8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم ویریدا اللہ ان یحق الحق بکلمتہ ویقطع دابر الکفرین : اور (تم لوگ اس وقت کو یاد کرو) جب کہ اللہ تعالیٰ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کا تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت (یعنی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا (عملاً ) ثابت کر دے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ وَاِذْیَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنَ اَنَّھَالَکُمْ- اِذْ کا تعلق محذوف فعل سے ہے ‘ یعنی اس وقت کا واقعہ یاد کرو۔ کُمْ ‘ یَعِدُ کا پہلا مفعول اور احدی الطائفتین دوسرا مفعول ہے اور اَنَّھَالَکُمْ ‘ اِحْدٰی سے بدل ہے۔ وَتَوَدُّوْنَ ان غیر ذات الشوکۃ اور تم دل سے چاہتے تھے کہ غیر مسلح ‘ بےطاقت گروہ یعنی قافلہ تمہارے ہاتھ لگ جائے تاکہ بغیر جنگ کے کثیر مال مل جائے۔ شوکۃ کا معنی ہے طاقت ‘ قوت ‘ تیزی۔ یہ لفظ شوک سے مستعار ہے ‘ شوککا معنی ہے کانٹا ‘ ہتھیار۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا۔ لوگ چاہتے تھے کہ قافلہ ان کے ہاتھ لگ جائے کیونکہ قافلہ والوں میں زیادہ طاقت نہ تھی۔ جب قافلہ نکل گیا اور ہاتھ نہ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو لے کر قریش کے مقابلہ کیلئے جانا چاہا۔ قریش میں چونکہ طاقت زیادہ تھی ‘ اسلئے (بعض) مسلمانوں کو یہ بات ناپسند ہوئی۔ ویرید اللہ ان یحق الحق اور اللہ حق کو ظاہر کرنا اور سربلند کرنا چاہتا تھا۔ بکلماتہ یعنی تم کو جہاد اور جنگ کا حکم دے کر ‘ یا فرشتوں کو تمہاری مدد کے احکام دے کر۔ بعض کے نزدیک کلمات سے مراد وہ وعدہ ہے جو اللہ نے دین کو غالب اور معزز کرنے کا پہلے کیا تھا۔ وَیَقْطَعَ دَابِرِ الْکَافِرِیْنَ اور کافروں کی بیخ کنی کر دے کہ عرب میں کوئی کافر بغیر اسلام لانے کے نہ رہے ‘ اگر رہے تو قتل کردیا جائے۔ مطلب یہ کہ تم بغیر شدت و تکلیف کے مال کے خواستگار تھے اور اللہ چاہتا تھا کہ دین سربلند ہو ‘ حق ظاہر اور تم کو دونوں جہان میں کامیابی حاصل ہو۔ لیحق الحق اس کا تعلق محذوف فعل سے ہے ‘ یعنی جو کچھ کیا ‘ اسلئے کیا کہ اسلام کو (عملاً ) ثابت کر دے ‘ یا یقطع سے تعلق ہے ‘ یعنی اللہ کافروں کی جڑ کاٹنا اسلئے چاہتا تھا کہ احقاق حق کر دے۔ ویبطل الباطل اور کفر کو باطل کر دے (بظاہر کلام میں تکرار نظر آرہی ہے کیونکہ پہلے بھی یحق الحق فرمایا اور پھر لیحق الحق فرمایا ‘ اسی طرح پہلے یقطع دابر الکافرین فرمایا اور پھر یبطل الباطل فرمایا) لیکن حقیقت میں تکرار نہیں ہے ‘ اوّل جملہ تو صرف بیان مقصد کیلئے ہے ‘ اس کی غرض تو یہ ہے کہ اللہ کے مقصد میں اور مسلمانوں کے مقصد میں جو فرق تھا ‘ اس کو واضح کردیا جائے اور دوبارہ ذکر کرنے کی علت یہ ہے کہ وہ سبب واضح کردیا جائے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو طاقتور لشکر سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ وَلَوْ کرہ المجرمون مجرموں سے مراد ہیں مشرک۔ کَرِہَ کا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی مشرک خواہ اس بات کو پسند نہ کریں۔ قصۂ بدر کا تکملہ ذفران سے روانہ ہو کر رسول اللہ ﷺ ان پہاڑیوں کے راستہ سے جن کو اصافر کہا جاتا ہے ‘ آگے چلے (اصافر کی پہاڑیاں جحفہ کے قریب مکہ کو جاتے ہوئے دائیں جانب کو واقع ہیں) پھر نیچے اتر کر ایک بستی کی جانب جس کا نام دیہ ہے ‘ رخ کیا اور حنان کو دائیں جانب چھوڑ دیا۔ حنان ایک بڑے پہاڑ کی طرح ریت کا ٹیلہ تھا۔ پھر بدر کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا اور خود حضرت ابوبکر کو ساتھ لے کر ایک عرب بوڑھے کے پاس پہنچے اور اس سے قریش کی اور محمد کی اور محمد کے ساتھیوں کی خبریں دریافت کیں۔ شیخ بولا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھی فلاں فلاں دن روانہ ہوگئے ہیں ‘ اگر اطلاع دینے والے نے مجھے صحیح اطلاع دی ہے تو آج وہ فلاں جگہ ہوں گے۔ جس جگہ حضور ﷺ نے پڑاؤ ڈالا تھا ‘ شیخ نے اسی جگہ کا نام لیا۔ اور مجھے یہ خبر بھی ملی ہے کہ قریش فلاں دن روانہ ہوگئے ہیں ‘ اگر خبر دینے والے نے مجھے صحیح خبر دی ہے تو آج قریش فلاں جگہ ہوں گے۔ شیخ نے اسی جگہ کا نام لیا جہاں قریش موجود تھے۔ پھر کہنے لگا : تم دونوں کون ہو ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہم ماء سے ہیں (یہ لفظ توریہ کے طور پر استعمال فرمایا ‘ بوڑھا تو سمجھا ہوگا کہ بنی ماء السماء جو عرب کا مشہور قبیلہ تھا ‘ اس سے ان کا تعلق قرابت ہے اور حضور ﷺ کی مراد یہ تھی کہ ماء دافق یعنی کودتے ہوئے پانی سے ہم دونوں پیدا ہوئے ہیں) ۔ ابن اسحاق کا بیان ہے : پھر رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ آئے۔ شام ہوئی تو علی بن ابی طالب اور زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص کو صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ بدر کے چشمہ کی طرف خیر خبر لینے کیلئے بھیجا۔ ان لوگوں کو قریش کے کچھ سقے ملے جن میں بنی الحجاج کا غلام اسلم اور بنی العاص بن سعید کا غلام ابویسار بھی تھا۔ یہ حضرات دونوں کو لے آئے اور ان سے کچھ سوالات کئے۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ دونوں نے جواب دیا : ہم قریش کے خدمت گار ہیں ‘ انہوں نے ہم کو پانی بھرنے بھیجا تھا۔ مسلمانوں کو یہ جواب ناگوار گذرا ‘ ان کا خیال تھا کہ یہ دونوں ابوسفیان کے آدمی ہیں (اور قافلہ کہیں قریب ہی ہے) اسلئے ان کو مارنے لگے۔ جب خوب مارا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہم ابوسفیان کے آدمی ہیں۔ صحابہ نے ان کو چھوڑ دیا۔ اس عرصہ میں حضور ﷺ نے رکوع کیا اور دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا اور فرمایا : جب انہوں نے تم سے سچی بات کہی تھی تو تم نے ان کو مارا اور جب جھوٹی بات کہی تو تم نے ان کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے سچ کہا تھا۔ خدا کی قسم ! یہ قریش کے آدمی ہیں (پھر دونوں غلاموں سے فرمایا :) مجھے قریش کے متعلق بتاؤ۔ دونوں نے عرض کیا : وہ اس سامنے والے ٹیلہ کے اس پرے کے اونچے مقام پر اور ریت کے ٹیلہ پر فروکش ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : کتنے ہیں ؟ دونوں نے عرض کیا : بہت ہیں۔ فرمایا : گنتی میں کتنے ہیں ؟ بولے : یہ تو ہمیں معلوم نہیں۔ فرمایا : کتنے (اونٹ) ذبح کرتے ہیں ؟ کہنے لگے : ایک دن نو اور ایک دن دس۔ فرمایا : تو نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہیں۔ پھر فرمایا : ان میں سرداران کون کون ہیں ؟ دونوں نے عرض کیا : ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ ‘ ابوالبختری بن ہشام ‘ حکیم بن حزام ‘ نوفل بن خویلد ‘ حارث بن عامر ‘ طعیمہ بن عدی ‘ نضر بن حارث ‘ ربیعۃ الاسود ‘ ابوجہل بن ہشام ‘ امیہ بن خلف ‘ حجاج کے دونوں بیٹے بنیہ اور منبہ ‘ سہل بن عمرو اور عمرو بن عبدو۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ مکہ کے جگر پارے (یعنی خلاصہ اور مکھن) ہیں جن کو مکہ نے باہر نکالا ہے۔ ابن عابد کا بیان ہے کہ جحفہ تک پہنچنے میں راستہ چلنے اور درمیانی قیام میں کل دس دن صرف ہوئے۔ بسیس بن عمرو اور عدی بن ابی الزغباء بدر کی طرف (تلاش احوال کیلئے) گئے ہوئے تھے ‘ پانی کے قریب ایک ٹیلہ پر یہ دونوں جا کر ٹھہرے ‘ پھر مشکیزے لے کر پانی بھرنے چل دئیے۔ پانی پر مجدی بن عمر جہنی موجود تھا اور وہاں جو لوگ مقیم تھے ‘ ان کی دو باندیاں بھی موجود تھیں۔ ایک باندی دوسری کو پکڑے ہوئے تھی (اور اپنا قرض مانگ رہی تھی) جس کو وہ چمٹی ہوئی تھی ‘ اس نے کہا : قافلہ کل یا پرسوں آجائے گا ‘ میں قافلہ والوں کا کچھ کام کاج کر کے کچھ مزدوری کروں گی تو اس سے تیرا قرض ادا کر دوں گی۔ مجدی بولا : یہ سچ کہہ رہی ہے۔ عدی اور بسیس یہ بات سن کر اونٹ پر بیٹھ کر چلے آئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر جو کچھ سنا تھا ‘ عرض کردیا۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ ابو سفیان قافلہ کو لے کر آیا ‘ مدینہ کے قریب پہنچا تو بہت خوف زدہ تھا۔ ضمضم بن عمر اور نضیر کی واپسی میں بھی تاخیر ہوگئی تھی۔ غرض ڈرتے ڈرتے پانی پر پہنچا ‘ پانی پر مجدی بن عمرو جہنی سے ملاقات ہوئی۔ ابو سفیان نے مجدی سے پوچھا : کیا تم کو (یہاں) کچھ سن گن ملی ہے ؟ مجدی نے کہا : اور تو کسی اجنبی کو میں نے دیکھا نہیں ‘ صرف اتنی بات دیکھی کہ دو سوار آئے ‘ انہوں نے اس ٹیلہ کے پاس اونٹ بٹھایا اور اتر کر مشکیزوں میں پانی لیا اور چل دئیے۔ ابو سفیان ‘ مجدی سے یہ بات سن کر ٹیلہ کے پاس ان کی فرودگاہ پر پہنچا اور اونٹ کی مینگنی اٹھا کر اس کو توڑا ‘ اس کے اندر سے کھجور کی گٹھلی برآمد ہوئی۔ کہنے لگا : خدا کی قسم ! یہ تو یثرب والوں کا چارہ ہے (یعنی اونٹوں کو گٹھلیاں و ہی کھلاتے ہیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ وہ سوار مدینہ کے تھے) فوراً اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ آیا اور قافلہ کا رخ موڑ کر بدر کو بائیں چھوڑ کر ساحل کے راستہ پر پڑگیا اور تعاقب کرنے والوں کے ڈر سے سرپٹ رات دن چلتا رہا اور جب دیکھا کہ اب میں قافلہ کو بچا لایا تو قریش کے پاس قیس بن امراء القیس کو یہ پیام دے کر بھیجا کہ تم اپنے قافلہ کی اور آدمیوں کی جانوں و مالوں کی حفاطت کیلئے مکہ سے نکلے تھے ‘ اب چونکہ اللہ نے سب کو بچا دیا ہے ‘ اسلئے لوٹ آؤ۔ قریش کو یہ اطلاع اس وقت ملی جب یہ لوگ جحفہ میں تھے۔ ابو جہل کہنے لگا : خدا کی قسم ! بدر پر اترے بغیر ہم نہیں لوٹیں گے۔ بدر پر ہر سال عرب کا ایک تہوار ہوتا اور بازار لگتا تھا ‘ یہ زمانہ تہوار ہی کا تھا۔ ہم تین روز بدر میں قیام کریں گے ‘ اونٹ ذبح کریں گے ‘ کھانا کھلائیں گے ‘ شرابیں پلائیں گے ‘ گانے والیوں کا گانا سنیں گے۔ عرب ہماری یہ خبریں سنیں گے اور ہمارے آ پہنچنے کی اطلاع ہوگی تو اس کے بعد ہمیشہ ہم سے ہیبت کھائیں گے ‘ ان پر ہمارا رعب پڑے گا۔ اہل رائے پہلے ہی مکہ سے نکلنے کے مخالف تھے اور ایک ‘ دوسرے کے پاس یہی مشورہ دینے گیا تھا۔ حارث بن عامر ‘ امیہ بن خلف ‘ ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ اور شیبہ ‘ حکیم بن حزام ‘ ابو البختری ‘ علی بن امیہ بن خلف اور ابو العاص سب ہی جانے سے جھجک رہے تھے لیکن ابوجہل نے سب کو بزدل ہوجانے کی عار دلائی اور رائے پلٹ دی تھی۔ ابوجہل کی تائید عقبہ بن ابی معیط ‘ نضر بن حارث اور حارث بن مکدہ نے کی تھی۔ بالآخر سب کا جانے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ اخنس بن شریف نے جو بنی زہرہ کا حلیف تھا ‘ بنی زہرہ سے کہا : تم لوگ محزمہ بن نفل کی جان مال کی حفاظت کیلئے نکلے تھے ‘ وہ تمہارا آدمی تھا۔ اب اللہ نے تمہارا مال بھی بچا دیا اور محزمہ بن نوفل کو بھی بچا دیا ‘ اسلئے مکہ کو لوٹ جاؤ۔ بنی زہرہ کی تعداد تقریباً ایک سو اور بعض روایات میں تین سو تھی۔ اخنس کی بات سن کر سب لوٹ گئے۔ بنی زہرہ کے صرف دو آدمی یعنی مسلم بن شہاب زہری کے چچا واپس نہیں گئے اور بدر کی لڑائی میں بحالت کفر مارے گئے۔ حضرت ابن سعد کا بیان ہے کہ قیس بن امراء القیس نے واپس جا کر ابو سفیان کو قریش کے آجانے کی اطلاع دی۔ ابو سفیان نے کہا : ہائے قوم افسوس ! یہ عمرو بن ہشام یعنی ابوجہل کی حرکت ہے۔ اخنس کی رائے سے چونکہ بنی زہرہ بدر میں شریک نہیں ہوئے اور ان کو نقصان نہیں پہنچا اور ان کی حالت قابل رشک بن گئی ‘ اسلئے اخنس کی اس واقعہ کے بعد ان کی نظروں میں بڑی عزت ہوگئی اور سب اس کی رائے ماننے لگے۔ بنی ہاشم نے بھی لوٹ جانا چاہا تھا مگر ابوجہل نے ان پر سختی کی اور کہا : ہماری واپسی تک (بنی ہاشم کی) یہ جماعت ہمارے ساتھ رہے گی ‘ ہم سے الگ نہیں ہوسکتی۔ غرض قریش ریت کے ٹیلے اور بطن وادی کے پیچھے پرے کے کنارے والی اونچی زمین پر فروکش ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ورلے کنارے پر۔ شروع میں پانی پر مشرکوں کا قبضہ رہا ‘ مسلمان پیاسے رہ گئے اور ان پر سخت مصیبت پڑی۔ شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ ہم میں موجود ہیں مگر پانی پر مشرکوں نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور تم جنابت کی حالت میں بغیر غسل کے نمازیں پڑھتے ہو۔ مگر اسی رات اللہ نے بارش کردی۔ مشرکوں کی طرف تو ایسی موسلادھار بارش ہوئی کہ وہ آگے نہ بڑھ سکے اور مسلمانوں کیلئے ہلکی ہلکی بارش ہوئی جس سے وہ نہا بھی لئے ‘ بدن کی گندگی بھی دور ہوگئی اور زمین بھی ہموار ہوگئی ‘ ریت سخت پڑگئی اور قدم جمنے لگے (دلدل اور کیچڑ نہیں ہوئی) پڑاؤ بھی درست ہوگیا ‘ دلوں میں سکت بھی آگئی اور ادھر ادھر چلنے کی رکاوٹ دور ہوگئی۔ وادی بہنے لگی ‘ سب نے پانی پی لیا ‘ اونٹوں کو بھی پلا دیا اور مشکیزے بھی بھر لئے۔ اسی رات کو مسلمانوں پر ایک ایسی اونگھ طاری ہوگئی کہ سب لوگ سو گئے۔ ایک ‘ دوسرے کے سامنے آکر اٹھاتا تھا مگر اس کو پتہ بھی نہ چلتا تھا اور وہ پہلو کے بل گرپڑتا تھا۔ ابو یعلی اور بیہقی نے دلائل میں حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ بدر کے دن مقداد کے علاوہ ہم میں کوئی سوار نہ تھا اور میری آنکھوں میں اب تک وہ منظر ہے کہ سوائے رسول اللہ ﷺ کے ‘ ہم میں کوئی آدمی ایسا نہ تھا جو سو نہ گیا ہو ‘ حضور ﷺ ایک درخت کے نیچے صبح تک نماز پڑھتے رہے۔ یہ جمعہ کی رات تھی اور دونوں فریقوں کے درمیان ریت کی ایک پہاڑی حائل تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے عمار بن یاسر اور عبد اللہ بن مسعود کو (قریش کی طرف حال معلوم کرنے) بھیجا۔ دونوں نے جا کر ان لوگوں کی فرودگاہ کے آس پاس چکر لگایا اور آکر اطلاع دی کہ وہ لوگ خوف زدہ ہیں اور ان پر سخت بارش ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ساتھیوں کو لے کر عشاء کے وقت اور آگے بڑھے تاکہ مشرکوں کے پہنچنے سے پہلے چشمہ پر قبضہ کرلیں ‘ چناچہ آگے پہنچ گئے اور پانی پر قبضہ کرلیا اور بدر کے اوّل چشمہ پر پہنچ کر ٹھہر گئے۔ مشرکوں کو بارش نے آگے نہ بڑھنے دیا۔ ابن اسحاق کی روایت میں آیا ہے کہ حباب بن منذر بن جموح نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس جگہ اترنے کا آپ کو اللہ نے حکم دیا ہے ‘ پھر تو ہم پیچھے آگے ہٹ نہیں سکتے ‘ یا یہ ایک مصلحت اور جنگی تدبیر ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : (حکم نہیں) بلکہ رائے ‘ مصلحت اور جنگی تدبیر ہے۔ حباب نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ اترنے کی جگہ نہیں ہے ‘ یہاں سے لوگوں کو الٹا لے چلئے اور قریش کے قریب ترین جو پانی ہے ‘ وہاں چل کر ٹھہرئیے۔ وہاں چشمہ کے قریب ہم ایک کنواں کھودیں گے اور کنویں پر ایک حوض بنا دیں گے ‘ اس طرح چشمہ سے نکلنے کی بجائے پانی کنویں میں آکر بھر جائے گا اور اس پانی سے ہم حوض بھر لیں گے۔ ہمارے پینے کیلئے تو پانی ہوجائے گا اور وہ نہ پی سکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے مشورہ سمجھ کا دیا۔ حضرت ابن سعد نے لکھا ہے کہ جبرئیل نے بھی اتر کر کہا تھا کہ حباب نے جو مشورہ دیا ‘ وہ ٹھیک ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ سب لوگوں کو لے کر اٹھ کھڑے ہوے اور قریش کے قریب ترین پانی کے پاس آدھی رات کو پہنچ کر پڑاؤ ڈال دیا۔ پھر حضور ﷺ کے حکم سے ایک کنواں کھودا گیا اور اس پر ایک حوض بنا دیا گیا اور حوض کو پانی سے بھر دیا گیا ‘ پھر سب لوگوں نے اس میں (اپنے اپنے) برتن ڈال دئیے۔ حضرت سعد بن معاذ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ کیلئے ایک جھونپڑی بنائے دیتے ہیں ‘ اس میں آپ قیام کریں۔ پاس ہی ہم کچھ اونٹنیاں تیار رکھیں گے ‘ پھر ہم دشمن سے مقابلہ کریں گے ‘ اگر ہم دشمن پر غالب آگئے تو مقصد پورا ہوگیا اور اگر کچھ دوسری بات ہوئی تو آپ اونٹنی پر سوار ہو کر ان لوگوں کے پاس پہنچ جائیں جن کو ہم اپنے پیچھے (مدینہ میں) چھوڑ آئے ہیں کیونکہ وہاں بکثرت ایسے لوگ رہ گئے ہیں جو حضور ﷺ کی محبت میں ہم سے کم نہیں ہیں ‘ اگر ان کو خیال ہوتا کہ حضور ﷺ کو جنگ پیش آئے گی تو وہ پیچھے نہ رہتے۔ اللہ ان کے ذریعہ سے آپ کی حفاظت کرے گا ‘ وہ آپ کی خیرخواہی کریں گے اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن کر حضرت سعد کیلئے کلمات خیر ادا فرمائیے اور ان کو دعا دی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کیلئے ایک ٹیلہ پر جہاں سے میدان جنگ کی حالت دکھائی دیتی تھی ‘ ایک جھونپڑی بنا دی گئی ‘ اس میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر فروکش ہوگئے ‘ تیسرا کوئی نہ تھا۔ حضرت سعد بن معاذ جھونپڑی کے دروازہ پر تلوار گردن سے لٹکائے کھڑے ہوگئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ میدان جنگ کے مقام پر تشریف لے گئے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتانے لگے کہ یہ فلاں شخص کی قتل گاہ ہے ‘ اس جگہ فلاں آدمی مارا جائے گا انشا اللہ۔ چناچہ جہاں جہاں حضور ﷺ نے اشارہ کردیا تھا ‘ قریش کے آدمیوں میں سے کوئی بھی وہاں سے بچ نہ سکا (ہر شخص حضور ﷺ کی بتائی ہوئی جگہ پر ہی مارا گیا) رواہ احمد و مسلم وغیرہما۔ طبرانی نے حضرت رافع بن خدیج کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر اہل اسلام کا کوئی بچہ پیدا ہو کر آخر عمر تک اللہ کی پوری پوری اطاعت کرتا رہے تب بھی (ثواب اور درجہ میں) تمہاری اس ایک رات (یعنی شب بدر) کو نہیں پہنچ سکتا اور فرمایا : جو ملائکہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ‘ وہ ان ملائکہ سے فضیلت رکھتے ہیں جو حاضر نہیں ہوئے۔ اس روایت کے تمام راوی سوائے جعفر بن معلاص کے ثقہ ہیں ‘ جعفر غیرمعروف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صبح مقام بدر پر کی۔ ادھر قریش اپنی پوری طاقت اور اسلحہ کے ساتھ اللہ اور رسول ﷺ کی مخالفت میں نکلے تھے ‘ ان کے اندر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے خلاف جوش ‘ غضب ‘ غصہ اور سخت اشتعال تھا کہ صحابہ نے ان کے قافلہ کو لوٹنا اور قافلہ کے آدمیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اور اس سے پہلے عمرو بن حضرمی کو قتل اور اس کے اونٹوں کو چھین چکے تھے۔ یہ قصہ سورة البقرۃ کی آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِکی تفسیر کے ذیل میں ہم بیان کرچکے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے قریش کو ریت کے پہاڑ سے نیچے وادی کی طرف آتے ہوئے ملاحظہ فرمایا۔ سب سے پہلے زمعہ بن اسود گھوڑے پر سوار سامنے آیا ‘ اس کے پیچھے اس کا بیٹا بھی تھا۔ اس نے گھوڑے کو ایک چکر دیا ‘ قوم کے پڑاؤ کیلئے مقام کی تلاش کر رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ قریش اپنے غرور اور تکبر کے ساتھ آگئے۔ اے اللہ ! یہ تیرے رسول کی تکذیب کر رہے ہیں اور اس سے لڑ رہے ہیں۔ اے اللہ ! تو نے جس فتح کا مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ‘ وہ عطا فرما اور صبح ان کو ہلاک کر دے۔ عتبہ بن ربیعہ کو سرخ اونٹ پر سوار دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا : اگر اس قوم میں سے کسی میں کوئی خیر ہوسکتی تھی تو اس سرخ اونٹ والے میں تھی۔ اگر یہ لوگ اس کا مشورہ مان لیتے تو سیدھے راستہ پر پڑجاتے۔ یہ عتبہ ہے ‘ یہ لڑائی سے روک رہا اور لوٹ جانے کا مشورہ دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا : قوم والو ! آج لوٹنے کی عار کی پٹی میرے سر سے باندھ دو اور کہو کہ عتبہ نامراد ہوگیا اور ابوجہل انکار کر رہا تھا (اور جنگ کیلئے اڑا ہوا تھا) خفاف بن ایما بن حضہ غفاری نے یا اس کے باپ نے (یہ تینوں آخر میں مسلمان ہوگئے تھے مگر اس وقت کافر تھے) اپنے بیٹے کے ساتھ کچھ اونٹ قریش کے پاس بطور ہدیہ بھیج دئیے اور کہلا بھیجا کہ اگر تم چاہو تو اسلحہ اور آدمیوں سے ہم تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔ قریش نے جواب میں کہلوایا : آپ سے تعلق اور رشتہ پکا ہے ‘ جو آپ پر حق تھا وہ آپ نے ادا کردیا (آئندہ امداد کی ضرورت نہیں) اگر ہمارا مقابلہ آدمیوں سے ہے تو خدا کی قسم ! ان کے مقابلہ میں ہمارے اندر کوئی کمزوری نہیں ہوسکتی اور اگر محمد ﷺ کے گمان کے مطابق ہماری لڑائی اللہ سے ہوئی تو اللہ کا مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہیں۔ جب لوگ ٹھہر گئے تو قریش کے چند آدمی جن میں حکیم بن حزام بھی تھے ‘ رسول اللہ ﷺ کے (بنائے ہوئے) حوض پر اتر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کو اترنے دو ۔ سوائے حکیم بن حزام کے ان میں سے جس شخص نے بھی اس کا پانی پیا ‘ مارا گیا۔ حکیم بن حزام بچ گئے اور اس کے بعد مسلمان ہوگئے اور اسلام میں پختہ رہے۔ جب آپ (مسلمان ہونے کے بعد) مضبوط قسم کھاتے تھے تو یوں کہتے تھے : قسم ہے اس اللہ کی جس نے بدر کے دن مجھے بچا لیا۔ جب قریش ٹھکانے سے ہوگئے تو عمیر بن وہب جمحی کو (جو آخر میں مسلمان ہوگئے تھے) مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کیلئے بھیجا۔ عمیر نے مسلمانوں کے لشکر کے گرداگرد گھوڑے کو چکر دیا اور لوٹ کر بتایا کہ کم و بیش تین سو ہیں ‘ لیکن ذرا ٹھہرو میں یہ بھی دیکھ لوں کہ کہیں ان کی چھپی ہوئی کمک نہ ہو۔ چناچہ وادی کے اندر وہ دور تک گیا اور جب کچھ نظر نہ آیا تو لوٹ کر قریش سے کہہ دیا کہ میں نے کوئی کمک تو نہیں دیکھی لیکن ایک بات دیکھی کہ اونٹنیاں موتوں کو اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہیں۔ یثرب کے آب کش اونٹوں پر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ایسی قوم ہے کہ سوائے تلواروں کے نہ ان کے محافظین ہیں ‘ نہ پناہ کا مقام۔ کیا تم کو نہیں معلوم کہ وہ باتیں کرتے ہیں ‘ ہوشیار رہتے ہیں اور سانپ کی طرح منہ میں زبانیں گھماتے ہیں۔ بخدا ! میرا خیال ہے کہ ان کا ایک آدمی بھی اس وقت تک قتل نہیں ہوگا جب تک وہ تمہارے کسی آدمی کو قتل نہ کر دے۔ اگر وہ اپنی تعداد کے برابر تمہارے آدمیوں کو قتل کردیں (اور خود بھی مارے جائیں) تو اس کے بعد زندگی کا کیا فائدہ ؟ اب تم خود سوچ لو۔ اس کے بعد قریش نے ابو سلمہ جشمی کو بھیجا ‘ اس نے گھوڑے پر سوار ہو کر مسلمانوں کے گرداگرد چکر لگایا اور واپس آکر کہا : خدا کی قسم ! میں نے نہ چمڑے کی وردی دیکھی ‘ نہ سامان ‘ نہ زرہ ‘ نہ گھوڑے بلکہ میں نے ان کو ایسی قوم پایا جو خیال کئے ہوئے ہیں کہ اب گھر والوں کے پاس لوٹ کر جانا نہیں ہے۔ وہ مسلم ہیں ‘ موت کے طلب گار۔ نہ ان کے محافظ ہیں ‘ نہ کوئی پناہ گاہ بس تلواریں ہی ان کا سب کچھ ہیں۔ نیلی آنکھوں والے ہیں ‘ ڈھالوں کے پیچھے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی چٹانیں ہیں غیر متحرک۔ اب تم خود سوچ لو۔ حکیم بن حزام نے جو یہ باتیں سنیں تو چل کر عتبہ بن ربیعہ کے پاس پہنچے اور اس سے لوگوں کو واپس لے جانے کی گفتگو کی اور کہا : ابو الولید ! آپ قریش کے معمر بزرگ ہیں ‘ سردار ہیں ‘ آپ کی بات سب مانتے ہیں۔ کیا آپ ایک کام ایسا کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کا نام ہمیشہ رہے گا۔ عتبہ نے پوچھا : حکیم ! وہ کیا بات ہے ؟ حکیم نے کہا : لوگوں کو لوٹا کرلے جائیے اور اپنے حلیف عمر بن حضرمی (کے جانی مالی نقصان) کو خود برداشت کرلیجئے۔ عتبہ نے کہا : حکیم ! تم نے (میرے پاس آکر تو) ایسا کرلیا ‘ میں یہ نقصان اپنے اوپر لیتا ہوں کیونکہ عمر حضرمی میرا حلیف تھا ‘ مجھ پر اس کی دیت اور مالی نقصان لازم ہے (میں دے دوں گا) مگر تم ابن حنظلہ کے پاس بھی جاؤ ‘ مجھے اندیشہ اور کسی سے نہیں ‘ صرف اسی سے ہے ‘ وہی لوگوں پر جادو کر دے گا۔ ابن حنظلہ سے مراد ابوجہل تھا۔ اس کے بعد عتبہ نے لوگوں میں جا کر ایک تقریر کی اور کہا : اے گروہ قریش ! تم کیا کر رہے ہو ؟ خدا کی قسم ! صبح کو اگر تم محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں پر کچھ غلبہ بھی پالو گے تب بھی آئندہ ہمیشہ ایک آدمی دوسرے کو نفرت کی نظر سے دیکھے گا کیونکہ وہ اس کے چچا یا ماموں کے بیٹے کو یا اس کے کنبہ کے کسی اور آدمی کو قتل کرچکا ہوگا (کسی کو اپنے بھائی برادر کا قاتل کیسے اچھا لگے گا) لہٰذا تم لوٹ جاؤ ‘ محمد ﷺ کو دوسرے عربوں کے (مقابلہ کے) لئے چھوڑ دو ۔ اگر دوسرے عرب اس پر غالب آگئے تو تمہاری مراد حاصل ہوگئی اور اگر اس کے سوا کچھ ہوا تو وہ تم کو الگ پائے گا ‘ تم اس سے تعرض نہ کرو گے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ موت کے طلب گار ہیں۔ تم میں جب تک خیر ہے ‘ ان لوگوں تک نہیں پہنچ سکتے (یعنی ان پر غلبہ پانے کیلئے تم کو بہت بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑے گا) لوگو ! آج اس عار کی پٹی میرے سر سے باندھ دو اور کہہ دو کہ عتبہ بزدل ہوگیا ‘ حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے اندر نامرد نہیں ہوں۔ حکیم کا بیان ہے : اس کے بعد میں ابوجہل کے پاس گیا ‘ وہ زرہ کیس سے زرہ نکال کر ٹھیک کر رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا : ابوالحکم عتبہ نے مجھے آپ کے پاس یہ یہ بات کہنے کیلئے بھیجا ہے۔ کہنے لگا : جب سے اس نے محمد ﷺ کو اور اس کے ساتھیوں کو دیکھا ہے کہ یہ کہتا ہے ‘ خدا کی قسم ! اب تو جب تک خدا ہی ہمارا اور محمد ﷺ کا فیصلہ نہ کر دے گا۔ بخدا ! ہم واپس نہیں جائیں گے۔ عتبہ کے اس قول کی سوائے اس کے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس نے محمد ﷺ اور اس کے ذلیل ساتھیوں کو دیکھ لیا ہے اور تمہارے ساتھ اس کا بیٹا موجود ہے ‘ بس اس کو اپنے بیٹے کے متعلق ڈر لگا (کہ کہیں وہ نہ مارا جائے) اس کے بعد ابوجہل نے عامر حضرمی کو بلوایا اور اس سے کہا : دیکھو ! یہ عتبہ جو تمہارا حلیف ہے ‘ بخدا ! لوگوں کو لوٹا کرلے جا رہا ہے۔ تم کھڑے ہوجاؤ اور (قریش سے) اپنا عہد و میثاق اور اپنے بھائی کا خون طلب کرو (قریش اور قبیلہ حضرم کے درمیان باہم مدد کرنے کا معاہدہ تھا ‘ جب مسلمانوں کے ہاتھوں سے عمر حضرمی مارا گیا اور عمر کا بیٹا عامر حضرمی مسلمانوں سے بدلہ کا خواستگار ہوا تو قریش پر لازم تھا کہ عامر کی حمایت کریں اور عمر کے خون کا انتقام حاصل کرنے میں عامر کی مدد کریں) عامر حضرمی نے فوراً اٹھ کر اپنے سرین برہنہ کر دئیے اور چیخ کر فریاد کی : ہائے عمر ! اس کے بعد لڑائی میں گرمی آگئی ‘ معاملہ سخت ہوگیا اور جنگ کرنے پر لوگ تل گئے اور عتبہ نے جس رائے کی طرف لوگوں کو دعوت دی تھی ‘ وہ رائے برباد گئی۔ جب عتبہ کو ابوجہل کے اس قول کی اطلاع پہنچی کہ ابوجہل نے کہا ہے : بخدا ! عتبہ کو اپنے بیٹے کے مارے جانے کا ڈر ہے ‘ تو عتبہ نے کہا : عنقریب اس زمانہ کو معلوم ہوجائے گا کہ میری یا اس کی ‘ کس کی بزدلی ہے۔ اس کے بعد عتبہ نے سر کا خود طلب کیا مگر لشکر بھر میں اتنا بڑا خود کوئی نہیں ملا جو اس کے سر پر آسکتا ‘ مجبوراً چادر اوڑھنی کی طرح اس نے سر سے لپیٹ لی۔ ابوجہل نے تلوار سونت کر اپنے گھوڑے کی پشت پر ماری ‘ یہ دیکھ کر ایما بن رحضہ بولا : یہ تو بدشگونی ہوئی۔ محمد بن عمر اسلمی ‘ بلادری اور صاحب الامتناع کا بیان ہے کہ قریش کے پڑاؤ ڈالنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ پیام دے کر قریش کے پاس بھیجا کہ آپ لوگ واپس چلے جائیں ‘ تم سے لڑنے کو میں پسند نہیں کرتا ‘ یہ کام میرے مقابلہ پر تمہاری جگہ اگر دوسرے لوگ کریں تو اس سے اچھا ہوگا کہ تم مجھ سے لڑو۔ یہ پیام سن کر حکیم بن حزام نے کہا : بات تو محمد ﷺ نے خیرخواہی کی پیش کی ہے ‘ اس بات کو مان لو۔ خدا کی قسم ! وہ انصاف کی بات جب پیش کرچکا تو اب تم اس پر غالب نہیں آسکتے کیونکہ اب محمد ﷺ سے جنگ کرنا تمہاری طرف سے زیادتی ہوگی۔ ابوجہل بولا : جب اللہ نے ہم کو ان پر قابو دے دیا ہے تو اب ہم (بغیر ان لوگوں کی بیخ کنی کے) واپس نہیں جائیں گے۔ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج کی روایت سے لکھا ہے کہ ابوجہل نے بدر کے دن کہا تھا : ان کو پکڑ کر رسیوں سے باندھ لو ‘ کسی کو قتل نہ کرو۔ اس پر سورة نون کی آیت اِنَّا بَلَوْنٰھُمْ کَمَا بَلَوْنَا اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِنازل ہوئی ‘ یعنی ان لوگوں کو مسلمانوں پر وہ قابو حاصل ہوگیا (مسلمانوں کو وہ اپنے قابو میں سمجھنے لگے تھے) جیسے باغ والوں کا اپنے باغ پر قابو ہوتا ہے۔ غرض صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی صف بندی کی اور تیر کی طرح صفوں کو ہموار کیا۔ آپ کے پاس ایک چھوٹا تیر تھا ‘ اس سے اشارہ کر رہے تھے۔ کسی سے فرما رہے تھے کہ ذرا آگے بڑھو ‘ کسی کو حکم دے رہے تھے کہ پیچھے ہٹو۔ آخر صفیں درست ہوگئیں۔ حضور ﷺ نے جھنڈا مصعب بن عمیر کو دیا۔ جس جگہ جھنڈا نصب کرنے کا حضور ﷺ نے حکم دیا ‘ حضرت مصعب اس طرف کو بڑھے۔ حضور ﷺ لائنوں کو دیکھنے لگے ‘ مغرب کی طرف اور سورج کی طرف لشکر کی پشت کرائی۔ مشرک سامنے تھے ‘ ان کا منہ سورج کی طرف رہا۔ مسلمانوں کا قیام شمالی کنارہ (عدوۂ شامیہ) پر اور مشرکوں کا قیام جنوبی کنارہ (عدوۂ یمینہ) پر تھا۔ رسول اللہ ﷺ جب صف بندی کر رہے تھے تو سواد بن غزیہ کچھ آگے نکل آئے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیٹ میں گھونسا مارا اور فرمایا : سواد ! سیدھا رہ۔ حضرت سواد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے مجھے دکھ پہنچایا ہے۔ آپ کو اس اللہ کا واسطہ جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر بھیجا ہے ! آپ کو اس کا بدلہ دینا ہوگا۔ حضور ﷺ نے یہ سنتے ہی شکم مبارک کھول دیا اور فرمایا : بدلہ لے لو۔ حضرت سواد پیٹ کھلا دیکھ کر پیٹ سے چمٹ گئے اور چومنے لگے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : سواد ! تم نے ایسا کیوں کیا ؟ حضرت سواد نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ کا جو حکم تھا ‘ وہ سامنے آگیا اور مجھے خیال ہے کہ میں مارا جاؤں گا ‘ اسلئے میری خواہش ہوئی کہ آخری وقت آپ سے چمٹ جاؤں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت صحابہ کو حکم دیا : جب دشمن تمہارے قریب ہوں تو تیر مارنا اور تلوار سے جنگ اس وقت کرنا جب بالکل ہی قریب آجائیں۔ کذا روی ابو داؤد عن ابی اسید۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک تقریر فرمائی اور اللہ کی حمد وثناء کے بعد لوگوں کو جنگ پر ثابت قدم رہنے اور اللہ کی خوشنوی کا طلب گار ہونے کی ترغیب دی۔ قریش بھی جنگ کیلئے تیار ہوگئے اور (انسانی شکل میں) شیطان بھی ان کے ساتھ لگا رہا۔ مسلمان اپنی لائن پر جمے رہے (کوئی ابتداء میں آگے نہیں بڑھا) سب سے پہلے عامر حضرمی نے مسلمانوں پر حملہ کیا ‘ اس کے مقابلہ پر مہیجع بن عایش ‘ حضرت عمر کا آزاد کردہ غلام نکلا ‘ عامر نے مہیجع کو شہید کردیا۔ انصار میں سے سب سے پہلے حضرت حارثہ بن سراقہ شہید ہوئے ‘ آپ کو حیان بن عرفہ نے شہید کیا۔ عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید کے درمیان میدان میں نکلا ‘ اس کے مقابلہ کیلئے تین انصاری حضرت عبد اللہ بن رواحہ ‘ حضرت عوذ اور حضرت معاذ نکلے ‘ حضرت عوذ و حضرت معاذ کے باپ کا نام حارث اور ماں کا نام عفراء تھا۔ عتبہ نے کہا : ہم تم سے مقابلہ نہیں کریں گے ‘ ہمارے مقابلہ کیلئے ہم سر (قریشی) سردار ہونے چاہئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عبیدہ بن حارث ! کھڑے ہوجاؤ ‘ حمزہ ! کھڑے ہوجاؤ ‘ علی ! کھڑے ہوجاؤ۔ حضرت حمزہ نے تو شیبہ کو سنبھلنے بھی نہ دیا ‘ قتل کردیا۔ حضرت علی نے ولید کو فرصت نہ دی ‘ قتل کردیا۔ حضرت عبیدہ اور عتبہ میں تلواروں کی نوک جھونک ہونے لگی ‘ دونوں زخمی ہوگئے۔ یہ دیکھ کر حضرت حمزہ اور حضرت علی اپنی تلواریں لے کر عتبہ پر ٹوٹ پڑے اور اس کا کام تمام کردیا اور قریش اپنے آدمی (عتبہ) کو اٹھا کرلے گئے۔ صحیحین میں آیا ہے کہ سورة الحج میں انہی دونوں کے متعلق آیت ھٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر کو ساتھ لے کر جھونپڑی میں لوٹ آئے ‘ تیسرا کوئی ساتھ نہ تھا اور اللہ سے اس فتح کی دعا کرنے لگے جس کا وعدہ اللہ نے کیا تھا۔ دعا میں آپ کے الفاظ یہ بھی تھے : اے اللہ ! آج اگر یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر پھر تیری پوجا نہ ہو سکے گی۔ حضرت ابوبکر کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ ﷺ ! اب اپنے رب کی پکار میں کمی کیجئے۔ اللہ نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے ‘ وہ یقیناً پورا کرے گا۔ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم اور طبرانی نے حضرت ابو ایوب انصاری کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! حضور کی ذات تو مشورہ دینے سے بالاتر ہے مگر میں ایک مشورہ عرض کرتا ہوں کہ اللہ کو اس کا وعدہ یاد دلانے کی اب ضرورت نہیں ‘ اس کی ذات اس کی یاددہانی سے بالا اور اعلیٰ ہے۔ فرمایا : ابن رواحہ ! میں اللہ کو اس کے وعدہ کا واسطہ دیتا رہوں گا ‘ کوئی شبہ نہیں کہ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا۔ حضرت ابن سعد اور ابن جریر نے حضرت علی کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت علی نے فرمایا : بدر کے دن میں کچھ دیر لڑتا رہا ‘ پھر دوڑا ہوا آیا کہ دیکھوں رسول اللہ ﷺ کس حال میں ہیں۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ میں پڑے یا حیّ یا قیوّم فرما رہے ہیں ‘ اس سے زیادہ کوئی لفظ نہیں فرما رہے تھے۔ پھر میں لڑائی کی طرف لوٹ گیا ‘ کچھ دیر کے بعد پھر واپس آیا اور حضور ﷺ کو سجدہ میں یہی الفاظ کہتے پایا ‘ اس کے بعد اللہ نے فتح عنایت فرما دی۔ بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ‘ اس میں اتنا زائد ہے : پھر حضور ﷺ نے رخ موڑا ‘ ایسا معلوم ہوتا کہ حضور ﷺ کا چہرہ چاند ہے اور فرمایا : گویا میں شام کو ہی اس قوم کی قتل گاہوں کو دیکھ رہا تھا۔ حضرت سعید بن منصور نے حضرت عبیدا اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت ملاحظہ فرمائی تو دو رکعت نماز پڑھی ‘ حضرت ابوبکر دائیں طرف کھڑے تھے اور نماز میں دعا کی : اے اللہ ! مجھے بےمدد نہ چھوڑنا ‘ اے اللہ ! میں تجھے اس وعدہ کا واسطہ دیتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ ابن ابی شیبہ ‘ احمد ‘ مسلم ‘ ابو داؤد اور ترمذی وغیرہ نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں کو دیکھا ‘ وہ ایک ہزار تھے اور اپنے ساتھیوں کو دیکھا ‘ وہ تین سو انیس تھے تو کعبہ کی طرف رخ کر کے دونوں ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب کو پکارنے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے ‘ وہ پورا کر۔ اے اللہ ! اپنے وعدہ کے مطابق مجھے عطا کر۔ اے اللہ ! اگر مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو زمین پر تیری پرستش نہ ہو سکے گی۔ برابر یونہی قبلہ کی جانب ہاتھ پھیلائے پکار رہے تھے ہاں تک کہ دوش مبارک سے چادر بھی گرگئی تھی اور حضرت ابوبکر نے آکر چادر اٹھا کر دوش مبارک پر ڈالی ‘ پھر پیچھے سے رسول اللہ ﷺ کو چمٹ گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! بس کیجئے ‘ اللہ کو پکارنے کی حد ہوگئی ‘ اللہ ضرور اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 8:8

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

لیحق الحق ویبطل الباطل ولوکرہ المجرمون : تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا (عملاً ) ثابت کر دے ‘ خواہ مجرموں کو یہ بات پسند نہ ہو۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممکم بالف من الملئکۃ مردفین اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اللہ نے تمہاری سن لی (اور فرما دیا) کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو سلسلہ وار چلے آئیں گے۔ اِذْ تسْتَغِیْثُوْنَ یا اِذْیَعْدِکُمْسے بدل ہے یا لیحق سے اس کا تعلق ہے ‘ یا فعل محذوف سے متعلق ہے ‘ یعنی تم دشمن سے محفوظ رہنے کی اللہ سے درخواست کر رہے تھے اور مدد طلب کر رہے تھے ‘ پھر اللہ نے تمہاری دعا قبول کرلی تھی ‘ اس وقت کو یاد کرو۔ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ یعنی تمہاری مدد کیلئے اور تمہاری طرف سے دفاع کیلئے بھیجوں گا۔ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ ایک ہزار ملائکہ۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس ‘ حضرت حکیم بن حزام اور حضرت ابراہیم تیمی کی روایت سے حدیث دعاء اور حضرت ابوبکر کا قول نقل کیا ہے ‘ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جھونپڑی کے اندر تھے کہ آپ کے سر کو ایک جھٹکا ہوا ‘ پھر (گویا) بیدار ہو کر آپ نے فرمایا : ابوبکر ! بشارت ہو ‘ یہ جبرئیل سر پر زرد عمامہ باندھے ہوئے ‘ گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے آسمان و زمین کے درمیان موجود تھے ‘ پھر زمین پر اترے اور کچھ دیر کیلئے میری نظر سے غائب ہوگئے ‘ پھر گھوڑے پر سوار نمودار ہوئے اور مجھ سے کہہ رہے ہیں : جب اللہ سے تم نے دعاء کی تو اللہ کی مدد تم کو پہنچ گئی۔ ابن اسحاق اور ابن المنذر کی روایت میں حدیث کے یہ الفاظ ہیں : یہ جبرئیل ہیں ‘ گھوڑے کو چاروں ٹانگوں پر چلاتے ہوئے ‘ آگے سے لگام پکڑے آ رہے ہیں۔ بخاری اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا : یہ جبرئیل ہیں ‘ اسلحہ لگائے ‘ گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہیں۔ مُرْدِفِیْنَ کا ترجمہ ہے : قطار در قطار ‘ ایک کے پیچھے ایک۔ حضرت ابن عباس نے اس لفظ کی تشریح میں فرمایا : یعنی ہر فرشتہ کے پیچھے دوسرا فرشتہ۔ رواہ ابن جبیر و ابن المنذر۔ قتادہ نے ترجمہ کیا ہے : پے در پے۔ رواہ ابن جریر و عبدن بن حمید۔ قتادہ نے یہ بھی فرمایا کہ شروع میں اللہ نے ایک ہزار ملائکہ سے مسلمانوں کی مدد کی ‘ پھر تین ہزار سے ‘ پھر پورے پانچ ہزار کر دئیے۔ طبرانی نے حضرت رفاعہ بن رافع کی روایت سے اور ابن جریر و ابن المنذر و ابن مردویہ کے حوالہ سے بیان کیا کہ اللہ نے اپنے نبی کی اور مسلمانوں کی مدد ایک ہزار ملائکہ سے کی ‘ ایک پہلو پر جبرئیل کے ساتھ پانچ سو تھے اور دوسرے پہلو پر میکائیل کے ساتھ پانچ سو۔ الحدیث ابن ابی حاتم نے شعبی کی روایت سے لکھا ہے : رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ کرز محاربی مشرکوں کو مدد دینی چاہتا ہے۔ آپ کو اس خبر سے تکلیف ہوگئی ‘ اس پر اللہ نے نازل فرمایا : اَلَّنْ یَّکْفِیْکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بثلٰثَۃِ اٰلاَفٍ مِّنْ الْمَلاَءِکَۃِ مُنْزِلِیْنَ بَلٰی اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاتُوْکُمْ مِنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا یُمْدِدُکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَۃِ اٰلَافٍ مِّنَ الْمَلاَءِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ ۔ کرز کو قریش کی شکست کی خبر پہنچی تو وہ لوٹ گیا ‘ قریش تک نہ پہنچ سکا ‘ اسلئے اللہ نے بھی مدد کیلئے پانچ ہزار فرشتے نہیں بھیجے ‘ صرف ایک ہزار ملائکہ سے مدد کی۔ ابو یعلی اور حاکم کا بیان ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : میں بدر کے کنویں کے پاس تھا کہ ایسی تیز ہوا آئی جس کی طرح میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ‘ پھر ویسی ہی ایک تیز ہوا اور آئی ‘ پھر اسی طرح کی ایک تیز ہوا اور آئی۔ پہلی ہوا جبرئیل کے آنے کی تھی جو ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ اتر کر رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے تھے۔ دوسری ہوا میکائیل کے آنے کی تھی جو ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دائیں جانب اترے تھے۔ حضرت ابوبکر ‘ رسول اللہ ﷺ کے دائیں طرف تھے اور تیسری ہوا اسرافیل کے آنے کی تھی جو ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب نازل ہوئے تھے ‘ میں بائیں جانب تھا۔ الحدیث۔ امام احمد ‘ بزار اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : بد ر کے دن مجھ سے اور حضرت ابوبکر سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ ہم میں سے ایک سے فرمایا : تمہارے ساتھ جبرئیل ہیں اور دوسرے سے فرمایا : تمہارے ساتھ میکائیل ہیں اور اسرافیل ایک عظمت والا فرشتہ ہے جو میدان جنگ میں موجود رہتا ہے مگر صف میں شامل ہو کر لڑتا نہیں ہے۔ ابویعلی کی روایت ہے کہ حضرت جابر نے فرمایا : ہم غزوۂ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نماز میں ہی رسول اللہ ﷺ مسکرا دئیے تھے (نماز کے بعد) ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے دیکھا کہ حضور مسکرا دئیے تھے (کیا وجہ تھی) فرمایا : جبرئیل میری طرف سے گزرے تھے ‘ قوم کے تعاقب سے واپس آ رہے تھے ‘ ان کے پروں پر غبار کا کچھ اثر موجود تھا۔ میری طرف دیکھ کر ہنسے تھے ‘ میں ان کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔ حضرت ابن سعد اور ابو الشیخ نے حضرت عطیہ بن قیس کی روایت سے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بدر کی لڑائی سے فارغ ہوگئے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سرخ گھوڑی پر سوار ‘ زرہ پہنے ‘ نیزہ لئے آئے اور کہا : محمد ﷺ ! اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ جب تک آپ کی خوشی نہ ہو ‘ میں آپ کے ساتھ سے الگ نہ ہوں۔ کیا اب آپ کو خوشی ہوگئی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں ‘ میں خوش ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل واپس چلے گئے۔ فائدہ : بعض فرشتے آدمی کی شکل میں بعض لوگوں کے سامنے نمودار ہوئے تھے۔ ابراہیم حرثی کا بیان ہے کہ ابو سفیان بن حارث نے کہا : ہم نے بدر میں کچھ گورے رنگ کے آدمی ‘ ابلق گھوڑوں پر سوار ‘ آسمان و زمین کے درمیان دیکھے تھے۔ بیہقی اور ابن عساکر راوی ہیں کہ حضرت سہل بن عمرو نے فرمایا : بدر کے دن میں نے کچھ گورے رنگ کے مرد ‘ ابلق گھوڑوں پر سوار ‘ آسمان و زمین کے درمیان دیکھے جو قتل بھی کر رہے تھے اور قید بھی کررہے تھے۔ محمد بن عمرو اسلمی اور ابن عساکر کا بیان ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا : میں نے بدر کے دن دو آدمی دیکھے ‘ ایک رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور دوسرا بائیں جانب تھا ‘ دونوں سخت ترین قتال کر رہے تھے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تیسرا آگیا ‘ پھر آپ کے آگے چوتھا آگیا۔ محمد بن عمرو اسلمی کا بیان ہے کہ ابراہیم غفاری نے کہا : میں اور میرے چچا کا بیٹا بدر کے پانی پر تھے۔ محمد ﷺ کے ساتھیوں کی قلت اور قریش کی کثرت دیکھ کر ہم نے کہا : دونوں گروہوں کا مقابلہ ہوگا تو ہم محمد ﷺ کے لشکر اور اس کے ساتھیوں کا قصد کریں گے (یعنی براہ راست ہم رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو نشانہ بنائیں گے) ۔ محمد ﷺ کے ساتھیوں کے میسرہ (بائیں بازو) کو جا کر دیکھا تو اندازہ کیا کہ یہ قریش سے ایک چوتھائی ہوں گے۔ ہم میسرہ میں گھوم ہی رہے تھے کہ ایک بادل آیا اور ہم سب پر چھا گیا ‘ ہم نے بادل کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو اس میں سے کچھ آدمیوں کی اور ہتھیاروں کی آو از سنائی دی۔ ایک آدمی اپنے گھوڑے سے کہہ رہا تھا : حیزوم ! آگے بڑھ۔ (1) [ اس قصہ میں اقدم حیزوم کا لفظ آیا ہے حضرت مولف نے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اقدم اقدم اقدم تینوں طرح پڑھنا درست ہے۔ نووی نے اقدم کو ترجیح دی ہے مراد ہے جنگ میں آگے بڑھنا یا اقدام کرنا حیزوم، حزم سے مشتق ہے حیزوم سینہ کو بھی کہتے ہیں ممکن ہے کہ اس گھوڑے کا نام حیزوم اس لئے ہو کہ وہ ملائکہ کے سب گھوڑوں سے آگے تھا ] یہ (غیبی) آدمی آکر رسول اللہ ﷺ کے میمنہ پر اترے ‘ پھر ایک جماعت اور اسی طرح کی (اوپر سے) آئی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوگئی ‘ اب وہ (صحابہ کی فوج) قریش سے دگنی ہوگئی۔ میرے چچا کا بیٹا تو مرگیا ‘ میں رکا رہا (یعنی جنگ میں بچ گیا) اور مسلمان ہوگیا اور رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی۔ ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے ایک غفاری شخص کا اور بیہقی نے سائب بن ابی جیش کا قول نقل کیا ہے ‘ غفاری اور سائب کہتے تھے کہ خدا کی قسم ! مجھے کسی آدمی نے قید نہیں کیا۔ واقعہ یہ ہوا کہ جب قریش کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے تو میں ان کے ساتھ بھاگا۔ مجھے ایک دراز قامت گورے رنگ کے آدمی نے پکڑ لیا ‘ یہ شخص گھوڑے پر سوار تھا اور آسمان و زمین کے درمیان معلق تھا ‘ پھر مجھے باندھ دیا۔ اتنے میں عبدالرحمن بن عوف آگئے اور مجھے بندھا ہوا دیکھ کر پوچھا : اس کو کس نے باندھا ہے ؟ لیکن کسی نے مجھے گرفتار کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ آخر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مجھے پیش کیا گیا اور حضور ﷺ نے فرمایا : تجھے کس نے گرفتار کیا ہے ؟ میں نے اصل بات بتانی نہیں چاہی اور جواب میں کہہ دیا : مجھے معلوم نہیں۔ فرمایا : تجھے ایک فرشتہ نے گرفتار کیا ہے۔ امام احمد ‘ ابن سعد اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ ابوالیسر نے حضرت عباس کو گرفتار کیا تھا۔ ابو الیسر گٹھیلے بدن کے ناٹے قد کے آدمی تھے اور حضرت عباس قدآور تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو الیسر سے دریافت فرمایا : تم نے عباس کو کیسے گرفتار کرلیا ؟ ابو الیسر نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! گرفتار کرنے میں ایک اور شخص نے میری مدد کی جس کی ہیئت اس اس طرح کی تھی۔ میں نے اس شخص کو نہ پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری مدد ایک بزرگ فرشتہ نے کی تھی۔ ابن اسحاق اور اسحاق بن راہویہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو اسید ساعدی نے نابینا ہوجانے کے بعد فرمایا تھا : اگر اب میں تمہارے ساتھ بدر میں ہوتا اور میری آنکھیں بھی ہوتیں تو میں تم کو وہ گھاٹی بتاتا جس سے ملائکہ نکل کر آئے تھے اور مجھے (ان کے آنے میں) نہ کوئی شک تھا ‘ نہ شبہ۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ بدر کے ملائکہ کی خصوصی نشانی سفید عمامے تھے جن کو انہوں نے پشت پر چھوڑ رکھا تھا (یعنی عمامہ کا کچھ حصہ بطور دم دونوں شانوں کے بیچ میں لٹکا رکھا تھا) اور خیبر کے دن (فرشتوں کی خصوصی نشانی) سرخ عمامے تھے۔ ابن اسحاق نے بھی حضرت ابن عباس کا قول اسی طرح نقل کیا ہے ‘ اس روایت میں اتنا زائد ہے : ہاں حضرت جبرئیل کا عمامہ زرد تھا۔ طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عروہ کا قول نقل کیا ہے کہ بدر کے دن حضرت جبرئیل ‘ حضرت زبیر کی شکل میں زرد عمامہ باندھے اترے تھے۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ طبرانی اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کا مرفوع قول نقل کیا ہے کہ مسومینکا معنی ہے نشان زدہ۔ بدر کے دن فرشتوں کی خصوصی نشانی سیاہ عمامے تھے اور احد کے دن سرخ عمامے۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ ملائکہ کی خصوصی نشانی سبز اور زرد اور سرخ نورانی عمامے تھے جن کی وٹیں انہوں نے شانوں کے درمیان چھوڑ رکھی تھیں اور گھوڑوں کی پیشانیوں پر بطور کلغی اون بندھا ہوا تھا اور ملائکہ ابلق گھوڑوں پر سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ملائکہ نے خصوصی نشانی مقرر کرلی ہے ‘ تم بھی (یہی) نشانی اختیار کرو۔ چناچہ لوگوں نے اون (کو بطور کلغی) اپنے سروں کے بیچ میں اور ٹوپیوں پر باندھ لیا۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

وما جعلہ اللہ الا بشری اور اللہ نے ملائکہ کی امداد صرف تمہاری بشارت کیلئے عطا فرمائی تھی۔ جَعَلَہٗ میں ہُ ضمیر امداد کی طرف راجع ہے اور امداد کا ذکر ضمناً لفظ مُمِدُّکُمْمیں آگیا ہے۔ بُشْرٰی یعنی خوش ہونے کا سبب۔ ولتطمئن قلوبکم اور اسلئے کہ تمہارے دلوں کو اطمینان ہوجائے اور وہ خوف دور ہوجائے جو اپنی قلت اور دشمن کی کثرت دیکھ کر حسب معمول پیدا ہوا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ نے فتح کا وعدہ فرما لیا تھا ‘ پھر بھی آپ کو اضطراب پیدا ہوا اور آپ نے اللہ سے وعدہ کا واسطہ دے کر دعا کی۔ بات یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی حالت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح تھی ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا : رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِی الْمُوْتٰی۔ اللہ نے فرمایا : اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا : بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَءِنَّ قَلْبِیْ ۔ دونوں پیغمبروں کی حالت نزول اَتَم کے مرتبہ کی تھی۔ (1) [ پیغمبروں کی دو حالتیں ہوتی ہیں : صعودی اور نزولی ‘ یعنی قرب الٰہی اور قرب مخلوق۔ اوّل حالت کا تعلق نبوت سے ہے اور دوسری حالت رسالت سے متعلق ہے۔ جس کی صعودی حالت اکمل ہوتی ہے ‘ اس کی نزولی حالت بھی بدرجۂ اتم ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نزول اتم کا مرتبہ حاصل تھا ‘ اسی لئے باوجود کمال ایمانی کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے احیاء موتی کو آنکھوں سے دیکھنے کی درخواست کی تاکہ شہودی طور پر اطمینان قلب پیدا ہوجائے اور رسول اللہ ﷺ نے شہودی اطمینان کیلئے امداد ظاہری کیلئے دعاء کی۔] نزول اتم کی تشریح سورة البقرۃ کی آیت رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِی الْمُوْتٰیکی تفسیر کے ذیل میں ہم کرچکے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نزول اتم کے مرتبہ پر فائز نہ تھے ‘ اسی لئے انہوں نے کہا تھا کہ اللہ کو وعدہ یاد دلایا جائے ‘ اس سے اللہ بہت بالا و برتر ہے (اس کو اس کی ضرورت نہیں) اور حضرت ابوبکر رسول اللہ ﷺ کے اس مرتبہ سے واقف تھے اور آپ کو رسول اللہ ﷺ کا قرب حاصل تھا ‘ اسلئے حضرت ابن رواحہ کی طرح تو الفاظ زبان سے نہیں نکالے ‘ ہاں یہ فرمایا کہ اب اللہ کو واسطہ دے کر دعا کرنے کی حد ہوگئی (اس سے زیادہ ضرورت نہیں) اور رسول اللہ ﷺ کے بےقرار ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اشاعت اسلام اور استیصال کفر کی انتہائی رغبت رکھتے تھے اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ اللہ سارے جہان کی عبادت سے بےنیاز ہے (اس کو ضرورت نہیں کہ کوئی اس کی عبادت کرے اور دنیا میں اسلام پھیلے اور کفر مٹے) وا اللہ اعلم۔ وما النصر الا من عند اللہ ان اللہ عزیز حکیم اور فتح تو حاصل نہیں ہوتی مگر اللہ کی جانب سے۔ بیشک اللہ غالب ہے اور اس کے کام مبنی برحکمت ہیں۔ ملائکہ کی امداد تعداد کی کثرت اور سامان جنگ کی زیادتی ‘ یہ تو درمیانی ذرائع ہیں ‘ واقع میں ان کی کوئی تاثیر نہیں۔ ضابطۂ خداوندی یونہی ہے۔ فائدہ : دعا سے فارغ ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوگئے اور خوب لڑے۔ حضرت ابوبکر بھی شریک جنگ ہو کر لڑے۔ اوّل دونوں حضرات جھونپڑی کے اندر انتہائی کوشش کے ساتھ دعا اور زاری میں منہمک رہے ‘ پھر باہر نکل کر لوگوں کو جہاد کی ترغیب دی اور برانگیختہ کیا اور خود بھی اجتماعی حالت میں مختلف مقامات پر لڑے۔ محمد بن یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں یہی صراحت کی ہے۔ حضرت ابن سعد اور فریابی کا بیان ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا : بدر کا دن ہوا اور جنگ سامنے آئی تو رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے ہوگئے اور ہم نے حضور ﷺ کی آڑ میں اپنا بچاؤ کیا۔ اس روز آپ سب سے زیادہ جنگ جو تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی مشرکوں سے اتنا قریب نہ تھا جتنا حضور ﷺ قریب تھے۔ امام احمد کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا : بدر کے دن کا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی پناہ لے رہے تھے۔ نسائی کے یہ الفاظ ہیں : جب لڑائی گرم ہوگئی اور قوم سے مقابلہ ہوا تو ہم رسول اللہ ﷺ کی آڑ پکڑ کر اپنا بچاؤ کرنے لگے۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے

اذ یغشیکم النعاس جب کہ اللہ تم پر اونگھ چھا رہا تھا۔ ابن کثیر اور ابو عمرو کی قرأت میں اِذْ یَغْشٰکُمْ آیا ہے ‘ جیسے سورة آل عمران میں آیا ہے : اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی۔ نافع کی قرأت میں یُغْشِیْکُمْ آیا ہے ‘ جیسے آیت کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْمیں آیا ہے (یعنی باب افعال سے) باقی قاریوں کے نزدیک اِذْ یَغْشِّیْکُمْ (باب تفعیل سے) آیا ہے ‘ جیسے آیت فَغَشَّاھَا مَا غشّا میں آیا ہے۔ اَمَنَۃً مِّنَہُ اپنی طرف سے چین دینے کیلئے۔ امنۃً لفظ کے اعتبار سے مفعول مطلق ہے اور معنی کے لحاظ سے مفعول لہٗ (یعنی علت فعل) کیونکہ اونگھ آجانے کی غرض چین حاصل ہوجانا ہے اور یُغَشِّیْکُمْ النُّعَاسَکے اندر اونگھ آجانے کا مفہوم داخل ہے (اونگھ چھا جائے گی تو آدمی ضرور اونگھ جائے گا) امنۃ یا لازم ہے یعنی چین پانا اور متعدی بھی ہوسکتا ہے یعنی چین دینا ‘ یعنی تمہارے چین پانے کیلئے اللہ کی طرف سے تھی یا اونگھ جو تم پر چھا رہی تھی ‘ وہ تم کو چین عطا کرنے کیلئے اللہ کی طرف سے نازل شدہ تھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : جنگ میں اونگھ آجانا ‘ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ چین ہوتا ہے اور نماز میں اونگھ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ عبد بن حمید نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ اونگھ اللہ کی طرف سے نازل شدہ چین تھا اور اونگھ (کا نزول) دو بار ہوا ‘ ایک بار بدر کی جنگ میں اور ایک بار احد کی جنگ میں۔ وینزل علیکم من السماء ما لیطھرکم بہ ویذھب عنکم رجز الشیطن اور (اس کے قبل) تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ پانی کے ذریعہ تم کو (حدث اور جنابت سے) پاک کر دے اور شیطانی وسوسہ کو تم سے دفع کر دے۔ رجز الشیطٰن یعنی شیطان کا یہ وسوسہ دور کر دے کہ باوجودیکہ تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں ‘ ہمارے اندر اللہ کا رسول ہے لیکن پانی پر دشمن کا قبضہ ہونے کی وجہ سے تم ناپاکی کی حالت میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ رہے ہو ‘ پھر کس طرح تم اللہ کے دوست ہو اور تمہارے اندر اللہ کا رسول کیسا ہے کہ اس کی مدد اللہ نہیں کرتا۔ ولیربط علی قلوبکم اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے۔ یعنی اللہ کی مہربانی پر اعتماد رکھنے اور دلوں کے اندر سکون نازل ہونے کی وجہ سے تمہارے دل مضبوط ہوجائیں۔ رابط الجاش قوی دل والا۔ ربط کا لغوی معنی ہے : باندھنا اور قوت و استحکام تقاضا بندش ہے (یعنی ربط کا معنی قوت مجازی ہے۔ ربط سبب قوت ہے ‘ سبب کا اطلاق مسبب پر مجازاً ہوتا ہے) ۔ ویثبت بہ الاقدام۔ اور بارش کی وجہ سے قدموں کو جما دے۔ بارش سے ریت جم گئی ‘ سخت ہوگئی ‘ اس کے اندر دھنسنے سے قدم محفوظ ہوگئے۔ یا قدموں کو جمانے سے مراد ہے دل میں قوت پیدا کرنا اور برداشت شدت پر ثابت قدم رکھنا۔