ہوگیا ہے۔ پس فرعون اور اس کے ساتھی داخل ہوگئے تو سمندر ان پر مل گیا۔ بعض علماء نے کہا : وما ھدی یعنی اس نے اپنے آپ کو راہ ہدایت نہ دکھائی بلکہ اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو ہلاک کردیا۔
Ayahs 20:80–82(تفسیر 80-82) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بینی اسرآء یل قد انجینکم من عدوکم جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تو یہ فرمایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ ووعدنکم جانب الطور الایمن، جانب پر نصب، واعدنا کے مفعول ثانی کی ببنا پر ہے اور اسے ظرف کی بنا پر نصب دینا بہتر نہیں کیونکہ یہ ظرف مکاں محض غیر مبہم ہے اور افعال اور مصادر ظروف مکاں کی طرف بغیر حروف جر کے متعدی ہوتے ہیں جبکہ وہ ظروف مبہم ہوں۔ مکی نے کہا : یہ اصل ہے اس میں اختلاف نہیں ہے۔ آیت کی تقدیر یہ ہے : وواعدنا کم اتیان جانب الطور، پھر مضاف کو حذف کیا گیا۔ نحاس نے کہا : اس کا مطلب ہے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ تمہیں اپنے ساتھ نکلنے کا حکم دیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے تمہاری موجودگی میں کلام کریں اور تم بھی اس کلام کو سن لو۔ بعض نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون کے غرق ہونے کے بعد طور کی جانب آنے کا وعدہ لیا تاکہ انہیں تورات عطا کریں پس وعدہ حضرت موسیٰ علیہ السلا کے لیے تھا لیکن خطاب انہیں کیا گیا کیونکہ وعدہ ان کے لیے تھا۔ ابو عمرو نے ووعدناکم بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ابو عبید نے بھی اس کو اختیار کیا ہے کیونکہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تھا اور المواعدہ صرف دو افراد کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ مفہوم سورة بقرہ میں گزر حکا ہے۔ الایمن کو نصب دی گئی ہے کیونکہ یہ جانب کی صفت ہے اور پہاڑ کے لیے کوئی دایاں بایاں نہیں ہوتا جب کہا جاتا ہے : خذ عن یمن الجبل تو اس کا معنی ہوتا ہے تم اپنی دائیں جانب پر پہاڑ کو پکڑو۔ اس وقت پہاڑ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں جانب پر تھا جب وہ ہاں آئے تھے۔ ونزلنا علیکم المن والسلویٰ یعنی تیہ کے صحرا میں ہم نے تم پر من وسلویٰ اتارا۔ اس پر کلام گزر چکی ہے۔ کلوا من طیبت ما رزقنکم یعنی لذیذ رزق سے۔ بعض نے کہا : طیب سے مراد حلال رزق ہے جبکہ آدمی کا اس میں کوئی دخل نہیں ورنہ اس میں شبہ داخل ہوجاتا۔ ولا تطغوا فیہ یعنی خوشحالی اور عافیت تمہیں نافرمانی پر نہ ابھارے، کیونکہ الطیان کا معنی ہوتا ہے ناجائز چیز کی طرف تجاوز کرنا۔ بعض نے کہا : ایک دن اور ایک رات سے زائد کے لیے اس میں سے ذخیرہ نہ کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے جو وہ ذخیرہ کریں ان میں کیڑے پیدا کردیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی کسی کھانے میں کیڑا پیدا نہ ہوتا۔ فیحل علیکم غضبی یعنی تم پر میرا غضب لازم ہوگا اور غضب اترے گا یہ فا کے ساتھ جواب نہی میں منصوب ہے نہی سے مراد ولا تطغوا ہے۔ فیحل علیکم غضبی ومن یحلل علیہ غضبی فقد ھوی، اعمش، یحییٰ بن وثاب اور کسائی نے فیحل میں حاء کے ضمہ کے ساتھ اور من یحلل میں پہلے لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دو لغتیں ہیں۔ ابو عبیدہ وغیرہ نے حکایت کیا ہے : حل یحل کے ضمہ کے ساتھ وقوع کے معنی میں ہوتا ہے اور یحل حاء کے کسرہ کے ساتھ وجوب کے معنی میں ہوتا ہے دونوں معانی متقارب ہیں لیکن کسرہ اولیٰ ہے کیونکہ قراء کا ویحل علیہ عذاب مقیم۔ (الزمر) پر اجماع ہے۔ غضب اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا عقاب، انتقام اور عذاب ہے۔ فقد ھو زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ہلاک ہوا یعنی وہ ہاویہ کی طرف چلا۔ ہاویہ سے مراد دوزخ کی گہرائی ہے۔ ابن المبارک نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں اسماعیل بن عباس نے بتایا انہوں نے فرمایا : ہمیں ثعلبہ بن مسلم نے بیان کیا انہوں نے ایوب بن بشر سے انہوں نے شقی اصبعی سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جہنم میں ایک پہاڑ ہے اسے صعود کہا جاتا ہے، کافر اس پر چڑھنے سے پہلے چالیس سال چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سارھقہ صعوداً ۔ (مدثر) جہنم میں ایک محل ہے جس کو ھویٰ کہا جاتا ہے کافر کو اس کے اوپر سے پھینکا جائے گا پس وہ اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال گرتا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ومن یحلل علیہ غضبی فقد ھوی۔ حدیث ذکر فرمائی جو ہم نے ” التذکرہ “ کتاب میں ذکر کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والخنی لغفار لمن تاب یعنی جس نے شرک سے توبہ کی۔ وامن وعمل صالحا ثم اھتدی۔ یعنی ایمان پر قائم رہا حتیٰ کہ ایمان پر ہی وصال ہوا، یہ سفیان ثوری اور قتادہ وغیرھما کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی ایمان میں شک نہ ہوا، یہ ماوردی اور مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ سہل بن عبداللہ تستری اور حضرت ابن عباس ؓ کا بھی قول ہے کہ جو سنت و جماعت پر قائم رہا، یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ حضرت انس نے کہا : اس نے نبی کریم ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے پکڑا، یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے اور یہ ماوردی نے حضرت ربیع بن انس سے روایت کیا ہے۔ پانچواں قول یہ ہے کہ درست عمل کیا، یہ حضرت ابن زید کا قول ہے۔ حضرت ابن زید سے یہ بھی مروی ہے کہ اس نے علم حاصل کیا تاکہ ہدایت پائے کہ کیسے عمل کرے ؟ پہلا قول مہدوی نے ذکر کیا اور دوسرا قول ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ثعلبی، مقاتل اور کلی نے کہا : اس نے جان لیا کہ اس کے لیے ثواب اور عقاب ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ آٹھواں ول ثم اھتدی پھر اہل بیت نبی ﷺ کی ولایت میں ہدایت پائی ؛ یہ ثابت بنانی کا قول ہے۔ پہلا قول تمام اقوال سے احسن ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ تمام اقوال کا مرجع وہی ہے۔ وکیع نے سفیان سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں سنتے ہیں وانی لغفار لمن تاب یعنی جس نے شرک سے توبہ کی امن یعنی شرک کے بعد ایمان لایا وعمل صالحاً نماز پڑھی اور روزہ رکھا ثم اھتدی پھر اسی پر فوت ہوا۔
Ayahs 20:83–84(تفسیر 82-89) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما اعجلک عن قومک یموسیٰ ۔ تجھے کس چیز نے ابھارا کہ تم اپنی قوم سے پہلے آگئے ؟ بعض علماء نے فرمایا : قوم سے مراد تمام بنی اسرائیل ہیں اس وجہ سے بعض علماء نے فرمایا : حضرت ہارون کو بنی اسرائیل پر خلیفہ بنایا تھا اور خود ستر آدمیوں کے ہمراہ چل رہے تھے اور آپکی طرف متوجہ تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ میرے قریب میری واپسی کے منتظر ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون علیہ السللام کو اپنے پیچھے بنی اسرائیل کو لانے کا حکم دیا اور ان سے ملنے کا حکم دیا۔ بعض علماء نے فرمایا : قوم سے مراد وہ ستر افراد ہیں جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے منتخب فرمایا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب طور کے قریب تھے تو کلام الٰہی کے سننے کے شوق میں سبقت لے گئے۔ بعض نے کہا : جب طور سینا کی طرف چلے تو اپنیرب کا اشتیاق ہوا اور شوق الٰہی میں مسافت لمبی ہوگئی اور معاملہ انتہائی تنگ ہوگیا حتیٰ کہ آپ نے اپنی قمیض پھاڑ دی پھر آپ صبر نہ کرسکے حتیٰ کہ قوم کو پیچھے چھوڑ گئے اور اکیلے چلے گئے جب اپنے مقام پر کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وما اعجلک عن قومک یموسیٰ ۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حیرانگی کے عالم میں کوئی جواب نہ دے سکے چونکہ سچے شوق سے استقبال کیا تھا تو جواب سے اعراض کیا اور کنایتہ کہا : ھم اولاء علی اثری۔ ما کے کلمہ کے ساتھ جلدی آنھے کا سبب پوچھا تو انہوں نے پیچھے آنے کی خبر دی پھر عرض کی : وعجلت الیک رب لترضیٰ ۔ شوق کے ذکر سے کنایہ فرمایا اور رضا کی طلب کی طرف کلام کو پھیرا۔ عبدالرزاق نے معمر سے انہوں نے قتادہ سے وعجلت الیک رب لترضیٰ ۔ کے تحت روایت کیا کہ تیرا شرق مجھے جلدی لے آیا۔ حضرت عائشہ ؓ جب اپنے بستر پر آتی تھیں تو کہتی تھی : مجید (عزت والے) کو لے آئو پس پر قرآن کریم لایا جاتا وہ اسے اپنے سینے سے لگا لیتیں اور اس سے تسلی لیتی ہوئے سو جاتی تھیں، سفیان نے مسعر سے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ جب بارش ہوتی تھی تو نبی کریم ﷺ اپنے کپڑے اتار دیتے تھے تاکہ جسم پر بارش لگے اور فرماتے تھے : انہ حدیث عھد بربی (1) (یہ میرے رب کا قریبی عہد ہے) یہ نبی پاک ﷺ کی طرف سے اور آپ کے بعد والوں کی طرف سے شوق و محبت کی وجہ سے تھا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے جو مروی ہے اس میں فرمایا : ” میری ملاقات کا شوق نیکو کاروں کے لیے طویل ہوا اور میں ان کی ملاقات کا شوق رکھتا ہوں “ (2) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن پھر فرمایا : ما اعجلک عن قومک، تو یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر رحمت ہے اس قول سے انہیں عزت بخشا اور ان کے دل کو تسلی دینا اور ان پر شفقت کرنا مقصود تھا، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو جواب دیتے ہوئے کہا : ھم اولاء علی اثری۔ ابو حاتم نے کہا : عیسیٰ نے کہا بنو تمیم کہتے ہیں : ھم اولیٰ یعنی مقصورہ مرسلہ پڑھتے ہیں اور اہل حجاز اولاء مد کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ فراء نے : ھم اولاء علی اثری حکایت کیا ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : اس کی کوئی وجہ نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ اسی طرح ہے جس طرح زجاج نے کہا ہے کیونکہ یہ ان اسماء سے نہیں یہ مضاف ہوتے ہیں تاکہ یہ ھدی کی طرح ہو، یہ دو جہتوں میں سے ایک سے خالی نہیں یا یہ اسم مبہم ہوگا تو اس کی اضافت محال ہے یا یہ الذین کے معنی میں ہوگا تو یہ بھی مضاف نہیں ہوتا کیونکہ اس کے بعد صلہ ہوتا ہے اور اس سے یہ معرفہ بن جاتا ہے۔ ابن ابی اسحاق، نصر، رویس نے یعقوب سے روایت کیا ہے : علی اثری، ہمزہ کے کسرہ اور ثاء کے سکون کے ساتھ یہ بمعنی اثر ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ وعجلت الیک رب الترضیٰ ۔ یعنی میں نے اس جگہ کی طرف جلدی کی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا تاکہ تو مجھ سے راضی ہوجائے۔ کہا جاتا ہے : رجل عجل وعجل وعجول وعجلاًن بین العجلۃ اور سستی کی ضد عجلۃ ہے۔
Ayahs 20:85–89اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانا قد فتنا قومک میں بعدک ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدلال کریں۔ واضلھم السامری۔ سامری نے انہیں گمراہی کی طرف بلایا یا سامری ان کی گمراہی کا سبب تھا۔ بعض نے فرمایا : فتناھم کا مطلب ہے ہم نے انہیں فتنہ میں ڈالا یعنی ہم نے ان کے بچھڑے کی عببادت کو مزیت کردیا۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : ان ھی الا فتنتک (الاعراف : 155) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سامری اس قوم سے تھا جو گائے کی پوجا کرتے تھے پس وہ مصر میں آیا تو وہ بظاہر بنی اسرائیل کے دین میں داخل ہوگیا اور اس کے دل میں گائے ہوگیا اور اس کے دل میں گائے کی عبادت کا عقیدہ موجود تھا۔ بعض علماء نے کہا : وہ قبطی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پڑوسی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا اور آپ کے ساتھ نکلا تھا۔ بعض نے کہا : وہ بنی اسرائیل کے عظماء میں سے ایک عظیم شخص تھا اس قبیلہ سے تھا جو سامرہ کے نام سے مشہور تھا وہ شام میں معروف تھا۔ سعید بن جبیر نے کہا : وہ اہ لکر مان سے تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرجع موسیٰ الی قومہ غضبان اسفاً سورة الاعراف میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ قال یقوم الم یعدکم ربکم وعداً حسنا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ جب وہ اس کی اطاعت پر قائم رہیں گے تو انہیں جنت ملے گی اور ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ کہ وہ انہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر تورات میں اپنا کلام سنائے گا تاکہ وہ اس پر عمل کریں جو کچھ تورات میں موجود ہے اور وہ اپنے عمل کے ثوابب کے مستحق ہوجائیں۔ بعض علما ئنے فرمایا : ان سے نصرت و کامیابی کا وعدہ فرمایا تھا۔ بعض نے کہا : یہ وعدہ تھا، وانی لغفار لمن تاب وامن، افطال علیکم العھد یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو بھول گئے۔ کہا جاتا ہے : زمانہ کے لمبا ہوجانے کی وجہ سے چیز بھول جاتی ہے۔ لام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم، یحل کا، معنی یجب اور ینزل (ثابت ہونا اور ترنا) ہے الغضب سے مراد عقوبت و نقمت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تم ایسا فعل کرو جو تم پر اللہ کے غضب کے نزول کا سبب ہو کیونکہ کوئی شخص اللہ کا غضب طلب نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا فعل کرتا ہے جو غضب کا سبب ہوتا ہے۔ فاخلفتم موعدی تم نے میرے عہد کو توڑا کیونکہ انہوں کے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں گے حتیٰ کہ وہ طور سے ہو کر ان کے پاس واپس آجائیں۔ بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے اپنے پیچھے رہنے کا ان سے وعدہ لیا تھا پس وہ ٹھہرے رہے۔ قالوا ما اخلقنا موعدک بملکنا، بملکنا میم کے فتحہ کے ساتھ ہے یہ نافع، عاصم اور عیسیٰ بن عمر کی قرأت ہے۔ مجاہد اور سدی نے کہا : اس کا معنی ہے بطاقتنا (اپنی طاقت سے) ابن زید نے کہا : اس کا مطلب ہے ہمیں اپنے نفسوں پر ضبط نہ تھا ہم مجببور تھے۔ ابن کثیر، ابو عمرو اور اببن عامر نے بملکنا میم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ؛ ابو عبید اور ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے کیونکہ یہ لغت عالیہ ہے۔ یہ ملکت الشی امل کہ ملکاً کا مصدر ہے۔ اور مصدر فاعل کی طرف مضاف ہے اور مفعول محذوف ہے گویا فرمایا : بملکنا الصواب بل اخطانا، یہ ان کی طرف سے خطا کا اعتراف ہے۔ حمزہ، کسائی نے یملکنا میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی بسلطاننا ہمارے پاس ملک نہ تھا پس ہم نے تیرے وعدہ کی خلاف ورزی کی پھر کہا گیا کہ قالوا عام ہے اور مراد خاص ہے یعنی ان لوگوں نے کہا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طور سے لوٹنے تک اطاعت پر ثابت رہے تھے۔ اخلفنا موعدک بملکنا یہ بارہ ہزار تھے اور تمام نبی اسرائیل چھ لاکھ تھے۔ ولکنا حملنا حاء کے ضمہ اور میم کے مک سورة مشددہ کے ساتھ۔ نافع، ابن کثیر، حفص اور رویسنے اس طرح پڑھا ہے۔ باقی قراء نے دونوں حروف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اس کو اختیار کیا ہے کیونکہ انہوں نے خود قوم کے زیورات اٹھائے تھے اور انہوں نے یہ مجبوراً نہیں اٹھائے تھے۔ اوزاراً یعنی بوجھ، من زینۃ القوم یعنی ان کے زیوروں سے وہ انہوں نے عاریۃ لیے تھے جنہوں نے حضرت موسیٰٖ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلنے کا ارادہ کیا تھا اور قوم والوں کو یہ وہم دلایا کہ وہ اپنی عید یا ولیمہ کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ وہ زیورات تھے جو انہوں نے آل فرعون سے لیے تھے جب دریا نے انہیں ساحل پر پھینک دیا تھا ان کو اوزار اس لیے کہا کیونکہ وہ گناہ کا سبب تھے یعنی ان کے لیے ان کا اٹھانا جائز نہیں تھا اور نہ ان کے لیے غنائم حلال تھے اور لغت میں اوزار کا معنی بوجھ بھی ہے۔
فقذفنھا ہم پر ان زیوررات کو اٹھانا بوجھ بن گیا تھا جو ہمارے ساتھ تھے تو ہم نے انہیں آگ میں ڈال دیا تاکہ وہ پگھل جائیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے سامری کی طرف انہیں پھینک دیا تاکہ آپ واپس آئیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں۔ قتادہ نے کہا : سامری نے انہیں کہا تھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے پاس نہ پہنچے کہ وہ تم سے اس وجہ سے رک گئے ہیں کیونکہ تمہارے پاس زیورات ہیں، پس انہوں نے زیورات کو جمع کیا اور سامری کو دے دئیے اس نے انہیں آگ میں پھینک دیا اور پھر اس سے ان کے لیے ایک بچھڑا بنایا پھر اسپر جبریل کے گھوڑے کے پائوں کے نیچے سے جو مٹی اٹھائی تھی وہ اس پر ڈال دی جب اس نے وہ مٹی ڈالی تو وہ بچھڑے کا جسم بن گیا جو ڈکارتا تھا۔ الخوار گائے کی آواز کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب وہ زیور آگ میں ڈالے گئے تو سامری آیا اور حضرت ہارون علیہ السللام سے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا میں ڈالوں جو میرے ہاتھ میں ہے۔ وہ گمان کررہا تھا کہ وہ زیورات میں سے ہے جو دوسرے لے کر آئے ہیں۔ پس اس نے اس میں مٹی ڈالی اور کہا : بچھڑا بن جا جس کے لیے ڈکار نے کی آواز ہو جیسا کہ فرمایا کہ یہ فتنہ اور آزمائش کے لیے تھا۔ پس وہ ایک مرتبہ ڈکارا تھا پھر اس کی مثل نہیں ڈکارا تھا ( ظ) بعض نے کہا : اس کی آواز ہوا کی وجہ سے تھی کیونکہ اس میں سوراخ بنائے گئے تھے جب اس کے اندر ہوا داخل ہوتی تو اس میں آواز پیدا ہوتی۔ حقیقۃًاس میں زندگی نہیں تھی ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ پہلے قول کی ئنا پر وہ بچھرا گوشت اور خون کا تھا ؛ یہ حسن، قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ حماد نے سماک سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : حضرت ہارون سامری کے پاس سے گزرے وہ بچھڑا بنارہا تھا حضرت ہارون نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : یہ نفع دے گا نقصان نہیں دے گا۔ حضرت ہارون نے دعا کی : یا اللہ ! اسے وہ عطا کر جو یہ تجھ سے آپ کے بارے سوال کرے تو سامری نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ یہ گائے کی طرح آواز نکالے۔ وہ جب ڈکارتا تھا تو لوگ سجدہ میں گر جاتے تھے اور اس کا ڈکارنا حضرت ہارون کی دعا کے سبب تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اس طرح ڈکارتا تھا جس طرح زندہ بچھڑا ڈکارتا ہے۔ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : یا رب ! اس سامری نے ان کے لیے ایک جسم والا بچھڑا نکالا ہے جس کے لیے ڈکارنا ہے اور وہ اس نے ان کے زیورات سے بنایا ہے یہ جسم اور ڈکارنا کس نے بنایا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : تیری عزت، تیرے جلال، تیرے ارتفاع، تیرے علو اور تیری سلطنت کی قسم ! تیرے سوا کسی نے ان کے حق میں گمراہی کو مقدر نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے حکیم الحکمائ ! تو نے سچ کہا ہے۔ یہ تما سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔
فقالوا ھذا الھکم والہ موسیٰ سامری اور اس کے ساتھیوں نے یہ کہا وہ تشبیہ کے عقیدہ کی طرف مائل تھے کیونکہ انہوں نے کہا : اجعل لنا الھاکمالھم الھۃ (الاعراف :138) ہمارے لیے ایسا الہ بنا جس طرح ان کے لیے الہ ہیں۔ فنسی یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گم ہوگئے۔ وہ اپنے رب کو تلاش کرنے کے لیے گئے تو وہ اس کا مقام نہ جان سکے اور راستہ جو رب کی طرف جانے والا تھا اسے بھول گئے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے وہاں چھوڑا اور اسے تلاش کرنے کے لیے نکلے یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے الہ کو یہاں چھوڑا۔ اسرائیل نے سماک سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : اس کا مطلب ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے لیے یہ ذکر کرنا بھول گئے کہ یہ خدا ہے۔ بعض نے کہا : خطاب سامری کے متعلق خبر ہے یعنی سامری نے اس ایمان کو چھوڑا جس کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے حکم دیا تھا۔ پس وہ گمراہ ہوگیا، یہ ابن الاعرابی کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا : افلا یرون یعنی وہ اس میں غور فکر نہیں کرتے کہ وہ ان کی طرف بات کو نہیں لوٹاتا یعنی ان سے کلام نہیں کرتا۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ دوبارہ آواز نہیں نکالتا۔ ولا یملک لھم ضرا ولا نفعا۔ اور وہ ان کے نقصان اور نفع کا مالک نہیں پھر وہ کیسے خدا ہو سکتا ہے۔ اور وہ ذات جس کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عبادت کرتے ہیں وہ نقصان بھی دیتا ہے اور نفع بھیدیتا ہے، بدلہ بھی دیتا ہے، عطا بھی کرتا ہے اور منع بھی کرتا ہے۔ الا یرجع اس کی تقدیر یہ ہے کہ : انہ لا لرجع اسی وجہ سے فعل مرفوع ہے ان کو مخففہ بنایا گیا اور ضمیر کو حذف کیا گیا۔ رویت، علم اور ظن میں یہی اختیار ہے۔ شاعر نے کہا :
فی فتیۃ من سیوف الھند قد علموا ان ھالک کل من یحفی وینتعل
فلو کنت صبنا عرفت قرابتی ولکن زنجی عظیم المشافر
یعنی لکنک تھا۔