Ayah 16:90آیت نمبر 90
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان حضرت عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے اسے حضرت علی بن ابی طالب ؓ پر پڑھا تو وہ بہت متعجب ہوئے اور کہا : اے آل غالب ! آپ کی اتباع اور پیروی کرو کامیاب ہوجاؤ گے، فلاح پا جاؤ گے۔ قسم بخدا ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ آپ تمہیں مکارم اخلاق کے بارے حکم دیں۔ اور حدیث میں ہے۔ بیشک حضرت ابو طالب کو جب یہ کہا گیا : بیشک آپ کے بھتیجے نے یہ گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ نازل کی ہے : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان الآیہ، تو انہوں نے کہا : حضور نبی کریم ﷺ نے ولید بن مغیرہ پر یہ آیت آخر تک پڑھی ان اللہ یامر بالعدل والاحسان تو اس نے عرض کی : اے میرے بھتجے ! اے دوبارہ پڑھو ! پس آپ ﷺ نے یہی آیت دوبارہ پڑھی تو اس نے کہا : قسم بخدا ! بلاشبہ اس میں بڑی شیرینی اور حلاوت ہے، اور اس پر بڑا حسن و جمال اور رونق ہے۔ اور بیشک اس کی اصل (جڑ) پتے لانے والی ہے، اور اس کی بلندی (شاخیں) پھلوں سے لدی ہوئی ہیں، اور یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ واللہ أن لہ لحلاوۃ، وإن علیہ لطلاوۃ، وإن إصلہ لمورو، وأعلاہ لمثمر، وما ھو بقول بشر ! اور غزنوی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون ؓ بھی قاری تھے۔ حضرت عثمان ؓ نے بیان کیا : میں ابتدا میں اسلام نہیں لایا مگر رسول اللہ ﷺ سے حیاء کرتے ہوئے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی اور میں آپ ﷺ کے پاس تھا تو میرے دل میں ایمان راسخ اور پختہ ہوگیا۔ پھر میں سے اسے ولید بن مغیرہ پر پڑھا تو اس نے کہا : اے میرے بھتیجے ! اسے دوبارہ پڑھ ! تو میں نے اسے دوبارہ پڑھا تو اس نے کہا : قسم بخدا ! اس میں بڑی حلاوت اور شیرینی ہے۔ اور آگے پوری خبر بیان کی۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا : قرآن کریم میں یہ آیت اس خبر اور بھلائی کو جس کی پیروی کی جاتی ہے، اور اس شر اور برائی کو جس سے اجتناب کیا جاتا ہے زیادہ جامع ہے۔ اور نقاش نے بیان کیا ہے : کہا جاتا ہے عدل کی زکوٰۃ احسان ہے، اور قدرت کی زکوٰۃ عفو و درگزر ہے، اور غنی (دولتمندی) کی زکوٰۃ نیکی ہے اور جاہ و حشمت کی زکوٰۃ آدمی کا اپنے بھائیوں کی طرف لکھ لکھنا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: علماء نے عدل و احسان کی تاویل میں اختلاف کیا ہے، پس حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : عدل سے مراد لا الہ الا اللہ کہنا، اور احسان سے مراد فرائض کو ادا کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدل سے مراد فرض، اور احسان سے مراد نفل ادا کرنا ہے۔ اور سفیان بن عینیہ نے کہا ہے : یہاں عدل سے مراد ظاہر اور باطن کو برابر رکھنا ہے، اور احسان یہ ہے کہ خلوت کی حالت اعلانیہ حالت سے افضل ہو۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا ہے : عدل سے مراد انصاف کرنا، اور احسان سے مراد تفضل اور مہربانی کرنا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : عدل سے مراد ہر وہ شے جو عقائد میں سے فرض ہے اور امانتیں ادا کرنے میں وہ دین اور شریعت ہے، اور ظلم کو ترک کرنا اور انصاف کرنا، اور حق ادا کرنا ہے۔ اور احسان سے مراد ہر وہ کام کرنا ہے جو اس کے لئے مندوب اور مستحب ہو، اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو فرض ہیں، مگر اس سے بدلہ دینے کی حد عدل میں داخل ہے، اور بدلے سے زائد کے ساتھ اس کی تکمیل کرنا احسان میں داخل ہے۔ اور رہا حضرت ابن عباس ؓ کا قول تو وہ محل نظر ہے، کیونکہ فرائض کو ادا کرنا ہی اسلام ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث جبرائیل (علیہ السلام) میں اس کی تفسیر بیان فرمائی ہے، اور وہی عدل ہے، اور بلاشبہ احسان سے مراد مکمل کرنے والے اور کامل بنانے والے امور ہیں اور وہ مندوب اور مستحب ہیں جیسا کہ حدیث جبرائیل (علیہ السلام) میں حضور نبی مکرم ﷺ کی تفسیر اسی کا تقاضا کرتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا (احسان یہ ہے): أن تعبد اللہ کأنت تراہ فإن لم تکن تراہ فانہ یراک (تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو بلاشبہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے) پس اگر حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول صحیح ہے تو پھر آپ نے فرائض سے مراد مکمل کرنے والے امور لئے ہیں۔ اور علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : بندے اور اس کے رب کے درمیان عدل یہ ہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے نفس کے حصے پر ترجیح دینا ہے، اور اس کی رضا کو اپنی خواہش پر مقدم کرنا ہے، اور نواہی سے اجتناب کرنا اور اوامر کی پیروی اور اتباع کرنا ہے۔ اور رہا عدل بندے اور اس کے نفس کے درمیان ! تو یہ اسے ہر اس شی سے روکنا ہے جس میں اس کی ہلاکت ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ونھی النفس عن الھوی۔ (النازعات) ۔ اور اتباع سے خواہش و لالچ کو دور رکھنا ہے، اور ہر حال اور معنی میں قناعت کو لازم پکڑنا ہے۔ اور وہ عدل جو اس کے اور مخلوق کے درمیان ہے تو وہ انہیں نصیحت کرنا ہے، خیانت کو ترک کرنا ہے چیز کم ہو یا زیادہ، اور اپنی طرف سے ان کے ساتھ ہر اعتبار سے انصاف کرنا ہے اور تیری طرف سے کسی کے ساتھ برائی نہ ہو نہ قولاً نہ فعلاً اور نہ سراً نہ اعلانیہ طور پر، اور ان کی طرف سے جو مصیبت اور تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کرنا، اور اس میں کم سے کم انصاف کرنا ہے اور اذیت دینے کو چھوڑ دینا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : عدل میں یہ تفصیل انتہائی اچھی اور عین عدل ہے، اور رہا احسان تو ہمارے علماء نے کہا ہے : الاحسان مصدر ہے أحسن یحسن إحسانا۔ اور اسے دو معنوں پر بولا جاتا ہے : ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ بذات خود منعدی ہے، جیسے تیرا یہ قول : أحسنت کذا، یعنی میں نے اسے اچھا کیا اور اسے مکمل کیا، اور یہ ہمزہ کے ساتھ حسن الشئ سے نقل کیا گیا ہے۔ اور دوسرا معنی یہ ہے کہ حرف جر کے ساتھ متعدی ہوتا ہے جیسے تیرا یہ قول : أحسنت إلی فلان، یعنی میں نے اس تک وہ شے پہنچائی جس کے ساتھ وہ نفع حاصل کرسکتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ لفظ اس آیت میں ان دونوں معنوں کے ساتھ اکٹھا مراد ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بعض کا بعض کے ساتھ احسان کرنا پسند فرماتا ہے، یہاں تک کہ پرندہ تیرے پنجرے میں ہو اور بلی تیرے گھر میں ہو تو تیرے احسان کے بارے یہ مناسب نہیں کہ تو اسکی دیکھ بھال اور حفاظت میں کوتاہی کرے، اور اللہ تعالیٰ تو ان کے احسان سے غنی اور بےنیاز ہے، اور اس کی طرف سے احسان، نعمتیں، فضل و مہربانی اور عنایتیں اور بخششیں ہیں۔ اور یہ حدیث جبرائیل میں پہلے معنی کے اعتبار سے ہے نہ کہ دوسرے معنی کے اعتبار سے، کیونکہ پہلا معنی عبادت کے اتقان، اور اسے ان امور کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کرنے کی طرف راجع ہے جو اس عبادت کو صحیح بنانے والے اور مکمل کرنے والے ہیں، اور اس میں حق کا مراقبہ کرنا، اور عبادت کے شروع اور پھر اسے جاری رکھنے کی حالت میں اس (حق) کی عظمت و جلال کے تصور کو قائم رکھنا ہے۔ اور یہی آپ ﷺ کے اس قول سے مراد ہے۔ ان تعبد اللہ کا نک تراہ فإن لم تکن تراہ فانہ یراک اور اصحاب دل کی اس مراقبہ میں دو حالتیں ہوتی ہیں : ایک یہ کہ مشاہدہ حق اس پر غالب ہوتا تو گو یا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور شاید حضور نبی مکرم ﷺ نے اسی حالت کی طرف اپنے اس ارشاد سے اشارہ کیا ہے : ” اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے “۔ اور دوسری حالت یہ ہے کہ وہ اس مقام تک نہیں پہنچتا، لیکن اس پر یہ تصور غالب ہوتا ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ اس پر مطلع ہے اور اس کا مشاہدہ کر رہا ہے، اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ اشارہ ہے : الذی یرک حین تقوم۔ وتقلبک فی السجدین۔ (الشعراء) (جو آپ کو دیکھتا رہتا ہے جب آپ کھڑے ہوتے ہیں اور (دیکھتا رہتا ہے جب) آپ چکر لگاتے ہیں سجدہ کرنے والوں (کے گھروں کا) ۔ اور قول باری تعالیٰ : الا کنا علیکم شھودا اذ تفیضون فیہ (یونس : 61) (مگر (ہر حال میں) ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب بھی تم شروع ہوتے ہو کسی کام میں) ۔
مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : وایتائ ذی القربی مراد قرابت دار اور رشتہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے : وہ (آدمی) انہیں مال دیتا ہے جیسے اس نے فرمایا : وات ذا القربی حقہ (الاسراء : 26) (اور رشتہ دار کو اس کا حق یعنی صلہ ادا کرو) اور یہ واجب پر مندوب کے عطف کے باب سے ہے، اور اس سے امام شافعی نے مکاتب کو دینے کے وجوب کے بارے استدلال کیا ہے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا، اور اللہ تعالیٰ نے ذوی القربیٰ کو خاص کیا ہے کیونکہ ان کے حقوق زیادہ موکد اور ان کا صلہ نسبتاً زیادہ واجب ہے، اس رحم کے حق کی تاکید کی وجہ سے جس کا نام اللہ تعالیٰ نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، اور اس کا صلہ اپنے صلہ سے قرار دیا ہے، پس صحیح میں فرمایا : اما ترضین أن أصل من وصلک وأقطع من قطعک (کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں جس نے تیرے ساتھ صلہ رحمی کی اور میں اس کے ساتھ قطعی تعلقی کرلوں جس نے تیرے ساتھ قطع تعلقی کی) اور بالخصوص جب وہ فقراء ہوں۔
مسئلہ نمبر 4: قولہ تعالیٰ : وینھی عن الفحشآء والمنکر والبغی الفحشاء سے مراد فحش ہے، اور اس کا اطلاق ہر قبیح پر ہے چاہے وہ قول قبیح ہو یا فعل۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد زنا ہے۔ اور المنکر سے مراد ہر وہ شے ہے جس کا شریعت نے اس سے منع کرکے انکار کیا ہو، اور یہ تمام گناہوں، رزائل اور مختلف انواع کی کمینی حرکات کو شامل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شرک ہے۔ اور البغی سے مراد تکبر، ظلم، کینہ اور تعدی اور زیادتی کرنا ہے۔ اور اس کا حقیقی معنی حد سے تجاوز کرنا ہے، اور یہ منکر کے تحت بھی داخل ہے، لیکن اس کی ضرر اور نقصان کے شدید ہونے کی وجہ سے خاص طور پر اہتمام کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے اور حدیث طیبہ میں حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے : ” بغاوت اور سرکشی سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ سزا (اور عذاب) کو لانے والا کوئی گناہ نہیں “۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” باغی کو بچھاڑ دیا گیا ہے “۔ (یعنی وہ ہلاک کردیا گیا ہے) تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کے خلاف بغاوت کی گئی اور بعض کتب منزلہ میں ہے : اگر کسی پہاڑ نے کسی پہاڑ کے خلاف بغاوت کی تو ان میں سے باغی کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔
مسئلہ نمبر 5: امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح میں عنوان ذکر کیا اور فرمایا : باب قول اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتآئ ذی القربی وینھی عن الفحشآء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون۔ ، اور قولہ تعالیٰ : انما بغیکم علی انفسکم (یونس : 23) (تمہاری سرکشی کا وبال تمہیں پر پڑے گا) ۔ ثم بغی علیہ لینصرنہ اللہ (الحج :60) (پھر (مزید) زیادتی کی گئی اس پر تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائے گا) ۔ وترک اثارۃ الشر علی مسلم أو کافر (مسلمان یا کافر پر شر بھڑکانے کو ترک کرنے کا بیان) ۔ پھر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث ذکر کی جو کہ حضور بنی مکرم ﷺ پر لبید بن اعصم کے جادو کرنے کے بارے میں ہے۔ ابن بطال نے کہا ہے : امام بخاری ؓ نے ان آیات اور ترک إثارۃ الشر علی مسلم أو کافر سے استدلال کیا ہے جیسا کہ حدیث عائشہ صدیقہ ؓ اس پر دال ہے اس حیثیت سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” خبردار آگاہ رہو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرما دی ہے اور رہا میں تو یہ ناپسند کرتا ہوں کہ میں لوگوں میں شرکو جوش دلاؤں (اور اسے پھیلا دوں) “۔
اور اس کی وجہ۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ انہوں نے قول باری تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان میں تاویل کی ہے کہ برائی کرنے والے کے ساتھ احسان (اور نیکی) کرنا اور اس کی برائی پر اس کی سزا کو چھوڑ دینا یہ مستحب ہے۔ پس اگر کہا جائے : بغی والی آیات میں تاویل کیسے صحیح ہو سکتی ہے ؟ تو کہا جائے گا : اس کی وجہ۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ کردیا کہ سرکشی اور بغاوت کا ضرور و نقصان باغی کی طرف پھرجاتا ہے جیسا کہ فرمایا : انما بغیکم علی انفسکم (یونس : 23) اور اللہ تعالیٰ نے اس کی مدد و نصرت کی ضمانت دی ہے جس کے خلاف بغاوت کی گئی ہے۔ تو پھر جس کے خلاف بغاوت کی گئی ہے اس کا بدرجہ اولیٰ یہ حق بنتا ہے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اس کی مدد و نصرت کی ضمانت دی ہے تو اس کے مقابلے میں اس کی طرف سے عفو و درگزر ہے جس کے خلاف بغاوت کی گئی ہے، اور اسی طرح حضور نبی مکرم ﷺ نے اس یہودی کے ساتھ کیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، حالانکہ اس ارشاد باری تعالیٰ کے ساتھ آپ ﷺ کے لئے اس سے انتقام لینے کی اجازت تھی : وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ (النحل : 126) (اور اگر تم (انہیں) سزا دینا چاہو تو انہیں سزا دو لیکن اس قدر جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے) ۔ لیکن آپ ﷺ نے اس ارشاد کو لیتے ہوئے عفو و درگزر کو ترجیح دی : ولمن صبرو غفران ذلک عزم الامور۔ (الشوریٰ ) (اور جو شخص ان مظالم پر) صبر کرے اور (طاقت کے باوجود) معاف کر دے تو یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے) ۔
مسئلہ نمبر 6: یہ آیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو متضمن ہے، اور ان دونوں کے بارے میں کلام پہلے گزر چکی ہے۔ روایت ہے کہ ایک جماعت نے اپنے ایک عامل کی شکایت ابو جعفر منصور عباسی کے پاس پیش کی تو عامل نے اس جماعت کے ساتھ مباحثہ کیا اور وہ ان پر غالب آگیا، اس طرح کہ وہ اس پر کوئی بڑا ظلم ثابت نہ کرسکے اور کسی شے میں اس کی زیادتی ثابت کرسکے، تو اتنے میں قوم سے ایک نوجوان کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے امیر المومنین ! بیشک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے، اور بلاشبہ اس نے عدل کیا ہے اور احسان نہیں کیا۔ راوی نے کہا : پس ابو جعفر اس کی اصابت رائے سے بہت متعجب ہوا اور اس نے عامل کو معزول کردیا۔
Ayah 16:91آیت نمبر 91
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : واوفوا بعھد اللہ یہ لفظ عام ہے اور ان تمام عقدوں اور معاہدوں کو شامل ہے جو زبان کے ساتھ کئے جاتے ہیں اور آدمی اسے لازم کرلیتا ہے بیع ہو یا صلہ ہو یا ایسے امر کے بارے معاہدہ ہو جو دین کے موافق ہو۔ اور یہ آیت اس قول کو ضمن میں لینے والی ہے : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان کیونکہ اس کا معنی اس میں ہے : تم اس طرح کرو، اور اس سے باز رہو، پس اسی تقدیر پر اس کا عطف کیا گیا ہے۔ تحقیق یہ کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت اسلام پر حضور نبی رحمت ﷺ کے بیعت لینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ای حلف کے لازم ہونے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں وقوع پذیر ہوا اور پھر اسلام نے اسے پورا کرنے کے بارے حکم دیا : حضرت قتادہ، مجاہد اور ابن زید ؓ نے یہ کہا ہے۔ اور عموم ان تمام کو شامل ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے۔ اور صحیح میں حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اسلام میں کوئی معاہدہ نہیں اور جو معاہدہ جاہلیت میں ہوا اسلام نے سوائے شدت اور سختی کے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا “۔ یعنی (وہ معاہدہ) حق کی مدد کرنے، حق کے ساتھ قائم ہونے اور باہمی غمخواری کرنے کے بارے ہو۔ اور یہ اسی طرح ہو جیسا کہ وہ حلف الفضول ہے جسے ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے انہوں نے بیان کیا : قریش کے قبائل عبد اللہ بن جدعان کے شرف و نسب کی وجہ سے اس کے گھر میں جمع ہوئے اور انہوں نے اس پر باہمی ایک عقد اور معاہدہ کیا کہ وہ مکہ مکرمہ میں کوئی مظلوم نہیں پائیں گے چاہے وہ مکہ کے رہنے والوں سے ہو یا کوئی اور مگر وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ اس پر سے ظلم واپس لوٹا دیا جائے، اس معاہدہ کو قریش نے حلف الفضول کا نام دیا، یعنی حلف الفضائل۔ اور یہاں فضول فضل کی جمع کثرت ہے جیسا کہ فلس کی جمع فلوس ہے۔ ابن اسحاق نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں معاہدے کے وقت حاضر تھا میں یہ پسند نہیں کرتا کہ مجھے اس کے بدلے سرخ اونٹ دئیے جائیں اگر اسلام میں بھی مجھے اس کے بارے دعوت دی جائے تو میں یقینا اسے قبول کروں گا “۔ اور ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ ولید بن عتبہ نے حضرت امام حسین بن علی ؓ پر ان کے مال کے بارے میں زیادتی کی، اس لئے کہ ولید کی حکومت تھی اور وہ مدینہ طیبہ کا امیر تھا۔ تو حضرت امام حسین بن علی ؓ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں تو میرے حق کے بارے میں میرے ساتھ ضرور انصاف کرے گا یا پھر میں اپنی تلوار پکڑلوں گا اور رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں کھڑا ہوجاؤں گا پھر حلف الفضول کے بارے دعوت دوں گا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے فرمایا : میں حلف اٹھاتا ہوں قسم بخذا ! اگر آپ نے ہمیں دعوت دی تو میں یقیناً اپنی تلوار اٹھاؤں گا پھر میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں گا یہاں تک کہ آپ کے حق کے بارے انصاف ہو یا ہم سارے کے سارے مر جائیں۔ اور یہ خبر مسور بن مخرمہ تک پہنچی تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ اور یہ خبر عبد الرحمن بن عثمان بن عبید اللہ التیمی تک پہنچی تو اس نے بھی اسی طرح کہا۔ پس جب یہ خبر ولید کو پہنچی تو اس نے آپ کے ساتھ انصاف کیا۔ علماء نے کہا ہے : پس یہ وہی معاہدہ ہے جو دور جاہلیت میں ہوا تھا اور وہ وہی ہے جسے اسلام نے مزید مضبوط کیا اور حضور نبی کریم ﷺ نے اسے اپنے قول لا حلف فی الاسلام کے عموم سے خاص کیا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ شریعت کا حکم ظالم سے بچنے کے بارے ہے اور اس سے حق لینے کے بارے اور اسے مظلوم تک پہنچانے کے بارے میں ہے، اور اسے قانون شریعت کے ساتھ ایجاب عام کی صورت میں ہر اس آدمی پر واجب کیا ہے جو مکلفین میں سے قدرت رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ظالموں پر راستہ اور اختیار دے دیا ہے۔ پس ارشاد فرمایا : انما السبیل علی الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر الحق، اولئک لھم عذاب الیم۔ (الشوری) (بےشک ملامت ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور فساد برپا کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے) ۔ اور صحیح میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ” تو اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو یا مظلوم “۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو معلوم ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کرسکتے ہیں لیکن ہم ظالم کی مدد کیسے کرسکتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم اس کے ہاتھ پکڑ لو اور ایک روایت میں ہے : تم اسے ظلم سے روک دو ۔ پس یہی اس کی مدد و نصرت ہے “۔ اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد پہلے گزر چکا ہے : ” بیشک لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے دی جانے والی سزا (عذاب) میں انہیں بھی شامل کرلے “۔ ان الناس إذا راوا الظالم ولم یأخذوا علی یدیہ أرشک أن یعھم اللہ بعقاب من عندہ۔
مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اپنی قسموں کو مضبوط اور مغلظ کرنے کے بعد نہ توڑو ؛ کہا جاتا ہے : توکید وتاکید، وکد اور اکد اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔
مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا یعنی شھیدا۔ (حالانکہ تم نے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا لیا ہے) ۔ اور کہا جاتا ہے : محافظ بنا لیا ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے : ضامن بنا لیا ہے۔ اور بیشک فرمایا : بعدتو کیدھا تو یہ وہ قسم ہے جسے عزم و ارادہ کے ساتھ موکد کیا گیا ہو اور یمین لغو کے درمیان فرق بیان کرنے کے لئے ہے۔ اور ابن وہب اور ابن القاسم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے : التوکید انسان کی وہ قسم جو ایک شے کے بارے میں بار بار ہو، وہ اس میں تین بار یا اس سے بھی زیادہ قسم کو دہراتا اور اس کا عادہ کرتا ہے، جیسے اس کا یہ قول : واللہ لا أنقصہ من کذا، (قسم بخذا ! میں اسے اس سے کم نہیں کروں گا) ۔ واللہ لا أنقصہ من کذا، واللہ لا أنقصہ من کذا۔ فرمایا : پس اس کا کفارہ یمین کی مثل ایک ہی ہوگا۔ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے : یہ عھود اور عھد قسم ہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عہد کا کفارہ نہیں دیا جائے گا۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” ہر عہد توڑنے والے کے لئے قیامت کے دن اس کی سرین کے پاس اس کے معاہدہ توڑنے کی مقدار کے مطابق جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا : یہ فلاں کی خیانت اور وعدہ خلافی ہے “۔ اور رہی اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھانا ! تحقیق اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک خصلت کے ساتھ کفارہ مشروع قرار دیا ہے، اور جس پر قسم منعقد ہوا سے کھول دیا ہے۔ اور حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے : التوکید یہ ہے کہ آدمی دو مرتبہ قسم کھائے، اور اگر آدمی ایک بار قسم کھائے تو اس میں کفارہ نہیں ہوگا۔ یہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 16:92آیت نمبر 92
قولہ تعالیٰ : ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا، النقض اور النکث (توڑنا) دونوں کا ایک ہی معنی ہے، اور اسم النکث اور النقض ہے، اور جمع الأنکاث ہے۔ پس اس آیت نے اس آدمی کو جو حلف اٹھاتا ہے، معاہدہ کرتا ہے، اور وہ اپنے عہد کو خوب پختہ کرتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے اسے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اپنا سوت کا تتی ہے اور اسے مضبوط بٹتی ہے اور پھر اسے کھول دیتی ہے، پارہ پارہ کردیتی ہے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ مکہ میں رہنے والی ایک بیوقوف عورت تھی، اس کا نام ریطہ بنت عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا وہ اس طرح کرتی تھی، پس اس کے ساتھ یہ تشبیہ واقع ہوئی ہے، یہ فراء نے کہا ہے، اور اسے عبد اللہ بن کثیر اور سدی نے بیان کیا ہے اور ان دونوں نے عورت کا نام ذکر نہیں کیا۔ اور حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے، یہ ضرب المثل ہے، کسی معین عورت کے ساتھ تشبیہ نہیں ہے۔ اور انکاثا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور الدخل سے مراد فریب، دھوکا اور ملاوٹ ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : ہر وہ کام جو صحیح نہ ہو وہی دخل ہے۔ ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ مفسرین نے کہا ہے : یہ آیت ان عربوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک قبیلہ جب دوسرے قبیلہ سے معاہدہ کرتا، پھر ان میں سے ایک کسی ایسے قبیلے کے پاس آتا جو افرادی قوت کے اعتبار سے زیادہ اور قوی ہوتا تو وہ اس میں داخل ہوجاتا، پہلے کے ساتھ دھوکا کرتا اور اپنا عہد توڑ ڈالتا اور اس بڑے کی طرف لوٹ جاتا۔۔۔ یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے۔۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : تم اس وجہ سے معاہدہ نہ توڑ و کہ ایک طائفہ افراد یا اموال کے اعتبار سے دوسرے طائفہ کی نسبت زیادہ ہو تو تم اپنی قسمیں توڑ دو جب تم اپنے مشرک دشمنوں کی دنیا میں خوشحالی اور کثرت تعداد کو دیکھو۔ اور مقصود کفار اور ان کے اموال کی کثرت کے سبب کفر کی طرف لوٹنے سے منع کرنا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم کسی قوم کے ساتھ ان کی قلت اور اپنی کثرت کے سبب یا اپنی قلت اور ان کی کثرت کے سبب معاہدہ نہ توڑو ؛ حالانکہ تم انہیں قسم کے ساتھ قوی اور مضبوط کرچکے ہو۔ اربی بمعنی اکثر ہے ؛ یہ ربی الشئ یربو سے ماخوذ ہے جبکہ شے کثیر ہوجائے، زیادہ ہوجائے اور بہ میں ضمیر احتمال رکھتی ہے کہ وہ اس وفا کی طرف لوٹ رہی ہو جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ربا کی طرف لوٹ رہی ہو، یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسد کرنے، اور ان میں سے بعض کے بعض پر غلبہ پانے کی طلب کے ساتھ آزمایا ہے، اور اس نے اس کے ساتھ انہیں امتحان میں ڈال دیا ہے تاکہ وہ دیکھے کون اپنی نفس کے ساتھ جہاد کرتا ہے کہ وہ اسے ان کے مخالف بنا دے جو اس کی اتباع کرتے ہیں اور اس کی خواہش کے مقتضی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اور یہی اس قول باری تعالیٰ کا معنی ہے : انما یبلوکم اللہ بہ، ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون یعنی تم دوبارہ زندہ کئے جانے وغیرہ کے بارے میں اختلاف کرتے ہو۔
Ayah 16:93آیت نمبر 93
قولہ تعالیٰ : ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں ایک ہی ملت اور دین پر بنا دیتا۔ ولکن یضل من یشآء (لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے) اپنی طرف سے ان کی مدد چھوڑنے کے سبب اور اپنی طرف سے ان میں عدل کرتے ہوئے۔ ویھدی من یشآء انہیں اپنی توفیق سے نوازتے ہوئے اور اپنی طرف سے ان پر فضل و احسان فرماتے ہوئے، جو وہ کرتا ہے اس کے بارے اس سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ تم سے پوچھا جائے گا : اور یہ آیت قدریہ کا رد کرتی ہے جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ اور ولیبینن اور ولتسئلن میں لام اور نون مشددہ (ثقیلہ) دونوں مضمر قسم پر دلالت کرتے ہیں، یعنی واللہ لیبینن لکم ولتسئکن۔
Ayah 16:94آیت نمبر 94
قولہ تعالیٰ : ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم اسے بطور تاکید مکرر ذکر کیا۔ فتزل قدم بعد ثبوتھا یہ اس سے روکنے اور منع کرنے میں مبالغے کا اظہار ہے اس لئے کہ دین میں اس کے وقوع کا محل عظیم ہے اور لوگوں کے معاملات میں بار بار دہرائی جاتی ہے، یعنی تم ایسی قسمیں نہ کھاؤ جن سے مقصود دھوکہ اور فساد ہو ورنہ قدم جم جانے کے بعد (جادہ حق سے) پھسل جائے گا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بعد قسم سے قدم پھسل جائے گا۔ اور یہ استعارہ ہے سیدھی راہ پر چلنے والے کے لئے جو بہت بڑے شر اور برائی میں واقع ہوجاتا ہے اور اس میں گر پڑتا ہے، کیونکہ قدم جب پھسل جائے تو انسان اچھی حالت سے بری حالت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور اسی معنی میں کثیر کا قول ہے :
فلما توافینا ثبت وزلت (پس جب ہم آگئے تو میں ثابت قدم رہا اور وہ پھسل گئی) ۔ اور عرب ہر اس آدمی کے لئے جو عافیت
کے بعد کسی مصیبت میں مبتلا ہو یا کسی گڑھے میں گرنے والا ہو، کہتے ہیں زلت قدمہ (اس کا قدم پھسل گیا) ۔
جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
سیمنع منک السبق ان کنت سابقا وتقتل ان زلت بک القدمان
اور جو آدمی کسی شے میں خطا کرے اس کے لئے کہا جاتا ہے : زل فیہ۔ (وہ اس میں پھسل گیا) پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب کی اور آخرت میں عذاب عظیم کی وعید فرمائی ہے۔ اور یہ وعید بلاشبہ اس کے بارے میں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے عہد کو توڑا، کیونکہ جس نے آپ کے ساتھ معاہدہ کیا پھر اس نے اپنا عہد توڑ دیا وہ ایمان سے خارج ہوگیا، اور اسی لئے فرمایا : وتذوقوا السوٓء بما صددتم عن سبیل اللہ یعنی تمہارے اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو روکنے کے سبب۔ اور دنیا میں برا نتیجہ چکھنا یہ ہے کہ جو ان پر تکلیفیں اور مصیبتیں آتی ہیں۔
Ayahs 16:95–96آیت نمبر 95 تا 96
قولہ تعالیٰ : ولا تشروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا یہ عہد توڑنے پر اموال لینے اور رشوت سے نہی ہے، یعنی تم دنیا کے قلیل سازوسامان کے عوض اپنے عہدوں کو نہ توڑو۔ وہ بلاشبہ قلیل ہی ہے اگرچہ وہ کثیر بھی ہو، کیونکہ یہ زائل ہونے والا اور ختم ہوجانے والا سامان ہے، پس یہ فی الحقیقت قلیل ہی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد : ما عند کم ینفدو ما عند اللہ باق (جو (مال وزر) تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو (رحمت کے خزانے) اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ باقی رہیں گے) سے یہی مراد ہے۔ پس دنیا اور آخرت کی حالت کے درمیان فرق بیان کرو یا اس طرح کہ یہ ختم ہوجاتا ہے اور بدل جاتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس کا فضل و عطا ہے، اور اس کی جنت کی نعمتیں ثابت رہنے والی ہیں وہ اس سے زائل نہیں ہوں گی جس نے وعدہ وفا کی اور اپنے عقد پر ثابت قدم رہا۔ کسی شاعر نے کتنا خوب کہا :
المال ینفد حلہ وحرامہ یوما وتبقی فی غد آثامہ
اس دن کی حلت و حرمت ختم ہوجائے گی اور کل اس کے گناہوں کی جزا باقی رہے گی۔
لیس التقی بمتق لالھہ حتی یطیب شرابہ وطعامہ
تقویٰ صرف اس کے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے ساتھ نہیں ہے یہاں تک کہ اس کا کھانا، پینا بھی حلال اور طیب ہو۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے :
ھب الدنیا تساق إلیک عفوا ألیس مصیر ذاک إلی إنتقال
تو دنیا کو چھوڑ دے وہ تیری طرف معافی مانگتے ہوئے چل کر آئے گی کیا اس کا انجام انتقال نہیں ہے۔
وما دنیاک إلا مثال فیئ أظلک ثم آذن بالزوال
تیری دنیا تو فقط سائے کی مثل ہے اس نے تجھ پر سایہ کیا اور پھر زوال کا اعلان کردیا۔
قولہ تعالیٰ : ولنجزین الذین صبروا یعنی ہم انہیں ضرور عطا کریں گے جنہوں نے اسلام اور طاعات پر صبر کیا اور جنہوں نے گناہ کرنے سے صبر کیا (اجتناب کیا) ۔ اجرھم باحسن ما کانوا یعملون ان کا اجر ان کے ان اچھے کاموں کے عوض ہے جو وہ طاعات میں سے کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں احسن قرار دیا کیونکہ حسن میں سے اس نے جو چیزیں شمار کرائی ہیں وہ مباح ہیں۔ اور طاعات پر جزا اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے وعدہ کے مطابق ہوگی۔ عاصم اور ابن کثیر نے تعظیم کی بنا پر نون کے ساتھ ولنجزین پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے یا کے ساتھ قرأت کی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت ولا تشتروا یہاں تک امرؤ القیس بن عابس کندی اور اس کے خصم ابن اسوع کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ دونوں زمین کے بارے میں جھگڑ پڑے پس امرؤ القیس نے قسم اٹھانے کا ارادہ کیا اور جب اس نے یہ آیت سنی تو قسم سے انکار کردیا اور اس کے لئے اس کے حق کا اقرار کرلیا) واللہ اعلم۔
Ayah 16:97آیت نمبر 97
قولہ تعالیٰ : من عمل صالحا من ذکر اوانثی وھو مؤمن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ یہ شرط اور جواب شرط ہے۔ اور حیات طیبہ کے بارے میں پانچ قول ہیں : (1) اس سے مراد رزق حلال ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس، سعید بن جبیر، عطا اور ضحاک رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ (2) اس سے مراد قناعت ہے ؛ یہ حضرت حسن بصری، زید بن وہب اور وہب بن منبہ نے کہا ہے، اور اسے حکم نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، اور یہی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے۔ (3) اس کا طاعات (و عبادات) کی توفیق دینا ہے کیونکہ یہ اعمال اسے اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچا دیتے ہیں ؛ یہ معنی ضحاک نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے : جس نے نیک عمل کئے درآنحالیکہ وہ مومن ہو تنگی کی حالت میں اور خوشحالی کی حالت میں تو اس کی زندگی پاکیزہ ہے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کیا اور اپنے رب کے ساتھ ایمان نہ لایا اور کوئی نیک عمل نہ کیا تو اس کی معیشت تنگ ہوگئی اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہوگی۔ اور حضرت مجاہد، قتادہ، اور ابن زید رحمہم اللہ تعالیٰ نے کہا ہے : اس سے مراد جنت ہے، اور یہ حسن نے کہا ہے، اور فرمایا : کسی کی زندگی پاکیزہ نہیں ہوگی مگر جنت میں۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے کہ اس سے مراد سعادت ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور ابوبکر وراق نے کہا ہے : یہ طاعت کی حلاوت ہے، اور حضرت سہل بن عبد اللہ تستری نے کہا ہے : وہ یہ ہے کہ بندے سے اس کی تدبیر چھین لی جائے اور اس کی تدبیر کو حق کی طرف لوٹا دیا جائے۔ اور امام جعفر صادق ؓ نے فرمایا : وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کی تصدیق کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مخلوق سے بےنیاز ہونا اور حق کی طرف متوجہ ہونا اور اس کا محتاج ہونا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد قضا کے ساتھ راضی ہونا ہے۔ ولنجزینھم اجرھم اور آخرت میں ہم انہیں ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔ باحسن ما کانوا یعملون (ان کے اچھے کاموں کے عوض جو وہ کرتے تھے) ۔ اور فرمایا : فلنحیینہ پھر فرمایا : ولنجزینھم اس لئے کہ من واحد اور جمع دونوں کی صلاحیت رکھتا ہے، پس ایک بار ضمیر لفظ کے اعتبار سے (واحد) لوٹائی اور ایک بار معنی کے اعتبار سے (جمع) لوٹائی اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور ابو صالح نے کہا ہے : تو رات کو ماننے والے کچھ لوگ، اور انجیل کو ماننے والے کچھ لوگ، اور بت پرستوں میں سے کچھ لوگ ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک فریق نے کہا : ہم افضل ہیں، اور دوسروں نے کہا : ہم افضل ہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 16:98آیت نمبر 98
اس میں ایک مسئلہ ہے : اور وہ یہ کہ یہ آیت قول باری تعالیٰ : ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء کے ساتھ متصل ہے پس جب تو اس کی قرأت میں شروع ہو تو تو اللہ تعالیٰ سے اس بارے پناہ طلب کر کہ شیطان تیرے لئے ظاہر ہو اور وہ تجھے اس میں غوروفکر کرنے سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے مطابق عمل کرنے سے روکے اور اس سے یہ مراد نہیں کہ تو قرأت کے بعد پناہ طلب کر، بلکہ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : إذا أکلت فقل بسم اللہ یعنی جب تو کھانے کا ارادہ کرے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ۔ اور جبیر بن مطعم نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا جس وقت آپ نماز شروع کرتے تو کہتے : اللھم إنی أعوذبک من الشیطان من ھمزہ ونفخہ ونفشہ۔ (اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیطان کے وساوس سے، اس کئ کبر و نخوت سے، اور اس کے غزلیہ اشعار سے) ۔
اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ اپنی نماز میں قرأت سے پہلے تعوذ پڑھتے تھے۔ ال کیا طبری نے کہا ہے : بعض سلف سے یہ منقول ہے کہ تعوذ مطلقا قرأت کے بعد ہے، اور ان کا استدلال اس قول باری تعالیٰ سے ہے : فاذا قرأت القران فاستعذباللہ من الشیطن الرھیم اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ تعوذ قرأت کے بعد ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا قضیتم الصلوٰۃ فاذکروا اللہ قیما وقعودا (النساء : 103) (جب تم ادا کر چکو نماز تو ذکر کرو اللہ تعالیٰ کا کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے) مگر اس کے سوا دوسرے معنی کا اس میں احتمال ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قلتم فاعدلوا (الانعام : 152) (اور جب کبھی بات کہو تو انصاف کی کہو) ۔
واذا سالتموھن متاعا فسئلوھن من ورآء حجاب (الاحزاب :53) (اور جب تم مانگو ان سے کوئی چیز تو مانگو پس پردہ ہوکر) ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ پہلے سوال کے بعد حجاب کے پیچھے سے وہ ان سے سوال کرے۔ اور اس کی مثل قائل کا یہ قول ہے : إذا قلت فاصدق (جب تو بات کرے تو سچ بول) اور وإذا أحرمت فاغتسل (اور جب تو احرام باندھے تو غسل کر) یعنی احرام باندھنے سے پہلے۔ اور ان تمام میں معنی یہ ہے : جب تو اس کا ارادہ کرے۔ پس اسی طرح استعاذہ (پناہ طلب کرنا، تعوذ پڑھنا) بھی ہے۔ یہ معنی اور استعاذہ کی مکمل بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 16:99–100آیت نمبر 99 تا 100
قولہ تعالیٰ : انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا یعنی بیشک اس کا ان لوگوں پر گمراہ کرنے اور کفر کے بارے زور نہیں چلتا جو (سچے دل سے) ایمان لائے، یعنی تجھے اس پر قدرت نہیں ہے کہ تو انہیں ایسے گناہ پر ابھارے جس کی مغفرت نہیں ہوسکتی ؛ یہ سفیان نے کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کے لئے اس پر کوئی حجت نہیں ہے گناہوں میں سے جن کی طرف وہ انہیں دعوت دیتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اس کو ان پر کسی حال میں کوئی زور نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت ان پر ڈال دی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ کے دشمن ابلیس نے کہا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو : ولاغوینھم اجمعین۔ الا عبادک منھم المخلصین۔ (الجر) (اور میں ضرور گمراہ کروں گا ان سب کو، سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے چن لیا گیا ہے) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان عبادی لیس لک علیھم سلطن الا من اتبعک من الغوین۔ (الحجر) (بےشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا مگر وہ جو تیری پیروی کرتے ہیں گمراہوں میں سے) ۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : تحقیق ہم نے بیان کیا ہے کہ یہ ایسا عام ہے جس میں تخصیص داخل ہے، تحقیق اس نے حضرت آدم و ھوا (علیہما السلام) سے اپنے زور کے ساتھ لغزش کا ارتکاب کروایا، اور اس نے اپنے اپنے وقت کے فضلاء کو اپنے اس قول کے ساتھ کہ ” تیرے رب کو کسی نے پیدا کیا ؟ “ تشویش میں مبتلا کیا، جیسا کہ اس کا بیان سورة الاعراف کے آخر میں گزر چکا ہے۔ انما سلطنہ علی الذین یتولونہ بلاشبہ اس کا زور صرف ان پر چلتا ہے جو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : تولیتہ یعنی میں نے اس کی اطاعت کی، اور تولیت عنہ، یعنی میں نے اس سے اعراض کرلیا۔ والذین ھم بہ مشرکون اور ان پر جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) اور حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں بہ ضمیر شیطان کی طرف لوٹ رہی ہے ؛ یہ ربیع بن انس اور قتبی نے کہا ہے۔ اور اس کا معنی ہے : اور وہ لوگ جو اس کی وجہ سے شرک کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : کفرت بھذہ الکلمۃ، یعنی میں نے اس کلمے کی وجہ سے کفر کیا۔ اور صار فلان بک عالما، یعنی فلاں تیری وجہ سے عالم ہوگیا، یعنی وہ جو شیطان کی اطاعت کرتے ہیں (اور اس کے ساتھ یارانہ گانٹھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں) ۔
Ayahs 16:101–102آیت نمبر 101 تا 102
قولہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ واللہ اعلم بما ینزل کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے جب ہم سابقہ شریعت کو نئی شریعت کے ساتھ بدلتے ہیں ؛ یہ ابن بحر نے کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یعنی جب ہم ایک آیت کو اٹھا لیتے ہیں اور اس کی جگہ دوسری رکھ دیتے ہیں۔ اور جمہور نے کہا ہے : جب ہم ایک آیت کو ایسی آیت کے ساتھ منسوخ کردیتے ہیں جو پہلی سے ان پر زیادہ شدید اور سخت ہوتی ہے۔ نسخ اور تبدیل کا معنی ہے ایک چیز کو اٹھا لینا اس طرح کہ اس کی جگہ دوسری شے رکھ دی جائے، اور نسخ کے بارے میں مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ قالوا مراد کفار قریش ہیں یعنی یہ کہتے ہیں : انما انت مفتر تم تو فقط جھوٹ گھڑنے والے ہو، اور وہ یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ حکم کی تبدیلی کو دیکھتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : بل اکثرھم لا یعلمون کہ اللہ تعالیٰ نے احکام اور بعض کو بعض کے ساتھ تبدیل کرنے کو مشروع قرار دیا ہے (اکثر اسے جانتے ہی نہیں ہیں) اور قول باری تعالیٰ : قل نزلہ روح القدس مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں، وہ مکمل قرآن کریم یعنی اس کا ناسخ اور منسوخ سبھی لے کر نازل ہوئے۔ اور صحیح اسناد کے ساتھ عامر شعبی (رح) سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : تین سال تک حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو حجرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ مقرر کیا گیا، پس وہ ایک ایک کلمہ کے ساتھ آپ کے ساتھ آتے تھے پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ پر قرآن کریم لے کر نازل ہوئے۔ اور صحیح مسلم میں بھی ہے کہ آپ پر سورة ” الحمد “ کے ساتھ ایک فرشتہ نازل ہوا جو پھر کبھی زمین کی طرف نہیں اترا، جیسا کہ سورة الفاتحہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ من ربک بالحق یعنی تیرے رب کے کلام کو حق کے ساتھ (روح القدس نے نازل کیا ہے) لیثبت الذین امنوا تاکہ وہ ثابت قدم رکھے انہیں جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں دلائل اور آیات میں سے۔ وھدی اور یہ ہدایت ہے۔ وبشری للمسلمین اور مسلمانوں کے لئے خوشخبری ہے۔
Ayah 16:103آیت نمبر 103
قولہ تعالیٰ : ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر اس کے نام میں اختلاف ہے جس کے بارے انہوں نے کہا کہ وہ آپ کو قرآن سکھاتا ہے۔ پس کہا گیا ہے : وہ الفا کہ بن مغیرہ کا غلام تھا اور اس کا نام جبر ہے، وہ نصرانی تھا پھر اسلام لے آیا اور جب وہ (کفار مکہ) حضور نبی کریم ﷺ سے وہ آیات سنتے تھے جو گزر چکی ہیں اور جو آنے والی ہیں اس کے باوجود کہ آپ امی ہیں اور آپ نے کچھ نہیں پڑھا تو وہ کہتے : بیشک انہیں جبر سکھاتا ہے حالانکہ وہ عجمی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وھذا لسان عربی مبین یعنی جبر آپ کو کیسے سکھا سکتا ہے حالانکہ وہ عجمی ہے اور یہ وہ کلام ہے کہ جن و انس میں سے کوئی اس کی ایک صورت یا اس سے زیادہ اس کے معارض لانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اور نقاش نے ذکر کیا ہے کہ جبر کا آقا اسے مارتا تھا اور اسے کہتا تھا : تو محمد ﷺ کو سکھاتا ہے ؟ تو وہ کہتا : نہیں قسم بخدا ! بلکہ آپ مجھے تعلیم دیتے ہیں اور میری راہنمائی کرتے ہیں۔ اور ابن اسحاق نے کہا ہے : جو خبر مجھ تک پہنچی ہے اس کے مطابق حضور نبی مکرم ﷺ اکثر اوقات مردہ کے قریب نصرانی غلام کے پاس بیٹھتے تھے اس کو جبر کہا جاتا تھا، اور وہ بنی الحضرمی کا غلام تھا، اور وہ کتابیں پڑھتا رہتا تھا، تو مشرک کہنے لگے : قسم بخدا ! محمد ﷺ جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ انہیں جبر نصرانی کے سوا کوئی نہیں سکھاتا۔ اور عکرمہ نے کہا ہے : اس کا نام یعیش تھا وہ بنی حضرمی کا غلام تھا، اور رسول اللہ ﷺ اسے قرآن کی تلقین کرتے تھے ؛ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ اور ثعلبی نے حضرت عکرمہ اور قتادہ سے ذکر کیا ہے کہ وہ بنی مغیرہ کا غلام تھا اس کا نام یعیش تھا، اور وہ عجمی کتابیں پڑھتا رہتا تھا، تو قریش نے کہا : بلاشبہ اسے بشر (کوئی انسان) سکھاتا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور مہدوی نے عکرمہ سے روایت کیا ہے وہ بنی عامر بن لومی کا غلام تھا، اور اس کا نام یعیش تھا۔ اور عبد اللہ بن مسلم حضرمی نے کہا ہے : ہمارے دو نصرانی غلام تھے جو عین التمر کے رہنے والے تھے، ان میں سے ایک کا نام یسار اور دوسرے کا نام جبر تھا۔ اور اسی طرح ماوردی، قشیری اور ثعلبی نے ذکر کیا ہے، مگر ثعلبی نے یہ کہا ہے : ان میں سے ایک کو نبت کہا جاتا تھا اور اس کی کنیت ابو فکیہہ تھی، اور دوسرے کو جبر، اور وہ دونوں تلواروں کو تیز کرنے اور انہیں صاف کرنے کا کام کرتے تھے اور وہ دونوں ان کی کتاب پڑھتے تھے۔
ثعلبی (رح) نے کہا ہے : وہ تورات اور انجیل پڑھتے تھے۔ ماوری اور مہدوی نے کہا ہے : وہ تورات پڑھتے تھے پس رسول اللہ ﷺ ان دونوں کے پاس سے گزرتے تھے اور ان کی قرآت سنتے تھے، تو مشرک کہنے لگے : آپ ان سے تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان سے سیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور انہیں جھوٹا قرار دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے حضرت سلمان فارسی ؓ مراد لئے ؛ یہ حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ وہ مکہ میں ایک نصرانی تھا اس کا نام بلعام تھا، اور وہ غلام تھا تورات پڑھتا تھا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور مشرک رسول اللہ ﷺ کو اس کے پاس داخل ہوتے اور اس سے نکلتے وقت دیکھتے تھے، تو کہتے تھے : بلاشبہ بلعام انہیں سکھایا ہے۔ اور قتبی نے کہا ہے : مکہ مکرمہ میں ایک عیسائی آدمی تھا اس کو ابو میسرہ کہا جاتا تھا اور رومی زبان میں گفتگو کرتا تھا، پس بسا اوقات رسول اللہ ﷺ اس کے پاس بیٹھ جاتے، تو کفار کہنے لگے : بلاشبہ محمد ﷺ اس سے سیکھتے ہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ عتبہ بن ربیعہ کا غلام عداس تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حویطب بن عبد العزی کا غلام عابس اور ابن حضرمی کا آزاد کردہ غلام یسار ابو فکیہہ تھا، اور دونوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ واللہ اعلم۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ان تمام کا احتمال ہو سکتا ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ مختلف اوقات میں کبھی کبھار ان کے پاس بیٹھتے تھے تاکہ آپ انہیں اس کے بارے تعلیم دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا، اور یہ مکہ مکرمہ میں ہوا۔ اور نحاس نے کہا ہے : یہ تمام اقوال باہم متضاد اور متناقض نہیں ہیں، کیونکہ یہ جائز ہے کہ وہ ان تمام کی طرف اشارہ کرتے ہوں، اور یہ گمان رکھتے ہوں کہ وہ آپ کو سکھاتے ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : رہا وہ جو حضرت ضحاک (رح) نے ذکر کیا ہے کہ وہ حضرت سلمان فارسی ؓ ہیں وہ حقیقت سے بہت دور ہے، کیونکہ حضرت سلمان ؓ مدینہ طیبہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے، اور یہ آیت مکی ہے۔ لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی، الا لحاد کا معنی مائل ہونا (المیل) (ٹیڑھا ہونا) ہے۔ کہا جاتا ہے : لحد وألحد، یعنی مال عن القصد (وہ ہدایت سے پھر گیا، ہٹ گیا) اور یہ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے اور حمزہ نے یلحدون یا اور حا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی اس کی زبان جس کی طرف وہ مائل ہو رہے ہیں اور جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے وہ اعجمی ہے۔ اور العجمہ کا معنی الاخفاء : (چھپانا) ہے اور یہ بیان کی ضد ہے۔ اور رجل أعجم وامرأۃ عجاء یعنی جو فصیح وبلیغ نہ ہو۔ اور اسی سے عجم الذنب گناہ کو چھپانے کے لئے ہے۔ اور العجماء جانوروں کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے بارے میں وضاحت نہیں کرسکتے۔ اور أعجمت الکتاب کے بغیر اعراب کے ہونے نے پھسلا دیا۔ اور عرب ہر اس کو أعجمی کا نام دیتے ہیں جو ان کی زبان نہیں جانتا اور نہ ان کی کلام میں گفتگو کرسکتا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : اعجم وہ ہے جس کی زبان میں عجمہ ہو اگرچہ وہ عربی ہو، اور الأعجمی یا عجمی وہ ہے جو دراصل عجم سے ہو۔ اور ابو علی نے کہا ہے : أعجمی وہ ہے جو فصیح وبلیغ نہ ہو برابر ہے وہ عرب سے ہو یا عجم سے، اور اسی طرح اعجم اور اعجمی جو عجم کی طرف منسوب ہوں، اگرچہ وہ فصیح وبلیغ ہوں۔ اور لسان سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ عرب قصیدہ اور شعر کے لئے لسان بولتے تھے۔
جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :
لسان الشر تھدیھا إلینا وخنت وما حسبتک أن تخونا
مراد لسان القصیدہ ہے۔ وھذا لسان عربی مبین یعنی یہ عربی کلام میں سے زیادہ فصیح وبلیغ ہے۔
Ayah 16:104آیت نمبر 104
قولہ تعالیٰ : ان الذین لا یؤمنون بایت اللہ یعنی یہ وہ مشرک ہیں جو قرآن کے ساتھ ایمان نہیں لاتے۔ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم۔۔
Ayah 16:105آیت نمبر 105
قولہ تعالیٰ : انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اللہ یہ اس کا جواب ہے جو انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف افتراء پردازی کی نسبت کی۔ واولئک ھم الکذبون یہ انہیں کذب کے ساتھ متصف کرنے میں مبالغے کا اظہار ہے، یعنی ہر جھوٹ کی نسبت سے قلیل اور تھوڑا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : کذب فلان (فلاں نے جھوٹ بولا) اور یہ نہیں کہا جاتا : انہ کاذب (بےشک وہ جھوٹا ہے) کیونکہ فعل کبھی لازم ہوتا ہے اور کبھی لازم نہیں ہوتا۔ اور رہی لغت (صفت) تو وہ لازم ہوتا ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے : عصی ادم ربک فغویٰ ۔ (طہٰ ) (اور حکم عدولی ہوگئی آدم سے اپنے رب کی سو وہ بامراد نہ ہوا) ۔ اور یہ نہیں کہا جاتا : إنہ عاص وغار (کہ وہ حکم عدولی کرنے والے اور راستہ بھٹکنے والے ہیں) ۔ پس جب کہا جائے : کذب فلان فھو کاذب، تو یہ کذب کے وصف میں مبالغہ کا اظہار ہے ؛ یہ قشیری نے کہا ہے۔