8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

واز زین لھم الشیطن اعمالھم وقال لا غالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم اور یاد کرو اس حالت کو جب کہ شیطان نے ان کے (برے) اعمال کو ان کی نظروں میں اچھا کر کے دکھایا تھا اور شیطان نے ان سے کہا تھا کہ آج کوئی شخص تم پر غالب نہیں آسکتا۔ اور میں (بنی کنانہ کی طرف سے) تمہارا ضامن ہوں۔ اعمالھم سے مراد ہیں برے اعمال ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرنا ‘ آپ کو قتل کرنے اور آپ سے لڑنے کا ارادہ کرنا۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ قریش نے جب دارالندوہ میں اجتماع کیا تھا تو شیطان بھی وہاں سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں آکر شریک جلسہ ہوگیا تھا۔ قریش اور بنی بکر کے درمیان جو جنگ تھی ‘ اس کا ذکر بھی ہم نے کردیا ہے۔ لا غالب لکم الیوم سے مراد یہ ہے کہ تمہاری تعداد بہت ہے اور تم بڑے مالدار بھی ہو ‘ اسلئے آج کوئی شخص تم پر غالب نہیں آسکتا۔ شیطان نے ان کے دماغوں میں یہ بات بھی جمادی تھی کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں ‘ وہ نیک عمل ہے ‘ ان اعمال کے ذریعہ سے ہم کو نجات حاصل ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے دعاء کی تھی : اے اللہ ! دونوں گروہوں میں جو بھی زیادہ سیدھے راستہ پر ہو اور دونوں مذہبوں میں سے جو بھی افضل ہو ‘ اس کی مدد کر۔ فلما ترائت الفئتن نکص علی عقبیہ قال انی برئ منکم انی اری ما لا ترون انی اخاف اللہ وا اللہ شدید العقاب۔ پھر جب دونوں گروہوں نے (باہم مقابل ہو کر) ایک دوسرے کو دیکھا لیا تو شیطان ایڑیوں کے بل پلٹ گیا (پشت پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا) اور کہنے لگا : میں تم سے الگ ہوں ‘ مجھے وہ چیز نظر آرہی ہے جو تم کو نہیں آتی ‘ مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے۔ اور اللہ سخت عذاب والا ہے۔ یعنی جب مسلمانوں اور کافروں کے ددنوں گروہ آمنے سامنے ہوئے اور شیطان نے ملائکہ کو آسمان سے اترتے دیکھا اور سمجھ گیا کہ ان سے مقابلہ کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں تو منہ پھیر کر ‘ پشت موڑ کر بھاگا۔ طبرانی نے حضرت رفاعہ بن رافع کی روایت سے اور ابن جریر و ابن المنذر و ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اللہ نے ایک ہزار فرشتے بھیج کر اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو مدد پہنچائی۔ حضرت جبرئیل پانچ سو فرشتوں کے ساتھ ایک طرف اور حضرت میکائیل پانچ سو فرشتوں کے ساتھ دوسری جانب تھے۔ ابلیس بھی شیطانوں کا لشکر اور اپنا جھنڈا لئے آگیا۔ شیطانی لشکر والے بنی مدلج کے مردوں کے بھیس میں تھے اور خود ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم کی شکل میں۔ اس وقت شیطان نے مشرکوں سے کہا : لاَ غَالِبَ لَکُمْ اَلْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ لیکن جونہی حضرت جبرئیل ‘ ابلیس کی طرف بڑھے اور ابلیس نے ان کو دیکھا ‘ اس وقت ابلیس کا ہاتھ کسی مشرک کے ہاتھ میں تھا ‘ فوراً ہاتھ چھڑا کر ‘ پشت پھیر کر بھاگا اور اس کے چیلے بھی اسی کے ساتھ چل دئیے۔ ایک شخص نے کہا : سراقہ ! تو نے تو کہا تھا : اِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ (اب بھاگا جا رہا ہے) کہنے لگا : اِنِّیْ بَرِیْءٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْ اَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَالخابلیس کا یہ فرار ملائکہ کو دیکھنے کے بعد ہوا تھا۔ حارث بن ہشام نے جب ابلیس کا کلام سنا اور حارث اس کو سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھے (سراقہ بدر کے بعد مسلمان ہوگئے تھے) تو اس کا دامن پکڑ لیا مگر شیطان نے حارث کے سینہ پر ضرب کاری رسید کی۔ حارث گرپڑے اور شیطان بھاگ نکلا ‘ کسی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ آخر جا کر سمندر میں گرپڑا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کہنے لگا : اے میرے رب ! اپنا وہ وعدہ پورا کر جو تو نے مجھ سے کیا تھا۔ اے اللہ ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں اس مہلت کی جو تو نے مجھے (قیامت تک کیلئے) دی تھی۔ اس دعا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ابلیس کو اپنے مارے جانے کا اندیشہ ہوگیا تھا (اس کو ڈر ہوگیا تھا کہ حضرت جبرئیل مجھے مار ڈالیں گے) ابوجہل کہنے لگا : لوگو ! سراقہ نے تمہاری مدد نہ کی ‘ تم اس کو کوئی اہمیت نہ دو ‘ اس کی تو محمد ﷺ سے سازش ہو ہی گئی تھی۔ عتبہ اور شیبہ کے مارے جانے کا بھی زیادہ خیال نہ کرو ‘ انہوں نے جلدی کی تھی (اسلئے مارے گئے) قسم ہے لات و عزّٰی کی ! ہم جب تک محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو رسیوں سے باندھ نہ لیں گے ‘ لوٹ کر نہ جائیں گے۔ تم میں سے کوئی آدمی مجھے ایسا نہ ملنا چاہئے جس نے محمد ﷺ کے کسی آدمی کو قتل کیا ہو۔ ان کو پکڑ لو تاکہ ہم ان کو ان کے برے کرتوت بتاسکیں۔ روایت میں آیا ہے کہ بدر کے بعد لوگوں نے سراقہ کو مکہ میں دیکھا اور کہا : سراقہ ! تو نے ہماری صفوں میں شگاف ڈال دیا اور بھگدڑ ڈال دی۔ سراقہ نے جواب دیا : مجھے تو تمہارے کسی معاملہ کی خبر بھی نہیں۔ میں تو وہاں گیا ہی نہیں ‘ مجھے کچھ علم ہی نہیں۔ لوگوں نے سراقہ کی بات صحیح نہ مانی لیکن جب یہ لوگ مسلمان ہوگئے اور اللہ نے شیطان کے متعلق جو آیات نازل کی تھیں ‘ وہ انہوں نے سنیں تو سمجھے کہ ابلیس ‘ سراقہ کی شکل میں آیا تھا بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ابلیس نے جو کہا تھا : اِنِّیْ اَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ یہ بات اس نے سچ کہی تھی اور اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَجو کہا تھا تو یہ جھوٹ کہا تھا۔ بخدا ! اس کو اللہ کا خوف نہ تھا بلکہ اس کو معلوم تھا کہ اس میں طاقت اور دفاع کی قوت نہیں ‘ اسلئے سب کو میدان میں تو لے آیا اور خود ان کی مدد نہ کی ‘ بےمدد چھوڑ کر چل دیا۔ دشمن خدا کی یہ عادت ہی ہے کہ جب حق و باطل کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ اپنے فرمانبرداروں اور پیروی کرنے والوں کو بےمدد چھوڑ دیتا ہے اور سب سے الگ ہوجاتا ہے۔ عطاء نے اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ کا یہ مطلب بیان کیا کہ مجھے اللہ سے اس بات کا ڈر لگتا ہے کہ دوسرے ہلاک ہونے والوں کے ساتھ کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کر دے (یعنی اللہ کی طرف سے مجھے اپنی زندگی کا اندیشہ رہتا ہے) ۔ کلبی نے کہا : شیطان کو حضرت جبرئیل کی طرف سے خوف تھا کہ کہیں حضرت جبرئیل اس کو پکڑ کر لوگوں کو اس کی مکاری سے واقف نہ کردیں ‘ پھر لوگ اس کا کہنا نہ مانیں۔ بعض نے اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ میں اللہ کے وعدہ کی سچائی کو جانتا ہوں کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ مجھے تم لوگوں کے متعلق اللہ کا خوف ہے ‘ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ بعض نے کہا کہ اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ پر کلام ختم ہوگیا۔ وَاللّٰہُ شَدِیْدُ العِْقَاب دوسرا جملہ ہے (جس کا لفظی ربط پہلے جملے سے نہیں) ۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ بن کر بز کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شیطان جب عرفہ کے دن (حج کے دن) اللہ کی رحمت نازل ہوتے دیکھتا ہے اور یہ بھی دیکھتا ہے کہ اللہ (بندوں کے) بڑے بڑے گناہوں سے (بھی) درگذر فرما رہا ہے تو یہ حالت دیکھ کر وہ اتنا ذلیل ‘ حقیر ‘ بےعزت اور غضب ناک نظر آتا ہے کہ سوائے یوم بدر کے کبھی اتنا ذلیل نہیں دیکھا گیا۔ عرض کیا گیا : (یا رسول اللہ ﷺ ! ) شیطان نے بدر کے دن کیا بات دیکھی تھی (کہ وہ اپنے کو حقیر ترین ‘ ذلیل ترین اور بےعزت سمجھنے لگا تھا) فرمایا : اس نے حضرت جبرئیل کو دیکھا کہ وہ ملائکہ کو ڈیوٹیوں کی تقسیم کر رہے تھے (یہ دیکھ کر اس کو اپنی ساری مکاری ہیچ نظر آنے لگی اور ذلیل ہو کر بھاگا) رواہ مالک مرسلاً والبغوی فی شرح السنۃ والمصابیح والمعالم۔
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

اذ یقول المنافقون (یاد کرو) جب (مدینہ میں) منافق کہہ رہے تھے۔ منافقوں نے دیکھا کہ کچھ اوپر تین سو دس مسلمان مدینہ سے گئے ہیں اور یہ بھی انہوں نے سنا کہ ابوجہل ایک ہزار کی تعداد ساتھ لے کر مسلمانوں سے لڑنے کیلئے مکہ سے روانہ ہوگیا ہے تو منافق کہنے لگے : یہ لوگ مذہبی فریب میں ایسے پھنسے کہ ان لوگوں سے لڑنے چلے ہیں جن سے مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں۔ والذین فی قلوبھم مرضٌ اور وہ لوگ بھی کہہ رہے تھے جن کے دلوں میں بیماری تھی۔ یعنی جن کا ایمان خالص اور پختہ نہ تھا ‘ دلوں میں شبہات باقی تھے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرضٌ سے مشرک مراد ہیں۔ بعض نے کہا : منافق ہی مراد ہیں ‘ لیکن چونکہ ان کے دونوں حال الگ تھے (منافقت بھی اور دلوں میں اسلام کی طرف سے شبہات بھی تھے) اسلئے عطف کردیا گیا (جیسے الی الملک القرم وابن الھمام ولیث الکْتیبۃ فی المزدحم میں ایک ہی بادشاہ مراد ہے ‘ لیکن عظمت ذاتی ‘ شرافت نسب اور شجاعت اس کے مختلف اوصاف تھے ‘ اسلئے عطف کردیا گیا) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ بیمار دل والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہونے کے بعد (ہجرت نہیں کرسکے تھے) کمزوری کی وجہ سے وہیں رہ گئے تھے ‘ ان کے رشتہ داروں نے ہجرت نہیں کرنے دی تھی۔ جب قریش بدر کو گئے تو جبراً ان کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ بدر میں پہنچ کر ان لوگوں نے مسلمانوں کی تعداد کم دیکھی تو (اسلام کی صداقت کی طرف سے) شک میں پڑگئے اور مرتد ہو کر کہنے لگے۔ غر ھؤلآء دینھمط ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکا دیا۔ یہ سب کے سب جنگ بدر میں مارے گئے۔ قیس بن ولید بن مغیرہ مخزومی ‘ ابوقیس بن فاکہ بن مغیرہ مخزومی ‘ حارث بن زمعہ بن اسود بن مطلب ‘ علی بن امیہ بن خلف جمحی اور عاص بن منبہ بن حجاج انہی لوگوں میں سے تھے۔ طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ بات عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھیوں نے کہی تھی جو مشرک تھے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا۔ ومن یتوکل علی اللہ فان اللہ عزیز حکیم۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے (وہ ذلیل نہیں ہوتا) پس بلاشبہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ اپنی حکمت رسا کے زیر اثر ایسا کام کردیتا ہے جس کو عقل بعید سمجھتی ہے۔ اسی وجہ سے اس نے کافروں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ دنیا میں کافروں کے قتل و ہزیمت کا تذکرہ کرنے کے بعد آئندہ آیت میں اس بدانجامی کا ذکر فرمایا جو مرنے کے بعد ان کو پیش آئی۔
Ayah 8:50

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم وذوقوا عذاب الحریق اور اگر آپ اس وقت کا واقعہ دیکھتے جب فرشتے ان کی جانیں قبض کر رہے تھے ‘ ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آگ کی سزا کا مزہ چکھو۔ تَرٰی (صیغۂ مضارع) بمعنی ماضی ہے کیونکہ لَوْکی وجہ سے مضارع بمعنی ماضی ہوجاتا ہے۔ یتوفّٰی یعنی روحیں قبض کر رہے تھے ‘ خواہ بدر میں یا دوسری جگہ۔ یتوفّٰیکا فاعل ملائکہ ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ فاعل ہو اور الملآئکۃ مبتداء اور یضربون خبر۔ یَضُرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْیعنی آگ کے کوڑوں اور لوہے کے گرزوں سے ان کے سامنے سے (چہروں پر) اور پیچھے سے (پشت پر) مار رہے تھے۔ حضرت سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا : ادبار سے مراد سرین ہیں۔ اللہ نے بےحیائی کے لفظ کو ترک کر کے بطور کنایہ بیان کیا۔ وَذُوْقُوْا یعنی کہہ رہے تھے کہ دوامی آگ کا مزہ چکھو۔ تشریح مذکور کی بناء پر یتوفّٰی سے الحریق تک بزرخی عذاب کا بیان ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : (یہ واقعہ بدر کا ہے ‘ بزرخ کا نہیں) بدر میں مشرک جب مسلمانوں کی طرف رخ کر کے آگے بڑھتے تھے تو ملائکہ ان کے منہ پر تلواریں مارتے تھے اور جب منہ پھیر کر بھاگتے تھے تو فرشتے ان کی پشتوں پر مارتے تھے ‘ اس طرح ملائکہ مشرکوں کو قتل کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے (ابھی کیا ہے ‘ آئندہ) آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ملائکہ لوہے کے گرزوں سے ما ررہے تھے اور گرز کی ضرب سے زخموں میں آگ سی لگ جاتی تھی۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِکا یہی مطلب ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مرنے کے بعد فرشتے یہ بات کہتے تھے اور کہیں گے۔
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ ان (اعمال) کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یہ (جان رکھو) کہ خدا بندوں پر ظلم نہیں کرتا

ذلک بما قدمت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ یہ (عذاب) ان اعمال کی پاداش میں ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے پہلے (یعنی دنیوی زندگی میں) سمیٹے تھے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ بِمَا میں مَا سببیہ ہے۔ ما قدمت سے مراد ہے کفر اور گناہ۔ چونکہ عموماً کام ہاتھوں سے ہی کئے جاتے ہیں ‘ اسلئے اَیَدِیْسے بطور کنایہ ذات مراد ہوتی ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ کا عطف ما قدمت پر ہے۔ عذاب کا سبب اعمال ضرور ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ اللہ ظالم نہیں ورنہ بغیر گناہ کے بھی عذاب دیتا۔ آیت وَاَنَّ اللّٰہَ سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مجرم کو عذاب نہ دینے کا اختیار اللہ کو نہیں ہے کیونکہ مستحق عذاب کو عذاب نہ دینا ظلم نہیں بلکہ رحمت و مغفرت ہے ‘ غیرمجرم کو عذاب دینا ظلم ہے۔ ظلاّم (مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ مگر مبالغہ اس جگہ قوت اور فعل کی شدت کو ظاہر کرنے کیلئے نہیں بلکہ) فعل کی کثرت کیلئے ہے کیونکہ بندوں کی تعداد چونکہ بہت ہے ‘ اسلئے کثرت مظالم کی نفی کردی گئی (مراد یہ ہے کہ کسی پر ظلم نہیں کرتا) یہاں تک ملائکہ کے کلام کا بیان ہے۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

جیسا حال فرعوینوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ) انہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا تو خدا نےان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا۔ بےشک خدا زبردست اور سخت عذاب دینے والا ہے

کدأب ال فرعون والذین من قبلھم کفروا بایت اللہ فاخذھم اللہ بذنوبھم اللہ قوی شدید العقاب۔ ان کی حالت ایسی ہے جیسی فرعون والوں کی اور ان سے پہلے کے (کافر) لوگوں کی حالت تھی کہ انہوں نے آیات الٰہیہ کا انکار کیا ‘ سو اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا ‘ سخت عذاب دینے والا ہے۔ کَدَأْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَمحذوف مبتداء کی خبر ہے ‘ یعنی کافروں کا عمل اور طریقہ جس کے یہ عادی اور پابند ہیں ‘ آل فرعون کے عمل و طریقہ کی طرح ہے۔ اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْسے مراد ہے قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود اور دوسری گذشتہ کافر اقوام۔ کَفَرُوْا بَایٰتِ اللّٰہِیہ عمل و طریقہ کی تشریح ہے۔ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ یعنی اللہ نے عذاب کی گرفت میں ان کو لے لیا ‘ جیسے گذشتہ اقوام کو دھر پکڑا تھا۔ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّیعنی اللہ پر کوئی چیز غالب نہیں آسکتی ‘ نہ اس کے عذاب کو کوئی دفع کرسکتا ہے۔
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جو نعمت خدا کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں خدا اسے نہیں بدلا کرتا۔ اور اس لیے کہ خدا سنتا جانتا ہے

ذلک بان اللہ لم یک مغیرًا نعمۃً انعمھا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسھم وان اللہ سمیع علیم۔ یہ بات اس سبب سے ہے کہ اللہ کسی ایسی نعمت کو جو کسی قوم کو عطا فرمائی ہو ‘ نہیں بدلتا جب تک وہی لوگ اپنے ذاتی اعمال کو نہیں بدل ڈالتے اور اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔ ذٰلِکَیعنی یہ عذاب جو ان پر نازل ہوا (یہ ظلم نہیں ہے بلکہ) بِاَنَّ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ جو نعمت کسی قوم کو عطا فرماتا ہے ‘ اس کو دکھ اور عذاب سے اس وقت تک نہیں بدلا کرتا جب تک وہ اپنی اچھی حالت کو بری حالت سے خود تبدیل نہ کرلیں (اور مستحق عذاب نہ ہوجائیں) مثلاً اہل مکہ کو اللہ نے رزق ‘ عزت اور امن سے سرفراز کیا اور اصحاب فیل کے لشکر کو تباہ کیا تو اللہ نے بدر کے دن قید و قتل کی مصیبت میں اس وقت تک ان کو گرفتار نہیں کیا جب تک کہ انہوں نے دین اسماعیل ‘ ملت ابراہیم ‘ اقرباء سے حسن سلوک ‘ کعبہ کی خدمت ‘ مہمان نوازی اور حاجیوں کو پانی پلانے اور دوسرے اچھے کاموں کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی دشمنی نہ اختیار کرلی اور مسجد حرام سے ان کو روک نہ دیا اور قربانی کے جانوروں کی حرم میں داخلہ کی ممانعت نہ کردی اور اہل توحید کا خون بہانے کے درپے نہیں ہوگئے اور آیات کی تکذیب اور استہزاء قرآن کو اختیار نہ کرلیا۔ اہل تاریخ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دادا (عبدالمطلب بن ہاشم) کے دادا کا نام عبدمناف تھا اور عبدمناف (بنی قصی) کے دادا کا نام کلاب (بن مرہ بن کعب بن لوی) تھا۔ کلاب سے پہلے اس کے تمام آباؤ اجداد نسلاً بعد نسل دین اسماعیل پر تھے ‘ ہر بیٹے کو اپنے با پ سے ریاست قوم ملتی تھی اور دین اسماعیل پر قائم رہنے کی وصیت بھی۔ اولاد اسماعیل میں دین ابراہیم کی تبدیل اور بت پرستی کی ایجاد قصی بن کلاب کے زمانہ میں ہوئی۔ کعب بن لوی نے عرب کو مجتمع کیا تھا ‘ تمام قریش اس کے پاس جمع ہوتے تھے۔ قصی ان کو خطاب کرتا اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی اطلاع دیتا اور بتاتا تھا کہ وہ میری نسل میں سے ہوں گے ‘ تم لوگ ان کا اتباع کرنا اور ان پر ایمان لانا۔ پھر چند اشعار پڑھتا جن میں سے ایک شعر کا مضمون یہ تھا : کاش ! میں ان کی دعوت کے وقت موجود ہوتا جب قریش حق سے سرکشی کریں گے اور مدد نہ کریں گے۔ قصی ‘ منیٰ اور عرفات کے زمانہ میں حاجیوں کو بہت زیادہ کھانا کھلاتا تھا ‘ اس کو رفادہ کہا جاتا ہے۔ چمڑے کے بڑے بڑے ٹینک اس نے بنوائے تھے جن میں پانی بھر کر مکہ اور منیٰ اور عرفات میں حاجیوں کو پلاتا تھا ‘ اس کو سقایہ کہا جاتا ہے۔ قصی کے حکم سے عہد جاہلیت میں حاجیوں کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے کی رسم جاری تھی یہاں تک کہ اسلام آگیا اور اسلام نے بھی اس رسم کو قائم رکھا۔ قصی نے ایک دستور یہ ایجاد کیا تھا کہ مزدلفہ میں رات کو آگ جلاتا تھا تاکہ عرفہ سے روانہ ہونے والے آگ کو دیکھ لیں اور راستہ نہ بھٹک جائیں۔ آگ روشن کرنے کا یہ دستور برابر اسلام میں بھی جاری رہا۔ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے زمانہ میں یہ سلسلہ قائم رہا اور مزدلفہ میں آگ روشن کی جاتی رہی۔ عمرو بن لحی خزاعی پہلا شخص ہوا جس نے دین اسماعیل کو بگاڑا ‘ بت پرستی کی اور سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی۔۔ سدی نے کہا : نِعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمِ میں نعمت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے۔ اللہ نے یہ نعمت قریش اور مکہ والوں کو عنایت کی تھی مگر انہوں نے تکذیب کی اور انکار کردیا تو اللہ نے یہ نعمت انصار کو منتقل کردی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ آل فرعون اور مکہ والوں کی مذہبی حالت پہلے پسندیدہ تھی ‘ پھر انہوں نے اس کو بگاڑ لیاکیون کہ یہ لوگ اچھی حالت پر کبھی نہ تھے ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بری حالت پر تو پہلے ہی تھے ‘ پھر انہوں نے بدترین حالت اختیار کرلی۔ بعثت سے پہلے بت پرست تھے ‘ پھر بعثت کے بعد پیغمبر برحق ﷺ کو جھوٹا قرار دیا ‘ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے اور لوگوں کو راہ خدا سے روکنے لگے۔ اللہ نے ان پر اتنا کرم کیا تھا کہ (باوجود بت پرستی اور فسق و فجور کے) ان کو ڈھیل دے رکھی تھی (عذاب میں نہیں پکڑا تھا) لیکن جب انہوں نے اپنی حالت کو مزید بگاڑ لیا تو اللہ نے دنیا میں ہی فوراً ان پر عذاب نازل کردیا۔ بظاہر کلام کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ عذاب میں مبتلا کرنے کا سبب یہ ہے کہ جب تک وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے سرفراز کیا ‘ خود اپنی حالت بگاڑ نہ لیں ‘ اللہ اپنی نعمت کو نہیں بدلتا اور عذاب نازل نہیں کرتا (مگر یہ مطلب غلط ہے کیونکہ ڈھیل دینے اور عذاب میں مبتلا نہ کرنے کی تو یہ وجہ ہوسکتی ہے جو آیت میں ذکر کی گئی ہے ‘ عذاب میں مبتلا کرنے کی یہ وجہ نہیں ہوسکتی ‘ اسلئے ظاہری مدلول الفاظ مراد نہیں بلکہ) حقیقت میں مطلب یہ ہے اور مفہوم بھی یہی ہے کہ جب لوگ اپنی حالت بگاڑ لیتے ہیں تو اللہ کا دستور ہے کہ وہ اپنی نعمت چھین لیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کردیتا ہے۔ وَاَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌاور عذاب میں مبتلا کرنے کا سبب یہ بھی ہے کہ اللہ ان کے کلام کو خوب سنتا اور ان کی حرکتوں کو خوب جانتا ہے (اور چونکہ ان کے اقوال واطوار ان کو مستحق عذاب بنا دیتے ہیں ‘ اسلئے اللہ عذاب میں مبتلا کردیتا ہے) ۔
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے

کداب ال فرعون والذین من قبلھم کذبوا بایت ربھم فاھلکنھم بذنوبھم واغرقنا ال فرعون وکل کانوا ظلمین۔ ان کی حالت فرعون والوں اور ان سے پہلے والے (کافروں) کی سی حالت ہے کہ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا ‘ اس پر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب سے ہلاک کردیا اور فرعون والوں کو غرق کردیا ‘ اور وہ سب ظالم تھے۔ فَاَھْلَکْنَاھُمْ یعنی مختلف طریقوں سے ان کو ہلاک کیا ‘ کسی کو ڈبو کر ‘ کسی کو زلزلہ کے ذریعہ سے ‘ کسی کو زمین میں دھنسا کر ‘ کسی کی صورتیں بگاڑ کر اور کسی کو طوفان سے۔ کَدَأبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ کو مکرر ذکر کرنے کی وجہ محض تاکید بیان ہے ‘ یا یوں کہا جائے کہ عذاب کے نزول کی وجہ پہلے کفر کو قرار دیا اور اس جگہ تغیر حالت کو ‘ یا یوں کہا جائے کہ پہلے فقط اتنا بیان کیا تھا کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت کی اور اس جگہ گرفت کرنے کی نوعیت ظاہر کردی کہ ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا اور بالکل تباہ کردیا۔ وَکُلٌّیعنی اگلے اور پچھلے سب ظالم تھے ‘ کفر و معاصی اختیار کر کے انہوں نے اپنے اوپر خود ظلم کیا تھا۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے

ان شر الدوآب عند اللہ الذین کفروا فھم لا یؤمنون۔ بلاشبہ بدترین جانور اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کفر پر جمے رہے ‘ پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ کَفَرُوْا یعنی کفر پر جمے رہے اور قائم رہے۔ فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَکی شرط لگانے سے وہ لوگ حکم آیت سے خارج ہوگئے جو پہلے کافر تھے اور پھر خلوص کے ساتھ ایمان لے آئے اور اسلامی کردار ان کا اچھا رہا۔ یا فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَسے ان لوگوں کے متعلق خبر دی گئی ہے جن کی سرشت ہی کفر پر ہوئی ہے۔ فاء عاطفہ لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ ان کافروں کا کفر اللہ کے علم میں قائم ہوچکا ہے ‘ اسلئے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت آیت کا حکم ان تمام کافروں کیلئے عام ہوگا جن کی موت کفر کی حالت میں ہونے والی ہے۔ ابو الشیخ نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول یہودیوں کے چھ قبائل کے متعلق ہوا تھا ‘ ان ہی میں سے ابن التابوت بھی تھا۔
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے

الذین عادھت منھم ثم ینقضون عھدھم فی کل مرۃٍ وھم لا یتقون۔ جن سے آپ نے عہد لے لیا مگر پھر وہ اپنے معاہدہ کو ہر بار توڑتے رہے اور (عہدشکنی سے) ڈرتے نہیں۔ الذین عاھدت ‘ کفروا سے بدل بعض ہے ‘ یعنی یوں تو عموماً کفر برا ہے مگر خصوصیت کے ساتھ مذمت کے قابل شکست معاہدہ کرنے والے کافر ہیں اور اگر حضرت سعید بن جبیر کی روایت کو صحیح مان لیا جائے تو یہ آیت گذشتہ آیت سے بدل کل ہوگی ‘ یعنی کافروں سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو عہد شکن ہیں۔ مراد یہ کہ یہودیوں کے چھ قبائل بدترین جانور ہیں جنہوں نے بار بار نقض معاہدہ کیا (معاہدہ مصدر ہے اور اس کے مفعول پر من نہ آنا چاہئے ‘ عَاھَدْتَّھُمْہونا چاہئے لیکن) چونکہ معاہدہ کے اندر اخذ (لینے) کا مفہوم ہے ‘ اسلئے من استعمال کیا گیا (معاہدہ کرنے کا معنی ہے کسی سے عہد لینا اور اس کا اس سے عہد لینا) ۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ معاہدہ شکن کافروں سے مراد بنی قریظہ کے خاندان کے یہودی ہیں۔ دو ورق پر رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان (آشتی ‘ محبت اور اخوت کی) ایک تحریر لکھی تھی جس میں یہودیوں سے مصالحت کا بھی ذکر تھا اور یہودیوں سے معاہدہ کیا گیا کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رکھے جائیں گے اور ہر فریق کا نفع و نقصان دوسرے فریق کا فائدہ اور ضرر مانا جائے گا (یعنی یک جہتی کے ساتھ رہیں گے ‘ کوئی کسی کو نہیں ستائے گا لیکن یہودیوں نے یہ معاہدہ توڑ ڈالا اور رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کیلئے ہتھیار دے کر مشرکوں کی مدد کی ‘ پھر کہنے لگے : ہم سے چوک اور غلطی ہوگئی ‘ ہم دوبارہ معاہدہ کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ کعب بن اشرف نے مکہ جا کر کافروں کی موافقت کی اور خندق کے دن کافر ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ ھم لا یتقونکا معنی یہ ہے کہ باوجودیکہ اپنی اولاد کی شناخت کی طرح یقینی طور پر رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے ہیں ‘ پھر بھی انکار رسالت کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے کئے ہوئے ہر معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابو نعیم نے بیان کیا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ‘ حضرت بشیر بن براء اور حضرت داؤد بن سلمہ نے یہودیوں سے فرمایا : اے گروہ یہود ! اللہ سے ڈرو اور مسلمان ہوجاؤ۔ ہم جب مشرک تھے تو محمد ﷺ کا نام لے کر تم ہم پر فتحیاب ہونے کی دعا کیا کرتے تھے اور ہم سے کہتے تھے کہ ان کی بعثت ہونے والی ہے اور آپ کے اوصاف بھی بیان کیا کرتے تھے۔ ا اللہ نے کافروں کو بدترین چوپائے بلکہ بدترین خلق فرمایا اور کافروں میں سے بدترین وہ کافر ہیں جو کفر پر جمے رہتے ہیں اور کفر پر راسخ رہنے والوں میں بھی سب سے برے وہ ہیں جو عہد شکن ہیں۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں وہ ان کو دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو (اس سے) عبرت ہو

فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون۔ سو اگر آپ لڑائی میں ان لوگوں کو پائیں تو ان (کو سخت سزا دے کر ان) کے ذریعہ سے ان لوگوں کو منتشر کردیں جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ لوگ سمجھ جائیں۔ یعنی اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ اور گرفتار کرلو۔ فَشَرِّدْبِھِمْ ‘ تشرید کا لغوی معنی ہے بےچین کر کے متفرق کردینا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو ایسی سزا دو کہ پیچھے والوں کو عبرت ہو۔ یعنی ان عہدشکنوں کو اس طرح قتل کرو اور سزا دو کہ مکہ اور یمن کے رہنے والے جو ان کے پیچھے ہیں ‘ ان کو عبرت ہو ‘ وہ ڈر جائیں اور اپنے جتھوں کو تمہارے مقابلہ پر نہ لائیں۔ اسی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے تسلط پانے کے بعد بنی قریظہ کے ہر بالغ کو قتل کیا اور عورتوں ‘ بچوں کو باندی غلام بنایا اور ان کا مال تقسیم کیا۔ طبرانی نے حضرت اسلم انصاری کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی قریظہ کے قیدیوں کی انکوائری پر مجھے مامور فرمایا تھا ‘ چناچہ میں نے جس لڑکے کو بالغ پایا ‘ اس کی گردن اڑا دی۔ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ تاکہ وہ نصیحت اندوز ہوں اور آئندہ عہد شکنی کی جرأت نہ کریں۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تم کو کسی قوم سے دغا بازی کا خوف ہو تو (ان کا عہد) انہیں کی طرف پھینک دو (اور) برابر (کا جواب دو) کچھ شک نہیں کہ خدا دغابازوں کو دوست نہیں رکھتا

واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیھم علی سوآئط اور اگر آپ کو کسی قوم سے غداری کا اندیشہ ہو تو آپ ان کا معاہدہ ان کو واپس کردیں کہ آپ اور وہ اس (اطلاع) میں برابر ہوجائیں۔ خیانۃً یعنی عہدشکنی۔ مطلب یہ کہ اگر علامات اور حالات سے تم کو اندازہ ہوجائے کہ یہ معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ فَانْبِذْم یعنی تم بھی ان کا معاہدہ ان پردے مارو ‘ پھینک دو ۔ عَلٰی سَوَآءٍ انصاف کے موافق ‘ یا یہ مطلب کہ تمہاری طرف سے (ان کو) نقض معاہدہ کی خبر دینے میں برابری ہو۔ حاصل یہ کہ معاہدہ توڑنے کی اطلاع پہلے ان کو دے دو تاکہ تمہاری طرف سے خیانت نہ ہو۔ ابو الشیخ نے زہری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ سے آکر کہا : آپنے تو ہتھار کھول دئیے اور ہم اب تک قوم کے تعاقب میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ نکل کر چلئے ‘ اللہ نے بنی قریظہ سے جہاد و قتال کرنے کی آپ کو اجازت دے دی ہے۔ اسی کے متعلق آیت وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً الخ نازل ہوئی۔ میں کہتا ہوں : یہ قصہ غزوۂ احزاب کے بعد کا ہے۔ حافظ محمد یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں لکھا ہے کہ بنی قینقاع کے یہودیوں نے عہدشکنی کی تھی ‘ رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا تھا اور بغاوت وحسد کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایک برقعہ پوش عربی عورت بنی قینقاع کے بازار میں آئی اور زیور خریدنے کسی سنار کے پاس بیٹھ گئی۔ لوگوں نے اس کی نقاب اتروانا چاہی لیکن اس نے نقاب کھولنے سے انکار کردیا۔ سنار نے اس کے کپڑے کا کنارہ کسی کانٹے میں الجھا دیا۔ عورت جو نادانستگی میں اٹھی تو ننگی ہوگئی۔ لوگ اس پر ہنس پڑے۔ عورت چیخ پڑی۔ عورت کی چیخ سن کر ایک مسلمان نے سنار پر حملہ کردیا اور اس کو قتل کردیا۔ سنار تھا یہودی ‘ یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کر کے مار ڈالا اور مسلمانوں سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا۔ مقتول مسلمان کے گھر والوں نے مسلمانوں سے فریاد کی ‘ مسلمان غضب ناک ہوگئے۔ اس طرح مسلمانوں میں اور بنی قینقاع کے یہودیوں میں جھگڑا ہوگیا۔ اس پر آیت وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً الخ نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے بنی قینقاع کی طرف سے (عہدشکنی کا) اندیشہ ہے۔ چناچہ اس آیت کے حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ نے ان پر لشکرکشی کی۔ جھنڈا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کے سپرد کیا اور مدینہ میں اپنی جگہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذور کو قائم کیا۔ یہودی قلعہ بند ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پندرہ روز تک ان کا سخت محاصرہ جاری رکھا۔ آخر اللہ نے ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا اور رسول اللہ ﷺ کی شرائط پر انہوں نے باہر نکل آنا منظور کرلیا۔ شرائط یہ تھیں کہ ان کے سارے مال پر رسول اللہ ﷺ کا قبضہ ہوجائے گا ‘ صرف عورتوں اور بچوں کو لے کر وہ جلاوطن ہوجائیں گے۔ چناچہ تین روز کے بعد وہ مدینہ سے نکل گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال میں سے صفی اور کل مال کا پانچواں حصہ خود لے لیا اور چار خمس 5؍4 ساتھ والوں کو بانٹ دیا۔ بدر کے بعد رسول اللہ ﷺ کا یہ پہلا خمس تھا (یعنی بدر کے مسلمانوں کو پہلا مال غنیمت حاصل ہوا تھا جس کا پانچواں حصہ رسول اللہ ﷺ کو ملا۔ صفی اس مال کو کہا جاتا تھا جو تقسیم سے پہلے کل مال غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ اپنے لئے چھانٹ لینے کا حق رکھتے تھے۔ ان اللہ لا یحب الخآئنین۔ بلاشہ اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ بغوی نے ایک حمیری شخص کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت معاویہ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ تھا۔ حضرت معاویہ بلاد روم کی طرف جا رہے تھے تاکہ میعاد معاہدہ ختم ہوتے ہی (بغیر اعلان و اطلاع کے) ان سے جہاد شروع کردیں۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص (سامنے سے) گھوڑے پر آ رہا ہے اور کہہ رہا ہے : اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! وفاء عہد کرو ‘ غداری نہ کرو۔ دیکھا تو وہ حضرت عمرو بن عنبسہ تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو بلوایا اور پوچھا : کیا بات ہے ؟ حضرت عمرو بن عنسبہ نے فرمایا : میں نے خود سنا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو ‘ وہ اس معاہدہ کی شکست و ریخت نہ کرے تاوقتیکہ معاہدہ کی مدت ختم نہ ہوجائے یا (فریق مخالف کی خلاف ورزی کی صورت میں) اس کا معاہدہ اسی پر لوٹا نہ دیا جائے۔ یہ سن کر حضرت معاویہ لوٹ آئے۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ خیال کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ وہ (اپنی چالوں سے ہم کو) ہرگز عاجز نہیں کرسکتے

ولا یحسبن الذین کفروا سبقواط اور یہ کافر لوگ اپنے کو یہ خیال نہ کریں کہ وہ بچ گئے۔ بغوی نے لکھا ہے : بدر کے دن جو مشرک شکست کھا کر بھاگے تھے ‘ ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ انھم لا یعجزون : یقیناً وہ لوگ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور جہاں تک ہوسکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ اور تم جو کچھ راہ خدا میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا

واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃٍ :۔ مسلمانو ! تم سے جس قدر ہو سکے ان کافروں کے مقابلہ کیلئے طاقت فراہم کرلو۔ یعنی مسلمانو ! معاہدہ توڑنے والے یا عام کافروں کے مقابلہ کیلئے جو تیاری ممکن ہو ‘ کرلو۔ اِعْدَاد کا معنی ہے ضرورت کیلئے تیاری کرنا۔ قوت سے مراد ہے سامان ‘ اسلحہ ‘ ٹریننگ ‘ ریاضت جنگی ‘ گھوڑے ‘ کُشتی ‘ تیر اندزی کی مشق ‘ گولی چلانا وغیرہ۔ جہاد کیلئے مال فراہم کرنا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ بعض کے نزدیک قوت سے مراد ہیں قلعے۔ حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے : وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍخبردار ہوجاؤ ‘ قوت تیراندازی ہے۔ خوب سن لو ‘ قوت تیر اندازی ہے۔ آگاہ ہوجاؤ ‘ قوت تیر اندازی ہے۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوبخیح سلمی کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر پہنچایا ‘ جنت میں اس کیلئے ایک درجہ ہے اور جس نے راہ خدا میں ایک تیر پھینکا ‘ وہ اس کیلئے (گناہوں کا) فدیہ ہے اور آزاد کرنے والا ہے (یعنی وہ دوزخ سے آزاد ہوجائے گا) رواہ النسائی۔ حضرت عقبہ بن عامر کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب روم کی فتح تم کو عنایت کی جائے گی اور اللہ تمہارے لئے کافی ہوگا ‘ پس تم میں سے کوئی تیربازی سے عاجز نہ ہو (یعنی بطور تفریح تیراندازی کی مشق جاری رکھو) رواہ مسلم و ابو داؤد۔ ترمذی نے حضرت عقبہ والی روایت نقل کی ہے ‘ اس میں اتنا زائد ہے کہ راہ خدا میں جس کے بال سفید ہوئے ‘ قیامت کے دن وہ اس کیلئے نور ہوجائیں گے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں تینوں حدیثیں نقل کی ہیں ‘ البتہ راہ خدا کی جگہ اسلام کا لفظ بیہقی کی روایت میں آیا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ فرما رہے تھے : جس نے تیراندازی سیکھی ‘ پھر چھوڑ دی ‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یا یوں فرمایا : اس نے نافرمانی کی۔ رواہ مسلم حضرت ابو اسید کا بیان ہے : بدر کے دن جب ہم نے قریش کے سامنے اور قریش نے ہمارے سامنے صف بندی کرلی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو تیروں سے کام لینا تم پر لازم ہے۔ رواہ البخاری۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ ایک تیر کے ذریعہ سے تین آدمیوں کو جنت میں لے جائے گا : تیر بنانے والا جو تیر بنانے سے امیدوار ثواب ہو ‘ تیر پھینکنے والا اور تیر جوڑ دینے والا۔ تم لوگ تیر اندازی کرو اور گھوڑوں پر سوار ہو۔ گھوڑے پر سوار ہونے سے تمہاری تیراندازی بہتر ہے۔ آدمی کیلئے ہر لہو (کھیل) ناجائز ہے ‘ سوائے کمان سے تیر پھینکنے اور گھوڑے کی سواری کی ٹریننگ حاصل کرنے اور اپنی بیوی سے تفریح کرنے کے۔ یہ سب باتیں ٹھیک ہیں۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔ ابو داؤد اور دارمی کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ جس نے تیری اندازی سیکھ کر بےتوجہی کے ساتھ اس کو ترک کردیا تو حقیقت میں ایک نعمت کو اس نے چھوڑ دیا۔ یا یوں فرمایا کہ نعمت کی اس نے ناشکری کی۔ بغوی کی روایت میں ہے کہ ایک تیر کے ذریعہ سے اللہ تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا : تیر بنانے والا اور تیر سے مدد پہنچانے والا اور راہ خدا میں تیر مارنے والا۔ ومن رباط الخیل اور پلے ہوئے گھوڑوں کو بھی تیار رکھو۔ یعنی جہاد کیلئے گھوڑوں کو پرورش کرنا۔ رباط مصدر ہے جو اسم مفعول کے معنی میں مستعمل ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : رباط وہ گھوڑے جو جہاد کیلئے باندھے جائیں۔ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ رَبَطَ رَبْطًا ورِبَاطًا اور رابَطَ مَرابَطَۃً وَرِبَاطاً دونوں طرح سے آتا ہے ‘ یا وزن فعال بمعنی مفعول ہے ‘ یا ربیط کی جمع ہے ‘ جیسے فصیل کی جمع فصال۔ من رباط کا عطف من قوۃ پر ہے (قوت کا لفظ رباط الخیلکو بھی شامل ہے لیکن خصوصیت اور اہمیت ظاہر کرنے کیلئے خاص کا عطف عام پر کردیا گیا) جیسے جبرئیل اور میکائیل کا عطف المٰلئکۃ پر دوسری آیت میں کیا گیا ہے۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گھوڑوں کی پیشانی کے بالوں میں برکت ہے۔ متفق علیہ حضرت جریر بن عبد اللہ راوی ہیں : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلی سے مروڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے : گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں سے قیامت تک خیر (بھلائی ‘ نفع) وابستہ رہے گی۔ ثواب (جہاد کا یا شہادت کا) اور مال غنیمت (بصورت فتح) رواہ مسلم۔ بغوی نے بطریق بخاری ‘ حضرت عروہ بارقی کی روایت سے یہٍ حدیث بیان کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گھوڑے تین (طرح کے) ہوتے ہیں : ایک گھوڑا آدمی کیلئے (گناہ کا) بار ہوتا ہے ‘ دوسرا گھوڑا آدمی کیلئے (بےآبروئی اور دوزخ سے) پردہ (آڑ ‘ حفاظت) ہوتا ہے اور تیسرا گھوڑا آدمی کیلئے ثواب کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جو گھوڑا آدمی دکھاوٹ ‘ غرور اور مسلمانوں سے اونچا اٹھنے کیلے پالے ‘ وہ اس کیلئے بار (گناہ) ہے اور جو گھوڑا آدمی جہاد میں شریک ہونے کیلئے پالے اور اللہ نے جو حق گھوڑے کی سواری اور گھوڑے کی ذات سے وابستہ کردیا ہے ‘ اس کو فراموش نہ کرے تو ایسا گھوڑا اس شخص کیلئے پردہ ہے اور جو گھوڑا کسی مسلمان کو جہاد میں شریک کرنے کیلئے کوئی پالے ‘ وہ باعث اجر ہے۔ اگر ایسے گھوڑے کو کسی چراگاہ یا سبزہ زار میں باندھ دے گا اور گھوڑا اس چراگاہ یا سبزہ زار سے کچھ کھائے گا تو جتنا وہ کھائے گا ‘ اسی کے بقدر گھوڑے والے کیلئے نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو لید یا پیشاب کرے گا ‘ اسی کے بقدر مالک کیلئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ جب گھوڑا رسی تڑوا کر کہیں ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر کلیلیں بھرے گا تب بھی اس کے قدموں کے نشانات اور لید اور پیشاب کے بقدر مالک کیلئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اگر گھوڑے کو پانی پلانے کیلئے دریا پر لے جائے گا اور وہ وہاں پانی پئے گا تو جتنا اس نے پانی پیا ہوگا ‘ اس کے بقدر مالک کیلئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ رواہ مسلم بغوی کی روایت میں نمبر دوئم کے گھوڑے کے متعلق یہ الفاظ ہیں کہ جس شخص نے گھوڑا اسلئے پالا کہ وہ لوگوں کا ضرورت مند نہ رہے اور کسی سے سوال نہ کرنا پڑے اور گھوڑے کی ذات اور سواری سے اللہ کا جو حق وابستہ ہے ‘ اس کو بھی نہ بھولے تو ایسا گھوڑا پردہ ہے۔ حضرت ابو وہب جشمی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گھوڑے پالو ‘ ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو ‘ ان کی گردنوں میں قلادے ڈالو مگر تانت کے قلادے نہ ڈالو۔ رواہ ابو داؤد و النسائی ترھبون بہ عدو اللہ وعدوکم واخرین من دونھم لا تعلمونھم اللہ یعلمھم ط اور اس کے ذریعہ سے تم رعب جمائے رکھو اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے ‘ اللہ ان کو جانتا ہے۔ عدو اللہ سے مراد کفار مکہ ہیں اور اٰخرین من دونھم سے مراد مکہ والوں کے علاوہ دوسرے کفار ہیں۔ مجاہد اور مقاتل کے نزدیک یہود بنی قریظہ ‘ سدی کے نزدیک اہل فارس اور ابن زید و حسن کے نزدیک منافق مراد ہیں۔ تم ان کو نہیں جانتے کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ تمہارے ساتھ ہیں اور لَآ اِلٰہَ الا اللّٰہ کے قائل ہیں ‘ اسلئے تم نہیں جانتے کہ حقیقت میں وہ کافر ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا : اٰخرین سے مراد کافر جن ہیں۔ ابو الشیخ نے ابوالمہدی کے سلسلہ سے مرفوعاً یہ قول نقل کیا ہے اور طبرانی نے یزید بن عبد اللہ بن غریب کی روایت سے اس کو رسول اللہ ﷺ کا قول قرار دیا ہے۔ وما تنفقو من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم وانتم لا تظلمون۔ اور اللہ کی راہ میں جو چیز بھی خرچ کرو گے ‘ وہ (یعنی اس کا ثواب) تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارے حق میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یعنی جہاد میں خرچ کرنے کا ثواب پورا پورا تم کو دیا جائے گا ‘ ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی۔ حضرت زید بن خالد راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مجاہد کو سامان جہاد دیا ‘ اس نے خود جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی نگہداشت اس کی بجائے کی ‘ اس نے جہاد کیا۔ متفق علیہ حضرت ابو مسعود انصاری کا بیان ہے کہ ایک آدمی ایک اونٹنی جس کی نکیل پڑی ہوئی تھی ‘ لے کر آیا اور عرض کیا : یہ جہاد کیلئے دیتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اس کے عوض تجھے سات سو اونٹنیاں ملیں گی ‘ سب کی نکیلیں پڑی ہوں گی۔ رواہ مسلم حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے مالوں ‘ جانوں اور زبانوں سے مشرکوں سے جہاد کرو۔ رواہ ابو داؤد و النسائی والدارمی حضرت خزیم بن فاتک راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے راہ خدا میں کچھ خرچ کیا ‘ اس کیلئے سات سو گنا (اجر) لکھا جائے گا۔ رواہ الترمذی و النسائی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجاہد کیلئے اس کا اجر ہے اور بنانے والے کیلئے اپنے بنانے کا بھی اجر ہے اور مجاہد کا بھی۔ راوہ ابو داؤد۔ ابن ماجہ نے حضرت علی ‘ حضرت ابو درداء ‘ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابوامامہ ‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو ‘ حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت عمران بن حصین کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے جہاد کیلئے کچھ خرچ بھیجا اور خود اپنے گھر بیٹھا رہا ‘ اس کیلئے ہر درہم کے عوض سات سو درہم (کا ثواب) ہوگا اور جس نے خود جہاد کیا اور خود ہی جہاد میں صرف کیا ‘ اس کیلئے ہر درہم کے عوض سات ہزار درہم کا ثواب ہوگا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت واللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآء پڑھی۔ حضرت عبدالرحمن بن حباب کا بیان ہے کہ میں موجود تھا ‘ رسول اللہ ﷺ جیش عسرت (تبوک کو جانے والے لشکر) کو تیار کرنے اور مدد کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! سو اونٹ جھولوں اور پالانوں سمیت میرے ذمے ہیں۔ حضور ﷺ نے پھر جیش عسرت کی مدد کی ترغیب دی۔ اس پر حضرت عثمان نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ذمے دو سو اونٹ مع ان کی جھولوں اور پالانوں کے ہیں۔ حضور ﷺ نے پھر اپیل کی۔ حضرت عثمان نے پھر کھڑے ہو کر عرض کیا : مجھ پر راہ خدا میں تین سو اونٹ جھولوں اور پالانوں سمیت لازم ہوئے۔ راوی کا بیان ہے : میں دیکھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ممبر سے اتر رہے تھے اور فرما رہے تھے : اس کے بعد عثمان ؓ جو عمل بھی کرے ‘ عثمان سے اس کا مؤاخذہ نہیں (ہو گا) اس کے بعد عثمان جو بھی عمل کرے ‘ عثمان سے اس کا مؤاخذہ نہیں۔ رواہ الترمذی حضرت عبدالرحمن بن سمرہ کا بیان ہے : جیش عسرت کی تیاری کے وقت حضرت عثمان ایک ہزار دینار اپنی آستین میں لے کر آئے اور لا کر رسول اللہ ﷺ کی گود میں بکھیر دئیے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی گود میں وہ اشرفیاں الٹ پلٹ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے : عثمان اس کے بعد جو عمل بھی کرے ‘ اس کو ضرر نہ پہنچے گا (یعنی مؤاخذہ نہ ہوگا) یہ الفاظ حضور ﷺ نے دو بار فرمائے۔ رواہ احمد
Ayah 8:61

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے

وان جنحوا للسلم فاجنح لھا و توکل علی اللہ انہ ھو السمیع العلیم۔ اور اگر وہ (کفار) صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کی طرف جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بلاشبہ وہ (تمہارے اقوال کو) سننے والا اور (تمہاری نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ سلم (صلح) کا مقابل حرب (جنگ) چونکہ عربی زبان میں مؤنث ہے ‘ اسلئے سلم کو بھی مؤنث استعمال کیا۔ مراد یہ ہے کہ اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں اور معاہدہ کرنا چاہیں تو تم بھی صلح کی طرف جھک جاؤ اور معاہدہ کرلو۔ حسن و قتادہ کا خیال ہے کہ آیت اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْسے اس آیت کا حکم منسوخ کردیا گیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا حکم اہل کتاب کیلئے مخصوص ہے کیونکہ اس آیت کا اتصال اہل کتاب کے قصہ سے ہی ہے۔ میں کہتا ہوں : نہ آیت کو منسوخ ماننے کی ضرورت ہے نہ اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی (اسلئے کہ اس آیت میں امر وجوب کیلئے نہیں بلکہ یہاں) امر کا صیغہ اباحت کیلئے ہے ‘ یعنی صلح کرنا جائز ہے اور ظاہر ہے کہ اگر امام المسلمین مناسب سمجھے تو صلح کرسکتا ہے۔ اور آیت اقتلوا المشرکین کا حکم عمومی بھی نہیں بلکہ مخصوص البعض ہے۔ ذمی کافر اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا یہ مطلب ہے کہ ان کی مکاری کا تم کچھ اندیشہ نہ کرو ‘ اگر ان کے دلوں میں فریب ہوگا تو اللہ ان کے فریب سے تمہیں محفوظ رکھے گا۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے ‘ اللہ اس کی حفاظت خود کرتا ہے۔
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی

وان یریدوآ ان یخدعوک فان حسبک اللہ اور اگر وہ تم سے فریب کرنا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لئے یقیناً کافی ہے۔ یعنی اگر وہ صلح کے پیرایہ میں جنگ کی تیاری کرنا چاہیں گے ‘ یا غداری کریں گے ‘ یا صلح میں کچھ فریب کریں گے تو ان کے فریب کو ناکام بنانے کیلئے اللہ تمہاری طرف سے کافی ہے۔ ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمؤمنین : اللہ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد اور مؤمنوں کے ذریعہ سے تم کو قوت عطا کی
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بےشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے

والف بین قلوبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم ولکن اللہ الف بینھم انہ عزیز حکیم۔ اور مؤمنوں کے دلوں کو باہم جوڑ دیا۔ اگر زمین کی تمام چیزیں تم خرچ کر ڈالتے تب بھی ان کے دلوں کو نہیں جوڑ سکتے تھے ‘ مگر اللہ ہی نے ان میں الفت پیدا کردی۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔ مؤمنوں سے مراد ہیں قبیلۂ اوس و خزرج والے۔ دونوں قبائل میں اتنی عداوت اور کینہ و بغض اور شر و فساد تھا کہ دور ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ سورة آل عمران میں آیا ہے : اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِّہٖ اِخْوَانًا مطلب یہ ہے کہ ان میں باہم اتنی سخت دشمنی تھی کہ روئے زمین کی دولت خرچ کرنے کے بعد بھی ان کے دلوں کو باہم نہیں جوڑا جاسکتا تھا ‘ مگر اللہ نے محض اپنی ہمہ گیر قدرت سے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔ تمام لوگوں کے دل اللہ کی چٹکی میں ہیں ‘ جس طرف چاہتا ہے موڑ دیتا ہے۔ بلاشبہ ایسے غلبہ اور قدرت والا ہے کہ کوئی اس کی مشیت سے اس کو روک نہیں سکتا اور ایسا حکیم ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کو اپنی منشاء کے مطابق کس طرح کرنا چاہئے۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے

یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المؤمنین۔ اے نبی ! آپ کیلئے اللہ اور وہ مؤمن جنہوں نے آپ کا اتباع کیا ہے ‘ کافی ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ من اتبعک کا عطف حَسْبُکَ کے کاف پر ہے خواہ اس کو حَسْبُکَ کا مضاف الیہ مجرور قرار دیا جائے جیسا کہ علمائے کوفہ کا قول ہے ‘ یا مفعول معہ منصوب مانا جائے جیسے ایک شاعر کا قول ہے : حسبک والضحاک سیف عھند اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا : ” اے نبی ! تمہارے لئے اور تمہارے اتباع کرنے والے مؤمنوں کیلئے اللہ کافی ہے۔ “ اس ترکیب کلام میں معنوی لحاظ سے تو قرب فہم ہے مگر لفظی بعد ضرور ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ من اتبعک کا عطف اللّٰہُ پر ہے ‘ اس وقت مطلب اس طرح ہوگا : اے نبی ! تمہارے لئے اللہ اور تمہارا اتباع کرنے والے مؤمن کافی ہیں۔ اس ترکیب میں لفظی قرب ضرور ہوجائے گا مگر معنوی بعد ہوگا۔ اس مطلب کی تائید سعید کے اس بیان سے ہوتی ہے جس کو ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جب 33 مرد اور چھ عورتیں مسلمان ہوگئیں تو (چالیسویں نمبر پر) حضرت عمر مسلمان ہوئے ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ابو الشیخ نے حضرت سعید بن مسیب کے حوالہ سے بیان کیا کہ جب حضرت عمر مسلمان ہوگئے تو اللہ نے آپ کے اسلام کے متعلق یہ آیت اتاری۔ طبرانی وغیرہ نے بروایت حضرت سعید بن جبیر ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ 39 مرد و عورت ایمان لا چکے تھے ‘ ان کے بعد حضرت عمر مسلمان ہوئے ‘ اس طرح چالیس مسلمان ہوگئے۔ اس وقت اللہ نے آیت یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُِ حَسْبُکَ اللّٰہُ الخ نازل فرمائی۔ بزار نے ضعیف سند کے ساتھ عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب حضرت عمر ؓ مسلمان ہوگئے تو مشرکوں نے کہا : آج ہماری قوم (کی طاقت) آدھی ہوگئی اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ تمام احادیث بتارہی ہیں کہ یہ آیت مکی ہے مگر کلام کی رفتار کا تقاضا ہے کہ اس کو مدنی کہا جائے کیونکہ یہ سورت بدر کے بعد نازل ہوئی (تو یہ آیت بھی بدر کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہوگی) ۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔ اور اگر تم بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے

یایھا النبی حرض المؤمنین علی القتالط اے نبی ! مسلمانوں کو جہاد کیلئے بہت زیادہ ترغیب دو ۔ حرض کا لغوی معنی ہے بیماری کا بدن کو اتنا دبلا کردینا کہ اس کو لب گور کر دے۔ چونکہ مرض ‘ مریض کو عاجز کر کے ہلاکت کے کنارہ تک پہنچا دیتا ہے ‘ پس اس عاجز اور مجبور کرنے کے مفہوم کو پیش نظر رکھ کر اس شدید ترین ترغیب کے معنی میں بھی اس لفظ کا استعمال ہونے لگا جو آدمی کو مجبور کر دے اور حکم نہ ماننے کا کوئی راستہ نہ چھوڑے۔ ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم ماءۃ یغلبوا الفا من الذین کفروا انھم قوم لا یفقھون۔ اگر تم میں سے (لڑائی میں) ثابت قدم رہنے والے (اور امید ثواب رکھنے والے) بیس مرد ہوں گے تو دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سو (مرد لڑائی میں ثابت قدم رہنے والے اور امید ثواب رکھنے والے) ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ (جنگ کی غرض) سمجھتے نہیں ‘ یعنی مشرک امید ثواب نہیں رکھتے ‘ اللہ اور آخرت پر ان کا ایمان نہیں ‘ اسلئے جنگ کے وقت ثابت قدم نہیں رہتے ‘ موت سے ڈرتے ہیں اور تم ثواب کی امید رکھتے ہو ‘ اللہ سے مراتب آخرت کے طلب گار ہو ‘ اسلئے جم کر لڑتے ہو۔ یہ کلام ہے تو خبری لیکن امر کے معنی میں ہے کہ اگر کافر تم سے دس گنا ہوں تو جم کر ان سے لڑو اور اس امر میں غالب آنے کا وعدہ بھی ہے کہ اگر ثابت قدم رہنے والے تم میں سے دس ہوں گے تو سو پر غالب آئیں گے ‘ یعنی تم دس گنا طاقت پر غالب آؤ گے۔ یہ حکم بدر کے دن تھا کہ ہر مسلمان پر دس کافروں سے لڑنا اللہ نے فرض کردیا تھا۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ جب اللہ نے ہر ایک مسلمان پر دس دس کافروں سے لڑنا واجب کردیا تو یہ حکم مسلمانوں کیلئے بڑا تکلیف دہ اور شاق ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے اس میں کمی کردی اور فرمایا۔