Ayah 8:66الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم ماءۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوا الفین اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا کہ تمہارے اندر (جسمانی) طاقت کم ہے پس اب اگر تم میں سے جم کر لڑنے والے سو ہوں گے تو دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (صابر) ہوں گے تو دوہزار دشمنوں پر غالب آئیں گے۔
باذن اللہ بمشیت اللہ۔ حکم میں تخفیف کردی گئی ‘ دس گنی طاقت سے لڑنے کی جگہ دوگنی طاقت سے لڑنے کا حکم ہوگیا۔ اب کافروں کی تعداد مسلمانوں سے دوگنی ہو تو فرار جائز نہیں۔ سفیان کا بیان ہے کہ شبرمہ نے فرمایا : میرے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی یہی حکم ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی تعداد جب کم تھی تو ان کو زیادہ تعداد سے لڑنے کا حکم دیا ‘ جب مسلمان زیادہ ہوگئے تو حکم میں تخفیف کردی۔ ایک ہی حکم (یعنی دس کے سو سے مقابلہ کرنے کا حکم) دو متناسب اعداد میں دینے سے یہ غرض ہے کہ یہ تناسب پیش نظر رہنا چاہئے ‘ خواہ تعداد کم ہو یا زیادہ (یعنی ایک دس ‘ دو بیس ‘ تین تیس ‘ چار چالیس ‘ دس سو ‘ بیس دو سو وغیرہ) ۔
وا اللہ مع الصبرین۔ اور اللہ (کی مدد) ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان ثابت قدم نہ رہیں اور غالب نہ آئیں۔
امام احمد نے حضرت انس کی روایت سے ‘ ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس کی روایت سے ابن ابی شیبہ ‘ احمد ‘ ترمذی ‘ ابن المنذر اور طبرانی وغیرہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے ابن المنذر ‘ ابن مردویہ ‘ ابو الشیخ اور ابو نعیم نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے اور ترمذی نے حضرت ابن مسعود کی روایت کو حسن بھی کہا ہے کہ بدر کے قیدیوں میں حضرت عباس بھی تھے۔ ایک انصاری نے آپ کو گرفتار کیا تھا اور انصاریوں نے ان کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو جو یہ اطلاع ملی تو (آپ کو رات بھر نیند نہیں آئی اور) آپ نے فرمایا : مجھے اپنا چچا عباس کے خیال سے آج رات نیند نہیں آئی۔ انصار کا خیال ہے کہ عباس کو قتل کردیں۔ حضرت عمر نے عرض کیا : تو کیا میں انصار کے پاس جاؤں ؟ فرمایا : ہاں۔ حضرت عمر انصار کے پاس گئے اور ان سے کہا : عباس کو چھوڑ دو ۔ انصار نے کہا : وا اللہ ! ہم نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اسی کو پسند کرتے ہیں۔ انصار نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ کی یہ رضا ہے تو ان کو لے لو۔ حضرت عمر نے حضرت عباس کو لے لیا۔ جب حضرت عباس قبضہ میں آگئے تو حضرت عمر نے کہا : عباس ! مسلمان ہوجاؤ ‘ آپ کا اسلام لانا مجھے خطاب کے مسلمان ہونے سے بھی زیادہ عزیز ہے اور اس بات کی صرف یہ وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آپ کا مسلمان ہونا پسند ہے۔
بخاری اور بیہقی نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ انصاری اجازت لے کر خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنے بھانجے عباس کا زرفدیہ معاف کردیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ‘ خدا کی قسم ! ایک درہم بھی نہ چھوڑو۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا : یہ قیدی اللہ نے تمہارے قابو میں کر دئیے ہیں ‘ یہ سب تمہارے بھائی بند ہیں۔ ان کے متعلق تم لوگوں کا کیا مشورہ ہے ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ آپ کے قبیلہ کنبہ کے لوگ ہیں ‘ اللہ نے ان پر آپ کو کامیابی اور نصرت عنایت کردی ہے۔ یہ سب چچا زادے ہیں ‘ قبیلہ والے ہیں ‘ بھائی ہیں ‘ ان کو قتل نہ کیجئے۔ میری رائے ہے کہ ان سے زر فدیہ لے لیجئے۔ ہم کو جو مال ان سے وصول ہوگا ‘ وہ کافروں کے مقابلہ کیلئے ہمارے لئے باعث قوت ہوگا اور امید ہے کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ ان کو ہدایت فرما دے گا اور یہ آپ کے بازو بن جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا ‘ وطن سے نکال باہر کیا اور آپ سے جنگ کی۔ میری رائے ابوبکر کی رائے کے موافق نہیں ‘ میری رائے ہے کہ فلاں شخص (حضرت عمر کا ایک قریبی عزیز تھا ‘ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عمر نے کہا) کو آپ میرے قابو میں دے دیں کہ میں اس کی گردن مار دوں تاکہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کی محبت نہیں ہے۔ یہ قریش کے سرداران ہیں ‘ پیشوا ہیں ‘ لیڈر ہیں ‘ ان کی گردنیں مار دیجئے۔
حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! وادی میں بہت سی لکڑیاں جمع کر کے ‘ آگ لگا کر ان کو جلا ڈالئے۔ حضرت عباس ‘ حضرت عبد اللہ کی یہ بات سن رہے تھے ‘ بولے : تم نے قرابت کا رشتہ کاٹ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لے گئے۔ کچھ لوگ کہنے لگے : حضرت ابوبکر کی بات رسول اللہ ﷺ قبول کرلیں گے۔ کسی نے کہا : حضرت عمر کے مشورہ پر چلیں گے۔ اور بعض کا خیال ہوا کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی رائے اختیار کرلیں گے۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا : کچھ لوگوں کے دل اللہ اتنے نرم کردیتا ہے کہ وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوجاتے ہیں اور بعض کے دل اتنے سخت کردیتا ہے کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ ابوبکر ! تمہاری مثال (صحابہ میں) ایسی ہے جیسے ملائکہ میں میکائیل ‘ جو بارش لاتے ہیں اور انبیاء میں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہوں نے کہا تھا : مَنِ اتَّبَعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنِّکَ غَفُوْرٌ رَّحَیْمٌط جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔ عمر ! تمہاری مثال (صحابہ) میں ایسی ہے جیسے ملائکہ میں جبرئیل جو سختی ‘ مصیبت اور عذاب اللہ کے دشمنوں پر لاتا ہے اور انبیاء میں جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) جنہوں نے کہا تھا : رَبِّ لَا تُذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا اے رب ! زمین پر کافروں کے کسی متنفس کو نہ چھوڑ۔ یا جیسے انبیاء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے جنہوں نے کہا تھا : رَبَّنَا اطْمِسْ عَلآی اَمْوَالِھِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَلاَ یَؤْمِنَوْا حتّٰی یَرَدُوْا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ اے اللہ ! ان کے مالوں کو یکسر برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں (اور معائنہ عذاب کے بعد ایمان قبول نہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم دونوں متفق الرائے ہوتے تو میں تمہاری رائے کے خلاف نہ کرتا۔ تم لوگ نادار ہو ‘ اسلئے ان میں سے کوئی بغیر فدیہ ادا کئے نہیں چھوٹ سکتا ‘ یا اس کی گردن ماری جائے گی۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! سہل بن بیضاء کو مستثنیٰ فرما دیجئے ‘ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے سنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کا بیان ہے : مجھے آسمان سے اپنے اوپر پتھر برسنے کا اندیشہ اس روز سے زیادہ کبھی نہیں ہوا (کہ میں نے ایک کافر کی سفارش کی) آخر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سہل بن بیضاء مستثنیٰ ہے۔ دوسرا دن ہوا تو حضرت عمر ؓ صبح ہی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے ‘ دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رو رہے ہیں۔ عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! رونے کی کیا وجہ ہے ؟ بتائیے ‘ اگر میں بھی رو سکا ..... رو دوں گا ‘ ورنہ آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونی شکل بنا لوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن خطاب کی رائے کے خلاف کرنے سے ہم پر دردناک عذاب آنے والا ہی تھا ‘ اگر عذاب آجاتا تو ابن خطاب کے علاوہ عذاب سے کوئی بھی نہ بچتا۔ ایک قریب کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اس درخت سے بھی زیادہ نزدیک عذاب جو تم لوگوں پر آنے والا تھا ‘ مجھے دکھایا گیا (مگر اللہ نے وہ عذاب ٹال دیا) اس پر آیات ذیل کا نزول ہوا۔
Ayah 8:67ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا وا اللہ یرید الاخرۃ وا اللہ عزیز حکیم۔ نبی کیلئے زیبا نہیں کہ اس کے قیدی باقی رہیں جب تک کہ وہ اچھی طرح زمین میں (کفار کی) خونریزی نہ کرلے۔ تم تو دنیا کا مال اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتا ہے اور اللہ زبردست قوت والا ‘ بڑی حکمت والا ہے۔ (1) [ قاضی ابو الفضل عیاض نے شفاء میں لکھا ہے کہ آیت ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی الخ میں رسول اللہ ﷺ کو کسی قصور کا مجرم اور گناہ کا مرتکب قرار دینا مقصود نہیں ہے بلکہ دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں آپ کی خصوصیت اور برتری کو ظاہر کرنا مقصود ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مال غنیمت میرے لئے حلال کیا گیا ‘ مجھ سے پہلے کسی نبی کیلئے حلال نہیں کیا گیا۔
قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ تریدون میں خطاب ان لوگوں کو ہے جن کی خالص غرض وغایت صرف دنیوی ساز و سامان ہے اور مال کی کثرت ہی ان کا مقصد ہے۔ اس میں خطاب نہ رسول اللہ ﷺ کو ہے نہ عام صحابہ کو بلکہ ضحاک کی روایت میں آیا ہے کہ جب بدر کے دن مشرک شکست کھا کر بھاگے تو لوگ لڑائی چھوڑ کر مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے ‘ اس سے حضرت عمر کو اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں کفار پھر پلٹ کر حملہ نہ کردیں۔
یثخن فی الارض یعنی خوب قتل کرے ‘ کافروں کو کمزور اور کفر کو ذلیل کر دے۔ اَثْخَنَہٗ المرضُمرض نے اس کو سست کردیا۔ آیت میں مفعول محذوف ہے ‘ یعنی یُثْخِنَ الْاَسْرٰیقیدیوں کو خوب قتل کرے۔ قاموس میں ہے : اَثْخَنَ فَلاَنًافلاں شخص کو کمزور کردیا۔ اَثْخَنَ فی العدوِّدشمن کو خوب زخمی کیا۔ تریدون یعنی اے مسلمانو ! تم فدیہ لے کردنیوی متاع حقیر کے خواستگار ہو۔ وا اللہ یرید الاخرۃ اور اللہ تمہارے لئے آخرت کا ثواب چاہتا ہے کہ مشرکوں کو قتل کر کے اور اللہ کے دین کی مدد کر کے تم آخرت کا ثواب کماؤ۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ واقعہ بدر کے دن کا ہے۔ مسلمان اس زمانہ میں کم تھے۔ جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور ان کا اقتدار قوی ہوگیا تو آیت فَاِمَّامَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فدَآءًانازل کر کے اللہ نے حکم مذکور منسوخ کردیا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو قیدیوں کو قتل کردیں ‘ چاہیں تو باندی غلام بنا لیں ‘ چاہیں تو فدیہ لے کر چھوڑ دیں ‘ چاہیں تو ویسے ہی آزاد کردیں۔
مسئلہ : علماء کا بالاتفاق فیصلہ ہے کہ امام المسلمین کا قیدیوں کو قتل کردینے کا اختیار ہے۔ یہ آیت اسی مضمون پر دلالت کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بنی قریظہ کو قتل کرا دیا تھا اور نضر بن حارث ‘ طعیمہ بن عدی اور عقبہ بن ابی معیط کو بھی گرفتاری کے بعد قتل کرا دیا تھا۔ سبیل الرشاد میں ہے کہ عقبہ بن ابی معیط نے کہا : محمد ! بچوں کا کون ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : آگ۔ عقبہ کو بقول ابن اسحاق ابن ابی الافلح نے قتل کیا تھا اور بقول ابن ہشام حضرت علی بن ابی طالب نے۔
مسئلہ : قیدیوں کو غلام بنائے رکھنا باتفاق علماء جائز ہے۔ اس میں کافروں کے شر کا دفعیہ اور مسلمانوں کی مصلحت کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ نے فرمایا : کوئی از خود قیدی کو قتل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ فیصلہ امام کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ جو مناسب سمجھے کرے۔ ہاں ‘ اگر کسی نے ازخود (بغیر امام کی اجازت کے) قیدی کو قتل کردیا تو اس کو قتل کا تاوان نہیں دینا پڑے گا۔
مسئلہ : قیدیوں کو چھوڑ کر بلا معاوضہ دارالحرب میں بھیج دینا ‘ یا تاوان لے کر دارالحرب بھیج دینا ‘ یا مسلمان قیدیوں سے تبادلہ کرلینا ‘ یا ذمی بنا کر دارالاسلام میں آزادی کے ساتھ رکھنا ‘ یہ سب شقیں اِمَّامَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فدَآءًاکی ہیں اور علماء کا ان مسائل میں اختلاف ہے۔ امام مالک ‘ امام شا فعی ‘ امام احمد ‘ سفیان ثوری ‘ اسحاق (بن راہویہ) حسن اور عطا کا قول ہے کہ (مفت) چھوڑ دینا ‘ یا فدیہ لے کر رہا کرنا ‘ یا قیدیوں سے تبادلہ کرنا ‘ سب صورتیں جائز ہیں۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف ‘ امام محمد اوزاعی ‘ قتادہ اور ضحاک قائل ہیں کہ مفت احسان رکھ کر چھوڑنا ناجائز ہے۔ مالی معاوضہ لے کر رہا کرنے کے متعلق امام ابوحنیفہ اور صاحبین کا مشہور قول یہ ہے کہ یہ بھی ناجائز ہے لیکن سیر کبیر میں ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں جب کہ مسلمانوں کو مال کی ضرورت ہو۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک قیدیوں کا تبادلہ بھی ایک روایت کی رو سے ناجائز ہے۔ صاحب قدوری و ہدایہ نے یہی قول نقل کیا ہے لیکن قوی ترین روایت یہ ہے کہ تبادلہ جائز ہے۔ صاحبین کا بھی قول یہی ہے۔
رہا آزاد کر کے ذمی بنا لینا تو امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک جائز ہے۔ حضرت عمر نے اہل عراق اور باشندگان شام کو ذمی بنا کر رکھا تھا۔ امام شافعی و امام احمد کے نزدیک ناجائز ہے کیونکہ قیدی ہونے کے بعد وہ مملوک ہوگئے (اور مملوک کو ذمی نہیں بنایا جاسکتا) ۔
امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ اگر مفت ‘ یا مال لے کر ‘ یا قیدیوں سے تبادلہ کر کے ان کافروں کو دارالحرب بھیج دیا جائے گا تو کافروں کو قوت حاصل ہوگی اور لوٹ کو وہ دوبارہ ہم سے لڑیں گے۔ مؤخر الذکر صورت کے عدم جواز کی ایک وجہ یہ ہے کہ کافر قیدیوں کو دارالحرب میں بھیجنا تو ہمارا فعل ہے ‘ ہم اپنے اس فعل سے کفر کی اعانت کے مرتکب ہوں گے اور مسلمان قیدی کا کافروں میں قید رہنا ‘ یہ اللہ کی طرف سے مسلمان قیدی کا امتحان ہے جس کے مرتکب ہم نہیں (لہٰذا ہم کو تبادلہ کر کے کفر کی اعانت نہ کرنا چاہئے) باقی رہی آیت فَاِمَّامَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فدَآءًا تو یہ آیت منسوخ ہوگئی ‘ آیت فَاِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْبِھِمْ مَّنْ خَلْفَھُمْاور آیت اُقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْآیت فدیہ کے حکم کی ناسخ ہیں۔
جمہور کے نزدیک آیت مَن وفدیہ منسوخ نہیں کیونکہ حضرت ابن عباس کا بیان ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ جب مسلمانوں کی کثرت ہوگئی اور ان کا اقتدار قوی ہوگیا تو آیت اِمَّامَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فدَآءًا نازل ہوئی۔ رہا آیت اُقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَکا حکم تو ان مشرکوں سے قیدی مراد نہیں ہیں کیونکہ باتفاق علماء قیدیوں کو باندی غلام بنانا جائز ہے (قتل کرنا لازم نہیں) اور امام ابوحنیفہ تو ان کو ذمی بنا کر چھوڑ رکھنے کے قائل ہیں (اسلئے ان کے نزدیک تو واجب القتل مشرکوں سے قیدی مراد ہو ہی نہیں سکتے) ۔
مسلم نے صحیح میں ‘ ابو داؤد نے مسند میں اور ترمذی نے جامع میں حضرت عمران بن حصین کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو مسلمانوں کا ایک مشرک (قیدی) سے تبادلہ کیا۔
مسلم اور احمد اور اصحاب السنن الاربعہ نے حضرت سلمہ بن اکوع کے حوالہ سے بیان کیا ہے ‘ حضرت سلمہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو ہمارا امیر بنا کر جہاد پر بھیجا۔ ہم نے آپ کے زیر قیادت بنی فزارہ پر لشکر کشی کی۔ جب (بنی فزارہ کے) پانی پر پہنچنے کیلئے ایک گھنٹہ کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر کے حکم پر ہم نے پڑاؤ کیا ‘ پھر آپ نے بنی فزارہ پر حملہ کردیا اور ان کے پانی پر اتر گئے اور وہاں جس (فزاری) کو مارا جانا تھا ‘ مارا گیا۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ جن میں عورتیں اور بچے تھے ‘ ایک بلندی کی طرف جا رہے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ مجھ سے پہلے یہ پہاڑی پر پہنچ جائیں گے (اور محفوظ ہوجائیں گے) اسلئے میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان حائل ہو کر ان پر تیر برسانا شروع کئے۔ جب انہوں نے تیر (برستے دیکھے تو رک گئے اور میں ان کو ہنکاتا لے آیا۔ ان میں بنی فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس کے ساتھ عرب کی حسین ترین ایک لڑکی تھی۔ میں ان کو ہنکاتا ہوا حضرت ابوبکر تک لے آیا۔ حضرت ابوبکر نے وہ لڑکی مجھے عنایت کردی۔ پھر ہم مدینہ کو آگئے مگر (راستہ میں) میں نے اس لڑکی کا کپڑا تک نہیں کھولا۔ بازار میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات مجھ سے ہوئی ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : سلمہ ! یہ عورت مجھے دے دے۔ میں نے عرض کیا : رسول اللہ ﷺ ! یہ تو مجھے پسند ہے اور میں نے اب تک اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔ دوسرا دن ہوا تو پھر بازار میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات ہوئی اور حضور ﷺ نے فرمایا : سلمہ ! اللہ تیرا بھلا کرے ‘ یہ عورت مجھے دے دے۔ میں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ آپ کیلئے ہے ‘ میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا ہے۔ حضور ﷺ نے اس عورت کو مکہ بھیج دیا اور مکہ میں جو مسلمان قیدی تھے ‘ اس کے عوض ان قیدیوں کو رہا کرا لیا۔ ابن اسحاق اور ابو داؤد نے حضرت عائشہ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کا زرفدیہ بھیجا تو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب نے بھی اپنے شوہر ابوالعاص کے فدیہ میں وہ ہار بھیجا جو ان کو حضرت خدیجہ نے جہیز میں دیا تھا۔ اس ہار کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ پر سخت رقت طاری ہوگئی اور صحابہ سے فرمایا : اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور جو چیز اس نے بھیجی ہے ‘ اس کو بھی واپس کر دو ۔ صحابہ نے اس حکم کی تعمیل کی۔ حاکم کی صحیح روایت میں اتنا زائد آیا ہے کہ ابو العاص کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ نے اس سے وعدہ لے لیا تھا کہ وہ حضرت زینب کو بھیج دے۔ اس نے وعدہ کے مطابق عمل کیا۔
ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ من جملہ ان لوگوں کے جن کو رسول اللہ ﷺ نے بلامعاوضہ رہا کیا تھا ‘ حضرت ابو ایوب انصاری کا قیدی مطلب بن حنطب بھی تھا اور ابوغزہ جمحی بھی تھا۔ یہ محتاج آدمی تھا اور اس کی (چند) لڑکیاں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ سے اس نے (اپنی عیالداری اور ناداری کا عذر پیش کر کے رہائی کی) درخواست کی تھی۔ حضور ﷺ نے اس سے وعدہ لے لیا تھا کہ کسی کی مدد میرے خلاف نہ کرنا۔ اس نے چند اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی مدح بھی کی تھی لیکن احد میں مشرکوں کا شریک ہو کر پھر یہ لڑنے آیا ‘ آخر گرفتار کرلیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سے پھر اس نے معافی کی درخواست کی ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : اب تیرے رخسار مکہ کی خاک کو نہیں چھو سکتے کہ تم مکہ پہنچ کر کہے کہ میں محمد ﷺ کو دوبارہ جل دے آیا۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے اس کی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔
سبیل الرشاد میں ذکر کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کو جن کے پاس مال نہ تھا ‘ رسول اللہ ﷺ نے بلامعاوضہ رہا کردیا اور جن لوگوں سے زرفدیہ وصول کیا ‘ اس کی مقدار فی کس ایک ہزار سے چار ہزار تک وصول کی۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان لوگوں کے متعلق مجھ سے درخواست کرتا تو اس کی وجہ سے میں ان کو (بلامعاوضہ) چھوڑ دیتا۔
حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ سوار یمامہ کی جانب روانہ کئے۔ وہ بنی خلیفہ کے ایک آدمی کو پکڑ لائے جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ صحابہ نے اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ثمامہ ! تیرے پاس کیا ہے ؟ ثمامہ نے جواب دیا : بھلائی۔ محمد ﷺ اگر تم مجھے قتل کر دو گے تو خونی کو قتل کرو گے ‘ اگر کرم کر کے چھوڑ دو گے تو شکرگذار پر کرم کرو گے اور اگر مال چاہتے ہو تو جتنا چاہو طلب کرو۔ رسول اللہ ﷺ اس کو یونہی چھوڑ کر تشریف لے گئے۔ دوسرا دن ہوا تو پھر تشریف لائے اور فرمایا : ثمامہ ! کیا خیال ہے ؟ ثمامہ نے گذشتہ جواب کی طرح جواب دیا۔ حضور ﷺ چھوڑ کر تشریف لے گئے۔ تیسرا روز ہوا تو پھر تشریف لائے اور فرمایا : ثمامہ ! تیرا کیا خیال ہے ؟ ثمامہ نے جواب دیا : میرا خیال وہی ہے جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں۔ فرمایا : ثمامہ کو چھوڑ دو ۔ صحابہ نے کھول دیا۔ مسجد کے پاس ہی کچھ کھجور کے درخت تھے ‘ وہاں جا کر ثمامہ نے غسل کیا ‘ پھر مسجد میں آیا اور کہا : اشھد ان لآ الٰہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ۔ محمد ﷺ خدا کی قسم ! روئے زمین پر کسی کی صورت سے مجھے اتنی نفرت نہ تھی جتنی آپ کی صورت سے تھی ‘ مگر اب آپ کا چہرہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہے۔ خدا کی قسم ! کسی دین سے مجھے اتنی نفرت نہ تھی جتنی کہ آپ کے دین سے تھی ‘ مگر اب آپ کا مذہب مجھے تمام مذاہب سے زیادہ پیارا ہوگیا۔ آپ کا شہر تمام شہروں سے زیادہ میرے لئے قابل نفرت تھا ‘ مگر اب تمام شہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہوگیا۔ میں عمرہ کرنے جا رہا تھا کہ آپ کے سواروں نے پکڑ لیا ‘ اب آپ کا کیا حکم ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ثمامہ کو بشارت دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا۔ جب ثمامہ مکہ پہنچے تو ایک شخص نے کہا : کیا تم بےدین ہوگئے ؟ ثمامہ نے کہا : نہیں ‘ میں اسلام لے آیا۔ آئندہ خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا۔
امام احمد نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے متعلق لوگوں سے مشورہ طلب کیا اور فرمایا : اللہ نے ان پر تم کو قابو عطا فرما دیا ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ان کی گردنیں مار دیجئے۔ حضور ﷺ نے ان (کے مشورہ) کی طرف توجہ نہ دی۔ حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر عرض کیا : مناسب یہ ہے کہ آپ ان سے درگذر فرمائیں اور فدیہ قبول کرلیں۔ رسول اللہ ﷺ نے (حضرت ابوبکر کے مشورہ کے موافق) ان کو معاف کردیا اور فدیہ قبول کرلیا۔ اس پر اللہ نے نازل فرمایا۔
Ayah 8:68لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فی مآ اخذتم عذاب عظیم۔ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہو چکتا تو جو چیز تم نے اختیار کی ہے ‘ اس کے متعلق تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوجاتی۔
یعنی اللہ جب کسی قوم کو ہدایت کرتا ہے تو جب تک ممنوعات کو کھول کر نہیں بیان کردیتا ‘ ان ممنوعات کا ارتکاب کرنے والوں کو نہ گمراہ قرار دیتا ہے نہ ان کو عذاب دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ منع کرنے سے پہلے کسی عمل کے مرتکب کا مؤاخذہ نہیں کرتا ‘ اگر یہ بات نہ ہوتی تو تم پر عذاب آجاتا۔ حسن ‘ مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر نے آیت کا تفسیری مطلب یہی بیان کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں سے پہلے کسی کیلئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا۔ آسمان سے ایک آگ آتی تھی جو مال غنیمت کو کھا جاتی تھی۔
بدر کے مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے حالانکہ اس وقت تک ان کیلئے مال غنیمت کی حلت نہیں ہوئی تھی ‘ اس پر اللہ نے آیت لولا کتاب من اللہ الخ نازل فرمائی۔ مطلب یہ کہ اللہ نے لوح محفوظ میں پہلے سے لکھ دیا تھا کہ مال غنیمت تمہارے لئے حلال کردیا جائے گا ‘ اگر یہ سابق کا لکھا ہوا حکم نہ ہوتا تو تم پر عذاب آجاتا۔ حضرت ابن عباس کا بیان کردہ تفسیری مطلب اسی طرح روایت میں آیا ہے۔ بعض نے توضیح مطلب اس طرح کی ہے کہ بدر کے قیدیوں کو قتل کردینے سے دوسرے کافروں پر ہیبت پڑتی اور اسلام کی قوت کا مظاہرہ ہوتا۔ یہ بات مسلمانوں نے نہیں سمجھی بلکہ انہوں نے خیال کیا کہ اگر معاوضہ لے کر قیدیوں کو آزاد کردیا جائے گا تو دو فائدے ہوں گے ‘ ایک یہ کہ قیدی زندہ رہیں گے اور آئندہ مسلمان ہو سکیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جن لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تھا ‘ آئندہ ان میں سے اکثر مسلمان ہوگئے۔ دوسرا فائدہ یہ کہ مال مل جائے گا تو مسلمانوں کی جہادی طاقت قوی ہوجائے گی (اسلحہ اور گھوڑے خریدیں گے) یہ مسلمانوں کی اجتہادی غلطی تھی ‘ اسی کے متعلق آیت میں فرمایا گیا ہے۔ لوح محفوظ میں اللہ نے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ اجتہادی غلطی کرنے والے پر عذاب نہ ہوگا ‘ اگر یہ سابقہ فیصلہ نہ ہوتا تو عذاب آجاتا۔
بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ لوح محفوظ میں پہلے سے ہی اللہ نے لکھ دیا تھا کہ اہل بدر پر عذاب نازل نہیں کرے گا ‘ اگر یہ سابقہ فیصلہ نہ ہوا ہوتا تو تم پر عذاب آجاتا۔ فی ما اخذتم یعنی تم لوگوں نے اللہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے محض اپنی صوابدید پر جو قیدیوں کا فدیہ لے لیا ‘ اس بناء پر تم پر عذاب آجاتا۔ یا یہ مطلب کہ حلال ہونے اور اللہ کی طرف سے حکم نازل ہونے سے پہلے جو تم نے مال غنیمت لے لیا ‘ اس وجہ سے تم پر عذاب آجاتا۔ (1) [ بعض لوگوں کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارا ایمان قرآن پر نہ ہوتا جو سابق کتاب ہے اور اس پر ایمان لانے کی وجہ سے تم درگذر کے مستحق ہوگئے ہو تو تم پر عذاب آجاتا۔ یعنی اگر تم قرآن کو ماننے والے نہ ہوتے ‘ اگر اس گروہ میں نہ ہوتے جس کیلئے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے (اور گذشتہ اقوام میں سے ہوتے) تو تم پر عذاب آجاتا۔ ان تمام تاویلات و توجیہات سے ثابت ہوتا ہے کہ مال غنیمت لینے والوں نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ‘ کوئی نافرمانی نہیں کی۔ قاضی ابوبکر بن علاء نے کہا کہ اس آیت میں اللہ نے یہ بتایا ہے کہ مال غنیمت اور فدیہ کے حلال ہونے کا جو حکم اللہ نے پہلے سے لکھ دیا تھا ‘ اللہ کے پیغمبر کی فکر رسا اس کے مطابق واقع ہوئی۔ بدر کے واقعہ سے ایک سال پہلے بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوگیا تھا کہ عبد اللہ بن حجش کے جہادی دستہ میں جس میں ابن حضرمی کا قتل ہوا ‘ رسول اللہ ﷺ نے فدیہ لے لیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے قیدیوں کا فدیہ لے کر چھوڑ دینا سمجھ سوچ کر کیا گیا تھا جیسے اس سے پہلے بھی حضور ﷺ نے کیا تھا اور اللہ نے اس پر اظہار ناراضگی نہیں کیا تھا ‘ پس بدر کا کیس بھی ناراضگی کے قابل نہ تھا۔ اس کا ذکر کرنے سے ناراضگی اور عتاب کا اظہار مقصود نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ چونکہ عظیم الشان تھا ‘ بہت قیدیوں کو چھوڑ 1 گیا تھا ‘ اسلئے بطور منت نہی ذکر کردیا اور مؤکد طور پر بتادیا کہ اس چیز کی حلت پہلے سے ہی لوح محفوظ میں لکھ دی گئی تھی اور تم پر یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔]
ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ جتنے لوگ وہاں حاضر تھے ‘ ان میں سوائے حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ کے کوئی مال فدیہ کو ناپسند نہیں کرتا تھا۔ حضرت عمر نے ضرور رسول اللہ ﷺ کو قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا اور حضرت سعد بن معاذ نے بھی عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ ! خوب خوں ریزی کرنی میرے نزدیک ان لوگوں کو باقی رکھنے سے اچھی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر آسمان سے عذاب آجاتا تو سوائے عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے اور کوئی نہ بچتا۔
ابن ابی شیبہ ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن سعد ‘ ابن جریر ‘ ابن حبان اور بیہقی نے حضرت علی کی روایت سے لکھا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے کہ حضرت جبرئیل نے آکر رسول اللہ ﷺ سے کہا : محمد ! تمہاری قوم نے جو قیدیوں کا فدیہ لے لے لیا ‘ ان کی یہ حرکت اللہ کو ناپسند ہوئی۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ اپنی قوم کو دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا حکم دے دو : یا تو وہ آگے بڑھ کر ان قیدیوں کی گردنیں مار دیں ‘ یا ان کا فدیہ لے لیں۔ لیکن فدیہ لینے کی شرط یہ ہے کہ قیدیوں کی گنتی کے برابر تمہاری قوم کے آدمی (آئندہ) مارے جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بلوا کر ان سے اس حکم کا ذکر کیا۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ قیدی تو ہمارا خاندانی کنبہ ہیں ‘ ہمارے بھائی ہیں ‘ ہم ان سے فدیہ اسلئے لے رہے ہیں کہ دشمنوں کے مقابلہ میں ہم کو (اسلحہ وغیرہ کی) قوت حاصل ہوجائے۔ اب اگر ان لوگوں کی گنتی کے برابر ہمارے آدمی شہید ہوجائیں تو ہم اس بات کو برا نہیں سمجھتے (چنانچہ آئندہ جنگ احد میں ستر صحابی شہید ہوگئے) ۔ (2) [ قاضی ابو الفضل عیاض نے شفاء میں لکھا ہے کہ (اجازت دونوں باتوں کی تھی ‘ صرف صحیح اور اصح یعنی غیر اولیٰ اور اولیٰ کا فرق تھا) صحابہ نے کوئی کام خلاف اذن نہیں کیا تھا ‘ صرف بعض لوگوں نے فدیہ لینے کو جو غیر اولیٰ تھا ‘ قتل و خوں ریزی پر جو اولیٰ فعل تھا ‘ ترجیح دی تھی اور اولیٰ کو ترک کیا تھا۔ اولیٰ عمل کو ترک کرنے پر ہی ان کو عتاب کیا گیا۔ بعض کو اختیار غیر اولیٰ اور بعض کو اختیار اولیٰ پر متنبہ کیا۔ بہرحال نافرمانی کسی نے نہیں کی تھی۔ طبری نے بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے ‘ اس قصہ میں جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر آسمان سے عذاب آجاتا تو اس سے سوائے عمر کے اور کوئی نہ بچتا ‘ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عمر اور انہی کے ہم خیال لوگوں کی رائے صحیح تھی۔ حضرت عمر کا نام تعیین کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ سب سے پہلے حضرت عمر نے ہی قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ خلاصہ یہ کہ اس فعل نے عذاب کا مستحق تو بنا دیا تھا مگر تقدیر سابقہ میں چونکہ فدیہ لینا حلال کردیا گیا تھا ‘ اسلئے عذاب نازل نہ ہوا کیونکہ عذاب کا نزول مقدر ہی نہ تھا۔
داؤدی کا قول ہے : اوّل تو یہ خبر ثابت نہیں اور ثابت بھی ہو تو اس سے یہ ثابت نہ ہوسکتا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیز کا حکم دیا تھا جس کی اللہ کی طرف سے کوئی نص نہ تھی۔ اللہ نے اپنے رسول کیلئے اس بات سے (یعنی ازخود کوئی دینی حکم دینے سے) پاک ہونے کا اظہار کردیا ہے۔]
بغوی نے لکھا ہے کہ آیت سابقہ کے نزول کے بعد فدیہ کا مال لینے سے صحابہ نے ہاتھ روک لئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 8:69فکلوا مما غنمتم حلالاً طیبًا واتقوا اللہ ان اللہ غفور رحیم۔ سو جو کچھ تم نے لے لیا ہے ‘ اس کو حلال پاک سمجھ کر کھاؤ اور اللہ (کے حکم کی خلاف ورزی) سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا ‘ بڑی رحمت والا ہے۔
یعنی تم نے جو فدیہ اور مال غنیمت لے لیا ہے ‘ اب اللہ نے اس کو تمہارے لئے مباح کردیا (اب اس کو کھا سکتے ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے چھ خصوصیات عطا فرما کر دوسرے انبیاء پر برتری دی گئی ہے۔ ان چھ خصوصیات میں آپ نے ایک خصوصیت یہ ذکر فرمائی کہ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ رواہ الترمذی عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے صحیح سند سے حضرت سائب بن یزید کی روایت سے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : مجھے دوسرے انبیاء پر فضیلت پانچ خصوصیات دے کر عطا کی گئی ہے اور میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا ‘ جبکہ مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں کیا گیا۔ بیہقی نے صحیح سند سے بروایت حضرت ابو امامہ یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں پانچ کی جگہ چار کا لفظ ہے۔ طبرانی نے حضرت ابو درداء کی روایت سے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم سے پہلے کسی کیلئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا۔ اللہ نے ہماری کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر ہمارے لئے اس کو پاک بنا دیا۔
بغوی نے لکھا ہے : ہم سے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا اور مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں کیا گیا۔ وا اللہ اعلم
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب بھی بدر کے دن گرفتار کر لئے گئے تھے۔ آپ ان دس میں سے ایک تھے جنہوں نے بدر والے کافروں کے کھانے کا ذمہ لیا تھا۔ خاص بدر کے دن سب (قریش اور دوسرے کافروں) کو کھانا کھلانے کی آپ کی باری تھی۔ آپ بیس اوقیہ سونا کھانا کھلانے کیلئے لے کر آئے تھے۔ جب بدر کے دن جنگ ہوگئی تو وہ سونا حضرت عباس ؓ کے پاس رہ گیا اور جب گرفتار ہوئے تو وہ سونا بھی آپ کے پاس ہی تھا۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ یہ بیس اوقیہ سونا میرے زر فدیہ میں محسوب کرلیا جائے۔ حضور ﷺ نے انکار کردیا اور فرمایا : جو چیز تم (اسلام کے خلاف) کام میں لانے کیلئے لے کر نکلے ہو ‘ میں اس کو تمہارے لئے نہیں چھوڑوں گا (یعنی زر فدیہ میں شمار نہیں کروں گا) حضرت عباس کو مجبور کیا گیا کہ اپنے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کا فدیہ ادا کریں۔ حضرت عباس نے عرض کیا : محمد ﷺ تم نے مجھے ایسا کر کے چھوڑا ہے کہ جب تک زندہ رہوں ‘ قریش کے سامنے بھیک مانگتا پھروں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تو وہ سونا کیا ہو 1 جو مکہ سے چلتے وقت تم اُمّ الفضل کو دے آئے تھے اور یہ کہہ آئے تھے کہ معلوم نہیں مجھے کیا پیش آئے ؟ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو یہ سونا تمہارا اور عبد اللہ اور عبید اللہ اور فضل اور قثم کیلئے موجود ہے۔ یعنی حضرت عباس کے چاروں بیٹوں کیلئے۔ حضرت عباس نے عرض کیا : آپ کو کس نے بتایا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے میرے رب نے بتایا۔ حضرت عباس فوراً بول اٹھے : اَشْھَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ الا اللّٰہُ واشھد انک عبد ورسولہ سوائے اللہ کے اس کے کوئی واقف نہ تھا۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ بیہقی ‘ ابو نعیم ‘ اسحاق بن راہویہ ‘ طبرانی اور ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن اسحاق اور ابونعیم نے حضرت جابر بن عبد اللہ کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن ستر قیدی گرفتار کئے ‘ ان میں حضرت عباس اور عقیل بھی تھے اور ان پر چالیس اوقیہ سونا زرفدیہ مقرر کیا۔ بیہقی نے اسماعیل بن عبدالرحمن کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت عباس اور عقیل اور نوفل اور ان کے بھائی کا زرفدیہ چار سو دینار تھا۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بدر کے ہر قیدی کے فدیہ سے زیادہ حضرت عباس کا فدیہ تھا۔ تنہا آپ کا زرفدیہ ایک سو اوقیہ سونا تھا۔
ابو داؤد نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے کافروں کا فدیہ (فی کس) چار سو مقرر کیا تھا۔ حضرت عباس نے عرض کیا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ مال کیا ہوا جو تم اُمّ الفضل کو دے کر آئے تھے اور یہ کہہ کر آئے تھے کہ اس سفر میں اگر مجھ پر کوئی افتاد پڑے تو یہ میرے بیٹوں فضل اور عبد اللہ اور قثم کا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے عرض کیا : وا اللہ ! میں یقین کرتا ہوں کہ آپ بلاشک اللہ کے رسول ہیں۔ اس چیز سے تو سوائے میرے اور اُمّ الفضل کے اور کوئی واقف ہی نہ تھا۔ حضرت سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ حضرت عباس پر چار سو اوقیہ (زر) فدیہ مقرر کیا تھا۔ کچھ لوگوں نے چالیس کہا ہے اور عقیل پر اسّی اوقیہ۔ حضرت عباس نے عرض کیا : آپ نے مجھے عمر بھر کیلئے قریش میں سب سے محتاج کر کے چھوڑ دیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 8:70یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسرٰی ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرًا یؤتکم خیرًا مما اخذ منکم ویغفرلکم وا اللہ غفور رحیم۔ اے نبی ﷺ ! تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں ‘ ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ کو تمہارے دلوں کے اندر بہتری معلوم ہوئی تو تم سے جو کچھ لیا گیا ہے ‘ اس سے بہتر تم کو اللہ عنایت کر دے گا اور تمہارے قصور معاف کر دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔
محمد بن یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں لکھا ہے کہ بدر کے قیدیوں کی ایک جماعت نے جس میں حضرت عباس بھی شامل تھے ‘ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : ہم تو مسلمان تھے ‘ مجبوری کے زیراثر ہم (مقابلہ پر) آئے تھے ‘ ہم سے فدیہ کیوں لیا جا رہا ہے ؟ اس پر آیت یا ایھا النبی نازل ہوئی۔
فی قلوبکم خیرًا میں خیر سے مراد ہے ایمان اور اخلاص۔ یوتکم خیرًاسے یہ مراد ہے کہ جو فدیہ تم سے لیا گیا ہے ‘ اس سے چند گنا دنیا میں اور ثواب آخرت میں عنایت کرے گا۔
طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عباس نے فرمایا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے مسلمان ہونے کی اطلاع دی اور درخواست کی کہ جو بیس اوقیہ سونا میرے پاس نکلا ہے ‘ اس کو حساب میں لگا لیا جائے ‘ تو خدا کی قسم ! یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ نے اس سونے کے عوض مجھے بیس غلام عنایت کر دئیے جن میں سے ہر ایک میرے سرمایہ سے تجارت کرتا ہے (اور کل نفع مجھے ملتا ہے) اسی کے ساتھ میں اللہ سے مغفرت کا بھی امیدوار ہوں۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول اس طرح نقل کیا ہے : اللہ نے اس کے عوض مجھے بیس غلام عنایت فرما دئیے کہ سب کے سب تاجر ہیں اور کثیر مال کماتے ہیں۔ ہر ایک کم سے کم بیس ہزار درہم بجائے بیس اوقیہ کے کماتا ہے اور اللہ نے مجھے زمزم (کی تولیت) بھی عنایت کردی ہے جس کے مقابلہ میں مجھے مکہ کا سارا مال بھی پسند نہیں اور مجھے اپنے رب سے مغفرت کی امید بھی لگی ہوئی ہے۔
سبیل الرشا میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت حضرت عباس نے فرمایا : کاش ! مجھے اس مال سے جو آپ نے لیا ہے ‘ کئی گنا زیادہ لیا ہوتا کیونکہ اللہ نے مجھے اس مال سے بہتر عنایت کردیا۔ یعنی چالیس غلام عنایت کر دئیے جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں (میرا) مال ہے جس سے وہ کمائی کرتا ہے (اور وہ کمائی میری ہوتی ہے) اور مجھے اللہ سے مغفرت کی امید بھی لگی ہوئی ہے۔
بخاری اور حضرت ابن سعد کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بحرین سے کچھ مال آیا۔ آپ نے حکم دیا : اس کو مسجد میں پھیلا دو (یعنی یونہی بےقدری کے ساتھ ڈال دو ) اتنے میں حضرت عباس آگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! (مجھے اس میں سے) عنایت کیجئے ‘ میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ ادا کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لے لو۔ حضرت عباس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا کپڑا بھر لیا اور جب اٹھانے لگے تو اٹھا نہ سکے ‘ کہنے لگے : کسی کو اٹھوانے کا حکم دے دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ حضرت عباس نے کہا : تو آپ اٹھوا دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ حضرت عباس نے (مجبوراً ) کچھ حصہ نکال دیا اور اٹھا کر کاندھے پر رکھ کرلے گئے اور جاتے ہوئے کہنے لگے : اللہ نے جو وعدہ فرمایا تھا ‘ میں وہی لے رہا ہوں۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس کی مالی حرص معائنہ فرمائی اور جاتے میں جب تک نظر کے سامنے رہے ‘ برابر دیکھتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں اٹھے جب تک وہاں ایک درہم بھی رہا۔
Ayah 8:71وان یرید واخیانتک فقد خانوا اللہ من قبل فامکن منھم وا اللہ علیم حکیم۔ اور اگر وہ آپ سے فریب کرنا چاہیں گے تو (پرواہ نہ کرو) اس سے پہلے بھی وہ اللہ سے خیانت کرچکے اور ان کو اللہ نے (آپ کے) قابو میں دے دیا۔ اور اللہ جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔
یعنی فدیہ دے کر یا مفت قید سے چھوٹ کر اگر وہ بدعہدی اور پیمان شکنی کریں گے (تو عہد شکنی کا وبال انہی پر پڑے گا) اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہد الست کو انہوں نے اس سے پہلے توڑ دیا کفر و شرک میں مبتلا ہو کر۔ یا یہ مراد ہے کہ عقل عطا فرما کر جو ان سے (فطری) عہد لیا گیا ‘ اس کو انہوں نے توڑ دیا ‘ آخر اللہ نے ان پر آپ کو قابو عنایت کردیا۔ اب اگر دوبارہ یہ عہد شکنی کریں گے تو ہم دوبارہ ان کو آپ کے قابو میں دے دیں گے۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو غزہ جمحی کو بدر کے دن بغیر فدیہ لئے اپنی عنایت سے رہا کردیا اور اس سے وعدہ لے لیا کہ ہمارے خلاف کسی مشرک کی آئندہ مدد نہ کرنا۔ لیکن احد کی جنگ میں وہ مشرکوں کے ساتھ ہو کر آیا ‘ آخر گرفتار کرلیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے پکڑوا کر اس کو قتل کرا دیا۔
وا اللہ علیم حکیم یعنی اللہ ان کے دلوں کے خیالات اور ارادہ سے واقف ہے اور اسکے افعال پر حکمت اور مبنی برمصلحت ہیں۔
Ayah 8:72ان الذین امنوا وھاجروا وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک بعضھم اولیآء بعضط بیشک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے (مہاجرین کو) رہنے کو جگہ دی اور (ان کی) مدد کی ‘ یہ لوگ باہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
ھاجروا یعنی جنہوں نے اپنی قوم کو اور اپنے گھروں کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں چھوڑا۔ مطلب یہ کہ جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی۔ وجاھدوا باموالھم یعنی اسلحہ اور گھوڑوں کے خریدنے اور دوسری دینی ضرورتوں میں مال صرف کیا۔ والَّذِین اٰوَوْا اور جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مہاجر ساتھیوں کو اپنے گھروں کے اندر مدینہ میں جگہ دی اور ٹھہرایا۔
وَنَصَرُوْا اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ کی مدد کی (اوّل گروہ سے مراد مہاجرین ہیں اور) ان سے مراد انصار ہیں۔ اولٰئک بعضھم اولیاء بعض یہ سب باہم دوست ہیں ‘ کافروں کے دوست نہیں ‘ خواہ وہ ان کے (خاندان اور رشتہ کے اعتبار سے) قرابتدار ہی ہوں۔ لہٰذا مؤمنوں کیلئے کافروں سے (قلبی) دوستی کرنی جائز نہیں ‘ نہ ان کی مدد کرنی جائز ہے ‘ خواہ کفار ان کے باپ دادا ‘ یا بیٹے پوتے ‘ یا چچا ماموں ہوں ‘ یا ان کے کنبہ اور قبیلہ والے ہوں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا نزول میراث کے متعلق ہوا۔ مہاجرین آپس میں وارث ہوتے تھے۔ مسلم غیر مہاجر ‘ مسلم مہاجر کا وارث نہیں ہوتا تھا ‘ خواہ وہ اس کا قرابتدار ہی ہوتا۔ گویا باہم توارث کی بنیاد ہجرت تھی (اسلام نہ تھا) لیکن جب مکہ فتح ہوگیا اور ہجرت کا حکم ختم ہوگیا تو پھر مہاجر ‘ غیر مہاجر باہم وارث ہونے لگے اور قرابت ‘ وراثت کی بنیاد قرار پائی اور اس آیت کے حکم کو اللہ نے آیت واولوا الارحام بَعْضُھُمْ اَولٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَاب اللّٰہِ سے منسوخ کردیا۔
میرے نزدیک اگر آیت زیر تفسیر کو میراث کے متعلق ہی قرار دیا جائے تب بھی یہ منسوخ نہیں ہے ‘ ناسخ منسوخ کا حکم تو اس وقت ہوگا جب دونوں آیتوں میں ایسا تضاد ہو جس کو دور کرنا ممکن نہ ہو۔ حضرت ابن عباس نے جو یہ فرمایا کہ مہاجرین و انصار باہم وارث ہوتے تھے ‘ قرابتدار وارث نہیں ہوتے تھے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرابتدار کافر ‘ مہاجرین کے وارث نہیں ہوتے تھے کیونکہ دونوں میں دینی اختلاف تھا (اور اختلاف دین اب بھی میراث سے مانع ہے) اور مؤمن غیر مہاجر اپنے قرابتدار مؤمن مہاجر کا وارث نہ ہوتا تھا کیونکہ وطنیت اور دار کا اختلاف تھا (ایک دارالحرب کا ‘ دوسرا دارالسلام کا رہنے والا تھا اور اختلاف دار مانع میراث اب بھی ہے) آخر جب مکہ فتح ہوگیا اور دارالسلام بن گیا اور ہجرت کا حکم ختم ہوگیا اور اہل مکہ مسلمان ہوگئے تو (اختلاف دین بھی جاتا رہا اور اختلاف دار بھی لہٰذا) باہم قرابتدار وارث ہونے لگے۔ رہی یہ بات کہ انصاری ‘ مہاجر کا وارث ہوتا تھا تو ایسا ہونا ہی چاہئے تھا کیونکہ دونوں کے درمیان موالات کا معاہدہ تھا اور اب بھی اگر میراث سے کوئی امر مانع نہ ہو اور کوئی نسبی یا سببی وارث نہ ہو تو عقد موالات اب بھی موجب میراث ہے۔ امام اعظم کا یہی مسلک ہے۔ عقد موالات کا موجب ارث ہونا منسوخ نہیں ہوا۔
ایک امر باقی رہتا ہے کہ انصار ‘ مہاجر کا یا مہاجر ‘ انصاری کا ایسی صورت میں وارث ہوتا تھا کہ قرابتدار مؤمن مدینہ میں موجود ہو اور عقد موالات کے تحت انصاری اور مہاجر باہم وارث ہوں ‘ قرابتدار وارث نہ ہوں تو یہ بات روایت سے ثابت نہیں ‘ نہ آیت اس مضمون پر دلالت کر رہی ہے۔
والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولا یتھم من شیء حتی یھاجروا وان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر الا علی قوم بینکم وبینھم میثاق وا اللہ بما تعلمون بصیر۔ اور جو لوگ ایمان (تو) لے آئے اور ہجرت نہیں کی ‘ تمہارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں تاوقتیکہ وہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ تم سے دین کے کام میں مدد طلب کریں تو تمہارے ذمے ان کی مدد کرنا لازم ہے مگر اس قوم کے مقابلہ میں نہیں کہ جن سے تمہارا معاہدۂ (صلح) ہو۔ اور اللہ بلاشک تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
مالکم من ولایتھم چونکہ فریضۂ ہجرت کو (باوجود قادر ہونے کے) ترک کرنے والا مؤمن فاسق ہے ‘ اسلئے غیر مہاجر مؤمن کی دوستی کی نفی کردی جو بظاہر نفی ہے مگر مراد نہی ہے (یعنی غیر مہاجر سے دوستی مت کرو) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاسق مسلمان کی دوستی صالح مؤمن کیلئے اس وقت تک زیبا نہیں جب تک وہ توبہ نہ کرلے اور اگر ولایت سے مراد میراث ہو تو میراث کی نفی ہوجائے گی۔ اس سے یہ نتیجہ مستفاد ہوگا کہ اختلاف دارین میراث سے مانع ہے۔
وان اسْتَنْصَرُوْکُمْ یعنی اگر غیر مہاجر مؤمن حربی دشمنوں کے مقابلہ میں تم سے دینی مدد کے خواستگار ہوں تو ان کی مدد کرنی تم پر واجب ہے۔ الاعلی قومہاں جس (کافر) قوم سے تمہارا معاہدۂ (صلح) ہو تو اس کے خلاف مدد کرنی درست نہیں ‘ عہدشکنی جائز نہیں ‘ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ابوجندل کی مدد نہیں کی۔ یہ قصہ تفصیل کے ساتھ سورة الفتح میں ذکر کردیا گیا ہے۔ وا اللہ بما تعملون بصیر اس آیت میں حدود شرع سے تجاوز کرنے کی ممانعت اور بازداشت ہے۔
Ayah 8:73والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض اور وہ جو کافر ہیں ‘ وہ باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کافروں سے دوستی کرنی اور (مسلمانوں کے خلاف) ان کی مدد کرنی مؤمنوں کیلئے جائز نہیں۔ حضرت اسامہ بن زید کی روایت سے بخاری و مسلم نے صحیحین میں اور اصحاب السنن نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ مسلمان ‘ کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر ‘ مسلم کا۔ سورة النساء میں آیت میراث کی تفسیر میں ہم نے اس کی توضیح کردی ہے۔
مسئلہ : مبسوط میں ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کچھ حربی کافر دارالحرب میں کسی کافر بستی پر حملہ کردیں اور اس بستی کے باشندوں کو لوٹیں اور وہاں کافر بھی رہتے ہوں اور مستامن مسلمان بھی ‘ تو مسلمانوں کیلئے بستی والے کافروں کی مدد کرنی جائز نہیں ‘ ہاں اگر اپنی جان و مال کا اندیشہ ہو تو حملہ کرنے والوں سے مقابلہ کرنا جائز ہے کیونکہ لڑائی میں مقابلہ کرنے کا معنی ہے اپنی جان دینے کیلئے تیار ہوجانا اور مسلمان کی جان صرف اللہ کا بول بالا کرنے اور دین کی عزت کو قائم رکھنے کیلئے دی جاسکتی ہے یا اپنے اوپر سے ضرر کو دفع کرنے کیلئے۔ اگر اپنی جان و مال کا اندیشہ نہ ہو تو کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ بستی کے کافروں کی حملہ کرنے والے کافروں کے مقابلہ میں مدد کرے۔ کافروں کی حمایت میں جان دینا درست نہیں۔
مسئلہ : اگر دارالحرب میں کافروں کے ساتھ کچھ مسلمان بھی امن کا معاہدہ کر کے رہتے ہوں اور یہ کافر دارالحرب سے باہر کسی مسلمان گروہ پر حملہ کر کے ان کے بیوی بچوں کو گرفتار کر لائیں اور قیدیوں کو لے کر بستی والے مسلمانوں کی طرف سے گذریں تو اس بستی کے مسلمان باشندوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہم وطن لٹیروں سے لڑ کر مسلمان قیدیوں کو رہا کرائیں ‘ خواہ یہ قیدی خارجی ہی ہوں کیونکہ مسلمانوں کو قید کرنے سے یہ کافر ‘ مسلمانوں کے مالک نہیں بن جاتے۔ اب اگر کافروں کے قبضہ میں مسلمانوں کو رہنے دیا جائے گا تو یہ ظلم کی حمایت ہوگی۔ ہاں اگر مسلمانوں کا صرف مال لوٹ کر لائے ہوں تو چونکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک حربی کافر ‘ مسلمانوں سے لوٹے ہوئے مال کے مالک بن جاتے ہیں اور بستی میں رہنے والے مسلمانوں نے ان سے معاہدہ کرلیا ہے کہ جس مال پر تم قابض ہو گے ‘ اس سے تعرض نہیں کریں گے ‘ اسلئے دارالسلام سے لوٹے ہوئے مال کو چھڑانے کیلئے اپنے وطنی حربی کافروں سے جنگ جائز نہیں۔
الا تفعلوہ لکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بگاڑ ہوجائے گا۔
یعنی تم کو جو باہمی امداد و حمایت کرنے اور کافروں سے تعلقات منقطع کرنے یہاں تک کہ میراثی سلسلہ توڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اگر اس کی تعمیل نہ کرو گے (اور باہم امداد نہ کرو گے ‘ یا کافروں کی حمایت کرو گے) تو ملک میں ایک فتنہ یعنی کفر کا غلبہ پیدا ہوجائے گا اور بڑا بگاڑ ہوجائے گا۔ یعنی جہاد ترک کرنے اور کافر و مؤمن کے اختلاط رکھنے کی وجہ سے اسلام کمزور ہوجائے گا۔
Ayah 8:74والذین امنوا وھاجروا وجاھدوا فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک ھم المؤمنون حقًاط اور جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا (یعنی مہاجرین مجاہدین) اور وہ لوگ جنہوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی ‘ یہی سب لوگ حقیقی مؤمن ہیں۔ یعنی پکے ایمان والے ہیں ‘ اپنے مسلمان ہونے کے دعوے میں سچے ہیں۔ انہوں نے ہی ایمان کے تقاضوں کو پورا کیا ‘ ہجرت کی ‘ اللہ کی راہ میں جان و مال صرف کیا اور حق کی مدد کی۔ ان کے برخلاف وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے مگر نہ ہجرت کی نہ جہاد کیا۔ ان کو اگرچہ مؤمن کہنا صحیح تو ہے مگر اللہ نے فرمایا : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا لیکن ان کا ایمان کامل نہیں ‘ ان کی سچائی عمل سے ثابت نہیں ہوسکی ‘ ان کے ایمان میں نفاق کا احتمال ہے۔ بظاہر آیات میں تکرار نظر آرہی ہے لیکن حقیقت میں تکرار نہیں۔ پہلی آیت میں باہم امداد کرنے اور تعلقات مضبوط کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس جگہ ایسے لوگوں کی تعریف کی گئی ‘ دونوں جگہ مقصد جدا جدا ہے۔ پھر اس سے اگلے جملہ میں ان سے رزق وثواب کا وعدہ بھی فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے :
لھم مغفرۃ رزق کریم۔ ان کیلئے (آخرت میں) بڑی مغفرت ہے اور (جنت میں) بڑی عزت کی روزی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام اپنے سے پہلے (کے جرائم) کو ڈھا دیتا ہے اور ہجرت بھی پہلے (گناہوں) کو ڈھا دیتی ہے۔ حضرت عمرو بن عاص کی روایت سے یہ حدیث پہلے گذر چکی ہے۔
صلح حدیبیہ سے پہلے جن مسلمانوں نے ہجرت کرلی ‘ وہ پہلی ہجرت والے (مہاجرین سابقین) کہلاتے ہیں اور جنہوں نے حدیبیہ کے بعد ہجرت کی ‘ وہ دوسری ہجرت والے کہلاتے ہیں اور جن لوگوں نے دوبارہ ہجرت کی ‘ ایک بار مکہ چھوڑ کر حبش کو چلے گئے اور دوسری بار مدینہ کو گئے ‘ وہ دو ہجرتوں والے کہلاتے ہیں ‘ انہی میں حضرت عثمان اور حضرت جعفر طیار بھی تھے۔ پہلی ہجرت والوں کا ذکر اوپر کی آیت میں کردیا ‘ دوسری ہجرت والوں کا تذکرہ ذیل کی آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 8:75والذین امنوا من بعد وھاجوا وجاھدوا معکم فاولئک منکمط اور جو لوگ (صلح حدیبیہ کے) بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا تو وہ لوگ تم میں سے ہی ہیں۔ یہ مہاجرین اوّلین اور انصار کو خطاب ہے کہ دوسری ہجرت کرنے والے مجاہدین بھی تم ہی میں سے ہیں ‘ ان کا شمار بھی تم میں سے ہے ‘ وہ بھی تمہاری جنس میں سے ہیں۔ تم آپس میں دوست ہو اور ایک دوسرے کی میراث کا وارث ہے۔
واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم۔ اور (مسلمانوں میں) جو لوگ قرابتدار ہیں (وہ میراث اور صلۃ الرحم کے استحقاق میں قرابت نسب نہ رکھنے والوں کے مقابلہ میں) باہم زیادہ قرب رکھتے ہیں ‘ اللہ کے فیصلہ اور حکم میں یا لوح محفوظ میں یونہی ہے۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ قرابت ‘ اسلام اور نکاح سے میراث کو وابستہ کرنے کی حکمت کا بھی اسی کو علم ہے۔
اس آیت کا مضمون سابق آیت کے خلاف نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا اگر کوئی قرابتدار مسلمان ہو تو قرابت نہ رکھنے والے مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ قرابتدار مسلمان میراث کا زیادہ مستحق ہے۔ اب اگر وہ ان قرابتداروں میں سے ہو جن کا ذکر سورة النساء کی آیت میراث میں کیا گیا ہے تو وہ حسب تقسیم خداوندی میراث کا مستحق ہوگا اور اگر ان میں سے نہ ہو بلکہ اور دور پرے کا کوئی رشتہ دار ہو تب بھی وہ ان مسلمانوں کے مقابلہ میں جو بالکل اجنبی ہیں اور میّت سے ان کا دور کا رشتہ بھی نہیں ہوتا ‘ میّت کے مال کا زیادہ مستحق ہوگا اور میراثی قرابتداروں کے حصوں کی تعیین سورة النساء میں مذکور ہے۔ مؤخر الذکر اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس آیت کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جس کا کوئی (شرعی) وارث (ذی فرض یا عصبہ) نہ ہو ‘ اس کا ماموں وارث ہوتا ہے۔ یہ حدیث ہم نے سورة النساء میں ذکر کردی ہے۔
اس سے امام شافعی کے مسلک کا ضعف ظاہر ہو رہا ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ جس کا کوئی وارث نہ ہو ‘ نہ ذوی الفروض میں سے ہو ‘ نہ عصبات میں سے ‘ اس کا مال بیت المال میں داخل کردیا جائے گا (ذوی الفروض وہ وارث ہیں جن کے حصوں کی تعین اللہ نے خود کردی ہے اور عصبہ وہ وارث ہوتا ہے کہ ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جتنا مال بچتا ہے ‘ وہ سب اس کو مل جاتا ہے اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو وہ کل مال کا وارث ہوجاتا ہے اور اگر ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد کچھ نہیں بچتا تو اس کو کچھ نہیں ملتا۔ اگر کسی مسلمان کا کوئی بھی رشتہ دار مسلمان نہ ہو تو اس کا مال جمہور اہل اسلام کا ہوگا اور بیت المال میں داخل کردیا جائے گا۔ پہلی آیت میں یہ مضمون گذر چکا ہے کہ لاوارث مسلمان کا مال کافر رشتہ داروں کو نہیں دیا جائے گا بلکہ اجنبی ‘ بےقرابت مسلمانوں کو دیا جائے گا۔