Ayah 3:147میدانِ جنگ میں دعا مستقل ہتھیار ہے :
147: وَمَاکَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَ امَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (اورا ن کی بات یہی تھی کہ اے ہمارے رب تو ہمارے گناہوں کو بخش دے) یعنی انہوں نے یہی بات کہی۔
ربانیین ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے نفوس کی طرف گناہوں کی اضافت کی تاکہ نفس کی بڑائی مٹ جائے۔ وَاِسْرَافَنَا فِیْٓ اَمْرِنَا (اور ہمارا اپنے معاملے میں حد سے تجاوز کرنا) اسراف حد عبودیت سے تجاوز کو کہتے ہیں۔ وَثَبِّتْ اَقْدَ امَنَا تو ہمارے قدموں کو (لڑائی میں) مضبوط کر دے۔ وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (اور ہماری کافر قوم کے خلاف مدد فرما) غلبہ عنایت کرکے۔
نکتہ : گناہوں سے استغفار کے ساتھ دعا کو میدان جنگ میں ثابت قدمی اور دشمنوں پر فتح سے مقدم کیا۔ کیونکہ استغفار کے ساتھ یہ طریق دعا قبولیت دعا کے لئے زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ اس میں عجزو نیاز خوب ہے۔
Ayah 3:148طالبین آخرت محسنین ہیں :
148: فَاٰتٰھُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ ۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کا ثواب دیا) یعنی نصرت و کامیابی اور غنیمت میسر کردی۔ َوحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِ (اور ثواب آخرت کا حسن) یعنی مغفرت و جنت دے دی۔ آخرت کے بدلے کو حسن سے تعبیر کر کے بتلادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں افضل و مقدم اور واجب القصد ہے۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں) یعنی وہ محسن ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتے ہیں۔
Ayah 3:149کفار کی عدم موافقت تمام مسلمانوں پر لازم ہے :
149: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَرُدُّوْکُمْ عَلٰٰٓی اَعْقَابِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اگر تم کافروں کی اطاعت کرو تو وہ تمہیں ایڑیوں کے بل لوٹا دیں گے) یعنی وہ تمہیں شرک کی طرف لوٹا نا چاہتے ہیں۔ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ (تم لوٹ کر گھاٹے میں پڑ جائو گے)
کہا گیا ہے یہ تمام کفار کے سلسلہ میں عام ہے۔ مؤمنوں پر لازم ہے کہ وہ ان سے پہلو تہی اختیار کریں۔ اور کسی چیز میں انکی اطاعت نہ کریں تاکہ وہ ان کو اپنی موافقت کی طرف نہ کھینچ لیں۔ سدی کہتے ہیں کہ اگر تم ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کے سامنے عاجزی کر وگے اور ان سے امن کے طالب ہو گے تو وہ تمہیں اپنے دین کی طرف لوٹا دیں گے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں یہ آیت ان منافقین کے متعلق اتری جنہوں نے شکست کے موقع پر ایمان والوں کو کہا تم اپنے بھائیوں کی طرف لوٹ جائو اور ان کے دین میں داخل ہوجائو۔
Ayah 3:150150: بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰـکُمْ وَھُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ ۔ (بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے) پس غیروں کی نصرت سے بےنیازی اختیار کرو۔ وَھُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ (اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے)
Ayah 3:151القائے رعب سے مکہ والے قوت کے باوجود بھاگ گئے :
151: سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًاج وَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ ۔ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ (ہم عنقریب کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے)
قراءت : الرُّعْبَکو شامی اور علی نے الرُعُبُ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔
کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے دل میں احد کے دن رعب ڈال دیا وہ باوجود قوت و غلبہ کے بلاوجہ مکہ کی طرف لوٹ گئے۔ بِمَآ اَشْرَکُوْا بِاللّٰہِ (اس سبب سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے ہیں) یعنی ان کے دلوں میں رعب ڈالے جانے کا باعث انکا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا (جسکی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نہیں اتاری) یعنی آلہہ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ انکی معبودیت کی کوئی دلیل ہے مگر اللہ تعالیٰ نے نہیں اتاری۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ نہ کوئی دلیل ہے اور نہ وہ اتاری گئی جیسا کہ شاعر کے اس قول میں۔
ولا تری الضَّبَّ بھا یَنْجَحِر ای لیس بھا ضب فینجحر و لم یعن ان بھاضبًا ولا ینجحر
اس کا معنی یہ ہے کہ وہاں گوہ نہیں کہ بل بنائے یہ مطلب نہیں کہ گوہ تو ہے مگر بل نہیں بناتی۔
وَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ (انکا ٹھکانہ آگ ہے اور ظالموں کا ٹھکانہ بہت برا ہے) (ضٗمیر کی بجائے ظالمین کو صراحۃً لا کر اس پر سخت ناراضگی اور درشتی کو ظاہر کردیا اور دوزخی ہونے کی علت بھی واضح ہوگئی)
Ayah 3:152152: وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ (اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ تم سے پورا کردیا) اِذْتَحُسُّوْنَھُمْ (جب کہ تم ان کافروں کو بےدریغ قتل کر رہے تھے) ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حَسَّہٗ کا معنی قتل کرکے حس کو باطل کرنا۔ بِاِذْنِہٖ اللہ تعالیٰ کے حکم و فیصلہ اور علم سے۔ حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ (یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے) وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ اور تم (قیام و عدم قیام میں) جھگڑنے اور اختلاف کرنے لگے وَعَصَیْتُمْ (اور تم نے اپنے پیغمبر کے حکم کی خلاف ورزی کی) مرکز کو چھوڑ کر اور غنیمت میں مشغول ہو کر۔ مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰکُمْ مَّاتُحِبُّوْنَ (اسکے بعد کہ اس نے تمہیں دکھا دیا وہ جو تم پسند کرتے تھے) یعنی کامیابی اور کفار پر غلبہ۔
نحو : اِذَا کا متعلق محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ یہاں تک کہ تم بزدل ہوگئے۔ تو اس نے اپنی مدد تم سے روک لی اور یہ مطلب بھی درست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ تم سے بزدلی کے وقت تک پورا کردیا۔ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا (تم میں سے کچھ دنیا کے طلبگار تھے) الدنیاؔ سے مراد مال غنیمت ہے مراد اس سے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مرکز کو طلب غنیمت میں چھوڑا۔
واقعہ احد اور روایات :
روایات میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کو اپنے لشکر کی طرف پشت کی اور رخ مدینہ منورہ کی طرف اور تیر اندازوں کو پہاڑ کے پاس کھڑا کیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ میں مضبوطی سے جمے رہیں اور اس سے مت ادھر ادھر ہٹیں خواہ لڑائی مسلمانوں کے حق میں رہے یا خلاف۔ جب مشرکین آئے تو تیر اندازوں نے ان کے گھوڑوں کو تیروں پر رکھ لیا اور دوسرے ان کو تلواروں سے مارنے لگے۔ یہاں تک کہ کافر شکست کھا گئے اور مسلمان ان کے پیچھے ان کو قتل کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جب (بعض) مسلمانوں (مراد تیر انداز ہیں) نے بزدلی دکھائی اور آپس میں جھگڑا کیا کہ مشرکین تو شکست کھاچکے ہمارا یہاں کھڑا ہونا کس کام کا۔ مسلمانوں کے لشکر میں جاملو اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ غنیمت جمع کرنے میں شریک ہوجائو۔ دوسروں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرو۔ ان میں سے کچھ اس جگہ ثابت قدم رہے۔ جن میں امیر دستہ عبداللہ بن جبیر اور ان کے دس سے کم ساتھی تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وہی مراد ہیں وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ (کہ تم میں سے کچھ محض آخرت کے طالب تھے) مراد عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان کے شہداء ساتھء) مشرکین نے مڑ کر تیر اندازوں پر حملہ کر کے عبداللہ بن جبیر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کردیا اور مسلمانوں پر پل پڑے یہاں تک کہ ان کو شکست دے کر ان میں سے کافی تعداد کو قتل کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ (پھر تمہیں ان سے پھیر دیا) یعنی تم سے اپنی مدد روک لی جس سے وہ تم پر غالب آگئے۔ لِیَبْتَلِیَکُمْ (تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے) اور تمہارے مصائب پر صبر کا امتحان لے اور مصائب میں تمہاری ثابت قدمی دیکھے ابتلائے الٰہی کی حقیقت یہ ہے کہ تم سے آزمانے والے کا سا معاملہ کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عمل پر بدلہ دیتے ہیں جو بندہ کرتا ہے نہ اس کا جو کہ وہ بندے کے متعلق جانتے ہیں۔ وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ (تحقیق وہ تمہیں معاف فرما چکا) جبکہ تم سے جلد بازی میں حکم رسول اللہ ﷺ کی خلاف ورزی ہوگئی اور تم نے اس پر جو ندامت و شرمندگی کا اظہار کیا۔
مسلمان کیلئے ابتلاء و نصرت ‘ دونوں رحمت ہیں :
وَاللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر فضل کرنے والے ہیں ان کو معاف کر کے اور انکی توبہ قبول کرکے یا وہ ان پر تمام حالات میں فضل فرمانے والے ہیں خواہ ان پر مصیبت اور تکلیف ڈالی جائے یا نہ ڈالی جائے کیونکہ ایمان والوں کے حق میں ابتلاء رحمت ہے جس طرح کہ نصرت رحمت ہے۔
Ayah 3:153153: اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرٰکُمْ فَاَثَا بَکُمْ غَمًّام بِغَمٍّ لِّکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَا تَکُمْ وَلَا مَآ اَصَابَکُمْ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ اِذْ تُصْعِدُوْنَ جب تم ہموار زمین پر چلنے میں تیزی کر رہے تھے۔ (الاصعادچٹیل زمین میں جانا دور نکل جانا )
نحو : منصوب ہے صرفکم یا لیبتلیکم یا اذکروا محذوف کے ساتھ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓی اَحَدٍ (اور تم کسی کی طرف گردن موڑ کر نہ دیکھتے تھے) اور نہ متوجہ ہوتے تھے دشمن کے خوف اور انتہائی شکست کی تعبیر ہے۔ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ (اور رسول اللہ ﷺ تمہیں آوازیں دے کر فرما رہے تھے) اِلَیَّ عباد اللّٰہ۔ انارسول اللّٰہ ! من یکرّ فلہ الجنۃ۔ اللہ کے بندوں میری طرف آئو میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو شخص دشمن پر حملہ آور ہوگا اسکے لئے جنت ہے۔
نحو : یہ جملہ حال واقع ہے۔ فِیْٓ اُخْرٰکُمْ (تمہارے لشکر کے پچھلے حصہ میں) اور تمہارے علاوہ دوسری جماعت میں اور وہ پیچھے والی تھی جیسا کہا جاتا ہے جئت فی آخر الناس و اُخْرٰہُمْ میں پچھلے لوگوں میں آیا۔ جیسا کہ کہتے ہیں جئت فی أوّلھم و اولاھم یعنی ان کے پہلے حصہ اور پہلی جماعت میں آیا۔
غم بالائے غم دیا :
فَاَثَابَکُمْ (پس اللہ تعالیٰ نے تم کو بدلہ دیا) اس کا عطف صرف صرفکم پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو بدلہ دیا۔ غَمًّا (غم کا) جبکہ تمہیں ان سے پھیر دیا اور تمہیں آزمایا۔ بِغَمٍّ (بسبب اس غم کے) جو تم نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے حکم کی نافرمانی کر کے دیا۔ یا غم بالائے غم، دوگنا غم، مسلسل و پیہم غم، رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ، قتل، زخم، مشرکین کی فتح، غنیمت ومدد کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم۔ لِّکَیْلاَ تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَا تَکُمْ (تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے فوت ہوگیا) (فتح و مال غنیمت وغیرہ) تاکہ تم غم پینے کے عادی بن جائو اور بعد میں کسی فوت ہوجانے والے منافع پر غم نہ کرو۔ وَلَا مَآ اَصَابَکُمْ اور نہ اس پر جو تمہیں تکلیف و نقصان پہنچا۔ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال معلوم ہیں) اس پر تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں۔
درحقیقت اس میں اطاعت کی ترغیب اور معصیت سے ڈرایا گیا ہے۔
Ayah 3:154مؤمنوں پر اونگھ کا نزول :
154: ثُمَّ اَنْزَ لَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآ پفَۃً مِّنْکُمْ وَطَآپفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْ ئٍ قُل اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالَا یُبْدُوْنَ لَکَ یَقُوْلُوْنَ لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَافِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ0 بِذاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر غم کے بعد چین اتارا اور ان سے اس خوف کو دور کیا جو ان پر طاری تھا یہاں تک کہ ان کو اونگھ آگئی اور نیند کا ان پر غلبہ ہوا)
حضرت ابو طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ میدان میں ہمیں اونگھ نے ڈھانپ لیا۔ ہمارے ہاتھوں سے تلواریں گر گر جاتی تھیں پھر ان کو تھامتے تھے۔ امنۃ کا معنی امن۔
نحو : نعاسًا یہ امنۃً سے بدل ہے یا مفعول ہے اور امنۃً اس سے حال ہے جو نکرہ ہونے کی وجہ سے پہلے لایا گیا جیسا رأیتُ رَاکبًا رَجُلاً یا امنۃً مفعول لہٗ یا مخاطبین سے حال ہے جس کا معنی ذوی امنۃ یا یہ آمن کی جمع ہے جس طرح بَارٌّ وَ بَرَرَۃٌ۔
یَّغْشٰی (جو گروہ پر چھا گئی) یعنی اونگھ یعنی الأمنۃ
قراءت : حمزہ اور علی نے تغشیٰ تا کے ساتھ امالہ سے پڑھا۔
مومن و منافق کے طرز عمل میں فرق :
طَآپفَۃً مِّنْکُمْتم میں سے ایک جماعت کو اور یہ گروہ اہل صدق و یقین کا تھا۔ وَطَآپفَۃٌ (اور ایک گروہ) یہ منافقین کا گروہ تھا۔ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ (جن کے نفوس ان کو اہم تر معلوم ہوئے) یعنی جن کو سوائے اپنی جانوں اور ان کے چھٹکارے کے اور کوئی مقصود نہ تھا۔ انکا مقصد نہ تو دین تھا اور نہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اور نہ مسلمان جن پر اللہ تعالیٰ کی رضامندیاں تھیں۔ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ (وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق غلط گمان رکھتے تھے) یَظُنُّوْنَ مصدر کے حکم میں ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق سچے گمان کے علاوہ اور گمان کرتے تھے حالانکہ ان کو سچا گمان کرنا چاہیے تھا وہ غلط گمان یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی مدد نہ کرے گا۔ ظَنَّ الْجَاھِلِیَّۃِ (جاہلیت والا گمان) مراد اس سے اہل جاہلیت کا گمان یا وہ گمان جو ملت جاہلیت کے ساتھ خاص ہے مقصد یہ ہے کہ ایسا گمان مشرک جاہل ہی رکھ سکتے ہیں۔ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْ ئٍ (وہ کہتے ہیں کیا ہمارے اختیار میں کچھ ہے) اے مسلمانو ! کیا ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے امر یعنی نصرت، اور دشمن پر غلبہ سے کچھ حصہ کبھی ملے گا۔ قُل اِنَّ الْاَمْرَ (کہہ دیجئے بیشک امر) یعنی مددوغلبہ کُلَّہٗ لِلّٰہِ (تمام اللہ تعالیٰ کیلئے ہے) اور اسکے مومن اولیاء کیلئے جیسا کہ اس آیت وَاِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغَالِبُوْنَ اور بیشک ہمارا لشکر ہی غلبہ پانے والا ہے۔ ( الصافات 173)
نحو : کلّہٗ یہ امر کی تاکید ہے اور لِلّٰہِ یہ اِنّ کی خبر ہے کلہ مبتداء اور لِلّٰہِ خبر اور جملہ اِنَّ کی خبر ہے۔
قراءت : بصری قراء نے کُلُّہٗ پڑھا جبکہ بقیہ نے کلَّہٗ پڑھا ہے۔
یُخْفُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّالَا یُبْدُوْنَ لَکَ (وہ اپنے دلوں میں وہ بات چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے) یعنی تلوار کے ڈر سے۔ یَقُوْلُوْنَ (وہ کہتے ہیں) اپنے دلوں میں یا ایک دوسرے کو آپ کی اس بات کا انکار کرتے ہوئے اِنَّ الْاَمْرَ کُلَّہٗ لِلّٰہِ (کہ حکم تو سارا اللہ تعالیٰ کا ہے) ۔
دِلی روگ کا چاپلوسی سے اظہار :
لَوْکَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰھُنَا ( اگر ہمارے اختیار میں کچھ ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے) یعنی اگر امر و اختیار جیسا کہ محمد ﷺ کہتے سارا اللہ تعالیٰ اور اسکے اولیاء کیلئے ہوتا تو پھر ہم غالب آتے اور کبھی مغلوب نہ ہوتے اور اس معرکہ میں جو مسلمان قتل ہوئے۔ وہ قتل نہ ہوتے۔ قد اہمتہم انفسہم یہ طائفہ کی صفت ہے اور یظنّون یہ دوسری صفت ہے یا حال یا خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی۔
نحو : قَدْ اَھَمَّتْھُم اَنْفُسُھُمْ ظانین اور یقولون یہ یظنون سے بدل ہے۔ اور یخفون یہ یقولون سے حال ہے۔ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ کُلّہٗ لِلّٰہِ یہ حال اور ذوالحال کے درمیان جملہ معترضہ ہے اور یقولون یہ یخفون سے بدل ہے یا جملہ مستانفہ ہے۔
بہرحال فیصلہ تقدیر نافذ العمل ہے :
قُلْ لَّوْ کُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ (آپ کہہ دیں اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے) یعنی وہ لوگ کہ جن کا اس معرکہ میں قتل ہونا اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور لوح محفوظ میں درج تھا اس کا پایا جانا ضروری تھا خواہ تم اپنے گھروں میں بیٹھ رہتے لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقَتْلُ اِلٰی مَضَاجِعِہِمْ (ضرور نکلتے تم میں سے وہ لوگ اپنی اجل کی قتل گاہوں کی طرف جن کا قتل ہونا مقدر ہوچکا تھا) تاکہ جو طے ہوچکا تھا وہ پورا ہو۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں ان مسلمانوں کا قتل ہونا لکھ دیا تھا جو قتل ہوئے اور اسکے ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ وہ غالب ہونگے اس لئے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی۔ انجام کار غلبہ مسلمانوں کا ہوگا۔ اور دین اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا۔ اور بعض اوقات کی تکالیف انکا امتحان و پڑتال ہے۔ وَلِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَافِیْ قُلُوْبِکُمْ (اور تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ کرے اس اخلاص کی جو تم مسلمانوں کے دلوں میں ہے اور تمہارے دلوں کے خیالات ووساوس کو چھانٹ دے) اسلئے یہ کیا یا یہ بہت سے مصالح اور ابتلاء و پڑتال کیلئے کیا۔ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ 0 ِبذَاتِ الصُّدُوْرِ ( اور اللہ تعالیٰ کو سینوں کی خفیہ باتیں معلوم ہیں)
Ayah 3:155تذکرئہ لغزش اور لطف و قرب میں اضافہ :
155: اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ اِنَّمَا اسْتَزَ لَّھُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا وَلَقَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْھُمْ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ (جو لوگ شکست کھا کر مڑے) ۔ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ (جس دن دو جماعتیں آپس میں لڑیں) یعنی احد میں لڑائی کیلئے گروہ حضرت محمد ﷺ اور گروہ ابوسفیان جمع ہوئے۔
اِنَّمَا اسْتَزَ لَّھُمُ الشَّیْطٰنُ (بےشک شیطان نے ان کو لغزش کی طرف بلایا) اور اس پر آمادہ کیا۔ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا (ان بعض گناہوں کی وجہ سے جو انہوں نے کئے) اس مرکز کو چھوڑ کر جس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو قائم رہنے کا حکم دیا تھا۔ اس لغزش کی نسبت شیطان کی طرف کر کے لطف و قرب میں اضافہ کردیا۔ اور اس کی وجہ مَا کَسَبُوْا (اپنا عمل) قرار دے کر نصیحت و تادیب کردی۔
احد کے دن حضرت محمد ﷺ کے اصحاب تیرہ کے سواء سب منتشر ہوگئے۔ ثابت قدم رہنے والوں کے نام یہ ہیں۔ ابوبکر، علی، طلحہ، عبدالرحمان بن عوف سعد بن ابی وقاص ؓ اور باقی انصار میں سے تھے۔ (دیگر مفسرین نے اور نام بھی ذکر کیے ہیں) وَلَقَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْھُمْ (البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما چکا) اور ان سے درگزر فرمایا۔ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ (بیشک اللہ گناہوں کو بخشنے والے) حَلِیْمٌ (صاحب حلم ہیں) کہ سزا میں جلدی نہیں کرتے۔
Ayah 3:156حسرتناک قول کی ممانعت :
156: یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِ خْوَانِھِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْکَانُوْا غُزًّی لَّوْکَانُوْا عِنْدَ نَا مَا مَا تُوْا وَمَا قُتِلُوْالِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ وَاللّٰہُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اے ایمان والو ! تم کافروں کی طرح نہ بنو) جیسا عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھیوں نے کہا۔ وَقَالُوْا لِاِ خْوَانِھِمْ (وہ اپنے بھائیوں کو کہنے لگے) یعنی اپنے نسبی بھائیوں کے حق میں کہنے لگے یا نفاق میں جو ان کے ہم پیالہ ہیں۔ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ (جب وہ زمین میں سفر کرتے ہیں) یعنی تجارت وغیرہ کیلئے سفر پر جاتے ہیں۔ اَوْکَانُوْا غُزًّی (یا وہ غزوہ میں جاتے ہیں) غُزًّی جمع غازٍ جیسا کہ عاف کی جمع عُفًّی آتی ہے۔ یعنی وہ کسی غزوہ میں قتل ہوجاتے ہیں یا سفر کے دوران ان کو موت آجاتی ہے۔ لَّوْکَانُوْا عِنْدَ نَا مَا مَا تُوْا وَمَا قُتِلُوْالِیَجْعَلَ اللّٰہُ ذٰلِکَ حَسْرَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ (اگر یہ ہمارے ہاں رہتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے تاکہ کردے اللہ تعالیٰ اس بات کو حسرت کا باعث ان کے دلوں میں) ۔
لام کا تعلق لا تکونوا یا قالوا سے :
تفسیر اول لام کا تعلق لَا تَکُوْنُوْاسے ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے لَا تَکُوْنُوْا کَھٰٓؤُلَآئِ فی النطق بذٰلک القول و اعتقادہٖ لیجعل اللّٰہ ذلک حسرۃ فی قلوبہم خاصۃ و یصون منھا قلوبکم۔ تم یہ بات کہنے اور اس پر اعتقاد رکھنے میں ان لوگوں کی طرح نہ بنو تاکہ یہ بات اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں خاص طور پر حسرت کا باعث بنادے اور تمہارے دلوں کو محفوظ کرلے۔
دوسری تفسیر : لام کا تعلق قالوا سے ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے کہ قالوا ذلک واعتقدوہ لیکون ذٰلک حسرۃ فی قلوبہم یعنی انہوں نے یہ کہا اور دلوں میں اس کا اعتقاد کیا۔ تاکہ نتیجۃً یہ بات ان کے دلوں میں حسرت کا باعث ہو۔ الحسرۃ کسی پسندیدہ چیز کے فوت ہونے پر شرمندگی کو کہتے ہیں۔ وَاللّٰہُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ (اللہ تعالیٰ ہی زندگی اور موت دیتا ہے) اس میں انکی اس بات کا رد کیا گیا کہ جنگ وقت مقررہ کو کاٹ دیتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اختیار تمام اللہ تعالیٰ کے قبضہ اختیار میں ہے۔ کبھی وہ مسافر و مقاتل کو زندہ رکھتا ہے اور بیٹھنے والے مقیم کو موت دے دیتا ہے۔ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں) پس وہ تمہارے اعمال پر تمہیں بدلہ دیں گے۔
قراءت : علی، حمزہ، مکی قراء نے یَعْمَلُوْنَ پڑھا ہے۔ مراد وہ کافر جو کرتے ہیں ان کو دیکھتے ہیں۔
Ayah 3:157یہ مغفرت و رحمت لاکھوں زندگیوں سے بہتر ہے :
157: وَلَپنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْمُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ (اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جائو یا مر جائو) ۔
قراءت : کوفی قراء نافع، حمزہ، کسائی نے مِتُّمْ مِتّ باب سمع سے ہر جگہ پڑھا۔ مگر عاصم نے اس طرح نہیں پڑھا، حفص نے اس سورت کے علاوہ دیگر مقامات پر کسرہ سے پڑھا ہے گویا انہوں نے اس کو قتلتم کے ساتھ ملادیا ہے۔ باقی تمام قراء نے میم کے ضمہ مُتُّمْ باب نصر سے تمام قرآن مجید میں پڑھا ہے اس کی نظیر مات یموت اور مات یمات ہے۔ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور رحمت بہت بہتر ہے اس چیز سے جو وہ جمع کرتے ہیں) ماؔ یہاں الذی کے معنی میں ہے اور ضمیر محذوف ہے۔ حفص نے یَجْمَعُوْنَپڑھا نافع، ابن کثیر اور ابو عمرو عاصم و حمزہ کسائی نے تَجْمَعُوْنَ پڑھا ہے۔
Ayah 3:158جس کو مقصود ملا اس کو زاد کی ضرورت نہیں :
158: وَلَپنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْتُمْ لَاِ الَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (اگر تم مر جائو یا قتل کردیے جائو تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف تمہارا حشر ہوگا) یعنی وسیع رحمت، عظیم ثواب دینے والی ذات کی طرف تمہیں اکٹھا کیا جائے گا۔
لطیف نکتہ :
یہاں اسم باری تعالیٰ لا یا گیا اور اس سے قبل آنے والے حرف پر لام تاکید کا داخل کر کے ایک عجیب شان کلام میں پیدا کردی جو دلیل سے بےنیاز ہے۔ یعنی خواہ موت کسی طریق سے ہو اللہ ہی کی طرف تمہارا حشر ضرور ہونا ہے۔ کسی دوسرے کے پاس جانا نہ ہوگا۔ اس لئے تابحد امکان اس کا قرب حاصل کرلو تاکہ کل قید فراق سے چھوٹ کر اس محبوب کی بارگاہ میں پہنچ جائو۔
جس طرح لمغفرۃؔ اوپر والی آیت میں قسم کے جواب کے طور پر واقع ہے۔ اور جواب شرط کی جگہ استعمال ہو رہا ہے اسی طرح لا الی اللہ تحشرون۔ جواب شرط کے قائم مقام ہے اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اولاً کفار کے اس گمان کا جواب دیا کہ جو شخص سفر کرے یا غزوہ میں ہمارے بھائیوں میں سے شریک ہو اگر وہ مدینہ میں رہائش پذیر رہتا تو اس کو موت نہ آتی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس قسم کے گمان سے منع کیا کیونکہ یہ چیز جہاد میں شرکت سے رکاوٹ ہے۔ پھر فرمایا اگر ہلاکت بالموت اسی طرح واقع ہوجائے یا تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جائو تو اس سے ایسی مغفرت و رحمت میسر ہوگی جو اس دنیا سے لاکھ درجہ بہتر ہے جو تم جمع کررہے ہو۔ کیونکہ دنیا تو آخرت کیلئے زاد راہ لینے کی جگہ ہے۔ جب بندہ نے مقصود پالیا تو زاد کی بھی ضرورت نہ رہی۔
Ayah 3:159رحمت و شفقت دونوں جمع کردیں :
159: فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔ (اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان رحمت کی وجہ سے تم مؤمنوں پر نرم دل ہوئے) ۔ مَا ؔ تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ یہ زائدہ ہے اور اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ مؤمنوں پر آپ کی نرمی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے ہے۔ اور رحمتؔ کا یہاں مطلب آپ کے جوش پر کنٹرول اور نرمی کی توفیق دینا اور ان کے ساتھ مہربانی والا معاملہ کرنا ہے۔ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ (اگر تم خشک سخت دل ہوتے) لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ (تو وہ منتشر ہوجاتے آپ کے گرد سے) اور ایک بھی باقی نہ رہتا فَاعْفُ عَنْھُمْ (آپ ان کو معاف کردیں) جو انکی طرف سے آپ کے حق میں احد کے دن ہوا۔ وَاسْتَغْفِرْلَھُمْ (اور ان کے لئے استغفار کریں) اور جو اللہ تعالیٰ کے حق کے ساتھ خاص ہے۔ اسکے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں تاکہ تکمیل شفقت ہوجائے۔
اہمیت مشورہ :
وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ (اور لڑائی وغیرہ معاملات جن میں وحی نازل نہ ہوئی ہو۔ ان سے مشورہ لیں) تاکہ ان کے دل خوش ہوجائیں اور نفوس کو راحت میسر ہو۔ اور انکی قدروعظمت بڑھ جائے اور امت کیلئے مشورہ کا ایک دستور مقرر ہو۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا : ما تشا ورقوم قط الاَّ ھُدُوا لا رشد امرھم جن لوگوں نے مشورہ کیا انہوں نے اپنے معاملہ میں صحیح راہ پالی۔ (تفسیر طبری)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ میں نے اصحاب رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مشورہ کرنے والے لوگ کہیں نہیں دیکھے۔ علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں اصل میں یہ روایت اس طرح ہے کہ میں نے کسی کو اتنا مشورہ کرنیوالا نہ دیکھا جتنا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام سے کرتے تھے۔
شاورتؔ فلانًا کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنی اور اسکے پاس جو رائے تھی وہ ظاہر کردی شرت الدابۃ میں نے جانور کو دوڑایا شرت العسل میں نے شہد کو چھتے سے حاصل کیا۔
جوازِ اجتہاد :
فائدہ : اس آیت میں اجتہاد کا جواز ثابت ہوتا اور قیاس کی حجیت معلوم ہوتی ہے۔ فَاِذَا عَزَمْتَ (جب تم پختہ ارادہ کرلو) یعنی مشورے کے بعد قطعی رائے قائم کرلو۔ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (تو اللہ تعالیٰ پر توکل کیجئے) اس سے زیادہ واضح بات پر عمل کرنے میں جو طے ہوجائے نہ کہ مشورہ پر۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ (بےشک اللہ تعالیٰ اس کی ذات پر توکل کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ التَّوَکُل اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد کرنا اور معاملے کو اسی کے سپرد کرنا۔ حضرت ذوالنون مصری (رح) فرماتے تھے۔ توکل ارباب سے علیحدگی اور اسباب سے قطع تعلقی کو کہا جاتا ہے۔
Ayah 3:160خبردار ‘ اللہ پر توکل مت توڑو :
160: اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللّٰہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْم بَعْدِہٖ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے) جیسا کہ بدر کے دن اس نے تمہاری مدد کی۔ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ (تو پھر تم پر کوئی غلبہ نہیں پاسکتا) اور اللہ تعالیٰ کی مدد اسی کو ملتی ہے جو اپنی قوت و طاقت سے براءت کا اظہار کرے اور اپنے رب کی قدرت کو مضبوطی سے تھام لے۔ وَاِنْ یَّخْذُلْکُمْ (اور اگر وہ تمہیں بغیر مدد چھوڑ دے) جیسا کہ احد کے دن چھوڑا فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْم بَعْدِہٖ (تو پھر کون تمہاری مدد کرسکتا ہے۔ اسکے چھوڑ دینے کے بعد) خذلان مدد ترک کرنا یا یہ اس محاورہ سے لیا گیا۔ لیس لک من یحسن الیک من بعد فلان اس کا مقصد یہ ہے کہ جب تم اس سے تجاوز کرو گے تو پھر اور کوئی تم پر احسان نہ کرے گا۔ اس ارشاد الٰہی میں دراصل تنبیہ ہے کہ اختیار سارے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اس پر توکل لازم ہے۔ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ (اور اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پر مومن کو توکل کرنا چاہیے) چاہیے کہ مومن اپنے رب کو توکل و تفویض کے ساتھ خاص کریں اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اسکے سواء انکا کوئی مددگار نہیں۔ اور تقاضہ ایمان بھی یہی ہے۔
Ayah 3:161مقام نبوت غلول (خیانت) کے منافی :
161: وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ ۔ (مال غنیمت میں خیانت کرنا پیغمبر ﷺ سے بعید ہے) یَّغْلُلْ خیانت کرنے کے معنی میں ہے۔
قراءت : ابو عمرو، مکی، عاصم نے یَغُلَّپڑھا اور دیگر قراء نے یُغَلَّپڑھا ہے
کہا جاتا ہے : غلّ شیئا من المغنم غلولا واغلّ اغلالاً ۔ جب مال غنیمت میں سے کوئی چیز خفیہ لی جائے۔ اغلّہ بولتے ہیں جب کسی کی نسبت خیانت کی طرف کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے مناسب نہیں یعنی مقام نبوت غلول کے منافی ہے۔ جنہوں نے اسے مجہول پڑھا تو اس کا بھی یہی مطلب بنتا ہے کیونکہ اس صورت میں معنی یہ ہے کہ آپ کے بارے میں یہ صحیح نہیں کہ خیانت کی طرف منسوب کئے جائیں اور خیانت کی طرف خائن کی ہی نسبت ہوتی ہے۔
بعض روایات کا تذکرہ :
روایات میں ہے کہ ایک سرخ چادر بدر کے دن مال غنیمت میں سے گم پائی گئی تو بعض منافقین نے کہا شاید رسول اللہ ﷺ نے اس کو لے لیا تو یہ آیت اتری وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَاغَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس مال کے ساتھ آئے گا) یعنی وہ چیز بعینہٖ اپنی پشت پر اٹھا کر لائے گا جیسا کہ حدیث میں آیا۔ اویات بما احتمل من وبالہ واثمہ کہ اس کا وبال و گناہ لیکر آخرت میں آئے گا ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّاکَسَبَتْ (پھر ہر نفس کو جو اس نے کمایا پورا پور ادیا جائے گا) یعنی اس کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا۔ اس طرح نہیں فرمایا ثم یو فی ماکسب تاکہ من یغلل کے مطابق ہوجاتا بلکہ عموم کے الفاظ سے ذکر کیا تاکہ ہر کا سب خواہ غاصب ہو یا اور وہ اس میں شامل ہوجائے۔ اور من یغلل کے ساتھ معنوی طور پر متصل ہوجائے اور یہ انداز کلام زیادہ بلیغ ہے کیونکہ جب خیانت کرنے والے کو علم ہوگا کہ ہر کا سب خیر و شرکو پورا بدلہ دیا جائیگا تو وہ جان لے گا کہ اتنے بڑے گناہ کے ساتھ وہ پھر کیسے بچ سکتا ہے۔ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ (ان پر ظلم نہ کیا جائے گا) ہر ایک کا بدلہ اسکے کسب کے مطابق ہوگا۔
Ayah 3:162مومن و کافر برابر نہیں :
162: اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰہِ کَمَنْ 0 بَآئَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَأْوٰہُ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (بھلا وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی اتباع کی) من اتبع سے مراد مہاجرین و انصار ہیں۔ کَمَنْ 0 بَآئَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ساتھ لوٹا) مَنم بآئَ سے مراد منافقین اور کفار ہیں۔ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے)
Ayah 3:163ثواب و عذاب میں تفاوت ہے :
163: ھُمْ دَرجٰتٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (ان کے درجات ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں) ان میں تفاوت و فرق ہے جیسا درجات میں ہوتا ہے۔ یا وہ درجات والے ہیں مطلب یہ ہے کہ ثواب پانے والوں اور سزا پانے والوں کے درجات میں فرق ہے یا ثواب و عذاب میں تفاوت و فرق ہے۔ وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ (اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں ان کو دیکھنے والے ہیں) ان کے اعمال و درجات سے واقف ہے پس انہی اعمال کے حساب سے بدلہ دے گا۔
Ayah 3:164تصدیق کے لئے آسانی کردی :
164: لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ٰایٰتِہٖ وَیُزَکِّیھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (تحقیق اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر احسان فرمایا) یعنی ان مؤمنوں پر جو آپ کی قوم میں سے آپ پر ایمان لائے ان میں سے ایمان والوں کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے۔ کہ آپ کی بعثت سے فائدہ ان کو پہنچا۔ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ (جب کہ ان میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث فرمایا) یعنی انکی جنس میں سے جو انکی طرح عربی ہیں یا اولاد اسماعیل میں سے پیغمبر بھیج کر جیسا کہ وہ اولاد اسماعیل میں سے ہیں اور اس میں احسان یہ ہے کہ جب وہ ان میں سے ہیں تو زبان ایک ہوئی۔ پس جو چیزیں ان پر لازم ہیں ان کا جاننا آسان ہوجائے گا اور وہ سچائی و امانت کے سلسلہ میں آپ کی ذات سے بخوبی واقف تھے یہ بات ان کو تصدیق کے سلسلہ میں نزدیک تر کردے گی اور ان کے لئے ان میں سے ہونا باعث شرف بن جائے گا۔
ایک قراءت میں مِّنْ اَنْفَسِھِمْ یعنی من اشرفہم ان میں سب سے زیادہ شرف والے ہیں۔
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ ٰایٰتِہٖ (وہ اللہ تعالیٰ کی آیات ان پر پڑھتا ہے) یعنی قرآن پڑھ کر سناتا ہے اس کے بعد کہ وہ جاہل لوگ تھے ان کے کانوں میں وحی کی کوئی بات نہ پڑی تھی۔ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ( کتاب و حکمت سے مراد قرآن وسنت ہے) وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ ( بیشک وہ اس سے پہلے) یعنی بعثت رسول ﷺ سے پہلے لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ (کھلی گمراہی میں تھے)
اندھے پن اور جہالت میں مبتلا تھے۔ مبین کھلی جس میں کوئی اشتباہ نہ تھا۔
نحو : ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اسکے بعد لام کا آنا۔ اِنْ نافیہ سے اس کو الگ کرتا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وان
الشان والحدیث کانوا من قبل فی ضلال مبین۔ بیشک معاملہ و بات یہ ہے کہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
Ayah 3:165165: اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَاقُلْ ھُوَمِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچی) اس مصیبت سے مراد احد میں ستر صحابہ کا شہید ہونا ہے۔ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا (تم اس سے دوگنا پہنچا چکے) بدر کے دن ستّر کفار قتل اور ستّر قید ہوئے۔
نحو : یہ جملہ موضع رفع میں مصیبت کی صفت ہے۔
قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا : (تم نے کہا یہ کہاں سے ہے) قُلْ ھُوَمِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ (تم کہہ دو ! کہ یہ مصیبت خود تمہاری طرف سے ہے) کیونکہ مدینہ سے نکل کر لڑنا تم نے پسند کیا۔ یا اس لئے کہ تم نے مرکز کو چھوڑ دیا۔
تین نحوی تراکیب :
نحو : لمّا۔ قلتم کی وجہ سے منصوب ہے اور اَصَابَتْکُمْ محل جر میں ہے کیونکہ لما کی اضافت اس کی طرف ہے تقدیر عبارت یہ ہے : أقلتم حین اصابتکم کیا اس وقت تم نے کہا جب پہنچی تمہیں تکلیف۔
اَنّٰی ھذا یہ مقولہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ أ، تقریری ہے اور تو بیخ کیلئے ہے اور اس جملہ کا عطف وائو کے ذریعہ ولقد صدقکم اللّٰہ وعدہٗ پر ہے جو کہ احد میں وارد ہوا۔ یا پھر اس کا عطف محذوف پر ہے۔ جس کی تقدیر عبارت یہ ہے افعلتم کذا وقلتم حینئذٍکذا۔ کیا تم نے ایسا کیا اور اس وقت یہ کہا : اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں) مدد کی قدرت اور مدد روک لینے کی طاقت بھی ہے۔
Ayah 3:166غزوئہ احد قضاء کا فیصلہ ہے :
166: وَمَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیَعْلَمَ اْلْمُؤْمِنِیْنَ اور وہ جو تمہیں پہنچا ) ۔ یہ مَا۔ الذی کا معنی دیتا ہے۔ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَ : (اور تاکہ جان لے اللہ مؤمنین کو)
نحو : مَامبتداء فَبِاِذْنِ اللّٰہِ یہ خبر جو کائن سے متعلق ہے۔ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ۔ (جس دن دو گروہ آپس میں لڑے)
تمہارا گروہ اور مشرکین کی جماعت مقام احد میں فَبِاِذْنِ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوا) اذن سے مراد علم و قضاء ہے۔
Ayah 3:167167: وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا وَقِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِادْ فَعُوْا قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعْنٰـکُمْ ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَپذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ۔ (تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے ان لوگوں کو جو منافق ہیں) یعنی یہ اس لئے ہوا کہ مومن و منافق کا امتیاز ہو۔ تاکہ ان کا ایمان اور نفاق معلوم ہوجائے۔ وَقِیْلَ لَھُمْ (اور ان کو کہا گیا) یعنی منافقین کو کہا گیا تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (آئو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو) جس طرح مومن آخرت کیلئے جہاد کرتے ہیں۔ اَوِادْ فَعُوْا (یاد فاع کرو) یعنی یا کم ازکم اپنے اموال، جانیں اور اہل و عیال سے مدافعت تو کرو۔ اگر تم آخرت کیلئے نہیں لڑتے ہو۔ یہ تفسیر بھی کی گئی کہ مجاہدین کی جماعت میں اضافہ کر کے دشمن سے دفاع کرو خواہ لڑائی نہ بھی کرو۔ کیونکہ کثرت تعداد دشمن کو مرعوب کردیتی ہے۔
نحو : قیل لھم یہ کلام ابتدائی ہے۔
یہ جنگ نہیں ہلاکت ہے :
قَالُوْا لَوْنَعْلَمُ قِتَالًا لَّا تَّـبَعْنٰکُمْ (اگر ہم اس ٹکرائو کو لڑائی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے) یعنی اگر ہم جانتے کہ اس کو
لڑائی کہنا صحیح ہے تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ (مگر یہ تو خود کشی ہے) مقصد یہ ہے کہ وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ جس کام میں تم پڑے ہو وہ غلطی ہے اور اسکے علاوہ کچھ نہیں اس کو جنگ نہیں کہا جاسکتا بلکہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا کرنا ہے۔ ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَپذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ (وہ منافق جتنے ایمان کے قریب تھے اس دن اتنے وہ کفر سے زیادہ قریب تھے) یعنی اس سے وہ اپنے ایمان کو ظاہر کر رہے ہیں ادھر جو علامات ان سے ظاہر ہوئی ہیں وہ کفر کا اعلان کر رہی ہیں۔ جب منافقین نے مسلمانوں کے لشکر سے علیحدگی اختیار کرلی اور جو منہ میں آیا بک دیا تو اس طرح وہ اس ایمان سے بھی دور ہوگئے جو بقول ان کے ایمان تھا۔ اور کفر سے قریب تر ہوگئے۔ یا بنسبت اہل ایمان کے کافروں سے انکی مدد زیادہ قریب ہے کیونکہ مسلمانوں سے انکا علیحدگی اختیار کرنا اور مسلمانوں کی تعداد کو کم کرنا یہ اہل شرک کی کھلی تقویت ہے۔
قول و فعل میں تضاد :
یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّالَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ (اپنے منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں) یعنی منہ سے
اسلام کو ظاہر کرتے اور دلوں میں کفر چھپائے ہوئے ہیں۔ اس آیت میں افواہ کی قید تاکید کیلئے ہے کیونکہ قول تو پہلے بھی منہ سے ہی ہوتا ہے۔ اور مجاز کی نفی کردی۔ کہ انکا قول باطن سے واقعۃً جدا ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ (اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں) یعنی منافقت۔
Ayah 3:168ابن ابی کا مقولہ :
168 : اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِہِمْ وَقَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِن کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (وہ جنہوں نے کہا) مراد عبداللہ بن ابی اور اس کا گروہ ہے۔ لِاِخْوَانِہِمْ (اپنے نسبی بھائیوں کے متعلق) مراد احد کے دن قبائل انصار میں قتل ہوجانے والے وَقَعَدُوْا (اور وہ بیٹھ رہے) یعنی یہ کہا اور خود قتال سے بیٹھ رہے۔ لَوْ اَطَاعُوْنَا مَاقُتِلُوْا (اگر وہ ہماری بات مانتے تو یہ قتل نہ ہوتے) یعنی اگر ہمارے بھائی رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر لوٹنے میں ہماری بات مان لیتے اور گھر میں بیٹھے رہتے تو وہ اسی طرح قتل سے بچ جاتے جیسے ہم۔
تین تراکیب نحویہ :
نحو : نمبر 1۔ اَلَّذِیْنَ قَالُوْا یہ ھم مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ یا یکتمون کی وائو سے بدل ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔
نمبر 2۔ ا عنی کا مفعول ہونے کی وجہ سے اَلَّذِیْنَ نَافَقُوْا کا بدل ہونے کی بناء پر منصوب ہے نمبر 3۔ افواہہم کی ضمیر سے بدل یا قلوبہم کی ضمیر سے بدل کی بنا پر مجرو رہے۔
اپنے کو موت سے بچا کر دکھائو :
قُلْ فَادْرَئُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِن کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (کہہ دیں اپنے نفسوں سے موت کو دور کرو اگر تم سچے ہو) کہ تقدیر سے بچنا فائدہ دے سکتا ہے تو موت سے اپنے آپ کو بچا لو۔
دوسری تفسیر یہ ہے اگر تم اس بارے میں سچے ہو کہ قتل سے بچنے کیلئے تمہارے پاس راستہ موجود ہے اور وہ لڑائی سے بچ کر گھر میں بیٹھنا ہے۔ تو پھر موت کو دور کرنے کی راہ بھی ڈھونڈو۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جس دن منافقین نے یہ افواہ اڑائی۔ اس دن ان میں سے ستر آدمی مرگئے۔
Ayah 3:169شہداء کا پہلا انعام (بدلہ):
169: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًاط بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوْنَ ۔ (ہرگز نہ گمان کرو ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں مردہ بلکہ وہ زندہ ہیں)
فائدہ : احد کے مقتولین کے بارے میں یہ آیات اتریں۔
قراءت : لَا تَحْسَبَنَّ سین کے فتحہ سے شامی، حمزہ، علی و عاصم نے پڑھا۔ دوسرے قراء نے لَا تَحْسِبَنَّ کسر ئہ سین سے پڑھا ہے۔ قُتِلوا کو شامی نے قُتِّلُوا پڑھا ہے۔
شہدائے احد کا تذکرہ :
لَا تَحْسَبَنَّ کا خطاب خاص رسول اللہ ﷺ کو یا ہر مسلمان کو ہے۔ بَلْ اَحْیَآئٌ یعنی بل ہم احیاء بلکہ وہ زندہ ہیں۔ عِنْدَ رَبِّہِمْ اسکے ہاں مقرب ہیں۔ اور مرتبہ والے ہیں۔ یُرْزَقُوْنَ (ان کو رزق دیا جاتا ہے) جس طرح تمام زندہ کھاتے پیتے ہیں۔ یہ اَحْیَآئٌ کی تاکید ہے اور اللہ تعالیٰ کے رزق سے میسر شدہ نعمتیں جو ان کو حاصل ہیں انکا تذکرہ ہے۔
Ayah 3:170کیفیت حیات :
170: فَرِحِیْنَ بِمَآ ٰاتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ اَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ فَرِحِیْنَ (وہ خوش ہونے والے ہیں) یہ یرزقون کی ضمیر سے حال ہے۔ بِمَآ ٰاتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطاء فرمایا ہے) کہ وہ زندہ ہیں اور مقربین میں ہیں اور جنت کی نعمتیں اور رزق جلد ان کو مل رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انکی ارواح کو سفید پرندوں کے قالب میں ڈال دیا۔ وہ جنت کی نہروں میں چکر لگاتے اور اسکے پھلوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ پھر عرش کے سایہ میں لٹکے ہوئے ذھبی قنا دیل میں جابیٹھتے ہیں۔ ( ابودائود : 3520) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ رزق جنت میں قیامت کے دن ان کو ملے گا مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ پھر تخصیص کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
ترغیب الی الشہادۃ :
وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ (وہ خوشخبری کے طالب ہیں اپنے ان مجاہد بھائیوں کے متعلق جو) لَمْ یَلْحَقُوْا بِھِمْ (ان کو ابھی تک نہیں ملے) یعنی شہید نہیں ہوئے کہ وہ ان سے جاملتے مِّنْ خَلْفِھِمْ (اپنے پیچھے) ۔ مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد باقی رہ گئے اور یہ ان سے آگے بڑھ گئے۔ یا مرتبہ میں ان سے پیچھے رہنے والے۔ اَلاَّ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ (کہ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا) اور نہ رنج۔
نحو : یہ الذین سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہوا یہ مسرور ہیں اس بات پر جو ان کے سامنے واضح ہوئی ان لوگوں کے متعلق جن کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ آئے کہ وہ قیامت کے دن امن کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بشارت دی۔ پس وہ اس سے خوش ہونے والے ہیں۔
درحقیقت پچھلے لوگوں کے متعلق ان کو بشارت دے کر بعد والے لوگوں کو جہاد پر آمادہ کیا اور شہداء کے مراتب کو حاصل کرنے کی ترغیب دلائی وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ( اور نہ وہ غمگین ہونگے)
Ayah 3:171بشارات فضل و انعام :
171: یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ وَّاَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (وہ بشارت پائیں گے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کی) یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر انعامات کر رکھے ہیں۔ اس پر وہ خوش و خرم ہیں اور جو مزید اکرام سے ان کو نواز رکھا ہے اس پر مسرور ہیں وَّاَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ (بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے) بلکہ وہ زیادہ عنایت فرماتے ہیں۔
قراءت : علی (رح) نے کسرہ سے اِنَّ پڑھا اور اس کو جملہ استینافیہ اعتراضیہ قرار دیا۔
Ayah 3:172غزوئہ حمراء الاسد کا تذکرہ :
172: الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْم بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ (وہ جنہوں نے اللہ اور رسول کی دعوت جہاد کو لبیک کہا)
نحو : اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا مبتداء اور لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا۔ اس کی خبر ہے یا جملہ مؤمنین کی صفت ہے یا اَمْدَحُ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ مِنْم بَعْدِ مَآ اَصَابَھُمُ الْقَرْحُ اسکے بعد کہ ان کو زخم پہنچے۔ القرح زخم، روایات میں ہے کہ ابو سفیان اور اسکے ساتھی جب احد سے واپس لوٹ گئے تو مقام الروحاء میں پہنچ کر شرمندہ ہوئے کہ ہم بلاوجہ کوچ کر آئے۔ واپسی کا ارادہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے کفار پر رعب قائم کرنے کیلئے اور مسلمانوں کی قوت کا مظاہرہ کرنے کیلئے صحابہ کرام ؓ کو ابوسفیان کا پیچھا کرنے کیلئے نکلنے پر برانگیختہ کیا۔ چناچہ اتوار کے دن ستّر صحابہ کرام ؓ کے ساتھ آپ مدینہ سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ حمراء الاسد کے مقام تک پہنچے۔ یہ مدینہ منورہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ صحابہ کرام ؓ زخمی حالت میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ چناچہ کفار سر پر پائوں رکھ کر بھاگ گئے۔ یہ آیت اس سلسلہ میں اتری لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ۔ (ان لوگوں کیلئے جنہوں نے ان میں سے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا۔ آخرت میں بہت بڑا بدلہ ہے)
نحو : مِنْہُمْ میں مِنْ تبیین کیلئے ہے۔ جیسا اس ارشاد میں : وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔ (الفتح : 29) مِنْ کے بیانیہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی بات پر لبیک کہی۔ وہ تمام نیکی وتقویٰ اختیار کرنے والے تھے نہ کہ بعض۔