Ayah 3:119توبیخ مؤمنین :
119: ھٰٓاَنْتُمْ اُولَآ ئِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْکِتٰبِ کُلِّہٖ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا ٰامَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ 7 بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (دیکھو تم تو وہ ہو کہ)
منافقین سے موالات کی غلطی :
نحو : ھا حرف تنبیہ ہے۔ انتم مبتداء اور اولاء خبر یعنی تم منافقین اہل کتاب کی موالات میں غلطی کھانے والے ہو۔
تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ (تم ان سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے) اس میں منافقین کے ساتھ موالات کی غلطی ظاہر کی گئی کہ تم اپنی محبت اہل بغض کیلئے صرف کرتے ہو یا اولاء موصول ہے اور اس کا صلہ تُحِبُّوْنَہُمْ ہے اوروتُؤْمِنُوْنَ بِالْکِتٰبِ کُلِّہٖ (اور تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو) کُلِّہٖ جملہ حالیہ ہے۔ اور اس پر عامل : لَا یُحِبُّوْنَکُمْ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے لَا یُحِبُّوْنَکُمْ والحال انکم تؤمنون بکتابہم کلہٖ وھم مع ذلک یبغضو نکم فما بالکم تحبونہم وھم لا یؤمنون بشیء من کتابکم۔ یعنی وہ تم سے محبت نہیں رکھتے اور حال یہ ہے کہ تم انکی ساری کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ وہ اسکے باوجود تم سے بغض رکھتے ہیں۔ پھر تمہیں کیا ہوا کہ تم ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ تمہاری کتاب میں سے کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے اس میں سخت تو بیخ ہے کہ جتنے تم لوگ حق پر مضبوط ہو اس سے زیادہ وہ باطل پر سخت ہیں۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ الکتاب کا الف لام جنسی ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا تم ہی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ پہلی صورت میں الف لام عہدی ہے۔ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا ٰامَنَّا (جب وہ تم سے ملتے ہیں تو زبان سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے) یعنی کلمہ توحید کا اظہار کرتے ہیں۔ وَاِذَا خَلَوْا (جب وہ تم سے جدا ہوتے ہیں) یا ایک دوسرے کے ساتھ خلوت میں جاتے ہیں۔ عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ (وہ غصہ سے تم پر انگلیاں کاٹتے ہیں) غصہ اور ندامت والے آدمی کیلئے عض انا مل، بنان، ابہام سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی تمہاری سلطنت دیکھ کر شدت غضب سے انگلیاں چباتے ہیں۔
کلمہ بد دعا :
قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ (کہہ دو ! اے کافرو تم اپنے غصہ میں مر جائو) یہ ان کے خلاف بددعا ہے کہ اللہ کرے انکا غصہ اتنا بڑھے کہ وہ ہلاک ہوجائیں۔ مراد زیادتیٔ غیظ سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو مزید قوت دے جس سے انکا غصہ بڑھے۔ اور اس میں ان کی کتنی ہی ذلت و رسوائی ہے۔
اللہ جل شانہ منافقین کے تمام افعال و اقوال سے واقف ہے :
اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (بےشک اللہ تعالیٰ سینوں کی باتوں کو جانتے ہیں) وہ جانتے ہیں جو منافقین اپنے دلوں میں بغض و عداوت چھپائے ہوئے ہیں اور جو افعال وہ ایک دوسرے کو ملتے وقت کرتے ہیں وہ ان کے منجملہ اقوال میں داخل ہے۔ یعنی اللہ نے فرمایا ان کو اس غصے کی اطلاع دو جسکی بناء پر وہ علیحدگی میں افسوس سے اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں۔ اور انہیں کہیں کہ اللہ تعالیٰ تو اس سے بھی مطلع ہیں جو چھپائی جانے والی چیزوں میں بہت ہی مخفی ہے اور وہ دل کے اسرار و رموز ہیں۔ پس مت گمان کرو کہ تمہاری کوئی مخفی چیز اس پر پوشیدہ رہ سکتی یا کہنے سے خارج ہے۔ یعنی اے محمد ﷺ ان سے کہہ دیں اور میری اس اطلاع پر جو ان کے رازداروں کے سلسلہ میں دی ہے۔ تعجب نہ کریں کیونکہ میں تو اس سے بھی مخفی ترین کو جانتا ہوں اور وہ ان کے دلوں کے راز ہیں۔
Ayah 3:120120: اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْ ھُمْ وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ یَّفْرَحُوْا بِھَا۔ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْ ا لَا یَضُرُّ کُمْ کَیْدُ ھُمْ شَیْئًاط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۔ (اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے) حسنہ سے مراد خوشحالی، سرسبزی اور غنیمت ونصرت تَسُؤْھُمْ (وہ ان کو بری لگتی ہے) یعنی اس کا ملنا ان کو غم زدہ کردیتا ہے وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّئَۃٌ (اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے) یعنی بدحالی، تنگ دستی، دشمن کا غلبہ، آیت میں المس کے الفاظ کو الاصابہ کی جگہ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ گویا کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے کیا تم اس ارشاد الٰہی کی طرف نظر نہیں کرتے ان تصبک حسنۃ تسؤھم و ان تصبک مصیبۃ۔ ( التوبہ۔ 50) یَّفْرَحُوْا بِھَا۔ (وہ اس پر خوش ہوتے ہیں) وہ اسکے پہنچنے پر خوشیاں مناتے ہیں۔
دشمن کی مکاریوں پر صبر وتقویٰ کا دامن تھام لو :
وَ اِنْ تَصْبِرُوْا (اور اگر تم صبر کرو) اگر تم انکی عداوت پر صبر کرو وَتَتَّقُوْ ا (اور تقویٰ کے ساتھ رہو) اور انکی موالات سے بچتے رہو۔
دوسری تفسیر : یا تم حکم الٰہی کی تعمیل میں حاصل ہونے والی مشقتوں پر صبر کرو اور اللہ تعالیٰ کے ممنوع کردہ اعمال سے پرہیز کرو۔ لَا یَضُرُّ کُمْ کَیْدُ ھُمْ شَیْئًا (انکی مکاری تمہارا کچھ نقصان نہ کرسکے گی) اس حال میں کہ تم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہو۔
فائدہ : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمان کو تعلیم و ارشاد ہے کہ دشمن کی مکار یوں پر صبر وتقویٰ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے۔
قول حکماء : ہے کہ اگر تم اپنے حاسدین کو رلانا چاہتے ہو تو اپنے آپ میں فضیلت کا اضافہ کرلو۔
قراءت : مکی، بصری، نافع نے لَا یَضِرْکُمْ پڑھا ہے یہ اس صورت میں ضار یضیر بمعنی ضرہ ہوگا۔ یہ واضح ہے ان کے علاوہ قراء کی قراءت میں اشکال ہے۔ کیونکہ وہ جو اب شرط بنتا ہے۔ جواب شرط مجزوم ہونا چاہیے۔ پس مناسب تو تھا کہ راء پر فتحہ پڑھا جاتا جیسا کہ مفضل نے عاصم سے نقل کیا ہے۔ البتہ راء پر ضمہ ضاد کے ضمہ کی اتباع میں دیا گیا۔ جیسا کہ مُدُّ ُُ یا یاھذا۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ (یقینا اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا) ۔
قراءت : یعملون یہ تاء کے ساتھ سہل نے پڑھا ہے یعنی یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال جو صبروتقویٰ کی قسم سے ہیں۔ مُحِیْطٌ (احاطہ کرنے والے ہیں) پس تمہارے ساتھ وہ سلوک فرمائیں گے۔ جس کے تم اہل ہو۔ باقی قراء نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں تمہاری دشمنی کے سلسلہ میں پس وہ ان کو اس پر سزا دے گا۔
Ayah 3:121121: وَاِذْغَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَلِلْقِتَالِ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے چلے) اے محمد ﷺ تم یاد کرو اس وقت کو جب تم مدینہ میں اپنے اہل سے صبح کے وقت نکلے۔ یہاں مراد آپ کا حجرئہ عائشہ ؓ سے احد کی طرف روا نہ ہونا ہے۔ تُبَوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ (تم مؤمنوں کو ٹھہرا رہے تھے) یہ حال ہے۔ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ لڑائی کے مواقع پر، مواطن یعنی میمنہ، میسرہ، قلب، جنا حین، ساقہ پر ایمان والوں کو ٹھیک بیٹھا رہے تھے۔ لِلْقِتَالِ یہ تُبَوِّیئُ سے متعلق ہے۔ ای تُبَوِّیُٔ لِلْقِتَالِ ۔ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ۔ (اللہ تعالیٰ تمہارے اقوال کو خوب سننے والا) اور عَلِیْمٌ تمہاری نیات اور دل کے اسرار کو جاننے والا ہے۔
غزوئہ احد کو روانگی ‘ بدھ کے روز :
روایت میں وارد ہے کہ مشرکین احد میں بدھ کو آ ٹھہرے رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے مشورہ کیا اور مشورہ کیلئے عبداللہ بن ابی کو بھی بلایا۔ اس سے مشورہ طلب کیا تو اس نے کہا آپ مدینہ میں قیام فرمائیں۔ ہم جب بھی دشمن کی طرف نکل کر گئے ہیں۔ تو ہمیں نقصان اٹھانا پڑا اور جب دشمن ہم پر داخل ہوا تو اس نے شکست کھائی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے خواب میں اپنے گرد مذبوحہ گائے دیکھی ہے۔ پس میں نے اس کی تاویل بھلائی سے کی ہے۔ اور میں نے اپنی تلوار کی دھار میں دندانے دیکھے۔ اس کی تعبیر میں نے شکست سے کی ہے۔ اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ زرہ میں داخل کردیا۔ اس زرہ کی تعبیر میں نے مدینہ سے کی ہے۔ لیکن کچھ لوگ آپ کے سامنے شہادت کا شوق ظاہر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اپنا خود پہن لیا۔ پھر وہ شرمسار ہو کر کہنے لگے۔ آپ کو اختیار ہے یا رسول ﷺ تو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کسی پیغمبر کیلئے مناسب نہیں کہ اپنی خود زیب تن کرلے پھر لڑائی سے قبل اس کو اتار دے۔ چناچہ آپ ﷺ نماز جمعہ کے بعد روانہ ہوئے۔ اور ہفتے کی صبح احد کی گھاٹی میں پہنچے جبکہ پندرہ شوال 3 ھ تھی۔
Ayah 3:122بنو حارثہ و بنو سلمہ کے ساتھ اللہ کی ولایت :
122: اِذْھَمَّتْ طَّآپفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ اِذْھَمَّتْ (جب ارادہ کیا) یہ اذغدوت سے بدل ہے۔ یا علیم کے معنی نے اس میں عمل کیا ہے۔ طَّآ پفَتٰنِ مِنْکُمْ (دو گروہوں نے تم میں سے) اس سے مراد انصار کے دو قبیلے بنو سلمہ جو خزرج کی شاخ تھی اور بنو حارثہ جو اوس کی شاخ تھی مراد ہیں۔ آپ ﷺ احد کی طرف ایک ہزار لڑنے والوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے تھے۔ جبکہ مشرکین مکہ کی نفری تین ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ اور آپ ﷺ نے ان سے جمے رہنے کی صورت میں فتح کا وعدہ فرمایا۔ راستہ میں عبداللہ بن ابی لشکر کا تیسرا حصہ اپنے ساتھ لیکر واپس لوٹ گیا اور یہ کہا ہم اپنی جانوں اور اولادوں کو کیوں کٹوائیں ؟ بنو حارثہ و بنو سلمہ نے بھی اسکے پیچھے جانے کا ارادہ کیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات سے محفوظ کرلیا۔ پس وہ آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔ اَنْ تفْشَلَا (یہ کہ ہمت ہار دیں) وہ جبن وضعف کی وجہ سے بزدلی اختیار کریں۔ الفشل نا مردی اور بزدلی کو کہتے ہیں۔ وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا (اور اللہ تعالیٰ انکا محب و ناصر تھا) یا ان کے معاملے کا مالک تھا۔ پھر وہ کیوں بزدلی کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر کیوں کر بھروسہ نہیں کرتے ؟ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے) ۔ یعنی انکا معاملہ یہ ہے کہ وہ اسی ہی پر بھروسہ کریں اور اپنے تمام معاملات کو اسی ہی کے سپرد کریں۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی قسم ! ہمیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ ہم نے ارادہ نہ کیا ہوتا جو ہم نے کیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ ہمارا ولی و کارساز ہے۔
Ayah 3:123123: وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ اس میں بدر کا واقعہ یاد دلایا جو موجب توکل تھا۔ اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی جب کہ وہ کمزور بھی تھے اور تعداد میں بھی کم تھے۔
بدر کی یاددھانی :
وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ (البتہ تحقیق تمہاری اللہ بدر میں مدد فرما چکا) بدر ؔ۔ یہ مکہ و مدینہ کے درمیان ایک کنواں ہے۔ جس کو بدر نامی آدمی نے کھدوایا تھا۔ یا احد کے بعد بدر کا ذکر کیا تاکہ صبر و شکر جمع ہوجائیں۔
قلت کی کیفیت :
وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ (اور تم تعداد میں کم تھے) مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ (313) سے تین سو انیس (319) کے درمیان تھی جبکہ دشمن ایک ہزار جنگجوئوں پر مشتمل تھا۔ اور سامان کی کمزوری کا حال یہ تھا کہ پانی بردار اونٹوں پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ جنکی تعداد کل ستر تھی اور ایک گھوڑا تھا۔ حالانکہ دشمنوں کے پاس سو گھوڑے۔ اسلحہ اور شان و شوکت تھی۔
نکتہ : اللہ تعالیٰ نے اَذِلَّــۃٌ بروزن اَفْعِلَۃٌ جمع قلت ذکر کیا تاکہ سواریوں اور ہتھیاروں کی کمی کے اظہار کے ساتھ مسلمانوں کی قلت تعداد کا بھی اظہار ہو۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ (تم اللہ سے ڈرو) تم اپنے رسول ﷺ کے ساتھ ثابت قدمی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (تاکہ تم شکر ادا کرو) اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو فتح عنایت فرمائی ہے۔ شکریہ کا طریق ثابت قدم رہ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اس میں بتلا دیا کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ کی نعمت کی طرف رغبت شکریہ کی غرض سے ہونی چاہیے۔
Ayah 3:124دوسرا بدل :
124: اِذْتَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ مُنْزَلِیْنَ ۔ (جب تم ایمان والوں کو کہہ رہے تھے )
نحو : یہ نَصَرَکُمْ کا ظرف ہے۔ اس طور پر کہ بدر کے دن ان کو فرمایا، مطلب یہ ہوا کہ اس نے تمہاری مدد کی جبکہ تم یہ کہہ رہے تھے۔ یا اذغدوت سے دوسرا بدل ہے۔ اس طور پر کہ احد کے دن ان کو فرمایا۔ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ بِثَلٰثَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ مُنْزَلِیْنَ (کیا کافی نہیں کہ تمہاری امداد کرے اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں کو اتار کر)
استفہامِ انکاری :
قراءت : شامی نے مُنَزَّلِیْنَ پڑھا۔ ابو حیو َہ نے مُنْزِلِیْنَپڑھا اور مراد منزلین النصرۃ بتلائی۔
مطلب آیت کا یہ ہے اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ استفہام انکاری ہے کیا تمہیں تین ہزار فرشتوں کی امداد کافی نہیں، یعنی کافی ہے۔
نکتہ : لَنْؔ نفی تاکید کا لا کر اشارہ کردیا کہ مسلمان اپنی کمزوری اور قلت تعداد اور دشمن کی کثرت وقوت کو دیکھ کر فتح سے گویا ناامید تھے۔ (ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی مدد آئی)
Ayah 3:125125: بَلٰٓی ِانْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ ۔
فوری و کافی مدد :
بَلٰٓی (کیوں نہیں) نفی تاکید بلَنْ کے بعد بَلٰیؔ کو ایجاب کے لیے لائے کہ اتنے فرشتوں سے امداد تمہارے لیے کافی ہے پس کفایت کو لازم کردیا۔ پھر فرمایا ِانْ تَصْبِرُوْا (اگر تم صبر کرو) اگر تم قتال پر صبر کرو۔ وَتَتَّقُوْا (اور تقویٰ اختیار کرو) اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت سے بچو۔ وَیَاْتُوْکُمْ (اور وہ لوگ تم پر آپہنچیں) اور تمہارے پر مشرکین مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا (اسی دم) آپڑیں۔ یہ فورؔ کا لفظ فار القدر سے لیا گیا جبکہ وہ جوش مارے تیزی کیلئے بطور استعارہ استعمال کیا گیا۔ پھر اس سے اس حالت کی تعبیر کی جاتی ہے جس میں دیر نہ ہو۔ اور کسی دوسری طرف توجہ نہ کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ خرج من فورہٖ وہ فوراً نکل گیا۔ جیسا کہ تم اس طرح کہتے ہو۔ خرج من ساعتہ ولم یلبث کہ وہ اسی گھڑی بلا روکے نکل گیا۔ کرخی (رح) کے قول میں یہی معنی ہے۔ الا مر المطلق علی الفور لا علی التراخی۔ کہ امر مطلق کی تعمیل اسی گھڑی لازم ہے تاخیر کرنا جائز نہیں۔ اب مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر وہ تمہاری اسی گھڑی میں آگئے۔ ہٰذا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَۃِ ٰالٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓپکَۃِ ( تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری یہ امداد فرمائے گا) یعنی ان کی آمد کی صورت میں فرشتوں کی آمد ان کے آنے سے متاخر نہ ہوگی حاصل یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جلد جلد مدد کرے گا۔ اور تمہیں فتح میسر فرمائے گا اگر تم صبر وتقویٰ پر قائم رہوگے۔
نشان دار گھوڑے :
مُسَوِّمِیْنَ (نشاندار )
قراءت : مُسَوِّمِیْنَ وائو کے کسرہ کے ساتھ مکی ‘ ابو عمرو، عاصم ‘ سہل نے معلمین انفسہم اپنے نفوس کو ظاہر کرنے والے یا اپنے گھوڑوں کو ایسی علامت سے ظاہر کرنے والے ہونگے جس سے وہ لڑائی میں پہچانے جائیں گے۔ السومۃ علامت کو کہا جاتا ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ وہ سفید اون کا نشان اپنے گھوڑوں کی پیشانیوں اور دموں پر لگانے والے ہونگے۔
دوسرے قراء نے وائو کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نشان زدہ ہونگے۔ کلبی کا قول یہ ہے وہ زرد رنگ کے عمامے پہنے ہونگے ان کے پلے اپنے کندھوں پر لٹکانے والے ہونگے۔ حضرت زبیر ؓ کا عمامہ بدر کے دن زرد رنگ کا تھا۔ فرشتے بھی زرد عماموں میں نازل ہوئے۔ قتادہ کا قول یہ ہے کہ تین ہزار پھر پانچ ہزار فرشتے اترے۔
Ayah 3:126فرشتوں کی مدد صرف بشارت فتح ہے :
126: وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَــکُمْ وَلِتَطْمَپنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ نے اس امداد کو بنایا) اور اللہ تعالیٰ نے اس امداد کو خوشخبری بنایا۔ ہٗ کی ضمیر اس امداد کی طرف راجع ہے۔ جو انیمدکم سے ثابت ہوئی۔ اِلَّا بُشْرٰ ی لَکُمْ (خوشخبری تمہارے لئے) یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو فرشتوں سے مدد صرف اس لئے دی تاکہ تمہیں فتح کی بشارت ہو۔ وَلِتَطْمَپنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ ( تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوں) جس طرح سکینہ بنی اسرائیل کے لئے بشارت نصرت تھی اور دلوں کے اطمینان کا باعث تھی۔ وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ (اور درحقیقت فتح اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے) نہ لڑنے والوں کی طرف سے اور نہ ملائکہ کی طرف سے۔ لیکن یہ وہ چیز ہے۔ جس سے مدد کی امید اور رحمت کی طمع مضبوط تر ہوتی ہے۔ الْعَزِیْزِ (زبردست) وہ ذات جس کے فیصلوں میں اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ الْحَکِیْمِ (حکمت والا) جو کہ اپنے اولیاء کو مدد دیتا ہے اور دشمن کے ساتھ جہاد سے انکی آزمائش کرتا ہے۔
Ayah 3:127قتل کفار کی بشارت :
127: لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ (تاکہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک کردے) قتل وقید کے ذریعے چناچہ بدر میں ستر کافر قتل ہوئے اور سترسردار قید ہوئے۔ لِیَقْطَعَ کی لام۔ نمبر 1۔ لَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ سے متعلق ہے یا نمبر 2۔ وَمَا النَّصْرُ اِلاَّ مِنْ عِنْدَ اللّٰہِ سے متعلق ہے یا نمبر 3۔ یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ سے متعلق ہے۔
اَوْیَکْبِتَہُمْ یا انکو رسوا کرے اور شکست سے غصہ دلا کر لوٹائے۔ الکبت۔ دراصل شدید بزدلی جو دل میں رچ جائے اور اسکی وجہ سے آدمی منہ کے بل گرجائے۔ فَیْنَقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ پس وہ اپنے شہروں کو اس حالت میں لوٹیں کہ اپنے مقصد میں ناکام ہوں۔
Ayah 3:128تمام اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے :
128: لَـیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ اَوْیُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (آپ کو اس امر کا کوئی اختیار نہیں)
نحو : لَیْسَ کا اسم شَیْئٌ ہے اور لَکَ اسکی خبر ہے اور مِنَ الْاَمْرِ یہ شَیْئٌ کا حال ہے کیونکہ وہ صفت ہے جس کو پہلے لا یا گیا ہے۔
اَوْیَتُوْبَ عَلَیْھِمْ (یا ان کی توبہ قبول کرے) : اس کا عطف لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْیَکْبِتَہُمْ پر ہے۔ اور لَیْسَ لَکَ جملہ معترضہ ہے۔ جو معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے اللہ تعالیٰ ان کے معاملے کا مالک ہے خواہ ان کو ہلاک کر دے یا شکست سے دو چار کرے یا انکی توبہ قبول کرلے کہ وہ اسلام لے آئیں۔ اَوْیُعَذِّبَھُمْ (یا ان کو عذاب دے) اگر وہ کفر پر مصر رہیں اور آپ کو ان کے معاملے کا کچھ اختیار نہیں۔ آپ تو مبعوث بندے ہیں تاکہ ان کو ڈرائیں اور ان سے جہاد کریں۔
نحو : فراء نحوی کے ہاں اوؔ۔ حَتّٰیکے معنی میں ہے۔ اور ابن عیسیٰ کے نزدیک الا ان کے معنی میں ہے۔ جیسا تم کہو : لالزمنک اوتعطینی حَقِّیْ ۔ اب مطلب آیت کا یہ ہوگا۔ آپ کو ان کے معاملے میں کچھ اختیار نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ انکی توبہ قبول کرلے پس آپ انکی حالت پر خوش ہوں۔ یا پھر ان کو سزا دے تاکہ ان سے پلڑا چھوٹ جائے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے متعلق بددعا کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتے تھے کہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایمان لائیں گے۔
فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ (پس بیشک وہ ظالم ہیں) یعنی مستحق سزا ہیں۔
Ayah 3:129اللہ تعالیٰ کی مغفرت ِعامہ :
129: وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآ ئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآ ئُ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے) یعنی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے نہ کہ آپ کے کیونکہ آسمان و زمین اس کی ملکیت ہے۔ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآ ئُ (وہ جس کو چاہیں بخش دیں) یعنی ایمان والوں کو۔ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (اور عذاب دیں جس کو چاہیں) یعنی کفار کو۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (اور اللہ تعالیٰ بخشن ھار رحمت کرنے والے ہیں)
Ayah 3:130سود کی مذمت :
130: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً وَّاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (اے ایمان والو ! نہ کھائو سود دونا دوگنا)
قراءت : مُّضَعَّفَۃً عین کی تشدید سے مکی و شامی نے پڑھا ہے۔ اس آیت میں ربا سے ممانعت کی گئی ہے اور دونا، دوگنا سود لینے کی جو رسم ان میں پائی جاتی تھی۔ اسکی مذمت کی ‘ انکا حال یہ تھا کہ جب قرض اپنے وقت کو پہنچ جاتا تو قرض خواہ کہتا یا تو میرا حق واپس کر یا پھر سود دے اور مدت میں اضافہ کروالے۔ وَاتَّقُوا اللّٰہَ (تم اسکے کھانے میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ (تاکہ تم کامیاب ہوجائو)
Ayah 3:131سب سے زیادہ خوف والی آیت :
131: وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ ۔ (اور تم بچو اس آگ سے جو کافروں کیلئے تیار کی گئی )
ارشاد امام ابوحنیفہ (رح) ! قرآن مجید میں سب سے زیادہ خوف دلانے والی آیت یہ ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو خلاف ورزیٔ احکام کی صورت میں اس آگ سے ڈرایا ہے جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ اور اس کے بعد اپنی رحمت کی امیدواری کو خدا اور رسول کی اطاعت سے وابستہ کیا اس طرح کہ واطیعوا اللّٰہ و الرسول لعلکم ترحمون (کہ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) ۔
Ayah 3:132اللہ کی رضا میں وقار و بلندی ہے :
132: وَاَطِیْعُـوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (تم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے)
فائدہ : اس آیت میں مرجئہ فرقہ کی اس بات کی تردید ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان دہ نہیں اور آگ سے بالکل اہل ایمان کو سزا نہ دی جائے گی۔
ہم اہلسنّت کے نزدیک کفار کے علاوہ گناہگار ایمان والوں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ لیکن بالآخر ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
مفسرین (رح) کا ارشاد :
لعل اور عسیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے مواقع پر تحقیق کیلئے آتا ہے یعنی بیم آمیزامید کیلئے ہے عارف کا مل سے یہ بات مخفی نہیں کہ تقویٰ کا راستہ کتنا باریک و دقیق ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالینا کتنا مشکل ہے۔ اور اس کی رحمت وثواب تک پہنچنے میں کتنا وقار اور بلندی ہے۔
Ayahs 3:133–134مسارعت مغفرت و جنت :
133۔ 134: وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآ ئِ وَالضَّرَّآ ئِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (اور تم تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف) مدنی اور شامی نے وائو کے بغیر سَارِعُوْٓا پڑھا ہے اور جملہ مستانفہ قرار دیا۔ دیگر قراء نے وائو کو قائم رکھ کر ماقبل پر عطف کیا ہے۔ المسارعۃ الی المغفرۃ والجنۃ کا مطلب ایسے اعمال کی طرف متوجہ ہونا جو ان دونوں تک لے جانے والے ہوں۔ پھر ان اعمال میں کئی اقوال ہیں۔ نمبر 1۔ پانچوں نمازیں نمبر 2۔ تکبیر اولیٰ ۔ نمبر 3۔ اطاعت۔ نمبر 4۔ اخلاص۔ نمبر 5۔ توبہ نمبر 6۔ جمعہ۔ نمبر 7۔ جماعات۔ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ (اس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے) جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ( الحدید۔ 21) اصل مقصود اس کی وسعت و پھیلائو کو بیان کرنا ہے۔ اس لئے لوگوں کے علم میں جو سب سے بڑی وسیع چیز ہے۔ اسکے ساتھ تشبیہ دی۔ اور عرض کو خصوصاً ذکر کیا کیونکہ وہ طول سے عادۃً چھوٹا ہوتا ہے تاکہ مبالغہ ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے۔ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے جائیں تو جنت کا عرض بنے گا۔
روایاتِ جنت کی عمدہ تطبیق :
اور یہ جو روایات میں وارد ہے کہ جنت ساتویں آسمان میں ہے۔ یا چوتھے آسمان میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اس جہت میں واقع ہے یہ مطلب نہیں کہ وہ چوتھے یا ساتویں آسمان میں ہے۔ جیسا کہ کہا جائے، فی الدار بستانٌ جبکہ وہ اس سے بڑا ہو کیونکہ اس کا مقصد باغ کے دروازہ کا مکان کی طرف ہونا مراد ہے۔
اُعِدَّتْ (تیار کی گئی) یہ جنت کی صفت ہونے کی بناء پر موضع جر میں واقع ہے۔ یعنی وسیع تیار شدہ جنت، لِلْمُتَّقِیْنَ (وہ متقین کیلئے) ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ جنت و دوزخ دونوں مخلوق ہیں۔ المتقی سے مراد۔ نمبر : 1 شرک سے بچنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۔ (الحدید : 21) اور جنت جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کی طرح ہے وہ ان لوگوں کیلئے بنائی گئی جو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولوں پر ایمان لائے۔
نمبر 2۔ دوسرا قول گناہوں سے بچنے والا متقی ہے۔ پس اگر دوسرا قول مراد ہو تو پھر بغیر عقوبت جنت میں جانا مراد ہوگا۔ اور اگر اول مراد لی جائے تو وہ بھی انجام کار ہوگی۔۔ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآ ئِ وَالضَّرَّآئِ (جو خرچ کرتے ہیں فراغت میں اور تنگی میں) ۔
قراءت و نحو :
اگر وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً پر عطف ڈال کر الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآ ئِ وَالضَّرَّآئِ کو مبتداء قرار دیا جائے اور اولٰٓئککو خبر بنایا جائے۔ تو یہاں وقف ہوگا۔ اور سرّاء، ضراء میں خرچ سے مراد تنگدستی و خوشحالی میں خرچ کرنا ہوگا۔۔
نمبر 2۔ اگر۔ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ کو متقین کی صفت قرار دیا جائے اور وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا کا عطف اس پر ڈالا جائے۔ پھر وقف نہ ہوگا اور مطلب آیت کا یہ بنے گا وہ جنت متقین اور تائبین کے لئے تیار کی گئی ہے۔
ایک سوال کا جواب :
سوال : آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت تو متقین اور تائبین کیلئے بنائی گئی ہے اصرار کرنے والوں کیلئے نہیں۔
جواب : یہ درست ہے کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہو پھر محض فضل و عفو الٰہی سے دوسرے بھی داخل ہوجائیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے اُعِدّتْ ھذہ المائدۃ للامیر کہ یہ دستر خوان امیر کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ پھر بعض اوقات اسکے پیروکار بھی اس کو کھالیتے ہیں۔ کیا اس ارشاد خداوندی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ واتقوا النار التی اعدت للکافرین۔ (آل عمران۔ 131) کہ تم اس آگ سے بچو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ پھر بالاتفاق ثابت ہے کہ کافروں کے علاوہ عصاۃ مومن بھی اس میں داخل ہونگے۔
نکتہ : یہاں اللہ تعالیٰ نے انفاق کا تذکرہ پہلے فرمایا۔ کیونکہ نفس پر یہ انتہائی گراں چیز ہے۔ اور اسکے اخلاص کی نشاندہی کرنے والا ہے۔ اور اس زمانہ میں دشمن سے جہاد کے سلسلہ میں عظیم ترین اعمال میں سے تھا۔ اور مسلمان فقراء کی ہمدردی کے پیش نظر بھی اس کی شدید حاجت تھی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے ہر قسم کے حالات میں انفاق مراد ہے۔ کیونکہ ایسا انفاق تنگدستی و خوشحالی ہر دو مواقع کو شامل ہوگا۔
غصہ پینے والے کا مرتبہ :
وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ (اور غصے کو پی جانے والے) یعنی پورا کرنے کی بجائے غصے کو روکنے والے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کظم القربۃ۔ جبکہ وہ مشک کو بھر لے اور اسکے منہ کو مضبوطی سے باندھ دے۔ اور اسی سے کظم الغیظ بنا ہے۔ غصے کو صبر کی وجہ سے تھام لے اور اس کا اثربالکل ظاہر نہ ہو۔ الغیظ دل کی حرارت کا غصہ سے بڑھکنا۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ جس نے اپنے غصے کو روک لیا ایسی حالت میں کہ وہ اس کو پورا کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اسکے دل کو امن و ایمان سے بھر دیتے ہیں۔ ( رواہ ابو دائو والترمذی وابن ماجہ)
معافی کی فضیلت :
وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ (اور وہ لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں) یعنی جب ان کے ساتھ کوئی زیادتی کرتا ہے تو وہ اس سے مؤاخذہ نہیں کرتے۔ روایت میں آیا ہے جس کو بیہقی نے نقل کیا کہ قیامت کے دن ایک منادی آواز دے گا۔ وہ لوگ کہاں ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ پس معاف کرنے والوں کے سواء اور کوئی نہ اٹھے گا۔ ( بیہقی فی الشعب) ابن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے رشید کیلئے روایت بیان کرنی شروع کی۔ اس کو دیکھا کہ وہ ایک آدمی پر غضبناک ہے۔ پس اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ کو احسان کرنے والے پسند ہیں)
نحو : الْمُحْسِنِیْنَ میں الف لام جنسی ہے۔ ان مذکورہ بالا اور تمام محسنین کو شامل ہے۔ یا الف لام عہد کا ہے۔ اس سے انہی مذکورہ بالا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت سفیان ثوری (رح) نے فرمایا۔ برائی کرنے والے سے بھلائی کرنا احسان ہے۔ اور بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دینا تو تجارت ہے۔
Ayah 3:135تائب پر شیطان کا نالہ :
135: وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُ وْا لِذُنُوْبِھِمْ ، (اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر بیٹھتے ہیں یا اپنے نفوس پر زیادتی کر بیٹھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرلیتے ہیں۔ پس وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں) یعنی گناہ کی برائی پر شرمندہ ہو کر توبہ کرلیتے ہیں۔ وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً ۔ (اور وہ لوگ جب کوئی برا کام کر گزرتے ہیں)
نحو : فعلہ کا وزن قباحت کو زائد از زائد دکھانے کیلئے آتا ہے۔ اور وَالَّذِیْنَ یہ مبتداء اور اولئک خبر ہے۔
اَوْظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ (یا وہ اپنے نفوس پر زیادتی کر بیٹھتے ہیں) قول نمبر 1۔ الفاحشہ سے مراد کبیرہ گناہ اور ظلم نفس سے مراد صغیرہ۔
قول نمبر 2۔ فاحشہ سے زناء اور ظلم نفس بوس و کنار، لمس وغیرہ۔ ذَکَرُوا اللّٰہَ (وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرلیتے ہیں) یعنی زبان سے یا ان کے دل ان کو توبہ پر آمادہ کرتے ہیں۔
فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ (پس وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں) یعنی گناہ کی برائی پر شرمندہ ہو کر توبہ کرلیتے ہیں۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو شیطان رونے لگا وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخشے گا۔
نحو : مَنْ مبتداء، یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اللّٰہُ اس کی خبر ہے۔ یغفر کی ضمیر من کی طرف راجع ہے اور اِلَّا اللّٰہُ یغفر کی ضمیر سے بدل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ولا احدٌیَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُاللہ تعالیٰ کے سواء کوئی ایسا نہیں جو گناہوں کو بخش دے۔ یہ معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے اس میں بندوں کو تو بہ کی طرف متوجہ کیا گیا اور ترغیب دلائی گئی اور ناامیدی و مایوسی کی ممانعت کی گئی اور توبہ کرنے والے کیلئے وسعت رحمت اور قرب مغفرت کو بیان کیا اور بتلایا کہ خواہ گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کی معافی اس سے عظیم تر اور اس کا کرم عظیم ترین ہے۔
عدم اصرار کا فائدہ :
وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَافَعَلُوْا (وہ اپنے قبیح افعال پر قائم نہیں رہے) الاصرار قائم ہونے کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس بندے نے استغفار کیا اس نے اصرار نہیں کیا خواہ وہ گناہ کی طرف ستر مرتبہ لوٹ کر گیا ابودائود، الترمذی۔ دوسری روایت میں ہے استغفار کرنے سے کبیرہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کی موجودگی میں صغیرہ صغیرہ نہیں رہتا۔ (بلکہ کبیرہ بن جاتا ہے) مسند فردوس للدیلمی وَ ھُمْ یَعْلَمُوْنَ (اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں )
نمبر 1۔ یہ وَلَمْ یُصِرُّوْا کی ضمیر سے حال ہے مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ غلطی ہے اس پر اصرار نہیں کیا۔
نمبر 2۔ یہ مستقل جملہ ہے اور یعلمون کا مفعول محذوف ہے مطلب اس طرح ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے گناہوں کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہ بخشے گا۔
Ayah 3:136بخشش کے مستحقین :
136: اُولٰٓپکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَ ۔ (جنکی مذکورہ بالا صفات ہیں) ۔ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ (انکا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے) انکی توبہ کے سبب وَجَنّٰتٌ (اور باغات) اس کی رحمت کے باعث۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِِیْنَ (جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کام کرنے والوں کا بدلہ بہت خوب ہے)
نحو : نعم کا مخصوص بالمدح محذوف ہے اور وہ ذٰلک ہے یعنی مغفرت اور جنت۔
نمبر 1۔ یہ آیت ایک کھجور فروش کے متعلق اتری جس کے پاس ایک عورت کھجور لینے کیلئے آئی اس نے کہا میرے گھر میں اس سے زیادہ عمدہ کھجوریں ہیں۔ اس کو اپنے گھر میں اس بہانے سے داخل کیا اور پھر اپنے جسم سے اس کو چمٹایا اور بوسہ دیا مگر پھر شرمندہ ہوا۔
نمبر 2۔ ایک انصاری کو ایک ثقفی نے اپنے گھروالوں کا نگراں بنایا۔ (اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے مابین بھائی چارہ کروایا تھا) جب وہ ثقفی جہاد میں چلا گیا۔ وہ انصاری اسکے گھر آیا اور اس کی بیوی کو دیکھا تو اس کو بوسہ دیا۔ پھر اس پر شرمسار ہوا۔ اور جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول فرمایا۔
Ayah 3:137سنن کی مراد وقائع :
137: قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ قَدْخَلَتْ (تحقیق گزرے) مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ تم سے پہلے بہت طریقے۔ اس سے مراد جھٹلانے والی امتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش آنے والے وقائع ہیں۔ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (پس زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا) پھر ان سے عبرت حاصل کرو۔
Ayah 3:138138: ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ ھٰذَا یہ۔ یعنی قرآن یاماتَقَدَّمَ ذِکْرُہٗ کا مفہوم مشارٌ الیہ ہے۔ بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَھُدًی (لوگوں کیلئے بیان و ضاحت اور ہدایت ہے یعنی راہنمائی ہے) وَّمَوْعِظَۃٌ ( اور نصیحت ہے) یعنی ترغیب و ترہیب ہے۔ لِّلْمُتَّقِیْنَ (بچنے والوں کیلئے) جو شرک سے بچتے ہیں۔
Ayah 3:139تکالیف احد پر تسلی :
139: وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَلَا تَھِنُوْا (تم سستی نہ کرو) جہاد سے اس بناء پر کہ تم کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ وَلَا تَحْزَنُوْا ( اور نہ غم کرو) اس غنیمت پر جو تم سے فوت ہوگئی یا اپنے میں سے شہید ہونے والوں پر یا آنے والے زخموں پر۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ اور ایمان والوں کیلئے تسلی ہے۔ ان تکالیف پر جو غزوئہ احد کے موقع پر پیش آئیں اور ان کے دلوں کو تقویت دی جارہی ہے۔
علو کی تفسیر :
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ (حالانکہ تم ان سے اعلیٰ اور اغلب ہو) کیونکہ تم نے بدر میں ان کے زیادہ آدمی قتل کیے انکی نسبت جتنے احد میں تمہارے قتل ہوئے۔
دوسری تفسیر : اور تم ہی بلند رہو گے مددو کامیابی کے ساتھ جو آخر میں تمہیں میسر آئی۔ وہ ان کے لئے بلندی اور غلبے کی بشارت تھی۔ جیسا الصافات کی۔ آیت نمبر 183 میں فرمایا وَاِنَّ جُنْدَ نَالَہُمُ الْغَالِبُوْنَکہ ہمارا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔
نمبر 3۔ تم شان کے اعتبار سے بلند ہو کیونکہ تمہارا قتال اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے اور اس کی بات بلند کرنے کیلئے ہے اور انکی لڑائی شیطان کیلئے اور کفر کی بات کو اونچا کرنے کیلئے تھی۔
نمبر 4۔ تم شان کے لحاظ سے بلند ہو کیونکہ تمہارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَاگر تم مومن ہو۔
تفسیر اول : یہ لَا تَھِنُوْا کی نہی سے متعلق ہے مت سستی کرو اگر تمہارا ایمان صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کی صحت تو قوت قلب کو لازم کرتی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین کو مضبوط کرتی ہے اور دشمنوں کی کچھ بھی پرواہ نہ کرنے پر برانگیختہ کرتی ہے۔
تفسیر دوم : یہ اعلون سے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تم بلند ہو اگر تم تصدیق کرنے والے ہو ان باتوں پر جن کا اس نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اور جس غلبے کی وہ بشارت دیتے ہیں۔
Ayah 3:140تسلیٔ مؤمنین :
140: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثلُہٗ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُھَدَآئَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْن۔ اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ (اگر تم کو زخم لگا)
قراءت : قُرْح تمام مقامات پر پڑھا جائے گا۔ حفص کے علاوہ دیگر تمام کو فی قراء کے ہاں۔ قَرْحٌ حفص اور دیگر تمام قراء نے پڑھا۔ یہ دو لغتیں ہیں جیسا کہ َضعف اور ُ ضعف۔
بعض نے کہا۔ قَرح ہو تو معنی زخم اور قرح ہو تو معنی زخم کی ٹیس۔ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثلُہٗ (پس تحقیق قوم کو اسی طرح کا زخم پہنچا) یعنی اگر انہوں نے تمہارے کچھ آدمی قتل کیے تو تم اس سے پہلے بدر کے دن ان کے زیادہ آدمی قتل کرچکے۔ پھر بھی اس بات نے ان کے دلوں کو کمزور نہ کیا اور تمہارے ساتھ دوبارہ لڑائی کرنے سے نہ روکا۔ پس تمہیں تو بدرجہ اولیٰ کمزوری نہ دکھانی چاہیے۔ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (یہ ایام فتح ہم لوگوں کے درمیان باری باری گھماتے رہتے ہیں)
وَتِلْکَ الْاَیَّامُ مبتدا نُدَاوِلُھَا اس کی خبر ہے۔
نُدَاوِلُھَا کا معنی پھیرنا ہے۔ بین الناس یعنی نعمتیں اور سزائیں کبھی ایک قوم کو اور کبھی دوسری قوم کو۔ جیسا شاعر (نمربن تولب) کے اس شعر میں ہے ؎
فیومًا علینا ویومًا لنا ٭ ویومانسائُ و یوما نُسَرُّ
ایک دن ہمارے خلاف اور ایک دن ہمارے حق میں۔ اور ایک دن تکلیف دیئے جاتے ہیں جبکہ دوسرے دن خوش کیے جاتے ہیں۔
تبادلہ کی حکمت اوّل :
وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (تاکہ اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے ایمان والوں کو) یعنی یہ تبادلہ کئی قسم کی حکمتوں کے ماتحت کرتے ہیں۔ اور اس لئے بھی کہ جو مومن صبر اور ثبات ایمان کی وجہ سے لوگوں کے نزدیک ممتاز ہوچکے ہوں ان کو ہم جان لیں جس طرح کہ انکا و جود سے قبل جاننا ہے۔ وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُھَدَآئَ ( اور تاکہ کچھ لوگوں کو شہادت سے بہرہ ور کر دے) مراد اس سے احد کے طالبین شہادت تھے یا تم میں سے ایسے شہداء کا انتخاب کرلے جو قیامت کے دن امتوں پر گواہی کے لائق ہوں۔ جیسا کہ سورة البقرہ 143 میں فرمایا۔
وَلِتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ ( البقرہ 143) وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِیْنَاور اللہ تعالیٰ کو ظالم لوگ پسند نہیں۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو تعلیل والے جملے کے درمیان لایا گیا۔
تفسیر آیت کی یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو ان لوگوں میں سے نہیں جو ایمان پر ثابت قدمی اختیار کرنے والے ہیں اور اس کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ اور منافقین و کفار ہی ایسے ہوسکتے ہیں۔
Ayah 3:141تبادلہ کی حکمت دوم :
141: وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْ ا وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (تاکہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو گناہوں سے پاک کر دے)
التَّمْحِیْصتطہیر و تصفیہ کو کہتے ہیں۔ وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ (اور کافروں کو مٹا دیں) اور ان کو ہلاک کردیں یعنی اگر کفار کو مسلمانوں پر غلبہ ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کے امتیاز کرنے اور شہید بنانے اور گناہوں سے ان کو پاک کرنے کیلئے ہوتا ہے اور مسلمانوں کو کفار پر غلبہ کافروں کو گھٹانے اور انکا نام و نشان مٹانے کے لئے ہوتا ہے۔
Ayah 3:142جنت میں داخلہ بلا جہاد و مجاہدہ نہیں :
142: اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (کیا تم نے گمان کرلیا کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے) یہ استفہام انکاری ہے اور اَمْ منقطعہ ہے۔ یعنی مت ایسا خیال کرو۔ وَلَمَّایَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰہِدُوْا مِنْکُمْ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مجاہدوں کا ابھی تک امتیاز نہیں کیا) یعنی ابھی تک تم نے جہاد نہیں کیا کہ تمہارا مجاہد ہونا معلوم ہوتا کیونکہ علم کا تعلق تو معلوم سے ہے۔ تو نفی علم کو نفی متعلق علم کی جگہ لایا گیا ہے۔ کیونکہ علم کی نفی سے متعلق علم کی نفی خود ہوجائے گی جیسا کہ کہا جائے ماعلم اللہ فی فلان خیرًا یعنی اس میں کوئی خیر ہے ہی نہیں جو معلوم ہو اور یہاں لمّا، لم کے معنی میں ہے البتہ اس میں کچھ توقع کا پہلو پایا جاتا ہے۔ پس گزشتہ میں جہاد کی نفی کررہا ہے۔ اور مستقبل میں اسکے ہونے کی توقع ظاہر کر رہا ہے۔ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ (اور معلوم کرے صبر کرنے والوں کو)
نحو : یَعْلَمِ اللّٰہُ اَن مضمرہ کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور وائو جمع کیلئے ہے جیسا کہتے ہیں لا تاکل السمک و تشرب اللبن۔ یعنی دودھ اور مچھلی ساتھ ملا کر مت کھائو۔ یا یَعْلَمَ پر جزم ہویَعْلَمِ اللّٰہ پر عطف کی وجہ سے۔ میم کو حرکت التقائے ساکنین کی وجہ سے دی گئی ہے اور فتحہ کا انتخاب معطوف علیہ پر فتحہ کی وجہ سے ہے۔
Ayah 3:143تمنائے موت پر توبیخ :
143: وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ (البتہ تم موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کو دیکھنے سے پہلے۔ اس میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جو بدر میں حاضر نہ ہوسکے تھے اور ان کے دل میں تڑپ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی معرکہ میں حاضر ہوں تاکہ شہادت کی سعادت پاسکیں اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اصرار کیا کہ ان کو لیکر مشرکین کی طرف نکلیں۔ حالانکہ آپ کی رائے مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کی تھی۔ مطلب یہ ہوا کہ تم موت کی تمنا اسکے مشاہدے سے پہلے کرتے تھے اور اس کی شدت کو پہچاننے سے پہلے تمنا کرتے تھے۔ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ (پس تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا) یعنی تم نے کھلی آنکھوں سے دیکھا اس حال میں کہ تمہارے سامنے تمہارے بھائی بند مارے گئے۔ اور تم نے خود قتل کو جھانک لیا۔
دراصل موت کی تمنا پر ان کو توبیخ کی گئی ہے اور اس بات پر کہ تم اپنے اصرار سے رسول اللہ ﷺ کے نکلنے کا باعث بنے پھر آپ ﷺ سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے شہادت کی تمنا کی تاکہ شہداء والی عظمت پالیں۔ اسمیں اس قسم کا قصد ہرگز نہ تھا کہ کفار کو غلبہ حاصل ہوجائے اس کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ کوئی عیسائی ڈاکٹر سے دوائی لے اس کا مقصد تو حصول شفاء ہے اور اسکے دل میں یہ خیال بھی نہیں گزرتا کہ اس میں دشمن کو نفع پہنچایا جارہا ہے۔ اور اسکے فن کو رائج کیا جارہا ہے۔
Ayah 3:144144: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِِہِ الرُّسُلُ اَفَاپنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ۔ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ ۔
جب ابن قمیّہ نے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارا تو آپ کا سامنے والا نچلا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ آپ کے قتل کے درپے تھا۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے آپ کی طرف سے دفاع کیا۔ وہ لشکر کے علم بردار تھے۔ چناچہ اس نے حضرت مصعب ؓ کو شہید کردیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ چناچہ اس نے کہنا شروع کردیا میں نے محمد ﷺ کو قتل کردیا اور ایک شخص نے پکار کر کہا محمد (ﷺ) قتل ہوگئے (نعوذباللہ) بعض نے کہا وہ شیطان تھا۔ لوگوں میں آپ کے قتل کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پس وہ پیچھے ہٹے اور رسول اللہ ﷺ آوازیں دے رہے تھے۔ اِلیَّ عباد اللہ ! اے اللہ کے بندو ! میری طرف آئو۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس ایک گروہ جمع ہوگیا۔ آپ نے ان کو بھاگنے پر ملامت کی۔ وہ کہنے لگے۔ یا رسول اللہ ! ہم آپ پر اپنے مائوں باپوں کو قربان کرتے ہیں ہمیں آپ کے قتل کی خبر پہنچی جس سے ہم پیٹھ پھیر کر چل دیئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِِہِ الرُّسُلُ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہی ہیں۔ تحقیق ان سے پہلے اللہ کے رسول گزرے) خلت کا معنی مضت یعنی گزرے ہیں۔ پس وہ بھی انکی طرح گزر جائیں گے۔ جس طرح ان کے پیرو ان کے گزرنے کے بعد ان کے دین کو مضبوطی سے تھامنے والے تھے۔ اسی طرح تم پر لازم ہے کہ تم ان کے دین کو ان کے گزرنے کے بعد لازم پکڑو۔ کیونکہ بعثت انبیاء ( علیہ السلام) کا مقصود پیغام رسالت کو پہنچانا اور حجت کو تمام کرنا ہے۔ قوم میں ان کے وجود کا ہمیشہ رہنا نہیں۔
خبر شہادت رسول (ﷺ) کے تاثرات کا ازالہ :
اَفَاپنْ مَّاتَ اَوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ (پس اگر آپ کا انتقال ہوجائے یا آپ شہید ہوجائیں کیا تم لوگ الٹے پھر جائو گے) فاجملہ شرطیہ سے معلق ہے۔ اس جملہ کے ذریعہ جو اس سے پہلے ہے۔ اس طرح کہ فا ؔ سببیہ اور ہمزئہ استفہام انکار کیلئے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ سابقہ انبیاء ( علیہ السلام) وفات پاگئے مگر انکا دین تو نہیں مرا۔ پس اس طرح محمد ﷺ بھی ایک رسول ہیں اگر وہ قتل یا طبعی موت سے وفات پاجائیں گے تو انکا دین نہیں مر یگا بلکہ باقی رہے گا پس تمہیں لوٹ کر ارتداد اختیار نہ کرنا چاہیے۔ انقلاب علی العقبین یہ ارتداد سے مجاز ہے۔ یا شکست و ہزیمت سے مجاز ہے۔ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا (جو ایڑیوں کے بل پلٹ جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا) بلاشبہ اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔ وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ (عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو بدلہ دیں گے) یعنی وہ لوگ جو جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کو شاکرین اسی لئے قرار دیا کیونکہ انہوں نے نعمت اسلام کا اپنے فعل سے شکریہ ادا کیا۔
Ayah 3:145ہر ایک کی موت مشیت سے ہے :
145: وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰـبًا مُّؤَجَّلًا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ ۔ وَمَاکَانَ (جائز نہیں) لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (کسی نفس کے لئے کہ اس کو موت آئے مگر اللہ تعالیٰ کے اذن سے) اذن سے مراد علم ہے۔ یا ملک الموت کو اسکے قبض روح کی اجازت دینا مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کی موت کا آنا ناممکن ہے۔
اس میں جہاد پر آمادہ کیا گیا اور دشمن کا سامنا کرنے پر برانگیختہ کیا گیا اور بتلادیا کہ ڈرنا فائدہ مند نہیں۔ اور کوئی شخص اپنی مدت زندگی پوری کرنے کے بغیر نہیں مرسکتا۔ خواہ وہ کتنے ہلاک کن مقامات اور معرکوں میں گھس جائے۔ کِتٰـبًا مُّؤَجَّلًا (میعاد معین لکھی رہتی ہے) کِتاٰبًا فعل محذوف کا مصدر مؤکد ہے۔ کیونکہ معنی یہ ہے کہ کتب الموت کتابًا۔ اللہ تعالیٰ نے موت کو لکھ دیا ہے لکھنا۔ مؤجل کا معنی موقت ہے کہ لکھے ہوئے سے آگے پیچھے نہیں۔ وَمَنْ یُّرِدْ جو ارادہ کرلے اپنے جہاد سے ثَوَابَ الدُّنْیَا ثواب دنیا یعنی مال غنیمت کا۔ اس میں ان لوگوں پر تعریض کی گئی جن کو احد کے دن غنیمت نے مشغول کردیا۔
نُؤْتِہٖ مِنْھَا (ہم اس سے اس کو دیتے ہیں) یعنی اس کا ثواب دیتے ہیں۔ وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰ خِرَ ۃِ اور جو آخرت کے ثواب کا ارادہ کرتا ہے یعنی اعلائے کلمۃ اللہ اور آخرت کے درجات کیلئے جہاد کرتا ہے۔ نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَسَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ (ہم اس کو اسی سے دیتے ہیں اور عنقریب شکر گزاروں کو ہم بدلہ دیں گے) یعنی ہم عنقریب ان کو جزائے مبہم سے بدلہ دیں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کیا اور جہاد سے ان کو کسی چیز نے مشغول نہ کیا۔ (جزاء کو مبہم لا کر بتلا دیا کہ جزاء غیر معروف ہے جو عقل انسان میں نہیں آسکتی) ۔
Ayah 3:146جہاد میں دشمن کے سامنے عجز و ذلت ظاہر نہ ہونے دو اور نہ ہی سستی کرو :
146: وَکَاَ یِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ مَعَہٗ رِبِّیُّوْنَ کَثِیْرٌ فَمَا وَھَنُوْالِمَآ اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَکَانُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ (بہت سے پیغمبروں کے ساتھ مل کر بکثرت آدمیوں نے کفار سے جنگ کی) َکَاَ یِّنْ کا اصل اَیّہے کاف تشبیہ کا اس پر داخل ہوا تو اس میں کم کے معنی پیدا ہوگئے جو کثرت کیلئے آتا ہے۔
قراءت : مکی کی قراءت میں کائن بوزن کَاعٍ ہر جگہ پڑھیں گے۔ قَاتَلَ کو قُتِل مکی، بصری و نافع نے پڑھا ہے۔
نحو : مَعَہٗ یہ قٰتل کی ضمیر سے حال ہے۔ ای قٰتَلَ کائنًا معہ۔ یعنی اس نے قتال کیا اس حال میں کہ وہ ان کے ساتھ ملنے والا تھا۔
رِبِّیُّوْنَ ۔ رب والے۔ حسن نے را کے ضمہ سے اور بعض نے فتحہ سے پڑھا ہے۔ قاعدہ کے مطابق فتحہ ہے کیونکہ یہ رب سے اسم منسوب ہے۔ اور ضمہ اور کسرہ اسم منسوب میں تبدیلیوں کی بناء پر ہے۔
فَمَا وَھَنُوْا (وہ سست نہ ہوئے) اپنے پیغمبروں کے قتل کے وقت لِمَآ اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَا ضَعُفُوْا۔ (ان تکالیف پر جو ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش آئیں اور نہ وہ ان کے بعد جہاد سے پست ہمت ہوئے) ۔ وَمَا اسْتَکَانُوْا (اور نہ وہ دشمن کے سامنے ذلیل و عاجز ہوئے) ۔ اس آیت میں ان لوگوں پر تعریض کی جو قتل رسول ﷺ کی افواہ پر پست ہمت ہو بیٹھے اور بعض نے ارادہ کیا کہ عبداللہ بن ابی کے ذریعہ ابو سفیان سے امان طلب کریں۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ کو صبر والے لوگ پسند ہیں) جو کفار سے جہاد کرنے پر جمے رہنے والے ہیں۔