16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھا راستے پر چلا دیتا۔

آیت نمبر 9 قولہ تعالیٰ : وعلی اللہ قصد السبیل یعنی راہ راست کا بیان اور وضاحت اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے، اس کلام میں مضاف محذوف ہے اور وہ بیان ہے۔ اور السبیل سے مراد اسلام ہے یعنی رسل علیہم الصلوٰت والتسلیمات اور دلائل و براہن کے ساتھ اس کی وضاحت کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔ اور قصد السبیل سے مراد سیدھی راہ ہے ؛ کہا جاتا ہے : طریق قاصد یعنی وہ راستہ جو مطلوب اور منزل تج پہنچانے والا ہو۔ ومنھا جآئر ای ومن السبیل جائر، یعنی ایسے راستے بھی ہیں جو حق سے پھرنے والے ہیں پس ان سے ہدایت اور راہنمائی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اور اسی سے امرء القیس کا قول ہے : ومن الطریقۃ جائز و ھدی قصد السبیل ومنہ ذودخل اور طرفہ نے کہا ہے : عدولیۃ أو من سفین ابن یامن یجور بھا الملاح طورا ویھتدی اس میں العدولیۃ کشتی ہے جو عدولی کی طرف منسوب ہے اور یہ بحرین کا ایک گاؤں ہے اور العدولی سے مراد ملاح ہے ؛ یہ صحاح میں ہے۔ اور قرآن کریم میں ہے وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل (الانعام : 153) (اور بیشک یہ مرا راستہ سیدھا سو اس کی پیروی کرو اور نہ پیروی کرو اور رستوں کی) ۔ اور پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ومنھم جائر عن السبیل الحق، یعنی ان میں سے رواہ حق سے پھرنے والے بھی ہیں پس اس کی طرف راہنمائی نہیں پائی گئی۔ اور ان کے بارے میں دو قول ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مختلف خواہشات رکھنے والے ہیں ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور دوسرا قول ہے وہ ملل الکفر ہیں مثلاً یہودیت، مجوسیت اور عیسائیت ،۔ اور مصحف حضرت عبد اللہ میں ومنکم جائز ہے اور اسی طرح حضرت علی ؓ نے ومنکم کاف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وعنھا جائز ای عن السبیل (یعنی راستے سے پھرنے والے) پس من بمعنی عن ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : مراد یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کا ارادہ فرمائے تو اس کے لئے ایمان کا راستہ سہل اور آسان کردیتا ہے، اور جسے گمراہ کرنے کا ارادہ فرمائے تو اس پر ایمان اور اس کے احکام ثقیل اور بھاری کردیتا ہے۔ (من اراد اللہ ان یھدیہ سھل لہ طریق الایمان، ومن اراد أن یضلہ ثقل علیہ الایمان وفروعہ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : قصد السبیل کا معنی ہے تمہارا چلنا اور تمہار لوٹنا۔ اور السبیل واحد ہے لیکن جمع کے معنی میں ہے، اسی لئے ضمیر مؤنث لائی گئی ہے اور فرمایا : ومنھا اور لغت اہل حجاز کے مطابق سبیل مؤنث ہے۔ قولہ تعالیٰ : ولوشآء لھدکم اجمعین یہ بیان فرمایا کہ مشیت اللہ تعالیٰ کیلئے ہی ہے، اور یہ اس موقف کو صحیح قرار دے رہا ہے جو آیت کی تأویل میں حضرت ابن عباس ؓ نے اختیار کیا ہے، اور یہ قدریہ اور ان کے موافق لوگوں کو رد کرتا ہے جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔

آیت نمبر 10 شراب سے مراد وہ (پانی) ہے جسے پیا جاتا ہے، اور شجر کا معنی تو معروف ہے یعنی وہ بارشوں سے درخت، بیلیں اور سبزہ اگاتا ہے۔ اور تسیمون اور تم (اسے) اپنے انٹوں کو چراتے ہو۔ کہا جاتا ہے : سامت السائمۃ تسوم سو ما (یعنی چرنے والا جانور چرا) فھی سائمۃ اور السوام اور السائم دونوں ہم معنی ہیں، اور وہ چرنے والا مال ہے۔ اور السائم اور السائمۃ کی جمع سوائم ہے۔ اور أسمتھا أنا یعنی میں نے اسے چرنے کے لئے نکالا۔ پس میں مسیم ہوں اور وہ مسامۃ اور سائمۃ ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا : أولی لک ابن مسیمہ الأجمال (تیرے لئے اونٹ چرانے والے کا بیٹا ہونا اولیٰ اور بہتر ہے) اور السؤم کا اصل معنی چراگاہ میں دور تک چلے جانا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ السومۃ سے لیا گیا ہے اور اسکا معنی علامت ہے، یعنی یہ اپنے چرنے کے سبب زمین میں علامات اور نشانات چھوڑ جاتے ہیں یا یہ اس لئے ہے کیونکہ انہیں چراگاہ میں بھیجنے کے لئے نشانات لگائے جاتے ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : الخیل المسومۃ وہ گھوڑا ہوتا ہے جس کو چرایا جاتا ہے اور وہ ہوتا ہے جس کو کوئی علامت اور نشان لگایا گیا ہوتا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : مسومین۔ (آل عمران) اخفش نے کہا ہے : وہ ہوتے ہیں جنہیں نشان لگائے گئے ہوں اور وہ ہوتے ہیں جو چھوڑ دئیے گئے ہوں۔ یہ تیرے اس قول سے ہے : سوم فیھا الخیل ای أرسلھا یعنی اس نے گھوڑا اس میں چھوڑ دیا، اور اسی سے السائمۃ (چرنے والا) ہے، بیشک یہ (جمع) یاء اور نون کے ساتھ آئی ہے کیونکہ گھوڑوں کو بھیجا گیا اس حال میں کہ ان پر ان کے سوار بھی تھے۔
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (اور بیشمار درخت) اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بڑی) نشانی ہے۔

آیت نمبر 11 قولہ تعالیٰ : ینبت لکم بہ الزرع والزیتون والنخیل والاعناب ومن کل الثمرت ابوبکر نے حضرت عاصم سے تعظیم کی بنا پر تبتنون کے ساتھ پڑھا ہے۔ عام قرأت یا کے ساتھ ہے۔ معنی یہ ہے ینبت اللہ لکم (یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اگاتا ہے) ۔ کہا جاتا ہے : نبتت الأرض وأبنتت یہ دونوں ہم معنی ہیں (زمین نے اگایا) ، اور بنت البقل و أنبت یہ دونوں ایک معنی میں ہیں (یعنی سبزی اگی) ۔ اور فراء نے شعر کہا ہے : رأیت ذوی الحاجات حول بیوتھم قطینا بھا حتی اذا أنبت البقل اس میں أبنت بمعنی نبت ہے۔ اور أبنتہ اللہ فھو منبوت (اللہ تعالیٰ نے اسے اگایا پس وہ اگ گئی) ، تو یہ خلاف قیاس ہے۔ اور أنبت الغلام یعنی بچے کے زیر ناف بال نکل آئے۔ اور نبت الشجر غرسہ (اس کے درخت لگانے نے درخت کو اگایا) ۔ کہا جاتا ہے : نبت أجلک بین عینیک (تو اپنی موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ) ۔ اور نبت الصبی تنبیتا یعنی تو نے بچے کی پرورش اور تربیت کی۔ اور المنبت سے مراد سبزہ اگنے کی جگہ ہے۔ کہا جاتا ہے : ما أحسن نابتۃ بنی فلان یعنی اسی پر ان کے اموال اور ان کی اولاد بڑھ رہی ہے۔ اور نبتت لھم نابتۃ جب ان کے چھوٹے بچے جوان ہوجائیں۔ اور إن بنی فلان لنابتۃ شر (بےشک بنی فلاں شر پھیلا رہے ہیں) اور النوابت من الأحداث الأغمار (نوجوان بچے ناتجربہ کار ہیں) ۔ اور النبیت یہ یمن کا ایک محلہ ہے۔ اور الینبوت، خشخاش کا پودا۔ یہ سب جوہری سے منقول ہے۔ والزیتون یہ زیتونۃ کی جمع ہے۔ اور نفس درخت کو بھی زیتونۃ کہا جاتا ہے اور پھل کو بھی زیتونۃ کہا جاتا ہے۔ پھلوں کی زکوٰۃ کا حکم سورة الانعام میں گزر چکا ہے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ ان فی ذلک بیشک اس اترنے اور اگانے میں لایۃ نشانی اور دلالت ہے۔ لقوم یتفکرون اس قوم کے لئے جو غور و فکر کرتی ہے۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

آیت نمبر 12 قولہ تعالیٰ : وسخر لکم الیل والنھار یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے راحت و سکون پانے اور کام کرنے کے لئے رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کردیا، جیسا کہ ارشاد فرمایا : ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ (القصص : 73) (اور محض اپنی رحمت سے اس نے بنا دیا ہے تمہارے لئے رات اور دن کو تاکہ تم آرام کرو رات میں اور تلاش کرو (دن میں) اس کے فضل (رزق) سے) والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ یعنی یہ سب اوقات کو پہچاننے کے لئے، پھلوں اور کھیتوں کے پکنے کے لئے اور اندھیروں میں ستاروں سے راہنمائی حاصل کرنے کے لئے مطیع کردیئے گئے ہیں۔ اور حضرت ابن عباس اور ابن عامر اور اہل شام نے والشمس والقمرو النجوم مسخرات پڑھا ہے۔ یعنی یہ مبتدا اور خبر ہونے کی بنا پر مرفوع ہیں۔ اور باقیوں نے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے منصوب پڑھا ہے۔ اور حفص نے عاصم سے رفع کے ساتھ قرأت کی ہے یعنی والنجوم اور مسخرات اس کی خبر ہے۔ اور والشمس والقمر والنجوم کو اللیل والنھار پر عطف کرتے ہوئے نصب کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اور والمجوم کو مبتدا ہونے کی بنا پر رفع دیا گیا ہے۔ اور مسخرات کو رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور وہ مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی ھی مسخرات اور یہ اسے منصوب پڑھنے والوں کی قرأت میں حال مؤکدہ ہے، جیسا کہ اس قول میں ہے : وھو الحق مصدقا (یعنی اس میں مصدقا حال مؤکدہ ہے) ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون بیشک ان تمام چیزوں میں اس قوم کے لئے نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان چیزوں کی عقل اور سمجھ رکھتی ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انہیں متنبہ کیا اور جس کی انہیں توفیق دی۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لئے اس میں نشانی ہے۔

آیت نمبر 13 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وماذرا یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ سب مسخر کردیا جو زمین میں تمہارے لئے پیدا فرمایا اس میں ذرا بمعنی خلق ہے (یعنی پیدا فرمایا) ذرأ اللہ الخلق یذرؤھم ذرءا یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، پس وہ ذاری (پیدا کرنے والا) ہوا۔ اور اسی سے الذریۃ ہے یعنی جن و انس کی نسل (اولاد) مگر عربوں نے اس کا ہمزہ چھوڑ دیا ہے اور اس کی جمع الذراری ہے۔ کہا جاتا ہے : أنی اللہ ذراک وذرأک وذروک یعنی اللہ تعالیٰ تیری ذریت کو بڑھائے (اس میں برکت دے) اور الذروا اور الذرء کا اصل معنی جمع (اجتماع) سے متفرق اور علیحدہ ہونا ہے۔ اور حدیث میں ہے ذرء النار یعنی بیشک وہ جہنم کے لئے پیدا کئے گئے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جو کچھ پیدا فرمایا ہے وہ مسخر اور مطیع ہے مثلاً چوپائے، اونٹ اور دیگر حیوانات اور درخت وغیرہ، اور جو چیزیں ان کے سوا ہیں۔ اور اس پر دلیل وہ روایت ہے جسے امام مالک (رح) نے مؤطا میں کعب الاحبار سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا : اگر وہ کلمات نہ ہوتے جو میں پڑھتا ہوں تو یقیناً یہودی مجھے گدھا بنا دیتے۔ تو ان سے پوچھا گیا : وہ کلمات کیا ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : أعوذ بوجہ اللہ العظیم الذی لیس شئ اعظم منہ، وبکلمات اللہ التآمات التی لایجاوزھن برولافاجر، وبأسماء اللہ الحسنی کلھا ما علمت منھا وما لم اعلم، من شر ما خلق وبرأوذرأ۔ اور اس میں یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ کو رات کے وقت سفر پر لے جایا گیا تو آپ ﷺ نے جنوں میں سے ایک عفریت کو دیکھا کہ وہ آپ کو آگ کے شعلے کے ساتھ تلاش کر رہا ہے، الحدیث۔ اور اس حدیث میں ہے وشر ما ذرأ فی الارض (اور اس کے شر سے جو اللہ تعالیٰ نے زمین میں پیدا کیا ہے) ہم نے اس کا اور اس کی ہم معنی روایات کو ذکر کئی مقامات پر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : مختلفا الوانہ اس میں مختلفا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور الوانہ سے مراد اس کی ہیئتیں اور اس کے مناظر ہیں، مراد چوپائے اور درخت وغیرہ ہیں۔ ان فی ذلک یعنی بیشک ان کے رنگ و روپ کے اختلاف میں لایۃ عبرت اور سبق ہے لقوم یذکرون ان لوگوں کے لئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان بنائی ہوئی چیزوں کی تسخیر میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نشانیاں ہیں اور یہ کہ اس کے سوا کوئی اور اس پر قادر نہیں ہوسکتا۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ۔ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں اور اس لئے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ (اسکا) شکر کرو۔

آیت نمبر 14 اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وھو الذی سخر البحر سمندر کو مسخر کرنے کا معنی انسان کو اس میں تصریف کرنے کی قدرت دینا ہے اور اسے سوار ہونے اور پناہ لینے کے لئے مطیع کرنا ہے، اور یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات میں سے بہت بڑی نعمت اور احسان ہے، پس اگر وہ چاہے تو اسے ہم پر مسلط کر دے اور ہمیں غرق کر دے۔ سمندر اور اس کے شکار کے بارے بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور یہاں اس کا نام لحم (گوشت) رکھا ہے۔ اور امام مالک (رح) کے نزدیک گوشت تین جنس کے ہیں : پس چار پاؤں والے جانوروں کا گوشت ایک جنس ہے، پروں والوں کا گوشت ایک جنس ہے، اور پانی میں رہنے والوں کا گوشت ایک جنس ہے، پس ایک جنس کی بیع کرنا اپنی ہی جنس کے ساتھ متفاضلا جائز نہیں ہے، اور گائے اور جنگلی جانور کے گوشت کی بیع کرنا پرندے اور مچھلی کے گوشت کے ساتھ یہ متفاضلا جائز ہے (یعنی دونوں مقدار میں برابر نہ ہوں) ۔ اور اسی طرح پرندے کے گوشت کی بیع کرنا گائے، جنگلی جانور اور مچھلی کے گوشت کے عوض متفاضلا جائز ہوگی۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : تمام گوشت مختلف انواع کے ہیں جیسا کہ اس کے اصول مختلف ہیں، پس گائے کا گوشت ایک نوع ہے، بکری کا گوشت ایک نوع ہے، اور اونٹ کا گوشت الگ نوع ہے۔ اور اسی طرح جنگلی جانور بھی مختلف ہیں، اسی طرح پرندے ہیں اور اسی طرح مچھلیاں ہیں۔ اور امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک یہی ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ شتر مرغ، شکار، پرندہ اور مچھلی یہ سب ایک جنس ہے ان میں تفاضل جائز نہیں ہے۔ اور ان کے مذہب میں سے ان کے اصحاب کے نزدیک پہلا قول مشہور ہے۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے ناموں میں ان کی زندگی میں فرق رکھا ہے پس فرمایا : ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعزاثنین (الانعام : 143) (پیدا فرمائے) آٹھ جوڑے بھیڑ سے دو (نر و مادہ) اور بکری سے دو (نر و مادہ) پھر فرمایا : ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین (الانعام : 144) (اور اونٹ سے دو (نر و مادہ) اور گائے سے دو (نر و مادہ) پھر جب ان تمام سے گوشت کا قصد کیا تو فرمایا : احلت لکم بھیمۃ الانعام (المائدہ : 1) (حلال کئے گئے ہیں تمہارے لئے بےزبان جانور) اور انہیں ایک گوشت کے ساتھ جمع کردیا ان کے منافع قریب قریب ہونے کی وجہ سے جیسا کہ بکری کے گوشت کے منافع اور بھیڑ کے گوشت کے منافع باہم متقارب ہیں۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا : ولحم طیر مما یشتھون۔ (الواقعہ) (اور پرندوں کا گوشت بھی جس کی وہ رغبت کریں گے) اور یہ اس طائر کی جمع ہے جو واحد ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ولاطئر یطیر بجناحیہ (الانعام : 38) (اور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہے اپنے دو پروں سے) پس تمام پرندوں کے گوشت کو ایک اسم کے ساتھ جمع کردیا۔ اور یہاں فرمایا : لحما طریا پس مچھلی کی تمام اقسام کو ذکر واحد کے ساتھ جمع کردیا، پس گویا چھوٹی مچھلیاں بڑی مچھلیوں کی طرح ہیں (کیونکہ) اس جمع میں دونوں داخل ہیں۔ اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ان سے بکری اور مینڈھے کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ ایک ہی شے ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : نہیں اور کسی نے آپ سے اختلاف نہیں کیا پس یہ اجامع کی مثل ہوگیا۔ واللہ اعلم۔ اور اس کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے طعام کی بیع سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ وہ برابر برابر ہو، تو بیشک لفظ طعام اپنے اطلاق میں گندم وغیرہ تمام ماکولات کو شامل ہوتا ہے لیکن گوشت کو شامل نہیں ہوتا۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جب کوئی کہنے والا یہ کہے : میں نے آج طعام کھایا۔ تو اس سے ذہن گوشت کھانے کی طرف نہیں جاتا، اور اس لئے بھی کہ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کے اس قول کے معارض ہے : ” جب دو جنسیں مختلف ہوں تو جیسے چاہو ان کی بیع کرو “۔ اور یہ دو جنسیں ہیں۔ اور یہ بھی کہ ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ گوشت کی بیع کرنا پرندے کے گوشت کے ساتھ متفاضلا جائز ہے اس کی علت یہ ہے کہ یہ طعام کی بیع ہے اس کی زکوٰۃ نہیں ہے اسے گوشت کے ساتھ بیچا گیا ہے جس میں زکاۃ نہیں ہے، اسی طرح مچھلی کی بیع تفاضل کیساتھ کرنا پرندے کے گوشت کے ساتھ یہ بھی جائز ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اور رہی مکڑی ! تو یہ ہمارے نزدیک مشہور ہے کہ اس کے بعض کی بیع تفاضل کے ساتھ بعض کے عوض کرنا جائز ہے۔ اور سحنون کے بارے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اس سے منع کرتے ہیں، اور اسی کی طرف بعض متأخرین بھی مائل ہیں اور اسے ان چیزوں میں سے گمان کیا ہے جو ذخیرہ کی جاسکتی ہیں۔ مسئلہ نمبر 3: علماء نے ایسے آدمی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جس نے یہ قسم کھائی کہ وہ گوشت نہیں کھائے گا۔ تو ابن القاسم نے کہا ہے : مذکورہ چاروں انواع میں سے کسی نوع کا گوشت کھانے سے وہ حانث ہوجائے گا۔ اور اشہب نے المجموعہ میں کہا ہے : وہ حانث نہیں ہوگا مگر وحشی جانوروں وغیرہ کے علاوہ دیگر جانوروں کا گوشت کھانے سے، کیونکہ اس میں عرف اور عادت کا لحاظ رکھا گیا ہے، اور اسے لفظ کے اطلاق لغوی پر مقدم کیا گیا ہے، اور یہی احسن ہے۔ مسئلہ نمبر 4: قولہ تعالیٰ : وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا اس میں حلیۃ (زیور) سے مراد موتی اور مرجان ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یخرج منھما اللؤلؤوالمرجان۔ (الرحمن) (ان سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں) ۔ اور زیور کا نکالنا بلاشبہ صرف نمکین (سمندر) سے معروف ہے۔ اور کہا جاتا ہے : ان فی الزمرد بحریا (بےشک زمرد سمندر سے حاصل کیا گیا ہے) اور ہذلی کو موتی کے وصف میں اپنے قول میں غلط قرار دیا گیا ہے : فجاء بھا من درۃ لطمیۃ علی وججھا ماء الفرات یدوم پس انہوں نے اسے میٹھے پانی سے قرار دیا ہے۔ پس زیور حق ہے اور یہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا اور انہیں تاج پہنایا گیا اور جنت کے جواہر کے ساتھ آراستہ اور مرصع کیا گیا تھا، اور آپ کو وہ انگوٹھی پہنائی گئی جس کے وارث آپ سے حضرت سلیمان بن داؤد صلوات اللہ علیہم بنے اور اس کو خاتم العز (عزت اور غلبے کی انگوٹھی) کہا جاتا تھا جیسا کہ روایت کیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں پر اسکے ساتھ احسان عام فرمایا جو کچھ سمندر سے نکلتا ہے، پس اس میں سے کوئی شے ان پر حرام نہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مردوں پر سونا اور ریشم حرام قرار دیا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے صحیح میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم ریشم مت پہنو کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہن لیا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا “۔ اس کے بارے گفتگو عنقریب سورة الحج میں آرہی ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں ایسانگینہ لگوایا جو آپ کی ہتھیلی کے باطن کے ساتھ ملا ہوتا تھا، اور اس میں محمد رسول اللہ ﷺ نقش کرا دیا، تو لوگوں نے بھی اس کی مثل انگوٹھیاں بنوالیں، پس آپ ﷺ نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے یہ بنوالی ہیں تو آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا : لا البسہ ابدا (میں کبھی بھی اسے نہیں پہنوں گا) بعد ازاں آپ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوالیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے بیان فرمایا : حضور نبی کریم ﷺ کے بعد وہ انگوٹھی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پہنی پھر حضرت عمر فاروق ؓ نے اور پھر حضرت عثمان ؓ نے، یہاں تک کہ حضرت عثمان ؓ سے وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابو داؤد نے کہا ہے : لوگوں نے حضرت عثمان ؓ سے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ جب آپ کے ہاتھ سے انگوٹھی گر پڑی۔ اور علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ تمام مردوں پر چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے۔ علامہ خطابی نے کہا ہے : عورتوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی پہننا مکروہ ہے، کیونکہ یہ مردوں کے لباس میں سے ہے، پس اگر وہ سونا نہ پائیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اسے زعفران یا اس کے مشابہ کسی شی کے ساتھ زرد بنا دیں (یعنی سنہری بنا دیں) اور سلف و خلف میں سے جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی بنوانا حرام ہے، سوائے اس روایت کے جو ابوبکر عبد الرحمن اور خباب سے مروی ہے، وہ اس کے خلاف ہے اور شاذ ہے، اور ان دونوں میں سے کسی کو نہی اور نسخ کا حکم نہیں پہنچا۔ واللہ اعلم۔ اور رہی وہ روایت جو حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی، پھر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں اور پہن لیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھنک دیں۔ اسے صحیحین نے نقل کیا ہے اور الفاظ امام بخاری (رح) کے ہیں۔ علماء کے نزدیک یہ ابن شہاب نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے پس ایک کے مقابلے میں فیصلہ جماعت کے مطابق کرنا واجب ہے جبکہ وہ ایک جماعت کے مخالف ہو، اس کے ساتھ ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث بھی جماعت کی شہادت دیتی ہے۔ مسئلہ نمبر 6: جب مردوں کے لئے چاندی کی انگوٹھی پہننا اور اس سے زینت حاصل کرنا جائز ہے اور یہ ثابت ہے، تو علماء میں سے ابن سیرین وغیرہ نے مکروہ قرار دیا ہے کہ وہ اس میں نقش کروائے اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو۔ اور علماء کی جماعت نے اس میں نقش کرانے کو جائز قرار دیا ہے، پھر جب وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا کوئی اسم یا کلمہ حکمت یا قرآن کریم میں سے کوئی کلمات نقش کروائے اور اسے اپنے بائیں ہاتھ میں پہنے، تو کیا وہ اس کے ساتھ بیت الخلا میں داخل ہو سکتا ہے اور اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ استنجا کرسکتا ہے ؟ تو حضرت سعید بن مسیب ؓ اور امام مالک (رح) نے اس میں تخفیف کی ہے (اور رخصت دی ہے) امام مالک (رح) سے پوچھا گیا : اگر انگوٹھی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کندہ ہو اور آدمی اسے بائیں ہاتھ میں پہنتا ہو تو کیا وہ اس کے ساتھ استنجا کرسکتا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں امید کرتا ہوں کہ اسے رخصت ہوگی۔ اور آپ سے کراہت بھی مروی ہے اور یہی أولی ہے۔ اور آپ نے اکثر اصحاب نے اس سے منع کیا ہے۔ اور ہمام نے ابن جریج سے، انہوں نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت بیان کی ہے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلا میں تشریف لے جاتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار لیتے۔ ابوداؤد نے کہا ہے : یہ حدیث منکر ہے، اور بلاشبہ ابن جریج سے معروف ہے کہ انہوں نے زیادہ بن سعد سے انہوں نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی پھر اسے پھینک دیا۔ ابو داؤد نے کہا ہے : اسے ہمام کے سوا کسی نے بیان نہیں کیا۔ مسئلہ نمبر 7: امام بخاری (رح) نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں ” محمد رسول اللہ “ نقش کروایا اور فرمایا : ” بیشک میں نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں محمد رسول اللہ ﷺ نقش کروایا ہے پس تم میں سے کوئی اس نقش پر نقش نہ کروائے “۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ اس پر دلیل ہے کہ آدمی کے لئے انگوٹھی پر اپنا نام لگوانا جائز ہے۔ امام مالک نے کہا ہے : خلفاء اور قضاۃ کی یہ شان ہے کہ وہ اپنے نام اپنی انگوٹھیوں پر کندہ کروائیں، اور آپ ﷺ کی نہی یہ ہے کہ کوئی بھی آپ کی انگوٹھی کے نقش کی طرف نقش نہ بنوائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا اسم اور صفت اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کی طرف وصف رسالت کے ساتھ متصف ہے۔ اور اہل شام نے روایت کیا ہے کہ حاکم کے بغیر کسی کے لئے انگوٹھی بنوانا جائز نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس بارے میں حدیث بھی روایت کی ہے۔ وہ ابو ریحانہ نے مروی ہے اور یہ وہ حدیث ہے جس میں ضعف کی وجہ سے کوئی حجت نہیں ہے۔ اور آپ ﷺ کا ارشاد : لا ینقشن أحد علی نقشہ بھی اسے رد کرتا ہے، اور یہ تمام لوگوں کے انگوٹھی بنوانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، جبکہ وہ آپ ﷺ کی انگوٹھی کے نقش پر منقش نہ ہو۔ اور حضرت زہری (رح) کی انگوٹھی کا نقش محمد یسأل اللہ العافیۃ تھا۔ اور امام مالک (رح) کی انگوٹھی کا نقش حسبی اللہ ونعم الوکیل تھا۔ ترمذی الحکیم نے (نو ادر الاصول) میں ذکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی انگوٹھی کا نقش لکل اجل کتاب۔ (الرعد) تھا اور یہ سورة الرعد میں گزر چکا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کے پاس یہ خبر پہنچی کہ ان کے بیٹے نے ایک ہزار درہم کے عوض انگوٹھی خریدی ہے تو آپ نے اس کی طرف دیکھا : بیشک مجھے یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ تو نے ہزار درہم کے عوض انگوٹھی خریدی ہے، پس تو اسے فروخت کر دے اور اس سے ہزار بھوکوں کو کھانا کھلا۔ اور ایک درہم کے ساتھ لوہے کی انگوٹھی خریدلے، اور اس پر یہ لکھ رحم اللہ امرءا عرف قدر نفسہ (اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جس نے اپنے نفس کی قدر پہچان لی) ۔ مسئلہ نمبر 8: جس کسی نے قسم کھائی کہ وہ زیور نہیں پہنے گا پھر اس نے موتی پہن لئے تو وہ حانث نہ ہوگا، یہی امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے : کیونکہ یہ وہ ہے جسے لغوی طور پر اسم اگرچہ شامل ہے لیکن قسم کے ساتھ اس کا قصد اور ارادہ نہیں، اور قسم عرف کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔ کیا آپ جانتے نہیں کہ اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ فراش پر نہیں سوئے گا پھر وہ زمین پر ہو یا تو حانث نہ ہوگا ؟ اور اسی طرح کسی نے قسم کھائی وہ سراج (چراغ) سے روشنی حاصل نہیں کرے گا پھر وہ سورج کی روشنی میں بیٹھ گیا تو وہ حانث نہ ہوگا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فراش کا اور سورج کو سراج کا نام دیا ہے۔ اور امام شافعی، امام ابو یوسف، اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے : جس نے یہ قسم کھائی کہ وہ زیور نہیں پہنے گا اور اس نے موتی پہن لئے تو وہ حانث ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا اور جو کچھ اس (سمندر) سے نکلتا ہے وہ موتی اور مرجان ہیں۔ مسئلہ نمبر 9: قولہ تعالیٰ : وتری الفلک مواخر فیہ کشتی اور سمندر میں سوار ہونے کا ذکر سورة البقرہ وغیرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور قولہ تعالیٰ : مواخر حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : جواری (چلنے والیاں) ، یہ جرت تجری سے ماخوذ ہے۔ اور سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے اس کا معنی ہے : معترضۃ (چوڑی بچھی ہوئی) ۔ اور حسن نے کہا ہے : مواقر (یعنی لدی ہوئی) اور حضرت قتادہ اور ضحاک نے کہا ہے : یعنی وہ جارہی ہیں اور آرہی ہیں درآنحالیکہ وہ ایک ہی ہوا کے ساتھ آنے والی ہیں اور واپس جانے والی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے : مواخر سمندر کے اندر موجوں کو چیرتے ہوئے۔ المخر کا اصل معنی پانی کو دائیں بائیں سے چیزنا، شق کرنا ہے۔ مخرت السفینۃ تمخر مخرا ومخورا جب کشتی پانی کو چیرتے ہوئے آواز کے ساتھ چلے، اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وتری الفلک مواخر فیہ یعنی تو انہیں چلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ یہ جوہری نے کہا ہے۔ اور مخر السابح جب تیرنے والا اپنے سینے کے ساتھ پانی کو شق کرے، چیرے۔ اور مخر الارض اس نے زمین کو کاشت کے لئے پھاڑا۔ اور مخرھا بالماء جب زمین میں پانی روک لیا جائے یہاں تک کہ وہ أریضۃ ہوجائے، یعنی وہ کھیتی کا بہترین اور عمدہ سبزہ اگانے کے قابل ہوجائے۔ اور علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : لغت میں المخر کا معنی ہے ہو ا کے چلنے کی آواز اور یہ پانی میں ہونے کے ساتھ مقید نہیں، اور کہا : بیشک اس بارے میں واصل مولی ابی عینیہ کا قول ہے : جب تم میں سے کوئی بول (چھوٹا پیشاب) کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اجسام میں ہوا کی آواز میں غور و فکر کرے کہ وہ کس سمت سے آرہی ہے، پھر وہ اس کی طرف منہ کرنے سے اجتناب کرے تاکہ اس کا بول اس پر لوٹ کر نہ آئے۔ ولتبتغوا من فضلہ یعنی چاہئے کہ تم اس پر تجارت اور طلب منفعت کے لئے سوار ہو۔ ولعلکم تشکرون یہ سب سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ والحمدللہ۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بناکر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور ستے بنادیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جا سکو۔

آیت نمبر 15 قولہ تعالیٰ : والقی فی الارض رواسی یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین میں ثابت رہنے والے پہاڑ گاڑ دیئے ہیں۔ رسا یرسو جب وہ ثابت اور پختہ ہوجائے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے : فصبرت عارفۃ لذالک حرۃ ترسوا إذا نفس الجبان تطلع ان تمیدبکم ای لئلا تمید (تاکہ وہ لرزتی نہ رہے) ، یہ کو فیوں کے نزدیک ہے۔ وکراھیۃ أن تمید (یعنی اس کے لرزنے کو ناپسند کرتے ہوئے) ؛ یہ بصریوں کے قول کے مطابق ہے۔ اور المید کا معنی ہے دائیں بائیں جھومنا اور لرزنا، اضطراب کا اظہار کرنا۔ ماد الشئ یمید میدا جب وہ شے حرکت کرے، اور مادت الأغصان جب تہنیاں جھک جائیں، اور ماد الرجل جب آدمی اکڑ کر چلے، تکبر کا اظہار کرے۔ وہب بن منبہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا تو وہ لرزنے لگی اور آگے پیچھے ہلنے لگی، تو فرشتوں نے کہا : بیشک یہ تو کسی کو اپنی پشت پر نہیں ٹھہرنے دے گی۔ پس انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اسے پہاڑوں کے ساتھ ثا بت اور مضبوط کردیا گیا تھا، اور ملائکہ نہ جان سکے کہ پہاڑ کس سے پیدا کر دئیے گئے۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا تو یہ ہلنے لگی اور جھک گئی اور کہنے لگی : اے میرے پروردگار ! کیا تو مجھ پر اسے رکھے گا جو گناہوں اور خطاؤں کا عمل کریگا، اور مجھ پر مردار اور بدبو ڈالے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس میں پہاڑ گاڑ دئیے وہ جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور وہ جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ اور ترمذی نے کتاب التفسیر کے آخر میں روایت بیان کی ہے کہ محمد بن بشار نے ہمیں بیان کیا (اس نے کہا) ہمیں یزید بن ہارون نے بیان کیا (اس نے کہا) ہمیں عوام بن حوشب نے سلیمان بن ابی سلیمان سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے خبر دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو تخلیق فرمایا تو یہ لرزنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ تخلیق فرمائے اور ان کے ساتھ اس پر توجہ کی (یعنی انہیں اس میں گاڑ دیا) تو یہ ٹھہر گئی، پختہ ہوگئی۔ تو ملائکہ کو پہاڑوں کی شدت اور سختی پر تعجب ہوا اور کہا : اے رب ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی شے پہاڑوں سے زیادہ سخت بھی ہے تو رب کریم نے فرمایا : ہاں وہ لوہا ہے، انہوں نے عرض کی : اے رب ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی شے لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے ؟ رب کریم نے فرمایا : ہاں وہ آگ ہے۔ پھر عرض کی : اے رب ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی شے آگ سے بھی زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا : ہاں وہ پانی ہے۔ انہوں نے عرض کی : اے رب ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی شے پانی سے بھی زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا : ہاں وہ ہوا ہے۔ پھر عرض کی : اے رب ! کیا تیری مخلوق میں سے کوئی شے ہوا سے بھی زیادہ سخت ہے ؟ فرمایا : ہاں وہ ابن آدم (انسان) ہے جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ دیتا ہے اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھتا ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند کے سوا اسے مرفوع نہیں پہچانتے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس آیت میں اسباب کے استعمال پر بہت بڑی دلیل ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ بغیر پہاڑوں کے اسے ساکن کرنے پر قدرت رکھتا تھا۔ اور یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ وانھرا یعنی اس میں نہریں بنا دیں یا اس میں نہریں رکھ دیں۔ وسبلا یعنی اس میں راستے بنا دئیے۔ لعلکم تھتدون تاکہ تم ان شہروں کی طرف راہ پاسکو جہاں جانے کا تم قصد کرتے ہو پس تم بھٹکتے نہیں اور نہ حیرت زدہ ہوتے ہو۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (راستوں میں) نشانات (بنادیئے) اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں۔

آیت نمبر 16 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وعلمت حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : علامات سے مراد دن کے وقت راستوں پر لگائی گئی نشانیاں ہیں، یعنی راستوں کے لئے ایسی علامات اور نشانیاں مقرر کردی گئی ہیں جن سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ وبالنجم ھم یھتدون یعنی رات کے وقت وہ ستاروں کے ذریعے سے راہ یاب ہوتے ہیں، اور النجم سے النجوم (ستارے) مراد لئے جاتے ہیں۔ اور ابن وثاب نے وبالنجم پڑھا ہے۔ اور حسن نے نون اور جیم دونوں کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس سے مراد النجوم ہے، پس اسے کم کردیا ہے۔ (یعنی قصر کیا ہے) ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : إن الفقیر بیننا قاض حکم أن ترد الماء إذا غاب النجم اور اسی طرح اس کے بارے قول ہے جس نے النجم پڑھا ہے مگر یہ کہ اس نے تخفیف کے لئے جیم کو ساکن کردیا ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ النجم نجم کی جمع ہو جیسا کہ سقف کی جمع سقف ہے اور النجوم کے بارے میں اختلاف ہے ؛ پس فراء نے کہا ہے : مراد جدی (قطب کے پاس ایک ستارہ جس سے قبلہ کی شناخت کی جاتی ہے اور اس کو جدی الفرقد بھی کہتے ہیں) اور الفرقدان (فرقد وہ ستارہ جو قطب شمالی کے قریب ہے اور اس سے لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں اور اس کی دوسری جانب میں ایک دوسرا ستارہ ہے جو اس سے روشنی میں کم ہے پھر دونوں کو فرقدان کہتے ہیں (المنجد) ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے : مراد ثریا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : حتی إذا ما استقل النجم فی غلس وغودر البقل ملوئ ومحصود ای منہ ملوئ ومنہ محصود۔ (اسی ستارے) سے ان کا نشوونما پانا، بڑھنا ہے اور اسی سے کاٹنے کے وقت کو پہنچنا ہے) اور یہ ثریا کے طلوع کے وقت ہوتا ہے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : علامات سے مراد پہاڑ ہیں۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ ستارے ہی ہیں : کیونکہ وہ ستارے ہی ہیں جن سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، اور انہیں میں سے وہ ہیں جو اسی علامت ہوتے ہیں جس سے راہنمائی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ حضرت قتادہ (رح) اور نخعی (رح) نے یہی کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : قول باری تعالیٰ : وعلمت پر کلام مکمل ہوگئی۔ پھر نئی کلام کا آغاز کیا اور فرمایا : وبالنجم ھم یھتدون اور پہلے قول کے مطابق یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے علامات بنا دی ہیں جن سے تم راہنمائی حاصل کرتے ہو۔ اور علامات میں سے ہوائیں ہیں جن سے راہنمائی لی جاتی ہے۔ اور اھتداء سے جو مراد ہے اس کے بارے دو قول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے سفروں میں راہنمائی حاصل کرنا، یہ جمہور کا قول ہے۔ اور دوسرا۔ قبلہ سمت معلوم کرنے میں راہنمائی لینا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس قول باری تعالیٰ وبالنجم ھم یھتدون کے بارے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابن عباس ! وہ الجدی (ستارہ) ہے، اسی پر تمہارا قبلہ ہے اور اس سے تم اپنے خشکی اور بحری سفر میں راہنمائی لے سکتے ہو۔ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : رہے تمام ستارے تو ان سے راہنمائی وہ حاصل کرسکتا ہے جو ان کے طلوع و غروب ہونے کے مقامات کو جانتا ہو، اور ان میں سے جنوبی اور شمالی کے درمیان فرق کرسکتا ہو، اور بعد میں آنے والوں میں یہ بہت کم ہے۔ اور رہا ثریا تو اس سے راہنمائی حاصل نہیں کرسکتا مگر وہی جو تمام ستاروں سے راہنمائی لے سکتا ہو۔ اور بلاشبہ ہر ایک کیلئے جدی اور فرق دین کے ساتھ راہنمائی ممکن ہے، کیونکہ یہ وہ ستارے ہیں جن کے مطالع ظاہرہ اور سمت ثابتہ معین جگہ اور محل کے ساتھ محصور ہے، کیونکہ یہ قطب ثابت کے اردگرد معین مدار میں چکر لگاتے ہیں، پس یہ خشکی میں مخلوق کی راہنمائی کیلئے بالکل ظاہر ہیں جب راستہ گم ہوجائے، معلوم نہ ہو، اور سمندر میں کشتیوں کے چلنے کے وقت اور قبلہ سمت جب مجہول ہوجائے تو اس کیلئے یہ راہنمائی کرتے ہیں، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ قطب کو اپنے بائیں کندھے کی پشت پر رکھو تو جس طرف آپ کا منہ ہوگا تو وہی جہت قبلہ ہوگی۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے النجم کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا : ” وہ جدی ہے اسی پر تمہارا قبلہ ہے اور اسی کے ساتھ تم اپنے خشکی اور سمندر کے سفر میں راہنمائی حاصل کرتے ہو “۔ وہ یہ کہ جدی کے آخر میں بنات نعش الصغری ہیں (بنات نعش الکبریٰ قطب شمالی کے رخ میں سات ستارے ہیں، انہیں کے قرب میں بنات نعش الصغریٰ کے سات ستارے ہیں۔ (المنجد) اور قطب وہ ہے جس پر ان کے درمیان میں سیدھا قبلہ ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: ہمارے علماء نے کہا ہے : قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم وہ وجہوں پر ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسے دیکھے اور اس کا معائنہ کر رہا ہو تو اس صورت میں لازم ہے کہ وہ سیدھا اس کی طرف منہ کرے اور اپنا سارا بدن اس کی طرف کرنے کا ارادہ کرے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کعبہ معظمہ اس طرح ہو کہ وہ اسے دیکھ نہ رہا ہو تو اس صورت میں اس کی طرف منہ کرنا لازم ہوتا ہے اور دلائل سے اس کے سامنے ہونا ضروری ہے، اور وہ سورج، چاند، ستارے، ہوائیں، اور ہر وہ شے ہے جس کے ساتھ اس کی جہت کو پہچاننا ممکن ہوتا ہے، اور جس سے قبلہ غائب ہوجائے اور اس نے اجتہاد کرتے ہوئے اس کے سوا دوسری سمت منہ کرکے نماز پڑھ لی اور یہ ان میں سے ہو جن کے لیے اجتہاد ممکن ہوتا ہے تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جب کسی نے اجتہاد اور استدلال کرتے ہوئے نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس کے لئے ظاہر ہوا کہ اس نے غیر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھی ہے تو وہ نماز کا اعادہ کرے اگر نماز کا وقت ہو، اور یہ اس پر واجب نہیں ہے، کیونکہ اس نے اپنا فرض اس طریقہ پر ادا کیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ یہ مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ والحمدللہ۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

آیت نمبر 17 قولہ تعالیٰ : افمن یخلق وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ کمن لا یخلق مراد بت ہیں۔ افلا تذکرون ان بتوں کے بارے خبر دی گئی ہے جو نہ کچھ بنا سکتے ہیں اور نہ کسی کو نقصان اور نفع پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ اس کے بارے خبر دی جا رہی ہے جو اس طور پر عمل کرتا ہے جیسے عمل کا عرب اس سے مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان (بتوں) کی عبادت کرتے تھے اور اسے لفظ من کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ یہ قول ہے الھم ارجل (الاعراف :195) (کیا ان کے پاؤں ہیں) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ذکر میں ضمیر خالق کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ عربوں کے اس قول کی طرح ہے : إشتبہ علی الراکب و جملہ فلا ادری من ذا ومن ذا۔ (مجھ پر سوار اور اس کا اونٹ مشتبہ ہیں پس میں نہیں جانتا یہ کون ہے اور یہ کون ہے) ۔ اگرچہ ان دونوں میں سے ایک انسان نہیں ہے۔ اور مہدوی نے کہا ہے : کہ من کے ساتھ باری تعالیٰ کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے اور اس کے بارے ما کے ساتھ سوال نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ما کے ساتھ اجناس کے بارے سوال کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ جنس نہیں، اسی لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیا جس وقت ان کو فرمایا : فمن ربکما یموسی۔ (طہٰ ) (پس تم دونوں کا رب کون ہے اسے موسیٰ ) اور یہ جواب نہ دیا جس وقت ان کو فرمایا : فمن ربکما یموسی۔ (طہٰ ) (پس تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ) اور یہ جواب نہ دیا جس وقت ان کو کہا وما رب العلمین۔ (الشعراء) مگر من کے جواب کے ساتھ اور ما کے جواب سے اضرب کیا جس وقت سوال فاسد تھا۔ اور آیت کا معنی یہ ہے : من کان قادر أعلی خلق الاشیاء المتقدمۃ الذکر کان بالعبادۃ أحق فمن ھو مخلوق لا یضر ولا ینفع۔ (جو ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے جن کا ذکر پہلے ہوا وہ اس سے زیادہ عبادت کا مستحق ہے جو مخلوق ہے اور نفع و نقصان نہیں دے سکتا) ۔ ھذا خلق اللہ فارونی ما ذا خلق الذین من دونہ (لقمان :11) ( یہ تو ہے اللہ کی تخلیق (اے مشرکو ! ) اب ڈرا دکھاؤمجھ کو کیا بنایا ہے۔ اوروں نے اس کے سوا ؟ (کچھ بھی نہیں) اور ارونی ما ذا خلقوا من الارض (الاحقاف :4) (مجھے بھی تو دکھاؤ زمین کا وہ گوشہ جو انہوں نے بنایا ہے) ۔
Ayahs 16:18–19

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گن نہ سکو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے۔

آیت نمبر 18 تا 19 قولہ تعالیٰ : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا اس کا ذکر سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اسے بھی جو تم چھپاتے ہو اور اسے بھی جو تم ظاہر ہو، یہ سب پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 16:20–21

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بنا سکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ لاشیں ہیں بےجان ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

آیت نمبر 20 تا 21 قولہ تعالیٰ : والذین یدعون من دون اللہ قرأۃ عام تدعون، تا کے ساتھ ہے کیونکہ اس کا ماقبل خطاب ہے۔ ابوبکر نے عاصم سے اور ہبیرہ نے حفص سے یدعون یا کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہی یعقوب کی قرأت ہے اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ما تسرون وما تعلنون تو سب خطاب کی بنا پر تا کے ساتھ ہیں، سوائے اس کے جو ہبیرہ نے حفص سے اور انہوں نے حضرت عاصم سے روایت کیا ہے کیونکہ انہوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ لا یخلقون شیئا یعنی وہ کسی شے کو پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں وھم یخلقون (بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں) ۔ اموات غیر احیاء ای ھم اموات یعنی وہ مردہ ہیں، مراد بت ہیں، نہ ان میں روحیں ہیں، نہ وہ سنتے ہیں اور نہ وہ دیکھتے ہیں، یعنی وہ جمادات ہیں تو تم کیسے ان کی عبادت کرتے ہو حالانکہ حیات کے سبب تم ان سے افضل ہو۔ وما یشعرون اور وہ (یعنی بت) نہیں سمجھتے۔ ایان یبعثون سلمی نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ایان پڑھا ہے، اور یہ دونوں لغتیں ہیں، اور یہ یبعثون کے سبب محل نصب میں ہے اور یہ استفہام کے معنی میں ہے۔ اور اس کا معنی ہے وہ نہیں جانتے کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اور انہیں اس سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے آدمیوں کو تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ان کے بارے عقل و سمجھ رکھتے ہیں اور جانتے ہیں اور وہ ان کی اللہ تعالیٰ کے پاس شفاعت کریں گے، پس ان کا خطاب اسی انداز پر جاری ہوا۔ اور تحقیق کہا گیا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بتوں کو اٹھائے گا اور ان کے لئے ارواح ہوں گی پس وہ ان کی عبادت سے اپنی برأت کا اظہار کریں گے، اور وہ دنیا میں جمادات ہیں وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائیں جائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بتوں کو اٹھایا جائے گا اور ان میں روحوں کو ملایا جائے گا اور ان کے ساتھ ان کے شیاطین بھی ہوں گے پس وہ اپنی پوجا کرنے والوں سے برأت کا اظہار کریں گے، پھر شیاطین اور مشرکین کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دے دیا جائے گا، اور کہا گیا ہے : بیشک بتوں کو ان کی پوجا کرنے والوں سمیت قیامت کے دن جہنم میں پھینکا جائے گا۔ اور اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم (الانبیاء : 98) (اے مشرکو ! تم اور جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سب جہنم کا ایندھن ہوں گے) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ لا یخلقون شیئا و ھم یخلقون پر کلام مکمل ہوگئی ہے۔ پھر آغاز کیا اور مشرکین کا وصف بیان کیا کہ وہ مردہ ہیں، اور یہ موت کفر کی موت ہے۔ وما یشعرون ایان یبعثون یعنی کفار نہیں رکھتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے کی تیاری کریں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی وہ نہیں جانتے کہ قیامت کب آئے گی، شاید وہ قریب آچکی ہو۔
Ayahs 16:22–23

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا ضرور اس کو جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

آیت نمبر 22 تا 23 قولہ تعالیٰ : الھکم الہ واحد جب یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا محال ہے تو اب یہ بیان کیا کہ معبود واحد و یکتا ہے اس کے سوا کوئی رب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ فالذین لا یؤمنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ یعنی ان کے دل نہ کوئی وعظ و نصیحت قبول کرتے ہیں اور نہ ان میں ذکر اثر انداز ہوتا ہے، یہ قدریہ کا رد ہے۔ وھم مستکبرون یعنی وہ حق قبول کرنے سے تکبر اور غرور کرنے والے ہیں۔ استکبار کا معنی سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ لاجرم ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہر وہ قول و عمل جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں پس وہ انہیں بدلہ اور جزا دے گا۔ خلیل نے کہا ہے : لا جرم کلمہ تحقیق ہے اور یہ صرف جواب کے لئے آتا ہے۔ کہا جاتا ہے : فعلوا ذالک (انہوں نے ایسا کیا) ، فیقال : لا جرم سیندمون۔ (تو کہا جائے گا : یقیناً وہ نادم اور شرمندہ ہوں گے) یعنی یہ لازم ہے کہ ان کے لئے جہنم ہو۔ اس بارے میں مکمل بحث سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ انہ لا یحب المستکبرین یعنی نہ وہ انہیں ثواب دیتا ہے اور نہ ان کی تعریف کرتا ہے۔ حضرت حسین بن علی سے روایت ہے کہ آپ مساکین کے پاس سے گزرے درآنحالیکہ انہوں نے اپنے سامنے ٹکڑے رکھے ہوئے تھے اور وہ کھا رہے تھے تو انہوں نے کہا : اے ابا عبد اللہ ! کھانا کھاؤ، تو آپ اترے اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا : انہ لا یحب المستکبرین پس جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : تحقیق میں نے تمہاری دعوت قبول کی پے پس تم میری دعوت قبول کرو، تو وہ اٹھ کر آپ کے ساتھ آپ کے گھر کی طرف چلے تو آپ نے انہیں کھانا کھلایا اور انہیں پانی پلایا اور انہیں (تحائف سے) نوازا، اور پھر وہ واپس چلے گئے، علماء نے کہا ہے : سوائے تکبر کے ہر گناہ کو چھپانا اور اسے مخفی رکھنا ممکن ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایسا فسق ہے جس کا اعلان لازم ہوتا ہے، اور یہ تمام گناہوں کی اصل ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے : ” بیشک تکبر کرنے والے قیامت کے دن چیونٹیوں کی مثل اٹھائے جائیں گے ان کے تکبر کی وجہ سے لوگ انہیں اپنے قدموں کے ساتھ روند ڈالیں گے “۔ یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” محشر میں ان کے اجسام چھوٹے ہوجائیں گے یہاں تک کہ ان کا چھوٹا ہونا انہیں نقصان دے گا اور جہنم میں ان کے اجسام بڑے ہوجائیں گے، یہاں تک کہ ان کا بڑا ہونا انہیں نقصان اور تکلیف دے گا “۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

آیت نمبر 24 قولہ تعالیٰ : واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم یعنی جب ان سے پوچھا جاتا ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ان لوگوں میں سے کو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل بعث بعد الموت کے منکر ہیں ماذا انزل ربکم کہ کیا نازل فرمایا ہے تمہارے پروردگار نے ؟ کہا گیا ہے : کہنے والا نضر بن حارث تھا، اور یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ حیرہ کی طرف نکلا اور کلیلہ و دمنہ کی کہانیاں خرید کر لایا اور وہ قریش میں پڑھتا اور کہتا تھا : محمد ﷺ اپنے اصحاب پر نہیں پڑھتے ہیں مگر پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ؛ یعنی یہ ہمارے رب کی طرف سے نازل کردہ کتاب نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک مومنین ہی بطور آزمائش ان کو یہ کہتے تھے تو وہ اپنے اس قول کے ساتھ جواب دیتے : اساطیر الاولین (یہ پہلے لوگوں کے من گھڑے قصے ہیں) پس انہوں نے ایک شے کے انکار کے ساتھ یہ اقرار کرلیا کہ وہ اساطیر الاولین ہیں۔ اور اساطیر سے مراد جھوٹے اور باطل واقعات ہیں۔ یہ سورة الانعام میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور ماذآ انزل ربکم میں گفتگو اسی طرح ہے جیسے ما ذا ینفقون میں ہے۔ اور قولہ : اساطیر الاولین یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے، اور تقدیر عبارت ہے : الذی أنزلہ أساطیر الاولین (وہ جو اس نے اتارا ہے وہ پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ہیں) ۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو ) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی (اٹھائیں گے) سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

آیت نمبر 25 قولہ تعالیٰ : لیحملوا اوزارھم کہا گیا ہے : یہ لام کی ہے، اور یہ اپنے ما قبل سے متعلق ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ لام عاقبت ہے، جیسا کہ اس قول میں ہے : لیکون لھم عدوا وحزنا (القصص :8) سنو (تاکہ (انجام کار) وہ ان کا دشمن اور باعث رنج و الم بنے) یعنی قرآن کریم اور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں ان کے قول نے انہیں اس تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں۔ کاملۃ (مکمل بوجھ) یعنی وہ اس میں سے کوئی چیز بھی نہ چھوڑیں اس مصیبت کی وجہ سے جو انہیں دنیا میں اپنے کفر کے سبب پہنچی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ لام امر ہے، اور اس کا معنی جھڑکنا اور دھمکانا ہے۔ ومن اوزار الذین یضلونھم بغیر علم حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ اٹھائیں گے ان لوگوں کا بوجھ بھی جنہیں انہوں نے گمراہ کیا اور جن کو گمراہ کیا گیا ہے ان کے گناہ سے کوئی شے کم نہیں ہوگی۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” جس بھی دعوت دینے والے نے گمراہی کی طرف دعوت دی اور اس کی اتباع اور پیروی کی گئی تو بلاشبہ اس پر ان کے بوجھوں کی مثل بوجھ ہوگا جنہوں نے اس کی اتباع کی مگر ان کے بوجھوں سے کوئی شے کم نہ ہوگی، اور جس بھی دعوت دینے والے نے ہدایت کی طرف دعوت دی اور اس کی اتباع و پیروی کی گئی تو اس کے لئے ان کے اجروں کی مثل اجر ہوگا ان کے اجروں میں سے کوئی شے کم نہ ہوگی “۔ اسے امام مسلم نے اسی معنی میں بیان کیا ہے۔ اور من جنس کے لئے ہے تبعیض کے لئے نہیں، پس گمراہی کی دعوت دینے والوں پر ان کے بوجھوں کی مثل ہوگا جنہوں نے ان کی اتباع کی۔ اور قولہ : بغیر علم یعنی وہ مخلوق کو گمراہ کرتے ہیں اس سے جاہل اور غافل رکھتے ہوئے جو ان پر گناہ لازم ہو رہے ہیں، کیونکہ اگر وہ جان لیں تو یہ انہیں گمراہ کرسکیں۔ الاسأء ما یزرون یعنی کتنا برا ہے وہ بوجھ جسے وہ اٹھا رہے ہیں۔ اور اس آیت کی نظیر یہ ہے ولیحملن اثقالھم واثقالا مع اثقالھم (العنکبوت :13) (اور وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور دوسرے کئی بوجھ (گناہوں کے) بوجھوں کے ساتھ) اور قول باری تعالیٰ ولاتزروازرۃ وزر اخری (الانعام :64) کے بیان میں سورة الانعام کے آخر میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

آیت نمبر 26 قولہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلھم یعنی وہ اقوام جو سابقہ رسولوں کے ساتھ کفر کرنے کے سبب ان سے سبقت لے گئی ہے (وہ دعوت حق کے خلاف مکروفریب کیا کرتی تھیں) لیکن حسین اور خوبصورت انجام رسل (علیہم السلام) کا ہوا۔ فأتی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیہم السقف من فوقھم حضرت ابن عباس اور حضرت زید بن اسلم ؓ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ نمرود بن کنعان اور اس کی قوم نے آسمان پر چڑھنے اور اس کے باسیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، پس انہوں نے ایک محل بنایا تاکہ وہ اس سے اوپر چڑھ سکیں اس کے بعد کہ اس نے گدھوں کے ساتھ بنایا جو بنایا، پس وہ گر پڑا۔ اس کا بیان سورة ابراہیم کے آخر میں گزر چکا ہے اور فاتی اللہ بنیانھم یعنی اللہ تعالیٰ کا امر عمارت تک پہنچایا تو زلزلہ کی صورت میں یا ہوا کی صورت میں اور اس نے اسے گرا دیا حضرت ابن عباس اور وہب ؓ نے بیان کیا ہے : آسمان کی طرف اس محل کی طوالت پانچ ہزار گز تھی، اور اس کا عرض تین ہزار گز تھا۔ اور حضرت کعب اور مقاتل نے بیان کیا ہے : اس کا طول دو فرسخ تھا، پس ہوا چلی اور اس نے اس کا سرا سمندر میں پھینک دیا اور باقی ان پر گر پڑی۔ اور جب وہ محل گرگیا تو اس دن خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے لوگوں کی زبانیں مخلوط ہوگئی، گڑگڑانے لگیں پس وہ تہتر زبانوں میں کلام کرنے لگے، پس اسی وجہ سے اس کا نام بابل رکھا گیا ہے، اور اس سے قبل ان کی زبان صرف سریانی تھی۔ یہ معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ ابن ہرمز اور ابن محیصن نے السقف سین اور قاف دونوں کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور مجاہد (رح) نے سین کو ضمہ دیا ہے اور قاف کو تخفیفاً ساکن کردیا ہے ؛ جیسا کہ وبالنجم کے تحت دو دج ہوں کے ضمن میں گزر چکا ہے۔ اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ سقف کی جمع ہو۔ اور القواعد سے مراد عمارت کی بنیادیں اور جڑیں ہیں۔ اور جب بنیادیں خراب ہوجائیں تو عمارت گر جاتی ہے۔ اور قولہ تعالیٰ : من فوقھم ابن الاعرابی نے کہا ہے : اس کے ساتھ توکید لگائی تاکہ وہ تجھے بتائے کہ وہ اس کے نیچے رہ رہے تھے۔ اور عرب کہتے ہیں : خر علینا سقف ووقع علینا حائط (چھت یا دیوار ہم پر گر پڑی) جب وہ اس کے مالک ہوں اگرچہ وہ ان پر نہ بھی گرے۔ پس فرمایا : من فوقھم لائے تاکہ وہ اس شک کو نکال دے جو کلام عرب میں پایا جاتا ہے، پس فرمایا : من فوقھم یعنی وہ ان پر گرا اور وہ اس کے نیچے تھے پس وہ ہلاک ہوگئے اور ان میں سے کوئی بھی نہ بچا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سقف سے مراد آسمان ہے، یعنی بیشک اس آسمان کی طرف سے ان پر عذاب آیا جو ان کے اوپر ہے ؟ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : فاتی اللہ بنیانھم من القواعد یہ تمثیل ہے، اور اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا تو وہ اس کی طرف ہوگئے جس پر اس کی عمارت گر پڑی ہو۔ اور یہ قول بھی ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا پس وہ اس کی طرح ہوگئے جس کی عمارت گر پڑی ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب اور ان کی تدبیر کو باطل کردیا اور وہ ہلاک ہوگئے جیسے وہ ہلاک ہوجاتا ہے جس پر اس کے اوپر سے چھت گر پڑے۔ اور اسی وجہ سے ان کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے جن پر چھت گری، پس حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زیاد ؓ نے وہ کہا ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بخت نصر اور اس کے ساتھی تھے ؛ یہ بعض مفسرین نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد وہ بانٹنے والے ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الحج میں کیا ہے ؛ یہ کلبی (رح) نے کہا ہے۔ اور اس تاویل کی بنا پر تمثیل کی وجہ خارج ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ واتھم العذاب من حیث لایشعرون یعنی اس حیثیت سے کہ ان کا گمان تھا وہ امان میں ہیں (ان پر عذاب آگیا) اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : (عذاب) سے مراد وہ مچھر ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے نمرود کو ہلاک کردیا۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔

آیت نمبر 27 قولہ تعالیٰ : ثم یوم القیمۃ یخزیھم یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں عذاب کے ساتھ رسوا کرے گا اور اس کے ساتھ انہیں ذلیل کرے گا اور ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے گا۔ ویقول این شرکاءی اور ان سے پوچھے گا : تمہارے گمان میں اور تمہارے دعوے کے مطابق جو میرے شریک ہیں وہ کہا ہیں، یعنی وہ معبود جن کی تم میرے سوا عبادت اور پرستش کرتے ہو، اور یہ سوال برائے زجرو توبیخ ہے۔ الذین کنتم تشاقون فیھم یعنی جن کے سبب تم میرے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ عداوت رکھتے تھے اور جھگڑا کرتے تھے، پس چاہئے کہ وہ تم سے اس عذاب کو دور ہٹائیں۔ اور ابن کثیر نے شرکاءی یا کو مفتوح بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے، اور باقیوں نے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت نافع نے تشاقون اضافت کی بنا پر نون کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی تعادوننی فیھم (تم میرے ساتھ ان کے بارے میں جھگڑا کیا کرتے تھے) اور باقیوں نے اسے فتحہ دیا ہے۔ قال الذین اوتوا العلم حضرت بن عباس ؓ نے کہا ہے : یعنی ملائکہ نے کہا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد مومنین ہیں۔ ان الخزی الیوم یعنی بلاشبہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت والسوٓء اور عذاب، علی الکفرین کافروں کے لئے ہے۔