Ayah 3:173غزوۃ السویق کا تذکرہ اور صحابہ ؓ کی جانثاری :
173: اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًا وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ (وہ جنہیں لوگوں نے کہا) یہ الذین استجابوا سے بدل ہے۔ جبکہ انکا شان نزول ایک ساتھ مانا جائے۔ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ (بیشک لوگ تمہارے لئے جمع ہوئے ہیں) روایات میں ہے کہ ابوسفیان نے احد سے واپسی پر کہا اے محمد (ﷺ) ہمارا تمہارا مقابلہ آئندہ سال بدر میں ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا انشاء اللہ جب اگلے سال ابو سفیان اہل مکہ کے ساتھ نکلا تو اللہ تعالیٰ نے اسکے دل میں رعب ڈال دیا۔ اس نے واپس لوٹنا مناسب خیال کیا چناچہ اسی دوران نعیم بن مسعود اشجعی مل گیا جو عمرہ سے واپس لوٹ رہا تھا۔ اس نے کہا اے نعیم میں نے محمد ﷺ سے مقام بدر میں ملنے کا وعدہ کر رکھا تھا میرا ارادہ بن رہا ہے کہ میں اس سے بچوں۔ پس تم مدینہ جا کر ان کو روکو۔ اور اس پر دس اونٹ تمہیں دیے جائیں گے۔ نعیم وہاں سے ہٹ کر مدینہ اس وقت پہنچا جب مسلمان بدر جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔ اس نے کہا تم نکل کر جانا چاہتے ہو جبکہ وہاں لوگوں کا بڑا مجمع تمہارے لئے اکٹھا ہے اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بچ کر نہ آئے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں ضرور بضرور نکل کر جائوں گا۔ خواہ میرے ساتھ کوئی بھی نکل کر نہ جائے۔ آپ ستر مجاہدین کے دستہ کے ساتھ نکلے اور انکی زبانوں پر تھا : حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ ۔ (اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے) بدر میں پہنچ کر آٹھ راتیں قیام کیا۔ وہاں تجارتی قافلہ پایا جن کے ساتھ خریدو فروخت کی اور اللہ تعالیٰ نے نفع عنایت فرمایا پھر مدینہ منورہ کی طرف سلامتی و غنیمت کے ساتھ لوٹے۔ اہل مکہ نے اپنے اس لشکر کو جیش السویق کا لقب دیا اور کہا تم تو ستو کھانے نکلے تھے۔
النّاس جو پہلی مرتبہ واقع ہوا اس سے مراد نعیم ہے جمع بول کر واحد مراد لی گئی۔ یا اس کے ساتھ اور لوگ بھی تھے جو افواہ پھیلانے میں اسکے شریک حال تھے۔ اس لیے جمع لائے۔ دوسرا، النَّاسَ اس سے مراد ابوسفیان اور اسکے ساتھی ہیں۔ فَاخْشَوْھُمْ (تم ان سے ڈرو) ۔ فَزَادَہُمْ (پس اس بات نے بڑھا دیا) وہ بات اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ تھی۔
یا نعیم نے بڑھا دیا اِیْمَانًا یعنی انکی بصیرت کو بڑھا دیا۔ اور یقین زیادہ کردیا۔ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ (اور انہوں نے کہا اے اللہ تو ہمارے لئے کافی ہے) یعنی جو ہمارے لئے کافی ہے وہ اللہ ہی ہے کہتے ہیں احسبہ الشیء جب اسکے لئے کافی ہوجائے۔ یہ محسب کے معنی میں ہے جیسا کہتے ہیں ہذا رجل حسبک اب حسبککورجلٌ نکرہ کی صفت بنایا گیا ہے۔ اور اس کی اضافت ضمیر کی طرف غیر حقیقی ہے کیونکہ یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے۔ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ (اور وہ خوب کارساز ہے) وکیل بمعنی موکول الیہ ہے۔
Ayah 3:174بدر سے بسلامت واپسی :
174: فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْئٌ وَّ اتَّبَعُوْارِضْوَانَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَظِیْمٍ ۔ (پس وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کے ساتھ لوٹے) یعنی سلامتی اور دشمن پر رعب کے ساتھ لوٹے وَفَضْلٍ (اور فضل کے ساتھ ) ۔ فضل سے مراد تجارت ہے ان کو دوگنا نفع ہوا۔ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوْئٌ (ان کو کوئی تکلیف دشمن کی مکاریوں سے نہ پہنچی) ۔
نحو : یہ انقلبوا کی ضمیر سے حال ہے اور اسی طرح بنعمۃ بھی ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے فرجعو امن بدرٍ منعمین بریئین من سوئٍ ۔ وَّ اتَّبَعُوْارِضْوَانَ اللّٰہِ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی اتباع کی) ۔ جرأت کے ساتھ اور افواہوں کے باوجود دشمن کے سامنے نکل کر۔ اس کا انقلبوا پر عطف ہے۔ وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَظِیْمٍ (اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں) کہ اپنے فضل سے تو فیق ان کے شامل حال کردی۔
Ayah 3:175منافقین شیطان کے دوست ہیں :
175: اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآئَ ہٗ فَـلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (بیشک یہ شیطان ہے )
نحو : ذٰلِکُمُ مبتداء اور الشَّیْطٰنُ اس کی خبر ہے۔ الشَّیْطٰنُ سے مراد نعیم ہے۔ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآئَ ہٗ (وہ اپنے دوستوں کو ڈرا رہا ہے) مراد منافقین ہیں۔ یہ جملہ مستانفہ ہے اور افواہ کا بیان ہے۔ یا الشَّیْطٰنُاسم اشارہ کی صفت ہے۔ اور یُخَوِّفُ اس کی خبر ہے۔ فَلَا تَخَافُوْھُمْ (تم ان سے مت ڈرو) یعنی اسکے دوستوں سے وَخَافُوْنِ اِنْ کُنتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (اور مجھ ہی سے ڈرو اگر تم مومن ہو) کیونکہ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ خوف الٰہی کو ہر خوف پر ترجیح دے۔
قراءت : سہل و یعقوب نے وصل و وقف دونوں میں وَخَافُوْنِیْ پڑھا ابو عمرو نے صرف وصل میں اس طرح پڑھا۔
Ayah 3:176نقصان کے بیان کا ایک بلیغ انداز :
176: وَلَا یََحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ اِنَّھُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًاط یُرِیْدُ اللّٰہُ اَلَّایَجْعَلَ لَھُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (اور آپ کو غمزدہ نہ کریں)
قراءت : نافع نے تمام قرآن میں یُحْزِنْکَ پڑھا ہے سوائے سورة انبیاء کی آیت : لاَ یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَ کْبَرُ (الانبیاء۔ 103)
الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ (وہ لوگ جو کفر میں تیزی سے گھسنے والے ہیں) یعنی وہ آپ کو غم میں نہ ڈالیں اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ نقصان پہنچائیں گے کیا تم اس ارشاد الٰہی کی طرف نظر نہیں کرتے اِنَّھُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا (یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے) کہ وہ اللہ تعالیٰ کو یعنی اولیاء اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ مطلب یہ ہوا کہ کفر میں جلد گھس جانے کی وجہ سے تمہیں وہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے خود انہی کو نقصان ہوگا دوسروں کو اس کا وبال نہ پہنچے گا۔ پھر اگلی آیت میں واضح کردیا کہ انکا وبال کس طرح انکی طرف واپس لوٹے گا۔ یُرِیْدُ اللّٰہُ اَلَّایَجْعَلَ لَھُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَۃِ (اللہ تعالیٰ ان کے لئے آخرت کے ثواب میں کوئی حصہ مقرر کرنا نہیں چاہتے) یعنی ثواب کا حصہ۔ وَلَھُمْ ( اور ان کے لئے) ثواب کے بدلے عَذَابٌ عَظِیْمٌ (بہت بڑا عذاب ہے) اور زیادہ بلیغ انداز ہے اس بات کو بیان کرنے کیلئے کہ یہ چیز انسان کے نفس کو نقصان پہنچانے والی ہے۔
ارادئہ کفر پر ثواب سے محرومی :
یہ آیت ارادئہ کفر و معاصی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ ان کو آخرت میں ثواب نہ ملے اور یہ ان کے کفر و معاصی کے ارادہ کے بغیر ممکن نہیں۔
Ayah 3:177177: اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کو ایمان کے بدلہ میں خرید کیا) اشْتَرَواکا یہاں معنی بدلہ میں لینا ہے۔ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا (وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچا سکتے)
نحو : شیئًا مصدر کی وجہ سے منصوب ہے یعنی شیئا من الضرر پہلی آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جو پیچھے رہنے والوں میں سے منافق تھے یا اسلام سے مرتد ہوگئے اور دوسری آیت تمام کفار کے متعلق یا اس کا عکس بھی ہوسکتا ہے۔ کہ پہلی کفار کے متعلق اور دوسری منافقین کے متعلق ہو۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے )
Ayah 3:178اختلاف و نحو :
قراءت : یہ لَا یَحْسَبَنَّ اور اسکے بعد والے تین میں باؔ مضموم اور یحسبن یا ؔ کے ساتھ پڑھا مکی اور ابوعمرو نے اور تمام مقامات پر حمزہ نے تاؔ سے پڑھا۔ اور مدنی اور شامی نے تمام مقامات پر یاؔ کے ساتھ سوائے آل عمران کی آیت 178 میں فلا تحسبنَّہم یہ تا ؔ کے ساتھ ہے۔ باقی قراء نے پہلے دو یا ؔ کے ساتھ اور آخری دو تا ؔ کے ساتھ پڑھے ہیں۔
الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا کافر۔ جنہوں نے یا سے پڑھا انہوں نے اس کو مرفوع قرار دیا ای لا یحسبن الکافرون انّ اپنے اسم و خبر کے ساتھ یحسبن کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ولا یحسبن الذین کفروا املاء نا خیرًا لا نفسہم۔ کافرہر گزگمان نہ کریں کہ ہمارا ان کو مہلت دینا ان کے لئے بہتر ہے اَنَّمَا کا ما ؔ مصدریہ ہے۔ اصول خط کے مطابق اس کو الگ۔ اَنَّ ۔ مَا لکھا جانا چاہیے تھا لیکن مصحف عثمانی میں متصل لکھا گیا اسی لئے اس کی اتباع میں متصل لکھا جاتا ہے۔
جنہوں نے تا ؔ سے پڑھا لا تحسبن انہوں نے الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا کو منصوب قرار دیا۔ ای لا تحسبن الکافرین اور اَنَّمَا نُمْلِیْ یہ کافرین سے بدل ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ولا تحسبن انما نملی للکافرین خیر لھم اور اَنَّ مع مَا کے ساتھ دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ الاملاء کا معنی امھال اور عمر کا طویل کردینا ہے۔
جملہ مستانفہ ماقبل کی علت ہے :
اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَا دُوْٓا اِثْمًا (بیشک ہمارا حکم دینا اس لئے ہے۔ تاکہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں) یہ مَا اس بات کا حقدار ہے کہ متصل لکھا جائے۔ کیونکہ یہ مَا کافہ ہے۔ نہ کہ اول اور یہ جملہ مستانفہ پہلے جملے کی علت ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ ما بالھم لا یحسبون الاملاء خیرًا لہم ان کو کیا ہوگیا کہ وہ مہلت کو بہتر خیال نہیں کرتے ؟ تو اس کا جواب دیا بیشک ہم ان کو مہلت اس لئے دے رہے ہیں تاکہ گناہوں میں وہ ترقی کرلیں۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (اور ان کے لئے ذلت والا عذاب ہے)
Ayah 3:179179: مَاکَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآ ئُ فَـٰـامِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔
لِیَذَرَ کی لام تاکید نفی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہرگز مؤمنوں کو اس حالت پر جس میں تم اس وقت ہو کہ مخلص و منافق ملے جلے رہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ (یہاں تک کہ نا پاک پاک سے جدا کر دے) یعنی یہاں تک کہ منافق مخلص سے الگ ہوجائے۔
نحو و قراءت :
یُمَیَّزَ حمزہ اور علی نے پڑھا۔ انتم کا خطاب تصدیق کرنے والے مخلص و منافق ہر دو کو ہے۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے۔ ما کان اللّٰہ لیذر المخلصین منکم علی الحال التی انتم علیھا من اختلاط بعضکم ببعض حتی یمیز ہم منکم بالوحی الی نبیہ و اخبارہ باحوالکم۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے مخلصین کو اس حالت پر چھوڑنے والے نہیں کہ جس میں تم اب ہو کہ ملے جلے رہتے ہو۔ یہاں تک کہ وہ منافقین کو تم سے اپنے پیغمبر ﷺ پر وحی اتار کر یا ایسے واقعات رونما کر کے جس سے مخلص و غیر مخلص جد اہو جائیں۔ (وحی کی مثال یحذر المنافقون ان تنزل علیھم سورة اور واقعات کی مثال غزوئہ احد ہے) وَمَاکَان اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ (اور اللہ تم کو امور غیب پر مطلع نہیں فرماتا) یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کو غیوب کا علم دینے والے نہیں پس تمہیں رسولوں کی خبروں سے وہم میں مبتلا نہ ہونا چاہیے جو خبریں وہ بعض لوگوں کے اخلاص اور دوسروں کے نفاق کے متعلق دیتے ہیں۔ وہ دلوں کی ان باتوں کی اطلاع اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے دیتے ہیں پس وہ دلوں کا کفرو ایمان اس طریق سے بتلاتے ہیں۔
رسولوں کو کسی کے دل کے نفاق و اخلاص کی خبر وحی سے ہوتی ہے :
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآ ئُ (لیکن اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتے ہیں چنتے ہیں) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ رسول بھیج کر انکی طرف وحی کر کے خبر دیتے ہیں کہ غیب میں یہ بات اس طرح ہے اور فلاں کے دل میں نفاق اور فلاں کے دل میں اخلاص ہے پس وہ اس خبر کو اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے جان لیتا ہے نہ کہ اپنے ذرائع سے۔
تردید فرقہ باطنیہ :
اس آیت میں باطنی فرقہ کے خلاف دلیل ہے کیونکہ وہ اپنے امام کے بارے میں علم غیب ثابت کرتے ہیں اگرچہ اپنے امام کے بارے میں نبوت کو تو ثابت نہیں کیا مگر نص صریح کی مخالفت کی کہ غیر رسول کیلے غیب کی باتوں کی اطلاع ثابت کردی اور اگر وہ اپنے امام کیلئے نبوت کے قائل ہوں تو پھر دوسری نص و خاتم النبیین ( الاحزاب۔ 40) کے مخالف ٹھہرتے ہیں۔
(مگر افسوس کہ فرقہ اثنا عشریہ اور اسماعیلیہ اور بہت سے قبرپرست اہل بدعت نے ائمہ اطہار اور اپنے پیروں تک کیلئے علم غیب کو ثابت کیا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ منہا مترجم) فَـٰـامِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ پس تم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسولوں پر اخلاص کے ساتھ ایمان لائو۔ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا (اگر تم ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کرو) یعنی نفاق سے بچو فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ ( تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے) قیامت کے دن۔
Ayah 3:180منکرین زکوٰۃ کا انجام :
180: وَلَا یَحْسََبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ ٰاتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھَُوَ شَرٌّ لَّھُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔
نحو : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری جو زکوٰۃ سے انکار کرنے والے تھے۔
( ہرگز نہ گمان کریں جو لوگ بخل کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دے رکھا ہے اپنے فضل سے کہ یہ بخل کرنا ان کے حق میں اچھا ہے۔
نحو : جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا۔ انہوں نے مضاف محذوف مانا یعنی لا تحسبن بخل الباخلین تم بخل کرنے والوں کے بخل کو ہرگز گمان نہ کرو۔ ھُو یہ ضمیر فصل ہے اور خیرًا لھم یہ مفعول دوم ہے اور جنہوں نے یا سے پڑھا انہوں نے یحسبن کی ضمیر کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو قرار دیا یا احد کی طرف لوٹائی۔
اور جنہوں نے فاعل الذین یبخلون قرار دیا ان کے نزدیک تقدیر عبارت یہ ہے وَلَا یَحْسََبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بخلھم ہو خیرًا لہم۔ ھوضمیر فصل ہے اور خیرًا لہم مفعول دوم ہے۔ بل ہو (بلکہ وہ) یعنی بخل۔ شَرٌّلَّھُمْ (ـان کے لئے برا ہے) کیونکہ ان کے اموال ان سے چھن جائیں گے اور وبال بخل ان پر باقی رہ جائے گا۔ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (عنقریب ان کو اس چیز کے جس پر بخل کیا طوق پہنائے جائیں گے) ۔ یہ بل ہو شر لھم کی تفسیر ہے کہ عنقریب انکا وہی مال جس میں اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کیا طوق بنا کر انکی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا۔ من منع زکٰوۃ مالہ یصیرحیۃ ذکرًا اقرع لہ نا بان فیطوق فی عنقہٖ فینھشہٗ و یدفعہ الی النار (بخاری، نسائی، احمد) جس نے اپنے مال کو زکوٰۃ سے روک لیا اس کا مال نرگنجا سانپ بن جائے گا جن کی دو داڑھیں ہونگی وہ طوق بنا کر اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے گا۔ وہ اس کو ڈنگ مارے گا اور آگ کی طرف دھکیلے گا۔
وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ آسمانوں و زمین کی وراثت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے اور اسی کی ملکیت ہے جو کچھ ان کے مابین ہے جس کے لوگ آپس میں وارث بنتے ہیں۔ خواہ وہ مال ہو یا اور کچھ پھر اس کی ملک پر بخل کیوں کرتے ہیں اور اس مال کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف نہیں کرتے ؟ میراث اصل میں مِوَراث ہے وائو کو یا سے بدل دیا ماقبل کسرہ کی وجہ سے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (اور اللہ تعالیٰ جو تم عمل کرتے ہو اس سے خبردار ہے) ۔
قراءت : ابو عمروم کی نے تعملون کو یعملون پڑھا ہے۔ تَا التفات کے طریقہ پر پڑھی گئی ہے اور وعید کے لحاظ سے یہ زیادہ بلیغ انداز ہے اور یا یہ اپنے ظاہر پر ہے۔
Ayah 3:181یہود کا بدترین جارحانہ مقولہ :
181: لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآئُ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَھُمُ الْاَنچْبِیَآ ئَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ۔ (بیشک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ فقیر اور ہم غنی ہیں) یہ بات یہود نے کہی جبکہ یہ ارشاد ربانی ان کے کان میں پڑا۔ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا (البقرہ : 245)ـ کہ کون اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتا ہے۔ یہود کہنے لگے محمد ﷺ کا خدا ہم سے قرض مانگتا ہے پس پھر تو ہم غنی اور وہ فقیر ہے۔
قَدْ سَمِعَ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انکی یہ بات مخفی نہیں اور اللہ تعالیٰ نے اسکے لئے پوری سزا تیار کر رکھی ہے۔ سَنَکْتُبُ مَا قَالُوْا (عنقریب انکی بات ہم لکھ لیں گے) یعنی کراماً کا تبین کو ان کے اس قول کے متعلق حکم دیں گے کہ وہ صحائف اعمال میں درج کرلیں یا ہم اس کو محفوظ کرلیں کیونکہ مخلوق کی طرف سے کتابت تحفظ کیلئے ہوتی ہے تو مجازاً سنکتب کہہ دیا گیا۔ ما مصدر یہ یا بمعنی الذی ہے۔ وَقَتْلَھُمُ الْاَنچْبِیَآ ئَ بِغَیْرِ حَقٍّ (اور انکا انبیاء کو قتل ناحق کرنا) اس کا ماپر عطف ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے قتل کو اس کا قرینہ قرار دیا۔ یہ بتلانے کیلئے کہ یہ دونوں گناہ بڑائی میں ہم پلہ ہیں۔ اور جو شخص قتل انبیاء کی جرأت کرسکتا ہے۔ اس سے اس قسم کی باتیں بعید نہیں وَّنَقُوْلُ اور ہم ان کو کہیں گے قیامت کے دن۔ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ (تم جلنے کا عذاب چکھو) یعنی آگ کا عذاب جیسا تم نے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائیں۔ ضحاک کہتے ہیں۔ جہنم کے فرشتے ان کو یہ بات کہیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت اس لئے کی گئی کہ یہ اسکے حکم سے ہے۔
قراءت : حمزہ نے قَتْلُھُمْلام کے ضمہ اور سنکتب کو سَیُکْتَبُ پڑھا ہے۔
Ayah 3:182ید کی اضافت آلہ عمل کی وجہ سے :
182: ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (یہ ان اعمال کے سبب ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے) ذٰلِکَ اس سے انکی وہ سزا جو ذکر ہوچکی اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْکُمْ عذاب ان اعمال کفریہ اور معاصی کے بدلے میں ہے جو تم نے آگے بھیجے ہیں۔ اور یدؔ کی طرف اضافت اعمال کی اس لئے کہ اکثر اعمال ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں اور تغلب کے طور پر تمام اعمال کو واقع شمار کر کے ید کی طرف نسبت کردی اور اس لئے بھی کہ کسی چیز کے حکم دینے والے کو فاعل کہا جاتا ہے پس ہاتھوں کا تذکرہ پختہ ثبوت کیلئے ہے یعنی اس نے یہ کام بذات خود کیا کسی نے کرنے کا اس کو نہیں کہا۔ وَاَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (اور بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر بالکل ظلم کرنیوالے نہیں) بلا جرم کے ان کو سزا نہیں د یتے۔
Ayah 3:183183: اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَآ ئَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓا (وہ لوگ جنہوں نے کہا )
نحو : یہ پہلے اَلَّذِیْنَ قَالُوْٓاسے بدل ہو کر مجرور ہے اور اعنی فعل سے منصوب بھی ہوسکتا ہے اور ہم کو مضمر مان کر مرفوع ہوگا۔
یہود کا باطل دعویٰ :
اِنَّ اللّٰہَ عَھِدَ اِلَیْنَآ (اللہ تعالیٰ نے تورات میں ہمیں حکم دیا) اور وصیت کی۔ اَلَّا نُؤْمِنَ کہ ہم ایمان نہ لائیں لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ (کسی رسول پر یہاں تک کہ وہ پیش کرے ایسی قربانی جس کو آگ کھائے) یعنی وہ قربانی پیش کرے اور آسمان سے آگ اتر کر اس کو جلا ڈالے۔ پس اے محمد ﷺ اگر تم یہ معجزہ پیش کردو تو ہم آپ کی تصدیق کردیں گے۔
یہود کا یہ دعویٰ باطل اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے کیونکہ آگ کا قربانی کو جلاڈالنا اس پیغمبر کا معجزہ اور اس پر ایمان کا سبب ہے جس کو یہ معجزہ دیا گیا ہو۔ پس اس لحاظ سے اس قسم کی قربانی اور دیگر معجزات برابر ہوگئے۔
ہر دو معجزات کے باوجود تم نے انبیاء (f) کو کیوں قتل کیا ؟
قُلْ قَدْ جَآ ئَ کُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ (کہہ دیں تحقیق تمہارے پاس مجھ سے پہلے رسول معجزات لیکر آئے) جو قربانی کے علاوہ تھے وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ ( اور وہ بھی لائے جو تم نے کہا) یعنی تمہارے اسلاف کے پاس جن کا اپنے کو تم پیروکار کہتے ہو۔ وہ معجزات بھی لائے اور ان کے افعال کو وہ پسند بھی کرتے تھے۔ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْھُمْ (تم نے ان کو کیوں قتل کیا) اگر اس پیغمبر پر ایمان سے تمہارے سامنے یہی رکاوٹ ہے۔ تو تم ان پر ایمان کیوں نہ لائے۔ ان کو کیوں قتل کیا۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اپنی اس بات میں اور ایمان اسی لئے مؤخر کر رہے ہو۔
Ayah 3:184تسلیہ رسول اللہ ﷺ :
184: فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبلِکَ جَآ ئُ وْ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِوَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ۔ (پس اگر یہ آپ کو جھٹلا دیں پس جھٹلائے گئے بہت رسول آپ سے پہلے) اگر یہ یہود آپ کو جھٹلا دیں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں۔ تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کی تکذیب کی گئی۔ جَآ ئُ وْ بِالْبَیِّنٰتِ (جو کھلے ہوئے معجزات لائے تھے) وَالزُّبُرِ (کتابیں) یہ زبور کی جمع ہے اور یہ الزُّبُر سے نکلا جس کا معنی لکھنا ہے۔
قراءت : شامی نے وَبِالزُّبُرِ پڑھا۔ وَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ (اور روشن کتابیں) اول قول یہ ہے کہ اصل کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں۔ صرف اوصاف میں اختلاف کی وجہ سے الگ ذکر کیا۔
زبور : ایسی کتاب جس میں ز جر والے احکام ہوں۔ اور کتاب منیر ایسی کتاب جو مکمل راہنمائی کا کام دے۔
Ayah 3:185تکذیب پر غم نہ کریں ‘ مطلق کامیابی کی جگہ آخرت ہے :
185: کُلُّ نَفْسٍ ذَآپقَۃُ الْمَوْتِ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ
وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔ (ہر جی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے)
نحو : کُلُّ نَفْسٍ مبتداء ہے اور ذآپقَۃُ الْمَوْتِ ۔ اس کی خبر ہے۔ نکرہ کو عموم کی بناء پر مبتداء بنایا جاسکتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ انکی تکذیب آپ کو غمزدہ نہ کرے۔ کیونکہ تمام مخلوق نے میرے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ میں ان کو انکی تکذیب اور تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ دونگا۔ اور آیت کے اگلے حصے میں اسی کا ذکر کیا۔ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (اور تمہیں تمہارے اعمال کا کامل ثواب دیا جائے گا) باقی دنیا دارالجزاء نہیں۔ فَمَنْ زُحْزِحَ (جو دور کردیا گیا) الزحزحۃ دور کرنے کو کہتے ہیں۔ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ (آگ سے اور جنت میں داخل کردیا گیا پس اس نے بھلائی کو پالیا) یہ بھی کہا گیا کہ اس کو مطلق کامیابی میسر آگئی۔ الفوز پسندیدہ چیز کا ملنا اور ناپسند سے دور ہونا۔ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (اور دنیوی زندگی تو فقط دھوکے کا سودا ہے) دنیا کو ایسے سودے سے تشبیہ دی جس کو فروخت کرنے والا خریدار کو فریب دینے کیلئے پیش کرتا ہے۔ تاکہ دھوکہ میں مبتلا ہو کر وہ اس کو خرید لے۔ ظاہر میں وہ کام کی چیز ہے اور حقیقت میں وہ کچھ نہیں پھر اس کی خرابی اور نقص ظاہر ہوجائے۔
شیطان اصل میں دھوکہ میں پھانسنے والا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں یہ حکم اس کیلئے ہے جس نے دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں ترجیح دی۔ باقی جس نے دنیا کے ذریعہ آخرت کو طلب کیا۔ وہ اسکے لئے مقصود تک پہنچانے والا سامان ہے۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں دنیا نباتات کی سبزی اور لڑکیوں کی گڑیوں کی طرح ہے جس کا کچھ حاصل نہیں۔
Ayah 3:186شدائد سہنے کے عادی بنو :
186: لَتُبْلَوُنَّ فِیْ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ لَتُبْلَوُنَّ (ضرور اللہ کی قسم تمہاری آزمائش ہوگی) فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ (تمہارے اموال میں) ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کا حکم دے کر اور اس پر آفات کے ذریعہ وَاَنْفُسِکُمْ ( اور تمہارے نفسوں میں) قتل قید، زخم اور نفوس پر قسم قسم کے جو مصائب و مواقع خوف آتے رہتے ہیں۔
نفس جو آنکھوں سے نظر آئے :
آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نفس آنکھوں سے نظر آنیوالا جسم ہے نہ وہ جس میں باطن کا معنی پایا جائے۔ جیسا کہ بعض اہل کلام اور فلاسفہ نے کہا ( کذافی شرح التاویلات) وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ (اور ضرور تم سنو گے ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی) اُوْتُوا الْکِتٰبَ سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْراً (اور مشرکوں سے بہت سی دکھ کی باتیں) جیسا کہ دین میں طعن وتشنیع، ایمان قبول کرنے سے لوگوں کو رکاوٹ ڈالنا۔ اہل ایمان کو غلط قرار دینا وغیرہ۔ وَاِنْ تَصْبِرُوْا (اگر تم صبر کرو گے) انکی ایذاء پر اور وَتَتَّقُوْ ا (اور تقویٰ اختیار کرو گے) اللہ کے خوف سے۔ فَاِنَّ ذٰلِکَ پس یہ صبرو تقویٰ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (عزیمت کے کاموں میں سے ہیں) یعنی یہ ایسے معاملات میں سے ہیں جن پر عزم و پختگی لازم ہے۔ ایمان والوں کو اس سے مخاطب کیا گیا۔ تاکہ وہ اپنے نفوس کو ان شدائد کے سہنے کا عادی بنائیں جو عنقریب پیش آئیں گے۔ ، اور ان پر صبر کریں۔ جب ایسے مواقع پیش آئیں تو پہلے سے وہ نفوس کو عادی بنانے والے ہوں تاکہ ان کو ایسی حالت نہ سامنے آئے جو اس آدمی کو آتی ہے جس پر اچانک مصیبت اترے اور اس کا دل اس سے نفرت کرے
Ayah 3:187کتمانِ حق ‘ حق فروشی کی ممانعت :
187: وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ فَنَبَذُوْہُ وَرَآ ئَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا۔ فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ ۔ (جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جن کو کتاب دی گئی) یعنی اس وقت کو یاد کرو۔ جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے وعدہ لیا۔ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ (اس کو ضرور لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور ہرگز نہ چھپانا لوگوں سے) وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ تَا کے ساتھ ان کے خطاب کی حکایت کے طور پر فرمایا جیسا اس ارشاد میں : وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ [ لاسراء : 4] میں لَتُفْسِدُنَّ تا ؔ کے ساتھ ہے۔
قراءت : مکی نے یا کے ساتھ پڑھا اور ابو عمرو اور ابوبکر نے انکی موافقت کی۔ کیونکہ وہ غیب کا صیغہ ہے اور ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے اور اس سے تاکید کی کہ کتاب کو بیان کرنا واجب اور اسکے کتمان سے بچنا لازم ہے۔ فَنَبَذُوْہُ وَرَآ ئَ ظُھُوْرِھِمْ (پس انہوں نے اس میثاق اور اس تاکید کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا) یعنی اس کی رعایت نہ کی اور نہ ہی اس کی طرف التفات کی۔ النبذ، وراء الظھر یہ پھینکنے اور تیاری کو چھوڑنے کی ایک مثال ہے۔
علمائے کرام کی ذمہ داری :
اس میں دلیل ہے کہ علماء کے ذمہ ضروری ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ حق کو کھول کر بیان کریں، جس کو وہ
جانتے ہیں۔ اور اس میں سے کوئی چیز نہ چھپائیں کسی فاسد غرض کی خاطر مثلاً ظالموں کیلئے آسانی پیدا کرنے اور ان کو خوش کرنے یا ان سے کوئی نفع اٹھانے یا کسی ایذاء کے دور کرنے کیلئے یا علم پر بخل کرتے ہوئے حدیث نبوی علٰی صاحبھا الصلوات والسلام۔ جس نے لوگوں سے علم چھپایا اللہ تعالیٰ اس کو آگ کی لگام پہنائیں گے۔ ( ابودائود۔ ترمذی)
وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا (اور اسکے بدلے انہوں نے حقیر معاوضہ لیا) یعنی معمولی سامان دنیا۔ فَبِئْسَ مَایَشْتَرُوْنَ (پس بری ہے وہ چیز جو معاوضہ میں وہ لے رہے ہیں)
Ayah 3:188یہود مدلسین اور ریاکاروں کو تنبیہ :
188: لَاتَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ ( ہرگز نہ خیال کریں آپ ان لوگوں کا جو اتراتے ہیں)
نحو : لَاتَحْسَبَنَّ میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ ایک مفعول الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ کا جملہ ہے۔ اور دوسرا مفعول بِمَفَازَۃٍ ہے۔ اور فلا تحسبنھم یہ اس کی تاکید ہے تقدیر عبارت یہ ہے لا تحسبنھم فائزین۔
بِمَآ اَتَوْا (اس پر جو انہوں نے کیا) یہ حضرت ابی ؓ کی قراءت ہے اور جاء اور أتٰی بمعنی فعل آیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ اِنہٗ کَان وعدہٗ ماتیًّا ( مریم 6) ۔ لقد جئتِ شیئًا فریًّا ( مریم۔ 27) ۔ نخعی (رح) کی قراءت میں بما آتو ایعنی اعطوا ہے۔ وَّیُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلاَ تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ (اور وہ پسند کرتے ہیں کہ انکی تعریف ان کاموں پر بھی کی جائے جو انہوں نے نہیں کئے پس ہرگز ان کو عذاب سے بچنے والے مت خیال کرو) مفازۃ کا معنی نجات پانے والے ہے۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (ان کے لئے دردناک عذاب ہے) یہاں الیم بمعنی مولم ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت فرمایا جو تورات میں مذکور تھی۔ انہوں نے حق کو چھپا کر آپ کو غلط خبر دی۔ اور ظاہر یہ کیا کہ انہوں نے سچ بولا ہے۔ اور آپ سے تعریف کے طالب ہوئے۔ اور اپنی تدلیس پر بڑے خوش ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی۔ اور ان کے لئے وعید اتار کر آپ کو تسلی دی۔ مطلب یہ ہوا تم ہرگز یہود کو عذاب سے چھوٹنے والا مت خیال کرو۔ انکی اس تدلیس پر جو آپ سے انہوں نے کی اور پھر تعریف کے طالب ہوئے اس پر جو انہوں نے نہیں کیا تھا یعنی آپ کے سوال کا درست جواب دینا۔
دوسرا قول یہ بھی ہے کہ وہ منافقین تھے جو اس پر خوش تھے کہ انکو مسلمانوں کے سامنے صرف اظہار ایمان ہی کفایت کرنے والا ہے اور اس سے انکی اغراض بھی پوری ہوتی ہیں۔ اور اس سے وہ اپنے ایمان کی تعریف کروانا چاہتے ہیں جو حقیقت میں ان میں مفقود ہے۔
مسئلہ : اس میں ایسے لوگوں کیلئے وعید ہے جو کوئی نیکی کرکے پھر اتراتے پھرتے ہیں اور انکی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ انکی ایسے افعال سے تعریف کریں جو انہوں نے نہیں کیے۔
Ayah 3:189ملکیت عامہ سے یہود کی مذمت :
189: وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (آسمان و زمین اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہیں) وہ ان کے معاملات کا اختیار رکھتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی۔ جو اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ (آل عمران : 8) کا نعرہ مارنے والے تھے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) وہ ان کو عذاب دینے کی بھی قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 3:190دلائلِ عقلیہ سے قدرت و عظمت باری کا اثبات :
190: اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (بیشک آسمان و زمین کی پیدائش اور دن رات کے آنے جانے میں البتہ نشانیاں ہیں) کیونکہ خالق کی ہستی میں کمال علمی، ہمہ گیر قدرت اور ارادہ و حکمت کے ثبوت کی کھلی دلیلیں موجود ہیں۔ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (ان لوگوں کیلئے جن کو دانش و فہم حاصل ہے) اور انکی عقل خواہشات سے اس طرح خالی ہو جس طرح مغز چھلکے سے۔ پس اس کی رائے یہ ہے کہ جواہر میں پیدا شدہ عرض جواہر کے حدوث کی علامت ہے۔ کیونکہ کوئی جوہر عرض حادث سے جدا نہیں ہوسکتا اور جو کسی حال میں حادث سے خالی نہ ہو وہ حادث ہے پھر اس کا حدوث کسی محدث کے وجود کی دلیل ہے۔ اور وہ ذات قدیم ہے۔ ورنہ یہ سلسلہ غیر متناہی محدثوں کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ جو کہ باطل ہے پس وجود قدیم ثابت ہوگیا۔
اسی طرح اس کی حسن صنعت اسکے علم کی دلیل ہے۔ اور صنعت کی پختگی اس کی حکمت کی دلیل ہے۔ اور اس کا باقی رہنا اس کی قدرت کی دلیل ہے۔ رسول مقبول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آدمی پر افسوس ہے کہ جس نے اس آیت کو پڑھا اور اس کی تلاوت میں غور وفکر نہ کیا ( السیوطی والدرا لمنثور) بنی سرائیل کی حکایات میں ہے کہ بنی سرائیل میں جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی تیس سال عبادت کرتا تو اس پر بادل سایہ کرتا۔ ایک نوجوان نے تیس سال عبادت کی مگر اس پر بادل نے سایہ نہ کیا۔ اس کی والدہ نے کہا اس زمانہ میں شاید تم سے کوئی لغزش صادر ہوئی ہو۔ اس نے کہا مجھے تو یاد نہیں۔ اس نے کہا شاید تم نے کبھی آسمان کو دیکھ کر عبرت نہ حاصل کی ہو۔ اس نے کہا شاید یہی ہو۔ پس وہ انعام تمہیں اسی سے ملے گا۔
Ayah 3:191191: اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًاط سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔
نحو : الَّذِیْنَ (جو لوگ) یہ مجرور مانیں تو اولیکی صفت ہے یا اعنی کو مضمر مانیں تو منصوب ہے۔ ہم کو مبتداء محذوف مانیں تو خبر مرفوع ہے۔ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ ( اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں) یعنی نماز پڑھتے ہیں۔ قِیَاماً (کھڑے ہونے کی حالت میں) جبکہ ان کو قیام پر قدرت ہو۔ وَّ قُعُوْدًا (بیٹھنے کی حالت میں) وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ (اپنے پہلوئوں پر) یعنی جب قیام و قعود سے عاجز ہوتے ہیں۔
نحو : قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا۔ یَذْکُرُوْنَ کی ضمیر فاعلی سے حال ہیں اور عَلٰی جُنُوْبِھِمْ بھی حال ہے۔
دوسری تفسیر : ان حالات کا ذکر کر کے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا بیان فرمایا کیونکہ ان حالات سے انسان کم ہی خالی ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو کوئی جنت کے باغات میں چرنا اور کھانا پینا چاہتا ہے وہ کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔
مخلوق میں غور و فکر عبادت ہے :
وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غو روفکر کرتے ہیں) اور جس چیز پر ان بڑے اجسام کی ایجاد اور انکی شاندار صنعت دلالت کرتی ہے اور وہ اشیاء جن کے بعض عجائب کے ادراک سے انسانی فہم عاجز و درماندہ ہیں جیسے صانع کی عظیم شان سلطنت اور اس کی بڑائی۔
نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ایک شخص بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ اوپر کو منہ تھا اچانک اس کی نگاہ آسمان اور ستاروں پر پڑی۔ تو کہنے لگا میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا ایک مالک اور خالق ہے۔ اے اللہ مجھے بخش دے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کو بخش دیا۔ (رواہ الثعلبی وابن حبان) آپ ﷺ نے فرمایا۔ سوچ و بچار جیسی کوئی عبادت نہیں ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان) ایک قول یہ بھی نقل کیا گیا۔ سوچ و بچار غفلت کو ختم کرتی ہے اور دل میں خشیت پیدا کرتی ہے اور غم کی طرح کوئی چیز دل کو جلا نہیں دیتی اور تفکر کی طرح کوئی چیز دل کو روشن نہیں کرتی۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا (اے ہمارے رب تو نے اس کو بیکار پیدا نہیں فرمایا) یہ حال کے محل میں ہے۔ یعنی یہ کہتے ہوئے وہ سوچ بچار میں مصروف ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ آپ نے اس کو بیکار مخلوق نہیں بنایا جس میں کوئی حکمت نہ ہو۔ بلکہ اس کو کسی عظیم الشان حکمت کے تحت پیدا فرمایا۔ ایک حکمت ان میں سے یہ ہے کہ تو نے اس کو مکلفین کی رہائش گاہ بنایا۔ اور اس میں ان کے تجھے پہچاننے کیلئے بہت سے دلائل موجود ہیں۔ اور ھٰذَا کا اشارہ خَلْقکی طرف ہے اور وہ اس طرح کہ مراد اس سے مخلوق ہو۔ یا اس کا مشارٌ الیہ السمٰوٰت والارض ہیں۔ کیونکہ وہ بھی مخلوق کے مفہوم میں داخل ہیں۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا
سُبْحٰنَکَ (اے اللہ تو سبحان ہے) باطل مخلوق کے اوصاف سے تو پاک ہے۔
سُبْحٰنَکَ یہ جملہ معترضہ ہے۔ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (اے اللہ تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا) اس میں فا کو اس لئے لایا گیا کیونکہ اس میں جزاء کا معنی پایا جاتا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ اذا نزھناک فقنا جب ہم نے آپ کو سبحان مان لیا تو تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
Ayah 3:192حقیقی رسوائی ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے :
192: رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ وَمَا لِلظّٰلمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔ (اے ہمارے رب بیشک تو نے جس کو آگ میں داخل کردیا پس اس کو رسوا کردیا) اس کی تذلیل کردی یا اس کو ہلاک کردیا یا اس کو رسواء کردیا۔
غلط استدلال : اس آیت میں : یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗج ( التحریم۔ 8) کو ملا کر استدلال کیا۔ کہ جو آگ میں داخل ہو وہ مومن نہیں ہوسکتا کیونکہ آگ میں داخل ہونے والا اس میں ہمیشہ رہے گا۔
فائدہ : جابر ؓ نے کہا مومن کو رسوا کرنے کا مطلب اس کو ادب سکھانا ہے۔ اور رسوائی تو اس سے بڑھ کر ہے۔
دونوں آیات کے ظاہر تضاد کا ازالہ : یوم لا یخزی اللّٰہ النبی : الاٰیۃ میں کامل ایمان والوں کا تذکرہ ہے اور معہ اس کا قرینہ ہے۔ اور اس آیت میں من تدخل النار عام ہے اور حضرت انس کے بقول اس سے ہمیشہ دوزخ میں رہنے والا مراد ہے۔ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ (اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا) لِلظّٰلمِیْنَ سے مراد آگ میں داخل ہونے والے، کفار مراد ہیں انصار سے مراد معاون و سفارشی جو انکی سفارش کرسکیں جیسا کہ ایمان والوں کیلئے ہونگے۔
Ayah 3:193بڑے منادی کی نداء :
193: رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَا دِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ ٰامِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَٰامَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۔ (اے ہمارے رب ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی نداء دے رہا تھا)
محاورہ ہے : سمعت رجلاً یقول کذا اس میں فعل کو رجل پر ڈالا اور جو چیز سنی اس کو حذف کردیا کیونکہ تم نے اس چیز سے اس کا وصف بیان کیا جو وہ سنتا ہے۔ اس لئے سنی ہوئی چیز کے ذکر کی ضرورت نہ رہی۔ اگر فعل سے اس کی صفت نہ کی جاتی تو اس طرح کہتے : سمعت کلام فلان۔ المنادی سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ یا قرآن مجید ہے۔ یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ : وہ ایمان کی نداء دے رہا تھا۔ یعنی لام اجلیہ ہے وہ ایمان باللہ کیلئے منادی دے رہا تھا اس میں منادی کی شان کو خوب بڑھا کر ذکر کیا۔ گویا اس طرح کہا کوئی منادی اس سے زیادہ بڑا نہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان کی دعوت دے رہا ہو۔ اَنْ ٰامِنُوْا بِرَبِّکُمْ اَنْ مصدریہ اور بَاؔ مقدر یا اَنْ تفسیر یہ منادی ایمان آمنوا کے لفظ سے تھی۔ اَنْ ٰامِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَٰامَنَّا (تم ایمان لائو اپنے رب پر پس ہم ایمان لے آئے)
شیخ ما تریدی کا قول :
شیخ ابو منصور ما تریدی (رح) فرماتے تھے کہ ایمان میں استثناء کے باطل ہونے کی اس میں دلیل ہے۔ (یعنی اس طرح کہنا غلط ہے کہ میں انشاء اللہ مومن ہوں بلکہ اس طرح کہنا چاہیے کہ میں یقینا مومن ہوں۔ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا (اے ہمارے رب تو پھر ہمارے گناہوں کو بخش دے) ہمارے کبائر کو بخش دے۔ (فاغفر کی فَا سببیہ ہے پہلا کلام بعد والے کلام کا سبب ہے۔
وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا (اور ہمارے صغیرہ گناہوں کو ہم سے مٹا دے) وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ۔ (ہمیں نیکوں کے ساتھ وفات دے) یعنی انکی دوستی کے ساتھ خاص فرما اور ان میں ہمارا شمار فرما۔ الْاَبْرَارِجمع برّیا بار کی ہے۔ اس سے مراد سنت کو مضبوطی سے تھامنے والے لوگ۔ اسی طرح کی جمع رب، ارباب اور صاحب اصحاب ہے۔
Ayah 3:194وعدہ والوں میں شمولیت کی دعا :
194: رَبَّنَا وَٰاتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَاتُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (اے ہمارے رب دے ہمیں جو آپ نے وعدہ فرمایا اپنے پیغمبروں کی زبانی) یعنی رسولوں کی تصدیق کے بدلہ میں جو وعدہ کیا یا پیغمبروں پر جو وعدہ تو نے نازل کیا تھا یا اپنے پیغمبروں کی زبانی کئے ہوئے وعدے۔
نحو : علٰی یہ وعدتنا سے متعلق ہے۔ جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ثواب ہے یا دشمنوں پر نصرت۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وعدے کی تکمیل طلب کی حالانکہ اللہ تعالیٰ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے۔ کیونکہ اس دعا کا مطلب یہ ہے۔ اے اللہ ہم آپ سے اس بات کی توفیق طلب کرتے ہیں کہ جو اسباب اس وعدہ کی تکمیل کرنے والے ہیں ہمارے حق میں انکی حفاظت فرما۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر دے کہ جن کے حق میں تیرا وعدہ ہے۔ کیونکہ وعدہ میں اس بات کو ظاہر نہیں کیا گیا کہ یہ کن کے لئے ہے۔ یا مراد یہ ہے ہمیں اس راستہ پر ثابت قدمی عنایت فرما جو ہمیں تیرے وعدے تک پہنچا دے اور اس کی تائید آیت کا اگلا حصہ وَ لَاتُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کر رہا ہے۔ وَلَاتُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ( اور تو ہمیں قیامت میں رسوا نہ فرما) اس میں مزید خشوع و خضوع کو ذکر کیا۔ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ (بلاشبہ آپ وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتے) یہ میعاد مصدر میمی ہے وعدے کے معنی میں آیا ہے۔
Ayah 3:195195: فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْم بَعْضٍ فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِ ھِمْ وَاُوْذُوْا فِی سَبِیْلِیْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُ کَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْ خِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَ نْھٰرُ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ۔ فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ (پس ان کے رب نے انکی دعا قبول فرمائی) یہاں استجاب اجاب کے معنی میں ہے۔
اَنِّیْ یہاں با اس سے قبل محذوف ہے۔ بایں طور لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ (کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا کوئی عمل ضائع نہیں کرونگا)
نحو : منکم یہ عامل کی صفت ہے۔ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی یہ عامل کا بیان ہے۔ خواہ وہ کرنیوالا مرد ہو یا عورت۔
کاملین کے ساتھ شرکت کا وعدہ :
بَعْضُکُمْ مِّنْم بَعْضٍ (تم ایک دوسرے سے ہو) مرد عورتوں میں سے اور عورتیں مردوں میں سے تم سب اولاد آدم ہو یا تم دین و نصرت میں ایک دوسرے کی معاونت کرنے والے ہو۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اس سے عورتوں کی مردوں کے ساتھ ان وعدہائے ربانی میں شرکت بتلائی جو اس نے اپنے کامل فرمانبردار بندوں سے کر رکھے ہیں۔ حضرت جعفر صادق (رح) سے مروی ہے۔ کہ جس شخص کو کوئی معاملہ پیش آئے اور وہ پانچ مرتبہ ربنا ٰاتنا ما وعدتنا پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو خوف سے نجات دیتے ہیں اور اس کا مقصود پورا فرما دیتے ہیں۔ فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا (پس وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی )
نحو : الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْامبتداء ہے لَاُ کَفِّرَنَّ عَنْھُمْ یہ خبر ہے۔ فَالَّذِیْنَ سے عاملین کے عمل کی تفصیل ذکر فرمائی۔ اس سے عامل کی بڑائی ظاہر ہوتی ہے گویا اس طرح فرمایا جنہوں نے یہ شاندار، اعلیٰ اعمال انجام دیئے جیسے ہجرت عن الوطن وہ اپنے دین میں اس طرح کامیاب ہیں کہ وہ بارگاہ الٰہی میں مامون ہونگے۔ ہجرت خواہ آخر زمانہ میں واقع ہو وہ اسی طرح ہے جو ابتدائے اسلام میں تھی۔ وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ (وہ اپنے گھروں سے نکا لے گئے) جہاں وہ پیدا ہوئے اور پرورش پائی۔ وَاُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ (اور ان کو میری راہ میں تکلیف دی گئی) خواہ وہ تکلیف ضرب و شتم کی قسم سے تھی یا ضیاع اموال کی صورت میں تھی۔ سبیلی سے مراد اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر ہے۔ وَقٰتَـلُوْا وَقُتِلُوْا (انہوں نے کفار سے لڑائیاں کیں اور شہید کردیئے گئے)
قراءت : مکی و شامی نے قُتِّلوا پڑھا ہے۔ اور حمزہ و علی نے وَقٰتِلُوْا وَقٰـتَلُوْ اتقدیم و تاخیر سے پڑھا ہے۔
فائدہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ وائو ترتیب کو لازم نہیں کرتی لَاُ کَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْ خِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَ نْھٰرُ (میں ضرور ان سے انکی غلطیاں مٹادونگا اور ضرور ان کو ایسے باغات میں داخل کرونگا جن کے نیچے نہریں چل رہی ہیں) یہ قسم محذوف کا جواب ہے۔ ثَوَابًا یہ محذوف فعل کا مفعول مطلق بطور تاکید لا یا گیا ہے۔ یعنی اثابۃ یا تثو یبًا۔ من عند اللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور ثواب، یعنی تثویبًا من عنداللّٰہ ہے کیونکہ : لَاُ کَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْ خِلَنَّھُمْ ۔
لاثیبنہم کے معنی میں ہے وَاللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ۔ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاں اچھا بدلہ ہے یعنی ذات باری تعالیٰ ہی یہ بدلہ دے سکتی ہے اور کسی کے بس کی بات نہیں۔
مسئلہ : مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار تو مزے لے رہے ہیں اور ہم بھوک سے نڈھال ہیں اس پر یہ آیات اتریں۔
Ayah 3:196استقامت علی الحق کا لطیف انداز :
196: لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ (اے مخاطب تمہیں کفار کا شہروں میں آنا جانا دھوکہ میں مبتلا نہ کرے) اس میں ہر ایک کو خطاب کیا گیا یا نبی اکرم ﷺ کو خطاب کر کے مراد دوسرے لئے گئے یا قوم کے سربراہ کو خطاب کیا جاتا ہے۔ اور اس کو مخاطب کرنا تمام کو خطاب کے قائم مقام ہوتا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا لَا یَغُرَّنَّکُمْ تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے اے مخاطبین۔
نمبر 2۔ آپ ﷺ تو انکی حالت کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہونے والے نہ تھے۔ اس سے آپ کو اس بات پر ثابت قدم رکھنے اور لازم کرنے کیلئے یہ انداز اختیار کیا گیا۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے : فَلاَ تَـکُوْنَنَّ ظَہِیْرًا لِّلْکٰفِرِیْنَ ( القصص : 86) وَلاَ تَــکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (الانعام : 14) یہ تو نہی میں اس کی دو نظیریں ہیں۔ امر میں اس کی نظیر اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ( الفاتحہ : 5) یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓ ا ٰ امِنُوْا ( النساء : 136) ہے۔
Ayah 3:197فانی بہرحال قلیل ہے :
197: مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ (تھوڑا نفع حاصل کرنا ہے)
نحو : یہ مبتدائے محذوف تَقَلُّبِہِمْ فِی الْبِلَادِ کی خبر ہے۔ قلیل کہنے کی وجہ۔ نمبر 1: آخرت باقیہ کی نعمتوں کو ضائع کردیا اور فانی دنیا کی چند لذات لے لیں۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کیلئے جو ثواب تیار کررکھا ہے۔ اسکے مقابلہ میں یہ قلیل ہے۔ نمبر 3۔ دنیا کے ختم ہونے کی وجہ سے یہ ذاتی طور پر حقیر ہے ہر زائل ہونے والی چیز قلیل کہلاتی ہے۔ ثُمَّ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِھَادُ (پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے) گویا انہوں نے اپنے لئے بہت بری چیز تیار کی ہے۔
Ayah 3:198متقین کو خلود والی نعمتیں ملیں گی :
198: لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ۔
(لیکن وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیا) یعنی شرک سے بچ گئے۔ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا نُزُلًا (ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چل رہی ہیں اور وہ ان باغات میں ہمیشہ رہنے والے ہیں بطور مہمان) النُّزُل والنُزْلَ کا معنی مہمان کو پیش کیا جانے والا کھانا۔
تین تراکیب :
نزلًا یہ حال ہے۔ جَنّٰتٌ سے۔ اس میں عامل لَھُمْ کا لام ہے۔
نمبر 2۔ یہ مصدر مؤکد ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ رزقًا یعنی جعل ذٰلک رزقًا۔
نمبر 3۔ عطاء۔ جعل ذٰلک عطائً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ (اللہ کے ہاں) یہ نزلاً کی صفت ہے۔ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ (اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) بیشمار اور دائمی خَیْرٌلِّلْاَبْرَارِ (وہ ابرار کیلئے بہت بہتر ہے) اس کی بہ نسبت جس کیلئے کفار و فجار سرمارتے پھر رہے ہیں کیونکہ وہ قلیل و زائل ہے۔
اہل نحو کے ہاں لٰکِن استدراک کیلئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ وہ نفع اٹھا رہے ہیں لیکن ان کے نفع اٹھانے میں بقاء نہیں۔ یہ بقاء متقین کیلئے ہوگی۔ یہ تشدید کے ساتھ لٰـکنَّ بھی استعمال ہوتا ہے۔