16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 16:59

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔

آیت نمبر 59 قولہ تعالیٰ : یتواری من القوم یعنی لوگوں کی نظروں سے چھپتا پھرتا ہے اور غائب رہتا ہے۔ من سوٓء ما بشربہ یعنی اس غم، ندامت اور شرم و حیا کے سبب جوا سے بیٹی کے سبب لاحق ہوگا۔ ایمس کہ ضمیر کو مذکر ذکر کیا کیونکہ وہ ما کی طرف لوٹائی گئی ہے۔ علی ھون یعنی ذلت و رسوائی کے ساتھ (کیا اسے اپنے پاس رکھے) اور اسی طرح عیسیٰ ثقفی نے علی ھوان پڑھا ہے۔ اور الھون اور الھوان لغت قریش کے مطابق ہیں، یہ یزیدی نے کہا ہے، اور اسے ابوعبید نے کسائی سے بیان کیا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : یہ تھوڑا سا لغت تمیم کے مطابق ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : اس سے مراد بلاء (مصیبت و تکلیف) اور مشقت ہے۔ اور حضرت خنساء (رح) نے کہا ہے : نھین النفوس وھون النفوس یوم الکریھۃ أبقی لھا (اس میں ھون کا لفظ ابتلاء اور مشقت کے معنی میں استعمال ہوا ہے) اور اعمش نے أیمس کہ علی سوء پڑھا ہے، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے، اور کہا ہے : جحدری نے ام یدسھا فی التراب پڑھا ہے اور وہ اسے قول باری تعالیٰ بالانثی کی طرف لوٹاتے ہیں۔ اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ أیمسکھا پڑھا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الھوان (ذلت و رسوائی) بیٹی (البنت) کی طرف راجع ہے، یعنی أیمسکھا وھی مھانۃ عندہ (کیا وہ اسے روکے رکھے اس حال میں کہ وہ اس کے پاس ذلیل و رسوا ہو) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اس کی طرف لوٹ رہی ہے جس کی ولادت اس کے پاس ہوگی، أیمس کہ علی رغم أنفہ أم یدسہ فی التراب (کیا وہ اسے اپنی ناک خاک آلود کرکے روکے رکھے یا اسے مٹی میں گاڑ دے) اور یہ وہی ہے جو وہ بیٹی کو زندہ دفن کرنے کا عمل کرتے تھے۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : مضر اور خزاعہ قبیلے کے لوگ اپنی بچیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے اور اس بارے میں ان سے زیادہ سخت تمیم تھے۔ انہوں نے گمان کیا کہ ان پر ظلم اور غلبے کا خوف اور غیر کفو کا طمع اور حرص انہیں (بچیوں) میں ہے۔ اور صعصعہ بن ناجیہ جو کہ ردق کا چچا تھا جب اس میں سے کوئی شے محسوس کرتا تو وہ بچی کے والد کی طرف اونٹ بھیجتا اور اس کے ساتھ وہ اس بچی پر شرم و حیا محسوس کرتا، پس فرزدق نے فخر کرتے ہوئے کہا ہے : وعمی الذی منع الوائداث وأحیا الوئید فلم یوأد اور یہ بھی کہا گیا ہے : دسھا کا معنی اسے لوگوں سے چھپانا ہے تاکہ اس کی پہچان ہی نہ ہو، جیسا کہ مدسوس فی التراب یعنی مٹی میں گاڑ دیا جاتا اس نظروں سے چھپانے کے لئے ہے اور اس کا احتمال بھی ہے۔ مسئلہ : صحیح مسلم میں روایت موجود ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا : میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، تو اس نے مجھ سے مانگا، سوال کیا اور میں نے اپنے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ پس میں نے وہ کھجور اسے دے دی، اس نے اسے لیا اور اسے اپنی دونوں بچیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور خود اس سے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ اٹھی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر نکل گئی، میرے پاس حضور نبی مکرم ﷺ تشریف لائے اور میں نے اس کا واقعہ آپ کو عرض کیا، تو حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا : ” جسے بیٹیوں میں سے کسی سے آزمایا گیا اور اس نے ان کے ساتھ حسن سلوک کیا تو وہ اس کے لئے آتش جہنم سے پردہ بن جائیں گے “۔ تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ بیٹیاں آزمائش ہیں، پھر آپ نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ان کے بارے صبر کرنے میں اور ان کے ساتھ احسان اور نیکی کرنے میں اتنا اجر ہے جو آتش جہنم سے بچا لے گا۔ اور حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میرے پاس ایک مسکین عورت آئی وہ اپنے ساتھ دو بچیوں کو اٹھائے ہوئے تھی، تو میں نے اسے تین کھجوریں عطا کیں تو اسنے ان میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دی، اور ایک کھجور اپنے منہ کی طرف اٹھائی تاکہ اسے کھائے اتنے میں اس کی دونوں بچیوں نے وہ مانگ لی پس اس نے اس کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جسے وہ کھانا چاہتی تھی اور دونوں کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا، پس اس کی اس کیفیت اور طرز عمل نے مجھے بہت متعجب کیا، تو جو عمل اسنے کیا تھا میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ عزوجل نے اس کے بدلے اس کے لئے جنت واجب کردی ہے یا اس کے عوض اسے جہنم سے آزاد کردیا ہے “۔ اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے دو بچیوں کی کفالت کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح ہوں گے “۔ اور آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا دیا۔ ان دونوں روایتوں کو امام مسلم (رح) نے بھی نقل کیا ہے۔ اور حافظ ابو نعیم نے اعمش کی حدیث نقل کی ہے حضرت ابو وائل، حضرت عبد اللہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ جس کی ایک بیٹی ہو پس اس نے اسے ادب سکھایا اور اسے خوب اچھی طرح ادب سکھایا اور اسے تعلیم دلائی اور اسے خوب اچھی طرح تعلیم دلائی اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں اسے عطا کیں جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمائیں تو وہ اس کے لئے آتش جہنم سے ستر اور حجاب ہوگی “۔ عقیل بن علفہ کی طرف اس کی بیٹی جرباء کے بارے پیغام نکاح بھیجا گیا تو اس نے کہا : إنی وإن سیق إلی المھر ألف وعبدان وخور عشر أحب أصھاری إلی القبر اور عبد اللہ بن طاہر نے کہا ہے : لکل أبی بنت یراعی شؤونھا ثلاثۃ اصھار اذا حمد الصھر فبعل یراعیھا وخدر یکنھا وقبر یوارھا وخیرھم القبر الا سآء ما یحکمون یعنی بیٹیوں کی نسبت اپنے خالق کی طرف اور بیٹوں کی اضافت اپنی طرف کرنے میں (کتنا غلط فیصلہ وہ کرتے ہیں) اس کی نظیر یہ ہے : الکم الذکر ولہ الانثی۔ (النجم) (کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہیں اور اللہ کے لئے نری بیٹیاں۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی۔ (النجم) (یہ تقسیم تو بڑی ظالمانہ ہے) ۔ یعنی یہ ظلم کرنے والی ہے، اس کا بیان آگے آئے گا۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی کے لئے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلی (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 60 قولہ تعالیٰ : للذین لا یؤمنون بالاخرۃ یعنی ان لوگوں کیلئے جو اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں بیان کرتے ہیں مثل السوء جہالت اور کفر جیسی بری صفتیں ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ کو بیوی اور اولاد کے ساتھ متصف کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد عذاب اور جہنم ہے۔ وللہ المثل الاعلی اور اللہ تعالیٰ اعلیٰ صفات کا مالک ہے اور وصف اعلیٰ سے مراد اخلاص اور توحید ہے، یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : صفۃ علیا اس اعتبار سے ہے کہ وہ خالق ہے، رازق ہے، قادر ہے، اور جزا دینے والا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مثل السوء اس سے مراد جہنم ہے، اور المثل الاعلی سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت دینا ہے۔ اور کہا گیا ہے : لیس کمثلہ شیء (الشوری :11) (نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وللہ المثل الاعلیٰ اس کے اس قول کی طرح ہے : اللہ نور السموت والارض مثل نورہ (النور : 35) (اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال۔۔۔۔ ) اور اگر کہا جائے : یہاں کیسے مثل کی اضافت اپنی ذات کی طرف کردی حالانکہ اس نے فرمایا : فلا تضربوا للہ الامثال (النحل : 74) (پس (اے جاہلو ! ) نہ بیان کیا کرو اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں) تو جواب یہ ہے کہ اس کے قول فلا تضربوا للہ الامثال میں امثال سے مراد وہ ہیں جو مشابہت اور نقائص کو ثابت کرتی ہیں ؛ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے لئے ایسی مثال نہ بیان کرو جو نقص اور مخلوق کے ساتھ تشبیہ کا تقاضا کرتی ہو۔ اور المثل الاعلیٰ ایسی شے کے ساتھ اس کا وصف بیان کرنا ہے جس کی نہ کوئی مشابہت ہو اور نہ نظر۔ اور جو کچھ ظلم کرنے والے اور انکار کرنے والے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے انتہائی بلند اور اعلیٰ ہے۔ وھو العزیز الحکیم اس کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

آیت نمبر 61 قولہ تعالیٰ : ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کفر اور ان کے بہتان تراشی کے سبب جلدی پکڑ لیا کرتا ما ترک علیھا تو زمین پر کسی کو نہ چھوڑتا، پس یہ غیر مذکور سے کنایہ ہے، لیکن اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : من دآبۃ کیونکہ جاندار زمین پر ہی چلتا، رینگتا ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ من دآبۃ سے مراد کافرۃ (کفر کرنے والا) ہے، پس یہ خاص ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آباء کو ان کے کفر کے سبب ہلاک کردیتا تو بیٹے بھی نہ ہوتے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت سے مراد عموم ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑ لیا کرتا تو اس زمین کی پشت پر نبی اور غیر نبی میں سے کسی جاندار کو نہ چھوڑتا اور یہ حسن کا قول ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا ہے اور آپ نے یہ آیت پڑھی : اگر اللہ تعالیٰ مخلوق کو گنہگاروں کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا کرتا تو اس کا عذاب تمام مخلوق کو پہنچتا حتی کہ یساہ رنگ کے (غلاظت کے) کپڑے کو اس کی بل میں، اور وہ آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات روک لیتا تو سارے جاندار مر جاتے، لیکن اللہ تعالیٰ عفو و فضل کو لیتا ہے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے : ویعفوا عن کثیر (المائدہ : 15) (اور درگزر فرماتا ہے بہت سی باتوں سے) ۔ فاذا جآء اجلھم یعنی جب ان کی موت کا مقررہ وقت اور ان کی عمروں کے ختم ہونے کا وقت آجائے۔ لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اور اگر کہا جائے : پس ہلاکت عام کیسے ہو سکتی ہے اس کے باوجود کہ ان میں مومن بھی ہیں جو ظالم نہیں ہیں ؟ تو کہا جائے گا : ظالم کی ہلاکت کو انتقام اور جزا بنا دیا جائے گا، اور مومن کی ہلاکت کو آخرت کے ثواب کا عوض قرار دیا جائے گا۔ اور صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت مذکور ہے انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرے تو عذاب ان تمام کو پہنچتا ہے جو ان میں ہوں پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا “ اور حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے اور ان سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا گیا جسے دھنسا دیا جائے گا اور وہ حضرت ابن زبیر کے ایام (حکومت) میں ہوا، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کوئی پناہ لینے والا گھر میں پناہ لیتا ہے پس اس کی طرف کوئی جماعت (دستہ) بھیج دیا جائے گا اور جب وہ زمین میں مقام بیداء پر ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا “۔ تو میں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ ، تو اس کے بارے کیا ہوگا جو مجبور ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : ” ان کے ساتھ اسے بھی دھنسا دیا جائیگا لیکن قیامت کے دن اسے اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا “۔ ہم نے اس معنی پر عمدہ بحث ” کتاب التذکرہ “ میں کی ہے اور سورة المائدہ میں اور سورة الانعام کے آخر میں اتنی بحث گزر چکی ہے جو کافی ہے۔ والحمدللہ۔ اور کہا گیا ہے : فاذا جآء اجلھم یعنی جب قیامت کا دن آجائے گا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور یہ خدا کے لئے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کیلئے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے۔

آیت نمبر 62 قولہ تعالیٰ : ویجعلون للہ ما یکرھون اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے تجویز کرتے ہیں وہ جنہیں وہ اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں یعنی بیٹیاں۔ وتصف السنتھم الکذب یعنی ان کی زبانیں جھوٹ کہتے ہیں۔ ان لھم الحسنی حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ان کے لئے بیٹے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ہیں۔ الکذب یہ تصف کا مفعول ہے۔ اور ان، الکذب سے بدل ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے، کیونکہ یہ اس کا بیان ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الحسنی سے مراد اچھی اور بہترین جزا ہے ؛ یہ زجاج نے کہا ہے۔ حضرت ابن عباس، ابو العالیہ، مجاہد، اور ابن محیصن نے الکذب کاف، ذال اور با کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ السنۃ کی صفت ہے اور اسی طرح ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہے (النحل :16) ۔ اور الکذب کذوب کی جمع ہے، مثلا رسول کی جمع رسل، صبور کی صبر، اور شکور کی جمع شکر ہے۔ لا یہ ان کے قول کا رد ہے، اور کلام مکمل ہوگئی، یعنی ایسا نہیں ہے جس طرح تم گمان کرتے ہو۔ جرم ان لھم النار یعنی یہ ثابت شدہ امر ہے کہ ان کے لئے آتش جہنم ہے۔ یہ مکمل بحث پہلے گزر چکی ہے۔ وانھم مفرطون یعنی انہیں آتش جہنم میں چھوڑ دیا جائے گا اور بھلا دیا جائے گا ؛ ابن الاعرابی، ابو عبیدہ، کسائی اور فراء نے یہ کہا ہے، اور یہی سعید بن جبیر اور حضرت مجاہد رحمہما اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ اور حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے یہ بھی کہا ہے : مبعدون (انہیں دور کردیا جائے گا) حضرت قتادہ اور حسن ؓ نے کہا ہے : انہیں آتش جہنم کی طرف جلدی بھیجا جائے گا۔ اس کی طرف انہیں فوراً آگے بھیج دیا جائے گا۔ اور الفارط وہ ہے جو پانی کی طرف آگے بڑھ جاتا ہے اور اسی سے حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد ہے : انا فرطکم علی الحوض میں حوض پر تمہارے پیش پیش ہوں گے۔ اور قطامی نے کہا ہے : فاستعجلونا وکانوا من صحابتنا کما تعجل فراط لوراد اور الفراط کا معنی ہے پانی کی طلب اور تلاش میں آگے بڑھنے والے۔ اور الودار کا معنی ہے پیچھے رہنے والے۔ حضرت نافع (رح) نے ورش کی روایت میں مفرطون راء کو کسرہ اور تحفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہی حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت ہے، اور اسکا معنی ہے : گناہوں اور معصیت میں زیادتی کرنے والے، اسراف کرنے والے، یعنی افرطوافیھا (انہوں نے ان میں بہت زیادتی کی) ۔ کہا جاتا ہے : أفرط فلان علی فلان (یہ تب کہا جاتا ہے) جب وہ اس پر بہت زیادتی کرے۔ اور اس نے اس کو اس سے زیادہ برا کہا جتنا اس نے کہا۔ اور ابو جعفر القاری نے مفرطون را کو کسرہ اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کرنے والے ہیں، پس یہ واجب میں تفریط کرنے (کمی کرنے) سے ماخوذ ہے۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور وہ ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

آیت نمبر 63 قولہ تعالیٰ : تاللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک فزین لھم الشیطن اعمالھم یعنی شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کردیا۔ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جو انبیاء (علیہم السلام) آپ سے پہلے تشریف لائے ہیں ان کی قوم نے ان کے ساتھ کفر کیا ہے۔ فھو ولیھم الیوم یعنی ان کے گمان کے مطابق وہی دنیا میں ان کا معاون و مددگار ہے۔ ولھم عذاب الیم اور ان کے لئے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : فھو ولیھم پس وہی جہنم میں ان کا ساتھی ہوگا۔ الیوم مراد قیامت کا دن ہے، اور اس کے مشہور ہونے کی وجہ سے اس پر اسم الیوم کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کو قیامت کے دن کہا جائے گا : یہ تمہارا دوست ہے پس تم اس سے مدد طلب کرو کہ وہ تمہیں عذاب سے نجات دلائے، یہ ان کو زجر و توبیخ کرنے کے انداز میں ہے۔
Ayah 16:64

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لئے کہ جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ کردو اور (یہ) مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

آیت نمبر 64 قولہ تعالیٰ : وما انزلنا علیک الکتب کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ مگر اس لئے کہ آپ ان کے لئے دین اور احکام میں سے وہ بات صاف صاف بیان کردیں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں پس آپ کے باین سے ان پر حجت قائم ہوجائے گی۔ اور ھدی ورحمۃ کالتبین کے محل پر عطف کیا گیا ہے کیونکہ اس کا محل نصب ہے۔ اور مجاز کلام یہ ہے : وما أنزلنا علیک الکتاب الا تبیانا للناس (اور ہم نے آپ پر کتاب نہیں اتاری مگر لوگوں کو وضاحت سے بیان کرنے کے لئے) ۔ ھدی مراد رشد، راہنمائی ہے۔ ورحمۃ یعنی مومنین کے لئے یہ سراپا ہدایت اور رحمت ہے۔
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانی ہے۔

آیت نمبر 65 قولہ تعالیٰ : واللہ انزل من السمآء مآء اور اللہ تعالیٰ نے بادل سے (پانی) اتارا۔ فاحیا بہ الارض بعد موتھا کلام نعمتوں کو شمار کرنے اور کمال قدر کو بیان کرنے کی طرف لوٹ آیا ہے۔ ان فی ذلک لایۃ بیشک اس میں دوبارہ زندہ کئے جائے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل ہے جب انہوں نے یہ جان لیا کہ ان کا معبود کسی شے کی استطاعت نہیں رکھتا، تو یہ دلیل ہوجائے گی لقوم یسمعون ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے (حق کی آواز) دلوں کے ساتھ سنتے ہیں نہ کہ کانوں کے ساتھ) فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔ (الحج) (حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں) ۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔

آیت نمبر 66 اس میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : وان لکم فی الانعام لعبرۃ اس کا بیان سورة الانعام میں گزر چکا ہے، اور یہاں چوپاؤں کی چار قسمیں مراد ہیں : اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری۔ لعبرۃ یعنی ان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت پر دلیل ہے۔ اور العبرۃ دراصل ایک شے کو دوسری شے کے ساتھ تشبیہ دینا ہے اور اس کی مثل قرار دینا ہے تاکہ اس کی حقیقت بطریق مشاکلہ پہچان لی جائے۔ اور اسی سے فاعتبروا (پس عبرت حاصل کرو) ہے۔ اور ابوبکر وراق نے کہا ہے : مویشیوں میں عبرت ان کا اپنے مالکوں کے لئے مسخر ہونا اور ان کے لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے، اور تیرا اپنے رب کی سرکشی اختیار کرنا اور ہر شے میں اس کی مخالفت کرنا ہے، اور عظیم ترین عبرت اور سبق یہ ہے کہ وہ اس سے برأت کا اظہار کرے جو گنہگار کو گناہ پر ابھارتی ہے۔ معئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : نسقیکم اہل مدینہ، ابن عامر اور ابوبکر کی روایت میں عاصم کی قرأت (نون کے فتحہ) کے ساتھ ہے اور یہ سقی یسقی سے ماخوذ ہے۔ اور باقیوں نے اور حفص نے حضرت عاصم سے (نون کے ضمہ) کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ أسقی یسقی سے ماخوذ ہے، اور یہی کو فیوں اور اہل مکہ کی قرأت ہے۔ کہا گیا ہے : یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اور لبید نے کہا ہے : سقی قومی بنی مجد وأسقی نمیرا والقبائل من ھلال اور یہ بھی کہا گیا ہے : جو شے تیرے ہاتھ میں ہو اور اسے کسی کے منہ میں ڈالے تو اس کے لئے کہا جاتا ہے : سقیتہ (میں نے اسے پلایا) ۔ اور جب تو اس کے لئے گھاٹ بنائے یا اسے پانی پیش کرے کہ وہ خود اپنے منہ سے اسے پی لے یا وہ کھیتی کو لگائے تو کہا جائے گا : أسقیتہ (میں نے اسے سیراب کیا) ؛ یہ ابن عزیز نے کہا ہے، اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور ایک جماعت نے تسقیکم تا کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ ضعیف ہے، مراد چوپائے ہیں۔ اور اسے یا کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، یعنی یسقیکم اللہ عزوجل (اللہ تعالیٰ تمہیں پلاتا ہے) ۔ اور قراء سابقہ دونوں قرأتوں پر ہیں، پس نون کا فتحہ قریش کی لغت ہے اور اس کا ضمہ حمیر کی لغت ہے۔ مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : مما فی بطونہ لوگوں نے قول باری تعالیٰ : مما فی بطونہ میں ضمیر کے بارے اختلاف کیا ہے کہ کس کی طرف لوٹ رہی ہےَ تو کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ماقبل کی طرف لوٹ رہی ہے اور وہ جمع مونث ہے۔ سیبویہ نے کہا ہے : عرب الانعام کے بارے خبر واحد کے ساتھ بھی خبر دیتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا ہے : میرا خیال ہے انہوں نے اسی آیت کی وجہ سے اس پر اعتماد کیا ہے، اور یہ آپ کے منصب کے موافق نہیں ہے اور نہ اس کا ادراک آپ کے لائق اور مناسب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : جب جمع کا لفظ اسم جنس ہو تو اسے مذکر اور مونث دونوں طرح لایا جاسکتا ہے پس کہا جائے گا : ھو الأنعام اور ہی الأنعام، لہٰذا مذکر ضمیر کا لوٹنا جائز ہوا۔ اور یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور کسائی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے مما فی بطون ما ذکرنا (اس سے جو پیتوں میں سے جسے ہم نے ذکر کیا ہے پس ضمیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہوگی۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : انہ تذکرۃ۔ فمن شاء ذکرہ۔ (المدثر) (یہ نصیحت ہے سو جس کا جی چاہے اسے قبول کرلے) ۔ اور شاعر نے کہا ہے : مثل الفراخ نتقت حواصلہ اس میں بھی مذکر ضمیر لوٹائی گئی ہے۔ اور اس کی مثالیں کثیر ہیں۔ اور کسائی نے کہا ہے : مما فی بطونہ یعنی اس سے جو ان میں سے بعض کے پیٹوں میں ہے، کیونکہ مذکر جانوروں کا دودھ نہیں ہوتا، اور یہ وہی ہے جس پر ابو عبیدہ نے اسے محمول کیا ہے۔ اور فراء نے کہا ہے : الأنعام اور النعم دونوں ایک ہی (معنی میں) ہیں، اور النعم مذکر ذکر کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے عرب کہتے ہیں : ھذا نعم وارد (یہ جانور قریب پہنچنے والے ہیں) پس یہ ضمیر اس لفظ نعم کی طرف لوٹ رہی ہے جو بمعنی الانعام ہے۔ ابن عربی نے کہا ہے : بلاشبہ مذکر ضمیر جمع کے معنی کی طرف، اور مونث ضمیر جماعت کے معنی کی طرف لوٹتی ہے، پس یہاں اسے لفظ جمع کے اعتبار سے مذکر کیا ہے، اور سورة المومنون میں لفظ جماعت کے اعتبار سے اسے مونث ذکر کیا ہے پس فرمایا : نسقیکم مما فی بطونہ اور اس تاویل سے معنی خوب اچھی طرح درست اور صحیح ہوجاتا ہے۔ اور لفظ جماعت کے اعتبار سے مونث ذکر کرنا اور لفظ جمع کے اعتبار سے مذکر ذکر کرنا یبرین کے صحراؤں اور فلسطین کے چٹیل میدانوں سے زیادہ ہے۔ مسئلہ نمبر 4: بعض أجل علماء نے اور وہ قاضی اسماعیل ہیں نے اس ضمیر کے لوٹانے سے یہ استدلال کیا ہے کہ نر کا دودھ تحریم کا فائدہ دیتا ہے، اور کہا ہے : بلاشبہ اسے مذکر لایا گیا ہے، کیونکہ یہ مذکر جانور کی طرف لوٹ رہی ہے، کیونکہ مذکر کے لئے دودھ شمار کیا گیا ہے، اسی لئے حضور نبی مکرم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ نر کا دودھ حرمت ثابت کردیتا ہے جس وقت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ابو القعیس کے بھائی افلح کی حدیث میں اس کا انکار کیا فللمرأۃ السقی وللرجل اللقاح (پس عورت کے لئے سیراب ہونا ہے اور مرد کے لئے مادہ منویہ ڈالنا ہے) پس اس میں ان دونوں کے درمیان اشتراک جاری ہے۔ اور لبن فحل کی تحریم کے بارے بحث سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ والحمدللہ۔ مسئلہ نمبر 5: قولہ تعالیٰ : من بین فرث ودم لمنا خالصا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکال کر اپنی عظیم قدرت پر آگاہ فرمایا ہے۔ اور الفرث : وہ گوبر ہے جو اوجھ کی طرف اتر آتا ہے پس جب وہ خارج ہوجائے تو اسے فرث نہیں کہا جاتا ہے : أفرثت الکرش جب تو اسے نکال دے جو کچھ اس میں ہے۔ اور اس کا معنی ہے کہ طعام (چارے) میں سے کچھ وہ ہوتا ہے جو اوجھ میں ہوتا ہے اور اس سے کچھ خون بن جاتا ہے، پھر دودھ خون سے خالص ہوجاتا ہے، پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ دودھ اس کے اور خون کے درمیان سے رگوں سے نکلتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بیشک جانور چارہ کھاتے ہیں اور جب وہ اس کی اوجھ میں قرار پکڑ جائے تو وہ اسے پکا دیتی ہے پس اس کا نچلا حصہ گوبر ہے، اس کا درمیانہ حصہ دودھ، اور اس کا اوپر والا حصہ خون ہوتا ہے، اور جگر اور کلیجہ کو ان اصناف پر غالب اور مسلط کیا گیا ہے، پس وہ خون کو تقسیم کرتا ہے، اسے الگ کرتا ہے اور اسے رگوں میں چلاتا ہے، اور وہ دودھ کو کھیری میں پہنچاتا ہے۔ اور گوبر اسی طرح باقی رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اوجھ میں تھا ؛ حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر۔ (القمر) ( خبریں) سراسر حکمت ہیں پس ڈرنے والوں نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا) خالصا مراد یہ ہے کہ وہ اسے خون کی سرخی اور گوبر کی گندگی سے پاک صاف کردیتا ہے حالانکہ اس نے دونوں کو ایک برتن میں جمع کر رکھا ہے۔ اور ابن بحر نے کہا ہے : خالصا بیاضہ اس کی سفیدی کو خالص کرتا ہے۔ نابغہ نے کہا ہے : بخالصۃ الأردان خضر المناکب مراد آستینوں کی سفیدی ہے۔ اور یہ قدرت حاصل نہیں ہوسکتی مگر اسے ہی جو ہر شے میں مصلحت اور فوائد قائم رکھنے والا ہو۔ مسئلہ نمبر 6: نقاش نے کہا ہے : اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ منی نجس نہیں ہے، اور یہ ان کے سوا کئی دوسروں نے بھی کہا ہے اور استدلال کرتے ہوئے کہا ہے : جس طرح دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے اور وہ لذیذ اور خالص ہوتا ہے اسی طرح یہ جائز ہے کہ پیشاب کے راستے سے نکلنے کے باوجود طاہر اور پاک ہو۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : بیشک یہ بہت بڑی جہالت ہے اور انتہائی شنیع عمل میں شروع ہوتا ہے، دودھ طاہر کے بارے میں تو اس نعمت و احسان ہونے کی خبر آئی ہے جو قدرت سے صادر ہوتا ہے تاکہ وہ عبرت ہوجائے، پس یہ سب خلوص اور لذت کے وصف کا تقاضا کرتا ہے اور منی اس حالت میں نہیں ہے کہ اسے اس کے ساتھ ملایا جائے یا اس پر قیاس کیا جائے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس کے معارض آتا ہے اگر یہ کہہ دیا جائے کہ کون سا احسان اس منی کے نکلنے سے عظیم تر اور بلند ہے جس سے معززومکرم انسان پیدا ہوتا ہے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یخرج من بین الصلب والترآئب۔ (الطارق) (جو (مردو زن کی) پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے) اور فرمایا : واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ (النحل :72) (اور اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا فرمائیں تمہارے لئے تمہاری جنس سے عورتیں اور پیدا فرمائے تمہارے لئے تمہاری بیویں سے بیٹے اور پوتے) ۔ اور یہ احسان کی عنایت اور انتہا ہے، پھر اگر کہا جائے : بیشک یہ پیشاب کے راستے نکلنے کے سبب ناپاک اور پلید ہوجاتی ہے، تو ہم کہیں گے ؛ یہ وہی ہے جس کا ہم نے ارادہ کیا ہے۔ پس نجاست ایک امر عارض ہے اور اس کی اصل پاک اور طاہر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک اس کے نکلنے کا راستہ پیشاب کے راستہ کے سوا ہے اور خاص کر عورت میں، کیونکہ اس میں ذکر کو داخل کرنے کا راستہ اور بچے کا راستہ پیشاب کے راستہ کے سوا ہے جیسا کہ علماء نے کہا ہے۔ اور سورة البقرہ میں یہ پہلے گزر چکا ہے۔ پھر اگر کہا جائے : چونکہ اس کی اصل خون ہے اور وہ ناپاک اور نجس ہے، تو ہم کہیں گے : یہ اعتراض کستوری کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کی اصل خون ہے اور وہ پاک اور طاہر ہے۔ اور جنہوں نے اس کی طہارت کا قول کیا ہے وہ امام شافعی، امام احمد، اسحاق اور ابو ثور وغیرہ رحمہم اللہ تعالیٰ ہیں، اس کی وجہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث ہے، انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑوں سے اپنے ناخن کے ساتھ اسے کھرچ ڈالتی تھی درآنحالیکہ وہ خشک ہوتی۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : پس اگر وہ نہ بھی کھرچی جاسکے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتے تھے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : وہ نخامہ (ناک سے بہنے والا مادہ) کی مثل ہے تو اسے اذخر (گھاس) کے ساتھ پھیلالے اور پھر پکڑے کے ساتھ اسے صاف کرلے، پونچھ ڈالے۔ پھر اگر یہ کہا جائے : تحقیق حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی دھو ڈالتی تھی پھر آپ اسی کپڑے میں نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور میں اس میں دھونے کے اثر (اور نشان) دیکھ رہی ہوتی تھی۔ تو ہم کہیں گے : اس میں یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ آپ اسے گندگی سمجھ کر دھو ڈالتی تھیں جیسا کہ دیگر وہ اشیاء جو کپڑے سے زائل کی جاتی ہیں نہ کہ نجاست کی وجہ سے، اور اس طرح ان احادیث کے درمیان تطبیق ہوسکتی ہے۔ واللہ اعلم۔ امام مالک (رح)، ان کے اصحاب، اور امام اور زاعی (رح) نے کہا ہے : وہ نجس اور پلید ہے۔ امام مالک (رح) نے کہا ہے : کپڑے سے احتلام کو دھونا امر واجب ہے اور ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے۔ اور یہی علمائے کوفہ کو بھی قول ہے اور حضرت عمر بن خطاب، حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کی جاتی ہے کہ وہ اسے اپنے کپڑوں سے دھوتے تھے۔ اور اس میں حضرت ابن عمر اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اختلاف کیا گیا ہے۔ منی کی نجاست اور اس کی طہارت کے بارے میں انہیں دو قولوں پر تابعین بھی ہیں۔ مسئلہ نمبر 7: اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ دودھ سے پینے وغیرہ کا نفع اٹھانا جائز ہے، لیکن جہاں تک مردار کے دودھ کا تعلق ہے تو اس سے انتفاع جائز نہیں، کیونکہ وہ پاک مائع ہے جو ناپاک ترین میں پڑی ہوئی ہے، اور وہ اس طرح کہ مردار کی کھیری نجس اور ناپاک ہے اور دودھ پاک ہے پس جب اسے دوھیا گیا تو وہ اسی طرح ہوگیا گویا اسے ناپاک برتن طاہر ہے زندہ ہو یا مردہ تو وہ طاہر ہے۔ اور جنہوں نے کہا ہے : انسان مرنے کے سبب نجس ہوجاتا ہے تو ان کے نزدیک وہ نجس ہے۔ دونوں قولوں کے مطابق حرمت (رضاعت) ثابت ہوجاتی ہے ؛ کیونکہ بچہ اس سے اسی طرح غذا حاصل کرتا ہے جیسے زندہ کے دودھ سے غذا حاصل کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” رضاع وہ ہے جو گوشت پیدا کرے اور ہڈیوں کو بڑھائے “۔ اور آپ نے اس میں کوئی تخصیص نہیں کی) ، تفصیل سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 8: قولہ تعالیٰ : سآیغا للشربین یعنی لذیذ، خوش ذائقہ اور پینے والوں کے لئے اتنا آسان اور سکون بخش کہ پیتے وقت گلے میں ذرا ٹکتا نہیں۔ کہا جاتا ہے : ساغ الشراب یسوغ سوغا یعنی جس کا حلق میں داخل ہوناآسان اور سہل ہو، اور أساغہ شار بہ (اس نے اسے پینے والے کے لئے آسان بنا دیا) ، اور سغتہ أنا أسیغہ وأسوغہ، یہ متعدی بھی ہوتا ہے اور غیر متعدی بھی، اور عمدہ أسغتہ إساغۃ ہے کہا جاتا ہے : أسغ لی غصتی یعنی مجھے مہلت دے اور میرے لئے جلدی نہ کر اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یتجرعہ ولا یکاد یسیغہ (ابراہیم : 17) (وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ بھرے گا اور حلق سے نیچے نہ اتار سکے گا۔ اور السوغ (دین کے کسرہ کے ساتھ) وہ جس کے ساتھ تیرا غصہ اتر جائے۔ کہا جاتا ہے : الماء سواغ الغصص (پانی غصے کو ٹھنڈا کردینے والا ہے) اور اسی سے کمیت کا قول ہے : فکانت سواغا ان جئزت بغمۃ (پس یہ حلق کے پھندے کو دور کرنے والا شے ہے اگر اسے غصہ کے ساتھ پھندا لگ جائے) اور روایت ہے کہ دودھ کے ساتھ کبھی بھی کسی کا گلا نہیں گھٹا، اور یہ حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 9: اس آیت میں میٹھی شے کے استعمال اور لذیذ کھانوں کے تناول کرنے پر لیل موجود ہے، اور یہ نہیں کہا جائے گا : بیشک یہ زہد کو ختم کردیتا ہے اور اسے دور کردیتا ہے، لیکن جب جزوی طور پر ہو اور بغیر اسراف اور کثرت کے ہو۔ یہ معنی سورة المائدہ وغیرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور صحیح روایت میں ہے کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے پیالے کے ساتھ یہ تمام مشروبات پلائے ہیں شہد، نبیذ، دودھ اور پانی۔ اور بعض قراء نے فالوذج (آٹے، پانی اور شہد سے بنا ہوا حلوہ) کھانے اور کھانے کے ساتھ دودھ پینے کو مکروہ قرار دیا ہے، اور عام علماء نے اسے مباح قرار دیا ہے۔ اور حسن سے روایت کی گئی ہے کہ وہ ایک دستر خوان پر تھے اور ان کے ساتھ مالک بن دینار بھی تھے، پس فالوذج لایا گیا تو انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا تو حسن نے انہیں کہا : کھاؤ ! کیونکہ تم پر ٹھنڈے پانی میں اس سے زیادہ محاسبہ ہے۔ مسئلہ نمبر 10: ابو داؤد وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ نے اسے نوش فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے لگے تو اسے چاہئے کہ یہ کہے : اللھم بارک لنا فیہ وأطعنا خیرا منہ (اے اللہ ! ہمارے لئے اسمیں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھلا) اور جب دودھ پلایا جائے تو یہ کہنا چاہئے اللھم بارک لنا فیہ وزدنا منہ (اے اللہ ! ہمارے لئے اس میں برکھ رکھ دے اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما) کیونکہ دودھ کے سوا کوئی شے نہیں ہے جسے کھانے پینے کا بدل بنایا جاسکے “۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : ایسا کیے نہیں ہوسکتا جب کہ یہ وہ قوت اور طاقت ہے جو مفاسد سے خالی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی اجسام مضبوط اور طاقتور بنتے ہیں۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کیلئے اس امت کے ہدایت پر ہونے کی علامت قرار دیا ہے جو تمام امتوں سے بہترین امت ہے، پس صحیح میں فرمایا : ” میرے پاس حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ایک برتن میں شراب اور ایک برتن میں دودھ لے کر آئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا تو جبرائیل امین (علیہ السلام) نے مجھے کہا، آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے بلاشبہ اگر آپ شراب کو پسند کرلیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی “۔ پھر دعا میں اس کی زیادتی کی التجاء یہ خوشحالی، خیرات کے ظہور، اور برکتوں کے کثیر ہونے کی علامت ہے، پس یہ سراپا برکت ہی برکت ہے۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزین تیار کرتے ہو) کہ ان سے شراب بناتے ہو اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کیلئے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

آیت نمبر 67 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ومن ثمرت النخیل علامہ طبری نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے ومن ثمرات النخیل والأعناب ما تتخذون (یعنی کھجور اور انگور کے پھلوں سے جو کچھ تم بناتے ہو) پس ماکو حذف کردیا گیا ہے اور اس کے حذف پر دلیل قوی باری تعالیٰ : منہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس میں محذوف شئ ہے، اور امر قریب ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : منہ کا معنی ہے ای من المذکور (یعنی ان سے کن کا ذکر کیا گیا ہے) ۔ پس کلام میں حذف نہ ہوگا اور یہی أولیٰ ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ قول باری تعالیٰ : ومن ثمرت کا عطف الانعام پر ہو یعنی اور تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں میں عبرت ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مما پر معطوف ہو یعنی اور ہم تمہیں پھلوں سے بھی مشروبات پلاتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : سکرا السکر ہر وہ شے جو نشہ دیتی ہے ؛ لغت میں یہی مشہور ہے، سکر سے مراد خمر (شراب) لیا ہے، اور رزق حسن سے مراد ہر وہ حلال شے ہے جو ان دونوں درختوں سے کھائی پی جاتی ہے۔ اور یہی قول ابن جبیر، نخعی، شعبی اور ابو ثور رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک لغت حبشہ کے مطابق سکر سے مراد سرکہ ہے، اور رزق حسن سے مراد طعام ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ السکر سے مراد میٹھا اور حلال رس (جوس) ہے، اور اسے سکر کا نام دیا گیا ہے کیونکہ جب یہ پڑا رہے تو یہ بھی مسکر (نشہ آور) ہوجاتا ہے، پس جب یہ نشہ دینے کی حد تک پہنچ جائے تو حرام ہوجاتا ہے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ان اقوال میں سے زیادہ صحیح اور مضبوط قول حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے، اور دو معنوں میں سے ایک پر ہو سکتا ہے، یا تو یہ کہ اس آیت کا نزول تحریم خمر سے پہلے ہو، اور یا اس کا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور اور انگور کے پھلوں کے ساتھ انعام فرمایا ہے اور تم اس سے وہ شے بناتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کی ہے (یہ) تمہاری طرف سے حد سے تجاوز اور زیادتی ہے، اور وہ شے بناتے ہو جو تمہارے لئے اس نے حلال کی ہے (اور) اس سے تمہاری منفعت کا قصد و ارادہ فرمایا ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تحریم خمر سے پہلے نازل ہوئی پھر یہ منسوخ ہوگئی، کیونکہ یہ آیت باتفاق علماء مکی ہے، اور شراب مدینہ طیبہ میں حرام ہوئی۔ میں (مفسر) کہتا ہوں کہ اس بنا پر کہ سکر سے مراد سرکہ یا میٹھا رس ہو تو اس میں کوئی نسخ نہیں ہے، اور یہ آیت محکم ہوگی اور یہی اچھا اور بہتر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اہل حبشہ سرکہ کو سکر کا نام دیتے ہیں، مگر جمہور کا موقف یہ ہے کہ سکر سے مراد خمر (شراب) ہے، ان میں سے حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عمر، حضرت ابو رزین، حسن، مجاہد، ابن ابی لیلیٰ اور کلبی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہم ہیں ان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ان تمام نے یہ کہا ہے : سکر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے پھلوں میں سے حرام قرار دیا ہے۔ اور اسی طرح اہل لغت نے بھی کہا ہے : السکر اسم الخمر وما یسکر۔ (یعنی سکر خمر کا نام ہے اور ہر اس شے کا جو نشہ آور ہوتی ہے) ۔ اور انہوں نے یہ شعر بھی بیان کیا ہے : بئس الصحاۃ وبئس الشرب شربھم إذا جری فیھم المزاء والسکر اور رزق حسن سے مراد وہ ہے جو ان دونوں کے پھلوں میں سے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک قول باری تعالیٰ تتخذون منہ سکرا خبر ہے۔ اس کا معنی استفہام بمعنی انکار ہے، یعنی کیا اس سے شراب بناتے ہو اور پاکیزہ رزق (یعنی) سرکہ، کشمش، اور کھجور سب چھوڑ دیتے ہو ؟ جیسا کہ یہ قول ہے : فھم الخالدون یعنی کیا وہ ہمیشہ رہیں گے ؟ یعنی یہ تیرے لئے خوراک ہے۔ اور شاعر کا قول بیان کیا ہے : جعلت عیب الأکرمین سکرا (تو نے معززین کی عیب جوئی کو خوراک بنا لیا ہے) یعنی تو نے ان کی مذمت کو خوراک بنا لیا ہے۔ اور یہ علامہ طبری کی پسند ہے کہ السکر سے مراد ہر وہ شے جو کھانے میں سے کھائی جاتی ہے اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے اس کا پینا حلال ہو اور یہی رزق حسن ہے، پس الفاظ مختلف ہیں لیکن معنی ایک ہے۔ اسی طرح یہ قول ہے : انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ (یوسف :86) (میں تو شکوہ کر رہا ہوں اپنی مصیبت اور اپنے دکھوں کا خدا کی بارگاہ میں) یہ معنی مراد لینا اچھا ہے اور اس میں کوئی نسخ نہیں، مگر زجاج نے کہا ہے : ابو عبیدہ کا یہ قول معروف نہیں ہے، اور علماء تفسیر اس کے خلاف ہیں، اور جو شعر انہوں نے کہا ہے اس میں ان کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ ان کے سوا دوسروں کے نزدیک اس کا عمنی ہے کہ وہ یہ بیان کر رہا ہے کہ وہ لوگوں کے عیوب کو ڈھانپ لیتی ہے، چھپا لیتی ہے۔ اور احناف نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ سکرا سے مراد وہ ہے جو نبی ذوں میں سے نشہ آور نہ ہو اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ان چیزوں کے ساتھ احسان کیا ہے جو اس نے ان کے لئے تخلیق فرمائی ہیں، اور احسان صرف انہیں چیزوں کے ساتھ ہو سکتا ہے جو حلال کی گئی ہیں نہ کہ ان کے ساتھ جو حرام ہیں، پس یہی ایسی نبیذ کے پینے کے جواز پر دلیل ہے جو مسکر نہ ہو، پس جب وہ نشہ کی حد تک پہنچ جائے تو وہ جائز نہ ہوگی، اور انہوں نے اسے اس حدیث کے ساتھ قوی اور مضبوط کیا ہے جو حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اس خمر (شراب) کو حرام بعینہا اور سکر (نشہ آور شراب) کو حرام من غیرھا قرار دیا ہے “۔ اور اس روایت سے جسے عبد الملک بن نافع نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے ایک آدمی کو دیکھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ رکن کے ساتھ تشریف فرما تھے، اور اس نے آپ کو ایک پیالہ پیش کیا سو آپ نے اسے اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو اسے سخت (نشہ آور) پایا تو آپ نے اسے اس کے مالک کے پاس لوٹا دیا۔ تو اس وقت آپ کو لوگوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا وہ حرام ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اس آدمی کو میرے پاس لاؤ “۔ اسے لایا گیا تو آپ نے اس سے پیالہ پکڑ لیا، پھر پانی منگایا اور وہ اس میں انڈیل دیا پھر اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا اور اسے ہلایا۔ پھر پانی منگایا اور وہ بھی اس میں انڈیل دیا پھر ارشاد فرمایا : ” جب تم پر یہ برتن جوش مارنے لگیں تو تم ان کی شدت اور سختی کو پانی کے ساتھ توڑ دو “۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے لئے نبیذ بنائی جاتی تھی اور اسی دن آپ اسے نوش فرما لیتے تھے۔ اور جب اسے دوسرا یا تیسرا دن ہوجاتا تو آپ خادم کو پلا دیتے جب اس میں معمولی تغیر ہوتا، اگر یہ حرام ہوتی تو آپ قطعاً اسے نہ پلاتے۔ امام طحاوی (رح) نے کہا ہے : ابو عون ثقفی نے عبد اللہ بن شداد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : خمر (شراب) بعینھا حرام ہے وہ قلیل ہو یا کثیر اور ہر مشروب سے سکر (نشہ آور) حرام ہے۔ اسے دار قطنی نے بھی نقل کیا ہے۔ پس اس حدیث میں اور ان میں جو اس کی مثل ہیں، یہ ہے کہ غیر خمر کا عین اس طرح حرام نہیں جس طرح خمر بعینھا حرام ہے۔ انہوں نے کہا : خمر انگور کی شراب ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں، اور ان کے دلائل میں سے وہ روایت بھی ہے جسے شریک بن عبد اللہ نے بیان کیا ہے کہ ابو اسحاق ہمدانی نے عمرو بن میمون سے ہمیں بیان کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا : بیشک ہم ان اونٹوں کا گوشت کھاتے ہیں اور اسے ہمارے پیتوں میں سوائے نبیذ کے کوئی شے ہضم نہیں کرسکتی۔ شریک نے بیان کیا ہے : میں نے ثوری (رح) کو اپنے زمانے کے جید عالم مالک بن معول کے گھر نبیذ پیتے ہوئے دیکھا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ان کا یہ قول کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے اور اس کا احسان نہیں ہوسکتا مگر ان چیزوں کے ساتھ جو اس نے حلال فرمائی ہیں یہ بالکل صحیح ہے ؛ مگر یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ یہ ارشاد تحریم خمر سے پہلے کا ہو جیسا کہ ہم نے اسے بیان کردیا ہے تو پھر یہ منسوخ ہوگا جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ علامہ ابن عربی نے کہا ہے : اگر یہ کہا جائے اسکا نسخ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ یہ خبر ہے اور خبر میں نسخ داخل نہیں ہوسکتا ؟ تو ہم کہیں گے : یہ اس کا کلام ہے جس نے شریعت کی تحقیق نہیں کی، تحقیق ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ خبر وجود حقیقی کے بارے میں ہو یا ثواب عطا کرنے کے بارے میں درآنحالیکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فضل ہو تو وہ خبر ہے جس میں نسخ داخل نہیں ہوسکتا، لیکن جب خبر حکم شرعی کو متضمن ہو تو احکام تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور منسوخ بھی ہوجاتے ہیں، چاہے وہ خبر کی صورت میں ہوں یا امر کی صورت میں، اور نسخ نفس لفظ کی طرف راجع نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی طرف راجع ہوتا ہے جسے وہ متضمن ہوتا ہے، پس جب تم یہ سمجھ گئے تو تم ان کندذہنوں کی صنف سے خارج ہوگئے جس کے متعلق کفار کے بارے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ خبر دی ہے : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ واللہ اعلم بما ینزل قالوا انما انت مفتر، بل اکثرھم لا یعلمون۔ (النحل) (اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں تم صرف افترا پر داز ہو، بلکہ ان میں سے اکثر (آیت بدلنے کی حکمت کو) نہیں جانتے) ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس سے جاہل اور ناواقف ہیں کہ رب کریم جس کے بارے چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے پابند اور مکلف بنا دیتا ہے اور اپنے عدل کے ساتھ اس میں سے جو چاہتا ہے اٹھا لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ انتہائی براطعن وتشنیع ہے یہاں تک کہ اس میں نیکوکار علماء بھی فہم و فراست کی کمی میں کفار کے ساتھ مل جاتے ہیں، اور یہ مسئلہ اصولی ہے، وہ یہ کہ احکام شرعیہ کے بارے اخبار کا نسخ جائز ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ نسخ جائز ہے اور اس کی وجہ یہ آیت اور اسکی مثل آیات ہیں، اور اس لیے بھی کہ کسی حکم کے مشروع ہونے کے بارے خبر اس مشروع کی طلب کو متضمن ہوتی ہے، اور وہی طلب وہ حکم شرعی ہے جس کے نسخ پر استدلال کیا جا رہا ہے۔ واللہ اعلم۔ اور رہیں وہ احادیث جو انہوں نے ذکر کی ہیں تو ان میں سے پہلی اور دوسری دونوں ضعیف ہیں، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ سے نقل ثابت کے ساتھ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ہر شراب جو نشہ دے پس وہ حرام ہے “۔ اور مزید فرمایا : ” ہر نشہ آور (مشروب) خمر ہے اور ہر نشہ آور (شراب) حرام ہے “۔ کل مسکر خمرو کل مسکر حرام اور مزید فرمایا :” جس شے کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے “۔ نسائی نے کہا ہے : ان احادیث کے تمام روات اہل ثبت و عدالت ہیں اور صحت نقل کے ساتھ مشہور ہیں، اور عبد الملک ان میں سے کسی ایک کے قائم مقام بھی نہیں ہوسکتا اگرچہ اس کے ہم مثلوں کی جماعت بھی اس کی تائید اور معاونت کرے۔ وباللہ التوفیق۔ اور رہی تیسری حدیث تو اگرچہ وہ صحیح ہے کیونکہ آپ ﷺ خادم کو وہ اس لئے نہیں پلاتے تھے کہ وہ مسکر ہے بلکہ آپ اس لئے پلا دیتے تھے کہ اس کی بوتبدیل ہوچکی ہے۔ اور آپ ﷺ ناپسند کرتے تھے کہ آپ سے بو پائی جائے، پس اسی لئے آپ اسے نہ پیتے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی ازواج نے عسل زینب کے بارے میں آپ پر یہ وہم اور شبہ کیا کہ آپ کو کہا گیا : بیشک ہم آپ سے مغافیر کی بو پاتی ہیں، مراد ناپسندیدہ بو ہے، پھر اسکے بعد آپ نے اسے نہ پیا۔ اس کا بیان سورت تحریم میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور رہی حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث ! تو آپ سے اس کے خلاف بھی مروی ہے اور وہ حضرت عطا (رح)، طاؤس (رح) اور مجاہد کی روایت سے ہے کہ آپ نے فرمایا : ” وہ شے جس کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے “۔ اور اسے آپ سے حضرت قیس بن دینار نے روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح مسکر کے بارے میں آپ کا فتویٰ ہے ؛ یہ دار قطنی نے کہا ہے۔ اور پہلی حدیث آپ سے حضرت عبد اللہ بن شداد نے روایت کی ہے حالانکہ ایک جماعت نے ان سے مخالفت کی ہے، پس اسکے ساتھ قول ساقط ہوگیا اس کے ساتھ ساتھ کہ وہ حضور نبی مکرم ﷺ سے ثابت بھی نہیں اور جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جو حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے کہا : ہمارے پیٹوں میں نبیذ کے سوا کوئی شے اسئ ہضم نہیں کر سکری، تو آپ اس سے غیر مسکر کا ارادہ فرما رہے ہیں اور اس کی دلیل وہی ہے جو ہم بیان کرچکے ہیں۔ اور نسائی نے عتبہ بن فرقد سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : وہ نبیذ جسے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے پیا تھا اس کا سرکہ بنا لیا گیا۔ نسائی نے بیان کیا ہے اور اس کے صحیح ہونے پر حضرت سائب (رح) کی حدیث دلالت کرتی ہے، حارث بن مسکین نے کہا ہے آپ پر پڑھا گیا اور میں ابن قاسم سے سنتا رہا : مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے سائب بن یزید سے مجھے بیان کیا ہے کہ انہوں نے انہیں خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : بیشک میں نے فلاں سے شراب کی بو پائی ہے تو آپ کو گمان ہوا کہ وہ شراب الطلاء ہو اور میں اس کے بارے پوچھنے لگا ہوں جو اس نے پیا ہے، پس اگر وہ مسکر ہوا تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا، پس حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اسے مکمل حد کے کوڑے لگائے۔ تحقیق آپ نے منبر رسول ﷺ پر اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا : اما بعد ! اے لوگو ! چونکہ شراب (خمر) کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوچکا ہے اور یہ پانچ چیزوں سے تیار ہوتی ہے انگور، شہد، کھجور، گندم اور جو سے اور خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ اور سورة المائدہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ پس اگر کہا جائے کہ ابراہیم نخعی اور امام ابو جعفر طحاوی نے اس کے پینے کو حلال قرار دیا ہے اور وہ بھی اپنے اہل زمانہ کے امام تھے، اور سفیان ثوری (رح) اسے پیتے تھے۔ تو ہم کہیں گے : نسائی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ سب سے پہلے جس نے نبی ذوں میں سے مسکر کو حلال قرار دیا وہ حضرت ابراہیم نخعی (رح) ہیں، اور یہ ایک عالم کی پھسلاہٹ (اور خطا) ہے اور ہمیں عالم کی پھسلاہٹ سے محتاط رکھا گیا ہے، اور سنت کے ہوتے ہوئے کسی کے قول میں کوئی حجت نہیں ہے۔ اور نسائی نے بھی ابن المبارک سے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا : میں نے مسکر کے بارے میں کسی سے ایسی رخصت نہیں پائی جو صحیح ہو سوائے ابراہیم کے۔ ابو اسامہ نے کہا ہے : میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا جو بلاد شام، مصر، یمن اور حجاز میں حضرت عبد اللہ بن مبارک (رح) تعالیٰ سے بڑھ کر علم کا طالب ہو۔ اور رہے حضرت امام طحاوی (رح) اور حضرت سفیان (رح) ! اگر ان دونوں سے یہ قول صحیح ہے تو بھی ان سے ان کے خلاف استدلال نہیں کہا جاسکتا جن ائمہ کرام نے تحریم مسکر میں ان کی مخالفت کی ہے اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اس بنا پر کہ امام طحاوی نے اپنی کتاب ” الکبیر “ میں اخلتاف میں اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ ابو عمر بن عبد البر نے کتاب التمہید میں ذکر کیا ہے کہ ابو جعفر طحاوی نے کہا ہے : امت اس پر متفق ہے کہ انگور کا رس (عصیر العنب) جب سخت ہوجائے، ابل جائے اور اس پر جھاگ بن جائے تو وہ خمر ہے اور اسے حلال سمجھنے والا کافر ہے۔ اور نقیع التمر (بھگوئی ہوئی کھجوروں کا شربت) میں علماء نے اختلاف کیا ہے جب وہ اہل جائے اور نشہ پیدا کر دے۔ فرمایا : پس یہ تیری اس پر رہنمائی کر رہا ہے کہ یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” خمران دو درختوں سے بنتا ہے کھجور اور انگور “۔ ان کے نزدیک اس کے مطابق عمل نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ حدیث کو قبول کرتے تو وہ نقیع التمر کو حلال قرار دینے والوں کو کافر قرار دیتے، تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ خمر جو حرام کیا گیا ہے اس میں انگور کے اس رس کے سوا کوئی داخل نہیں جو سخت ہوگیا ہو اور اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ نشہ سینے لگے۔ فرمایا : پھر وہ اس سے خالی نہ ہوگا کہ تحریم صرف اسی کے ساتھ معلق ہو اور اس پر کسی غیر کو قیاس نہ کیا گیا ہو یا اس پر قیاس واجب اور ضروری ہوگا، تو ہم نے تمام کو پایا ہے کہ انہوں نے اس پر نقیع التمر کو قیاس کیا ہے جب وہ ابلنے لگے اور اس کی کثیر مقدار نشہ دینے لگے اور نقیع الزبیب بھی اسی طرح ہے۔ فرمایا : پس اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ واجب ہے کہ شروبات میں سے ہر اس کو حرام قرار دیا جائے جو نشہ آور ہو۔ فرمایا : تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ہر مسکر حرام ہے “۔ اور اس کی سند کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے تمام نے قبول کیا ہے۔ اور ان کے درمیان اختلاف اس کی تاویل میں ہے، پس ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ آپ نے اس سے اس جنس کا ارادہ کیا ہے جو نشہ دیتی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : آپ نے اس سے ارادہ اس کا کیا ہے جس کے ساتھ وہ نشہ میں مبتلا ہوجائے جیسا کہ کسی کو قتل کے وجود کے بغیر قاتل کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : پس یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ امام طحاوی (رح) کے نزدیک وہ حرام ہے ان کے اس قول کی وجہ ہے : پس اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ واجب ہے کہ ہر نشہ آور مشروب کو حرام قرار دیا جائے۔ اور دار قطنی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے خمر کو اس کے نام کی وجہ سے حرام نہیں کیا بلکہ اس کے انجام کی وجہ سے اسے حرام کیا ہے، پس ہر شراب کا انجام خمر کے انجام کی مثل ہی ہوتا ہے پس وہ خمر کے حرام ہونے کی طرح ہی حرام ہوگی۔ ابن منذر نے کہا ہے : اہل کوفہ معلول اخبار لائے ہیں، اور جب لوگوں کا کسی شے کے بارے اختلاف ہوجائے تو پھر اسے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی طرف لوٹانا واجب ہے۔ اور بعض تابعین کے بارے میں جو یہ مروی ہے کہ انہوں نے وہ شراب پی ہے جس کی کثیر مقدار نشہ دیتی ہے تو یہ قوم کے گناہ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت طلب کریں گے، اور یہ دو معنوں میں سے ایک سے خالی نہیں ہے کہ یا تو وہ خطاکار ہے اس حدیث کی تاویل میں اس نے خطا کی ہے جو اس نے سنی یا آدمی سے گناہ صادر ہوا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کثرت سے کرے، اور حضور نبی مکرم ﷺ اس امت کے اولین و آخرین پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہیں۔ اور آیر کی تاویل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیشک یہ عبرت کے لئے ذکر کی گئی ہے یعنی جو (ذات) ان اشیاء کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہ یقیناً دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے، اور یہ اعتبار اس سے مختلف نہیں ہوتا کہ خمر حلال ہو یا حرام، پس السکر (رس) بنانا تحریم پر دلالت نہیں کرتا، اور یہ اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس (البقرہ :219) (آپ فرمائیے : ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لئے) ۔ واللہ اعلم۔