8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان لو کہ بیشک تمہارے مال اور اولاد خرابی میں ڈالنے والے ہیں اور یہ کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔

(آیت) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بات سمجھ رکھو کہ تمہارے مال و اولاد تمہارے لئے فتنہ ہیں۔ فتنہ کے معنی امتحان کے بھی آتے ہیں اور عذاب کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب بنیں۔ قرآن کریم کی مختلف آیتوں میں ان تینوں معنی کے لئے لفظ فتنہ استعمال ہوا ہے۔ یہاں تنیوں معنی کی گنجائش ہے بعض اوقات مال و اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبال جان بن جاتے ہیں اور ان کے سبب غفلت و معصیت میں مبتلا ہو کر سبب عذاب بن جانا تو بالکل ظاہر ہے۔ اول یہ کہ مال و اولاد کے ذریعہ تمہارا امتحان لینا مقصود ہے کہ یہ چیزیں ہمارے انعامات ہیں۔ تم انعام لے کر شکر گزار اور اطاعت شعار بنتے ہو یا ناشکرے اور نافرمان۔ دوسرے اور تیسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مال اور اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا تو یہی مال و اولاد تمہارے لئے عذاب بن جائیں گے۔ بعض اوقات تو دنیا ہی میں یہ چیزیں انسان کو سخت مصیبتوں میں مبتلا کردیتی ہیں اور دنیا ہی میں مال و اولاد کو وہ عذاب محسوس کرنے لگتے ہیں ورنہ یہ تو لازمی ہے کہ دنیا میں جو مال اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کمایا گیا یا خرچ کیا گیا وہ مال ہی آخرت میں اس کے لئے سانپ بچھو اور آگ میں داغ دینے کا ذریعہ بن جائے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اور بیشمار روایات حدیث میں اس کی تصریحات موجود ہیں۔ اور تیسرے معنی یہ کہ یہ چیزیں سبب عذاب بن جائیں یہ تو ظاہر ہی ہے کہ جب یہ چیزیں اللہ تعالیٰ سے غفلت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کا سبب بنیں تو عذاب کا سبب بن گئیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی یہ بھی سمجھ لو کہ جو شخص اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل میں مال و اولاد کی محبت سے مغلوب نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ اس آیت کا مضمون تو سب مسلمانوں کو عام اور شامل ہے مگر واقعہ اس کے نزول کا اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت ابو لبابہ ؓ کا قصہ ہے جو غزوہ بنو قریظہ میں پیش آیا کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام نے بنو قریظہ کے قلعہ کا اکیس روز تک محاصرہ جاری رکھا جس سے عاجز ہو کر انہوں نے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی آپ نے ان کی شرارتوں کے پیش نظر اس کو قبول نہیں فرمایا بلکہ یہ ارشاد فرمایا کہ صلح کی صرف یہ صورت ہے کہ سعد بن معاذ تمہارے بارے میں جو کچھ فیصلہ کریں اس پر راضی ہوجاؤ۔ انہوں نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ کے بجائے ابو لبابہ کو یہ کام سپرد کردیا جائے۔ کیونکہ حضرت ابولبابہ کے اہل و عیال اور جائیداد بنو قریظہ میں تھے، ان سے یہ خیال تھا کہ وہ ہمارے معاملہ میں رعایت کریں گے۔ آپ نے ان کی درخواست پر حضرت ابو لبابہ کو بھیج دیا۔ بنوقریظہ کے سب مرد و زن ان کے گرد جمع ہو کر رونے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے حکم پر اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں وہ کچھ نرمی فرمائیں گے۔ ابولبابہ کو معلوم تھا کہ ان کے معاملہ میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے۔ انہوں نے کچھ ان لوگوں کی گریہ وزاری سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہو کر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بتلا دیا کہ ذبح کئے جاؤ گے۔ گویا اس طرح آنحضرت ﷺ کا راز فاش کردیا۔ مال و اولاد کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے۔ مگر فورا تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے خیانت کی۔ جب وہاں سے واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئی کہ آپ کی خدمت میں لوٹنے کے بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد کے ایک ستون کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم کھائی کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی اسی طرح بندھا رہوں گا چاہے اسی حالت میں موت آجائے۔ چناچہ سات روز مکمل اسی طرح بندھے کھڑے رہے ان کی بیوی اور لڑکی نگہداشت کرتی تھیں، انسانی ضرورت کے وقت اور نماز کے وقت کھول دیتی اور فارغ ہونے کے بعد پھر باندھ دیتی تھیں، کھانے پینے کے پاس نہ جاتے تھے یہاں تک کہ غشی طاری ہوجاتی تھی۔ رسول کریم ﷺ کو جب اول اس کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر وہ اول ہی میرے پاس آجاتے تو میں ان کے لئے استغفار کرتا اور توبہ قبول ہوجاتی اب جب کہ وہ یہ کام کر گزرے تو اب قبولیت توبہ نازل ہونے کا انتظار ہی کرنا ہے۔ چنانچہ سات روز کے بعد آخر شب میں آپ پر یہ آیتیں ان کی توبہ قبول ہونے کے متعلق نازل ہوئیں بعض حضرات نے ان کو خوشخبری سنائی اور کھولنا چاہا مگر انہوں نے کہا کہ جب تک خود آنحضرت ﷺ مجھے نہ کھولیں گے میں کھلنا پسند نہ کروں گا۔ چناچہ جب آپ صبح کی نماز کے وقت مسجد میں تشریف لائے تو اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا۔ آیت مذکورہ میں جو خیانت کرنے اور مال و اولاد کی محبت سے مغلوب ہونے کی ممانعت کا ذکر آیا ہے اس کا اصل سبب یہ واقعہ ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر تم ڈرتے رہو گے اللہ سے تو کردے گا تم میں فیصلہ اور دور کردے گا تم سے تمہارے گناہ اور تم کو بخش دے گا، اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔

خلاصہ تفسیر (اور) اے ایمان والو (اطاعت کی اور برکات سنو وہ یہ کہ) اگر تم اللہ سے ڈر (کر اطاعت کرتے) رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا (اس میں ہدایت اور نور قلب جس سے حق و باطل میں علمی فیصلہ ہوتا ہے اور غلبہ علی الاعداء اور نجات آخرت جس سے حق و باطل میں عملی فیصلہ ہوتا ہے سب آگیا) اور تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے (خدا جانے اپنے فضل سے اور کیا کیا دے دے جو قیاس و گمان میں بھی نہ آتا ہو) اور (اے محمد ﷺ مسلمانوں کے سامنے تذکیر نعمت کے لئے) اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت (بری بری) تدبیریں سوچ رہے تھے کہ (آیا) آپ کو قید کرلیں یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کردیں اور وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر (ان تدبیروں کے دفع کرنے کے لئے) کررہے تھے اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے (جس کے سامنے ان کی ساری تدبیریں گاؤ خورد ہوگئیں اور آپ بال بال محفوظ رہے اور صحیح سالم مدینہ آپہنچے۔ چونکہ آپ کا اس طرح بچ رہنا مومنین کے حق میں بےانتہا ابواب سعادات کی مفتاح ہے اس لئے اس واقعہ کے ذکر کا حکم فرمایا) اور (ان کفار کی یہ حالت ہے کہ) جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن (کر دیکھ) لیا (یہ تو کوئی معجزہ نہیں کیونکہ) اگر ہم ارادہ کریں تو اس کی برابر ہم بھی کہہ لائیں (پس) یہ (قرآن) تو (کلام الہی و معجزہ وغیرہ) کچھ بھی نہیں صرف بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آرہی ہیں (کہ پہلے اہل ملل بھی یہی دعوٰی توحید و بعثت وغیرہ کے کرتے آئے ہیں انہی کے مضامین آپ نقل کررہے ہیں) اور (اس سے بڑھ کر قابل ذکر وہ حالت ہے) جب کہ ان لوگوں نے (اپنے اس جہل مرکب میں غایت صلابت و جلادت ظاہر کرنے کو یہ بھی) کہا کہ اے اللہ اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر (اس کے نہ ماننے کی وجہ سے) آسمان سے پتھر برسایئے یا ہم پر کوئی (اور) دردناک عذاب واقع کر دیجئے (جو کہ خارق عادت ہونے میں مثل بارش سنگ کے ہو اور جب ایسے عذاب واقع نہ ہوئے تو اپنی حقانیت پر ناز کرتے ہیں) اور (یہ نہیں سمجھتے کہ باوجود ان کے بطلان کے خاص موانع کی وجہ سے یہ عقوبات مذکورہ نازل نہیں ہوتیں ان موانع کا بیان یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ ایسا نہ کریں گے کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو (ایسا) عذاب دیں اور (نیز) اللہ تعالیٰ ان کو (ایسا) عذاب نہ دیں گے جس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے رہتے ہیں (گو وہ آخرت میں بوجہ ایمان نہ ہونے کے نافع نہ ہو لیکن آخر عمل صالح ہے دنیا میں تو کفار کو نافع ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ان عقوبات خارقہ سے دو امر مانع ہیں، ایک حضور ﷺ کا تشریف رکھنا مکہ میں یا دنیا میں۔ اور دوسرا ان لوگوں کا اپنے طواف وغیرہ میں یہ کہنا غفرانک جو کہ بعد ہجرت و بعد وفات بھی باقی تھا اور ایک مانع حدیثوں میں ہے کہ حضور کی امت میں کسی کا ہونا گو امت دعوت ہی ہو یہ مانع باوجود کسی کے استغفار نہ کرنے کے بھی باقی ہے پس یہ امور فی نفسة مانع ہوئے گو احیانًا مانع کے ہوتے ہوئے بھی کوئی عذاب خارق کسی عارضی مصلحت سے واقع ہوجائے جیسا قذف و مسخ وغیرہ کا قرب قیامت میں ہونا حدیثوں میں وارد ہے۔ معارف و مسائل پچلھی آیت میں اس کا ذکر تھا کہ انسان کے لئے مال اور اولاد ایک فتنہ یعنی آزمائش کی چیز ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی محبت میں مغلوب ہو کر انسان عمومًا اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے حالانکہ اس عظیم نعمت کا عقلی تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کی وجہ سے اس کی طرف اور زیادہ جھکتا۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت اسی مضمون کی تکمیل ہے اس میں فرمایا ہے کہ جو شخص عقل کو طبیعت پر غالب رکھ کر اس آزمائش میں ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و محبت کو سب چیزوں پر مقدم رکھے جس کو قرآن و شریعت کی اصطلاح میں تقوی کہا جاتا ہے تو اس کو اس کے صلہ میں تین چیزیں عطا ہوتی ہیں فرقان، کفارہ سیئات، مغفرت۔ فرقان اور فرق دونوں مصدر ایک ہی معنی کے ہیں۔ محاورات میں فرقان اس چیز کے لئے بولا جاتا ہے جو دو چیزوں میں واضح طور پر فرق اور فصل کردے۔ اسی لئے فیصلہ کو فرقان کہتے ہیں کیونکہ وہ حق اور ناحق میں فرق واضح کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کو بھی فرقان کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ اہل حق کو فتح اور ان کے مخالف کو شکست ہو کر حق و باطل کا فرق واضح ہوجاتا ہے قرآن کریم میں اسی معنی کے لئے غزہ بدر کو یوم الفرقان کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس آیت میں تقوٰی اختیار کرنے والوں کو فرقان عطا ہونے کا اکثر مفسرین صحابہ کے نزدیک یہی مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد اور حفاظت ان کے ساتھ ہوتی ہے کوئی دشمن ان کو گزند نہیں پہنچا سکتا اور تمام مقاصد میں کامیابی ان کی رفیق ہوتی ہے ہر کہ ترسید از حق و تقوے گزید ترسد از وے جن و انس و ہر کہ دید تفسیر مہائمی میں ہے کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پچھلے واقعہ میں حضرت ابو لبابہ سے جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کی خاطر لغزش ہوگئی تھی وہ اس لئے بھی خطا تھی کہ اہل و عیال کی حفاظت کا بھی صحیح راستہ یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کو اپنا شعار بنایا جاتا تو سب مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی پناہ اور حفاظت میں آجاتے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ فرقان سے مراد اس آیت میں وہ عقل و بصیرت ہے جس کے ذریعہ حق و باطل، کھرے کھوٹے میں امتیاز کرنا سہل ہوجائے تو معنی یہ ہوئے کہ تقوی اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسی بصیرت اور فراست عطا فرما دیتے ہیں کہ ان کو اچھے برے میں فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ دوسری چیز جو تقوی کے صلہ میں عطا ہوتی ہے وہ کفارہ سیئات ہے یعنی جو خطائیں اور لغزشیں اس سے سرزد ہوتی ہیں دنیا میں ان کا کفارہ اور بدل کردیا جاتا ہے یعنی اس کے ایسے اعمال صالحہ کی توفیق ہوجاتی ہے جو اس کی سب لغزشوں پر غالب آجاتے ہیں۔ تیسری چیز جو تقوٰی کے صلہ میں ملتی ہے وہ آخرت کی مغفرت اور سب گناہوں، خطاؤں کی معافی ہے۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ، یعنی اللہ تعالیٰ بڑے فضل و احسان والے ہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ کردیا گیا کہ عمل کی جزاء تو عمل کے پیمانہ پر ہوتی ہے۔ یہاں بھی تقوی کی جو جزاء خیر تین چیزوں میں مذکور ہے وہ تو جزاء اور بدلہ کے طور پر ہے مگر اللہ تعالیٰ بڑے فضل و احسان والے ہیں ان کی داد و دہش کسی پیمانہ کے ساتھ مقید نہیں اور ان کے احسان و انعام کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا اس لئے تقوی اختیار کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے ان تین چیزوں کے علاوہ بھی بہت بڑی امیدیں رکھنا چاہئے۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور جب فریب کرتے تھے کافر کہ تجھ کو قید کردیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں، اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا، اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔

دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے ایک خاص انعام و احسان کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام پر بلکہ پوری دنیا پر ہوا ہے۔ کہ قبل از ہجرت جب آنحضرت ﷺ کفار کے نرغہ میں تھے اور وہ آپ کے قید یا قتل کرنے کے مشورے کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور آنحضرت ﷺ کو سلامت و عافیت مدینہ طیبہ پہنچا دیا۔ جس کا واقعہ تفسیر ابن کثیر اور مظہری میں بروایت محمد بن اسحاق و امام احمد و ابن جریر وغیرہ یہ نقل کیا گیا ہے کہ جب مدینہ طیبہ سے آنے والے انصار کا مسلمان ہوجانا مکہ میں مشہور ہوا تو قریش مکہ کو یہ فکر دامنگیر ہوگئی کہ اب تک تو ان کا معاملہ صرف مکہ میں دائر تھا جہاں ہر طرح کی قوت ہمارے ہاتھ میں ہے اور اب جب کہ مدینہ میں اسلام پھیلنے لگا اور بہت سے صحابہ کرام ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچ گئے تو اب ان کا ایک مرکز مدینہ طیبہ قائم ہوگیا جہاں یہ ہر طرح کی قوت ہمارے خلاف جمع کرسکتے ہیں اور پھر ہم پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو یہ بھی احساس ہوگیا کہ اب تک تو کچھ صحابہ کرام ہی ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچے ہیں اب یہ بھی قوی امکان ہے کہ محمد ﷺ بھی وہاں چلے جائیں اس لئے رؤ ساء مکہ نے مشورہ کے لئے دارالندوہ میں ایک خاص مجلس طلب کی۔ دارالند وہ مسجد حرام کے متصل قصی بن کلاب کا مکان تھا جس کو ان لوگوں نے قومی مسائل میں مشورہ اور مجلس کرنے کے لئے مخصوص کر رکھا تھا اور زمانہ اسلام میں اس کو مسجد حرام میں داخل کرلیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ باب الزیادات ہی وہ جگہ تھی جس کو دارالندوہ کہا جاتا تھا۔ حسب عادت اس مہم مشورہ کے لئے قریشی سرداروں کا اجتماع دارالندوہ میں ہوا جس میں ابوجہل، نضر بن حارث، عتبہ، امیہ بن خلف، ابو سفیان وغیرہ قریش کے تمام نمایاں اشخاص شامل ہوئے اور رسول کریم ﷺ کی بڑھتی ہوئی قوت کے مقابلہ کی تدبیریں زیر غور آئیں۔ ابھی مشورہ کی مجلس شروع ہی ہوئی تھی کہ ابلیس لعین ایک سن رسیدہ عربی شیخ کی صورت میں دارالندوہ کے دروازہ پر آکھڑا ہوا۔ لوگوں نے پوچھا کہ تم کون ہو کیوں آئے ہو۔ بتلایا کہ میں نجد کا باشندہ ہوں مجھے معلوم ہوا کہ آپ لوگ ایک اہم مشورہ کر رہے ہیں تو قومی ہمدردی کے پیش نظر میں بھی حاضر ہوگیا کہ ممکن ہے میں کوئی مفید مشورہ دے سکوں۔ یہ سن کر اس کو اندر بلا لیا گیا اور مشورہ شروع ہوا تو سہیلی کی روایت کے مطابق ابو البختری ابن ہشام نے یہ مشورہ پیش کیا کہ ان کو یعنی آنحضرت ﷺ کو آہنی زنجیروں میں قید کر کے مکان کا دروازہ بند کردیا جائے اور چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ معاذ اللہ وہ آپ اپنی موت مرجائیں یہ سن کر شیخ نجدی ابلیس لعین نے کہا کہ یہ رائے صحیح نہیں۔ کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو معاملہ چھپے گا نہیں بلکہ اس کی شہرت دور دور پہنچ جائے گی اور ان کے صحابہ اور رفقاء کے فدائیانہ کا رنامے تمہارے سامنے ہیں بہت ممکن ہے کہ یہ لوگ جمع ہو کر تم پر حملہ کردیں اور اپنے قیدی کو تم سے چھڑا لیں۔ سب طرف سے آوزیں اٹھیں کہ شیخ نجدی کی بات صحیح ہے اس کے بعد ابوالاسود نے یہ رائے پیش کی کہ ان کو مکہ سے نکال دیا جائے یہ باہر جاکر جو چاہیں کرتے رہیں ہمارا شہر ان کے فساد سے مامون ہوجائے گا۔ اور ہمیں کچھ جنگ وجدال بھی کرنا نہ پڑے گا۔ شیخ نجدی یہ سن کر پھر بولا کہ یہ رائے بھی صحیح نہیں، کیا تمیھیں معلوم نہیں کہ وہ کیسے شیریں کلام آدمی ہیں لوگ ان کا کلام سن کر مفتون اور مسحور ہوجاتے ہیں۔ اگر ان کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا تو بہت جلد اپنی طاقتور جماعت بنالیں گے اور تم پر حملہ کرکے شکست دے دیں گے۔ اب ابوجہل بولا کہ جو کرنے کا کام ہے تم میں سے کسی نے نہیں سمجھا۔ میری سمجھ میں ایک بات آئی ہے وہ یہ کہ ہم عرب کے سب قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کا ایک نوجوان لے لیں اور ہر ایک کو عمدہ کام کرنے والی تلوار دے دیں۔ یہ سب لوگ یکبارگی ان پر حملہ کرکے قتل کردیں۔ ہم ان کے فساد سے تو اس طرح نجات حاصل کرلیں۔ اب رہا ان کے قبیلہ بنو عبد مناف کا مطالبہ جو ان کے قتل کا سبب ہم پر عائد ہوگا سو ایسی صورت میں جب کہ قتل کسی ایک نے نہیں بلکہ ہر قبیلہ کے ایک ایک شخص نے کیا ہے تو قصاص یعنی جان کے بدلے جان لینے کا مطالبہ تو باقی نہیں رہ سکتا۔ صرف خون بہا یا دیت کے مال کا مطالبہ رہ جائے گا وہ ہم سب قبیلوں سے جمع کرکے ان کو دے دیں گے اور بےفکر ہوجائیں گے۔ شیخ نجدی ابلیس لعین نے یہ سن کر کہا کہ بس رائے یہی ہے اور اس کے سوا کوئی چیز کارگر نہیں۔ پوری مجلس نے اسی کے حق میں رائے دے دی اور آج ہی رات میں اپنا یہ ناپاک عزم پورا کرنے کا تہیہ کرلیا گیا۔ مگر انبیاء (علیہم السلام) کی غیبی طاقت کو یہ جاہل کیا سمجھ سکتے تھے۔ اس طرف جبرئیل امین نے ان کے دارالمشورہ کی ساری کیفیت سے رسول اللہ ﷺ کو باخبر کرکے یہ تدبیر بتلائی کہ آج رات میں آپ اپنے بسترے پر آرام نہ کریں اور بتلایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ادھر مشورہ کے مطابق شام ہی سے قریشی نوجوانوں نے سرور دو عالم ﷺ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ رسول کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ آج کی رات وہ آنحضرت ﷺ کے بسترے پر آرام کریں اور یہ خوشخبری سنا دی کہ اگرچہ بظاہر اس میں آپ کی جان کا خطرہ ہے مگر دشمن آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ حضرت علی مرتضی نے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا اور آپ کے بستر پر لیٹ گئے مگر اب مشکل یہ درپیش تھی کہ آنحضرت ﷺ اس محاصرہ سے کیسے نکلیں۔ اس مشکل کو اللہ تعالیٰ نے ایک معجزہ کے ذریعہ حل کیا وہ یہ کہ بامر الہی رسول اللہ ﷺ ایک مٹھی میں مٹی بھر کر باہر تشریف لائے اور محاصرہ کرنے والے جو کچھ آپ کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اس کا جواب دیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی نظروں اور فکروں کو آپ کی طرف سے پھیر دیا کہ کسی نے آپ کو نہ دیکھا حالانکہ آپ ان میں سے ہر ایک کے سر پر خاک ڈالتے ہوئے نکلے چلے گئے۔ آپ کے تشریف لے جا نے کے بعد کسی آنے والے نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہاں کیوں کھڑے ہو تو انہوں نے بتلایا کہ محمد ﷺ کے انتظار میں۔ اس نے کہا کہ تم کس خام خیالی میں ہو وہ تو یہاں سے نکل کر جا بھی چکے ہیں اور تم میں سے ہر ایک کے سر پر خاک ڈالتے ہوئے گئے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے اپنے سروں پر ہاتھ رکھا تو اس کی تصدیق ہوئی کہ ہر ایک کے سر پر مٹی پڑی ہوئی تھی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ کے بستر پر لیٹے ہوئے تھے مگر محاصرہ کرنے والوں نے ان کے کروٹیں بدلنے سے پہچان لیا کہ یہ محمد ﷺ نہیں اس لئے قتل پر اقدام نہیں کیا۔ صبح تک محاصرہ کرنے کے بعد یہ لوگ خائب و خاسر ہو کر واپس ہوگئے۔ یہ رات اور اس میں رسول کریم ﷺ کے لئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنا حضرت علی مرتضی کے خاص فضائل میں سے ہے۔ قریشی سرداروں کے مشورہ میں جو تین رائیں آنحضرت ﷺ کے متعلق پیش کی گئی تھیں ان تینوں کو قرآن کریم کی اس آیت میں ذکر فرمایا (آیت) وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ۔ یعنی وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے جب کہ کفار آپ کے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کریں یا قتل کردیں یا شہر بدر کردیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی سب تدبیریں خاک میں ملادیں۔ اسی لئے آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ بہتر تدبیر کرنے والے ہیں۔ جو ساری تدبیروں پر غالب آجاتی ہے جیسا کہ اس واقعہ میں مشاہدہ ہوا۔ لفظ مکر کے معنی عربی لغت میں یہ ہیں کہ کسی حیلہ و تدبیر کے ذریعہ اپنے مقابل شخص کو اس کے ارادہ سے روک دیا جائے۔ پھر اگر یہ کام کسی نیک مقصد سے کیا جائے تو یہ مکر محمود اور اچھا ہے اور کسی برے مقصد سے کیا جائے تو مذموم اور برا ہے اس لئے یہ لفظ انسان کے لئے بھی بولا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی۔ مگر اللہ تعالیٰ کے لئے صرف ایسے ماحول میں استعمال ہوتا ہے جہاں کلام کے سیاق اور تقابل کے ذریعہ مکر مذموم کا شبہ نہ ہوسکے (مظہر ی) جیسے یہاں ہے۔ اس جگہ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ آخر آیت میں جو الفاظ ارشاد فرمائے وہ بصیغہ مضارع ہیں جو حال و استقبال کے معنی پر دلالت کرتا ہے ارشاد فرمایا (آیت) وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ یعنی وہ اہل ایمان کی ایذا رسانی کی تدبیریں کرتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیروں کے ناکام کرنے کی تدبیر کرتے رہیں گے اس میں اشارہ ہے کہ کفار کا یہ دائمی شعار رہے گا کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں کریں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد بھی ہمشہ ہی سچے مسلمانوں سے ان کی تدبیروں کو دفع کرتی رہے گی۔
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب کوئی پڑھے ان پر ہماری آیتیں تو کہیں ہم سن چکے اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ لیں ایسا یہ تو کچھ بھی نہیں مگر احوال ہیں اگلوں کے۔

اکتیسویں اور بتیسویں آیتوں میں اسی دارالندوہ کے ایک شریک نضر بن حارث کی ایک بےہودہ گفتگو اور تینتیسویں آیت میں یہود و نصاری کی کتابیں اور ان کی عبادتیں دیکھنے کا بار بار اتفاق ہوتا تھا اس لئے جب اس نے قرآن کریم میں پچلھی امتوں کے حالات سنے تو کہنے لگا کہ (آیت) قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ، یعنی یہ باتیں تو ہماری سنی ہوئی ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ تو پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اور جب بعض صحابہ نے اس کو لاجواب کیا کہ اگر تم ایسا کلام کہہ سکتے ہو تو پھر کہتے کیوں نہیں جب کہ قرآن نے حق و باطل کا فیصلہ اس پر رکھ دیا ہے اور پوری دنیا کو یہ چیلنج دیا ہے کہ اگر خلاف کرنے والے سچے ہیں تو قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت ہی کی مثال پیش کریں۔ اور خلاف میں سر دھڑ کی بازی لگانے والے مال و اولاد قربان کرنے والے سب مل کر بھی ایک چھوٹی سی سورت قرآن کے مقابلہ میں پیش نہ کرسکے تو اب یہ کہنا کہ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں ایک ایسی بات ہے جو کوئی غیرت مند آدمی نہیں کہہ سکتا۔ پھر جب نضر بن حارث سے صحابہ کرام نے اس کلام الہی کا حق ہونا بیان کیا تو اپنے غلط مذہب پر پختگی دکھلانے کے لئے کہنے لگا
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب وہ کہنے لگے کہ یا اللہ اگر یہی دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا لا ہم پر کوئی عذاب دردناک۔

اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔ یعنی اے اللہ اگر یہی قرآن آپ کی طرف سے حق ہے تو ہم پر پتھر برسا دیجئے یا کوئی دوسرا سخت عذاب نازل کر دیجئے۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرتا ان پر جب تک تو رہتا ان میں، اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرے گا ان پر جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے۔

قرآن کریم نے خود اس کا جواب دیا۔ پہلے ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کے مکہ میں ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل کریں کیونکہ اول تو سب ہی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ حق تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جس بستی میں وہ موجود ہوں اس پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں فرماتے جب تک اپنے پیغمبروں کو وہاں سے نکال نہ لیں۔ جیسے حضرت ہود ؑ اور صالح ؑ اور لوط ؑ کے معاملہ میں مشاہدہ ہوا کہ جب تک یہ حضرات بستی میں رہے عذاب نہیں آیا جب وہاں سے نکال لئے گئے اس وقت عذاب نازل ہوا۔ خصوصا سید الانبیاء جو رحمة للعالمین کا لقب دے کر بھیجے گئے ہیں آپ کے کسی بستی میں موجود ہوتے ہوئے ان پر عذاب آنا آپ کی شان کے خلاف تھا۔ خلاصہ جواب کا یہ ہوا کہ تم تو قرآن اور اسلام کی مخالفت کی وجہ سے اسی کے مستحق ہو کہ تم پر پتھر برسائے جائیں مگر آنحضرت ﷺ کا مکہ میں موجود ہونا اس سے مانع ہے۔ امام ابن جریر نے فرمایا کہ آیت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب کہ آپ مکہ مکرمہ میں موجود تھے پھر ہجرت مدینہ کے بعد آیت کا دوسرا حصہ یہ نازل ہوا (آیت) وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرنے والے نہیں جب کہ وہ مانع رفع ہوگیا کہ آپ وہاں موجود تھے مگر اس وقت بھی ایک مانع عذاب کا یہ موجود رہا کہ بہت سے ضعفاء مسلمین جو ہجرت نہ کرسکتے تھے مکہ میں رہ گئے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے تھے۔ ان کی خاطر سے اہل مکہ پر عذاب نازل نہیں کیا گیا۔ پھر جب یہ سب حضرات بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو بعد کی آیت کا یہ جملہ نازل ہوا (آیت) وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔ یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ دیں حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اب مانع عذاب دونوں رفع ہوچکے، نہ آنحضرت ﷺ مکہ میں رہے اور نہ استغفار کرنے والے مسلمان مکہ میں باقی رہے تو اب عذاب آنے سے کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔ خصوصا ان کے استحقاق عذاب میں خود مخالف اسلام ہونے کے علاوہ اس جرم کا بھی اضافہ ہوگیا کہ یہ لوگ خود تو عبادت کے قابل نہ تھے اور جو مسلمان عبادت عمرہ و طواف کے لئے مسجد حرام میں جانا چاہیں ان کو روکنے لگے تو اب ان کا استحقاق عذاب بالکل مکمل ہوگیا، چناچہ فتح مکہ کے ذریعہ ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکنے کا واقعہ غزوہ حدیبیہ میں پیش آیا تھا جب کہ آنحضرت ﷺ صحابہ کے ساتھ عمرہ کے قصد سے تشریف لے گئے اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور آپ کو اور سب صحابہ کرام کو اپنے احرام کھولنے اور واپس جانے پر مجبور کیا یہ واقعہ 6 ہجری کا ہے اس کے دو سال بعد 8 ہجری میں مکہ مکرمہ فتح ہوگیا، اس طرح ان پر مسلمانوں کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ ابن جریر کی اس تفسیر کا مدار اس پر ہے کہ مانع عذاب آپ کا مکہ میں ہونا قرار دیا جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا دنیا میں وجود مانع عذاب ہے جب تک آپ دنیا میں تشریف فرما ہیں آپ کی قوم پر عذاب نہیں آسکتا۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آپ کا حال دوسرے انبیاء کی طرح نہیں کہ وہ خاص خاص مقامات یا قبائل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ جب وہاں سے نکل کر کسی دوسرے خطہ میں پہنچ گئے تو اس کی قوم پر عذاب آجاتا تھا۔ بخلاف سید الانبیاء ﷺ کے کہ آپ کی نبوت و رسالت سارے عالم کے لئے اور قیامت تک کے لئے عام اور شامل ہے پوری دنیا آپ کا مقام بعثت اور دائرہ رسالت ہے اس لئے جب تک آپ دنیا کے کسی حصہ میں موجود ہیں آپ کی قوم پر عذاب نہیں آسکتا۔ اس تفسیر پر مطلب یہ ہوگا کہ اہل مکہ کے افعال کا تقاضا تو یہی تھا کہ ان پر پتھر برسائے جائیں مگر دو چیزیں اس عذاب سے مانع ہوئیں، ایک آنحضرت ﷺ کا دنیا میں تشریف فرما ہونا، دوسرے اہل مکہ کا استغفار کرنا کیونکہ یہ لوگ مشرک و کافر ہونے کے باوجود اپنے طواف وغیرہ میں غفرانک غفرانک کہا کرتے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ ان کا یہ استغفار کفر و شرک کے ساتھ گو آخرت میں نافع نہ ہو مگر دنیا میں اس کا بھی یہ نفع ان کو مل گیا کہ دنیا میں عذاب سے بچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتے۔ کفار و مشرکین اگر کوئی نیک عمل کرتے ہیں تو اس کا بدلہ ان کو اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو یہ ارشاد فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ دے حالانکہ یہ لوگ مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں، اس کا مطلب اس صورت میں یہ ہوگا کہ دنیا میں عذاب نہ ہونے سے یہ لوگ مغرور اور مطمئن نہ ہوجائیں کہ ہم مجرم ہی نہیں یا ہم پر عذاب نہیں ہوگا۔ اگر دنیا میں نہ ہوا تو آخرت کے عذاب سے ان کی کسی طرح نجات نہیں۔ اس تفسیر پر مَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ میں عذاب سے عذاب آخرت مراد ہوگا۔ آیات مذکورہ سے چند فوائد حاصل ہوئے اول یہ کہ جس بستی میں لوگ استغفار کرتے ہوں اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ اس پر عذاب نازل نہیں کرتے۔ دوسرے یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے آپ کی امت پر خواہ مسلم ہوں یا کافر عذاب نہیں آئے گا اور مراد اس سے یہ ہے کہ عذاب عام جس سے پوری قوم تباہ ہوجائے ایسا عذاب نہیں آئے گا جیسے قوم نوح، قوم لوط، قوم شعیب وغیرہ کے ساتھ پہش آیا کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ افراد و احاد پر کوئی عذاب آجائے وہ اس کے منافی نہیں جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں خسف اور مسخ کا عذاب آئے گا۔ خسف کے معنی زمین میں اتر جانا اور مسنح کے معنی صورت مسخ ہو کر بندر یا سور وغیرہ جانوروں کی شکل میں تبدیل ہوجانا۔ اس کی مراد یہی ہے کہ بعض بعض افراد امت پر ایسے عذاب بھی آئیں گے۔ اور آنحضرت ﷺ کا دنیا میں ہونا قیامت تک باقی رہے گا کیونکہ آپ کی رسالت قیامت تک کے لئے ہے۔ نیز آنحضرت ﷺ اس وقت بھی زندہ ہیں گو اس زندگی کی صورت سابق زندگی سے مختلف ہے اور یہ بحث لغو اور فضول ہے کہ ان دونوں زندگیوں میں فرق کیا ہے کیونکہ نہ اس پر امت کا کوئی دینی یا دنیوی کام موقوف ہے نہ خود رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے ایسی فضول اور بےضرورت بحثوں کو پسند فرمایا بلکہ منع فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اپنے روضہ میں زندہ ہونا اور آپ کی رسالت کا قیامت تک قائم رہنا اس کی دلیل ہے کہ آپ قیامت تک دنیا میں ہیں اس لئے یہ امت قیامت تک عذاب عام سے مامون رہے گی۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور ان میں کیا بات ہے کہ عذاب نہ کرے ان پر اللہ اور وہ تو روکتے ہیں۔ مسجد حرام سے اور وہ اس کے اختیار والے نہیں، اس کے اختیار والے تو وہی ہیں جو پرہیزگار ہیں لیکن ان میں اکثروں کو اس کی خبر نہیں۔

خلاصہ تفسیر اور (ان موانع کے سبب عذاب خارق نازل نہ ہونے سے باکل ہی عذاب سے مطمئن نہ ہوجائیں کیونکہ جس طرح امور مذکورہ مانع عذاب ہیں اسی طرح ان کی حرکتیں مقتضی عذاب بھی ہیں پس مانع کا اثر عذاب خارق میں ظاہر ہوا اور مقتضی کا اثر نفس عذاب میں ظاہر ہوگا کہ عذاب غیر خارق ان پر نازل ہوگا چناچہ اس مقتضی کا بیان فرماتے ہیں کہ) ان کا کیا استحقاق ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ (بالکل ہی معمولی) سزا (بھی) نہ دے حالانکہ (ان کی یہ حرکتیں مقتضی سزا کی ہیں مثلا) وہ لوگ (پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو) مسجد حرام (میں جانے اور اس میں نماز پڑھنے اور اس میں طواف کرنے) سے روکتے ہیں (جیسا حدیبیہ میں حقیقةً روکا جس کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا اور زمانہ قیام مکہ میں حکمًا روکا کہ اس قدر تنگ کیا کہ ہجرت کی ضرورت ہوئی) حالانکہ وہ لوگ اس مسجد کے متولی (بننے کے بھی لائق) نہیں (اور عابدین کو روکنا تو درکنار رہا جس کا اختیار خود متولی کو بھی نہیں ہوتا) اس کے متولی (بننے کے لائق) تو سوا متقیوں کے (کہ وہ اہل ایمان ہیں) اور کوئی بھی اشخاص نہیں لیکن ان میں اکثر لوگ (اپنی نالائقی کا) علم نہیں رکھتے (خواہ علم ہی نہ ہو یا یہ کہ جب اس علم پر عمل نہ کیا تو وہ مثل عدم علم کے ہے غرض جو سچ مچ نمازی تھے ان کو تو مسجد سے اس طرح روکا) اور (خود مسجد کا کیسا حق ادا کیا اور اس میں کیسی اچھی نماز پڑھی جس کا بیان یہ ہے کہ) ان کی نماز خانہ کعبہ (مذکور بعنوان مسجد حرام) کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا (یعنی بجائے نماز کے ان کی یہ نامعقول حرکتیں ہوتی تھیں) سو (ان حرکات کا ضرور مقتضا ہے کہ ان پر کوئی نہ کوئی عذاب گو وہ معمولی اور عادی ہو نازل کرکے ان کو خطاب کیا جائے کہ لو) اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے کفر کے سبب (جس کا ایک اثر وہ قول ہے لَوْ نَشَاۗءُ اور ایک اثر وہ قول ہے۔ اِنْ كَانَ هٰذَا الخ اور ایک اثر وہ فعل ہے۔ يَصُدُّوْنَ الخ اور ایک اثر وہ فعل ہے مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً الخ۔ چناچہ غزوات متعددہ میں یہ سزا واقع ہوئی جیسا کہ اس سورت کے رکوع دوم میں بھی ہے (آیت) ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ الخ بعد ذلک با نھم شآقآوا الخ کے یہاں تک تو ان لوگوں کے اقوال و اعمال بدنیہ کا ذکر تھا آگے ان کے اعمال مالیہ کا بیان ہے کہ) بلا شک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے (یعنی دین سے لوگوں کو) روکیں (چناچہ حضور ﷺ کے مقابلہ اور مخالفت کے سامان جمع کرنے میں ظاہر ہے کہ جو خرچ ہوتا تھا اس میں یہی غرض تھی) سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو (اسی غرض کے لئے) خرچ کرتے ہی رہیں گے (مگر) پھر (آخر میں جب آثار ناکامی کے محسوس ہوں گے) وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے (کہ خواہ مخواہ خرچ کیا اور) پھر (آخر) مغلوب (ہی) ہوجائیں گے (جس سے حسرت ضیاع اموال کے ساتھ یہ دوسری حسرت مغلوبیت کی جمع ہوجائے گی) اور (یہ سزا و حسرت و مغلوبیت تو ان کی دنیا میں ہے باقی آخرت کی سزا وہ الگ ہے جس کا بیان یہ ہے کہ) کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف (لے جانے کے لئے قیامت میں) جمع کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کردے (کیونکہ جب دوزخیوں کو دوزخ کی طرف لائیں گے ظاہر ہے کہ اہل جنت ان سے علیحدہ رہ جائیں گے) اور (ان سے الگ کرکے) ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے یعنی ان سب کو متصل کرد پھر (متصل کرکے) ان سب کو جہنم میں ڈال دے ایسے ہی لوگ پورے خسارہ میں ہیں (جس کا کہیں منتہی نہیں، اے محمد ﷺ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ (اپنے کفر سے) باز آجائیں گے (اور اسلام قبول کرلیں گے) تو ان کے سارے گناہ جو (اسلام سے) پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیئے جائیں گے (یہ حکم تو حالت اسلام کا ہوا) اور اگر اپنی وہی (کفر کی عادت رکھیں گے تو (ان کو سنا دیجئے کہ) کفار سابقین کے حق میں (ہمارا) قانون نافذ ہوچکا ہے (کہ دنیا میں ہلاک اور آخرت میں عذاب وہی تمہارے لئے ہوگا چناچہ قتل سے ہلاک بھی ہوئے اور غیر کفار عرب کا ہلاک ذمی ہونا بھی ہے تم جانو) معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں یہ بتلایا گیا تھا کہ مشرکین مکہ اپنے کفر و انکار کی وجہ اگرچہ اس کے مستحق ہیں کہ ان پر آسمانی عذاب آجائے لیکن رسول کریم ﷺ کا مکہ میں موجود ہونا عذاب عام آنے سے مانع ہے اور ہجرت کے بعد ان ضعفاء مسلمین کی وجہ سے ایسا عذاب نہیں آتا جو مکہ میں رہ کر اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔ مذکورہ آیتوں میں یہ بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ یا ضعفاء مسلمین کی رعایت سے اگر دنیا میں ان کا عذاب ٹل ہی گیا تو ان لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ عذاب کے مستحق نہیں بلکہ ان کا استحقاق عذاب کھلا ہوا ہے اور علاوہ کفر و انکار کے اور بھی ان کے ایسے جرائم میں جن کی وجہ سے ان پر عذاب آجانا چاہئے۔ ان دونوں آیتوں میں ان کے تین جرم شمار کئے گئے ہیں۔ اول یہ کہ یہ لوگ خود تو مسجد حرام میں عبادت گزاری کے قابل ہی نہیں اور جو مسلمان وہاں عبادت نماز طواف وغیرہ ادا کرنا چاہتے ہیں ان کو آنے سے روک دیتے ہیں۔ اس میں واقعہ حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے جب کہ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ پہنچے تھے اور مشرکین مکہ نے آپ کو روک کر واپس جانے پر مجبور کیا تھا۔ دوسرا جرم یہ فرمایا کہ یہ بیوقوف یوں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم مسجد حرام کے متولی ہیں جس کو چاہیں اس میں آنے کی اجازت دیں جس کو چاہیں نہ دیں۔ ان کا یہ خیال دو غلط فہمیوں کا نتیجہ تھا۔ اول یہ کہ اپنے آپ کو مسجد حرام کا متولی سمجھا حالانکہ کوئی کافر کسی مسجد کا متولی نہیں ہوسکتا دوسرے یہ کہ متولی کو یہ حق ہے کہ جس کو چاہے مسجد میں آنے سے روک دے۔ جبکہ مسجد خانہ خدا ہے اس میں آنے سے روکنے کا کسی کو حق نہیں بجز ایسی خاص صورتوں کے جن میں مسجد کی بےحرمتی یا دوسرے نمازیوں کی تکلیف کا اندیشہ ہو۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی مسجدوں کو بچاؤ چھوٹے بچوں سے، اور پاگل آدمیوں سے اور باہمی جھگڑوں سے، چھوٹے بچوں سے مراد وہ بچے ہیں جن سے ناپاکی کا خطرہ ہے، اور پاگل سے ناپاکی کا بھی خطرہ ہے اور نمازیوں کی ایذاء کا بھی۔ اس حدیث کی رو سے متولی مسجد کے لئے یہ تو حق ہے کہ ایسے چھوٹے بچوں، پاگلوں کو مسجد میں نہ آنے دے اور باہمی جھگڑے مسجد میں نہ ہونے دے لیکن بغیر ایس صورتوں کے کسی مسلمان کو مسجد سے روکنے کا کسی متولی مسجد کو حق نہیں۔ قرآن کریم کی آیت متذکرہ میں صرف پہلی بات بیان کرنے پر اکتفاء کیا کہ ان لوگوں کو مسجد حرام کا متولی کیسے مانا جائے۔ جب کہ اصول یہ ہے کہ اس کے متولی صرف متقی مسلمان ہی ہو سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کا متولی مسلمان دیندار پرہیزگار ہونا چاہئے اور بعض حضرات مفسرین نے (آیت) اِنْ اَوْلِيَاۗؤ ُ هٗٓ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع قرار دے کر یہ معنی لکھے ہیں کہ اللہ کے ولی صرف متقی پرہیزگار لوگ ہوسکتے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق آیت سے یہ نتیجہ نکلا کہ جو لوگ شریعت و سنت کے خلاف عمل کرنے کے باوجود ولی اللہ ہونے کا دعوی کریں وہ جھوٹے ہیں اور جو ایسے لوگوں کو ولی اللہ سمجھیں وہ دھوکے میں ہیں۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان کی نماز نہیں تھی کعبہ کے پاس مگر سیٹیاں بجانی اور تالیاں، سو چکھو عذاب بدلہ اپنے کفر کا۔

تیسرا جرم ان لوگوں کا یہ بتلایا کہ کفر و شرک کی گندگی تو تھی ہی ان کے افعال و اعمال تو عام انسانی سطح سے بھی گرے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے جس فعل کا نام نماز رکھتے ہیں وہ بجز اس کے نہیں کہ اس میں کچھ منہ سے سیٹیاں بجائیں کچھ ہاتھوں سے تالیاں اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو ذرا بھی عقل ہو وہ ان افعال کو عبادت و نماز کیا کوئی صحیح انسانی فعل بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۔ یعنی تمہارے کفر اور جرائم کا انجام یہی ہے کہ اب اللہ کا عذاب چکھو۔ عذاب سے اس جگہ عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے اور عذاب دنیا بھی جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ان پر نازل ہوا۔ اس کے بعد چھتیسویں آیت میں کفار مکہ کے ایک اور واقعہ کا بیان ہے جس میں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قوت جمع کرنے کے لئے مال بھی ہاتھ سے گیا اور مقصد حاصل ہونے کے بجائے خود ذلیل و خوار ہوئے۔ واقعہ اس کا بروایت محمد بن اسحاق حضرت عبداللہ بن عباس سے یہ منقول ہے کہ غزوہ بدر کے شکست زدہ زخم خوردہ، بچے کھچے کفار مکہ جب وہاں سے واپس مکہ پہنچے تو جن لوگوں کے باپ بیٹے اس جہاد میں مارے گئے تھے وہ تجارتی قافلہ کے امیر ابو سفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ جنگ تمہارے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے لڑی گئی جس کے نتیجہ میں یہ تمام جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اس مشترک تجارتی کمپنی سے ہماری کچھ مدد کی جائے تاکہ ہم آئندہ مسلمانوں سے اپنا انتقام لے سکیں، ان لوگوں نے اس کو منظور کر کے ایک بڑی رقم دے دی جس کو انہوں نے غزوہ بدر کا انتقام لینے کے لئے غزوہ احد میں خرچ کیا اور اس میں بھی انجام کار مغلوب ہوئے اور شکست کے غم کے ساتھ مال ضائع کرنے کی حسرت مزید ہوگئی۔ قرآن کریم نے اس آیت میں یہ واقعہ پیش آنے سے پہلے ہی رسول کریم ﷺ کو اس کے انجام کی خبر دے دی۔ ارشاد فرمایاوہ لوگ جو کافر ہیں اپنے مالوں کو اس کام کے لئے خرچ کرنا چاہتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے دین سے روک دیں۔ سو اس کا انجام یہ ہوگا کہ یہ اپنا مال بھی خرچ کر ڈالیں گے اور پھر ان کو مال خرچ کرنے پر حسرت ہوگی، اور انجام کار مغلوب ہوجائیں گے۔ چناچہ غزوہ احد میں ٹھیک یہی صورت ہوئی کہ جمع شدہ مال بھی خرچ کر ڈالا۔ اور پھر مغلوب ہوئے تو شکست کے غم کے ساتھ مال ضائع ہونے پر الگ حسرت و ندامت ہوئی۔ اور بغوی وغیرہ بعض مفسرین نے اس آیت کے مضمون کو خود غزوہ بدر کے اخراجات پر محمول فرمایا ہے کہ غزوہ بدر میں ایک ہزار جوانوں کا جو لشکر مسلمانوں کے مقابلہ پر گیا تھا ان کے کھانے پینے کے کل اخراجات مکہ کے بارہ سرداروں نے اپنے ذمہ لئے تھے جن میں ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک ہزار آدمیوں کے آنے جانے کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات پر بڑی رقم خرچ ہوئی۔ تو ان لوگوں کو اپنی شکست کے ساتھ اپنے اموال ضائع ہونے پر بھی شدید حسرت و ندامت پیش آئی (مظہری)
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہیں وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں اللہ کی راہ سے، سو ابھی اور خرچ کریں گے پھر آخر ہوگا وہ ان پر افسوس اور آخر مغلوب ہوں گے، اور جو کافر ہیں وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

آخر آیت میں آخرت کے اعتبار سے ان لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ۔ یعنی جو لوگ کافر ہیں ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ مذکورہ آیتوں میں دین حق سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے کا جو انجام بد ذکر کیا گیا ہے اس میں آج کے وہ کفار بھی داخل ہیں جو لوگوں کو اسلام سے روکنے اور اپنے باطل کی طرف دعوت دینے پر لاکھوں روپیہ شفاخانوں، تعلیم گاہوں اور صدقہ خیرات کے عنوان سے خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ گمراہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو اسلام کے اجماعی عقائد میں شبہات و اوہام پیدا کرکے ان کے خلاف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرماتے ہیں اور بہت سے مواقع میں مشاہدہ بھی ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ بڑے بڑے اموال خرچ کرنے کے باوجود اپنے مقصد میں ناکام رہتے ہیں۔
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ جدا کردے اللہ ناپاک کو پاک سے اور رکھے ناپاک کو ایک کو ایک پر پھر اس کو ڈھیر کردے اکٹھا پھر ڈال دے اس کو دوزخ میں، وہی لوگ ہیں نقصان میں۔

سینتیسویں آیت میں واقعات مذکورہ کے کچھ نتائج کا بیان جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے جو اموال کفار نے اسلام کے خلاف استعمال کئے اور پھر ان کو حسرت و ندامت ہوئی اور ذلیل و خوار ہوئے اس کا فائدہ یہ ہے کہ (آیت) لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ گندی چیز اور پاک صاف چیز میں فرق ظاہر کردیں۔ لفظ خبیث اور طیب دو متقابل لفظ ہیں۔ لفظ خبیث ناپاک، گندے اور حرام کے لئے بولا جاتا ہے اور طیب اس کے بالمقابل پاک، صاف ستھرے اور حلال کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس جگہ ان دونوں لفظوں سے کفار کے اموال خبیثہ اور مسلمانوں کے اموال طیبہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ کفار نے جو مال عظیم خرچ کئے وہ مال خبیث اور ناپاک تھے اس کا برا نتیجہ یہ حاصل ہوا کہ مال بھی گیا اور جانیں بھی گئی اس کے بالمقابل مسلمانوں نے بہت تھوڑا مال خرچ کیا مگر وہ مال پاک اور حلال تھا۔ ان کے خرچ کرنے والے کامیاب ہوئے اور مزید مال غنیمت بھی ہاتھ آیا اس کے بعد ارشاد فرمایا(آیت) وَيَجْعَلَ الْخَبِيْثَ بَعْضَهٗ عَلٰي بَعْضٍ فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِيْ جَهَنَّمَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جمع کردیتا ہے ایک خبیث کو دوسرے خبیث کے ساتھ پھر ان سب کو جمع کردے گا جہنم میں یہی لوگ خسارہ میں پڑنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے کہربا گھاس کو کھینچتا ہے اور نئی سائنس کے تجربات میں ساری دنیا کا نظام ہی باہمی کشش پر قائم ہے اسی طرح اعمال و اخلاق میں بھی کشش ہے۔ ایک برا عمل دوسرے برے عمل کو اور ایک اچھا عمل دوسرے اچھے عمل کو کھینچتا ہے مال خبیث دوسرے مال خبیث کو کھینچتا ہے اور یہ پھر اموال خبیثہ آثار خبیثہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں جتنے اموال خبیثہ ہیں سب کو جہنم میں جمع فرمادیں گے۔ اور یہ مال والے بڑے خسارہ میں پڑجائیں گے۔ اور بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ خبیث اور طیب کی مراد عام قرار دی ہے یعنی پاک اور ناپاک۔ پاک سے مومن اور ناپاک سے کافر مراد ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حالات مذکورہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ پاک و ناپاک یعنی مومن و کافر میں امتیاز ہوجائے مؤمنین جنت میں اور کافر سب ایک جگہ جہنم میں جمع کردیئے جائیں۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

تو کہہ دے کافروں کو اگر وہ باز آجائیں تو معاف ہو ان کو جو کچھ ہوچکا، اور اگر پھر بھی وہی کریں گے تو پڑچکی ہے راہ اگلوں کی۔

اڑتیسویں آیت میں کفار کے لئے پھر ایک مربیانہ خطاب ہے جس میں ترغیب بھی ہے اور ترہیب بھی۔ ترغیب اس کی ہے کہ اگر وہ ان تمام افعال شنیعہ کے بعد اب بھی توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو پچھلے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور ترہیب یہ کہ اگر وہ اب بھی باز نہ آئے تو سمجھ لیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی نیا قانون بنانا یا سوچنا نہیں پڑتا۔ پہلے زمانہ کے کافروں کے لئے جو قانون جاری ہوچکا ہے وہ ہی ان پر بھی جاری ہوگا کہ دنیا میں ہلاک و برباد ہوئے اور آخرت میں عذاب کے مستحق ہوئے۔
Ayah 8:39

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور لڑتے رہو ان سے یہاں تک نہ رہے فساد اور ہوجائے حکم سب اللہ کا، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے کام کو دیکھتا ہے۔

خلاصہ تفسیر اور (پھر ان کے اس کافر رہنے کی صورت میں اے مسلمانو) تم ان (کفار عرب) سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور (اللہ کا) دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے (اور کسی کے دین کا خالصۃً اللہ ہی کے لئے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام اختیار کریں خلاصہ یہ کہ اگر نہ اسلام لائیں تو ان سے لڑو جب تک اسلام نہ لائیں کیونکہ کفار عرب سے جزیہ نہیں لیا جاتا) پھر اگر یہ (کفر سے) باز آجائیں تو (ان کے ظاہری اسلام کو قبول کرو دل کا حال مت ٹٹولو کیونکہ اگر یہ دل سے ایمان نہ لائیں گے تو) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں (وہ آپ سمجھ لیں گے تم کو کیا) اور اگر (اسلام سے) روگردانی کریں تو (اللہ کا نام لے کر ان کے مقابلہ سے مت ہٹو اور) یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ (ان کے مقابلہ میں) تمہارا رفیق ہے وہ بہت اچھا رفیق ہے اور بہت اچھا مددگار ہے (سو وہ تمہاری رفاقت اور نصرت کرے گا)۔ معارف و مسائل یہ سورة انفال کی انتالیسویں آیت ہے اس میں دو لفظ قابل غور ہیں ایک لفظ فتنہ دوسرا دین۔ یہ دونوں لفظ عربی لغت کے اعتبار سے کئی معنی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ ائمة تفسیر صحابہ وتابعین سے اس جگہ دو معنی منقول ہیں۔ ایک یہ کہ فتنہ سے مراد کفر و شرک اور دین سے مراد دین اسلام لیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اس تفسیر پر معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ مسلمانون کو کفار سے قتال اس وقت تک جاری رکھنا چاہئے جب تک کہ کفر مٹ کر اس کی جگہ اسلام آجائے اسلام کے سوا کوئی دین و مذہب باقی نہ رہے۔ اس صورت میں یہ حکم صرف اہل مکہ اور اہل عرب کے لئے مخصوص ہوگا۔ کیونکہ جزیرة العرب اسلام کا گھر ہے اس میں اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین رہے تو دین اسلام کے لئے خطرہ ہے۔ باقی ساری دنیا میں دوسرے ادیان و مذاہب کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث اس پر شاہد ہیں۔ اور دوسری تفسیر جو حضرت عبداللہ بن عمر وغیرہ سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ فتنہ سے مراد اس جگہ وہ ایذاء اور عذاب و مصیبت ہے جس کا سلسلہ کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر ہمیشہ جاری رہا تھا جب تک وہ مکہ میں تھے تو ہر وقت ان کے نرغہ میں پھنسے ہوئے طرح طرح کی ایذائیں سہتے رہے پھر جب مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو ایک ایک مسلمان کا تعاقب کرکے قتل و غارتگری کرتے رہے مدینہ میں پہنچنے کے بعد بھی پورے مدینہ پر حملوں کی صورت میں ان کا غیظ و غضب ظاہر ہوتا رہا۔ اور اس کے بالمقابل دین کے معنی قہر و غلبہ کے ہیں اس صورت میں تفسیر آیت کی یہ ہوگئی کہ مسلمانوں کو کفار سے اس وقت تک قتال کرتے رہنا چاہئے جب تک کہ مسلمان ان کے مظالم سے محفوظ نہ ہوجائیں اور دین اسلام کا غلبہ نہ ہوجائے کہ وہ غیروں کے مظالم سے مسلمانوں کی حفاظت کرسکے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے ایک واقعہ سے بھی اسی تفسیر کی تائید ہوتی ہے، واقعہ یہ ہے کہ جب امیر مکہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے مقابلہ میں حجاج بن یوسف نے فوج کشی کی اور دونوں طرف مسلمانوں کی تلواریں مسلمانوں کے مقابلہ پر چل رہی تھیں تو دو شخص حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ اس وقت جس بلاء میں مسلمان مبتلا ہیں آپ دیکھ رہے ہیں حالانکہ آپ عمر بن خطاب ؓ کے صاجزادے ہیں جو کسی طرح ایسے فتنوں کو برداشت کرنے والے نہ تھے۔ کیا سبب ہے کہ آپ اس فتنہ کو رفع کرنے کے لئے میدان میں نہیں آتے۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کا خون بہانا حرام قرار دیا ہے۔ ان دونوں نے عرض کیا کہ کیا آپ قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھتے (آیت) قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ۔ یعنی مقاتلہ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ بیشک میں یہ آیت پڑھتا ہوں اور اس پر عمل بھی کرتا ہوں۔ ہم نے اس آیت کے مطابق کفار سے قنال جاری رکھا یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوگیا اور غلبہ دین اسلام کا ہوگیا۔ اور تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ اب باہم قتال کرکے فتنہ پھر پیدا کردو اور غلبہ غیر اللہ کا اور دین حق کے خلاف کا ہوجائے۔ مطلب یہ تھا کہ جہاد و قتال کا حکم فتنہ کفر اور مظالم کفار کے مقابلہ میں تھا وہ ہم کرچکے اور برابر کرتے رہے یہاں تک کہ یہ فتنہ فرو ہوگیا۔ مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کو اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں بلکہ مسلمانوں کے باہمی مقاتلہ کے وقت تو آنحضرت ﷺ کی ہدایات یہ ہیں کہ اس میں بیٹھا رہنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہے۔ خلاصہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ مسلمانوں پر اعداء اسلام کے خلاف جہاد و قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک کہ مسلمانوں پر ان کے مظالم کا فتنہ ختم نہ ہوجائے اور اسلام کو سب ادیان پر غلبہ حاصل نہ ہوجائے۔ اور یہ صورت صرف قرب قیامت میں ہوگی اس لئے جہاد کا حکم قیامت تک جاری اور باقی ہے۔ اعداء اسلام کے خلاف جہاد و قتال کے نتیجہ میں دو صورتیں پیدا ہوسکتی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ مسلمانوں پر ظلم و جور سے باز آجائیں خواہ اس طرح کہ اسلامی برادری میں داخل ہو کر بھائی بن جائیں یا اس طرح کہ اپنے مذہب پر رہتے مسلمانوں پر ظلم و ستم سے باز آجائیں اور اطاعت کا معاہدہ کرلیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ان صورتوں میں سے کسی کو قبول نہ کریں اور مقابلہ پر جمے رہیں اگلی آیت میں ان دونوں صورتوں کے احکام مذکور ہیں۔ ارشاد فرمایا (آیت) فَاِنِ انْتَهَـوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ، یعنی اگر وہ باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں۔ اس کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ فرمادیں گے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کے خلاف جہاد کو بند کردیا جائے۔ اس صورت میں مسلمانوں کو یہ خطرہ ہوسکتا تھا کہ معرکہ قتال کے بعد کفار کی طرف سے صلح کا معاہدہ یا مسلمان ہوجانے کا اظہار بہت ممکن ہے کہ محض کوئی جنگی چال اور دھوکہ ہو۔ ایسی صورت میں جنگ بند کردیا مسلمانوں کے لئے مضر ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب ان الفاظ سے دیا گیا کہ مسلمان تو ظاہری اعمال کے پابند ہیں، دلوں کا دیکھنے والا اور ان کے مخفی سرائر کا جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لئے جب وہ مسلمان ہونے کا اظہار کریں یا معاہدہ صلح کرلیں تو مسلمان اس پر مجبور ہیں کہ جہاد و قتال بند کردیں۔ رہا یہ معاملہ کہ انہوں نے سچے دل سے اسلام یا صلح کو قبول کیا ہے یا اس میں دھوکہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ خوب دیکھتے جانتے ہیں اگر وہ ایسا کریں گے تو اس کا دوسرا انتظام ہوجائے گا۔ مسلمانوں کو ان خیالات اور خطرات پر اپنے معاملات کی بنیاد نہیں رکھنا چاہئے۔ اگر اظہار اسلام یا معاہدہ صلح کے بعد ان پر ہاتھ اٹھایا گیا تو جہاد کرنے والے مجرم ہوجائیں گے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے کہ میں دشمنان اسلام سے قتال کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ کلمہ لآ الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو قبول کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں اور جب وہ ایسا کرلیں تو ان کے خون اور اموال سب محفوظ ہوجائیں گے۔ بجز اس کے کہ اسلامی قانون کے ماتحت کسی جرم کی پاداش میں ان کو سزا دی جائے۔ اور ان کے دلوں کا حساب اللہ پر رہے گا کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ اور اعمال اسلام کو قبول کررہے ہیں یا نفاق سے۔ دوسری ایک حدیث جو ابوداؤد نے بہت سے صحابہ کرام کی روایت سے نقل کی ہے یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی معاہد پر یعنی اس شخص پر جس نے اسلامی حکومت کی اطاعت و وفاداری کا معاہدہ کرلیا ہو کوئی ظلم کرے یا اس کو نقصان پہنچائے یا اس سے کوئی ایسا کام لے جو اس کی طاقت سے زائد ہے یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی دلی رضامندی کے حاصل کرے تو میں قیامت کے دن اس مسلمان کے خلاف معاہد کی حمایت کروں گا۔ قرآن مجید کی آیت مذکورہ اور روایات حدیث نے بظاہر مسلمانوں کو ایک سیاسی خطرہ میں مبتلا کردیا کہ بڑے سے بڑا دشمن اسلام جب ان کی زد میں آجائے اور محض جان بچانے کے لئے کلمہ اسلام پڑھ لے تو مسلمانوں پر لازم کردیا کہ فورا اپنا ہاتھ روک لیں اس طرح تو وہ کسی دشمن پر بھی قابو نہیں پاسکتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مخفی سرائر کو اپنے ذمہ لے کر معجزانہ انداز میں یہ کر دکھایا کہ عملی طور پر مسلمانوں کو کسی میدان جنگ میں ایسا ابتلاء پیش نہیں آیا۔ البتہ صلح کی حالت میں سیکڑوں منافقین پیدا ہوئے جنہوں نے دھوکہ دینے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور بظاہر نماز روزہ بھی ادا کرنے لگے۔ ان میں سے بعض کم ظرف لوگوں کا تو اتنا ہی مقصد تھا کہ مسلمانوں سے کچھ فوائد حاصل کرلیں اور دشمنی کرنے کے باوجود ان کے اتنقام سے محفوظ رہیں۔ اور بعض وہ بھی تھے جو سیاسی مقصد لے کر مسلمانوں کے راز معلوم کرنے اور مخالفین سے سازش کرنے کے لئے ایسا کررہے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے قانون نے ان سب کے بارے میں مسلمانوں کو یہی ہدایت دی کہ وہ ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کریں جب تک خود ان کی طرف سے اسلام دشمنی اور معاہدہ کی خلاف ورزی ثابت نہ ہوجائے۔ قرآن کی یہ تعلیم تو اس صورت میں تھی جب کہ دشمنان اسلام اپنی دشمنی سے باز آجانے کا اقرار اور معاہدہ کرلیں۔