Ayah 3:199199: وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ وَمَآ اُنْزِلَ اِلیْھِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓپکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
: نمبر 1۔ یہ آیات حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے رفقاء ؓ کے متعلق نازل ہوئیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اہل کتاب میں سے اسلام قبول کیا۔
نمبر 2۔ اہل نجران میں چالیس آدمی جو اسلام لائے۔
نمبر 3۔ اور اہل حبشہ میں سے 32 بتیس آدمی اور آٹھ روم سے آئے وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دین پر تھے وہ اسلام لے آئے۔ وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ (بیشک اہل کتاب میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں)
نحوی تحقیق :
نمبر : 1: اِنْ کے اسم پر لام ابتداء داخل ہے کیونکہ ظرف کی وجہ سے فاصلہ ہوگیا۔ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ اور جو اتارا گیا تمہاری طرف یعنی قرآن مجید۔ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ (اور وہ جو اتار گیا انکی طرف) یعنی تورات و انجیل۔ خٰشِعِیْنَ لِلّٰہِ ( اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں)
نمبر : 2: یہ یؤمن کے فاعل سے حال ہے کیونکہ من یؤمن لفظاً اگرچہ مفرد ہے مگر معناً جمع ہے۔ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیْلًا (وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے تھوڑی قیمت لینے والے نہیں ہیں) جیسا کہ غیر مسلم احبار اور ان کے دیگر بڑے کرتے تھے۔
نمبر : 3 : یہ حال کے بعد حال ہے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ خریدنے والے نہیں ہیں۔ اُولٰٓپکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ (ایسے لوگوں کیلئے ان کا اجر ان کے رب کے ہاں ہے) مراد اس سے وہ مخصوص اجر ہے۔ جو ان کو ملے گا۔ اور وہی اجر ہے جس کا وعدہ اس ارشاد ربانی میں فرمایا گیا ہے اولٰئک یؤتون اجرہم مرتین کہ ان لوگوں کو اجر دو مرتبہ ملے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں) کیونکہ اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔
Ayah 3:200صبر وتقویٰ کامیابی کا راز ہے :
200: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (اے ایمان والو ! تم صبر کرو) دین کے سلسلہ میں اور اس کی خاطر آنے والی تکالیف پر حضرت جنید (رح) نے فرمایا۔ صبر۔ نفس کو ناپسند چیز پر روکنا اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کرنا۔ وَصَابِرُوْا ( اور دشمن کے مقابلہ میں جہاد کے شدائد پر صبر کرو) یعنی لڑائی کی تکالیف برداشت کرنے میں ان پر غالب آجائو۔ اور صبر و ثبات میں ان سے پیچھے نہ رہو۔ وَرَابِطُوْا (اور مقابلہ کیلئے تیار رہو) یعنی سرحدات پر پہرے کے ساتھ قائم رہو۔ اور گھوڑے باندھو۔ غزوہ کیلئے ہر وقت تیار اور دشمن کی گھات میں رہو۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجائو) الفلاح ناپسند چیز سے چھٹکارا پالینے کے بعد پسندیدہ چیز کے ساتھ باقی رہنا۔ لعل کا استعمال اس لئے کیا کیونکہ نتائج تو معلوم نہیں۔ کہیں اعمال کرنے سے پہلے فقط امیدوں پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم میری محبت میں صبر کرو اور میری نعمتوں میں دوسروں سے بڑھ کر صبر کرو۔ اور میری اطاعت میں اپنے آپ کو باندھ کر رکھو۔ تاکہ تمہیں میری قربت میسر ہو۔
فضلیت ِسورت :
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم الزھراوین کو پڑھا کرو۔ یعنی البقرہ اور آل عمران۔ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے سائبان ہوتے ہیں یا بادل ہوتے ہیں۔ یا پرندوں کے جھنڈ ہوتے ہیں۔ اور پڑھنے والے کی سفارش کریں گی۔ (رواہ مسلم) واللّٰہ اعلم بالصواب والیہ المرجع و المٰاب بحمداللّٰہ۔