16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (وہ یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔

آیت نمبر 28 قولہ تعالیٰ : الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم یہ کفار کی صفات میں سے ہے۔ اور ظالمی انفسھم یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے ؛ ای وھم ظالمون أنفسھم یعنی درآنحالیکہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں جن انہوں نے انہیں ہلاکت کی جگہوں میں ڈال دیا۔ فاتقوا السلم یعنی تب انہوں نے سر تسلیم خم کردیا، یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا اور موت کے وقت تابعداد بن گئے اور کہنے لگے : ما کنا نعمل من سوٓء ہم تو کوئی برا کام یعنی شرک وغیرہ نہیں کیا کرتے تھے۔ پس ملائکہ انہیں کہیں گے : بلیٰ نہیں بلکہ تم تو بہت برے اعمال کیا کرتے تھے۔ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (بےشک اللہ تعالیٰ خون جانتا ہے جو اعمال تم کیا کرتے تھے) اور عکرمہ نے کہا ہے : یہ آیت مدینہ طیبہ میں ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ مکرمہ میں اسلام لائے اور انہوں نے ہجرت نہ کی، تو قریش نے انہیں بدر کی طرف بالجبر نکالا اور وہ وہاں قتل کر دئیے گئے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الذین تتوفھم الملئکۃ یعنی وہ جنہیں فرشتے ان کی ارواح قبض کرکے موت دیتے ہیں۔ ظالمی انفسھم وہ اپنے مقام میں مکہ مکرمہ رہنے اور ہجرت چھوڑنے کے سبب اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں۔ فالقوا السلم یعنی انہوں نے ان کے ساتھ نکلنے میں ان کی تابعداری کی۔ اور اس میں تین وجھیں ہیں : ایک یہ ہے کہ وہ صلح ہو، یہ اخفش نے کہا ہے۔ دوسری یہ ہے کہ تابعداری اختیار کرنا، یہ قطرب نے کہا ہے۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ خضوع ہو، یہ مقاتل نے کہا ہے۔ ما کنا نعمل من سوٓء یعنی کفر میں سے کوئی برا عمل ہم نہیں کیا کرتے تھے۔ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ تمہارے اعمال کفار کے اعمال کی طرح ہی تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک بعض مسلمانوں نے جب مومنوں کی تعداد کو کم دیکھا تو وہ مشرکوں کی طرف لوٹ گئے۔ پس یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پہلے قول کے مطابق کوئی کافر اور منافق دنیا سے نہیں جائے گا یہاں تک کہ وہ تابعداد ہوجائے گا اور سر تسلیم ختم کرلے گا، اور خضوع اختیار کرے گا اور اپنی ذلت کا اظہار کرے گا لیکن اس وقت توبہ اور کوئی ایمان انہیں فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ ارشاد فرمایا : فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوا بسانا (غاطر : 85) (پس کوئی فائدہ نہ دیا انہیں ان کے ایمان نے جب دیکھ لیا انہوں نے ہمارا عذاب) یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور سورة الانفال میں گز چکا ہے بیشک کفار ضرب اور ذلت و رسوائی کے ساتھ مرتے ہیں، اور اسی طرح سورة الانعام میں بھی ہے۔ اور ہم نے اسے کتاب ” التذکرہ “ میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

آیت نمبر 29 قولہ تعالیٰ : فادخلوا ابواب جھنم یعنی یہ ان کی موت کے وقت کہا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے لئے عذاب قبر کے بارے بشارت اور اطلاع ہے، کیونکہ یہ کافروں کے لئے جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : دوسرے درکہ والا اس تک نہیں پہنچے گا مگر پہلے درکہ میں داخل ہونے کے ساتھ پھر دوسرے اور پھر تیسرے میں آگے اسی طرح۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ ہر درکہ کا الگ دروازہ ہے، پس بعض ایک دروازے سے داخل ہوں گے اور بعض دوسرے دروازے سے۔ واللہ اعلم۔ خلدین فیھا یعنی وہ اس میں پڑے رہیں گے۔ فلیئس مثوی یعنی کتنا برا مقام ہے۔ المتکبرین ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ایمان لانے سے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے تکبر کیا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنے قول حق کے ساتھ ان کی وضاحت کی : انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون۔ (الصافات) (کفار کا یہ حال ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں کوئی معبود اللہ کے سوا تو یہ تکبر کرنے لگتے ہیں) ۔
Ayahs 16:30–32

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) جو لوگ نیکو کار ہیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں) وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلا دیتا ہے۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے انکی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔

آیت نمبر 30 تا 32 قولہ تعالیٰ : وقیل للذین اتقوا ماذا انزل ربکم قالوا خیرا یعنی انہوں نے کہا : سراپا خیر نازل کیا اور کلام مکمل ہوگئی۔ اور ماذا اس بنا پر واحد اسم ہے۔ عرب سے کوئی آدمی ایام حج میں مکہ مکرمہ آتا تھا اور مشرکوں سے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے مکیں پوچھتا تو وہ کہتے : ساحر ہے یا شاعر ہے یا کاہن ہے یا مجنون ہے۔ اور وہ مومنوں سے پوچھتا تو وہ کہتے : اللہ تعالیٰ نے ان پر خیر اور ہدایت نازل کی ہے، اور اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک قیامت کے دن یہ اہل ایمان کو کہا جائے گا۔ ثعلبی (رح) نے کہا ہے : پس اگر کہا جائے : اس قول باری تعالیٰ : اساطیر الاولین میں جواب مرفوع اور اس قول : خیرا میں منصوب کیوں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین تنزیل قرآن کے ساتھ ایمان نہیں لائے، تو گویا انہوں نے کہا : وہ جو کچھ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کہتے ہیں وہ پہلے لوگوں کے من گھڑت قصے ہیں۔ اور مومنین نزول کے ساتھ ایمان لائے پس انہوں نے کہا : اس نے سراپا خیر نازل کیا۔ اور اعراب کے اعتبار سے اسکے معنی کا یہی مفہوم ہے، والحمدللہ۔ قولہ تعالیٰ : للذین احسنوا فی ھذا الدنیا حسنۃ کہا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں سے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ من جملہ ان لوگوں کے کلام سے ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ اور یہاں حسنۃ سے مراد جنت ہے، یعنی جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کی تو اس کے لئے کل (قیامت کے دن) جنت ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : للذین احسنوا یعنی ان کے لئے آج دنیا میں نصرت و فتح اور غنیمت جیسی بھلائی ہے۔ ولدار الاخرۃ خیر یعنی آخرت میں جو وہ جنت کا ثواب پائیں گے وہ دار دنیا سے بہتر اور اعظم ہوگا، دنیا کے فناہ ہونے کی وجہ سے اور آخرت کے باقی رہنے کی وجہ سے۔ ولنعم دار المتقین اس میں دو وجہیں ہیں : حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اور پرہیز گاروں کا بہت اچھا اور عمدہ گھر دنیا ہے، کیونکہ انہوں نے اس میں عمل کرکے آخرت کا ثواب کمایا اور وہ جنت میں داخل ہوئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور پرہیز گاروں کا بہت ہی عمدہ گھر آخرت ہے ؛ اور یہی جمہور کا قول ہے۔ اور اس بنا پر جنت عدن الدار سے بدل ہوگا، پس اسی وجہ سے یہ مرفوع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اس تقدیر پر مرفوع ہے ہی جنات عدن پس یہ قول باری تعالیٰ : دار المتقین کے لئے بیان ہوگا۔ یا یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہوگا، اور تقدیر عبارت ہوگی : جنات عدن نعم دار المتقین۔ یدخلونھا یہ صفت کے محل میں ہے۔ بمعنی مدخولۃ (جس میں داخل ہوا جائے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : جنت مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور اس کی خبر یدخلونھا ہے اور اسی بنا پر حسن کا قول بیان کیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ تجری من تحتھا الانھر اس کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ لھم فیھا ما یشآءون یعنی ان کے لئے اس میں ہر وہ شے ہوگی جس کی وہ تمنا اور خواہش کریں گے۔ کذلک تجزی اللہ المتقین یعنی اسی قسم کی جزا اللہ تعالیٰ متقین کو عطا فرماتا ہے۔ الذین تتوفھم الملئکۃ طیبین اعمش اور حمزہ نے دونوں مقامات پر یا کے ساتھ یتوفھم المئکۃ پڑھا ہے، اور اسے ہی ابو عبیدہ نے اختیار کیا ہے، کیونکہ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : بیشک قریش کا گمان ہے کہ ملائکہ مونث ہیں پس تم انہیں مذکر ذکر کرو۔ اور باقیوں نے تا کے ساتھ قرأت کی ہے، کیونکہ اس سے مراد ملائکہ کی جماعت ہے۔ اور طیبین میں چھ اقوال ہیں : (1) طیبین درآنحالیکہ وہ شرک سے پاک ہیں۔ (2) وہ صالحین ہیں۔ (3) وہ اپنے افعال اور اپنے اقوال کا تزکیہ کرنے والے ہیں، انہیں پاک کرنے والے ہیں۔ (4) اپنے آپ کو خوش کرنے والے ہیں اس پر اعتماد اور یقین کرتے ہوئے جو وہ اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب حاصل کر رہے ہیں۔ (5) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ساتھ اپنے نفوس کو پاک کرنے والے ہیں۔ (6) طیبین خوش ہو رہے ہیں کہ ان کی وفات اچھی اور آسان ہوئی اس میں کوئی مشکل اور دکھ درد نہیں، بخلاف اس کے کہ جب فرشتے کسی کافر اور اوباش کی روح قبض کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ یقولون سلم علیکم یہ دو دج ہوں کا احتمال رکھتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سلام ان کے لئے وفات کے بارے میں ڈر ادا ہو۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ان کے لئے جنت کی بشارت ہو، کیونکہ سلام امان ہے۔ اور ابن المبارک نے ذکر کیا ہے انہوں نے کہا : مجھے حیوہ نے بیان کیا انہوں نے کہا مجھے ابو صخر نے محمد بن کعب قرظی سے خبر دی کہ انہوں نے بیان کیا : جب بندہ مومن کی سانس (مراد روح ہے) جمع ہوجاتی ہے تو حضرت ملک الموت (علیہ السلام) اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں : السلام علیک ولی اللہ، اللہ یقرأ علیک السلام (تجھ پر سلام ہو اے اللہ تعالیٰ کے دوست، اللہ تجھ پر سلام فرما رہا ہے، پھر وہ اس آیت کے ساتھ نکالتا ہے الذین تتوفھم الملئکۃ طیبین یقولون سلم علیکم۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : جب حضرت ملک الموت (علیہ السلام) آتے ہیں اور وہ بندہ مومن کی روح قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں : تیرا رب تجھے سلام فرماتا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بیشک بندہ مومن اپنے بعد اپنی اولاد کی اصلاح سے خوش ہوتا ہے۔ اور اسکی آنکھ اس سے ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اور ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں کیا ہے۔ اور وہاں ہم نے اس بارے میں آنے والی احادیث بھی ذکر کی ہیں، والحمدللہ۔ اور قول باری تعالیٰ : ادخلوا الجنۃ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے : ان میں آنے والی احادیث بھی ذکر کی ہیں، والحمدللہ۔ اور قول باری تعالیٰ : ادخلوا الجنۃ دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے : ان میں سے ایک یہ ہے : اس کا معنی ہو تمہیں جنت میں داخل ہونے کی بشارت ہو۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ انہیں یہ آخرت میں کہیں گے۔ بما کنتم تعملون یعنی ان نیک اعمال کے باعث جو تم دنیا میں کرتے تھے۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے انکے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے ؟ اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اور خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

آیت نمبر 33 قولہ تعالیٰ : ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملئکۃ اس میں ضمیر کفار کی طرف لوٹ رہی ہے، یعنی کفار انتظار نہیں کر رہے ہیں مگر یہ کہ ملائکہ ان کی ارواح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس آئیں درآنحالیکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں۔ اعمش، ابن وثاب، حمزہ اور کسائی اور خلف نے یاتیھم الملائکۃ یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے تا کے ساتھ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اویاتی امر ربک یعنی یا تیرے رب کا اٹل حکم عذاب کے بارے میں آجائے چاہے وہ قتل کی صورت میں ہو جیسا کہ یوم بدر کا ہوا یا دنیا میں زلزلہ اور خسف (دھنسا دینا) ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس سے مراد یوم قیامت ہے۔ اور وہ لوگ ان چیزوں کے منتظر اس لئے نہیں کہ وہ ان کے ساتھ ایمان نہیں لائے، بلکہ ایمان سے ان کے انکار نے ان پر عذاب واجب کردیا، پس اس کی نسبت ان کی طرف کی گئی، یعنی ان کا نجام عذاب ہے، کذلک فعل الذین من قبلھم یعنی وہ کفر پر مصر رہے تو اللہ تعالیٰ کا اٹل حکم ان پر آگیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔ وما ظلمھم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب دے کر اور انہیں ہلاک کرکے ان پر کوئی زیادتی اور ظلم نہیں کیا، بلکہ شرک کرکے انہوں نے خود اپنے پر ظلم کیا ہے۔
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

آیت نمبر 34 قولہ تعالیٰ : فاصابھم سیات ما عملوا کہا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے ؛ تقدیر عبارت ہے : کذالک فعل الذین من قبلھم فاصابھم سیئات ما عملوا (اسی طرح انہوں نے کہا جو ان سے پہلے ہوئے ہیں پس انہیں ان کے برے اعمال کی سز املی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ خود اپنے آپ سے زیادتی کر رہے ہیں۔ پس انہیں ان کے کفر کی سزا اور ان کے خبیث اعمال کا بدلہ ملا ہے۔ وحاق بھم یعنی ان کا احاطہ کرلیا اور انہیں گھیر لیا ما کانوا بہ یستھزءون یعنی ان کے استہزاء کی سز انے۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

آیت نمبر 35 قولہ تعالیٰ : وقال الذین اشرکوا لوشآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شئ ای شیئا (یعنی مشرکوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی شے کی عبادت نہ کرتے) اور اس میں من صلہ ہے۔ زجاج نے کہا ہے : انہوں نے یہ قول استہزاء کیا، اور اگر وہ یہ قول اعتقاد اور یقین کے ساتھ کہتے تو وہ مومن ہوتے۔ اس کا معنی اور ترکیب مفصل طور پر سورة الانعام میں گزر چکی ہے لہٰذا اعادہ کی ضرورت نہیں۔ کذلک فعل الذین من قبلھم یعنی اسی تکذیب اور استہزاء کی مثل انہوں نے بھی رسولوں سے کیا جو ان سے پہلے تھے پس وہ ہلاک کر دئیے گئے۔ فھل علی الرسل الا البلغ المبین یعنی رسل علیہم الصلوٰت والتسلیمات پر سوائے تبلیغ (حکم الٰہی پہنچانے) کے اور کچھ نہیں، اور رہی ہدایت تو وہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

آیت نمبر 36 قولہ تعالیٰ : ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ (تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (یہ تعلیم دینے کے لئے) کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) اور اسے واحد و یکتا مانو۔ واجتنبوا الطاغوت یعنی تم اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود کو چھوڑ دو جیسا کہ شیطان، کاہن، بت اور ہر وہ جو گمراہی کی طرف دعوت دے۔ فمنھم من ھدی اللہ یعنی ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین اور اپنے عبادت کی طرف ہدایت دی، راہنمائی فرمائی۔ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کے بارے پہلے (گمراہی کا) فیصلہ ہوچکا تھا یہاں تک کہ وہ اپنے کفر پر ہی مرے۔ اور اس سے قدریہ کا رد ہوتا ہے، کیونکہ انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ہدایت دی ہے اور انہیں ہدایت کی توفیق دی ہے، اور اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے : فمنھم من ھدی اللہ ومنھم من حقت علیہ الضللۃ اور یہ بحث کئی مقامات پر پہلے گزر چکی ہے۔ فسیروا فی الارض یعنی تم زمین میں غور و فکر کرتے ہوئے (اور عبرت حاصل کرتے ہوئے) سیرو سیاحت کرو۔ فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (اور اپنی آنکھوں سے دیکھو ان جھٹلانے والوں کے معاملے کا انجام کیسے ہوا (یعنی) ان کی بربادی، عذاب اور ہلاکت کی طرف دیکھو) ۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کیلئے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

آیت نمبر 37 قولہ تعالیٰ : ان تحرص علی ھدھم یعنی اے محمد ! ﷺ اگر آپ اپنی جدوجہد اور کوشش کے ساتھ ان کے ہدایت یافتہ ہونے کی خواہش اور طلب کریں۔ فان اللہ لا یھدی من یضل تو بیشک اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے وہ گمراہ کر دے، یعنی جس کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے پہلے گمراہی کا فیصلہ ہوچکا ہو وہ اسے ہدایت نہیں دیتا۔ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور اہل کوفہ کی قرأت ہے۔ پس یھدی فعل مستقبل ہے اور اس کا ماضی ھدی ہے۔ اور من، یھدی کے سبب محل نصب میں ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ھدی یھدی بمعنی اھتدی یھتدی ہو، اسے ابو عبید نے فراء سے روایت کیا ہے اس نے کہا : جیسا کہ امن لا یھدی الا ان یھدی (یونس : 35) بمعنی یھتدی قرأت کی گئی ہے۔ ابو عبید نے کہا ہے : ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے فراء کے بغیر اسے روایت کیا ہو، اور وہ اس بارے میں متہم نہیں ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : محمد بن زید سے مجھے بیان کیا گیا ہے گویا لا یھدی من یضل کا معنی ہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ کی جانب سے علم ہو اور اس کے نزدیک پہلے اس کا فیصلہ ہوچکا ہو، فرمایا : یھدی بمعنی یھتدی نہیں ہوسکتا مگر تبھی جب وہ یھدی یا یھدی ہو۔ اور فراء کے قول کے مطابق یھدی بمعنی یھتدی ہے، پس من محل رفع میں ہوگا اور من کی طرف لوٹنے والی ھا ضمیر صلہ میں محذوف ہوگی، اور ان کے اسم کی طرف لوٹنے والی ضمیر یضل میں پوشیدہ ہے۔ اور باقیوں نے لا یھدی یا کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے ابو عبیدہ اور ابو حاتم نے اختیار کیا ہے، اس معنی کی بنا پر کہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے کوئی ہدایت دینے والا اسے ہدایت نہیں دے سکتا، من اضلہ اللہ لم یھدہ ھاد اور اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : من یضلل اللہ فلا ھادی لہ (الاعراف : 186) (جسے گمراہ کر دے اللہ تعالیٰ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسے) اور من اس بنا پر محل رفع میں ہے کہ وہ اسم مالم یسم فاعلہ ہے، اور یہ بمعنی الذی ہے، اور اس کی طرف لوٹنے والی ضمیر اس کے صلہ سے محذوف ہے، اور فان اللہ میں ان کے اسم کی طرف لوٹنے والی ضمیر یضل میں پوشیدہ ہے۔ وما لھم من نصرین اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائیگا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

آیت نمبر 38 قولہ تعالیٰ : واقسموا باللہ جھد ایمانھم یہ ان کی کارکردگی پر اظہار تعجب ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں اور انہیں پختہ کرنے میں خوب مبالغہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جو ایک بار مر جاتا ہے۔ اور اظہار تعجب کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن پھر اسے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز قرار دیتے ہیں۔ اور ابو العالیہ نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے آیک آدمی کا ایک مشرک پر قرض تھا پس اس نے اس کا تقاضا کیا، اور اس کے کلام میں یہ ہے : والذی أرجوہ بعد الموت انہ لکذا (وہ جس کی میں موت کے بعد امید رکھتا ہوں بیشک وہ اس طرح ہے) تو مشرک نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا جو ایک بار مر جاتا ہے، پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : ہمارے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کو ایک آدمی نے کہا : اے ابن عباس ! ؓ بیشک بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کو موت کے بعد قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اور وہ اس آیت کی تاویل بیان کرتے ہیں، تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انہوں نے جھوٹ کہا ہے ! بلاشبہ یہ آیت تمام لوگوں کے لئے عام ہے، اگر قیامت سے پہلے حضرت علی ؓ کو دوبارہ زندہ کیا جانا ہوتا تو ہم ان کی بیویوں سے نکاح نہ کرتے اور نہ ان کی میراث تقسیم کرتے۔ بلیٰ یہ ان کا رد ہے ؛ یعنی نہیں بلکہ وہ ضرور انہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ وعدا علیہ حقا یہ مصدر مؤکد ہے، کیونکہ اس کا قول : یبعثنھم وعدہ پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے دوبارہ زندہ کرنے کا سچا اور پختہ وعدہ فرما رکھا ہے۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ اور بخاری میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے حدیث روایت کی ہے : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابن آدم نے میری تکذیب کی ہے حالانکہ اس کے لئے یہ مناسب نہیں۔ اور اس نے مجھے سب وشتم کیا ہے حالانکہ اس کے لئے یہ مناسب نہیں، پس اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ اس نے یہ کہا : وہ ہرگز مجھے دوبارہ زندہ نہیں کرے گا، جیسے پہلی بار اس نے مجھے پیدا کیا۔ اور رہا اس کا مجھے سب وشتم کرنا تو یہ اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (فلاں کو) بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں واحد و یکتا ہوں بےنیاز ہوں اور نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے “۔ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور آگے بھی آئے گا۔
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

آیت نمبر 39 قولہ تعالیٰ : لیبین لھم تاکہ وہ ان کے لئے ظاہر کر دے، واضح کر دے۔ الذی یختلفون فیہ دوبارہ زندہ کئے جانے کا معاملہ جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ ولیعلم الذین کفروا تاکہ خوب جان لیں وہ جنہوں نے دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا اور اس پر قسمیں کھائیں۔ انھم کانوا کذبین کہ بلاشبہ وہی چھوٹے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا تاکہ وہ ان کے لئے اس بات کی وضاحت کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اور وہ جس میں مشرکوں اور مسلمانوں نے اختلاف کیا ہے وہ کئی امور ہیں : ان میں سے دوبارہ زندہ کرنا ہے، بتوں کی عبادت کرنا ہے، اور ان میں سے ایک قوم کا اس بارے اقرار کرنا ہے کہ محمد ﷺ حق ہیں لیکن آپ کی اتباع سے تقلید نے انہیں منع کیا ہے جیسا کہ حضرت ابو طالب۔
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارے بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

آیت نمبر 40 اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ اس پر پیدا کرنا کتنا آسان ہے، یعنی جب ہم ارادہ کریں گے کہ اسے ہم دوبارہ زندہ کریں جو ایک بار مرچکا ہے تو وہ ہم پر مشکل نہیں ہوگا اور نہ انہیں زندہ کرنے میں کوئی دقت ہوگی، اور علاوہ ازیں بھی جو کام ہم کرتے ہیں ان میں کوئی مشکل اور دقت نہیں، کیونکہ ہم اس کو کہتے ہیں تو ہوجا وہ ہوجاتا ہے۔ ابن عامر اور کسائی کی قرأت فیکون ہے اور یہ ان نقول پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ وہ کن کا جواب ہونے کی بنا پر منصوب ہو۔ اور باقیوں نے ا سے مرفوع پڑھا ہے اس لئے کہ معنی یہ ہے فھو یکون (پس وہ ہوجاتا ہے) اور اس بارے میں مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ اور ابن الانباری نے کہا ہے : لفظ شے کو ہر اس پر واقع کیا گیا ہے جو اپنی خلقت سے پہلے اللہ تعالیٰ کے پاس معلوم ہو کیونکہ یہ اس کے قائم مقام ہے جو پالی گئی اور اس کا مشاہدہ کرلیا گیا۔ اور آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ قرآن کریم غیر مخلوق ہے، کیونکہ اگر اس کا قول : کب مخلوق ہو تو پھر وہ ایک دوسرے قول کا محتاج ہے، اور دوسرا تیسرے کا محتاج ہوگا اور پھر اسی طرح تسلسل جاری رہے گا اور یہ محال ہے۔ اور اس پر دلیل موجود ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ جملہ واقعات و حوادث کا ارادہ فرماتا ہے چاہے ان میں خیر ہو یا شر، وہ نفع بخش ہوں یا ضرر رساں اور اس پر دلیل یہ ہے کہ جو کوئی اپنی سلطنت میں ایسی چیز دیکھتا ہے جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور وہ اس کا ارادہ بھی نہیں کرتا تو اس کی دو میں سے ایک وجہ ہے : یا تو وہ اس کے جاہل اور ناواقف ہونے کی وجہ سے ہے وہ اسے جانتا ہی نہیں، اور یا پھر اس وجہ سے کہ وہ مغلوب ہے اور اس کی طاقت نہیں رکھتا، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وصف میں ان میں سے کوئی شی بھی جائز نہیں ہے، تو پھر اس پر دلیل قائم ہوگئی کہ وہی بندوں کی کمائی کا خالق ہے، اور یہ محال ہے کہ وہ کوئی کام کرنے والا ہو اور اس کا ارادہ فرمانے والا نہ ہو، کیونکہ ہمارے اکثر افعال ہمارے مقصود اور ارادہ کے خلاف حاصل ہوتے ہیں، پس اگر حق سبحانہ و تعالیٰ بھی ارادہ کرنے والا نہ ہو تو یقینا اس کے بھی وہ افعال بغیر قصد و ارادہ کے حاصل ہوں) اور یہ طبیعیین کا قول ہے، اور موحدوں کا اس کے خلاف اور اس کے فاسد ہونے پر اجماع ہے۔
Ayah 16:41

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لئے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے۔

آیت نمبر 41 قولہ تعالیٰ : والذین ھاجروا فی اللہ من بعد ما ظلموا ہجرت کا معنی سورة النساء میں گزر چکا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یا اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنے وطن، اہل خانہ اور قرابتداروں کو چھوڑنا ہے، اور برائیوں اور گناہوں کو ترک کرنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی بمعنی لام ہے یعنی ھاجروا للہ۔ من بعد ما ظلموا یعنی اس کے بعد کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں طرح طرح کا عذاب دیا گیا یہ آیت حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت عمار ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اہل مکہ نے انہیں اذیتیں دیں حتیٰ کہ انہوں نے ان کو وہ کہا جس کا انہوں نے ارادہ کیا، پس جب انہوں نے انہیں چھوڑ دیا تو وہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرما ہوگئے، یہ کلبی (رح) نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابو جندل بن سہیل ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : مراد حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب ہیں، مشرکوں نے مکہ مکرمہ میں ان پر ظلم کیا اور انہیں وہاں سے نکال دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک گروہ حبشہ چلا گیا، پھر اللہ کریم نے ان کے لئے دار الھجرۃ (مدینہ طیبہ) کو ٹھکانا اور قیام گاہ بنا دیا اور ان کے لئے اور مومنین کو انصار اور معاون و مددگار بنا دیا۔ اور یہ آیت ان تمام کو شامل ہے لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ حسنہ کے بارے میں چھ اقوال ہیں : (1) مدینہ طیبہ میں اترنا، یعنی ہم انہیں دنیا میں بہتر ٹھکانا دیں گے یعنی مدینہ طیبہ میں اتار دیں گے۔ یہ قول حضرت ابن عباس، حسن شعبی اور قتادہ ؓ نے کہا ہے۔ (2) مراد رزق حسن ہے، یہ مجاہد (رح) نے کہا ہے۔ (3) ان کے دشمنوں کے خلاف مدد و نصرت کرنا، یہ ضحاک نے کہا ہے۔ (4) بیشک یہ سچ کی زبان ہے، اسے ابن جریج نے بیان کیا ہے۔ (5) جو انہوں نے علاقے فتح کرکے ان پر غلبہ حاصل کیا۔ اور ان میں ان کی حکومتیں قائم ہوگئیں (6) جو ان کے لئے دنیا میں ثناء و تعریف باقی رہی، اور ان کی اولاد کو اعزازو شرف حاصل ہوا۔ اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے لئے جمع ہوا ہے۔ والحمدللہ۔ ولا جر الاخرۃ اکبر یعنی دار آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے، یعنی وہ اس سے عظیم اور بڑا ہے کہ کوئی اس کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسے جان سکے ؛ واذا رایت ثم رایت نعیما وملکا کبیرا۔ (الانسان) (اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی) لو کانو یعلمون یعنی کاش یہ ظلم کرنے والے اسے جان لیتے۔ کہا گیا ہے : یہ ضمیر مومنین کی طرف راجع ہے، یعنی اگر وہ آخرت کا ثواب دیکھ لیتے اور اس کا معائنہ کرلیتے تو یقیناً وہ جان لیتے کہ وہ دنیا کے اجر سے بہت بڑا ہے۔ اور روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ جب مہاجرین کو عطیات دیتے تھے تو فرماتے : یہ وہ ہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے اور جو تمہارے لئے آخرت میں ذخیرہ کیا ہے وہ اس سے زیادہ ہے، پھر آپ ان پر یہ آیت تلاوت کرتے۔
Ayah 16:42

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں۔

آیت نمبر 42 کہا گیا ہے : الذین یہ پہلے الذین سے بدل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ لنبوئنھم کی ضمیر سے بدل ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا، اس پر ڈٹے رہے وعلیٰ ربھم یتوکلون وہ اپنے جملہ امور میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور بعض اہل تحقیق نے کہا ہے : مخلوق میں سے بہترین اور اعلیٰ وہ ہے جسے جب کوئی امر پیش آجائے تو وہ صبر کرے، اور جب وہ کسی کام سے عاجز ہو تو وہ توکل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون۔
Ayahs 16:43–44

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے۔ اگر لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو تاکہ وہ غور کریں۔

آیت نمبر 43 تا 44 قولہ تعالیٰ : وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم قرأۃ العامہ یوحی یعنی یا کے ساتھ اور حا کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اور حفص نے حضرت عاصم (رح) سے نوحی الیھم نون عظمت اور ھا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت انہوں نے حضور نبی رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور کہا : اللہ تعالیٰ اس سے عظیم تر ہے کہ اس کا رسول بشر (انسان) ہو پس اس نے ہماری طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ ان کا جواب دیا : وما ارسلنا من قبلک اے محمد ! ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی امم ماضیہ کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے مگر آدمی (یعنی مردوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے) ۔ فسئلوا اھل الذکر حضرت سفیان نے کہا ہے : یعنی تم ان سے پوچھ لو جو اہل کتاب میں سے مومن ہیں، ان کنتم لا تعلمون اگر تم خود نہیں جانتے تو وہ تمہیں خبر دیں گے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بشر (انسان) تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے پس تم اہل کتاب سے دریافت کرلو سو اگرچہ وہ ایمان نہیں لائے لیکن وہ یہ اعتراف کریں گے کہ رسل (علیہم السلام) بشر تھے۔ اس کا معنی حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد ؓ سے مروی ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اہل ذکر سے مراد اہل قرآن ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اہل علم ہیں۔ اور یہ دونوں قریب المعنی ہیں۔ بالبینت والزبر کہا گیا ہے : بالبینت، ارسلنا کے متعلق ہے۔ اور کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ای ما أرسلنا من قبلک بالبینات والزبر الارجالا ای غیر رجال (یعنی ہم نے آپ سے پہلے واضح نشانیاں اور کتابیں سوائے مردوں کے نہیں بھیجیں) پس اس میں الا بمعنی غیر ہے، جیسا کہ اس قول میں ہے : لا الہ الا اللہ ای غیر اللہ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں) اور یہ کلبی (رح) کا قول ہے۔ ہم ان کے طرف وحی بھیجتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : کلام میں حذف ہے اور اس پر ارسلنا دلالت کرت ا ہے۔ ای أرسلنا ھم بالبینات والزبر (یعنی ہم نے انہیں واضح نشانیوں کے ساتھ اور کتابوں کے ساتھ بھیجا) ۔ اس قول کی بنا پر بالبینت کا پہلے ارسلنا کے ساتھ تعلق نہیں ہوگا کیونکہ الا کا ماقبل اس کے مابعد میں عمل نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اس کا تعلق ارسلنا مقدرہ کے ساتھ ہوگا، یعنی أرسلنا ھم بالبینات۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تعلمون کا مفعول ہے اور بازائدہ ہے، یا اسے اعنی کو مضمر مان کر نصب دی گئی ہے۔ جیسا کہ اعشی نے کہا ہے : ولیس مجیرا ان أتی الحی خائف ولا قائلا الا ھو المتعیبا ای اعنی المتعیب (یعنی اعنی فعل کے سبب یہ منصوب ہے) اعر البینات کا معنی دلائل وبراہین ہیں۔ اور الزبر سے مراد کتب ہیں۔ اس کا ذکر آل عمران میں ہوچکا ہے۔ وانزلنا الیک الذکر سے مراد قرآن حکیم ہے۔ (اور ہم نے آپ کی طرف قرآن کریم نازل کیا) لتبین للناس ما نزل الیھم تاکہ آپ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو کھول کر بیان کریں اس کتاب میں موجود احکام اور وعدو وعید جوان کی طرف نازل کی گئی ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مراد اور مفہوم کو کھول کر بیان کرنے والے اور وضاحت کرنے والے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مجمل ذکر کیا ہے مثلا نماز اور زکوٰۃ کے احکام اور علاوہ ازیں وہ چیزیں جنہیں مفصل ذکر نہیان کیا۔ یہ مکمل بحث مقدمۃ الکتاب میں گزر چکی ہے۔ والحمد للہ۔ ولعلھم یتفکرون تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
Ayahs 16:45–47

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو ؟

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے ؟ وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے ؟ بیشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔

آیت نمبر 45 تا 47 قولہ تعالیٰ : افا من الذین مکرو والسیات ای بالسیات (کیا بےخوف (اور نڈر) ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے برائی اور گناہوں کے ساتھ مکرو فریب کئے، یہ ان مشرکوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے اسلام کو باطل قرار دینے اور اسے مٹانے کے حیلے اور کوشش کیں۔ ان یخسف اللہ بھم الارض (کہ مبادا اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں گاڑ دے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جیسا کہ قاروں کو زمین میں دھنسا دیا گیا، کہا جاتا ہے : خسف المکان یخسف خسوفا مکان زمین میں چلا گیا، دھنس گیا۔ اور خسف اللہ بہ الأرض خسوفا یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں غیب کردیا، اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے : فخسفنا بہ وبدارہ الارض (القصص : 81) (پس ہم نے غرق کردیا اسے بھی اور اس کے گھر کو بھی زمین میں) اور خسف ھو فی الارض (وہ خود زمین میں دھنس گیا) اور خسف بہ (اسے دھنسا دیا گیا) اور استفہام بمعنی انکار ہے یعنی واجب ہے کہ وہ سزا سے پرامن (اور نڈر) نہ ہوں جو انہیں لاحق ہوگی جیسا کہ وہ جھٹلانے والوں کو لاحق ہوئی۔ او یاتیھم العذاب من حیث لایشعرون جیسا کہ قوم لوط وغیرہ کے ساتھ کیا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد یوم بدر ہے، کیونکہ وہ اس دن ہلاک کر دئیے گئے، اور اس سے کوئی شے ان کے حسان میں نہ تھی۔ او یاخذھم فی تقلبھم یا وہ دوڑ دھوپ کر رہے ہوں اپنے سفروں میں اور اپنے کام کاج میں ؛ یہ حضرت قتادہ نے کہا ہے۔ فماھم بمعجزین یعنی نہ وہ اللہ تعالیٰ سے آگے نکل جانے والے ہیں اور اس سے فوت اور گم ہونے والے ہیں (یعنی وہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے : فی تقلبھم یا وہ انہیں پکڑ لے اس حال میں کہ وہ ابھی اپنے بستروں پر ہوں جہاں بھی ہوں۔ اور ضحاک (رح) نے کہا ہے : رات اور دن کے وقت۔ اویاخذھم علی تخوف حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد ؓ وغیرہ نے کہا ہے : یا وہ انہیں پکڑ لے ان کے مالوں، مویشیوں اور ان کی کھیتیوں میں کمی کرتے ہوئے۔ اور اسی طرح اطب الاعرابی نے بھی کہا ہے، یعنی بتدریج مالوں، جانور اور پھلوں میں نقصان اور کمی کرتے ہوئے یہاں تک کہ وہ ان تمام کو ہلاک کر دے۔ اور ضحاک نے کہا ہے : یہ خوف سے ماخوذ ہے، اس کا معنی ہے : وہ ایک گروہ کو پکڑ لے اور دوسرے کو چھوڑ دے، پس باقی رہنے والے ڈر جائیں گے کہ ان پر بھی اسی طرح کا عذاب نازل ہوگا جیسا ان کے ساتھیوں پر نازل ہوا ہے۔ اور حسن نے کہا ہے : علی تخوف کہ وہ ایک بستی والوں کو پکڑلے تاکہ دوسری بستی والے ڈرجائیں، یہ معنی بعینہ اس قول کے معنی کی مثل ہے جو پہلے گزرا ہے، اور یہ دونوں پہلے معنی کی طرف راجع ہیں کہ التخوف کا معنی التنقص (آہستہ آہستہ کم کرنا) ہے۔ تخوفہ تنقصہ (اس نے اسے نقصان پہنچایا) ، اور تخوفہ الدھر وتخونہ (یعنی فاء اور نون کے ساتھ) دونوں ایک ہی معنی میں ہیں (زمانے نے اسے خوفزدہ کردیا، نقصان پہنچایا) کہا جاتا ہے : تخوننی فلان حقی جب وہ تیرا نقصان کر دے (یعنی فلاں نے میرا حق مار لیا) ۔ جیسا کہ ذوالفرمہ نے کہا ہے : لا، بل ھو الشوق من دار تخونھا مرا سحاب ومرا بارح ترب اور لبید نے کہا ہے : تخونھا نزولی و ارتحالی یعنی اس کا گوشت اور اس کی چربی کم ہوگئی۔ اور ہیثم بن عدی نے کہا ہے : التخوف (فا کے ساتھ ہو) اس کا معنی التنقص (کم کرنا) ہے۔ یہ ازو شنؤہ کی لغت ہے۔ اور شاعر کا شعر ہے : تخوف غدرھم ما لی وأھدی سلاسل فی الحلوق لھا صلیل اور حضرت سعید بن مسیب نے بیان کیا ہے : اس اثنا میں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ منبر پر تشریف فرما تھے۔ فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں کیا کہتے ہو : او یاخذھم علی تخوف ؟ تو لوگ خاموش رہے، تو بنی ہذیل کے ایک شیخ نے کہا : اے امیر المؤمنین ! یہ ہماری لغت ہے۔ التخوف بمعنی التنقص ہے، پھر ایک آدمی نکلا اور اس نے کہا : اے فلاں ! تیرا دین کیا ہے ؟ اس نے کہا : تخوفتہ، ای تنقصتہ (میں نے اسے کم کردیا ہے) پس وہ لوٹ کر گیا اور اس نے حضرت عمر ؓ کو خبر دی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : کیا عرب اپنے اشعار میں اسے جانتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : ہاں۔ ہمارے شاعر ابو کبیر ہذلی نے ناقہ کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ہے سفر اونٹنی کو ہان کے لمبا ہونے اور گوشت کے جمع ہونے کے بعد اس کو کم کردیتا ہے۔ جیسا کہ شاعر کا قول ہے : تخوف الرحل منھا تامکا فردا کما تخوف عود النبعۃ السفن تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اے لوگو ! تم پر لازم ہے کہ تم زمانہ جاہلیت کی شاعری پر مبنی دیوان پڑھو کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر اور تمہارے کلام کے معانی موجود ہیں۔ تمک السنام یتمک تم کا یعنی کوہان لمبی ہوگئی اور اٹھ گئی، فھو تامل اور السفن والمسفن وہ آلہ جس کے ساتھ لکڑی کو چھیلا جاتا اور ہموار کیا جاتا ہے (رندا) ۔ اور لیث بن سعد نے کہا ہے : علیٰ تخوف یا وہ انہیں پکڑ لے جلدی میں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان گناہوں پر ڈانٹتے ہوئے جو انہوں نے آگے بھیجے، اور یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : علی تخوف کہ وہ انہیں سزا دے یا درگزر کرلے۔ فان ربکم لرءوف رحیم یعنی وہ جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔
Ayah 16:48

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدہ میں پڑے رہتے ہیں۔

آیت نمبر 48 حمزہ، کسائی، خلف، یحییٰ اور اعمش نے ترواتا کے ساتھ پڑھا ہے، اس بنا پر کہ یہ خطاب تمام لوگوں کو ہے۔ اور باقیوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ الذین مکروا السیات کے بارے خبر ہے اور یہی مختار ہے۔ من شیء یعنی ایسے کھڑے جسم کی طرف جس کا سایہ ہے چاہے وہ درخت ہو یا پہاڑ، (کیا انہوں نے اس کی طرف نہیں دیکھا) ۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے، اگرچہ تمام کی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کا حکم سننے والی اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے والی ہیں۔ یتفیؤا ظللہ ابو عمرو اور یعقوب وغیرہ نے اسے تا کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ ظلال مونث ہے۔ اور باقیوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے ابو عبیدہ نے اختیار کیا ہے، یعنی وہ (سایہ) جھکتا ہے، مائل ہوتا ہے ایک جانب سے دوسری جانب کی طرف، اور وہ دن کے اول حصہ میں ایک حال پر ہوتا ہے اور وہ سکڑ جاتا ہے پھر دن کے آخر میں دوسری حالت پر لوٹ آتا ہے، پس ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف اس کا گھومنا اور اس کا مائل ہونا ہی اس کا سجدہ کرنا ہے اور اسی معنی میں شام کے وقت سائے کو فیء کہا گیا ہے، کیونکہ وہ مغرب سے مشرق کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اور الفئ کا معنی الرجوع (لوٹنا) ہے : اور اسی سے حتی تفیٓء الیٰ امر اللہ (الحجرات :9) (یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف) ہے۔ اس قول کا معنی حضرت ضحاک (رح) اور قتادہ (رح) وغیرہما سے مروی ہے اور یہ معنی سورة الرعد میں گزر چکا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : مراد جسم کا سجدہ کرنا ہے، اور اس کا سجود اس کا اطاعت و تابعداری کرنا ہے اور وہ جو اس میں کام کا اثر دکھائی دیتا ہے، اور یہ ہر جسم میں عام ہے۔ اور وھم دخرون کا معنی ہے اور وہ خضوع کر رہے ہیں، اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ الدخور کا معنی الصغار والذل (چھوٹا ہونے اور پست ہونے کا اظہار کرنا) ہے۔ کہا جاتا ہے : دخر الرجل (فتحہ کے ساتھ) فھو داخر، وأدخرہ اللہ (اللہ نے اسے دلیل کردیا) ۔ اور ذوالمرمہ نے کہا ہے : فلم یبق إلا داخر فی مخیس ومنجحر فی غیر ارضک فی حجر اسے ماوردی نے ذوالرمہ کی طرف منسوب کیا ہے اور جوہری نے فرزدق کی طرف اس کی نسبت کی ہے اور کہا ہے : المخیس یہ جیل کا نام ہے یہ عراق میں ہے، یعنی ذلت و رسوائی کی جگہ۔ اور کہا ہے : أما ترانی کیسا مکیسا بنیت بعد نافع مخیسا اور اپنے قول : عن الیمین میں یمین کو واحد ذکر کیا ہے اور شمال کو جمع ذکر کیا ہے، کیونکہ یمین کا معنی جمع ہے اگرچہ یہ واحد ہے، اور اگر کوئی کہے : عن الأیمان والشمائل، والیمین والشمائل، یا الیمین والشمال، یا الأیمان والشمال تو (غیر قرآن میں) یہ بھی جائز ہے کیونکہ اس کے معنی کثرت کے ہیں۔ اور یہ بھی کہ عربوں کا طریقہ ہے کہ جب ایک شے میں دو علامتیں جمع ہوجائیں تو ان میں سے ایک جمع لائی جاتی ہے اور دوسری مفرد، جیسا کہ قول باری تعالیٰ ہے : ختم اللہ علی قلوبھم وعلیٰ سمعھم (البقرہ :7) (مہر لگا دی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر) اور اسی طرح ارشاد ہے : یخرجھم من الظلمت الی النور (البقرہ : 257) (اور وہ نکال لے جاتا ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف) اور اگر کوئی کہے علی أسماعھم اور الی النور (البقرہ : 257) (اور وہ نکال لے جاتا ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف) اور اگر کوئی کہے علی أسماعھم اور الیٰ الأنوار تو یہ بھی جائز ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ لفظ یمین کا رجوع لفظ ما کی طرف ہو اور لفظ شمال کا رجوع اس کے معنی کی طرف ہو۔ اور کلام میں اس کی مثالیں کثیر ہیں۔ شاعر نے کہا ہے : الواردون وتیم فی ذرا سباء قد عض أعناقھم جلد الجوامیس اس میں جلود نہیں کہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یمین کو واحد ذکر کیا ہے کیونکہ سورج جب طلوع ہوتا ہے اور تیرا منہ قبلہ کی طرف ہو تو سایہ دائیں جانب سے پھیلتا ہے پھر ایک حال میں بائیں جہت کی طرف مڑ جاتا ہے پھر اس میں کئی حالات ہوتے ہیں، پس اس کا نام شمائل رکھا۔ (یعنی پہلی صورت میں ایک حال ہے لہٰذا لفظ یمین واحد ذکر کیا اور دوسری صورت میں کئی حالات ہیں اس لئے شمائل جمع ذکر کیا) ۔
Ayahs 16:49–50

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی۔ اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے۔

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

اور پنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں۔ اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔

آیت نمبر 49 تا 50 قولہ تعالیٰ : وللہ یسجد ما فی السموات وما فی الارض من دآبۃ اور اللہ کے لئے سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے یعنی ہر وہ شی وج زمین پر رینگ کر چلتی ہے (مراد ہر قسم کے جاندار ہیں) والملئکۃ یعنی وہ ملائکہ جو زمین میں ہیں، اور ان کے شرف مرتبہ کی وجہ سے ان کی خصوصیت کے پیش نظر ان کا ذکر الگ فرمایا : اور دبیب (رینگنا) کی صفت سے انہیں ذکر کے ساتھ ممتاز کردیا اگرچہ یہ ان میں داخل ہیں ؛ جیسا کہ یہ ارشاد ہے : فیھما فاکھۃ ونخل ورمان۔ (الرحمن) (ان میں میوے ہوں گے اور کھجوریں اور انار ہوں گے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہیں من جملہ ان جانداروں سے جو رینگتے ہیں یا ہاتھ پاؤں پر چلتے ہیں نکالنے کے لئے الگ ذکر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پر بنا دئیے ہیں، لہٰذا یہ ان میں داخل نہیں پس اسی لئے ان کا الگ ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وللہ یسجد ما فی السموت سے ملائکہ، سورج، چاند، ستارے، ہوائیں اور بادل کا ارادہ کیا ہے وما فی الارض من دآبۃ اور زمین کے ملائکہ سجدہ کرتے ہیں۔ وھم لا تستکبرون اور وہ اپنے رب کی عبادت سے غرور وتکبر نہیں کرتے۔ اور یہ ان قریش کا رد ہے جنہوں نے یہ گمان کیا کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اور یخافون ربھم من فوقھم کا معنی ہے یعنی وہ اپنے رب کی سزا اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ہلاک و برباد کردینے والا عذاب آسمان سے ہی نازل ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ اپنے رب کی اس قدرت سے ڈرتے ہیں جو ان کی قدرت و اختیار سے زیارہ اور اس پر غالب ہے۔ پس کلام میں حذف ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یخافون ربھم من فوقھم کا معنی ہے کہ ملائکہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور یہ ان سے فائق اور اعلیٰ ہیں جو زمین میں جاندار وغیرہ ہیں اور اس کے باوجود وہ ڈرتے ہیں، تو جو رتبہ میں ان سے کم ہیں انہیں تو بدرجہ اولیٰ ڈرنا چاہئے، اسکی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ویفعلون ما یؤمرون یعنی ملائکہ وہ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے تو مجھی سے ڈرتے رہو

آیت نمبر 51 قولہ تعالیٰ : وقال اللہ لا تتخذوٓا الھین اثنین کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم دو خدا نہ بناؤ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اثنین کا قول تاکید کے لئے آیا ہے۔ اور جب سچا خدا متعدد نہیں ہوسکتا تو پھر ہر وہ جو متعدد ہوگا تو وہ الہ (خدا) نہیں ہے، اور اثنین کے ذکر پر اقتصار کیا گیا ہے، کیونکہ مقصود تعدد کی نفی ہے۔ انما ھو الہ واحد یعنی بلاشبہ اس کی ذات مقدسہ تو فقط ایک ہے۔ اور اس کی وحدانیت پر عقلی اور شرعی دلیل قائم ہوچکی ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور ہم نے اسے شرح الاسماء میں اس کے اسم پاک الواحد کے تحت ذکر کیا ہے، والحمدللہ۔ فایای فارھبون یعنی پس تم مجھ سے ہی ڈرا کرو۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو ؟

آیت نمبر 52 قولہ تعالیٰ : ولہ ما فی السموت والارض ولہ الدین واصبا اس میں الدین کا معنی طاعت اور اخلاص ہے۔ اور واصبا اس کا معنی ہے دائما (ہمیشہ) یہ فراء نے کہا ہے، اسے جوہری نے بیان کیا ہے۔ وصب الشئ یصب وصوبا، یعنی شے دائمی ہے۔ اور وصب الرجل علی الامر (کہا جاتا ہے) جب کوئی آدمی کسی کام پر مواظبت اختیار کرے اور اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہمیشہ واجب ہے۔ اور جنہوں نے واصبا کا معنی دائما بیان کیا ہے وہ حضرت حسن، مجاہد، قتادہ اور ضحاک ہیں۔ اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے : ولھم عذاب واصب۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔ اور دؤلی نے کہا ہے : لا أبتغی الحمد القلیل بقاؤہ بذم یکون الدھر أجمع واصبا اور غزنوی اور ثعلبی ہما نے کہا ہے : ما أبتغی الحمد القلیل بقاؤہ یوم بذم الدھر أجمع واصبا ان میں واصبا دائما کے معنی میں ہی واقع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : الوصب کا معنی التعب والاعیاء (تھک جانا اور تھکا دینا) ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت واجب رہتی ہے اگرچہ بندہ اس میں تھک جائے۔ اور اس معنی میں شاعر کا قول ہے : لا یمسک الساق من أین ولا وصب ولا یعض علی شرسوفہ الصفر اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے : واصبا بمعنی واجبا ہے۔ اور فراء (رح) اور کلبی (رح) نے کہا ہے : بمعنی خالصا ہے۔ افغیر اللہ تتقون یعنی یہ نہیں چاہیے کہ تم غیر اللہ سے ڈرو، پس ” غیر “ تتقون کے سبب منصوب ہے۔
Ayahs 16:53–55

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو۔

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائیگا۔

آیت نمبر 53 تا 55 قولہ تعالیٰ : وما بکم من نعمۃ فمن اللہ فراء نے کہا ہے : ما بمعنی الجزاء ہے۔ اور بکم میں بافعل مضمر کے متعلق ہے، تقدیر عبارت ہے : وما یکن بکم۔ من نعمۃ یعنی جسمانی صحت، وسعت رزق اور اولاد وغیرہ فمن اللہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وما بکم من نعمۃ فمن اللہ ہی۔ ثم اذا مسکم الضر یعنی پھر جب تمہیں بیماری، مصیبت اور قحط سالی (غربت وغیرہ) آپہنچتی ہے۔ فالیہ تجئرون تو اسی کی جانب دعا کے ساتھ گڑ گڑاتے ہو۔ کہا جاتا ہے : جأ ریجأ رجؤا رأ اور الجؤار الخوار کی طرح ہے ؛ کہا جاتا ہے : جأر الثور یجأر یعنی بیل نے شور مچایا۔ اور بعض نے عجلا جسدا لہ جؤار۔۔۔ قرأت کی ہے۔ اسے اخفش نے بیان کیا ہے۔ اور جأر الرجل إلی اللہ یعنی آدمی نے دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عجزو انکساری اور تضرع کا اظہار کیا۔ اور اعشی نے گائے کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ہے : فطافت ثلاثا بین یوم ولیلۃ وکان النکیر أن تضیف وتجأرا ثم اذا کشف الضر عنکم پھر جب اللہ تعالیٰ تم سے بلا، مصیبت اور بیماری دور فرما دیتا ہے۔ اذا فریق منکم بربھم یشرکون تو اس مصیبت کے ازالہ کے بعد اور گڑگڑاہٹ کے بعد تم میں سے فوراً ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ پس کلام کا معنی ہلاک ہونے سے نجات پانے کے بعد شرک کرنے پر اظہار تعجب کرنا ہے، اور یہ معنی قرآن کریم میں کئی بار ذکر کیا گیا ہے، سورة الانعام اور یونس میں گزر چکا ہے، اور سبحان وغیرہ میں آرہا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ اس کے ساتھ خاص ہے جس نے کفر کیا۔ لیکفروا بما اتینھم یعنی اس طرح وہ انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا جو اس نے ان سے ضرونقصان اور مصیبت کو، دور فرما کر ان پر انعام فرمایا، یعنی انہوں نے شرک کیا تاکہ وہ انکار کریں، پس لام ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لام عاقبت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : لیکفروا بما اتینھم یعنی اس طرح انہوں نے نعمت کو سبب کفر بنا دیا، اور یہ سب فعل خبیث ہے، جیسا کہ کسی نے کہا : والکفر مضبثۃ لنفس المنعم انعام کرنے والے کی ذات کے لئے انکار خبث ہے فتمتعوا یہ امر برائے تہدید و جھڑک ہے۔ اور عبد اللہ نے قل تمتعوا پڑھا ہے۔ فسوف تعلمون (اے ناشکرو ! چند روز لطف اٹھا لو تم عنقریب اپنے عمل کا انجام جان لوگے) ۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کفرو ! ) خدا کی قسم کہ جو تم افترا کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی۔

آیت نمبر 56 قولہ تعالیٰ : ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنھم ان کی جہالت کی دوسری نوع کا ذکر کیا ہے، اور وہ یہ کہ وہ مقرر کرتے ہیں اپنے مالوں میں سے کچھ حصہ ان کے لئے جن کے بارے وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کوئی نقصان اور نفع دے سکتے ہیں اور وہ بت ہیں (صرف اس لئے) تاکہ وہ اس کے سبب ان کے قریب ہوجائیں ؛ یہ حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) وغیرہ نے کہا ہے، پس اس معنی کے مطابق یعلمون مشرکین کے لئے ہوگا (یعنی وہ نہیں جانتے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بتوں کے لئے ہے، اور اسے واؤ، نون کے ساتھ ذکر کرکے انہیں قائم مقام ذوالعقول کے رکھا ہے، اور یہ ضمیر ما کی طرف لوٹ رہی ہے اور یعلم کا مفعول محذوف ہے، اور تقدیر عبارت ہے : ویجعل ھولاء الکفار للأصنام التی لا تعلم شیئا نصیبا (اور یہ کفار ان بتوں کے لئے حصہ مقرر کر رہے ہیں جو کچھ بھی نہیں جانتے) ۔ اور اس معنی کی تفسیر سورة الانعام میں اس قول کے تحت گزر چکی ہے : فقالوا ھذا للہ بزعمھم وھذا الشرکآئنا (الانعام : 136) (اور کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کے لئے) پھر خبر سے خطاب کی طرف رجوع فرمایا اور ارشاد فرمایا : تاللہ لتسئلن (قسم بخدا ! تم سے ضرور باز پرس ہوگی) تو یہ سوال اور بازپرس برائے زجر و توبیخ ہوگی۔ عما کنتم تفترون یعنی اس کے بارے میں جو تم اللہ تعالیٰ کے بارے مختلف نوعیت کے جھوٹ بولتے ہو کہ اس نے تمہیں اس بارے حکم دیا ہے۔
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کیلئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں (اور) وہ ان سے پاک ہے اور پنے لئے (بیٹے) جو مرغوب (و دل پسند) ہیں۔

آیت نمبر 57 قولہ تعالیٰ : ویجعلون للہ البنت یہ آیت بنی خزاعہ اور کنانہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، پس وہ کہتے تھے بیٹیوں کو بیٹیوں کے ساتھ ملحق کر دو ۔ سبحنہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی پاکی بیان فرمائی ہے اور اپنے آپ کا اس سے عظیم تر (اور بےنیاز) ہونے کا ذکر کیا ہے جس کی نسبت وہ اس کی طرف کرتے ہیں (یعنی) کسی کو اولاد بنانا۔ ولھم ما یشتھون یعنی اپنے لئے تو وہ بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ اور ما مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اس کی خبر لھم ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول سبحنہ پر کلام مکمل ہوگئی۔ اور فراء نے اس کے محل نصب میں ہونے کو جائز قرار دیا ہے، تقدیر کلام ہوگی : ویجعلون لھم مایشتھون۔ اور زجاج نے اس کا انکار کیا ہے۔ اور کہا ہے : عرب اس جیسے کلام میں ویجعلون لأنفسھم استعمال کرتے ہیں۔
Ayah 16:58

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو دیکھو تو وہ اندوزناک ہوجاتا ہے

آیت نمبر 58 قولہ تعالیٰ : واذا بشر احدھم بالانثی یعنی جب ان میں سے کسی کو بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے۔ ظلل وجھہ مسودا تو اس کا چہرہ متغیر ہوجاتا ہے، اور یہاں سواد (سیاہی) سے مراد وہ نہیں ہے جو بیاض (سفیدی) کی ضد ہے، بلکہ یہ اس کی بچی کے سبب غمزدہ اور پریشان ہونے سے کنایہ ہے۔ اور ہر وہ آدمی جسے کوئی مکروہ اور ناپسندیدہ شے لاحق ہو اس کے لئے عرب کہتے ہیں : قد اسود وجھہ غما وحزنا۔ (تحقیق اس کا چہرہ غم اور پریشانی کے سبب سیاہ ہوگیا) ؛ یہ زجاج نے کہا ہے۔ اور ماوردی نے بیان کیا ہے کہ مراد رنگ کا سیاہ ہونا ہی ہے، فرمایا : یہی جمہور کا قول ہے۔ وھو کظیم اور وہ غم اور رنج سے بھر جاتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا معنی حزین (غمزدہ، پریشان حال) ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : یہ وہ ہے جو اپنا غصہ پی جاتا ہے اور اسے ظاہر نہیں کرتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک یہ وہ مغموم اور پریشان حال آدمی ہے جو اپنا منہ بند کرلیتا ہے اور غم کی وجہ سے کلام نہیں کرتا، یہ الکظامۃ سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی مشکیرے کا منہ بند کرنا ہے ؛ یہ علی بن عیسیٰ نے کہا ہے۔ اور یہ معنی سورة یوسف میں گزر چکا ہے۔