8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق و اضربوا منھم کل بنان۔ اس وقت کو یاد کرو جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارا ساتھی (یعنی مددگار) ہوں ‘ سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ ‘ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ پس تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور پر مارو۔ الملائکۃ سے مراد وہ ملائکہ ہیں جن کو مسلمانوں کی کمک کیلئے بھیجا گیا تھا۔ اَنِّیْ مَعَکُمْیعنی مسلمانوں کی مدد کرنے میں میں تمہارے ساتھ ہوں (حضرت مفسر کی مراد یہ ہے کہ معیت سے جسمانی معیت مراد نہیں ہے بلکہ اللہ کے ساتھ ہونے سے مراد ہے اللہ کی مدد کا ساتھ ہونا) فَثَبِّتُوْا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی مسلمانوں کے دشمنوں سے لڑ کر مسلمانوں کی جماعت میں اضافہ کر کے اور مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت دے کر تم ان کی ہمت بڑھاؤ ‘ ان کو اطمینان خاطر دلاؤ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ آدمیوں کے بھیس میں ملائکہ صف کے آگے آگے چلتے تھے اور کہتے تھے : تم کو بشارت ہو کہ اللہ تم کو قطعی طور پر فتحیاب فرمائے گا۔ الرّعبدل کے اندر خوف بھر جانا۔ مراد ہے کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا ڈر بیٹھ جانا۔ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ یہ پورا جملہ گویا اَنِّیْ مَعَکُمْکی تشریح ہے (یعنی میری مدد کی ‘ گویا شکل یہ ہوگی کہ میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کی تعداد کو دوگنا چوگنا دکھا کر رعب ڈال دوں گا) ابو نعیم نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا : ابا ! آپ کو ابو الیسر نے کیسے گرفتار کرلیا ؟ اگر آپ چاہتے تو اس کو مٹھی میں پکڑ لیتے (آپ قدآور ‘ جسیم آدمی ہیں اور ابو الیسر ناٹا ‘ ٹھنگنا ‘ مٹھی بھر آدمی ہے) فرمایا : بیٹے ! ایسا نہ کہو ‘ وہ مجھے کوہ خندقہ سے بھی بڑا دکھائی دیتا تھا۔ میں کہتا ہوں : اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے قریش کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا۔ فَوْقَ الْاَعْنَاقِیعنی گردنوں سے اوپر والے حصوں میں مارو جیسے سر ‘ حلق وغیرہ۔ عکرمہ نے کہا : فوق الاعناق سے سر مراد ہیں کیونکہ سر گردنوں کے اوپر ہوتے ہیں۔ ضحاک نے کہا : فوق الاعناق سے مراد ہے گردنوں پر۔ فوق بمعنی علٰیہے (گردنوں کے اوپر یعنی گردنوں پر مارو) کُلَّ بَنَانٍیعنی ہر جوڑ پر (عطیہ) یا پور پور پر مارو (حضرت ابن عباس ‘ ابن جریج ‘ ضحاک) بنان ‘ بنانۃ کی جمع ہے ‘ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کے پوروں کو بَنَان کہتے ہیں۔ قاموس میں ہے : بنان انگلیاں یا انگلیوں کے سر۔ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ اِضْرِبَوْاسے ملائکہ کو خطاب ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائکہ بھی لڑے تھے (صرف مسلمانوں کی تعداد بڑھانے ‘ ان کے دلوں میں اطمینان پیدا کرنے اور کافروں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ہی شریک نہیں ہوئے تھے) ابن انباری نے کہا : فرشتے واقف نہ تھے کہ آدمیوں کو کیسے قتل کیا جاتا ہے ‘ اللہ نے فاضربوا فرما کر ان کو بتادیا۔ بخاری ‘ نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ بدر کے د ن جب کہ رسول اللہ ﷺ ڈیرہ کے اندر تھے ‘ آپ نے دعا کی : اے اللہ ! میں تجھے تیری ذمہ داری اور تیرے وعدہ کا واسطہ دیتا ہوں ‘ اے اللہ ! اگر مسلمانوں کو مغلوب کرنے کی آج تیری مشیت ہوئی تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جاسکے گی۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر نے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! بس ‘ آپ اپنے رب کے سامنے خوب زاری کرچکے (حضور ﷺ نے دعاء ختم کردی) اور زرہ پہنے ‘ اچھلتے ہوئے ‘ یہ فرماتے ہوئے ڈیرہ سے باہر آگئے : سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبَرَ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَاَمَرُّ اور اللہ نے نازل فرمایا : اِذْتَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلاآءِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ ۔ مُرْدِفِیْنَ سے مراد ہیں : پے در پے ‘ ایک کے بعد ایک سلسلہ وار اور فرمایا : اَلَّنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُمِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ اٰلاَفٍ مِّنَ الْمَلاَءِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ اور فرشتوں سے فرمایا : اِنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ ۔ مسلم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس روز ایک مسلمان ‘ ایک مشرک کے تعاقب میں دوڑ رہا تھا۔ مشرک آگے آگے بھاگا جا رہا تھا کہ مسلمان نے اوپر سے کوڑا مارنے کی آواز سنی اور کسی سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا : اقدم حیزوم (حیزوم ! آگے بڑھ) نظر اٹھا کر دیکھا تو مشرک سامنے چت پڑا ہوا دکھائی دیا جس کی ناک ٹوٹ گئی تھی اور چہرہ پھٹ گیا تھا۔ اس مسلمان نے سب کو وہاں جمع کر کے دکھایا۔ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : تم سچ کہتے ہو ‘ وہ (قتل) تیسرے آسمان کے فرشتوں کی کمک نے کیا تھا۔ حاکم اور بیہقی اور ابو نعیم نے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ حضرت سہل بن حنیف نے فرمایا : بدر کے دن ہم میں سے بعض لوگ اپنی تلوار سے مشرک کے سر کی طرف اشارہ ہی کرتے تھے اور تلوار پہنچنے نہ پاتی تھی کہ سر نیچے گرپڑتا تھا۔ بیہقی نے حضرت ربیع بن انس کا بیان نقل کیا ہے کہ گردنوں اور پوروں پر آگ سے جلے ہوئے کی طرح نشان دیکھ کر لوگ پہچان لیتے تھے کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے۔ حضرت ابن سعد نے حویطب بن عبدالعزّٰی کا بیان نقل کیا ہے : میں بدر کے موقع پر مشرکوں کی معیت میں موجود تھا۔ میں نے ایک جماعت دیکھی ‘ آسمان و زمین کے درمیان ملائکہ کو دیکھا جو قتل اور قید کر رہے تھے۔ محمد بن عمر اسلمی اور بیہقی نے لکھا ہے کہ حضرت ابو بردہ بن دینار نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تین سر لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ان دو کو میں نے قتل کیا ہے اور تیسرے شخص کو میں نے دیکھا کہ کسی گورے رنگ کے درازقامت شخص نے اس کے تلوار ماری (اور سر اڑا دیا ‘ معلوم نہیں وہ کون شخص تھا) میں نے اس کا سر لے لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو قتل کرنے والا فلاں فرشتہ تھا۔ حضرت ابن سعد نے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے : اس روز بعض لوگوں کے سر اڑ کر الگ گر رہے تھے اور معلوم نہ ہوتا تھا کہ کس نے قتل کیا ہے۔ بعض کے ہاتھ کٹ کر الگ گر رہے تھے اور معلوم نہ ہوتا تھا کہ کاٹنے والا کون ہے۔ ابن اسحاق اور بیہقی نے حضرت ابو واقد لیثی کا بیان نقل کیا ہے : میں بدر کے دن ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا لیکن میری تلوار پہنچنے سے پہلے اس کا سر گرپڑا ‘ اس سے میں پہچان لیتا تھا کہ کسی اور نے اس کو قتل کردیا۔ بیہقی نے حضرت خارجہ بن ابراہیم کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل سے دریافت کیا : بدر کے دن اقدم حیزوم کہنے والا کون فرشتہ تھا ؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا : تمام آسمان والوں کو میں نہیں پہچانتا۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع نے فرمایا : میں عباس بن عبدالمطلب کا غلام تھا۔ اسلام ہمارے گھر والوں کے اندر داخل ہوچکا تھا ‘ اُمّ الفضل مسلمان ہوچکی تھیں اور میں بھی اسلام لے آیا تھا۔ عباس قوم والوں سے ڈرتے تھے اور ان کی مخالفت پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ آدمی بڑے مالدار تھے اور ان کا مال قوم میں (بطور قرض) بٹا ہوا تھا ‘ اسلئے آپ ایمان کو چھپائے ہوئے تھے۔ دشمن خدا ابولہب خود بدر میں شریک نہ ہوا تھا ‘ اپنی جگہ اس نے عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیج دیا تھا۔ جب اس کو بدر کی شکست کی اطلاع ملی تو اللہ نے اس کو ذلیل اور رسوا کردیا اور ہم کو اپنے اندر قوت اور عزت محسوس ہونے لگی۔ میں کمزور آدمی تھا ‘ تیر بنایا کرتا تھا اور زمزم کے حجرہ کے اندر بیٹھا تیر چھیلا کرتا تھا۔ ایک روز حجرہ کے اندر بیٹھا تیر تراش رہا تھا ‘ اُمّ الفضل میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ ابولہب کافر پاؤں کو گھسیٹتا ہوا سامنے سے آگیا اور حجرہ کے بیرونی حصہ میں بیٹھ گیا ‘ اس کی پشت میری پشت کی طرف تھی۔ وہ بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگوں نے کہا : لو ‘ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب آگیا۔ ابولہب بولا : بھتیجے ! میرے پاس آؤ ‘ تمہارے پاس ضرور اطلاع ہوگی۔ ابو سفیان اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ‘ لوگ کھڑے رہے۔ ابولہب نے کہا : بھتیجے ! بتاؤ کیا ہوا ؟ ابو سفیان نے کہا : کچھ نہیں ‘ خدا کی قسم ! مقابلہ ہوا تو ہم نے اپنے شانے ان کے ہاتھوں میں دے دئیے کہ وہ جیسا چاہیں کریں ‘ ہم کو قتل کریں یا قید کریں اس کے باوجود ‘ خدا کی قسم ! لوگ کبیدہ خاطر نہیں ہوئے مگر ہمارا مقابلہ ایسے گورے رنگ کے لوگوں سے ہوا جو ابلق گھوڑوں پر سوار تھے اور آسمان و زمین کے درمیان (فضا میں) معلق تھے۔ خدا کی قسم ! ان کا اندازہ کسی چیز سے نہیں ہوتا تھا ‘ نہ ان کے سامنے کوئی چیز ٹھہر سکتی تھی۔ حضرت ابو رافع کا بیان ہے : میں نے یہ سن کر خیمہ کا ایک حصہ (غالباً راوی نے جس کو حجرہ کہا ہے ‘ وہ حجرہ نما ڈیرہ ہوگا جو طنابوں سے بندھا ہوا ہوگا) اپنے ہاتھ سے اٹھا کر کہا : خدا کی قسم ! وہ ملائکہ تھے۔ ابولہب نے ہاتھ اٹھا کر فوراً میرے منہ پر زور سے ضرب لگائی۔ میں اس سے لپٹ گیا ‘ اس نے مجھے اٹھا کر زمین پردے مارا اور اوپر چڑھ کر مجھے مارنے لگا۔ میں کمزور آدمی تھا ‘ اُمّ الفضل نے جو یہ دیکھا تو ڈیرے کی ایک ٹیکی لے کر ابولہب کے زور سے ماری جس سے اس کا سر برے طور پر پھٹ گیا اور بولیں : چونکہ اس کا آقا موجود نہیں ہے ‘ اسلئے تو نے اس کو کمزور سمجھ لیا۔ ابولہب ذلیل ہو کر ‘ منہ پھیر کر چل دیا اور سات راتیں گذرنے نہ پائی تھیں کہ اللہ نے اس کو عدسہ کے مرض میں مبتلا کردیا اور ختم کردیا۔ ابن جریر نے کہا : عدسہ ایک قسم کا پھوڑا ہوتا تھا۔ عرب اس کو منحوس جانتے تھے ‘ ان کا خیال تھا کہ یہ بڑا متعدی مرض ہے۔ ابولہب کو چونکہ عدسہ کا مرض ہوا تھا ‘ اسلئے مرنے کے بعد بھی تین دن تک اس کی اولاد اس سے دور دور ہی رہی۔ کوئی اس کی لاش کے قریب نہ آتا تھا ‘ نہ اس کو دفن کرنے کا قصد کرتا تھا۔ آخر جب بدنامی کا زیادہ اندیشہ ہوا تو ایک گڑھا کھود کر لاٹھیوں کے سہارے لاش کو اٹھا کر اس گڑھے میں ڈال دیا اور دور ہی دور سے پتھروں سے گڑھے کو پاٹ کر لاش کو چھپا دیا۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ یونس بن بکیر کی روایت میں آیا ہے : ابولہب کی لاش کیلئے گڑھا نہیں کھودا گیا تھا بلکہ کسی باغ کی دیوار کے سہارے اس کو ٹکا کر دیوار کی پشت کی جانب سے پتھر پھینک کر لاش کو پتھروں سے چھپا دیا تھا۔
Ayah 8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب : یہ (سزا) اسلئے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور رسول کی مخالفت کرتا ہے (تو اس کو اللہ عذاب دے گا کیونکہ) اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ذٰلِکَ یعنی یہ مار اور مارنے کا حکم۔ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ بِاَنّٰھُمْ شَآقُّوا یعنی اس مار کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول سے عناد کیا۔ شَاقُّوا کا مادہ شِق ہے ‘ شق کا معنی ہے جانب ‘ پہلو۔ دو عناد کرنے والوں میں سے ہر فریق دوسرے فریق کے مخالف جانب میں ہوتا ہے جیسے معادات کا مادہ عدوۃ اور مخاصمۃ کا مادہ خصم ہے۔ وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اس کی جزا محذوف ہے ‘ یعنی جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتا ہے ‘ اللہ اس کو سخت سزا دیتا ہے۔ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابْیہ سزا دینے کی علت کا اظہار ہے ‘ یا اس عذاب کی وعید ہے جو اس دنیوی عذاب کے بعد آخرت میں اللہ کے دشمنوں کیلئے تیار رکھا گیا ہے۔
Ayah 8:14

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے

ذلکم فذوقوہ وان للکافرین عذاب النار : یہ مزہ (تو یہاں) چکھو اور (جانے رہو کہ) کافروں کیلئے دوزخ کا عذاب بھی (آخرت میں تیار) ہے۔ ذٰلِکُمْ پہلا خطاب رسول اللہ ﷺ کو تھا ‘ اب کلام کا رخ بطور خطاب کافروں کی طرف پھیر دیا گیا۔ شاقوا صیغۂ غائب تھا اور ذلکم ضمیر خطاب ہے ‘ غیبت سے خطاب کی طرف (کلام میں رنگینی پیدا کرنے یا براہ راست دھمکی دینے کیلئے) کلام کو منتقل کیا گیا ہے۔ ذلکم فعل محذوف کا مفعول ہے اور فذوقوا میں فاء عاطفہ (تفسیری یا تاکیدی) ہے ‘ یعنی اس کو چکھو یا ایسا کئے جاؤ ‘ پھر عذاب کا مزہ چکھو۔ وَاَنَّ لِلْکَافِرِیْنَ یعنی کافروں کیلئے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ اس کا عطف ذلکم پر ہے یا وَاَنَّ میں واؤ معیت کیلئے ہے ‘ یعنی یہ سزا جو فوری طور پر تم کو دی گئی ہے ‘ اس کو مع اس سزا کے چکھو جو آخرت میں تمہارے لئے تیار کی گئی ہے۔ لَھُمْ کی جگہ صراحت کے ساتھ لِلْکَافِرِیْنَ کہنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں عذاب اور دنیوی سزا کے ساتھ آخرت کے عذاب میں بھی مبتلا ہونا محض کفر کی وجہ سے ہے۔ مؤمن پر بداعمالی کی وجہ سے اگر دنیا میں کوئی مصیبت آ بھی جاتی ہے تو وہ کفارہ ہوجاتی ہے ‘ انشاء اللہ آخرت میں اس پر عذاب نہیں ہوگا۔ بغوی نے آیت مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : کیا میں تم کو اللہ کی کتاب کی ایک بزرگ ترین آیت بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان فرمائی تھی ‘ وہ آیت ہے : مَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْعَنْ کَثِیْر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : اے علی ! میں اس کی تم سے تفسیر بیان کرتا ہوں : مراد یہ ہے کہ جو بیماری ‘ یا سزا ‘ یا مصیبت تم پر دنیا میں آتی ہے ‘ وہ تمہارے اعمال سے آتی ہے اور اللہ آخرت میں اس کی دوبارہ سزا دینے سے بہت بزرگ ہے (یعنی دوبارہ آخرت میں سزا نہیں دے گا) اور جس عمل کی سزا سے اس نے دنیا میں درگذر فرما دی تو معافی کے بعد پھر آخرت میں اس کی سزا دینے سے اللہ لاپرواہ ہے۔ ترمذی اور حاکم نے بوساطت عکرمہ ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس روایت کو حسن بھی کہا ہے کہ خدمت گرامی میں عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! قافلہ کا پیچھا کرنا آپ کیلئے ضروری ہے ‘ قافلہ سے کوئی مانع نہیں ہے۔ حضرت عباس اس وقت قیدی کی حیثیت میں تھے اور بندھے ہوئے تھے ‘ اسی حالت میں آپ نے پکار کر کہا : یہ بات نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیوں ؟ حضرت عباس نے عرض کیا : اللہ نے آپ سے دونوں گروہوں میں سے ایک پر فتحیابی کا وعدہ کیا تھا اور جو وعدہ کیا تھا ‘ وہ دے دیا (یعنی قریش پر آپ کو فتح حاصل ہوگئی ‘ دوسرے گروہ پر فتحیاب کرنے کا وعدہ نہیں فرمایا) حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

یایھا الذین امنوا اذا لقیتم الذین کفروا زحفا فلا تو لوھم الادبار۔ اے ایمان والو ! جب تم کافروں سے (جہاد میں) دوبدو مقابل ہوجاؤ تو ان کو پشت نہ دینا۔ زَخْفًا ‘ لَقِیْتُمْکے فاعل و مفعول سے حال ہے۔ تزاحف کا معنی ہے : لڑائی کے وقت ایک کا دوسرے سے قریب ہوجانا (ایک جماعت کا اپنے مقابل کی جماعت میں مخلوط ہوجانا) یعنی جب تم میں سے بعض بعض کے قریب ہوجائیں ‘ مسلمان اور کافر باہم گڈمڈ ہوجائیں۔ کذا قال البغوی۔ میں کہتا ہوں : تزاحف کے معنی باہم قرب کے اسلئے ہیں کہ یہ لفظ زَحَفَ الصَّبِیُّ کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ بچہ سرینوں کے بل جب سرکنے لگتا ہے تو زَحَفَ الصَّبِیُّ کہا جاتا ہے۔ یا زَحَفَ الْبَعیرُ سے ماخوذ ہے ‘ جب اونٹ تھک جانے کی وجہ سے آہستہ آہستہ قدم اٹھانے لگتا ہے اور کچھ گھسٹتا ہوا چلتا ہے تو زحف البعیرکہا جاتا ہے۔ دشمن کی مزاحمت بھی سپاہی کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے سے روکتی ہے اور وہ بچہ کی طرح سرکتا ہے۔ اس تفسیر پر زحف مصدر قرار پائے گا ‘ اسی لئے اس کو بصیغۂ جمع ذکر نہیں کیا (کیونکہ مصدر کی جمع نہیں آتی) جیسے قَوْمٌ عَدُلٌ۔ لیث کا قول ہے کہ زحف اس جماعت کو کہتے ہیں جو دشمن کی طرف اجتماعی شکل میں بڑھے۔ زُحُف اس کی جمع آتی ہے۔ قاموس میں ہے : زُحْفٌ اس لشکر کو کہتے ہیں جو دشمن کی طرف بڑھے۔ بیضاوی نے اسی معنی کو اختیار کیا ہے ‘ اسی لئے زحفًا کا تفسیری معنی اس نے کَثِیْرًا لکھا ہے۔ اس تفسیر پر زحفًا یا الذّین کفروا سے حال ہوگا ‘ یعنی جب تمہارا مقابلہ کثیر التعداد دشمن سے بھی ہو تب بھی بھاگ کر پیٹھ نہ دو ‘ تھوڑے دشمنوں کا ذکر ہی کیا ہے۔ یا فاعل و مفعول دونوں سے حال ہے ‘ یعنی تمہاری کثیر التعداد جماعت کا مقابلہ کثیر دشمنوں سے ہو ‘ اس وقت زحفًا کا لفظ (شرط احترازی کے طور پر نہ ہوگا بلکہ) واقعہ کا اظہار ہوگا۔ عام طریقہ ہی یہ ہے کہ جماعت کا جماعت سے مقابلہ ہوتا ہے۔ یا صرف فاعل سے حال ہے ‘ اس صورت میں آئندہ ہونے والے واقعہ پر تنبہ ہوگی۔ بدر کے بعد جب حنین کی لڑائی پیش آئی تو مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی مگر اس کثرت کے باوجود وہ پیٹھ پھیر کر گھبراہٹ میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ میرے نزدیک بغوی کی تفسیر زیادہ مناسب ہے ‘ اس تفسیر پر ممانعت کے حکم میں عموم ہوجائے گا۔ جماعت کا مقابلہ جماعت سے ہو یا ایک کا ایک سے ‘ بہرحال پیٹھ دینے کی ممانعت مستفاد ہوگی۔ جب جمع کا تقابل جمع سے ہوتا ہے تو افراد کا افراد سے مقابلہ لازم ہے۔ مسئلہ : اکثر اہل علم کے نزدیک میدان جنگ سے مقابلہ کے وقت بھاگنا گناہ کبیرہ ہے۔ چاروں اماموں کا قول یہی ہے مگر سب کے نزدیک یہ شرط ہے کہ مسلمانوں کی تعداد دشمنوں کے مقابلہ میں نصف سے کم نہ ہو ‘ اگر نصف سے کم ہو تو دشمنوں کو چھوڑ کر بھاگنا جائز ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اَ لْاٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّأَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِأَتَیْنِالخ عطاء بن رباح کا قول ہے کہ آیت لَا تُوَلُّوھُمْ الْاَدْبَارَدوسری آیت اَ لْاٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ سے منسوخ کردی گئی۔ اس کے علاوہ حضرت ابن عمر کی روایت کردہ حدیث بھی آیت مذکورہ کے حکم کی ناسخ ہے۔ حضرت ابن عمر کا بیان ہے : رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک جہادی دستہ کے ساتھ بھیجا ‘ وہاں پہنچ کر یہ دستہ (شکست کھا کر) تتر بتر ہوگیا اور ہم سب مدینہ میں واپس آکر چھپ رہے اور آپس میں کہا : ہم (اس بھاگنے کی وجہ سے) تباہ ہوگئے (یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ہم سے ہوگئی جس کی وجہ سے ہماری تباہی لازمی ہے) پھر خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم بھگوڑے ہیں۔ فرمایا : (نہیں) بلکہ تم تو مڑ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو (یعنی یہ تو جنگی تدبیر ہے کہ دشمن کو دھوکہ دینے کیلئے سپاہی میدان جنگ سے بھاگتا ہے اور پھر موقعہ پا کر مڑ کر حملہ کرتا ہے) اور میں تمہارے لئے جماعتی مرکز ہوں (جس کی طرف ایک دانشمند مجاہد لوٹ کر آتا ہے) رواہ الترمذی وروی ابو داؤد مثلہ۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔ محمد بن سرین کا بیان ہے کہ حضرت ابو عبیدہ شہید ہوگئے اور حضرت عمر کو اس کی اطلاع ملی تو فرمایا : اگر میری طرف سمٹ آتے تو میں ان کیلئے مرکزی پناہ گاہ (ثابت) ہوتا۔ میں ہر مسلمان کیلئے جماعتی پناہ گاہ ہوں۔ مذکورۂ بالا دونوں حدیثوں کا حکم اس وقت ہوگا جب مسلمانوں کی تعداد کافروں کی تعداد سے آدھی سے بھی کم ہو (مندرجۂ بالا دونوں صورتوں میں ایسا ہی تھا) بغوی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو شخص تین کے مقابلہ سے بھاگا ‘ وہ نہیں بھاگا اور جو دو کے مقابلہ سے بھاگا ‘ وہ (حقیقت میں) بھاگا۔ بعض لوگوں نے مندرجۂ بالا دونوں حدیثوں کی روشنی میں ہر صورت میں فرار کو جائز قرار دیا ہے (تعداد کی کمی بیشی کی کوئی شرط نہیں لگائی) حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : مقابلہ سے روگرداں ہونے کی ممانعت صرف اہل بدر کے ساتھ مخصوص تھی۔ رسول اللہ ﷺ وہاں موجود تھے ‘ انہی کیلئے بھاگنا ناجائز تھا۔ اگر بھاگتے تو کہاں جاتے ‘ مشرکوں کی ہی طرف لوٹ کر جانا پڑتا۔ بدر کے بعد تو (ہر لڑائی میں) مسلمان باہم ایک دوسرے کیلئے پناہ کا مقام تھے ‘ بھاگنے والا لوٹ کر بھی مسلمان کی طرف سمٹ کر آئے گا ‘ اسلئے بدر کے بعد قتال سے فرار گناہ کبیرہ نہیں۔ حسن ‘ قتادہ اور ضحاک کا بھی یہی مسلک ہے۔ یزید بن ابی حبیب نے کہا : بدر کے دن فرار ہونے والے کیلئے تو اللہ نے دوزخی ہونے کی صراحت فرما دی لیکن اس کے بعد احد کے بعد جو لوگ میدان قتال سے روگرداں ہوئے ان کے متعلق فرمایا : اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسِبُوْا وَلَقَدْ عَفَی اللّٰہُ عَنْھُمْ ۔ پھر حنین کے دن فرار ہونے والوں کے متعلق فرمایا : ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ ۔ میں کہتا ہوں : یہ قول اجماع امت کے خلاف ہے اور احد و حنین میں بھاگنے والوں کے متعلق جو آیات مذکور ہیں ‘ وہ تو ان لڑائیوں میں بھاگنے والوں کو گناہگار قرار دے رہی ہیں ‘ اوّل جگہ صراحت ہے کہ بھاگنے والوں ہی کی بعض نازیبا حرکتوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دئیے اور اللہ نے ان کا قصور معاف کردیا۔ دوسری آیت میں ہے : تم منہ پھیر کر بھاگے ‘ پھر اللہ جس کی توبہ چاہے گا قبول فرما لے گا۔ ظاہر ہے کہ معافی اور قبول توبہ بغیر ارتکاب گناہ کے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ رسول اللہ ﷺ نے سات ہلاکت آفریں چیزوں میں قتال سے بھاگنے کا شمار کیا ہے۔ بخاری و مسلم نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور اصحاب سنن نے حضرت صفوان بن عسال کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ سورة النساء کی آیت اَنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَاءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّر عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ کی تفسیر میں ہم نے کبائر کی تشریح کردی ہے ‘ لہٰذا مندرجۂ ذیل آیت کی وعید عام ہے (صرف اہل بدر کی خصوصیت نہیں) ۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

ومن یولھم یومئذ دبرء الا متحرفًا لقتال او متحیزًا الی فءۃ فقد بآء بغضب من اللہ وماء واہم جھنم وبئس المصیر جو شخص اس موقع پر ان کو پشت دے گا بشرطیکہ لڑائی کیلئے پینترا نہ بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے نہ آتا ہو تو وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ مَنْ یُوَلِّھِمْ یعنی جو کافروں کو قتال کے دن پیٹھ دے گا۔ اِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ یعنی دشمن کو فریب دینے کیلئے اپنی شکست دکھائے اور مقصد یہ ہو کہ دشمن کو غافل بنا کر لوٹ کر حملہ کرے گا۔ اَوْ مُتَحَیِّزًا اَلٰی فِءَۃٍ یا اگر لڑتے لڑتے تھک جائے تو اپنی جماعت سے آ ملے اور مقصد یہ ہو کہ تھکان دور ہونے کے بعد دوبارہ جا کر لڑے گا۔ بدر کے قصے میں بغوی نے مجاہد کا بیان نقل کیا ہے کہ جب مسلمان لڑائی سے فارغ ہو کر لوٹے تو بعض لوگ کہنے لگے : میں نے فلاں کافر کو قتل کیا ہے۔ دوسرا بولا : میں نے فلاں کو مارا ہے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم پھر تم نے ان کو (اپنی قوت کی بدولت) قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا۔ یعنی اللہ نے تمہاری مدد کی ‘ تم کو ان پر دسترس عنایت کی ‘ ان کے دلوں میں تمہارا رعب ڈالا اور فرشتوں سے تمہاری امداد کرائی۔ اصل کلام اس طرح تھا : اگر دشمن پر فتحیاب ہونے پر تم فخر کرتے ہو تو غلطی کرتے ہو ‘ تم نے اپنے بل بوتے پر دشمنوں کو قتل نہیں کیا ‘ تمہاری محنت کشی فتح کی علت نہیں بلکہ اللہ نے غیر معمولی مدد دے کر دشمنوں کو قتل کیا۔ وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی اور جب تم نے (اے نبی ! دشمنوں پر مٹھی بھر خاک) پھینک ماری تو تم نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ یعنی گو بظاہر تم نے پھینکی مگر دشمنوں کی آنکھوں میں جھونکنے اور وہاں تک پہنچانے کی تم کو قدرت نہ تھی ‘ اللہ نے وہ خاک اور کنکریاں دشمنوں کی آنکھوں تک پہنچا دیں جس کی وجہ سے ان کو شکست ہوگئی۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور اموی نے حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ بن صفیر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مناجات کے وقت عرض کیا : اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو (اس وقت تیری پرستار چونکہ صرف یہی جماعت ہے ‘ اسلئے) زمین پر پھر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ دعاء کے بعد حضرت جبرئیل نے (آکر) کہا : ایک مٹھی خاک لے کر ان لوگوں کے چہروں پر پھینک دو (حضور ﷺ نے مشورہ پر عمل کیا) نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی مشرک ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں ‘ نتھنوں اور منہ میں خاک نہ پڑگئی ہو ‘ بالآخر سب پشت پھیر کر بھاگ پڑے۔ حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : اب ان پر حملہ کرو۔ حملہ ہوتے ہی مشرکوں کو شکست ہوگئی اور سرداران قریش میں جس کا قتل ہونا اللہ کو منظور تھا ‘ وہ مارا گیا اور جس کا قید کرنا منظور تھا ‘ وہ گرفتار کرلیا گیا۔ اس وقت آیت فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ نازل ہوئی۔ طبرانی اور ابوالشیخ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا : مجھے ایک مٹھی کنکریاں دے دو ۔ حضرت علی نے دے دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے کافروں کے چہروں پر پھینک ماریں ‘ نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں کوئی شخص ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں کنکریاں نہ بھر گئی ہوں۔ ابو الشیخ ‘ ابو نعیم اور ابن مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت جابر نے فرمایا : میں نے بدر کے دن آسمان سے کچھ کنکریاں گرنے کی آواز سنی ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی طشت میں گری ہیں۔ جب صف بندی ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے وہ کنکریاں لے کر مشرکوں کے چہروں پر پھینک ماریں جس کی وجہ سے ان میں بھگڈر پڑگئی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن زید کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین کنکریاں پھینکی تھیں ‘ ایک کنکری مشرکوں کے میمنہ پر ‘ دوسری میسرہ پر اور تیسری درمیان میں اور شاھَتِ الْوُجُوہ فرمایا تھا جس کی وجہ سے ان کو شکست ہوگئی۔ حضرت محمد بن عمرو اسلمی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں لے کر مشرکوں پر پھینک ماریں اور فرمایا : شَاھَتِ الْوُجُوہ اللّٰھُمَّ ارْعِبْ قُلُوْبَھُمْ وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ (چہرے بگڑ گئے ‘ اے اللہ ! ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے) نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے دشمنوں میں بھگڈر پڑگئی ‘ کسی چیز کی طرف منہ نہ موڑا۔ کمانڈر خوف زدہ ہوگئے۔ مسلمان ان کو قتل اور قید کرنے لگے۔ کوئی ایسا نہ بچا جس کا منہ اور آنکھیں (خاک اور) کنکریوں سے نہ بھر گئی ہوں۔ جدھر جس کے سینگ سمائے ‘ بغیر رخ دیکھے چل دیا اور فرشتے ان کو قتل کرنے لگے۔ ابن حاتم اور ابن جریر نے حسن سند کے ساتھ حکیم بن حزام کی روایت سے لکھا ہے کہ بدر کا دن ہوا تو ہم نے آسمان سے زمین کی طرف اترتی ہوئی ایک آواز سنی جیسے کسی طشت میں کوئی پتھری گری ‘ رسول اللہ ﷺ نے وہی پتھری لے کر شاھَتِ الْوُجُوہُفرماتے ہوئے پھینک ماری جس کی وجہ سے ہم کو شکست ہوگئی۔ آیات مذکورہ کی شان نزول میں کچھ غریب روایات اور بھی آئی ہیں (جن میں سے بعض کا ذکر کیا جاتا ہے) ۔ حاکم نے بروایت سعید بن مسیب بحوالۂ مسیب بیان کیا کہ احد کے دن ابی بن خلف ‘ رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھا۔ لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا اور مصعب بن عمیر اس کے مقابلہ پر آگئے۔ اُبی کی زرہ اور خود کے درمیان ایک شگاف تھا جس سے اس کی ہنسلی کی ہڈی رسول اللہ ﷺ نے دیکھ پائی اور اس شگاف میں چھوٹا نیزہ (برچھی) مارا ‘ اُبی فوراً گھوڑے سے گرپڑا ‘ ایک پسلی ٹوٹ گئی مگر زخم سے خون نہیں نکلا (یعنی ایسا زخم نہیں لگا کہ خون نکلتا ‘ کچھ خراش لگ گئی) مگر ابی بیل کی طرح چلانے لگا کہ ساتھیوں نے کہا : تو کیسا ڈھیلا آدمی ہے (کوئی زخم نہیں پھر کیوں چلاتا ہے) صرف ایک خراش لگی ہے۔ اُبی نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تو یہ کہا تھا کہ میں ابی کو قتل کئے دیتا ہوں۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر یہ زخم تمام ذی المجاز (ذی المجاز ایک میلہ کا نام ہے جہاں عکاظ کے میلہ کے بعد عرب جمع ہوتے تھے) والوں کے لگتا تو سب مرجاتے۔ غرض مکہ کو پہنچنے سے پہلے ابی مرگیا اور اللہ نے آیت وَمَا رَمَیتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی نازل فرمائی۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے مگر غریب ہے۔ ابن جریر نے عبدالرحمن بن جبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے کمان منگوا کر قلعہ پر تیر مارا ‘ تیر لڑھکتا ہوا نیچے آگرا ‘ نیچے ابن ابی الحقیق بستر پر لیٹا ہوا تھا ‘ تیر اس کے لگ گیا اور وہ مرگیا۔ اس پر آیت وَمَا رَمَیتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی نازل ہوئی۔ یہ روایت مرسل اور جید ہے مگر غریب ہے۔ ولیبلی المؤمنن منہ بلاءً حسنًا اور تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے۔ وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اللہ نے جو کچھ کیا ‘ وہ دین کو غالب کرنے اور دشمنوں کو مقہور کرنے کیلئے کیا اور اسلئے کیا کہ مؤمنوں کو نعمت عظیمہ عنایت فرمائے۔ فتح ‘ مال غنیمت اور آیات کا مشاہدہ کرا کے ایمان میں قوت اور جہاد و شہادت کا ثواب اور جنت اور مراتب قرب اور اپنی خوشنودی عطا فرمائے۔ میں کہتا ہوں : وَلِیُبْلِیَالخ حقیقت میں ایک شبہ کا جواب ہے ‘ شبہ ہوسکتا تھا کہ اللہ جب تمام کافروں کو ہلاک کرسکتا تھا تو پھر مؤمنوں کے جہاد و جنگ کرنے اور فرشتوں کی کمک پہنچانے کی کیا ضرورت تھی ؟ پھر ایک فرشتہ بھی سب کو ہلاک کرنے کیلئے کافی تھا ‘ جیسا کہ گذشتہ قوموں کے ساتھ کیا گیا۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنْ السَّمَآءِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ اِنْ کَانَتْ الاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ خَامِدُوْنَ 5 ایسی صورت میں ہزاروں ملائکہ بھیج کر امداد کرانے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ ہم نے جو کچھ کیا ‘ اسلئے کیا کہ دین غالب ہوجائے اور انسان و ملائکہ کے مل کر جنگ کرنے سے اہل ایمان کو ثواب ‘ اجر ‘ فتح ‘ مال غنیمت 1 ور مرتبۂ قرب حاصل ہوجائے۔ اگر اللہ بغیر کسی ذریعہ کے محض اپنی قدرت سے سب کو ہلاک کردیتا یا ایک فرشتہ کی چیخ سے سب کو مار ڈالتا اور کوئی مشرک باقی نہ رہتا تو آئندہ کوئی کافر دولت ایمان سے سرفراز نہ ہوتا۔ جنگ میں مارنے جانے اور شکست پانے کے بعد تو بہت لوگ بچ گئے جو بعد کو مسلمان ہوئے اور ایمان کی نعمت ان کو مل گئی۔ اس کے علاوہ مؤمنوں کو جہاد اور شہادت کا ثواب مل گیا اور غازیوں کو مال غنیمت حاصل ہوگیا اور ملائکہ کو کچھ شرف نصیب ہوگیا۔ فضائل اہل بدر بخاری نے حضرت رفاعہ بن رافع زرقی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : آپ لوگ اہل بدر کو اپنے اندر کس درجہ پر جانتے ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ تمام مسلمانوں سے افضل ہیں ‘ یا اسی مفہوم کا کوئی اور جواب دیا۔ حضرت جبرئیل نے کہا : (ملائکہ میں) یہی مرتبہ ان ملائکہ کا ہے جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت رافع بن خدیج کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ امام احمد نے صحیح سند سے برشرط مسلم ‘ حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ‘ وہ دوزخ میں ہرگز نہیں جائے گا۔ ابو داؤد ‘ ابن ماجہ اور طبرانی نے جید سند سے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اہل بدر کے احوال سے واقف ہوجانے پر فرماتا ہے کہ تم (اب) جو چاہو عمل کرو ‘ میں نے تم کو بخش دیا۔ امام احمد کا بیان ہے کہ حضرت حفصہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو خود فرماتے ہوئے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے کہ جو کوئی بدر اور حدیبیہ میں حاضر رہا ‘ انشاء اللہ وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔ حضرت حفصہ نے فرمایا : میں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ ﷺ ! ) کیا اللہ نے وَاِنْ مِّنْکُمْ الاَّ وَادِوُھَا (تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ دوزخ میں نہ اترے) نہیں فرمایا ہے ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوا وَنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْھَا جِثِیًّا 5 مسلم اور ترمذی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن حاطب (اپنے باپ) حضرت حاطب کی شکایت کرنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! حاطب بلاشبہ دوزخ میں جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم غلط کہتے ہو ‘ وہ دوزخ میں نہیں جائے گا ‘ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھا۔ صحیحین میں حضرت علی کی روایت سے حضرت حاطب بن بلتعہ کے خط کا قصہ آیا ہے (کہ حضرت حاطب نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ارادہ کی اطلاع مکہ والوں کو دینے کیلئے خط لکھا تھا اور راستہ میں وہ خط حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے پکڑ لیا تھا) اور یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! حاطب کی گردن مار دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا وہ شرکاء بدر میں سے نہیں ہے اور اللہ نے اہل بدر کے احوال پر مطلع ہونے کے بعد ہی فرمایا ہے کہ جو کچھ چاہو کرو ‘ میں نے تمہاری مغفرت کردی اور یہ بھی فرما دیا کہ تمہارے لئے جنت ضروری ہوگئی۔ ہم نے یہ حدیث سورة الفتح اور سورة الممتحنہ میں ذکر کردی ہے۔ بخاری نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ بدر کے دن حضرت حارثہ بن زید شہید ہوگئے تو ان کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ واقف ہیں کہ حارثہ کا مجھ سے کیا رشتہ تھا۔ اب اگر وہ جنت میں ہو تو میں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں اور اگر اس کے علاوہ کوئی صورت ہو تو مجھے بتائیے کہ میں کیا کروں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : اری ! کیا جنت ایک ہے ؟ جنتیں تو بہت ہیں اور وہ جنت الفردوس میں ہے۔ بخاری کے علاوہ بعض دوسری روایتوں میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تیرا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔ اس روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت حارثہ دور سے دیکھنے والوں میں شامل تھے۔ ان الفاظ سے اہل بدر کی مزید فضیلت پر روشنی پڑتی ہے کہ حضرت حارثہ میدان جنگ کے وسط میں نہ تھے ‘ ہلاکت گاہ میں بھی نہ تھے ‘ دور سے دیکھنے والوں میں سے تھے کہ ایک تیر آ لگا جب کہ آپ حوض سے پانی پی رہے تھے۔ اس کے بعد جنت الفردوس میں ان کو جگہ ملی اور جنت الفردوس ہی جنت کا اعلیٰ مرتبہ ہے اور سب سے برتر بھی ہے ‘ یہیں سے جنت کی نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں۔ جب ایسے لوگوں کا یہ مرتبہ ہے تو پھر ان لوگوں کے مرتبہ کا کیا کہنا جو دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اور دشمن کی تعداد بھی تین گنی تھی اور اسلحہ کی طاقت بھی تین گنی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل بدر کے متعلق فرمایا : 1 ؂ تم جو عمل چاہو کرو ‘ میں نے تم کو بخش دیا۔ بظاہر اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اہل بدر کیلئے ہر عمل مباح کردیا گیا مگر یہ شریعت کے ضابطہ کے خلاف ہے۔ اس شبہ کا ازالہ بعض علماء نے اس طرح کیا ہے کہ فرمان مذکور میں گذشتہ گناہوں کے معاف ہوجانے کی خبر دی گئی ہے (یعنی یہ مراد ہے کہ تمہارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے گئے ‘ آئندہ جیسا چاہو کرو ‘ جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے) لفظ غَفَرْتُ (میں نے بخش دیا) اسی مفہوم کی تائید کر رہا ہے۔ مگر یہ جواب غلط ہے کیونکہ حضرت حاطب بن بلتعہ کے خط کا واقعہ تو بدر سے چھ برس بعد کا ہے اور اس وقت حضور اقدس ﷺ نے حضرت عمر کی درخواست کی تردید کرتے ہوئے فرمان مذکور صادر فرمایا تھا (اگر بدر کے بعد کا کوئی جرم قابل مؤاخذہ ہوتا اور مغفور نہ ہوتا تو حضور ﷺ حضرت حاطب کے متعلق مذکورۂ بالا الفاظ نہ فرماتے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ گناہوں کا بخشا جانا بھی مراد ہے اور ماضی کا صیغہ مغفرت کے قطعی اور یقینی ہونے کو ظاہر کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہے ‘ پس صحیح یہ ہے کہ ” جو عمل چاہو کرو “ کے الفاظ اہل بدر کی عزت افزائی کیلئے استعمال کئے گئے ہیں اور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اہل بدر کی اللہ کی نظر میں عظمت ‘ مغفرت کی موجب ہے اور وہ ایسے مرتبہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر آئندہ ان سے گناہ کا صدور بھی ہوجائے تب بھی مؤاخذہ نہ ہوگا۔ فائدہ : اہل بدر کو جو بشارت معافی دی گئی ‘ اس کا تعلق آخرت کے عذاب سے ہے ‘ دنیوی احکام سے اس کا تعلق نہیں ‘ ان کے قابل حد جرم کی سزا دنیا میں معاف نہیں کی گئی تھی۔ ان اللہ سمیع بیشک اللہ سننے والا ہے۔ یعنی ان کی فریاد اور دعا کو۔ علیم۔ خوب جاننے والا ہے۔ یعنی ان کی نیتوں کو اور تمام احوال کو۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

ذلکم یہ ‘ یعنی خوب صورت آزمائش ‘ یا دشمنوں کو قتل کرنا ‘ یا ان پر کنکریاں پھینکنا۔ ذٰلکم خبر ہے ‘ اس کا مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی مقصود یہ تھا۔ وان اللہ موھن کید الکافرین۔ یعنی کافروں کے داؤ کو کمزور کردینا بھی مقصود تھا۔ اس جملہ کا عطف ذٰلکم پر ہے (گویا المقصود مبتداء محذوف ہے اور ذٰلکم سے الکافرینتک اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی آزمائش اور کافروں کی بیخ کنی اس جہاد کی غرض تھی) ۔ محمد بن اسحاق اور امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری کی روایت سے اور ابن جریر و ابن المنذر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ (بدر کے دن) جب باہم مقابلہ پر صف آرائی ہوئی اور ایک فریق دوسرے کے قریب پہنچ گیا تو ابوجہل نے کہا : اے اللہ ! ہم میں سے جو بھی رشتۂ قرابت کو قطع کرنے والا اور بری باتیں (باپ دادا کے خلاف) لانے والا ہو ‘ کل صبح تو اس کو ہلاک کر دے۔ گویا ابوجہل نے خود اپنے خلاف فتح کی دعاء کی ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے

ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتحج اور اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے سامنے آپہنچا۔ یعنی اگر تم اللہ سے اس بات کے طالب تھے کہ جو اللہ کی نظر میں محبوب اور پسندیدہ ہو ‘ اس کو فتح نصیب ہو تو تمہاری درخواست کے بموجب فتح آگئی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے : میں بدر کے دن لائن میں کھڑا ہوا تھا ‘ میں نے دیکھا کہ میرے دائیں بائیں دو لڑکے ہیں اور میں دو نوجوان لڑکوں کے درمیان ہوں ‘ مجھے خیال پیدا ہوا کہ اگر میرے دونوں طرف طاقتور آدمی ہوتے تو بہتر ہوتا (کہ وقت پر کچھ میری مدد کرتے اور کچھ کام کرتے) اتنے میں ایک لڑکے نے چپکے سے مجھے دبایا اور پوچھا : چچا ! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ‘ لیکن بھتیجے ! تم کو اس سے کیا سروکار ؟ کہنے لگا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں نے اس کو دیکھ پایا تو میری نظر کے سامنے سے وہ ہٹنے نہ پائے گا یہاں تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے آئی ہے ‘ وہ مارا جائے گا۔ دوسرے نے مجھے ہاتھ سے دبا کر یہی بات کہی۔ مجھے ان کی باتیں سن کر اچنبھا ہوا۔ اتنے میں ابوجہل یہ شعر گاتا ہوا لوگوں میں نظر پڑا : ما تنقم الحرب العوان منی بازل عامین حدیث سنی۔ پھر کہنے لگا : ایسے ہی دن کیلئے میری ماں نے مجھے جنا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا : جس شخص کے متعلق تم دریافت کر رہے تھے ‘ وہ یہ ہے۔ یہ سنتے ہی دونوں تلواریں لے کر اس پر جھپٹ پڑے اور دونوں نے فوراً مار کر اس کو ٹھنڈا کردیا اور لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم دونوں نے اس کو قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے ابوجہل کے اسلحہ اور اس سے چھینا ہوا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو عطا فرما دیا۔ یہ دونوں شخص معاذ بن عمرو اور معاذ بن عفراء تھے۔ بخاری نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی دیکھ کر آئے کہ ابوجہل کس حال میں ہے۔ حسب الحکم حضرت ابن مسعود گئے اور جا کر دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اس کو مار کر ٹھنڈا کردیا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے جا کر اس کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا : کیا تو ابوجہل ہے (کہ اتنا غرور کرتا تھا) ابوجہل نے کہا : کیا جس شخص کو اس کی قوم نے ‘ یا یہ کہا کہ تم لوگوں نے قتل کردیا ہے ‘ اس سے بڑا کوئی ہے۔ امام احمد نے مسند میں ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود کی وساطت سے حضرت عبد اللہ بن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ بدر کے دن میں نے ابوجہل کو اس حال میں پڑا پایا کہ اس کی ایک ٹانگ پر تلوار لگی تھی اور ٹانگ لنگڑی ہوگئی تھی۔ میں نے اسی کی تلوار لے کر اس کو اسی تلوار سے قتل کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے وہ تلوار مجھے ہی عنایت فرما دی۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ یہ حدیث اس صحیح روایت کے خلاف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ابوجہل کے اسلحہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن عمرو بن جموح کو عنایت فرما دئیے تھے۔ دونوں کے اختلاف کو دور کرنے کیلئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صرف وہ تلوار جس سے ابوجہل کو حضرت ابن مسعود نے قتل کیا ‘ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو عطا فرما دی (اور باقی سامان و اسلحہ حضرت معاذ کو عنایت فرمائے) ۔ ابن اسحاق نے حضرت معاذ بن عمرو بن جموح کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ بدر سے فارغ ہوگئے تو آپ نے لاشوں میں ابوجہل کو تلاش کرنے کا حکم دیا اور دعا کی : اے اللہ ! وہ تیری گرفت سے نہ بچنے پائے۔ میں نے یہ فرمان سنا تو ابوجہل (کی تلاش) کو اپنے پیش نظر رکھا اور سیدھا اسی کی طرف چلا اور جا کر اس کے ایسی تلوار ماری کہ اس کی آدھی پنڈلی کٹ گئی اور میرے کندھے پر ابوجہل کے بیٹے عکرمہ نے تلوار ماری جس سے میرا ہاتھ کٹ کر لٹک گیا ‘ صرف کھال جڑی رہی اور جنگ نے مجھے اس کی طرف رخ نہ کرنے دیا کیونکہ دن بھر میں اس ہاتھ کو اپنے پیچھے لئے لڑتا رہا ‘ آخر جب اس نے مجھے زیادہ دکھ دیا تو میں نے قدم جما کر اس ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا اور الگ کر کے پھینک دیا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت معاذ اس کے بعد حضرت عثمان غنی کے دور خلافت تک زندہ رہے۔ قاضی (عیاض) نے العیون میں لکھا ہے کہ ابن وہب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ حضرت معاذ اپنا (لٹکایا کٹا ہوا) ہاتھ اٹھائے خدمت گرامی میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے اس پر لعاب مبارک لگا دیا ‘ فوراً ہاتھ جڑ گیا۔ قاضی عیاض نے شفاء میں ابن وہب کی روایت سے اس طرح نقل کیا ہے کہ ابوجہل نے حضرت معاذ کا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔ حضرت معاذ وہ ہاتھ اٹھائے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے اس پر لعاب لگا کر (اس کی جگہ پر) جوڑ دیا اور وہ جڑ گیا۔ ابن اسحاق نے بیان کیا : ابوجہل زمین پر پچھڑا پڑا تھا۔ حضرت معوذ بن عفراء اس کی طرف سے گذرے اور تلوار کا ایک کارگر ہاتھ مارا مگر کچھ جان اس میں باقی رہی۔ حضرت معاذ جنگ میں شہید ہوگئے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن مسعود ‘ ابوجہل کی طرف سے گذرے ‘ آپ کا بیان ہے : میں نے اس کو آخری سانسوں میں پایا اور گردن پر پاؤں رکھ کر کہا : دشمن خدا ! اللہ نے تجھے ذلیل کردیا۔ بولا : ذلیل کیسے کردیا ‘ تم نے جس شخص کو قتل کیا ہے ‘ کیا اس سے زیادہ کوئی باعزت ہے (یعنی جس شخص کو اس کی قوم قتل کر دے ‘ وہ ذلیل نہیں ہوتا) مجھے یہ بتاؤ کہ انجام کس کے ہاتھ رہا (یعنی فتح کس کی ہوئی) میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فتح ہوئی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : ابوجہل نے مجھ سے کہا : اے بکریوں کے چرواہے ! تو سخت (دشواررس) بلندی پر چڑھا ہے (یعنی میرا سینہ اونچے پہاڑ کی طرح ہے جس کی چوٹی پر پہنچنا سخت دشوار تھا اور تو اس پر چڑھا بیٹھا ہے) پھر میں اس کا سر کاٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر ہے۔ حضور ﷺ نے (تعجب سے) فرمایا : قسم ہے اس خدا کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں ‘ قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ کہہ کر میں نے حضور ﷺ کے سامنے سر ڈال دیا ‘ حضور ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ سجدہ میں گرگئے۔ تیسری روایت میں ہے کہ (بطور شکر) دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن عابد نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر امت کا ایک فرعون ہوتا ہے ‘ اس امت کا فرعون ابوجہل ہے۔ اس پر اللہ کی مار ! عفراء کے دونوں بیٹوں نے اس کو قتل کردیا ‘ یا فرمایا : ملائکہ نے اس کو قتل کردیا اور ابن مسعود نے اس کا کام تمام کردیا اور تیزی سے قتل کردیا۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ مشرکوں نے کہا تھا : محمد جو چیز لائے ہیں ‘ ہم بخدا ! اس کو (حق) نہیں جانتے۔ (اے اللہ ! ) ہمارے اور محمد کے درمیان حقیقت واضح کر دے۔ اس پر یہ آیت اتری : اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَ کُمْ الْفَتْح یعنی اگر تم (حق) فیصلہ کے طلب گار تھے تو تمہارے سامنے فیصلہ آگیا۔ سدی اور کلبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب روانگی کے وقت مشرکوں نے کعبہ کے پردے پکڑ کر کہا تھا : اے اللہ ! دونوں لشکروں میں سے برتر لشکر کو ‘ دونوں گروہوں میں سے افضل گروہ کو اور دونوں دینوں میں سے بہتر دین کو فتح عطا کر ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ مذکورہ روایات کی روشنی میں آیت مذکورہ کے مخاطب کفار مکہ قرار پائیں گے ‘ لیکن حضرت ابی بن کعب کا قول آیا ہے کہ آیت میں صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے ‘ اللہ نے مسلمانوں سے فرمایا ہے : اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَ کُمُ الْفَتْح یعنی اگر تم کامیابی اور فتحمندی کے خواستگار تھے تو فتح و نصرت تم کو مل گئی۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت قیس بن حباب کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت قیس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ چادر سر کے نیچے رکھے کعبہ کے سایہ میں لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے حضور ﷺ سے بطور شکوہ عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے اللہ سے دعا نہیں کرتے اور اللہ سے نصرت کی درخواست نہیں کرتے۔ یہ سن کر آپ اٹھ بیٹھے ‘ چہرۂ مبارک سرخ ہوگیا اور فرمایا : تم سے پہلے بعض لوگ ایسے گذرے ہیں کہ زمین میں گڑھا کھود کر گڑھے میں ان کو کھڑا کر کے آرہ سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے تھے لیکن یہ اذیت بھی ان کو ان کے دین سے نہیں لوٹا سکتی تھی۔ بعض لوگوں کے گوشت کے اندر لوہے کی کنگیاں ‘ ہڈی اور پٹھے تک کی جاتی تھیں مگر یہ دکھ بھی ان کو ان کے دین سے نہیں پھیر سکتا تھا۔ اللہ اس کام کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک کہ تمہارا سوار صنعاء سے حضرموت تک بلاخوف و خطر جائے گا اور راستہ میں سوائے اللہ کے اور کسی کا اس کو ڈر نہ ہوگا (یعنی مسلمانوں کیلئے امن عام ہوجائے گا) مگر تم جلدی کرتے ہو (اور وقت سے پہلے غلبہ کے خواہشمند ہو) ۔ وان تنتھوا فھو خیر لکم اور (اے کافرو ! کفر اور رسول اللہ ﷺ سے جنگ سے) اگر تم باز آجاؤ گے تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ وان تعود وانعدج اور (رسول اللہ ﷺ سے جنگ اور دشمنی کی طرف) دوبارہ لوٹو گے تو ہم بھی (بدر جیسے واقعہ کی طرف) دوبارہ لوٹیں گے۔ ولن تغنی عنکم فئتکم شیءًا ولو کثرت وان اللہ مع المؤمنین اور تمہارا گروہ کتنا ہی زیادہ ہو ‘ بالکل یا کسی دکھ کو تم سے دفع نہ کرسکے گا۔ اور اللہ بلاشبہ ایمانداروں کے ساتھ ہے۔ اگر انْ تستفتحوا کے مخاطب مسلمان ہوں تو آیت کا مطلب اس طرح ہوگا : اگر تم اللہ سے نصرت کے خواستگار ہو تو اللہ کی طرف سے نصرت تم کو مل گئی۔ اب اگر راہ حق میں جنگ و جہاد میں سستی کرنے سے باز رہو گے اور رسول ﷺ جس امر کو پسند کریں ‘ اس سے اعراض نہیں کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ لیکن اگر انکار کی طرف لوٹ پڑے تو ہم بھی دشمن کو پھر برانگیختہ کردیں گے ‘ اس وقت تمہاری کثرت تم کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے گی۔ اللہ کی مدد تو کامل ایمانداروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ تمہارے ساتھ اس کی مدد نہ ہوگی ‘ پھر تمہاری کثرت تعداد بےسود ہوگی۔ آئندہ آیت سے اسی کی تائید ہو رہی ہے۔
Ayah 8:20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ ورسولہ ولا تولوا عنہ وانتم تسمعون اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر چلو اور اس کا کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم (اعتقاد سے) سن تو لیتے ہو۔ عنہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے کیونکہ اصل مقصود رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم اور ان کی مخالفت کی ممانعت ہی ہے ‘ اطاعت خدا کا ذکر تو بطور تمہید ہے اور اس بات پر تنبیہ کرنے کیلئے ہے کہ اللہ کی اطاعت حقیقت میں رسول ہی کی اطاعت ہے۔ بعض علماء کے نزدیک جہاد کی طرف ضمیر راجع ہے ‘ یعنی جہاد سے روگرداں نہ ہو۔ بعض کے نزدیک اطاعت کی طرف راجع ہے جو اطیعوا کے اندر ضمناً مذکور ہے۔ سننے سے مراد ہے قرآن مجید اور مواعظ رسول کو سننا اور تصدیق کرنا۔
Ayah 8:21

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا وھم لا یسمعون اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سنتے نہیں۔ یعنی منافقوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو سننے اور تصدیق کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر موعظت پذیری اور قبول کے کانوں سے نہیں سنتے۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

ان شر الدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون درحقیقت اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے ہیں جو (حق کو) سمجھتے نہیں۔ الدَّوَآبِ سے مراد ہیں زمین پر تمام چلنے ‘ رینگنے والے جانور ‘ یا صرف چوپائے مراد ہیں۔ بہرے گونگے سے مراد ہیں وہ لوگ جو حق بات کو گوش قبول سے نہیں سنتے اور کلمۂ حق نہیں بولتے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو بہائم میں شمار کیا اور بدترین چوپایہ قرار دیا کیونکہ چوپایوں سے امتیاز و برتری جس وجہ سے ان کو حاصل تھی ‘ وہ سبب فضیلت انہوں نے تباہ کردیا (گوش حق نیوش اور نطق حق گو اور عقل صداقت فہم سے خالی ہوگئے) حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آیت میں قبیلہ بنی عبدالدار کے افراد مراد ہیں جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ جو چیز لے کر آئے ہیں ‘ ہم اس کے سننے سے بہرے ‘ اقرار کرنے سے گونگے اور دیکھنے سے نابینا ہیں۔ جنگ احد میں یہ سب مارے گئے ‘ لشکر کے علمبردار یہی تھے۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہوئے ‘ مصعب بن عمیر اور سویط بن حرملہ۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

ولو علم اللہ فیھم خیرًا اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی ‘ یعنی قبول حق کی صلاحیت جانتا اور وہ اہل سعادت میں سے ہوتے اور اللہ کے اسم ہادی کا ان پر اثر پڑ سکتا۔ لا سمعھم تو ان کو سناتا ‘ یعنی اس طرح سناتا کہ وہ سمجھتے اور قبول کرلیتے۔ ولو اسمعھم لتولوا وھم معرضون اور اگر ان کو سنا بھی دیتا (اور وہ فائدہ اندوز بھی ہوجاتے اور سمجھ بھی جاتے تب بھی ایمان و تصدیق و نفع اندوزی کے بعد مرتد ہوجاتے اور) منہ پھیر کر پشت موڑ جاتے (کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں) اسلئے ظہور حق کے بعد بھی محض عناد کی وجہ سے حسب تقدیر فطری روگرداں ہوجاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے بعض لوگ اہل جنت کے کام (ساری عمر) کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ‘ اس وقت کتاب (لوح محفوظ) کا لکھا غالب آتا ہے اور وہ دوزخیوں کا کام کر کے دوزخ میں چلے جاتے ہیں الخ رواہ البخاری و مسلم فی الصحیحین عن عبد اللہ بن مسعود۔ بغوی نے لکھا ہے : بعض روایات میں آیا ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے : قصی ہمارا بابرکت شیخ تھا ‘ اس کو زندہ کر دو اور وہ آپ کی نبوت کی شہادت دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس پر اللہ نے فرمایا : وَلَوْ اَسْمَعَھُمْ لَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ یعنی اگر اللہ قصی کا کلام بھی ان کو سنا دے تب بھی یہ منہ پھیر کر چل دیں گے ‘ ایمان نہیں لائیں گے۔