3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمدارک التنزیل

Ayah 3:29

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

29: قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَافِیْ صُدُوْرِکُم اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ وَیَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ ، وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قََدِیْرٌ۔ (اے محمد ﷺ کہہ دیں اگر تم چھپائو جو تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو ظاہر کرو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت والے ہیں) قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَافِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یعنی کفار کی ولایت وغیرہ اور جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں یَعْلَمْہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ پر مخفی نہیں) یہ انتہائی بلیغ وعید ہے۔ وَیَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ یہ جملہ مستانفہ ہے یہ جواب شرط کا معطوف نہیں (یعنی وہ وہی ذات ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز سے واقف ہے) اس پر تمہارا باطن و ظاہر پوشیدہ نہیں۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قََدِیْرٌاللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے پس وہ تمہاری سزا پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 3:30

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی، اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

30: یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓ ئٍ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَھَا وَبَیْنَہٗٓ اَمَدًا 7 بَعِیْدًاوَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ، وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌمبِالْعِبَادِ ۔ (جس روز ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکی کو اپنے سامنے موجود پائے گا اور جو بدی کی ہوگی اس کو بھی سامنے موجود پائے گا۔ تمنا کریگا کاش اس کے اور اس کے برے عمل کے درمیان لمبی مسافت ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ مومن بندوں پر بڑا مہربان ہے) یوم کا فائدہ : یَوْمَ تَجِدُ تا بعیدا : : نمبر 1: یوم ظرف ہے اس کا تعلق تودّ سے ہے اور بینہ کی ضمیر یوم کی طرف ہے یعنی قیامت کے دن جبکہ ہر نفس اپنے خیر و شر کو موجود پالے گا۔ وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس دن کے درمیان بہت دور کا فاصلہ ہوتا۔ نمبر 2: اس کا فعل اذکر محذوف ہے اور ماعملت پر اکیلا واقع ہے اور ماعملت ابتداء کی وجہ سے مرفوع اور تودّ اس کی خبر ہوگی یعنی جو برا کام اس نے کیا وہ اس کے متعلق چاہے گا کہ اس عمل اور اس کے درمیان مسافت بعید ہوتی۔ اور یہ ترکیب صحیح نہیں۔ ما شرطیہ تودّ کے مرفوع ہونے کی وجہ سے۔ البتہ اس میں کلام نہیں کہ جب شرط ماضی ہو تو مضارع جزاء پر رفع جائز ہے لیکن وہاں بھی جزم زیادہ مستعمل ہے۔ مبرد تو اس مقام پر رفع کو شاذ قرار دیتے ہیں۔ رئوف کی رأفت : وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌم بِالْعِبَادِ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کی یہ رأفت ہے کہ ان کو اپنی ذات سے ڈرایا تاکہ وہ اپنے کو اس کی ناراضگی کے مقام پر پیش نہ کریں۔ نمبر 2۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ارادہ کیا گیا ہو کہ باوجودیکہ وہ ایسی ذات ہے کہ اس سے ڈراجائے کیونکہ وہ کامل قدرت والا ہے مگر اس کی وسعت رحمت امید کی آماجگاہ ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا۔ ان ربک لذومغفرۃ و ذوعقاب الیم فصلت آیت نمبر 43 کہ تمہارا رب بیشک بخشنے والا اور دردناک عذاب والا ہے۔
Ayah 3:31

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

31: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے) فائدہ : یہ آیت اس وقت اتری جب یہود نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے محبوب ہیں۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ ۔ بندے کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو دوسری چیزوں پر ترجیح دے۔ محبت کی حقیقت : اور اللہ تعالیٰ کے بندے سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ بندے پر راضی ہو۔ اور اس کے فعل کی تعریف فرمائے۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں گمان کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں پس رسول اکرم ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ ان کے اس قول کی عمل سے تصدیق مقرر کردیں۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوے دار ہو اور سنت رسول اللہ کی مخالفت کرے وہ جھوٹا ہے اور کتاب اللہ اس کی تکذیب کر رہی ہے۔ بعض نے کہا اللہ تعالیٰ کی محبت کا مطلب اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی دائمی خشیت اور دل کا ہمیشہ اس کی ذات اور یاد میں مصروف رہنا اور ہمیشہ اس سے موانست کا اظہار کرنا ہے۔ بعض نے کہا۔ اللہ تعالیٰ کی محبت درحقیقت نبوت کی اس کے اقوال، افعال، احوال میں اتباع کا نام ہے۔ البتہ احوال مخصوصہ بالذات اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔ ایک اور قول یہ ہے محبت کی علامت ہمیشہ سوچ و بچار، کثرت خلوت دائمی خاموشی اختیار کرنا ہے جس میں حال یہ ہو کہ جب نگاہ اٹھائے تو کچھ نہ دیکھے، جب آواز دیں تو کچھ نہ سنے اور جب دکھ پہنچے تو غم زدہ نہ ہو اور جب کوئی چیز پالے تو اترائے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اور نہ کسی سے امید لگائے۔ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں)
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

32: قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (اے محمد ﷺ کہہ دیں تم اطاعت کرو اللہ تعالیٰ اور رسول کی۔ پس اگر منہ موڑ لیں یعنی اطاعت قبول کرنے سے اعراض کریں) تَوَلَّوْا میں مضارع کے صیغہ بننے کا احتمال بھی ہے یعنی اِنْ تتولوا۔ ( اگر تم منہ موڑ لو) ۔ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ ۔ ( پس اللہ ناشکروں کو پسند نہیں کرتے ) ۔ یعنی ان سے محبت نہیں کرتے) ۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

33: اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی ٰادَمَ وَنُوْحًا وَّ ٰالَ اِبْرٰھِیْمَ وَ ٰالَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (بےشک اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا ہے آدم کو اور نوح ( علیہ السلام) کو اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد کو اور عمران کی اولاد کو تمام جہان والوں پر) بیشک اللہ تعالیٰ نے چنا آدم ( علیہ السلام) کو جو ابوالبشر ہیں اور نوح ( علیہ السلام) جو شیخ المرسلین ہیں۔ اور آل ابراہیم سے مراد اسماعیل و اسحاق (علیہما السلام) اور ان دونوں کی اولاد ہے۔ آل عمران کی مراد : آل عمران سے موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) جو دونوں عمران بن یصہر کے بیٹے تھے اور دوسرا قول یہ بھی نقل کیا گیا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اور مریم بنت عمران بن ماثان مراد ہیں۔ ان دونوں عمرانوں کے درمیان اٹھارہ سو سال کا فاصلہ ہے۔ علی العالمین سے ان کے زمانوں کے لوگ مراد ہیں۔
Ayah 3:34

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

34: ذُرِّیَّۃًم بَعْضُہَا مِنْ 0 بَعْضٍط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (یہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو سننے جاننے والے ہیں) ذُرِّیَّۃً یہ آل ابراہیم اور آل عمران سے بدل ہے۔ بعضھا من بعض۔ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر موضع نصب میں واقع ہو کر ذریت کی صفت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : ان الآلین ذریۃ واحدۃ متسلسلۃ بعضھا متشعب من بعض۔ یعنی دونوں آل ایک مسلسل لڑی ہیں۔ جو ایک دوسرے سے شاخ در شاخ چلنے والے ہیں۔ جیسے موسیٰ و ہارون عمران سے اور عمران یصہر سے اور وہ قاہث سے اور قاہث لاوی سے اور لاوی یعقوب سے اور یعقوب اسحاق سے اور اسی طرح عیسیٰ بن مریم بنت عمران بن ماثان اور یہ سلسلہ یہود ابن یعقوب بن اسحاق سے جاملتا ہے۔ اور آل ابراہیم میں رسول اللہ ﷺ بھی شامل ہیں۔ دوسرا قول : یہ ایک دوسرے سے دین میں متعلق ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی ہر بات سننے جاننے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کون چنے جانے کے لائق ہے یا عمران کی زوجہ کا قول سننے والے اور اس کی نیت کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 3:35

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

حنّہ کا تذکرہ : 35: اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّ رًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ (جبکہ عمران کی بی بی نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے نذر مانی ہے آپ کے لئے اس بچہ کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ آزاد رکھا جاویگا سو آپ مجھ سے قبول کرلیجئے) اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیْمُ ۔ (بےشک آپ سننے والے جاننے والے ہیں) ۔ اِذقَالَتِ : نحو : اِذ عَلِیْمٌ کا ظرف ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یا اذکر محذوف کا ظرف ہے۔ امْرَاتُ عِمْرٰنَ یہ عمران بن ماثان کی بیوی ہے جو حضرت مریم کی والدہ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نانی ہے۔ اس کا نام حنّہ بنت ناقوذا ہے۔ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّ رًا ( اے میرے رب میں نے اپنے اوپر واجب کرلیا) نحو : یہ ما بمعنی الذی۔ ذوالحال ہے اور محرراً اس کا حال ہے۔ یعنی بیت المقدس کی خدمت کیلئے اسکو آزاد چھوڑوں گی۔ جس پر مجھے کچھ بھی اختیار نہ ہوگا اور نہ ہی میں اس سے خدمت لوں گی۔ یہ نذر انکی شریعت میں درست تھی۔ یا عبادت کیلئے اسکو فارغ کر دونگی۔ دنیا کے جھمیلوں سے اس کو سروکار نہ ہوگا۔ جیسے محاورہ میں کہتے ہیں۔ طِیْنٌ حُرٌّ یعنی خالص مٹی۔ فتَقَبَّلْ مِنِّیْ ۔ قراءت : ابو عمرو اور مدنی نے مِنِّیَ پڑھا ہے۔ التقبل کسی چیز کو رضامندی سے لینا۔ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیْمُ ۔ (بیشک آپ ہر بات کو سننے اور جاننے والے ہیں)
Ayah 3:36

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

36: فَلَمَّا وَضَعَتْھَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی (پھر جب لڑکی جنی کہنے لگیں کہ اے میرے پروردگار میں نے تو وہ حمل لڑکی جنی) وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَ لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَاِنّیِْٓ اُعِیْذُ ھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ فَلَمَّا وَضَعَتْھَا، ھا ضمیر مافی بطنی یعنی حمل کی طرف راجع ہے، مؤنث حاملہ یا نفس یا نسمہ کے اعتبار سے لائی گئی۔ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی یہ وَضَعْتُھَاکی ضمیر سے حال ہے۔ یعنی حاملہ یا نفس یا نسمہ نے لڑکی جنی۔ حنہّ نے یہ بات بطور معذرت کہی کیونکہ لڑکیوں کی نذر کا رواج نہ تھا۔ اس نے غمزدہ ہو کر حسرت و رنج سے یہ بات کہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حسرت پر تسلی : واللّٰہ اعلم بما وضعت (اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو کچھ اس نے جنا) اس کلام سے پیدا شدہ بچی کی عظمت ظاہر کرنا مقصود ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو بچی اس نے جنی ہے۔ اور جو عظیم معاملات اس سے متعلق ہیں۔ قراءت : وَضَعْتُ شامی اور ابوبکر نے اس طرح پڑھا۔ کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو میں نے بچی جنی ہے شاید اس کی اس میں کوئی حکمت اور کوئی راز ہے۔ اس قراءت کے مطابق یہ سابقہ قول حنہ سے متعلق ہوگا اور پہلی قراءت کے مطابق اُنثٰی پر وقف کیا جائے گا۔ اور واللّٰہ اعلم یہ جملہ ابتدا ئیہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشینگوئی ہے۔ لَیْسَ الذَّکَرُ : (نہیں ہے وہ مذکر) جو تم نے طلب کیا، کَالْاُنْثٰی (اس عورت کی طرح) جو اس کو دی گئی ان دونوں میں الف لام عہد کا ہے۔ وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ (اور میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا) اس کا عطف انی وضعتھا انثٰی پر ہے۔ درمیان میں دونوں جملے معترضہ ہیں۔ حنہ نے اس کا نام مریم رکھا۔ کیونکہ انکی زبان میں مریم عابدہ کو کہتے تھے۔ یہ نام رکھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے یہ مانگا کہ وہ اس کی حفاظت فرما کر اسم بامسمّٰی بنا دے۔ اور اسکے متعلق اس کا گمان سچا کر دے۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ اس نے اس کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کی پناہ شیطان سے اسکے لئے اور اسکے لڑکے کیلئے ان الفاظ سے طلب کی اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ (کہ میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان ملعون سے تیری پناہ میں دیتی ہوں) حدیث میں وارد ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے ولادت کے وقت شیطان اس کو چوک لگاتا ہے۔ جس سے وہ چیختا ہے۔ سوائے مریم اور اسکے بیٹے کے۔ (بخاری، مسلم، احمد) قراءت : مدنی نے اِنِّیْ کو اِنِّیَ پڑھا ہے۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

37: فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْچبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا۔ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقاً قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا، قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَن یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ (پس ان کو ان کے رب نے بوجہ احسن قبول فرما لیا اور عمدہ طور پر ان کو نشونما دیا اور زکریا کو ان کا سرپرست بنایا جب کبھی زکریا ان کے پاس عمدہ مکان میں تشریف لاتے تو ان کے پاس کچھ کھانے پینے کی چیزیں پاتے تو یوں فرماتے کہ اے مریم یہ چیزیں تمہارے واسطے کہاں سے آئیں وہ کہتیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے آئیں بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں بےاستحقاق رزق عطا فرماتے ہیں) ۔ فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا ( اللہ تعالیٰ نے مریم کو قبول کرلیا) اور مذکر کی جگہ اس کی نذر پر راضی ہوگیا۔ اعلیٰ قبولیت کا راز : بقول حسن اچھی طرح قبول کرنا، قبول اس چیز کو کہتے ہیں۔ جس سے کسی چیز کو قبول کرتے ہیں (کشادہ روئی و مسرت) جیسے سعوط وہ دوائی جو ناک میں ڈالی جاتی ہے قبول حسن سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ مخصوص معاملہ کہ مریم کو مذکر کی جگہ قبول کرلیا گیا۔ اس سے پہلے کسی عورت کو اس مقصد کیلئے قبول نہ کیا گیا تھا۔ یا دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس کی والدہ سے ولادت کے بعد پرورش سے قبل ہی نگرانی میں لے لی گئی حالانکہ اس وقت بیت المقدس کی خدمت کے قابل نہ تھیں۔ روایت میں ہے کہ جب حنہ نے اس کو جنا تو کپڑے میں لپیٹ کر مسجد کی طرف اٹھا لائیں اور احبار کی خدمت میں جو ہارون ( علیہ السلام) کی اولاد تھے رکھ دیا۔ جبکہ وہ بیت المقدس میں تھے۔ جیسا کہ حجاب کعبہ (بنوعبدالدار) اور ان کو کہنے لگی لو یہ نذیرہ ہے مریم چونکہ ان کے امام اور قربانی کے ذمہ دار کی بیٹی تھی اس لئے سب نے ان کو لینے کی بڑھ چڑھ کر خواہش ظاہر کی کیونکہ بنو ماثان بنی اسرائیل کے سردار اور ان کے علماء تھے۔ اس پر زکریا ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس کا تم سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے نکاح میں اس کی والدہ کی بہن ہے انہوں نے کہا اس کو ہم تسلیم نہیں کرتے جب تک کہ قرعہ اندازی نہ کرلیں وہ چل دیئے انکی تعداد ستائیس (27) تھی۔ دریا پر پہنچ کر انہوں نے اپنے قلم ڈال دیئے۔ زکریا ( علیہ السلام) کا قلم پانی کے اوپر بلند ہوا اور دوسروں کے قلم پانی میں بہہ گئے۔ پس اس کی کفالت زکریا ( علیہ السلام) کے سپرد ہوئی۔ بعض نے کہا کہ قبول مصدر ہے اور اس کا مضاف محذوف ہے۔ یعنی فتقبلھا بذی قبول حسن یعنی اس کو ایسے امر سے قبول کیا جو اچھی قبولیت والا تھا۔ اور وہ اس کا خاص کرنا (خصوصیت پیدا کرنا) تھا۔ وَانبتھا نباتا حسنا۔ اللہ تعالیٰ نے مریم کو اچھی بالیدگی سے بڑھا یا۔ یہ جملہ تربیت حسنہ سے مجاز ہے۔ ابن عطاء کہتے ہیں کہ اس کا عیسیٰ جیسا ثمرہ دینا یہی احسن نبات تھی یا ابتداء کے برخلاف یہ مصدر ہے۔ یا تقدیر عبارت یہ ہے کہ فنبتت نباتاً ۔ کفلھا اس کو قبول کرلیا۔ یا اسکے سنبھالنے کی ذمہ داری لے لی۔ قراءت : کوفی نے کَفَّلھا پڑھا یعنی کفَّلھا اللّٰہ زکریا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زکریاکو اس کا کفیل بنادیا۔ اور اس کی مصلحتوں کا ضامن مقرر کردیا۔ اس صورت میں زکریا مفعول ہے۔ زَکَرِیَّا۔ کوفی اس کو تمام قرآن میں مقصور پڑھتے ہیں۔ سوائے ابوبکر کے اور ابوبکر نے یہاں مد اور نصب سے پڑھا اور دوسروں نے مد اور رفع سے جیسا کہ ثانیہ اور ثالثہ، عبرانی زبان میں زکریا کا معنی ہمیشہ ذکر و تسبیح کرنے والا۔ محراب سے مراد : کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْھَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَکہا گیا ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) نے مریم کیلئے مسجد میں ایک کمرہ بنوایا تھا وہ ایسا کمرہ تھا جس میں سیڑھی لگا کر چڑھا جاسکتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ محراب اصل میں بہترین اور اعلیٰ بیٹھنے کی جگہ کو کہتے ہیں گویا انہوں نے بیت المقدس کے اعلیٰ ترین مقام پر اسکے لئے کمرہ بنوایا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ انکی مساجد کو محاریب کہتے تھے۔ اور حضرت زکریا ( علیہ السلام) اکیلے مریم کے پاس جاسکتے تھے۔ وَجَدَ عِنْدَھَا رِزْقاً مریم ( علیہ السلام) کا رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت سے اتارا جاتا۔ مریم ( علیہ السلام) نے ایک دن بھی پستان کو منہ میں نہیں لیا۔ زکریا ( علیہ السلام) اسکے ہاں سردیوں کے پھل گرمیوں میں پاتے اور گرمیوں کے پھل سردیوں میں۔ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا یہ رزق تمہیں کہاں سے ملا جو کہ دنیا کے ارزاق کے مشابہ نہیں۔ یہ اپنے وقت کے علاوہ میسر ہونے والا ہے۔ قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ مریم نے جواب دیا اس کو بعید مت سمجھو۔ بعض نے کہا کہ مریم ( علیہ السلام) نے بچپن میں یہ کلام کیا۔ جیسا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے پنگھوڑے میں۔ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَن یَّشَآئُ یہ مریم کے کلام کا حصہ ہے یا کلام رب العالمین ہے، بِغَیْرِ حِسَابٍ بغیر اندازہ کے کیونکہ یہ بہت ہے یا محض بطور عطیہ ملا ہے۔ اس پر پوچھ گچھ نہ ہوگی اور استعمال پر باز پرس نہ ہوگی۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

بےوقت پھل کی تمنا : 38: ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ (اس موقعہ پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی ‘ عرض کیا اے میرے ربّ مجھے آپ اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما دیجئے بلاشبہ آپ دعا سننے والے ہیں۔ ) ھُنَالِکَ یعنی اسی جگہ جہاں وہ مریم کے پاس حجرہ میں تشریف فرما تھے یا اسی وقت جب وہ حجرہ میں تشریف فرما تھے۔ ھُنَایہاں استعارۃً لایا گیا حیث اور ثم زمان کیلئے آتے ہیں۔ جب حضرت زکریا ( علیہ السلام) نے مریم ( علیہ السلام) کا مرتبہ اور انکی کرامت دیکھی تو اس بات کی طرف رغبت پیدا ہوئی کہ انکی بیوی ایشاع سے اللہ تعالیٰ ایک بیٹا عنایت فرما دے جس طرح حنہ کو مریم ( علیہ السلام) عنایت کی ہے۔ جو بار گاہ الٰہی میں شان والی ہے۔ اگرچہ ایشاع بوڑھی بانجھ ہوچکی ہے کیونکہ مریم ( علیہ السلام) کی والدہ بھی عمر کے اسی اسٹیج پر تھیں۔ دوسروں نے یہ کہا جب بےوقت پھل مریم سلام اللہ علیہا کے پاس دیکھے تو بانجھ کے ہاں بیٹے کے تولد پر انتباہ ہوا۔ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً ، ذُرِّیَّۃً کا لفظ واحد و جمع دونوں کے لئے آتا ہے۔ مراد اس سے لڑکا ہے۔ طَیِّبَۃً مبارک، طیبہ کا لفظ تانیث کی صورت میں ذریت کے لفظ کا لحاظ کر کے لا یا گیا ہے۔ اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآ ئِ (تو دعائوں کو قبول کرنے والا ہے)
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھے والے اور (خدا کے پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

39: فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓپکَۃُ وَھُوَ قَآپمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی مُصَدِّقاً م بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَسَیِّداً وَّ حَصُوْرًا وَّنَبِیّاً مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ، (کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں یحییٰ کی جن کے احوال یہ ہوں گے کہ وہ کلمۃ اللّٰہکی تصدیق کرنے والے ہونگے اور مقتداء ہونگے اور اپنے نفس کو بہت روکنے والے ہونگے اور نبی بھی ہوں گے اور اعلیٰ درجہ کے شائستہ ہونگے) فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓپکَۃُ ، (پس پکار کے کہا ان سے فرشتوں نے) قول اول : جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کو آواز دی۔ الْمَلٰٓپکَۃُ کا لفظ لایا گیا کیونکہ معنی یہ ہے کہ ان کو اسی جنس کی آواز سنائی دی۔ جیسا کہتے ہیں : فلان یرکب الخیل، فلاں گھوڑے پر سواری کرتا ہے۔ فَنَادَتْہُ امالہ اور یا سے پڑھا گیا علی و حمزہ نے اسی طرح پڑھا وَھُوَ قَآپمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ جبکہ وہ کھڑے حجرے میں نماز ادا کررہے تھے۔ نحو : اس میں دلیل ہے کہ مرا دیں نمازوں کے ساتھ مانگی جاتی ہیں۔ اور نمازوں میں دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے اور حاجات پوری ہوتی ہیں۔ ابن عطاء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر جو عمدہ حالت کھولی ہے۔ وہ اوامرالٰہی کی اتباع اور طاعات میں اخلاص سے میسر آئی ہے۔ اور خلوت گزینی سے ملی ہے۔ اَنَّ اللّٰہَ شامی اور حمزہ نے قال کو مضمر مان کر اِنَّ پڑھا ہے یا اس وجہ سے کہ نداء قول ہے۔ باقی قراء نے فتحہ سے پڑھا یا با کو محذوف مان کر (بِاَنَّ اللّٰہَ ) یُبَشِّرُکَ قراءت حمزہ اور علی نے یَبْشُرُکَ پڑھا تشدید اور تخفیف دونوں لغتیں ہیں۔ بِیَحْیٰي میں یحییٰ غیر منصرف ہے جبکہ اس کو عجمہ مانیں۔ تو اس میں دو سبب عجمہ اور علم پائے جاتے ہیں جیسا موسیٰ عیسیٰ ( ان میں الف مقصورہ بھی دو سبب کے قائم مقام موجود ہے) اور اگر یہ عربی ہیں تو تعریف و وزن فعل جیسا کہ یعمر میں ہے۔ مصداق کلمۃ اللہ : مُصَدِّقاً یہ یحییٰ سے حال ہے بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ کلمہ سے مراد عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ یعنی وہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا مصدق ہوگا۔ اور ان پر پہلا ایمان لانے والا ہوگا۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کا خطاب دیئے جانے کی وجہ ان کی کلمہ کُنْ سے بن باپ ولادت ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ کے ساتھ تصدیق کرنے والے اور اس کی طرف سے ملنے والی کتاب پر ایمان لانے والے ہونگے۔ وَسَیِّدٍا وہ اپنی قوم کی سیادت و سرداری کرنے والے ہونگے اور شرافت میں ان سے فوقیت لے جانے والے ہونگے۔ حضرت یحییٰ اپنی قوم میں سبقت لے جانے والے تھے کیونکہ انہوں نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا تھا انکی قیادت کتنی شاندار تھی۔ حضرت جنید (رح) فرماتے ہیں کہ سید وہ ہے جس نے دونوں جہاں کے عوض خالق کو لے لیا ہو۔ وَّ حَصُوْرًا وہ شخص جو عورتوں کے قریب نہ جائے۔ قدرت کے باوجود اپنے نفس کو روکے یعنی نفس کو خواہشات سے روکنے والا ہو۔ وَّنَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ نیکوں سے پیدا ہونے والے ہونگے کیونکہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) کی صلب سے تھے۔ یا من جملہ صالحین میں سے ہونگے۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

40: قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ قَالَ کَذٰ لِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَایَشَآ ئُ ، قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ (کہا اے میرے رب کیسے ہوگا میرے لئے لڑکا) یہ عادت کے اعتبار سے استبعاد کا اظہار ہے اور قدرت کو عظیم ترقرار دینا ہے۔ شک ظاہر کرنا نہیں۔ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ (پس تحقیق مجھے بڑھاپا پہنچ چکا) جیسا کہتے ہیں ادرکتہ السن العالیۃ یعنی وہ بڑی عمر کا ہوگیا۔ اب مطلب یہ ہوا کہ مجھ میں بڑھاپے کا اثر ہوگیا اور اس نے مجھے ضعیف کردیا۔ اس وقت انکی عمر 99 سال تھی۔ اور بیوی کی عمر 98 سال تھی وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ (اور میری بیوی بانجھ ہوگئی) یعنی بچہ جننے کے قابل نہیں رہی۔ قَالَ کَذٰ لِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَایَشَآ ئُ (کہا اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں افعال عجیبہ ظاہر کرتے ہیں) ۔
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا اے پروردگار کہ (میرے لئے) کوئی نشانی مقرر فرما (خدا نے) فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کرسکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح وشام اس تسبیح کرنا

41: قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْٓ ٰایَۃً قَالَ ٰایَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰـثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًاط وَاذْکُرْ رَّبَّکَ کَثِیْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔ (انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری نشانی یہی ہے کہ تم لوگوں سے تین روز تک باتیں نہ کرسکو گے سوائے اشارہ کے اور اپنے رب کو بکثرت یاد کرنا اور تسبیح کرنا دن ڈھلے بھی اور صبح کو بھی) قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْ ابو عمرو اور مدنی نے لِیَپڑھا۔ ٰایَۃً آیت سے مراد ایسی نشانی ہے جس سے میں حمل کو پہچان لوں اور نعمت کا استقبال شکر یے سے کروں۔ انسانی گفتگو میں زبان کا اللہ کی قدرت سے رکنا : قَالَ ٰایَتُکَ اَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ یعنی لوگوں سے کلام پر قدرت نہ رہے گی۔ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا۔ مگر ہاتھ سے اشارہ یا سر سے یا آنکھ سے یا ابرو سے اشارہ۔ رمز کا اصل معنی حرکت دینا ہے کہا جاتا ہے۔ ارتمز اس نے حرکت دی۔ رمز کو استثناء کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنس کلام سے نہیں البتہ اگر ایذاء کی حد تک پہنچ جائے اور اس سے وہی سمجھا جائے جو کلام سے سمجھا جاتا ہے تو اس کو کلام کہتے ہیں۔ یا یہ مستثنٰی منقطع ہے۔ لوگوں سے گفتگو کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ معلوم ہوجائے کہ لوگوں کے ساتھ گفتگو پر انکی زبان کو قدرت نہ ہوگی مگر ذکر اللہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی اسی لئے فرما دیا وَاذْکُرْ رَّبَّکَ کَثِیْراً وَّسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْاِ بْکَارِ یعنی لوگوں کے ساتھ گفتگو سے عاجزی کے زمانہ میں تم خوب اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرو۔ یہ کھلی نشانیوں اور واضح دلائل میں سے ہے کہ ان کی زبان کو لوگوں کے ساتھ گفتگو سے روک دیا گیا۔ تاکہ اس زمانے کو وہ ذکر کیلئے خاص کردیں۔ اور اپنی زبان کو اور کسی چیز میں مشغول نہ کریں، گویا کہ جب شکر کیلئے انہوں نے نشانی طلب کی تو ان کو بتلادیا گیا کہ انکی زبان شکریہ کے علاوہ ہر چیز سے رک جائے گی۔ بہترین جواب وہی ہوتا ہے جو سوال سے ہی اخذ کیا جائے۔ اَلْعَشِیِّ زوال سے غروب تک کا وقت الْاِ بْکَارِ طلوع فجر سے چاشت تک کا وقت۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

42: وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓپکَۃُ یٰمَرْیَمُ (اور جبکہ فرشتوں نے کہا کہ اے مریم) اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ وَطھَّرَ کِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْن۔ اس کا عطف اذ قالت امراۃ عمران پر ہے یا اذ کر محذوف کا یہ ظرف ہے۔ وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓٓپٰکَۃُ یٰمَرْیَمُ (روایت میں کہ انہوں نے رو در رو کہا) اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰکِ (بےشک اللہ تعالیٰ نے تجھے چھانٹ لیا) پہلی مرتبہ اسی وقت جب تمہاری ماں سے تمہیں قبول کرلیا اور تیری تربیت کی اور شاندار کرامات سے تجھے نوازا۔ وَطھَّرَ کِ (اور تجھے پاک رکھا) ناپاک افعال سے۔ منفرد فضیلت : وَاصْطَفٰکِ (اور ثانیاً تجھے چنا) عَلٰی نِسَآ ئِ الْعٰلَمِیْنَ (تمام جہان کی عورتوں پر) وہ اس طرح کہ تجھے بلا باپ عیسیٰ بیٹا عنایت کردیا اور یہ فضیلت کسی اور عورت کو حاصل نہیں۔
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا

43: یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَا سْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰ کِعِیْنَ ۔ یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّکِ (اے مریم تو عاجزی کر اپنے رب کیلئے) یعنی ہمیشہ اطاعت گزاری اختیار کر۔ یا نماز میں طویل قیام کر۔ وَ اسْجُدِیْ ( اور تو سجدہ کر) یہ بھی کہا گیا کہ ان کو قیام و سجود کا حکم دے کر نماز ہی کا حکم دینا مقصود ہے۔ کیونکہ یہ دونوں نماز کے ارکان میں سے ہیں پھر انہیں فرمایا گیا۔ مرتبہ جماعت : وَارْکَعِیْ مَعَ الرّٰ کِعِیْنَ (پھر رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر) یعنی تمہیں نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے یعنی جماعت کے ساتھ یا دوسری تفسیر یہ ہے کہ من جملہ نمازیوں کے ساتھ تو بھی اپنے کو منظم کر اور ان میں اپنے کو گن اور شمار کر۔ اور ان کے علاوہ اور لوگوں میں اپنے آپ کو شمار نہ کر۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی انکے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑے رہے تھے

44: ذٰلِکَ مِنْ اَنْچبَآئِ الْغَیْبِ نُوْ حِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلاَمَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ۔ ذٰلِکَکا مشارالیہ حنہ مریم اور زکریا اور یحییٰ (علیہم السلام) کے واقعات ہیں۔ مِنْ اَنْچبَآئِ الْغَیْبِ نُوْ حِیْہِ اِلَیْکَ ( یہ غیب کی اطلاعات ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپ کے پاس بھیج رہے ہیں) جو ان غیوبات میں سے ہیں جن کو وحی کے سواء آپ نہ جانتے تھے۔ اقلام کی مراد : وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلاَمَھُمْ (اور آپ ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے) اقلام سے ازلام یعنی تیر مراد ہیں۔ جبکہ قرعہ اندازی کیلئے انہوں نے دریا میں ڈالے یا وہ قلم تھے جن سے تورات کو لکھتے تھے۔ ان قلموں کو بطور تبرک قرعہ اندازی کیلئے استعمال کیا۔ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ (کہ ان میں سے کون مریم کا کفیل بنے گا) اَیُّھُمْ کا متعلق ینظرون محذوف ہے یلقون اس پر دلالت کر رہا ہے۔ گویا عبارت اس طرح تھی یلقونھا ینظرون ایھم یکفل مریم یا لیعلموا محذوف ہے یا یقولون محذوف ہے وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (اور آپ ان کے پاس نہ تھے جبکہ وہ جھگڑا کر رہے تھے) یعنی مریم کے بارے میں پرورش کے سلسلہ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ بن مریم ہوگا (اور جو) دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا

45: اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓپکَۃُ یَمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓپکَۃُ (جب فرشتوں نے کہا) یہ اذ ‘ اُذکُرْ فعل کا ظرف ہے۔ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ (اے مریم بیشک اللہ تعالیٰ تجھے ایک ایسے کلمہ کی خوشخبری دے رہے ہیں جس کا نام مسیح ہوگا) کلمہ سے مراد عیسیٰ ( علیہ السلام) ہیں مِنْہیہ موضع جر میں کلمہ کی صفت ہے اسْمُہٗ یہ مبتداء ہے کلمہ کیلئے ضمیر مذکر کی لائی گئی کیونکہ مراد مذکر ہے۔ مسیح ایک عظیم لقب : الْمَسِیْحُ یہ مبتداء کی خبر ہے۔ یہ جملہ موضع جر میں کلمہ کی صفت ہے۔ مَسِیْحُ یہ عظیم الشان لقب ہے جیسا صدیق و فاروق عبرانی زبان میں اصل یہ مِشِیْحاً ہے اس کا معنی مبارک ہے جیسا کہ قول باری تعالیٰ و جعلنی مُبَارکاً این ماکنت (مریم۔ 31) میں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان کو مسیح اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ جس کسی بیمار دکھی کو ہاتھ لگاتے وہ صحیح ہوجاتا۔ (ان دونوں صورتوں میں مادہ مَسْح ہوگا یا تیسرا قول یہ ہے کہ سیاحت کرتے اور کسی جگہ مستقل قیام اختیار نہ کرتے (اس صورت میں سیاحت مادہ ہے) عیسیٰ یہ مسیح سے بطور بدل لایا گیا۔ ابْنُ مَرْیَمَ یہ مبتداء محذوف ھُوَکی خبر ہے۔ یہ عیسیٰ کی صفت نہیں بن سکتی۔ کیونکہ انکا نام عیسیٰ ہی کافی ہے۔ انکا نام عیسیٰ ابن مریم نہیں۔ ابن مریم اس لئے لائے کیونکہ وہ بغیر باپ پیدا ہوئے پس انکی نسبت ماں ہی کی طرف ہوگی۔ وَجِیْھًا (وہ باعزت و با وجاہت ہونگے) فِی الدُّنْیَا (دنیا میں) نبوت اور اطاعت کے ساتھ وَالْآخِرَۃِ (اور آخرت میں) بلند درجات اور شفاعت کے ساتھ۔ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (وہ مقربین میں سے ہونگے) ان کو اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف اٹھائیں گے۔ نحو : وَجِیْھًا یہ کلمہ سے حال ہے۔ کیونکہ کلمہ نکرہ موصوفہ ہے اس طرح مقربین بھی ثابتاً کے متعلق ہو کر حال دوم ہے۔ اور ویکلم الناس بھی مکلمًا کے معنی میں حال ثالث ہے اور فی المھد یہ یکلم کی ضمیر سے حال ہے۔ ای ثابتًا فی المہد۔ اور ومن الصالحین بھی ثابتاً سے متعلق ہو کر حال ہے۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا

کلام مہد و سہولت : 46: وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ، وَیُکَلِّمُ النَّاسَ (وہ لوگوں سے پنگھوڑے میں کلام کرے گا اور کہولت میں) الْمَھْدِ ، پنگھوڑا جو بچے کو لٹانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مھد ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ وَکَھْلًا اس کا عطف مھد پر ہے یعنی یکلم الناس طفلاً وکھلاً یعنی وہ ان دونوں حالتوں میں یکساں کلام کرے گا۔ جیسا انبیاء ( علیہ السلام) کلام کرتے ہیں طفولیت و کہولت کے کلام میں فرق نہ ہوگا کہو لت وہ زمانہ ہے جس میں عقل پختہ ہوتی اور نبوت ملتی ہے۔ وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور شائستہ لوگوں میں سے ہوگا) یہ بھی حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ خوشخبری دیتے ہیں وہ ان صفات کے ساتھ موصوف ہوگا۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ ہاں کیونکر ہوگا کہ انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں ؟ فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

47: قَا لَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ (کہا اے میرے رب کیسے ہوگا میرے لیے بچہ حالانکہ مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا۔ کہا اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں۔ جب وہ کسی کام کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو کہتے ہیں ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے) یعنی جب وہ کسی چیز کو بنانا چاہتا ہے تو بغیر تاخیر کے بنا ڈالتا ہے۔ لیکن اس کی تعبیر لفظ کُنْ سے فرما کر اشیاء کے بنانے میں سرعت و تیزی کی خبر دی گئی ہے۔
Ayahs 3:48–49

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور وہ انہیں لکھا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (عیسی) بنی اسرائیل کی طرف سے پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) میں تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بہ شکل پرندہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہوجاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کردیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتادیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لئے (قدرت) خدا کی نشانی ہے

48، 49: وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَنِّیْ قَدْجِئْتُکُمْ بِٰایَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ، اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُبْرِیئُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (اور وہ اس کو کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔ بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی ایک نشانی لایا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی کی ایک مورت بنائوں گا پرندہ کی شکل جیسی پس اس مورت میں میں پھونک مارونگا پس وہ پرندہ بن جائیگی اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اور نابینا اور کوڑھی کو تندرست کرونگا اور مردوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کرونگا اور تمہیں جو کچھ کھاتے ہو اور جو کچھ گھروں میں جمع رکھتے ہو بتائوں گا۔ بیشک اس میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم مومن ہو ) ۔ قراءت و نحوی تحقیق : قراءت : یُعَلِّمُہُ مدنی و عاصم نے اسی طرح پڑھا وجیھًا پر عطف کی وجہ سے یہ موضع حال میں ہے۔ باقی قراء نے نون کے ساتھ پڑھا اور اس کو ابتدائی کلام قرار دیا۔ الکتاب سے مراد کتابت ہے آپ اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ خوبصورت خط والے تھے اور دوسرا قول یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں مراد ہیں۔ اَلْحِکْمَۃَ حلال و حرام کی وضاحت یا کتاب سے مراد ہاتھ سے لکھنا اور حکمت سے مراد زبان سے اس کی وضاحت کرنا، التوراۃ و الانجیل۔ وَرَسُوْلًا : یہ فعل محذوف کا مفعول ہے یا یہ موضع حال میں ہے وَرَسُوْلًا پر عطف ہے۔ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَنِّیْ ۔ بآ اس سے قبل محذوف ہے۔ نِّیْ ۔ قَدْجِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۔ آیت سے مراد ایسی دلالت جو میرے دعویٔ نبوت میں سچائی پر دلالت کرے۔ اَنِّیْٓ اَخْلُقُ : نمبر 1۔ یہ اَنِّیْ قَدْجِئْتُکُمْسے بدل ہونے کی بناء پر منصوب ہے یا نمبر 2۔ بِاٰیَۃٍ کا بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہے یا نمبر 3۔ یہ ہی مبتداء محذوف کی وجہ سے مرفوع ہے۔ قراءت : نافع نے جملہ مستانفہ قرار دے کر اِنِّیَ پڑھا ہے۔ معجزاتِ عیسوی : مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ میں تمہارے لئے پرندے جیسی شکل کا اندازہ کر ونگا فَاَنْفُخُ فِیْہِ اس میں ہٖ کی ضمیر کاف کی طرف جارہی ہے۔ یعنی اس پرندے کی مماثل شکل میں فَیَکُوْنُ طَیْرًا پس وہ تمام پرندوں کی طرح پرندہ بن جائیگا۔ قراءت : مدنی نے طَیْرًا کو طائر اً پڑھا ہے۔ بِاِذْنِ اللّٰہِ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بعض نے کہا کہ انہوں نے سوائے چمگادڑ کے اور کوئی پرندہ نہ بنایا۔ وَاُبْرِیئُ الْاَکْمَہَ ۔ اکمہ پیدائشی نابینا وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ ۔ بِاِذْنِ اللّٰہِکے لفظ کو بارے دیگر لاکر الوھیت کے وہم کو دور کردیا۔ روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے سام بن نوح ( علیہ السلام) کو لوگوں کے سامنے زندہ کیا۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے پس تم کوئی نشانی دکھائو تو آپ نے فرمایا اے فلاں ! تو نے فلاں چیز کھائی ہے اور اے فلاں تیرے لئے فلاں چیز چھپا کر رکھی گئی ہے جیسا اس آیت میں ہے وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ ۔ مَا دونوں جگہ الَّذِیْ کے معنی میں ہے یا مَا مصدر یہ ہے اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ ۔ ذٰلِکَ کا مشار الیہ ما سبق اشیاء ہیں لَاٰ یَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لئے بھی (آیا ہوں کہ) بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لئے حلال کردوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لی کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

50: وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَجِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وََاَطِیْعُوْنِ ۔ اور میں تمہارے پاس ایسی حالت میں آیا ہوں کہ اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں۔ اور میں اس لئے آیا ہوں کہ بعض چیزیں جو تمہارے لئے حرام کردی گئی تھیں ان کو حلال کروں۔ اور میں تمہارے پاس ایک بڑی نشانی لے کر آیا ہوں۔ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ وَمُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ یعنی میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں اور تمہارے پاس مصدق بن کر آیا ہوں۔ بعض حلال کردہ اشیاء : وَلِاُ حِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ یہ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ کی طرف لوٹ رہا ہے یعنی میں تمہارے پاس ایک نشانی لے کر آیا ہوں اور اس لئے آیا ہوں تاکہ میں تمہارے لئے حلال کردوں جو اللہ تعالیٰ نے شریعت موسوی میں حرام قرار دی ہیں۔ مثلاً چربیاں اونٹ کا گوشت مچھلی اور ہر ناخن والا جانور۔ ان میں سے بعض کو عیسیٰ ( علیہ السلام) نے حلال کردیا۔ وَجِئْتُکُمْ بِاٰ یَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ یہ دوبارہ تاکید کیلئے لائے۔ فَاتَّقُوا اللّٰہَ تم میری تکذیب و مخالفت میں خدا سے ڈرو۔ وََاَطِیْعُوْنِ اور میرے حکموں کی اطاعت کرو۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھارستہ ہے

51: اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ (بیشک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے) یہ اقرار عبودیت ہے اور اپنے سے ربوبیت کی نفی ہے برخلاف اس کے جو نصاریٰ گمان کرتے ہیں۔ فَاعْبُدُوْہُ تم اس ہی کی عبادت کرو نہ کہ میری ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ (یہ سیدھا راستہ ہے) جو چلنے والے کو جنت کی قائم رہنے والی نعمتوں تک پہنچا دے گا۔
Ayah 3:52

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے نافرمانی (اور نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرفدار اور میرے مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار آپکے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

تکذیب کے وقت معاونت کی اپیل : 52: فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ ۔ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (جب عیسیٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کی طرف سے تکذیب اور کفریہ کلمات سنے تو کہا کون میری مدد کرنے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں ‘ حواریین نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تو گواہ ہوجا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ) فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ علم کی جگہ اَحَسَّ لائے تاکہ یہ ظاہر کردیا جائے کہ ان کو اس طرح علم ہوگیا تھا جیسا کہ کسی محسوس چیز کا علم ہوتا ہے۔ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ ۔ قراءت : مدنی نے انصارِیَ پڑھا ہے یہ انصار بروزن اصحاب۔ ناصر کی جمع ہے یا نصیر بروزن شریف جمع اشراف ہے۔ اِلَی اللّٰہِ یہ محذوف فعل کے متعلق ہے یا انصاری کی یا سے حال ہے۔ یعنی مَنْ اَنْصَارِیْ ذاھباً الی اللہ یا ملتجأً الیہ۔ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ جمع حواری پسندیدہ اور منتخب آدمی نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ (ہم اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار ہیں) ۔ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ۔ (اے عیسیٰ تو گواہ ہوجا کہ ہم فرمانبردار ہیں) ۔ انہوں نے اپنے ایمان کیلئے آپ کو گواہ بنایا تاکہ ان کے ایمان کی تاکید ہوجائے۔ کیونکہ انبیاء ( علیہ السلام) اپنی قوموں کے حق میں یا خلاف اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ ایمان اور اسلام ایک چیز ہے۔
Ayah 3:53

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہوچکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

53: رَبَّنَآ ٰامَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو آپ نے اتارا اور ہم نے رسول کی اتباع کی پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے) رَبَّنَآ ٰامَنَّا بِمَآ اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ ۔ الرَّسُوْلَ سے عیسیٰ ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ الشّٰھِدِیْنَ سے انبیاء ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی امتوں کی گواہی دیں گے۔ یا ان لوگوں کے ساتھ جو اے اللہ تیری وحدانیت کی گواہی دینے والے ہیں۔ یا امت محمد ﷺ کیونکہ وہ لوگوں پر گواہ ہونگے۔
Ayah 3:54

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسی کو بچانے کے لئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

54: وَمَکَرُوْا و َمکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ ۔ (انہوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں) مکر کا معنی اور اس کی اضافت کا حکم : وَمَکَرُوْا : یعنی کفار بنی اسرائیل جن سے عیسیٰ ( علیہ السلام) نے کفر محسوس کیا جبکہ انہوں نے آپ کے قتل و صلیب کی خفیہ تدبیر کی۔ وَ َمکَرَ اللّٰہُ اللہ تعالیٰ نے انکی تدبیر کا اس طرح بدلہ دیا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ اور جس نے دھوکا سے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ اس پر شبیہ ڈال دی یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا۔ نحو : مکر کے لفظ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف جائز نہیں مگر صرف جزائے مکر کے مفہوم میں کیونکہ یہ لفظ لوگوں کے ہاں مذمت کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہی حکم خداع، استہزاء کے الفاظ کا ہے۔ (کذافی شرح التاویلات) وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ (اللہ تعالیٰ سب بدلہ دینے والوں سے زیادہ طاقتور اور سزا دینے پر زیادہ قدرت رکھتے ہیں۔ ) اس طرح کہ سزا یافتہ کو پتہ بھی نہیں چلتا اور سزا مل جاتی ہے۔
Ayah 3:55

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اس وقت خدا نے فرمایا کی عیسیٰ میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کردونگا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (و غالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم میں اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردونگا

متوفیک کی تفسیر : 55: اِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسٰٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفرُوْٓٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ بیشک میں تیری اجل مقررہ پوری کرنیوالا ہوں) مطلب یہ ہے کہ میں تجھے کفار کے قتل سے بچانے والا اور طبعی موت دونگا کفار کے ہاتھوں قتل نہ ہونے دونگا۔ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ (اور تمہیں اپنے آسمان کی طرف جو ملائکہ کا مستقر ہے بلانے والا ہوں) وَمُطَھِّرُ کَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اور تجھے کفار کے برے پڑوس سے پاک کرنے والا اور انکی صحبت کی خباثت سے محفوظ کرنے والا ہوں) دوسری تفسیر۔ میں تمہیں زمین سے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں۔ یہ تو فیت مالی علی فلان سے ماخوذ ہے جب کہ اس سے پورا پورا لے لے۔ یا تمہارے آسمان سے اترنے کے بعد موت دینے والا ہوں اور اب تمہیں اٹھانے والا ہوں۔ یہاں سے یہ ثابت ہوا کہ وائو ترتیب کا معنی ہر جگہ نہیں دیتی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عیسیٰ میری امت پر بطور خلیفہ اتریں گے صلیب کو توڑ دیں گے اور خنازیر کو قتل کر ڈالیں گے اور چالیس سال زندہ رہیں گے اور نکاح کریں گے اور انکی اولاد ہوگی پھر وفات پائیں گے اور وہ امت کس طرح ہلاک ہوسکتی ہے۔ جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ ہے اور مہدی جو میرے اہل بیت سے ہوگا وہ اس کے درمیان میں ہوگا (روایت کے الفاظ میں نکارت ہے ‘ فتدبر) ۔ ( ابن جریرج 3) ‘( الدر المنثورج 2) یا نیند طاری کر کے تجھے حالت نوم میں آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ تاکہ کسی قسم کا خوف تجھے پیش نہ آئے اور جب تو بیدار ہوگا تو آسمان میں امن سے پہنچ چکا ہوگا۔ اور قرب پا چکا ہوگا۔ پیروکار کی مراد مسلمان : وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ (اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں) اور تیرے پیروکاروں کو یعنی مسلمانوں کو کیونکہ اصل اسلام میں وہ ان کے سچے پیروکار ہیں۔ خواہ شرائع مختلف ہیں۔ وہ لوگ مراد نہیں جنہوں نے انکی تکذیب کی اور ان پر جھوٹ بولا خواہ وہ یہود و نصاریٰ میں سے کیوں نہ ہوں۔ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفرُوْٓا (ان لوگوں پر جنہوں نے تمہارا انکار کیا) اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (قیامت کے دن تک) وہ حجت سے ان پر غالب رہیں گے اور اکثر حالات میں غالب رہیں گے اور تلوار سے غالب رہیں گے۔ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ (پھر تم نے آخرت میں میرے ہاں لوٹ کر آنا ہے) فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ (پس میں تمہارے مابین ان باتوں میں فیصلہ کرونگا جن میں تم اختلاف کرتے رہے)
Ayahs 3:56–57

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دونگا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دیگا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

56، 57: فَاَ مَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَاُعَذِّ بُھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَ فِّیْھِمْ اُجُوْرَھُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (پھر وہ لوگ جو کفر اختیار کریں گے پس میں ان کو سخت عذاب دونگا دنیا و آخرت میں اور انکا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اور پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرتے رہے۔ پس وہ ان کو انکا پورا پورا اجر دے گا اور اللہ تعالیٰ کو ظالم لوگ پسند نہیں)
Ayah 3:58

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

(اے محمد) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں

قراءت : فَیُوَ فِّیْھِمْ حفص نے پڑھا ہے 58: ذٰلِکَ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ ۔ (یہ ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں جو کہ منجملہ دلائل کے ہے اور منجملہ حکمت آمیز مضامین کے ہے) یہ جو واقعات عیسیٰ ( علیہ السلام) وغیرہ گزرے۔ نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ مِنَ الْاٰیٰتِ نحو : یہ مبتداء ہے اور نَتْلُوْہُ عَلَیْکَ اسکی خبر ہے۔ دوسری خبر من الآیات ہے یا مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ ۔ (حکمت والاذکر) اس سے مراد قرآن مجید ہے حکیم بمعنی محکم و مضبوط یا پر حکمت
Ayah 3:59

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہوجاؤ تو وہ (انسان) ہوگئے

عجیب کی عجیب تر سے تشبیہ : 59: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ ٰادَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (بیشک عیسیٰ ( علیہ السلام) کی مثال اللہ تعالیٰ کے ہاں آدم جیسی ہے اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہوجا پس ہوگیا) یہ آیت اس وقت اتری جب بنی نجران کے وفد نے کہا کیا تم نے بغیر باپ کے بیٹا دیکھا ہے تو فرمایا اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ ٰادَمَ کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا معاملہ اور عجیب حالت آدم ( علیہ السلام) جیسی ہے۔ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ مٹی سے انکا جسم بنایا یہ جملہ آدم ( علیہ السلام) سے مشابہت والی حالت کی تفسیر ہے۔ اور اعراب کے لحاظ سے اسکا ماقبل سے تعلق نہیں یعنی خلق آدم من تراب وہاں نہ انکا کوئی باپ تھا اور نہ ماں۔ پس اسی طرح عیسیٰ ( علیہ السلام) کا حال ہے۔ بلکہ بغیر ماں و باپ کے پیدا ہونا زیادہ تعجب انگیز ہے۔ صرف ماں سے بغیر باپ کے پیدائش سے۔ اور یہ عادت کے زیادہ خلاف ہے۔ پس عجیب کو عجیب تر سے تشبیہ دینا مخالف کی دلیل کو خوب قطع کرنے والا اور شبہ کو زیادہ مٹانے والا ہے جبکہ وہ اس سے عجیب تر دیکھے جس کو اس نے عجیب خیال کیا۔ عیسائیوں کے ساتھ دلچسپ مکالمہ : بعض علماء کا بیان ہے کہ جو رومیوں کے ہاں قید ہوگئے تھے۔ کہ ہم نے رومی عیسائیوں سے کہا تم عیسیٰ کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا، اس لئے کہ انکا کوئی باپ نہیں۔ تو علماء نے کہا پھر تو آدم اسکے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ ان کے ماں، باپ دونوں ہی نہیں۔ رومیوں نے کہا کہ عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں ہم نے کہا حزقیل اسکے زیادہ حقدار ہیں۔ کیونکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) نے تو چار آدمی زندہ کیے اور حزقیل ( علیہ السلام) نے آٹھ ہزار زندہ کیے۔ پھر انہوں نے کہا وہ نابینائوں کو بینا کرتے اور کوڑھی کو درست کرتے تھے۔ ہم (علماء) نے کہا پھر جرجیس اس کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ ان کو پکا ڈالا اور جلا ڈالا گیا پھر وہ صحیح سالم کھڑے ہوگئے۔ قَالَ لَہٗ کُنْ یعنی انسان بنادیا۔ فَیَکُوْنُ یعنی وہ بن گئے۔ یہ ماضی کو مضارع سے تعبیر کیا۔ ثُمَّ کا لفظ خبر کو خبر پر مرتب کرنے کیلئے لائے۔ مخبر عنہ کی ترتیب کیلئے نہیں۔ یعنی واقعہ کی تاخیر مدت مراد نہیں ہے۔
Ayah 3:60

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

ایک نحوی تحقیق : 60: اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ (یہی حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس نہ ہو تو شک کرنے والوں میں سے) نحو : یہ مبتدائے محذوف ہو کی خبر ہے فَلَا تَکُنْ (پس اے سامع تو نہ ہو) مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ (شک کرنے والوں میں سے) یہ احتمال بھی ہے کہ خطاب نبی اکرم ﷺ کو ہو۔ اس صورت میں یہ ثابت پر مزید ابھارنے کیلئے فرمایا گیا کیونکہ آپ ﷺ تو شک سے معصوم تھے۔