8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے

یایھا الذین امنوا استجیبوا اللہ وللرسول اذا دعا کم لما یحییکمج اے ایمان والو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جبکہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ سدی نے کہا : زندہ کرنے والی چیز سے مراد ہے ایمان ‘ کیونکہ کافر مرد ہے۔ قتادہ نے کہا : قرآن مراد ہے۔ اسی سے زندگی ‘ نجات اور دونوں جہان میں عذاب سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے۔ مجاہد نے کہا : حق مراد ہے۔ ابن اسحاق کے نزدیک جہاد مراد ہے ‘ جہاد کے ذریعہ سے ہی اللہ نے ذلت کے بعد عزت عطا فرمائی۔ قتیبی کے نزدیک شہید ہونا مراد ہے۔ شہداء کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ فَرِحِیْنَ الخ۔ میں کہتا ہوں : سب سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ جس جس چیز کی رسول اللہ ﷺ نے دعوت دی ہے ‘ وہ سب مراد قرار دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی دل کو مردہ کردیتی ہے اور آپ کی اطاعت حیات قلب کی موجب ہے ‘ اس صورت میں دعوت کو ما یحییکم کے ساتھ مقید کرنا احترازی نہ ہوگا (یعنی یہ مطلب نہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ان چیزوں میں کرو جو زندہ کرنے والی ہیں اور جو تعلیم زندہ کرنے والی نہیں ہے ‘ اس میں اطاعت نہ کرو) بلکہ زندگی بخشی کی قید صرف اظہار مدح اور اطاعت پر برانگیختہ کرنے کیلئے ہوگی (اور اس بات پر تنبیہ ہوگی کہ رسول اللہ ﷺ کی ہر اطاعت زندگی بخش ہے) دل کی زندگی کا مطلب ہے : پردے ہٹا کر ‘ تاریکی چھانٹ کر دل سے غفلت دور کرنا۔ ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھ رہے تھے ‘ رسول اللہ ﷺ کا ان کی طرف سے گذر ہوا ‘ آپ نے ان کو آواز دی۔ حضرت ابی جلدی جلدی نماز پوری کر کے حاضر خدمت ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب میں نے تم کو پکارا تھا تو تم نے فوراً اجابت کیوں نہیں کی (میری دعوت پر لبیک کیوں نہیں کہا اور کیوں حاضر نہیں ہوئے) حضرت ابی نے عرض کیا : میں نماز میں تھا۔ فرمایا : کیا اللہ یہ نہیں فرماتا ہے : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوا للّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ۔ حضرت ابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! بیشک حضور کی دعوت پر لبیک ضروری تھی۔ آئندہ جب کبھی آپ پکاریں گے ‘ میں ضرور جواب دوں گا خواہ نماز ہی پڑھتا ہوں۔ یہ حدیث تائید کر رہی ہے کہ جس کام کی دعوت رسول اللہ ﷺ نے دی ہو اس کی تعمیل ضروری ہے۔ مسئلہ : بعض علماء کا قول ہے کہ نماز میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر جواب دینے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ بعض نے کہا : اگر کسی فوری کام کیلئے رسول اللہ ﷺ نے دعوت دی ہو تو اس کی تعمیل کیلئے نماز توڑ دینا لازم ہے۔ پہلا قول زیادہ قوی ہے ‘ ورنہ ہر دینی ضروری کام کیلئے جو تاخیر کرنے سے فوت ہو رہا ہو ‘ نماز توڑ دینا جائز ہے (دعوت رسول اللہ ﷺ کی ہی کیا خصوصیت ہے) مثلاً کوئی نابینا کنویں میں گر رہا ہو اور کوئی نمازی نماز پڑھ رہا ہو اور خیال ہو کہ اگر نماز نہ توڑے گا تو اندھا کنویں میں گرپڑے گا تو نماز توڑ کر اس کو راستہ بتانا اور بچا دینا جائز ہے۔ واعلموا ان اللہ یحول بین المروء و قبلہ اور جان رکھو کہ اللہ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی اور اس کے قلب کے درمیان۔ یعنی مردہ کر دے گا اور اطاعت خداوندی کی فرصت جو اس وقت حاصل ہے ‘ مرنے کے بعد نہیں ملے گی ‘ لہٰذا اس وقت کو غنیمت سمجھو ‘ بھلائیوں کی طرف تیزی سے بڑھو اور دلوں میں اللہ کی فرمانبرداری کیلئے خلوص پیدا کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ انسان طول حیات کی تمنا کرتا ہے مگر اللہ اس کے اور اس کی قلبی تمنا کے درمیان مانع ہوجاتا ہے اور اس کے عزائم کو فسخ کردیتا ہے ‘ لہٰذا تم امور دین میں سستی نہ کرو (اور طول حیات کی تمنا نہ کرو اور یہ امید نہ قائم کرو کہ آئندہ نیکیاں کرلیں گے) ۔ یا آیت میں بندہ سے اللہ کے قرب کو بطور تشبیہ بیان کیا ہے ‘ جیسے آیت وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ میں (انتہائی قرب کو بطور تشبیہ ظاہر کیا گیا) ہے اور اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ دل کے اسرار سے اتنا واقف ہے کہ آدمی خود اپنے قلبی راز سے غافل ہوسکتا ہے مگر اللہ ناواقف نہیں ہے ‘ لہٰذا اخلاص خاطر لازم ہے۔ یا اللہ کی کامل قدرت اور انسان کے دل پر اللہ کے پورا پورا قابو ہونے کی تصویرکشی کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ انسان کے عزم کو شکست کردینے اور مقصد کو بدل دینے پر پورا قابو رکھتا ہے ‘ اگر اللہ انسان کی سعادت چاہتا ہے تو کفر و معصیت اور انسان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے (اس صورت میں آدمی گناہ کی طرف نہیں بڑھ سکتا) اور اگر انسان کی بدبختی اس کو منظور ہوتی ہے تو ایمان وطاعت اور قلب کے درمیان حائل ہوجاتا ہے (اس صورت میں آدمی ایمان وطاعت کی طرف نہیں بڑھ سکتا) لہٰذا ہر وقت خاتمہ کا ڈر رکھنا اور اللہ سے ہر دم زاری اور التجا کی اور دعا کرتے رہنا چاہئے۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کثرت سے کرتے تھے : یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبَ ثَبِتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَاے دلوں کو پلٹنے والے ! میرے دل کو اپنی طاعت پر جمائے رکھنا۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لا چکے ہیں ‘ تو کیا آپ کو (آئندہ دین سے لوٹ جانے کا) ہمارے متعلق اندیشہ ہے ؟ فرمایا : تمام دل اللہ کی ایک چٹکی میں ہیں ‘ وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو الٹ پلٹ کردیتا ہے۔ روای الترمذی وابن ماجہ حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی ایک چٹکی میں ہیں ‘ وہ جس طرح چاہتا پھیر دیتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! اے دلوں کو پھیر دینے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی طاعت کی طرف پھیر دے (یا اپنی طاعت پر جما دے) رواہ مسلم۔ حضرت عمر بن خطاب نے ایک لڑکے کو یہ دعا کرتے سنا : اے اللہ ! تو آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ لہٰذا میرے اور میرے گناہوں کے درمیان حائل ہوجا ‘ تاکہ میں کوئی برا کام نہ کرسکوں۔ حضرت عمر نے فرمایا : اللہ تجھ پر رحمت کرے ‘ اور اس کو دعاء خیر دی۔ وانہ الیہ تحشرون۔ اور بلاشبہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے ‘ پس وہی تم کو تمہارے اعمال کی سزا جزا دے گا۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

واتقوا فتنۃً لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃً ج اور اس معصیت سے اجتناب کرو جس کا وبال صرف انہی لوگوں کو نہیں پہنچے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا بلکہ ظالم اور غیر ظالم سب کو اس کی مصیبت پہنچے گی۔ لاَّتُّصِیْبَنَّ کی ضمیر فتنہ کی طرف راجع ہے اور فتنہ کے پہنچنے سے مراد ہے فتنہ کا نتیجۂ بد کا پہنچا۔ لاتصیبن نہی کا صیغہ ہے اور یہ فتنہ کی صفت ہے (صفت کا موصوف پر حمل ہوتا ہے مگر نہی انشاء ہے اور انشاء کا حمل نہیں ہوتا ‘ اسلئے) لفظ یقالمحذوف ہے ‘ یعنی ایسی معصیت سے بچو جس سے کہا جائے گا کہ تیرا وبال صرف ظالم کو ہی نہ پہنچے بلکہ ظالم اور غیر ظالم سب کو پہنچے۔ یا نفی کا صیغہ ہے اور چونکہ یہ نفی نہی کے معنی کو متضمن ہے ‘ اسلئے نون ثقیلہ اس پر آگیا ‘ اس وقت مطلب وہ ہوگا جو اول الذکر ترجمہ سے ظاہر ہے۔ فتنہ یعنی معصیت سے مرا دکونسا گناہ ہے ‘ اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ترک مراد ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ کسی بدی کو اپنے اندر ٹھہرے نہ دیں ورنہ اللہ ایسے عذاب میں مبتلا کر دے گا جو مجرم اور غیر مجرم سب کو پہنچے گا۔ اس کی تائید حضرت ابوبکر صدیق کے فرمان سے ہو رہی ہے ‘ آپ نے فرمایا : لوگو ! تم آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ (مسلمانو ! تم اپنی ذا ت کے مکلف ہو ‘ اگر ہدایت پر ہوئے تو کوئی گمراہ اپنی گمراہی کا ضرر تم کو نہ پہنچا سکے گا) پڑھتے ہو اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : اگر لوگ ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور (باوجود قدرت کے) اس کی گرفت نہ کریں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنی طرف سے ان سب پر ایک عمومی عذاب لے آئے۔ یہ حدیث چاروں اصحاب سنن نے نقل کی ہے۔ ترمذی نے اس کو حسن صحیح اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگو ! بھلائی کا حکم دو اور بدی سے روکو اس سے پہلے کہ (ایسا وقت آجائے کہ) تم اللہ سے (اپنے بچاؤ کیلئے) دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ ہو اور گناہوں کی معافی کی درخواست کرو اور گناہ معاف نہ کئے جائیں۔ خوب سمجھ لو کہ بھلائی کا حکم دینا اور بدی سے روک دینا نہ (آنے والے) رزق کو دفع کرتا ہے اور نہ (دیر میں آنے والی) مقررہ موت کو قریب لے آتا ہے (یعنی اس سے نہ مالی مضرت پہنچتی ہے نہ جانی) علماء یہود و نصاریٰ نے جب بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دیا تو پیغمبروں کی زبانی اللہ نے ان پر لعنت بھیجی ‘ پھر سب کو عمومی عذاب میں مبتلا کردیا۔ رواہ الاصبہانی اس حدیث (کے مضمون) کی تائید حضرت ابن مسعود اور حضرت عائشہ کی روایات سے بھی ہوتی ہے۔ عدی بن عدی کندی کے دادا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ خاص خاص لوگوں کے (برے) عمل کی وجہ سے عمومی عذاب اللہ (نازل) نہیں کرتا ‘ ہاں اگر خاص طبقہ اپنے سامنے بدی ہوتے دیکھے اور اس کو رد کرنے پر قابو بھی رکھتا ہو اور باوجود قابو رکھنے کے رد نہ کرے تو پھر اللہ عام و خاص سب کو عذاب میں مبتلا فرما دیتا ہے۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ والمعالم حضرت نعمان بن بشیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی مقررہ حدود میں سستی کرنے والے اور ان میں داخل ہوجانے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جہاز میں کچھ لوگ سوار ہوں اور قرعہ اندازی کر کے کچھ زیریں حصہ میں اور کچھ بالائی حصہ میں قیام پذیر ہوں اور زیریں حصہ میں رہنے والا ‘ بالائی حصہ میں رہنے والوں کی طرف سے پانی کا مرور کرے اور پانی کے اس مرور سے ان کو تکلیف ہو ‘ اسلئے نیچے رہنے والا کلہاڑی لے کر جہاز کے نچلے حصہ میں کچھ سوراخ کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر اوپر والے کہیں : تم یہ کیا کرتے ہو ؟ سوراخ کرنے والا جواب دے : تم لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف ہوتی تھی اور پانی کا مرور بہرحال مجھے کرنا ہی تھا ‘ اسلئے سوراخ کر رہا ہوں۔ اب اگر اوپر والے اس کو سوراخ کرنے سے روک دیں گے تو وہ سوراخ کرنے والا بھی بچ جائے گا اور اوپر والے بھی بچ جائیں گے ورنہ وہ تو ڈوبے گا ہی ‘ ساتھ میں اوپر والے بھی مریں گے۔ رواہ البخاری میں کہتا ہوں : مذکورہ احادیث سے اس امر پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ظالم کے گناہ کا وبال غیرظالم پر بھی پڑتا ہے۔ ان احادیث سے تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اگر لوگوں کے سامنے کوئی شخص گناہ کرے اور وہ لوگ اس شخص کو گناہ سے روکنے پر (خواہ ہاتھ سے یا زبان سے) قدرت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں تو ایسی حالت میں اس گناہ کا عذاب عمومی ہوجاتا ہے جو کرنے والے پر بھی پڑتا ہے اور (ممانعت نہ کرنے والے) غیر مجرم پر بھی کیونکہ گناہ سے روکنا فرض ہے اور ایسا نہ کرنے والا ظالم ہے ‘ اسلئے عذاب کا مستحق یہ بھی ہوگیا اور اس پر عذاب ظالم پر ہی عذاب ہوا ‘ غیر مجرم پر عذاب نہ ہوا۔ دیکھو ! اس ساحلی بستی (یعنی ایلیا) کے رہنے والوں نے جب یوم شنبہ کی حرمت قائم رکھنے میں حدود مقررہ سے تجاوز کیا تو ایک گروہ (یعنی تدبیر اور حیلہ سے مچھلیاں تالاب میں قید کرنے والا گروہ) مجرم قرار پایا اور وہ گروہ بھی مبتلائے عذاب ہوا جنہوں نے خود شکار کا جرم نہیں کیا مگر روز شنبہ کی حرمت شکنی سے دوسروں کو نہ روکا۔ باقی تیسرا گروہ جنہوں نے شنبہ کی حرمت شکنی سے بازداشت کی ‘ ان پر عذاب نہیں آیا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْھَوْنَ عَنِ السُّوَ وَاخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابِالخ اس سے واضح ہو رہا ہے کہ ترک نہی کا عذاب صرف تارک پر پڑا ‘ غیر تارک مبتلائے عذاب نہی ہوئے۔ لیکن آیت زیر تفسیر دلالت کر رہی ہے کہ ایسی مصیبت آئے گی جو ظالم و غیرظالم دونوں کو پہنچے گی (اسلئے اس آیت کی مندرجۂ بالا تشریح غلط ہے) ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ فتنہ سے مراد ہے بغاوت اور ملک کی تخریب و تباہی ‘ اس کا وبال بےقصور لوگوں کو پہنچتا ہے۔ بےقصور لوگ مارے اور لوٹے جاتے ہیں۔ قتادہ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو دانشمند صحابی سمجھ گئے کہ عنقریب فتنے پیدا ہوں گے ‘ اسی بناء پر ابن زید نے کہا کہ فتنے سے مراد اس جگہ افتراق کلمہ اور آپس کی پھوٹ ہے۔ حسن بصری کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت علی ‘ حضرت عمار ‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے حق میں ہوا۔ مطرف کا بیان ہے کہ میں نے حضرت زبیر سے کہا : ابو عبدا اللہ ! آپ نے خود خلیفہ کی مدد نہیں کی جس کے نتیجہ میں وہ شہید کردیئے گئے ‘ پھر خود ہی ان کے خون کا قصاص طلب کرنے لگے۔ حضرت زبیر نے فرمایا : ہم اس آیت کو ایک مدت تک پڑھتے رہے اور نہیں سمجھتے تھے کہ اس آیت کے مصداق ہم ہیں ‘ آخر معلوم ہوا کہ ہم ہی اس آیت میں مراد ہیں۔ آپ کا اشارہ جنگ جمل کی طرف تھا جس روز کہ آپ نے حضرت علی کے خلاف بغاوت کی تھی۔ سدی ‘ ضحاک اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قصہ کی رفتار بتارہی ہے کہ آیت میں فتنہ سے مراد ہے جہاد نہ کرنا ‘ خصوصاً اس زمانہ میں جب امام کی طرف سے مجاہدین میں بھرتی ہونے کا عام اعلان کردیا گیا ہو اور جنگ کے وقت جہاد سے منہ موڑنا بھی مراد ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکَارِھُوْنَ یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ ۔ مؤمنوں کا ایک گروہ جہاد کو پسند نہ کرتا تھا اور حق کے معاملہ میں آپ سے جھگڑ رہا تھا۔ دوسری آیت میں یٰٓاَیُّھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زحفًا فَلاَ تُوْلُّوا ھُمُ الْاَدْبَارَ اے مسلمانو ! جب کافروں سے تمہاری لڑائی اور مڈبھیڑ ہوجائے تو ان کو پیٹھ نہ دو ۔ ایک اور آیت ہے : یٰٓاَیُّھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ اے ایمان والو ! اللہ اور رسول کے فرمان کو قبول کرو جب وہ تم کو دعوت دیں۔ ظالم اور مظلوم کو (عمومی) عذاب پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ مصیبت سب پر پڑے گی۔ اگر جہاد کو بالکل چھوڑ دیا جائے تو کافروں کا غلبہ ہوجائے گا۔ بچے ‘ بڑے ‘ عورت ‘ مرد سب ہی مسلمان مارے جائیں گے اور ان کا مال لوٹا جائے گا اور میدان جہاد سے منہ پھیر کر بھاگنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو مسلمان میدان میں جم کر لڑتے رہیں گے ‘ وہ (تعداد کی قلت اور مدد کے فقدان کی وجہ سے) شہید کر دئیے جائیں گے۔ دیکھو ! شیطانی اغواء کی وجہ سے جنگ احد میں جب کچھ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو اس کی مصیبت سب ہی مسلمانوں پر پڑی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرۂ مبارک بھی زخمی اور دانت شہید ہوگیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لاَتُصِیْبَنَّ (نفی نہ ہو بلکہ) نہی کا صیغہ ہو۔ پہلے فتنہ سے بچنے کا حکم دیا گیا ‘ پھر فتنہ کا ارتکاب کرنے کی ممانعت فرما دی۔ مطلب یہ ہے کہ فتنہ کا وبال صرف ظالم پر خصوصیت کے ساتھ پڑے گا ‘ پس تم فتنہ کا ارتکاب نہ کرو تاکہ ظالم (یعنی تم) پر فتنہ کا وبال نہ پڑے۔ اسی کی تائید بغوی کے قول سے ہوتی ہے کہ لاتصیبن خالص جزاء نہیں ہے (یعنی نفی نہیں ہے) ورنہ اس میں نون نہ آتا (نون ثقیلہ تو صرف نہی پر آتا ہے) بلکہ یہ کلمۂ نہی ہے مگر جزا آمیز۔ اس کی دوسری مثال کیلئے دیکھو اللہ نے فرمایا ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسَاکِنَکُمْ لاَ یَحْطِمَنَکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُوْدُہٗ (چیونٹیوں کے سرگروہ نے کہا :) چیونٹیو ! اپنے گھروں میں گھس جاؤ ‘ کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تم کو روند نہ ڈالے۔ یعنی اگر سوراخوں میں گھس نہ جاؤ گی تو سلیمان اور ان کا لشکر تم کو روند ڈالے گا۔ لاتصیبن امر کا جواب نہیں ہوسکتا ‘ اگر جواب قرار دیا جائے گا تو یہ مطلب ہوجائے گا کہ اگر فتنہ سے بچو گے تو وہ فتنہ (یعنی اس کا وبال) صرف تم کو نہیں پہنچے گا ‘ عام لوگوں کو پہنچے گا ‘ یعنی تم کو اور دوسرے لوگوں کو ‘ سب کو عموماً پہنچے گا (خلاصہ یہ کہ عذاب کی خصوصیت تمہارے ساتھ نہ ہوگی) کیونکہ (بقول شیخ عبدالقاہر) مقید کی نفی قید کی نفی ہوتی ہے (مطلق کی نفی نہیں ہوتی ‘ مطلق کیلئے حکم کا ثبوت باقی رہتا ہے) پس بصورت مذکورہ نزول عذاب کی خصوصیت زائل ہوجائے گی ‘ عموم باقی رہے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ امر کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ فتنہ تم کو پہنچے گا تو تم میں سے صرف ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا۔ میں کہتا ہوں : امر کے جواب میں ایک ایسی شرط محذوف ماننی ضروری ہے جو امر سے اخذ کی گئی ہو جیسے اَسْلمِْ تَدْخُلِ الْجَنَّتِہِ اسلام لا ‘ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یعنی اگر اسلام لائے گا تو جنت میں داخل ہوجائے گا ‘ یا آیت ادْخُلُوْا مَسَاکِنَکُمْ لاَ یَحْطِمَنَکُمْ سُلَیْمَانُ وَجُنُوْدُہٗ اپنے گھروں میں چلی جاؤ (اگر گھروں میں چلی جاؤ گی تو) سلیمان اور ان کا لشکر تم کو پامال نہ کر پائے گا۔ پس آیت مذکورہ میں اِنْ اَصَابَتکُمْکو شرط قرار دے کر محذوف ماننا غلط ہے بلکہ شرط محذوف اور جزاء مذکور سے مل کر جملہ شرطیہ ہو کر فتنہ کی صفت ہوگی ‘ امر کا جواب نہ ہوگا اور مطلب وہ ہوگا جو ہم نے سطور بالا میں بیان کردیا۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ لاتصیبن جواب قسم ہے اور قسم محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : فتنہ سے بچو ‘ بخدا ! وہ فتنہ تم میں سے صرف ظالموں (یعنی مجرموں) پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ تم سب پر پڑے گا۔ اس کلام کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں جس فتنہ سے بچنے کا حکم ہے ‘ وہ نکرہ ہے اور اس سے آگے لاَتُصِیْبَنَّ میں اس کی ضمیر ہے لہٰذا اس میں بھی عموم ہونا چاہئے ‘ گویا اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہر گناہ کا وبال مجرم اور غیرمجرم سب پر پڑے گا۔ یہ مطلب خلاف نص بھی ہے اور اجماع علماء بھی اس کے خلاف ہے (ہر گناہ کا وبال سب لوگوں پر پڑنا باتفاق علماء غلط ہے) لاَ تَزِرُوَا زِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی میں صراحت ہے کہ مجرم کا بار غیرمجرم پر نہیں پڑ سکتا ہے۔ لامحالہ یہی ماننا پڑے گا کہ فتنہ سے مراد ترک جہاد اور میدان سے فرار ہے اور دنیا میں ترک جہاد و فرار کی مصیبت عام مسلمانوں پر پڑنا فتنہ پہنچنے سے مراد ہے۔ واعلموا ان اللہ شدید العقاب اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ‘ لہٰذا اللہ کے عذاب کے خوف سے فتنہ سے اجتناب رکھو۔
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو

واذکروا اذ انتم قلیل مستضعفون فی الارض تخفون ان یتخطفکم الناس فاوکم وایدکم بنصرہ ورزقکم من الطیبت لعلکم تشکرون۔ اور اس حالت کو یاد کرو جب تم تھوڑے تھے ‘ اس زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ تم کو اندیشہ لگا رہتا تھا کہ (مخالف) لوگ تم کو نوچ کھسوٹ (نہ) لیں سو اللہ نے تم کو (مدینہ میں) رہنے کا ٹھکانا دیا اور اپنی نصرت سے تم کو قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا کیں تاکہ تم شکر کرو۔ واذکروا سے خطاب مہاجروں کو ہے اور قلیلہونے سے مراد ہے تعداد کم ہونا اور الارض سے مراد ہے مکہ اور الناس سے مراد قریش ہیں۔ لیکن ابو الشیخ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضور اقدس ﷺ سے دریافت کیا گیا : الناس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : اہل فارس۔ قوت دینے سے مراد ہے بدر میں قوت عطا کرنا۔ الطیبٰت سے مراد ہے مال غنیمت جو صرف مسلمانوں کیلئے حلال کیا گیا ‘ پہلے کسی امت کیلئے حلال نہیں کیا گیا۔ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ واذکروا میں تمام عرب سے خطاب ہے۔ عرب اسلام سے پہلے ذلیل تھے ‘ روم وفارس کے غلام تھے ‘ رومی اور ایرانی باہم دشمن تھے مگر عرب کے دشمن دونوں تھے۔ عربوں میں تاب مقابلہ نہ تھی۔ جب اسلام آیا تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے پاس عربوں کا محفوظ ٹھکانا بنا دیا ‘ عربوں کو مضبوط پناہ گاہ مل گئی اور تمام مذاہب والوں کے مقابلہ میں اللہ نے ان کی نصرت کی۔ بغوی نے سعید بن منصور کی روایت سے لکھا ہے کہ عبد اللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اکیس روز تک بنی قریظہ کا محاصرہ رکھا۔ بنی قریظہ نے درخواست کی کہ جن شرائط پر آپ نے بنی نضیر سے صلح کی ہے ‘ اسی شرط پر ہم سے بھی صلح کرلیجئے۔ جس طرح بنی نضیر کو اذرعات اور اریحا علاقۂ شام میں جا کر رہنے کی اجازت دے دی گئی ‘ ہم کو بھی ان کے پاس جا کر آباد ہونے کی اجازت دے دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ شرط ماننے سے انکار کردیا اور فرمایا : سعد بن معاذ کی ثالثی پر اگر راضی ہو تو اپنے پہاڑی قلعوں سے باہر آجاؤ اور سعد کے فیصلہ پر رضامند ہوجاؤ۔ بنی قریظہ نے سعد بن معاذ کی ثالثی قبول نہیں کی اور عرض کیا : ہمارے پاس ابولبابہ بن عبدالمنذر کو (گفتگو کرنے کیلئے) بھیج دیں۔ حضرت ابولبابہ کے بیوی بچے اور سارا مال یہودیوں کے پاس (یعنی ان کی بستی میں) تھا ‘ اسلئے آپ ان کے خیرخواہ تھے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابولبابہ کو بھیج دیا۔ حضرت ابو لبابہ پہنچے تو یہودیوں نے حضرت سعد بن معاذ کی ثالثی کے متعلق ان کی رائے دریافت کی۔ حضرت ابو لبابہ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کردیا ‘ مراد یہ تھی کہ حضرت سعد کا فیصلہ تمہارے سب کے قتل کا ہوگا ‘ تم ان کی ثالثی پر رضامند نہ ہو۔ سبیل الرشاد میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابولبابہ کو بھیج دیا ‘ آپ کو دیکھ کر یہودی استقبال کیلئے کھڑے ہوگئے اور عورتوں اور بچوں نے آپ کے سامنے رونا پیٹنا شروع کردیا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کا دل نرم پڑگیا۔ کعب بن اسد نے کہا : ابو لبابہ ! دوسروں کے مقابلہ میں ہم نے آپ کا انتخاب کیا ہے۔ محمد ﷺ اپنے فیصلہ پر اڑے ہوئے ہیں اور اپنی ہی شرط کے مطابق ہم کو باہر نکل آنے کا حکم دے رہے ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے ‘ کیا ہم محمد ﷺ کے فیصلہ کے مطابق (اپنی پناہ گاہوں سے) نیچے اتر آئیں ؟ حضرت ابولبابہ نے زبان سے تو ہاں کہہ دیا مگر ہاتھ سے حلق کی طرف اشارہ کردیا ‘ مطلب یہ تھا کہ قتل کر دئیے جاؤ گے۔ حضرت ابولبابہ کا بیان ہے کہ یہ اشارہ کرنے کے بعد اس جگہ سے میں ہٹا بھی نہ تھا کہ فوراً مجھے یقین ہوگیا کہ یہ تو میں نے اللہ اور اس کے رسول سے غداری کی۔ یہ یقین آتے ہی پشیمان ہوا ‘ انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور (اتنا رویا کہ) ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ لوگ میری واپسی کے منتظر تھے مگر میں گڑھی کے پیچھے سے دوسرے راستہ سے نکل کر سیدھا مسجد میں پہنچا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی حاضر نہ ہوا۔ مسجد میں پہنچ کر پچھلے ستون سے جس کو (اب) ستون توبہ کہا جاتا ہے ‘ اپنے کو باندھ دیا اور پکا ارادہ کرلیا کہ یہاں سے نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ مرجاؤں یا اللہ توبہ قبول فرما لے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابو لبابہ نے یہ الفاظ کہے تھے : میں نہیں کھولوں گا ‘ نہ کھانے پینے کا مزہ چکھوں گا تاوقتیکہ اللہ میری توبہ قبول نہ کرلے یا میں یونہی مرجاؤں۔ اس واقعہ کی رسول اللہ ﷺ کو اطلاع پہنچی تو فرمایا : اگر وہ میرے پاس آجاتا تو میں اس کیلئے استغفار کرتا لیکن جب اس نے خود وہ کام کرلیا جو اس نے چاہا تو اب جب تک اللہ اس کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا ‘ میں اس کو نہیں کھولوں گا۔ چناچہ حضرت ابولبابہ سات روز تک اسی حالت میں بغیر کچھ کھائے پئے رہے ‘ آخر بےہوش ہو کر گرپڑے ‘ پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ سبیل الرشاد میں ابن ہشام کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابولبابہ چھ روز تک بندھے رہے۔ بی بی آکر ہر نماز کے وقت کھول دیتی تھی ‘ آپ وضو کر کے نماز پڑھ لیتے اور پھر بندھ جاتے تھے۔ ابن عقبہ کا بیان ہے : لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ابولبابہ تقریباً بیس روز تک بندھے رہے۔ بدایہ میں اسی کو سب سے زیادہ صحیح روایت کہا گیا ہے۔ ابن اسحاق نے پچیس دن بندھے رہنے کی صراحت کی ہے۔ ابن وہب نے بروایت مالک ‘ حضرت عبدا اللہ بن ابی بکر کا بیان نقل کیا ہے جس میں بکری (باندھنے) کی رسی سے کچھ اوپر دس روز تک بندھے رہنے کی صراحت کی ہے اور بیان کیا ہے کہ ان کی شنوائی اور بینائی تقریباً مفقود ہوگئی تھی ‘ کچھ سن نہ سکتے تھے اور نماز یا ضروری حاجت کیلئے بیٹی آکر کھول دیتی تھی اور فراغت کے بعد پھر باندھ دیتی تھی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کبھی بیوی یہ خدمت انجام دیتی تھی اور کبھی بیٹی۔ حضرت ابولبابہ کی توبہ ہی کے متعلق آیت وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ خَلَطُوْا عَمَلاً صَالِحًا وَّاٰخَرَاللّٰہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفْوُرٌ رَحَّیْمِ 5 نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بروایت یزید بن عبد اللہ بن قسیط بیان کیا کہ حضرت ابولبابہ کی توبہ قبول ہونے کی آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ حضرت ام سلمہ کے مکان میں تھے۔ اوّل صبح (سحر کے وقت) رسول اللہ ﷺ مسکرانے لگے ‘ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا : اللہ آپ کو ہنساتا رہے ‘ آپ کے (اس وقت) ہنسنے کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ابولبابہ کی توبہ قبول کرلی گئی۔ حضرت ام سلمہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں یہ خوشخبری (باہر کے لوگوں کو) نہ دے دوں ؟ فرمایا : کیوں نہیں (دے دو ) پردہ کا حکم اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا ‘ اسلئے حضرت ام سلمہ نے دروازہ پر آکر کہا : ابولبابہ ! تم کو بشارت ہو ‘ اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ یہ سنتے ہی لوگ حضرت ابولبابہ کو کھولنے کیلئے چڑھ دوڑے۔ حضرت ابولبابہ نے کہا : نہیں (مجھے کوئی نہ کھولے) خدا کی قسم ! جب تک رسول اللہ ﷺ خود اپنے ہاتھ سے مجھے نہیں کھولیں گے (میں کسی کو کھولنے نہ دوں گا) چناچہ فجر کی نماز کو جاتے میں رسول اللہ ﷺ حضرت ابولبابہ کی طرف تشریف لائے اور ان کو آزاد کیا۔ سہیلی نے حضرت علی بن حسین (یعنی امام زین العابدین) کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ (شروع میں) حضرت ابولبابہ کو کھولنے کیلئے تشریف لے گئی تھیں ‘ مگر حضرت ابولبابہ نے کہا : میں نے قسم کھالی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سوا مجھے اور کوئی نہیں کھول سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرا ہی جزء ہے (اس کا کھولنا میرا کھولنا ہے) اس روایت کی سند میں علی بن زید بن جذعان ضعیف راوی ہے ‘ پھر علی بن حسین کی یہ روایت مرسل بھی ہے (امام زین العابدین نے حضرت فاطمہ کو نہیں دیکھا اور آپ نے کس سے سنا ‘ اس کا ذکر نہیں کیا ‘ نہ اپنے والد امام حسین کا ‘ نہ امام حسن کا ‘ نہ کسی اور صحابی کا) ۔ رہا ہونے کے بعد حضرت ابولبابہ نے کہا : میری توبہ کی تکمیل اس وقت ہوگی جب میں اپنے خاندانی مکان کو چھوڑ دوں گا کیونکہ اسی مکان میں مجھ سے گناہ کا صدور ہوا ہے اور اپنے تمام مال سے بھی کنارہ کش ہوجاؤں (کل مال خیرات کر دوں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم کو خیرات کرنی ہی ہے تو ایک تہائی مال خیرات کرنا تمہارے لئے کافی ہے۔ حضرت ابولبابہ کے متعلق اس کے بعد آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو۔ خونٌ (مصدر) کا اصل لغوی معنی ہے کم کرنا ‘ جیسے وفاء کا لغوی معنی ہے پورا کرنا۔ چونکہ امانت کے خلاف مفہوم (یعنی خیانت) میں کمی کا مفہوم ہی ہوتا ہے ‘ اسلئے امانت کے خلاف خیانت کا لفظ استعمال کیا جانے لگا۔ وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون۔ اور نہ آپس میں امانتوں میں خیانت کرو اور تم جانتے ہو۔ تخونوا کا عطف گذشتہ تخونوا پر ہے ‘ دونوں نہی کے ذیل میں ہیں (ترجمہ اسی طور پر کیا گیا ہے) یا اس جگہ تخونوا سے پہلے ان محذوف ہے اور واؤ عطف اور جمعیت کیلئے ہے (اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ لوگوں کی خیانت سے ملا کر اللہ اور رسول ﷺ کی خیانت نہ کرو ‘ یعنی دونوں خیانتوں کا مجموعہ نہ کرو) اوّل مطلب صحیح ہے کیونکہ دوسرے مطلب پر ہر خیانت کی الگ الگ صورت میں ممانعت نہ ہوگی بلکہ ایک خیانت کو دوسری خیانت سے ملا کر کرنے کی ممانعت ہوگی ‘ صرف اللہ اور رسول ﷺ کی خیانت تنہا ناجائز نہیں قرار پائے گی جیسے لا تاکل السَّمک وتشرب اللبن یعنی ایک وقت میں مچھلی بھی کھاؤ اور دودھ بھی پیو ‘ ایسا مت کرو (الگ الگ مختلف اوقات میں مچھلی کھانے کی اور دودھ پینے کی ممانعت نہیں) ۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَکا یہ مطلب ہے کہ تم جانتے ہو کہ یہ امانت ہے ‘ لہٰذا جان کر خیانت نہ کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم جانتے ہو کہ حلق کی طرف اشارہ کرنا خیانت ہے تو ایسا نہ کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم خود جاننے والے ہو ‘ اچھے برے میں تمیز کرسکتے ہو ‘ ایسی حالت میں خیانت نہ کرو (گویا اس وقت تعلمون بمعنی عالموں کے ہوگا اور کسی مفعول کا محتاج نہ ہوگا) ۔ سدی نے کہا کہ (آپس کی امانت میں خیانت بھی اللہ اور رسول ﷺ کی امانت میں خیانت ہے کیونکہ) جب انہوں نے اللہ اور رسول ﷺ کی امانت میں خیانت کی تو یقیناً یہ اپنی ہی باہمی خیانت ہوگئی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ کے فرائض کو ترک کرنا اللہ سے خیانت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ترک کرنا رسول ﷺ سے خیانت ہے اور اللہ کے وہ فرائض و اعمال جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور جن کا امین اللہ نے اپنے بندوں کو بنایا ہے وہ انسانوں کی امانتیں ہیں ‘ یعنی ترک فرض و سنت نہ کرو اور فرائض پوشیدہ کو بھی ادا کرو۔ قتادہ نے کہا : فرائض ہوں یا حدود ‘ پورا دین اللہ کی امانت ہے ‘ اس امانت کو ادا کرو (اس کی ادائیگی میں خیانت اور کمی نہ کرو) اور جس کے پاس جو امانت جس کسی کی ہو ‘ وہ صاحب امانت کو ادا کرے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ کے قول کا حاصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول اگرچہ حضرت ابولبابہ کے فعل کے سلسلے میں ہوا تھا مگر عموم لفظ کا اعتبار ہے ‘ سبب نزول کی خصوصیت عموم حکم سے مانع نہیں (حکم عام ہے) اللہ کے فرائض و حدود کی ادائیگی میں کمی کرنا حرام ہے۔ حضرت ابولبابہ کا عمل بھی اسی کی ایک شاخ ہے۔ ایک شبہ : امام احمد نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : المستشار مؤتمنجس سے مشورہ لیا جائے ‘ اس کو امانت دار ہونا چاہئے (خیانت کے ساتھ دانستہ غلط مشورہ نہ دینا چاہئے) یہ حدیث صحیح ہے۔ ترمذی نے حضرت ام سلمہ کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے ‘ اس صورت میں یہودیوں نے جب حضرت ابولبابہ سے مشورہ لیا تو ان کو صحیح مشورہ دینا ہی چاہئے تھا ورنہ خیانت مشورہ کا گناہ ہوتا۔ صحیح مشورہ کے بعد خیانت سے بچاؤ ان کا ممکن نہ تھا۔ ازالہ : گناہ سے بچنے کی شکل یہ بھی ہوسکتی تھی کہ خاموش رہتے یا مشورہ دینے سے انکار کردیتے اور کہہ دیتے کہ جب تک تم مسلمان نہ ہو گے ‘ میرے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض قائم رہے گا ‘ اسلئے میں مشورہ نہیں دے سکتا۔ وا اللہ اعلم ابن جریر نے سدی کی روایت سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتے اور اس کو آپس میں پھیلاتے ‘ آخر مشرکوں تک بھی وہ بات جا پہنچتی (اور راز فاش ہوجاتا) اسی سلسلہ میں آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ ابن جریر وغیرہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا کہ ابوسفیان (لشکر لے کر مدینہ پر چھاپہ مارنے کے ارادہ سے) مکہ سے چلا۔ حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دے دی کہ ابوسفیان فلاں فلاں مقام پر ہے (مدینہ پر چڑھائی کرنے آ رہا ہے) رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرما دیا کہ ابوسفیان فلاں فلاں مقام پر آگیا ہے ‘ تم بھی (مدینہ سے) اس کی طرف چل نکلو مگر (اپنی روانگی کے مقصد کو) پوشیدہ رکھو۔ کسی منافق نے اس کی اطلاع ابوسفیان کو دے دی کہ محمد ﷺ تمہارے مقابل آ رہے ہیں ‘ اپنی احتیاط رکھو۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ یہ حدیث بہت زیادہ غریب ہے ‘ اس کی سند میں ضعف ہے۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنہلا اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے امتحان کی چیزیں ہیں۔ فتنکا لغوی معنی ہے سونے کو آگ میں تپا کر کندن بنانا۔ امتحان اور جانچ کو اسی مناسبت سے فتنہ کہا جاتا ہے (کہ امتحان سے کھرا کھوٹا ظاہر ہوجاتا ہے) اللہ نے فرمایا ہے : نَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ۔ فتنہ کا لفظ عذاب کیلئے بھی مستعمل ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : عَلَی النَّارِ یُفْتَنُوْنَکبھی کفر ‘ گناہ ‘ فساد اور تمام اسباب عذاب پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : واتقوا فتنۃً - اَلاَنِیْ الْفِتْنَۃِ سَقَطُوا الفتنۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔ مال و اولاد ‘ گناہ اور عذاب میں مبتلا ہونے کا ذریعہ ہیں اور اللہ کی طرف سے یہ ایک امتحان ہے ‘ اسلئے ان کو فتنہ فرمایا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول بھی حضرت ابولبابہ ہی کے متعلق ہوا کیونکہ آپ کا مال اور بچے بنی قریظہ کی بستی میں تھے ‘ آپ کو ان کے متعلق اندیشہ تھا۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ ایک بچہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور ﷺ نے اس کو بوسہ دیا اور فرمایا : سنو ! یہ (بچے) کنجوس ہوجانے اور بزدل بن جانے کا سبب ہیں اور یہ اللہ کی رحمت بھی ہیں۔ رواہ البغوی۔ ابویعلی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کیا : اولاد دل کا چین (بھی) ہے اور بزدلی ‘ کنجوسی اور غم کا سبب بھی۔ حاکم نے حضرت خولہ بنت حکیم کی روایت سے بیان کیا کہ اولاد (جنت کے سکھوں میں سے) ایک سکھ ہے۔ وا اللہ اللہ عندہ اجر عظیم۔ اور یہ بھی جان لو کہ اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور رسول کے خیرخواہ ہوں ‘ امانت ادا کرتے ہوں ‘ حدود کا لحاظ رکھے ہوں اور مال و اولاد کی محبت پر اللہ کی خوشنودی کو ترجیح دیتے ہوں۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

یایھا الذین امنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا اے ایمان والو ! اگر تم ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تم کو ایک فیصلہ کی چیز عنایت کر دے گا۔ یعنی ایک بصیرت قلبی عطا فرمائے گا جس سے تم حق و باطل میں تمیز کرلو گے۔ فراست مؤمن کا لفظ جو حدیث میں آیا ہے ‘ اس سے یہی قلبی بصیرت مراد ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا : مؤمن کی فراست سے ڈرو ‘ وہ اللہ کے نور یعنی خداداد نور بصیرت سے دیکھتا ہے۔ رواہ البخاری فی التاریخ والترمذی عن ابی سعید الخدری والطبرانی وابن عدی عن ابی امامۃ وابن جریر عن ابن عمر۔ دوسری حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : خواہ مفتی تجھے فتویٰ دے چکے ہوں (مگر تو پھر بھی) اپنے دل سے فتویٰ طلب کر۔ رواہ البخاری فی التاریخ عن وابصۃ بسند حسن۔ یہ قلبی فتویٰ اسی وقت ہوتا ہے جب نفس تمام بری باتوں سے پاک ہوگیا ہو اور قلب کی نفسانیت فنا ہوچکی ہو ‘ حقیقت تقویٰ اس وقت ظاہر ہوتی ہے۔ صوفیہ کی اصطلاح میں اسی کو (باطنی) کشف کہتے ہیں۔ یا فرقان سے مراد وہ نصرت ہے جس سے اہل حق اور باطل پرستوں میں فرق ہوجاتا ہے ‘ اہل ایمان کو باعزت اور اہل کفر کو ذلیل کردیا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : یعنی اللہ تعالیٰ دونوں جہان میں متقیوں کیلئے تمام خطرات اور ہولناکیوں سے بچاؤ کا راستہ بنا دے گا۔ مقاتل بن حیان نے کہا کہ دین میں شبہات و شکوک واقع ہونے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتادے گا۔ مقاتل کا قول اول الذکر تفسیر کے قریب ہے (جس میں فرقان سے بصیرت قلبی مراد قرار دی گئی ہے) عکرمہ نے نجات اور ضحاک نے ثبات فرقان کا ترجمہ کیا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : یعنی حق و باطل میں فیصلہ کر دے گا جس سے تمہاری حقانیت ظاہر اور تمہارے مخالفوں کی باطل پرستی ثابت ہوجائے گی۔ فرقان (لغوی اعتبار سے) مصدر ہے ‘ جیسے رجحان اور نقصان۔ ویکفر عنکم سیئتکم ویغفرلکم وا اللہ ذوالفضل العظیم۔ اور تمہارے گناہ اتار دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ یعنی تمہارے گذشتہ گناہ مٹا دے گا ‘ ان پر پردہ ڈال دے گا اور اپنی نعمتیں تم کو بخش دے گا۔ بزار نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابن آدم کے تین رجسٹر سامنے لائے جائیں گے : ایک رجسٹر نیک اعمال کا ‘ دوسرا رجسٹر اس کے گناہوں کا اور تیسرے رجسٹر میں اللہ کی نعمتوں کا اندراج ہوگا جو اللہ نے اپنے بندہ کو عنایت کی ہوں گی۔ پھر انعامات کے رجسٹر میں سے کسی حقیر ترین نعمت کو حکم ہوگا : تو اپنے مقابل کسی عمل صالح کو وصول کرلے (یعنی اللہ کی اس حقیر ترین نعمت کا مقابلہ بندہ کے نیک عمل سے کیا جائے گا) تو اس نعمت کے مقابل تمام نیک اعمال بھی پورے نہ اتریں گے۔ نعمت کہے گی : تیری عزت کی قسم ! میں نے تو پورے اعمال کو بھی اپنے مقابل نہیں پایا۔ نیک اعمال سب ختم ہوگئے ‘ تمام گناہ باقی ہیں اور دوسری نعمتیں بھی موجود ہیں۔ اب اگر اللہ کو کسی بندہ پر رحم کرنا مقصود ہوگا تو فرمائے گا : میرے بندے ! میں نے تیری نیکیاں چندگنی کردیں ‘ تیری بداعمالیاں معاف کردیں اور تجھے اپنے انعام سے سرفراز کردیا (گویا نیک اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اللہ کے انعام و رحمت سے بندہ کی بخشش ہوگی۔ طبرانی نے حضرت واسلہ بن اسقع کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ ایک ایسے بندہ کو قبر سے اٹھائے گا جس کا (اس کے اعمال نامہ میں) کوئی گناہ درج نہ ہوگا۔ اللہ اس سے فرمائے گا : (تیرا کوئی گناہ درج نہیں ‘ تو بےگناہ ہے) اب بتا ‘ تجھے تیرے نیک اعمال کے مطابق جزا دی جائے یا میں اپنے انعام کی وجہ سے تجھے ثواب دوں ؟ تجھے دونوں باتوں میں سے کونسی بات پسند ہے ؟ بندہ عرض کرے گا : پروردگار ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے تیری کوئی نافرمانی نہیں کی ‘ اسلئے میری نیکیوں کا ثواب عطا فرما۔ اللہ فرمائے گا : میرے بندے کی نیکیوں کا میری نعمتوں سے مقابلہ کرو۔ نتیجہ میں کوئی نیکی ایسی نہ بچے گی کہ جس کے مقابل بندہ کو نعمت نہ دے دی گئی ہو (ایسی حالت میں تمام نیکیوں کا معاوضہ دنیوی نعمتوں کی شکل میں مل چکا ہوگا اور کوئی نیکی قابل ثواب باقی نہ رہے گی ‘ ناچار ہو کر) بندہ عرض کرے گا : اپنی رحمت اور انعام سے مجھے ثواب عطا فرما۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم میں سے کسی شخص کو اس کا (نیک) عمل نہیں بچائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ بھی (اپنے اعمال کی وجہ سے نجات نہیں پائیں گے) فرمایا : نہ میں بھی بغیر اس کے کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل سے ڈھانک لے۔ متفق علیہ من روایۃ ابی ہریرۃ۔ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : راستی اختیار کرو اور (پوری راستی ممکن نہ ہو تو) راستی کے قریب آجاؤ اور بشارت پاؤ کیونکہ تم میں سے کسی کے اعمال تو جنت میں لے جانے والے نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ بھی (اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جائیں گے) فرمایا : نہ میں بھی بغیر اس کے کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک لے۔ اسی کی طرف اللہ نے اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے : اللہ بڑے فضل والا ہے۔ یعنی اللہ نے نیک اعمال کے اجر کا جو وعدہ کیا ہے ‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہارا تقویٰ موجب اجر ہے بلکہ یہ تو محض اللہ کا کرم اور مہربانی ہے (کہ اس نے نیک اعمال کو نجات کا ذریعہ بنا دیا ہے ورنہ تمام نیک اعمال تو اس قابل بھی نہیں کہ اللہ کے دنیوی احسانات کا بدل ہو سکیں) جیسے کوئی آقا کسی کام کے کرنے پر اپنے غلام کیلئے کوئی انعام مقرر کر دے (تو یہ محض اس کی مہربانی ہوگی) ورنہ اس خدمت کی انجام دہی تو غلام کیلئے ویسے بھی ضروری ہوتی ہے۔ بعض اہل تفسیر نے یُکْفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ اللہ تمہارے صغیرہ گناہ ساقط کر دے گا اور کبیرہ گناہ معاف فرما دے گا۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

واذ یمکربک الذین کفروا اور (یاد کرو) جب کہ کافر تمہارے متعلق خفیہ سازش کر رہے تھے۔ اس آیت کا عطف اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌپر ہے ‘ یعنی وہ وقت بھی یاد کرو جب تمہاری تعداد کم تھی اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب کفار تمہارے متعلق خفیہ اسکیمیں بنا رہے تھے۔ یہ پوشیدہ اسکیمیں مکہ میں بنائی گئی تھیں (یعنی ہجرت سے پہلے) اور یہ سورت مدنی ہے۔ ابن اسحاق ‘ عبدالرزاق ‘ امام احمد ‘ ابن جریر ‘ ابونعیم ‘ ابن المنذر اور طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور عبدالرزاق و عبد بن حمید نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب انصار مسلمان ہوگئے تو قریش کو خیال ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے پیرو اور ساتھی دوسرے شہر کے کچھ لوگ ہوگئے اور غیروں کا ایک جتھا ان کا ساتھی بن گیا۔ پھر انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ ہجرت کر کے کچھ مسلمان انصار کے پاس پہنچ گئے اور ان کو ٹھہرنے کی جگہ بھی مل گی اور ٹھہرانے والے بھی اور حمایت کرنے والے بھی ہیں۔ یہ دیکھ کر ان کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ بھی انصار کے پاس چلے جائیں گے اور ان سے مل کر ہم سے لڑنے کو تیار ہوجائیں گے ‘ اسلئے پنچایت گھر میں جو قصی بن کلاب (قریش کے مورث اعلیٰ ) کا گھر تھا ‘ سب کا اجتماع ہوا۔ قریش ہر کام کا مشورہ اسی دار النّدْوَہ (پنچایت گھر) میں جمع ہو کر کرتے تھے ‘ چناچہ سب یہیں اکٹھے ہوئے۔ اسی یوم الاجتماع کو یوم الزحمت کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ جمع ہی تھے کہ ابلیس ایک سال خوردہ بڑے بوڑھے کی شکل میں چادر اوڑھے دروازہ پر آکر کھڑا ہوگیا۔ لوگوں نے دروازہ پر کھڑا دیکھا تو پوچھا : یہ کون بوڑھا آدمی ہے ؟ شیخ نے جواب دیا : نجد کا رہنے والا ایک بوڑھا ہے جس نے سنا تھا کہ آپ لوگ ایک مہم میں مشورہ کرنے یہاں جمع ہوئے ہیں ‘ اسلئے وہ بھی تمہاری باتیں سننے چلا آیا ‘ امید ہے کہ آپ اس میں اچھی رائے اور خیرخواہی پائیں گے۔ لوگوں نے کہا : بہت اچھا ‘ اندر آجاؤ۔ بوڑھا اندر آگیا۔ وہاں قریش کے سردار عتبہ بن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ ‘ طعیمہ بن عدی ‘ نضر بن حارث بن کلدہ ‘ ابو البختری بن ہشام ‘ زمعہ بن اسود ‘ ابوجہل بن ہشام ‘ حجاج کے دونوں بیٹے نبیہ اور منبہ ‘ امیہ بن خلف ‘ ابو سفیان 1 ؂ بن حرب ‘ جبیر 2 ؂ بن مطعم اور حکیم 3 ؂ بن حزام جمع تھے۔ مؤخر الذکر تینوں حضرات آخر میں مشرف باسلام بھی ہوگئے (باقی اشخاص کافر رہے اور اکثر بدر میں مارے گئے) ان کے علاوہ بھی قریش اور دوسرے قبائل کے کچھ اشخاص تھے جو قابل ذکر نہیں۔ حاضرین میں سے ایک شخص بولا : آپ لوگوں کو اس شخص کے حالات معلوم ہی ہیں۔ میرے خیال میں کچھ بعید نہیں کہ یہ شخص اپنے پیروؤں کو جو غیر لوگ ہیں ‘ ساتھ لے کر ہم پر حملہ کر دے ‘ اسلئے باہم مشورہ کرلو اور کسی رائے پر متفق ہوجاؤ۔ ایک شخص نے جس کا نام سہیلی نے بروایت عبدالسلام ‘ ابوالبختری بن ہشام بتایا ہے ‘ کہا : اس کو زنجیروں میں باندھ کر کسی گھر میں بند کر دو اور دروازہ مقفل کر دو ‘ یہاں تک کہ وہ موت جو اس جیسے دوسرے گذشتہ شعراء زہیر ‘ نابغہ وغیرہ کو آئی ‘ اس کو بھی (قیدخانہ کے اندر) آجائے۔ شیخ نجدی بولا : بخدا ! یہ رائے تمہارے لئے سودمند نہیں۔ اگر تم اس کو مکان کے اندر بند بھی کر دو گے تب بھی بند دروازوں کے اندر سے اس کا حکم اس کے ساتھیوں تک پہنچ جائے گا اور بہت ممکن ہے کہ وہ تم سے لڑ کر اور غالب آکر اس کو تم سے چھین لیں۔ حاضرین نے کہا : شیخ نے سچ کہا۔ ایک اور شخص نے کہا (سہیلی نے اس کا نام ابو الاسود ربیعہ بن عمر بتایا ہے جو قبیلۂ بنی عامر بن لوی کا ایک فرد تھا) ہم اپنے اندر سے اس کو نکال دیں ‘ جہاں چاہے چلا جائے ‘ جو چاہے کرے ‘ ہم کو ضرر نہ پہنچائے گا۔ وہ ہم سے غائب ہوجائے گا اور ہم کو اس سے فراغت ہوجائے گی تو ہم اپنے معاملات کی درستی کرلیں گے اور (زائل شدہ) اتحاد کو ٹھیک کرلیں گے۔ شیخ نجدی بولا : یہ رائے بھی ٹھیک نہیں۔ تم واقف ہو کہ اس کی باتیں کیسی اچھی ہوتی ہیں ‘ اس کی گفتگو میں کیسی مٹھاس ہوتی ہے۔ جو چیز یہ پیش کرتا ہے ‘ وہ دلوں میں اتر جاتی ہے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو وہ چلا جائے گا اور کچھ لوگوں کے دلوں کو لبھا کر ‘ سب کو ساتھ لا کر تم کو روند ڈالے گا اور اقتدار تمہارے ہاتھوں سے چھین کر جیسا سلوک کرنا چاہے گا ‘ تمہارے ساتھ کرے گا۔ لہٰذا اس کے علاوہ کوئی اور بات سوچو۔ ابوجہل نے کہا : میری ایک رائے ہے جس سے تم لوگ ابھی تک واقف نہیں ہو۔ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ ابوجہل نے کہا : میرا خیال ہے کہ ہم ہر قبیلہ سے ایک جیالا شریف نوجوان لیں ‘ پھر ہر جوان کے ہاتھ میں تلوار دے دیں اور سب مل کر یکدم اس پر ٹوٹ پڑیں ‘ سب تلواریں یکبارگی پڑیں اس طرح قتل کر کے ہم کو اس کی طرف سے چین مل جائے گا۔ بنی عبدمناف ساری قوم سے تو لڑ نہ سکیں گے اور قتل کا جرم تمام قبائل پر عائد ہوگا ‘ لامحالہ خون بہا لینے پر راضی ہوجائیں گے ‘ ہم سب مل کر خون بہا ادا کردیں گے۔ یہ مشورہ سن کر شیخ نجدی بولا : بات تو یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی رائے نہیں ہوسکتی۔ پھر اس نے مندرجۂ ذیل دو شعر پڑھے ؂ اَلرَأئے رَایَان رایٌ لیس یغَرِفہ ھادو رای کنصل السیف معروف یکون اولہٗ عز ومکرمۃ یومًا واٰخرہ حمد وتشریف رائے دو طرح کی ہوتی ہے ‘ ایک وہ رائے جس کو کوئی راہنما نہیں جانتا (یعنی غیر معروف ‘ ناپسندیدہ رائے) اور دوسرے معروف (ممتاز) رائے تلوار کے پھل کی طرح (روشن چمکدار) جس کے آغاز میں عزت اور بزرگی ہوتی ہے اور انجام میں تعریف و تعظیم۔ غرض اسی رائے پر متفق ہو کر مجمع برخاست ہوگیا۔ اس مشورہ کی اطلاع حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ کو دے دی اور کہہ دیا کہ جس بستر پر آپ رات کو (روز) سوتے ہیں ‘ آج رات اس بستر پر نہ رہنا۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکل جانے کی اجازت دے دی۔ رات کا اندھیرا ہوا تو قریش رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر اس انتظار میں جمع ہوگئے کہ آپ سو جائیں تو وہ حملہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی موجودگی محسوس کرلی اور حضرت علی سے فرمایا : میری سبز حضرمی چادر اوڑھ کر میری جگہ میرے بستر پر لیٹ جاؤ ‘ ان کی طرف سے تم کو کوئی دکھ نہیں پہنچے گا۔ رسول اللہ ﷺ وہی سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سویا کرتے تھے۔ باہر سب جمع ہوگئے تو ابوجہل نے کہا : محمد ﷺ کہتے ہیں کہ اگر تم ان کی پیروی کرو گے تو عرب و عجم کے بادشاہ ہوجاؤ گے۔ پھر مرنے کے بعد تم کو زندہ کیا جائے گا اور اردن کے باغوں کی طرح تم کو باغ ملیں گے اور اگر تم ان کے حکم پر نہیں چلو گے تو ان کے ہاتھوں قتل کئے جاؤ گے۔ پھر مرنے کے بعد تم کو زندہ کیا جائے گا اور آگ میں جلایا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ مٹھی میں خاک لئے مکان سے برآمد ہوئے اور فرمایا : ہاں ‘ میں یہ بات کہتا ہوں اور تو مقتولین میں سے ایک ہوگا۔ اللہ نے قریش کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ ان کو دکھائی نہ دئیے۔ آپ ہر ایک کے سر پر کچھ کچھ مٹی ڈالتے اور یٰس والْقُرْاٰنِ الْحَکِیْم ... لَا یُبْصِرُوْنَ 5 تک پڑھتے چلے گئے۔ کوئی بھی ایسا نہ بچا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سر پر خاک نہ ڈالی ہو۔ پھر باہر آکر آپ جہاں جانا چاہتے تھے ‘ چلے گئے۔ جب حضور ﷺ تشریف لے گئے تو کوئی بیرونی شخص قریش کے پاس آیا اور اس نے کہا : یہاں کس کا انتظار کر رہے ہو ؟ قریش نے کہا : محمد ﷺ کا۔ آنے والے نے کہا : اللہ نے تم کو ناکام کردیا۔ خدا کی قسم ! وہ تو تمہارے سامنے سے نکل گئے اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہ بچا کہ انہوں نے اس کے سر پر خاک نہ ڈال دی ہو۔ اب وہ اپنے کام کو جا چکے ‘ تم سوچ لو کہ تم کو اب کیا کرنا ہے۔ یہ سن کر ہر ایک نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تو سر پر خاک دکھائی دی۔ پھر اندر جھانکنے لگے تو وہاں رسول اللہ ﷺ کی چادر اوڑھے کوئی شخص دکھائی دیا۔ کہنے لگے : خدا کی قسم ! محمد ﷺ تو یہ چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔ اسی حالت میں صبح ہوگئی تو حضرت علی ؓ بستر سے اٹھ بیٹھے۔ اس وقت کہنے لگے : بیشک اس شخص نے سچ کہا تھا۔ یہاں سے نکل کر رسول اللہ ﷺ غار ثور کی طرف تشریف لے گئے۔ باقی قصہ سورة توبہ میں انشاء اللہ آئے گا۔ حاکم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت علی نے اپنی جان کا ایثار کیا اور رسول اللہ ﷺ کا لباس پہن کر آپ کی جگہ سو گئے۔ مشرک رسول اللہ ﷺ کو تاک رہے تھے مگر وہاں حضور ﷺ کی جگہ حضرت علی تھے اور حضرت علی کو ہی وہ رسول اللہ ﷺ سمجھے ہوئے تھے۔ حضرت علی سوتے میں جب کروٹ لے کر سیدھے ہوئے تو مشرکوں کو حضرت علی کی شکل نظر آئی۔ کہنے لگے : تو بڑا کمینہ ہے ‘ تیرا ساتھی تو کروٹ نہیں لیتا تھا اور تو (سوتے میں) کروٹ لیتا ہے ‘ ہم پہچان نہ سکے (چادر کے اندر تجھے دیکھ کر غلط سمجھے) ۔ حاکم نے حضرت علی بن حسین (یعنی امام زین العابدین) کا قول نقل کیا ہے کہ (آیت مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَأَ مَرْضَات اللّٰہِ کا مصداق حضرت علی ہی ہیں) حضرت علی نے ہی اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کیلئے اپنی جان فروخت کی یا خریدی اور اسی کے متعلق مندرجۂ ذیل اشعار فرمائے ؂ وقیت بنفسی خیر من وطی الحصٰی ومن طاف بالبیت العتیق وبالحجر رسول اٰلہ اخاف ان یمکر وابہ فنجاہ ذوالطول الا لٰہ من المکر وبات رسول اللہ فی الغار اٰمنا موقًّی وفی حفظ الالٰہ وفی ستر وبت ارا عیہم وما یتھمونہ وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر جن لوگوں نے (بطحاء کی) پتھریوں کو روندا اور کعبہ اور سنگ اسود کا طواف کیا ‘ ان میں سب سے برتر ہستی کو اپنی جان کی پیشکش کر کے میں نے بچایا جو اللہ کے رسول تھے۔ مجھے اندیشہ تھا کہ مشرک ان پر خفیہ داؤ نہ کریں ‘ آخر مشرکوں کے داؤ سے قدرت والے اللہ نے ان کو بچا لیا۔ رسول اللہ ﷺ رات بھر غار کے اندر بےفکری کے ساتھ محفوظ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے اور میں نے رات بھر مشرکوں کی اور ان کی سازش کی تاک جھانک رکھی اور اپنی جان کو مارے جانے اور قید ہونے پر جمائے رکھا۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے : مشرکوں کے اسی اجتماع اور واقعات کے متعلق آیت وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاالخ نازل ہوئی۔ لیثبتوک تاکہ تم کو گرفتار کر کے ‘ باندھ کے قید کردیں جس طرح ابو الحقیق کی رائے تھی۔ او یقتلوک یا تم کو قتل کردیں ‘ جیسے ابوجہل کی رائے تھی اور شیطان نے اس کو پسند کیا تھا۔ او یخرجوک ط یا تم کو (مکہ سے) نکال باہر کردیں ‘ جیسے ابوالاسود کی رائے تھی۔ ویمکرون ویمکر اللہ ط اور وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا۔ مکرکا (لغوی) معنی ہے کسی تدبیر سے دوسرے کو اس کے مقصد سے پھیر دینا۔ مکر کی دو قسمیں ہیں : اچھا ‘ برا۔ اگر اچھا فعل مقصود ہو تو اچھا مکر ہے اور برا فعل مقصود ہو تو برا مکر ہے (گویا مکر کی اچھائی برائی مقصد کی اچھائی برائی سے وابستہ ہے) مکر کی ابتدائی نسبت اللہ کی طرف صحیح نہیں کیونکہ مطلق مکر سے برے مکر کی طرف ذہنی انتقال ہوسکتا ہے ‘ ہاں اگر دوسروں کے مکر کے مقابل اللہ کی طرف مکر کی نسبت کی جائے تو درست ہے (یعنی دوسروں کا مکر جب مذموم اور برا ہوگا اور اس کے مقابل اللہ کی طرف مکر کی نسبت کی جائے گی تو لامحالہ اللہ کا مکر اچھا ہی ہوگا اور برا مکر ہونے کا وہم بھی نہ ہو سکے گا) ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ قریش سازشیں کر رہے تھے کہ محمد ﷺ کی دعوت اکارت جائے اور اللہ کا نور بجھ جائے اور اللہ تدبیر کر رہا تھا کہ اس کا نور پھیل جائے اور کام پورا ہوجائے اور اللہ کے دشمن تباہ ہوجائیں۔ وا اللہ خیر الماکرین۔ اور سب سے مستحکم اور بہتر تدبیر کرنے والا اللہ ہے کیونکہ اللہ کی ہر تدبیر اور عمل اچھا اور خیر ہی خیر ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اللہ کے مکر کا معنی ہے مشرکوں کی سازشوں کو ناکام بنا دینا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ مشرکوں کے مکر کے بدلہ کو اللہ کا مکر کہا گیا ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ مکر اللہ کا معنی ہے : بندہ کو ڈھیل دینا اور دنیوی سامان وعیش پر اس کو قابو عطا کرنا۔ اسی لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جس کو دنیوی فراخی حاصل ہو اور وہ اس فراخ حالی کو اللہ کا مکر (ڈھیل) نہ سمجھے ‘ وہ فریب خوردہ ہے۔ ابن جریر نے عبید بن عمیر کی سند سے مطلب بن وداعہ کا قول نقل کیا ہے کہ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : تمہاری قوم تمہارے متعلق کیا مشورہ کرتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ مجھے قید کرنے ‘ یا قتل کرنے ‘ یا جلا وطن کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ ابو طالب نے کہا : تم کو یہ کس نے بتایا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : میرے رب نے۔ ابو طالب نے کہا : تمہارا رب بہت اچھا ہے ‘ تم اس کے خیر خواہ رہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں اس کا خیرخواہ رہوں ‘ وہ تو خود میرا خیرخواہ ہے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ابن کثیر نے لکھا ہے : اس روایت میں ابوطالب کا ذکر غریب بلکہ منکر ہے۔ یہ واقعہ تو ہجرت کی رات کا ہے جبکہ ابوطالب کے انتقال کو تین سال گذر چکے تھے۔ ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے لکھا ہے کہ بدر کے دن عقبہ بن ابی معیط ‘ طعیمہ بن عدی اور نضر بن حارث گرفتارہونے کے بعدمارے گئے۔ نضر بن حارث کو حضرت مقداد نے گرفتار کیا تھا۔ جب نضر کو قتل کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تو حضرت مقداد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو میرا (قیدی) ہے۔ فرمایا : یہ اللہ کی کتاب کے متعلق ایسی باتیں کہتا تھا (یعنی پارینہ داستان اور اساطیر الاوّلین کہتا تھا ‘ لہٰذا اس کا قتل ضروری ہے) اسی کے متعلق آیت ذیل نازل ہوئی۔