20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 20:14–16

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بیشک میں خدا ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز پڑھا کرو

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت یقینا آنے والی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلہ پائے

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوٰۃ لذکری۔ اس میں سات مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ لذکری کی تاویل میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ احتمال ہے کہ یہ مراد ہو کہ تو مجھے نماز میں ذکر کرے یا مراد ہے کہ میں اس نماز کی وجہ سے علیین میں مدح کے ساتھ تیرا ذکر کروں۔ اس بنا پر مصدر فاعل یا مفعول کی طرف مضاف ہونے کا اچتمال رکھتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے توحید کے بعد نماز پر استقامت اختیار کر۔ یہ نماز کی قدر کی عظمت پر تنبیہ ہے کیونکہ نماز اللہ کی بارگاہ میں تضرع ہے اور اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس بنا پر نماز ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ذکر کا نام دیا ہے جب تو بھول جائے پھر تجھے یاد آئے تو نماز پڑھ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے : فلیصلھا اذا ذکرھا تو نماز پڑھ جب تجھے یاد آئے یعنی بھولنے کی وجہ سے نماز ساقط نہ کر۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ امام مالک وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب اسے نماز یاد آئے تو اسے ادا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واقم الصلوٰۃ لذکری “ ابو محمد عببدالغنی بن سعید نے حجاج بن حجاج کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ پہلا حجاج و کہ ہے جس سے یزید بن زریع نے روایت کیا ہے فرمایا ہمیں قتادہ نے بتایا انہوں نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے فرمایا : نبی پاک ﷺ سے اس شخص کے بارے پوچھا گیا جو نماز کے وقت میں سویا رہا اور اس سے غافل ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس نماز کو ادا کرے جب اسے یاد آئے “ (1) ۔ ابراہیم بن طہمان نے حجاج سے روایت کرنے میں اس کی متابعت کی ہے، اسی طرح ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا فرمایا : جو نماز بھول جائے تو اس کا وقت وہ ہے جب اسے یاد آئے “ (2) ۔ پس فلیصلھا إذا ذکرھا کا قول دلیل ہے کہ سو جانے والے اور غافل پر قصا واجب ہے خواہ نمازیں (جو قضاء ہوئیں) زیادہ ہوں یا کم ہوں۔ یہ عام علماء کا مذہب ہے اور ایک شاذ قول غیر معتدبہ اس کے مخالف بھی حکایت کیا گیا ہے کیونکہ یہ حدیث کی نص کے مخالف ہے وہ یہ ہے کہ بعض علماء سے مروی ہے کہ پانچ نمازوں سے زائد ہوجائیں تو قضاء لازم نہیں۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے نماز کا قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور اوقات معینہ پر نص موجود ہے فرمایا : اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس (بنی اسرائیل :78) اس کے علاوہ بھی نصوص موجود ہیں اور جس نے دن کی نماز کو رات کے وقت ادا کیا یا رات کی نماز کو دن کے وقت ادا کیا تو اس کا فعل اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نہ ہوگا اور نہ اسے اس فعل پر ثواب ملے گا بلکہ وہ گنہگار ہوگا۔ اس تعریف پر جو نماز فوت ہوجائے اس کی قضا واجب نہیں اگر نبی پاک ﷺ کا یہ ارشاد نہ ہوتا : من نام عن صلاۃ أو نسیھا فلیصلھا اذا ذکرھا تو کوئی شخص اپنی اس نماز سے نفع حاصل کرنے والا نہ ہوتا جو غیرت میں ادا کی جاتی اس اعتبار سے وہ قضا ہوگی ادا نہ ہوگی کیونکہ قضا نئے حکم کے ساتھ ہے نہ کہ پہلے امر کے ساتھ۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ جس نے جان بوجھ کر نماز کو ترک کردیا اس کے متعلق جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ اس پر قضا کرنا واجب ہے اگرچہ وہ گنہگار ہوگا مگر دائود کا قول اس کے مخالف ہے۔ ابو عبدالرحمن اشعری شافعی نے دائود کی موافقت کی ہے اس سے یہ قول ابن القصار نے حکایت کیا ہے اور جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والے، بھولنے والے اور سونے والے کے درمیان فرق گناہ کا نہ ہونا جان بوجھ کر ترک کرنے والا گنہگار ہوگا لیکن تمام قضا کریں گے۔ اور جمہور علماء کے قول کی حجت یہ ارشاد ہے : و اقیموا الصلوٰۃ (البقرہ :43) اس میں کوئی تفریق نہیں وہ وقت میں ہو یا وقت کے بعد ہو یہ امر کا صیغہ ہے جو وجوب کا تقاضا کرتا ہے۔ اس طرح سونے والے اور بھولنے والے کی قضا کا امر ثابت ہے لیکن وہ گنہگار ہوگا پس جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کے لیے نماز کا قضا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : من نام عن صلاۃ او نسیھا اس میں نسیان بمعنی ترک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نسوا اللہ فنسیھم (التوبہ :67) نسوا اللہ فانسھم انفسھم (الحشر :19) ۔ خواہ یہ نسیان ذہول سے ہو یا بغیرذ ہول کے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے اس لیے اس کا معنی ہے اس نے انہیں چھوڑ دیا۔ ماننسخ من ایۃ او ننسھا (البقرۃ : 106) اس آیت میں بھی ننسھا کا معنی نترکھا ہے اسی طرح ذکر نسیان اور اس کے علاوہ صورت کے بعد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ من ذکرنی فی نفسہ ذکرتہ فی نفسی، جس نے مجھے اپنے دل میں یاد کیا میں نے اسے یاد کیا۔ اللہ تعالیٰ نسیان سے پاک ہے اس لیے اس کا یاد کرنا نسیان کے بعد نہیں ہوتا اس کا معنی ہے علمت، پس اذا ذکرھا کا معنی ہوگا جب وہ اسے جان لے۔ نیز انسان کا وہ قرض جو وقت کے متعلق ہوتا ہے پھر وہ وقت آجاتا ہے تو اس کے وجوب کے بعد اس کی قضا ساقط نہیں ہوتی (جب وہ ادا نہ کرلے) اور ابرا (بری کرنا) ہی ان کو ساقط کرنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے قرض میں بھی یہی ہوگا کہ ان میں اببرا صحیح نہیں ہوگا اور ان کی قضا ساقط نہ ہوگی مگر اس کے اذان سے۔ نیز جہاں تک ہمارا تعلق ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان کا ایک روزہ ترک کر دے اور جان بوجھ کر بغیر عذر کے ترک کر دے تو اس کی قضا واجب ہے، اسی طرح نماز کی قضا بھی واجب ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ امام مالک سے مروی ہے : جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی وہ کبھی اسے قضا نہیں کرسکے گا۔ یہ اشارہ ہے کہ گزشتہ نماز کا اعادہ نہیں کرسکے گا یا یہ بطور سختی کلام فرمائی ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جس نے جان بوجھ کر رمضان کا روزہ افطار کیا پوری زندگی کے روزے بھی اس کا کفارہ نہ ہوں گے اگرچہ وہ روزہ رکھ بھی لے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادا کے قائم مقام قضا کے ذریعے حکم کو پورا کرنا اور توبہ بھی کرنا ضروری ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ جو چاہے گا کرے گا۔ ابو المطوس نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جس نے ایک دن رمضان کا روزہ جان بوجھ کر ترک کیا پوری زندگی کے روزے اس کو پورا نہیں کریں گے، اگرچہ وہ اسے رکھ بھی لے “ (1) ۔ یہ بھی احتمال رکھتا ہے کہ اس کا معنی تغلیظ ہو (اگر یہ حدیث صحیح ہو) یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابو دائود نے اس کو تخریج کیا ہے۔ احادیث صحیح میں کفارہکا ذکر موجود ہے اور بعض میں اس دن کی قضا کا ذکر ہے۔ الحمد للہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد : من نام عن صلاۃ ائونسیھا (2) نبی کریم ﷺ کے ارشاد : رفع القلم عن ثلاثۃ عن النائم حتی یستیقظ (3) کے عموم کی تخصیص کرتا ہے اور یہاں رفع سے مراد گناہ کا اٹھنا ہے نہ کہ فرض کا اٹھنا یہ اس قول سے نہیں ہے۔ عن الصبی حتی یحتلم بچے مکلف نہیں ہے حتیٰ کہ بالغ ہوجائے۔ اگرچہ یہ دونوں حکم ایک حدیث میں آئے ہیں پس اس اصل پر آگاہی حاصل کر۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اس معنی میں علماء کا اختلاف ہے جسے فوت شدہ نماز یاد آئے جبکہ وہ نماز کے آخری وقت میں ہو یا وہ نماز میں ہو۔ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ جسے نماز یاد آئے جبکہ دوسری نماز کا وقت ہوچکا ہو تو پہلے وہ نماز پڑھے جو وہ بھول گیا تھا۔ قضا شدہ نمازیں پانچ ہوں یا اس سے کم ہوں اگرچہ اس نماز کا وقت فوت بھی ہوجائے اور اگر پانچ نمازوں سے زیادہ ہوں تو پہلے وقتی نماز کو پڑھے۔ امام ابو حنیفہ، ثوری اور لیث کا مذہب بھی یہی ہے مگر امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں : ہمارے نزدیک ایک دن اور ایک رات کی نمازوں میں ترتیب واجب ہے جب فوت شدہ نماز اور وقتی نماز کے لیے وقت میں وسعت ہو اور اگر وقتی نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو پہلے وقتی نماز ادا کرے اور اگر پانچ نمازوں سے زیادہ نمازیں قضا ہوجائیں تو ان کے نزدیک ترتیب واجب نہیں ہوتی۔ ثوری سے ترتیب کا وجوب مروی ہے انہوں نے قلیل اور کثیر میں کوئی فرق نہیں کیا۔ یہ امام شافعی کے مذہب کا حاصل ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : فوت شدہ کو پہلے پڑھے جب تک وقتی نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اگر وہ ایسا نہ کرے اور وقتی نماز پہلے پڑھ لے تو بھی انہوں نے جائز قرار دیا ہے۔ اثرم نے ذکر کیا ہے کہ امام احمد کے نزدیک ساٹھ سال کی نمازوں اور اس سے زائد نمازوں میں بھی ترتیب وابج ہے انہوں نے فرمایا : کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ نماز پڑھے جبکہ اسے اس سے پہلے والی فوت شدہ نماز یاد ہو کیونکہ یہ نماز اس پر فاسد ہوگی۔ دارقطنی نے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنی فوت شدہ نماز کو یاد کرلے جبکہ وہ نماز میں ہو تو اس سے آغاز کرے جس میں وہ مشغول تھا جب اس سے فارغ ہوجائے تو وہ نماز پڑھے جو بھول گیا تھا “ اس کی سند میں عمر بن ابی عمر مجہول ہے۔ میں کہتا ہوں : اگر یہ صحیح ہوتی تو امام شافعی کے قول کے لیے حجت ہوتی کہ وقتی نماز کو پہلے پڑھے۔ صحیح وہ ہے جو اہل صحیح نے حضرت جاببر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ جنگ خندق کے دن کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ کی قسم ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ سورج غرب ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں نے بھی نماز عصر نہیں پڑھی ہے۔ “ پھر ہم بطحان کے مقام پر اترے نبی پاک ﷺ نے وضو فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں نے بھی نماز عصر نہیں پڑھی ہے۔ “ پھر ہم بطحان کے مقام پر اترے نبی پاک ﷺ نے وضو فرمایا اور ہم نے بھی وضو کیا۔ پھر نبی پاک ﷺ نے سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی پھر مغرب کی نماز پڑھی۔ یہ نص ہے کہ پہلے فوت شدہ نماز پڑھے پھر وقتی نماز پڑھے، خصوصاً مغربب کی نماز اس کا وقت تنگ ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک مشہور مذہب میں اسکا وقت ممتد نہیں ہوتا۔ امام شافعی کے نزدیک بھی یہی ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ امام ترمذی نے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ مشرکین نے نبی پاک ﷺ کو خندق کے روز چار نمازوں سے مشغول کیا حتیٰ کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ آپ ﷺ نے حضرت بلال کو اذان دینے دینے کا حکم دیا۔ حضرت اٹھے اور آذان دی پھر اقامت کہی۔ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی پھر اقامت ہوئی اور عصر کی نماز پڑھی پھر اقامت ہوئی اور مغرب کی نماز پڑھی پھر اقامت ہوئی اور عشاء کی نماز پڑھی (1) ۔ اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ جس کی بہت سی نمازیں فوت ہوجائیں وہ اس ترتیب سے قضا کرے جس طرح فوت ہوئی تھیں جب اسی ایک وقت میں یاد آجائیں۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے جب فوت شدہ نماز اس وقت یاد آجائے جبکہ وقتی نماز کا وقت تنگ ہو۔ علماء کے تین اقوال ہیں۔ (1) پہلے فوت شدہ نماز ادا کرے اگرچہ وقتی نماز کا وقت نکل بھی جائے، یہ امام مالک، لیث اور زہری وغیر ہم کا قول جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ (2) پہلے وقتی نماز پڑھے یہ حسن، شافعی اور اصحاب الحدیث کے فقہائ، محاسبی، ابن وہب مالکی کا قول ہے۔ (3) اسے اختیار ہے جو چاہے پہلے پڑھ لے، یہ اشہب کا قول ہے۔ پہلی وجہ نماز کی کثرت ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ زیادہ نمازیں ہوں تو وقتی نماز کو پہلے پڑھے ؛ یہ قاضی عیاض کا قول ہے۔ اور تھوڑی مقدار میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک سے مروی ہے کہ وہ پانچ اور اس سے کم نہیں۔ بعض نے فرمایا : چار اور اس سے کم ہیں۔ یہ حضرت جابر کی حدیث کی ویہ سے ہے اور چھ کے کثیر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ رہا وہ شخص جس کو نماز یاد آجائے جبکہ وہ نماز میں ہوا گروہ امام کے پیچھے ہو تو جو ترتیب کے وجوب کا قول کرتے ہیں اور جو وجوب ترتیب کا قول نہیں کرتے سبب کے نزدیک یہ ہے کہ وہ امام کے ساتھ نماز جاری رکھے حتیٰ کہ اپنی نماز مکمل کرلے۔ اس میں اصل وہ حدیث ہے جو امام مالک اور دارقطنی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے فرمایا : جو تم میں سے کوئی نماز بھول جائے اور اسے یاد نہ آئے مگر جب وہ امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ امام کے ساتھ نماز پڑھے جب اس نماز سے فارغ ہو تو وہ نماز پڑھے جو وہ بھول چکا تھا پھر دوبارہ وہ نماز پڑھے جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی تھی۔ دارقطنی کا لفظ ہے۔ موسیٰ بن ہارون نے کہا ہمیں ابو ابراہیم ترجمانی نے بیان کیا فرمایا ہمیں سعید نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ تک پہنچایا اور مرفوع روایت میں ان کا وہم ہے۔ اگر انہوں نے اس کے رفع سے رجوع کرلیا ہے تو اس نے صواب کی موافقت کی ہے۔ پھر علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل نے کہا : پہلے فوت شدہ نماز پڑھے پھر وہ نماز پڑھے جو امام کے ساتھ بڑھی مگر یہ کہ ان دونوں نمازوں کے درمیان پانچ نمازوں سے زیادہ ہوں جیسا کہ کو فیوں سے پہلے روایت کیا گیا ہے۔ یہ امام مالک کے مدنی اصحاب کا مذہب ہے۔ خرقی نے امام احمد بن حنبل سے روایت کیا ہے فرمایا : جسے فوت شدہ نماز یاد آئے جبکہ وقت میں وسعت ہو اگر اسے وقت کے نکلنے کا اندیشہ ہو اور وہ نماز میں یہ اعتقاد رکھے کہ وہ اس کا اعادہ نہیں کرے گا تو اس کی وہ نماز جائز ہوجائے گی تو پھر وہ قضا نماز ادا کرے۔ امام مالک نے فرمایا : جس کو نماز یاد آئے جبکہ وہ نماز ہو اور دو رکعتیں پڑھ چکا ہو تو دو رکعتوں پر سلام پھیر دے۔ اگر وہ امام ہو تو اس کی اور مقتدیوں کی نماز باطل ہوجائے گی ؛ یہ امام مالک کا ظاہر مذہب ہے لیکن امام مالک کے اصحاب میں سے اہل نظر کا نظریہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ ان کا قول اس شخص کے بارے میں جسے نماز میں فوت شدہ نماز یاد آئی جبکہ وہ ایک رکعت پڑھ چکا تھا تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے اور سلام پھیر دے وہ نماز نفل ہوجائے گی فاسد نہ ہوگی۔ اگر وہ نماز ٹوٹ جاتی اور باطل ہوجاتی تو اسے دوسری رکعت ملانے کا حکم نہ دیا جاتا جیسا کہ اگر ایک رکعت میں حدث لاحق ہوجائے تو دوسری رکعت اس کے ساتھ نہیں ملائے گا۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ امام مسلم نے ابو قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا حدیث المیضات طویل ذکر کی اس میں فرمایا : امالکم فی اسوہ، کیا تمہارے لیے میری ذات میں اسوہ نہیں ہے۔ پھر فرمایا : ” سونے کی صورت میں تفریط (کوتاہی) نہیں ہے کوتاہی تو اس پر ہے جس نے نماز نہ پڑھی حتیٰ کہ دوسری نماز کا وقت آگیا جس نے ایسا کیا وہ نماز پڑھے جب بیدار ہو جب دوسرا دن ہوجائے تو اس کو اس کے وقت میں ادا کرے “ اس حدیث کو دارقطنی نے ذکر کیا ہے اسی طرح مسلم کے الفاظ کے برابر ہے۔ پس اس کا ظہار دو مرتبہ اعادہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کی یاد کے وقت اور آنے والے میں اس کی مثل نماز کی ادائیگی کے وقت اس کی تائید وہ حدیث بھی کرتی ہے جو ابو دائود نے عمران بن حصین کی حدیث سے نقل کی ہے اور انہوں نے واقعہ ذکر کیا ہے اور اس کے آخر میں ہے : ” تم میں سے جو دوسرے دن صبح کی نماز کو پائے تو وہ اس کے ساتھ اس کثی مثل ادا کرے۔ “ (1) میں کہتا ہوں : یہ اپنے ظاہر پر نہیں ہے ایک مرتبہ اعادہ کیا جائے گا کیونکہ دارقطنی نے عمران بن حصین سے روایت کیا ہے فرمایا : ہم ایک شخص گھبرا کر اٹھا جب نبی پاک ﷺ بیدار ہوئے تو ہمیں وہاں سے چلنے کا حکم دیا پھر ہم چلتے رہے حتیٰ کہ سورج بلند ہوگیا لوگوں نے قضاء حاجت کی پھر حضرت بلال کو اقامت کہنے کا حکم دیا پھر ہم نے صبح کی نماز پڑھی ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا ہم کل ان دو رکعتوں کو ان کے وقت میں ادا نہیں کریں گے۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ تمہیں ربا (سود) سے منع کرتا ہے اور تم سے وہ (سود) قبول کرے گا۔ خطابی نے کہا : میں کسی کو نہیں جانتا جس نے وجوبی طور پر یہ کہا ہو مناسب یہی ہے کہ یہ امر استحبباب کے لیے ہوتا کہ قضا میں وقت کی فضیلت کا خیال رکھا جائے۔ صحیح یہ ہے کہ اس پر عمل متروک ہے کیونکہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ تمہیں سود سے منع کرتا ہے تم سے وہ قبول کرے گا “ (2) صحاح کے طرق جو عمران بن حصین کی حدیث کے ہیں ان میں اس زیادتی میں سے کچھ بھی نہیں ہے مگر جو ابو قتادہ کی حدیث سے ذکر کیا گیا ہے وہ محتمل ہے جیسا کہ ہم نے اس کو بیان کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : الکیاطبری نے (احکام القرآن) میں ذکر کیا ہے کہ سلف میں سے ایسے بھی ہیں جو نبی کریم ﷺ کے ارشاد : من نسی صلاۃ فلیصلھا اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا إلا ذالک کی مخالفت کی ہے انہوں نے کہا : اس کے وقت کی مثل تک صبر کرے پھر نماز پڑھے اور جب صبح کی نماز فوت ہوجائے تو اسے دوسرے دن صبح ادا کرے، یہ شاذ قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الساعۃ اتیہ اکاد اخفیھا لتجزی کل نفس بما تسعیٰ ۔ یہ مشکل آیت ہے۔ سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ انہوں نے اکادا خفیھا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فرمایا : اس کا معنی ہے ظاہر کرنا۔ لتجزی جزا کے لیے اظہار کرنا۔ اس کو ابو عبید نے کسائی سے روایت کیا ہے انہوں نے محمد بن سہل سے انہوں نے ورقاء بن ایاس سے انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا : اس حدیث کا اس طریق کے علاوہ کوئی طریق نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : ابوبکر انباری نے کتاب الرد میں روایت کیا ہے : حدثنی ابی حدثنا محمد بن الجھم الفراء حدثنا الکسائی، حدثنا عبد اللہ بن ناجیہ حدثنا یوسف حدثنا یحییٰ الحمانی حدثنا محمد بن سہل، نحاس نے کہا : اس سند سے عمدہ وہ ہے جو یحییٰ القطان نے ثوری سے انہوں نے سائب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اکاداُخفیھا ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ میں کہتا ہوں : ابن جبیر کی قرأت، اخفیھا ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ مذکورہ سند کے ساتھ ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : فراء نے کہا اس کا معنی ہے اظھرھا یہ خفیت الشی اخفیہ سے مشتق ہے جب تو اس کو ظاہر کر دے۔ فراء نے بطور دلیل امراء القیس کا یہ شعر پڑھا ہے۔ فان تدفنوا الداء لانخفہ و وان تبعثو الحرب لا نقعد شاعر کی لانخفہ سے مراد لا نظھرہ (ہم ظاہر نہیں کریں گے) ہے بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ اخفیھا ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ بھی جائز ہے اس کا معنی ہے اظھرھا کیونکہ کہا جاتا ہے : خفیت الشی واخفیتہ جب اسے ظاہر کر دے۔ فاخفیتہ اضداد کے حروف میں سے ہے پوشیدہ کرنا اہر کرنا دونوں معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : خفیت واخفیت دونوں کا ایک معنی ہے۔ نحاس نے کہا : یہ عمدہ ہے یہ ابو الخطاب سے اس نے روایت کیا ہے یہ اہل لغت کے رؤساء میں سے ایک تھا اس کے صدق میں شک نہیں کیا جاتا۔ سیبویہ نے اس سے روایت کیا ہے۔ شاعر نے کہا : وان تکتموا الداء لا نخفہ وان تبعثوا الحرب لا نقعد اسی طرح ابو عبیدہ نے ابو الخطاب سے نون کے ضمہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امراء القیس نے کہا : خفا ھن من انفاقھن کا نما خفاھن وذق عن عشی مجلب خفاھن کا معنی اظھرھن ہے۔ عشی مجلب کی جگہ من سحاب مرکب بھی مروی ہے۔ ابوبکر انباری نے کہا : ایک دوسری تفسیر کی گئی ہے۔ ان الساعۃ اتیۃ اکاد، اکاد پر کلام ختم ہوئی اور اس کے بعد کلام مضمر ہے اکادأتی بھا اور ابتدا اخفیھا لتجزی کل نفس سے ہے ضابی برجمی نے کہا : ھممت ولم افعل وکدت ولیتنی ترکت علی عثمان تبکی حلائلہ اس سے مراد و کدت افعل ہے کدت کے ساتھ فعل مضمر ہے جیسے قرآن میں اس کے ساتھ فعل مضمر ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ نحاس نے اختیار کیا ہے اور اس سے پہلے قول کو صحیح نہیں سمجھا اس نے کہا : کہا جاتا ہے : خفی الشی یخفیہ جب وہ ظاہر کرے۔ اور اس نے یہ بھی حکایت کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : أخفاہ جب وہ کسی چیز کو ظاہر کرے اور یہ معروف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا : میں نے علی بن سلیمان کو دیکھا جب اس پر اخفیھا کا معنی بیان کرنا مشکل ہوا تو اس نے اس قول کی طرف عدول کیا اور کہا : اس کا معنی وأخفیھا کے معنی کی طرح ہے۔ نحاس نے کہا : یہ اظھرھا کے معنی پر نہیں ہے، خصوصاً اخفیھا شاذ قرأت ہے پس قرأت صحیحہ کو شاذ قرأت کی طرف کیسے پھیرا جاتا ہے ؟ مضمر کے معانی اولیٰ ہیں۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی : ان الساعۃ اکادآتی بھا، آتیہ پر آتی بھا دلالت کرتا ہے پھر فرمایا : اخفیھا سے نئی کلام ہے۔ یہ معنی صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کو مخفی رکھا اور الساعۃ جس میں انسان مرتا ہے اس کو بھی مخفی رکھا تاکہ انسان اچھے اعمال کرتا رہے اس سے اس معاملہ کو مخفی رکھا تاکہ وہ توبہ کو مؤخر نہ کرے۔ میں کہتا ہوں : اس قول کی بنا پر لتجزی میں جو لام ہے وہ أخفیھا کے متعلق ہوگا۔ ابو علی نے کہا : یہ سلب کے باب سے ہے۔ اضداد کے باپ سے نہیں ہے۔ اخفیھا کا معنی ہے اس سے خفا کو زائل کیا اور وہ اس کا ڈھانپنا ہے، جیسے خفاء الأخفیہ اس سے مراد چادریں ہیں اور اس کا واحد خفاء خاء کے کسرہ کے ساتھ ہے جس کو اوپر لپیٹا جائے۔ (چادر) اور جب اس سے پردہ زائل کردیا تو وہ ظاہر ہوگئی یہ عربوں کے اس قول سے ہے : اشکیتہ میں نے اس کی تکلیف دور کی۔ اعدیتہ میں نے اس کی جانب سے مدد طلب کرنے کو قبول کیا اور اسے اس کے اعادہ کا موقع نہ دیا۔ ابو حاتم نے اخفش سے حکایت کیا ہے کہ کا د زائدہ موئکدہ ہے۔ اور فرمایا : اس کی مثال اذا اخرج یدہ لم یکدیرھا (النور :40) ہے، کیونکہ وہ ظلمات جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ان میں سے بعض ناظر اور منظور الیہ کے درمیان حائل ہوجاتی ہیں ؛ یہ معنی ابن جبیر سے مروی ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : ان الساعۃ آتیہ اخفیھا کل نفس بما تسعیٰ شاعر نے کہا : سریع الی الھیجاء شاک سلاحہ فما إن یکاد قرنہ یتنفس شاعر نے فما یتنفس کا معنی مراد لیا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : والا الوم النفس فیما اصابنی والا اکاد بالذی فنلت انجح اس کا معنی ہے الا انجاح بالذی نلت، پس اکاد کلام کی توکید کے لیے ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اکاد اخفیھا کا معنی ہے میں اس کو قریب کروں گا، کیونکہ جب تو کہتا ہے : کا د زید یقوما یہ دونوں صورتوں میں جائز ہے، خواہ زید کھڑا ہو یا کھڑا نہ ہو۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ اس نے اس کو مخفی کیا اس جواب پر اس کے علاوہ کی دلالت کی وجہ سے۔ لغوی علماء نے کہا : کدت افعل کا معنی عربوں کے نزدیک یہ ہے کہ میں فعل کے قریب تھا اور میں نے وہ فعل کیا نہیں اور ما کدت افعل کا معنی ہے میں نے تاخیر کے بعد وہ کام کیا۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : فذبحوھا وما کا دوا یفعلون۔ (القرہ) اس کا مطلب ہے انہوں نے تاخیر کے بعد یہ کام کیا کیونکہ ان پر گائے کا پانا مشکل ہوگیا تھا۔ کبھی ماکدت افعل کا معنی ہوتا ہے مافعلت ولا قاربت جب کلام کو آکاد کے ساتھ موکد کیا جائے۔ بعض علماء نے فرمایا : اکاد أخفیھا کا معنی ہے میں اس کو چھپانا چاہتا ہوں۔ انباری نے کہا : اس کی دلیل یہ شعر ہے : کا دت وکدت وتلک خیر ارادۃ لوعاد من لھو الصبابۃ ما مضی اس کا معنی ہے أرادت وأردت، حضرت ابن عبب اس ؓ اور اکثر مفسرین نے کہا جیسا کہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے کہ اسکا معنی ہے اکاد اخفیھا من نفسی اسی طرح حضرت ابی کے مصحف میں تھا اور حضرت اببن مسعود کے مصحب میں اسطرح تھا : اکاد اخفیھا من نفسی فکیف یعللمھا مخلوق۔ اور بعض قرأتوں میں ہے فکیف اظھرھا لکم یہ اس پر محمول ہی جو عربوں کی عادت ہے کہ جب کوئی کسی چیز کو چھپانے میں مبالغہ کرے تو کہتا ہے کدت أخفیہ من نفسی اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے ؛ یہ معنی قرطب وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ شاعر نے کہا : ایام تصحبنی ھند وأخبرھا ما اکتم النفس من حاجی واسراری پس وہ کیسے اسے اس کی خبر دیتا ہے جو اس نے اپنے نفس سے چھپایا ہوا ہے۔ اسی باب سے نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے : رجل تصدق یصدقۃ فاخفاھا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ، وہ شخص جو صدقہ کرے اور اتنا خفیہ طریقہ سے کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو جو اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے اکاد اخفیھا من نفسی، (1) اس مخذوف پر کلام میں کوئی دلیل نہیں ہے اور ایسا مخذوف جس پر دلیل نہ ہو مطروح ہے اور جنہوں نے یہ معنی بیان کیا ہے انہوں نے حضرت ابی بن کعب کے مصحف کی عبارت کی وجہ سے یہ کہا اس میں ہے اکاد اخفیھا میں نفسی اور بعض مصاحف میں ہے اکاداخفیھا من نفسی فکیف اطھر کم علیھا۔ میں کہتا ہوں بعض علماء نے کہا : جنہوں نے اکادخفیھا من نفسی کہا ان کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اخفا میری طرف سے تھا کسی غیر کی طرف سے نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ مروی ہے اکاد اخفیھا من نفسی اور طلحہ بن عمرو نے عطا سے یہ روایت کیا ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت اببن عباس ؓ سے یہ روایت کیا ہے فرمایا : میں اس پر کسی کو ظاہر نہیں کروں گا۔ سعید بن جبیر سے مروی ہے فرمایا : قد اخفاھا یہ اس بنا پر ہے کہ کا فدائدہ ہے یعنی قیامت آنے والی ہے جس کو میں نے پوشید رکھا ہے اور پوشیدہ رکھنے کا فائدہ تخویف (ڈرانا) اور تہویل (ہولناکی بیان کرنا) ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : لتجزی کا تعلق واقم الصلوٰۃ سے ہے۔ پس کلام میں تقدیم و تاخیر ہے : یعنی اقم الصلاۃ لتذ کرنی۔ لتجزی کل نفس بما تسعی۔ یعنی بسمیھا ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا، واللہ اعلم۔ بعض علماء نے فرمایا : لتجزی، آتیۃ کے متعلق ہے یعنی ان الساعۃ آتیۃ لتجزی، فلا یصدنک عنھا یعنی اس پر ایمان لانے سے اور اسکی تصدیق کرنے سے تجھے نہ پھیرے۔ من لا یومن بھا واتبع ھوہ فتردی، فتردیٰ کا معنی فتھلک ہے یہ نہی کے جواب میں ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔
Ayah 20:17

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور موسیٰ یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے ؟

(تفسیر 17-18) اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما تلک بیمینک، بعض علماء نے فرمایا : یہ خطاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کیا گیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاستمع لما یوحیٰ ۔ (غور سے سنو جو وحی کیا گیا ہے) اور نبی کی ذات میں ایک معجزہ کا ہونا ضروری ہے جس کے ساتھ وہ اپنی نبوت کے صحت کو جان لے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا میں اور اپنی ذات میں معجزہ کی صورت دکھائی۔ یہ بھی جائز ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے درخت میں معجزہ دکھایا تھا وہ ان کی ذات کے لیے کافی ہو پھر ہاتھ اور عصا زیادہ تاکید کے لیے ہوں اور بطور دلیل اپنی قوم کو یہ پیش کیے ہوں۔ ما تلک میں جو ما ہے اس کے ببارے میں اختلاف ہے۔ زجاج اور فراء نے کہا : یہ اسم ناقص ہے یمینک کے ساتھ ملایا گیا ہے، یعنی ما التی بیمینک ؛ فراء نے یہی کہا ہے سوال کا مقصود امر کا ثبوت ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہیں یہ میرا عصا ہے تاکہ حجت اعتراف کے بعد ان پر ثابت ہوجائے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو ازل سے جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ ابن جوہری نے کہا : بعض آثار میں ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عتاب فرمایا کہ انہوں نے عصا کی نسبت اپنی طرف کردی تو انہیں کہا گیا اپنا عصا ڈالو تاکہ اس سے تم تعجب دیکھ لو اور تم جان لو کہ تمہاری اس پر ملکیت نہیں ہے اور تمہاری طرف منسوب نہیں ہے۔ ابن ابی اسحاق نے عصی پڑھا ہے۔ یہ لغت ہذیل کی بنا پر ہے اسکی مثل یا بشری اور محی یہ پہلے گزر چکا ہے۔ حسن نے عصای التفاء ساکنین کی وجہ سے یا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی مثل حمزہ کی قرائت ہے۔ وما انتم بمصرخی (ابراہیم : 22) ابن ابی اسحاق نے یا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ ایک سوال کے بہت سے جواب دیے جاسکتے ہیں کیونکہ جبب اللہ تعالیٰ نے پوچھا : وما تلک بیمینک یموسیٰ ۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چار چیزیں ذکر کیں۔ عصا کی نسبت اپنی طرف کی، حق تو یہ تھا کہ صرف عصا کہتے۔ التوکو (سہارا لینا) الھش (پتے جھاڑنا) اور مارب اخریٰ (دوسرے فائدے) کا ذکر کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کے بڑے بڑے اور عمدہ فوائد کا ذکر فرمایا۔ حدیث شریف میں ہے نبی کریم ﷺ سے سمندر کے پانی کے بارے پوچھا گیا فرمایا : ” اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے “ (1) ۔ ایک عورت نے چھوٹے بچے کے متعلق پوچھا جب وہ آپ کے پاس لے آئی تھی اس نے پوچھا (حضور ! ) کیا اس پر حج ہے ؟ فرمایا ” ہاں اور تیرے لیے اجر ہے۔ “ اس کی مثالیں حدیث میں کثرت سے ہیں۔
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے اور بھی کئی فائدے ہیں

مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتو کوا علیھا یعنی چلنے اور ٹھہرنے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں۔ اسی سے الا تکاء ہے۔ واھش بھا اور اھش بھی ہے ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے یہ نخعی کی قرأت ہے یعنی میں اس کے ساتھ پتے جھاڑتا ہوں یعنی درختوں کی ٹہنیوں کو مارتا ہوں تاکہ اسکے پتے گریں تاکہ میری بکریوں پر ان کا کھانا آسان ہوجائے۔ راجز نے کہا : اھش بالعصا علی اغنامی من ناعم الاراک والبشام کہا جاتا ہے : ھش علی غنمہ یھش۔ ھاء کے ضمہ کے ساتں۔ ھش الی الرجل یھش ھاء کے فتحہ کے ساتھ۔ اسی طرح ھش یھش وھششت انا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی حدیث میں ہے : ھششت یوما فقبلت وانا صالم (2) شمر نے کہا : اس کا معنی ہے میں خوش ہوا اور شوق پورا کیا۔ فرمایا : ھاش بمعنی ھش بھی جائز ہے۔ شاعر نے کہا : فکبر للرؤیا وھاش فؤادہ وبشر نفساً کان قبل یلومھا یعنی اس کا دل خوش ہوا۔ ھش کا لغوی معنی رخاوۃ ہے۔ کہا جاتا ہے : رجل ھش وزوج ھش۔ عکرمہ نے اسے اھش پڑھا ہے، یعنی سین کے ساتھ پڑھا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ان دونوں لغتوں کا ایک معنی ہے۔ بعض نے فرمایا : ان دونوں کا معنی مختلف ہے۔ الھش کا معنی درختوں کے پتے جھاڑنا ہے اور الھس کا معنی بکریوں کو جھڑکنا ہے، یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اسی طرح زمخشری نے ذکر کیا ہے۔ عکرمہ سے اھس یعنی سین نے ساتھ مروی ہے، یعنی میں اس کے ساتھ بکریوں کو زجر کرتا ہوں۔ الھس کا معنی بکریوں کو جھڑکنا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولی فیھا ما رب اخری۔ ما رب سے مراد ضروریات ہیں۔ اس کا واحد ماربۃ اور ماربۃ اور ماربۃ ہے اور اخری واحد کا صیغہ ذکر فرمایا کیونکہ مارب جماعت کے معنی میں ہے، لیکن توابع میں واضح طریقہ یہ ہے کہ غیر ذوی العقول کی جمع مفرد ہو اور اس کے لیے بھی کنایہ ہو کیونکہ وہ واحد مونث کے قائم مقام ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وللہ السماء الحسنیٰ فادعوہ بھا (الاعراف : 180) اور ارشاد ہے : یجبال اوبی معہ (سبائ :10) یہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ ایک قوم نے عصا کے منافع کو شمار کیا ہے ان میں سے حضرت ابن عباس ؓ بھی ہیں فرمایا : جب میں کنویں پر پہنچتا ہوں اور اس کی رسی چھوٹی ہوتی ہے تو اس کو عصا کے ساتھ باندھ دیتا ہوں جب مجھے سورج کی گرمی لگتی ہے تو اسے زمین میں گاڑ دیتا ہوں اور اس پر کوئی چیز ڈال دیتا ہوں جو مجھ پر سایہ کرتی ہے۔ جب مجھے زمین کے کیڑے مکوڑوں کا خوف ہوتا ہے تو میں انہیں عصا کے ساتھ مار دیتا ہوں اور جب چلتا ہوں تو اسے کندھے پر رکھ لیتا ہوں اور اس پر اپنی کمان، ترکش اور جولا لٹکا دیتا ہوں اور اس کے ذریعے بکریوں سے درندوں کو دور کرتا ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے میمون بن مہران نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : عصا رکھنا انبیاء کی سنت ہے اور مومن کی علامت حسن بصری نے کہا اس میں چھ خصائل ہیں۔ (1) انبیاء کی سنت ہے۔ صلحاء کی زینت ہے۔ دشمنوں کی خاطر یہ ہتھیار ہے۔ کمزوروں کے یے مدد کا باعث ہے۔ منافقین کے لیے غم کا باعث ہے اور طاعات میں زیادتی کا باعث ہے۔ کہا جاتا ہے : جب مومن کے ساتھ عصا ہوتا ہے تو اس سے شیطان بھاگتا ہے اور اس سے منافق اور فاجر ڈرتا ہے۔ جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اس کے قبلہ (کی طرف سترہ) ہوتا ہے اور جب مومن کمزور ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے قوت کا سببب ہوتا ہے۔ حجاج ایک اعرابی کو ملا اور پوچھا : تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اس نے کہا : میرا عصا ہے، اسے میں نماز کے لیے زمین میں گاڑھتا ہوں، میں اسے اپنے دشمنوں کے لیے تیار رکھتا ہوں، اس کے ساتھ اپنے جانور ہانکتا ہوں، سفر میں اس کے ساتھ قوت حاصل کرتا ہوں، چلتے وقت اس پر سہارا لیتا ہوں تاکہ لمبے قدموں سے چلوں اور اس کے ساتھ نہر عبور کرتا ہو، یہ مجھے ٹھوکر لگنے سے محفوظ رکھتا ہے، اس پر کپڑے ڈالتا ہوں جو مجھے گرمی سے بچاتا ہے اور ٹھنڈک سے بچاتا ہے اور اس کے ذریعے اس چیز کو قریب کرتا ہوں جو مجھ سے دور ہوتی ہے۔ یہ میرے دسترخوان کا محمل ہے اور میرے دوسرے دسترخوان کا محمل ہے اور میرے دوسرے سامان کو لٹکانے کا ذریعہ ہے۔ لڑائی کے وقت اس کے ساتھ لڑائی کرتا ہوں، اس کے ساتھ دروازوں کو کھٹکھٹاتا ہوں، اس کے ساتھ کتوں کے کا بنے سے بچتا ہوں، ہم عصروں کے مقابلہ کے لیے تیر اور تلوار کا کام دیتا ہے، یہ میرے باپ کا ورثہ ہے اور یہ میں اپنے بیٹے کو ورثہ میں دوں گا، اس کے ساتھ اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی لاتعداد منافع ہیں۔ میں کہتا ہوں : عصا کے منافع کثیر ہیں۔ بعض مقامات میں شرعی اعتبار سے اس کا دخل ہوتا ہے مثلاا صحراء میں قبلہ بنایا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی کھونٹی تھی جس کو گاڑھا جاتا تھا اور آپ ﷺ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ جب عید کے دن آپ نکلتے تھے تو کھونٹی گاڑھنے کا حکم دیتے تھے وہ آپ کے سامنے گاڑھی جاتی تھی اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ اور یہ صحیح میں ثابت ہے۔ الحربت، العنزہ، النیزک، وألالۃ یہ تمام ایک مسمی کھونٹی کے نام ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی ایک کھونٹی تھی جس کے ساتھ آپ حجر اسود کی طرف اشارہ کرتے تھے جب اس کو بوسہ دینے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ یہ بھی صحیح میں ثابت ہے۔ موطا میں سائب بن یزید سے مروی ہے فرمایا : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعتیں پڑھائیں قاری سو سو آیات والی سورتیں پڑھتا تھا حتیٰ کہ ہم قیام کے لمبا ہونے کی وجہ سے اپنے عصا پر سہارا لیتے تھے اور ہم مسجد سے صبح کے طلوع ہونے سے کچھ پہلے واپس گھر آتے تھے۔ صحیحین میں ہے : نبی کریم ﷺ کی کھونٹی تھی، اس پر اجماع ہے کہ خطیب تلوار یا عصا پر سہارا لے کر طخبہ دے۔ عصا کا ثبوت اصل کریم اور معدن شریف سے ہے۔ اس کا انکار صرف جاہل ہی کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عصا میں بہت سے معجزات جمع فرمائے تھے۔ اس کی وجہ سے معاندین جادوگر بھی آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خطبہ دینے، وعظ و نصیحت کرنے اور نماز کی طوالت کے لیے عصا بنایا تھا۔ حضرت ابن مسعود نے نبی کریم ﷺ کے عصا اور کھونٹی برادار تھے اور وہ چھڑی پکڑ کر خطبہ دیتے تھے۔ پس عصا کے شرف پر یہ فضیلت کافی ہے۔ خلفائ، کبرا، خطباء کا عمل اسی پر ہے۔ فصحاء عرب کی عادت بھی عصا اور کھونٹی پکڑنا اور کلام کرتے وقت اس پر سہارا لینا ہے۔ محافل اور خطبوں میں بھی وہ اس پر سہارا لیتے تھے۔ شعوبیہ فرقہ خطباء عرب پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ کھونٹی پکڑتے ہیں اور اس کے ساتھ معانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ شعوبیہ فرقہ عربوں سے بغض کرتا ہے اور عجمیوں کو فضیلت دیتا ہے۔ امام مالک نے فرمایا : عطاء بن سائب کھونٹی ہاتھ میں پکڑتے تھے اور اس سے مدد حاصل کرتے تھے۔ امام مالک نے فرمایا : آدمی جب بوڑھا ہوجاتا ہے تو وہ جوانی کی مثل نہیں ہوتا۔ آدمی اٹھنے وقت اس سے قوت حاصل کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس کے بارے میں ایک شاعر نے کہا : قد کنت امشی علی رجلین معتمداً فصرت امشی علی اخری من الخشب امام مالک (رح) نے کہا : لوگ عصا لے کر نکلتے ہیں جب بارش آتی ہے اور ان پر سہارا لیتے ہیں حتیٰ کہ نوجوان بھی اپنے اپنے عصا لیتے ہیں۔ بعض دفعہ اپنے ہم مجلسوں میں عصا لیتے تھے تاکہ اس کہ سہارے کھڑے ہوں۔ عصا کے منافع میں سے یہ بھی ہے کہ اصلاح کی خاطر آدمی اپنی بیویوں کو مارتا ہے اس کے ساتھ اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح کرتا ہے۔ اس سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” ابو جہم وہ تو اپنے کندھے سے عصا رکھتی ہی نہیں ہے “ ایک روایت میں ہے ایک شخص کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا : ” اپنے اہل سے لاٹھی نہ اٹھا اللہ کی ذات کے بارے میں انہیں ڈرا “ (1) حضرت عبادہ بن صامت سے امام نسائی نے اس کو روایت کیا ہے۔ مفسہم سے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے ” تو اپنے عصا کو ووہاں لٹکا جہاں سے تیرے گھر والے اسے دیکھ سکیں “ (1) ۔ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔ اس کے فوائد میں سے ہے کہ اس دنیا سے منتقل ہونے پر تنبیہ ہے جیسا کہ کسی زاہد شخص سے کہا گیا : تجھے کیا ہے کہ تو عصا پر چلتا ہے جبکہ تو نہ بوڑھا ہے اور نہ مریض ہے ؟ اس نے کہا : میں جانتا ہوں میں مسافر ہوں یہ دنیا فانی ہے اور عصا سفر کا آلہ ہے۔ بعض شعراء نے کہا : حملت العصا لا الضعف او جب حملھا علی ولا انی تحنیت من کبر ولکنی الزمت نفسی حملھا لا علمھا ان المقیم علی سفر
Ayah 20:19

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈالدو

(تفسیر 21-23) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال القھا یموسیٰ (19) جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے حصول اور اس کی تکلیف برداشت کرنے کی تدریب کرلیں تو عصا ڈالنے کا حکم دیا۔ فالقھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اوصاف اور اغراض تبدیل کر ڈالے وہ عصا دو شاخوں والا ہے تو اس کی وہ دو شاخیں اس کا منہ بن گئیں اور وہ سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا اور پتھروں کو نگل رہا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو تعجب سے دیکھا اور ولی مدبراً ولم یعقب (النمل :10) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : اسے پکڑ لو اور مت ڈرو۔ یہ اس لیے فرمایا کیونکہ انہوں نے اپنھے دل میں بتقاضائے بشریت خوف محسوس کیا۔ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنے جبے کی آستین کے ساتھ پکڑا تو انہیں اس طرح پکڑنے سے منع کیا گیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنے ہاتھ سے پکڑا تو وہ عصا بن گیا جس طرح کہ پہلے تھا۔ یہ اس کی پہلی حالت تھی۔ اس نشانی کو ان کے لیے اس لیے ظاہر فرمایا تاکہ آپ اس سے خوفزدہ نہ ہوں جبب اسے آپ فرعون کے پاس زمین پر ڈالیں۔ کہا جاتا ہے کہ عصا اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چلتا تھا اور باتیں کرتا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس پر سامان لٹکاتے تھے اور رات کے وقت اس کی شاخیں ڈول کی طرح ہوجاتی تھی اور جب آپ پانی نکالنا چاہتے تھے تو وہ شاخیں ڈول کی طرح ہوجاتی تھیں اور جبب آپ کو پھل کھانے کا شوق ہوتا تو اسے زمین پر گاڑھ دیتے تھے اور اس پر پھل لگ جاتا تھا۔ بعض نے فرمایا : یہڈنڈا جنت کے آس کے درخت کا تھا۔ بعض نے فرمایا : اسے جبریل لے کر آئے تھے۔ بعض نے فرمایا : کوئی اور فرشتہ لے کر آیا تھا۔ بعض نے فرمایا : حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا اس گھر سے ایک چھڑی لے لو تو وہ چھڑی آپ کے ہاتھ میں عصا بن گئی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا عصا جنت سے آپ کے ساتھ اترا تھا ؛ واللہ اعلم۔
Ayahs 20:20–21

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذاھی حیۃ تسعیٰ ۔ نحاس نے کہا : حیۃ بھی جائز ہے۔ کہا جاتا ہے : خرجت فاذا ازید جالس وجالسا۔ حیہ پر وقف ھا کے ساتھ ہے۔ السعی کا معنی جلدی اور پھرتی سے چلنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : وہ عصا بڑا سانپ بن گیا تھا وہ پتھروں اور درختوں کو نگل لیتا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ تو ہر چیز کو نگل رہا ہے تو وہ اس سے خوفزدہ ہوئے اور اس سے دور ہوئے۔ بعض سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السللام اس سے اس لیے خوف زدہ ہوئے کیونکہ آپ کو معلوم تھا جو اس ڈنڈے کی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) نے برداشت کیا تھا۔ بعض نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لا تخف (ڈرو نہیں) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خوف ختم ہوگیا اور دل مطمئن ہوگیا۔ آپ نے اس کے منہ میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس کے جبڑوں سے پکڑ لیا۔ سنعیدھا سیرتھا الاولیٰ میں نے علی بن سلیمان کو یہ کہتے سنا ہے۔ تقدیر عبارت الیٰ سیرتھا ہے جیسے اختار موسیٰ قومہ (الاعراف :155) (میں حرف جر کو حذف کیا گیا ہے)
Ayahs 20:22–23

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگا لو وہ کسی عیب (و بیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ یہ دوسری نشانی ہے

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واضمم یدک الی جناحک، غیر قرآن میں ضم میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ التفائے ساکنین پایا گیا ہے۔ اور فتحہ عمدہ ہے کیونکہ وہ خفیف ہے اور کسرہ اصل کی بنا پر ہے اور ضمہ اتباع کی بنا ہے۔ یداصل میں یدی فعل کے وزن پر ہے اس پر دلیل جمع اید ہے تصغیر بیۃ ہے۔ الجناح سے مراد بازو ہے ؛ مجاہد نے یہ کہا ہے کہ فرمایا : الیٰ بمعنی تحت ہے۔ قطرب نے کہا : جناحک سے مراد الی جبیبک ہے۔ اسی سے زاجز کا قول ہے : اضمہ للصدر والجناح بعض نے فرمایا : الیٰ جنبک کو الی جناحک سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ وہ جناح کے محل میں مائل ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب الی عندک ہے۔ مقاتل نے کہا : الی بمعنی مع ہے یعنی مع جناحک، تخرج بیضآء من غیر سوء یعنی بغیر برص کے چھانے والے نور کے ساتھ نکلے گا، دن اور رات کو سورج اور چاند کی طرح چمکے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے یعنی وہ اس طرح چمکدار تھا کہ آپ کی رنگت کے مخالف تھا۔ بیضآء حال کی ببنا پر منصوب ہے اور یہ غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں دو الف تانیث ہیں، یہ اس سے زائل نہیں ہوتے گویا ان دونوں کا لزوم دوسری علت ہے نکرہ میں غیر منصرف ہے۔ یہ دونوں الف ھاء کے مخالف ہیں کیونکہ ھاء اسم سے جدا ہوتی ہے۔ من غیر سوئ، من، بیضا کے متعلق ہے جیسے تو کہتا ہے : ابیضت من غیر سوی، ایۃ اخری، یعنی عصا کے معجزہ کے علاوہ یہ معجزہ ہے۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کرتہ جبہ سے اپنا ہاتھ نکالا تو اس کی سورج کی شعاع کی طرح روشنی تھی جو آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔ اور آیۃ، بیضاء سے بدل کی ببنا پر منصوب ہے ؛ یہ اخفش کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : یہ قول حسن ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے ہم نے تجھے دوسرا معجزہ دیا یا دوسرا معجزہ دیں گے کیونکہ فرمایا : تخرج بیضآء من غیر سوء یہ دلیل ہے کہ آپ کے پاس دوسرا معجزہ آیا۔ لنریک من ایتنا الکبری، کبریٰ سے مراد بڑا ہے۔ حق یہ تھا کہ الکبیرہ، ہوتا لیکن الکبری فرمایا تاکہ آیات کے قافیے مل جائیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس میں اضمار ہے اس کا معنی ہے، لنریک من آیاتنا الایۃ الکبری یعنی ہم تجھے اپنی آیات میں سے بڑی نشانی دکھائیں گے۔ اس کی دلیل حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : یدموسیٰ اکبر آیاتہ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ اللہ کی بڑی آیات میں سے تھا۔
Ayahs 20:24–32

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھروالوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری وقت کو مضبوط فرما

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذھب الیٰ فرعون انہ طغی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید سے مانوس کردیا اور اسے معجزات دکھا دئیے جو ان کے رسول ہونے پر دلیل تھے تو انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا کہ اسے دعوت دیں۔ طغیٰ کا معنی ہے اس نے نافرمانی کی، تکبر کیا، کفر کیا، جبر کیا اور حد سے بڑھا۔ قال رب اشرح لی صدری۔ ویسرلی امری۔ واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفھوا قولی۔ واجعل لی وزیر من اھلی۔ ھرون اخی۔ رسالت کی تبلیغ کے لیے اعانت طلب کی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتا دیا تھا کہ اس نے فرعون کے دل پر مہر لگا دی ہے وہ ایمان نہیں لائے گا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : یا رب ! تو مجھے کیسے حکم دیتا ہے کہ میں اس کے پاس جائوں جبکہ تو نے اس کے دل پر مہر لگا دی ہے ؟ تو ہوا کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ آیا اور کہا : اے موسیٰ ! اس کی طرف چلو جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : رب اشرح لی صدری یعنی میرا سینہ کشادہ فرما اور ایمان اور نببوت سے منور کر دے۔ ویسرلی امری اور فرعون کو تبلیغ کرنے کا جو تو نے مجھے حکم دیا ہے اسے میرے لیے آسان فرما۔ واحلل عقدۃ من لسانی عقدہ سے مراد وہ گرہ ہے جو اس انگارے کی وجہ سے بن گئی تھی جو آپ نے بچپن میں منہ میں ڈال لیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آپ کی زبان میں لکنت تھی یہ واقعہ اس طرح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن فرعون کی گود میں تھے تو آپ نے فرعون کو طمانچہ مارا اور اسکی داڑھی سے پکڑ کر اسے نوچا۔ فرعون نے آسیہ سے کہا : یہ میرا دشمن ہے۔ ذبح کرنے والوں کو بلا۔ آسیہ نے کہا : ٹھہر جا، یہ معصوم بچہ ہے چیزوں میں تفریق بھی نہیں کرسکتا۔ پھر آسیہ دو تھال لے آئی ایک میں اس نے انگارے رکھے اور دوسرے میں جواہر رکھے۔ حضرت جبریل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑا اور اسے آگ پر رکھ دیا حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انگارہ اٹھایا اور اسے اپنے منہ میں زبان پر رکھ دیا اس کی وجہ سے آپ بتلاتے تھے۔ روایت ہے کہ آپ کا ہاتھ جل گیا تھا۔ فرعون نے اس کے علاج کی کوشش کی تھی لیکن وہ ٹھیک نہ ہوا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو دعوت دی تو اس نے کہا : تو مجھے کونسے رب کی طرف بلاتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اس ربب کی طرف جس نے میرے ہاتھ کو ٹھیک کیا تھا جبکہ تو اس کے علاج سے عاجز ہوگیا تھا۔ بعض علماء سے مروی ہے کہ آپ کا ہاتھ اس لیے ٹھیک نہ ہوا تھا تاکہ آپ کا ہاتھ فرعون کے ساتھ ایک پلیٹ میں داخل نہ ہو اور ان کے درمیان اکٹھا کھانے کی حرمت منعقد رہے۔ پھر علماء کا اختلاف ہے کہ آپ کا وہ تتلا پن ختم ہوگیا تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : زائل ہوگیا تھا اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : قد اوتیت سولک یموسیٰ بعض نے فرمایا : یہ تتلا پن قائم رہا تھا، اس کی دلیل فرعون کا یہ قول ہے : ولا یکاد یبین۔ (الزخرف) اور آپ نے یہ دعا نہیں کی : احلل کل لسانی، یہ دلیل ہے کہ آگ کو چھونے کی وجہ سے گرہ ان کی ززبان میں تھی۔ بعض نے فرمایا : کلیتہ یہ تکلیف زائل ہوگئی تھی، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : اوتیت سولئک، فرعون نے کہا : ولا یکاد یبین۔ کیونکہ تربیت کے دوران آپ کی گرہ کا اسے علم تھا اور اس تکلیف کے دور ہونے کا اس کے پاس ثبوت نہیں تھا۔ میں کہتا ہوں : اس میں نظر ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو فرعون ولا یکاد یبین۔ نہ کہتا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فصیح زبان سے کلام کی ہوتی ؛ واللہ اعلم۔ بعض علما نے فرمایا : یہ گرہ اپنے رب سے مناجات کرتے وقت پڑی تھی حتیٰ کہ آپ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے کلام نہیں کرسکتے تھے۔ یفقھوا قولی تاکہ وہ اسے جان لیں جو میں کہوں اور اسے سمجھ لیں۔ کلام عرب میں الفقہ کا معنی فہم (سمجھنا) ہے۔ اعرابی نے عیسیٰ بن عمر کو کہا : شھدت علیک بالفقہ ؛ اسی سے ہے فقہ الرجل (بکسر عین کلمہ) فلان لا یفقہ ولا ینقہ، افقھتک الشیئ۔ پھر علم شریعت کے لیے خاص ہوا۔ شریعت کا جاننے والا فقیہ ہوتا ہے۔ فقہ (عین کلمہ کے ضم کے ساتھ) فقاھۃ وفقہہ اللہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو سمجھ عطا فرمائے اور وہ سمھ جائے۔ فاقھتہ جب تو نے علم میں بحث کی۔ یہ جوہری کا قول ہے، الوزیر، الموأزا جیسے الاکیل المواکل ہے کیونکہ وہ سلطان سے اس کا بوجھ اتار دیتا ہے۔ کتاب النسائی میں ہے قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ میں نے اپنی پھپھو کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو تم میں سے کسی منصب پر فائز کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ کیا تو اس کے یے نیک وزیر بنا دیتا ہے اگر وہ بھولتا ہے تو وہ وزیر اسے یاد دلاتا ہے اگر اسے بات یاد ہوتی ہے تو اس کی معاونت کرتا ہے “ (1) ۔ اسی مفہوم سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ” اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا اور کوئی خلیفہ نہیں بتایا مگر اس کے دو مشیر ہوتے ہیں ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اسے نیکی پر ابھارتا ہے اور ایک مشیر اسے شر کا حکم دیتا ہے اور شر پر برانگیختہ کرتا ہے۔ محفوظ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے محفوظ کرلیا۔ “ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ اس کا وزیر بنا دے مگر انہوں نے یہ ارادہ نہ کیا کہ وہ وزارت پر مقصود ہوتا کہ وہ نبوت میں اس کا شریک نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بغیر سوال کے اس کا وزیر ببنانا جائز ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے متعین فرمایا اور کہا : ہارون، ہارون پر نصب وزیراً سے بدل کی ببنا پر ہے یا یہ اجعل کی وجہ سے منصوب ہے یہ تقدیم و تاخیر کی بنا پر ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ اجعل لی ہارون اخی وزیراً ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک سال بڑے تھے بعض نے کہا : تین سال بڑے تھے۔ اشد دبہ ازری۔ یعنی میری پیٹھ کو مضبوط کر دے۔ الازر کا معنی ازار باندھنے کی جگہ ہے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ میرا نفس مضبوط ہوجائے۔ الازر کا معنی قوت ہے۔ ازرہ کا معنی ہے اس نے اسے قوت بخشی۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فازرہ فاستغلظ (افتح :29) ابو طالب نے کہا : الیس ابونا ہاشم شد ازرہ واوصی بنیہ بالطعان وبالضرب بعض نے کہا : الازر کا معنی مدد ہے، یعنی وہ مدد بنا دے جس کے ساتھ میرا معاملہ سیدھا ہو۔ شاعر نے کہا : شددت بہ ازری وایقنت انہ اخو الفقر من ضاقت علیہ مذاھبہ۔ حضرت ہارون، حضرت موسیٰ (علیہما السلام) سے زیادہ پر گوشت تھے اور زیادہ قدآور تھے اور ان کا جسم زیادہ سفید تھا اور زیادہ فصیح تھے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال پہلے وصال فرما گئے تھے۔ حضرت ہارون کے چہرے میں علامت تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ناک کی بینی پر علامت تھی اور زبان کی ایک طرف پر علامت تھی نہ آپ سے پہلے کسی کی یہ علامت تھی اور نہ آپ کے بعد کسی کی ایسی علامت ہوگی۔ بعض نے فرمایا : یہ ان کی زبان میں گرہ کا سبب تھی ؛ واللہ اعلم۔ واشر کہ فی امری۔ یعنی نبوت اور تبلیغ رسالت میں اسے شریک کر دے۔ مفسرین نے فرمایا : حضرت ہارون (علیہ السلام) مصر میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہارون کے پاس آنے کا حکم دیا گیا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو مصر میں وحی فرمائی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کریں تو ایک منزل پر ان کی ملاقات ہوئی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اس کے متعلق بتایا جو ان کی طرف وحی کی گئی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے فرکون کے پاس جانے کا حکم دیا ہے میں نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ تجھے میرے ساتھ رسول بنا دے۔ عام قراء نے اخی اشدد ہمزہ وصلی کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اشر کہ کو دعا کی بنا پر ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی اشدد یا رب ازری و اشر کہ معی فی أمریک۔ ابن عمر یحییي بن حرث، ابو حیوہ، حسن اور عبداللہ بن ابی اسحاق نے اشدد کو ہمزہ قطعی کے ساتھ اور اشر کہ کو ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی میں ایسا کروں گا اور میں اس کے ساتھ اپنے آپ کو مضبوط کروں گا۔ اور اسے یا رب میں اپنے معاملہ میں شریک کروں گا۔ نحاس نے کہا : دونوں فعل اجعل لی وزیرا کے قول کی وجہ سے محل جزم میں ہیں۔ یہ قرات شاذ اور بعید ہے کیونکہ اس کی مثل کا جواب شرط اور جزا کے معنی میں ہوتا ہے۔ پھر معنی ہوگا اگر تو میرے لیے میرے خاندان سے وزیر بنائے گا تو میں اس کے ذریعے مضبوط ہوں گا اور میں اسے اپنے معاملہ میں شریک کروں گا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا امر نبوت اور رسالت تھی۔ یہ آپ کی طرف نہ تھا کہ آپ اس کے متعلق خبر دیتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ نبوت میں شریک کریں۔ ابن کثیر اور ابو عمرو نے اخی کو یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayahs 20:33–35

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے

کی نسبحک کثیرا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم تیرے لیے کثرت سے نماز پڑھیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ تسبیح باللسان مراد ہو یعنی ہم تیری ہر اس چیز سے پاکیزگی بیان کرتے ہیں جو تیری شان جلال کے موافق و مطابق نہ ہو، کثیرا۔ مصدر مخدوف کی صفت ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ وقت کی صفت ہو۔ اور ادغام عمدہ ہے۔ نذکر کثیراً بھی اسی طرح ہے انک کنت بنا بصیرا۔ خطابی نے کہا : البصیر، بمعنی المبصر ہے۔ البصیر وہ عالم جو مخفی امور کو جاننے والا ہو معنی ہے ہمیں جاننے والا۔ اور ہمارے بچپن میں ہمیں نعمتیں بہم پہنچانے والا۔ پس تو نے پہللے ببھی ہم پر احسان کیا پس اب بھی ہم پر احسان فرما اے ہمارے رب !