Ayahs 16:116–117آیت نمبر 116 تا 117
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ لما تصف یہاں ما مصدر یہ ہے، ای لوصف (السنتکم) (تمہاری زبانوں کے بیان کی وجہ سے) اور کہا گیا ہے کہ یہ لام لام سببیہ اور اجلیہ ہے، یعنی تم نہ کہو اپنے بیان کی وجہ سے الکذب (جھوٹ) یہ حرف جر کے حذف کے سبب منصوب ہے، یعنی لما تصف السنتکم من الکذب اور اسے الکذب کاف، ذال اور با کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اور یہ السنۃ کی صفت ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور حسن نے یہاں خاص طور پر الکذب کاف کے فتحہ اور ذال اور با کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ لما کی صفت ہے، تقدیر کلام ہے : ولا تقولوا الوصف ألسنتکم الکذب۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ما سے بدل ہونے کی بنا پر مجرور ہے یعنی ولا تقولوا للکذب الذی تصفہ ألسنتکم۔ (اور تم اس جھوٹ کو نہ کہو جسے تمہاری زبانیں بیان کرتی ہیں) ، ھذا حلل وھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب الآیہ۔ یہ خطاب ان کفار کو ہے جنہوں نے بحائر اور سوائب جانوروں کو حرام قرار دیا اور انہیں حلال قراردیا جو ابھی چوپاؤں کے پیتوں میں تھے اگرچہ وہ مردہ ہوں۔ پس قول باری تعالیٰ : ھذا حلل یہ اشارہ ان مردہ جانوروں کی طرف ہے جو ابھی چوپاؤں کے
پیٹوں میں ہوں، اور ہر اس کی طرف جسے انہوں نے حلال قرار دیا۔
اور قولہ تعالیٰ : وھذا حرام یہ اشارہ بحائر اور موائب اور ہر اس کی طرف ہے جسے انہوں نے حرام قرار دیا۔ ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون۔ متاع قلیل یعنی اس میں ان کے لئے جو دنیوی نعمتیں اور فوائد ہیں وہ عنقریب زائل ہوجائیں گے، ختم ہوجائیں گے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یعنی ان کے فوائد قلیل فوائد ہیں۔ اور یہی بھی کہا گیا ہے : ان کے لئے تھوڑا سا فائدہ ہے پھر وہ دردناک عذاب کی طرف لوٹا دئیے جائیں گے۔
مسئلہ نمبر 2: دارمی ابو محمد نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے : ہمیں ہارون نے حفص سے اور انہوں نے اعمش سے خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا یہ حلال ہے اور نہ یہ سنا کہ یہ حرام ہے، بلکہ وہ یہ کہتے تھے : وہ ناپسند کرتے تھے اور وہ پسند کرتے تھے۔ اور ابن وہب نے بیان کیا ہے کہ امام مالک (رح) نے کہا : لوگوں میں اہل فتویٰ یہ نہیں کہتے : یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے بلکہ وہ یہ کہتے ہیں تم اس اس سے بچو۔ (ایاکم کذا وکذا) اور میرے لئے نہیں کہ میں ایسا کروں۔
ولم أکن لأصنع ھذا اور اس کا معنی یہ ہے کہ کسی کو حلال قرار دینا اور کسی کو حرام قرار دینا بلاشبہ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، اور کسی اور کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے یا اعیان میں سے کسی معین چیز کے بارے اس کی تصریح کرے مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کسی شے کے بارے اس کی خبر سے۔ اور وہ شے جس کے بارے میں اجتہاد اس تک پہنچائے کہ یہ حرام ہے اس کے بارے میں کہے : إنی أکرہ کذا۔ (بےشک میں اسے ناپسند کرتا ہوں، مکروہ قرار دیتا ہوں) اور اسی طرح امام مالک (رح) اس میں اپنے متقدمین اہل فتویٰ کی اقتدا کرتے تھے۔ پس اگر کہا جائے : تحقیق انہوں نے اس کے بارے میں کہا ہے جس نے اپنی بیوی کو کہا : انت علی حرام (تو مجھ پر حرام ہے) بیشک وہ حرام ہوجاتی ہے اور تین طلاقیں ہوجاتی ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ امام مالک (رح) نے جب حضرت علی بن طالب ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا : بیشک وہ حرام ہے، تو انہوں نے آپ کی ہی اقتدا کی۔ کبھی مجتہد کے نزدیک تحریم پر دلیل قوی ہوتی ہے تو اس وقت اس کے حرام کہنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ وہ چھ معین اشیاء کے سوا میں کہتے کہ سوو (ربوا) حرام ہے، اور بسا اوقات اس پر امام مالک (رح) اس کا اطلاق کرتے ہیں، پس حرام کہنا نمو پذیرا موال میں اور ان امور میں جو مصالح کے خلاف ہوں مناسب نہیں ہے۔ اور آپ نے زیر بحث مسئلہ میں مقصد کے حصول کے لئے دلائل کی قوت کے ساتھ دامن بچا لیا۔
Ayah 16:118آیت نمبر 118
قولہ تعالیٰ : وعلی الذین ھادوا بیان فرمایا کہ چوپائے اور کھیتی اس امت کے لئے حلال ہے، اور رہے یہودی تو ان پر ان میں سے کچھ چیزیں حرام ہیں۔ حرمنا قصصنا علیک من قبل یعنی سورة الانعام میں ہم ان کا ذکر آپ سے کرچکے ہیں۔ وما ظلمنھم اور جو چیزیں ہم نے ان پر حرام کرنے کے ساتھ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے پس ہم نے بطور سزا ان پر وہ چیزیں حرام کردیں، جیسا کہ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔
Ayah 16:119آیت نمبر 119
قولہ تعالیٰ : ثم ان ربک للذین عملوا السوٓء اس میں سوء سے مراد شرک ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ بحث سورة النساء میں گزر چکی ہے۔
Ayah 16:120آیت نمبر 120
قولہ تعالیٰ : ان ابراھیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا آپ ﷺ نے مشرکین عرب کو ملت (دین) ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف دعوت دی، کیونکہ آپ ان کے اباء اور اس گھر کے بانی تھے جس کے ساتھ انہیں عزت حاصل تھی۔ اور الامۃ سے مراد وہ کامل مرد ہے جو خیر اور بھلائی کی صفات کی جامع ہو۔ اور اسے جن جن معنوں پر محمول کیا جاسکتا ہے وہ پہلے گزر چکے ہیں۔ اور ابن وہب اور ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ تک خبر پہنچی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت معاذ پر رحم فرمائے ! وہ امۃ قانتاً (مرد کامل اللہ تعالیٰ کے مطیع) تھے۔ تو آپ کو کہا گیا : اے ابا عبد الرحمن ! بیشک اللہ عزوجل نے تو اس کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے۔ تو حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : بیشک امت سے مراد وہ ہے جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا ہے، اور بیشک قانت وہ ہے جو مطیع و فرمانبردار ہو۔ تحقیق قنوت کا معنی سورة البقرہ میں اور حنیفا کا معنی سورة الانعام میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 16:121–122آیت نمبر 121 تا 122
قولہ تعالیٰ : شاکرا یعنی وہ شکر گزار تھے۔ لا نعمہ، الأنعم نعمۃ کی جمع ہے، اور یہ پہلے گزر چکا ہے اجتبہ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا۔ وھدہ الی صراط مستقیم۔ واتینہ فی الدنیا حسنۃ (اور انہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرمائی۔ اور ہم نے انہیں مرحمت فرمائی دنیا میں بھی (ہر طرح کی بھلائی) ۔ کہا گیا ہے : اس سے مراد نیک طیب بچہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے : مراد اچھی تعریف ہے۔ یہ قول بھی ہے کہ مراد نبوت ہے۔ یہ قول بھی ہے : مراد یہ ہے کہ تشہد میں حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود پڑھنے کے ساتھ آپ پر درود پڑھنے کو ملا دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اہل دین نہیں ہیں مگر وہی جو آپ کے ساتھ محبت اور دوستی رکھتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد یہ ہے کہ آپ کی ضیافت (مہمان نوازی) اور آپ کی قبر کی زیارت کو باقی رکھا۔ اور یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائیں اور آپ ﷺ کو اور زیادہ عطا فرمائیں۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین اس میں من بمعنی مع ہے، ای مع الصالحین یعنی وہ آخرت میں نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ وہ دنیا میں بھی نیک لوگوں کے ساتھ تھے۔ یہ سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 16:123آیت نمبر 123
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : آپ ﷺ کو مناسک حج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سکھائے۔ اور علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : آپ ﷺ کو بتوں سے برأت اختیار کرنے اور اسلام سے آراستہ اور مزین ہونے میں آپ (علیہ السلام) کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ ﷺ کو پورے دین میں آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے سوائے ان احکام کے جنہیں چھوڑنے کا آپ کو حکم دیا گیا : یہی بعض اصحاب شافعی (رح) نے کہا ہے، جیسا کہ ماوردی نے اسے بیان کیا ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ عقائد شرع میں اتباع کا حکم ہے نہ کہ فروعات میں، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا (المائدہ :48) (ہر ایک کیلئے بنائی ہے ہم ہم نے تم میں سے ایک شریعت اور عمل کی راہ) ۔
مسئلہ : اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ افضل کا مفضول کی اتباع کرنا جائز ہے، جبکہ وہ راہ صواب اور اس کے مطابق عمل کرنے میں مقدم اور پہلے ہو، اور اس میں فاضل (فضیلت رکھنے والا) پر کوئی تاوان نہیں ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ تمام انبیاء (علیہم السلام) سے افضل ہیں، حال یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ان کی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا : فبھدھم اقتدہ (الانعام :90) (تو انہیں کے طریقہ کی پیروی کرو) ۔ اور یہاں ارشاد فرمایا : ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم۔
Ayah 16:124آیت نمبر 124
قولہ تعالیٰ : انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ یعنی (یہ پابندی) نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں تھی اور نہ ان کے دین میں، بلکہ وہ تو بڑا وسیع تھا اس میں کوئی مشکل اور سختی نہ تھی۔ اور سنیچر کی پابندی اور سختی یہودیوں پر تھی اس لئے کہ کاروبار چھوڑنے اور معاش میں پھیلاؤ ترک کرنے کے بارے میں اس میں ان کے درمیان اختلاف واقع ہوا (اسی سبب سے ان پر سنیچر کی پانبدی عائد کردی گئی) ، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جمعہ کے دن کے ساتھ آئے اور فرمایا : ہر سات دنوں میں سے ایک دن عبادت کیلئے فارغ رہو۔ تو انہوں نے کہا : ہم نہیں چاہتے کہ ان کی عید ہماری عید کے بعد ہو، پس انہوں نے اتوار کا دن پسند کیا (اور اسے منتخب کرلیا) ان میں جو اختلاف واقع ہوا اس کی کیفیت میں علماء کے مابین اختلاف ہے ؛ چناچہ ایک گروہ نے کہا ہے : بیشک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں جمعہ کے دن کے بارے حکم ارشاد فرمایا اور اسے ان کیلئے معین کردیا۔ اور انہیں دوسرے دنوں پر اس کی فضیلت کے بارے میں بھی آگاہ کیا، لیکن انہوں نے آپ سے مناظرہ اور مباحثہ کیا کہ سنیچر کا دن افضل ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا : ” تم انہیں اور اسے جو انہوں نے اپنے لئے پسند کیا ہے چھوڑ دو “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے لئے معین نہیں فرمایا، بلکہ آپ نے انہیں یوم جمعہ کی تعظیم کی خاطر اس کا حکم دیا پس ان کا اجتہاد اس کی تعیین میں مختلف ہوگیا، تو یہودیوں نے سنیچر کا دن معین کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے جمعہ کا دن معین فرمایا بغیر اس کے کہ وہ انہیں ان کے اجتہاد کے حوالے کرے یہ اس کی طرف سے فضل و احسان ہے، پس یہ امت ہونے کے اعتبار سے تمام امتوں سے بہتر ہے۔ اور صحیح میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہم آخر میں آنے والے قیامت کے دن اول ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے مگر یہ کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے اور ہمیں وہ ان کے بعد عطا کی گئی ہے پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے ہماری راہنمائی فرما دی جس میں حق میں سے انہوں نے اختلاف کیا، پس یہ ان کا وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت (اور راہنمائی) فرما دی۔۔۔ فرمایا جمعہ کا دن۔۔۔۔ پس آج کا دن ہمارے لئے ہے اور آنے والا کل (سنیچر کا دن) یہودیوں کے لئے ہے اور اس کے بعد (اتوار) کا دن عیسائیوں کیلئے ہے “۔
پس آپ ﷺ کا یہ قول : ” پس یہ ان کا وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا ہے “۔ ان کے قول کو تقویت دیتا ہے جنہوں نے یہ کہا : بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اسے معین نہیں کیا، کیونکہ اگر یہ ان کے لئے معین کیا جاتا اور پھر وہ سرکشی کرتے تو اختلفوا نہ کہا جاتا، بلکہ یہ کہا جانا زیادہ موزوں اور مناسب تھا فخالفوا فیہ وعاندوا۔ (پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور سرکشی کی) ۔ اور جو چیزیں اسے تقویت دیتی ہیں ان میں سے آپ ﷺ کا یہ قول بھی ہے : ” اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ سے غافل اور گمراہ کردیا جو ہم سے پہلے تھے “۔ اور یہ اس معنی میں نص ہے۔ اور اس کے بعض طرق میں یہ آیا ہے : ” پس یہ ان کا وہ دن ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا (اور) انہوں نے اس میں اختلاف کیا “۔ اور یہ پہلے قول کی حجت اور دلیل ہے۔ اور یہ بھی مروی ہے : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے ان پر جمعہ فرض کیا جو ہم سے پہلے تھے پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کیلئے ہدایت عطا فرما دی پس اس میں لوگ ہماری اتباع کرتے ہیں “۔ قولہ تعالیٰ : علی الذین اختلفوا فیہ مراد جمعہ کے دن میں اختلاف کا ہونا ہے، جیسا کہ ہم اسے بیان کرچکے ہیں، انہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا۔ اور اس کی اپنے ما قبل کے ساتھ وجہ اتصال یہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کو حق کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو آپ کے ساتھ اختلاف کرنے سے ڈرایا کہ ان پر بھی ایسی سختی اور پابندی عائد کردی جائے گی جیسا کہ یہودیوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔
Ayah 16:125آیت نمبر 125
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1: یہ آیت مکہ مکرمہ میں قریش کی صلح کے بارے معاملات کرنے کے وقت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی شریعت کی طرف بڑی شفقت اور نرمی کے ساتھ دعوت دیں نہ کہ درشتی اور سختی کے ساتھ، اور اسی طرح قیامت کے دن تک مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرنی چاہئے۔ پس یہ آیت موحدین میں سے گنہگاروں اور نافرمانوں کے اعتبار سے محکم ہے، اور کافروں کے حق میں قتال کرنے کے بارے منسوخ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ جسے یہ احوال کفار میں سے کسی پر قدرت دیں اور بغیر قتال کے اس کے ایمان کی امید کی جاسکتی ہو تو یہ آیت اس کے بارے میں محکم ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:126آیت نمبر 126
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جمہور علمائے تفسیر نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، اور یہ حضرت حمزہ ؓ کا غزوہ احد کے دن مثلہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور یہ صحیح بخاری اور کتاب السیر میں موجود ہے۔ اور نحاس اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے، اور اس کا معنی اس کے ماقبل مکی آیت کے ساتھ انتہائی خوبصورت اتصال کے ساتھ متصل ہے، کیونکہ رفتہ رفتہ رتنے ان لوگوں سے جنہیں دعوت دی جاتی ہے اور نصیحت کی جاتی ہے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے ساتھ مناظرہ اور مباحثہ کیا جاتا ہے، اور پھر ان کی طرف جنہیں ان کے فعل پر جزا دی جائے گی، لیکن جو جمہور نے روایت کیا ہے وہ زیادہ پختہ اور ثابت ہے۔ دار قطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب مشرکین مقتولین احد سے واپس پھرے تو رسول اللہ ﷺ ان کی طرف گئے اور انتہائی بھیانک اور دردناک منظر دیکھا، آپ ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کو دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کردیا گیا ہے، ان کی ناک کاٹ لی گئی ہے، اور ان کے کان بھی کاٹ لئے گئے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اگر عورتیں غمزدہ نہ رہتیں یا میرے بعد یہ سنت نہ بن جاتی تو میں انہیں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں درندوں اور پرندوں کے شکموں سے دوبارہ زندہ کرتا میں ضرور ان کی جگہ ستر افراد کا مثلہ کروں گا “۔ پھر آپ ﷺ نے ایک چادر منگائی اور اس کے ساتھ ان کے چہرے کو ڈھانپ دیا، اور آپ کے پاؤں اس سے باہر نکل گئے پس رسول اللہ ﷺ نے ان کا چہرہ ڈھانپ دیا اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) رکھ دی، پھر انہیں سامنے رکھا اور ان پر دس تکبیریں کہیں۔ بعد ازاں ایک ایک شہید کو لایا جاتا اور اسے وہاں رکھا جاتا اور حضرت حمزہ ؓ کو اپنے جگہ پر رہنے دیا گیا، یہاں تک کہ آپ پر ستر مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی، اور شہدائے احد بھی ستر تھے، پس جب وہ دفن کر دئیے گئے اور آپ ان سے فارغ ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظہ۔۔۔۔۔۔ وما صبرک الا باللہ پس رسول اللہ ﷺ نے صبر کیا اور کسی کا مثلہ نہ کیا۔ اسے اسماعیل بن اسحاق نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ اور علامہ طبری (رح) نے ایک گروہ سے یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کے ساتھ مظالم کئے گئے کہ جب انہیں اپنے ساتھ ظلم کرنے والے پر قدرت حاصل ہوجائے تو وہ اس کے ساتھ اس کے ظلم کی مثل ہی سلوک کریں اس سے زیادہ کی طرف تجاوز نہ کریں۔ اسے ماوردی نے ابن سیرین اور مجاہد رحمہما اللہ تعالیٰ سے بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: اہل علم نے اسکے بارے اختلاف کیا ہے کہ جس آدمی پر کسی نے مال چھین کر ظلم کیا پھر ظالم نے اسی مظلوم کو مال پر امین بنا دیا، کیا اس کیلئے اس میں اتنی مقدار خیانت جائز ہے جتنا اس نے اس کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی ہے ؟ تو ایک گروہ نے کہا : اس کیلئے ایسا کرنا جائز ہے ؛ ان میں حضرت ابن سیرین، حضرت ابراہیم نخعی، سفیان اور حضرت مجاہد ہیں اور انہوں نے اس آیت اور اس کے عموم لفظ سے استدلال کیا ہے۔ اور امام مالک (رح) اور ان کے ساتھ ایک جماعت نے کہا ہے : اس کے لئے خیانت کرنا جائز نہیں ہے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : ” اس تک امانت پہنچا دے جس نے تجھے امین بنایا ہے اور اس کے ساتھ خیانت نہ کر جس نے تیرے ساتھ خیانت کی ہے “۔ اسے دار قطنی نے روایت کیا ہے اور سورة البقرہ میں یہ مکمل بحث گزر چکی ہے۔
اور مسند ابن اسحاق میں ہے کہ یہ حدیث اس آدمی کے بارے میں وارد ہوئی ہے جس نے کسی دوسرے آدمی کی بیوی کے ساتھ زنا کیا، پھر اس دوسرے نے اس کی بیوی پر قدرت پالی اس طرح کہ اس نے بیوی کو اس کے پاس چھوڑا اور خود سفر پر چلا کیا۔ پس اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا : أدالامانۃ الی من ائتمنک ولا تخن من خانک۔ اور اسی بنا پر امام مالک (رح) کا قول مال کے بارے میں قوی ہوجاتا ہے، کیونکہ خیانت اس میں لاحق ہوچکی ہے، اور یہ ایسی رذالت اور کمینگی ہے جس سے وہ جدا اور الگ نہیں ہوسکتا، پس چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائے۔ اور اگر وہ مال سے حق لینے پر قادر ہو تو وہ اس پر امین نہ بنے تو یہ اس کے جائز ہونے کے مشابہ ہوگا، گویا اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے، جیسا کہ اگر کوئی حاکم سے حکم اور فیصلہ لینے پر قدرت رکھتا ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ واصبر وما صبرک الا باللہ ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ قصاص میں تماثل اور برابری جائز ہے، پس جس نے لوہے کے ساتھ قتل کیا اسی کے ساتھ قتل کیا جائے، اور جس نے پتھر کیساتھ قتل کیا اسے پتھر کے ساتھ قتل کیا جائے، اور واجب مقدار سے تجاوز نہیں کیا جائے گا، اور یہ بحث مکمل طور پر سورة البقرہ میں گزر چکی ہے، والحمدللہ۔
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اذیتوں کو عقوبت کا نام دیا ہے، حالانکہ حقیقۃً عقوبت وہ ہے جو دوسری ہے (یعنی اذیت کے مقابلے میں جو سزا دی جائے وہ عقوبت کہلاتے ہے) ، تو بیشک ایسا اس لئے کیا ہے تاکہ دونوں لفظ برابر ہوجائیں اور تاکہ قول کا آغاز اس کے مناسب ہوجائے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس اقوال کے برعکس ہے : ومکروا ومکر اللہ (آل عمران :54) اور اللہ یستھزی بھم (البقرہ : 15) کیونکہ ان میں دوسرا لفظ مجاز ہے اور پہلا حقیقت ہے ؛ یہ ابن عطیہ نے کہا ہے۔
Ayahs 16:127–128آیت نمبر 127 تا 128
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1: ابن زید نے کہا ہے : یہ آیت آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔ اور جمہور لوگ اس پر ہیں کہ یہ محکم ہے، یعنی آپ اس کی مثل سزا دینے سے عفو و درگزر کے ساتھ صبر کیجئے جیسی انہوں نے مثلہ وغیرہ کے ساتھ سزا دی۔ ولا تحزن علیھم یعنی آپ شہدائے احد پر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں پہنچ چکے ہیں۔ ولاتک فی ضیق، ضیق ضیقۃ کی جمع ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
کشف الضیقۃ عنا وفسح
(اس نے ہم سے تنگی دور کردی اور وسعت و خوشحالی عطا کردی)
اور جمہور کی قرأت ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے، ابن کثیر نے ضاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے نافع سے روایت کیا گیا ہے، اور یہ اس کی غلطی ہے جس نے اسے روایت کیا ہے۔ بعض اہل لغت نے کہا ہے : ضاد میں فتحہ اور کسرہ مصدر میں دونوں لغتیں ہیں۔ اخفش نے کہا ہے : الضیق اور الضیق ضاق یضیق کا مصدر ہے۔ اور اس کا معنی ہے : آپ کا سینہ ان کے کفر سے تنگ نہ ہو (یعنی آپ پریشان نہ ہوں) اور فراء نے کہا ہے : الضیق وہ ہے جس پر تیرا سینہ تنگ ہوجائے، اور الضیق وہ ہے جو اس شی میں ہوتی ہے جو وسیع اور تنگ ہوتی رہتی ہے : مثلاً گھر اور کپڑا وغیرہ۔ اور ابن السکیت نے کہا ہے : یہ دونوں لفظ مساوی اور برابر ہیں۔ کہا جاتا ہے : فی صدرہ ضیق وضیق (اس کے سینے میں تنگی ہے) اور قتبی نے کہا ہے : ضیق ضیق کا مخفف ہے، یعنی لاتکن فی أمر ضیق (تو کسی تنگ معاملے میں نہ پڑ) پھر اس میں تخفیف کردی گئی، جیسا کہ ھین اور ھین ہیں۔ اور ابن عرفہ نے کہا ہے : کہا جاتا ہے : ضاق الرجل تب جب آدمی بخیل ہوجائے، اور أضاق تب جب وہ محتاج ہوجائے۔ اور قولہ تعالیٰ : ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو اس کی مدد و نصرت، معاونت، فضل، نیکی اور اس کی تائید کے ساتھ فواحش اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ اور احسان کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ برم بن حبان کو ان کی موت کے وقت کہا گیا : ہمیں کوئی وصیت فرمائیے، تو انہوں نے کہا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات اور سورة النحل کے آخر کی وصیت کرتا ہوں : ادع الی سبیل ربک سے تا آخر۔