16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ (اس سے بھی) جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

آیت نمبر 77 قولہ تعالیٰ : وللہ غیب السموت والارض اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ متصل ہے : ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون۔ (النحل) ۔ یعنی اس نے تحلیل (حلال قرار دینا) وتحریم (حرام قرار دینا) کا قانون بنایا اور بلاشبہ اسے اچھا وہ بنا سکتا ہے جو ان کے انجام اور مصالح کا علم رکھتا ہو اور انہیں محیط ہو، اور تم اسے مشرکو ! تم تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے تو پھر فیصلے کیونکہ کرسکتے ہو۔ ومآ امر الساعۃ الا کلمح البصر اور تمہیں اس (قیامت کے دن) میں اپنے اعمال کے بدلے جزا دی جائے گی۔ اور الساعۃ سے مراد وہ وقت ہے جس میں قیامت قائم ہوگی، اس کا نام ساعۃ رکھا گیا ہے کیونکہ اس ساعۃ میں لوگ گھبرا جائیں گے اور ساری مخلوق ایک چیخ کے ساتھ مر جائے گی۔ اور اللمح کا معنی ہے تیزی اور سرعت کے ساتھ دیکھنا، کہا جاتا ہے : لمحہ لمحا و لمحانا۔ اور تاویل کی وجہ یہ ہے کہ قیامت جب یقیناً آنے والی ہے تو پھر یہ ضروری ہے کہ اسے آنکھ جھپکنے کی مثل قریب قرار دیا جائے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ ارادہ نہیں کیا کہ قیامت آنکھ جھپکنے میں آئے گی، بلکہ اسے لانے پر قدرت کی تیزی اور سرعت کو بیان کیا ہے، یعنی وہ کسی شے کو کہتا ہے کن (تو ہوجا) تو وہ ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آنکھ جھپکنے کے ساتھ تشبیہ اور مثال بیان کی ہے کیونکہ یہ آسمان پر ظاہر ہوگا اس کے باوجود کہ اس پر زمین سے کوئی دوری نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ قریب ہونے کی تمثیل ہے، جیسا کہ کہنے والا کہتا ہے : ما السنہ ألا لحظۃ، وشبھہ (سوال نہیں ہے مگر ایک لحظہ یا اس کے مشابہ) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس طرح ہوگی نہ کہ مخلوق کے نزدیک، اس کے دلیل یہ ارشاد ہے : انھم یرونہ بعیدا۔ ونرہ قریبا۔ (المعارج) (کفار کو تو یہ بہت دور نظر آتا ہے (لیکن) ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں) اوھو اقرب (یا اس سے بھی جلد) اس میں او شک کے لئے نہیں تمثیل کے لئے ہے یعنی ممثل دونوں میں سے جس قسم کا بھی ارادہ کرے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ مخاطب کے شک کے لئے داخل ہوا ہے اور یہ بھی گیا ہے : کہ او بمنزلہ بل کے ہے۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور انکھیں اور دل (اور انکے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو۔

آیت نمبر 78 قولہ تعالیٰ : واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیئا بیان فرمایا کہ اس کی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے شکموں سے نکالا اس حال میں کہ تم بچے تھے اور تمہیں کسی شے کا بھی علم نہ تھا۔ اور اس میں تین اقوال ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے تم اس میں سے کچھ نہیں جانتے تھے جو اس نے تم سے وعدہ لیا درآنحالیکہ تم ابھی اپنے باپوں کی صلبوں میں تھے۔ دوسرا قول یہ ہے : تم اس میں سے کچھ نہ جانتے تھے جو اس نے تمہارے بارے میں سعادت و شقاوت کا فیصلہ کیا ہے۔ اور تیسرا قول یہ ہے : تم اپنے منافع میں سے کچھ نہ جانتے تھے ؛ کلام مکمل ہوگئی، پھر نئے سرے سے آغاز کیا اور فرمایا : وجعل لکم السمع والابصار والافدۃ یعنی یہ وہ ہیں جن کے ساتھ علم حاصل کرتے ہو اور ادراک کرتے ہو۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کیلئے انہیں پیٹوں سے نکالنے سے پہلے بنا دیا اور بلاشبہ انہیں علم و ادراک شکموں سے نکالنے کے بعد عطا فرمایا) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کام بنائے تاکہ تم ان کے ساتھ امر و نہی کو سنو، اور آنکھیں بنائیں تاکہ تم ان کے ساتھ اس کی صنعت و کاریگری کے آثار دیکھو، اور دل بنائے تاکہ تم ان کے ساتھ اس کی معرفت اور پہچان حاصل کرسکو۔ والافدۃ یہ الفؤاد کی جمع ہے جیسے غراب کی جمع أغربۃ ہے، اور قول باری تعالیٰ : وجعل لکم السمع کے ضمن میں قوت گویائی کے اثبات کا قول بھی کیا گیا ہے کیونکہ جو سن نہیں سکتا وہ کلام بھی نہیں کرسکتا، اور جب سننے کا حاسہ پایا گیا تو نطق اور کلام بھی پائی گئی۔ اور اعمش، ابن وثاب، اور حمزہ نے یہاں سورة النور، الزمر اور النجم میں ہمزہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ امھتکم پڑھا ہے۔ اور رہے کسائی ! تو انہوں نے ہمزہ کو کسرہ اور میم کو فتحہ دیا ہے اور بلاشبہ یہ (ہمزہ کا کسرہ ماقبل کی) اتباع کی وجہ سے ہے۔ اور باقیوں نے اصل پر رکھتے ہوئے ہمزہ کو ضمہ اور میم کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور أمھات کی اصل أمات ہے، پھر ھا بطور تاکید زیادہ کردی گئی جیسا کہ انہوں نےأھرقت الماء میں ھا کو زیادہ کیا ہے حالانکہ یہ اصل میں أرقت ہے۔ اور یہ بحث سورة الفاتحہ میں گزر چکی ہے۔ لعلکم تشکرون اس میں دو تاویلیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے۔ تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اور دوسری یہ ہے : مراد یہ ہے کہ تم اس کی صنعت و کاریگری کے آثار دیکھو کیونکہ انہیں دیکھنا شکر تک پہنچا دیتا ہے۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اڑتے رہتے) ہیں ؟ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

آیت نمبر 79 قولہ تعالیٰ : الم یرو الی الطیر مسخرت فی جو السماء ما یمسکھن الا اللہ یحییٰ بن وثاب، اعمش، ابن عامر، حمزہ اور یعقوب نے تروا تا کے ساتھ صیغہ خطاب کے ساتھ پڑھا ہے، اور ابوعبید نے اسے پسند کیا ہے۔ اور باقیوں نے خبر کے طور پر یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ مسخرت یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطیع و فرمانبردار بن کر ؛ یہ کلبی نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مسخرت کا مفہوم ہے تمہارے منافع کے لئے مطیع و فرمانبردار بن کر (اڑ رہے ہیں) ۔ فی جو السمآء، الجو سے مراد وہ فضا ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے اور فضا کی اضافت آسمان کی طرف کی اس لئے کہ وہ زمین سے بلند ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : مسخرت میں مسخر پر دلیل ہے جس نے انہیں مطیع و فرمانبردار بنایا ہے اور مدبر پر دلیل ہے جس نے انہیں تصرف کی قدرت دی ہے۔ ما یمسکھن الا اللہ یعنی پروں کو بند کرنے، انہیں کھولنے اور صف بندی کی حالت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے انہیں کوئی چیز تھامے ہوئے نہیں ہے۔ ان کے لئے واضح فرما دیا کہ وہ ان (پرندوں) سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کیسا خوبصورت استدلال کرسکتے ہیں۔ ان فی ذلک لایت بیشک اس میں علامات، سامان عبرت اور کھلے دلائل ہیں۔ لقوم یؤمنون ان لوگوں کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس دین کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں جسے لے کر اس کے رسل (علیہم السلام) تشریف لائے۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لئے ڈیرے بنائے جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام لاتے ہو۔ اور ان کی اون اور ریشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

آیت نمبر 80 اس میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : جعل لکم اس کا معنی صیر ہے۔ اور ہر وہ شے جو تجھ پر بلند ہو اور تجھے سایہ کرے تو وہ سقف (چھت) اور سماء ہے، اور ہر وہ شے جو تیرے نیچے ہو وہ ارض (زمین) ہے، اور ہر وہ جو تجھے چاروں جہتوں سے ڈھانپ لے وہ دیوار ہے۔ اور جب یہ باہم منظم ہوجائیں اور آپس میں مل جائیں تو وہ بیت (گھر، کمرہ) کہلاتا ہے۔ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار ہے جو لوگوں پر گھروں میں ہیں، پس پہلے شہری گھروں کا ذکر کیا اور یہ وہ ہیں جو طویل اقامت کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ اور قولہ تعالیٰ : سکنا یعنی تم ان میں سکونت اختیار کرتے ہو اور تمہارے اعضائے بدن حرکت سے راحت و سکون پاتے ہیں۔ اور کبھی ان میں متحرک و مضطرب رہتے ہیں اور ان سے باہر سکون پاتے ہیں، مگر قول کا اطلاق غالب صورت حال پر ہے۔ اور اسے بھی جملہ نعمتوں میں ہی شمار کیا ہے کیونکہ اگر وہ چاہتا تو بندے کو ایسی حالت میں پیدا کرتا کہ وہ ہمیشہ مضطرب اور متحرک رہتا جیسا کہ افلاک تو وہ یقیناً ایسا ہی ہوتا جیسے اللہ تعالیٰ تخلیق فرماتا اور چاہتا، اور اگر وہ اسے ساکن پیدا کرتا جیسا کہ زمین تو وہ یقیناً ایسا ہی ہوتا جیسے وہ پیدا کرتا اور ارادہ فرماتا، لیکن اس نے اس کی تخلیق اس انداز سے فرمائی ہے کہ یہ دونوں اعتبار سے تصرف کرسکتا ہے، اور اس کی حالت دونوں حالتوں کے درمیان بدلتی رہتی ہے، اور یہ اسے جس حال اور کیفیت پر اور جہاں چاہے لوٹا سکتا ہے۔ اور السکن مصدر ہے اس کے ساتھ واحد اور جمع کی صفت لگائی جاسکتی ہے۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے ان گھروں کا ذکر فرمایا جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2: پس فرمایا : وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا یعنی چمڑوں سے اس نے تمہارے لئے گھر بنائے ہیں۔ بیوتا گھروں سے مراد خیمے اور قبے وغیرہ ہیں جنہیں اٹھانا دوران سفر تم پر آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ یوم ظعنکم۔ الظعن سے مراد گھاس کی تلاش میں جنگل کی طرف چلنا اور بادیہ نشین کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے۔ اسی معنی میں عشرہ کا قول ہے : ظعن الذین فراقھم أتوقع وجری بینھم الغراب الابقع اور الظعن کا معنی ہودج بھی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : ألاھل ھاجک الأظعان إذ بانوا وإذا جاءت یوشک البین غربان اور اسے عین کے سکون اور فتحہ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے جیسا کہ الشعر اور الشعر۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ چمڑے، بالوں اور صوف کے خیموں سبھی کو شامل ہو، کیونکہ یہ سب جانوروں کی جلد اور کھال سے ہیں، کیونکہ بال اور اون اسی کھال میں ہی ثابت ہوتے ہیں ؛ اس طرف ابن سلام گئے ہیں۔ اور یہ بہت اچھا احتمال ہے، اور قول باری تعالیٰ : ومن اصوافھا ابتدائے کلام ہو، گویا کہ یہ فرمایا اس نے أثاث (سازوسامان) بنایا مراد لباس اور بستر وغیرہ ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : أھاجتک الظعائن یوم بانوا بذی الذی الجمیل من الأثاث اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ قول باری تعالیٰ : من جلود الانعام سے مراد صرف چمڑے کے گھر (خیمے) ہوں جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے۔ اور اس کا قول : ومن اصوافھا کا اس کے قول من جلود الانعام پر عطف ہو، یعنی اس نے صوف کے بھی گھر (خیمے) بنائے۔ علامہ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ وہ امر اور شے ہے جو ان علاقوں میں عام اور پھیلا ہوا تھا، اور ہمارے شہر اس سے دور ہیں، پس ہمارے پاس خیمے صرف کتان اور صوف کے بنائے جائے ہیں، اور حضور نبی مکرم ﷺ کا خیمہ بھی چمڑے کا تھا۔ اور تیرے لئے طائف کا چمڑا قیمت میں مہنگا ہونے، بناوٹ میں اعلیٰ ہونے اور دکھائی دینے میں حسین ہونے کے اعتبار سے کافی ہے، اور آپ ﷺ نے اسے خوشحالی اور دولتمندی شمار کیا ہے اور نہ اس میں اسراف اور فضول خرچی دیکھی ہے، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں میں سے شمار کیا ہے اور اس سے استفادہ کی اجازت دی ہے، اور اس کی منفعت کی وجوہ مثلاً اس میں (چیزوں کو) چھپانا اور اس سے سایہ حاصل کرنا وہ ہیں جن سے جنس انسان نکلنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور جو عادت جاریہ ہے اس میں سے عجیب یہ ہے کہ میں نے بعض مصنوعی غافل زاہدوں کی بعض محدثیں کے ساتھ مل کر ملاقات کی۔ پس ہم کتان کے خیمے میں اس کے پاس گئے تو میرے محدث ساتھی نے اسے پیشکش کی کہ وہ اسے اٹھا کر بطور مہمان اس کے گھر آجائے، اور کہا : بیشک یہ ایسی جگہ ہے جہاں گرمی زیادہ پڑتی ہے اور گھر آپ کے لئے آرام دہ ہوگا اور میرا دل بھی آپ کے بارے میں مطمئن اور خوش ہوگا۔ تو اس نے جواب دیا : ہمارے لیے یہ خمیہ بہت ہے، اور ہماری صنف میں بےوقعت چیز کو اپنایا جاتا ہے۔ تو میں نے کہا : ایسا نہیں جیسا تم نے گمان کیا ہے۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ کے لئے طائف کے چمڑے کا خیمہ تھا حالانکہ زہاد کے رئیس اور سرخیل تھے آپ سفر میں اسے ساتھ رکھتے تھے اور اس سے سایہ حاصل کرتے تھے، پس وہ مبہوت ہوگیا، اور میں نے اسے اپنے مقام پر عاجز اور تھکا ہوا دیکھا تو میں نے اسے اپنے ساتھی سمیت چھوڑ دیا اور اس سے نکل گیا۔ مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : ومن اصوافھا واوبارھا واشعارھا اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بھیڑوں کی صوف، اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دی ہے، جیسا کہ اس نے ہڈیوں میں اجازت عطا کی ہے، اور یہ ان کو ذبح کرنا اور ان کا گا شت کھانا ہے، اور روئی اور کتان کا ذکر نہیں کیا کیونکہ بلاد عرب میں وہ اس کے مخاطب نہیں ہوسکتے، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کو شمار کیا جن کے ساتھ ان پر انعام فرمایا، اور انہیں چیزوں میں انہیں مخاطب بنایا گیا جنہیں وہ اپنی فہم و فراست کے ساتھ پہنچانتے تھے، لیکن جو چیز بھی ان کے قائم مقام اور ان کی نائب ہوگی پس وہ استعمال اور نعمت میں ان کے محل میں داخل ہوگی اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے : وینزل من السمآء من جمال فیھا من برد (النور :43) (اور اتارتا ہے اللہ تعالیٰ آسمان سے برف جو پہاڑوں کی طرح ہوتی ہے) ۔ پس انہیں برد (اولے) کے ساتھ خطاب کیا کیونکہ وہ انہیں اپنے پاس کثرت سے نازل ہونے کے سبب پہچانتے تھے، اور ثلج (برف) کے ذکر سے سکوت اختیار فرمایا، کیونکہ یہ ان کے شہروں اور علاقوں میں نہ تھی، حالانکہ یہ بھی اپنے وصف اور منفعت میں اس (برد) کی مثل ہے، حالانکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے طہارت کے بیان میں آلہ تطہیر کے طور پر ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ فرمایا ہے : اللھم اغلسنی بماء وثلج وبرد (اے اللہ ! مجھے پانی، برف اور اولوں کے ساتھ طہارت عطا کر دے) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الثلج (برف) سفید رنگ کی شے ہے جو آسمان سے اترتی ہے اور من بےا سے کبھی نہیں دیکھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک روئی اور کتان کے ذکر کو چھوڑنا بلاشبہ یہ خوشحالی اور دولتمندی کے اظہار سے اعراض ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے صالح اور نیک بندوں کا لباس صوف (اون) ہے اور یہ محل نظر ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یواری سواتکم (الاعراف : 26) (اے اولاد آدم ! بیشک اتارا ہم نے تم پر لباس جو ڈھانپتا ہے تمہاری شرمگاہوں کو) اس کا بیان سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ اور وہاں فرمایا : جعل لکم سرابیل اور لفظ سرابیل میں روئی اور کتان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اثاثا خلیل نے کہا ہے : مراد وہ سازوسامان ہے جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا ہو، یہ أث سے ماخوذ ہے جبکہ وہ زیادہ اور کثیر ہو۔ شاعر نے کہا : وفرع یزین المتن أسود فاحم أثیث کقنو النخلۃ المتعثکل حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اثاثا سے مراد کپڑے ہیں۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے اور یہ آیت اس معنی کو متضمن ہے کہ صوف، اون اور بالوں سے ہر حال میں نفع حاصل کرنا جائز ہے اسی لئے ہمارے اصحاب نے کہا ہے : مردار کی صوف اور اسکے بال پاک ہیں ان ہر حال میں نفع اٹھانا جائز ہے۔ اور اس خوف سے اسے دھو ڈالا جائے گا کہ اس کے ساتھ کوئی میل کچیل یا گندگی وغیرہ لگی ہوئی ہو۔ اور اسی طرح حضرت ام سلمہ ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” مردار کی کھال کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جب اس کی دباغت کردی جائے اور اس کی اون اور اس کے بالوں میں کوئی حرج نہیں جب انہیں دھوڈالا جائے “۔ کیونکہ یہ ان میں سے ہیں جن میں موت داخل نہیں ہوتی، برابر ہے کہ وہ ان جانوروں کے بال ہوں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے یا ان کے جن کا نہیں کھایا جاتا، جیسا کہ انسان اور خنزیر کے بال، کیونکہ یہ سب طاہر اور پاک ہیں ؛ یہی امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے، لیکن انہوں نے ہم سے یہ زائد بیان کیا ہے کہ سینگ، دانت اور ہڈیاں یہ بالوں کی مثل ہیں ؛ فرمایا : چونکہ یہ تمام اشیاء وہ ہیں جن میں روح نہیں ہوتی اس لئے حیوان کی موت کے سبب وہ جنس اور پلید نہیں ہوتیں۔ اور حضرت حسن بصری (رح)، لیث بن سعد اور امام اوزاعی (رح) نے کہا ہے : بیشک بال سارے کے سارے نجس اور پلید ہیں لیکن یہ دھونے کے ساتھ پاک ہوجاتے ہیں۔ اور امام شافعی (رح) سے تین روایتیں ہیں : (1) یہ پاک ہیں موت کے سبب پلید نہیں ہوتے۔ (2) نجس اور ناپاک ہوتے ہیں۔ (3) انسان اور دوسروں کے بالوں میں فرق ہے، پس انسان کے بال پاک ہیں اور اس کے سوا دوسروں کے بال ناپاک ہیں۔ اور ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کے ارشاد : ومن اصوافھا الآیہ کا عام ہونا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ہے کہ ہمارے لئے ان سے انتقاع کو جائز قرار دیا ہے، اور مردار کے بالوں کو ذبح شدہ جانور کے بالوں سے خاص نہیں کیا ہے، پس یہ حکم عام ہی رہے گا مگر یہ کہ کوئی دلیل اس سے مانع ہو۔ اور یہ بھی کہ اصل یہ ہے کہ موت سے پہلے بالاجماع یہ پاک ہیں، پس جس کا گمان یہ ہے کہ یہ (موت کے ساتھ) نجاست کی طرف منتقل ہوگئے ہیں تو دلیل اسی پر ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ قولہ تعالیٰ : حرمت علیکم المیتۃ (المائدہ :3) (تم پر مراد حرام کیا گیا ہے) پورے بدن سے عبارت ہے۔ تو ہم کہیں گے : ہم اسے ان دلائل کے ساتھ خاص کرتے ہیں جو ہم نے ذکر کئے ہیں، کیونکہ یہ تو صوف کے ذکر میں بطور نص ہے اور تمہاری بیان کردہ آیت میں اس کا ذکر صراحۃً موجود نہیں ہے، پس ہماری دلیل اولیٰ اور ارجح ہوئی۔ واللہ اعلم۔ اور شیخ الا مام ابو اسحاق امام الشا فعیہ بغد اد نے اس پر یہ تعویل کی ہے کہ پیدا ئشی طور پر بال حیوان کا جزء متصل ہے، پس وہ اس کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتے ہیں اور دیگر تمام اجزاء کی طرح اس کی موت کے ساتھ وہ بھی نجس اور پلید ہوتے ہیں۔ تو جواب یہ دیا گیا ہے : بیشک بڑھنا اور نمو پانا یہ حیات پر دلیل نہیں ہے، کیونکہ نباتات بڑھتی ہیں لیکن وہ زندہ نہیں۔ جب انہوں نے متصل نشوونما پر محمول کرتے ہوئے ان کی زندگی پر استدلال کیا ہے تو ہم نے انہیں ان کی علیحدگی اور جدائی پر محمول کیا ہے تو انہیں اکھیڑنا اس عدم احساس پر دلالت کرتا ہے جو حیات نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اور رہا وہ جو احناف نے ذکر کیا ہے کہ ہڈیاں، دانت اور سینگ بالوں کی مثل ہیں، تو ہمارے نزدیک مشہور قول یہ ہے کہ وہ گوشت کی طرح نجس ہیں۔ اور ابن وہب (رح) نے امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کی مثل کہا ہے۔ اور ہمارے لئے ایک تیسرا قول بھی ہے۔ کیا سینگوں اور کھروں کی اطراف (کنارے) ان کی جڑوں کے ساتھ یا بالوں کے ساتھ ملائی جائیں گی ؟ تو اس بارے میں بھی دو قول ہیں۔ اور اسی طرح پروں کے بال ان کا حکم بالوں کے حکم کی مثل ہے، ان کی ہڈیوں کا حکم اس کے حکم کی مثل ہے۔ اور ہماری دلیل حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے : ” تم مردار کی کسی شے سے نفع حاصل نہ کرو “۔ اور یہ اس بارے میں اور اس کے ہر جز کے بارے میں عام ہے، سوائے اس کے جس پر دلیل قائم ہوجائے) اور اس پر دلیل قاطع اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : قال من یحی العظام وھی رمیم۔ (یسین) (گستاخ) کہتا ہے ! جی ! کون زندہ کرسکتا ہے ہڈیوں کو جب وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں) اور مزید فرمایا : وانظر الی العظام کیف ننشزھا (البقرہ : 259) (اور دیکھ ان ہڈیوں کو کہ ہم کیسے جوڑتے ہیں انہیں) ۔ اور فرمایا : فکسونا العظم لحما (المومنون : 14) (پھر ہم نے پہنا دیا ان ہڈیوں کو گوشت) اور مزید فرمایا : ءاذا کنا عظاما نخرۃ۔ (النازعات) (یعنی) جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے) پس اصل یہ ہڈیاں ہی ہیں، اور ان میں روح اور حیات اسی طرح ہیں جس طرح گوشت اور جلد میں ہیں۔ اور عبد اللہ بن عکیم کی حدیث میں ہے : ” تم مردار کی کھال سے نفع نہ اٹھاؤ اور نہ اس کے پٹھوں سے “۔ اور اگر کہا جائے : تحقیق صحیح روایت میں ثابت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت میمونہ ؓ کی بکری کے بارے فرمایا : ” کیا تم نے اس کی جلد سے نفع حاصل نہیں کیا ؟ “ تو صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بلاشبہ وہ تو مردار ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ اسے کھانا حرام ہے “۔ اور ہڈی کھائی نہیں جاتی۔ تو ہم کہیں گے : ہڈی کھائی جاتی ہے، بالخصوص دودھ پینے والے بکری کے بچے، ایک سال کے بکری کے بچے، اور پرندوں کی ہڈیاں، اور بڑوں کی ہڈی کو بھونا جاتا ہے اور کھایا جاتا ہے۔ اور جو کچھ ہم نے اس سے پہلے ذکر کیا وہ سب ہڈیوں میں حیات کے پائے جانے پر دلالت کرتا ہے، اور جو شے حیات کے سبب پاک ہو اور ذبح کرنے کے سبب وہ مباح سمجھی جاتی تو موت کے سبب وہ نجس اور پلید ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 4: قولہ تعالیٰ : من جلود الانعام یہ زندہ اور مردہ کی جلد کے بارے میں عام ہے، پس مردار کے چمڑے سے نفع حاصل کرنا جائز ہے اگرچہ اس کی دباغت نہ بھی کی جائے۔ اور یہی ابن شہاب زہری اور لیث بن سعد نے کہا ہے۔ امام طحاوی (رح) نے کہا ہے : ہم نے لیث کے سوا فقہاء میں سے کسی کو نہیں پایا جس نے مردار کی کھال کو دباغت سے قبل بیچنا جائز قرار دیا ہو۔ ابو عمر نے کہا ہے : فقہاء سے مراد تا بعین کے بعد امصار کے ائمہ فتویٰ ہیں، اور رہے ابن شہاب (رح) زہری تو یہ ان سے صحیح ہے، اور یہ وہ قول ہے جس کا جمہور اہل علم نے انکار کیا ہے۔ اور دونوں سے اس قول کے خلاف بھی مروی ہے، اور پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں کہ دار قطنی نے اپنی سنن میں یحییٰ بن ایوب کی حدیث یونس سے اور عقیل کی زہری سے، بقیہ کی حدیث زبیدی سے، محمد بن کثیر عبدی اور ابو سلمہ منقری کی حدیث سلیمان بن کثیر سے اور انہوں نے زہری سے بیان کی ہیں، اور ان کے آخر میں کہا : یہ اسانید صحاح ہیں۔ مسئلہ نمبر 5: مردار کی جلد کی جب دباغت کردی جائے تو علماء کے مابین اختلاف ہے کیا وہ پاک ہوگی یا نہیں ؟ ابن عبد الحکیم نے امام مالک (رح) سے جو ذکر کیا ہے وہ ابن شہاب کے مذہب کے ساتھ اس میں مشابہت رکھتا ہے۔ اسے ابن خویز منداد نے اپنی کتاب میں ابن عبد الحکم سے بھی ذکر کیا ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا : اور یہی زہری اور لیث کا قول ہے۔ انہوں نے کہا : امام مالک (رح) کا ظاہر مذہب وہ ہے جو ابن عبد الحکم نے ذکر کیا ہے، اور وہ یہ کہ دباغت مردار کی کھال کو پاک نہیں کرتی، لیکن خشک اشیاء میں اس سے نفع اٹھانا مباح ہوتا ہے، اور اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ اس میں ڈال کر کوئی چیز کھائی جائے گی، اور ” مدونہ “ میں ابن قاسم نے کہا ہے : جس نے مردار کی غیر مدبوغ کھال غصب کی پھر اس نے اسے ضائع کردیا تو اس پر اس کی قیمت ہوگی۔ اور انہوں نے یہ بیان کیا کہ یہ امام مالک (رح) کا قول ہے۔ اور ابو الفرض نے ذکر کیا ہے کہ امام مالک (رح) نے کہا ہے : جس نے کسی آدمی کے مردار کی غیر موبوغ کھال غصب کرلی تو اس پر کوئی شی نہ ہوگی۔ اسماعیل نے کہا ہے : مگر یہ کہ وہ مجوسی کا ہو۔ اور ابن وہب اور ابن عبد الحکم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ اس کی بیع جائز ہے، اور یہ ہر مردار کی جلدی کے بارے میں ہے سوائے اکیلے خنزیر کے، کیونکہ ذبح کرنا اس میں کوئی عمل نہیں کرتا، تو پھر دباغت بدرجہ اولیٰ عمل نہیں کرے گی۔ ابو عمر نے کہا ہے : ہر وہ جلد جس کو ذبح کیا جائے اس کا استعمال وضو اور اس کے سوا کے لئے جائز ہے۔ اور امام مالک (رح) دباغت کے بعد مردار کی کھال سے بنے ہوئے برتن میں وضو کرنا مکروہ قرار دیتے ہیں۔ اس بارے میں ان کا قول مختلف ہے، اور ایک بار انہوں نے کہا : بیشک انہوں نے اسے مکروہ نہیں قرار دیا مگر صرف اپنے حق میں۔ اور اس پر نماز پڑھنا اور اس کو فروخت کرنا مکروہ ہے، اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت نے اس میں آپ کی اتباع کی ہے : اور رہے اکثر اہل مدینہ ! تو وہ اس کی اباحت کے قائل ہیں اور اس کی اجازت دیتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس چمڑے کو بھی رنگ دیا گیا تو وہ پاک ہوجائے گا “۔ اکثر اہل حجاز اور عراق کے اہل فقہ و حدیث اسی مذہب پر ہیں اور یہی ابن وہب کی پسند ہے۔ مسئلہ نمبر 6: امام احمد بن حنبل ؓ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مردار کی کھال سے کسی شی میں انتفاع جائز نہیں ہے اگرچہ اس کی دباغت کی جائے، کیونکہ وہ مردار کے گوشت کی مانند ہے اور وہ روایات جو دباغت کے بعد نفع حاصل کرنے کے متعلق ہیں وہ آپ کے اس قول کو رد کرتی ہیں۔ اور انہوں نے عبداللہ بن عکیم کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا : ہم پر رسول اللہ ﷺ کا ایک خط پڑھا گیا جو ارض جہینہ کے بارے تھا اور میں جو ان بچہ تھا : ” خبردار ! تم مردار کے چمڑے سے نفع نہ اٹھاؤ اور نہ پٹھوں سے “۔ اور ایک روایت میں ہے : یہ آپ کے وصال سے ایک مہینہ پہلے کا ہے۔ اسے قاسم بن مخیمرہ نے عبد اللہ بن عکیم سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا : ہمیں ہمارے مشائخ نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ان کی طرف لکھا۔ داؤد بن علی نے کہا ہے : میں نے یحییٰ بن معین سے اس حدیث کے بارے پوچھا تو انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا اور کہا : لیس بشئ (یہ کوئی شی نہیں) بلاشبہ وہ کہتے ہیں اشیاخ نے مجھے بتایا، ابو عمر نے کہا ہے : اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو تو پھر یہ احتمال ہے کہ یہ ان احادیث کے مخالف ہو جو حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ اور حضرت سلمہ بن محبق ؓ وغیرہ سے مروی ہیں، کیونکہ یہ جائز ہے کہ ابن عکیم کی حدیث کا معنی یہ ہو ” کہ تم مردار کے چمڑے سے دباغت سے پہلے نفع نہ اٹھاؤ “۔ اور جب یہ احتمال ہے کہ یہ مخالف نہیں تو پھر ہمارے لئے مناسب نہیں کہ ہم اسے مخالف بنائیں، اور ہم پر لازم ہے کہ ہم دونوں خبروں کے مطابق عمل کریں جہاں تک ممکن ہو، اور عبد اللہ بن عکیم کی حدیث اگرچہ حضور نبی مکرم ﷺ کے وصال سے ایک مہینہ قبل کی ہے جیسا کہ خبر میں موجود ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت میمونہ ؓ کا قصہ اور آپ ﷺ سے حضرت ابن عباس ؓ کا سماع ” کہ جس چمڑے کو رنگ دیا جائے وہ پاک ہوگیا “۔ آپ کے وصال سے ایک ہفتہ یا اس سے بھی کم وقت پہلے ہو۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 7: ہمارے نزدیک مشہور یہ ہے کہ خنزیر کی جلد اس حدیث میں داخل نہیں اور نہ عموم اسے شامل ہے، اور اسی طرح کتا بھی امام شافعی (رح) کے نزدیک ہے۔ اور امام اوزاعی اور ابو ثور کے نزدیک یہ ہے کہ دباغت کے ساتھ صرف ان جانوروں کی جلد پاک ہوتی ہے جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ اور معن بن عیسیٰ نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ ان سے خنزیر کی جلد کے بارے میں پوچھا گیا جب اس کی دباغت کرلی جائے تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔ ابن وضاح نے کہا ہے : میں نے سحنون کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح محمد بن عبد الحکم اور داؤد بن علی اور ان کے اصحاب نے کہا ہے، کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ” جو چمڑا بھی رنگ دیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے “۔ ابو عمر نے کہا ہے : یہ ارشاد احتمال رکھتا ہے کہ آپ نے اس قول سے بالعموم وہ چمڑے مراد لئے ہوں جن سے نفع حاصل کرنا معبود اور مروج ہے، تو جہاں تک خنزیر کا تعلق ہے تو وہ اس معنی میں داخل نہیں کیونکہ اس کی جلد سے انتفاع معبود نہیں، کیونکہ اس میں ذبح کرنا بھی کوئی عمل نہیں کرتا۔ اور دوسری دلیل وہ ہے جو نصر بن شمیل نے بیان کی ہے : بیشک اھاب (چمڑا) کا اطلاق گائے، بکری اور اونٹ کی جلد پر ہوتا ہے اور ان کے سوا جو بھی ہیں ان کی کھال کو جلد کہا جاتا ہے نہ کہ اھاب۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : کتے اور ان جانوروں کی جلد جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا اس سے انتفاع بھی غیر معہود ہے لہٰذا وہ پاک نہ ہوگی۔ تحقیق آپ ﷺ نے فرمایا : ” ورندوں میں ذی ناب کو کھانا حرام ہے “۔ پس ان کو ذبح کرنا بھی ذبح کرنا نہیں ہے (یعنی یہ ان میں کوئی اثر نہیں کرتا) جیسا کہ خنزیر میں ذبح کرنا کوئی اثر نہیں کرتا۔ اور نسائی نے حضرت مقدام بن معد یکرب سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے ریشم، سونے اور جلدوں کو زینوں پر اور کجاوں میں بچھانے سے منع فرمایا ہے۔ مسئلہ نمبر 8: فقہاء نے اس دباغت میں اختلاف کیا ہے جس کے ساتھ مردار کی کھالیں پاک ہوجاتی ہیں کہ وہ کیا ہے ؟ پس اصحاب مالک (رح) نے کہا ہے اور یہی آپ کا مشہور مذہب ہے ہر وہ شے جس سے جلد کی دباغت کردی جائے مثلا نمک، بیری کے پتے، یا پھٹکڑی کی مثل نمک یا علاوہ ازیں کوئی شے تو اس سے انتفاع جائز ہے، اسی طرح امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب نے بھی کہا ہے، اور یہی داؤد کا قول ہے۔ اس مسئلہ میں امام شافعی (رح) کے دو قول ہیں : ان میں سے ایک تو یہی ہے، اور دوسرا قول یہ ہے : پھٹکڑی کی مثل نمک اور بیری کے پتوں کے سوا کوئی شے اسے پاک نہیں کرسکتی، کیونکہ یہ دباغت حضور نبی مکرم ﷺ کے عہد میں معہود تھی، اور اسی کو خطابی نے نقل کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ وہ روایت جسے نسائی نے حضرت میمونہ زوج النبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے وہ گھوڑے کی مثل اپنی ایک بکری کھینچ کرلے جا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : ” کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے “۔ انہوں نے عرض کی : یہ مردار ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” پانی اور بیری کے پتے اسے پاک کردیتے ہیں “۔ مسئلہ نمبر 9: قولہ تعالیٰ : اثاثا، أثاث سے مراد گھر کا سازو سامان ہے، اس کا واحد أثاچۃ ہے ؛ یہ ابو زید انصاری کا قول ہے۔ اموی نے کہا ہے : الآثاث گھر کا سازوسامان ہے، اور اس کی جمع آثۃ اور أثث ہے۔ اور ان کے سوا دوسروں نے کہا : الأثاث سے مراد تمام قسموں کا مال ہے اور اس کے لفظوں میں اس کی کوئی واحد نہیں ہے۔ اور خلیل نے کہا ہے : اس کا اصل معنی کثرت ہے اور سامان میں سے بعض کا بعض کے ساتھ جمع ہونا ہے یہاں تک کہ وہ کثیر ہوجائے، اور اسی سے شعر أثیث ہے بمعنی کثیر۔ اور أث شعر فلان یاث اثا جب بال زیادہ ہوں اور گھنے ہوں۔ امرؤ القیس نے کہا ہے : وفرع یزین المتن أسود فاحم أثیث کقنو النخلۃ المتعثکل اور یہ بھی کہا گیا ہے : الأثاث وہ ہوتا ہے جو پہنا جاتا ہے اور بچھایا جاتا ہے۔ اور قد تاثثت جب تو أثاث بنالے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ اثاثا بمعنی مال ہے۔ اور الحین کے بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے، اور یہاں اس سے مراد ہر انسان کے اعتبار سے غیر معین وقت ہے یا تو اس کی موت کے اعتبار سے اور یا ان اشیاء کے مفقود ہونے کے اعتبار سے جو أثاث ہیں۔ اور اسی لفظ کے بارے میں شاعر کا قول ہے : أھاجتک الظعائن یوم بانوا بذی الزی الجمیل من الأثاث
Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کرتے (بھی) جو تم کو (اسلحہ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا پنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بنو۔

آیت نمبر 81 اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ظلا الظلال : اس سے مراد ہر وہ شے ہے جس سے سایہ حاصل کیا جاتا ہے چاہے وہ گھر ہوں یا درخت ہوں۔ اور قول باری تعالیٰ : مما خلق سایہ کرنے والے جمیع اشخاص کو عام ہے۔ مسئلہ نمبر 2: قولہ تعالیٰ : اکنانا الأکنان کی جمع ہے، مراد وہ جگہ ہے جو بارش اور ہوا وغیرہ سے حفاظت کرتی ہے، اور یہاں مراد وہ غاریں ہیں جو پہاڑوں میں ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں مخلوق کے لئے تیار بنایا ہے وہ ان میں پناہ لے سکتے ہیں، وہ انہیں اپنی حفاظت کا قلعہ بنا سکتے ہیں اور ان میں مخلوق سے علیحدگی اور تنہائی اختیار کرسکتے ہیں۔ اور صحیح روایت میں ہے کہ آپ ﷺ شروع شروع میں غار حرا میں جا کر عبادت کرتے تھے اور کئی کئی راتیں اس میں قیام پذیر رہتے تھے۔ الحدیث۔ اور صحیح بخاری میں ہے : رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر اپنی قوم سے تعلق توڑتے ہوئے اور اپنے دین کو دور تک پہنچانے کے لئے اپنے ساتھی حضرت ابوبکرؓ کی معیت میں نکلے یہاں تک کہ دونوں جبل ثور کی غار تک پہنچ گئے، اور تین راتیں اس میں روپوش رہے ان دونوں کے پاس رات کے وقت حضرت عبد اللہ بن ابی بکر ؓ حاضر ہوا کرتے تھے آپ جو ان آدمی تھے انتہائی تیز فہم اور سنی ہوئی بات کو فورا یاد کرلینے والے تھے اور آپ ان کے پاس سے سحری کے وقت واپس چلے جاتے اور صبح مکہ مکرمہ میں قریش کے ساتھ کرتے گویا رات وہیں تھے اور جو بات بھی سنتے جس میں ان دونوں کے بارے ناپسندیدہ بات کی جاتی آپ اسے ضرور اپنے پاس محفوظ کرلیتے یہاں تک کہ ان کے پاس اس وقت اس کی خبر لے کر آتے جب اندھیرا چھا جاتا، اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا غلام عام بن فہیرہ ریوڑ میں سے دودھ والی بکری چراتا رہتا تھا اور شام کے وقت اسے ان کے پاس لے آتا تھا جبکہ عشاء (شام) کا کچھ وقت گزر جاتا پس یہ دونوں ہستیاں بڑے سکون اور وقار سے رات گزارتے اور وہ دونوں کو بکریوں کا دودھ پیش کرتا اور وہ گرم پتھر کے ساتھ گرم کیا ہوتا تھا یہاں تک کہ پھر تاریکی میں ہی عامر بن فہیرہ انہیں لے کر وہاں سے چلا جاتا، اور تین راتوں میں سے ہر رات وہ اسی طرح کا عمل کرتا رہا۔ آگے حدیث ذکر کی اور امام بخاری (رح) اسے روایت کرنے میں مفرد ہیں۔ مسئلہ نمبر 3: قولہ تعالیٰ : وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر مراد قمیصیں اور کرتے ہیں، اور اسرابیل کی واحد سربال ہے۔ وسرابیل تقیکم باسکم اس میں مراد وہ زر رہیں ہیں تقیکم الحر مراد قمیصیں اور کرتے ہیں، اور سرابیل کی وجہ سر بال ہے۔ وسرابیل تقیکم باسکم اس میں مراد وہ زرہیں ہیں جو لوگوں کو جنگ میں محفوظ رکھتی ہیں۔ اور اس سے کعب بن زبیر کا قول ہے : شم العرانین ابطال لبوسھم من نسج داود فی الھیجا سرابیل مسئلہ نمبر 4: اگر کوئی کہنے والا کہے : کیسے فرمایا : وجعل لکم من الجبال اکنانا اور اس کے ساتھ میدان کا ذکر نہیں کیا، اور فرمایا : تقیکم الحر اور اس کے ساتھ برد (سردی) کا ذکر نہیں کیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ وہ لوگ پہاڑوں میں رہنے والے تھے اور ان کے پاس میدان نہ تھے، وہ گرمی میں رہنے والے تھے ان کے ہاں سردی نہ تھی، اس لئے ان کے لئے اس نعمت کا ذکر فرمایا جو ان کے ساتھ خاص تھی جیسا کہ انہیں صوف وغیرہ کے ذکر کے ساتھ خاص کیا، اور روئی، کتان اور برف وغیرہ کا ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں ان کے علاقوں اور شہروں میں نہیں تھیں ؛ اس کا یہ معنی عطا خراسانی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ اور بھی کہ ان میں سے ایک شے کا ذکر دوسری پر دلالت کرتا ہے۔ اور اسی کا قول بھی ہے : وما ادری اذا یمیت أرضا ارید الخیر أیھما یلینی أألخیر الذی انا أبتغیہ أم الشر الذی ھو یبتغینی مسئلہ نمبر 5: علماء نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : وسرابیل تقیکم باسکم میں اس پر دلیل موجود ہے کہ بندوں کو سامان جہاد تیار رکھنا چاہئے تاکہ وہ اس کے ساتھ دشمن کے ساتھ قتال میں مدد لے سکیں، تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ بھی زخموں سے بچنے کے لئے زرد وغیرہ پہنتے تھے اگرچہ آپ شہادت کے طالب تھے، بندے پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اس طرح شہادت کا طالب ہو کہ اپنے آپ کو موت، نیزوں کے پھلوں اور تلواروں کی ضربوں کے لئے جھکا دے، بلکہ وہ آلات جنگ پہنے تاکہ بلدوبالا ہو، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ جو چاہے گا کرے گا۔ مسئلہ نمبر 6: قولہ تعالیٰ : کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلکم تسلمون ابن محیصن اور حمید نے دو تاؤں کے ساتھ تتم اور نعمتہ کو مرفوع پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ فاعل ہے۔ اور باقیوں نے یتم یا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہے جو اس نعمت کو مکمل کرتا ہے۔ اور تسلمون حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ تسلمون تا اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں، یعنی تم زخموں سے محفوظ رہتے ہو، اور اس کی اسناد ضعیف ہے ؛ اسے عباد بن عوام نے حنظلہ سے انہوں نے شہر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور باقی تاکہ ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور اسکا معنی ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بجالاتے ہوئے اس کی معرفت اور طاعت کے لئے سر تسلیم خم کر دو اور مطیع و فرمانبردار ہوجاؤ۔ ابو عبید نے کہا ہے : قرأت عامہ ہی پسندیدہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو ہم پر اسلام کا انعام فرمایا وہ اس سے کہیں افضل ہے جس کے ساتھ اس نے زخموں سے سلامتی عطا فرمائی۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے۔

آیت نمبر 82 قولہ تعالیٰ : فان تولوا یعنی اگر وہ منہ پھیر لیں اس نظر و استدلال اور ایمان سے۔ فانما علیک البلغ یعنی آپ پر تو فقط تبلیغ کرنا، پیغام پہنچانا ہے، اور رہی ہدایت تو وہ ہمارے ذمہ ہے۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر (واقف ہو کر) ان سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔

آیت نمبر 83 قولہ تعالیٰ : یعرفون نعمت اللہ سدی نے کہا ہے : مراد حضور نبی رحمت ﷺ ہیں، یعنی وہ آپ کی نبوت کو پہچانتے ہیں۔ ثم یکرونھا اور آپ کو جھٹلاتے ہیں۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : مراد وہ نعمتیں ہیں جو اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر شمار کی ہیں، یعنی وہ پہچانتے ہیں کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں اور وہ ان کا انکار اپنے اس قول کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہ ان کے اپنے آباء و اجداد کی جانب سے وارث بنے ہیں۔ اور اسی کی مثل حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ اور عون بن عبد اللہ نے کہا ہے : یہ کسی آدمی کا یہ قول ہے اگر فلاں نہ ہوتا تو اس طرح ہوتا، اور اگر فلاں نہ ہوتا تو میں اس مصیبت میں نہ پڑتا، حالانکہ وہ یہ پہچانتے ہیں کہ نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ اور کلبی (رح) نے کہا ہے : اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان تمام نعمتوں کے بارے پہچان کرائی تو انہوں نے انہیں پہچان لیا، اور کہا : ہاں، یہ تمام کی تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں، لیکن یہ ہمارے معبودوں کی سفارش و شفاعت کے ساتھ ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں ان سے بہرہ اندوز ہونے کے سبب، اور ان پر شکر ادا نہ کرکے ان کا انکار کرتے ہیں۔ اور چھٹا احتمال یہ ہے کہ وہ انہیں شدت اور تنگی کی حالت میں پہچانتے ہیں اور پھر خوشحالی اور راحت کی حالت میں ان کا انکار کردیتے ہیں۔ اور ساتواں احتمال یہ ہے وہ انہیں اپنے اقوال کے ساتھ پہچانتے ہیں لیکن اپنے افعال و اعمال کے ساتھ ان کا انکار کرتے ہیں۔ اور آٹھواں احتمال یہ ہے وہ انہیں اپنے دلوں سے تو پہچانتے ہیں اور اپنی زبانوں کے ساتھ ان کا انکار کرتے ہیں ؛ اس کی نظیر یہ آیت ہے : وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم (النمل :14) (اور انہوں نے انکار کردیا ان کا حالانکہ یقین کرلیا تھا ان کی صداقت کا ان کے دلوں نے) واکثھم الکفرون مراد یہ ہے کہ وہ تمام کے تمام کافر ہیں۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے۔

آیت نمبر 84 قولہ تعالیٰ : ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا اس کی نظیر یہ آیت ہے : فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید (النساء : 41) اور اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ ثم لا یؤذن للذین کفروا یعنی انہیں عذر پیش کرنے اور کوئی کلام کرنے کے بارے میں اجازت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : ولا یؤذن لھم فیعتذرون۔ (المرسلات) اور یہ اس وقت ہوگا جب ان پر جہنم بند کردی جائے گی، جیسا کہ سورة الحجر کے شروع میں گزر چکا ہے اور آگے بھی آرہا ہے۔ ولاھم یستعتمون یعنی نہ ان کی رضا مندی کا مطالبہ کیا جائیگا، مراد یہ ہے کہ انہیں اس کا مکلف اور پابند نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب کو راضی کریں ؛ کیونکہ آخرت دار تکلیف نہیں ہے اور نہ انہیں دنیا کی طرف رجوع کے لئے چھوڑا جائے گا کہ وہ توبہ کرلیں۔ یہ کلمہ دراصل العتب سے ماخوذ ہے اس کا معنی ناراضگی اور خفگی کا اظہار کرنا ہے، کہا جاتا ہے : عتب علیہ یعتب جب وہ اس پر ناراضگی اور عتاب کا اظہار کرے۔ اور جب وہ اس سے مذاکرہ کرے اس کے بارے جس کی وجہ سے اس نے اس پر عتاب کیا تو اس کے لئے کہا جاتا ہے : عاتبہ، اور جب وہ تجھے خوش کرنے اور راضی کرنے کی طرف لوٹ آئے تو اس کے لئے کہا جاتا ہے : أعتب، اور اس کا اعم العتبی ہے اور اس سے مراد معتوب علیہ کا اس کی طرف رجوع کرنا ہے کہ وہ عتاب کرنے والے کو راضی اور خوش کرسکے ؛ یہ مروی نے کہا ہے۔ اور نابغہ نے کہا ہے : فإن کنت مظلوما فعبدا ظلمتہ وإن کنت ذا عتبی فمثلک لیعتب
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب ہی میں تحفیف کی جائیگی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

آیت نمبر 85 قولہ تعالیٰ : واذا را الذین ظلموا اور جب دیکھ لیں گے وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا العذاب یعنی جہنم کا عذاب اس میں داخل ہونے کا سبب۔ فلا یخفف عنھم ولا ھم ینظرون یعنی انہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی، کیونکہ وہاں ان کے لئے کوئی توبہ نہ ہوگی۔
Ayahs 16:86–87

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار ! یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ (ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) ان سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

آیت نمبر 86 تا 87 قولہ تعالیٰ : واذا را الذین اشرکوا شرکاءھم اس میں شرکاء سے مر اس ان کے لکڑی اور پتھر کے وہ بت ہیں جن کی وہ پوجا کرتے رہے ہے، اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودوں کو اٹھائے گا وہ ان کی اتباع کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ پھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ اور صحیح مسلم میں ہے : ” جو کسی شے کی پرستش کرتا رہا ہے اسے چاہئے کہ وہ اس کے پیچھے اور اس کی اتباع میں ہوجائے پس سورج کی پوجا کرنے والے سورج کے پیچھے ہوجائیں گے، چاند کی پرستش کرنے والے اس کے پیچھے ہو کائیں گے اور جو بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ ان کے پیچھے ہوجائیں گے “۔ الحدیث۔ انہوں نے اسے حضرت انس ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے، اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے : ” پس صلیب والوں کے لئے اس کی صلیب کی تمثیل اور تصاویر والوں کے لئے اس کی تصاویر کی تمثیل اور آگ والوں کے لیے اس کی آگ کی مثل بنائی جائے گی پس وہ اس شے کی اتباع کریں گے جس کی وہ پرستش اور پوجا کرتے رہے “۔ اور آگے حدیث ذکر کی۔ قالوا ربنا ھؤلاء شرکاؤنا الذین کنا ندعوا من دونک یعنی یہ وہ ہیں جنہیں ہم نے تیرا شریک بنا رکھا تھا۔ فالقوا الیھم القول انکم لکذبون یعنی وہ معبود ان باطلہ یہ قول انہیں پر ڈال دیں گے، یعنی جنہوں نے ان کی پوجا کی انہیں جھٹلاتے ہوئے وہ بول اٹھیں گے کہ وہ معبود اور الہ نہیں تھے اور نہ انہوں نے انہیں اپنی عبادت کا حکم دیا، پس اللہ تعالیٰ بتوں کو قوت گویائی عطا فرمائے گا تاکہ اس وقت کافروں کی ذلت و رسوائی کا خوب اظہار ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جن کی وہ پوجا کرتے رہے۔ والقوا الی اللہ یومئذ السلم یعنی مشرکین اس دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی عاجزی پیش کردیں گے، یعنی اس کے عذاب کی وجہ سے تابعدار ہوجائیں گے اور اس کے غلبے کی وجہ سے خضوع اور عاجزی اختیار کرلیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عابد و معبود دونوں تابعداری اختیار کرلیں گے اور اپنے بارے میں اس کے حکم کی پیروی و اطاعت کریں گے۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون یعنی ان سے وہ سب زائل ہوجائے گا جو شیطان نے ان کے لئے آراستہ و مزین کیا تھا اور وہ جو اپنے معبود باطلہ کی شفاعت کے آرزو مند اور امیدوار رہتے تھے۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لئے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔

آیت نمبر 88 قولہ تعالیٰ : الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زرنھم عذابا فوق العذاب حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا : وہ بچھو ہیں جن کی داڑھیں کھجور کے درخت کی طرح طویل ہوں گی، اور سانپ ہیں جو اونٹ کی گردن کی مثل ہوں گے، اور اژدھا ہیں گویا کہ وہ لمبی گردن والے اونٹ ہیں وہ انہیں ماریں گے (اور ان پر مسلط ہوں گے) پس یہی زیادتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے انہیں آگ سے زمہر یر کی طرف نکالا جائے گا پس وہ اس کی سخت اور شدید سردی اور ٹھنڈک کی وجہ سے آگ کی طرف بھاگیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ہم نے ان کی قیادت کرنے والوں پر ان کی اتباع کرنے والوں کی نسبت عذاب بڑھا دیا، پس دو عذابوں میں سے ایک ان کے کفر کی وجہ سے ہوگا اور دوسرا عذاب ان کے لئے دوسروں کو روکنے کی وجہ سے ہوگا۔ بما کانوا یفسدون اس وجہ سے کہ وہ دنیا میں کفر اور معصیت کے سبب فساد برپا کرتے تھے۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

آیت نمبر 89 قولہ تعالیٰ : ویوم بنعث فی کل امۃ شھیدا علیھم من انفسھم اور وہ انبیاء (علیہم السلام) ہیں، جو قیامت کے دن اپنی امتوں پر یہ شہادت دیں گے کہ بلاشبہ انہوں نے ان تک پیغام پہنچایا تھا اور انہیں ایمان کی طرف دعوت دی تھی، اور ہر زمانے میں گواہ اور شاہد موجود رہتا ہے اگرچہ وہ نبی نہ ہو۔ اور ان کے بارے میں دو قول ہیں : ایک یہ ہے کہ وہ وہ ہدایت دینے والے اور راہنمائی کرنے والے ائمہ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کے خلفاء ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ وہ علماء ہیں جن کے ساتھ اللہ نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت اور دین محفوظ فرما دیا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : پس اس بنا پر کوئی زمانہ فترت نہیں مگر اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قائل موجود رہے ہیں، جیسا قس بن ساعدہ، اور زید بن عمرو بن نفیل وہ ہے جس کے بارے حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” اسے الگ امت کے طور پر اٹھایا جائے گا “۔ سطیح اور ورقہ ابن نوفل وہ ہے جس کے بارے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” میں اسے جنت کی نہروں میں غوطہ زن ہوتے ہوئے دیکھا ہے “۔ پس یہ لوگ اور جو ان کی مثل ہیں وہ اپنے اہل زمانہ پر حجت اور ان پر گواہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور قول باری تعالیٰ : وجئنا بک شھیدا علی ھؤلآئ اس کا بیان سورة البقرہ اور النساء میں گزر چکا ہے۔ قولہ تعالیٰ : ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیء اس کی نظر یہ ہے : ما فرطنا فی الکتب من شیء (الانعام :38) اس پر بحث گزر چکی ہے وہاں دیکھ لی جائے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا : اس میں حلال و حرام کا تفصیلی بیان ہے۔