8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

واذا تتلی علیھم ایتنا قالوا اور جب ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں۔ یعنی نضر بن حارث کہتا ہے۔ چونکہ نضر کے قول پر سب راضی تھے ‘ اسلئے قول کی نسبت سب کی طرف کردی۔ جس طرح حضرت صالح کی اونٹنی کا قاتل صرف قدار بن سالف تھا مگر تمام قوم ثمود اس فعل پر راضی تھی ‘ اسلئے فَعَقَرُوْھَا میں کونچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کردی گئی۔ قد سمعنا لو نشاء لقلنا مثل ھذالا ہم نے (قرآن) سن لیا ‘ اگر ہم چاہیں تو ہم ایسا ہی (کلام) کہہ سکتے ہیں۔ ان کا یہ قول انتہائی عناد اور جاہلانہ خصوصیت کا مظہر تھا۔ دس سال تک قرآن ان کو مقابلہ کی دعوت دیتا رہا اور چیلنج کرتا رہا کہ اگر ایسا کلام بنا سکتے ہو تو بنا کر لاؤ ‘ پھر اگر ان میں مقابلہ کی طاقت تھی تو ایسا کرنے سے مانع کیا تھا۔ مغلوبیت اور عاجز ہونے کی ذلت سے ان کو نفرت ہونی ہی چاہئے تھی اور تھی بھی ‘ پھر ادنیٰ سورت کی مثل پیش نہ کرنے کی کیا وجہ تھی۔ ان ھذا الا اساطیر الاولین۔ یہ تو محض گذشتہ لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ہیں۔ اساطیر ‘ اسطورۃ کی جمع ہے : لکھی ہوئی تحریر ‘ یعنی گذشتہ اقوام کے واقعات جو پچھلے لوگوں نے لکھے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ نضر بن حارث تاجر تھا ‘ فارس اور حیرہ (عراق) کو جایا کرتا تھا۔ وہاں رستم و اسفندیار کی داستانیں اور عجمیوں کے قصے کہانیاں سنا کرتا تھا اور یہود و نصاریٰ کی طرف سے گذرتا تھا تو ان کو توریت و انجیل پڑھتے اور رکوع سجدہ کرتے پاتا تھا۔ پھر جب مکہ میں آیا اور رسول اللہ ﷺ کو قرآن اور نماز پڑھتے دیکھا تو بولا : ہم نے (ایسی بہت باتیں) سنی ہیں ‘ اگر ہم چاہیں تو ایسا ہی کلام کہہ سکتے ہیں۔
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

واذ قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃً من السمآء اور جب انہوں نے کہا : اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری جانب سے حق ہی ہے (اور ہم اس کی صداقت سے انکار کرتے ہیں تو انکار کی پاداش میں) ہم پر آسمان سے پتھر برسا جیسے اصحاب فیل اور قوم لوط کو تو نے سزا دی تھی۔ اوائتنا بعذاب الیم۔ یا کوئی اور اذیت رساں عذاب ہم پر بھیج دے۔ یہ بات کہنے سے ان کا مقصد محض استہزاء کرنا اور یہ بتانا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں اور بصیرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر بن حارث ہی تھا ‘ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے گذشتہ امتوں کے احوال بیان فرمائے تو نضر بن حارث نے کہا : میں بھی چاہوں تو ایسی باتیں بیان کرسکتا ہوں ‘ یہ تو وہ افسانے ہیں جو پہلے لوگوں نے اپنی کتابوں میں لکھ دئیے ہیں۔ حضرت عثمان بن مظعون نے فرمایا : اللہ سے ڈر۔ محمد ﷺ تو سچی بات کہتے ہیں۔ نضر بولا : میں بھی سچی بات کہہ رہا ہوں۔ حضرت عثمان نے فرمایا : محمد ﷺ تو لا الٰہ الا اللہ کہتے ہیں (اور تو شرک کی باتیں کہتا ہے) بولا : میں بھی لا الٰہ الا اللہ کا قائل ہوں اور یہ یعنی بت ‘ اللہ کی بیٹیاں ہیں (ا اللہ نہیں ہیں) پھر کہنے لگا : اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُو الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَالخ یعنی یہ قرآن اگر حق ہے ‘ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں تو انکار کی پاداش میں ہم پر پتھر برسا یا کوئی دوسرا سخت عذاب ہم پر بھیج دے۔ اس قول کا مقصد قرآن کا مذاق اڑانا اور قرآن کے باطل ہونے پر اپنے یقین کا اظہار کرنا ہے۔ نضر بن حارث ہی کے متعلق آیت سَأَلَ سَآءِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍٍنازل ہوئی تھی۔ عطا نے کہا : نضر بن حارث کے متعلق کچھ اوپر دس آیات کا نزول ہوا اور جس عذاب کا وہ طلبگار تھا بدر کے دن اسی نے اس کو گھیر لیا۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یسغفرون : اور اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ ان کے اندر آپ کے موجود ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ایسی حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

وما لھم الایعذبھم اللہ وھم یصدون عن المسجد الحرام : اور ان کو کیا استحقاق ہے کہ اللہ ان کو (بالکل) عذاب نہ دے حالانکہ وہ مسجد حرام سے (مسلمانوں کو) روکتے ہیں۔ اس آیت کے تفسیری معنی میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ محمد ابن اسحاق نے اس آیت کو سابق آیت کا تتمہ اور مشرکوں کے قول کا جزء قرار دیا ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ مشرک کہتے ہیں : اللہ ہم کو عذاب نہیں دے گا ‘ ہم تو اس سے استغفار کرتے ہیں۔ نبی کی موجودگی میں اس کی امت کو اللہ عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان کی جہالت اور فریب خوردگی اور خود اپنے لئے بددعا کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے بطور تردید فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ استغفار کرتے ہیں اور آپ بھی ان میں موجود ہیں لیکن یہ چیزیں عذاب سے مانع نہیں ہوسکتیں جب کہ یہ لوگ مسجد حرام (کعبہ) سے مسلمانوں کو روکتے ہیں۔ دوسرے اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ سے نیا کلام ہے ‘ سابق آیت سے وابستہ نہیں ہے۔ بخاری نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا : اَللّٰھُمَّ اَنْ کَانَ ھٰذَا ھُو الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرُ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِنَ السَّماءِ اَوِاءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍاس پر اللہ نے اپنی طرف سے فرمایا : وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبِھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ ۔ مؤخر الذکر تقدیر پر ضحاک اور ایک جماعت نے اور بروایت ابن جریر ‘ ابن ابزیٰ نے یہ مطلب بیان کیا کہ جب آپ ان میں موجود ہیں تو اللہ ان پر ہرگز عذاب نہیں بھیجے گا ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کا ان میں موجود ہونا عذاب ٹلنے اور بددعا قبول نہ ہونے کا سبب ہے۔ اللہ کا یہ ضابطہ نہیں کہ جب نبی موجود ہو تو قوم پر مکمل تباہ کن عذاب مسلط کردیا جائے جس سے ان کا استیصال ہوجائے ‘ خصوصاً ایسی حالت میں کہ آپ ان میں موجود ہیں اور آپ کو رحمت عالم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس وقت لِیُعَذِّبَھُمْ میں لام نفی کی تاکید کیلئے ہوگا اور درپردہ اس بات پر تنبیہ ہوگی کہ جب نبی ان کو چھوڑ کر ہجرت کر جائیں گے ‘ اس وقت ان کو عذاب کا منتظر رہنا چاہئے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں موجود تھے ‘ پھر ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور کچھ (کمزور) مسلمان مکہ میں رہ گئے اور ہر وقت اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی کی خواستگاری کرنے میں مشغول رہے ‘ اس وقت اللہ نے آیت وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ نازل فرمائی۔ پھر جب یہ پسماندہ مسلمان بھی مکہ سے چلے گئے تو کافروں کو عذاب میں مبتلا کیا گیا اور مسلمانوں کو فتح مکہ کی اجازت دی گئی۔ یہی وہ عذاب الیم تھا جس کی دھمکی کافروں کو پہلے سے دی گئی تھی۔ مسلمانوں کی مکہ میں موجودگی اور استغفار کا مانع عذاب ہونا دوسری آیت میں بھی صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ فرمایا ہے : وَلَو لاَ رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَنِسَآءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْھُمْ ....... سے لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِْیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا تک۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی بستی پر اللہ نے عذاب نازل نہیں کیا جب تک اپنے نبی اور مسلمانوں کو وہاں سے نکال کر مشیت کے مطابق جہاں چاہا ‘ پہنچا نہ دیا۔ (دیکھو ! ) اللہ نے فرمایا ہے : وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ پس مسلمان جب نکل گئے تو اللہ نے فرمایا : لہم ان لایعذبھم اللّٰہ یعنی مسلمانوں کے نکل جانے کے بعد عذاب نازل نہ کرنے کی کوئی وجہ باقی نہ رہی بلکہ عذاب نازل کرنے کا سبب محکم ہوگیا۔ لوگوں کو مسجد حرام سے انہوں نے روک دیا ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ کو اور مسلمانوں کو ترک وطن پر مجبور کردیا چناچہ بدر کے دن اللہ نے ان پر عذاب نازل کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا : (اے مسلمانو ! ) تمہارے اندر اللہ کے دنیوی عذاب سے محفوظ رہنے کے دو سبب ہیں : رسول اللہ ﷺ کی موجودگی اور تمہارا استغفار کرتے رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ- وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ رسول اللہ ﷺ تو (دنیا سے) تشریف لے گئے اور استغفار (کا سلسلہ) روز قیامت تک تمہارے اندر باقی رہے گا (اسلئے دنیوی عمومی عذاب تم پر نہیں آئے گا) ۔ ترمذی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے میری امت کیلئے عذاب سے محفوظ رہنے کی دو آیات مجھ پر نازل فرمائیں۔ فرمایا : وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ- وَمَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ میں جب (دنیا سے) چلا جاؤں گا تو استغفار (کے سلسلہ) کو ان کے اندر قیامت تک کیلئے چھوڑجاؤں گا۔ ترمذی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے (یعنی یہ حضرت ابو موسیٰ کا قول ہوسکتا ہے ‘ اس کو رسول اللہ ﷺ کا قول قرار دینا ضعیف ہے) ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ مشرک استغفار کرتے ہیں (یعنی ھم ضمیر مشرکوں کی طرف راجع ہے) چناچہ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ مشرک کعبہ کا طواف کرتے تھے اور طواف کرتے میں کہتے جاتے تھے : غفرانک غفرانک (ہم تیری مغفرت کے طلب گار ہیں ( اس پر اللہ نے آیت وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْالخ نازل فرمائی۔ ابن جریر نے یزید بن رومان کی روایت سے لکھا ہے کہ قریش کے لوگوں میں سے بعض نے بعض سے کہا : محمد (تنہا) اللہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تو ہم پر پتھر برسا۔ کہنے کو تو انہوں نے یہ بات کہہ دی لیکن جب شام ہوئی تو کہے پر پشیمان ہوئے اور دعا کی : غفرانک اللّٰھم۔ اس پر اللہ نے فرمایا : وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ سے لایعلمون تک۔ قتادہ اور سدی نے کہا : آیت مَا کَان اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ مشرک استغفار کرلیتے تو اللہ ان کو عذاب نہ دیتا لیکن انہوں نے استغفار نہیں کیا کیونکہ اگر گناہ کا اقرار کر کے معافی کے طلب گار ہوجاتے تو مؤمن ہوجاتے ........ اسی کی مثل آیت مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُھْلکَ الْقُرٰی بِظُلْمِ وَّاَھْلُھَا مصلحون ہے (یعنی اس میں بھی نفی تقدیری ہے) مطلب یہ کہ ظالم بستیوں والے اگر مصلح ہوتے تو اللہ ان کو ہلاک نہ کرتا (لیکن وہ اصلاح پسند نہ تھے اگر مصلح ہوتے تو ظلم نہ کرتے ‘ عادل ہوجاتے) ۔ بعض کا قول ہے کہ اس کلام میں اللہ نے اسلام ‘ مصاحبت رسول اور استغفار کی لوگوں کو دعوت دی ہے اور دعوت دینا اصل مقصد ہے۔ جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ تو میری اطاعت کرے گا تو میں تجھے سزا نہیں دوں گا۔ اس کا مقصد بھی ترغیب اطاعت ہے۔ مجاہد اور عکرمہ نے یَسْتَغْفِرُوْنَ کی تفسیر یسلمون کے لفظ سے کی ہے ‘ یعنی اگر وہ مسلمان ہوجاتے تو ان پر عذاب نہ آتا۔ دالبی نے حضرت ابن عباس کا ایک قول نقل کیا ہے کہ ہم یستغفرون کا مقصد یہ ہے کہ (چونکہ) اللہ کی طرف سے یہ امر پہلے ہی طے کردیا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور استغفار کریں گے جیسے ابو سفیان بن حرب ‘ صفوان بن امیہ ‘ عکرمہ بن ابی جہل ‘ سہیل بن عمر ‘ حکیم بن حزام وغیرہ (اسلئے عذاب عمومی نازل نہیں ہوا ‘ اگر ان میں سے بعض کا مسلمان ہوجانا تقدیر الٰہی میں نہ ہوتا تو عذاب آجاتا) عبدالوہاب نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا ہوگی جو استغفار کرے گی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ مَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ میں عذاب سے مراد ہے بالکل تباہ و برباد کردینے والا (عذاب استیصال) اور مَا لَھُمْ اَنْ لاَ یُعَذِّبِھُمُ اللّٰہُ میں عذاب سے مراد ہے عذاب قتل۔ بعض کے نزدیک نفی عذاب سے مراد ہے عذاب استیصال دنیا میں نہ ہونا اور وقوع عذاب سے مراد ہے عذاب آخرت۔ وما کانوا اولیاء ہط اور وہ مسجد حرام کے متولی (ہونے کے قابل) نہیں تھے۔ حسن کا قول ہے کہ مشرک کہتے تھے : ہم کعبہ کے متولی (حقدار) ہیں ‘ جس کو چاہیں اندر آنے سے روک دیں گے اور جس کو چاہیں گے اندر آنے دیں گے۔ اس کی تردید میں اللہ نے جملۂ مذکورہ نازل فرمایا۔ اس وقت اولیاۂٗ سے اولیاء کعبہ مراد ہوں گے (اور ہٗ ضمیر بیت کی طرف راجع ہوگی) ۔ ان اولیاء ہ الا المتقون نہیں ہیں حقدار کعبہ کے ‘ مگر متقی۔ یعنی وہی لوگ کعبہ کے حقدار ہیں جو شرک سے پرہیز رکھنے والے ہیں اور اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہیں کرتے۔ بعض اہل تفسیر نے ہٗ ضمیر اللہ کی طرف راجع کی ہے ‘ یعنی اللہ کے دوست نہیں ہیں ‘ مگر متقی۔ ولکن اکثرھم لاتعلمون لیکن ان میں سے اکثر ناواقف ہیں۔ نہیں جانتے کہ کعبہ کی تولیت کا ان کو استحقاق نہیں۔ لفظ اکثرذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان میں سے بعض لوگ اس بات کو جانتے ہیں اور دانستہ عناد کا مظاہرہ کرتے ہیں ‘ یا اکثر سے مراد سب ہیں جیسے لفظ قلت سے عدم (بالکل نہ ہونا) مراد لے لیا جاتا ہے۔ (1) [ حضرت رفاعہ بن رافع راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو ایک جگہ جمع کرو۔ جب سب لوگ بارگاہ نبوت پر حاضر ہوگئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا : میری قوم کے سب لوگ (یعنی مہاجرین) حاضر ہیں۔ انصار نے بھی یہ بات سن لی اور خیال کیا کہ قریش کے متعلق کوئی وحی آئی ہے ‘ چلو ہم بھی چلیں۔ چناچہ سننے اور دیکھنے والے آگئے (یعنی پیام وحی کو سننے اور حالات کو دیکھنے کیلئے انصار بھی آگئے) رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور سب کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا : کیا تم میں تمہارے علاوہ کوئی اور بھی ہے ؟ مہاجرین نے عرض کیا : جی ہاں ‘ ہمارے حلیف اور بھانجے اور اہل قرابت (یعنی انصار) ہیں۔ فرمایا : ہمارے حلیف تو ہم میں سے ہیں ‘ ہمارے بھانجے بھی ہم میں سے ہیں اور ہمارے اہل قرابت بھی ہم میں سے ہیں۔ تم (قرآن میں) سنتے ہو : اِنْ اَوْلِیَآءُہٗ الاَّ الْمُتَّقُوْنَپس اگر تم وہ (متقی) ہو تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ سمجھ لو کہ لوگ قیامت کے دن (نیک) اعمال لے کر آئیں گے اور تم (گناہوں کا) بار لے کر آؤ گے تو تم سے روگردانی کرلی جائے گی (تمہاری طرف نظر التفات و توجہ نہیں کی جائے گی) ۔]
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

وما کان صلاتھم عند البیت الا مکاءً وتصدیۃً ط اور کعبہ کے پاس ان کی نماز صرف سیٹیاں اور تالیاں بجانا ہوتی ہے۔ صلٰوۃ سے مراد دعا ہے ‘ یا وہ عبادت مراد ہے جس کو مشرک نماز کہتے تھے۔ مُکاء کا ترجمہ حضرت ابن عباس اور حسن نے سیٹی کیا ہے۔ اصل میں مکاء اس سفید پرندہ کو کہا جاتا تھا جس کی آواز سیٹی کی طرح ہوتی تھی ‘ یہ پرندہ حجاز میں ہوتا تھا۔ اس معنی کے لحاظ سے آیت میں مکاء سے مراد مکاء کی آواز ہوگی۔ تصدیۃ کا معنی تالی بجانا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کیا کرتے تھے اور طواف کی حالت میں سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ واحدی نے حضرت ابن عمر کی طرف بھی اس بیان کو منسوب کیا ہے۔ بغوی نے مجاہد کا بیان لکھا ہے کہ قبیلہ عبدالدار کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے طواف کرتے وقت سامنے آجاتے ‘ مذاق بناتے اور اپنے منہ میں انگلیاں ڈال کر سیٹیاں بجاتے تھے۔ اس روایت کی روشنی میں مکاء کا معنی ہوگا بانچھوں کے اندر انگلیاں داخل کرنا اور تصدیۃ کا معنی ہوگا سیٹی جیسی آواز نکالنی۔ پہاڑ کے درّہ میں آواز نکالنے والے کو جو بازگشت کی آواز سنائی دیتی ہے جس کو صدا کہا جاتا ہے ‘ اس کا ماخذ لفظ تصدیۃ ہی ہے۔ لغت میں صدا اس آواز کو کہتے ہیں جو (میدان یا پہاڑ یا کسی بلند عمارت میں) ہر طرف سے آتی ہے۔ ابن جریر نے بحوالۂ سعید بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے طواف کے دوران قریش آپ کے سامنے آجاتے ‘ آپ سے ٹھٹھا کرتے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جعفر بن ابی ربیعہ نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مکاء وتصدیۃ کا معنی پوچھا تو حضرت ابوسلمہ نے دونوں ہتھیلیاں ملا کر بیچ میں پھونکا جس سے سیٹی جیسی آواز پیدا ہوئی۔ رواہ ابن جریر۔ مقاتل کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو دو آدمی آپ کے دائیں جانب کھڑے سیٹی کی آواز نکالتے اور دو آدمی آپ کے بائیں کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگتے تھے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی نماز میں گڑبڑ ہوجائے۔ یہ لوگ قبیلۂ عبدالدار کے تھے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : تصدیۃ سے مراد ہے مسلمانوں کو مسجد حرام اور دین اور نماز سے روکنا۔ اس قول کی بناء پر تصدیۃ کا مادہ صَدٌّ قرار پائے گا۔ دوسری دال کو یاء سے بدل دیا گیا۔ بہرصورت لفظ صلٰوۃ سے مراد کافروں کی وہ حرکات ہوں گی جن کو نماز کے قائم مقام انہوں نے بنا رکھا تھا۔ حکم تو دیا گیا تھا مسجد میں نماز پڑھنے کا اور انہوں نے بجائے نماز کے ان حرکات کو اختیار کیا۔ فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون۔ اب تم عذاب کو چکھو کفر کرتے رہنے کے عوض۔ عذاب سے مراد ہے بدر کی لڑائی میں مارا جانا۔ بعض کے نزدیک عذاب آخرت مراد ہے اور العذاب میں الف لام عہدی ہوسکتا ہے ‘ یعنی وہ عذاب جس کی انہوں نے درخواست کی تھی اور کہا تھا : اَوِاءْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمِ ۔ اور کفر سے مراد ہے اعتقادی اور عملی کفر۔ یہ آیت گذشتہ آیت سے وابستہ ہے اور اس بات کو پختہ کر رہی ہے کہ واقعی وہ عذاب کے مستحق ہیں اور تولیت کعبہ کے حقدار نہیں ہیں۔ جس کے یہ احوال ہوں جو اوپر بیان کر دئیے گئے ‘ وہ ضرور عذاب کا مستحق ہوگا اور تولیت کعبہ کا حقدار نہ ہوگا۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ ط جن لوگوں نے کفر کیا ‘ وہ اپنا مال راہ خدا سے لوگوں کو روکنے کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ سبیل اللہ سے مراد ہے اللہ کا دین۔ کلبی نے کہا : اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جنہوں نے بدر کے موقع پر (قریش کے سارے لشکر کو) کھانا کھلایا تھا۔ یہ بارہ آدمی تھے : ابوجہل بن ہشام ‘ ربیعہ بن عبدالشمس کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ ‘ حجاج کے دونوں بیٹے نبیہ اور منبہ ‘ ابو البختری بن ہشام ‘ نضر بن حارث ‘ حکیم بن حزام ‘ اُبی بن خلف ‘ زمعہ بن اسود ‘ حارث بن عامر بن نوفل ‘ عباس بن عبدالمطلب۔ یہ سب افراد قریشی تھے اور ہر شخص روزانہ دس اونٹ ذبح کیا کرتا تھا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : مجھ سے زہری اور محمد بن یحییٰ بن حبان اور عاصم بن عمر بن قتادہ اور حصین بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جب بدر کے دن قریش مارے گئے اور شکست کھا کر مکہ کو لوٹے تو عبد اللہ بن ابی اور عکرمہ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ اور دوسرے وہ لوگ جن کے باپ یا بیٹے بدر میں مارے گئے تھے ‘ ابوسفیان کے اور ان قریشیوں کے پاس گئے جن کی ابوسفیان والے تجارتی قافلہ میں شرکت تھی اور ان سے کہا : اے گروہ قریش ! محمد ﷺ نے تمہاری قوت توڑ دی ‘ تمہارے چنے ہوئے لوگوں کو قتل کردیا۔ اب تم (قافلہ کے اس تجارتی) مال سے ہماری مدد کرو تاکہ ہم محمد ﷺ سے لڑ کر انتقام لے سکیں۔ لوگوں نے یہ بات قبول کرلی۔ بقول حضرت ابن عباس ‘ انہی لوگوں کے متعلق آیت ان الذین کفروا سے یحشرون تک نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے حکم بن عتبہ کے حوالے سے بیان کیا کہ یہ آیت ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی جس نے چالیس اوقیہ سونا مشرکوں پر خرچ کیا تھا۔ ابن جریر نے ابزی اور سعید بن جبیر کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ آیت ابو سفیان کے حق میں نازل ہوئی جس نے دو ہزار احابیش (1) [ احابیش کچھ قبائل عرب تھے جو بنی اللیث کے ساتھ مل گئے تھے تاکہ جنگ میں ان کا ساتھ دیں۔ تحبش کا معنی ہے جمع ہونا۔ بعض کے نزدیک احابیش مختلف قبائل کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے کوہ حبش کے نیچے قریش سے مدد کا معاہدہ کیا تھا۔] کو اجرت دے کر جنگ احد کیلئے تیار کیا تھا۔ میں کہتا ہوں : الفاظ عام ہیں ‘ مذکورہ اشخاص بھی اس حکم میں داخل ہیں اور ان کی طرح کے دوسرے لوگ بھی۔ فسینفقونھا ثم تکون علیھم حسرۃً اب تو یہ (راہ خدا سے روکنے کیلئے) مال صرف کرتے ہیں (لیکن) پھر یہ ان کیلئے (دنیا میں ہی) باعث پشیمانی و غم ہوجائے گا۔ کیونکہ مال بھی جائے گا اور مقصد بھی حاصل نہ ہوگا۔ حسرت ہونے سے مراد ہے موجب حسرت ہونا۔ کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے باعث حسرت کو حسرت قرار دیا۔ ثم یغلبون ط پھر (انجام کار) یہ مغلوب ہوں گے۔ اگرچہ شروع میں لڑائی اونچی نیچی (یعنی برابر سرابر) ہوتی رہے گی۔ والذین کفروا الی جھنم یحشرون۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا۔ یعنی کفر پر قائم رہے ‘ جہنم کی طرف ان کو ہنکا کرلے جایا جائے گا۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں

لیمیز اللہ الخبیچ من الطیب ویجعل الخبیث بعضہ علی بعض فیرکمہ جمیعًا فیجعلہ فی جھنم ط تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ان ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا کر سب کو متصل کر کے جہنم میں ڈال دے۔ ناپاک و پاک سے مراد کافر و مؤمن ہے ‘ یا بگاڑ و بناؤ اور لیمیز کے لام کا تعلق یحشرون سے ہے یا یغلبون سے۔ یا ناپاک سے مراد وہ مال ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں کفار نے صرف کیا تھا اور پاک سے مراد وہ مال ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مدد میں مسلمانوں نے صرف کیا تھا۔ یرکم یعنی باہم ملا دے (رکمٌجمع کرنا ‘ باہم ملانا) سحاب مرکوم (گھٹا ‘ تہہ بہ تہہ بادل) اسی معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے۔ اولئک ھم الخسرون۔ یہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ یہی سے اشارہ ناپاک گروہ یا منافقوں کی طرف ہے اور گھاٹا اٹھانے سے مراد ہے : پورا پورا گھاٹا اٹھانا کہ مال دے کر آخرت کا عذاب مول لیا۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)

قل للذین کفروا ان تنتھوا یغفرلھم ما قد سلف ج آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ کفر ‘ عداوت رسول اور قتال سے باز آجائیں گے تو جو کچھ (کفر ‘ فساد اور گناہ ان سے) پہلے ہوچکا ‘ اس کو بخش دیا جائے گا۔ آخر میں کفار میں سے ایک بڑی جماعت اسلام لے آئی۔ ابوسفیان بن حرب ‘ صفوان بن امیہ ‘ عکرمہ بن ابی جہل اور عمرو بن عاص وغیرہ بہت اشخاص مسلمان ہوگئے۔ بدر کے قیدیوں میں سے حضرت عباس بن عبدالمطلب ‘ عقیل بن ابی طالب ‘ نوفل بن حارث ‘ ابو العاص بن ربیع ‘ ابوعزیر بن عمیر عبدری ‘ صائب بن ابی جیش ‘ خالد بن ہشام مخزومی ‘ عبد اللہ بن ابی السائب ‘ مطلب بن خطب ‘ ابو وداعہ سہمی ‘ عبد اللہ بن ابی بن خلف ‘ وہب بن عمیر جمحی ‘ سہیل بن عمر عامری ‘ ام المؤمنین حضرت سودہ کے بھائی عبد اللہ بن زمعہ ‘ قیس بن سائب ‘ امیہ بن خلف کے آزاد کردہ غلام نسطاس۔ سائب بن عبید زر فدیہ ادا کرنے کے بعد مسلمان ہوئے۔ عدی بن خیار فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے۔ ولید بن مغیرہ کو ہشام اور خالد نے گرفتار کرلیا تھا ‘ جب زر فدیہ انہوں نے ادا کردیا اور رہا ہوگئے تو پھر مسلمان ہوگئے۔ لوگوں نے بیوقوف بنایا (کہ مسلمان ہونا ہی تھا تو قید کی حالت میں مسلمان ہوگئے ہوتے ‘ مسلمان ہوتے ہی رہا ہوجاتے۔ زر فدیہ ادا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ) کہنے لگے : لوگ خیال کرتے ہیں کہ میں قید میں رہنے کے ڈر سے مسلمان ہوگیا ‘ مجھے یہ بات پسند نہ تھی (بلکہ یطیب خاطر برضا ورغبت مسلمان ہونا تھا) آپ مسلمان ہوگئے تو ننھیال والوں نے آپ کو قید کردیا۔ رسول اللہ ﷺ آپ کیلئے قنوت میں دعاء کیا کرتے تھے۔ آخر چھوٹ گئے اور حضور ﷺ کی وفات کے سال خدمت گرامی میں پہنچ گئے۔ حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : دست مبارک بڑھائیے ‘ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : عمرو ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں کچھ شرط رکھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا : پیش کرو ‘ کیا شرط ہے ؟ میں نے عرض کیا : شرط یہ ہے کہ میرے (گذشتہ) قصور معاف ہوجائیں۔ فرمایا : عمرو ! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام گذشتہ جرائم کو ڈھا دیتا ہے اور ہجرت بھی جو کچھ پہلے ہوچکا ‘ اس کو ڈھا دیتی ہے اور حج بھی سابق باتوں (یعنی گناہوں کو) ڈھا دیتا ہے۔ رواہ مسلم وان یعودوا فقد مضت سنۃ الاولین۔ اور اگر (رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کی طرف) دوبارہ لوٹیں گے تو (کفار) سابقین کے متعلق قانون نافذ ہوچکا ہے کہ جن لوگوں نے انبیاء کی مخالفت کی ‘ ان کو تباہ کردیا گیا جیسے بدر میں لڑنے والے کافروں کے ساتھ کیا گیا۔ لہٰذا ان لوگوں کو بھی اسی قانون سے ڈرتے رہنا چاہئے۔
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے

وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ اللہ ج اور (اے مسلمانو ! ) ان کافروں سے اس حد تک لڑو کہ فتنہ (یعنی شرک اور ملک میں فساد) نہ رہے اور دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے۔ فتنہ سے مراد ہے زمین پر فساد ہونا (اور زمین پر سب سے بڑا فساد ہے شرک کا اقتدار ‘ لہٰذا) فتنہ نہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسلمان ہوجائیں یا ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں (بہرحال اقتدار مشرکوں کے ہاتھوں میں نہ رہے) دین سے مراد ملت اسلام اور اسلامی عبادت و فرائض نہیں ورنہ ادائے جزیہ والی آیت میں اور اس آیت میں تناقض پیدا ہوجائے گا (جزیہ والی آیت میں تو حکم دیا گیا ہے کہ اگر کفار جزیہ ادا کریں ‘ یعنی مسلمانوں کے اقتدار کو مان لیں تو ان سے نہ لڑو اور اس آیت میں لڑنے کا حکم اس وقت تک لازم قرار دیا گیا جب تک سب مسلمان نہ ہوجائیں) بلکہ دین سے مراد ہے حکومت ‘ اقتدار ‘ غلبہ ‘ تسلط۔ دین کے یہ تمام معاملات قاموس میں مذکور ہیں۔ حضرت مقداد بن اسود کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : کوئی ایسا مکان اور خیمہ روئے زمین پر باقی نہ رہے گا جس کے اندر اللہ کلمۂ اسلام کو داخل نہ کر دے (خواہ) عزت مند کو عزت دے کر یا ذلیل کو ذلت دے کر۔ یا تو مکان اور ڈیرے والوں کو (مشرف باسلام کر کے) اللہ عزت عطا فرما دے گا اور ان کو اہل کلمہ بنا دے گا یا (اسلام سے محروم رکھ کر) ان کو ذلیل کر دے گا اور وہ کلمۂ اسلام کے زیر فرمان ہوجائیں گے ‘ اس طرح سارا اقتدار اللہ ہی کا ہوجائے گا۔ رواہ احمد۔ زیرفرمان ہونے سے مراد ہے محکوم ہوجانا اور ذمی بن جانا۔ فان انتھوا فان اللہ بما یعلمون بصیر۔ پھر اگر باز آجائیں تو اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں گے اور اسلام لے آئیں گے تو اللہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا دے گا کیونکہ اللہ بلاشبہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اس وقت تک لوگوں (یعنی کافروں) سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے قائل ہوجائیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں۔ جب وہ ایسا کرلیں تو ان کے خون اور مال میری طرف سے محفوظ ہوجائیں گے ‘ سوائے حق اسلام کے (یعنی حقوق عباد کی وجہ سے ان سے قصاص اور مالی معاوضات لئے جاسکیں گے) اور ان کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے (اندورنی حالت اللہ کو معلوم ہے کہ کون اپنی جان و مال کی حفاظت کیلئے ایمان لایا اور کون سچے دل سے مسلمان ہوا) متفق علیہ۔ مسلم کی روایت میں سوائے حق اسلام کا لفظ نہیں ہے (یعنی حقوق عباد کا استثناء نہیں ہے) اصحاب ستہ نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کی ہے۔ سیوطی نے اس کو متواتر کہا ہے۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ جنگ سے باز آجائیں خواہ مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر تو اللہ ان کے اعمال کا بینا ہے۔ تم ان سے نہ لڑو ‘ اللہ خود ان کے اسلام و کفر اور اچھے برے اعمال کی جزا سزا دے دے گا۔ یعقوب کی قرأت میں یعلمون کی جگہ تعلمون آیا ہے ‘ اس صورت میں مسلمانوں کو خطاب ہوگا ‘ یعنی اے مسلمانو ! جیسا سلوک تم مسلمانوں سے کرتے ہو ‘ ویسا ہی برتاؤ تم ان سے کرو ‘ ان پر ظلم نہ کرو۔ بلاشبہ تمہارے اعمال کے موافق تم کو بدلہ دے گا۔ صفوان بن سلیم نے چند صحابہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خوب سن لو ‘ جو کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کرے گا ‘ یا اس کے حق میں کمی کرے گا ‘ یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بار ڈالے گا ‘ یا اس سے بغیر اس کی رضامندی کے کچھ لے گا تو قیامت کے دن اس کی طرف سے میں جھگڑا کرنے والا ہوں گا۔ رواہ ابو داؤد۔ یہ مطلب دونوں صورتوں میں ہوسکتا ہے۔ باز رہنے سے مراد کفر سے باز رہنا ہو یا جنگ سے باز رہنا ‘ جنگ سے باز رہنا مسلمان ہونے کا اظہار کر کے ہو یا ذمی بن کر اور جزیہ دے کر۔ بیضاوی نے تعلمون کی قرأت پر یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مسلمانو ! تم جو جہاد کرتے ہو ‘ دعوت اسلام دیتے ہو ‘ کفر کی تاریکی سے نور ایمان کی طرف آنے کی تبلیغ کرتے ہو ‘ تمہارے اس عمل کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ‘ وہ تم کو اس کی جزا دے گا۔ بیضاوی کی یہ تفسیر اسی تقدیر پر ہوگی جب باز رہنے سے مراد ہو کفر سے باز رہنا جو بلاوجہ تخصیص ہے ‘ پھر تعلمونکا لفظ ہر نیکی بدی کو شامل ہے ‘ اس میں بھی تخصیص کرنی پڑے گی اور صرف جہاد و تبلیغ اسلام مراد لینی پڑے گی۔
Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے

وان تولوا اور اگر وہ اسلام سے روگرداں رہے اور کفر سے باز نہ آئے ‘ یا اطاعت سے روگرداں رہے اور لڑائی سے باز نہ آئے۔ فاعلموا ان اللہ مولکم ط تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارا مددگار ہے۔ اس پر بھروسہ رکھو اور کافروں سے لڑو۔ ان کی دشمنی کی پرواہ نہ کرو ‘ خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں (اندیشہ نہ کرو) ۔ نعم المولی ونعم النصیر۔ اللہ بہترین حامی ہے (اپنے دوستوں کو ضائع نہیں ہونے دیتا) وہ بڑا اچھا مددگار ہے (جو اس کے دین کی حمایت کرے ‘ اس کو مغلوب نہیں ہونے دیتا) ۔