Ayah 3:92محبوب ترین چیز کا صدقہ :
92: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (تم ہرگز کمال نیکی نہیں پاسکو گے) یعنی تم حقیقی نیکی ہرگز نہ حاصل کرسکو گے یا تم ہرگز نیک نہ بن سکو گے۔ یا تم ہرگز اللہ تعالیٰ کے ثواب کو نہ پاسکو گے۔ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۔ (یہاں تک کہ تم خرچ کرو اس چیز کو جس کو تم پسند کرتے ہو) یعنی تم اپنے اموال میں سے کچھ اموال جن کو تم پسند کرتے اور ترجیح دیتے ہو خرچ کرو۔
حضرت حسن (رح) سے منقول ہے ہر وہ شخص جس نے اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے صدقہ کیا خواہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس آیت میں داخل ہے۔ گویا نفلی و فرضی ہر دو قسم کے انفاق اس میں شامل ہیں۔ واسطی (رح) کہتے ہیں۔ ِبرّتک اسی وقت پہنچا جاسکتا ہے جبکہ کچھ محبوب اشیاء اسکی راہ میں خرچ کی جائیں اور کونین سے یکسوئی اختیار کی جائے۔ ابوبکر وراق (رح) نے فرمایا تم میرے احسان کو اس وقت نہیں پاسکتے جب تک تم اپنے بھائیوں سے احسان مندی نہ کرو۔ اور حال یہ ہے کہ مطلوب تک اس وقت تک پہنچ نہیں سکتے ہو۔ جب تک کہ محبوب چیز کو اپنے سے نہ نکالو گے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے بارے میں آتا ہے کہ وہ چینی کے گٹو خرید کر خیرات کرتے تھے۔ ان سے کسی نے کہا آپ اسکی قیمت کیوں صرف نہیں کرتے ؟ تو فرمایا کیونکہ چینی مجھے پسند ہے اس لئے میں نے پسندیدہ چیز راہ خدا میں دینا پسند کی۔ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (جو چیز تم خرچ کرو اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والے ہیں) یعنی وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس کو تم خرچ کر رہے پس وہ اسکا بدلہ اسکے مطابق دے گا۔
نحو : پہلا مِنْ تبعیضیہ ہے۔ حضرت عبداللہ کی قراءت اسکی تصدیق کرتی ہے حَتّٰی تُنْفِقُوْا بَعْضَ مَاتُحِبُّوْنَ ۔ دوسرا مِنْ تبیین کیلئے ہے جس چیز میں سے انفاق ہو خواہ وہ پاکیزہ چیز ہو کہ جو تمہیں پسند ہو یا خبیث چیز ہو کہ جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔
مسئلہ : جب یہود نے یہ اعتراض کیا کہ محمد ﷺ ملت ابراہیم کے دعوے دار ہیں حالانکہ اونٹ کا گوشت استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ملت ابراہیم میں اونٹ کا گوشت اور لبن دونوں حرام تھے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ ملت ابراہیمی میں حلال تھا اس لئے ہم اس کو حلال سمجھتے ہیں۔ اس پر یہود نے کہا کہ یہ نوح ( علیہ السلام) اور ابراہیم ( علیہ السلام) سے لیکر آج تک حرام چلا آرہا ہے۔ تو یہ آیات انکی تکذیب میں اتاری گئیں۔
Ayah 3:9393: کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاًّ لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اِلَّا مَاحَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰٹۃُ قُلْ فَاْتُوْا
بِالتَّوْرٰٹۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔
یہود کے اعتراض کا جواب :
کُلُّ الطَّعَامِ (تمام کھانے) یہاں طعام بمعنی مطعوم یعنی غذا کے معنی میں ہے۔ جن میں نزاع چل رہا تھا۔ بعض تو ان میں سے وہ تھیں جو پہلے سے حرام چلی آرہی ہیں مثلاً مردار، خون۔ کَانَ حِلًّا لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (بنی اسرائیل کیلئے حلال تھے) حِلًا مصدر ہے اور صفت کے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ یعنی حلال جیسے عرب کہتے ہیں حل الشیٔ حِلاًّ مصدر ہونے کی وجہ سے اس میں تذکیر وتانیث، واحد، جمع کا فرق نہیں جیسے ارشاد الٰہی ہے۔ لا ھن حِلٌ لھم ( الممتحنہ۔ 10) وہ عورتیں ان مردوں کے لیے حلال نہیں۔ اِلَّا مَاحَرَّمَ اِسْرَآئِ یْلُ (مگر جو حرام کی اسرائیل یعنی یعقوب ( علیہ السلام) نے) عَلٰی نَفْسِہٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰٹۃُ (اپنے اوپر اس سے پہلے کہ تورات نازل ہو ) ۔
قراءت : مکی و بصری قراء نے تُنَزَّلَ کو تُنْزَلَ پڑھا ہے۔ مراد اس سے اونٹ کا گوشت اور دودھ ہے یہ دونوں چیزیں حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کو بہت محبوب تھیں۔ مطلب یہ ہوا کہ تمام کھانے بنی اسرائیل کیلئے تورات اترنے سے پہلے تک حلال رہے۔ سو ائے ان کھانوں کے جنکو حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ پھر جب تورات نازل ہوئی تو بنی اسرائیل پر اونٹ کا گوشت و دودھ حرام کردیا گیا۔ اسلئے کہ ان کو حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ قُلْ فَاْ تُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ ( کہہ دیں اے محمد ﷺ ! تم تورات لائو اور اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو) اس آیت میں حکم دیا گیا کہ آپ ان سے انکی کتاب کے ذریعہ گفتگو کر کے ان کو لا جواب کریں۔ وہ کتاب خود بول دیگی کہ ان چیزوں کی تحریم ان پر وقتی طور پر انکی بغاوت و سرکشی کی وجہ سے نافذ کی گئی تھی۔ قدیم تحریم نہ تھی۔ جس کے وہ مدعی ہیں۔ (اس چیلنج کے بعد) وہ تورات کو لانے کی جرأت نہ کرسکے پس لاجواب ہوگئے۔ اس میں اس بات کی واضح دلیل ہے۔ کہ محمد ﷺ سچے پیغمبر ہیں۔ اور جس نسخ کا وہ انکار کرتے ہیں۔ وہ بھی جائز و درست ہے۔
Ayah 3:94حق ناشناس ظالم ہے :
94: فَمَنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (پس جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھے) اس طرح گمان کر کے کہ یہ چیزیں ملت نوح ( علیہ السلام) و ابراہیم ( علیہ السلام) میں حرام تھیں۔ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ (اس قطعی حجت کے پیش کردینے کے بعد) فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (وہ ہی ظالم ہیں) یعنی بیجا جھگڑا کرنے والے ہیں نہ وہ خود حق شناس ہیں اور نہ ہی دلائل کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں۔
Ayah 3:95کذبِ یہود پر تعریض :
95: قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًاط وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (کہہ دیں اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا) اپنی اطلاعات میں کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام نہیں کیا۔ اس آیت میں ان کے کذب پر تعریض کی گئی ہے یعنی یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز اتاری ہے وہ اسکے اتارنے میں سچے ہیں۔ اور تم جھوٹے ہو۔ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ ( تم ملت ابراہیم کی اتباع کرو) ملت ابراہیم سے مراد ملت اسلام ہے جس پر محمد ﷺ اور ان کے پیروکار کاربند ہیں۔ تاکہ تم اس یہودیت کو خیر باد کہہ دو جس نے تمہیں باندھ کر یہاں تک مجبور کردیا کہ تم اپنی اغراض کی خاطر کتاب اللہ کی تحریف کرنے لگے۔ اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین کیلئے حلال کیا تھا۔ ان کو حرام کرنے پر اتر آئے۔
حَنِیْفًا (وہ سب سے یکسو ہونے والے تھے) ۔ یہ ابراہیم سے حال ہے یعنی باطل دینوں سے دین حق کی طرف جھکنے والے وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (وہ مشرکین میں سے نہ تھے) نحو : یہود نے کہا ہمارا قبلہ تمہارے قبلہ سے پہلے کا قبلہ ہے تو یہ آیت اتری۔
Ayah 3:96پہلی عبادت گاہ کعبہ ہے :
96: اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ سب سے پہلا مکان جو لوگوں کے لئے قائم کیا گیا (یعنی عبادت کے لئے) بنانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے وضع کرنے کا مطلب بطور عبادت گاہ کے لوگوں کیلئے مقرر کرنا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا لوگوں کے لئے پہلی عبادت گاہ کعبہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ مسجد حرام بیت المقدس سے چالیس سال قبل بنائی گئی۔
دوسرا یہ کہا گیا ہے کہ سب سے پہلے ابراہیم ( علیہ السلام) نے اس کو بنایا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ پہلا گھر جس کا طوفان کے بعد حج کیا گیا وہ بیت اللہ ہے۔ چوتھا قول یہ ہے پہلاگھر (جسکی جگہ) پانی میں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت ظاہر ہوا۔ پانچواں قول یہ ہے۔ یہ پہلا گھر ہے جس کو آدم ( علیہ السلام) نے سطح زمین پر بنایا۔
نحو : وُّضِعَ لِلنَّاسِ یہ موضع جر میں بیت کی صفت ہے اور لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ خبر ہے۔ ای لِلْبَیْتِ الَّذِیْ بِبَکَّۃَ ۔
مکہ کا نام بکّہ ہے :
لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ (جو کہ مکہ میں ہے) بکہ یہ مکہ مکرمہ کا نام ہے۔ مکہ اور بکہ دو لغتیں ہیں۔
دوسرا قول : مکہ شہر کا نام ہے اور بکہ مسجد کی جگہ کو کہتے ہیں۔
ایک اور قول یہ ہے کہ یہ بکہ سے مشتق ہے جو ازدحام کو کہتے ہیں۔ کیونکہ مکہ میں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بکہ کا معنی توڑنا ہے کیونکہ یہ جابروں کی گردنوں کو توڑ دیتا ہے جو جابر بھی اسکا قصد کر کے آتا ہے۔ مُبٰرَکًا بہت (برکت والا) اس لئے کہ حج وعمرہ کرنے والوں کو ثواب ملتا ہے اور گناہ معاف ہوتے ہیں۔ وَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ( اور جہان والوں کیلئے ہدایت ہے) کیونکہ وہ انکا قبلہ اور عبادت گاہ ہے۔
نحو : مُبٰرَکًا یہ وُضِعَ کی ضمیر سے حال ہے۔
Ayah 3:97کعبہ خود نشانات میں سے بڑا نشان ہے :
97: فِیْہِ ٰایٰتٌم بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ ٰامِنًاط وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیلًاط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (اس میں واضح نشانات ہیں) جو کسی پر مشتبہ نہیں مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ مقام ابراہیم یہ آیات بینات سے عطف بیان ہے۔ یعنی کعبہ میں کثرت سے واضح نشانیاں یعنی مقام ابراہیم ہے۔ جمع کا عطف بیان واحد آسکتا ہے۔ کیونکہ نمبر 1۔ وہ اکیلا ہی کئی واضح نشانات کے قائم مقام ہے۔ کیونکہ اس کی شان ظاہر ہے اور قدرت الٰہی پر اسکی دلالت انتہائی قوی ہے۔ اور نبوت ابراہیم ( علیہ السلام) پر مضبوط دلالت ہے کہ ان کے قدم کا اثر اس سخت پتھر پر ظاہر ہوا۔
نمبر 2۔ وہ پتھر کئی نشانات پر مشتمل ہے کیونکہ ان کے قدم مبارک کا اثر سخت چٹان پر ایک نشانی اور پائوں کا ٹخنوں تک دھنسنا دوسری نشانی ہے۔
نمبر 3۔ بعض پتھروں کا نرم ہونا اور دوسروں کا نہ ہونا۔ نمبر 4۔ ابراہیم ( علیہ السلام) کی نشانی کے طور پر اسکا باقی رہنا جبکہ دیگر انبیاء ( علیہ السلام) کے نشانات موجود نہیں۔ وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ ٰامِنًا (جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں ہوگیا) یہ آیات بینات سے عطف بیان ہے۔ اور اگرچہ یہ جملہ ابتدائیہ یا شرطیہ ہے معنوی لحاظ سے کیونکہ یہ حرم میں داخل ہونے والے کے مامون ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ اس میں واضح نشانیاں یعنی مقام ابراہیم اور داخل ہونے والے کا مامون ہونا۔ یہ تثنیہ ہی معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ ان دونوں نشانات کا ذکر کردیا جائے اور بقیہ نشانات کا تذکرہ سمیٹ دیا جائے کیونکہ ان دونوں میں ان نشانات پر کافی دلالت پائی جاتی ہے گویا اس طرح کہا گیا کہ اس میں واضح آیات مقام ابراہیم اور اس میں داخل ہونے والے کا مامون و محفوظ ہونا اور ان دونوں کے علاوہ اور بہت سی نشانیاں ہیں جیسے۔ پرندے اسکے اوپر نہیں اڑتے وغیر ذلکگویا ان دونوں نشانیوں میں سارے تذکرہ کو اس طرح لپیٹ دیا گیا جیسا رسول ﷺ کے اس ارشاد میں حبِّبَ اِلَیَّ من دنیا کم ثلاث الطیب والنساء و قرۃ عینی فی الصلٰوۃ اس ارشاد مبارک میں تیسری چیز کو چھوڑ دیا گیا اور اسکی بجائے جملہ ابتدائیہ کے طور پر قرۃ عینی فی الصلوۃ فرما دیا جو دنیا سے متعلق نہیں گویا آپ نے تیسری چیز کا تذکرہ اس بات پر متنبہ کرنے کیلئے چھوڑ دیا کہ میرے مرتبے کا تقاضہ نہیں کہ میں دنیا کی کسی چیز کا ذکر کروں۔ اس لئے دین کی ایک چیز کو ذکر کردیا۔
نشان قدم مبارک :
پتھر پر قدم کے اس نشان کے بارے میں کہا گیا کہ جب بیت اللہ کی دیوار بلند ہوگئی اور ابراہیم ( علیہ السلام) کیلئے پتھر اٹھانے ممکن نہ رہے تو آپ اس پتھر پر کھڑے ہوگئے اس میں آپ کے قدم گڑ گئے۔
دوسرا قول یہ بھی ہے کہ آپ شام سے واپس لوٹے۔ تاکہ مکہ میں بیٹے سے ملاقات کریں۔ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی بیوی نے کہا آپ اتریں آپ سر مبارک دھولیں۔ آپ سواری سے نہ اترے۔ تو وہ یہ پتھر اٹھا لائیں اور انکے دائیں طرف اس پتھر کو رکھ دیا۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنا قدم اس پتھر پر رکھا یہاں تک کہ اپنے سر کی دائیں جانب دھولی۔ پھر وہ اس پتھر کو بائیں جانب لے گئیں یہاں تک کہ انہوں نے سر کی بائیں جانب بھی سواری کی حالت میں دھولی۔ پس آپ کے قدمین کا اثر اس پتھر پر باقی رہ گیا۔
حرم امن کی مراد :
اور حرم میں داخل ہونے والے کیلئے امن کا میسر آنا ابراہیم ( علیہ السلام) کی اس دعا سے تھا رب اجعل ھذا البلد ٰامنا (ابراہیم۔ 35) اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے۔ عرب جاہلیت میں جب کوئی آدمی جرم کر کے حرم میں پناہ گزیں ہوجاتا۔ تو اس کو تلاش نہ کیا جاتا۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے۔ کہ اگر میں خطاب کے قاتل کو اسکے اندر پانے میں کامیاب ہوجائوں تو میں اس کو وہاں سے نکلنے تک ہاتھ تک نہ لگائوں گا۔
مسئلہ : جس آدمی پر حِلْ میں قصاص لازم ہوا یا ارتداد کے باعث یا زنا کی وجہ سے قتل کے قابل ہوا۔ پھر وہ حرم میں گھس گیا۔ تو اس کو وہاں قتل نہ کیا جائے گا۔ مگر اس کو ٹھکانہ لینے اور کھانا، پانی لینے کی اجازت نہ دی جائیگی۔ اور نہ خریدو فروخت کی اجازت دی جائیگی۔ تاآنکہ نکلنے پر مجبور ہوجائے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ امن سے مراد مامون من النار ہے۔ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا جو حرمین میں سے کسی میں فوت ہوا قیامت کے دن اس کو آگ سے مامون اٹھایا جائے گا۔ رسول ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ حجون اور بقیع کو انکی اطراف سے پکڑ کر جنت میں پھیلا دیا جائے گا۔ یہ دونوں مدینہ و مکہ کے قبرستان ہیں۔ رسول ( علیہ السلام) کا ارشاد ہے جس نے مکہ کی گرمی پر دن کا تھوڑا ساحصہ صبر کیا اس سے جہنم دو سو سال کے فاصلے پر دور ہوجاتی ہے۔
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ (لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فرض حج لازم ہوا)
قراءت : ابوبکر کے علاوہ دیگر کوفی قراء نے حِجُّ الْبَیْتِ بطور نام کے پڑھا ہے اور حج البیت۔ فتح کی صورت میں یہ مصدر ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حج مصدر میں یہ دونوں لغتیں ہیں۔ مَنِ یہ موضع جر میں بدل البعض ہے۔ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا ( اسکی طرف راستہ کی طاقت رکھتا ہو) نبی اکرم ﷺ نے اسکی تفسیر زاد و راحلہ سے کی ہے۔ اور اِلَیْہِ کی ضمیر کا مرجع البیت یا حج ہے اور ہر وہ چیز جو کسی چیز کی طرف جانے کا ذریعہ ہو وہ سبیل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد نازل ہوا۔
ملّت مسلمہ کا اقرار :
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ تو رسول اللہ ﷺ نے تمام اہل ادیان کو جمع کیا۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض کیا پس تم حج کرو۔ پس آپ پر ایک ملت والوں نے یقین کیا اور وہ مسلمان تھے۔ اور پانچ ملتوں والوں نے انکار کردیا۔ اور کہنے لگے۔ ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اور اسکی طرف رخ کر کے نہ نماز پڑھیں گے اور نہ ہی اس کا حج کریں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (جس نے انکار کیا پس بیشک اللہ تعالیٰ جہان والوں سے مستغنی ہیں) اور انکی اطاعت سے بھی بےنیاز ہیں۔
لطیف نکتہ :
اس آیت میں کئی تاکیدات ہیں۔ مثلاً لام، علی، مطلب یہ ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لازم حق ہے۔ جو لوگوں کی گردنوں پر پڑا ہوا ہے۔ نیز اس میں ابدال ہے، مراد دو مرتبہ تکرار سے لایا گیا۔ کیونکہ ابہام کے بعد وضاحت اور اجمال کے بعد تفصیل کرنا۔ دو الگ صورتوں میں اس حکم کو لانے اور ذکر کرنے کی طرح ہے۔
تارکِ حج پر اللہ غضبناک ہے :
اور اسی قسم میں سے یہ حصہ ارشاد الٰہی کا ہے کہ وَمَنْ کَفَرَ فرمایا۔ َمنْ لم یحج نہیں فرمایا۔ تارک حج پر سختی کرتے ہوئے اس کو کافروں کا عمل قرار دیا۔ اور اس میں سے ایک جہان والوں سے بےنیازی کا ذکر فرمانا ہے۔ اور یہ ناراضگی اور غصے کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تارک حج سے اللہ غضبناک ہے۔ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ۔ میں لفظ اللہ کو دوبارہ لائے ضمیر ذکر نہیں کی۔ تاکہ تارک حج کی طرف اللہ تعالیٰ کا استغناء بصورت تعمیم مدلل طور پر ظاہر ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب معلوم ہوجائے۔
Ayah 3:9898: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِٰایٰتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَاتَعْمَلُوْنَ ۔ (اے اہل کتاب تم کیوں اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ گواہ ہیں تمہارے اعمال پر) وَاللّٰہُ میں وائو حالیہ ہے۔ مطلب یہ ہے تم ان آیات اللہ کا کیوں انکار کرتے ہو جو حضرت محمد ﷺ کی صداقت پر دلالت کرنے والی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے واقف ہیں پس وہ ان پر تمہیں سزادیں گے۔
Ayah 3:99اللہ کی راہ سے روکنے پر وعید :
99: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ ٰامَنَ تَبْغُوْنَھَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُھَدَآئُ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (اے اہل کتاب تم کیوں روکتے ہو) الصدُّ ۔ منع کرنا۔ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ ٰامَنَ (اللہ تعالیٰ کی راہ سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے) یعنی تم دین حق سے کیوں روکتے ہو۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کا وہ راستہ جس پر چلنے کا حکم دیا گیا وہ اسلام ہے۔ جو آدمی اسلام میں داخل ہونا چاہتا وہ پوری کوشش کر کے اس سے روکتے۔ تَبْغُوْنَھَا (تم اس میں تلاش کرتے ہو) ای تطلبون لہا تم اللہ کے راستہ کے کج ہونے کے طلب گار ہو۔
نحو : یہ محل نصب میں حال ہے۔
عِوَجًا (ٹیڑھ) یہ بمعنی اعوجاجا ہے۔ ٹیڑھا ہونا وہ میانہ روی اور استقامت سے ہٹ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی صفات کو بگاڑ کر بیان کرتے وغیرہ۔ اَنْتُمْ شُھَدَآئُ (تم گواہ ہو کہ) وہ اللہ تعالیٰ کا ایسا راستہ ہے جس سے کوئی انتہائی گمراہ شخص روک سکتا ہے۔ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں) جیسے اسکی راہ سے لوگوں کو روکنا اس میں سخت وعید ہے۔ اگلی آیت میں ایمان والوں کو ایسے لوگوں کی اتباع سے منع کردیا۔
Ayah 3:100100: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَاِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کی ایک جماعت کی پیروی کروگے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں گے)
شاس بن قیسؔ یہودی کی شرارت :
کہا جاتا ہے کہ شاس بن قیس یہودی کا گزر اوس و خزرج کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا جہاں بیٹھ کر وہ باتوں میں مصروف تھے۔ اس کو مسلمانوں کی باہمی الفت و محبت ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو کہا کہ وہ ان کے مابین جا کر جنگ بعاث کا تذکرہ کرے شاید کہ یہ لڑ پڑیں یہ جنگ بعاث ایسا دن تھا جس میں اوس و خزرج کے بہت سے لوگ قتل ہوئے تھے۔ نتیجۃًاوس کو فتح ملی تھی۔ اس یہودی نے جاکر ان کے مابین اس کا تذکرہ کیا۔ اس پر ان کے مابین تنازع پیدا ہوا۔ اور السلاح۔ السلاح نعرہ ہائے جاہلیت بلند کرنے لگے۔ نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ مہاجرین و انصار کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر ان کی طرف تشریف لائے اور فرمایا کیا تم جاہلیت کی آوازیں دے رہے ہو حالانکہ ابھی تو میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ اسکے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام سے عزت دی اور تمہارے مابین الفت پیدا فرما دی۔ پس اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ شیطانی چوک ہے۔ چناچہ ہتھیار پھینک کر ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:101استفہام تعجبّی ہے :
101: وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عََلَیْکُمْ ٰایٰتُ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ وَکَیْفَ تَکْفُرُوْنَ (اور تم کفر کیسے کرسکتے ہو) کَیْفَمیں استفہام انکار و تعجب کیلئے ہے۔ یعنی تعجب ہے کہ کہاں سے کفر تمہاری طرف چل کر آیا حالانکہ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عََلَیْکُمْ ٰایٰتُ اللّٰہِ (اور تم پر اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں) تم پر اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی قرآن معجز حضرت محمد ﷺ کی زبان سے تازہ بتازہ پڑھا جاتا ہے۔ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُہٗ ( اور تمہارے درمیان اسکا رسول ﷺ موجود ہے) جو تمہیں منع کرتا اور وعظ و نصیحت کرتا اور تمہارے شبہات کو مٹاتا ہے۔ وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ (اور جو شخص اللہ کو مضبوط پکڑتا ہے) جو اللہ تعالیٰ کے دین کو یا اسکی کتاب کو مضبوطی سے تھامنے والا ہو یا اس میں اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ وہ کفار کے شروروفریب کو دور کرنے کیلئے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کریں۔ فَقَدْ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (تو اس کو ضرور ہدایت میسر آگئی سیدھے راستہ کی طرف) یعنی دین حق کی طرف اسکی راہنمائی کردی گئی۔ یا جو شخص اللہ تعالیٰ کو اپنا ماویٰ وملجا قرار دے جبکہ شبہات پیش آئیں تو اللہ تعالیٰ اس کو شبھات سے محفوظ فرماتے ہیں۔
Ayah 3:102حق تقویٰ کامل اطاعت ہے :
102: یٰٓــاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ (اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا ہے اور سوائے اسلام کے اور کسی حالت پر جان مت دینا) حَقَّ تُقَاتِہٖ کا مطلب جو تقویٰ لازم ہے اور جو کچھ اس سے لازم ہوتا ہے اور وہ واجبات کو اختیار کرنا اور محرمات سے پرہیز کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ تقویٰ اطاعت کرنے اور نافرمانی نہ کرنے اور شکر بجالانے اور ناشکری سے گریز کرنے اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور نہ بھلانے کو کہتے ہیں۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت رکاوٹ نہ بنے اور وہ انصاف کرے خواہ اپنے نفس اور اولاد و والد کے خلاف کیوں نہ ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے صحیح طور پر ڈر تا ہے۔ اسکی زبان حکمت کا خزینہ ہوگی۔
صرف : التقاۃ یہ اتقٰی سے ہے جس طرح تؤدۃ۔ اَتَاد سے ہے۔
وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ۔ جب تمہیں موت کا ادراک ہوجائے تو تمہاری حالت اسلام کے سواء دوسری ہرگز نہ ہونی چاہیے۔
Ayah 3:103اعتصام بحبل اللّٰہ کا حکم :
103: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًاج وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَ کُمْ مِّنْہَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (اور اللہ تعالیٰ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو) یعنی قرآن کو مضبوطی سے تھام لو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسّی ہے۔ اسکے عجائبات کی انتہاء نہیں۔ اور بار بار لوٹانے سے پرانا نہیں ہوتا۔ جس نے قرآن کی بات کی اس نے سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا وہ رشد و ہدایت پا گیا۔ اور جس نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا اس نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت پالی۔ وَّلَا تَفَرَّقُوْا (اور باہم نااتفاقی مت کرو)
اجماعِ امت کو مضبوطی سے پکڑو :
نحو : وَّلَا تَفَرَّقُوْا یہ وَاعْتَصِمُوْا کی ضمیرمخاطب سے حال ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب اجماع امت کو مضبوطی سے پکڑو۔ اسکی دلیل وَّلَا تَفَرَّقُوْا ہے یعنی ایسا فعل نہ کرو جس سے تفرقہ پیدا ہو۔ اور اس سے اجماع امت زائل ہوجائے۔ دوسری تفسیر یہ بھی ہے کہ اپنے درمیان اختلاف میں پڑ کر حق سے علیحدگی مت اختیار کرو۔ جیسے یہود و نصاریٰ نے اختلاف کیا۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ جس طرح تم زمانہ جاہلیت میں متفرق تھے ایک دوسرے سے لڑائی کرتے تھے۔ اس طرح مت کرو۔
وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا (اور اللہ تعالیٰ کا اپنے اوپر احسان یاد کرو۔ جب کہ تم دشمن تھے پس اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اسکی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے) زمانہ جاہلیت میں ان کے مابین دشمنی اور لڑائیاں تھیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اسلام کے ذریعہ الفت ڈال دی اور ان کے قلوب میں محبت پیدا کردی پس وہ آپس میں محبت کرنے لگے اور بھائی بھائی بن گئے۔
گرنے والے گڑھے کا کنارہ جہنم :
وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ ( اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے) یعنی تم کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔ اور تم اس میں ج اگر تے کیونکہ کفر پر تھے۔ فَاَنْقَذَ کُمْ مِّنْہَا (پس اس نے تمہیں اس سے نجات دی) اسلام نصیب کر کے۔ اس میں فرقہ معتزلہ کی تردید ہے۔ کیونکہ ان کے ہاں وہ خود اپنے آپ کو نکالنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نکالنے والے نہیں۔ ھَا کی ضمیر حفرۃ، نار یا شفاء کی طرف راجع ہے۔ اور حفرۃ کی طرف اضافت کی وجہ سے مؤنث لائے۔ شَفَا حُفْرَۃٍ گڑھے کا کنارا۔ اس کا لام کلمہ وائو ہے اسی لئے اس کی تثنیہ شفوان آتی ہے۔ کَذٰلِکَ (اسی طرح) ایسے شاندار بیان سے یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰتِہٖ (اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو تمہارے لئے کھول کر بیان کرتے ہیں) یعنی قرآن جس میں امرونہی، وعدو وعید ہے۔ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (تاکہ تم راہ پائو) یعنی تاکہ تم ہدایت کے امیدوار بنو۔ یا تاکہ تم اسکے ذریعہ درست راستہ اور جس سے ثواب حاصل ہوتا ہے۔ وہ راہ پائو۔
Ayah 3:104امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت :
104: وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف دعوت دینے والی ہو) المعروف سے مراد جس کو شرع اور صحیح عقل درست قرار دے۔ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور برائی سے روکنے والی ہو) الْمُنْکَرِ جس کو شریعت اور صحیح عقل برا سمجھیں یا معروف وہ جو کتاب و سنت کے موافق اور منکر وہ ہے جو کتاب و سنت کے مخالف یا معروف اطاعت کو کہتے ہیں جبکہ منکر معاصی کو کہتے ہیں۔ خیر کی طرف دعوت تمام افعال تکلیفیہ اور ممنوعات میں عام ہے۔ اور جو اس پر عطف کیا گیا وہ خاص ہے۔
مِّنْکُمْ میں مِّنْ تبعیض کے لئے ہے۔ کیونکہ امربالمعروف و نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے۔ اور یہ اسی کے لئے مناسب ہے جو معروف و منکر کی خبر رکھتا ہو۔ اور اس کو یہ معلوم ہو کہ اسکے قائم کرنے کیلئے ترتیب کیا ہوگی۔ وہ آسان سے شروع کرے اگر فائدہ نہ ہو تو پھر اس سے مشکل کی طرف ترقی کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاصلحوا بینہما کہ ان کے مابین درستگی کرو پھر فرمایا : فقاتلوا ( الحجرات : 9) پھر اس سے لڑو۔
نمبر 2۔ دوسری تفسیر مِنْ بیانیہ ہے تم ایسی امت بن جائو جو حکم کرنے والی ہو بھلائی کا جیسا کہ اس ارشاد الٰہی میں ہے : کنتم خیر امۃ اخرجت لِلنّاس تامرون بالمعروف کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کیلئے نکالی گئی ہو تم حکم کرتے ہو معروف کا۔
وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (وہ وہی لوگ کامیاب ہیں) یعنی کامل فلاح کے ساتھ خاص ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے امربالمعروف کیا اور برائی سے روکا وہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کا خلیفہ ہے اور اسکے رسول کا خلیفہ اور اس کی کتاب کا خلیفہ ہے۔
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ افضل الجھاد الامر بالمعروف والنہی عن المنکر افضل ترین جہاد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔
Ayah 3:105تفرقہ تو یہود و نصاریٰ کی خصلت ہے :
105: وَلَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ وَاُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے (عداوت سے) تفرقہ ڈالا) وَاخْتَلَفُوْا (اور اختلاف پیدا کیا) دین میں وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ انہوں نے اختلاف کیا اور ایک دوسرے کو کافر قرار دیا۔ مِنْم بَعْدِ مَاجَآ ئَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ (اسکے بعد کہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے) جو کہ کلمہ حق پر سب کے اتفاق لازم کرنے والے تھے۔ وَاُولٰٓپکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (ان لوگوں کیلئے بڑا عذاب ہے)
Ayah 3:106106: یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ جس روز بعض چہرے سفید ہوجائیں گے۔ یَّوْمَکو اذکروا محذوف کا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب پڑھا جائے گا۔ یا عظیم یا لھم کی وجہ سے اور وجوہٌسے مراد وجوہ المؤمنین ایمان والوں کے چہرے مراد ہیں۔ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ (اور کافروں کے چہرے سیاہ ہونگے) بیاض نور کے باعث ہوگا جبکہ سیاہی ظلمت کی وجہ سے۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ (پھر وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوئے) پس ان کو کہا جائے گا۔ اَکَفَرْتُمْ (کیا تم نے کفر کیا) یہاں قول اور فا کو حذف کردیا کیونکہ وہ معلوم ہے اور ہمزہ تو بیخ کیلئے اور انکی اس حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایمان کے بعد کفر کرنے والے مرتد ‘ منافق و اہل کتاب :
بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ اپنے ایمان کے بعد۔ یعنی ایمان سے مراد میثاق کے دن والا اقرار ہے۔ پس مراد اس سے تمام کفار ہونگے۔ یہ حضرت ابی ؓ کا قول ہے اور ظاہر قول بھی یہی ہے۔
دوسرا قول : مرتد یا منافق مراد ہیں۔ پھر مطلب یہ ہوگا۔ کیا تم نے باطن میں انکار کیا بظاہر اسلام کا اقرار کرلینے کے بعد۔
تیسرا قول : اہل کتاب مراد ہیں ایمان کے بعد ان کے کفر کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی آمد سے قبل آپ کا اعتراف کیا مگر آمد کے بعد انکار کردیا۔ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ (پس تم اپنے کفر کے باعث عذاب چکھو)
Ayah 3:107107: وََاَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْھُھُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (اور پھر وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں ہونگے) رحمت سے یہاں مراد نعمت اور ہمیشہ کا ثواب ہے۔ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) یہ جملہ مستانفہ لائے۔ کہ نہ وہ جنت سے کوچ کریں گے اور نہ ہی ان پر موت واقع ہوگی۔
Ayah 3:108108: تِلْکَ ٰایٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًالِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں) جو وعد ووعید وغیرہ کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں۔ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ (ہم ان کو تم پر پڑھ رہے ہیں اس حال میں کہ وہ حق سے ملی ہوئی ہیں) اور عدل کے ساتھ یعنی محسن کا بدلہ اور مجرم کو سزا۔
اللہ جل شانہ بلا جرم گرفتار نہیں کرتے :
وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًالِّلْعٰلَمِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ جہان والوں کے ساتھ ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرماتے) یعنی وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں چاہتے کہ کسی کو بغیر جرم کے گرفتار کرلیں یا مجرم کو جرم سے زیادہ سزا دیں یا نیکی کرنے والے کا ثواب کم کردیں۔
Ayah 3:109109: وَلِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف تمام امور لوٹائے جائینگے) پس وہ محسن کو اسکے احسان اور مجرم کو اسکی برائی پر سزا دیگا۔
قراءت : شامی اور حمزہ اور علی نے تَرْجِعُ ۔ تا کے فتحہ اور جیم کے کسرہ سے پڑھا ہے۔
اہم تنبیہ :
کَانَ سے زمانہ ماضی میں ابہام کے طور پر کسی شے کے وجود کی تعبیر کی جاتی ہے۔ اس میں عدم سابق اور انقطاع مستقبل کی کوئی دلیل نہیں۔ مطلب یہ ہے کَانَ کا زمانہ ماضی کے لیے آنا کسی چیز کے ثبوت پر تو دلالت کرتا ہے مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ثبوت ماضی منقطع ہوگیا یا آئندہ منقطع ہوجائیگا۔ یہ تعیین تو خار جی قرائن کی محتاج ہے۔ اس لئے جب انقطاع کا قرینہ نہ ہوگا تو استمرار ہی ثابت ہوگا۔
Ayah 3:110بہترین امت کا لقب :
110: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْ مُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلَوْٰامَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (کہ تم بہترین امت ہو) (اور تھے اور ہوگے) گویا اس آیت میں کُنْتُمْ کہہ کر یہ کہا گیا تم بہترین امت پائے گئے یا تم اللہ تعالیٰ کے علم میں بہترین امت تھے۔ یا لوح محفوظ میں بہترین امت تھے۔ یا تم بہترین امت ہو ان امتوں میں جو تم سے قبل ہو گزریں اس لئے کہ تم خیر امت کی صفت سے موصوف ہو۔ اُخْرِجَتْ تم ظاہر کی گئی ہو۔ لِلنَّاسِ (لوگوں کیلئے) لام اُخْرِجَتْ کے متعلق ہے تَاْ مُرُوْنَ (تم حکم دیتے ہو) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہ جملہ لا کر خیر امت ہونا مزید واضح کیا جیسا تم کہو۔ زید کریم یطعم الناس ویکسوھم دراصل زید کی سخاوت کو اطعام اور الباس سے خوب واضح کیا۔ بِالْمَعْرُوْفِ بھلائی کا۔ بھلائی سے ایمان اور اطاعت رسول ﷺ مراد ہے۔ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور تم برائی سے روکتے ہو) منکر سے یہاں کفر مراد ہے اور ہر ممنوع بھی اسکے تحت داخل ہے۔ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ (تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو) اور اس پر ایمان میں مداومت اختیار کرنے والے ہو۔ (تو گویا پہلے ایمان کا ویسے تذکرہ فرمایا اور یہاں ایمان پر مداومت کے لحاظ سے ذکر فرمایا) یا وائو ترتیب کا تقاضہ نہیں کرتی اس لئے امر بالمعروف کے بعد ایمان کے ذکر میں حرج ہی کیا ہے۔ (بلکہ اس میں نکتہ یہ ہے کہ امر بالمعروف دکھاوے کیلئے نہیں کرتے بلکہ دل کی ترجمانی کرتے ہوئے کرتے ہیں) ۔
اہل کتاب کا ریاست کو ترجیح دینا قابل افسوس ہے :
وَلَوْ ٰامَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ (اگر اہل کتاب (حضرت محمد ﷺ ) پر ایمان لے آتے) لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ (تو ان کیلئے بہتر ہوتا) تو ان کے لئے ایمان بہت بہتر ہوتا اس سے جس میں وہ مبتلا ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو دین اسلام پر ریاست کی محبت میں ترجیح دی اور تاکہ عوام ان کے پیرو رہیں۔ اگر وہ ایمان لے آتے تو ان کو وہ سرداری بھی مل جاتی اور اتباع بھی میسر آجاتی دنیا سے نفع اندوزی بھی ہوجاتی جس کی خاطر انہوں نے دین باطل کو ترجیح دی۔ بلکہ ایمان پر جس کامیابی کا وعدہ کیا گیا اور دو مرتبہ اجر دینا بتلایا گیا وہ بھی ان کو حاصل ہوجاتا۔
مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ (ان میں کچھ مومن ہیں) جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی۔ وَاَکْثَرُ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ( اور اکثریت انکی فساق ہے) یعنی کفر میں ضدی اور سرکش۔
کفار کی معمولی ایذائیں تو رہیں گی :
Ayah 3:111111: لَنْ یَّضُرُّوْکُمْ اِلَّآ ٓاذًی ط وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْکُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَایُنْصَرُوْنَ ۔ (وہ ہرگز تمہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ مگر معمولی) یعنی تھوڑی تکلیف جو زبانی طور پر دین میں طعن کرنے کی حد تک ہو۔ یا اسی طرح کی دوسری تکلیف دھمکی وغیرہ۔ وَاِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ یُوَلُّوْ کُمُ الْاَدْبَارَ (اگر وہ تم سے لڑ پڑیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں) یعنی شکست کھا کر۔ وہ تمہیں قتل و قید کا نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ ثُمَّ لَایُنْصَرُوْنَ (پھر انکی مدد نہ کی جائیگی) پھر ان کو کسی طرف سے مدد نہ ملے گی اور نہ تم سے بچا سکیں گے۔ اس میں ان لوگوں کیلئے جو ایمان قبول کرنے والے ہیں تسلی دی۔ کیونکہ ان کو یہود ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے۔
نحو : یہ جملہ ابتدائیہ ہے اس کا عطف جملہ شرطیہ پر ہے۔ یُوَلُّوْکُمُ پر عطف نہیں اگر اس پر عطف ہوتا تو عبارت اس طرح ہوتی ثُمَّ لَایُنْصَرُوْا۔
نکتہ : یہ جملہ مستانفہ لائے تاکہ اعلان کردیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کسی صورت میں مدد نہ کریں گے خواہ وہ لڑیں یا نہ لڑیں تقدیر کلام اس طرح ہے : اُخْبرکم انہم اِنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ ینھز موا ثُم اخبرکم انہم لَایُنْصَرُوْنَ ۔ میں تمہیں بتلا رہا ہوں کہ اگر وہ تم سے لڑائی کرینگے تو شکست کھا جائیں گے پھر میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ انکی مدد نہ کی جائیگی۔
ثُمَّ : رتبہ میں تراخی کیلئے استعمال ہوا ہے کیونکہ ان پر رسوائی کا مسلط ہونا ان کے پیٹھ پھیر کر بھاگنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔
Ayah 3:112112: ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَاثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْچبِیَآئََ بِغَیْرِ حَقٍّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔ ضُرِبَتْ (لازم کردی گئی) عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ (یہود پر ذلت) اَیْنَ مَاثُقِفُوْٓا (جہاں وہ پائے جائیں) اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ (مگر اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری سے) بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ محل نصب میں واقع ہے حال ہونے کی وجہ سے اور با محذوف سے متعلق ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ الا معتصمین اومتمسکین بحبل من اللہ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے والے ہوں۔ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (اور لوگوں کی ذمہ داری سے) الحبل سے مراد عہد وذمہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہرحال میں ذلت ان پر چمٹنے والی ہے۔ مگر وہ حالت جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری اور لوگوں کی ذمہ داری کو تھامنے والے ہوں یعنی ان کو صرف اس طریقے سے عزت مل سکتی ہے اور وہ انکا جز یہ قبول کر کے ذمہ داری میں آنا ہے۔ وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ (انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو اپنے لیے لازم کرلیا) وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الْمَسْکَنَۃُ (ان پر مسکینی مسلط کردی گئی) یہ فقر انکی اس بات پر سزا کے طور پر ہے۔ جو انہوں نے کہی۔ اِنَّ اللّٰہ فقیر و نحن اغنیآء ( آل عمران۔ 181) کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ فقیر اور ہم ـغنی ہیں۔ یا فقر کا خطرہ خواہ مالی وسعت سے موجو دہو۔ (جیسے موجودہ دور میں ساری دنیا کا مال اپنے پیٹ میں بھر لینا چاہتے ہیں۔ ) ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ الْاَنْچبِیَآء بِغَیْرِ حَقٍّ (یہ اس لئے کہ وہ کفر کرتے رہے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ اور انبیاء ( علیہ السلام) کو ناحق قتل کرتے رہے) ذٰلِکَ کا مشار الیہ ضرب ذلت و مسکنت اور بواء غضب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور انبیاء ( علیہ السلام) کے ناحق قتل کی وجہ سے ہوا۔ پھر فرمایا ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ (یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور اس میں وہ حد سے گزر گئے) یعنی یہ کفرو غیرہ والا فعل اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس میں اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود پھاند گئے۔
Ayah 3:113اہل کتاب کی عدل والی جماعت :
113: لَیْسُوْا سَوَآئً ط مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآپمَۃٌ یَّتْلُوْنَ ٰایٰتِ اللّٰہِ ٰانَآ ئَ الَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ ۔ (تمام اہل کتاب برابر نہیں) مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ (اہل کتاب میں )
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے یہ لَیْسُوْا سَوَآئً کا بیان ہے جیسا کہ تامرون بالمعروف۔ کنتم خیرامۃ کا بیان ہے۔ اُمَّۃٌ
قَآپمَۃٌ (ایک جماعت وہ بھی ہے جو قائم ہے) ایک مضبوط عادل جماعت ہے یہ قائمہ کا لفظ اقمت العود فقام سے ہے کہ میں نے لکڑی کو سیدھا کیا پس وہ سیدھی ہوگئی۔ اس سے مراد وہی لوگ ہیں جو ان میں سے اسلام لائے۔ یَّتْلُوْنَ ٰایٰتِ اللّٰہِ ) وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ آیات اللہ سے مراد قرآن مجید ہے۔ ٰانَآ ئَ الَّیْلِ (رات کے اوقات میں) ٰانَآء جمع ہے اس کی واحد اَنْیٌ جیسے معنیٌ یا اَنْوٌ جیسے قنوٌ یا اِنْیٌ جیسے نِحْیٌ۔ َوھُمْ یَسْجُدُوْنَ (اس حال میں کہ وہ سجدہ کرنے والے ہیں) یسجدون سے مراد نماز پڑھتے ہیں۔ بعض نے کہا اس سے مراد نماز عشاء ہے کیونکہ اہل کتاب اس کو نہ پڑھتے تھے۔ بعض نے کہا تہجد کی نماز کو تلاوت قرآن سے تعبیر کیا گیا جو ساعات لیل میں ہوتی ہے۔
Ayah 3:114مزید اعلیٰ خصائل کا تذکرہ :
114: یُؤْمِنُوْنَ بِا للّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْ مُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰٓپکَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت کے دن پر اور امر بالمعروف کرنے والے ہیں) یعنی ایمان اور ابواب برّ کے ساتھ معروف کا حکم دینے والے ہیں۔ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور وہ برائیوں سے روکنے والے ہیں) منکر سے یہاں کفر اور شریعت کی دیگر ممنوعات مراد ہیں۔ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ (وہ بھلائیوں میں جلدی کرنیوالے ہیں) یعنی ان کے فوت ہونے کے خطرہ سے ان کو جلد ادا کرنے والے ہیں۔
نحو : یتلون اور یُؤْمِنُوْنَ محل رفع میں اُمَّۃٌ کی صفات ہیں۔ تقدیر عبارت یہ ہے امۃ قائمۃ، تالون، مؤمنون۔
مخصوص صفات کی وجہ :
ان مسلمانوں کی صفات ان خصوصیات سے فرمائی۔ جو یہود میں نہ تھیں جیسے تلاوت آیات اور رات کو سجدہ ریزی اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا یہود کے ایمان باللہ میں کمزوری یہ تھی کہ وہ عزیر ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مان کر شریک ٹھہراتے تھے۔ اسی طرح رسولوں اور کتابوں اور یوم آخرت کا ذکر کیا۔ کیونکہ یہود بعض کتابوں اور رسولوں کو نہیں مانتے تھے۔ اسی طرح آخرت کے ایمان کا ذکر کیا۔ کیونکہ یہود آخرت کی تعبیر اور انداز سے کرتے تھے۔ اور آپ کی تعریف بھی غلط انداز سے کرتے تھے۔ اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کیا کیونکہ یہود اس میں بھی مداہنت برتنے والے تھے۔ اور مؤمنوں کی مسارعت الی الخیرات کو ذکر کیا کیونکہ یہود بھلائی کے کاموں میں سستی برتنے والے اور رغبت نہ رکھنے والے تھے۔
مسارعت فی الخیرات کا مطلب بھلائی میں شدید رغبت اور لگن ہے کیونکہ جو کسی چیز میں رغبت رکھتا ہو وہ اس کی ادائیگی میں جلدی کرتا ہے۔ وَاُولٰپکَ (وہ) جو کہ ان صفات سے موصوف ہیں۔ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (نیکوں میں سے ہیں) یعنی مسلمانوں میں سے ہیں۔ یا ان نیکوں میں سے ہیں جن کے احوال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درست ہیں اور پسندیدہ ہیں۔
Ayah 3:115خیر کے بدلے سے کبھی محرومی نہیں :
115: وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ ۔ (جو بھی وہ بھلائی کریں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی)
نحو، قراءت : یَفْعَلُوْا اور یُّکْفَرُوْا دونوں میں یا پڑھی کوفی نے سوائے ابوبکر کے ابو عمرو نے یا اور تا میں اختیار دیا۔ باقی تمام قراء نے تا سے پڑھا ہے۔ یُّکْفَرُوْہُ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ اور اگر شکر اور کفر ایک دوسرے کے مقابل آجائیں تو پھر ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتے ہیں۔ مثلاً کہیں گے شکر النعمۃ وکفر ھا کیونکہ اس صورت میں یہ محرومی کے معنی کو متضمن ہوتا ہے۔ گویا یوں کہا گیا لن تحرموہ یعنی تم اسکے بدلہ سے ہرگز محروم نہ کیے جائو گے۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالْمُتَّقِیْنَ (اللہ تعالیٰ کو تقویٰ والے خوب معلوم ہیں) اس ارشاد میں متقین کو بہت بڑے ثواب کی بشارت ہے۔
Ayah 3:116کفار کو مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے :
116: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْھُمْ اَمْوَالُھُمْ وَلَآ اَوْلَادُھُمْ مِّنَ اللّٰہِ شَیْئًا اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (بیشک جو لوگ کافر ہوئے ہرگز ان کو ان کے مال اور انکی اولادیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے ذرہ بھر کام نہ دیں گے) وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ جہنمی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 3:117دنیوی زندگی میں کفار کے خرچ کرنے کی مثال :
117: مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْھَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَاَھْلَکَتْہُ وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ وَلٰکِنْ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (اس دنیا کی زندگی میں انکے خرچ کی مثال) یعنی جو وہ مفاخر، مکارم تعریف کروانے، لوگوں میں اچھا تذکرہ قائم کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں یا وہ مال جو کفر کے باوجود تقرب الی اللہ کیلئے خرچ کرتے ہیں۔ کَمَثَلِ رِیْحٍ (ہوا کی طرح ہے) یعنی ضائع کردہ مال۔ ہوا سے ہلاک شدہ کھیتی کی طرح ہے۔ یا ان کے مال کے ہلاک کرنے کی مثال ہوا کے ہلاک کرنے کی طرح ہے۔ فِیْھَا صِرٌّ (جس میں سخت سردی ہو) یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔
نحو : صرٌّ مبتداء ہے اور خبر ہے موضع جر میں جملہ ریح کی صفت ہے۔ جیسے اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ (جیسے ہوا پہنچے ایسی قوم کی کھیتی کو جس نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہو) کفر اختیار کرکے۔ فَاَ ھْلَکَتْہُ (پس وہ ہوا اس کھیتی کو تباہ کر دے) ان کے کفر کی سزا کے طور پر وَمَا ظَلَمَھُمُ اللّٰہُ (حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا) انکی کھیتی کو تباہ کر کے وَلٰکِنْ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں) ایسے کاموں کا ارتکاب کر کے جو سزا کے سزا وار ٹھہرانے والے ہیں۔ یا اس میں ضمیر کا مرجع منفقین یعنی خرچ کرنے والے ہیں۔ اب مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے خرچہ جات کو قبول نہ کر کے ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا اس طرح کہ قبولیت پر یقین و اعتماد کر کے خرچ نہیں کیا۔
Ayah 3:118منافق کی دوستی سے ممانعت :
118: یٰٓـاَ یُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَایَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآ ئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔
فائدہ : مسلمانوں کو منافقین کی مخلصانہ دوستی سے منع فرمانے کیلئے نازل ہوئی۔
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً (اے ایمان والو تم ان کو اپنا راز دار نہ بنائو) بِطَانَۃَ الرَّجُلِسے مراد آدمی کے خصوصی راز دار، قابل اعتماد۔ ان کو بِطَانَۃَ الثَّوْبِسے تشبیہ دی۔ جیسا کہا جاتا ہے۔ فلان شعاری، فلاں میرا بہت قریبی ہے۔
حدیث نبوی ﷺ میں ہے الانصار شعار والناس دثار (بخاری 4330، مسلم 1061) کہ لوگ میرے لئے بمنزلہ اوڑھنے کے ہیں اور انصار بمنزلہ شعار کے ہیں۔ مِّنْ دُوْنِکُمْ (اپنوں کو چھوڑ کر) یعنی اپنے ہم جنس مسلمانوں کو چھوڑ کر۔
نحو : یہ بطانۃ کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ بطانۃ کائنۃ من دونکم مجاوزۃ لکم یعنی ایسی راز داری جو دوسروں سے ہونے والی ہو اپنوں سے تجاوز کر کے۔
لَایَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا (وہ تمہارے بگاڑ میں کمی نہ کریں گے)
نحو : یہ موضع نصب میں بطانۃ کی صفت ہے یعنی تمہارے دین کے بگاڑنے میں وہ کمی نہ کریں گے۔ کہا جاتا ہے۔ الا فی الامر یأ لو وہ معاملے کی پرواہ کیوں نہیں کرتا جبکہ وہ معاملے میں کوتاہی کرے۔
الخبال :
لغت میں فساد کو کہتے ہیں۔ تمیز کی وجہ سے خبالًا منصوب ہے یا فی حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای فی خبالکم۔ وَدُّوْا مَاعَنِتُّمْ (وہ اس چیز کو پسند کرتے ہیں جس سے تم مشقت میں پڑو) یعنی جو تمہیں دکھ میں مبتلا کرے۔ مَا مصدریہ ہے۔ العنت، لغت میں شدید ضرر اور مشقت کو کہتے ہیں یعنی وہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے دین میں نقصان پہنچائیں اور ضرر بھی انتہائی سخت قسم کا۔
نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے اس لئے کہ اس میں ان کو راز دار بنانے کی ممانعت کی علت ذکر کی گئی۔ یہ اس کی طرح ہے۔
منافقین کے بغض کی شدت :
قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآ ئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ (کہ بغض تو ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکا ہے) کیونکہ وہ اس کو روکنے کا اب اختیار نہیں رکھتے۔ باوجود اپنے نفسوں پر کنٹرول کرنے کے۔ کہ ان کے منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیں۔ جس سے انکا بغض مسلمانوں کے خلاف ظاہر ہوجاتا ہے۔ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ (اور جو ان کے سینے چھپانے والے ہیں) یعنی مسلمانوں کے خلاف بغض۔ اَکْبَرُ (وہ بہت بڑا ہے) اس سے جو ان سے ظاہر ہوا۔ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ (تحقیق ہم نے تمہارے لیے آیات کو کھول کر بیان کیا) جو دین میں اخلاص کو لازم کرنے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے موالات اور اسکے دشمنوں سے دشمنی کو ظاہر کرنے والی ہیں۔ اِنْ کُنْتُمْ تَعقِلُوْنَ (اگر تم عقل رکھتے ہو)