8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:40

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے، کیا خوب حمایتی ہے اور کیا خوب مددگار ہے۔

اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی ضد اور عناد پر قائم رہیں اس کے متعلق حکم اس کے بعد کی آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ۭنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ۔ یعنی اگر وہ بات نہ مانیں تو تم یہ سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار حمایتی ہے اور وہ بہت اچھا حمایتی اور بہت اچھا مددگار ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم و جور اور کفر و شرک سے باز نہ ائیں تو مسلمانوں کے ذمہ وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ ان سے قتال جاری رکھیں۔ اور جہاد و قتال چونکہ بڑے لشکر اور بہت سے اسلحہ اور ساز و سامان پر عادةً موقوف ہے اور مسلمانوں کو عام طور پر یہ چیزیں کم حاصل تھیں اس لئے یہ ہوسکتا تھا کہ مسلمانوں کو حکم قتال بھاری معلوم ہو یا وہ اپنی قلت تعداد اور قلت سامان کی وجہ سے یہ محسوس کرنے لگیں کہ ہم مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اس کا علاج اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں کو بتلایا گیا کہ اگرچہ تعداد اور سامان ان لوگوں کے پاس مسلمانوں سے زائد سہی مگر وہ اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت و حمایت کہاں سے لائیں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہے جس کو وہ ہر میدان میں اپنے ساتھ مشاہدہ کرتے رہے ہیں، اور فرمایا کہ یوں تو امداد و حمایت دنیا میں ہر فریق کسی نہ کسی سے حاصل کر ہی لیتا ہے مگر مدارکار اس مددگار کی قوت و طاقت اور علم و تجربہ پر ہونا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت و قوت اور علم و بصر سے زیادہ کیا، برابر بھی سارے جہان کو حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سب سے بہتر حمایتی اور مددگار ہے۔
Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کو غنیمت ملے کسی چیز سے سو اللہ کے واسطے ہے اس میں سے پانچواں حصہ اور رسول کے واسطے اور اس کے قرابت والوں کے واسطے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے واسطے اگر تم کو یقین ہے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اتاری اپنے بندے پر فیصلہ کے دن جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

خلاصہ تفسیر اور اس بات کو جان لو کہ جو شئے (کفار سے) بطور غنیمت کے تم کو حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ (اس کے کل پانچ حصے کئے جائیں جن میں سے چار حصے تو مقاتلین کا حق ہے اور ایک حصہ یعنی) اس کا پانچواں حصہ (پھر پانچ حصوں پر تقسیم ہوگا جن میں سے ایک تو) اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ کو ملے گا جن کو دینا بمنزلہ اس کے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کردیا) اور (ایک حصہ) آپ کے قرابت داروں کا ہے اور (ایک حصہ) یتیموں کا ہے (ایک حصہ) غریبوں کا ہے اور (ایک حصہ) مسافروں کا ہے اگر تم اللہ پر یقین رکھتے ہو اور اس چیز پر (یقین رکھتے ہو) جس کو ہم نے اپنے بندہ (محمد ﷺ پر فیصلہ کے دن (یعنی) جس دن کہ (بدر میں) دونوں جماعتیں (مؤ منین اور کفار کی) باہم مقابل ہوئی تھیں نازل فرمایا تھا (مراد اس سے امداد غیبی بواسطہ ملائکہ کے ہے یعنی اگر ہم پر اور ہمارے الطاف غیبیہ پر یقین رکھتے ہو تو اس حکم کو جان رکھو اور عمل کرو یہ اس لئے بڑھا دیا کہ خمس نکالنا شاق نہ ہوا اور یہ سمجھ لیں کہ یہ ساری غنیمت اللہ ہی کی امداد سے تو ہاتھ آئی پھر اگر ہم کو ایک خمس نہ ملا تو کیا ہوا وہ چار خمس بھی تو ہماری قدرت سے خارج تھے بلکہ محض قدرت الہیہ سے حاصل ہوئے) اور اللہ (ہی) ہر شئے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں (پھر تمہارا استحقاق تو اتنا بھی نہیں تھا یہ بھی بہت مل گیا)۔ معارف و مسائل اس آیت میں مال غنیمت کے احکام اور اس کی تقسیم کا قانون مذکور ہے۔ اس سے پہلے چند ضروری الفاظ کی تشریح سن لیجئے۔ لفظ غنیمت لغت میں اس مال کے لئے بولا جاتا ہے جو دشمن سے حاصل کیا جائے، اصطلاح شریعت میں غیر مسلموں سے جو مال جنگ و قتال اور قہر و غلبہ کے ذریعہ حاصل ہو اس کو غنیمت کہتے ہیں اور جو صلح و رضامندی سے حاصل ہو جیسے جزیہ و خراج وغیرہ اس کو فیئ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں انھیں دونوں لفظوں سے ان دونوں قسموں کے احکام بتلائے گئے ہیں۔ سورة انفال میں مال غنیمت کے احکام کا ذکر ہے جو جنگ و قتال کے وقت غیر مسلموں سے حاصل ہو۔ یہاں سب سے پہلے ایک بات پیش نظر رہنا چاہئے وہ یہ کہ اسلامی اور قرآنی نظریہ کے مطابق تمام کائنات کی اصلی ملکیت صرف اس ذات حق تعالیٰ کی ہے جس نے انھیں پیدا کیا ہے انسان کی طرف کسی چیز کی ملکیت کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے ذریعہ کسی شخص کی ملکیت قرار دے دی ہو۔ جیسے سورة یسین میں چوپائے جانوروں کے ذکر میں ارشاد فرمایا (آیت) اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ۔ یعنی کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ چوپاؤں کو ہم اپنے ہاتھوں سے بنایا پھر لوگ ان کے مالک بن گئے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ملکیت ذاتی نہیں ہم نے اپنے فضل سے ان کو مالک بنادیا۔ جب کوئی قوم اللہ سے بغاوت کرتی ہے یعنی کفر و شرک میں مبتلا ہوجاتی ہے تو پہلے حق تعالیٰ ان کی اصلاح کے لئے اپنے رسول اور کتابیں بھیجتے ہیں جو بدبخت اس انعام الہی سے بھی متاثر نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو ان کے مقابلہ میں جہاد و قتال کا حکم دے دیتے ہیں جس کا حاصل یہ ہوتا کہ ان باغیوں کے جان و مال سب مباح کردیئے گئے ان کو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اموال سے نفع اٹھانے کا حق نہیں رہا۔ بلکہ ان کے اموال بحق سرکار ضبط ہوگئے۔ انھیں ضبط شدہ اموال کا دوسرا نام مال غنیمت ہے جو کفار کی ملکیت سے نکل کر خالص حق تعالیٰ کی ملکیت میں رہ گئے۔ ان ضبط شدہ اموال کے لئے زمانہ قدیم سے حق تعالیٰ کا قانون یہ رہا ہے کہ ان سے کسی کو فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی بلکہ ایسے اموال کو جمع کرکے کسی کھلی جگہ میں رکھ دیا جاتا اور آسمان سے ایک بجلی آکر ان کو جلادیتی تھی۔ یہی علامت ہوتی تھی اس جہاد کے قبول ہونے کی۔ خاتم الانبیاء ﷺ کو جو چند خصوصیات حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مال غنیمت آپ کی امت کے لئے حلال کردیا گیا۔ (کما فی حدیث مسلم) اور حلال بھی ایسا کہ اس کو اطیب الاموال کہا جاتا ہے یعنی سب سے زیادہ پاک مال۔ وجہ یہ ہے کہ جو مال انسان اپنے کسب اور کمائی سے حاصل کرتا ہے اس میں انسانوں کی ملکیت سے واسطہ در واسطہ منتقل ہو کر ایک مال اس کی ملکیت میں آیا ہے اور ان واسطوں میں حرام و ناجائز یا مکروہ طریقوں کا احتمال رہتا ہے بخلاف مال غنیمت کے کہ کفار کی ملکیت ان سے ختم ہو کر براہ راست حق تعالیٰ کی ملکیت رہ گئی اور اب جس کو ملتا ہے براہ راست حق تعالیٰ کی ملکیت سے ملتا ہے جس میں کوئی شبہ اور شائبہ حرمت یا کراہت کا نہیں رہتا جیسے کنویں سے نکالا ہوا پانی یا خودرو گھاس جو براہ راست حق تعالیٰ کا انعام انسان کو ملتا ہے کوئی انسانی واسطہ درمیان میں نہیں ہوتا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مال غنیمت جو پچھلی امتوں کے لئے حلال نہیں تھا امت مرحومہ کے لئے بطور انعام حلال کردیا گیا۔ آیت مذکورہ میں اس کی تقسیم کا ضابطہ اس عنوان سے بیان فرمایا گیا ہے کہ (آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ۔ اس میں عربی لغت کے قاعدہ سے اول تو لفظ مَا عموم پر دلالت کرتا ہے پھر اس عموم کی تاکید مزید کے لئے لفظ مّنْ شَيْءٍ بڑھایا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ چھوٹی بڑی چیز مال غنیمت میں حاصل ہو وہ سب اسی قانون کے تحت داخل ہے کسی چیز کو معمولی یا چھوٹا سمجھ کر کوئی شخص قانون تقسیم کے علاوہ اگر لے لے گا تو وہ سخت مجرم قرار پائے گا۔ اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک سوئی اور اس کا دھاگہ بھی جو مال غنیمت کا جز ہو کسی کے لئے اس کا بغیر اپنے حصہ شرعی کے لے لینا جائز نہیں۔ اور مال غنیمت میں سے کوئی چیز بغیر حصہ کے لینے کو حدیث میں غلول فرما کر اس پر شدید وعید فرمائی ہے اور عام چوری سے زیادہ شدید حرام قرار دیا ہے۔ ضابطہ تقسیم کا یہ عنوان دے کر تمام مجاہد مسلمانوں کو اس سے باخبر کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مال تمہارے لئے حلال کردیا ہے مگر ایک خاص ضابطہ کے تحت حلال ہے اس کے خلاف اگر کوئی لے گا تو وہ جہنم کا ایک انگارہ ہوگا۔ قرآنی قانون کا یہی وہ امتیاز ہے جو دنیا کے دوسرے قوانین کو حاصل نہیں اور یہی قانون قرآن کی تاثیر کامل اور کامیابی کا اصلی راز ہے کہ اول خوف خدا و آخرت کو پیش نظر کر کے اس سے ڈرایا گیا دوسرے نمبر میں تعزیری سزائیں بھی جاری کی گئیں۔ ورنہ غور کا مقام ہے کہ عین میدان جنگ کی افراتفری کے وقت جو اموال غیر مسلموں کے قبضہ سے حاصل کئے جائیں جن کی تفصیل نہ پہلے سے مسلمانوں کے امیر کے علم میں ہے نہ کسی دوسرے کے۔ اور موقع میدان جنگ کا ہے جو عموما جنگل اور صحراء ہوتے ہیں جن میں چھپنے چھپانے کے ہزاروں مواقع ہوتے ہیں۔ نرے قانون کے زور سے ان اموال کی حفاظت کسی کے بس میں نہیں صرف خوف خدا و آخرت ہی وہ چیز تھی جس نے ایک ایک مسلمان کو ان اموال میں ادنی تصرف کرنے سے باز رکھا۔ اب اس ضابطہ تقسیم کو دیکھئے ارشاد فرمایا (آیت) فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۔ یعنی مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ کا اور اس کے رسول کا اور اس کے رشتہ داروں کا اور یتیموں، مسکینوں، مسافروں کا ہے۔ یہاں پہلے تو یہ بات غور طلب ہے کہ ضابطہ پورے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان ہورہا ہے مگر قرآن نے صرف اس کے پانچویں حصے کی تقسیم کا ضابطہ یہاں ذکر فرمایا باقی چار حصوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس میں کیا راز ہے اور باقی چار حصوں کی تقسیم کا کیا قانون ہے۔ لیکن قرآن میں غور و تدبر کرنے سے ان دونوں باتوں کا جواب انھیں لفظوں میں یہ نکل آتا ہے کہ قرآن کریم نے جہاد کرنے والے مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا مَا غَنِمْتُمْ یعنی جو کچھ تم نے غنیمت میں حاصل کیا۔ اس میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ مال ان حاصل کرنے والوں کا حق ہے اور اس کے بعد جب یہ ارشاد فرما دیا کہ اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور رسول وغیرہ کا ہے تو اس کا نتیجہ صاف یہ نکل آیا کہ باقی چار حصے غانمین اور مجاہدین کے ہیں۔ جیسے قرآن کریم کے قانون وراثت میں ایک جگہ ارشاد ہے۔ وَّوَرِثَهٗٓ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ۔ یعنی جب کسی شخص کے وارث اس کے ماں باپ ہوں تو ماں کا تیسرا حصہ ہے۔ یہاں بھی صرف ماں کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ باقی دو حصے باپ کا حق ہیں۔ اسی طرح مَا غَنِمْتُمْ کے بعد جب صرف پانچویں حصہ کو اللہ کے لئے رکھا گیا تو معلوم ہوا کہ باقی چار حصے مجاہدین کا حق ہیں پھر رسول کریم ﷺ کے بیان اور عمل نے اس کے اور اس کی پوری تفصیلات کو واضح کردیا کہ یہ چار حصے مجاہدین میں ایک خاص قانون کے تحت تقسیم فرمائے۔ اب اس پانچویں حصہ کی تفصیل سنئے جس کو قرآن کریم نے اس آیت میں متعین فرما دیا ہے الفاظ قرآنی میں اس جگہ چھ الفاظ مذکورہ میں لِلّٰهِ۔ لِلرَّسُوْلِ۔ لِذِي الْقُرْبٰي۔ الْيَتٰمٰي۔ الْمَسٰكِيْنِ ، ابْنِ السَّبِيْلِ۔ اس میں لفظ للہ تو ایک جلی عنوان ہے ان مصارف کا جن میں یہ پا نچواں حصہ تقسیم ہوگا یعنی یہ سب مصارف خالص اللہ کے لئے ہیں۔ اور اس لفظ کے اس جگہ لانے میں ایک خاص حکمت ہے جس کی طرف تفسیر مظہری میں اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے خاندان کے لئے صدقات کا مال حرام قرار دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے شایان شان نہیں کیونکہ عام لوگوں کے اموال کو پاک کرنے کے لئے ان میں سے نکالا ہوا حصہ ہے جس کو حدیث میں اوساخ الناس فرمایا ہے یعنی لوگوں کا میل کچیل۔ وہ شان نبوت کے لائق نہیں۔ مال غنیمت کے پانچویں حصہ میں سے چونکہ رسول کریم ﷺ اور آپ کے خاندان کو بھی قرآن کی اس آیت نے حصہ دیا ہے اس لئے اس پر متنبہ کیا گیا کہ یہ حصہ لوگوں کی ملیکت سے منتقل ہو کر نہیں آیا بلکہ بلاواسطہ اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہے۔ جسیا کہ ابھی ذکر کیا گیا ہے کہ مال غنیمت کفار کی ملک سے نکل کر براہ راست حق تعالیٰ کی خالص ملکیت ہوجاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور انعام تقسیم ہوتا ہے۔ اس لئے اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کہ رسول اللہ ﷺ اور ذوی القربی کو جو حصہ مال غنیمت کے خمس سے دیا گیا ہے وہ لوگوں کے صدقات کا نہیں بلکہ براہ راست حق تعالیٰ کی طرف سے فضل و انعام ہے۔ شروع آیت میں فرمایا گیا لِلّٰهِ یعنی یہ سب مال اصل میں خالص ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے اسی کے فرمان کے مطابق مذکورہ مصارف میں خرچ کیا جائے گا۔ اس لئے اس خمس کے اصلی مصارف پانچ رہ گئے رسول۔ ذوی القربی، یتیم۔ مسکین، مسافر۔ پھر ان میں استحقاق کے درجے مختلف ہیں۔ قرآن کریم کی بلاغت دیکھئے کہ ان درجات استحقاق کا فرق کس باریک اور لطیف انداز سے ظاہر فرمایا گیا ہے کہ ان پانچ میں سے پہلے دو پر حرف لام لایا گیا للرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي۔ اور باقی تین قسموں کو بغیر حرف لام کے باہم معطوف بنا کر ذکر کردیا گیا۔ حرف لام عربی زبان میں کسی خصوصیت کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ للہ میں حرف لام اختصاص ملکیت کے بیان کے لئے ہے کہ اصل مالک سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ ہے اور لفظ للرَّسُوْلِ میں استحقاق کی خصوصیت کا بیان مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خمس غنیمت کے صرف کرنے اور تقسیم کرنے کا حق رسول کریم ﷺ کو عطا فرمایا جس کا حاصل امام طحاوی کی تحقیق اور تفسیر مظہری کی تقریر کے مطابق یہ ہے کہ اگرچہ اس جگہ خمس کے مصارف میں پانچ ناموں کا ذکر ہے لیکن درحقیقت اس میں پورا تصرف نبی کریم ﷺ کو حاصل ہے کہ آپ اپنی صوابدید کے مطابق ان پانچ قسموں میں خمس غنیمت کو صرف فرمائیں جیسا کہ سورة انفال کی پہلی آیت میں پورے مال غنیمت کا حکم یہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی صوابدید کے مطابق جہاں چاہیں صرف فرمائیں جس کو چاہیں دیں۔ (آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ نے کل مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے چار کو مجاہدین کا حق قرار دے دیا مگر پانچواں حصہ بدستور اسی حکم میں رہا کہ اس کا صرف کرنا رسول اللہ ﷺ کی صوابدید پر چھوڑا گیا صرف اتنی بات کا اضافہ ہوا کہ اس پانچویں حصے کے پانچ مصارف بیان کردیئے گئے کہ یہ ان میں دائر رہے گا۔ مگر جمہور ائمہ اہل تحقیق کے نزدیک آپ کے ذمہ یہ لازم نہیں تھا کہ اس خمس کے پانچ حصہ برابر کریں اور مندرجہ آیت پانچوں قسموں میں برابر تقسیم کریں بلکہ صرف اتنا ضروری تھا کہ خمس غنیمت کو انھیں پانچ قسموں کے اندر سب کو یا بعض کو اپنی صوابدید کے مطابق عطا فرمائیں۔ اس کی سب سے بڑی واضح دلیل خود اس آیت کے الفاظ اور ان میں بیان کی ہوئی مصارف کی قسمیں ہیں کہ یہ سب قسمیں عملاً الگ الگ نہیں بلکہ باہم مشترک بھی ہوسکتی ہیں مثلا جو شخص ذوی القربی میں داخل ہے وہ یتیم بھی ہوسکتا ہے مسکین اور مسافر بھی۔ اسی طرح مسکین اور مسافر یتیم بھی ہوسکتے ہیں ذوی القربی بھی۔ جو مسکین ہے وہ مسافر کی فہرست میں بھی آسکتا ہے اگر ان سب قسموں میں الگ الگ برابر تقسیم کرانا مقصود ہوتا تو یہ قسمیں ایسی ہونا چاہئے تھیں کہ ایک قسم کا آدمی دوسری قسم میں داخل نہ ہو۔ ورنہ پھر یہ لازم آئے گا کہ جو ذوی القربی میں سے ہے اور وہ یتیم بھی ہے مسکین بھی مسافر بھی تو اس کو ہر حیثت سے ایک ایک حصہ ملا کر چار حصے دیئے جائیں جیسا کہ تقسیم فرائض و میراث کا یہی قاعدہ ہے کہ ایک شخص کو میت کے ساتھ مختلف قسم کی قربتیں حاصل ہیں تو ہر قرابت کا حصہ اس کو الگ ملتا ہے اور امت میں اس کا کوئی قائل نہیں کہ ایک شخص کو چار حصے دیئے جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقصود اس آیت کا آنحضرت ﷺ پر یہ پابندی عائد کرنا نہیں ہے کہ ان سب قسموں کو ضرور ہی دیں اور برابر دیں، بلکہ مقصود یہ ہے کہ خمس غنیمت کا مال ان پانچ قسموں میں سے جس قسم پر جتنا خرچ کرنا آپ کی رائے میں مناسب ہو اتنا دے دیں (تفسیر مظہری) یہی وجہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا ؓ نے جب اس خمس میں سے ایک خادم کا سوال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور گھر کے کاموں میں اپنی محنت و مشقت اور کمزوری کا سبب بھی ظاہر کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ عذر فرما کر ان کو دینے سے انکار کردیا کہ میرے سامنے تمہاری ضرورت سے زیادہ اہل صفہ صحابہ کرام کی ضرورت ہے جو انتہائی فقر و افلاس میں مبتلا ہیں ان کو چھوڑ کر میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ (صحیح بخاری و مسلم) اس سے واضح ہوگیا کہ ہر ایک قسم کا الگ حق نہیں تھا ورنہ ذوی القربی کے حق میں فاطمہ زہرا ؓ سے کون مقدم ہوتا۔ بلکہ یہ سب بیان مصارف ہے بیان استحقاق نہیں۔ تقسیم خمس بعد وفات رسول اللہ ﷺ جمہور ائمہ کے نزدیک خمس غنیمت میں جو حصہ رسول اللہ ﷺ کا رکھا گیا وہ آپ کے منصب نبوت و رسالت کی بنا پر ایسا ہی تھا جیسے آپ کو خصوصی طور پر یہ بھی حق دیا گیا تھا کہ پورے مال غنیمت میں آپ اپنے لئے کوئی چیز انتخاب کرکے لے لیں جس کی وجہ سے بعض غنیمتوں سے آنحضرت ﷺ نے بعض اشیاء لی بھی تھیں۔ اور خمس غنیمت میں سے آپ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا نفقہ ادا فرماتے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد حصہ خود بخود ختم ہوگیا کیونکہ آپ کے بعد کوئی رسول و نبی نہیں۔ خمس ذوی القربی اس میں تو کسی کا اختلاف نہیں کہ فقراء ذوی القربی کا حق خمس غنیمت میں دوسرے مصارف یعنی یتیم، مسکین، مسافر سے مقدم ہے، کیونکہ فقراء ذوی القربی کی امداد زکوة و صدقات سے نہیں ہو سکتی دوسرے مصارف زکوة و صدقات سے بھی ہوسکتے ہیں (کما صرح بہ فی الہدایہ و یقدمون) البتہ اغنیاء ذوی القربی کو اس میں سے دیا جائے گا یا نہیں۔ اس میں امام اعظم ابوحنیفہ کا فرمانا یہ ہے کہ خود آنحضرت ﷺ بھی ذوی القربی کو عطا فرماتے تھے تو اس کی دو بنیادیں تھیں ایک ان کی حاجتمندی اور فقر دوسرے اقامت دین اور دفاع عن الاسلام میں رسول اللہ ﷺ کی نصرت و امداد۔ دوسرا سبب تو وفات نبوی کے ساتھ ختم ہوگیا صرف پہلا سبب فقر و حاجتمندی رہ گیا اس کی بنا پر تا قیامت ہر امام و امیر ان کو دوسروں سے مقدم رکھے گا (ہدایہ۔ جصاص) امام شافعی سے بھی یہی قول منقول ہے (قرطبی) اور بعض فقہاء کے نزدیک سہم ذوی القربی بحیثیت قرابت رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے باقی ہے جس میں اغنیاء اور فقراء سب شریک ہیں البتہ امیر وقت اپنی صوابدید کے مطابق ان کو حصہ دے گا (مظہری) اور اصل چیز اس معاملہ میں خلفاء راشدین کا تعامل ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کیا کیا۔ صاحب ہدایہ نے اس کے متعلق لکھا ہے ان الخلفاء الاربعة الراشدین قسموہ علی ثلثة اسھم۔ " چاروں خلفاء راشدین نے آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد خمس غنیمت کو صرف تین قسموں میں تقسیم فرمایا ہے " یتیم، مسکین، فقیر۔ البتہ حضرت فاروق اعظم سے ثابت ہے کہ فقراء ذوی القربی کو خمس غنیمت سے دیا کرتے تھے (اخرجہ ابوداؤد) اور ظاہر ہے کہ یہ تخصیص صرف فاروق اعظم کی نہیں دوسرے خلفاء کا بھی یہی عمل ہوگا۔ اور جن روایات سے یہ ثابت ہے کہ صدیق اکبر اور فاروق اعظم اپنے آخری زمانہ خلافت تک ذوی القربی کا حق نکالتے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس کا متولی بنا کر ذوی القربی میں تقسیم کراتے تھے (کما فی روایۃ کتاب الخراج لابی یوسف) تو یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ وہ تقسیم فقراء ذوی القربی کے لئے مخصوص ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ فائدہ ذوی القربی کی تعیین خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے اس طرح فرما دی کہ بنو ہاشم تو آپ کا اپنا قبیلہ ہی تھا بنو المطلب کو بھی ان کے ساتھ اس لئے شامل فرما لیا تھا کہ یہ لوگ بھی جاہلیت و اسلام میں کبھی بنو ہاشم سے الگ نہیں ہوئے یہاں تک کہ قریش مکہ نے جب غذائی مقاطعہ بنو ہاشم کا کیا اور ان کو شعب ابی طالب میں بند کردیا تو بنو المطلب کو اگرچہ قریش نے مقاطعہ میں داخل نہیں کیا تھا مگر یہ لوگ اپنی رضا مندی سے مقاطعہ میں شریک ہوگئے (مظہری) غزوہ بدر کے دن کو یوم الفرقان فرمایا گیا آیت مذکورہ میں بدر کے دن کو یوم الفرقان فرمایا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ سب سے پہلے مادی اور ظاہری طور پر مسلمانوں کی واضح فتح اور کفار کی عبرتناک شکست اس دن میں ہونے کی بنا پر کفر و اسلام کا ظاہری فیصلہ بھی اس دن ہوگیا۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جس وقت تم تھے ورلے کنارہ پر اور وہ پرلے کنارہ پر اور قافلہ نیچے اتر گیا تھا تم سے، اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو نہ پہنچتے وعدہ پر ایک ساتھ لیکن اللہ کو کر ڈالنا تھا ایک کام کو جو مقرر ہوچکا تھا، تاکہ مرے جس کو مرنا ہے قیام حجت کے بعد اور جیوے جس کو جینا ہے قیام حجت کے بعد، اور بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

خلاصہ تفسیر یہ وہ وقت تھا کہ جب تم اس میدان کے ادھر والے کنارہ پر تھے اور وہ لوگ (یعنی کفار) اس میدان کے ادھر والے کنارہ پر تھے (ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع) اور وہ قافلہ (قریش کا) تم سے نیچے کی طرف کو (بچا ہوا) تھا (یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا حاصل یہ کہ پورے جوش کا سامان جمع ہو رہا تھا کہ دونوں آپس میں آمنے سامنے تھے کہ ہر ایک دوسرے کو دیکھ کر جوش میں آئے ادھر قافلہ رستہ ہی میں تھا جس کی وجہ سے لشکر کفار کو اس کی حمایت کا خیال دلنشین ہوا جس سے اور جوش میں زیادتی ہو غرض وہ ایسا شدید وقت تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تم پر امداد غیبی نازل کی جیسا اوپر ارشاد ہوا ہے (آیت) اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا) اور (وہ تو مصلحت یہ ہوئی کہ اتفاقا مقابلہ ہوگیا ورنہ) اگر (پہلے سے حسب معمول و عادت) تم اور وہ (لڑائی کے لئے) کوئی بات ٹھہراتے (کہ فلاں وقت لڑیں گے) تو (مقتضا حالت موجودہ کا یہ تھا کہ) ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہوتا (یعنی خواہ صرف مسلمانوں میں باہم کہ بوجہ بےسرو سامانی کے کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا اور خواہ کفار کے ساتھ اختلاف ہوتا جس کی وجہ اس طرف بےسرو سامانی اور اس طرف مسلمانوں کا رعب بہرحال دونوں طرح اس جنگ کی نوبت نہ آتی پس اس میں جو فوائد ہوئے وہ ظہور میں نہ آتے جن کا بیان لِّيَهْلِكَ میں آتا ہے) لیکن (اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کردیا کہ اس کی نوبت نہیں آئی بلا قصد لڑائی ٹھن گئی) تاکہ جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کردے یعنی تاکہ (حق کا نشان ظاہر ہوجائے اور) جس کو برباد (یعنی گمراہ) ہونا ہے وہ نشان آئے پیچھے برباد ہو اور جس کو زندہ (یعنی ہدایت یافتہ) ہونا ہے وہ (بھی) نشان آئے پیچھے زندہ ہو (مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد و کم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا کہ جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق قبول کرلے گا۔ خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے) اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں (کہ اس وضوح کے بعد زبان اور قلب سے کون کفر کرتا ہے اور کون ایمان لاتا ہے اور) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے خواب میں آپ کو وہ لوگ کم دکھلائے (چناچہ آپ نے صحابہ کو اس خواب کی خبر کی ان کے دل خوب قوی ہوگئے) اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو وہ لوگ زیادہ کرکے دکھا دیتے (اور آپ صحابہ سے فرما دیتے) تو (اے صحابہ) تمہاری ہمتیں ہار جاتیں اور اس امر (قتال) میں تم میں باہم نزاع (اور اختلاف) ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے (اس کم ہمتی اور اختلاف سے تم کو بچا لیا بیشک وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے (اس کو معلوم تھا کہ اس طرح ضعف پیدا ہوگا اس طرح قوت، اس لئے ایسی تدبیر کی) اور (صرف خواب ہی میں آپ کو کم دکھلانے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ تتمیم حکمت کے لئے بیداری میں مقابلہ کے وقت مسلمانوں کی نظر میں بھی کفار کم دکھلائی دیئے جیسا کہ بالعکس بھی ہوا جو کہ واقع کے مطابق بھی تھا چناچہ فرماتے ہیں کہ) اس وقت کو یاد کرو جبکہ اللہ تعالیٰ تمہیں جبکہ تم مقابل ہوئے ان لوگوں کو تمہاری نظر میں کم کرکے دکھلا رہے تھے اور (اسی طرح) ان کی نگاہ میں تم کو کم کرکے دکھلا رہے تھے تاکہ جو کام اللہ کو کرنا منظور تھا اس کی تکمیل کردے (جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ الخ) اور سب مقدمے خدا ہی کی طرف رجوع کئے جائیں گے (وہ ہالک اور حی یعنی گمراہ اور مہتد کو سزا و جزا دیں گے)۔ معارف و مسائل غزوہ بدر کفر و اسلام کا وہ پہلا معرکہ تھا جس نے ظاہری اور مادی طور پر بھی اسلام کی برتری اور حقانیت کا ثبوت دیا اس لئے قرآن کریم نے اس کی تفصیلات بیان کرنے کا خاص اہتمام فرمایا۔ آیات متذکرہ میں اسی کا بیان ہے۔ جس کے ذکر میں بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کے علاوہ ایک خاص مصلحت اس کا اظہار ہے کہ اس معرکہ میں ظاہری اور مادی طور پر مسلمانوں کے فتح پانے کا کوئی امکان نہ تھا اور مشرکین مکہ کی شکست کا کوئی احتمال نہ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی غیبی قوت نے سارے ساز و سامان اور ظاہری اسباب کی کایا پلٹ دی۔ اسی واقعہ کی وضاحت کے لئے ان آیات میں غزوہ بدر کے محاذجنگ کا پورا نقشہ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے ان آیات کی تشریح سے پہلے چند الفاظ و لغات کی تشریح دیکھ لیجئے۔ عُدْوَةِ کے یعنی ایک جانب کے آتے ہیں اور لفظ دُّنْيَا ادنی سے بنا ہے جس کے معنی ہیں قریب تر۔ آخرت کے مقابلہ میں اس جہان کو بھی دنیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ عالم آخرت کی نسبت انسان کی طرف قریب تر ہے۔ اور لفظ قُصْوٰي اقصی سے بنا ہے اقصی کے معنی ہیں بعید تر۔ بیالیسویں آیت میں ہلاکت اور اس کے مقابلہ میں حیات کا ذکر آیا ہے۔ ان دونوں لفظوں سے موت وحیات کے ظاہری معنی مراد نہیں بلکہ معنوی موت وحیات یا ہلاکت و نجات مراد ہے۔ معنوی حیات اسلام و ایمان ہے اور موت شرک و کفر۔ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ الفاظ اس معنی میں استعمال کئے۔ ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ، یعنی اے ایمان والو تم کہا مانو اللہ و رسول کا جب تم کو وہ ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات ہے۔ مراد حیات سے وہ حقیقی حیات اور دائمی راحت ہے جو ایمان و اسلام کے صلہ میں ملتی ہے۔ اب آیات کی تفسیر یہ ہوئی کہ بیالیسویں آیت میں غزوہ بدر کے محاذ جنگ کا نقشہ یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمان عُدْوَةِ دُّنْيَا کے پاس تھے اور کفار عُدْوَةِ قُصْوٰي کے پاس مسلمانوں کا مقام اس میدان کے اس کنارہ پر تھا جو مدینہ سے قریب تھا اور کفار میدان کے دوسرے کنارے پر تھے جو مدینہ سے بعید تھا۔ اور ابو سفیان کے تجارتی قافلہ جس کی وجہ سے یہ جہاد کھڑا کیا گیا تھا وہ بھی مکہ سے آنے والے لشکر کفار سے قریب اور مسلمانوں کی زد سے باہر تین میل کے فاصلہ پر سمندر کے کنارے کنارے چل رہا تھا۔ اس نقشہ جنگ کے بیان سے مقصد یہ بتلانا ہے کہ جنگی اعتبار سے مسلمان بالکل بےموقع غلط جگہ ٹھہرے تھے جہاں سے دشمن پر قابو پانے کا بلکہ اپنی جان بچانے کا بھی کوئی امکان ظاہری اعتبار سے نہ تھا۔ کیونکہ اس میدان کی وہ جانب جو مدینہ سے قریب تھی ایک ریتیلی زمین تھی جس میں چلنا بھی دو بھر تھا۔ پھر پانی کی کوئی جگہ ان کے پاس نہ تھی۔ اور مدینہ سے بعید والی جانب جس پر کفار نے اپنا پڑاؤ ڈالا تھا وہ صاف زمین تھی اور پانی بھی وہاں سے قریب تھا۔ اور اس میدان کے دونوں کناروں کا پتہ دے کر یہ بھی بتلا دیا کہ دونوں لشکر باکل آمنے سامنے تھے کہ کسی کی طاقت یا ضعف دوسرے سے مخفی نہ رہ سکتا۔ نیز یہ بھی بتلا دیا کہ مشرکین مکہ کے لشکر کو یہ بھی اطمینان حاصل تھا کہ ہمارا تجارتی قافلہ مسلمانوں کی زد سے نکل چکا ہے اب اگر ہمیں ضرورت پڑے تو وہ بھی ہماری امداد کرسکتا ہے۔ اس کے بالمقابل مسلمان اپنی جگہ کے اعتبار سے بھی تکلیف و پریشانی میں تھے اور کہیں سے کمک ملنے کا بھی کوئی احتمال نہ تھا۔ اور یہ بات پہلے سے متعین اور ہر لکھے پڑھے آدمی کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کے پاس نہ سواریوں کی تعداد کافی تھی اور نہ اسلحہ کی۔ اس کے بالمقابل لشکر کفار ان سب چیزوں سے آراستہ تھا۔ نہ مسلمان اس جہاد میں کسی مسلح لشکر سے جنگ کی تیاری کرکے نکلے تھے۔ ہنگامی طور پر ایک تجارتی قافلہ کا راستہ روکنے اور دشمن کی قوت کو پست کرنے کے خیال سے صرف تین سو تیرہ مسلمان بےسامانی کے عالم میں نکل کھڑے ہوئے تھے اچانک غیر ارادی طور پر ایک ہزار جوانوں کے مسلح لشکر سے مقابلہ پڑگیا۔ قرآن کی اس آیت نے بتلایا کہ لوگوں کی نظر میں یہ واقعہ اگرچہ ایک اتفاقی حادثہ کی سورت میں بلا ارادہ پیش آیا۔ لیکن دنیا میں جتنے اتفاقات غیر اختیاری صورت سے پیش آیا کرتے ہیں ان کی سطح اور صورت اگرچہ محض اتفاقات کی ہوتی ہے لیکن خالق کائنات کی نظر میں وہ سب کے سب ایک مستحکم نظام کی لگی بندھی کڑیاں ہوتی ہیں ان میں کوئی چیز بےربط یا بےموقع نہیں ہوتی۔ جب وہ پورا انظام سامنے آجائے اس وقت انسان کو پتہ لگ سکتا ہے کہ اس اتفاقی واقعہ میں کیا کیا حکمتیں مستور تھیں۔ غزوہ بدر ہی کے واقعہ کو لے لیجئے اس کی اتفاقی اور غیر اختیاری صورت سے ظاہر ہونے میں یہ مصلحت تھی کہ (آیت) وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ ، یعنی اگر عام دنیا کی جنگوں کی طرف یہ جنگ بھی تمام پہلوؤں پر غور و فکر اور باہمی قراردادوں کے ذریعہ لڑی جاتی تو حالات کا تقاضا یہ تھا کہ یہ جنگ ہوتی ہی نہیں بلکہ اس میں اختلاف پڑجاتا خواہ اس طرح کہ خود مسلمانوں کی رائے اپنی قلت و کمزوری اور مقابل کی کثرت و قوت کو دیکھ کر مختلف ہوجاتی یا اس طرح کہ دونوں فریق اہل کفر و اہل اسلام مقررہ وعدہ پر میدان میں نہ پہنچتے۔ مسلمان تو اپنی قلت و کمزوری کو دیکھ کر اقدام کی ہمت نہ کرتے اور کفار پر حق تعالیٰ نے مسلمانوں کا رعب جمایا ہوا تھا وہ کثرت و قوت کے باوجود مقابلہ پر آنے سے گھبراتے۔ اس لئے قدرت کے مستحکم نظام نے دونوں طرف ایسے حالات پیدا کردیئے کہ زیادہ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ ملے۔ مکہ والوں کو تو ابوسفیان کے قافلہ کی گھبرائی ہوئی فریاد نے ایک ہولناک صورت میں سامنے آکر بےسوچے سمجھے چلنے پر آمادہ کردیا۔ مسلمانوں کو اس خیال نے کہ ہمارے مقابلہ پر کوئی جنگی مسلح لشکر نہیں۔ ایک معمولی تجارتی قافلہ ہے۔ مگر علیم وخبیر کو منظور یہ تھا کہ دونوں میں باقاعدہ جنگ ہوجائے تاکہ اس جنگ کے پیچھے جو نتائج فتح اسلام کے ظہور میں آنے والے ہیں وہ سامنے آجائیں۔ اسی لئے فرمایا (آیت) وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا، یعنی ان حالات کے باوجود جنگ اس لئے ہو کر رہی کہ اللہ تعالیٰ کو جو کام کرنا ہے اس کی تکمیل کر دکھائے۔ اور وہ یہ تھا کہ ایک ہزار جوانوں کے مسلح باسامان لشکر کے مقابلہ میں تین سو تیرہ بےسرو سامان فاقہ زدہ مسلمانوں کی ایک ٹولی اور وہ بھی محاذجنگ کے اعتبار سے بےموقع جب اس پہاڑ سے ٹکراتی ہے تو یہ پہاڑ پاش پاش ہوجاتا ہے اور یہ چھوٹی سی جماعت فتح مند ہوتی ہے جو کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ ہے کہ اس جماعت کی پیٹھ پر کوئی بڑی قدرت اور طاقت کام کر رہی تھی جس سے یہ ایک ہزار کا لشکر محروم تھا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس کی تائید اسلام کی وجہ سے اور اس کی محرومی کفر کی وجہ سے تھی۔ جس سے حق و باطل اور کھرے کھوٹے کا پورا امتیاز ہر سمجھدار انسان کے سامنے آگیا۔ اسی لئے آخر آیت میں ارشاد فرمایا۔ (آیت) لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ۔ یعنی واقعہ بدر میں اسلام کی کھلی حقانیت اور کفر و شرک کے باطل و مردود ہونے کو اس لئے کھول دیا گیا کہ آئندہ جو ہلاکت میں پڑے وہ دیکھ بھال کر پڑے اور جو زندہ رہے وہ بھی دیکھ بھال کر رہے۔ اندھیرے اور مغالطہ میں کوئی کام نہ ہو۔ اس آیت کے الفاظ میں ہلاکت سے مراد کفر اور حیات و زندگی سے مراد اسلام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق واضح ہوجانے کے بعد غلط فہمی کا احتمال اور عذر تو ختم ہوگیا اب جو کفر اختیار کرتا ہے وہ دیکھتی آنکھوں ہلاکت کی طرف جارہا ہے اور جو اسلام اختیار کرتا ہے وہ دیکھ بھال کر دائمی زندگی اختیار کر رہا ہے پھر فرمایا (آیت) وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ، یعنی اللہ تعالیٰ خوب سننے والے جاننے والے ہیں کہ سب کے دلوں میں چپھے ہوئے کفر و ایمان تک ان کے سامنے ہیں اور ہر ایک کی سزا و جزاء بھی۔
Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

جب اللہ نے وہ کافر دکھلائے تجھ کو تیری خواب میں تھوڑے، اور اگر تجھ کو بہت دکھلا دیتا تو تم لوگ نامردی کرتے اور جھگڑا ڈالتے کام میں لیکن اللہ نے بچالیا، اس کو خوب معلوم ہے جو بات ہے دلوں میں۔

تینتالیسویں اور چوالیسویں دونوں آیتوں میں ایک خاص کرشمہ قدرت کا ذکر ہے جو غزوہ بدر کے میدان میں اس غرض کے لئے عمل میں لایا گیا کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ دونوں لشکروں میں سے کوئی بھی میدان جنگ چھوڑ کر اس جنگ کو ہی ختم کر ڈالے کیونکہ اس جنگ کے نتیجہ میں مادی حیثیت سے بھی حقانیت اسلام کا مظاہرہ کرنا مقدر تھا۔ اور وہ کرشمہ قدرت یہ تھا کہ لشکر کفار اگرچہ واقع میں مسلمانوں سے تین گنا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے مسلمانوں کو ان کی تعداد بہت کم کرکے دکھلائی۔ تاکہ مسلمانوں میں کمزوری اور اختلاف پیدا نہ ہوجائے۔ اور یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کو خواب میں دکھلایا گیا آپ نے سب مسلمانوں سے بتلا دیا جس سے ان کی ہمت بڑھ گئی۔ دوسری مرتبہ عین میدان جنگ میں جب دونوں فریق آمنے سامنے کھڑے تھے مسلمانوں کو ان کی تعداد کم دکھلائی گئی۔ آیت 43 میں خواب کا واقعہ اور 44 میں بیداری کا مذکور ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہماری نظروں میں اپنا مقابل لشکر ایسا نظر آرہا تھا کہ میں نے اپنے قریب کے ایک آدمی سے کہا کہ یہ لوگ نوے آدمیوں کی تعداد میں ہوں گے اس شخص نے کہا کہ نہیں سو (100) ہوں گے۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور جب تم کو دکھلائی وہ فوج مقابلہ کے وقت تمہاری آنکھوں میں تھوڑی اور تم کو تھوڑا دکھلایا ان کی آنکھوں میں تاکہ کر ڈالے اللہ ایک کام جو مقرر ہوچکا تھا، اور اللہ تک پہنچتا ہے ہر کام۔

آخری آیت میں اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے (آیت) يُقَلِّلُكُمْ فِيْٓ اَعْيُنِهِمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی مقابل لشکر کی نظر میں کم کرکے دکھلایا۔ اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں مسلمانوں کی تعداد تو حقیقت ہی میں کم تھی وہ صحیح تعداد ان کو دکھلا دی اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جتنی تعداد واقعی تھی اس سے بھی کم کرکے دکھلایا گیا جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل نے مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان کی تعداد تو اس سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی جن کی خوراک ایک اونٹ ہو۔ عرب میں کسی لشکر کی تعداد معلوم کرنے کے لئے اس سے اندازہ قائم کیا جاتا تھا کہ کتنے جانور ان کی خوراک کے لئے ذبح ہوتے ہیں، ایک اونٹ سو آدمیوں کی خوراک سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اس میدان بدر میں وہاں کے کچھ لوگوں سے قریش مکہ کے لشکر کا بتہ چلانے کے لئے پوچھا تھا کہ ان کے لشکر میں روزانہ کتنے اونٹ ذبح کئے جاتے ہیں تو آپ کو دس اونٹ روزانہ بتلائے گئے جس سے آپ نے ایک ہزار لشکر کا تخمینہ قائم فرمایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ابو جہل کی نظر میں مسلمان کل سو آدمی کی تعداد میں دکھلائے گئے۔ یہاں بھی کم کرکے دکھلانے میں یہ حکمت تھی کہ مشرکین کے قلوب پر مسلمانوں کا رعب پہلے ہی نہ چھا جائے جس کی وجہ سے وہ میدان چھوڑ بھاگیں۔ فائدہ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات معجزہ اور خرق عادت کے طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنکھوں کا مشاہدہ غلط ہوجائے۔ جیسا یہاں ہوا۔ اسی لئے اس جگہ دوبارہ فرمایا (آیت) لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا۔ یعنی یہ کرشمہ قدرت اور آنکھوں کے مشاہدات پر تصرف اس لئے ظاہر کیا گیا کہ جو کام اللہ تعالیٰ کرنا چاہتے ہیں وہ پورا ہوجائے۔ یعنی مسلمانوں کو قلت و بےسامانی کے باوجود فتح دے کر اسلام کی حقانیت اور تائید غیبی کا اظہار جو اس جنگ سے مقصود تھا وہ پورا کر دکھائے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ، یعنی آخر کار سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں جو چاہے کرے جو چاہے حکم دے۔ قلت کو کثرت پر قوت کو ضعف پر غلبہ دے دے کم کو زیادہ، زیادہ کو کم کر دے۔ مولانا رومی نے خوب فرمایا گر تو خواہی عین غم شادی شود عین بند پائے آزادی شود چوں تو خواہی آتش آب خوش شود در تو خواہی آب ہم آتش شود خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ باحق زندہ اند
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو جب بھڑو کسی فوج سے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم مراد پاؤ،

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو جب تم کو (کفار کی کسی) جماعت سے (جہاد میں) مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے تو (ان آداب کا لحاظ رکھو ایک یہ کہ) ثابت قدم رہو (بھاگو مت) اور (دوسرے یہ کہ) اللہ کا خوب کثرت سے ذکر کرو (کہ ذکر سے قلب میں قوت ہوتی ہے) امید ہے تم (مقابلہ میں) کامیاب ہو (کیونکہ ثبات قدم اور ثبات قلب جب جمع ہوں تو کامیابی غالب ہے) اور (تیسرے یہ کہ تمام امور متعلقہ حرب میں) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت (کا لحاظ) کیا کرو (کہ کوئی کارروائی خلاف شرع نہ ہو) اور (چوتھے یہ کہ اپنے امام سے اور باہم بھی) نزاع مت کرو ورنہ (باہمی نااتفاقی سے) کم ہمت ہوجاؤ گے (کیونکہ قوتیں منتشر ہوجائیں گی ایک کو دوسرے پر وثوق نہ ہوگا اور اکیلا آدمی کیا کرسکتا ہے) اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی (ہوا خیزی سے مراد بد رعبی ہے کیونکہ دوسروں کو اس نااتفاقی کی اطلاع ہونے سے یہ امر لازمی ہے) اور (پانچویں یہ کہ اگر کوئی امر ناگواری کا پیش آئے تو اس پر) صبر کرو بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں (اور معیت الہی موجب نصرت ہے) اور (چھٹے یہ کہ نیت خالص رکھو تفاخر اور نمائش میں) ان (کافر) لوگوں کے مشابہ مت ہونا کہ جو (اسی واقعہ بدر میں) اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو (اپنی شان و سامان) دکھلاتے ہوئے نکلے اور (اس فخر و ریا کے ساتھ یہ بھی نیت تھی کہ) لوگوں کو اللہ کے رستہ (یعنی دین) سے روکتے تھے (کیونکہ مسلمانوں کو زک دینے چلے تھے جس کا اثر عام طبائع پر بھی دین سے بعد ہوتا) اور اللہ تعالیٰ (ان لوگوں کو پوری سزا دے گا چناچہ وہ) ان کے اعمال کو (اپنے علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ معارف و مسائل جنگ و جہاد میں کامیابی کے لئے قرآنی ہدایات پہلی دو آیتوں میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ اور مقابلہ دشمن کے لئے ایک خاص ہدایت نامہ دیا ہے جو ان کے لئے دنیا میں کامیابی اور فتح مندی کا اور آخرت کی نجات و فلاح کا نسخہ اکسیر ہے اور قرون اولی کی تمام جنگوں میں مسلمانوں کی فوق العادت کامیابیوں اور فتوحات کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اور وہ چند چیزیں ہیں۔ اول ثبات۔ یعنی ثابت رہنا اور جمنا۔ جس میں ثبات قلب اور ثبات قدم دونوں داخل ہیں کیونکہ جب تک کسی شخص کا دل مضبوط اور ثابت نہ ہو اس کا قدم اور اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہر مومن و کافر جانتا اور سمجھتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اپنی جنگوں میں اس کا اہتمام کرتی ہے۔ کیونکہ اہل تجربہ سے مخفی نہیں کہ میدان جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کامیاب ہتھیار ثبات قلب و قدم ہی ہے دوسرے سارے ہتھیار اس کے بغیر بیکار ہیں۔ دوسرے ذکر اللہ یہ وہ مخصوص اور معنوی ہتھیار ہے جس سے مومن کے سوا عام دنیا غافل ہے پوری دنیا جنگ کے لئے بہترین اسلحہ اور نئے سے نیا سامان مہیا کرنے اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی تو پوری تدبیریں کرتی ہے۔ مگر مسلمانوں کے اس روحانی اور معنوی ہتھیار سے بیخبر اور ناآشنا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر میدان میں جہاں مسلمانوں کا مقابلہ ان ہدایات کے مطابق کسی قوم سے ہوا مخالف کی پوری طاقت اور اسلحہ اور سامان کو بیکار کردیا۔ ذکر اللہ کی اپنی ذاتی اور معنوی برکات تو اپنی جگہ ہیں ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ثبات قدم کا اس سے بہتر کوئی نسخہ بھی نہیں۔ اللہ کی یاد اور اس پر اعتماد وہ بجلی کی طاقت ہے جو ایک انسان ضعیف کو پہاڑوں سے ٹکرا جانے پر آمادہ کردیتی ہے اور کیسی ہی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑا دیتی ہے اور انسان کے قلب کو مضبوط اور قدم کو ثابت رکھتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھئے کہ جنگ و قتال کا وقت عادةً ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرتا اپنی فکر پڑی ہوتی ہے۔ اس لئے جاہلیت عرب کے شعراء میدان جنگ میں بھی اپنے محبوب کو یاد کرنے پر فخر کیا کرتے ہیں کہ وہ بڑی قوت قلت اور محبت کی پختگی کی دلیل ہے ایک جاہلی شاعر نے کہا ہے ذکرتک والخطی یخطر بیننا۔ یعنی میں نے تجھے اس وقت بھی یاد کیا جب کہ نیزے ہمارے درمیان لچک رہے تھے۔ قرآن کریم نے اس پرخطر موقع میں مسلمانوں کو ذکر اللہ کی تلقین فرمائی اور وہ بھی کثیرا کی تاکید کے ساتھ۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پورے قرآن میں ذکر اللہ کے سوا کسی عبادت کو کثرت سے کرنے کا حکم نہیں صلوة کثیرا صیاما کثیرا کہیں مذکورہ نہیں۔ سبب یہ ہے کہ ذکر اللہ ایک ایسی آسان عبادت ہے کہ اس میں نہ کوئی بڑا وقت خرچ ہوتا ہے نہ محنت نہ کسی دوسرے کام میں اس سے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس پر مزید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ذکر اللہ کے لئے کوئی شرط اور پابندی، وضو، طہارت، لباس اور قبلہ وغیرہ کی بھی نہیں لگائی ہر شخص ہر حال میں باوضو، بےوضو، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، کرسکتا ہے اور اس پر اگر امام جزری کی اس تحقیق کا اضافہ کرلیا جائے جو انہوں نے حصن حصین میں لکھی ہے کہ ذکر اللہ صرف زبان یا دل سے ذکر کرنے ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر جائز کام جو اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت میں رہ کر کیا جائے وہ بھی ذکر اللہ ہے۔ تو اس تحقیق پر ذکر اللہ کا مفہوم اس قدر عام اور آسان ہوجاتا ہے کہ سوتے ہوئے بھی انسان کو ذکر کہہ سکتے ہیں۔ جیسے بعض روایات میں ہے نوم العالِم عبادة یعنی عالم کی نیند بھی عبادت میں داخل ہے کیونکہ عالم جو اپنے علم کے مقتضی پر عمل کرتا ہو اس کے لئے یہ لازم ہے کہ اس کا سونا اور جاگنا سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی کے دائرہ میں ہو۔ میدان جنگ میں ذکر اللہ کی کثرت کا حکم اگرچہ بظاہر مجاہدین کے لئے ایک کام کا اضافہ نظر آتا ہے جو عادةً مشقت و محنت کو چاہتا ہے۔ لیکن ذکر اللہ کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ محنت نہیں لیتا بلکہ ایک فرحت و قوت اور لذت بخشتا ہے اور انسان کے کام میں اور معین و مددگار بنتا ہے۔ یوں بھی محنت و مشقت کے کام کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی کلمہ یا گیت گنگنایا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو اس کا نعم البدل دے دیا جو ہزاروں فوائد اور حکمتوں پر مبنی ہے اسی لئے آخر آیت میں فرمایا (آیت) لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ، یعنی اگر تم نے ثبات اور ذکر اللہ کے دو گُر یاد کرلئے اور ان کو میدان جنگ میں استعمال کیا تو فلاح و کامیابی تمہاری ہے۔ میدان جنگ کا ذکر ایک تو وہ ہے جو عام طور پر نعرہ تکبیر کے انداز میں کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ پر نظر اور اعتماد و توکل اور دل سے اس کی یاد۔ لفظ ذکر اللہ ان سب کو شامل ہے۔
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور آپس میں نہ جھگڑو پس نامرد ہوجاؤ گے اور جاتی رہے گی تمہاری ہوا اور صبر کرو، بیشک اللہ ساتھ ہے صبر والوں کے۔

چھیالیسویں آیت میں ایک تیسری چیز کی تلقین اور کی گئی وہ ہے (آیت) وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت اس کی اطاعت ہی کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے معصیت اور نافرمانی تو اللہ کی ناراضی اور ہر فضل سے محرومی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس طرح میدان جنگ کے لئے قرآنی ہدایت نامہ کی تین دفعات ہوگئیں ثبات، ذکر اللہ، اطاعت۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا، اس میں مضر پہلوؤں پر تنبیہ کرکے ان سے بچنے کی ہدایت ہے۔ اور وہ مضر پہلو جو جنگ کی کامیابی میں مانع ہوتا ہے باہمی نزاع و اختلاف ہے۔ اس لئے فرمایا وَلَا تَنَازَعُوْا یعنی آپس میں نزاع اور کشاکش نہ کرو۔ ورنہ تم میں بزدلی پھیل جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس میں باہمی نزاع کے دو نتیجے بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ تم ذاتی طور پر کمزور اور بزدل ہوجاؤ گے۔ دوسرے یہ کہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی دشمن کی نظروں میں حقیر ہوجاؤ گے باہمی کشاکش اور نزاع سے دوسروں کی نظر میں حقیر ہوجانا تو بدیہی امر ہے لیکن خود اپنی قوت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے کہ اس میں کمزوری اور بزدلی آجائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہمی اتحاد و اعتماد کی صورت میں ہر ایک انسان کے ساتھ پوری جماعت کی طاقت لگی ہوئی ہوتی ہے اس لئے ایک آدمی اپنے اندر بقدر اپنی جماعت کے قوت محسوس کرتا ہے اور جب باہمی اتحاد و اعتماد نہ رہا تو اس کی اکیلی قوت رہ گئی وہ ظاہر ہے جنگ و قتال کے میدان میں کوئی چیز نہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا واصْبِرُوْا۔ یعنی صبر کو لازم پکڑو۔ سیاق کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نزاع اور جھگڑوں سے بچنے کا کامیاب نسخہ بتلایا گیا ہے اور بیان اس کا یہ ہے کہ کوئی جماعت کتنی ہی متحد الخیال اور متحد المقصد ہو مگر افراد انسانی کی طبعی خصوصیات ضرور مختلف ہوا کرتی ہیں نیز کسی مقصد کے لئے سعی و کوشش میں اہل عقل و تجربہ کی رایوں کا اختلاف بھی ناگزیر ہے۔ اس لئے دوسروں کے ساتھ چلنے اور ان کو ساتھ رکھنے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے اور نظر انداز کرنے کا عادی ہو اور اپنی رائے پر اتنا جماؤ اور اصرار نہ ہو کہ اس کو قبول نہ کیا جائے تو لڑ بیٹھے۔ اسی صفت کا دوسرا نام صبر ہے۔ آج کل یہ تو ہر شخص جانتا اور کہتا ہے کہ آپس کا نزاع بہت بری چیز ہے مگر اس سے بچنے کا جو گُر ہے کہ آدمی خلاف طبع امور پر صبر کرنے کا خوگر بنے اپنی بات منوانے اور چلانے کی فکر میں نہ پڑے۔ یہ بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے اسی لئے اتحاد و اتفاق کے سارے وعظ و پند بےسود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ آدمی کو دوسرے سے اپنی بات منوا لینے پر تو قدرت نہیں ہوتی مگر خود دوسرے کی بات مان لینا اور اگر اس کی عقل و دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اس کو نہ مانے تو کم از کم نزاع سے بچنے کے لئے سکوت کرلینا تو بہرحال اختیار میں ہے اس لئے قرآن کریم نے نزاع سے بچنے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ صبر کی تلقین بھی ہر فرد جماعت کو کردی تاکہ نزاع سے بچنا عملی دنیا میں آسان ہوجائے۔ یہاں یہی بات بھی قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ لَا تَنَازَعُوْا فرمایا ہے یعنی باہمی کشاکش کو روکا ہے رائے کے اختلاف یا اس کے اظہار سے منع نہیں کیا۔ اختلاف رائے جو دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہو وہ کبھی نزاع کی صورت اختیار نہیں کیا کرتا۔ نزاع وجدال وہیں ہوتا ہے جہان اختلاف رائے کے ساتھ اپنی بات منوانے اور دوسرے کی بات نہ ماننے کا جذبہ کام کر رہا ہو۔ اور یہی وہ جذبہ ہے جس کو قرآن کریم نے واصْبِرُوْا کے لفظ سے ختم کیا ہے اور آخر میں صبر کرنے کا ایک عظیم الشان فائدہ بتلا کر صبر کی تلخی کو دور فرما دیا۔ ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔ یعنی صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر حال میں ان کا رفیق ہوتا ہے اور یہ اتنی بڑی دولت ہے کہ دونوں جہان کی ساری دولتیں اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بعض غزوات میں انھیں ہدایات کو مستحضر کرانے کے لئے عین میدان جنگ میں یہ خطبہ دیا " اے لوگو دشمن سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو اور جب ناگزیر طور مقابلہ ہو ہی جائے تو پھر صبر و ثبات کو لازم پکڑو اور یہ سمجھ لو کہ جنت تلواروں کے سایہ میں ہے "۔ (مسلم)
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور نہ ہوجاؤ ان جیسے جو کہ نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھانے کو اور روکتے تھے اللہ کی راہ سے، اور اللہ کے قابو میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

سینتالیسویں آیت میں ایک اور مضر پہلو پر تنبیہ اور اس سے پرہیز کی ہدایت دی گئی ہے وہ ہے اپنی قوت و کثرت پر ناز یا کام میں اخلاص کے بجائے اپنی کوئی اور غرض مضمر ہونا کیونکہ یہ دونوں چیزیں بھی بڑی طاقتور جماعتوں کو پسپا اور زیر کردیا کرتی ہیں۔ اس آیت میں اشارہ قریش مکہ کے حالات کی طرف بھی ہے جو اپنے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے بھاری تعداد اور سامان لے کر اپنی قوت و کثرت پر اتراتے ہوئے نکلے تھے۔ اور جب تجارتی قافلہ مسلمانوں کی زد سے باہر ہوگیا اس وقت بھی اس لئے واپس نہیں ہوئے کہ اپنی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کرنا تھا۔ مستند روایات میں ہے کہ جب ابوسفیان اپنا تجارتی قافلہ لے کر مسلمانوں کی زد سے بچ نکلے تو ابوجہل کے پاس قاصد بھیجا کہ اب تمہارے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں رہی واپس آجاؤ اور بھی بہت سے قریش سرداروں کی یہی رائے تھی۔ مگر ابوجہل اپنے کبر و غرور اور شہرت پرستی کے جذبہ میں قسم کھا بیٹھا کہ ہم اس وقت تک واپس نہ ہوں گے جب تک چند روز مقام بدر پر پہنچ کر اپنی فتح کا جشن نہ منالیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ اور اس کے بڑے بڑے ساتھی سب وہیں ڈھیر ہوئے اور ایک گڑھے میں ڈالے گئے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے طریقہ کار سے پرہیز کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔