16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے پیں گھر بنا۔

آیت نمبر 68 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : واوحی ربک الی النحل وحی کے بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے اور وہ یہ کہ یہ کبھی بمعنی الہام ہوتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ابتداء ہی بغیر کسی ظاہری سبب کے دل میں بات القا کردیتا ہے “۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے : ونفس وما سوھا۔ فالھمھا فجورھا وتقوھا۔ (الشمس) (قسم ہے نفس کی اور اس کو درست کرنے والے کی پھر اس کے دل میں ڈال دیا اس کی نافرمانی اور اس کی پارسائی کو) اور اسی سے چوپائے اور وہ چیز ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان میں اپنے منافع پانے، اپنے نقصان اور تکلیف کے مقام سے اجتناب کرنے اور اپنی معاش کی تدیر کرنے کے بارے پیدا فرما دیتا ہے۔ اور تحقیق اللہ عزوجل نے بےجان چیزوں کے بارے میں اسی کی خبر دی اور فرمایا : تحدث اخبارھا۔ بان ربک اوحی لھا۔ (الزلزلہ) (اس روز وہ بیان کر دے گی اپنے سارے حالات، کیونکہ آپ کے رب نے اسے (یونہی) حکم بھیجا ہے) ۔ ابراہیم حرمی نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ کو بےجان چیزوں میں قدرت ہے اس کے بارے معلوم نہیں وہ کیا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے پاس سے اس کے بارے کچھ نہیں لائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بارے آگاہ کردیا ہے یعنی ان کو الہام کر دیا ہے۔ اور تاویل کرنے والے علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہاں وحی بمعنی الہام ہے۔ اور یحییٰ بن وثاب نے حا کے فتحہ کے ساتھ الی النحل پڑھا ہے۔ اور اسے نحل کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ شہد عطا فرمایا ہے جو اس سے نکلتا ہے ؛ یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور جوہری نے کہا ہے : النحل اور النحلۃ الدبر (شہد کی مکھیوں کے انبوہ) کا اطلاق نر اور مادہ دونوں پر ہوتا ہے، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے : یعسوب (نر مکھی، شہد کی مکھیوں کا بادشاہ) اور اہل حجاز کی لغت میں النحل کو اور ہر اس جمع کو جس کے درمیان اور اس کی واحد کے درمیان صرف ھا کا فرق ہوتا ہے مونث لایا جاتا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تمام مکھیاں جہنم میں ہوں گی اللہ تعالیٰ انہیں اہل جہنم کے لئے عذاب بنا دے گا سوائے شہد کی مکھی کے “۔ اسے حکم ترمذی نے ” نوادر الاصول “ میں ذکر کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور صرد (لٹورا، موٹے سر، سفید، پیٹ اور سبز پیٹھ کا ایک پرندہ جو چھوٹے پرندوں کو شکار کرتا ہے) کو مارنے سے منع فرمایا ہے، اسے ابو داؤد نے بھی نقل کیا ہے، اور اس کا بیان سورة النمل میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : ان اتخذی من الجبال بیوتا ومن الشجر یہ تب ہے جب ان کا کوئی مالک نہ ہو ومما یعرشون اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کے چھتے ان تین قسموں میں بنائے ہیں یا تو پہاڑوں اور ان کی غاروں میں ہوں، درختوں کے درمیان (ان کی ٹہنیوں کے ساتھ) ہوں، یا پھر ان چھپروں، خالی جگہوں اور دیواروں وغیرہ کے ساتھ جنہیں لوگ بناتے ہیں۔ اور یہاں عرش بمعنی ھیا (تیار کرنا) ہے۔ اور اس کا اکثر استعمال ایسے چھپر کے لئے ہوتا ہے جو لکڑیاں گاڑ کر، ٹہنیوں کو جوڑ کر سایہ حاصل کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے، اور اسی سے وہ عریش ہے جو غزوہ بدر کے دوران رسول اللہ ﷺ کیلئے بنایا گیا تھا، اور اسی سے لفظ عرش ہے۔ کہا جاتا ہے : عرش یعرش ویعرش (یعنی را کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ) ، اور اسے دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ ابن عامر نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی تمام نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور انہوں نے اس میں عاصم (رح) سے اختلاف کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: ابن عربی (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو پیدا فرمایا اور اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اسے اپنا چھتہ مسدس (چھ کونوں والا) بنانے کا الہام کیا، پس اسی سبب سے وہ جڑا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک ٹکڑے کی مانند ہوجاتا ہے، اور وہ اس لئے کہ مثلث (تکون) سے معشر (دس کونوں والی شکل) تک تمام شکلیں جب ان میں سے ہر کوئی اپنی امثال کے ساتھ جمع ہو تو وہ آپس میں جڑتی نہیں اور ان دونوں کے درمیان شگاف آجاتا ہے، سوائے مسدس شکل کے، کیونکہ یہ جب اپنی امثال کے ساتھ جمع ہو تو یہ جڑ جاتی ہے اور اس طرح ہوجاتی ہے گویا کہ وہ ایک ٹکڑا ہے۔
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف راستوں پر چلی جا اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے بیشک سوچنے والوں کے لئے اس میں بھی نشانی ہے۔

آیت نمبر 69 قولہ تعالیٰ : ثم کلی من کل الثمرت اور یہ اس لئے ہے کیونکہ یہ درختوں سے کلیاں کھاتی ہیں۔ فاسلکی سبل ربک پھر تو اپنے رب کی راہوں پر چلتی رہا کر۔ اور السبل کا معنی الطرق (راستے) ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی نسبت اپنی طرف کی ہے کیونکہ وہ ان کا خالق ہے، یعنی تو پہاڑوں اور درختوں کے درمیان میں رزق تلاش کرنے کے لئے اپنے رب کی راہوں پر داخل ہوجا۔ ذللا یہ ذلول کی جمع ہے اور اس سے مراد مطیع کیا ہوا ہے، یعنی وہ راہیں جو مطیع اور مسخر کردی گئی ہیں، پس ذللا یہ النحل سے حال ہے، یعنی شہد کی مکھی تابعداری کرتی ہے اور وہاں جاتی ہے جہاں اس کا مالک چاہے، کیونکہ یہ اپنے مالکوں کی اتباع اور پیروی کرتی ہیں جہاں وہ جائیں ؛ یہ ابن زید نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قول باری تعالیٰ ذللا سے مراد راستے ہیں۔ اور یغسوب شہد کی مکھیوں کی سردار، ملکہ مکھی، جب وہ ٹھہر جائے تو یہ ٹھہر جاتی ہیں اور جب وہ چل پڑے تو یہ چل پڑتی ہیں۔ قولہ تعالیٰ : یخرج من بطورنھا شراب مختلف الوانہ فیہ شفآء للناس اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : یخرج من بطونھا یہ خطاب سے خبر کی طرف رجوع ہے اس بنا پر کہ اس میں نعمتوں کو شمار کرنا اور عبرت پر تنبیہ کرنا ہے پس فرمایا : یخرج من بطونھا شراب یعنی ان کے شکموں سے شہد نکلتا ہے۔ اور جمہور لوگوں کا موقف یہ ہے کہ شہد شہد کی مکھیوں کے مونہوں سے نکلتا ہے۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے ایک قول منقول ہے جو آپ نے اس دنیا کی حقارت بیان کرنے کیلئے کیا ہے کہ ابن آدم کا اشرف ترین اور عمدہ لباس وہ ہے جس میں ایک کیڑے کا لعاب ہے اور اس کا عظیم اور بہترین مشروب شہد کی مکھی کی بیٹ ہے۔ تو اس قول کا ظاہر اس پر دال ہے کہ شہد منہ کے سوا کسی اور مقام سے نکلتا ہے۔ المختصر یہ کہ وہ نکلتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ اس کے منہ سے نکلتا ہے یا اس کے نیچے سے، لیکن اس کی صلاحیت اور منفعت ان کے سانسوں کی گرمائش کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ارسطا طالیس نے شیشے کا ایک مکان بنایا تاکہ وہ اس کیفیت کو دیکھ سکے جو وہ عمل کرتی ہیں، تو انہوں نے وہ عمل نہ کیا یہاں تک کہ شیشے کا اندرونی حصہ مٹی کے ساتھ لتھڑ گیا، لت پت ہوگیا، اسے غزنوی نے ذکر کیا ہے۔ اور کہا : من بطونھا کیونکہ کھانوں میں تبدیلی اور تغیر پیٹ میں ہی ہوتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : مختلف الوانہ اس سے مراد اس کی مختلف انواع اور اقسام ہیں یعنی سرخ، سفید، زرد، جامد اور سائل (بہنے والا) مائع۔ ماں ایک ہوتی ہے اور اولاد مختلف ہوتی ہے یہ اس پر دلیل ہے کہ قدرت نے اسے غذا کی تقسیم کے اعتبار سے تقسیم کردیا ہے، جیسا کہ اس کا ذائقہ کھائی جانے والی چیزوں کے مختلف ہونے کے حساب سے مختلف ہوتا ہے، اسی معنی میں حضور نبی مکرم ﷺ کے لئے حضرت زینب کا قول ہے : جرست نحلہ العرفط (اس شہد کی مکھی نے ببول کے درخت کو چوسا ہے) اس لئے اس کی بو مغافیر کی بو کے مشابہ ہے۔ مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : فیہ شفآء للناس، فیہ میں ضمیر شہد کے لئے ہے ؛ یہ جمہور نے کہا ہے، یعنی شہد میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ اور حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد، ضحاک، فراء، اور ابن کیسان سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ ضمیر قرآن کریم کے لئے ہے، یعنی قرآن میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ قول اچھا ہے یا ان میں لوگوں کیلئے شفا ہے جو ہم نے تم پر آیات وبراہین میں سے بیان کی ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : شہد میں شفا ہے، اور یہ قول بھی بین اور واضح ہے، کیونکہ اکثر وہ مشروبات اور معجونیں جن کے ساتھ علاج کیا جاتا ہے ان کی اصل شہد ہے۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا ہے : جنہوں نے کہا ہے کہ مراد قرآن کریم ہے یہ اس سے بہت بعید ہے جو میں ان کے طرف سے صحیح خیال کرتا ہوں، اور اگر نقلا صحیح بھی ہو تو عقلا صحیح نہیں، کیونکہ سیاق کلام مکمل طور پر شہد کے بارے ہے، قرآن کریم کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : جہلاء میں سے ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ اس آیت سے مراد اہل بیت اور بنو ہاشم ہیں کہ وہ نحل (شہد کی مکھی) ہیں، اور شراب قرآن اور حکمت ہے۔ ان میں سے کسی نے منصور ابو جعفر عباسی کی مجلس میں اس کا ذکر کیا، تو حاضرین میں سے کسی آدمی نے اس کو کہا : اللہ تعالیٰ نے تیرا کھانا، پینا اس میں سے بنایا ہے جو بنی ہاشم کے پیٹوں سے نکلتا ہے، پس اس نے حاضرین کو ہنسا دیا اور وہ دوسرا مبہوث ہوگیا اور اس پر اپنے قول کی کمزوری ظاہر ہوگئی۔ مسئلہ نمبر 4: علماء کا اس قول باری تعالیٰ : فیہ شفآء للناس کے بارے میں اختلاف ہے کیا یہ اپنے عموم پر ہے یا نہیں ؟ تو ایک گروہ نے کہا ہے : یہ اپنے عموم پر ہے اس میں ہر حال میں اور ہر ایک کے لئے شفا ہے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ کو جب بھی کسی زخم یا کسی اور بیماری کی شکایت ہوتی تو اس پر شہد استعمال کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر پھوڑا نکل آتا تو اس پر شہد لگاتے تھے۔ اور نقاش نے ابو وجرہ سے بیان کیا ہے کہ وہ شہد کے ساتھ سرمہ لگاتے تھے اور شہد ہی بطور دست آور دوا پیتے تھے اور پھر شہد کے ساتھ ہی علاج کرتے تھے۔ اور روایت ہے کہ عوف بن مالک اشجعی (رح) بیمار ہوگئے تو ان کو کہا گیا : کیا ہم آپ کا علاج نہ کریں ؟ تو انہوں نے فرمایا : میرے پاس پانی لاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ونزلنا من السمآء مآء مبرکا (ق :9) (اور ہم نے اتار آسمان سے برکت والا پانی) ۔ پھر فرمایا : میرے پاس شہد لاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : فیہ شفآء للناس (اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے) اور میرے پاس زیتوں کا تیل لاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : من شجرۃ مبرکۃ (النور : 35) (برکت والے درخت سے) پس وہ فوراً یہ تمام چیزیں لے آئے تو آپ نے ان تمام کو آپس میں ملا دیا پھر یہ شربت پی لی تو وہ صحت یاب ہوگئے۔ اور ان میں سے بعض علماء نے کہا ہے : بیشک یہ عموم پر ہے جب یہ سرکے کے ساتھ ملایا جائے اور اسے پکایا جائے تو یہ ایسا مشروب تیار ہوگا جو ہر حال میں ہر بیماری کے لئے نفع بخش ثابت ہوگا۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے : بیشک یہ خاص معنی پر ہے اور یہ ہر بیماری میں، اور ہر انسان کے لئے عام ہونے کا تقاضا نہیں کرتا، بلکہ یہ تو اس کے بارے خبر ہے کہ یہ اسی طرح باعث شفا ہے جس طرح اس کے علاوہ دیگر ادویہ بعض کے لئے، بعض حالات میں باعث شفا ہوتی ہیں، پس آیت کا فائدہ اس کے بارے یہ خبر دینا ہے کہ یہ دوا ہے کیونکہ اس کے ساتھ اکثر شفا ہوجاتی ہے۔ اور یہ مشروبات اور معجونوں میں سے دیگر ادویہ کے لئے یہ جزا اور ان کا معاون ہوگیا اور یہ کوئی پہلا لفظ نہیں ہے جسے خاص کیا گیا ہے بلکہ قرآن اس سے بھرا پڑا ہے اور لغت عرب میں بہت سے عام بمعنی خاص اور خاص بمعنی عام آتے ہیں۔ اور جو چیز اس پر دلا لت کرتی ہے کہ یہ اپنے عموم پر نہیں ہے وہ یہ کہ سفا نکرہ سیاق اثبات میں ہے، اور اس میں عموم نہیں ہوتا اس پر اہل زبان، محققین اہل علم، اور مختلف اہل اصول کا اتفاق ہے، لیکن اسے اہل الصدق والعزم میں سے ایک گروہ نے عموم پر محمول کیا ہے، پس وہ ہر قسم کے دردوں اور بیماریوں سے شہد کے ساتھ شفا حاصل کرتے ہیں، اور وہ اپنی بیماریوں سے قرآن کریم کی برکت اور تصدیق وایقان کی صحت کے ساتھ شفا پاتے ہیں۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : وہ جس کی نیت کمزور ہو اور اس کی عادت دین پر غالب ہو تو اس نے اس کا مفہوم اطباء کے قول کے مطابق لیا ہے، اور یہ سب اسی حکیم کی حکمت میں سے ہے جو وہ سب کچھ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اگر کوئی کہنے والا کہے : ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہیں شہد نفع دیتا ہے اور وہ بھی جنہیں یہ نقصان اور ضرر دیتا ہے، تو پھر یہ لوگوں کے لئے شفا کیسے ہوسکتا ہے ؟ تو اسے کہا جائے گا : پانی ہر شے کے لئے حیات ہے حالانکہ ہم نے کئی دیکھے ہیں جنہیں پانی مار دیتا ہے جب وہ اسے اس حال میں استعمال کریں جب ان کے بدن کی بیماری اس کی ضد اور اس کے خلاف ہو۔ اور ہم نے شہد کی شفا تو اس کے مشروبات میں سے اکثر میں دیکھی ہے ؛ یہ معنی زجاج نے بیان کیا ہے۔ اور اطباء نے اپنے سرخیل بکرۃ سے سکنجبین کے ہر بیماری میں عام نفع بخش ہونے کی مدح پر اتفاق کیا ہے۔ اور اس کی اصل شہد ہے اور اسی طرح تمام معجونین ہیں، اس بنا پر کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس اشکال کو ختم کردیا اور احتمال کی وجہ کو دور کردیا جس وقت آپ نے اس آدمی کے لئے شہد پینے کا حکم ارشاد فرمایا جو اپنے پیٹ میں بیماری کی شکایت کرتا ہے، سو جب اس کے بھائی نے آپ کو عرض کی کہ اسے استطلاق بطن (پیٹ کھلنے کی بیماری) میں اضافہ ہوگیا ہے تو آپ نے اسے دوبارہ یہی مشروب پینے کا حکم دیا تو وہ صحت یاب ہوگیا اور آپ نے فرمایا : صدق اللہ وکذب بطن أخیک (اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے اور تیرے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا ہے) ۔ مسئلہ نمبر 6: بعض زندیق اطباء نے اس حدیث پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے : تحقیق اطباء کا اس پر اجماع ہے کہ شہد دست لاتا ہے (پیٹ کر نرم کرتا ہے) تو پھر یہ اس کے لئے کیسے مفید ہو سکتا ہے جسے پہلے ہی اسہال کی بیماری ہو، تو جواب یہ ہے کہ وہ قول اس کے لئے فی نفسہ حق ہے جس کو حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تصدیق حاصل ہوچکی ہے، اور وہ اسے اسی طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو آپ نے معین فرمایا ہے اور یہ وہ محل ہے جس میں آپ نے اسے نیت اور حسن ضمیر کا اظہار کرنے کا حکم دیا ہے، تو وہ اس کی منفعت اور فوائد دیکھ لے گا اور اس کی برکت پا لے گا، جیسا کہ اس شہد والے اور اس کے سوا دوسروں کو اتفاق ہوا ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور رہا یہ کہ اس پر اجماع بیان کیا گیا ہے تو یہ ان کی جہالت پر نقلی دلیل ہے اس حیثیت سے کہ انہوں نے اسے مقید نہیں کیا بلکہ مطلق کہا ہے۔ امام عبد اللہ مازری نے کہا ہے : یہ جان لینا چاہئے کہ اسہال کا عارضہ کثیر وجوہ سے ہو سکتا ہے، ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ بدہضمی اور ہیضہ کی وجہ سے دست شروع ہوجاتے ہیں، تو اسکی مثل میں تمام اطباء کا اس پر اجماع ہے کہ اس کا علاج یہ ہے کہ طبیعت اور اس کے فعل کو (اپنے حال پر) چھوڑ دیا جائے اور اگر اسہال کی معاون دوا کی ضرورت ہو تو وہ استعمال کی جائے جب تک قوت باقی ہو، کیونکہ انہیں روکنا نقصان دہ ہے، تو جب یہ واضح ہوگیا تو پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے اس آدمی کو اسہال کی بیماری پیٹ (میں ہوا) بھرنے اور ہیضہ کے سبب لگی ہو تو آپ ﷺ نے اسے شہد پینے کا حکم ارشاد فرمایا ہو پس وہ زیادہ ہوگئے یہاں تک کہ وہ مادہ ختم ہوگیا اور اسہال رک گئے تو نتیجہً شہد کا پینا اس کیلئے موافق اور نفع بخش ثابت ہوا، پس جب یہ بات طب کی صناعت سے نکلی ہے تو اس نے معترض کے اس صناعت سے جاہل اور ناواقف ہونے سے بھی آگاہ کردیا۔ فرمایا : ہم ایسے نہیں کہ ہم حضور نبی مکرم ﷺ کے قول پر یقین کریں اس لئے کہ اطباء آپ کی تصدیق کرتے ہیں (نہیں) بلکہ اگر وہ آپ کو جھٹلا دیں تو یقیناً انہیں جھٹلا دیں گے اور یقیناً ہم ان کا انکار کردیں گے اور آپ ﷺ کی تصدیق کریں گے۔ پس اگر ہم نے ان کے قول کی صحت کو مشاہدہ کے ساتھ پالیا تو اس وقت ہم رسول اللہ ﷺ کے کلام کی تاویل اور اس معنی پر اس معنی پر اس کی تخریج کے محتاج ہوں گے جس پر وہ صحیح ہوسکتا ہے جبکہ اس پر دلائل موجود ہیں کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے۔ مسئلہ نمبر 7: فی قولہ تعالیٰ : فیہ شفآء للناس اس میں دوا وغیرہ پینے کے ساتھ علاج کرنے کے جواز پر دلیل ہے بخلاف ان اجل علماء کے جنہوں نے اسے ناپسند کیا ہے، اور وہ ان صوفیہ کے طریقہ پر ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ ولایت مکمل نہیں ہوتی مگر تب جب بندہ اس سب کے ساتھ راضی ہو جو اس پر مصیبت اور تکلیف وغیرہ نازل ہو، اور اس کے لئے علاج جائز نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جنہوں نے اس کا انکار کیا ہے، صحیح میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہر بیماری کے لئے دوا ہے پس جب بیماری کی دوا استعمال کی جائے تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے وہ شفا یاب ہوجاتا ہے “۔ ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت اسامہ بن شریک سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا : اعرابیوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم علاج نہ کریں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیوں نہیں۔ اے اللہ کے بندو ! تم علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کے لئے شفا یا دوا بھی رکھی ہے سوائے ایک بیماری کے “۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” بڑھاپا “۔ یہ الفاظ ترمذی کے ہیں، اور انہوں نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور ابو خزیمہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کا دم کے بارے کیا خیال ہے جو ہم کراتے ہیں، اور دوا کے بارے جس کے ساتھ ہم علاج کرتے ہیں، اور وہ پرہیز اور احتیاط جسے ہم اپناتے ہیں، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی شے کو رد کردیتی ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہے “ (امام ترمذی نے) فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔ اس حدیث کے سوا ابو خزیمہ سے کوئی حدیث معروف نہیں۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” اگر تمہاری دواؤں اور علاج میں سے کسی شی میں خیر اور بھلائی ہے تو وہ پچھنے لگانے یا شہد پینے یا آگ کے ساتھ جلانے کی شرط میں ہے اور میں داغ لگانا پسند نہیں کرتا “۔ اسے صحیح نے نقل کیا ہے۔ اور اس باب میں احادیث شمار سے زیادہ ہیں۔ اور جمہور علماء کا موقف یہی ہے کہ علاج کرنا اور دم کرانا مباح ہے۔ روایت کا ک گیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ لقوہ کی وجہ سے داغ لگاتے اور بچھو کے ڈسنے کا دم فرماتے۔ ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ اپنے بچے کو تریاق پلاتے۔ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس کا کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جنہوں نے اسے (علاج کو) مکروہ قرار دیا ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے استدلال کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ایک گروہ اپنے چھوٹے بڑوں سمیت اکٹھا جنت میں داخل ہوگا وہ تعویذ گنڈہ نہیں کراتے ہیں، نہ وہ داغ لگواتے ہیں، اور نہ وہ فال پکڑتے ہیں، اور صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہیں “۔ انہوں نے کہا ہے : پس مومن پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو لازم پکڑتے ہوئے، اس پر توکل کرتے ہوئے، اس پر اعتماد کرتے ہوئے، اور ہر شے سے کٹ کر اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایام مرض اور ایام صحت تمام کو جانتا ہے پس اگر مخلوق اس میں کمی کرنے یا زیادتی کرنے کی حریص ہو تو وہ اس پر قادر نہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا (الحدید : 22) (نہیں آئی کوئی مصیبت زمین پر اور یہ تمہاری جانوں پر مگر وہ لکھی ہوئی ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم ان کو پیدا کریں) ۔ اور ان میں سے جو اس طرف گئے ہیں وہ اہل فضل و اثر کی ایک جماعت ہے، اور یہی حضرت ابن مسعود اور حضرت ابو درداء ؓ کا قول ہے۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ حضرت ابن مسعود ؓ کی عیادت کیلئے اس بیماری کے دوران تشریف لے گئے جس میں ان کا وصال ہوا تو حضرت عثمان ؓ نے پوچھا : تم کیا تکلیف پا رہے ہو ؟ انہوں نے کہا میرے گناہ (باعث تکلیف ہیں) ۔ آپ نے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : اپنے رب کی رحمت، انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہارے لئے کوئی طبیب نہ بلاؤں ؟ تو انہوں نے کہا : طبیب نے ہی تو مجھے بیمار کیا ہے۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ مکمل روایت سورة واقعہ کے فضائل میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور وکیع نے ذکر کیا ہے : ابو ہلال نے معاویہ بن قرۃ سے ہمیں بیان کیا ہے انہوں نے کہا : حضرت ابو درداء ؓ بیمار ہوئے تو وہ ان کی عیادت کو گئے اور کہا : کیا ہم آپ کیلئے کوئی حکیم نہ بلائیں ؟ انہوں نے جواب دیا : طبیب نے ہی تو مجھے لٹا رکھا ہے۔ اور اسی طرف ربیع بن خیثم بھی گئے ہیں۔ اور سعید بن جبیر نے بھی تعویز، منتر کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اور حسن دودھ اور شہد کے سوا تمام ادویہ پینا مکروہ جانتے تھے۔ اور پہلے فریق نے حدیث کا جواب دیا ہے کہ اس میں کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے، کیونکہ اس میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ داغ لگانے کی کسی خاص نوع کا ارادہ کرنا مکروہ ہو، دلیل یہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے جنگ احزاب کے دوران ابی کو زگ اکحل پر داغ لگایا جب انہیں تیر مارا گیا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” شفا تین میں ہے “۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور اسی طرح یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے منتر اور تعویذوں کا قصد مراد ہو جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : وننزل من القرآن ما ھو شفآء (الاسراء : 82) (اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن میں وہ چیزیں جو (باعث) شفا ہیں) ۔ جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور آپ ﷺ نے اپنے اصحاب کو دم فرمایا اور انہیں دم کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر 8: امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ شہد میں زکوٰۃ نہیں ہے اگرچہ یہ کھایا بھی جاتا ہے اور خوراک بھی ہے۔ اور اس میں امام شافعی (رح) کا قول مختلف ہے، اور اپنے نئے قول میں انہوں نے جو قطعی بات کی ہے وہ یہ ہے کہ اسمیں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کہ شہد میں زکوٰۃ واجب ہے چاہے اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر، کیونکہ آپ کے نزدیک اس میں نصاب شرط نہیں ہے۔ اور امام محمد بن حسن (رح) تعالیٰ نے کہا ہے : اس میں کوئی شے نہیں ہے یہاں تک کہ یہ آٹھ افراق تک پہنچ جائے اور ایک فرق میں چھتیس رطل عراقی ہوتے ہیں۔ اور امام ابو یوسف (رح) نے کہا ہے : ہر دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ، اور انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” شہد کے ہر دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ ہے “۔ ابو عیسیٰ نے کہا ہے : اس کی اسناد میں کلام ہے، حضور نبی مکرم ﷺ سے اس باب میں کوئی بڑی شے صحیح منقول نہیں ہے، اور اسی پر اکثر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، اور یہی امام احمد اور اسحاق بھی کہتے ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے : شہد میں کوئی شی نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 9: قولہ تعالیٰ : ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں یعنی عبرت حاصل کرتے ہیں اور شہد کی مکھی میں عبرت سے مراد اس کے عجیب معاملہ میں انصاف کی نظر سے اور گہری غوروفکر کرتے ہوئے دیکھنا ہے، تو یقین شہادت دیتا ہے کہ اسے کمزور اور ضعیف بنیاد کے باوجود لطیف صنعت کا الہام کرنے والا، اور اس کے متفرق احوال میں اسے حیلہ سازی کی مہارت عطا کرنے والا وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے ؛ جیسا کہ اس نے ارشاد فرمایا : واوحی ربک الی النحل الآیہ۔ پھر یہ کٹھا، کڑوا، میٹھا، نمکین (رس) ، اور نقصان دہ گھاس وغیرہ سبھی چوستی ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے شہد بنا دیتا ہے جو میٹھا بھی ہوتا ہے اور باعث شفا بھی، اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بیشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔

آیت نمبر 70 قولہ تعالیٰ : واللہ خلقکم ثم یتوفکم اس کا معنی پہلے بیان ہوچکا ہے۔ ومنکم من یرد الی ارذل العمر یعنی وہ اسے بدکام بنا دیتا ہے اور اسے کمینہ بنا دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ ہے جس کی قوت و طاقت اور عقل کم ہوجاتی ہے، اور وہ اسے بےعقلی تک پہنچا دیتی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد أسفل العمر (انتہائی گھٹیا اور ناکاروہ عمر) ہے، یعنی وہ اس بچے کی مثل ہوجاتا ہے جس میں کوئی عقل نہیں ہوتی اور دونوں معنی باہم قریب قریب ہیں۔ اور صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ پناہ مانگتے ہوئے کہتے تھے : اللھم إنی أعوذبک من الکسل وأعوذبک من الجبن وأعوذبک من الھرم وأعوذبک من البخل (اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کاہلی اور سستی سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں بڑھاپے سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے) اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی حدیث میں ہے وأعوذبک أن أردالی أرذل العمر الحدیث (اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں ناکارہ عمر کی طرف لوٹا دیا جاؤں) ۔ اسے امام بخاری نے نقل کیا ہے۔ لکی لا یعلم بعد علم شیئا یعنی وہ بچپنے کی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ پس وہ ان امور کو بڑھاپے کی زیادتی کی وجہ سے نہیں جان سکتا جن کو اس سے پہلے جانتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ کیفیت بندہ مومن کو لاحق نہیں ہوتی، کیونکہ مومن سے اس کا علم نہیں چھینا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تاکہ وہ چیزوں کو جاننے کے بعد ان پر عمل نہ کرسکے، پس عمل کو علم سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ عمل کے لئے عمل کی حاجت اور ضرورت ہوتی ہے ؛ کیونکہ اس کے عمل میں بڑھاپے کی تاثیر اس کے علم میں اس کی تاثیر سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور معنی مقصود منکرین بعث پر استدلال کرنا اور حجت پکڑنا ہے، یعنی وہ ذات جو اسے اس حال کی طرف لوٹانے پر قادر ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ اسے مارے اور پھر اسے زندہ کر دے۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہی نہیں کہ (سب) اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہٰی کے منکر ہیں ؟

آیت نمبر 71 قولہ تعالیٰ : واللہ فضل بعضکم علیٰ بعض فی الرزق یعنی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو غنی، بعض کو فقیر (مفلس) ، بعض کو آزاد، اور بعض کو غلام بنایا ہے۔ فما الذین فضلوا پس (اب بتاؤ) کیا وہ لوگ جنہیں رزق میں برتری بخشی گئی ہے۔ برآدی رزقھم علیٰ ما ملکت ایمانھم (وہ اپنی دولت ان لوگوں پر لوٹانے والے ہیں جو ان کے مملوک ہیں) یعنی کوئی آقا اپنے مملوک پر اس دولت میں سے کوئی شے نہیں لوٹائے گا جو اس کو بخشی گئی ہے کہ مملوک اور مالک مال میں برابر ہوجائیں۔ اور یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتوں کی پوجا کرنے والوں کی بیان کی ہے، یعنی جب تمہارے غلام تمہارے ساتھ برابر نہیں تو پھر تم میرے غلاموں کو میرے ساتھ برابر کیسے بناتے ہو ؟ پس جب ان کے غلام ان کے مالوں میں ان کے شریک نہیں تو پھر ان کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ غیر اللہ کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائیں مثلاً بت، پتھر اور دیگر وہ جن کی عبادت کی جاتی ہے جیسا کہ ملائکہ اور انبیاء وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کی مخلوق ہیں۔ یہ معنی علامہ طبری نے بیان کیا ہے، اور حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ ؓ وغیرہ نے یہی کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت انہوں نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو فرمایا : فما الذین فضلوا برآدی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم یعنی کوئی آقا اپنے مملوک پر وہ مال نہیں لوٹا تا جو اسے دیا گیا ہے کہ آقا اور غلام دونوں مال میں برابر برابر شریک ہوجائیں، تو پھر تم میرے لئے وہ کیسے پسند کرتے ہو جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے کہ تم میرے لئے میرے غلاموں اور بندوں سے بیٹا بنا رہے ہو اور اس کی نظیر یہ آیت ہے : ضرب لکم مثلا من انفسکم۔۔۔۔۔۔۔۔ فیہ سوآء (الروم : 28) (اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے تمہارے لئے ایک مثال تمہارے ہی حالات میں سے، (یہ بتاؤ) کیا تمہارے غلام تمہارے حصہ دار ہوتے ہیں اس مال میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے یوں کہ تم (اور وہ) اس میں برابر کے حصہ دار بن جاؤ) جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور یہ اس پر دلیل ہے کہ غلام مالک نہیں ہوتا جیسا کہ ابھی اس کا بیان آئے گا۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لئے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں تو کیا یہ بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں ؟

آیت نمبر 72 قولہ تعالیٰ : واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا اس میں جعل بمعنی خلق ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔ من انفسکم ازواجا یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت حواء (علیہا السلام) کو پیدا فرمایا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ جعل لکم من انفسکم کا معنی ہے تمہاری جنس سے اور تمہاری نوع سے اور تمہاری خلقت پر پیدا فرمائیں، جیسا کہ یہ ارشاد ہے : لقد جاء کم رسول من انفسکم (التوبہ : 128) یعنی انسانوں میں سے ہی تمہارے پاس رسول آیا۔ اور اس میں ان عربوں کا رد ہے جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اس نے (فلانے) جن سے شادی کر رکھی ہے اور وہ اس سے جماع کرتا ہے، حتی کہ یہ روایت ہے کہ عمرو بن ہند نے ان میں سے ایک بھتنی کے ساتھ شادی کی اور وہ اسے بجلی کی چمک سے چھپا لیتا تھا تاکہ وہ اسے دیکھ نہ لے کہ پھر بھاگ جائے، پس جب ایک رات بجلی چمکی اور اس بھتنی نے اسے دیکھ لیا تو اس نے کہا : عمرو ! اور بھاگ گئی، پھر کبھی اس نے اسے نہ دیکھا۔ اور یہ ان کے گھڑے ہوئے جھوٹوں میں سے ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کے مطابق جائز ہے، پس یہ ان فلاسفہ کا بھی رد ہے جو جنوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور وہ ان کے طعام کو محال قرار دیتے ہیں۔ ازواجا مرد کا زوج وہ اس کی بیوی ہے، کیونکہ وہ ایک فرد ہے اور جب وہ اس کی طرف منسوب ہوگئی تو وہ زوجین (جوڑا) ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اضافت مرد کی طرف کی گئی ہے نہ کہ عورت کی طرف کیونکہ وہی وجود میں عورت کی اصل ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ قولہ تعالیٰ : وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وجعل لکم من ازواجکم بنین یہ آیت بیٹوں کو نعمت شمار کرنے میں ظاہر ہے، اور بیٹوں کا وجود اکٹھا ان دونوں سے ہوتا ہے، لیکن جب بچے کی خلقت عورت میں ہوتی ہے اور یہ اسی سے الگ اور جدا ہوتا ہے (یعنی اس کے بطن سے خارج ہوتا ہے) تب اس کی اضافت اور نسبت اس کی طرف کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ غلامی اور آزادی میں اسی کی تابع ہوتا ہے اور یہ مالیت میں اس کی مثل ہوتا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : میں نے مدینہ الاسلام میں حنابلہ کے امام ابو الوفاء علی بن عقیل کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : بیشک مالیت میں بیٹا ماں کے تابع ہے اور یہ غلامی اور آزادی میں اسی کے حکم میں ہے، کیونکہ باپ سے تو نطفہ خارج ہوا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں اور نہ اس میں کوئی مالیت اور منفعت ہے، بلاشبہ اس (مرد) نے جو حاصل کیا وہ عورت کے ساتھ اور اس سے ہی حاصل کیا، پس اسی وجہ سے بچہ عورت کے تابع ہے، جیسا کہ اگر کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی زمین میں کھجور کھائے اور اس کی گٹھلی کھانے والے کے ہاتھ سے اس زمین پر گر پڑے اور اس سے کھجور کا درخت نکل آئے تو اس پر امت کا اجماع ہے کہ وہ درخت مالک زمین کی ملکیت ہوگا نہ کہ کھجور کھانے والے کی ملکیت ہوگا۔ کیونکہ جو شے کھانے والے سے الگ ہوئی ہے اس کی کوئی قیمت نہیں۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : وحفدۃ ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ان سے قول باری تعالیٰ : بنین وحفدۃ کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : میری رائے میں حفدۃ سے مراد خدام اور معاونین و مددگار ہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری تعالیٰ : وحفدۃ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : وہ مددگار اور معاونین ہیں۔ پس جس نے تیری معاونت اور مدد کی پس وہی تیرا حفید ہے۔ تو آپ سے پوچھا گیا : کیا عرب اسے جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں وہ تو اسے بولتے ہیں، کیا تو نے شاعر کا یہ قول نہیں سنا : حفد الولائد حولھن وأسلمت بأکفھن أزمۃ الأجمال یعنی انہوں نے خدمت میں خوب تیزی کی۔ اور الولائد سے مراد خدام ہیں، اور اس کا واحد ولیدۃ ہے۔ اعشی نے کہا ہے : کلفت مجھولھا نوقا یمانیۃ إذا الحداۃ علی أکسائھا حفدوا یعنی انہوں نے بہت تیزی اور جلدی کی۔ (حفدوا بمعنی أسرعوا ہے) اور ابن عرفہ نے کہا ہے : عربوں کے نزدیک الحفدہ سے مراد أعوان و مددگار ہیں۔ پس ہر وہ جس نے کوئی کام کیا اس میں اس نے اطاعت کی اور تیزی کی تو وہی حافد کہلاتا ہے، فرمایا : اسی معنی میں یہ قول ہے : إلیک نسعی ونحفد (تیری طرف ہی ہم کوشش کرتے ہیں اور خوب تیزی کرتے ہیں) اور الحفدان کا معنی سرعت اور تیزی ہے۔ ابوعبید نے کہا ہے : الحفد کا معنی عمل اور خدمت ہے۔ اور خلیل بن احمد نے کہا ہے : عربوں کے نزدیک الحفدۃ سے مراد خدام ہیں، اور یہی حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ اور ازہری نے کہا ہے : کہا گیا ہے کہ الحفدۃ سے مراد اولاد کی اولاد یعنی بچوں کے بچے (پوتے) ہیں۔ اور یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد داماد ہیں ؛ یہ حضرت ابن مسعود، علقمہ، ابو الضحا، سعید بن جبیر اور ابراہیم رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ اور اسی معنی میں شاعر کا قول بھی ہے : فلو أن نفسی طاوعتنی لأصبحت لھا حفد مما یعد کثیر ولکنھا نفس علی أبیۃ عیوف لإصھار اللئام قذور اور زرنے عبد اللہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ الحفدۃ سے مراد أصھار (داماد یا بہنوئی وغیرہ کی قرابت) ہے، (یا سسرال کی قرابت ہے) ؛ اور یہ ابراہیم نے کہا ہے، اور یہ معنی باہم متقارب ہیں۔ اصمعی نے کہا ہے : الغتن وہ رشتہ دار جو عورت کی جانب سے ہو، مثلاً اس کا باپ (سسر) اس کا بھائی (سالا) اور انہی کی مثل دیگر رشتہ دار اور اصھار ان کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : أصھر فلان الی بنی فلان وصاھر (فلان نے بنی فلاں کو سسرال بنا دیا) ۔ اور عبد اللہ کا قول ھم الأختان دونوں معنوں کا ایک ساتھ احتمال رکھتا ہے۔ یہ احتمال بھی رکھتا ہے کہ اس کی مراد عورت کا باپ اور اس کے مشابہ اس کے دیگر رشتہ دار ہوں، اور یہ احتمال بھی رکھتا ہے کہ مراد یہ ہو اور اس نے تمہارے لئے تمہاری بیویوں سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا کی ہیں، تم ان کا نکاح کرتے ہو، پس ان کے سبب سے تمہارے داماد ہوتے ہیں۔ اور عکرمہ نے کہا ہے : الحفدہ آدمی کا نفع جو اس کے بیٹے کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور اس کی اصل حفد یحفد (یعنی ماضی میں عین کلمہ مفتوح اور مضارع میں یہ مکسور ہے) سے ہے جب کوئی اپنی چال میں خوب تیزی کرے، جیسا کہ کثیر نے کہا ہے : حفد الولائد بینھن۔۔۔۔ البیت۔ اور کہا جاتا ہے : حفدت اور أحفدت یہ دونوں لغتیں ہیں جب تو کسی کی خدمت کرے۔ اور کہا جاتا ہے : حافد و حفد، جیس اخادم وخدم ہے، اور حافد و حفدۃ کافر و کفرۃ کی مثل ہیں۔ مہدوی نے کہا ہے : جنہوں نے الحفدہ سے مراد خدام لئے ہیں انہوں نے اسے اپنے ما قبل سے منقطع کردیا ہے اور اسے مقدم کرنے کی نیت کی ہے، گویا کہ یہ فرمایا : جعل لکم حفدۃ وجعل لکم من ازواجکم بنین۔ (اس نے تمہارے لئے خدام پیدا کئے اور اس نے تمہارے لئے تمہاری بیویوں سے بیٹے پیدا کئے) ۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : وہ جو ازہرمی نے کہا ہے کہ حفدۃ سے مراد بچوں کے بچے ہیں وہی قرآن کریم کا ظاہر ہے بلکہ اس کی نص ہے، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ اس نے فرمایا ہے : وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ پس اس نے حفدہ اور بنین ان سے پیدا کئے ہیں۔ (یعنی پوتے اور بیٹے) ۔ ابن عربی نے کہا ہے : میرے نزدیک اس قول میں زیادہ ظاہر بنین و حفدۃ (بیٹے اور پوتے) ہیں کہ بیٹے آدمی کی اپنی صلبی اولاد ہے اور حفدہ (پوتے) اس کے بیٹے کی اولاد ہے۔ اور لفظ کی قوت میں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اور اس معنی کی بنا پر آیت کی تقدیر یہ ہوگی : وجعل لکم من ازواجکم بنین ومن البنین حدفۃ (اس نے تمہارے تمہاری بیویوں سے بیٹے پیدا کئے اور بیٹوں سے پوتے پیدا کئے) ۔ اور یہ معنی حسن نے بیان کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: جب ہم نے حضرت مجاہد، حضرت ابن عباس، امام مالک اور علمائے لغت علیہم الرحمہ کے اس قول پر تفریح بیان کی ہے کہ الحفدہ سے مراد خدام اور اعوان و مددگار ہیں، تو پھر بیٹے اور بیوی کی خدمت عمدہ بیان کے ساتھ قرآن سے نکل آئی ؛ یہ ابن عربی نے کہا ہے۔ امام بخاری وغیرہ نے حضرت سہل بن سعد سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابو اسید ساعدی نے اپنی دعوت ولیمہ کے لئے حضور نبی مکرم ﷺ کو دعوت دی پس ان کی بیوی ان کی خدمت کرتی رہی۔ الحدیث۔ یہ سورة ھود میں گزر چکی ہے۔ اور صحیح میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے حضور نبی کریم ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کے قلادے خود اپنے ہاتھوں سے بٹے۔ الحدیث۔ اور اسی لئے ہمارے علماء نے کہا ہے : عورت پر لازم ہے کہ وہ بستر بچھائے، ہانڈی پکائے، اور گھر میں جھاڑو پھیرے، اپنی حالت اور اپنے رواج کا لحاظ رکھتے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وجعل منھا زوجھا لیسکن الیھا (الاعراف : 189) (اور بنایا اس سے اس کا جوڑا تاکہ اطمینان حاصل کرے اس (جوڑے) سے) ۔ گویا ہمارے لئے ان میں سکون و راحت، لطف اندوز ہونا، اور عادت جاریہ کے مطابق خدمت کرنا سبھی امور جمع کر دئیے گئے ہیں۔ مسئلہ نمبر 4: آدمی اپنی بیوی کی خدمت کرے گا ان امور میں جن میں خدمت آسان ہو اور وہ اس کی مدد و معاونت کرسکتا ہو، جیسا کہ اسے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنے اہل خانہ کے کام کاج میں شریک ہوتے تھے اور جب آپ اذان سنتے تو پھر آپ تشریف لے جاتے تھے۔ امام مالک (رح) کا قول ہے : اور وہ اس کی مدد کرے گا۔ اور حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ نعلین پاک کی مرمت کرلیتے تھے، گھر میں جھاڑو لگا دیتے تھے اور کپڑا سی لیتے تھے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا اور آنحالیکہ آپ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کام کرتے تھے ؟ تو آپ نے فرمایا : آپ ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے آپ اپنے کپڑے سے جوئیں نکالتے تھے، اپنی بکریاں دوہ لیتے تھے اور اپنے آپ کی خدمت کرتے تھے (یعنی اپنے کام خود کرتے تھے) ۔ مسئلہ نمبر 5: اور ایک خادمہ کا خرچہ دیا جائے گا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : ایک سے زیادہ کا خرچہ دیا جائے گا، اس کا انحصار دولت و ثروت اور مقام و مرتبہ کی قدر پر ہے۔ اور یہ وہ امر ہے جس کا دارومدار اس عرف پر ہے جو اصول شریعت میں سے ایک اصل ہے، کیونکہ دیہاتیوں اور بادیہ نشینوں کی عورتیں اپنے خاوندوں کی خدمت کرتی ہیں حتیٰ کہ میٹھا پانی لانے اور جانوروں کو چرانے اور ہانکنے میں بھی معاونت کرتی ہیں، اور جہاں تک شہروں کی عورتوں کا تعلق ہے تو ان میں سے کمزور اور متوسط درجے کے لوگ اپنی بیویوں کی ان کاموں میں خدمت کرتے ہیں جو ہلکے ہوتے ہیں اور وہ ان کی معاونت کرتے ہیں، اور رہے اہل ثروت اور خوشحال لوگ تو وہ اپنی بیویوں کی خدمت کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ سکون اور آرام لیتی ہیں جب ان کے لئے ایسا منصب ہو، اور اگر کام مشکل ہو تو بیوی اسے اسی پر ڈال دیتی ہے، اور یہ شہادت دیتی ہے کہ یہ تو معروف ہے کہ وہ (عورت) ان میں سے ہے جو اپنے آپ کی خدمت نہیں کرسکتیں پس اسکی خدمت کا انتظام کر، چناچہ وہی نافذ ہوجاتا ہے اور اس بارے میں دعویٰ (کا حق) ختم ہوجاتا ہے قولہ تعالیٰ : ورزقکم من الطیبت یعنی پھلوں، اناج اور حیوانوں سے (اس نے تمہیں پاکیزہ رزق دیا) افبالباطل مراد بت ہیں، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ یؤمنون جمہور کی قرأت یا کے ساتھ ہے اور ابو عبد الرحمن نے تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ وبنعمت اللہ مراد اسلام ہے اور اسلام کے ساتھ ھم یکفرون وہ کفر کرتے ہیں۔
Ayahs 16:73–74

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ (کسی اور طرح کا) مقدور رکھتے ہیں۔

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

آیت نمبر 73 تا 74 قولہ تعالیٰ : ویعبدون من دون اللہ ما لا یملک لھم رزقا من السموت اس میں رزقا من السموت سے مراد بارش ہے۔ والارض اس سے مراد نباتات ہے۔ شیئا اخفش نے کہا ہے : یہ رزقا سے بدل ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس پر رزق کو واقع کرنے کے سبب یہ منصوب ہے، یعنی یعبدون ما لا یملک أن یرزقھم شیئا (وہ عبادت کرتے ہیں ان معبودوں کی جو کچھ اختیار نہیں رکھتے کہ وہ انہیں کوئی شے عطا کریں) ۔ ولا یستطیعون یعنی وہ کسی شے پر قدرت نہیں رکھتے، مراد بت ہیں۔ فلا تضربوا اللہ الامثال یعنی تم اس کے ساتھ ان جمادات کو تشبیہ نہ دو ، کیونکہ وہ تو واحد اور یکتا ہے وہ قدرت رکھتا ہے اس کی کوئی مثل نہیں ہے۔ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

خدا یک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے۔ اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں ؟ (ہرگز نہیں) الحمد للہ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے۔

آیت نمبر 75 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ضرب اللہ مثلا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ضلالت و گمراہی پر متنبہ کیا ہے، اور یہ اپنے ماقبل سمیت ان نعمتوں کے ذکر کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمائی ہیں اور ان کے معبودوں میں سے کسی کے اس کی مثل نہ ہونے کو شامل ہے۔ ضرب اللہ مثلا یعنی ایک مثال اور تشبیہ بیان فرمائی۔ پھر اس کا ذکر کیا اور فرمایا : عبدا مملوکا یعنی جس طرح تمہارے نزدیک عبد مملوک جو اپنے معاملات میں سے کسی شے پر قدرت نہ رکھتا ہو اور وہ آزاد آدمی جسے رزق حسن دیا گیا ہے وہ برابر نہیں ہوسکتے۔ پس اسی طرح میں اور یہ بت برابر نہیں ہوسکتے۔ پس وہ جو اس آیت میں مثال ہے وہ ایسا غلام ہے جو اس صفت کے ساتھ متصف ہو کہ وہ کسی کی ملکیت میں ہو مال میں سے کسی شے پر قدرت نہ رکھتا ہو اور نہ اپنے ذاتی معاملات پر قدرت رکھتا ہو، اور وہ صرف اور صرف اپنے آقا کے ارادہ کے تابع اور مطیع ہو۔ اور اس آیت سے یہ لازم نہیں آتا کہ سارے کے سارے غلام اسی صفت کے ساتھ متصف ہوتے ہیں، کیونکہ کلام مثبت میں نکرہ اہل زبان کے نزدیک عموم کا تقاضا نہیں کرتا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، بلکہ یہ مفرد کا فائدہ دیتا ہے، اور جب یہ امر یا نہی کے بعد یا مصدر کی طرف مضاف ہو کر واقع ہو تو یہ اس عموم کا فائدہ دیتا ہے جو تمام کو شامل ہوتا ہے ؛ جیسا کہ یہ قول : أعتق رجلا، لاتھن رجال، اور مصدر کی مثال اعتاق رقبۃ، پس جس آدمی کو بھی اس نے آزاد کردیا تو وہ خطاب (حکم) کی ذمہ دار سے نکل جائے گا۔ اور اس سے استثنا صحیح ہوگی۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : یہ مثال مومن اور کافر کی ہے ؛ قتادہ اس طرح جاتے ہیں کہ عبد مملوک سے مراد کافر ہے، کیونکہ آخرت میں وہ اپنی عبادت کسی شے کا نفع حاصل نہیں کرسکے گا، اور ومن رزقنہ منا رزقا حسنا سے مراد مومن ہے۔ یہی موقف جمہور اہل علم و تاویل کا ہے۔ اصم نے کہا ہے : عبد مملوک سے مراد وہ ہے جو بسا اوقات اپنے آقا سے جثہ اور قوت کے اعتبار سے طاقتور اور چہرے کے اعتبار سے زیادہ حسین اور روشن ہوتا ہے، حالانکہ وہ اپنے آقا کے سامنے ذلیل اور مطیع ہوتا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا سوائے اس کے جس کے بارے آقا اسے اجازت دے، پس اللہ تعالیٰ نے مثال بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے۔ پس جب یہ حالت تمہاری اور تمہارے غلاموں کی ہے تو پھر تم کیسے پتھروں اور بےجانوں کو خلق اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہو، حالانکہ نہ وہ عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور نہ وہ سنتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: مسلمانوں نے اس آیت سے اور اس سے جو اس سے پہلے ہے یہ سمجھا ہے کہ غلام رتبہ ملکیت میں آزاد آدمی سے کم ہے اور یہ کہ وہ کسی شے کا مالک نہیں ہوتا اگرچہ اس کی ملکیت میں کوئی شے ہو۔ اہل عراق نے کہا ہے : غلامی ملکیت کے منافی ہوتی ہے، پس وہ یقیناً کسی حال میں کسی شے کا مالک نہیں ہوسکتا، امام شافعی (رح) کا نیا قول یہی ہے، اور یہی حسن اور ابن سیرین نے کہا ہے۔ اور ان میں سے بعض نے یہ کہا ہے : وہ مالک ہوتا ہے مگر اس کی ملکیت ناقص ہوتی ہے، کیونکہ اس کے آقا کو اختیار ہے کہ وہ جس وقت چاہے اس سے چھین لے، اور یہی قول امام مالک (رح) اور آپ کے متبعین کا ہے۔ اور امام شافعی (رح) نے اپنے قدیم قول میں یہی کہا ہے۔ اور یہی اہل ظاہر کا قول ہے، اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے کہا ہے : اس پر اموال کی عبادت یعنی زکوٰۃ اور کفارات وغیرہ واجب نہیں ہوتے، اور نہ ہی عبادت بدنیہ میں سے وہ واجب ہوتی ہیں جو آقا کی خدمت میں رکاوٹ اور مانع ہوں مثلاً حج اور جہاد وغیرہ۔ اور اس مسئلہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگر اس کا آقا اسے کسی کنیز کا مالک بنائے تو اس کے لئے ملک یمین کے طور پر اس سے وطی کرنا جائز ہوگا، اور اگر وہ اسے چالیس بکریوں کا مالک بنا دے اور ان پر سال گزر جائے تو ان کی زکوٰۃ نہ آقا پر واجب ہوگی کیونکہ وہ اس کے غیر کی ملکیت ہیں، اور نہ اس غلام پر واجب ہوگی کیونکہ اس کی ملکیت مستقل نہیں ہے۔ اور عراقی کہتا ہے : اس کے لئے کنیز سے وطی کرنا جائز نہیں ہوگا، اور نصاب میں زکوٰۃ آقا پر پہلے کی طرح واجب ہوگی۔ اور اس مسئلہ میں فریقین کے دلائل مختلف کتب میں موجود ہیں۔ اور ہمارے لئے سب سے بڑی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : اللہ الذی خلقکم ثم رزقکم (الروم : 40) (اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر تمہیں رزق دیا) ۔ پس اللہ تعالیٰ نے رزق اور خلق میں غلام اور آزاد کو برابر قرار دیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے غلام آزاد کیا درآنحالیکہ اس کا مال ہو “ پس اس میں آپ نے مال کی اضافت اس کی طرف کی ہے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ اپنے غلام کو دیکھتے تھے کہ وہ اپنے مال میں سخاوت کا اظہار کر رہا ہے تو آپ اس پر کوئی عیب وغیرہ نہیں لگاتے تھے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان کے غلام نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں کہ وہ اسے ملک یمین کے طور پر واپس لے آئے، تو یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ (غلام) اس چیز کا مالک ہوتا ہے جو اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور اس میں وہ ایسا تصرف کرسکتا ہے جیسا مالک اپنی مملوکہ شے میں تصرف کرسکتا ہے جب تک اس کا آقا اس سے چھین نہ لے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 3: بعض علماء نے اس آیت سے اس پر استدلال کیا ہے کہ غلام کی طلاق اس کے آقا کے اختیار میں ہے، اور اس پر کہ لونڈی کو بیچنا اس کی طلاق ہے اور اس میں اس قول باری تعالیٰ میں تعویل کی گئی ہے : لا یقدر علی شیء فرمایا : پس اس کا ظاہر تو یہ فائدہ دیتا ہے کہ وہ بالکل کسی شے پر قدرت نہیں رکھتا، نہ ملکیت پر اور نہ اس کے سوا کسی اور پر پس یہ ارشاد اپنے عموم پر ہے، مگر دلیل اس کے خلاف پر دلالت کرتی ہے اور اس بارے میں ہم نے جو کچھ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے وہ تخصیص پر دلالت کرتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ مسئلہ نمبر 4: ابو منصور نے عقیدہ (کتاب کا نام) میں کہا ہے : الرزق یہ وہ ہے جس سے غذا حاصل ہو۔ اور یہ آیت اس تخصیص کو رد کرتی ہے اور اسی طرح یہ قول باری تعالیٰ بھی ہے : ومما رزقنھم ینفقون۔ (البقرہ) (اور اس سے جو ہم نے انہیں روزی دی خرچ کرتے ہیں) اور انفقوا مما رزقنکم (البقرۃ : 254) (اور خرچ کرلو اس رزق سے جو ہم نے تم کو دیا) ۔ علاوہ ازیں حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ” میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھ دیا گیا ہے “۔ اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد : ” میری امت کے رزق اس کے گھوڑوں کے اطراف اور اس کے نیزوں کے پھلوں میں ہیں “۔ پس غنیمت ساری کی ساری رزق ہے، اور ہر وہ شے جس سے نفع حاصل کرنا صحیح ہو وہی رزق ہے۔ اور اس کے کئی مراتب ہیں : ان میں سے اعلیٰ مرتبہ اس کا ہے جس کو غذا بنایا جاتا ہے۔ تحقیق حضور نبی کریم ﷺ نے نفع اٹھانے کی وجوہ کو اپنے اس ارشاد میں محصور کردیا ہے : ” انسان کہتا ہے میرا مال حالانکہ تیرے لئے تیرے مال سے اس کے سوا نہیں ہے جو تو نے کھالیا اور اسے فناہ کردیا یا تو نے پہن لیا اور اسے بوسیدہ کردیا یا تو نے صدقہ کردیا اور اسے آگے بھیج دیا “۔ یقول ابن آدم مالی مالی وھل لک من مالک إلا ما أکلت فأفنیت أولبست فأبلیت أو تصدقت فأمضیت، اور لباس کے معنی میں سوار ہونا وغیرہ داخل ہے۔ اور محدثین کی زبان میں سماع رزق ہے، اور وہ اس حدیث کا سننا مراد لیتے ہیں، اور یہ صحیح ہے۔ مسئلہ نمبر 5: قولہ تعالیٰ : ومن رزقنہ منا رزقا حسنا اس سے مراد مومن ہے، جو اپنی ذات اور مال میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔ اور کافر نے جب اطاعت میں کچھ خرچ نہیں کیا تو وہ اس غلام کی طرح ہوگیا جو کسی شے کا مالک نہیں ہوتا ھل یستون یعنی وہ برابر نہیں ہوسکتے، اور یہاں من کے محل کی وجہ سے یستویان نہیں کہا کیونکہ یہ مبہم اسم ہے جو واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک عبدا مملوکا اور ومن رزقنہ دونوں سے مراد ان کی جنس عام لی گئی ہے۔ الحمدللہ، بل اکثرھم لا یعلمون یعنی وہی حمد کا مستحق ہے نہ کہ وہ جن کی وہ اس کے سوا عبادت کرتے ہیں، کیونکہ بتوں کا ان پر کوئی احسان اور نیکی نہیں ہے کہ اس پر ان کی تعریف کی جائے۔ بلاشبہ کامل تعریف صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے، کیونکہ وہی نعمتیں عطا فرمانے والا اور خالق ہے۔ بل اکثرھم یعنی اکثر مشرک لایعلمون نہیں جانتے کہ حمد اور تعریف میرے لئے ہے، اور تمام نعمتیں میری طرف سے ہی ہیں۔ ذکر اکثر کا کیا ہے حالانکہ مراد تمام ہیں، پس یہ وہ خاص ہے جس سے عموم مراد لیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ مخلوق میں سے اکثر نہیں جانتے، اور یہ اس لئے ہے کہ ان میں میں سے اکثر مشرک ہی ہیں۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور خدا یک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار و ناتواں) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں ؟

آیت نمبر 76 قولہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا رجلین احدھما ابکم یہ دوسری مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور بتوں کے لئے بیان فرمائی ہے۔ پس ابکم (گونگا) وہ جو کسی شے پر قادر نہ ہو وہ بت ہے۔ اور وہ جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے ؛ یہ حضرت قتادہ وغیرہ نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : أبکم حضرت عثمان ؓ کا غلام تھا، اور آپ اس پر اسلام پیش کرتے تھے اور وہ انکار کردیتا تھا، اور حضرت عثمان ؓ عدل کے ساتھ حکم دیتے تھے، اور آپ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اور آپ کے آزاد کردہ غلام جو کہ کافر تھا اس کی مثال ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ أبکم سے مراد ابوجہل ہے، اور وہ جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے وہ حضرت عمار بن یا سر عنسی (رح) ہیں اور عنس (نون کے ساتھ) مذحج کا ایک چھوٹا سا قبیلہ تھا اور یہ ابو جہل کے قبیلہ بنی مخزوم کا حلیف تھا، اور ابو جہل انہیں اسلام قبول کرنے پر ستاتا اور اذیتیں دیتا تھا اور ان کی والدہ حضرت سمیہ ؓ کو بھی عذاب دیتا تھا، آپ ابوجہل کی کنیز تھیں، ایک دن اس نے آپ کو کہا : بلاشبہ تو محمد ﷺ کے ساتھ ایمان لائی ہے اس لئے کہ تو انہیں ان کے حسن و جمال کی وجہ سے پسند کرتی ہے، پھر اس نے آپ کی شرمگاہ میں نیزہ مارا اور آپ شہید ہوگئیں، اور آپ ہی پہلی شیدہ ہیں جنہوں نے حالت اسلام میں جام شہادت نوش کیا، یہ نقاش وغیرہ کی کتاب سے ماخوذ ہے۔ اور عنقریب آیۃ الاکراہ میں اس کا مفصل بیان آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور حضرت عطا نے کہا ہے : أبکم ابی بن خلف ہے، وہ کبھی خیر اور بھلائی کی گفتگو نہ کرتا تھا۔ وھو کل علیٰ مولہ یعنی وہ اپنی قوم پر بوجھ ہے کیونکہ وہ انہیں اذیت پہنچاتا تھا اور حضرت عثمان بن مظعون ؓ کو ستاتا تھا۔ اور مقاتل (رح) نے کہا ہے یہ آیت ہشام بن عمرو بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، وہ کافر تھا اس میں خیر اور بھلائی بہت کم تھی اور حضور نبی مکرم ﷺ سے عداوت رکھتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک أبکم سے مراد کافر ہے، اور وہ جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے وہ مومن ہے یہ جملہ کے بدلے ہے (یعنی جملہ کفار کے مقابلے میں جملہ مومن ہیں) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور یہ حسن ہے کیونکہ یہ عام ہے۔ اور أبکم وہ ہوتا ہے جو بول نہ سکتا ہو (گانگا) ، اور یہ بھی کہا گیا ہے : جو عقل نہ رکھتا ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جو نہ سنتا ہو اور نہ دیکھتا ہو۔ اور تفسیر میں ہے کہ یہاں أبکم سے مراد بت ہے۔ اور یہ بیان کیا کہ اس کے پاس نہ قدرت ہے اور نہ اس کا کوئی حکم ہے، اور یہ کہ کوئی دوسرا اسے منتقل کرتا ہے اور دوسرا ہی اسے تراشتا ہے۔ پس وہ اس پر بوجھ ہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عدل کے ساتھ حکم دینے وال ا ہے، اور ہر شے پر غالب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وھو کل علی مولہ یعنی وہ بوجھ ہے اپنے آقا پر اور اپنے قرابتداروں پر اور وبال ہے اپنے صاحب (ساتھی) پر اور اپنے چچا کے بیٹے پر۔ اور یتیم کو بھی کل کا نام دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس پر ثقیل اور بھاری ہوتا ہے جو اس کا کفیل ہوتا ہے۔ اور اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : أکول لمال الکل قبل شبابہ أذا کان عظم الکل غیر شدید اور کل وہ بھی ہوتا ہے جس کا نہ بیٹا ہو اور نہ اس کا والد ہو۔ اور کل کا معنی عیال بھی ہے، اور اس کی جمع کلول آتی ہے۔ اسے سے کہا جاتا ہے : کل السکین یکل کل یعنی چھری کی دھار موٹی ہوگئی پس وہ نہیں کاٹتی۔ اینما یوجھہ لایات بخیر جمہور نے یوجھہ پڑھا ہے۔ اور یہی خط مصحف ہے، یعنی جہاں بھی اس کا مالک اسے بھیجتا ہے وہ خیر اور بھلائی کے ساتھ واپس نہیں آتا، کیونکہ نہ وہ جانتا ہے اور نہ اسے سمجھتا ہے جو اس کو کہا جاتا ہے اور نہ اس سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اور یحییٰ بن وثاب نے فعل مجہول کی بنا پر اینما یوجہ پڑھا ہے۔ (اور یہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا گیا ہے) ۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے توجہ صیغہ خطاب پر بھی مروی ہے۔ ھل یستوی ھو ومن یامر بالعدل وھو علی صراط مستقیم یعنی کیا یہ ابکم (نکما) اور وہ جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اور راہ راست پر ہے یہ برابر ہو سکتے ہیں ؟