8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم یوں نہ کرو گے تو فتنہ پھیلے گا ملک میں اور بڑی خرابی ہوگی۔

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۔ یعنی کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ لفظ ولی جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں وراثت بھی داخل ہے اور معاملات کی ولایت و سرپرستی بھی۔ اس لئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث سمجھے جائیں گے اور تقسیم وراثت کا جو قانون ان کے اپنے مذہب میں رائج ہے ان کی وراثت کے معاملہ میں اسی قانون کو نافذ کیا جائے گا۔ نیز ان کے یتیم بچوں کا ولی لڑکیوں کے نکاح کا ولی بھی انھیں میں سے ہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عائلی مسائل میں غیر مسلموں کا اپنا مذہبی قانون اسلامی حکومت میں محفوظ رکھا جائے گا۔ آخر آیت میں ارشاد ہے (آیت) اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ۔ یعنی اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پوری زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔ اس جملہ کا تعلق ان تمام احکام کے ساتھ ہے جو اس سے پہلے ذکر کئے گئے ہیں مثلا یہ کہ مہاجرین و انصار کو آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہونا چاہئے جس میں باہمی امداد و اعانت بھی داخل ہے اور وراثت بھی۔ دوسرے یہ کہ اس وقت کے مہاجر اور غیر مہاجر مسلمانوں کے آپس میں وراثت کا تعلق نہ رہنا چاہئے۔ مگر امداد و نصرت کا تعلق اپنی شرائط کے ساتھ باقی رہنا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں ان کے قانون ولایت اور وراثت میں کوئی دخل اندازی مسلمانوں کو نہیں چاہئے۔ اگر ان احکام پر عمل نہ کیا گیا تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔ یہ تنبیہ غالبا اس لئے کی گئی کہ جو احکام اس جگہ بیان ہوئے ہیں وہ عدل و انصاف اور امن عامہ کے لئے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان آیات نے یہ واضح کردیا کہ باہمی امداد و اعانت اور وراثت کا تعلق جیسے رشتہ داری پر مبنی ہے ایسے ہی اس میں مذہبی اور دینی رشتہ بھی قابل لحاظ ہے بلکہ نسبی رشتہ پر دینی رشتہ کو ترجیح حاصل ہے اسی وجہ سے کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ آپس میں نسبی رشتہ سے باپ اور بیٹے یا بھائی بھائی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دے دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگرچہ اتنا قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی زیادہ مقدم اور قابل ترجیح ہے۔ مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہدایت دے دی گئی کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہیں ان کی شخصی ولایت و وراثت میں مداخلت نہ کی جائے۔ دیکھنے کو تو یہ چند فرعی اور جزئی احکام ہیں مگر در حقیقت امن عالم کے لئے عدل و انصاف کے بہترین اور جامع بنیادی اصول ہیں۔ اسی لئے اس جگہ ان احکام کو بیان فرمانے کے بعد ایسے الفاظ سے تنبیہ فرمائی گئی جو عام طور پر دوسرے احکام کے لئے نہیں کی گئی کہ اگر تم نے ان احکام پر عمل نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔ ان الفاظ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ احکام فتنہ و فساد کو روکنے میں خاص دخل اور اثر رکھتے ہیں۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اپنے گھر چھوڑے اور لڑے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے ان کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہی ہیں سچے مسلمان، ان کے لئے بخشش ہے اور روزی عزت کی۔

تیسری آیت میں مکہ سے ہجرت کرنے والے صحابہ اور ان کی مدد کرنے والے انصار مدینہ کی تعریف و ثنا اور ان کے سچا مسلمان ہونے کی شہادت اور ان سے مغفرت اور باعزت روزی کا وعدہ مذکور ہے ارشاد فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤ ْمِنُوْنَ حَقًّا یعنی یہی لوگ سچے پکے مسلمان ہیں اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ ہجرت نہ کرنے والے حضرات بھی اگرچہ مسلمان ہیں مگر ان کا اسلام کامل بھی نہیں اور یقینی بھی نہیں کیونکہ یہ احتمال بھی ہے کہ دراصل منافق ہوں بظاہر اسلام کا دعوی رکھتے ہوں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ۔ یعنی ان کے لئے مقرر ہے مغفرت جیسا کہ صحیح احادیث میں ہے الاسلام یھدم ما کان قبلہ والھجرة تھدم ما کان قبلہا۔ یعنی مسلمان ہوجانا پچھلے سب گناہوں کے انبار کو ڈھا دیتا ہے اسی طرح ہجرت کرنا پچھلے سب گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اس کے بعد اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے تمہارے ساتھ ہو کر سو وہ لوگ بھی تمہیں میں ہیں، اور رشتہ دار آپس میں حقدار زیادہ ہیں ایک دوسرے کے اللہ کے حکم میں، تحقیق اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

چوتھی آیت میں مہاجرین کے مختلف طبقات کا حکم بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ ان میں بعض لوگ مہاجرین اولین ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے پہلے ہجرت کی اور بعض دوسرے درجہ کے مہاجر ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی اور اس کی وجہ سے ان کے اخروی درجات میں فرق ہوگا مگر احکام دنیا میں ان کا حکم بھی وہی ہے جو مہاجرین اولین کا ہے وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ اسی لئے مہاجرین کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ۔ یعنی یہ دوسرے درجہ کے مہاجرین بھی تمہارے ہی زمرہ میں شامل ہیں اس لئے وراثت کے احکام میں بھی ان کا حکم عام مہاجرین کی طرح ہے۔ یہ سورة انفال کی بالکل آخری آیت ہے اس کے آخر میں قانون میراث کا ایک جامع ضابطہ بیان فرمایا گیا ہے جس کے ذریعہ اس عارضی حکم کو منسوخ کردیا گیا ہے جو اوائل ہجرت میں مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کے ذریعہ ایک دوسرے کا وارث بننے کے متعلق جاری ہوا تھا (آیت) وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ۔ لفظ اولو عربی زبان میں صاحب کے معنی میں آتا ہے جس کا ترجمہ اردو میں والے سے کیا جاتا ہے اولو العقل عقل والے اولو الامر امر والے اس لئے اولو الارحام کے معنی ہوئے ارحام والے ارحام رحم کی جمع ہے جو اصل میں اس عضو کا نام ہے جس کے اندر بچہ کی تخیلق عمل میں آتی ہے اور چونکہ رشتہ داری کا تعلق رحم کی شرکت سے قائم ہوتا ہے اس لئے اولو الارحام رشتہ داروں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ ایک ولایت عامہ سب مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حاصل ہے جس کے سبب بوقت ضرورت ایک دوسرے کی امداد و اعانت بھی واجب ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ہیں لیکن جو مسلمان آپس میں قرابت اور رشتہ کا تعلق رکھتے ہوں وہ دوسرے مسلمانوں سے مقدم ہیں۔ فی کتب اللہ کے معنی اس جگہ فی حکم اللہ کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم خاص سے یہ قانون بنادیا ہے۔ اس آیت نے یہ ضابطہ بتادیا کہ تقسیم وراثت رشتہ داری کے معیار پر ہونا چاہئے۔ اور لفظ اولو الارحام مطلقا اقرباء اور رشتہ داروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ ان میں سے خاص خاص رشتہ داروں کے حصے تو خود قرآن کریم نے سورة نساء میں متعین فرمادیئے جن کو علم میراث کی اصطلاح میں اہل فرائض یا ذوی الفروض کہا جاتا ہے، ان کو دینے کے بعد جو مال بچے وہ اس آیت کی رو سے دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم ہونا چاہئے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سب رشتہ داروں میں کسی مال کا تقسیم کرنا کسی کی قدرت میں نہیں کیونکہ دور کی رشتہ داری تو ساری دنیا کے انسانوں کے درمیان بلاشبہ موجود ہے کہ سب کے سب ایک ہی باپ اور ماں آدم و حواء (علیہما السلام) سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے رشتہ داروں میں تقسیم کرنے کی عملی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں کو بعید پر مقدم رکھ کر قریب کے سامنے بعید کو محروم کیا جائے۔ جس کا تفصیلی بیان احادیث رسول کریم ﷺ میں اس طرح موجود ہے کہ ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ میت کے عصبات یعنی جدی رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ دیا جائے یعنی عصبہ قریب کو بعید پر مقدم رکھ کر قریب کے سامنے بعید کو محروم کیا جائے۔ اور اگر عصبات میں سے کوئی بھی زندہ موجود نہیں تو پھر باقی رشتہ داروں میں تقسیم کیا جائے۔ عصبات کے علاوہ جو دوسرے رشتہ دار ہوتے ہیں علم میراث و فرائض کی خاص اصطلاح میں لفظ ذوی الارحام انھیں کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اصطلاح بعد میں مقرر کی گئی ہے قرآن کریم میں اولو الارحام کا لفظ لغوی معنی کے مطابق تمام رشتہ داروں پر حاوی ہے جس میں ذوی الفروض اور عصبات اور ذوی الارحام سب اجمالی طور پر داخل ہیں۔ پھر اس کی کچھ تفصیل سورة نساء کی آیات میں آگئی جن میں خاص خاص رشتہ داروں کے حصے حق تعالیٰ نے خود مقرر فرما دیئے جن کو اصطلاح میراث میں ذوی الفروض کہتے ہیں اور باقی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا الحقوا الفرائض باھلھا فما بقی فھو لا ولی رجل ذکر۔ (بخاری) یعنی جن کے حصے قرآن نے مقرر کردیئے ہیں وہ پورے ان کو دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ ان لوگوں کو دیئے جائیں جو میت سے قریب تر مرد ہوں۔ ان کو اصطلاح میراث میں عصبات کہا جاتا ہے۔ اگر کسی میت کے عصبات میں کوئی موجود نہ ہوں تو رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق پھر دوسرے رشتہ داروں کو دیا جاتا ہے جن کو اصطلاح میں ذوی الارحام کہتے ہیں جیسے ماموں خالہ وغیرہ۔ سورة انفال کی اس آخری آیت کے آخری جملہ نے اسلامی وراثت کا وہ قانون منسوخ کردیا جو اس سے پہلے آیات میں مذکور ہے جن کی رو سے مہاجرین و انصار میں باہمی وراثت جاری ہوتی تھی اگرچہ ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہو کیونکہ یہ حکم ایک ہنگامی حکم ہے جو اوائل ہجرت کے وقت دیا گیا تھا۔ سورة انفال ختم ہوگئی اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے سمجھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائیں۔ تمت سورة الانفال بعون اللہ تعالیٰ و حمدہ لیلة الخمیس لثمانی وعشرین من جمادی الاخری 1381 ہجری و اسأل اللہ تعالیٰ التوفیق والعون فی تفسیر سورة التوبة و للہ الحمد اولہ واخرہ۔ محمد شفیع عفی عنہ وتم النظر الثانی علیہ یوم الجمعة لتسعة عشر من جمادی الاولی 1390 ہجری والحمد للہ علی ذلک۔